سماج لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سماج لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 23 جولائی، 2016

مرد

پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔

مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔

فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔

ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔

اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین

منگل، 15 دسمبر، 2015

132 بچے

ہاں 132 بچے تھے اور 16 دسمبر کا دن تھا۔ پچھلے برس بھی جب یہ خبر میرے سامنے آئی تھی تو میں کلاس پڑھا رہا تھا۔ پھر جیسے جیسے شام ہوتی گئی قطرہ قطرہ کر کے غم برداشت سے باہر ہوتا گیا اور میری آنکھیں برس پڑی تھیں۔ یہ تحریر انہیں لمحات میں لکھی گئی تھی۔
آج ایک دن کم ایک برس بعد میرے اندر لگے الارم کلاک نے پھر وہی کیفیت تازہ کر دی ہے۔ آج میں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک سرد اور اجنبی سرزمین پر تنہا بیٹھا اسی غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔ 132 بچے اور ان میں ایک ننھی سی بچی بھی تھی۔ میرا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے شاید مجھے احساس نہیں ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں اس غم کا ایک اربواں حصہ شاید محسوس کر سکتا ہوں جو ان بچوں کے ماں باپ پچھلے ایک برس سے جھیل رہے ہیں۔ جوان اولاد کھونے کا دکھ تو میرے ماں باپ بھی سہہ چکے ہیں اس لیے شاید میں اس اذیت کا عینی شاہد ہوں جو تاعمر ماں باپ کے جھریوں زدہ چہروں میں پیوست ہو جاتی ہے۔ جوان اولاد کی موت کا دُکھ بہت بڑی اور بُری چیز ہے۔ کمر توڑ دیتا ہے، بال سفید کر دیتا ہے، قویٰ میں سے جان نکال لیتا ہے اور زندگی بھر کا روگ لگا جاتا ہے۔ ہر عید شبرات اور خوشی پر تازہ ہو جانے والے زخم دے جاتا ہے۔ ماں باپ کو اولاد کبھی نہیں بھولتی چاہے رب اور کتنے ہی دے دے۔ ماں باپ کو بنایا ہی ایسا گیا ہے۔
اور میں یہاں بیٹھا قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں۔ شاید یہ ان معصوم طلبہ کا دکھ ہے، یا ان سے پہلے اس جنگ کا ایندھن بننے والے ہزارہا معصوموں کا دکھ ہے یا میرا اپنا بازو ٹوٹ جانے کا دکھ ہے۔ میں جذباتی ترانے سنتا ہوں تو میرے اندر سے غم اُبل اُبل کر باہر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مرے ذہن میں بیٹھا ایک اور شخص جمع تفریق بھی کر رہا ہے۔
پچھلے ایک برس میں کیا بدلا ہے؟
آتش و آہن کے کھیل کو روکنے کے لیے آتش و آہن کے استعمال کے علاوہ ہم نے اور کیا کِیا ہے؟
تعلیم اور تربیت، ذہن سازی اور قوم سازی کے لیے ہم نے کیا کِیا ہے؟
ابھی کل ہی لاہور حفیظ سنٹر پر ایک مذہبی اقلیت کے نازیبا کلمات ہٹانے کے خلاف ہونے والے احتجاج کی خبر پڑھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ آخر بدلا کیا ہے؟ کیا رویے بدل گئے ہیں؟ کیا برداشت پیدا ہو گئی ہے؟
کیا تیس برس قبل ہم نے نفرت و عداوت اور شدت پسندی کا جو کوڑھ کاشت کرنا شروع کیا تھا اسے آج ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں؟
کیا ہم نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے؟
برداشت، رواداری، حسنِ سلوک اور محبت یہ وہ جادوئی رویے ہیں جو ہمیں پھر سے یکجا کر سکتے ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صرف آتش و آہن سے ہی نہیں کسی اور محاذ پر بھی ایک ضربِ عضب کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ذہنوں میں قانون سازی کرنی ہو گی۔ ہمارے ادارے (خدا کرے کہ یہ خیال درست ہو) اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں، بحیثیت قوم اور افراد ہمیں سبق سیکھنا اور اپنے رویوں کی اصلاح کرنی ہے۔ وگرنہ ہمارا کام ہر سفاکی کے بعد اس کو کفار کی سازش ثابت کرنا ہی رہ جائے گا جیسے پچھلے دنوں امریکی شہر میں ہونے والے قتل عام میں ملوث پاکستانی خاتون کے معاملے میں ہوا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ 
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

ڈسکورس یا کلامیہ

ڈسکورس کی اصطلاح ادب، تنقید نگاری، عمرانیات، علومِ ترجمہ، سیاسیات وغیرہ وغیرہ میں بکثرت استعمال کی جاتی ہے۔ اس شعبے کے ماہرین اور طلبہ اس سے اپنے اپنے انداز میں واقفیت رکھتے ہیں۔ ڈسکورس کو ترجمہ کریں تو بیانیہ، کلامیہ یا خطابت کا لفظ مناسب لگتا ہے جن میں سے کلامیہ مجھے اس لیے پسند ہے چونکہ یہ پہلے کسی اور معانی کے لیے مستعمل نہیں۔ بیانیہ آج کل ہمارے کالم نگار بڑی شد و مد سے نیریٹِوْ کے اردو متبادل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ خطابت کا لفظ فصاحت و بلاغت اور تقریر و خطبہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ تو قارئین ڈسکورس یا کلامیہ ہم زبان کے ایک درجہ کو کہتے ہیں۔

 زبان آواز سے شروع ہوتی ہے۔ آوازیں مل کر بامعنی ٹکڑے بناتی ہیں جنہیں صرفیے کہا جاتا ہے۔ اردو (اور عربی) گرامر میں صرف الفاظ کی ساخت سے متعلق علم کو کہا جاتا ہے۔ چنانچہ صرف و نحو (گرامر) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ صرف کے بعد لفظ آتے ہیں۔ اور پھر جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں نحو یعنی گرامر کا درجہ آتا ہے۔ اس کے بعد معنیات اور پھر سیاقی معنیات جسے انگریزی میں پریگمیٹکس کہا جاتا ہے، آتی ہے۔ جب بات فقرے کی حدود سے ماوراء ہو جاتی ہے تو پھر ہم زبان کو ڈسکورس یا کلامیہ کہہ دیتے ہیں۔

کلامیہ زبان و بیان کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جسے ابلاغی طور پر مکمل سمجھا جاتا ہے۔ یعنی زبان کا ایک خود انحصاری ٹکڑا، جو اپنے اندر ساختی اور معنیاتی تانے بانے کے ساتھ بڑی مضبوطی سے بندھا ہوتا ہے۔ اس کی مثال مولوی صاحب کا وعظ، سیاستدان کی تقریر، کمنٹیٹر کا رواں تبصرہ، فیس بک کی ایک پوسٹ، کسی بلاگر کی ایک تحریر، مستنصر حسین تارڑ یا کسی بھی مصنف کی ایک کتاب یا ناول یا افسانہ، کسی شاعر کی نظم یا دیگر صنفِ شاعری، کسی کالم نگار کا کالم، ایک خبر یا خبری مضمون، ایک اداریہ، کسی استاد کا لیکچر، دو یا زیادہ لوگوں کا مکالمہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب میں سے آپ کوئی بھی ابلاغی ٹکڑا اٹھا لیں وہ اپنے آپ میں بڑی حد تک مکمل ہو گا۔ اس میں آپ کو ساختی یعنی گرامر کی سطح پر ایسے روابط ملیں گے جو اسے باندھے رکھتے ہیں۔ مثلاً اسمائے ضمیر کا استعمال علی ایک لڑکا ہے۔ وہ کام کرتا ہے۔ وہ اسکول جاتا ہے۔۔۔۔ ان تین فقروں میں پہلا اور اس کے بعد ہر فقرہ آپس میں مربوط ہیں چونکہ اسمائے ضمیر پہلے فقرے کے اسم کی طرف اشارہ کناں ہیں۔ اسی طرح معنیاتی لحاظ سے بھی ان میں ربط موجود ہے۔ علی ایک لڑکا ہے۔ وہ سرخ رنگ کی ہے۔ اس رنگ کا ہیلمٹ ابو کل لے کر آئے تھے۔۔۔ میں ساختی لحاظ سے تو روابط شاید موجود ہوں، معنیاتی لحاظ سے تینوں جملے تین مختلف جگہوں سے اٹھائے گئے ہیں۔ چنانچہ ان کا کوئی ربط نہیں بن رہا اور ہر جملہ ہماری توقعات کو ٹھوکر مار کر ایک نیا مضمون متعارف کروا رہا ہے۔ ایسے بارہ پندرہ جملے پڑھنے کے بعد خاصا امکان ہے کہ آپ لکھنے والے کے سر پر بال (اگر کوئی باقی ہے بھی تو) نہ رہنے دیں۔ تو اب تک نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زبان صرف فقرات تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ فقروں سے اوپر ایک درجہ کلامیے کا بھی ہے جو ہماری زبان کو روزمرہ میں ابلاغ کے قابل بناتا ہے۔ ایک عام اہلِ زبان کو ان سارے درجات سے قطعاً کوئی سروکار نہیں چونکہ وہ زبان جانتا ہے اور یہ اس کے لیے کافی ہے۔ لیکن ماہرینِ لسانیات چونکہ ویلے ہوتے ہیں، اور کوئی کام نہیں ہوتا اس لیے پچھلی ایک ڈیڑھ صدی سے وہ بیٹھے یہی کام کر رہے ہیں یعنی لسانیات کی شاخیں متعارف کروانا اور ایسے درجات تعمیر کرتے رہنا۔ تو آپ اگر ابھی تک میرے ساتھ ہیں تو بسم اللہ۔ اگر اس سے پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں تو پھر لیٹ اللہ حافظ قبول فرمائیں۔

تو میرے باقی ماندہ قاری/ئین ہم چلتے ہیں کلامیے کے ایک اور پہلو کی طرف جو تنقید اور انتقادی لسانیات کا موضوع ہے۔ اوپر ہم نے کلامیے کو نیوٹرل نقطہ نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن کلامیہ (یا دوسرے لفظوں میں زبان) نیوٹرل نہیں ہوتی۔ زبان میں ہمیشہ سیاست ملوث ہوتی ہے، ہر لفظ کے پیچھے ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کلامیے کے ذریعے لوگ کسی کی حق تلفی کر سکتے ہیں، کسی کو پاکباز اور کسی کو شیطان پیش کر سکتے ہیں، کسی کے حقوق سلب کر سکتے ہیں، کسی کو سچا اور کسی کو جھوٹا ثابت کر سکتے ہیں، کسی کو برتر اور کسی کو ادنٰی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ سب کھلم کھُلا نہیں ہوتا۔ یہ سب زبان کی میکانیات کے ذریعے ڈھکے چھپے انداز میں کیا جاتا ہے۔ مثلاً صنفی برابری کی مثال ہی لے لیں۔ پدرسری معاشروں کی وجہ سے انگریزی اور اردو جیسی زبانوں میں مذکر غائب اسمِ ضمیر کا استعمال عام رہا ہے۔ انگریزی میں تو ہِی کی جگہ دے اور شی کا استعمال کافی عام ہو چکا ہے لیکن اردو جیسی زبان میں اب بھی ڈیفالٹ مذکر اسمِ ضمیر مستعمل ہے مثلاً میں ترجمہ کرتے وقت لکھتا ہوں "کوئی اور اس دستاویز کی تدوین کر رہا ہے" جبکہ میں اس کی جگہ 'رہی ہے' بھی برت سکتا ہوں جو کہ میں لاشعوری طور پر نہیں کرتا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ اس سے صنفی برابری کو کتنا نقصان پہنچتا ہے، یہاں مقصد تنقیدی نقطہ نظر بارے بات کرنا تھا۔ کلامیے کا تجزیہ ایک پورا شعبۂ علم ہے جسے کلامیے کا انتقادی تجزیہ کہا جاتا ہے۔ صنفی مطالعات (خصوصاً تانیثیت)، نسلی رواداری کے حوالے سے (تارکینِ وطن کے حوالے سے مستعمل کلامیہ)، سیاسیات اور سیاسی بیانات، اخبارات اور ٹیلی وژن، اور دیگر میڈیا سے پیدا ہونے والے کلامیے کا انتقادی تجزیہ ایک کثیر الشعبہ جاتی میدان ہے۔ سیاسیات، لسانیات، ادب، اور عمرانیات وغیرہ میں اس پر بے تحاشا کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔

انتقادی نقطہ نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ کلامیہ معاشرے کو سانچے میں ڈھالتا ہے۔ کلامیے کے ذریعے آپ عدم کو بھی موجود ثابت کر سکتے ہیں۔ اس کی آسان مثال وہی کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ سمجھ لیا جائے۔ اسی طرح سماج بھی کلامیے کی تشکیل کرتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو کلامیہ اوپر بیان کردہ تعریف کے مطابق صرف ایک ابلاغی عمل کا نام نہیں۔ بلکہ کلامیہ تو ایک لہر ہے جو کئی ابلاغی اعمال (تقریر، وعظ، گفتگو، مکالمہ، بلاگ، کالم، فیس بک اسٹیٹس) سے مل کر بنتی ہے۔ ہمارے سماج میں اور اس عالمی گاؤں میں کلامیے کی کئی لہریں پائی جاتی ہیں۔ ایک کلامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہے، ایک کلامیہ جہاد اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ہے، ایک کلامیہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے کا ہے، ایک کلامیہ پاکستان کے سارے سیاستدان کرپٹ ہیں کا ہے، ایک کلامیہ فوج سارے مسائل کے حل کا ہے، ایک کلامیہ اسلاموفوبیا کا ہے، ایک کلامیہ اخوت و بھائی چارہ اب جرمنی منتقل ہو چکا ہے کا ہے، ایک کلامیہ پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے حق میں ہے اور ایک اس کی مخالفت کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔الغرض یہ دنیا ابلاغ کا ایک سمندر ہے۔۔ابلاغ زبان کے ذریعے ہوتا ہے اور زبان کے ذریعے کلامیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔۔۔اور پھر ایک رنگا نہیں رنگ برنگا، لہر در لہر کوئی پچاس فٹ اونچی لہر ہے کوئی بمشکل ایک فٹ اونچا اٹھ پاتی ہے۔۔۔کلامیے کی یہ رنگ برنگی اور متنوع لہریں بہتی رہتی ہیں، ادھر سے اُدھر چلتی رہتی ہیں۔ اور جب ہم زبان میں کوئی ابلاغی ٹکڑا لکھتے ہیں یا بولتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی انداز میں ان میں سے ایک یا زیادہ کلامیاتی لہروں پر سواری کر رہے ہوتے ہیں۔ اب تک میں نے جسے ابلاغی ٹکڑے کہا اسے اب متن یا ٹیکسٹ کہوں تو آپ کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے گا۔ متون ہوا میں تخلیق نہیں ہوتے، متون آپس میں ربط و توافق کے حامل ہوتے ہیں جسے انگریزی میں انٹرٹیکسچویلٹی کہا جاتا ہے۔ ہر متن میں دوسرے متون کا عکس ظاہراً یا باطناً موجود ہوتا ہے۔ ہر نیا متن، متون کے طویل سلسلے کی تازہ ترین مثال یا نمونہ ہوتا ہے۔ ہر متن اپنے آپ کو منوانے کے لیے، اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے، اپنی جواز دہی کے لیے دوسرے متون کا سہارا لیتا ہے۔ تو پھر جو کچھ ہم لکھتے ہیں یا بولتے ہیں وہ ایک ربط و توافق کے ایک ایسے لامحدود نیٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے کہ ہم لاشعوری طور پر کبھی اس پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں فرماتے۔

تو اب تک بات یہاں پہنچی کہ کلامیہ اور معاشرہ ایک دوسرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ اور ہمارے سماج میں زبان کی صورت میں کلامیے لہر در لہر ادھر سے اُدھر بہتے رہتے ہیں۔ اور ہم اور دیگر افراد یا گروہ (چاہے وہ غالب ہوں یا مغلوب، ظالم ہوں یا مظلوم) اپنی پسند کی کلامیاتی لہروں پر سوار ہو کر اپنی اپنی بھیرویں بجاتے پھرتے ہیں۔ میڈیا کلامیہ کی ترسیل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کلامیہ کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ بدل کر غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کیا جاتا ہے، اسٹیٹس کو برقرار رکھا جاتا ہے، برتری (انگریزی میں hegemony) تخلیق کی جاتی ہے۔ اور میڈیا اس سب میں بہت بڑا کھلاڑی ہے۔ کلامیہ ہی ہے نا جس نے دو ہفتے پہلے جرمنی کو انصارِ مدینہ کا جانشین ثابت کر دیا، اور اب بھی کلامیہ ہی ہے جو سرحدیں بند کرنے پر سب "نیوٹرل" موڈ میں دکھا رہا ہے۔

اس تحریر کے پسِ پُشت تین چار محرکات تھے، ان میں تازہ ترین آج ایک بلاگر کی پوسٹ کا اقتباس تھا۔ لکھاری نے مثال ناروے میں قتل کرنے والے شدت پسند عیسائی سائیکو کی دی ہوئی تھی اور ان کا متن اسلاموفوبیا کے کلامیے پر سواری کی کوشش کر رہا تھا یعنی جب بھی مسلمان ہو تو دہشت گرد ہوتا ہے، اور غیر مسلم ہو تو زیادہ سے زیادہ پاگل قرار دے دیا جاتا ہے جیسے ناروے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کی اس کھچڑی سی تحریر سے مجھے یہ تحریر لکھنے کا خیال آ گیا جو میں اب لکھ کر ختم کر رہا ہوں۔ اور یہ ختم ہو گئی۔ آپ کے پلے کچھ نہ پڑا ہو تو اس میں میرا بھلا کیا قصور ہے؟

بدھ، 2 جولائی، 2014

وزیرستان کے ضرورتمند بہن بھائیوں کے لیے عطیہ

رمضان بھی ہے اور وزیرستان کے بہن بھائی اس وقت ضرورتمند بھی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ، خیرات کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اپنا دل بھی ہو گا کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ قابل اعتماد تنظیم، شخص یا ادارے کو عطیہ دیں۔ اس سلسلے میں مَیں نے جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کو بہترین پایا ہے۔ جماعت الدعوۃ والوں کی خیراتی سروس فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی اچھی ساکھ کی حامل ہے لیکن ان کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ایک آدھ بار کے علاوہ کبھی ان کو عطیہ دینے پر دل مائل نہیں ہوا۔ ضرورتمندوں کو دیکھ کر برساتی کھبمیوں کی طرح اگنے والی جعلی تنظیموں سے ہوشیار رہیں۔ یاد رکھیں صدقہ دے دینا ہی آپ کی ذمہ داری نہیں، یہ بھی جہاں تک ممکن ہو یقینی بنائیں کہ وہ ضرورتمند تک پہنچے گا بھی۔ یہ بھی پوچھ لیں کہ متعلقہ ادارہ یا تنظیم وزیرستان کے لیے کوئی آپریشن چلا رہا ہے یا نہیں، اگر ہاں تو کہہ کر اس فنڈ میں پیسے لکھوائیں۔ آپ کے شہر میں بے شمار مخیروں نے خیرات کرنی ہے، وزیرستان تک جانے والے سو میں سے چند ہی ہوں گے۔ اس لیے یقینی بنائیں کہ آپ عطیہ دیں بلکہ یہ عطیہ ضرورتمند بہن بھائیوں تک پہنچے بھی۔ 
اللہ کریم جزائے خیر دے۔

ہفتہ، 28 جون، 2014

سیاہ سیات

اس ملک میں ایک دیوار ہو جانا، یا درخت ہو جانا، یا راستے کا کوئی پتھر ہو جانا چاہے اسے ٹھُڈے پڑتے رہیں، یہ سب آسان کام ہیں۔ لیکن انسان ہونا مشکل اور ہولناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ دیوار، درخت اور پتھر نہ سنتے ہیں نا بولتے ہیں۔ اپنی دنیا (اگر ایسی کوئی دنیا ہے تو) میں مست رہتے ہیں۔ کوئی توڑ دے، اکھاڑ دے یا ٹھُڈے مارتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بدقسمتی سے انسان سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ اور اس سننے بولنے دیکھنے کی وجہ سے اس ملک میں انسان ہونا انتہائی مشکل اور بدترین باتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ پتھر ہو جائے صم بکم بے حسی کی آخری حدوں کو چھو لے یا پھر کف اڑاتا اور گالیاں بکتا پھرے۔ اور یہاں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یا تو بے حس ہو جاؤ یا پھر لڑنے کے لیے ہر دم تیار رہو۔

اخبار، فیس بک، ٹیلی وژن کچھ کھول لو ہر جگہ باؤلے پاگل ک (کتے والا کاف ملحوظ خاطر رکھیں) کا ایک گروہ نظر آتا ہے جو اقتدار نامی ہڈی ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ زمانہ جاہلیت اور دو تین سو سال قبل والی بادشاہت اور اس سے پہلے خلافت کے بھیس میں بادشاہت موجود نہیں اس لیے صرف منہ سے کف اڑانے اور ہُورے مُکے دکھانے پر ہی اکتفا ہوتا ہے۔ ورنہ یہاں ہر چوتھے دن لاشوں کا جمعہ بازار لگا کرتا۔ ہر کوئی مصلح قوم بن کر تلوار اٹھاتا اور بادشاہ/خلیفہ کے خلاف نکل کھڑا ہوا کرتا۔

جس دن کوئی لغت تیار کی تو سیاست کا غیر رسمی نام کنجر خانہ بھی پاورقی میں لازمی دوں گا۔ کہ ہر وقت تو کنجر خانہ لگا رہتا ہے۔ اور اسی کنجر خانے کو قوم نے تفریح طبع کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سارا دن دوکانوں، گھروں، مسافر خانوں، دفاتر میں ٹیلی وژن چلتے ہیں۔ اور سارا دن اقتدار کے بھوکے ک کی بھونکیاں چار چار لکیروں کی صورت میں "بریکنگ نیوز" بن کر چلتی رہتی ہیں۔ فلاں ک نے یہ کہہ دیا، فلاں وڈے ک نے یہ کہہ دیا۔ ہر ک کے الفاظ وکھرے مگر مفہوم یکساں: مجھے اقتدار سونپ دو اور دیکھو پھر میں اس ملک کو ساتویں آسمان پر لے جاؤں گا۔ خود دفعان ہو جاؤ۔ 

قوم نے اس کنجر خانے کو اب قومی کھیل سمجھ لیا ہے۔ کرکٹ گیا، ہاکی پھُس ہو گئی، سکواش ٹھُس ہو گئی۔ کبھی دھماکے ہو گئے، کبھی غیر ملکی ٹیم پر حملہ ہو گیا۔ کبھی میچ لگا تو نچلی نسل کے محلے دار مصلحان قوم نے فتویٰ دے دیا لو ساری قوم کو میچ دیکھنے پر لگایا ہوا ہے، بھلا یہ کوئی شیوہ مسلمانی ہے؟ اور اب سیاسی کنجر خانے سے آنکھیں چمٹی رہتی ہیں، اسی میں تفریح تلاش ہوتی ہے، کھاتے پیتے سوتے جاگتے اسی سے کان بھرتے رہتے ہیں نتیجے میں خون مسلسل دھیمی آنچ پر کھولتا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نیم کھولنے کی کیفیت میں ایک نشہ سا آ گیا ہے۔ ساتھ خود ترسی کا جام بھرا ملتا ہے تو چسکیاں لیتے ہوئے دو آتشہ کیفیت ہو جاتی، پوری قوم اس افیم کے نشے میں دھت ہلکے ہلکے سرور میں کھوئی اپنے کام کرتی چلی جاتی ہے اور ک اپنے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔

ادھر کسی اور ملک سے ایک غیر ملکی اپنے گروہ کے ساتھ انقلابی پھکی لے کر نمودار ہوتا ہے۔ نعرہ نظام بدلنے کا ہے اندر خواہش اپنے اقتدار کی ہے۔ وہی پہلے پیرے والی بات: بیان وکھرا وکھرا۔۔۔۔لیکن مفہوم ایک بس مجھے اقتدار دے دو۔ ادھر کہیں سے کوئی خلافت کا نعرہ لگاتا ہے نظام نہیں سب کچھ بدلو جھُرلو پھیرو بادشاہت لاؤ پھر دیکھو کیا مزیدار چاٹ بنے گی۔ مفہوم وہی پہلے پیرے والا تم سب دفعان ہو جاؤ متقی اور پرہیزگار تو میں ہی ہوں اس لیے خلیفہ/ بادشاہ بننے کا حقدار بھی میں ہی ہوں بس مجھے اقتدار دو پھر دیکھتا ہوں۔ اور پھر کچھ جو زبان نہیں چلا سکتے وہ بندوق اٹھا لیتے ہیں کبھی مذہب کا نام ہے اور کبھی محرومیوں کا نام ہے لیکن منزل وہی ہے کہ اقتدار ملے۔

اور یہ قوم افیم کے نشے میں سوئی رہتی ہے ساتھ مارفین کے ٹیکے بھی لگتے رہتے ہیں: تمہارا ملک بڑا عظیم ملک ہے۔ ارے یہ تو اللہ نے بچایا ہوا ہے ورنہ جتنا اسے کھا لیا یہ تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ ارے ساری دنیا، کفار کے سارے ملک اور ساری ایجنسیاں اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ ارے اس کے بانوے ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہیں۔ ارے یہاں کیا چیز نہیں ہے، ہر چیز ہے بس یہ لوگ کھا جاتا ہے ہمیں نہیں دیتے۔ ارے اس کی جغرافیائی لوکیشن ہی تو سب کچھ ہے، اسی لیے تو امریکہ توڑنا چاہتا ہے اسے۔

مارفین کے نشے کے ٹیکے لگتے رہتے ہیں اور قوم لگے دم مٹے غم کا نعرہ لگا کر مست رہتی ہے۔ بجلی نہیں ملتی (گردشی قرضہ چڑھتا چلا جاتا ہے)، گیس ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور روٹی پکانے کو بھی نہیں ملتی، پانی، زرعی زمین، جنگلات غرض ہر قدرتی وسیلہ (جو جتنا بھی ہے) ہر روز ناسور کی طرح پھیلتی آبادی ہڑپ کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر دن اگلے دن سے زیادہ اوکھا نکلتا ہے۔ لیکن قوم اپنے آپ میں مست، جُتیاں بھی کھاتی رہتی ہے اور ہذیانی کیفیت میں بڑبڑاتی بھی چلی جاتی ہے۔ ہر دوسرے چوتھے دن کوئی ڈرامہ کھڑا رہتا ہے قوم کی انٹرٹینمنٹ کے لیے۔ کنجر کنجروں کے خلاف عدالت لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور قوم ہمیشہ کی طرح دھیمی آنچ والے نشے میں انجوائے کرتی رہتی ہے۔ کبھی ایک ک دوسرے کو جج کی کرسی پر برداشت نہیں کر سکتا اور جلدی باری لینے کے لیے لڑنے لگتا ہے کبھی ایک ک جب باری دے رہا ہو تو حاجی ہوتا ہے باری لینے پر آ جائے تو اسی ک کی پگ سر پر رکھ کر اس سے ایک انچ وڈا ک بن جاتا ہے۔ اور پھر ایک تیسرا ک کہیں اور سے آ کر کہتا ہے اوئے اے عدالت نئیں لگ سکدی ساڈا حصہ وی دؤ۔ سارا ڈرامہ چلتا رہتا ہے۔ اور پاکستانی یا تو پتھر، درخت  دیوار ہو جائے یا پھر گریبان پھاڑ کر ملنگ ہو جائے۔ درمیان میں کہہ رہ گیا تو دھیمی آنچ پر کھولتا اس کا لہو ایک دن لاوے کی طرح پھٹتا ہے اور نتیجے میں نقصان صرف اُس کا ہوتا ہے ک عدالت ویسے ہی لگی رہتی ہے۔

پر سانوں کی؟ ویسے بھی کنجر خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے؟

ہفتہ، 22 مارچ، 2014

نفاذِ اسلام

میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے کالج سیکشن میں ایک کلاس پڑھا رہا تھا۔ بچوں کو لکھنے کے لیے ایک محرکاتی عنوان دیا ہوا تھا۔ آپ کے بس میں ہوتا تو کیا بہتر کرتے۔ کچھ اس قسم کا عنوان تھا اور بچے نے انگریزی میں کچھ فقرے لکھنے تھے۔ ایک بچہ کلین شیو، جینز پہنی ہوئی۔ اس نے ٹھیک کرنے کے لیے جو چیز لکھی تھی وہ مسلمانوں کا دین تھا۔ بچہ دینِ اسلام نافذ (اِمپوز) کرنا چاہتا تھا۔ اس کے الفاظ اور تاثرات کی شدت مجھے آج کئی ماہ بعد بھی ابھی کل کی بات لگتی ہے۔

مولوی ارشد میرے محلے میں کسی دوسرے شہر سے آ کر حجام کی دوکان کرتا ہے۔ اچھا ملنسار بندہ ہے۔ اس کے پاس بیٹھے ہوں تو حجاموں کی عادت کے عین مطابق باتیں کرنا اور سننا چلتا رہتا ہے۔ کوئی ایک ڈیڑھ برس سے اس سے ہی بال کٹوانے ہوتے ہیں، اچھا کام کر لیتا ہے اور اسے پتا ہے کہ میں کیسے بال کٹواتا ہوں۔ کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے دوکان کے سامنے سے گزرا تو اس نے لکھ کر لگایا ہوا تھا ہمارے ہاں شیو نہیں کی جاتی۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور حسبِ عادت تپ بھی چڑھی۔ میں نے کوئی دو چار باتیں بھی کہیں سنیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ بات کوئی ایسی غلط بھی نہیں، ویسے بھی اس کا حق ہے جو کام اس کا دل نہیں مانتا نہ کرے۔ خیر میں بال اب بھی اسی سے کٹواتا ہوں۔ اس تبدیلی کے بعد ایک آدھ بار ملاقات میں اس کے ساتھ اسلام پر بات چھڑ گئی اور بات کا اختتام سزاؤں پر ہوا۔ اللہ کی کتاب میں سزائیں بیان کی ہوئی ہیں، اس کا کہنا تھا۔ سزائیں نافذ کر دو، سارے تیر کی طرح کیسے سیدھے نہیں ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 

اسلام کے "نفاذ" اور مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے کے حوالے سے مسلمانوں میں یہ جذباتی بخار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ اسلام نافذ کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔   خلافت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ امریکہ کو جواب خلافت ہی دے سکتی تھی۔ اور پھر لشکر اور مسواک والی روایات۔ جنگ نہ جیت سکنے کی وجہ مسواک کا نہ کرنا۔ 

جذبات ، بیانات اور گفتار یہ ہے اور عمل یہ ہے کہ شادی بیاہ پر رنڈیاں بھی نچواؤ اور ربیع الاول میں عاشقِ رسول کا ٹیگ ایک عدد نقش بھی سینے پر لگاؤ۔  میں سوچتا ہوں کہ نبی ﷺ نے مکے میں زندگی کے تیرہ سال گلا دئیے۔ اپنے رشتے داروں، رشتے کے بھائیوں، بیٹوں، چچاؤں، ماموؤں کو دعوتِ دین دیتے رہے۔ نبی ﷺ نے تو آتے ہی نہ کہا کہ اسلام نافذ کر دو۔ اپنی زندگی کے سنہرے تیرہ سال ان لوگوں پر قربان کیے اور پھر ہجرت کی، جب کوئی چارہ نہ رہا۔ مدینے کے دس سال اور ان دس سالوں میں بھی اسلام پہلے انفرادی زندگیوں میں آیا پھر اجتماعی زندگی میں، بیک جنبشِ قلم نہیں بتدریج۔ پہلے دعوت و تربیت اور پھر عمل کا تقاضا۔ کیا ہی پیارا طریقہ تھا اور کیا ہی پیارا انسان ﷺ تھا جس نے سب کیا۔

آج اس دوغلے اور منافق معاشرے کو ٹھیک کرنے کے دعوے دار انقلابی ، بندوق بردار اور "شرعی" داڑھیوں والے، ان کی سمجھ میں کیوں یہ بات نہیں آتی کہ اسلام نافذ کرنا ہوتا تو اللہ اور اس کے نبی نے اسی دن کر دینا تھا جس دن جبریل پہلی وحی لے کر اترا تھا۔ انہیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ حکومت کے اسلام "نافذ" کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ اس وقت ہوتا ہے جب عوام اپنے اوپر اسلام خود طاری کرے۔ 

خدا ان کو ہدایت دے، خدا ہمیں ہدایت دے، خدا ہم پر رحم کرے، خدا اس ملک اور قوم پر رحم کرے۔ ان لوگوں نے اسلام کا نام، شریعت کا نام بیچ بازار رسوا کر ڈالا۔ ان کی انقلابی پھُرتیوں، ان کی فرقہ وارانہ سازشوں، ان کے فہمِ دین نے آج اجتماعی سطح پر اسلام پر عمل کی کسی بھی کوشش کو اسلام مسلط کرنا بنا دیا۔ انہوں نے سیاست کے نام پر اسلام کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے سچ کر دکھایا کہ جہاں مذہب اور سیاست یکجا ہوئے وہاں یہی کچھ ہو گا۔ لوگ ڈرتے ہیں، اسلام کے نفاذ سے ڈرتے ہیں۔ لوگ خوف کھاتے ہیں، پتھر اٹھائے وحشی ہجوموں کا خوف جو کسی کو بھی زانی قرار دے کر پیوندِ زمین کر سکتا ہے۔ کٹے ہوئے ہاتھوں کا خوف، کسی نے روٹی چرائی ہو، دس روپے چرائے ہوں یا دس ہزار چرائے ہوں۔ سرِ بازار کوڑوں کا خوف، جرم کوئی بھی ہو سزا کوڑے ہوں گے۔ لوگ دھماکوں سے ڈرتے ہیں، سی ڈی اور حجاموں کی دوکانوں پر دھماکوں سے ڈرتے ہیں۔ سینماؤں میں دستی بموں کے حملوں سے ڈرتے ہیں۔ 

نفاذِ اسلام کے نام پر مافیائیں وجود میں آ چکی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے، ہر ایک کا اپنا نعرہ ہے، ہر ایک کا اپنا حلیہ ہے۔ ہر کوئی اسلام کے نام پر اپنے فرقے کا نمائندہ ہے۔ ہر کسی نے اسلام کو سیاست میں بیچ بازار بے پردہ کیا ہوا ہے۔ اسلام کے نام پر دوکان سجائے بیٹھا ہے، ڈگڈگی چل رہی ہے اور بندر اس ڈگڈگی پر محوِ رقص ہیں۔ نام اسلام کا، فائدہ سیاستدان کا۔ 

اور پھر میں سوچتا ہوں یہ کافر جو سارے ہیں، اس دنیا میں جو پچاس ساٹھ فیصد کافر ہیں اور کافر ملک ہیں۔ یہ جو امریکہ اور یورپ نامی کافروں کے علاقے ہیں۔ انہوں نے بھی کیا اسلام نافذ کیا ہوا ہے؟ وہ تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں نا، کافروں کا نظامِ حکومت۔ پھر بھی ان کے شہری ہم سے زیادہ سکون میں کیوں رہتے ہیں؟ ادھر یہ بھارت میں کجریوال جیسے ہندو مشرک، وہ کیسے مسلمان نہ ہو کر بھی اچھے کام کر لیتا ہے۔ پھر میں اپنے ملک میں دیکھتا ہوں ہر کسی کے نام کے ساتھ نبی ﷺ کا نام ہے، آلِ نبی ﷺ کا نام لگا ہوا ہے۔ لیکن کام کیسے ہیں؟  اور پھر یہ نفاذِ اسلام کی بات، یہ کونسے نفاذ کی بات کرتے ہیں؟ ہر بات کا حل نفاذِ اسلام ، ہر بات کا حل ایک عدد "اسلامی" حکومت۔ 
میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے پتا نہیں کیا کیا کفریہ سوچ سوچتا ہوں۔

اتوار، 28 جولائی، 2013

اجتہاد

دین کی سپیشلائزیشن دین پر ہزار سالہ پرانی فقہی سوچ کی اجارہ داری قائم کرتی ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان، مناسب حد تک عقائد سے واقفیت رکھنے کے باوجود کسی چیز پر اعتراض کرے تو اسے چپ کروا دیا جاتا ہے کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ حق حاصل کب ہو گا؟ اگر تم پچھلوں کی تھیوری گھول کر پی لو، انہیں روایات پر چلو جن پر وہ چلے تھے اور اس کی سیدھ میں رہ کر بات کرو جو پچھلوں نے متعین کر دیا تھا تو تمہاری بات قابلِ قبول ہو گی ورنہ جہنم میں جاؤ، تم فتنہ پرور ہو۔ جب یہ فکر و سوچ موجود ہو تو اجتہاد پر جتنا مرضی زور لگا لیا جائے کھوتی وہیں آ کر کھلوتی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ پچھلوں کے متعین کردہ راستے پر چلنے سے بار  بار  بار  بار  وہی نتیجہ نکلتا ہے جب متغیر کی قیمتیں وہی رکھنی ہے تو جواب بھی وہی آئے گا۔ مثلاً احادیث میں ہی تدوینِ جدید کی بات کر لیں جو ترکی میں جاری ہے۔ جس میں احادیث کو زمانی نکتہ نظر سے الگ کیا جا رہا ہے، ایسی احادیث جو ہزار سال پہلے کے لیے موزوں تھیں اور ایسی احادیث جو آفاقی پیغام رکھتی ہیں، زمانے سے ماوراء ہیں۔ اب اس پر اختلاف کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے کہ حدیث اس میراث کا حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چھوڑی، چنانچہ حدیث قیامت تک کے لیے ہے۔ جیسے قرآن قیامت تک کے لیے ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اونٹ کا پیشاب پلانے والی حدیث، اور اس جیسے کئی اقوالِ رسول ﷺ جو ایک خاص سیاق و سباق و موقع محل کے مطابق دئیے گئے ہر زمانے کے لیے کار آمد نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی اغلباً رسول اللہ ﷺ نے ایسا ارادہ فرمایا تھا۔ تو جب طرزِ فکر کو محدود کیا جاتا ہے، جب ہر غیر روایتی چیز کو رد کیا جاتا ہے، جب "اجماعِ امت" کے نام پر (جو پچھلوں کی پیروی کا ہی دوسرا نام ہے) ڈراوے دئیے جاتے ہیں۔ جب پچھلوں کی پیروی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ "ہم سے زیادہ متقی تھے"(حالانکہ ان کے متقی پن کا  آج کے مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں بنتا)  تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کھوتی وہیں آ  کھلوتی ہے  چاہے جتنا مرضی زور لگا لے۔
 ایک اور مسئلہ دین کے ماخذات کا ہے۔ دین کا ماخذ قرآن ہے، حدیثِ رسول ہے لیکن قرآن سے کم اہمیت والی اور اختلافات کا خدشہ نسبتاً زیادہ چونکہ اس کو محفوظ رکھنے کا کوئی   آسمانی وعدہ نہیں تھا، لوگوں نے خود سے احادیث بھی گھڑیں، سینکڑوں برس کی تدوین و تالیف کے باوجود آج بھی ضعیف احادیث انہیں کتب میں موجود ہیں اور عوام الناس میں گردش بھی کرتی ہیں (ظاہر ہے عوام ضعیف احادیث سے آگاہ نہیں ہوتے)۔ تیسرا ماخذ جو بنا لیا گیا ہے وہ پچھلوں کے اقوال ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین چونکہ انہیں زمانہ رسول ﷺ ملا، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے فقہا۔ یعنی جو کوئی زمانہ رسول ﷺ سے جتنا قریب ہے جنرل رول آف تھمب کے تحت اس کی رائے اتنی ہی زیادہ اہمیت والی ہو گی، آج کی رائے پر فوقیت دی جائے گی اور وہ اتنی ہی زیادہ روایت کی وہ چار دیواری قائم کرنے میں معاون ہو گی جو دین کے معاملے میں سوچتے ہوئے عائد کرنا، طاری کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔  یہ منظر نامہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ان سارے ماخذات کو ایک  دوسرے کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے۔ قرآنی احکام ، احادیثِ رسول اور احادیثِ اصحابِ رسول و بزرگان کو ایسے مکس کر  دیا جاتا ہے کہ  اللہ نے کیا فرمایا، رسول اللہ ﷺ  کا کیا حکم تھا اور دیگر بزرگان کی رائے، قول یا عمل کونسا تھا۔ سب کچھ یکساں اہمیت کے تحت نافذ کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی دو تین برس پہلے اردو محفل پر موسیقی کے  حلال حرام کے ہونے کے حوالے سے ایک قرآنی آیت پیش کی گئی (سورہ لقمان آیت 6) جس میں "لغو باتوں" (لہو الحدیث)  کا ذکر تھا۔ اس سلسلے میں "لغو باتوں" کا مطلب موسیقی نکالا گیا، جو دراصل ایک صحابیِ رسول ﷺ کی بیان کردہ اس آیت کی تفسیر سے آیا۔ اوپر بیان کردہ قانون کے مطابق صحابیِ رسول کا قول آج کسی شخص کے قول سے زیادہ اہمیت  کا  حامل ہے۔ کیوں؟ چونکہ وہ زمانہ رسول ﷺ کے قریب ترین ہیں، دوم وہ رسو ل اللہ کے تربیت  یافتہ ہیں۔ اس پر وہی سوال اٹھتا ہے کہ دین اللہ اور اس کے رسول  ﷺ (جن کی رہنمائی اللہ بذریعہ وحی کرتا ہے) سے آتا ہے یا اصحابِ رسول اور بزرگانِ دین سے۔ اور  جیسا کہ بتایا گیا دین کے حوالے سے  زمانی فاصلے کی اہمیت کے قانون کے تحت اصحابِ رسول  ﷺ کا کہنا بھی  کچھ کم اہمیت کے ساتھ  دین میں وہی درجہ رکھتا ہے، کہہ لیں کہ اللہ، رسول کے بعد تیسرے نمبر پر۔  موسیقی کو قرآن میں کہیں واضح الفاظ میں حرام نہیں کہا گیا، احادیث پر بحث کی جا سکتی ہے کچھ لوگ حرام کہتے ہیں ایک اقلیت نے حلال بھی کہا۔ لیکن موسیقی کو قرآن سے بھی حرام  ثابت کرنے کے لیے  تفسیر پیش کر دی گئی (جو تیسرے ذریعے سے آتی ہے یعنی صحابیِ رسول)۔ اب اسے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ قرآنی حکم ہی ہے۔ یعنی  دین کے ماخذات کو  مکس کر کے پیچیدگی پیدا کرنے کا کام، جیسا کہ اوپر  ذکر کیا گیا۔ ایسی صورت میں جاوید احمد غامدی اگر موسیقی کو حلال کہے، شاہ محمد جعفر پھلواری اسے مستحب کہے تو وہ غلط قرار پاتے ہیں ۔
چنانچہ وہی بات جو پیچھے عرض کی، اجتہاد روایت کے اندر رہ کر کیا جائے تو قابلِ قبول ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اجتہاد وہی جواب نکالتا ہے جو پانچ سو برس پہلے نکلتا تھا۔ "اجماعِ امت" اور روایات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ  کوئی ان حدود سے باہر جا کر نہ سوچ سکے جو پچھلوں نے متعین کر دیں۔ چنانچہ  دین بے زار طبقہ آخر کار یہ کہہ دیتا ہے کہ مذہب تو ایک ثقافتی عنصر ہے، گٹے ننگے کرو یا نہ کرو کیا فرق پڑتا ہے، پینٹ کے ساتھ  جرابیں پہن کر گٹے ننگے  کیا کریں برے لگتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ
نتیجہ یہ کہ ایسے ماحول میں اجتہاد پانی میں مدھانی کا کام کرتا ہے جتنی مرضی چلا لو مکھن نہیں آتا، یا جو مکھن آنا تھا وہ لوگ پہلے ہی نکال چکے۔

بدھ، 1 مئی، 2013

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی

قوم افراد سے مل کر بنتی ہے۔ قوم دیوار ہے تو افراد اس کی اینٹیں۔ لیکن یہ اینٹیں اکیلی ہی دیوار نہیں بناتیں۔ صرف اینٹیں کھڑی کرو تو دیوار ایک حد کے بعد کھڑی رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اینٹوں کو جوڑنے کے لیے سیمنٹ درکار ہوتا ہے۔ اور قوم نامی دیوار کو مضبوط کرنے والے سیمنٹ کا نام مشترکہ اقدار ہیں، مشترکہ سوچ اور ایک ہونے کا احساس۔ افراد میں اگر یہ احساس مفقود ہو جائے، ماند پڑنے لگے تو اس کے نتیجے میں قوم نامی دیوار اینٹوں کی گھوڑی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ راج مستریوں کی اصطلاح میں گھوڑی اینٹوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتی ہے جو سراسر  عارضی مقصد کے لیے ایک جگہ اوپر نیچے لگا دی جاتی ہیں بغیر کسی سیمنٹ یا جڑنے والے مادے کے، اکثر گارے کے بھی بغیر۔ افراد میں اقدار مشترک نہ رہیں تو وہ قوم کے اندر اینٹوں کی گھوڑیاں بن جاتے ہیں۔ ایک یہاں لگی ہے دوسری وہاں لگی ہے، اور ان گھوڑیوں کا کوئی مقصد مشترک نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا بن جاتا ہے، لیکن یہ ایجنڈے عارضی، نا پائیدار اور عدم استحکام پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ افراد کے یہ گروہ نہ صرف قوم کو کمزور کرتے ہیں بلکہ خود کو بھی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اسی لیے افراد میں قدرِ مشترک کا احساس پایا جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

قدرِ مشترک کئی چیزوں کے اشتراک کا نام ہے۔ اس میں سیاسی، سماجی، لسانی، مذہبی، علاقائی، قبائلی، رنگ و نسل سے لے کر زمانے تک کے متغیر آ سماتے ہیں۔ انہیں میں کچھ متغیر تنوع بھی تشکیل دیتے ہیں لیکن متغیرات کی ایک اکثریت یکجہتی تشکیل دیتی ہے۔ جس کے تحت قوم آپس میں جڑی رہتی ہے۔ قدرِ مشترک کو ایک اور نام دیں تو سماجیات کی اصطلاح "سماجی شناخت" استعمال کی جا سکتی ہے۔ سماجی شناخت ایک تکنیکی اصطلاح ہے، لیکن یہاں ہم اوپر بیان کیے گئے تمام متغیرات میں سے ایک، کچھ یا تمام پر مشتمل احساسِ خودی اور پھر احساسِ یکجہتی کو سماجی شناخت کا نام دے سکتے ہیں۔ سماجیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی شناخت کوئی لوہا پتھر نہیں، بلکہ یہ مائع جیسی کوئی چیز ہے جو شکلیں بدلتی رہتی ہے۔ سماجی شناخت کسی ایک متغیر پر مشتمل نہیں ہوتی، یہ کئی متغیرات کا مجموعہ ہو سکتی ہے، یہ مختلف مواقع پر مختلف متغیرات کو اپنا سکتی ہے۔ ذاتی طور پر میں نے جو کچھ پڑھا، دیکھا، سنا اور محسوس کیا، مجھے جو سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ سماجی شناخت کئی متغیرات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس میں اوپر بیان کردہ تقریباً تمام تر چیزیں آ جاتی ہیں۔ اور یہ متغیرات مختلف مواقع پر، مختلف سیاق و سباق میں، ہماری روز مردہ زندگی کے ہر مقام، جگہ، وقت کے حوالے سے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً میں ایک جگہ بیٹا ہوں، ایک جگہ استاد ہوں، ایک جگہ فری لانس مترجم ہوں، ایک جگہ بلاگر ہوں، ایک جگہ مسلمان ہوں، ایک جگہ پنجابی ہوں، ایک جگہ پاکستانی ہوں، ایک جگہ پڑھا لکھا نوجوان ہوں، ایک جگہ مریض۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اپنے روز مرہ میں مَیں کئی چہرے اپناتا ہوں، اپنی سماجی شناخت تشکیل دیتا ہوں۔ کبھی کوئی متغیر سامنے رکھتا ہوں کبھی کوئی، لیکن ان سب کے علاوہ میری ایک نسبتاً مستقل سماجی شناخت ہے، میری خودی، میری انا، جو میری یعنی محمد شاکر عزیز کی شخصیت وضع کرتی ہے، میری نظروں میں بھی اور میرے جاننے والوں، پڑھنے والوں کی نظر میں بھی۔

اتنی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس ساری سماجی شناخت کے باوجود میں شناخت کے بحران کا شکار ہوں۔ جیسے اس قوم کا قریباً ہر فرد تذبذب میں مبتلا ہے کہ کدھر جائے، کیا کرے۔ کچھ متذبذب ہیں اور کچھ نے ایک شناخت کو اتنی شدت سے تھام لیا ہے کہ چاہے انگلیوں سے خون رسنے لگے، وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اور اس شناخت کو خود پر اتنا طاری کرتے ہیں کہ وہ دوسرے متغیرات سے مکمل طور پر انکار کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا شناخت کسی ایک سماجی متغیر کا نام نہیں، سماج میں موجود بے شمار متغیرات مل کر آپ کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کم ہوں یا زیادہ وہ الگ بات ہے لیکن کثیر متغیرات موجود ضرور ہوتے ہیں، جب کوئی شخص یا اشخاص کسی ایک متغیر کو خود پر ایک حد سے زیادہ طاری کر لیتا/ لیتے ہیں تو جو چیز سامنے آتی ہے اسے میں انتہا پسندی، فکری قحط سالی اور اپنی سماجی شناخت کے ایک حصے کا قتلِ عام گردانتا ہوں۔

اجتماعی سطح پر دیکھوں تو میرے سامنے دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک جو متذبذب ہیں، جو کوئی ایک سماجی شناخت اپنانے/ اس کا اقرار کرنے سے گریزاں ہیں، یا ڈرتے ہیں اور اسی ڈر میں دوسری سماجی شناخت اوڑھے رہتے ہیں، دوسری جانب وہ ہیں جو اتنے سخت دل ہو چکے ہیں کہ اپنے شخصی تنوع کو قبول نہیں کرتے اور خود کو ایک خول میں بند کر لیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے" اللہ نے تمہارے قبیلے بنا دئیے تاکہ تم پہچانے جاؤ" (مفہوم)۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر۔۔۔الخ کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ قرآن قبیلے کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ قرآن ایک سماجی شناخت کا ذکر کرتا ہے کہ ہاں تنوع رکھا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی نبی ﷺ کی زبان سے کہلوا بھی دیا گیا کہ خبردار خود کو افضل نہ سمجھ بیٹھنا۔

میں ایک پاکستانی ہوں، ایک مسلمان ہوں، میں ایک خاص جغرافیائی خطے کا رہائشی بھی ہوں، میں ایک خاص زبان بھی بولتا ہوں، میں ایک خاص پیشے سے منسلک بھی ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سارے متغیرات، یہ ساری شناختیں میری تعریف کرتی ہیں، میری شخصیت کو سماج میں تعمیر کرتی ہیں۔ مجھے وہ بناتی ہیں جو میں ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سوچ ہر ایک کی نہیں ہے۔ اس ملک کی اساس اسلام قرار دی جاتی ہے۔ میں بڑے بڑے مدلل مضامین پڑھتا ہوں جن میں نظریہ پاکستان کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہوتی ہے، پاکستان کی "نظریاتی بنیادیں" کھودنے والوں پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ فکری بحران، فکری قحط سالی کیوں؟ ایک ہی شناخت کو خود پر اوڑھ لینے کا عمل کیوں؟ انتہا پسندی کیوں؟

نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور والے بڑے عظیم لوگ ہیں، نوائے وقت کے تربیت یافتہ ، پاکستان کے رکھوالے اور پھر اسلام کے رکھوالے، یہ پاکستان کو 712 ء سے تخلیق شدہ بتاتے ہیں جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا۔  ایسا کرتے ہوئے یہ لوگ باقی سارے متغیرات نظر انداز کر جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہیں جو انہیں، مجھے اس قوم  کو شناخت عطاء کرتی ہیں۔ زبان، رنگ، نسل، جغرافیہ، پیشہ ،پانچ ہزار سالہ تاریخ اور آج کا زمانہ کچھ متغیرات ہیں جو مذہب کے علاوہ ہماری شناخت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان سب کو نظر انداز کر کے صرف مذہب کیوں؟ مذہب کو اپنانا افضل ہو گا، نبی ﷺ کے ساتھ خود کو موسوم کرنے سے بڑی بات بھلا دنیا میں کوئی ہو سکتی ہے؟ لیکن  پھر قرآن قبیلوں کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ اللہ نے رنگ اور نسل کیوں الگ الگ رکھ دئیے؟ اتنا تنوع کیوں ہے؟ ہم عرب میں ہی کیوں نہ پیدا ہو گئے؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے؟ عمومی مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ عین حق لگتا ہے۔ آخر اسلام دنیا کا آخری دین، اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں  رہنی چاہیئے۔

لیکن پھر بار بار اس یقین کا انکار کیوں ہوتا ہے؟ 1947 میں پاکستان ( جو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے مطابق دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا) کے بعد برصغیر میں کیا صرف مذہب  سماجی شناخت تشکیل دینے والا اکلوتا فیکٹر رہا ہے؟  کس کس کی مثال دوں؟ سقوطِ ڈھاکہ گنواؤں؟  جغرافیے کے نام پر بلوچوں کی بغاوت یاد کرواؤں؟ کراچی میں مہاجر نامی قومیت کی تشکیل کا ذکر کروں؟ پختون ، پنجابی ، سندھی کی اصطلاحات پیش کروں؟ کون کونسی مثال دوں جس سے یہ بات واضح ہو جائے کہ صرف مذہب سماجی شناخت تشکیل نہیں دیتا۔  عطاء اللہ شاہ بخاری اور ابو الکلام آزاد کے خطبات تحاریر گنواؤں؟  یا اسلام کا  مقصدِ دعوت  بیان کروں جس میں انسانیت اولین ہے، ساری دنیا اسلام کے لیے امتِ دعوت ہے۔ اسلام  دعوتِ دین کے لیے مذہب سے ماوراء ہو جاتا ہے، اسلام ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے مسلمانیت کا قتل نہیں۔ اسلام دین میں جبر کا قائل نہیں۔ کیا کیا دلیل پیش کروں؟

ایک طرف یہ کم شدت والے مذہبی چادر اوڑھنے والے ہیں۔ دوسری طرف وہ  بندوق بردار ہیں جو اپنی ہزار سالہ تاریخ کا انکار کر کے صرف ایک  چیز کو خود پر طاری کر چکے ہیں۔ خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور اس میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی تعلیمات  کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ جو جنگ میں ناحق درخت بھی کاٹنے سے منع کرے اس کے نام لیوا بے گناہ سروں کی فصلیں کاٹ  کر اس پر ذرا برابر شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مجھے آج کہنے دیں کہ اس ملک میں فکری انحطاط یہی نہیں، فکری قحط سالی ادھر ہی نہیں اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو مذہب کو زندگیوں سے نکال چکا ہے، اور اب صرف انسان کہلوانا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں "انسان" کی سماجی شناخت انہیں زیادہ غیر جانبدار بنا کر پیش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ  بھی ایک حقیقت سے انکار کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مذہب انہیں ڈیفائن کرتا ہے، جیسے ان کے اجداد کو ڈیفائن کرتا تھا۔ مذہب ان کے خون میں بہتا ہے وہ مانیں یہ نا مانیں۔ ان کے نام، رہن سہن کے طور طریقے مذہب سے متاثر ہیں۔ وہ مصنوعیت جتنی مرضی طاری کر لیں لیکن وہ متغیر ، مذہب نامی متغیر ان کی سماجی شناخت کا اہم جزو تھا، ہے اور رہے گا۔  لیکن اس سے جب انکار کیا جاتا ہے تو نتیجہ ایک اور قسم کے فکری بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک ایسا خلاء جسے پورا کرنے کے لیے وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں، کبھی ادھر سے اینٹ اٹھائی کبھی ادھر سے پتھرا ٹھایا اور عجیب الخلقت چیز تشکیل دے لیتے ہیں، چیز یعنی اپنی سماجی شخصیت۔ جس پر غصہ، ترس یا ہنسی  آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ  ڈر بھی آتا ہے۔ اس قوم کے فکری بحران سے ڈر لگتا ہے۔ شاکر ، اور شاکر جیسے بے شمار افراد اس قوم کی  کمزور ہوتی دیوار، گھوڑیاں بنتی دیوار سے تعلق کمزور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا آپس کا بانڈ  غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک قدر کو اختیار کر کے دوسری سے انکار کرتے ہیں۔ کبھی مذہب سے، کبھی جغرافیے سے، کبھی رنگ سے، کبھی نسل سے، کبھی زبان سے۔ کوئی مہاجر ہوا جاتا ہے، کوئی پنجابی، کوئی پختون ہوا جاتا ہے، کوئی مسلمان، کوئی پاکستانی ہوا جاتا  ہے، کوئی سیکولر، کوئی انسانیت نواز، کوئی لبرل۔ کوئی مشرق کو رخ کیے ، کوئی مغرب کو ، کوئی شمال کو اور کوئی شمال مغرب کو ۔ ایک دوسرے کی جانب پشت کیے بیٹھے یہ افراد، جن کے مابین اکثریتی اشتراکی اقدار کی قحط سالی طویل ہوتی چلی جاتی ہے، شدت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اور شاکر ڈرتا ہے اس وقت  سے۔ جب  اینٹوں کی یہ گھوڑیاں جو ابھی الگ الگ کھڑی ہیں، گر پڑیں اپنے وجود کھو بیٹھیں اور ساتھ اس کے قوم کا وجود بھی نابود کر ڈالیں۔ بہت ڈر لگتا ہے اس وقت سے سائیں۔ اللہ اس وقت سے بچائے۔ رب سائیں اس وقت سے بچائے۔

وما  علینا الا البلاغ

جمعرات، 18 اپریل، 2013

زلزلے اللہ کا عذاب؟

ہر زلزلے کے بعد اس قوم میں جو بحث چھڑتی ہے اس کا عنوان یہ یا ملتا جلتا ہوتا ہے۔
"زلزلے اللہ کا عذاب ہیں"۔
"ہم گناہگار ہو چکے ہیں اور زلزلہ بطور وارننگ آیا ہے۔"
"فلاں علاقے میں بہت گناہ ہو رہے تھے اس لیے زلزلہ آیا۔"
"کشمیر میں عصمت فروشی بہت زیادہ تھی اس لیے زلزلہ آیا۔"
وغیرہ وغیرہ۔

میرے جیسا نیم سمجھ والا بندہ اس معاملے میں کنفیوز ہو جاتا ہے۔ اگر ہر زلزلہ اللہ کا عذاب ہے تو سمندروں میں جو زلزلے آتے ہیں وہ کس پر بطور عذاب آتے ہیں؟ اس تھیوری کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جاپانی دنیا کی سب سے زیادہ گناہگار قوم ہیں کہ زلزلے تو سب سے زیادہ وہیں آتے ہیں۔ اور باقی دنیا ان کی نسبت زیادہ نیک ہے اس لیے زلزلے یعنی اللہ کا عذاب ان پر کم آتا ہے۔

اس تھیوری کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے (جو کہ میرے خیال میں غیر شعوری ہے) کہ اس پر یقین رکھنے والے زلزلے سے بچنے کے اقدامات نہیں کرتے۔ چونکہ زلزلے اللہ کا عذاب ہیں، اور عذاب اسی صورت میں ٹل سکتے ہیں جب اللہ کی فرمانبرداری کی جائے، یعنی زلزلہ نہ آنے کے لیے سچے پکے مسلمان بنا جائے۔ توبہ استغفار کی جائے، رحم کی بھیک مانگی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مزید یعنی زلزلے سے بچاؤ کے لیے کوئی آفات سے نمٹنے کا ادارہ، آفات سے نمٹنے کا منصوبہ نہ بنایا جائے، چونکہ زلزلے اللہ کا عذاب ہیں اس لیے آپ، میں جو مرضی کر لیں اب پیدا کرنے والے کی پکڑ سے تو نہیں بچ سکتے نا۔ تو زلزلے تو آئیں گے، وگرنہ اپنے آپ کو درست کر لیں؛ یعنی سچے پکے مسلمان۔

مجھے اس تھیوری سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ماشاءاللہ بڑے نمازی، پرہیز گار اور خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان یہ سوچ رکھتے ہیں۔ میں بذاتِ خود ایمان کے آخری درجے پر کھڑے مسلمان کی حیثیت سے اللہ سے اس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔ اللہ کو اللہ کریم کہہ کر پکارتا ہوں، کہ عذاب والی بات سے مجھے ڈر لگتا ہے، اس کی پکڑ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ رحمت، کرم، فضل اور عطاء کا طلبگار ہوتا ہوں۔

لیکن، اُلٹی کھوپڑی، پُٹھی سوچ، میرے لیے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہیں۔ چونکہ میں زمین پر دیکھتا ہوں کہ زلزلے کئی ایسی جگہوں پر بھی آتے ہیں جہاں کوئی آبادی نہیں، تو میں انہیں عذاب نہیں سمجھ سکتا، چونکہ میں اللہ کو کریم، رحیم، رحمان کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ اور وہ اپنی مخلوق پر (علاوہ انسان) زلزلے نہیں بھیجتا۔ اس کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیئے کہ انسانوں پر زلزلے پھر ہمیشہ عذاب ہوتے ہیں لیکن بے آباد جگہوں پر آنے والے زلزے عذاب نہیں ہوتے ہوں گے۔ یعنی جب بھی زلزلہ آبادی میں آیا اٹینشن ہو جاؤ تم خراب لوگ ہو اپنے آپ ٹھیک کر لو ورنہ پکڑ میں آ جاؤ گے۔

لیکن چونکہ میں ایک پُٹھی سوچ والا نچلے درجے کا مسلمان ہوں، میری نظر اللہ کی رحمت پر رہتی ہے اس لیے میرے لیے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہوتے۔ ہاں بعض اوقات اللہ کا عذاب، اللہ کی وارننگ ہوتے ہوں گے۔ زلزلے پر میں بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن میں زلزلے کو ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں سمجھتا۔ میری اس سوچ کی تصدیق قرآنی آیات سے ہوتی ہے۔ یہاں لفظ "زلزلہ" والی چھ قرآنی آیات (ترجمہ عرفان القرآن) پیش کر رہا ہوں۔ مجھے لفظ زلزلہ کے لیے تلاش میں یہی آیات ملیں۔ ملاحظہ کریں:

  1. 7|78|سو انہیں سخت زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا پس وہ (ہلاک ہو کر) صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
  2. 7|91|پس انہیں شدید زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو وہ (ہلاک ہوکر) صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
  3. 7|155|اور موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر مَردوں کو ہمارے مقرر کردہ وقت (پر ہمارے حضور معذرت کی پیشی) کے لئے چن لیا، پھر جب انہیں (قوم کو برائی سے منع نہ کرنے پر تادیباً) شدید زلزلہ نے آپکڑا تو (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے رب! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں کو اور مجھے ہلاک فرما دیتا، کیا تو ہمیں اس (خطا) کے سبب ہلاک فرمائے گا جو ہم میں سے بیوقوف لوگوں نے انجام دی ہے، یہ تو محض تیری آزمائش ہے، اس کے ذریعے تو جسے چاہتا ہے گمراہ فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، سو ُتو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
  4. 22|1|اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،
  5. 29|37|تو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا ڈالا پس انہیں (بھی) زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ (مُردہ) پڑے تھے،
  6. 79|6|(جب انہیں اس نظامِ کائنات کے درہم برہم کردینے کا حکم ہوگا تو) اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آجائے گی، 79|7|پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا،
مذکورہ بالا آیات میں پہلے سورہ نمبر ہے پھر آیت نمبر، اور ترجمہ عرفان القرآن ہے۔ یہاں چار آیات میں زلزلہ بمعنی عذاب آیا ہے۔ ہر مرتبہ ایک نبی علیہ السلام صورتحال میں موجود تھے۔ عموماً متعلقہ قوم انتہا درجے کے کفر میں مبتلا تھی، انہیں پہلے وارننگ دی گئی اور پھر جب نبی مایوس ہو گئے تو زلزلے نے انہیں آ گھیرا۔ بقیہ دو آیات قیامت کے زلزلے سے متعلق ہیں۔
 
انہیں آیات کا اقتباس دے کر "زلزلے عذاب ہیں" کی دلیل دی جاتی ہے۔ لیکن یہ اقتباسات سیاق و سباق سے ہٹ کر دئیے جاتے ہیں، اگر پورے سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھا جائے تو انبیا کی نافرمان قوم کا سارا منظر نامہ بنتا ہے اور زلزلہ آخری حل کے طور پر بطور عذاب مسلط کیا جاتا ہے۔ اور یاد رہے ایسا صرف چار مرتبہ ہوا ہے۔ زلزلوں کی سالانہ فریکوئنسی (چند ہزار سال ارضیاتی پیمانے پر چند دن کے برابر ہیں، اس لیے آج اگر سالانہ ہزاروں زلزلے آتے ہیں تو دو تین ہزار سال قبل بھی یہی صورتحال ہونے کا اغلب امکان ہے۔) کو دیکھیں تو یہ بات محال لگتی ہے کہ ہر زلزلہ عذابِ الہی ہو۔ اگر ایسا تھا تو قرآن میں صرف چار واقعات ہی کیوں (میں آیات کی تعداد کے حوالے سے چار واقعات کہہ رہا ہوں لیکن تین آیات ایک جیسی اور ایک موسی علیہ اسلام والی مختلف ہے، اس طرح عذاب کے دو واقعات بنتے ہیں نہ کہ چار)، انسانی تاریخ تو کم از کم (بنی اسرائیل کے حوالے سے دیکھیں تو) کئی ہزار سال قبلِ مسیح تک جاتی ہے۔ تب سے نبی کریم ﷺ کے زمانے تک صرف چار زلزلے بطور عذاب؟ تو صاحب میری سوچ یہ ہے کہ زلزلے اللہ کا عذاب ہوتے ہیں، چونکہ قرآن کہتا ہے لیکن زلزلے ہمیشہ بطور عذاب نہیں آتے۔ یہ ایک ارضیاتی عمل ہے جو زمین جیسے سیاروں پر نارمل بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پیدا کرنے والا کبھی کبھی جھٹکا دینے کے لیے قدرتی مظاہر کو استعمال کرتا ہے تاکہ انسان سنبھل جائے۔

اور اس سوچ کے لیے میں ہوا اور آندھی کی مثال دینا چاہوں گا۔ قرآن میں عذاب کی دوسری صورتیں بھی بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ایک ہوا کے عذاب کی ہے۔ مثلاً آیت ملاحظہ ہو۔

  • 46|24|پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہے،
یہاں بادل اور آندھی جیسے قدرتی مظاہر کو وارننگ کے لیے استعمال کرنے کا ذکر ہے۔ بالکل جیسے زلزلے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن قرآن ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ بادل رحمت لے کر آتے ہیں۔ مثلاً
  • 15|22|اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں پھر ہم آسمان کی جانب سے پانی اتارتے ہیں پھر ہم اسے تم ہی کو پلاتے ہیں اور تم اس کے خزانے رکھنے والے نہیں ہو،
تو عزیزانِ گرامی میرے خیال سے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہوتے۔ اللہ تعالٰی کی ذات سے ہمیشہ عذاب کی امید رکھنے والے میری نظر میں رحمت سے ناامید لوگ ہیں۔ چونکہ میری نظر اُس کی پکڑ سے زیادہ رحمت پر ہے، اس لیے میں اس تھیوری سے انکار کرتا ہوں کہ ہر زلزلہ اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ زلزلہ ایک نارمل ارضیاتی عمل ہے، جیسے بادل اور ہوا ہیں۔ لیکن جیسا کہ قرآن بتاتا ہے کبھی ان ارضیاتی عوامل کو استعمال کر کے قوموں کو جھنجھوڑا بھی جاتا ہے اور ایسا عموماً بڑی سخت صورتحال میں ہوا، جب کسی قوم نے اپنے نبی کا مکمل انکار کر دیا، ان پر حجت تمام ہوگئی، ہدایت پہنچا دی گئی تو پھر بھی نہ ماننے والوں پر عذاب آ گیا چاہے وہ پتھر برسنے کی صورت میں ہو، ہوا یا بادل سے یا زلزلے کی صورت میں ہو۔

میرا نقطہ نظر کم علم کوتاہ نظر جاہل کی بڑ لگ سکتا ہے۔ لیکن جاہل ہوتے ہوئے بھی میں نظر اُس کی رحمت پر رکھنے کا عادی ہوں، پکڑ پر نہیں۔

مولا میں تیری رحمت کا محتاج، مولا میں تیری عطاء کا امیدوار، میرا ہر بال، میرا ہر سانس، میرا ہونا ہی مجھ پر تیری رحمت ہے میرے مالک، مجھ پر اپنا فضل کر دے، کرم کر دے، عطاء کر دے، رحمت کر دے۔ میں دو کوڑی کا، میں گندی نالی کا کیڑا میرے مالک تیری رحمت بے پناہ، تیرا فضل بے پایاں، تیری عطاء بے شمار، تیرا کرم بے کنار، تو اپنے نبی ﷺ، تو اپنے سوہنے نبی ﷺ کا صدقہ مجھے پر اپنی رحمت رکھنا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔

جمعرات، 13 ستمبر، 2012

غلط کو غلط نہ کہنے کی روش

آج کے اخبارات، اور کل کے آنلائن شماروں میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ امریکی معلون پادری ٹیری جونز نے توہین آمیز ویڈیو تیار کی ہے۔ جس کے نتیجے میں لیبیا میں بلوائیوں کے ایک گروہ نے امریکی سفیر کو ہلاک کر ڈالا۔

بات شروع ہوتی ہے فیس بک سے، جہاں ایک صاحب تصویر شئیر کر رہے ہیں۔ نیچے لکھے کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ شامی انجینئر پوچھ رہے ہیں لیبیا والوں نے تو یہ سب کر کے اپنی محبت کا ثبوت دے دیا، پاکستانی کہاں ہیں؟ ان سطور کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستانی بھی اٹھیں اور ملک میں غیر ملکیوں پر حملے شروع کر دیں، ان کے سفیروں کو ہلاک کر ڈالیں۔ ایک ایسے جرم کے لیے جو انہوں نے نہیں کیا، ایک ایسی صورتحال میں جب وہ نہ ہمارے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں، اور نہ ہتھیار بند ہو کر مقابلے پر اترے ہوئے ہیں، اور کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھوں جو اپنے آپ کو اعلی درجے کے مسلمان اور عاشق رسول سمجھتے ہیں، اور بزعم خود قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہو کر،آن دی اسپاٹ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو مار ڈالتے ہیں۔

میں نے فیس بک پر یہ سوال کیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو اسلامی ملک میں ذمی کی حیثیت رکھتا ہے، اسکی جان و مال کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کا قتل کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اور اس پر ایک دوسرے کو شہہ کیسے دی جا سکتی ہے کہ دیکھو فلاں نے کر دیا اور تم پیچھے رہ گئے۔ مجھے جواب دیا گیا کہ غیر ملکی سفیر ذمی نہیں ہوتے۔ میں نے مان لیا، لیکن پھر سوال اٹھ آیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو ویزے پر اسلامی ریاست میں داخل ہوا، ایک معاہدہ جو اس کے اور ریاست کے مابین ہے کہ ہماری حدود میں داخلے پر تمہاری جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک معاہدہ یعنی وعدہ جس کے لیے محمد الرسول اللہ ﷺ تین دن تک ایک جگہ کھڑے رہتے ہیں، آج ان کے نام لیواؤں کے نزدیک ردی کے ٹکڑے کی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔

مجھے جواب دیا جاتا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے ساتھ پوری دنیا میں یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو بنا کسی عدالت کے ایسے ہی موت کے گھاٹ اتارا۔ طالبان پر بنا کسی عدالت کے ایسے ہی حملہ کیا، عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔ ان کے ساتھ کوئی سفیر کا معاہدہ نہیں۔ ان کا قتل جائز ہے۔ میرا سوال بس یہ کہ کیا اسلامی ریاستوں نے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا؟ کیا وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیے؟  ان کے سفیروں کو وارننگ دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا؟ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا؟ آگے سے پھر وہی جواب آئے کہ یہ عین جائز ہے چونکہ امریکہ ۔۔۔۔اگلا حصہ آپ جانتے ہیں اس لیے اسکپ کر رہا ہوں۔

ابھی میں اپنے بنیادی سوال کی طرف نہیں آیا۔ آئیں ایک صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک واقعے میں عیسائی ریاستوں میں سے ایک میں ایک مسلمان خاتون کو شہید کر دیا جاتا ہے، اس کا جرم کیا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہے اور مسلمان ہے۔ مسلمان اس پر چراغ پا ہو جاتے ہیں، ان کے نظام انصاف کو صلواتیں سناتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں، اسے نا انصافی کہتے ہیں۔ دوسرے واقعے میں ایک اسلامی ریاست میں جنونیوں کا ایک گروہ ایک شخص کو اس لیے ہلاک کر دیتا ہے چونکہ وہ اسی ملک سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کو یہ مجرم سمجھتے ہیں۔ اس پر سب واہ واہ کرتے ہیں، ایک دوسرے کو ہلا شیری دیتے ہیں اور شرم دلاتے ہیں کہ دیکھو فلاں آگے بڑھ گیا۔ درج بالا دونوں واقعات میں دو چیزیں مشترک ہیں۔ نمبر ایک مرنے والے دونوں افراد حالت جنگ میں نہیں تھے، ایک غیر ملک میں تھے، ان کا قصور اتنا تھا کہ وہ گروہِ مخالف سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ انہیں مارنے والے بھی ایسے لوگ تھے جو ریاست (اولی الامر) کی نمائندگی نہیں کرتے، کچھ ایسے جنونی جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو جج کے عہدے پر متمکن کر لیا اور ان کے قتل کا فیصلہ صادر کر کے اپنے تئیں انصاف کے تقاضے پورے کر دئیے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر آپ اول الذکر واقعے کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ دوسرے کو بھی غلط سمجھا جائے؟ یا دوسرے کو صرف اس لیے غلط نہیں سمجھا جائے گا کہ مرنے والا ایک غیر مسلم تھا، اور چونکہ غیر مسلموں کا خون نیلا ہوتا ہے، اور (نعوذ باللہ) قرآن کا حکم (ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے) اصل میں "ایک مسلمان کا قتل کا ساری انسانیت کا قتل ہے"۔ کیا مسلمان ہونا یہ گارنٹی ہے کہ ہم ہر اس انسان کو اڑا سکتے ہیں جو ہم سے کمزور ہے، جس پر ہمارا بس چلتا ہے، جو ہمارے سامنے فی الوقت کمزور پڑ جاتا ہے۔ کیا ایسا اس لیے ہے کہ مسلمان اللہ کی چنی ہوئی امت ہیں، امت آخر، نبی اکرم ﷺ کے ماننے والوں کی امت، اسلیے ان کے نام پر اس امت کے لیے ہر جرم معاف ہے؟ کیا یہی سوچ یہودیوں کی نہیں تھی اور ہے؟  کیا یہی سوچ اس بھیڑئیے کی نہیں تھی جس نے میمنے کو اس جرم میں پکڑ لیا کہ اس کے آباء میں سے کوئی اسی ندی پر پانی پیتا رہا تھا جس ندی پر آج بھیڑیا پانی پی رہا ہے۔ سوال ہے کہ ہماری انصاف کی چھری 'ہم' اور 'وہ' کی تخصیص کیوں کرے۔ جب محمد الرسول اللہ ﷺ نے کبھی انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ فرق روا نہ رکھا تو مسلمان ایسا کیوں کریں؟

مجھے یہ منطق دی گئی کہ حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے۔ جب حرمت رسول ﷺ کی بات آ گئی تو سارے معاہدے باطل، اور گستاخِ رسول ﷺ کی سزا موت۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ اس سفیر کا کیا قصور تھا کیا وہ گستاخِ رسول ﷺ تھا؟ کیا اس پر اس الزام کے سلسلے میں باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا اور یہ جرم اس پر ثابت ہو گیا؟ (اس نظام کے تحت جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن حکیم کے تحت اسلام میں صدیوں سے نافذ چلا آ رہا ہے۔) چلیں مقدمہ نہ چلانے کی بات مان لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں ایک واقعہ ملتا ہے کہ مدینہ میں ایک مخالف گروہ (شاید یہودیوں) سے ایک آدمی (اغلباً ایک شاعر) نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو جا کر مجھے اس کا سر لا دے یعنی اس جرم میں قتل کر دے۔ تو ایک صحابیؓ گئے اور اس کا سر کاٹ لائے یا اسے قتل کر دیا۔ بظاہر یہاں کوئی مقدمہ ملوث نہیں ہے۔ اسلامی ریاست کے سربراہ (جو اس واقعے میں خود رسول اللہ ﷺ ہیں) نے ایک غیر ریاست کے شہری (یاد رہے اسلام کے ابتدائی دور میں ریاستِ مدینہ کئی گروہوں میں بٹی ہوئی تھی اور پورے مدینہ پر مسلمانوں کا ایسا کنٹرول نہیں تھا جیسا آج ایک عمومی حکومت کے لیے نارمل خیال کیا جاتا ہے) کے قتل کا حکم دیا اور اس پر عمل درآمد ہو گیا۔ یہاں سے یہ استدلال سامنے آتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو فوراﷺ سزائے موت دی جائے چاہے وہ غیر ملک یا غیر قوم کا شہری/ رکن ہی ہو۔ لیکن ایک باریکی جو یہاں ڈاکٹر حمید اللہ نے دریافت کی، قابل بیان ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون بین الممالک (انٹرنیشنل لاء) کے ماہر تھے، فرماتے ہیں کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ میثاقِ مدینہ یعنی مخالف فریقین کے مابین ایک معاہدہ ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں میں نے باقاعدہ تحقیق کی، اور یہ بات سامنے آئی کہ میثاق مدینہ (جسے آج ہم اسے ایک معاہدے کے طور پر جانتے ہیں) اصل میں معاہدوں کے ایک مجموعے کا نام ہے جو وقتاً فوقتاً مدینہ کے مختلف گروہوں اور مسلمانوں کے مابین وجود میں آتے رہے۔ اور مذکورہ بالا واقعے کے وقت مسلمانوں اور متعلقہ گروہ کے مابین یہ معاہدہ ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ نکلتا ہے کہ عہدِِ رسالت ﷺ میں میں گستاخِ رسول کی سزائے موت اس وقت عمل میں آئی جب کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں تھا ورنہ صورتحال شاید مختلف ہوتی۔ اگر ہم اس ساری بحث کو نظر انداز بھی کر دیں تو بنیادی سوال "کیا غیر ملکی سفیر گستاخِ رسول ﷺ تھا؟" کا جواب نہیں میں نکلتا ہے۔ گستاخی واضح طور پر ٹیری جونز نامی معلون شخص کی شرارت ہے، اور اس کا سزاوار بھی وہی ہے، نا کہ اس کے ملک سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دوسرا شخص۔ ایسی صورتحال میں اسلامی اور انسانی نقطہ نگاہ سے ایک غیر ملکی سفیر، جو اسلام کی نظر میں بے گناہ ہے اور بے گناہ انسان کا قتل اللہ کے نزدیک پوری انسانیت کا قتل ہے، نرم سے نرم الفاظ میں بھی بربریت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے اس جرم میں شریک۔

تحریر کے اختتام پر پھر اپنا موقف دوہرانا چاہوں گا کہ ایک غلط عمل کے جواب میں کیا جانے والا غلط عمل موخر الذکر کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے چاہے جتنی بھی ناانصافی کی ہو، نہتّوں پر بم برسائے ہوں، قتل عام کیے ہوں، اسامہ بن لادن اینڈ کمپنی کو قتل کیا ہو لیکن یہ تمام افعال اس بات کا اجازت نامہ نہیں کہ آپ ان ممالک کے نہتے شہریوں پر انفرادی حیثیت میں حملے کر کے، مقدمہ چلائے بغیر، ایک ایسے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ اگر بدلہ لینے کا شوق ہے تو مردوں کی طرح ان کے خلاف اعلانِ جنگ کریں، سفارتی رابطے منقطع کریں، ملعون گستاخِ رسول ﷺ کی حوالگی کا مطالبہ کریں اگر وہ نہیں کرتے تو دعوتِ مبازرت دیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا چونکہ حکومتیں کرپٹ ہیں، کوئی بھی ریاست سچی اسلامی ریاست نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت ان ممالک میں بسلسلہ روزگار وغیرہ موجود ہے اور وہاں سے نوٹوں کے تھبنٹو واپس بھیجتی ہے، کاروباری مفادات وابستہ ہیں اس لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا اجتماعی یعنی ریاستی سطح پر ممکن نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور ان کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے، معاہدہ امن (یاد رہے کہ عراق، افغانستان وغیرہ میں بھی حکومت کے ساتھ یہی نام نہاد معاہدہ امن موجود ہے جو انفرادی سطح پر کسی بربری فعل کی اجازت نہیں دے گا جب تک ریاست اعلان جنگ نہ کر دے) یعنی آپ ان کے شہریوں کو امان دیں گے، اور وہ آپ کے شہریوں کو امان دیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے، ایسا نہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنے شہریوں، ہم مذہبوں کے ساتھ ان ممالک میں یہی سلوک ہونے پر واویلا کریں۔ اگر آج پاکستان، لیبیا یا کسی بھی اسلام ملک کے سفیر کے ساتھ بھارت، فرانس یا امریکہ میں یہی سلوک ہوتا ہے تو وہ غلط ہے (وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے، رمشا مسیح کا تقریباً جھوٹا ثابت ہو چکا مقدمہ لے لیں، اس پر کوئی جنونی گروہ پاکستانی سفارتخانے پر اٹھ کر حملہ آور ہو سکتا ہے، جنونیوں کو تو بہانہ چاہئیے ہوتا ہے نا)، اسی طرح ان کے سفارتخانے پر ہمارے ہاں ہونے والا حملہ بھی غلط ہے۔ انصاف کا معیار دوہرا نہیں ہوتا، انصاف میرے لیے ہاں تمہارے لیے ناں نہیں ہوتا۔ ہم اس شخصیت ﷺ کے پیروکار ہیں جس نے جنگ میں جانے سے قبل بھی لشکریوں سے کہا تھا سنو عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ درخت، نہ کاٹنا، فصلیں نہ اجاڑنا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، جو ہتھیار نہ اٹھائے اس پر حملہ نہ کرنا۔ لیکن ہم انہیں ﷺ سے محبت کے نام پر انہیں کی تعلیمات کو فراموش کر رہے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کسی کا غلط طرزِ عمل اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم بھی انصاف کے تقاضے چھوڑنے کے لیے آزاد ہو گئے ہیں، ہم مسلمان ہیں اور ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں، ورنہ ہم میں اور جنگلی جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور اس بھیڑئیے میں کوئی فرق نہیں جس نے میمنے پر اس لیے حملہ کر دیا کہ اس کے آباء میں سے کسی نے پانی پینے کا جرم کر ڈالا تھا۔ عذر تراشیاں کسی غلط طرزِ عمل کے ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں، ہمیں عذر تراشیاں ترک کر کے غلط کو غلط کہنا ہو گا، ان کے غلط کو تو غلط کہنا ہی ہے اپنی غلطی کو بھی تسلیم کرنا ہو گا، اور ایسے کسی بھی رویے کی حوصلہ افزائی ترک کرنا ہو گی۔

اَشہَدُ اَن لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَا عَبدُہُ وَ رَسُوُلُہُ و خاتم النبین
میرے لیے ٹیری جونز کی حیثیت اس کتے سے بھی بدتر ہے جو میرے محلے میں ہر صبح بلا وجہ بھونکنا شروع کر دینے والوں میں ہوتا ہے۔ اور میں ایسے کتوں کو پتھر مارنا بھی گوارا نہیں کرتا۔  میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، مجھے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے ان ﷺ سے کتنی محبت ہے، اور نہ کسی کو میرے ایمان پر سوال اٹھانے کا حق ہے کہ یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے۔ لیکن جو غلط ہے میں اسے غلط کہوں گا۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ غلط ہوا، اسامہ بن لادن کو مقدمے کے بغیر قتل کرنا انصاف کا قتل تھا، عراق، افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے حملے غلط تھے، مغربی ممالک میں مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینے والے قوانین اور رویے غلط ہیں۔ لیکن ان سب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل کو جائز قرار دینے لگوں۔ یہ غلط ہے اور میں غلط کو غلط کہوں گا۔ کاش میری قوم بھی یہ بات سمجھ جائے۔

برادرم کاشف نصیر کی اس پوسٹ کو ٹیگ کرنا ضروری ہے، جس سے مجھے آج کی یہ تحریر لکھنے کی انسپائریشن ملی۔
وما علینا الا البلاغ

جمعہ، 7 ستمبر، 2012

حجاب، نقاب ہم اور ہمارے رویے

ایک عرصہ ہو گیا میں 'موسمی' موضوعات پر لکھنا چھوڑ چکا ہوں۔ جب سارے اردو بلاگر ایک موضوع کو لے کر اس کی مٹی پلید کر رہے ہوتے ہیں اس وقت میری خواہش ہوتی ہے کہ کچھ مختلف لکھا جائے۔ خیر لکھنے والی بات بھی نوے فیصد جھوٹ ہی ہے کہ میں اکثر ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں جو مہینوں بعد کچھ لکھتا ہے۔ لیکن بلاگر ہونا شرط ہے، لکھا تو کبھی بھی جا سکتا ہے۔ آج کل کا اِن موضوع حجاب،نقاب وغیرہ ہے۔ ایک طرف یار لوگوں نے عالمی حجاب ڈے وغیرہ کی ڈفلی اٹھائی ہوئی ہے، دوسری طرف سے زبردستی مسلمان کروانے وغیرہ کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ اور اس دوران شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قسم کے تبصرہ نگار ایسی بلاگ پوسٹوں پر طنزیہ لہجے میں براہ راست ہتک آمیز تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو ہماری قومی عادت ہے کہ برداشت نہیں کرنا، تصویر کا ایک ہی رخ لے سامنے رکھ کر چلائے چلے جانا اور "میں نا مانوں" کا نمونہ اکمل بنے رہنا۔ میں نے سوچا موضوع اِن ہے تو ہم بھی اڑتے کیچڑ میں دو چار پتھر پھینک لیں۔ کروانے تو کپڑے ہی گندے ہیں، ویسے بھی برسات ہے تو چلن دیو۔
میرے حساب سے حجاب نقاب جس کی آج بات کی جا رہی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اول جو اس پیرے میں زیر بحث آئے گا، وہ ہے یورپی ممالک میں مسلمان خواتین پر ہونے والی سختیاں (بسلسلہ حجاب) جن میں حکومتی اقدامات سے لے کر نسلی امتیاز تک ہر چیز شامل ہے۔ دیکھیں جی ہر کسی کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اور یورپی مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دے کر انتہا پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ میرا اس سلسلے میں مزید کوئی خیال نہیں، بس اتنا خیال ہے کہ اوکھے دن ہیں لنگھ جائیں گے۔ حجاب کے متعلق آگاہی پھیل رہی ہے، اس کے حامی بھی ظاہر ہے یورپیوں میں ہوں گے، کرنا یہ ہے کہ اپنی آواز پر امن انداز میں شانتی اور سکون سے بلند کی جائے۔ اور اللہ کی مہربانی سے وہ وقت بھی آئے گا جب انسانی حقوق کے یہ بزعم خود علمبردار حجاب کی اجازت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہاں جب تک وہ سختی کرتے ہیں تو اللہ تو دیکھ رہا ہے نا جی، اسے پتا ہے کہ مسلمان بے بس ہیں تو اس کی ذات معاف کرنے والی ہے۔ کوشش کرنا ہمارا فرض اور باقی اللہ سائیں راہیں سیدھی کرنے والا۔ چناچہ لگے رہو بھائیو حجاب ڈے مناؤ، اور اپنا موقف ان کے کانوں تک پہینچاتے رہو۔۔۔۔
لیکن تہاڈی مہربانی ہے مسلمانوں کو مسلمان نہ کرو۔ خدا کا واسطہ ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کس حجاب کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے یہ علاقہ، اور اس کے باشندے جو مسلمان ہیں، اور ان کی روایات اور ثقافت اسلام اور مقامیت کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں پردہ تب سے رائج ہے جب سے اسلام یہاں ہے۔ میری والدہ، نانی اور خالہ ایک اڑھائی گز کی چادر سر پر لیا کرتی تھیں۔ اور آج بھی میں نے انہیں وہی چادر لیے دیکھا ہے۔ نانی اور خالہ کو زمینوں پر کھانا دینے جانا ہوتا تھا، اور وہ اسی چادر میں جاتی تھیں۔ جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اور کیا چاہیئے کیا زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیں عورتوں کو؟ سر تا ییر برقعہ اوڑھا کر کام کیسے کرواؤ گے بھائی؟ ہمارے بہادر تو یہ چاہتے ہیں کہ عورت کے ہاتھوں پر بھی دستانے ہوں۔ صدقے جاؤں ایسے اسلام کے اسی نے بیڑے غرق کیے ہیں۔ رونا روتے ہیں یورپیوں کی انتہا پسندی کا خود ان کے استاد ہیں اس معاملے میں۔ برداشت کا ایک ذرہ بھی نہیں ہیں، مار دو، کاٹ دو، قتل کر دو، جو'اہل ایمان' نہیں اسے اڑا دو۔ اور اہل ایمان کی اپنی تعریف ہر کسی کی۔ اللہ جماعت اسلامی کو ہمیشہ اقتدار سے دور رکھے، آمین۔ ضیاء الحق کے رفقاء میں شامل رہنے والے یہ لوگ نان ایشوز کی سیاست بڑے ول انداز میں کرتے ہیں۔ پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو، پارلیمان کی ویب سائٹ پر تصویر میں کلمہ نظر نہ آ رہا ہو یہ سب سے آگے اور اب حجاب کو آئین میں لازم قرار دیا جائے۔ پہلے مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ کونسا حجاب؟ میری والدہ، ان کی ماں، ان کی ماں کی ماں اور ان کی دس نسلوں سے جو اوڑھنی چلی آ رہی ہے، یا شٹل کاک برقع جو افغانستان سے درآمد ہوا ہے، یا عربی اسٹائل حجاب، یا سعودی اسٹائل فل سائز برقعے۔  کونسا حجاب سائیں؟ یہ کدھر کو چل پڑے ہیں، ہر چیز کو مسلمان بنانے پر تلے ہیں۔ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر گرا نہ سکتے تھے اس لیے کلمہ لکھ کر مسلمان کر لیا۔ عمارتیں، نشانات، آثار یا تو مٹا دئیے یا 'مسلمان' کر لیے۔ یہی کام مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ یا تو مسلمان کر لیے، جو'رافضی'، 'کافر' وغیرہ بچے انیہں زندگی کی قید سے آزاد کر دیا۔ واہ بھئی، صدقے اس اسلام کے۔ صدقے۔
آخری بات عرض کرتا چلوں، کہ آج نوجوان لڑکیاں چادر یا اوڑھنی والا نقاب نہیں برقعے والا نقاب کرتی ہیں۔ اس کی وجہ اسلام ہائپ تو ہے ہی، معاشرتی عدم تحفظ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اسلام اسلام کرنے سے اوپر اوپر تو ملمع چڑھ گیا ہے، اندر کی بےغیرتی نہیں گئی۔ جب تک یہ بے غیرتی نہیں جائے گی حجاب چھوڑ کر نماز پڑھنے کا آرڈیننس بھی جاری کروا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔

پیر، 9 مارچ، 2009

چیز ونڈی دی

کڑیو والو چیز ونڈی دی لئی ی ی ی ی ی جاؤ
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔

ہفتہ، 28 فروری، 2009

ایس ایم ایس

پاکستان میں اس وقت کم از کم پانچ موبائل فون کمپنیاں فعال ہیں اور جدید ترین خدمات فراہم کررہی ہیں. ملک کی آدھی کے قریب آبادی موبائل فون استعمال کررہی ہے. ہمارے میڈیا کے اشتہارات کا اچھا خاصا حصہ ان پانچ کمپنیوں کے اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے. ہر روز کوئی نیا پیکج اور ہر روز کوئی نئی آفر. یہ کردیا وہ کردیا وغیرہ وغیرہ.
ان کمپنیوں کی فراہم کردہ خدمات میں سے ایک ایس ایم ایس یعنی شارٹ میسنجنگ سروس ہے. ایس ایم ایس کے بارے میں کئی سال پہلے گلوبل سائنس میں پڑھا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہر وقت آنلائن رہ کر پیغامات وصول کرسکیں. خیر اس کا مقصد جو بھی آج کل یہ پاکستان میں انّھے وا استعمال ہورہے ہیں. لطائف سے لے کر مرے ہوئے شعرا بشمول فراز کی خوب مٹی پلید کی جاتی ہے.
ایک ایس ایم ایس، اگر آپ کے پاس کوئی پیکج نہیں، تو قریبًا سوا روپے میں پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس پیکج ہے جیسا کہ قریبًا ہر کمپنی دے رہی ہے تو آپ کو یہی ایس ایم ایس دس، بیس، تیس پیسے اور ایک پیسے سے بھی کم میں پڑتا ہے۔ لیکن اس سارے میں جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ بہت سادہ سا ہے۔ آپ پیکج کروائیں کمپنی کو مخصوص رقم ادا کریں۔ اور اس کے بعد مخصوص مدت کے لیے ایس ایم ایس کی مخصوص تعداد آپ کی ہوئی۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ایس ایم ایس کام کے لیے نہیں تفریح بلکہ وقت ضائع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ماہانہ سو کے قریب ایس ایم ایس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے پہلے پہل ایس ایم ایس کرنے سے پرہیز کی کوشش کی لیکن دوست احباب کے طعنے، ہم جماعتوں کے جائز استفسارات کے جواب (چونکہ میں کلاس کا سی آر ہوں) اور کئی ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے مجھے اس طرف آنا ہی پڑا۔ اب حال یہ ہے کہ ہر ماہ میرا سو کے قریب روپیہ ان پر لگتا ہے۔ اور پھر مجھے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس اتنے رہ گئے ہیں انھیں ختم بھی کرنا ہے۔ چناچہ میں نے جہاں ایک کرنا ہو وہاں تین چار بھی کردیتا ہوں۔ اب ان کو ختم بھی تو کرنا ہے کا سوچ کر۔
میرا سوال اتنا ہے کہ اگر ایس ایم ایس اتنا سستا ہوسکتا ہے جیسا کہ ان پیکجز کے ذریعے ہے تو اس کو مناسب ریٹ پر لاکر نارمل پیکج میں شامل کیوں نہیں کردیا جاتا؟ جس طرح ایس ایم ایس مفت بانٹے جارہے ہیں ،چار روپے کٹوائیں 24 گھنٹے میں 500 ایس ایم ایس آپ کے، اگر اس کو دس سے ضرب دی جائے تو جواب آٹھ پیسے آتا ہے۔ چلیں دس پیسے کرلیں اور ٹیکس ڈال کر پندرہ پیسے کرلیں۔ اگر پندرہ پیسے کا ایس ایم ایس بھی کردیا جائے تو کیا ہے۔
پچھلے دنوں ایک دوست سے چائنہ میں بات ہورہی تھی اس کے مطابق ایک ایس ایم ایس پاکستانی پانچ سے چھ روپے کا پڑتا ہے، کال سننے کے چارجز دینے پڑتے ہیں، روزانہ کے پیسے کاٹے جاتے ہیں جیسے پاکستان میں وائرلس لوکل لوپ والے روز کے پیسے کاٹتے ہیں بطور لائن رینٹ اور جب آپ کا بیلنس ختم تو نمبر بند۔ جب تک دوبارہ لوڈ نہ کریں تو نہ کال وصول سکیں گے نہ اس دوران آیا میسج آپ تک پہنچ سکے گا، کمپنی کے سرور پر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان میں اس سے حالات ہزار درجے بہتر ہیں اور اس کی وجہ کمپنیوں کا آپسی مقابلہ ہے۔ لیکن پھر بھی ان کمپنیوں ہمارا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سیل فون کام کی چیز نہیں فن اور مسخریاں کرنے کی چیز بن گیا ہے۔ کام کے لیے میسج کرنا ہے تو سوا روپیہ اور بے مقصد کرنے ہیں تو جتنے چاہیں۔ بس پیسے کٹواتے جائیں اور جو مرضی حاصل کرلیں مفت ایس ایم ایس سے لے کر انٹرنیٹ کے گھنٹوں کی سستے ترین گھنٹے۔ لیکن اس طرح کہ آپ انھیں استعمال صرف اور صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ عجیب سائنس ہے یہ بھی اور اس سائنس نے ہم نوجوانوں کی کیمیا کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کی بے مقصد رات ساری ساری رات گپ بازی اور موبائل چیٹ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ :roll: