دوست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دوست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 18 مارچ، 2016

اعتراف

آج میرے لینگوئج سکول میں ہم نے اپنے اساتذہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی رکھی تھی۔ یہاں چار ماہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ میرے ملک کے عظیم دماغ جن کی صحبت کا شرف مجھے حاصل رہا۔ سائنس، معیشت، قانون غرض ہر شعبے کے ابھرتے ہوئے ستارے اور مجھ جیسا ایک عام سا انسان جو بس تُکے سے ان کے ہمراہ ہو لیا۔ پنجابی میں اسے انھے ہتھ بٹیرا (اندھے کے ہاتھ بٹیر) والی مثال سے سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ میں استاد ہوں اور میں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ کئی برس سے ترجمہ کر کر کے میں اچھا خاصا مترجم ہو چکا ہوں۔ دوسروں کے الفاظ ترجمہ کر  کر کے اور لوگوں کی کتب سے پڑھا پڑھا کر مجھے چند لفظ کہنے اور لکھنے کا فن آ گیا ہے۔ میرے احباب نے میرے اس بہروپ کو سچ سمجھ کر جب الوداعی کلمات بولنے کے لیے کھڑا کیا تو اپنی کم مائیگی  کا احساس اور شدید ہو گیا۔ اتنے بڑے بڑے لوگ اور ان کے سامنے کھڑا ایک بونا بھلا کیا بولتا۔ انگریزی میں چند جملے بول کر رہ گیا۔ وہ لفظ تو میری زبان سے نکل گئے، لیکن مجھے بہت دیر بعد (جیسا کہ میرا معمول ہے) احساس ہوا کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ کہ ان عظیم دماغوں کا ساتھ اب چند دنوں کا ہی ہے۔ پھر سب اپنے اپنے شہر پی ایچ ڈی کے لیے چلے جائیں گے، اور میں جو ان کی تابانی سے روشن ہو کر خود کو بھی ایک ہیرا سمجھنے لگ گیا تھا پھر سے بے قیمت کوئلہ رہ جاؤں گا۔

بھلا صلاح الدین جیسا ہنس مُکھ اور بے لوث دوست کہاں ملے گا۔ اس کی سدا بہار مسکراہٹ اور ایک خاص وقفے سے بلند ہوتی ہوئی ہنسی، عبدالرحمٰن کا افسرانہ انداز اور نپی تلی باتیں بھلا کون بھولے گا۔ عمران کی کھلکھلاتی ہوئی خاموش مسکراہٹ، رانا فیصل شہزاد کا اپنی تعریف پر جھینپتے ہوئے قہقہے لگانا، محمد فیصل کا میری جگت اندازی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، ظفر صاحب  کا حیران کن حد تک وسیع جرمن ذخیرۂ الفاظ، سہیل آفتاب بھائی کامشفقانہ اور بزرگانہ انداز ۔۔ تنزیلہ علوی، غزالہ عنبرین، عظمیٰ علی جنہوں نے مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر سُدھارنے کی کوشش کی اور جو سخت ناکامی سے دوچار ہوئی، بشرٰی غفران احمد کا سو سنار کی کے جواب میں ایک لوہار کی چوٹ لگانا اور اس پر مخاطب کا بلبلا اُٹھنا، میمونہ منیر کا پانچ سالہ تدریسی تجربہ جو انہوں نے اس کلاس میں بے دریغ آزمایا اور ماریہ (اور ان کا بیٹا محمد عبداللہ)۔۔۔ یہ سب لوگ ستاروں کا ایک ایسا کلسٹر تھے جن کے قریب سے گزرتے گزرتے میں، ایک آوارہ سیارہ، کچھ عرصے کے لیے روشن ہو گیا۔ اور جب یہ سفر ختم ہوا تو پھر سے اندھیرا اس بے آب و گیاہ وجود کا مقدر ہو گا۔

جے میں ویکھاں عملاں ولے
کُجھ نئیں میرے پلے

جے ویکھاں تیری رحمت ولے
بلے بلے بلے

میرے پلّے تو کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ میں کل بھی تہی دامن تھا، آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ جو کچھ ہے اُس کی رحمت ہے۔ ان احباب کا ساتھ بھی اس کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھی۔ میرے لیے بہت کچھ سیکھنے کا موقع، جو میری نالائقی سے ضائع جا رہا ہے۔ جب میرے ہاتھ اُٹھیں اور آنکھیں بھر آئی ہوں تو منہ سے یہی لفظ ادا ہوا کرتے ہیں کہ مالک یہ تو تُجھے اور مُجھے پتا ہے کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے۔ لیکن تُو تو ستّار ہے، تُو میرے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھیو، یہ جو بہروپ میں نے بھر رکھا ہے، جو سوانگ رچا رکھا ہے اس پر اپنی عطاء کی چادر ڈالے رکھیو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاکر بہت کچھ ہے، لیکن یہ تو تُو اور میں جانتے ہیں کہ شاکر نامی یہ مٹی کا باوا ہر سانس تیری رحمت کا منتظر ہے، جس سانس تیرا کرم اس پر سے اُٹھا وہ سانس اس کی آخری سانس ہو گی۔

بدھ، 29 جون، 2011

انا للہ و انا الیہ راجعون

برادرم منیر عباسی کے بلاگ پر کیا گیا ایک تبصرہ۔
وڈے پاء‌ جی میری آخری تحریر پر آپ کا میرے بارے میں تبصرہ بھی شکوہ بھرا تھا کہ میں نے مکی کے خلاف کوئی بات نہیں‌کی جبکہ سارے بلاگرز سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تو بھیا اب بات چل نکلی ہے تو وضاحت دیتا چلوں۔
مکی سے میری تین چار سال پرانی دوستی ہے، لینکس کی وجہ سے تعلق پروان چڑھا۔ اس کے ترجمہ کرنے اور اوپن سورس کے لیے جنون نے بہت متاثر کیا۔ اس کے بعد جب امانت علی گوہر نے کمپیوٹنگ شروع کیا تو ہم نے اکٹھے اس میں لینکس اور اوپن سورس پر مضامین لکھے۔ پھر مکی ملائیشیا چلا گیا، جہاں‌ اسے  خاصے برے معاشی حالات سے گزرنا پڑا۔ اور اب جب کہ دو چار ماہ یا زیادہ سے پاکستان آگیا ہے تو موصوف نے عربی ادب اور قرآن کو ایک ثابت کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے، اور متنازعہ قسم کے مضامین لکھ رہا ہے۔
شروع میں، جیسا کہ میری کچھ تحاریر ان تحاریر کے جواب میں‌لکھی بھی گئیں، میں‌ نے کوشش کی کہ ساتھ ساتھ جواب کا سلسلہ جاری رہے تاکہ منفی مثبت کا توازن برقرار رہے۔ اس کے بعد مصروفیت آڑے آنے لگی، رد لکھنے کے لیے درکار وقت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے میں‌ نے دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ تاہم امید یہ تھی کہ مکی یا تو باز آجائے گا یا دوسرے لوگ ہیں‌جو دامے درمے سخنے رد جاری رکھے ہوئے ہیں، کچھ تحاریر میں‌تبصرے کرکے بھی مسلمانوں‌کا موقف وہاں‌رجسٹر کرایا تاکہ مسقتبل کا قاری یہ نہ سمجھے کہ ان اعتراضات کا جواب نہیں‌دیا گیا تھا۔ آخری چند تحاریر 3 یا 4 کہہ لیں، میں نے بالکل بھی نہیں پڑھیں۔ لیکن کل رات قرآن کو عرب شعراء سے متاثرہ اور محمد ﷺ کا ذاتی کلام بتانے کی جو تحریر اس نے لکھی ہے وہ پڑھی تو یقین کریں انا للہ و انا الیہ راجعون ہی منہ سے نکلا۔ اتفاق سے کل ہی ایک کام کے سلسلے میں رابطہ بھی کرنا پڑا تھا مکی سے لیکن حسن اتفاق کہ خود ہی کر لیا اور اسے زحمت نہ دینی پڑی۔لیکن اس دوران چیٹ میں میں نے اپنے ناپسندیدگی کا اظہار کردیا تھا۔ اور یہاں بھی یہی کہتا ہوں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون میں نے ایک دوست کے وفات پاجانے، اور اسلام سے دور ہوجانے پر پڑھا ہے۔ دعا ہے مکی جلد ہم میں آملے، اس کے اندر جو جستجو کی آگ جل رہی ہے اسے ہدایت کی طرف لے آئے پھ سےر۔ تاہم تب تک میں اس کی طرف سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ مکی اچھا انسان ہوگا، لیکن اچھا مسلمان نہیں رہا، شاید سرے سے مسلمان ہی نہیں رہا۔ مجھے صرف اس بات کا قلق ہے کہ میرے وسائل میں یہ نہیں کہ اس کے اعتراضات کا شافی جواب لکھ سکوں، میرا علم، وسائل اور وقت اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ برائی روکنے کے تین درجے ہیں، ہاتھ سے، زبان سے روکنا اور پھر دل میں برا کہنا۔ میں نہ تو ہاتھ سے روک سکتا ہوں، نہ زبان سے اس کے خلاف دلائل دے سکتا، اسے برا کہہ سکتا ہوں چناچہ صرف برا کہہ رہا ہوں۔ کاش مجھے یہ توفیق ہوتی کہ قرآنی عربی جانتا، اور مکی کے ان بے بنیاد اعتراضات جن میں وہ قرآن کو عربی ادب جیسی کوئی ذاتی تخلیق قرار دینے کی کوشش کرتا ہے کو رد کرسکتا۔ یہ ایمان کے آخری درجے پر کھڑے ایک مسلمان کی خواہش ہے۔
وسلام

جمعہ، 27 مئی، 2011

بابا مکی

محمد علی مکی آج کل بابا بنا بیٹھا ہے۔ اگرچہ یہ میرا انداز نہیں ہے کہ میں براہ راست کسی کے بارے میں اپنے بلاگ پر لکھوں، ایسے مباحث کو عمومًا نظر انداز کردیا کرتا ہوں۔ لیکن مکی کا انداز آج کل نرالا ہی ہے۔ مکی ایک ایسا بابا بن بیٹھا ہے جسے سب کچھ پتا ہوتا ہے اور اب لوگوں کی پریشانیاں دیکھ کر مسکراتا ہے۔ مکی کا انداز اس سو سالہ بوڑھے جیسا ہے جس کے سامنے موجود دس دس سال کے بچے دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ بابا ہر دس منٹ کے بعد ایک پھُلجھڑی چھوڑ کر چپ ہوجاتا ہے، اور بچے اس کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، بابے کی دھوتی کھینچتے ہیں، لیکن بابا آگے سے مُسکرا دیتا ہے۔ پھر جب ایک پھُلجھڑی ختم ہوجاتی ہے تو بابا پٹاری میں سے کچھ اور نکال کر چلا دیتا ہے، تاکہ بچوں کی توجہ اور طرف نہ لگ سکے۔
مکی بھی آج کل یہی کچھ کررہا ہے۔ اب رب جانے یہ امیوزمنٹ کا ذریعہ ہے۔ یا قوم کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش فرمائی جارہی ہے۔ میں تو دس بھی نہیں، پانچ سال کا بچہ ہوں، جو ان سارے شعبدوں کو ڈر کر دیکھتا ہے اور اپنی ماں کی جھولی میں گھُس جاتا ہے۔ بابا بڑا ڈاہڈا ہے سائیں، پتا نہیں انار، پھلجھڑی کی جگہ کوئی بم ہی چلادے۔

ہفتہ، 13 جون، 2009

اردو لسانیات

آج کل ہم اردو کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور و فکر فرما رہے ہیں۔ اگرچہ اپنا تھیسز ہم انگریزی پر ہی کریں گے لیکن اردو پر اس کے علاوہ تحقیق کا ارادہ ہے۔ لسانیات میں ہمارا میدان کارپس ہے۔ ڈیٹا کو ٹیکسٹ فائلوں میں اکٹھا کرو اور اس کے بعد اس پر جو چاہے عمل کاری کرو۔
اردو کے سلسلے میں وسائل ابھی بہت محدود ہیں۔ ہمارے پاس اردو کا کوئی مناسب کارپس ہی موجود نہیں۔ کرلپ والے ایک کارپس مہیا کررہے ہیں جو شاید بیس ہزار الفاظ کے قریب ہے۔ لیکن یہ کارپس انگریزی سے ترجمہ کیا ہوا لگتا ہے۔ انگریزی اردو نیبالی متوازی کارپس منصوبے کا حصہ یہ کارپس ہمارے ذاتی خیال میں اردو کے اہل زبان سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے مترجمین دس بارہ بھی ہوں تو بھی اردو کے فورمز یا بلاگز سے ڈیٹا حاصل کرنے کی صورت میں ہمارے پاس بہت زیادہ ورائٹی ہوگی۔ پچاس یا اس سے بھی زیادہ کی آبادی سے ڈیٹا حاصل کرنے سے بہت سی ایسی چیزیں سامنے آئیں گی جو اس کارپس پر تحقیق سے نہیں آسکتیں۔ مثلًا ہم انگریزی الفاظ کا بالکل بھی خیال نہیں رکھتے۔ اور اردو کے ساتھ انجانے میں رج کے کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس سب کو سٹڈی کرنا بڑا دلچسپ کام ہے۔
کارپس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹیکسٹ اکٹھا کرکے رکھ لیں۔ اس کے بعد ہمیں اس کو کچھ مزید مراحل سے بھی گزارنا پڑتا ہے۔ اس کو اینوٹیشن Annotation کہا جاتا ہے۔ یعنی ہم کارپس کو مختلف انداز سے ٹیگ کرتے ہیں۔ جیسے ایچ ٹی ایم ایل کے ٹیگز ہوتے ہیں۔ اردو کا ٹیگ شدہ کارپس آپ کرلپ کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ گرامر کے لحاظ سے ٹیگ شدہ ہے جس میں ہر لفظ کے ساتھ لگا ٹیگ یہ بتاتا ہے کہ اس کا گرامر کے لحاظ سے کونسا زمرہ ہے، اسم، فعل، حرف جار وغیرہ وغیرہ۔
کرلپ کا کا کارپس ہاتھ سے ٹیگ شدہ ہے۔ جسے دو ماہرین لسانیات نے گھنٹوں کی محنت سے ٹیگ کیا۔ یہ طریقہ کار محدود مقاصد کے لیے تو بہترین ہے اور اس میں درستگی کی شرح بھی سو فیصد ہے لیکن ہر بار یہی کام کرنا بہت دشوار ہے۔ یہ بہت زیادہ وقت طلب کام ہے۔ میں اگر ایک لاکھ الفاظ کا کارپس بنانے کی سوچ رہا ہوں تو اس کو ٹیگ کرنا بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا جبکہ میرے پاس وقت کی بھی کمی ہے اور مالی وسائل کی بھی کہ دوسروں کو معاوضے پر اس کام کے لیے مہیا کرسکوں۔ ایسی صورت میں ہم مشین ٹیگنگ کی بات کرتے ہیں۔ انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں اس سلسلے میں بہت ترقی کی ہے۔ انگریزی کے لیے ہمارے پاس درجن بھر ٹیگرز دستیاب ہیں۔ جبکہ اردو کے لیے ابھی تک صرف ایک ٹیگر دستیاب ہے۔ اس ٹیگر کی صلاحیت بھی محدود ہے۔ دس ہزار الفاظ کے ایک کارپس پر اسے ٹیسٹ کیا گیا جہاں اس نے ستانوے فیصد درستگی دکھائی۔ یہ کرلپ کے ہی ایک طالب علم کا ایم ایس کا پروجیکٹ تھا۔ 2007 میں مکمل ہونے والا یہ سافٹویر مزید اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اس کارپس کو مزید ڈیٹا پر ٹریننگ کی ضرورت ہے اور اس کی ڈیٹابیس کو مزید بڑا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عمومی مقاصد تحقیق کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکے۔
اس سلسلے میں ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو ڈیٹا کی کلیکشن، اس کے ذریعے اردو ٹیگر کو ٹریننگ دینا۔ اس کی خامیاں اور نقائص دور کرنا وغیرہ۔ بہت سارے کام ہیں جو میں اکیلا نہیں کرسکتا۔ وقت کی کمی اور میری پروگرامنگ صلاحیتوں کا محدود ہونا اس کی بڑی وجہ ہیں۔
متعلقہ روابط اوپر تحریر میں موجود ہیں۔ احباب اگر اس سلسلے میں کوئی مدد کرسکتے ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹا کیلکشن کی ذمہ دار میں لے سکتا ہوں۔ اردو فورمز، بلاگز، نیوز سائٹس اور اخبارات کی ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کی کانٹ چھانٹ کرنا میرا کام ہے۔ لیکن اس کے بعد ٹیگر کے پروگرامنگ مسائل کے حل کے لیے مجھے راجہ نعیم اور محترم نبیل حسن نقوی جیسے احباب کا تعاون درکار ہوگا۔ اس پروگرام کے سورس کوڈ کے لیے بھی ڈاکٹر سرمد سے درخواست کروں گا امید ہے وہ مہیا کردیں گے۔ اگر اس کو ڈویلپ کرنے والے صاحب سے رابطہ ہوجائے تو موج ہی ہوجائے۔

پیر، 1 جون، 2009

تیرا ککھ نہ رہوے

اردو محفل پر جنرل موٹرز کے دیوالیہ کی خبر تھی۔ ایک دوست نے وہاں بدعا دی ہوئی تھی اللہ کرے جنرل موٹر دیوالیہ ہو ہی جائے۔
یہ اور ایسی اور جنرل سی بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔
اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔ جو ہر بات پر تالی بجا کر اور کولہے مٹکا کر اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔
وے تہاڈا ککھ نہ رہوے۔ ٹُٹ پینیوں۔۔گھر ماں بہن نہیں اے

جمعرات، 26 مارچ، 2009

ہجرت

ایک بار پھر سے ہجرت۔۔اور اب کے لگتا ہے ہمیں بھی کوئی بلاگر مہاجر موومنٹ بنا لینی چاہیے جس کی صدارت وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے ہمارے ہی ناتواں کندھوں پر ہوگی۔ خیر یہ تو نکتہ معترضہ تھا۔ عرض یہ ہے کہ ہمارا ڈومین اردو کوڈر ڈاٹ کوم بہ کمال مہربانی منتظمین اردو ویب، اردو ویب کے سرور پر ہی ہوسٹ شدہ تھا۔ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے اردو ویب کی تمام ویب سائٹس کے ساتھ خاصے مسائل آرہے ہیں جن میں سرفہرست میموری اوو فلو کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں کئی بار سائٹس کو ڈاؤن رکھا گیا تاکہ میموری اور پروسیسنگ وغیرہ کی ضروریات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ خیر ایرر اب تو خاصے کم ہوگئے ہیں لیکن ہم نے اسی دوران ایک فیصلہ کرلیا تھا کہ بلاگ کو بلا گر پر ہی ایک بار پھر سے منتقل کرلیا جائے۔ ورڈپریس چنگی چیز ہے لیکن یہ ہم اس وقت استعمال کریں گے جب اپنی ویب ہوسٹنگ وغیرہ لیں گے۔ فی الحال مفت والی سروس چلنے دیتے ہیں۔ احباب کو بھی زحمت دینے کو دل نہیں کرتا۔ نبیل اور زکریا کی مہربانی انھوں نے اردو کوڈر کی ویب سائٹس کو ہوسٹنگ سپیس دی لیکن ہمارے ذاتی خیال میں اردو ویب پر آنے والے ایررز کی ایک وجہ اردو کوڈر کی ویب سائٹس بھی تھیں۔
بلاگر پر بلاگ منتقل ہوگیا ہے تو ورڈپریس والی موجیں نہیں ہونگی اب۔ نہ ہی مسکراہٹیں، نہ ہی سسٹم سپورٹ کے بغیر اردو لکھنے کی سہولت اور نہ ہی گریواٹر۔۔خیر گزارہ کیجیے اور ہمیں چھما کیجیے۔ اور دعا بھی کیجیے کہ جلد ہی اپنی ویب ہوسٹنگ لے سکیں۔ ننھا سا بلاگ ہے اس کے لیے ننھی سی ویب ہوسٹنگ ہم نے لے لینی ہے۔ تب تک بلاگر پر آوازِ دوست کے مزے لیجیے۔ اس سڑی بُسی پوسٹ کے علاوہ بھی میرے پاس کچھ آئیڈیاز تھے جن پر کام کرنا ہے۔ کچھ پنگے لینے ہیں، آج کل کچھ وڈے لوگ بلاگنگ اور اردو بلاگرز کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی شان میں کچھ مطلعے اور مقطعے کہنے ہیں۔ انشاءاللہ ایک آدھ دن میں آپ قصیدہ گوئی دیکھ لیں گے۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے۔

ہفتہ، 28 فروری، 2009

ایس ایم ایس

پاکستان میں اس وقت کم از کم پانچ موبائل فون کمپنیاں فعال ہیں اور جدید ترین خدمات فراہم کررہی ہیں. ملک کی آدھی کے قریب آبادی موبائل فون استعمال کررہی ہے. ہمارے میڈیا کے اشتہارات کا اچھا خاصا حصہ ان پانچ کمپنیوں کے اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے. ہر روز کوئی نیا پیکج اور ہر روز کوئی نئی آفر. یہ کردیا وہ کردیا وغیرہ وغیرہ.
ان کمپنیوں کی فراہم کردہ خدمات میں سے ایک ایس ایم ایس یعنی شارٹ میسنجنگ سروس ہے. ایس ایم ایس کے بارے میں کئی سال پہلے گلوبل سائنس میں پڑھا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہر وقت آنلائن رہ کر پیغامات وصول کرسکیں. خیر اس کا مقصد جو بھی آج کل یہ پاکستان میں انّھے وا استعمال ہورہے ہیں. لطائف سے لے کر مرے ہوئے شعرا بشمول فراز کی خوب مٹی پلید کی جاتی ہے.
ایک ایس ایم ایس، اگر آپ کے پاس کوئی پیکج نہیں، تو قریبًا سوا روپے میں پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس پیکج ہے جیسا کہ قریبًا ہر کمپنی دے رہی ہے تو آپ کو یہی ایس ایم ایس دس، بیس، تیس پیسے اور ایک پیسے سے بھی کم میں پڑتا ہے۔ لیکن اس سارے میں جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ بہت سادہ سا ہے۔ آپ پیکج کروائیں کمپنی کو مخصوص رقم ادا کریں۔ اور اس کے بعد مخصوص مدت کے لیے ایس ایم ایس کی مخصوص تعداد آپ کی ہوئی۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ایس ایم ایس کام کے لیے نہیں تفریح بلکہ وقت ضائع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ماہانہ سو کے قریب ایس ایم ایس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے پہلے پہل ایس ایم ایس کرنے سے پرہیز کی کوشش کی لیکن دوست احباب کے طعنے، ہم جماعتوں کے جائز استفسارات کے جواب (چونکہ میں کلاس کا سی آر ہوں) اور کئی ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے مجھے اس طرف آنا ہی پڑا۔ اب حال یہ ہے کہ ہر ماہ میرا سو کے قریب روپیہ ان پر لگتا ہے۔ اور پھر مجھے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس اتنے رہ گئے ہیں انھیں ختم بھی کرنا ہے۔ چناچہ میں نے جہاں ایک کرنا ہو وہاں تین چار بھی کردیتا ہوں۔ اب ان کو ختم بھی تو کرنا ہے کا سوچ کر۔
میرا سوال اتنا ہے کہ اگر ایس ایم ایس اتنا سستا ہوسکتا ہے جیسا کہ ان پیکجز کے ذریعے ہے تو اس کو مناسب ریٹ پر لاکر نارمل پیکج میں شامل کیوں نہیں کردیا جاتا؟ جس طرح ایس ایم ایس مفت بانٹے جارہے ہیں ،چار روپے کٹوائیں 24 گھنٹے میں 500 ایس ایم ایس آپ کے، اگر اس کو دس سے ضرب دی جائے تو جواب آٹھ پیسے آتا ہے۔ چلیں دس پیسے کرلیں اور ٹیکس ڈال کر پندرہ پیسے کرلیں۔ اگر پندرہ پیسے کا ایس ایم ایس بھی کردیا جائے تو کیا ہے۔
پچھلے دنوں ایک دوست سے چائنہ میں بات ہورہی تھی اس کے مطابق ایک ایس ایم ایس پاکستانی پانچ سے چھ روپے کا پڑتا ہے، کال سننے کے چارجز دینے پڑتے ہیں، روزانہ کے پیسے کاٹے جاتے ہیں جیسے پاکستان میں وائرلس لوکل لوپ والے روز کے پیسے کاٹتے ہیں بطور لائن رینٹ اور جب آپ کا بیلنس ختم تو نمبر بند۔ جب تک دوبارہ لوڈ نہ کریں تو نہ کال وصول سکیں گے نہ اس دوران آیا میسج آپ تک پہنچ سکے گا، کمپنی کے سرور پر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان میں اس سے حالات ہزار درجے بہتر ہیں اور اس کی وجہ کمپنیوں کا آپسی مقابلہ ہے۔ لیکن پھر بھی ان کمپنیوں ہمارا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سیل فون کام کی چیز نہیں فن اور مسخریاں کرنے کی چیز بن گیا ہے۔ کام کے لیے میسج کرنا ہے تو سوا روپیہ اور بے مقصد کرنے ہیں تو جتنے چاہیں۔ بس پیسے کٹواتے جائیں اور جو مرضی حاصل کرلیں مفت ایس ایم ایس سے لے کر انٹرنیٹ کے گھنٹوں کی سستے ترین گھنٹے۔ لیکن اس طرح کہ آپ انھیں استعمال صرف اور صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ عجیب سائنس ہے یہ بھی اور اس سائنس نے ہم نوجوانوں کی کیمیا کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کی بے مقصد رات ساری ساری رات گپ بازی اور موبائل چیٹ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ :roll:

ہفتہ، 7 فروری، 2009

فنکشن

خلیل جبران کا کہنا ہے کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں. یہ ضیاء کے آخری الفاظ تھے جو اس نے فنکشن کا اختتام کرتے ہوئے کہے.
ضیا یعنی ضیاء اللہ بدر بیچلر آف سائنس لنگوئسٹکس اینڈ لٹریچر کا طالب علم، ہمارا سینئیر اور کل رات ہونے والے فنکشن کا آرگنائزر، کمپئر اور پرفارمر.
ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان "میں کون ہوں" انگریزی میں
Who Am I جس میں آپ کچھ بھی بنا سکتے تھے. اس کو بھی فنکشن کے ساتھ ہی جوڑ دیا گیا. چناچہ ایک جانب تقریب جاری تھی دوسری جانب لوگ اس حصے میں آجارہے تھے جہاں طلباء کے چارٹس، پینٹگز، کارڈز، گڑیاں، سینریاں اور دوسری چیزیں لگی ہوئی تھیں. (ہم نے بھی بنایا تھا ایک چارٹ :oops: . ان اللہ علی کل شیء قدیر کو ہم نے انتالیس فونٹس میں لکھا اوپن آفس میں اور چھ عدد پرنٹ نکال کر چارٹ پیپر پر چسپاں کرلیے. آرٹ کا آرٹ ٹیکنالوجی کی ٹیکنالوجی :grin: )
ہمارا پروگرام ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس ہے اور سمسٹر ابھی پہلا. مابدولت کلاس کے سی آر ہیں اور ساتھ میں سینئیر بھی کہ پہلے ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ یہیں سے کیا ہے. ہم نے بھاگم بھاگ ایک عدد نظم لکھی. نظم کیا تھی بس قذاقی اور ڈاکا تھی. ہم نے زاہد فخری کی "کدی تے پیکے جا نی بیگم" کو "کدی تے چھٹی جا نی میڈم" کرلیا. ایک دو الفاظ بدل کر ہم نے سارا مفہوم بیگم سے میڈم اور گھر سے لنگوئسٹکس کے کلاس روم تک پہنچا دیا. خیر یہ تو ہماری ذاتی کہانی تھی. ہماری کلاس....پہلا سمسٹر... سارے بی اے...زندگی میں پہلی بار مخلوط طرز تعلیم میں آمد...یونیورسٹی کے ماحول سے کافی حد تک کم ہوچکی لیکن ابھی بھی باقی اجنبیت ... وغیرہ وغیرہ کے مارے ہوئے.. ہمیں ہمارے سینئرز جو پہلے ہی ڈیڈ سولز (جی مردہ روحیں اردو میں) قرار دیتے ہیں. ہم نے یعنی سی آر صاحب نے زور لگایا یار کجھ کرلو. تہانوں اللہ دا واسطہ نک دا سوال اے. تو اللہ اللہ کرکے ایک عدد ڈرامہ لکھا گیا، تھوڑی بہت پریکٹس بھی ہوئی. (لیکن ہم اس میں نہیں تھے) وقت کی کمی کی وجہ سے آخری وقت میں اسے اڑا دیا گیا.. :roll: اس کے علاوہ ہماری کلاس سے دو اور لوگ گانے میں حصہ لے رہے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور ... ایک دن میں نے اور باقی لڑکوں نے غصہ کھا کر ایک مزاحیہ سکرپٹ بھی تیار کرڈالا..آئیڈیا زرداری کا توا لگانے کا تھا... لیکن یہ سکرپٹ پھر ہماری ہی عدم دلچسپی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے پیش ہی نہ ہوسکا. ہماری کاسٹ دوسرے ڈرامے میں مصروف تھی، مکالمے جاندار نہ تھے اور ہمارے ڈائرکٹر صاحب کا انداز چھڈ یار قسم کا تھا. سو ہم نے کہا بھاڑ میں جاؤ ہم تو نظم پڑھ دیں گے.
خیر ہم اور میں سے باہر آئیں کہ فنکشن اس سے باہر باہر ہی ہوا. ہمارے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں دو ذیلی شعبے ہیں. لنگوئسٹکس اور لٹریچر. لنگوئسٹکس میں چار کلاسیں بی ایس آنرز کی ہیں جو چار سال کا کورس ہے اور اس میں لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے مع لسانیات. دو کورس ایک تھرڈ اور ایک فرسٹ ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس اورلٹریچر میں چار کلاسیں ایم اے انگریزی صبح و شام اور فرسٹ و تھرڈ سمسٹر کی ہیں. خیر تو اتنی ساری کلاسوں میں سے کس نے زیادہ حصہ لیا. تو اس کا جواب ہے کہ بی ایس 7 اور ایم ایس سی 3 سمسٹر والوں نے. یہ دونوں کلاسیں اصل میں ایک ہی کمرے میں ہوتی ہیں وجہ کمروں کی کمی ہے، ان کے کورسز بھی ایک ہیں بس پروگرام کا نام مختلف ہے. یہ جی سی کے کھنڈ لوگ ہیں. ضیاء اللہ بدر، غلام دستگیر عرف جی ڈی، زین، امجد، قندیل اور حنان وغیرہ وغیرہ. ضیاء جانا مانا ڈرامہ نگار ہے. مجھے تو شکل سے ہی ڈرامے باز لگتا ہے. ہاتھ میں سگریٹ، عینک وہی بال، لگتا ہے ابھی آواز دے گا اوئے ابھی تک سیٹ نہیں لگا، جلدی کرو. اس نے پچھلے سال فنکشن پر شیکسپئر کے تین ڈراموں کی ہدایات دی تھیں. اس بار اس نے اپنا ڈرامہ لکھا اسٹیشن بستی سیداں والی. اچھا ڈرامہ تھا، لو سٹوری تھی. لیکن اچھا تھا اگرچہ اس کا مرکزی کردار وہ خود تھا، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح سارے راستے اسی کی طرف جاتے تھے، لیکن پھر بھی اچھا ڈرامہ تھا، محنت ہوئی تھی اس پر اور پسند کیا گیا. وائس چانسلر صاحب اسی دوران آئے تھے اور اس ڈرامے سے اتنا متاثر ہوئے کہ پانچ ہزار کے انعام کا اعلان کرگئے. خیر...یہ تو 7 سمسٹر والوں کا تھا ایک ڈرامہ لٹریچر والوں کی طرف سے تھا. ایک عدد قوالی تیار کی گئی تھی جس میں حسب توقع بی ایس 7، ایم ایس سی 3 اور بی ایس 3 کے لوگ شامل تھے. قوالی کا بنیادی مقصد لٹریچر والی کی مٹی پلید کرنا تھا. اور خوب کی گئی. ہوسکا تو اس کی ویڈیو پوسٹ کروں گا. بول کچھ ایسے تھے " لٹریچر والوں سے اللہ بچائے" حسن والوں سے اللہ بچائے کی طرز پر.
تو صاحب یہ پس منظر تھا، فنکشن پہلے چار کو ہونا تھا پھر چھ کو کردیا گیا. ہم یعنی سی آر صاحب نے بھی اپنا نام انتظامیہ میں لکھوا لیا کہ چلو اسی بہانے ذرا چوہدراہٹ بن جائے گی. لیکن ...آہ کیا بنا.. بنا یہ کہ کل ہمارے سیٹ کی ایک بیٹری جواب دے گئی اور ہمیں دوسری بیٹری نکال کر اسے چارج کرنا پڑا. اس کی چارجنگ پورٹ خراب ہے چناچہ چارجنگ تو موبائل آف.. اب وہاں ہمیں کال کیا جاتا ہے اور ہمارا موبائل بند.... ہم بھی کیا کریں ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی آتی تھی جب آتی ہم موبائل چارجنگ پر لگا دیتے جب چلی جاتی تو اسے پھر آن کرلیتے. :roll: شام کو جب ہم وہاں تشریف لے جانے سے پہلے جی آر سے مخاطب ہوئے کہ میڈم وہ پاسز اور لسٹ لیتی آنا یاد سے تو آگے سے ہماری جو ہوئی :grin: .... نہ پوچھیں... اس بے چاری کی ہماری ٹیچر نے کی تھی کہ کم بخت نے انتظامیہ میں نام لکھوا لیا اور اب اس کا سیل بھی آف ہے. خیر ہم کیا کہتے عذر پیش کردیا جوکہ خاصا معقول بھی تھا... وہاں پہنچے تو پہلے زین اور قندیل نے واٹ لگائی... پھر جی آر نے ایک بار پھر سے... :oops: ...پھر دوران فنکشن جی ڈی نے بڑے پیار سےاور ابھی میڈم یعنی ہماری ٹیچر رہتی ہیں.. یا اللہ خیر :neutral:
تو جناب فنکشن شروع ہوتا ہے... کتنے بجے پانچ بجے لیکن پانچ بجے صرف انتظامیہ کے ٹانویں ٹانویں لوگ تھے وہاں اصل کام ساڑھے چھ شروع ہوا... آتے ہی پہلے تھیم سانگ چلا، تجھ سے نیناں لاگے پر 7 اور 3 سمسٹر کے چار لڑکوں کی گھمن گھیریاں، ہمیں تو ککھ سمجھ نہیں آئی کہ تھیم کیا تھا، خیر پھر ضیاء کا ڈرامہ جو تیس منٹ کی بجائے پونے گھنٹے سے اوپر لے گیا.. پھر ایک انگریزی ٹیبلو سا سنو وائٹ پیش کیا گیا. پھر دو گز کی چادر سٹیج ہوا. اسی دوران قوالی بھی ہوچکی تھی بس ضیاء کا ڈرامہ اور یہ قوالی ہی دیکھی ہم نے اور ادھر ادھر پھرتے رہے. تصاویر کھنچوانے، گروپ فوٹو بنوانے جو کہ بن ہی نہ سکی ہر بار دو چار بندے کم ہوجاتے..اور ہم یعنی شاکر میاں اپنی نظم پڑھنے کی باری کا انتظار کرنے ...ہان شہزاد بھی جس نے گانا گانا تھا اور اس کے لیے وہ اپنا مووی کیمرہ بھی لے کر آیا تھا اور مجھے سکھا بھی چکا تھا کہ مووی کیسے بنانی ہے. :oops:
آہ... لیکن حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے. اس دوران دس بج گئے تھے، کئی لڑکیاں جاچکی تھیں اور کئی کو لے جانے والے آچکے تھے. چناچہ فنکشن کو مہمان خصوصی اور چئیر پرسن کے اختتامی کلمات کے ساتھ دی اینڈ کردیا گیا اور ہم دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے گاتے کھانے پر ٹوٹ پڑے. جیسا تیسا کھایا کہ ہم سے تو ایسے مواقع پر کھایا ہی نہیں جاتا... پھر آخر میں تھوڑا سا کام کروا دیا کہ تھوڑا سا ازالہ کردیں صبح نہیں اب تو کروایا ہے کام. آہ پھر واپسی.
اگرچہ:
ہماری کلاس کا ڈرامہ ریجیکٹ ہوگیا.. برا سا لگا
ہمارے دونوں گانے اور نظم شامل نہیں کی گئی.
فنکشن لیٹ شروع کرکے اس میں پرفارمنسز وہ کاٹی گئیں جو ہماری تھیں یا جہاں ایم ایس سی 3 اور بی ایس 7 کے لوگ نہیں تھے. :sad:
ہمیں کھانے کے دوران بوتل نہیں ملی :oops: چار بندوں نے ایک بوتل شئیر کی..
اور ہمارا نام انتظامیہ میں شامل نہ ہوسکا کہ ہم تو آئے ہی نہیں تھے..قسم سے ہمیں اپنی جی آر اور جی ڈی لوگوں سے ڈھیر سارا حسد محسوس ہوا جب وہ آرگنائزر کا کارڈ گلے میں ڈالے قریب سے گزرتے :cry:
لیکن:
اس کے باوجود یہ تقریب ایک اچھی یاد بن کر دل کے کینوس پر نقش ہوگئی.
ہم نے اسے انجوائے کیا.
بقول عاصم صاحب یہ لائف سائنسز ہیں آپ کو پہننے، اوڑھنے، کھانے، پینے کا سلیقہ دیتی ہیں یہ تقاریب. آپ کو آداب سکھاتی ہیں. چناچہ ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا. ہم جو وہاں شاید سفید کرتے شلوار میں پہنچ جاتے لیکن ہمیں مت دی گئی کہ کاکے ڈنر میں گہرے رنگ چلتے ہیں، ٹو پیس کرلینا. چناچہ ہم نے پینٹ شرٹ گھر سے پہنی اور کوٹ ایک دوست کی مہربانی سے وہاں جاکر پہن لیا.. سنا ہے کہ خاصے معقول صورت بلکہ خوبصورت ہی لگ رہے تھے، تصویر مہیا کرنے کی کوشش کریں گے. :oops: :razz:
آج ہمیں لگ رہا ہے جیسے ہماری روح کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے. جی سی کے اسی لان پر منڈلاتا ہوا، اس فنکشن کے اندر باہر آتا جاتا.. عجیب خالی پن سا لگ رہا ہے، جیسے یکدم آپ کسی بھیڑ والی جگہ سے خلا میں آجائیں جہاں پہلے سینکڑوں چیزیں اور لوگ تھے اب وہاں صرف آپ ہوں اور مہیب خلاء، بیکراں سناٹے اور ملگجا سا اندھیرا. شاید خلیل جبران نے ٹھیک ہی کہا کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے اپنی زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں.

پیر، 12 جنوری، 2009

ہائے گرامر

میرے احباب کا گلہ ہے کہ میں کچھ لکھتا کیوں نہیں۔  میں کیا لکھوں۔۔۔

پچھلے پندرہ دن سے میرا انٹرنیٹ بند تھا۔ بجلی بند تھی۔ موبائل فون ایک ہفتہ بند رہا۔۔ آہ آپ کو کیا بتاؤں لگتا تھا کسی ظالم نے بندش کروا دی ہے۔ خیر اس بندشوں کے موسم میں ہم کیسے جیے۔ تو سنیے


لمبی داستان ہے لیکن مختصر کیے دیتے ہیں۔ قصہ شروع ہوتا ہے گرامر سے۔ گرامر۔۔۔ ہمارے ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کے پہلے سمسٹر میں ایک یہ کورس بھی ہے۔ گرامر اور وہ بھی انگریزی کی۔ وہ زبان جو میرے لیے آج بھی اجنبی ہے۔ تو صاحبو ان تمام دنوں میں ہم یہ مصرع گنگناتے رہے۔


ہم ہیں اور گرامر کے غم ہیں دوستو


مرحوم شاعر یا غیر مرحوم شاعر سے معذرت کے ساتھ۔ ہم نے مصرعے میں گرامر ٹانک کر اسے حسب حال کرلیا۔ پندرہ دن کہنے کو تو چھٹیوں کے تھے۔ لیکن ہمیں چھٹیوں کا کام دے کر بھیجا گیا تھا۔ کام اتنا سا تھا کہ 234 عدد مشقیں کرنا تھیں۔ جی گرامر کی ہی۔ بڑی مشہور اور پرانی انگریزی کی گرامر ہے ہائی سکول انگلش گرامر اس کی اڑھائی سو مشقیں۔ آہ۔۔۔ نام تو اس کمبخت کا ہائی سکول ہے لیکن اس نے یونیورسٹی کے طلباء کو سکول یاد کروا دیا۔


ہم و ہمارے ہم جماعت اب بھی اس صدمے کے زیر اثر ہیں۔ رات کو خوابوں میں ایک عرصے سے گرامر آتی ہے۔ گرامر نہ آئے تو انگریزی کے فقرے دھمال ڈالتے ہیں۔ آ ہمارا تجزیہ کر۔ تجزیہ؟ نہیں سمجھے۔۔ میں سمجھاتا ہوں۔ تجزیہ یعنی اینالسس بطور لسانیات کے طالب علم ہونے کے ہمیں آنا چاہیے۔ چونکہ زبان فرنگ زبان تعلیم بھی ہے اس لیے اسی کی گرامر سکھائی جاتی ہے۔ اور اسی کے فقروں کا تجزیہ بھی سکھایا جاتا ہے مقصد اتنا ہے کہ ہم آگے اسے اچھی طرح پڑھانے کے قابل ہوجائیں۔ ان اڑھائی سو مشقوں کا مقصد بھی ہماری مومیائی نکالنا اور ہمیں انگریزی گرامر کی مبادیات سے آگاہ کرنا تھا تاکہ ہم تجزیہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ تجزیہ جو ہمارے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ فقرہ لکھا ہے۔


چاچے پھجے نے مامے تاج دین کو کیوں مارا۔


ماسی کرشیداں کے وڈے منڈے کے چھوٹے صاحب زادے کو بخار کس وجہ سے چڑھا۔


یہ لوکل ورژن ہے جی انگریزی کے فقرے بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ایک فقرہ کسی مرے ہوئے شاعر کے دیوان سے دوسرا کسی ڈرامے سے اور تیسرا خود سے بنایا ہوا۔ ہر فقرہ جلیبی کی طرح سیدھا۔ پہلے کلاز clause نکالو پھر اس کے اندر فاعل، فعل ، مفعول بتاؤ۔ پھرمزید آگے جاکر ان کے اندر موجود الفاظ کا زمرہ بتاؤ۔ صفت ہے، نام ہے، فعل ہے ۔۔۔۔آہ یہ گرامر ہے کہ جیل ہے۔۔ بس صاحبو کیا بتائیں ہمارے تو گوڈوں میں گرامر ایسی بیٹھی کہ ساری چھٹیاں اسی میں گزر گئیں۔ اور ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ تین مارچ کو پرچے ہیں اور تب تک ہم نے گرامر کی مزید تین اسائنمنٹ کرنی ہیں۔ کچھ اسی طرح  کی جیسی ان چھٹیوں میں کی۔ مجھے تو شک ہے کہ اس سمسٹر کے بعد ہم انسان بھی رہیں گے یا چیر پھاڑ سپیشلسٹ بن جائیں گے۔ اس گرامر کے صدقے اچھے بھلے شعر کی معنی آفرینی اور ندرت خیال کی بجائے ہمیں اس میں فاعل فعل مفعول نظر آتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر کو بندہ نہیں پھیپھڑوں، جگر اور دل گردے کا مجموعہ انسان کی شکل میں نظر آتا ہے۔


اتنی بک بک بہت ہے امید ہے میرے احباب کا گلہ دور ہوگیا ہوگا۔ اگر بور ہوگئے ہیں تو معذرت نہیں کروں گا۔


اتنا ہی کہوں گا کہ ہور چوپو۔۔۔ تہانوں کیا کنھیں سی کے ایس پوسٹ نوں پڑھو۔

اتوار، 17 اگست، 2008

14 اگست

گھر سے باہر نکلتے ہی آوازیں مزید واضح ہوگئی تھیں۔
سیٹیوں کی عجیب و غریب بین کرتی ہوئی کریہہ آوازیں، جیسے بچہ رو رہا ہو۔
موٹر سائیکلوں کے سائلنسر سے نکلنے والا ناقابل برداشت اور نفرت انگیز شور، جو کان میں پڑتے ہی غصے کی لہر پیدا کررہا تھا۔
اور پٹاخے، چھوٹے بڑے اور درمیانے چلتے ہوئے پٹاخے، جو مرے پر سو درے کی طرح چاروں طرف سے یکساں آواز میں نازل ہورہے تھے۔
سونے پر سہاگہ اس کا دوست، جس نے اسے دیکھ کر آواز دے لی۔
"ہاں بھئی شہزادے کیا تیاری کی ہے جشن آزادی کی"۔  حسب توقع چھوٹتے ہی اس نے سوال کیا۔
جواب میں وہ کچھ لمحے بے تاثر انداز میں اسے دیکھتا رہا پھر بولا "تُو بتا تیرے پاس کیا تیاری ہے"۔
اور جواب میں اس کے دوست نے جیب سے ایک سیٹی نکال کر بجائی۔ بین کرنے کی کریہہ آواز اطراف میں پھیلتی چلی گئی۔
"اس بار یہ سیٹیاں چل رہی ہیں جشن آزادی پر شہزادے اس لیے میں نے بھی لے لی ہے۔ ورنہ تو ہمارا اصل آئٹم تو موٹر سائیکل والا ہوتا ہے۔ اس بار بھی سائیلنسر نکلوا لیا ہے۔ پٹاخے موجود ہیں۔"
"بس؟"
"ہاں اس بار جھنڈے والی شرٹ بھی سلوا لی ہے۔ شام کوکمپنی باغ چلیں گے پہن کر۔ ذرا موج میلا ہوجائے گا۔" اس کے دوست نے معنی خیز انداز میں آنکھ ماری اور بھونڈے انداز میں ہنسنے لگا۔
"مجھ سے پوچھے جارہا ہے، اپنی بتا تُو تو کئی دن سے پروگرام بنا رہا تھا"۔
"کچھ نہیں یار بس ساری تیاری ختم ہوگئی"۔
"کیوں؟ خیر تو ہے؟"
"بس یار آج ابے نے پٹاخے دیکھ لیے۔ اس نے میرے پٹاخے چلا دئیے"۔
"اوہو افسوس ہوا سن کر۔ میرا ابا کچھ نہیں کہتا۔ جو مرضی کرو۔ وہ تو کہتا ہے یہی دن انجوائے کرنے کے ہوتے ہیں۔ بچوں کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ "
"بس یار میرا ابا عجیب قسم کا اباہے۔ کبھی تو لگتا ہے میرا ابا ہے ہی نہیں۔ کہتا ہے اگر جشن آزادی منانی ہے تو پڑھو۔ پڑھ کر ملک کی خدمت کرو۔ اور اچھے اچھے کام کرو۔ اس کے خیال میں یہ سارے کام اچھے کام نہیں"۔ آخری جملے پر اس کا لہجہ کٹیلا ہوگیا۔
"چل شہزادے تو فکر نہ کر۔ پٹاخے بھی مل جائیں گے۔ اور موٹر سائیکل تو اپنی ہے ہی تو بھی ساتھ آجا۔  کمپنی باغ  چلتے ہیں۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کئی سجن بیلی ہونگے وہاں ۔" اس کے دوست نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اور وہ بھی ابے کے چھتر بھول کر مسکرا دیا۔ پھر دونوں 14 اگست  "منانے" کی تیاری کرنے لگے۔ ایک بار پھر بین کرنے جیسی سیٹی کی آواز ابھرنے لگی۔ جیسے وطن اپنی حالت پر بین کررہا ہو۔

ہفتہ، 2 اگست، 2008

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔


ونڈوز یا لینکس؟


دونوں


ہالی وڈ یا بالی وڈ؟


دونوں ہی۔


پیپسی یا کوک؟


جو مل جائے


کراچی یا لاہور؟


فیصل آباد ;)


سیب یا انگور؟


غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے


پاپ یا راک؟


جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔


چائے یا کافی؟


چائے ہی۔


نہاری یا حلیم؟


حلیم کبھی کبھار۔


فورمز یا بلاگ؟


دونوں


دوست یا کزن؟


دوست


کرکٹ یا فٹ بال؟


کرکٹ


پرسکون یا پریشان؟


منحصر بہ وقت


چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔

جمعہ، 1 اگست، 2008

ایک واری فیر

لو بھئی اللہ والیو ہم پھر آگئے ہیں۔ :D

قدیر کی طرح ہم تڑی دے کر انٹرنیٹ سے نہیں بھاگتے بس کچھ حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔

کبھی سرور اڑ جاتا ہے، کبھی تھیم خراب ہوجاتا ہے اور اتنے میں ہمارا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد ہم پھر سے حاضر ہیں اور امید ہے کہ اب حاضر ہی رہیں گے۔

سنا ہے ہمارا انٹرویو شنٹرویو کرنا ہے وڈے لوگوں نے۔ اپنا سوال نامہ بھیجو بھئی ہم بھی انٹرویو دیں آخر دو سال پرانے بلاگر ہیں اور اب "کھنڈز" میں شمار ہوتے ہیں۔

کھنڈ کی سمجھ نہ لگے تو کسی پنجابی دوست سے پوچھ لیجیے گا۔ اردو میں اس کا بڑا لمبا سا بنتا ہے سرد و گرم چشیدہ شاید....

خیر بلاگ تو بن گیا ہے مہربانی نبیل نقوی کی ہے جنھوں نے اردو کوڈر کو سپیس فراہم کی۔ شکریہ پاء جی۔ مزید یہ کہ کوئی اللہ والا ایک عدد لوگو بنا دے ہمارے نام کا۔ اوپر سائیڈ بات میں لوگوں نظر آرہا ہوگا اس کے سائز کا ہم تاعمر مشکور رہیں گے۔ خود سے نہیں کریں گے تو ہم خود جا دھمکیں گے تب تو کرنا ہی پڑے گا اس لیے ایسے ہی کردیں تو بہتر ہے۔ ;)

وسلام

پیر، 24 مارچ، 2008

الحمد اللہ

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں معزز ججوں کی رہائی دیکھنا نصیب کی۔ دعا ہے کہ اب انھیں بحال بھی اسی طرح کروادیا جائے۔۔۔

کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔

اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔

ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔

پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔

ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔

جمعرات، 14 فروری، 2008

پھولوں کا کوئی موسم نہیں ہوتا

لال گلابی نیلے پھولے

اودے رنگ رنگیلے پھول

پھولوں کا کوئی موسم نہیں ہوتا

ان چھوئے ان کہے

کلیوں جیسے کورے جذبے

جذبوں کا کوئی موسم نہیں ہوتا

محبتوں کو قید کرتے ہو

محبتوں کا کوئی موسم نہیں ہوتا


یہ پھول ان سب کے نام جن سے میں محبت کرتا ہوں۔ میرے دوست، میرے عزیز، میرے اساتذہ، میرے ماں باپ، میرے بہن بھائی اور وہ سب جنھیں میں دل سے بہت قریب محسوس کرتا ہوں۔ یہ پھول ان کے لیے میری محبتوں کا اظہار ہیں۔
یہ پھول اس شخص کی خدمت میں خراج تحسین ہیں جسے دنیا افتخار محمد چوہدری کے نام سے جانتی ہے۔ نیلسن منڈیلا کو چھ سال قید میں رکھا گیا تھا ہم دس سال کے لیے بھی تیار ہیں۔ چیف جسٹس آپ جب بھی آزاد ہونگے ہم آپ کا استقبال ایسے ہی کریں گے۔ وطن پر بے یقینی کی فضائیں ہیں تو کیا ہوا، وطن پر ناامیدی کی پرچھائیں ہیں تو کیا ہوا ہم پرعزم ہیں ، ہم پرامید ہیں روشن کل کے لیے ۔۔۔۔ ہم منتظر ہیں اس روشن اجالے کے جو ظلمتوں کو مٹا دے گا اور اس ارض پاک کو نئی رفعت و بلندی عطاء کرے گا۔
اے اللہ میرے وطن کی حفاظت کرنا۔

جمعہ، 8 فروری، 2008

معذرت

پچھلے دنوں گلوبل سائنس کے سلسلے میں اپنے بلاگ پر ایک تحریر لکھی تھی۔ اس پر ہونے والے تبصرے کسی اور ہی سمت میں چلے گئے۔ میری نادانی سے اس میں کمپیوٹنگ کا ذکر آگیا جس کی وجہ سے میرے کچھ دوستوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ میں نے اس تحریر پر سے تمام تبصرے ختم کردئیے ہیں۔ اس کی وجہ سے جن احباب کے جذبات مجروح ہوئے یا جن کو تکلیف پہنچی میں ان سے غیر مشروط  طور پر معافی کا طلبگار ہوں۔ امید ہے آپ مجھے نادان سمجھتے ہوئے معاف کردیں گے۔

وسلام

پیر، 21 جنوری، 2008

مبارکباد بدتمیز سیّاں

لو جی بدتمیز کو مبارکباد ان کی سالگرہ پر۔ ویسے تو ہمارا آج کل لکھنے کو ککھ بھی دل نہیں کررہا۔ اس بہانے ایک اور پوسٹ ہی سہی۔ اللہ تم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ رکھے۔ آمین۔

جمعہ، 21 دسمبر، 2007

دوستوں سجنوں کو عید مبارک

عید کی نماز میں‌ ایک گھنٹے کے قریب وقت رہ گیا ہے اور میں اس وقت تمام دوستوں کو ایس ایم ایس کرنے بیٹھا ہوں‌۔ سوچا یہ پوسٹ بھی لکھ لی جائے۔
ّ

عید مبارک


خوش رہیے مسکراتے رہیے شاد آباد رہیے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کریم آپ کی قربانی قبول کرے اور ہم سب پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت رکھے۔
آمین

جمعرات، 20 دسمبر، 2007

گوگل ٹاک میں اب زبانوں کے مابین ترجمہ

اگرچہ یہ خبر اوپن سورس سے متعلق نہیں لیکن مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بارے میں‌ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی سہولت سے ایک زمانہ واقف ہے اور رزانہ لاکھوں‌ یا شاید کروڑوں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اب تو گوگل نے عربی انگریزی ترجمے کی سہولت بھی دینی شروع کردی ہے۔ شاید کسی دن اردو انگریزی کی سہولت بھی میسر آجائے۔ خیر خبر یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی طرح ترجمہ کرنے کی یہ سہولت اب گوگل ٹاک میں‌ بھی دستیاب ہوگی۔ یعنی آپ انگریز ہیں اور آپ کا چیٹ‌ کرنے والا دوست چینی تو بھی آپ دونوں اپنی زبانوں یعنی انگریزی اور چینی میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو کنورسیشن میں‌ ترجمہ کرنے کے لیے ایک عدد گوگل بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ جیسے انگریزی سے چینی میں ترجمے کے لیے یہ بوٹ شامل کرنا ہوگا:‌en2zh@bot.talk.google.com۔ اسی طرح چینی سے انگریزی میں ترجمے کے لیے بھی ایک عدد بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ آپ کے چینی دوست کا پیغام انگریزی ترجمہ کرنے والے بوٹ‌ کے پاس جائے گا اور پھر چیٹ ونڈو میں آپ کو انگریزی میں ترجمہ ہوکر دکھائی دے گا۔ یہی حال انگریزی سے چینی ترجمہ کرنے والا بوٹ آپ کی انگریزی کا کرے گا۔ ونڈو ملاحظہ کیجیے۔ ترجمہ صرف انگریزی سے غیر انگریزی زبان میں نہیں بلکہ دو غیر انگریزی زبانوں‌ کے لیے بھی دستیاب ہوگا جیسے فرنچ اور ہسپانوی زبانیں‌ وغیرہ۔ زبانوں‌ کے ترجمے کے لیے متعلقہ بوٹس کے کوڈز یہاں‌‌ سے حاصل کریں۔

بدھ، 19 دسمبر، 2007

زبان:‌ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!

لسانیات میں‌ ہمیں دو بہت ہی اہم تصورات سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر لسانیات اور خصوصًا اطلاقی لسانیات (Applied Linguistics) میں زیادہ تر کام انگریزوں کا ہے یا ایسے لوگوں کا جو انگریز نہیں لیکن انگریزی بول سکتے ہیں اور انھوں نے یہ کام انگریزی کے نکتہ نظر سے کیا۔ اطلاقی لسانیات کی بات چلی تو بتاتا چلوں زبان کو سیکھانے کے سلسلے میں ہونے والے تمام اعمال اسی شعبے میں آتے ہیں۔ اچھا لینگوئج ٹیچر اطلاقی لسانیات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے جیسے سکھانے کے نئے طریقے وغیرہ۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو "پابند" ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ "معیاری" اور "غیر معیاری" زبان کے بارے میں‌ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ‌ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی "آبائی" زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں "کیا ہونا چاہیے"۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو "بیان" کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ "لاپرواہ" نہیں‌ بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں‌ پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں‌ بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں‌ فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ‌ کا ماخذ‌ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں‌ ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ‌ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں‌ ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ‌ مڈ‌ہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاء‌کی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔

آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میں‌دی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیں‌کہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ "ایسے ہوتا ہے"۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔

جمعہ، 30 نومبر، 2007

اردو میں بلاگنگ کیوں نہیں؟

محب علوی نے اہم مسئلہ اٹھایا ہے کہ جب ساری دنیا میں لوگ بلاگنگ کو اتنا سنجیدگی سے لے رہے ہیں تب پاکستان میں لوگ اسے کھیڈ تماشا کیوں سمجھ رہے ہیں۔
میں آپ کو اپنی بات بتاتا ہوں۔ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ والد ناشتے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کا خرچہ مرچہ میں اپنے پلے سے پورا کرتا ہوں یا چھوٹے بھائی کی مہربانی کہ وہ کام کرتا ہے اور کیبل نیٹ کی فیس اکثر دے دیا کرتا ہے۔ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ساتھ اس لیے اکثر و بیشتر پایا جاتا ہوں کہ میرا سوشل سرکل بہت محدود ہے۔ خاندان میں‌ پچھلے دس سال سے کوئی شادی اٹینڈ نہیں کی میں نے۔ دوست وہ جو یونیورسٹی وغیرہ میں ہیں۔ محلے میں بس کسی کسی سے سلام دعا ہے۔ تو میں جب کچھ نہیں کرتا تو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنا خون جلاتا ہوں۔ سڑتا کڑھتا ہوں اور بلاگنگ کرتا ہوں۔
اگر میں ایسا کرتا ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں کرتے؟
اول تو کسی کو اس کا شعور ہی نہیں۔ لوگ انٹرنیٹ کے بارے میں جانتے ہیں بلاگنگ کے بارے میں نہیں۔ میرے چھوٹے بھائی کو پتا ہے کہ میں بلاگنگ بھی کرتا ہوں۔ لیکن وہ اسی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر آرکٹ کو وزٹ کرنا پسند کرتا ہے اور کسی بی بی سے چیٹ کرنا اسے زیادہ مرغوب ہے۔
جو لوگ اس وقت بلاگنگ کررہے ہیں ان میں سے بہت سے بیرون ممالک سے بلاگنگ کرتے ہیں۔ یا کم از کم پردیس پلٹ ہیں۔
پاکستان میں بلاگنگ کرنے والے یا تو فارغ و البال قسم کے احباب ہیں۔ یا پھر وہ معاشی طور پر خوشحال لوگ ہیں۔ میرے جیسے چند ایک ہی ہیں یا پھر وہ لوگ جن کا وقت زیادہ تر نوکری کے سلسلے میں کمپیوٹر پر گزرتا ہے۔
انٹرنیٹ پر وقت یہاں فحش ویب سائٹس دیکھنے اور اس کے بعد چینٹنگ کرنے اور آرکٹ جیسی ویب سائٹس کو دیکھنے میں گزرتا ہے۔
بلاگنگ کیا خاک ہوگی؟
ابھی پاکستانیوں کو کم از کم پانچ سال مزید چاہییں کہ انھیں ٹیکنالوجی کا صحیح اندازہ ہوسکے۔