شاعر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شاعر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 جنوری، 2016

خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی

کچھ قارئین کے خیال میں کبھی کبھی میں بہت اچھا لکھ لیتا ہوں۔ لفظ جوڑنا بڑی پرانی بیماری ہے۔ عرصہ ہوا، ایک عشرہ اس بلاگ کو ہو گیا اور اس سے بھی پہلے سے لفظ جوڑ جوڑ کر ٹاٹ بُننے کی عادت ہے۔ کبھی کبھی لفظوں کی کُترن سے بنی یہ گدڑیاں اتنی اچھی بن جاتی ہیں کہ دیکھنے والے پسندیدگی کی رعایت دے جاتے ہیں۔ لفظ لکھاری کے غلام ہوتے ہیں۔ جیسے لوہا لوہار کا غلام ہوتا ہے، اس کے ہاتھوں میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ جیسے بڑھئی لکڑی میں سے اور مصور رنگوں میں سے شاہکار نکال لاتا ہے۔ لیکن میرے جیسے لفظوں کے لکھاری نہیں لفظوں کے بھکاری ہوا کرتے ہیں۔ کہ جب دل کرے لفظ مہربان ہو جاتے ہیں اور جب دل کرے رُوٹھ جاتے ہیں۔ لفظوں کی یہ لُکن میٹی تاعمر چلتی ہے، دھوپ چھاؤں کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسی لیے کبھی کبھی تو پوبارہ ہو جاتے ہیں لیکن اکثر تین کانے ہی نکلتے ہیں۔

سنا ہے اقبال پر اشعار اُترا کرتے تھے۔ جب میرے جیسے بھکاری یہ سنتے ہیں تو خود کو اقبال نہیں تو اس کے آس پڑوس کی کوئی چیز سمجھ کر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن لفظ رُوٹھے ہوں تو خالی کاغذ منہ چِڑاتا رہتا ہے۔ چار حرف جُڑ بھی جائیں تو معنی سے خالی، بے روح ڈھانچے وجود میں آتے ہیں۔ ذہن و دل میں جو کچھ کہنے کی تمنا ہوتی ہے اس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ جب لکھنا بھی ہو اور لفظ نہ ملیں تو اندر مانو آرے چلتے ہیں، بن پانی کے مچھلی کے کلیجے پر بھی شاید ایسے ہی آرے چلتے ہوں گے۔ جہاں کچھ بھی نہ ہو، کوئی ہریاول نہ ہو، بنجر بیابان ویرانہ ہو، وہاں سے بھلا چشمہ کیسے پھُوٹے؟ جب زبردستی چشمہ نکالنے کی کوشش کرو تو پھر یہی کچھ ہو گا۔ خلا میں سانس لینے سے بھلا آکسیجن تو نہیں مل جائے گی نا۔

بے بسی، بے کسی، کم مائیگی، کونسا احساس ہے جو اس تڑپن میں شامل نہیں ہوتا۔ اور جب لکھنا کسی ایسی ہستی کے بارے میں ہو، کہ جس کے بارے میں لکھنے میں لوگ فخر محسوس کریں، اور شاکر جیسے کمی کمین بھی ان ﷺکے مدح خوانوں میں نام لکھوانا چاہیں، لیکن لفظ نہ ملیں۔ دل کا مُدعا زبان پر آنے سے پہلے ہی آنسوؤں کے راستے بہ نکلے۔ تو ایسی بے بسی اور بے کسی کو کیا نام دیا جائے۔ حسان بن ثابتؓ سے لے کر آج تک ان کے جتنے مدح خواں ہوئے، کتنے خوش نصیب لگتے ہیں۔ اور پھر اپنے جلے نصیبوں پر نگاہ جاتی ہے تو اور رونا آتا ہے۔ آنسو اور اُبل پڑتے ہیں۔ محمد الرسول اللہ ﷺ کی شان میں لکھنے والے کتنے خوش نصیب ہیں۔ شاعر ان کی شان میں شعر کہتے ہیں، کتنے خوبصورت شعر کہتے ہیں۔ شاکر جیسے کمی کمین شعر نہیں کہہ سکتے تو نثر کے چار لفظ بھی نہیں لکھ پاتے کہ ان کی اتنی اوقات نہیں ہے۔ رحمتِ ایزدی کی آس میں نظریں ہر بار خالی لوٹ آتی ہیں، کاسہ لفظوں سے خالی ہی رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ آنسو بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ صرف سسکیاں باقی رہ جاتی ہیں۔ اور حسن نثار پر رشک آتا ہے۔

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس تُو لیتا اور میں جی اُٹھتا
کاش مکہ کی میں فضا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا

جمعرات، 2 اپریل، 2009

عرض کیا ہے

میرا پاکستان کے محمد افضل صاحب نے پچھلے دنوں ایک تحریر لکھی تھی۔ اس تحریر کے بعد اور پھر اصلی تے وڈے بلاگ پرجاکر تحریر پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ:
  • عروض بے کار چیز ہے
  • غالب اور اقبال وغیرہم کا کلام آدھے سے زیادہ عروض سے باہر ہے۔
  • اس سلسلے میں مشکلات غالب کے نام سے کسی عظیم آدمی نے ایک کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔
  • موجودہ دور کے عظیم ترین بلاگرز، اردو کے مامے اور ادیب عالمی اخبار پر بیٹھے ہیں۔
  • یہ دنیا کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ ہے جسے دن میں پانچ بار اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ سبحان اللہ اور یہ رفتار دنیا کے بڑے سے بڑے اخبار کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔
  • مذکورہ بلاگ کے علاوہ انٹرنیٹ پر اردو میں جو کہا جاتا ہے وہ بکواس ہے۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ اردو کے ماموں کو انٹرنیٹ کا انچارج بنا دینا چاہیے تاکہ اردو کی ترقی عین ممکن ہوسکے۔ چونکہ ہر چوہڑے چمار نے جس کے پاس تھوڑے سے پیسے ہوں بلاگ بنا کر بیٹھ جانا ہے جو اردو کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
  • عالمی اخبار پر حق گوئی، بے باکی اور سچائی کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ اور عوام الناس کو نصیحت ہے کہ وہاں جاکر فیضیاب ہوں اور اپنی عزت کا جنازہ نکلوائیں۔
اوپر مذکور ارشادات کی روشنی میں ہم نے آج ایک "گزل" کہنے کی کوشش کی۔ چونکہ اردو کے مامے ہمیں اس بات کی اجازت دے چکے ہیں کہ عروض بے کار چیز ہے۔ اور نثری شاعری باقاعدہ ایک فن کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ چناچہ ہم نے اپنے تخیل کو وسیع کیا۔ قریب موجود گندے نالے کے کنارے گھنٹوں ٹہل کر اور اس کے کالے پانی میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے ہم نے ایک عدد گزل کہنے کی کوشش کی ہے۔ شاعری خداداد چیز ہوتی ہے جناب اور یہ سیدھی آسمان سے اترتی ہے۔ چناچہ ہم پر بھی آج بہت سے راز افشا ہوئے۔ دوسری کی ریاضی کی کتاب کو پکڑ کر ہم نے جو تخیل کی اڑان بھری تو اس کا نتیجہ اس گزل کی صورت میں نکلا۔ ملاحظہ کیجیے
ایک دونی دونی
دو دونی چار
تین دونی چھ
چار دونی اٹھ
پنج دونی دس
چھ دونی بارہ
ست دونی چودہ
اٹھ دونی سولہ
نو دونی اٹھارہ
دس دونی وی
سبحان اللہ، واہ جی واہ کیا کہنے۔ اپنے آپ کو شاباش دینے کو بڑا ہی دل کرتا ہے یعنی ہم شاعر ہوگئے ہیں۔ ہماری درج بالا گزل مزید لمبی ہوسکتی تھی لیکن ہم نے سوچا نئی نئی شاعری سیکھ رہے ہیں ذرا ہتھ ہولا رکھیں۔ مزید کے لیے ہمارا بلاگ پڑھتے رہیں۔
نوٹ: یہ تبصرے کی صورت میں اردو کے اصلی دے وڈے عالمی اخبار پر پیش کیا گیا تھا لیکن چونکہ ہم ابھی طفل مکتب ہیں اور ہماری تعریف میں کچھ کمیاں رہ گئی تھیں اس لیے اردو کے مامے حضرات نے اسے حذف کردیا۔

پیر، 12 جنوری، 2009

ہائے گرامر

میرے احباب کا گلہ ہے کہ میں کچھ لکھتا کیوں نہیں۔  میں کیا لکھوں۔۔۔

پچھلے پندرہ دن سے میرا انٹرنیٹ بند تھا۔ بجلی بند تھی۔ موبائل فون ایک ہفتہ بند رہا۔۔ آہ آپ کو کیا بتاؤں لگتا تھا کسی ظالم نے بندش کروا دی ہے۔ خیر اس بندشوں کے موسم میں ہم کیسے جیے۔ تو سنیے


لمبی داستان ہے لیکن مختصر کیے دیتے ہیں۔ قصہ شروع ہوتا ہے گرامر سے۔ گرامر۔۔۔ ہمارے ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کے پہلے سمسٹر میں ایک یہ کورس بھی ہے۔ گرامر اور وہ بھی انگریزی کی۔ وہ زبان جو میرے لیے آج بھی اجنبی ہے۔ تو صاحبو ان تمام دنوں میں ہم یہ مصرع گنگناتے رہے۔


ہم ہیں اور گرامر کے غم ہیں دوستو


مرحوم شاعر یا غیر مرحوم شاعر سے معذرت کے ساتھ۔ ہم نے مصرعے میں گرامر ٹانک کر اسے حسب حال کرلیا۔ پندرہ دن کہنے کو تو چھٹیوں کے تھے۔ لیکن ہمیں چھٹیوں کا کام دے کر بھیجا گیا تھا۔ کام اتنا سا تھا کہ 234 عدد مشقیں کرنا تھیں۔ جی گرامر کی ہی۔ بڑی مشہور اور پرانی انگریزی کی گرامر ہے ہائی سکول انگلش گرامر اس کی اڑھائی سو مشقیں۔ آہ۔۔۔ نام تو اس کمبخت کا ہائی سکول ہے لیکن اس نے یونیورسٹی کے طلباء کو سکول یاد کروا دیا۔


ہم و ہمارے ہم جماعت اب بھی اس صدمے کے زیر اثر ہیں۔ رات کو خوابوں میں ایک عرصے سے گرامر آتی ہے۔ گرامر نہ آئے تو انگریزی کے فقرے دھمال ڈالتے ہیں۔ آ ہمارا تجزیہ کر۔ تجزیہ؟ نہیں سمجھے۔۔ میں سمجھاتا ہوں۔ تجزیہ یعنی اینالسس بطور لسانیات کے طالب علم ہونے کے ہمیں آنا چاہیے۔ چونکہ زبان فرنگ زبان تعلیم بھی ہے اس لیے اسی کی گرامر سکھائی جاتی ہے۔ اور اسی کے فقروں کا تجزیہ بھی سکھایا جاتا ہے مقصد اتنا ہے کہ ہم آگے اسے اچھی طرح پڑھانے کے قابل ہوجائیں۔ ان اڑھائی سو مشقوں کا مقصد بھی ہماری مومیائی نکالنا اور ہمیں انگریزی گرامر کی مبادیات سے آگاہ کرنا تھا تاکہ ہم تجزیہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ تجزیہ جو ہمارے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ فقرہ لکھا ہے۔


چاچے پھجے نے مامے تاج دین کو کیوں مارا۔


ماسی کرشیداں کے وڈے منڈے کے چھوٹے صاحب زادے کو بخار کس وجہ سے چڑھا۔


یہ لوکل ورژن ہے جی انگریزی کے فقرے بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ایک فقرہ کسی مرے ہوئے شاعر کے دیوان سے دوسرا کسی ڈرامے سے اور تیسرا خود سے بنایا ہوا۔ ہر فقرہ جلیبی کی طرح سیدھا۔ پہلے کلاز clause نکالو پھر اس کے اندر فاعل، فعل ، مفعول بتاؤ۔ پھرمزید آگے جاکر ان کے اندر موجود الفاظ کا زمرہ بتاؤ۔ صفت ہے، نام ہے، فعل ہے ۔۔۔۔آہ یہ گرامر ہے کہ جیل ہے۔۔ بس صاحبو کیا بتائیں ہمارے تو گوڈوں میں گرامر ایسی بیٹھی کہ ساری چھٹیاں اسی میں گزر گئیں۔ اور ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ تین مارچ کو پرچے ہیں اور تب تک ہم نے گرامر کی مزید تین اسائنمنٹ کرنی ہیں۔ کچھ اسی طرح  کی جیسی ان چھٹیوں میں کی۔ مجھے تو شک ہے کہ اس سمسٹر کے بعد ہم انسان بھی رہیں گے یا چیر پھاڑ سپیشلسٹ بن جائیں گے۔ اس گرامر کے صدقے اچھے بھلے شعر کی معنی آفرینی اور ندرت خیال کی بجائے ہمیں اس میں فاعل فعل مفعول نظر آتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر کو بندہ نہیں پھیپھڑوں، جگر اور دل گردے کا مجموعہ انسان کی شکل میں نظر آتا ہے۔


اتنی بک بک بہت ہے امید ہے میرے احباب کا گلہ دور ہوگیا ہوگا۔ اگر بور ہوگئے ہیں تو معذرت نہیں کروں گا۔


اتنا ہی کہوں گا کہ ہور چوپو۔۔۔ تہانوں کیا کنھیں سی کے ایس پوسٹ نوں پڑھو۔

اتوار، 25 فروری، 2007

نکالنا حلق سے “ق” کا اور حالت فدوی کی


ہم سوچا کرتے تھے کہ لوگ بچپن کو یاد کرکے ایویں اداس ہوتے ہیں بھلا بچپن میں کیا رکھا ہے۔ لیکن برا ہو اس بڑے ہونے کا جس نے ہمیں بھی اسی چکر میں ڈال دیا۔ اب دیکھیے نا جیسے جیسے بندہ بڑا ہوتا جاتا ہے اس کے اندر احساس ذمہ داری بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہر شے کو مکمل ترین دیکھنے کا خبط سر پر سوا ہوجاتا ہے۔
اسی خبط کے صلے میں ہر بار ہمیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ لیکن ق کے معاملے میں ہمیں منہ کے ساتھ ساتھ حلق کی بھی کھانی پڑی۔ ارے ٹھہریے یہ بابے مشرف والی ق نہیں جس کے ساتھ لیگ لگ جائے تو وہ وزیر اعظم کی اماں بن جاتی ہے بلکہ یہ اردو کی ق ہے جس کو قینچی والی ق کہتے ہیں۔
اردو میں دو "کافز" ہیں۔ ایک کاف کتے والی اور دوسری قینچی والی۔ ویسے ناظرین ہمیں کتے والی ک کے ساتھ ہمیشہ ہمدردی ہی محسوس ہوئی ہے ایک تو بے چاری کے اوپر اتنا بڑا سا ڈنڈا دوسرے اس کو کتے کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے کتنا غیر شاعرانہ جوڑ ہے۔ کتا آخر قتا بھی تو ہوسکتا تھا آخر اردو کے بابوں کا کیا جاتا۔ لیکن کیا کہیں ان سیانوں کو جن کے سیانے پن کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔
ق اصل میں‌ قاف نہیں "کوہ قاف" ہے۔ اس کوہ کو سر کرنا عام بندے و ہرکس و ناقص کے بس کا روگ نہیں۔ اس ق کے اتنے قصے مشہور ہیں کہ بڑے بڑے اس سے پنگا لیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔سنا کرتے ہیں ایک صاحب لکھنوء (اجی وہی لکھنوء جس کو اردو والے بڑی حسرت سے یاد کرتے اور آہیں بھرتے ہیں) میں گزر رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دھان پان سا بندہ مرگی کے دورے کی سی حالت پر سڑک پر لوٹیں لگا رہا ہے۔ ان صاحب نے ارد گرد سے حال دریافت کیا حضور کیا معاملہ و ماجرا ہے بے چارے کی مدد کیوں نہیں کرتا کوئی تو جواب آیا حلق سے قاف نکال رہے ہیں۔
صاحبو موصوف جن پر یہ قصہ "فلمایا" گیا ہے ضرور سر نیچا کیے نکل لیے ہونگے لیکن ہماری بدقسمتی کے ہمارے سر میں یہ قاف جنرل صاحب کی طرح پھسکڑا مار کر بیٹھ گیا۔ اور مزید بدقسمتی ہم نے اس کو حلق سے ہی نکالنے کی ٹھان لی۔
بس پھر نہ پوچھیں فدوی پر کیا گزری۔ اس لیے ہم نے تمہید میں عرض کیا تھا کہ بچپن کے دن کتنے اچھے تھے۔ قمیض کو کمیض اور قینچی کو کینچی کہہ لیا کرتے تھے لیکن اب۔۔۔
اب یہ حال ہونے لگا ہے کہ کتا بھی کتا نہیں‌ قُتا لگتا ہے عجب "قُتا" سا لفظ بن جاتا ہے۔ :oops:
صاحبو جب ہم نے ٹھان لی کہ اب بس بہت ہوگئی اردو کو اہل زبان کی طرح سیکھنا ہے اور ق کو حلق کی گہرائیوں سے برآمد کرنا ہے تو ہم نے سب سے پہلے اپنے گلے کی صفائی کروانا شروع کردی۔ روزانہ اٹھ کر آدھا جگ نمکین پانی کے غرارے وقتًا فوقتًا ہوسٹ اور گلا صاف کرنے والی گولیاں، فریش اپ ببل قسم کی چیزیں جیب میں رکھنا شروع کردیں۔
پورا ہفتہ یہ پریکٹس کرنے کے بعد اگلا ایک ہفتہ ہمیں قاف نکالنے کی حسرت ہی رہی چونکہ یہ الم غلم کھا کر ہمارا گلا خراب ہوگیا تھا اور اس کی گہرائیوں سے قاف کا نکلنا ممکن نہ تھا۔ ہم نے دو ایک بار نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن شاید کافی موٹا تازہ قاف تھا ہر بار کھانسی میں ٹوٹ ٹوٹ کر ہی نکلا۔
خیر صاحبو صحت یاب ہوکر ہم نے قاف نکالنے کے نئی تراکیب سوچنا شروع کردیں۔
کسی نے ہمیں بتایا کہ پی ٹی وی کے خبرنامے میں‌ اردو بڑی اچھی بولی جاتی ہے۔ چناچہ ہم نے آدھ گھنٹہ اس عذاب میں گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔ نیوز کاسٹر کے ہر قاف کو ہم "حلق کی گہرائیوں" سے محسوس کرتے لیکن نکالنے کی حسرت ہی رہ جاتی اکثر اوقات قاف نکلتے نکلتے اس وجہ سے رہ گئی کہ اسے ہنسی کو راستہ دینا پڑا۔ آخر اس طرف سے بھی ناکامی کے بعد ہم پھر منہ لٹکا کر بیٹھ گئے قاف نکالنے کی بجائے ہمیں اپنا "قافیہ" تنگ ہوتا محسوس ہورہا تھا۔
آخر کار ہم نے دوسروں کے مشوروں کی بجائے اپنے عقل سلیم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نتیجہ اگلے ہی روز برآمد ہوگیا۔
اصل میں ہم اپنی دھن میں کہیں جارہے تھے کچھ بطخوں کی قیں قیں سن کر چونک گئے۔ پہلے چونکے پھر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ق ہم سے کتنا قریب تھا اور ہم اس کو نکالنے کے لیے کہاں کہاں "بین" تلاشتے رہے۔
بطخ کی "ق دانی" دیکھ کر ہم اس مقولے پر ایمان لے آئے کہ خدا نے کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی۔ ہم نے ق کا علم حاصل کرنے کے لیے بطخوں کی شاگردی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا
سائیکل وہیں چھوڑ کر بطخوں کے اس خاندان کے قریب جاکر بیٹھ گئے۔ پورے ایک گھنٹے ہم نے ان کے ساتھ بیٹھ کر قیں قیں کی گردان کی۔ اس قیں قیں کے بعد ہمارا یہ حال ہو گیا کہ ہیں کی بجائے قیں اور ہاں کی بجائے منہ سے قاں نکلنے لگا۔ لیکن حسرت ہی رہی کہ حلق سے قاف ٹھیک نکلے ۔ ملمع کے طرح جب دو گھنٹے بعد ہمارے ذہن سے بطخیں‌ محو ہونے لگیں تو ساتھ ہی ق بھی دوبارہ سے سو گئی۔
اب آپ سے کیا چھپانا اس طرح کی کئی مشقیں ہم نے آتے جاتے اٹھتے بیٹھے کیں، کبھی مرغ کی ککڑوں کوں کے ساتھ مل کر ققڑوں قوں کی ,کبھی صراحی کی قل قل کے ساتھ قل قل کی لیکن بات نہ بنی۔
آخر کوئی تین ماہ کی مشقت کے بعد ہم نے جب صبح قرآن کی تلاوت سنی اور اس میں قاری کے منہ سے کھنکھناتا ہوا قاف نکلتا سنا تو بے اختیار سر پیٹ لیا۔ بے شک اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے یہ سن کر ہمیں اپنے قاری اللہ انھیں درازی عمر اور صحت دے یاد آگئے جو کھوتوں گھوڑوں والے بید کے سوٹے سے ہمارے حلق سے قاف نکلوا لیا کرتے تھے۔ سو صاحبو اللہ کی رحت وہ دن اور آج کا دن جب بھی حلق سے قاف نکالنا ہو ہمیں قاری صاحب کا سوٹا اور اندازِ برآمدگیِ قاف یاد آجاتا ہے اور حلق سے ایک پھریری کے ساتھ کھنکھنا تا ہوا ق برآمد ہوجاتا ہے۔


ویسے آپ کے قاف کی کیا صورت حال ہے؟

ہفتہ، 28 اکتوبر، 2006

عید ایسے بھی گزری

کہانی کوئی نئی نہیں۔ وہی پرانی جو پچھلے چند عشروں سے ہمارا طرہ امتیاز بن گیا ہے۔
عید والے دن میرے دوست کا فون آیا یار آکر مل جا۔ میں رات کو اس کی طرف گیا تو یونہی باتوں باتوں میں کہنے لگا باہر دیکھا ہماری مسجد بن گئی ہے۔ ان کے محلے میں ایک مسجد زیر تعمیر تھی اب مکمل ہوگئی ہے۔ لیکن مکمل ہوکر اس نے کیا گل کھلائے یہی ہمارا موضوع ہے۔ سمجھ تو آپ گئے ہونگے کہ کیا ہوا ہوگا۔
چلیں میں بھی بتائے دیتا ہوں۔ کچھ بھی نہیں ہوا جس بندے نے مسجد کے لیے زیادہ چندہ دیا وہ خود مکان بدل کر پرے چلا گیا۔ اور اس کے بعد محلے کے "چوہدریوں" میں لڑائی شروع ہوگئی۔ لڑائی کس بات کی۔ مسجد کس فرقے کی ہو۔ بات کچھ بھی نہیں تھی۔ محلہ سارا بریلویوں کا ہے۔ انھوں نے مسجد بنی تو امام لاکر کھڑا کردیا۔ اب امام صاحب نے ہر اذان کے بعد سلام اور نماز جمعہ کے بعد جناب اعلٰی حضرت کا لکھا ہوا سلام جو شاعری کی شکل میں ہے پیش کرنا شروع کردیا۔
محلے کے ایک "سان" (سان کہتے ہیں جو سورما ہو) کو یہ بات بری لگی موصوف دیوبندی ہیں ان کے خیال میں یہ بدعت ہے چناچہ انھوں نے دو تین بندوں کو ساتھ ملایا، کہیں کچھ رابطے کیے اور مسجد میں اگلے دن موٹرسائیکلوں پر کلاشنکوف بردار فرشتے آگئے۔
سلام نہیں پڑھا جائے گا۔ کیوں نہیں۔ یہ وہ تو تکار اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی۔ امام صاحب کو انھوں نے پرے کیا اور اپنا بدعت سے پاک نیک امام وہاں کھڑا کردیا۔ اگلا جمعہ آیا تو امام صاحب نے 4 کلاشنکوفوں کے سائے میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ اسی دوران اتنی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ ایک راہ چلتے سنتری نے پولیس بلا لی۔ مسجد کے باہر پولیس کا پہرہ لگ گیا اور بے گناہ نمازیوں کو بھی اندر محبوس رہنا پڑا۔ ناظم، محلے کے معززرین سب اس معاملے میں بے بس ہوگئے تو ایس پی نے دونوں پارٹیوں کے 4 4 بندے آفس بلالیے ۔
وہاں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اب حال یہ ہے کہ اس مسجد میں محلے کے صرف 5، 7 بندے نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ ہاں البتہ کئی "فرشتے" موٹرسائیکلوں پر نماز پڑھنے ضرور آجاتے ہیں۔ خلق خدا کا کہناہے کہ سپاہ صحابہ کے فرشتے ہیں۔ حقیقت حال تو اللہ جانے ۔ اس سارے قضیے کا نتیجہ یہ ہے کہ محلے والے جو پہلے باہم شیر و شکر تھے اب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں کہ یہ مخالف پارٹی کا بندہ تو نہیں، عید کے دن کا حال بھی سن لیں میرا دوست بتاتا ہے عید کے دن کم از کم ڈیڑھ ہزار آبادی والے اس محلے سے اس مسجد میں صرف بیس لوگ تھے۔ گنتی کے بیس لوگ دو صفیں جن میں وہ "فرشتے" بھی شامل تھے جو خصوصًا اس کام کے لیے آسمان سے بذریعہ موٹر سائیکل نازل ہوتے ہیں۔
یہیں بس نہیں ہوتی یہ ہمارے ایک عزیز کا قصہ ہے۔ شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں ان کی کچھ زرعی اراضی ہے جس کے قریب ہی اب ٹاؤن وغیرہ بننے لگے ہیں لیکن اب بھی کہیں کہیں وہاں کاشت ہوتی ہے۔ انھوں نے اس رقبے پر ایک کونے میں مسجد بنا دی اور اوپر مدرسہ کہ خلق خدا نماز پڑھے اور دعائیں دے۔ مسجد کے مولانا نے پہلے تسلی سے جانچا پرکھا اور اب مسجد کی توسیع کے بہانے بغل میں لیڑینیں بنا کر باقی کے پلاٹ جو قریبًا ایک ایکڑ کا ہے کو راستہ بلاک کردیا ہے۔ مخالف پارٹی نے مولانا کو ہلا شیری دی بھئی شیر ہوجاؤ‌ ہم تہمارے ساتھ ہیں اور مولانا نے اب مالکان پر ایک عدد مقدمہ بھی کردیا ہے کہ مسجد میں آکر دہشت پھیلاتے ہیں ان بیچاروں کا قصور صرف اتنا تھا مولانا سے اس سلسلے میں بات چیت کرنے گئے تھے گرما گرمی ہوگئی اور مولانا تھانے پہنچ گئے۔ اس عید کا حال سنیے۔ عید پر اسی سلسلے میں ایک جھگٹرا بھی ہوچکا ہے اور اس میں ایک بندہ فائر لگنے سے زخمی بھی ہوگیا ہے۔
اب اگر میں دین کو ہائی جیکڈ اور ان مولویوں کو ہائی جیکر سمجھوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں مسجد جاکر نماز پڑھنے سے گھبراؤں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں ان کے اس نام نہاد دین جس کو یہ اسلام کا نام دیتے ہیں کو نہ مانوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟

اتوار، 22 اکتوبر، 2006

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(پہلا سبق)

محترم عادل جاوید چوہدری نے میرے بلاگ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ایک ورڈپریس بلاگ بنانے کے سلسلے میں مدد کی درخواست کی تو میرے اس خیال کو مہیمز ملی کہ جو کچھ ورڈپریس کی تنصیب کے دوران سیکھا ہے اسے آگے پہنچاؤں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تحریر ہے۔
انٹرنیٹ پر بلاگنگ اب اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ بلاگنگ کیا ہے سب جانتے ہیں۔ اردو بلاگرز البتہ بلاگز کو شاعری وغیرہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی پچاس سے زیادہ اردو بلاگ موجود ہیں۔ جن میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بلاگنگ کی مشہور خدمات بلاگر، بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم جیسی ویب سائٹس فراہم کرتی ہیں۔ کچھ چھوٹی موٹی اور بھی کمپنیاں ہیں۔ بلکہ ان میں بھی بلاگر ممتاز ہے۔ میں نے بھی اپنا بلاگ بلاگر پر ہی بنایا تھا۔ چند ماہ پہلے بلاگر پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی اور ساتھ ہی اردو بلاگرز یتیم ہوگئے۔ بہت سے ٹوٹکے آزمائے گئے کبھی پی کے بلاگ سائٹ بنائی گئی۔ کبھی پراکسی سائٹس ٹرائی کی گئییں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مزہ جاتا رہا ۔ خود میں بلاگنگ سے ایسا بے زار ہوا کہ مہینوں کے بعد جا کر ایک آدھ پوسٹ ہوتی وہ بھی صرف اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے۔ آہستہ آہستہ اردو بلاگروں نے بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم کی طرف ہجرت شروع کردی۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ان عمومی مستعمل خدمات پر بھی کسی دن پابندی لگ جائے گی اور حال وہی۔ تو کیوں نہ کوئی مستقل حال نکالا جائے۔ مستقل حل یہ ہے کہ اپنی جگہ خرید کر یا کسی فری ہوسٹ پر ورڈپریس نصب کرکے اردو بلاگنگ شروع کردی جائے
اسی خیال کا نتیجہ کہ میں اب اس پر بلاگنگ کررہا ہوں۔ اگرچہ میں پس دید میں اس کا انگریزی ورژن استعمال کررہا ہوں لیکن ہم اردو محفل پر اس کے اردو ورژن پر بھی کام کررہے ہیں۔ ترجمہ مکمل ہے بس اس کی سٹائل شیٹ اور تدوینی قطعات میں ویب پیڈ شامل کرنے کی کسر رہ گئی ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد ہی پوری ہوجائے گی۔ تب تک ہم انگریزی ورژن پر ہی طبع آزمائی کرتے ہیں اور آپ کو اسی سے سارا طریقہ کار سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک عدد ویب سائٹ بنانے کے لیے سب سے پہلی چیز ایک عدد ہوسٹ ہے یعنی انٹرنیٹ پر کچھ جگہ کی فراہمی جہاں ویب سائٹ رکھی جاسکے ایک بلاگ کے لیے 50 میگا بائٹ کی جگہ بہت ہوگی۔ آپ کسی بھی ہوسٹ سے یہ جگہ خرید سکتے ہیں۔ ورڈپریس کی پیشہ ورانہ ویب سائٹ اپنے کچھ شرکائے کار کا بھی ذکر کرتی ہے جیسے ڈریم ہوسٹ، یاہو ویب ہوسٹ وغیرہ تاہم آپ اپنی پسند کے ہوسٹ پر جگہ اور اپنا ڈومین نیم خریدیں۔ نہیں‌استطاعت رکھتے تو فری ہوسٹ ہمارے لیے ہی ہیں۔ خود ہمارا بلاگ ایک فری ہوسٹ پر چل رہا ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے لحاظ سے بہترین فری ہوسٹ بتا رہا ہوں۔ایک تو
www.ueuo.com اور دوسرے www.ifastnet.com۔ بہت تحقیق و جستجو کے بعد انھیں ہی بہترین پایا ہے۔ بلکہ اول الذکر تو سب سے اعلٰی سمجھ لیں۔ اس پر اشتہار بازی نہیں( کم از کم اب تک اس کا چکر کیاہے وہ آگے کھاتا بنانے کے دوران بتاتے ہیں) یہ کرل اضافت کی سپورٹ کرتا ہے فقط اتنا سمجھ لیں کہ آپ اس طرح اپنے بلاگر بلاگ سے تحاریر درآمد کرسکیں گے صرف ایک سنگل کلک سے۔ آئی فاسٹ نیٹ بھی اچھی سروس ہے اس کا اچھا پن صرف اشتہار نہ دینے تک ہے یہ اعلانیہ اشتہار کے بغیر ہوسٹنگ مہیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر بندہ بلاگر ہوسٹ سے اپنی تحاریر درآمد نہیں کرسکتا۔ مزید یہ ایک کلک سے ورڈپریس کی تنصیب کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں جس کے استعمال کا ہمیں ذاتی طور پر اتفاق نہیں ہوا چونکہ ہمیں اول الذکر بہت پسند آیا تھا۔
خیر آپ اپنی پسند کا کوئی اور ہوسٹ بھی چن سکتے ہیں گوگل اس سلسلے میں مددگار ہوگا اگر کوئی اچھا ہوسٹ ملے تو ہم سے بھی ذکر کیجیے گا تاکہ اسے اس فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ تو صاحبو بسم اللہ کرتے ہیں۔
ueuo.com پر چلے جائیں اور صفحے کے آخر میں جاکر اپنی پسند کا سب ڈومین لکھ کر Proceed دبا دیں۔ تمام اندراجات کو احتیاط سے پر کریں۔ دو تین مراحل میں آپ کا اندراج ہوجائے گا(جب ایڈز یعنی اشتہارات کا انتخاب سامنے آئے توManual کا انتخاب کیجیےگا)۔برقی پتہ دھیان سے دیں کیونکہ اسی پر آپ کو فعالی کوڈ موصول ہوگا ہمارا مشورہ ہے کہ جی میل استعمال کریں خیر کوئی بھی چلے گا۔ کھاتہ فعال ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کرنا ہے وہ ہے ایک عدد کوائفیہ (Database) بنانے کا کام۔ یہ مائی ایس کیو ایل میں بنے گا۔ جو مقبول عام ویب بیسڈ کوائفیہ پروگرام ہے۔ ایک بات اور جب آپ نے ہوسٹ یا فری ہوسٹ ورڈپریس بلاگنگ کے لیے چننا ہے تو اس میں مائی ایس کیو ایل ڈیٹابیس اور پی ایچ پی 5 کی سہولیات لازمی دیکھ لینی ہے۔ پی ایچ پی ایک سکرپٹنگ زبان ہے اگر اس کی معاونت نہ ہوئی تو ورڈپریس نہیں چلے گا جو سارے کا سارا ورڈپریس پر مشتمل ہے۔
اچھا تو ہم کوائفیہ بنانے جارہے تھے۔ یہ سارا کام یک سنگل کلک کا ہے۔ اس تصویر میں جو کنٹرول پینل آپ کو نظر آرہا ہے اسی سے ہم نے سارا کام کرنا ہے۔
DataBase
دائرہ لگے انتخابات پر غور کریں ان میں سے پہلے والا یعنی بائیں طرف والا جب آپ کا کھاتہ ابھی نیا بنا ہوگا اس پیغام پر مشتمل ہوگا کہ کوائفیہ بنائیں۔ بٹن پر کلک کریں اور اگلے صفحے پر کوائفیے کی تفاصیل ہونگی جو آپ کو ورڈپریس میں داخل کرنی ہیں۔ انھیں سنبھال لیں یہ ضروری ہے۔
کوائفیہ بنا لیا۔ اب اگلا کام ہے فائلیں چڑھانا ۔ ایسا کریں یہاں جائیں اور فائل زیلا اتار لیں۔ یہ ایک عمومی مستعمل اور بہترین نتائج دینے والا آزاد سافٹویر ہے اور اسی کو ہم فائلیں چڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔
اگلی قسط میں ورڈپریس کی بنیادی وضع قطع(Configuration) اس کو چڑھانا اور اس کی تنصیب کے اسباق شامل ہونگے۔
وسلام

جمعہ، 20 اکتوبر، 2006

ایڈمن ہونا

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

اتوار، 14 مئی، 2006

شاکر صاحب شاعر صاحب

آج بہت دنوں بعد اپنے بلاگ پر لکھنے کو دل چاہا ہے۔احباب نے میرے بلاگ پر بہت سی چیزوں کے بارے میں پڑھا سوائے میرے۔آج میرے ہاتھ کوئی موضوع نہیں آیا تو دل کیا کچھ اپنے بارے لکھوں۔ اپنے بارے میں کیا لکھتا کچھ ایسا خاص تو نہیں ہے جو دوسروں سے مجھے ممتاز کرے۔خیر یادوں کے کباڑخانے سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک دو چیزیں ملیں جنھیں آپ سے شئیر کرنے کو جی چاہا۔
زندگی میں ہر کسی پر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے اپنے “ہونے“ ک احساس ہوتا ہے۔ایک گانا ہے شاید آپ نے بھی سنا ہو “مینوں چڑھیا سولہواں سال۔۔۔۔“۔یہ سولہواں سال ہی شاید وہ وقت ہوتا ہے۔مگر مجھ پر سولہواں سال دو سال لیٹ آیا۔شاید یہ بھی میری طرح سست واقع ہوا۔عمر عزیز کے اٹھارہویں سال مجھے احساس ہوا کہ “میں ہوں“۔زندگی حسین لگنے لگی۔ اپنے آپ کو سنوارنے کو دل چاہا۔ہر چیز نکھری نکھری اور انوکھی لگنے لگی۔ خاص طور پر محبت نے مجھے ان دنوں بہت متاثر کیا۔ہر چیز سے محبت اللہ سے اس کے بندوں سے اس کی مخلوق سے اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں سے بے تحاشا محبت محسوس ہونے لگی۔اور پھرایک اور احساس کوئی بہت بہت ہی خاص ہو۔کوئی محرم۔کوئی جس کے ساتھ دل کا رشتہ ہو۔انھی دنوں مجھ پر اپنی ایک اور صلاحیت کا انکشاف ہوا۔
یونہی ایک دوست کی دیکھا دیکھی ایک دن نظم لکھنے بیٹھ گیا۔ایک بے تکی آزاد سی نظم لکھ کر اسے بلا مبالغہ کئی بار پڑھا۔ہر بار اپنے آپ پر ڈھیروں پیار آیا یہ میں نے لکھی ہے کتنی پیاری ہے۔وغیرہ وغیرہ قسم کے سینکڑوں خیالات دل میں آتے۔شاید اللہ نے بھی جب احسن تقویم انسان کو پیدا کیا اسے بھی اپنے آپ پر ڈھیروں پیار آیا ہوگا۔ محبت،کسی محبوب کی تڑپ اور ادب سے لنگڑی سی واقفیت نے تمام لوازمات پورے کردیے۔
اس کے بعد پھر میرے اندر کے شاعر نے ایسی انگڑائی لی کہ باقی سب صلاحیتوں کو سلا دیا۔ہر روز ایک نظم یا غزل کا نزول ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ وہ نظمیں اور غزلیں نفس مضمون کے اعتبار سے تو شاید قابل قبول ہوں پر تکنیکی اعتبار سے بے تکی بے ڈھنگی اور بے بحری بھی تھیں۔ان دنوں کمپیوٹر نیا نیا استعمال کرنا سیکھا تھا اور میرے لیے کمپیوٹر پر اردو کے نام پر ایک ہی چیز تھی ان پیج ۔سو آدھ آدھ گھنٹا لگا کر نظم پہلے لکھتا پھر اس کی تزئین کرتا پھر اس کو گِف بناوٹ میں محفوظ کرتا۔
تو یہ تھا شاکر جو ایک شاعر بھی تھا۔تھا اس لیے کہا کہ آج کل اتنی فرصت نہیں۔زندگی کے چودہ سالوں کی محنت پھل پانے چلی ہے۔سو کچھ لعن طعن کچھ مرضی سے اپنے آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتا رہتا ہوں۔اب کیسی شاعری اب تو یہ حال ہے کوئی شعرکہنے کی کوشش کروں تو ایک مصرع شعر کا اور دوسرا مصرف ایڈوانس اکاونٹنگ کی انٹری سے نکلتا ہے۔کاسٹ اکاؤنٹنگ،پاکستانی معاشیات،بزنس لاء آج کل یہی اوڑھنا بچھونا ہیں۔
مورخہ چھ جون سنہ2004‫ء سے میرے بی کام پارٹ ٹو کے امتحان شروع ہورہے ہیں‬۔تاریخ مصدقہ اطلاعات کے مطابق کئی سالوں سے یہی چلی آرہی ہے اور ڈیٹ شیٹ + رولنمبر سلپ کی آمد بھی جلد ہی متوقع ہے۔ایک مہینے کی ٹینشن کے بعد کہیں خلاصی ہوگی۔دعا کیجیے گا سخت گرمی میں یہ امتحان زیادہ امتحان نہ بنیں۔اب شاید جولائی میں آپ سے مخاطب ہوسکوں۔اور ہاں جاتے جاتے میری دوسری نظم (پہلی کچھ زیادہ ہی آزاد ہے یعنی قافیہ ردیف بھی کہیں کہیں نظر آتا ہے اس میں۔)،جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہوں گا۔نظم اس لیے کہ اس میں آزاد کا بہانہ چل سکتا ہے غزل میں نہیں۔اور میری تو ‫‬ساری شاعری بے بحری ہے۔
جب غم کا اندھیرا چھایا ہو
جب درد کا بادل آیا ہو
جب آنکھوں میں نمی سی ہو
جب خوشیوں میں کمی سی ہو
جب حزن سا ہر سو پھیلا ہو
جب موسم بہت اداس ہو
جب ایسے ہی سلگتے سلگتے
لگ گئی بہت ہی پیاس ہو
جب درخت بھی ویراں ہوجائیں
جب پت جھڑ کا موسم ہو
جب چھاجوں مینہ برستا ہو
جب ساون کی رِم جھم ہو
کہیں چمبیلی مہکی ہو
کہیں کوئی چڑیا چہکی ہو
تب کہیں، کہیں کوئی آس ہو
کوئی بہت،بہت ہی خاص ہو
جب تصور میں آجائے
سارے درد بھلا جائے
چھاجائے غموں پر خورشید بن کر
نئی صبح کی نوید بن کر