‏سائیکل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سائیکل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 9 مارچ، 2009

چیز ونڈی دی

کڑیو والو چیز ونڈی دی لئی ی ی ی ی ی جاؤ
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔

منگل، 3 فروری، 2009

کتبے

سائیکل میری سواری ہے۔ روزانہ آدھا شہر پار کرکے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد جانا ہوتا ہے۔ اس دوران ادھر اُدھر نظر بھی پڑ جاتی ہے۔ انھیں ادھر اُدھر کی چیزوں میں سے ایک چیز کتبے ہیں۔
جی ہاں۔۔۔ کتبے ۔۔۔سبز رنگ کے کتبے۔۔ سنگ مرمر کے کتبے۔۔۔ ٹوٹے ہوئے، زنگ لگے اور نویں نکور کتبے۔۔۔ آپ ذرا اپنے ارد گرد دیکھیں تو آپ کو بھی نظر آسکتے ہیں۔
سڑک کا افتتاح بدست مبارک جناب فلانا فلانا ناظم صاحب ہوا
سیوریج کا افتتاح بدست مبارک جناب فلانا فلا کونسلر ہوا۔
فلانے کا افتتاح فلانے نے کیا
فلانے کا سنگ بنیاد فلانے نے رکھا۔
آج سے دو سال پہلے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا۔ اس گلی کی سیوریج لائن خراب تھی، یہی کوئی سو گز کے قریب لمبائی میں۔ اوراس کو دوبارہ ڈلوانے کا افتتاح اس وقت کے ضلعی ناظم نے کیا تھا۔ وہ نئی ڈالی ہوئی سیوریج لائن بھی شاید اب خراب ہوگئی ہو لیکن وہ کتبہ اب بھی وہاں لگا ہوگا۔ جس پر بدست مبارک جناب فلاں فلاں لکھا ہوا تھا۔
مجھے یہ کتبے افتتاحیے نہیں قبروں کے کتبے لگتے ہیں۔ میری قوم کی ترقی کی قبر کے کتبے۔ مجھے اپنی طرف اشارے کرکے بلاتے ہیں دیکھو یہاں فلانا وڈا آدمی کھڑا ہے۔ فلانے وڈے آدمی کا نفس یہاں ہے۔ آؤ۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔دیکھو
مجھے نفرت ہے ان کتبوں سے۔ ایک عرصہ پہلے تک انھیں پڑھنے کا شوق ہوا کرتا تھا لیکن اب ان کی طرف نفرت سے تھوک کر گزر جاتا ہوں۔
مجھے لگتا ہے میری قوم کے نصیبوں پر بھی ایسے ہی کتبے لگے ہوئے ہیں۔ سبز رنگ کے، سنگ مرمر کے پرانے اور نئے کتبے۔۔ میری قوم کے نصیبوں کے مزار پر وڈوں کے نفس متولی بنے بیٹھے ہیں۔ نہ وہ اُٹھیں اور نہ ہی میری قوم کا نصیب جاگے۔

جمعرات، 30 اکتوبر، 2008

جرم

سہ پہر کا وقت تھا، ٹیوشن پڑھا کر اوپر آیا تو نظر بجلی کے بل پر پڑ گئی۔ اٹھایا رقم پڑھی اور رکھ دیا۔ والدہ کہنے لگیں آج پکانے کے لیے کچھ نہیں دال لے آؤ۔


"حنیف سے لے آؤں"


"نہیں وہ کم دیتا ہے شیخوں سے دونوں مکس لے آؤ بیس کی"


اور میں شیخوں کی دوکان سے دال لینے چلا گیا۔ وہاں کچھ اور گاہک موجود تھے۔ ایک لڑکا جس نے کوئی سودا لیا اور چلا گیا۔ ایک بچی جو چھٹی ساتویں کی طالبہ لگتی تھی اپنی ننھی سی بہن کے ساتھ وہاں تھی۔


"وہ ناں ہمیں آج سودا دے دیں"


"پیسے"


"آپ کو پتا ہے ابو بیمار ہیں آپ ادھار دے دیں مہینے کے مہینے پیسے مل جاتے ہیں آپ کو پہلے بھی"


"لیکن اب دو ماہ سے پیسے نہیں ملے"


"اصل میں بھائیوں کی ابھی  تنخواہ نہیں ملی"


"تمہارا بھائی تو اس دن میں موٹر سائیکل پر ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کھاتے سے میرے ابے کا تعلق ہے میرا نہیں"


شیخ جی کے چہرے پر تمسخرانہ سے مسکراہٹ تھی، اور بچی کے چہرے پر لجاجت۔۔ اس دوران شیخ جی نے میرے ہاتھ سے پچاس روپے پکڑ لیے۔


"کیا لینا ہے"


"بیس کی مونگ مسور ملا کر دے دیں"


میں نے کہا اور انتظار کرنے لگا۔ اس بچی کے الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح بجنے لگے۔


"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"


"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"


میں نے شیخ جی سے سودا پکڑا اور بقایا تیس روپے بھی پکڑے۔ ایک بار سوچا کہ یہ پیسے اس بچی کو دے دوں تاکہ ان کا چولہا جل جائے۔ پھر میرے سامنے میرے گھر کے خرچے آگئے۔ فلاں چیز لانی ہے، فلاں چیز لانی ہے۔ بجلی کا بل 5 روپے 65 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 333 کا 2400 روپے دینا ہے۔ میں نے اس بچی پر ترحم آمیز نگاہ ڈالی اور سرجھکا کر چلا آیا۔


شاید میری مجبوری تھی، یا زمانے کی بے رحمی تھی، لیکن میں اپنی نظروں میں گر گیا۔ میرے اندر اتنا دکھ بھر گیا کہ اگر میں اسے ان الفاظ کی صورت میں نہ ڈھالتا تو جانے کیا ہوجاتا۔


پیر، 18 فروری، 2008

ووٹ ڈالنے گیا تو دیکھا

لو جی زندگی کا پہلا ووٹ ہم نے ڈال ہی دیا۔ ہمارے گھر کل ہی نون لیگ کے ایک امیدوار کی چھپی ہوئی پرچیوں پر والدین اور میرے ووٹ نمبر وغیرہ آچکے تھے۔ صبح ہم نے نو بجے کے قریب شناختی کارڈ ڈھونڈنے کا ڈول ڈالا۔ آخر پانچ سات منٹ کی تلاش بسیار کے بعد ہمارے کاغذات والے ڈبے سے مل ہی گیا۔ اسی دوران ہم نے محمد علی مکی کا فون بھگتایا جو انھوں نے اپنا وی وائرلیس بونس ختم کرنے کے لیے کیا تھا۔ انھیں بھی لگے ہاتھوں مشورہ دے ڈالا کہ ووٹ ڈالیں اور شیر کو ڈالیں تو کہنے لگے یار دو بار پہلے بھی ۔۔۔۔۔ آچکا ہے کچھ بھی نہیں کیا۔ خیر ہم نے انھیں اللہ حافظ کہنے کے بعد شناختی کارڈ ڈھونڈا امی سے پوچھ کر پرچی لی اور جیب میں لے کر امیدوار کے لگائے گئے ٹینٹ کی طرف چل دئیے۔

وہاں ایک محلے دار نے ہی ہماری رہنمائی پولنگ سٹیشن تک کی۔ قریبی پرائیویٹ سکول میں بننے والا یہ پولنگ سٹیشن مناسب حد تک پرہجوم تھا۔ ہم نے ایک سے پوچھا پھر دوسرے سے پھر تیسرے سے آخر مطلوبہ بندے کے پاس جاکر کہا کہ ہمارا ووٹ یہ ہے پرچی پر لکھ دو۔ لیکن یہ کیا ہمارا ووٹ تھا ہی نہیں اس لسٹ میں۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم واپس گھر کو آئے۔ پھر اس امیدوار کے دفتر نما میں گئے اور پھر وہاں سے واپس پولنگ سٹیشن۔ پھر اس بندے نے ہمیں کہا کہ آپ کا ووٹ نہیں ہے یہاں یہ کوئی ماجد خان ہے۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر واپس آئے۔ پھر سوچا ان کے پاس نہیں تو پیپلز پارٹی والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس کے دفتر چلے گئے تو وہ بےچارے اپنی پریشانیوں میں تھے۔ یکے بعد دیگرے لوگ ووٹ نمبر نکلوانے کے لیے نازل ہورہے تھے۔ آخر کچھ دیر اس کے ہاتھ میں شناختی کارڈ دینے کے بعد واپس لیا اور پھر ہمیں عقل آئی کہ ہماری گلی والا دفتر ادھر نہیں دوسری طرف ہے۔ وہاں گئے اور پھر نون لیگ والے امیدوار کے دفتر میں لسٹ پر نام نہ ملا۔ آخر ساتھ تیر والے دفتر میں ہمیں اپنا نام مل گیا اور ہم نے نعرہ بلند کردیا مل گیا مل گیا۔ دیکھنے والا لڑکا بے چارہ خوش ہوگیا کہ چلو ایک ووٹ بن گیا۔ ہم نے پرچی پر لکھوایا اور چلے پولنگ سٹیشن کو۔

وہاں پہنچ کر پھر اصل بندے کو ڈھونڈا۔ اب کے ہمیں چونکہ عقل آگئی تھی اس لیے اپنی گلی کا نمبر بتا کر مطلوبہ لسٹ والے بندے کے پاس گئے۔ اسے پرچی دکھائی۔ اس نے تصدیق کی اورلسٹ سے نام کاٹ کر ہمیں بوتھ نمبر دو کی طرف راہ دکھائی۔ وہاں گئے۔ پولنگ آفیسر کو شناختی کارڈ تھمایا۔ انگوٹھے پر نشان لگوایا۔ اس نے پرچی پر نشان لگادیا اور ہم پرچی لینے کے لیے لائن میں لگ گئے۔ ہماری باری آنے لگی تو افسر بولا یار ایک نیسلے کی بوتل لادو۔ اسے بوتل لا کر دی اور پھر انگوٹھا لگا کر بیلٹ پیپر لیا۔ آٹھ خانوں والی مہر اٹھائی "گیلی" کی اور بوتھ میں جاکر شیر پر ٹھپہ لگا دیا۔

ہمیں کئی بار خیال آیا کہ آزاد امیدوار کو ووٹ دے دیں۔ چونکہ وہ بندہ ہم جیسا ہی لگتا تھا۔ مثلًا اس کے "دفتر" پر ٹینٹ کی چھت بھی نہیں تھی۔ اور ایک ہی دفتر تھا اس کا جس میں وہ خود ہی ایک کرسی اور میز سمیت موجود تھا۔ حیرت ہے باقی پولنگ سٹیشن پر اس کا "نام لیوا" کون ہوگا۔ ہمیں ترس تو بہت آیا لیکن پھر دل پر پتھر رکھ لیا۔ نواز شریف کو بھی اس لیے ووٹ دیا ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کا وعدہ کرتا ہے۔ ورنہ یہ امیدوار وہی پرانے گھگے تھے جو پچھلے تین چار الیکشنوں میں اسی ٹکٹ پر اسی حلقے سے کھڑے ہوتے ہیں۔

اجمل صاحب کی بات تھی تو سچ کہ اس کو ووٹ دیں جس کو آپ مل بھی سکیں۔ لیکن جس کو ملنے کی امید کی جاسکتی تھی اس کے کامیاب ہونے کی امید نہیں تھی ووٹ ضائع ہی جاتا۔ سو ہم نے سوچا نون لیگ ہی سہی۔ ورنہ تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا ارادہ تھا۔ مجھے عمران خان سے گلہ ہے اس نے بائیکاٹ کرکے اپنے کئی متوقع ووٹر کھودئیے اور ہمیں انتخابات میں چوائس سے محروم کردیا۔

آخر میں وہ تصاویر جو میں نے اپنے موبائل سے کھینچیں۔ آپ کو نون لیگ کا دفتر نظر آئے گا۔ تیر والوں کا بھی ساتھ ہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سائیکل والوں کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ادھر ان کی کتنی "عزت" ہے۔ موصوف دو حلقوں سے امیدوار ہیں اور ٹاؤن ناظم بھی تھے شاید اب بھی ہوں۔ لیکن مجھے جو بھی ملا اس نے کہا شیر کو یا تیر کو ووٹ ڈالنا۔ ایک دوست تو یہاں تک بولا اب یہ نہ کہہ دینا کہ سائیکل کو ووٹ ڈالا ہے۔ اور ایک آدھ تصویر میں آزاد امیدوار بھی نظر آئے گا جسے میں ووٹ ضرور دیتا۔۔۔۔مگر میں نے اپنے محلے کو دیکھنے کی بجائے قومی سطح پر دیکھا جہاں بڑے مسائل ہیں۔

ویسے اڑتی اڑتی سنی تھی کہ تیر والے 35 ووٹوں پر موٹر سائیکل دے رہے ہیں۔ اور سائیکل والے شناختی کارڈ جمع کروانے پر سائیکل دے رہے ہیں۔ لاہور میں مستنصر حسین تارڈ کو 1500 نقد ملے لیکن ادھر ابھی شاید رواج نہیں چلا۔ ورنہ میں تو تیار تھا کہ سائیکل ہی سہی۔ ووٹ کا کیا ہے ووٹ تو اپنی مرضی سے دینا ہوتا ہے۔ چوروں کو مور پڑ گئے تو کیا ہوجائے گا۔ خیر یہ تھی روائیدادِ الیکشن۔۔۔۔

ادھر ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں۔ اگرچہ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق کم از کم دو جگہوں سے بیلٹ پیپر اڑائے جاچکے ہیں اور لاہور سمیت کئی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں کئی لوگ بھی پرلوک سدھار چکے ہیں۔

اتوار، 16 دسمبر، 2007

میں 16 دسمبر 1971 کا نوحہ کہوں یا اپنے حال کا؟

آج سولہ دسمبر ہے۔ اہل دل اور اہل وطن یقینًا خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ہمارا بازو کٹ کر جدا ہوگیا۔ لیکن میں جو ایک عام آدمی ہوں اس پر کیا کہوں؟
کیا لکھوں؟
میرا حال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی ملنی مشکل ہوگئی ہے۔ سارا سارا دن یوٹیلٹی سٹور پر لائن میں کھڑے ہو کر چار کلو گھی اور ایک تھیلا آٹے کا ملتا ہے۔ ساتھ میں یوٹیلیٹی سٹور والا اور خریداری کے بغیر گھی اور آٹا بھی نہیں دیتا۔ کہتا ہے ہم نے یہ کہاں بیچنا ہے۔
ہر تین گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے۔ یہ آنکھ مچولی سارا دن جاری رہتی ہے میں کاروبار کیا خاک کروں؟
میرے ملک کے حکمران اس بات پر سراپا فخر و غرور ہیں کہ ایک کروڑ عوام کے پاس موبائل ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی ریل پیل ہوچکی ہے اور خزانہ بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ موبائل فون، یہ کاریں اور موٹر سائیکل مجھے دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں؟
مجھے کھانے کو نہ ملے تو کیا ان موبائل فونوں کو ہی چبانا شروع کردوں؟
میں کس بات کا نوحہ پڑھوں؟
اپنے اور اپنے خاندان کے فاقہ زدہ اور محروم چہروں کا یا چھتیس سال پہلے کا؟
کوئی بتائے مجھے میں کس کی نوحہ خوانی کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔