حقیقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حقیقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 5 اپریل، 2009

کس کو سنیں کس کو نہ سنیں؟

پچھلے دو دن سے میڈیا پر جو طوفان اٹھا ہوا ہے اور جو اب طوفان بدتمیزی میں بدلتا جارہا ہے، پہلے ہمارا خیال تھا کہ جان دیو کیا لکھنا وہی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرو اس کو بھی پی جاؤ۔ لیکن اجمل صاحب کی اس پوسٹ اور اس کے علاوہ کچھ دوسرے بلاگرز کی متواتر تحاریر نے مجبور کردیا کہ کچھ لکھا جائے۔ لیکن کیا لکھا جائے؟ اتنے سارے پر کیا کہا جاسکتا ہے۔ میں جو ایک عام شہری ہوں۔ جس کے سامنے بے شمار امکانات ہیں کہ یہ ویڈیو جعلی بھی ہوسکتی ہے، بیرونی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں یہ اصلی ہے۔ اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ کل اگر اس بچی کے ساتھ یہ ہوا تو میری بہن کے ساتھ بھی کوئی دین کا ماما یہ کرسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اصل بھی ہے تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ ہمیں یہ سب کچھ دیکھنا پڑے گا۔
پچھلے پانچ سال سے ہماری حکومت کی رِٹ کہا جارہی ہے؟ کبھی سوچا ہے آپ نے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ ہمارے حکمران شمالی علاقوں پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔
ہماری حکومت روشن خیالی اور جمہوریت کی آڑ میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک ایسی آگ بڑھکا رہی ہے جو خانہ جنگی کی طرف ہی لے کر جاسکتی ہے۔ اور لے جا بھی رہی ہے۔
میں آپ کو اپنا حال بتاتا ہوں۔ ایک طرف یہ خود کش حملے ہیں، بم دھماکے ہیں اور دوسری طرف جب مین فحش ناچ گانا اور اپنے شہر فیصل آباد کے تھیٹروں میں ہونے والے ڈرامے اور ان میں ناچنے والی رنڈیوں کے ننگے پوسٹر دیکھتا ہوں تو میرا دل کیا کرے گا۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے؟
جب میں اپنے معاشرے کی اخلاقی تنزلی دیکھوں گا، جھوٹ، ، رشوت اور ناانصافی کو پنپتا دیکھوں گا تو پھر میں کیا سوچوں گا؟
جناب پھر میرے ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ اگر آج سوات میں یہ کچھ ہورہا ہے تو کل فیصل آباد کی باری ہے۔ پھر پاکستان کی باری ہے۔
یہ حقیقت ہے جناب کہ ہم اس وقت دو انتہاؤں کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔ یہ دو انتہائیں اس قدر شدید ہیں کہ شاید یہ قومیتی اور صوبائی اختلافات کو بھی اپنے اندر سمیٹ لیں۔ اور تقسیم ایسی ہوجائے کہ کچھ صوبے یا نسلی گروہ بنیادہ پرست ہوجائیں اور کچھ مادر پدر آزادی کو ترجیح دیں۔
یہ ساری تقسیم پاکستان کو برباد کردے گی جناب اگر آپ نے میں نے یہ نا سوچا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔
اگر طالبان اٹھ رہے ہیں تو اس کی وجوہات ہیں جناب۔
اس کی وجوہات مرد مومن مرد ناحق کی وہ کوڑھ کی کاشت ہے جس نے اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔
اس کی وجوہات وہ یو ٹرن ہے جو 2001 میں لیا گیا جناب جس نے ایسا ردعمل پیدا کیا جو آج شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
اس کی وجوہات میں طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی شامل ہے جناب جو پچھلے پانچ سال میں شمالی علاقوں میں امریکی آشیرواد پر اندھا دھند استعمال کی گئی۔
اس کی وجوہات میں طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں سوات پر پچھلے دو سال میں ہونے والا آپریشن بھی ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں عام آبادی پر توپوں سے گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں ان زمینی حقائق سے مجرمانہ غفلت اور انٹیلی جنس سسٹم کی ناکامی بھی شامل ہے جناب۔
یہ بات نوٹ کرلیجیے جناب کہ اگر آج بھی ڈائیلاگ کی بات نہ کی گئی، طاقت کو ہی آخری حل سمجھا گیا اور حاکموں کا محاسبہ نہ کیا گیا تو اس ملک کا کچھ نہیں بچے گا جناب۔ اس ملک کے روشن خیال جمہوریت پسند حکمران اسلام آباد میں بیٹھے چھنکنے بجاتے رہ جائیں گے جیسے حامد کرزئی کابل میں بیٹھا چھنکنے بجاتا اور بیان جاری کرتا رہتا ہے۔
جناب یہ صورت حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنی نظر آرہی ہے۔ اور اس کا حل اتنا سادہ نہیں جتنا سادہ بیان کیا جاتا ہے۔ کہ طاقت کے استعمال سے ظالمان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ جناب یہ وہ کینسر ہے جو آپ کے جسم کے ان ان حصوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے جس کا آپ کو احساس بھی نہیں۔ اور اس کینسر کے خلاف ہونے والے آپریشن نے اس ملک کو ٹھیک کرنے کی بجائے مفلوج کرڈالا ہے۔
ہمیں اعتدال کی ضرورت ہے جناب اور ٹھنڈی طبیعت سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جناب۔
اس ملک میں رہنے والوں کو اپنے حقوق و فرائض اور اس ملک کا مستقبل پھر سے مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا جناب۔ ورنہ کسی خونی انقلاب کی چاپیں بہت قریب آگئی ہیں جناب۔ شاید خونی انقلاب نہیں خانہ جنگی۔

بدھ، 19 نومبر، 2008

سرجی

آج کل میں پھر سر جی بنا ہوا ہوں۔ روزی روٹی کے لیے بننا پڑتا ہے۔ ایک سٹوڈنٹ بندہ اس کے علاوہ اور کسی طرح کما بھی نہیں سکتا۔ اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے جتنا پیسا اس انڈسٹری یعنی ایجوکیشن انڈسٹری میں ہے اور کسی چیز میں نہیں۔ آپ کی سرمایہ کاری کی سوفیصد واپسی کی ضمانت کے ساتھ بے انتہا منافع کی گارنٹی ہر چیز موجود ہے اس فیلڈ میں۔

تو میں آج کل ٹیوشن پڑھا رہا ہوں۔ محلے کے ہی ایک دو بچے ہیں جو میرے پاس پڑھنے آتے ہیں۔ نالائق اتنے ہیں کہ بس حق ادا کردیتے ہیں اس صفت کا۔ بڑا بھائی دسویں میں ہے نویں کی دو عدد سپلیوں کے ساتھ، انگریزی اور ریاضی میں۔ اور میرے پاس ریاضی ہی پڑھتا ہے۔ ساتھ انگریزی کا بھی کبھی پوچھ لیتا ہے۔ آج کہنے لگا سرجی فیشن اور ڈریم پر پیرا گراف لکھ دیں گے؟

میں نے کہا کرنا کیا ہے کہتا پرچے میں ان میں سے ایک لازمی آجاتا ہے اس لیے یاد کرنے ہیں۔ میں نے کہا پائلٹ سپر ون سے کرلو تو بولا وہاں مشکل لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا مضامین کا کیا کرو گے تو بولا وہ سکول والے سر تین لکھ کر دے دیں گے جن میں سے ایک آجاتا ہے۔

پھر بولا کوئی خط نہیں مل سکتا جو سارے خطوں میں لکھا جاسکے۔ پندرہ خط ہیں، ایک لڑکے کے پاس ایسا خط تھا جو ہر مضمون پر پورا اترتا تھا اور اس نے انگریزی پاس بھی کرلی ہے۔

میں نے اس کی طرف دیکھا، سوچا اور پھر سر جھکا لیا۔۔ اور بولا ابھی تو نہیں لکھا لیکن دیکھتا ہوں شاید کسی سے مل جائے ایسا خط۔

یہ حقیقت ہے کہ بی اے تک ایسے ٹوٹکے چلتے ہیں۔ ایک خواب نامی مضمون میں ایکسیڈنٹ کو گھسیڑ کر دو مضمون بنا لیے جاتے ہیں۔ میں سڑک کے کنارے جارہا تھا کہ میں نے ایک بس کو آتے دیکھا۔ پھر ایکسیڈنٹ ہوا اور پھر آخر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا پتا چلا یہ تو خواب تھا۔ اب اگر خواب والا آجائےتو سارا لکھ دو ورنہ آخری حصہ نکال دو۔ خط ایک ہوتا ہے، لیکن اس کا مضمون ایسا مبہم ہوتا ہے کہ پندرہ بیس عنوانات تلے آجاتا ہے۔ شاگرد خوش ہوجاتے ہیں، استاد کو پیسے مل جاتے ہیں اور پرچے بھی پاس ہوجاتے ہیں۔

اس سے مجھے اپنی بات یاد آگئی اگرچہ ہمارا حال اس لڑکےسے کچھ بہتر ہی تھا لیکن پیرے اور مضمون کا فرق نہ اس وقت پتا تھا نہ بی کام کرنے تک ہی پتا چلا۔ اب آکر پتا چلا ہے کہ پیرے کا مطلب ایک ہی پیرے میں سب لکھنا ہوتا ہے اور مضمون کئی پیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پیرا کیسے لکھنا ہے، مضمون کیسے لکھنا ہے یہ یونیورسٹی میں آکر پتا چلا ہے، سٹڈی سکلز نامی ایک مضمون میں ورنہ ککھ بھی نہیں پتا تھا۔

ہمارا حال کیا ہے اور ہمارے مستقبل کا حال کیا ہے۔ اور ہم ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔

منگل، 25 مارچ، 2008

امید

آٹھ سال پہلے، جب مجھے اتنا ہوش نہیں تھا مجھے یاد ہے دوسرے ہم وطنوں کی طرح میں نے بھی لڈیاں ڈالی تھیں۔ بس اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوازشریف کی ایسی تیسی اس نے یہ کردیا وہ کردیا۔ ایک عرصے تک میں مشرف کا فین رہا اور اسے بابا مشرف سمجھتا رہا۔ پھر فیشن بدلا اور مشرف کو برا کہنے کا دور آیا۔ میں بھی نئے فیشن کے ساتھ بدل گیا اور اب میں مشرف کو برا بھلا کہتا ہوں۔

نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔


لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔


امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔


چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔


امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔