اب بیچا کیسے... یہ رہنے دیں. مارکیٹ میں دو ہزار تک کا بک سکتا تھا. لیکن ہماری خر دماغی ہم ہر دوکاندار کے پاس جا کر پہلے سیٹ دکھاتے اور پھر یہ بھی بتا دیتے کہ بھائی اس میں یہ نقص ہے اس لیے بیچ رہے ہیں ہم. تو کون لیتا.... اللہ اللہ کرکے ایک بندے نے 1000 روپے کا لیا... اس نے بھی اپنی طرف سے ہمیں جتنا ٹھگا جاسکتا تھا اتنا ٹھگا. اور اس کے بعد گھر سے ہماری ایک بار نہیں کئی بار ہوچکی ہے.... اب تو عادت سی ہے ایسے جینے میں... کہ یہ موبائل ٹھیک کرواکے دوگنی قیمت میں بیچا جاسکتا تھا کس کو پتا تھا کہ یہ پھر مسئلہ کرے گا لیکن ہمارا دل نہ مانا اور بیچنے میں جلدی کی... :neutral:
خیر اس کے بعد کچھ دن والدہ کا سیٹ استعمال کیا اور اب ہم نے آخر کار نیا موبائل لے ہی لیا. پرانے موبائل میں بڑا سکون تھا، 1.3 میگا پکسل کیمرہ، مناسب سی میموری 32 میگا بائٹ، تھیمز، گانے شانے، ریکارڈنگ، اپنی رنگ ٹونز یہ وہ... ہمارا دل پھر کرتا تھا کہ کوئی ایسا سیٹ لیں. چائنہ کاپی سیٹ کے بارے میں سوچا لیکن ادھر اُدھر سے یہ سن کر کہ یہ تو جلد خراب ہوجاتے ہیں بلکہ کبھی چلتے ہی نہیں تو ہم نے اسے لینے کا ارادہ ترک کردیا. پرانا سیٹ لینے سے جی اتنا اکتایا کہ نوکیا کا 1200 ہی لے لیا مبلغ 2300 روپے میں اس دن مارکیٹ سے..
موبائل فون اور کمپیوٹر ڈیسکٹاپ ہو یا لیپ ٹاپ اس کے بارے میں جتنی خواہش کرلیں اتنی ہی کم ہے. ہمیں تو ذاتی طور پر اپنے اندر کی ہوس اسی میں نظر آتی ہے. موبائل ہو اور کِنّا(بہت) سارا ہو. یہ بھی کرسکے، وہ بھی کرسکے، ایسا بھی کرسکے ویسا بھی کرسکے وغیرہ وغیرہ. لیکن ہماری ہوس ہار گئی اور ہم نے نوکیا1200 لے لیا میسجنگ اور کال کرنے کے لیے. نوکیا آپ کی زندگی کی ڈور :grin: وہ مشہوری بار بار یاد آتی ہے. اس میں شک نہیں کہ نوکیا کے سیٹ پائیدار ہوتے ہیں. اب کم از کم ایک سال تو سکون رہے گا کہ سیٹ چل رہا ہے. پیسے آتے ہیں تو کوئی اچھا سیٹ لے لیں گے ایل جی یا سام سنگ گا..لیکن ابھی تو لیپ ٹاپ بھی لینا ہے...ہائے ہماری ہوس :roll: