منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے "قابل پڑھائی" کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔
ہفتہ، 15 دسمبر، 2007
مونو (Mono) میری نظر سے
اتوار، 7 اکتوبر، 2007
اوبنٹو 7.10 گسٹی گبن
ٹھیک گیارہ دن بعد اوبنٹو کا نیا ورژن گسٹی گبن جاری کیا جارہا ہے۔ اس ورژن میں کافی ساری نئی چیزیں متعارف کروائی گئی ہیں۔
- گوگل ڈیسکٹاپ جو اس سال لینکس کے لیے بھی جاری کردیا گیا تھا کے مقابلے پر اوبنتو اور کبنٹو دونوں میں ڈیسکٹاپ تلاش گر متعارف کروائے گئے ہیں۔ امید ہے یہ "پیدائشی" اطلاقیے گوگل ڈیسکٹاپ کی نسبت بہتر اور تیزی سے کام کریں گے۔
- این ٹی ایف ایس فائل سسٹم کی رائٹنگ سپورٹ شامل کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے اوبنٹو لینکس اور اس کے "بچڑے" صرف اس کو پڑھ ہی سکتے تھے۔ یہ کام این ٹی ایف ایس 3 جی نامی ایک ڈرائیور کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
- اوبنٹو میں سہ جہتی اثر کے لیے کمپز بیرائل طےشدہ طور پر شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا سسٹم اس قابل ہے (یعنی کم از کم 512 میگا بائٹ ریم اور 64 میگا بائٹ سے زیادہ گرافکس کارڈ میموری والا) تو سہ جہتی ڈیسکٹاپ خود بخود دوران تنصیب فعال ہوجائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ صرف اوبنٹو میں کیا گیا ہے۔ کبنٹو میں یہ سارا کام خود سے کرنا ہوگا۔
- کبنٹو میں کنکرر کی چھٹی کرکے ڈولفن کو فائل مینجر بنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ کنکرر بھی یہ کام کرتا رہے گا۔
- کے ڈی ای 4 اس اشاعت میں شامل نہیں۔ اس کا مستحکم ورژن اکتوبر کی بجائے اب نومبر میں متوقع ہے۔
- کبنٹو میں ایجوکیشن اوبنتو کے پیکج شامل کردیئے گئے ہیں۔ ایجو اوبنتو اصل میں اوبنٹو کا ایک بچڑا ہے جو کہ خصوصًا بچوں اور اساتذہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن اس کے سارے اطلاقیے کے ڈی ای ایجوکشن پروجیکٹ سے لیے گئے ہیں جبکہ ڈیسکٹاپ گنوم ہے۔ اب یہ سارے اطلاقیے آپ کبنٹو میں ایک کمانڈ سے نصب کرسکتے ہیں۔
sudo apt-get install edubuntu-desktop-kde
- فائر فاکس اور کنکرر میں پلگ انز کی تنصیب زیادہ آسان کردی گئی ہے۔ خصوصًا فائر فاکس میں اب انھیں ونڈوز کی طرح پلگ ان سرچ سے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
- اوبنٹو میں سکرین ریزولوشن کم زیادہ کرنے کے لیے ایک ٹول شامل کیا گیا ہے
- ملکیتی ڈرائیورز کو منظم کرنے کے لیے ایک ڈرائیور مینجر الگ سے دونوں میں شامل کیا گیا ہے۔
- اوبنٹو میں پرنٹرز کی تنصیب کے بارے میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔ اب یہ خودکارانہ نصب ہوتے ہیں۔
- اوبنٹو میں غیر مفت پروگرام انسٹال کرنے کے لیے ایک پیکج ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا پیکج اب کبنٹو کے لیے بھی kubuntu-restricted-extras کے نام سے دستیاب ہے۔ اس میں جاوا، فلیش پلئیر، کوڈکس وغیرہ شامل ہیں۔
- کبنٹو کا آرٹ ورک اور اس کی دستاویزات کو بھی جدید کیا گیا ہے۔
ہم تو ابھی سے دانت تیز کررہے ہیں کہ سسٹم کو اپگریڈ کریں۔
پیر، 16 اپریل، 2007
Ubuntu Shipit is Back Nowاوبنٹو شپ اٹ کی واپسی
آج جب ہم کمپیوٹنگ کے لیے مضمون لکھ رہے تھے تو روابط چیک کرتے ہوئے ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ اوبنٹو (کبنٹو ) لینکس کی مفت سی ڈیز کی سہولت اب پھر سے دستیاب ہے۔ یہ سہولت پچھلے سال جاری ہونے والے ورژن 6.06 ڈیپر ڈریک کے بعد بند کردی گئی تھی اور صرف اسی ورژن کے لیے دستیاب تھی۔ لیکن اب اس کا دوبارہ دستیاب ہونا بہت خوش آئند ہے۔ اوبنٹو لینکس کی مقبولیت میں شپ اٹ کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اوبنٹو شپ اٹ کے اوبنٹو شپ اٹ
ایجوکیشن اوبنٹو شپ اٹ
ہفتہ، 24 فروری، 2007
کے اوبنٹو کی تنصیب
بہت دنوں بعدہمارا ذہن اس طرف آیا ہے سوچا آج کے اوبنٹو کی تنصیب کے بارے میں لکھ ہی ڈالیں۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کریں کہ اپنے بایوس میں جائیں اور وہاں فرسٹ بوٹ ڈیوائس کو سی ڈی روم کرلیں۔
اس کے بعد کبنٹو کی سی ڈی سی ڈی روم میں ڈالیں اور سسٹم کو روبارہ سے سٹارٹ کرلیں۔ آپ کا سسٹم سی ڈی سے بوٹ ہوگا۔ کبنٹو کی نیلے رنگ کی تصویر اور اس کے نیچے کچھ اس قسم کے اختیارات نظر آرہے ہونگے۔
آپ نے حسب تصویر بوٹ فرام سی ڈی کو ہی منتخب کرنا ہے۔ اس کے بعد قریبًا تین سے چار منٹ میں(آپ کے سسٹم کی سپیڈ پر منحصر ہے) آپ کا لینکس بوٹ ہوکر ڈیسکٹاپ پر چلا جائے گا۔ اس کا منظر کچھ یوں ہوگا۔
اس میں آپ کو صرف دو آئیکن نظر آرہے ہیں۔ انسٹال والے پر کلک کریں اور تنصیب کا عمل شروع ہوجائے گا۔
لیکن اس سے پہلے آپ مختلف اطلاقیے چلا کر اپنی تسلی کرسکتے ہیں کہ آٰیا سب ٹھیک ہے یا نہیں۔ لیکن کسی بھی اطلاقیے کو لوڈ ہونے میں وقت لگے گا چونکہ یہ سارا کچھ براہ راست سی ڈی سے ہورہا ہے۔
تنصیب پر کلک کرنے سے آپ کے سامنے کچھ یہ چیز کھل جائے گی۔ یہاں سے آپ کو اپنی زبان منتخب کرتا ہوتی ہے چونکہ ابھی اردو لینکس کا کوئی حساب کتا ب نہیں اس لیے آپ انگریزی کو ہی منتخب کرلیجیے۔
یہ کام کرنے کے بعد اگلی سکرین آپ کے سامنے کچھ یوں ہوگی۔
یہاں سے اپنا منطقہ وقت منتخب کرلیجیے۔ کراچی امید ہے آپ پہچان لیں گے جس کے ساتھ ہی آپ کا وقت جی ایم ٹی جمع پانچ پر سیٹ ہوجائے گا۔ جاری پر کلک کریں اور آگے کچھ یوں ہوگا۔
اس جگہ آپ نے اپنا کی بورڈ منتخب کرنا ہے جو کہ طےشدہ ہوگا نئے سسٹم کے لیے۔ چونکہ ہم نے اردو کی سپورٹ وغیرہ سسٹم کی مکمل تنصیب کے بعد کرنی ہے اس لیے اس لیے انگریزی ہی منتخب کریں اور آگے پر کلک کردیں
اس تصویر میں آپ سے آپ کا اسم صارف پوچھا جارہا ہے جو آپ نے نئے سسٹم کے لیے طےشدہ اسم صارف ہوگا۔ اپنی پسند کا نام رکھیں اور نچلے خانے میں آپ کے نام کی مناسبت سے آپ کے سسٹم کا نام بھی بن جائے گا جسے آپ بدل بھی سکتے ہیں۔
اگلے پر کلک کریں اور اب صحیح کام شروع ہوا ہے۔
یہاں پر آپ نے ایک عدد ہارڈڈسک پارٹیشن یش کرنی ہے جس کی گردن پر چھری پھیر کر لینکس وہاں اپنا مکان تعمیر کرے گا۔ اگر آپ تصویر پر غور کریں تو اس میںhda5 کا کچھ ذکر ہے جس کو ری سائز کیا جانے کا کہا جارہا ہے۔
بنیادی طور پر یہاں تین انتخابات موجود ہیں اب آپ کی مرضی ہے کہ کونسا منتخب کریں۔ پہلا آسان ہے اس میں آپ کو پہلے بس اتنا کرنا ہے کہ اپنے سسٹم کی ایک ڈرائیو کو اتنا خالی کرلیں کہ وہ قریب قریب 70 فیصد خالی ہو بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ساری ہی خالی کرلیں تاکہ ڈیٹا کھونے کا ڈر نہ رہے ہم یہ کم ڈی کسے ساتھ کیا کرتےہیں جو اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے یعنی ایچ ڈی اے 1۔ اصل میں لینکس میں سی سے مراد ہوتی ہے ایچ ڈی اے 1 اس کے بعد 3 مزید سی بن سکتی ہیں۔ اس کے بعد اگلی ڈرائیو شروع ہوتی ہیں۔ سو ڈی کے لیے 5 ، ای کے لیے 6 اور ایسے ہی آگے۔ اس طرح پرائمری ماسٹر کے لیے ایچ ڈی اے، اس کے بعد ایچ ڈی بی پرائمری سلیو کے لیے اور ایسے ہی آگے سی اور ڈی۔
اب آپ کے لیے ہمارا آسان سا مشورہ یہ ہے کہ اپنی ڈی پر چھری پھیر لیں جو کہ پہلے سے ہی منتخب شدہ ہوگی(چونکہ آپ نے اسے خالی کیا ہوا ہے اس لیے پارٹیشنر خودہی اس کو منتخب کرلے گا ورنہ جو آپ نے خالی کی ہوگی یا جس میں زیادہ سے زیادہ فیصد جگہ خالی ہوگی اسے ری سائز کرنے کا کہا جائے گا)۔
اب اگر آپ نے یہ کرلیا ہے تو آگے بڑھنے کے حقدار ہوگئے ہیں لیکن اگر آپ خود سے سارا کام کرنا چاہتے ہیں یعنی لینکس کو خود تیارکرکے ایک عدد پارٹیشن عنایت کرنا چاہتے ہیں تو اسی تصویر میں تیسرے انتخاب پر چلے جائیں۔ ویسے اگر آپ ونڈوز سے اتنے ہی تنگ ہیں تو اپنی ساری ہارڈڈسک کو فارمیٹ بھی مار سکتے ہیں۔
;)
اب ان اصحاب کے لیے ذرا الگ سے جو پارٹیشن کو خود سے کانٹ چھانٹ کر اس پر لینکس کی تنصیب کرنا چاہتے ہیں۔
اوپر والی تصویر میں نظر آنے والا تیسرا اختیار منتخب کرلیں۔ آپ کو اس تصویر کی طرح ایک نئی ونڈو نظر آئے گی۔ اس میں آپ کی تمام پارٹیشنن نظر آرہی ہونگی۔ آپ نے اپنی پسند کی پارٹیشن جس کو چھری پھیرنا ہے پر کلک کریں اور اس کو ڈیلیٹ کے آئکن پر کلک کرکے اڑا دیں۔ اس کے بعد اگلا کام آپ کو دو پارٹیشن بنانے کا کرنا ہے۔ لینکس میں ویسےتو تین پارٹیشن بھی ایک ہی تنصیب کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں ایک سویپ، ایک روٹ جس میں آپ کا تمام کا تمام لینکس سسٹم نصب شدہ ہوتا ہے اور ایک ہوم پارٹیشن جس میں آپ کا ذاتی ڈیٹا ہوتا ہے ونڈوز والے اسے مائی ڈاکیومنٹس کی طرح سمجھ لیں۔ یہ ہوم والی پارٹیشن اضافی چیز ہے چاہے تو بنائیں نہیں تو روٹ والی میں ہی ایک ہوم فولڈر بن جائے گا۔ سویپ لینکس میں ہارڈڈسک پر میموری کی فائلیں رائٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ خیر آپ نے نئی پارٹیشن تشکیل دینی ہے روٹ کے لیے پانچ جی بی کی سپیس بہت بہترین خیال کی جاتی ہے اس کے سائز کو منتخب کریں اور لیبل میں تصویر کے مطابق ہیش / ڈال دیں۔ لینکس میں اس سے مراد ہوتی ہے روٹ پارٹیشن جس میں سارا سسٹم نصب ہوتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ایک عدد سویپ بھی اسی طرح بنا لینی ہے اس کا ٹائپ آپ نے لینکس سویپ دے دینا ہے۔یاد رہے سویپ کم از کم 800 میگا بائٹ کی ہونی چاہیے اگرچہ ریم سے دوگنا رکھنے کی سفارش کی جاتی یعنی اگر 256 میگا بائٹ کی ریم ہے تو 512 میگا بائٹ کی سویب اور طےشدہ یا بنیادی تنصیب میں جس میں سارا کام خود کارانہ ہوتا ہے سویپ کا سائز آپ کی ریم کے مطابق ہی ہوتا ہے یعنی 256 کی ریم ہے تو سویب بھی 256 کی۔ لیکن یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اس صورت میں سسٹم کی رفتار بہت کم ہوتی ہے چناچہ میرے پاس جو سویپ ہے اس کا سائز 800میگا بائٹ کے قریب ہے۔اور یہ میں نے کئی تنصیبوں کے بعد خود سے پارٹیشن بنانے کا اختیار منتخب کرکے کیا تھا۔
یہ کرنے کے لیے شکل کچھ اس قسم کی نکلے گی۔
آپ سے کی تمام پارٹیشن اس میں نظر آئیں گی۔ اللہ کا نام لے کر ایک پارٹیشن کو چھری پھیریں اور اس سے بچنے والی خالی سپیس کو لینکس میں دونوں ہاتھوں سے لٹا ڈالیں۔
ایک روٹ پارٹیشن تخلیق ہورہی ہے۔
اس میں ایک سویپ پارٹیشن تخلیق کی جارہی ہے جس کا سائز بالا ہدایات کے مطابق رکھا جائے گا۔
اور اب اگر آپ کے پا س کافی ساری سپیس خالی ہے اورلٹانے خواہشمند ہیں تو ایک عدد ہوم پارٹیشن تشکیل دے ڈالیں ورنہ طےشدہ طور پر ایک ہوم فولڈر روٹ میں ہی بن جائے گا۔
اب آپ کی کی گئی تبدیلیاں اس قسم کی ونڈو میں نظر آئیں گی۔
آپ کے اس کے بعد جاری پر کلک کردینا ہے ایک عدد برخیزہ (چھوٹی ونڈو) نمودار ہوکر خبردار کرے گی لیکن اس کی باتوں میں نہ آئیں اور ہاں کردیں۔ آپ کی مرضی کے مطابق سارا کام ہوجائے گا ۔
اس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جب آپ مزید جاری رکھیں گے تو نئی ونڈو نمودار ہوگی اور آخر کار آپ کی متعلقہ پارٹیشن کا تیا پانچہ کر ڈالے گی اور اگر آپ نے کچھ غلط کام کرلیاہے تو یہی وقت ہے کہ سر پکڑ لیں۔۔;)
اس کے بعد اگلا کام ان کا ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کرنا ہے۔ لینکس روٹ، سویپ ہوم اگر بنائی ہے اور دوسری ونڈوز کی فےٹ 32 یا این ٹی ایف ایس پارٹیشن کے لیے ان تصاویر کے مطابق بکسے ظاہر ہونگے آپ نے ان کی ترتیب کے مطابق انھیں ماؤنٹ کرنا ہے۔ پہلی تصویر میں تو لینکس والی پارٹیشن کو فارمیٹ کرنے کا پوچھے گا اور اس کے بعد آپ نے تمام پارٹیشن کو ان کے نمبر کے مطابق ماؤنٹ کردینا ہے۔ بہتر ہوگا کہ نمبر ایک سے شروع کریں۔ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کریں اور اس کے بعد اس کے سامنے اس کے مطابق پارٹیشن کا نام منتخب کرلیں۔ جیسے روٹ کے لیے اس نمبر اس سبق میں وہ hda5 ہے۔
ونڈوز کی پارٹیشن کا ماؤنٹ پوائنٹ (وہ فولڈر جہاں پر ونڈوز پارٹیشن کا سارا حجم ظاہر ہوگا) کے لیے لینکس میں /media کے نام سے ایک فولڈر ہوتا ہے چناچہ ونڈوز کی ایک پارٹیشن جس کا نمبر
hda7ہے کی صورت میں اس کا ماؤنٹ پوائنٹ کچھ یوں ہوگا۔
/media/hda7
امید ہے اب آپ کی سمجھ میں یہ گورکھ دھندا آٰگیا ہوگا لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ پہلی بار سارا کام خود کار ہی ہونے دیجیے گا بعد میں تجربے کرنے میں حرج نہیں۔ اس مثال میں ماؤنٹ پوائنٹ کو پہلے بے ترتیب انداز میں پھر سائز کے اعتبار سے (جو آپ نے پارٹیشن کرتےہوئے رکھا تھا) اور لیبل دے کر اس کا ماؤنٹ پوائنٹ سیٹ کیا جارہا ہے۔
یہاں یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ پارٹیشن کے سائز کے مطابق اور اس کے لیبل کے مطابق آپ نے ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کرنا ہے یاد رہے کہ ایک کو اگر دو جگہ پر دینے کی کوشش کریں گے تو ایرر آئے گا۔ مزید یہ کہ جتنی پارٹیشن ہونگی اتنے ہی ماؤنٹ پوائنٹ ہونگے اور فارمیٹ آپ نے انھی پارٹیشن کو کرنا ہے جو لینکس سے متعلق ہونگی۔ ویسے بھی طےشدہ میں صرف لینکس والی پارٹیشن کو ہی فارمیٹ کیا جائے گا۔
اب ہم بڑھتے ہیں اپنے اگلے مرحلے کی طرف۔
اس تصویر میں آپ کی دی گئی تفاصیل نمائش کرکے تصدیق کی جائے گی۔ آپ کی بورڈ، بنیادی صارف نام، اس کے علاوہ وہ پارٹیشن جو فارمیٹ ہونے جارہی ہیں آپ یہاں تصدیق کرنے کے بعد جاری پر کلک کردیں اور بنیادی نظام کی تنصیب کا عمل شروع ہوجائے گا۔
<یہ آپ کے سسٹم کی رفتار پر منحصر ہے کہ لینکس کتنی جلدی نصب ہوتا ہے میرے پاس یہ پچیس منٹ سے زیادہ نہیں لیتا۔ ہوسکتا ہے آپ کو اس دوران ایرر دے کہ سیکیورٹی تازہ کاریوں(اپڈٰیٹس) تک رسائی نہیں ہوسکی آپ پرواہ نہ کریں چونکہ یہ ایک آنلائن سسٹم کے لیے ہے آپ کا سسٹم اس کے بغیر بھی نصب ہوگا باقی کام ہم اس کو چلانے کے بعد کریں گے
۔
تنصیب کے بعد آپ سے پوچھا جائے گا کہ لائیو سی ڈی مزید استعمال کرنا چاہتے ہیں یا سسٹم کو ری سٹارٹ کرلیا جائے۔ میں ہمیشہ ری سٹارٹ ہی کرلیا کرتا ہوں چانکہ اب سی ڈی کا کام ختم ہوچکا ہے۔ تو اس پر مزید سکریچ ڈالنے کا موقع پیدا کرکے اس کی عمر کیوں کم کی جائے۔
لیجیے جناب یہ تھا ماڑا چنگا لینکس کی تنصیب کا ویب سبق۔ اس کو پورا ہفتہ لگا کر ہم نے لکھا ہے ہر بار کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑاہو جاتا تھا۔ دو بار اس کو لکھتے ہوئے بجلی بند ہوگئی ایک بار مکمل کیا ہوا محفوظ کیا تو ٹھیک طرح محفوظ نہ ہوسکا۔ لیکن ہم نے بھی آخر اس کو مکمل کر ہی ڈالا اس کی تصاویر اور دوسری چھوٹی موٹی مدد ہم نے اس ٹیوٹوریل سے لی ہے۔
بدھ، 7 فروری، 2007
سوِفٹ فاکس(Swiftfox) فائرفاکس کا لینکس روپ
موزیلا فائر فاکس اس وقت مقبول عام آزاد ویب براؤزر ہے۔ ونڈوز لینکس کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے ہی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موزیلا نے لینکس کے لیے فائر فاکس کو ٹھیک طرح پالش نہیں کیا جس کی وجہ سے بعض اوقات لینکس پر چلتے ہوئے فائر فاکس رک رک کر چلتا ہے اور کم رفتار سے چل کر سسٹم کو بھی وخت ڈال دیتا ہے۔
اس صورت حال کو اوبنٹو والوں نے اپنی فائر فاکس اشاعت بنا کر پورا کیا ہے۔ شاید باقی قسموں نے بھی کوئی اسی قسم کا حل نکالا ہو جس میں فائر فاکس کو متعلقہ ماحول کے تحت بہتر طریقے سے وضع کیا گیا ہو۔ لیکنہمارے پیش نظر اس وقت اوبنٹو ہے۔ اوبنٹو کا بنا ہوا فائر فاکس استعمال تو کرلیا جائے لیکن انھوں نے اس کی خودکار تازہ کاری کا انتخاب معطل کررکھا ہے جس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ونڈوز پر تو سیدھے سبھاؤ فائر فاکس خود ہی سارا کام کرکے آپ کو صرف اتنا بتاتا ہے کہ تازہ کاری اتر گئی نصب کرنے کے بارے میں بتائیں ابھی کریں گے یا ذرا ٹھہر کر۔
لیکن ہائے رے اوبنٹو۔ اوبنٹو کی ہر رگ ہی نرالی ہے۔ ہر چیز پر پہرے بٹھا رکھے ہیں انھوں نے۔
لیکن وہ کیا کہتےہیں کہ لوگ بھلا بعض آتے ہیں۔ صاحبو ہم بھی صدا کے ضدی ہیں وہ کام کرتے ہیں جو کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے ہم بجائے کہ طےشدہ ورژن استعمال کرتے سوِفٹ فاکس نصب کرلیا۔فائر فاکس کی ہر نئی اشاعت کی کانٹ چھانٹ اور رنگ روغن کرکے سوفٹ فاکس بنا لیا جاتا ہے جو ہے تو فائر فاکس بس نام بدلا ہوا ہے۔ لینکس قسم کی قید سے آزاد یہ براؤزر فائر فاکس سے بہتر نتائج دیتا ہے خصوصًا جب فائر فاکس کو گنوم کے علاوہ استعمال کرنا ہو یعنی کے ڈی ای میں۔
اس کے ریلیز والے صفحے پر جائیں اپنے سی پی یو کے مطابق تنصیب کار سکرپٹ اتاریں اور ٹرمینل سے چلا لیں۔ سوفٹ فاکس اتر کر نصب ہوجائے گا خودکار تازہ کاریوں کو فعال کرنا ہے تو روٹ کھاتے سے داخل ہوکر اس کی ترجیحات میں جاکر اس انتخاب کو نشان زد کردیں آئندہ یہ خودبخود تازہ ہوتا رہے گا۔
اگر ایسا نہیں کرنا تو آٹومیٹکس اس کا بہترین حل ہے۔یہ آپ کے لینکس ورژن(یعنی اوبنٹو کبنٹو ورژن) اور سی پی یو سپیڈ کے مطابق سوفٹ فاکس اتار کر نصب کردیتی ہے ساتھ ہی اس کے دخیلوں یعنی پلگ ان نصب کرنے کا بھی آپشن ہے لگے ہاتھوں وہ بھی نصب کرلیں اور فائر فاکس کے مزے لوٹیں۔ لیکن دخیلے کچھ دیر لے سکتے ہیں جیسے ہمیں کوئی اڑھائی گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں ابھی تک اترے ہی نہیں یہی کوئی 50 ایم بی ڈیٹا اتر چکا ہے۔
;)
پیر، 5 فروری، 2007
لینکس(اوبنٹو/کبنٹو) میں فونٹ ہِنٹنگ کو فعال کریں۔Enable Hinting in Linux For Better Font Rendering
عزیزان من آج ہم نے بڑی کام کی شےء ڈھونڈی ہے۔ محفل کے گراں قدر رکن اور پاک نستعلیق کے خالق جناب محسن حجازی نے ایک بار محفل پر ہی لینکس میں فونٹ ہنٹنگ کے بارے میں ذکر کیا تھا کہ طےشدہ طور پر فعال نہیں ہوتی کرنا پڑتی ہے چونکہ یہ ملکیتی اور پیٹنٹ شدہ چیز ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں لینکس پر فونٹ اس معیار کے نظر نہیں آتے تھے جس معیار کے ونڈوز پر تھے۔ آخر کار ہمیں آج ایک حل مل ہی گیا سوچا آپ سے شئیر کرتے چلے جائیں۔ اس ربط پر چلے جائیں۔ دی گئی فائل کو ہدایت کے مطابق اتار کر اپنے ہوم فولڈرمیں نام بدل کر رکھ دیں۔ خروج کرکے دوبارہ داخل ہوں اور کمال دیکھیں آپ کو فونٹس کی پیشکش میں واضح فرق نظر آئے گا یہ ہِنٹنگ کی وجہ سے ہے۔ اصل میں ہنڈنگ سے فونٹ تھوڑا سا موٹا نظر آتا ہے (کم از کم لینکس پر) جس سے اس کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔ لینکس استعمال کرتے رہیں اور موج کرتے رہیں۔ وسلام
اتوار، 7 جنوری، 2007
لینکس کونسی قسم نصب کی جائے اور اس کا حصول
لینکس کی کئی اقسام ہیں۔ یہ لوگ اسے ڈسٹریبیوشن یا ڈِسٹرو بولتے ہیں۔ کوئی ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے لینکس میں سے اپنی پسند کا لینکس چننا بہت مشکل ہے۔ ہر لینکس قسم کا اپنا ایک منشور ہے کوئی صارف کو آسانی مہیا کرنا چاہتا ہے، کوئی مفت سافٹویر کا نعرہ لگاتا ہے، کوئی قسم کاروباری پیمانے پر استعمال کے لیے قیمتًا جاری کی جاتی ہے۔ہم نے چونکہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے لینکس نصب کرنا ہے اس لیے میں آپ کو دو قسموں کا مشورہ دوں گا اور وہ ہیں اوبنٹو اور کے اوبنٹو۔
اصل میں یہ ایک ہی کمپنی کے جاری کردہ ہیں۔ اصل پراجیکٹ اوبنٹو ہے لیکن کے ابنٹو یا مختصرًا کبنٹو اس کا بچہ بچونگڑا ہے جس میں کرنل وہی ہے لیکن ڈیسکٹاپ ماحول مختلف ہے۔
ڈیسکٹاپ ماحول کیا ہوتا ہے؟
لینکس اصل میں باہر سے بن کر آنے والے آٹو پارٹس کی طرح ہے جن کو پاکستان میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ ہر لینکس قسم والے نے اسمبلنگ کا کارخانہ لگا رکھا ہے۔ جس میں وہ باہر سے آنے والے پرزے جوڑ کر اپنی قسم تیار کرلیتے ہیں۔
ہر خدمتگار نظام( آپریٹنگ سسٹم) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اس کا مغز یعنی کرنل جو کہ سی پی یو سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے اور کمانڈز کو اس تک پہنچاتا ہے دوسرا وہ تصویری مواجہ (گرافک یوزر انٹرفیس) ہے جو صارف کو نظر آتا ہے اور جس کے ساتھ کھیلنے کی صارف کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ لینکس میں کرنل الگ بنایا جاتا ہے اس کے مختلف ورژن ہیں جبکہ اس کے اوپر کام کرنے کے لیے مختلف ڈیسکٹاپ ماحول ہیں۔ ان میں سے کچھ کمرشل ہیں کچھ مفت لیکن مشہور اقسام دو تین ہی ہیں۔
- نمبر ایک کے ڈی ای
- نمبر دو گنوم
- نمبر تین ایکس ایف سی ای
ہوتا یہ ہے کہ ہر قسم کو تیار کرنے کے لیے پہلے ایک عدد لینکس کرنل لیا جاتا ہے اس کے بعد ڈیسکٹاپ ماحول کا انتخاب ہوتا ہے ان کو ملایا جاتا ہے ڈیسکٹاپ ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق یا سمجھ لیں کمپنی کی پالیسی کے مطابق کچھ تبدیلیاں کرکے نئی خوبیاں ڈالی جاتی ہیں اور قسم جاری کردی جاتی ہے۔ ہر نئی اشاعت پر نیا لینکس کرنل ورژن، نیا ڈیسکٹاپ ماحول ورژن اور دوسرے عمومی استعمال کے اطلاقیے جو اس میں موجود ہیں کے نئے ورژن ڈال کر نیا ورژن اتارنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ آپ یقینًا سوچ رہے ہونگے اتنا آسان کام؟ ادھر ادھر سے چیزیں اکٹھی کرو اور نیا لینکس نکال دو۔ اصل میں یہ سب اتنا بھی آسان نہیں چونکہ تکنیکی معاونت مہیا کرنا، مختلف پراجیکٹس شروع کرنے کے لیے معاونت دینا،نئی خوبیوں کے مطالبات پر غور کرنا، تازہ کاریوں (اپڈیٹس) اور اصل ورژن کے اتارنے کے لیے سرور کمپیوٹر مہیا کرنا ایک لمبا درد سر ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جو خواب میں بھی لینکس کی کمانڈز میں بات کرے۔ :D :D
اصل میں اوبنٹو کو منتخب کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے بابے لینکس موجود ہیں لیکن اوبنٹو کے کچھ فائدے ہیں جو ہم آپ کو آئندہ سطور میں بتاتے ہیں پہلے آپ کو کچھ مشہور اقسام کے نام بتائے دیتے ہیں۔
- سوسی لینکساور اس کی آزاد مصدر قسم اوپن سوسی
- ریڈ ہیٹ ایک بابا لینکس اور اس کی ایک مزید قسم فیڈورا کور
اب بات کرتے ہیں کہ اوبنٹو ہی کیوں؟
پہلی بات تو یہ کہ اوبنٹو کے تین ورژن اس وقت موجود ہیں جو کہ تین مختلف ڈیسکٹاپ ماحول استعمال کرتے ہیں۔ اوبنٹو میں گنوم استعمال ہوتا ہے، کے اوبنٹو میں کے ڈی ای اور ایکس اوبنٹو میں ایکس ایف سی ای۔ زیادہ مشہور اقسام پہلی دو ہی ہیں تیسری قسم کم ہی استعمال ہوتی ہے۔ ان تمام اقسام میں کرنل ایک ہی ہے اور ہر نئی اشاعت پر ہر قسم کا نیا ورژن نکالا جاتا ہے جس میں بنیادی قسم کی چیزیں ہر ایک میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیسے شٹ ڈاؤن کے انتخابات( آپشن) تینوں میں ایک جیسے ہونگے۔جبکہ دوسری اقسام کے لینکس کوئی ایک ہی ماحول استعمال کرتے ہیں جیسے فیڈورا کور میں گنوم استعمال ہوتا ہے یا ان کی مختلف ماحولات کے لیے الگ سے اشاعتیں موجود نہیں۔
اوبنٹو کی بہت خاص خوبی اس کا ہر چھ ماہ کے بعد نیا ورژن آنا ہے جو کوئی بھی اور لینکس ڈسٹرو والے نہیں کرتے۔
اوبنٹو کی بہت ہی منظم برادری موجود ہے اس کی چوپالوں پر ہر درد کی دوا موجود ہے۔
اوبنٹو کی ایک خوبی جس کے لیے میں نے اسے پسند کیا تھا اس کی سی ڈیز کا پاکستان میں مفت مہیا کیا جانا تھا۔اگرچہ اب یہ لوگ اسے بند کررہے ہیں لیکن اس کے طویل مدتی معاونت شدہ ورژن اوبنٹو 6.06 کے لیے اب بھی یہ سہولت موجود ہے۔
اوبنٹو کی تازہ کاریاں بڑی باقاعدگی سے وارد ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کسی بھی قسم کے خطرے سے بچا رہتا ہے نیز سافٹویر کی تازہ کاریوں سے تازہ ترین ورژن نئی نئی خوبیوں کے ساتھ آپ کی دسترس میں ہوتا ہے۔
ہاں آپ کو اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اوبنٹو میں طےشدہ طور پر روٹ یعنی سسٹم کے منتظم ایڈمن صاحب کا کھاتہ بند ہے جس کی وجہ سے سافٹویر کی تنصیب میں مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن صارف اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور ہاں اس کو کھولا بھی جاسکتا ہے ہم ذاتی طور پر اس کی تنصیب کے بعد پہلا کام روٹ کھاتہ کھولنے کا کرتے ہیں اور یہ گر آپ کو بھی بتا دیں گے۔
دوسری مشکل جو درپیش ہوسکتی ہے وہ ہے گانوں اور عمومی نوعیت کی ویڈیو فائلز چلانے میں دشواری چونکہ ان کے کوڈکس ایک ملکیتی مال ہیں اس لیے اوبنٹو کی بنیادی تنصیب کے ساتھ یہ نصب نہیں ہوتے۔ صارف کو یہ بعد میں اتار کر نصب کرنا ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہنمائیاں موجود ہں صرف ان پر عمل کرنے میں یا اتارنے میں وقت لگتا ہے بلکہ ایک بار پیکج اتار کر آپ اسے دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں سی ڈی بنا سکتے ہیں۔
خیر یہ تو تھا اوبنٹو لینکس بمقابلہ دوسرے لینکس اب ہم بات کرتے ہیں اوبنٹو کو حاصل کس طرح کیا جائے۔
اوبنٹو کو اگر سی ڈی پر حاصل کرنا ہے تو آپ اوبنٹو شپ اٹ یا کے اوبنٹو شپ اٹ پر چلے جائیں۔وہاں مندرج ہوکر سی ڈیز کا آرڈر دے دیں اور سی ڈیاں آپ کے گھر پہنچ جائیں گی لیکن یہ کچھ وقت لے گا کوئی چار سے چھ ہفتے۔ لیکن ہوگا سب مفت اگر آپ نے جلدی حاصل کرنا ہے تو اس کی سی ڈی امیج اتار کر خود سے سی ڈی رائٹ کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ پیسے خرچ کرنے کا موڈ ہے تو ان کے عالمی تقسیم کار موجود ہیں جو پیسے لے کر سی ڈی آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ پاکستان میں لینکس کی تمام اقسام کے تقسیم کار یعنی لینکس پاکستان والوں سے بھی اوبنٹو کی سی ڈیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انتہائی سستے داموں صرف 35 روپے میں۔(مختلف قسم کے لیے ریٹس مختلف ہوسکتے ہیں) لیکن ان کا دفتر کراچی میں ہے۔ اگر آپ خود کراچی نہیں رہتے تو اپنے کسی دوست سے جو کراچی میں رہتا ہو رابطہ کرکے سی ڈی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ سی ڈی خود ہی اتار کر اسے رائٹ کیجیے گا۔
اور آخر میں آپ کو بتاتے چلیں کہ تنصیب اور وضع قطع کے سارے مراحل کے اوبنٹو( اگرچہ تازہ ترین ورژن 6.10 ہے لیکن ہم سارا کام 6.06 والے ورژن پر کریں گے جو کہ زیادہ استحکام پذیر ہے اور یہ 2009 تک معاونت شدہ بھی ہے۔) پر طے ہونگے۔چونکہ ہم بنیادی طور پر کبنٹو کے صارف ہیں۔ اگرچہ اوبنٹو بھی اچھی چیز ہے لیکن کے ڈی ای کا سواد جس کو لگ جائے وہ کم ہی گنوم کی طرف دیکھتا ہے۔
ہفتہ، 28 اکتوبر، 2006
میں اور میرا لینکس :)
مجھے بھی الٹی ہی سوجھا کرتی ہیں۔ اول تو لینکس کو ہاتھ تک نہ لگاؤں ( یہ الگ بات ہے کہ پچھلے 8 ماہ سے باقاعدہ نصب شدہ رکھتا ہوں اسے)۔ کبھی لینکس پر آجاؤں تو ونڈوز کو چھوؤں بھی نہ۔ لینکس پر بھی مجھے ہمیشہ ایک ہی کام سوجھتا ہے۔ نئے نئے سافٹویر تلاشنا پھر انھیں اتار کر نصب کرنا، ان کے ساتھ پنگے بازی کرنا اور آخر اپنے سسٹم کو کریش کرکرے دوبارہ لینکس نصب کرنا خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کم از کم دس بار لینکس نصب کرچکا ہوں۔ کبھی اوبنٹو کبھی کبنٹو۔ اور آج کل میں سوچ رہا ہوں اگر زبنٹو کی سی ڈی مل جائے تو اسے بھی ٹرائی کروں۔:D ابھی تک میں لینکس پر ٹرائیاں کررہا ہوں۔ کبھی فری سپائر کا سوچتا ہوں۔ کبھی اوبنٹو اچھا لگنے لگتا ہے اور کبھی کبنٹو سے بہتر کچھ بھی نہیں لگتا۔ لینکس پر آنلائن ہوں اور جب سے کیبل نیٹ لگی ہے تب سے میرا واحد مشغلہ ویب براؤزنگ اور ڈاؤنلوڈنگ ہوتا ہے۔ بیٹھے بیٹھے سو ڈیڑھ سو میگا بائٹ کے سافٹویر اتار لینا میرے لیے معمولی بات ہے۔ کبھی کے ڈی ای کوجدید کیا جارہا ہے یہ الگ بات ہے کہ دو بار اسی وجہ سے مار کھا چکا ہوں۔ کے ڈی ای اپگریڈ کیا دوران تنصیب بجلی چلی گئی اور پھر جب کے ڈی ای چلا تو سکرین کی ریزولوشن غائب۔ اسی اکھاڑ پچھاڑ نے مجھے آٹومیٹکس کی طرف متوجہ کیا۔ آٹومیٹکس ایک خودکار تنصیب کار ہے۔ اصل میں ایک سکرپٹ لیکن کام بہترین کرتی ہے اگرچہ ایک لینکس گرو نے اس جیسی چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کی تھی کہ یہ سسٹم کو کریش کردیتی ہیں لیکن سنتا کون ہے۔ اس وقت بھی میں آٹومیٹکس سے کے آفس کا تازہ ترین ورژن اتار رہا ہوں۔ ایویں اتارنا تھا اوپن آفس کا کلپ آرٹ اس میں مسئلہ آرہا تھا میں نے کہا چلو یہ ہی سہی۔ آٹو میٹکس کئی عمومی استعمال کے لینکس پروگرام صرف ایک کلک پر نصب کردیتی ہے ۔ اگر لینکس استعمال کرتے ہیں تو اسے ضرور ٹرائی کیجیے گا۔ یہاں لینکس سے مراد اوبنٹو اور اس کی ذیلی اقسام ہیں۔ آٹومیٹکس صرف اوبنٹو اور میپس کو سپورٹ کرتی ہے فی الحال۔ اس کی تنصیب بہت سادہ ہے جو آپ کو اس کی ویب سائٹ پر مل جائے گی۔ اب تو اس کا ورژن دو آچکا ہے جس میں بہت آسانی ہوگئی ہے اس سے نصب شدہ سافٹویر اسی کے ذریعے نکالے بھی جاسکتے ہیں۔ سو ٹرائی کیجیے گا۔ کوئی مسئلہ ہو تو میں حاضر ہوں۔:D