ونڈوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ونڈوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 17 جولائی، 2010

کچھ یادیں

حالات کچھ عجیب سے ہیں لوگ لکھنے کی بجائے کچھ اور ہی کررہے ہیں۔ تو میں نے سوچا چلو کچھ لکھا جائے ورنہ عام حالات میں مَیں ایک خاموش اور ممکنہ بلاگر ہوں جو کسی بھی وقت اٹھ کر کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن یہ لکھنا بعض اوقات مہینوں کے وقفے کے بعد معرض وجود میں آتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں تھا لیکن میں نے سوچا چلو کچھ یادیں شئیر کروں۔ اپنی بلاگنگ کی ہسٹری بتاؤں۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ  تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا  کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی  ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ  بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔ 

بدھ، 12 مئی، 2010

ہائے مائیکروسافٹ

میری عادت ہے کہ عمومًا ایک سے زیادہ آفس سوئٹ انسٹال ہوتے ہیں میرے پاس. اور ایک سے زیادہ آپریٹنگ سسٹم بھی۔ اوبنٹو اور ونڈوز کا کمبی نیشن پچھلے پانچ سال سے استعمال کررہا ہوں۔ ہر پی سی پر یہ ہوتا ہے ہاں کبھی نیا ورژن آنا ہو تو کچھ وقت کے لیے لینکس اڑ جاتا ہے، یا ونڈوز دوبارہ کی ہو تو وقت کی کمی اور سستی کی وجہ سے ڈوئل بوٹ پر نہیں آپاتا کئی دن تک۔ ونڈوز کے اندر بھی میری عادت ہے کہ اوپن آفس اکثر انسٹال ہوتا ہے اور اپنا ذاتی کام مجھے اس میں کرنا پسند ہے، یہ الگ بات ہے کہ کچھ فیچرز کی کمی یہ کسی خاص انداز میں کام نہ کرنے کی وجہ سے میں اس سے اکتا بھی جاتا ہوں، جیسے ایکسل 2007 اور اب 2010 میں گراف بہت فینسی قسم کے بنتے ہیں جبکہ اوپن آفس کیلک اس معاملے میں غریب ہے ابھی۔
عرض یہ کرنا تھا بعد اس تمہید کے، کہ اوپن آفس میں بھی چونکہ کام کرتا رہتا ہوں تو اوپن ڈاک فارمیٹ میں کچھ فائلیں بھی ہوتی ہیں ہمیشہ۔ اب م  س کا 2010 آفس آگیا ہے جس میں اوپن ڈاک کی سپورٹ بھی ہے، اگرچہ یہ 2007 کے سروس پیک میں بھی فراہم کردی گئی تھی لیکن میرے پاس اس کا پرانا ورژن ہی تھا، تو میں اوپن ڈاک فائلیں بھی م س میں ہی کھول لیتا ہوں۔ لیکن کیلک کی فائل محفوظ کرتے وقت ایکسل ہر بار ایرر دیتا ہے۔ میری عادت ہے کہ ہر چند سیکنڈ کے بعد محفوظ کرنا ہوتا ہے چونکہ بجلی کا تو کوئی بھروسہ نہیں لیکن یہ ایرر بہت تکلیف دیتا ہے۔ ایرر بڑا سادہ سا ہے کہ یہ فائل فارمیٹ کچھ فیچرز کو سپورٹ نہیں کرتا۔
ایسی ہی ایک وارننگ اوپن آفس بھی دیتا ہے جب فائل کو ورڈ کے فارمیٹ میں محفوط کیا جارہا ہو۔ لیکن وہاں ہر بار اس پیغام سے بچنے کے لیے ایک آپشن ہوتا ہے کہ آئندہ نہ دکھاؤ۔ لیکن م س آفس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ م س آفس میں زیادہ خوبیاں سہی لیکن مائیکروسافٹ کا انداز ہمیشہ آگ لگانے والا ہوتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں ہمارے ہاں بکری نے دودھ بھی دیا تو مینگنیاں ڈال کر۔ سو حساب مائیکروسافٹ کا ہے۔

منگل، 2 ستمبر، 2008

اک "براؤزر" ہور

شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔


حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome


کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔


اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔

ہفتہ، 2 اگست، 2008

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔


ونڈوز یا لینکس؟


دونوں


ہالی وڈ یا بالی وڈ؟


دونوں ہی۔


پیپسی یا کوک؟


جو مل جائے


کراچی یا لاہور؟


فیصل آباد ;)


سیب یا انگور؟


غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے


پاپ یا راک؟


جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔


چائے یا کافی؟


چائے ہی۔


نہاری یا حلیم؟


حلیم کبھی کبھار۔


فورمز یا بلاگ؟


دونوں


دوست یا کزن؟


دوست


کرکٹ یا فٹ بال؟


کرکٹ


پرسکون یا پریشان؟


منحصر بہ وقت


چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔