اپنا ذاتی فولڈر کھنگالتے ہوئے پندرہ اکتوبر، 2009 کی بنی ہوئی ایک ورڈ فائل سے یہ اسکرپٹ نکلا۔ کسی فنکشن کے لیے لکھا تھا۔ اور اکثر مواقع کی طرح اس کو پیش کرنے کی ہمت نہ پڑی، یا وقت کی کمی کی وجہ سے نہ پیش ہوا، یا پھر ارادہ بدل گیا۔ اب یاد نہیں۔ پینڈو کا کردار اپنے لیے لکھا تھا، اور پنجابی، اردو انگریزی تینوں پر مشتمل مکالمے تھے۔ پنجابی مکالموں کا ترجمہ کردیا ہے امید ہے اردو میں لکھی انگریزی سمجھ آ جائے گی۔
-------------------------------------------------
کردار: پینڈو، گورا صاحب، باجی
گورا صاحب اور باجی سٹیج پر موجود ہیں۔ اس کے بعد ہونق سی شکل بنائے پینڈو سٹیج پر آجاتا ہے۔ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد جب اس کی نظر گورا صاحب پر پڑتی ہے تو اس کی طرف لپکتا ہے۔
پینڈو: کی حال اے پاء جی؟ ]کیا حال ہے جناب؟]
گورا صاحب: واٹ؟
پینڈو: ہیں؟ وٹ؟ کیہڑا وٹ؟ [وٹ= غصہ، گرمی، مروڑ]
گورا صاحب: وٹ آر یو ٹاکنگ؟ (پینڈو باجی کی طرف جاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے)
پینڈو: باجی اے باجی۔۔۔ اے چٹے منہ والے نوں کی ہوگیا اے۔ سردیاں وچ کیس چیز دا وٹ چڑھیا اے اینہوں؟ [باجی اے باجی۔۔۔ اس سفید منہ والے کو کیا ہو گیا ہے۔ سردیوں میں کس چیز کا غصہ چڑھا ہوا ہے اسے؟] ( (باجی ڈائس پر کھڑی کچھ کام کر رہی ہے اوراس سارے قضیے سے بالکل بے پرواہ نظر آتی ہے۔ پینڈو کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ انگریز کو دیکھ کر سارا معاملہ سمجھ جاتی ہے اور پینڈو کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہتی ہے)
باجی: سٹوپڈ یہ انگلش ہے۔ اور اسے اردو نہیں آتی۔ تم سے پوچھ رہا تھا کہ کیا کہہ رہے ہو۔
پینڈو: ہیں ؟ اچھا تے اے انگریز اے۔ اینہوں تے وٹ وی وایتی پھردا ہونا اے فیر۔ ہے نا باجی؟ [اچھا تو یہ انگریز ہے۔ اسے تو مڑوڑ بھی ولائتی اٹھتا ہو گا۔ ہے نا باجی؟]
باجی: شٹ اپ۔ نان سنس پنا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں۔
پینڈو: ہو ہائے باجی توں ناراض تے نا ہو۔ اے باجی۔۔۔ اے باجی۔۔۔ باجی گل سن نا (باجی ناراضگی سے اس کی طرف دیکھتی ہے)
باجی: ہاں بولو۔ اب کوئی ایسی ویسی بات کی تو سر پر کوئی چیز مار دوں گی۔
پینڈو: اچھا نا باجی نئیں کہندا۔ باجی۔۔۔۔ اے باجی۔۔۔۔ اے گورے صاحب نال ساڈی یاری کرا دے نا۔ ایدے کولوں پُچھ ایدا ناں کی اے۔[ اچھا باجی نہیں کہتا۔۔ باجی اے باجی اس گورے صاحب سے ہماری دوستی کروا دو نا۔ اس سے پوچھو اس کا نام کیا ہے] (باجی گورے صاحب کو مخاطب کرتی ہے)
باجی: ایکسکیوز می۔ دس مین وانٹس ٹو نو یور نیم۔ کین یو پلیز؟
گورا صاحب: (متوجہ ہوتے ہوئے) او شیور شیور۔ مائی نیم از اینڈرسن۔
باجی: اس کا نام اینڈرسن ہے؟
پینڈو: ہیں کیہڑا سن؟ ایناں مشکل ناں۔ اے باجی۔۔۔ اے باجی ۔۔۔ اینہوں کہہ نا میں اینہوں گورا صاحب کہہ لواں؟ [ہیں کونسا سن؟ اتنا مشکل نام۔ باجی اسے کہوں نا کہ میں اسے گورا صاحب کہہ لوں؟]
باجی: (انگریز سے) کین دس پرسن کال یو گورا صاحب؟
گورا صاحب: وٹ ڈز اٹ مین؟
باجی: ویل اٹ مین آ وائٹ مین۔
گورا صاحب: او شیور ہی کین کال می۔
باجی: کہہ لو اسے گورا صاحب۔ اور اب پلیز مجھے تنگ نہ کرو میں کام کر رہی ہوں۔
پینڈو: ہائے باجی توں کنی چنگی ایں۔ [ہائے باجی تم کتنی اچھی ہو] (چھلانگ لگا کر گورے صاحب کی طرف جاتا ہے۔ ہاتھ سے اشارہ کر کے کہتا ہے۔)
پینڈو: گورا صاحب۔ (گورا صاحب مسکرا کے سر ہلاتا ہے۔) پینڈو (پینڈو اپنی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے)۔
گورا صاحب: پھینڈو
پینڈو: پینڈو
گورا صاحب: پھینڈو
پینڈو: یار توں مینوں پھینٹناں کیوں لیا اے۔ پینڈو پینڈو [یار تم نے پھینٹنا کیوں لے رکھا ہے۔ پینڈو پینڈو]
گورا صاحب : او پھینڈو پھینڈو
پینڈو: (سخت غصے میں آجاتا ہے۔ اپنے بال نوچتا ہے۔ دیوار سے سر ٹکرانے لگتا ہے پھر کچھ سوچ کر واپس آجاتا ہے۔ لمبے لمبے سانس لیتا ہےاور اپنے آپ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ گورے صاحب سے) گورا صاب۔ پے
گورا صاحب: پھے
پینڈو: ڈو
گورا صاحب : ڈو
پینڈو: پیڈو
گورا صاحب: پھیڈو۔
پینڈو: (پینڈو کو احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط بول گیا ہے۔) ہائے میں کتھے چلا جاواں اوئے مینوں پیڈو بنا دتا۔ میں تینوں پیڈ دا بچہ لگداں کتوں؟ [ائے میں کدھر چلا جاؤں۔ مجھے بھیڈو (بھیڑ کا بچہ) بنادیا۔ میں تمہیں بھیڈو لگتا ہوں کہیں سے؟] (پینڈو پھر اپنا سر پیٹنا شروع کردیتا ہے۔ اس دوران باجی اس شور سے اکتا کر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔)
باجی: شٹ اپ ، نانسنس۔ انگریز پ نہیں بول سکتے۔ اس لیے وہ تم کو پھینڈو ہی کہے گا۔
پینڈو: اچھا اے ہو ای قسمت اے تے فیر ٹھیک اے۔ [اچھا اگر یہی قسمت ہے تو ٹھیک ہے] (گورے صاحب سے) ٹھیک ہے ٹھیک ہے پھینڈو ۔۔(رونی سی شکل بنا کے اور اپنی طرف اشارہ کرکے) پھینڈو۔
گورا صاحب: اوکھے اوکھے۔
پینڈو: (پینڈو کو پھر آگ لگ جاتی ہے) اوکھے کی مطلب اوئے۔ مینوں پتا تسیں جنہیں اوکھے جے ساڈے توں۔ اوئے اوکھے تے اسیں آں۔ تہاڈا کی خیال اے تسیں ڈرون حملے کردے رہو گے تے اسیں چپ بیٹھے رہواں گے؟ اوئے اسیں تہاڈا چنڈا ساڑاں گے۔ تسیں فیر ڈرون حملہ کرو گے اسیں فیر تہاڈا چنڈاساڑاں گے ڈاکخانے بنک ساڑاں گے۔ نواں آیاں سوہنیا توں ویکھیا کی اے پاکستان وچ ہلے۔ (پینڈو سلطان راہی کی طرح چوڑا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے) اوئے تسیں کی سمجھدے او ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دے کے تسیں ایس قوم نوں خرید لیا اے؟ اوئے اے امداد نئیں مل سکدی اوئے (آہستہ سے) فوج نے جو کہہ دتا اے کہ نئیں مل سکدی۔ [اوکھے کیا مطلب اوئے۔ مجھے پتا ہے تم ہمارے ساتھ جتنے اوکھے ہو۔ اوئے اوکھے ہم ہیں۔ تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ تم ڈرون حملے کرتے رہو گے اور ہم چپ بیٹھے رہیں گے؟ اوئے ہم تمہارا جھنڈا جلائیں گے۔ تم دوبارہ ڈرون حملہ کرو گے ہم پھر تمہارا جھنڈا جلائیں گے ڈاکخانے بینک جلائیں گے۔ نئے آئے ہو پیارے تم نے دیکھا کیا ہے پاکستان میں ابھی۔ اوئے تم کیا سمجھتے ہو کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دے کر تم نے اس قوم کو خرید لیا ہے؟ اوئے یہ امداد نہیں مل سکتی (آہستگی سے) فوج نے جو کہہ دیا ہے کہ نہیں مل سکتی]
باجی: ( پینڈو کی ڈرامے بازی سے تنگ آکر پھر غصے میں آجاتی ہے) شٹ اپ شٹ اپ آئی سے شٹ اپ۔ (پینڈو ڈر کر چپ ہوجاتا ہے۔ اس دوران گورا صاحب ہاتھ میں سبز رنگ کا کارڈ نکال کر اپنی نوٹ بک پر اندراج کرنے لگتا ہے۔ پینڈو یہ دیکھ کر باجی سے پوچھتا ہے۔)
پینڈو: باجی اے باجی۔۔۔۔ باجی۔۔۔ (باجی ناراضگی سے اس کی طرف دیکھتی ہے) اے گورا کی کردا اے؟ [یہ گورا کیا کرتا ہے؟]
باجی: (گورے سے ) وٹ یو ہیو ان یور ہینڈ؟
گورا صاحب: اوہ دس از آ گرین کارڈ۔ آ واز ہئیر ٹو الاٹ امیرکن سٹیزن شپ ۔
باجی: گورے کے ہاتھ میں گرین کارڈ ہے۔
پینڈو: ہیں گرین کارڈ؟ (پینڈو بھاگ کر گورے صاحب کے پاؤں پڑ جاتا ہے) صاحب بہادر پاگ لگے رہن، شاناں ودھیاں رہن، امداداں مل دیا رہن۔ ڈرون حملے ہندے رہن۔ جناب تسیں تے بڑے سخی او۔ ساڈے صدر نوں تساں کدی نئیں موڑیا۔ کجھ ساڈے تے وی کرم کرو۔ جناب چھوٹے چھوٹے بچے نیں تے پاکستان وی کوئی ملک اے؟ ہائے ہائے کِتے امریکہ دی شہریت مل جائے تے سرکار دے پیر ساری عمر دھو دھو کے پیواں۔ [صاحب بہادر بھاگ لگے رہیں، شان بڑھتی رہے، امداد ملتی رہے، ڈرون حملے ہوتے رہیں۔ جناب آپ تو بڑے سخی ہیں۔ ہمارے صدر کو آپ نے کبھی خالی نہیں موڑا۔ کچھ ہم پر بھی کرم کرو۔ جناب چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور پاکستان بھی بھلا کوئی ملک ہے؟ ہائے ہائے کہیں امریکہ کی شہریت مل جائے تو سرکار کے پیر ساری عمر دھو دھو کر پیوں] (پینڈو کے ڈائلاگز کے دوران گورے صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے۔ گورا موبائل سن رہا ہے۔ اس کے بعد گورا سٹیج سے نیچے جانے لگتا ہے۔ پینڈو باجی کی طرف لپکتا ہے۔)
پینڈو: باجی اے باجی اے کتھے چلا اے۔ پچھ ناں؟ [باجی یہ کہاں چلا ہے پوچھو نا؟]
باجی: وئیر آر یو گوئنگ؟
گورا صاحب: ویل آئی ایم جسٹ انفارمڈ دیٹ دس سیٹیزن شپ آفر از کینسلڈ۔
باجی: گورا صاحب کہتا ہے کہ اب کوئی گرین کارڈ نہیں ملے گا۔
پینڈو: نئیں گورا صاحب۔ اینج نہ کرو میرے چھوٹے چھوٹے حاکم نیں گورا صاحب۔ اونھاں تے دال دلیے دا انتظام کون کرے گا گورا صاحب۔ [نہیں گورا صاحب۔ ایسے نہ کرو میرے چھوٹے چھوٹے حاکم ہیں گرا صاحب۔ ان کے دال دلیے کا انتظام کون کرے گا گورا صاحب]۔ (واویلا کرتا ہوا سٹیج سے اتر جاتا ہے۔)
جی سی یو ایف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جی سی یو ایف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
منگل، 5 فروری، 2013
جمعرات، 3 نومبر، 2011
خالی ہاتھ
مولا علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنے ارادے کے ٹوٹنے سے اللہ کو پہچانا۔ میرا ارادہ جب بھی ٹوٹتا ہے تو میں اپنے آپ کو یہ یاد دلاتا ہوں کہ یہ اس کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔ لیکن سائیں بندہ تو بندہ ہے نا جی، اوپر سے میرے جیسا منافق اور ناشکرا بندہ ہو تو زیادہ کام خراب ہوتا ہے۔ بار بار ارادہ ٹوٹے، بار بار ٹھوکر لگے تو شکوہ زبان پر آ جاتا ہے۔ آج کل میری کچھ یہی کیفیت ہے، شکوہ ہے، بے بسی ہے، بے حسی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی یہ کیا ہے۔ لیکن خالی ہاتھ ضرور ہیں، میری نظروں میں میرے خالی ہاتھ ہیں اور میں بےبس کھڑا ہوں۔
میرا ارادہ اس سال ایم فِل میں داخلہ لینے کا تھا۔ میں نے اگست کی سترہ اٹھارہ تاریخ کو ہی فارم جمع کروا دئیے تھے۔ اور ساری تیاریاں کیے بیٹھا تھا۔ لیکن جب 31 اکتوبر کو میرٹ لسٹ لگی تو اس پر میرا نام نہیں تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ میں انٹرویو میں فیل ہو گیا ہوں۔ اور تب سے میں خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، پھر اوپر دیکھتا ہوں، اور پھر بے بسی سے ایک بار خالی ہاتھوں کو دیکھ کر یہ دوہراتا ہوں کہ "اللہ خیر کرے گا"۔
میں نے 2010 میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے 3.72 سی جی پی اے کے ساتھ ماسٹرز کیا ہے۔ اور اپنی کلاس میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ ایم فِل کے لیے گیٹ (GAT) ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے میرے اس میں 74 نمبر ہیں جو سوشل سائنسز میں لوگ کم ہی اسکور کر پاتے ہیں۔ پورا ڈیپارٹمنٹ مجھے جانتا تھا۔ اساتذہ سے لے کر طلبا تک، سب کو پتا تھا کہ شاکر نے اس بار ایم فِل میں داخلہ لینا ہے۔ لیکن یہ سارے ارادے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئے۔ ہوا صرف یہ کہ ایک بندے کو میرا انٹرویو پسند نہیں آیا۔ یہ بندہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا نیا ہیڈ ہے۔ اس نے 3 منٹ کے انٹرویو میں یہ نتیجہ نکال لیا کہ میں 15 میں سے دس نمبر کا بھی حقدار نہیں ہوں۔ (دس کی حد بھی اس نے خود مقرر کی تھی، تاکہ جو نیچے ہے وہ گھر کی راہ لے)۔ اس بندے نے یونیورسٹی کی ایڈمیشن پالیسی کو نظرانداز کیا۔ اپنا میرٹ اسکیل بنایا جو صرف اور صرف 20 نمبر کے انٹرویو پر مشتمل تھا۔ اکیڈمک ریکارڈ (بی اے اور ماسٹرز میں فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن) کے نمبر ہوتے ہیں اس نے انہیں نظر انداز کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ میرٹ لسٹ پر کم از کم تین نام ایسے آئے جو سیکنڈ ڈویژن رکھتے ہیں۔ صرف وہ اسے انٹرویو میں کہانی سنانے میں کامیاب رہے، یا سفارش تگڑی رکھتے تھے اور اس نے انہیں جگہ دے دی۔
اور میں خالی ہاتھ کھڑا، کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، کبھی اپنی ڈگریوں کو، کبھی آسمان کو۔ میرے لبوں پر شکوہ ہے، بے بسی ہے، کبھی شکوہ پھسل جاتا ہے، کبھی بے بسی آنکھوں کے راستے راہ پا لیتی ہے۔ لیکن مجھ پر عجیب بے حسی طاری ہے۔ سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں۔ ارادہ پہلے بھی کئی بار ٹوٹا، لیکن اس وقت سنبھل جاتا تھا، مجھے تجربہ ہے جب ناں ہوتی ہے، لیکن میں اسے اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا۔ یہ بھی شاید میری غلطی ہے، میری کمیونیکیشن کی صلاحیت کسی قابل نہیں، میں تین منٹ میں ایک بندے کو کنوینس نہیں کر سکا۔ لیکن یہ برداشت کرنا پتا نہیں کیوں بہت اوکھا لگ رہا ہے۔ بےبسی بار بار باہر آجاتی ہے۔ یہ آزمائش ہے، اور بڑی سخت آزمائش ہے لیکن مجھ سے شکر نہیں ہوتا۔ طوطے کی طرح رٹا لگانے کی کوشش کی لیکن کچھ دیر بعد ساری کیفیت بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے، اور نیچے سے پھر وہی بے بسی،، خالی ہاتھ۔ اگلا سارا سال کیا کروں گا، کسی اور جامعہ میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا سب بند ہوگئے۔ کیا بنے گا، پورا سال، کوئی ڈھنگ کی نوکری بھی نہیں بس ترجمے کا کام ہے۔۔پورا سال، اور پھر خالی ہاتھ۔
ایسا نہیں کہ میں نے دل چھوڑ دیا ہے۔ روزانہ یونیورسٹی جاتا ہوں۔ کبھی وی سی کے پاس، کبھی رجسٹرار کے پاس۔ کسی کو درخواست، کسی کی منت۔ منت ہی کرسکتا ہوں سائیں، نہ کوئی ایم این اے، ایم پی اے میرا واقف نہ کوئی ڈین رجسٹرار میرا انکل۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے جن اساتذہ سے دعا سلام تھی وہ بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ کیا کریں، ان کے ہیڈ نے تو یہ کیا ہے، وہ میرا ساتھ کیا دیں۔ کل پھر جانا ہے، رجسٹرار نے کہا تھا جمعے کو آنا پھر بات کرتے ہیں دیکھیں کیا بنتا ہے۔ اگر ادھر کچھ نہ بنا تو ہائی کورٹ تک تو جاؤں گا کم از کم۔ اتنی جلدی تو ہار نہیں مانتا میں۔ لیکن بےبسی نہیں جاتی۔ بار بار شکوہ زبان پر آجاتا ہے، نظریں آسمان کی طرح اٹھ کر نامراد لوٹ آتی ہیں جیسے وہ بھی مجھ سے ناراض ہے۔ پتا نہیں کیوں یہ بے بسی نہیں جاتی۔۔۔۔۔
میرا ارادہ اس سال ایم فِل میں داخلہ لینے کا تھا۔ میں نے اگست کی سترہ اٹھارہ تاریخ کو ہی فارم جمع کروا دئیے تھے۔ اور ساری تیاریاں کیے بیٹھا تھا۔ لیکن جب 31 اکتوبر کو میرٹ لسٹ لگی تو اس پر میرا نام نہیں تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ میں انٹرویو میں فیل ہو گیا ہوں۔ اور تب سے میں خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، پھر اوپر دیکھتا ہوں، اور پھر بے بسی سے ایک بار خالی ہاتھوں کو دیکھ کر یہ دوہراتا ہوں کہ "اللہ خیر کرے گا"۔
میں نے 2010 میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے 3.72 سی جی پی اے کے ساتھ ماسٹرز کیا ہے۔ اور اپنی کلاس میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ ایم فِل کے لیے گیٹ (GAT) ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے میرے اس میں 74 نمبر ہیں جو سوشل سائنسز میں لوگ کم ہی اسکور کر پاتے ہیں۔ پورا ڈیپارٹمنٹ مجھے جانتا تھا۔ اساتذہ سے لے کر طلبا تک، سب کو پتا تھا کہ شاکر نے اس بار ایم فِل میں داخلہ لینا ہے۔ لیکن یہ سارے ارادے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئے۔ ہوا صرف یہ کہ ایک بندے کو میرا انٹرویو پسند نہیں آیا۔ یہ بندہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا نیا ہیڈ ہے۔ اس نے 3 منٹ کے انٹرویو میں یہ نتیجہ نکال لیا کہ میں 15 میں سے دس نمبر کا بھی حقدار نہیں ہوں۔ (دس کی حد بھی اس نے خود مقرر کی تھی، تاکہ جو نیچے ہے وہ گھر کی راہ لے)۔ اس بندے نے یونیورسٹی کی ایڈمیشن پالیسی کو نظرانداز کیا۔ اپنا میرٹ اسکیل بنایا جو صرف اور صرف 20 نمبر کے انٹرویو پر مشتمل تھا۔ اکیڈمک ریکارڈ (بی اے اور ماسٹرز میں فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن) کے نمبر ہوتے ہیں اس نے انہیں نظر انداز کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ میرٹ لسٹ پر کم از کم تین نام ایسے آئے جو سیکنڈ ڈویژن رکھتے ہیں۔ صرف وہ اسے انٹرویو میں کہانی سنانے میں کامیاب رہے، یا سفارش تگڑی رکھتے تھے اور اس نے انہیں جگہ دے دی۔
اور میں خالی ہاتھ کھڑا، کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، کبھی اپنی ڈگریوں کو، کبھی آسمان کو۔ میرے لبوں پر شکوہ ہے، بے بسی ہے، کبھی شکوہ پھسل جاتا ہے، کبھی بے بسی آنکھوں کے راستے راہ پا لیتی ہے۔ لیکن مجھ پر عجیب بے حسی طاری ہے۔ سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں۔ ارادہ پہلے بھی کئی بار ٹوٹا، لیکن اس وقت سنبھل جاتا تھا، مجھے تجربہ ہے جب ناں ہوتی ہے، لیکن میں اسے اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا۔ یہ بھی شاید میری غلطی ہے، میری کمیونیکیشن کی صلاحیت کسی قابل نہیں، میں تین منٹ میں ایک بندے کو کنوینس نہیں کر سکا۔ لیکن یہ برداشت کرنا پتا نہیں کیوں بہت اوکھا لگ رہا ہے۔ بےبسی بار بار باہر آجاتی ہے۔ یہ آزمائش ہے، اور بڑی سخت آزمائش ہے لیکن مجھ سے شکر نہیں ہوتا۔ طوطے کی طرح رٹا لگانے کی کوشش کی لیکن کچھ دیر بعد ساری کیفیت بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے، اور نیچے سے پھر وہی بے بسی،، خالی ہاتھ۔ اگلا سارا سال کیا کروں گا، کسی اور جامعہ میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا سب بند ہوگئے۔ کیا بنے گا، پورا سال، کوئی ڈھنگ کی نوکری بھی نہیں بس ترجمے کا کام ہے۔۔پورا سال، اور پھر خالی ہاتھ۔
ایسا نہیں کہ میں نے دل چھوڑ دیا ہے۔ روزانہ یونیورسٹی جاتا ہوں۔ کبھی وی سی کے پاس، کبھی رجسٹرار کے پاس۔ کسی کو درخواست، کسی کی منت۔ منت ہی کرسکتا ہوں سائیں، نہ کوئی ایم این اے، ایم پی اے میرا واقف نہ کوئی ڈین رجسٹرار میرا انکل۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے جن اساتذہ سے دعا سلام تھی وہ بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ کیا کریں، ان کے ہیڈ نے تو یہ کیا ہے، وہ میرا ساتھ کیا دیں۔ کل پھر جانا ہے، رجسٹرار نے کہا تھا جمعے کو آنا پھر بات کرتے ہیں دیکھیں کیا بنتا ہے۔ اگر ادھر کچھ نہ بنا تو ہائی کورٹ تک تو جاؤں گا کم از کم۔ اتنی جلدی تو ہار نہیں مانتا میں۔ لیکن بےبسی نہیں جاتی۔ بار بار شکوہ زبان پر آجاتا ہے، نظریں آسمان کی طرح اٹھ کر نامراد لوٹ آتی ہیں جیسے وہ بھی مجھ سے ناراض ہے۔ پتا نہیں کیوں یہ بے بسی نہیں جاتی۔۔۔۔۔
اتوار، 22 اگست، 2010
تازہ ترین
لوگ سیلابوں کو پِٹ رہے ہیں، لاقانونیت کا رونا رو رہے ہیں اور دو بچوں کو زندہ جلا دینے کے واقعے پر سر پیٹ رہے ہیں۔ ہماری اپنی چھوٹی سی دنیا ہے جو آج کل لہروں کی زد میں ہے۔ چار دن قبل ہمارا لیپ ٹاپ بارش میں بھیگ کر ناکارہ ہوگیا۔ اس کا مدر بورڈ اب اگر بیس ہزار کے قریب مل جائے تو سبحان اللہ ورنہ لیپ ٹاپ کسی کام کا نہیں۔ اس کے خراب ہونے سے ایک دن پہلے ہم نے گیارہ بجے رات تک کام کرکے اردو ٹرانسلیشنز کو آنلائن کیا تھا۔ لیکن اب ڈیسکٹاپ پی سی سے صبح شام آنلائن ہونے پر دل نہیں کرتا کہ کچھ اور کیا جائے چناچہ ٹی وی لگا لیتے ہیں یا نیٹ گردی۔
ابھی خبر آئی ہے کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے ایم فِل کے داخلوں کا اعلان کردیا ہے۔ ہم نے اس سمسٹر کے شروع میں بڑے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ تھیسز بھی کرنا ہے اور ایم فِل بھی۔ اب تھیسر ہوجائے گا ایم فِل نہیں ہوسکے گا اس سال کم از کم۔ ابھی تک ہمارے تھیسز جمع بھی نہیں ہوسکا، یہ نہیں کہ لکھا نہیں جاسکا، لکھا ہوا رکھا ہے پچھلے پندرہ دن سے لیکن بورڈ آف سٹدیز کی میٹنگ ہی نہیں ہورہی، ہر بار وی سی طرح دے جاتا ہے۔ یہ ہوگی تو ٹاپک منظور ہوگا اور تھیسز بیرونی ممتحن کو بھیجا جاسکے گا۔ یعنی ہم منہ دیکھتے رہ گئے اس بار۔
ہم جس سکول میں انٹرنشپ کررہے ہیں اس کی تین برانچوں میں سے دو میں کچھ جھگڑا سا بن گیا ہے جس کی وجہ ہم ہیں۔ جس میں ہم تعینات ہیں وہ لوگ ہمیں رکھنا چاہتے ہیں اور مین برانچ کو فوری ایک ٹیچر چاہیے جو آٹھویں کو انگریزی پڑھائے چناچہ وہ ہمیں بلاتے ہیں۔ لیکن یہاں کی پرنسپل اور سینئیر ٹیچر نہیں مانتی۔ یہاں ہم چھٹی کی انگریزی اور ساتھ جیوگرافی، ہسٹری، اسلامیات پڑھائیں گے وہاں شاید انگریزی زیادہ پڑھانی پڑے۔ انگریزی اپنی فیلڈ بھی تو ہے لیکن کچھ کہا نہیں جاتا۔ کس سے کیا کہیں اب کوئی ناراض ہوگیا تو ایویں جینا دشوار کردے گا، ہم جمعہ جمعہ آٹھ دن کے بھی نہیں ہوئے ابھی اس ادارے میں۔ چناچہ ہاں جی ہاں جی کرتے جاتے ہیں ہر کسی کو۔ عجیب ٹینشن سی بن گئی ہے۔
آخر میں درخواست کہ اگر کوئی دوست IBM Lenovo T61 کا مدربورڈ اپنے اردگرد کی مارکیٹ میں تلاش کرکے ہمیں بتا سکے۔ ہم مشکور ہونگے۔ شاید بیرون ملک سے مدربورڈ کورئیر نہ ہوسکے، بہت مہنگا پڑ جائےگا لیکن کراچی سے تو ہونا چاہیے۔ چناچہ کراچی و لاہور کے دوست بالخصوص اور بیرون ممالک میں بنسے والے دوست بالعموم اس مسئلے پر توجہ فرمائیں، ہمارے لیے یہ اس وقت سیلاب سے بھی زیادہ گھمبیر مسئلہ ہے چونکہ اس لیپ ٹاپ پر یکدم ہی بہت انحصار کرنے لگے تھے ہم، اور بہت کچھ ابھی کرنا ہے اس پر۔ اگر یہ ٹھیک ہوگیا تو۔ اور ہاں پیمنٹ کی فکر نہ کیجیے گا، انشاءاللہ اس قابل ہیں کہ پیمنٹ کرسکیں بس آپ دستیابی سے مطلع کیجیے گا مجھے۔
اور آخر میں اللہ کریم سے گناہوں کی معذرت اور اس کی بے پایاں رحمتوں پر شکر۔ یا اللہ تیرا شُکر ہے میرا ہر سانس تیری رحمت کا محتاج ہے۔ الحمداللہ۔
ابھی خبر آئی ہے کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے ایم فِل کے داخلوں کا اعلان کردیا ہے۔ ہم نے اس سمسٹر کے شروع میں بڑے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ تھیسز بھی کرنا ہے اور ایم فِل بھی۔ اب تھیسر ہوجائے گا ایم فِل نہیں ہوسکے گا اس سال کم از کم۔ ابھی تک ہمارے تھیسز جمع بھی نہیں ہوسکا، یہ نہیں کہ لکھا نہیں جاسکا، لکھا ہوا رکھا ہے پچھلے پندرہ دن سے لیکن بورڈ آف سٹدیز کی میٹنگ ہی نہیں ہورہی، ہر بار وی سی طرح دے جاتا ہے۔ یہ ہوگی تو ٹاپک منظور ہوگا اور تھیسز بیرونی ممتحن کو بھیجا جاسکے گا۔ یعنی ہم منہ دیکھتے رہ گئے اس بار۔
ہم جس سکول میں انٹرنشپ کررہے ہیں اس کی تین برانچوں میں سے دو میں کچھ جھگڑا سا بن گیا ہے جس کی وجہ ہم ہیں۔ جس میں ہم تعینات ہیں وہ لوگ ہمیں رکھنا چاہتے ہیں اور مین برانچ کو فوری ایک ٹیچر چاہیے جو آٹھویں کو انگریزی پڑھائے چناچہ وہ ہمیں بلاتے ہیں۔ لیکن یہاں کی پرنسپل اور سینئیر ٹیچر نہیں مانتی۔ یہاں ہم چھٹی کی انگریزی اور ساتھ جیوگرافی، ہسٹری، اسلامیات پڑھائیں گے وہاں شاید انگریزی زیادہ پڑھانی پڑے۔ انگریزی اپنی فیلڈ بھی تو ہے لیکن کچھ کہا نہیں جاتا۔ کس سے کیا کہیں اب کوئی ناراض ہوگیا تو ایویں جینا دشوار کردے گا، ہم جمعہ جمعہ آٹھ دن کے بھی نہیں ہوئے ابھی اس ادارے میں۔ چناچہ ہاں جی ہاں جی کرتے جاتے ہیں ہر کسی کو۔ عجیب ٹینشن سی بن گئی ہے۔
آخر میں درخواست کہ اگر کوئی دوست IBM Lenovo T61 کا مدربورڈ اپنے اردگرد کی مارکیٹ میں تلاش کرکے ہمیں بتا سکے۔ ہم مشکور ہونگے۔ شاید بیرون ملک سے مدربورڈ کورئیر نہ ہوسکے، بہت مہنگا پڑ جائےگا لیکن کراچی سے تو ہونا چاہیے۔ چناچہ کراچی و لاہور کے دوست بالخصوص اور بیرون ممالک میں بنسے والے دوست بالعموم اس مسئلے پر توجہ فرمائیں، ہمارے لیے یہ اس وقت سیلاب سے بھی زیادہ گھمبیر مسئلہ ہے چونکہ اس لیپ ٹاپ پر یکدم ہی بہت انحصار کرنے لگے تھے ہم، اور بہت کچھ ابھی کرنا ہے اس پر۔ اگر یہ ٹھیک ہوگیا تو۔ اور ہاں پیمنٹ کی فکر نہ کیجیے گا، انشاءاللہ اس قابل ہیں کہ پیمنٹ کرسکیں بس آپ دستیابی سے مطلع کیجیے گا مجھے۔
اور آخر میں اللہ کریم سے گناہوں کی معذرت اور اس کی بے پایاں رحمتوں پر شکر۔ یا اللہ تیرا شُکر ہے میرا ہر سانس تیری رحمت کا محتاج ہے۔ الحمداللہ۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)