آج بڑے عرصے بعد آنکھیں بھر آئیں، اپنی حالت پر غور کیا، رب العالمین کی رحمتیں یاد آئیں۔ میں ہمیشہ آزمائشوں سے پناہ مانگا کرتا ہوں، اس نے کسی آزمائش نہیں ڈالا، یہ رحمت یاد آئی۔ اور یہ احساس ہوا کہ توفیق نہیں مل رہی۔ ایک بُک چیپٹر لکھنا ہے۔ کام تو دنیاوی ہے لیکن میرے لیے رزقِ حلال کے حصول کا ذریعہ ہے۔ بس اس لکھنے کے لیے توفیق نہیں مل رہی۔ آج بس یہی دعا کی ہے کہ مولا توفیق عطا فرما، اپنی رحمتوں میں سے ایک یہ رحمت مجھ سے دور نہ رکھ۔ مولا توفیق نہیں مل رہی، اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا صدقہ یہ رحمت عطا فرما۔ مولا توفیق عطا فرما!
کیفیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کیفیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پیر، 25 جنوری، 2021
بدھ، 15 نومبر، 2017
تحت الشعور سے ابھر کر آنے والی ایک یاد
آج دوپہر قیلولہ کرنے کے لئے لیٹا ہوا تھا تو پتا نہیں کہاں سے ذہن کی عمیق گہرائیوں میں دفن ایک یاد تحت الشعور سے نکل کر شعور کے پردے پر آ براجمان ہوئی. پانچویں جماعت کے بعد والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں قرآن پاک حفظ کروں اور اس کام کے لئے مجھے ایک مدرسہ میں ڈال دیا گیا تھا. کچھ مہینوں کے بعد میرے اندر کے شیطان نے ادھم مچایا تو میں نے مدرسے جانے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی پاداش میں تشریف پر گھوڑے ہانکنے والے چھانٹے والی چھڑی سے ٹکور کے ساتھ ساتھ میری چھٹی بھی بند کر دی گئی تھی. چناں چہ مجھے پورا ہفتہ رات اور دن وہیں مدرسے میں گزارنا تھے. رات کو گرمی ہونے کی وجہ سے چار منزلہ مدرسے کی چھت پر زمین پر صفیں یا چٹائیاں اور ان پر گھر سے آیا ہوا بستر جو ایک عدد دری تکیہ اور کھیس وغیرہ پر مشتمل تھا بچھا کر سونا ہوتا تھا. اس یاد کا تعلق شاید اس چھٹی بند ہونے کی پہلی یا کسی اور رات سے ہے. قاری صاحب اور ان کے اہل خانہ بھی طلبہ کے ہمراہ چھت پر سویا کرتے تھے. سونے سے پہلے کبھی کبھار طلبہ پر مہربانی کرکے انہیں کچھ کھانے کے لیے منگوا کر دیا جاتا تھا جسے عرف عام میں پنجابی بچوں کے لئے چیجی اور انگریزی ماڈرن لوگ کینڈی وغیرہ کہتے ہیں. آج اس نیم نیند کی کیفیت میں یاد آگیا کہ اس رات میں مدرسے کی چھت پر حالتِ سزا میں اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹا تو قاری صاحب نے ایک مقیم طالب علم کو بلا کر اسے کچھ روپے تھمائے اور طلبہ کے لیے کون آئسکریم منگوائی. مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ اس میں میرے لیے بھی کچھ حصہ ہو گا. تاہم جب آئسکریم آئی اور سب میں تقسیم ہوئی اور مجھے یکسر نظر انداز کر دیا گیا تو ایک بارہ تیرہ سال کے بچے کی وہ خِفّت شاید کسی بہت بھاری پتھر سے بندھ کر ذہن کی گہرائیوں میں جا بیٹھی تھی. اور قریباً اٹھارہ برس کے بعد آج اس پتھر سے بندھی رسی کمزور ہوئی تو یہ یاد بھی کہیں دُور گہرائی سے نکل کر سطح پر آ گئی. یہ سب لکھنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ایک یاد کو اس بلاگ پر شیئر کیا جائے. اس کے علاوہ کوئی چھپا ہوا مقصد موجود نہیں ہے یا شاید اس مقصد کو سامنے آنے کے لئے اٹھارہ برس مزید درکار ہوں.
ہفتہ، 13 مئی، 2017
کہانیاں
میز نیازی کہتا ہے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں، ہر کام کرنے میں
کچھ ایسا ہی شاید ازل سے میرے ساتھ ہے۔ ہر کام میں دیر ہو جاتی ہے۔ جب سوچنے سمجھنے کی توفیق ہوتی ہے تو معاملہ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ جب کام کرنے کا خیال آتا ہے تو وقت باقی نہیں رہا ہوتا۔ جب کسی رستے پر چلنے کی سمجھ آتی ہے تو اُس پر پہرے لگ چُکے ہوتے ہیں۔ اور لکھنا۔۔۔ لکھنا بھی تب سرزد ہوتا ہے جب احساسات وقت کی دھول میں اٹ کر دھول ہو جاتے ہیں، جیسے بارش کے بعد کچی مٹی پر بنے نقش و نگار یا موج گزرنے کے بعد ساحل پر بنے ریت کے گھروندے مِٹ جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ لکھنے میں ہوتا ہے، اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ پیچھے تاثرات کی بجائے ان کے بھُوت باقی رہ جاتے ہیں جنہیں لفظوں کا جا مہ پہنانے پر آسیب زدہ جملے وجود میں آتے ہیں اور ان آسیب زدہ جملوں کے مجموعے پچھلے دس برسوں میں جا بجا اس بلاگ کی زینت بن چکے ہیں۔
ایک عرصے سے ارادہ کر رہا ہوں کہ لکھنا ہے، کچھ ہڈ بیتی اور کچھ جگ بیتی پر، خود پر گُزرے سانحات پر، ان لمحات پر لکھنا ہے جب زندگی اتنی اجنبی ہو گئی تھی کہ خوف آتا تھا، اور اس سے بھی پہلے کی کچھ کہانیوں پر کچھ لکھنا ہے۔ کہانیاں جن کے ساتھ تب سے واسطہ ہے کہ اب یادوں کے بھُوت بھی وقت کے اندھیرے میں گُم ہو چکے ہیں۔ پرائمری میں ایک دوست اپنے جیب خرچ میں سے پچاس پچاس پیسے کی عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیاں لے کر دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میرے پاس وہ ننھی ننھی کہانیاں درجنوں میں جمع ہو گئی تھیں، لیکن پھر کہاں گئیں؟ اور وہ کہانیاں جو میں چوری کے پیسوں سے خرید کر پڑھا کرتا تھا اور پھر پکڑے جانے کے ڈر سے پھاڑ کر پھینک دیا کرتا تھا۔ اور پھر وہ کہانیاں جو نانا نانی کے ہاں جانے پر ماموں کی بیٹھک سے برآمد ہوتی تھیں نسیم حجازی، عمران سیریز، انسپکٹر جمشید اور حکایت ڈائجسٹ کی شکار کی کہانیاں، جرم و سزا کی کہانیاں، ایمان فروشوں کی کہانیاں۔ اور پھر وہ کہانیاں جب ایک لائبریری سے دوست نے کرائے پر عمران سیریز لینا شروع کی جو ہم اکٹھے پڑھتے تھے، اور پھر جب میں نے خود سے یہ کام شروع کر دیا ، ستر اسی کی دہائی میں ڈائجسٹوں میں چھپنے والی کہانیاں دیوتا، مجاہد، اِنکا۔۔۔ ہر مہینے درجن بھر زنانہ اور غیر زنانہ ڈائجسٹوں میں چھپنے والی کہانیاں، قدرت اللہ شہاب ، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کی چوکڑی، یوسفی، پطرس، اور اس عہد کے دیگر مزاح نگار، قمر اجنالوی کے تاریخی ناول اور ایم اے راحت کے سلسلے، علیم الحق حقی کے عشق اور اس کی پیروی میں لکھے گئے درجنوں ناول، اور تارڑ کے سفرنامے۔ اور پھر انگریزی سیکھتے ہوئے ایپِک فینٹیسی کی صنف سے تعلق رکھنے والی کہانیاں ہیری پوٹر، وہیل آف ٹائم، کوڈیکس الیرا۔۔۔اور پھر انگریزی فلمیں جن کی تعداد ہزاروں نہیں تو سینکڑوں میں ہو گی محبت کی کہانیاں، ایڈونچر، ایکشن، سائنس فکشن اور فینٹیسی کی کہانیاں۔۔۔ اتنی کہانیاں ۔۔۔ہر کہانی کی اپنی ایک الگ دنیا، ہر کہانی میں اپنی اپنی زندگی جیتے کردار اور ہر کہانی کو پڑھتے ہوئے، سُنتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے اُن کے ساتھ جیتا اور مرتا ہوا میں۔ یوں لگتا ہے جیسے تیس برس نہیں تیس صدیاں گزر گئی ہیں، جیسے بار بار مر کر جیا ہوں اور جی جی کر مرا ہوں، ہر کہانی کے اتنے دُکھ ہیں کہ اصل زندگی کے دُکھ بھی کسی کہانی کا حصہ لگتے ہیں۔
اتنی کہانیاں پڑھیں، اور جب خود کوئی کہانی لکھنی چاہی تو قلم نے یا تو چلنے سے انکار کر دیا یا چلتے چلتے جواب دے گیا۔ رب نے کہانیاں لکھنے والوں کو پتہ نہیں کیا خاص دے رکھا ہوتا ہے جو میرے جیسے معذوروں کے پاس نہیں ہوتا۔ کیسے ایسا سوچ لیتے ہیں، کیسے ایسا لکھ لیتے ہیں کہ ان کے کرداروں کے ساتھ قاری بھی جیتا اور مرتا ہے۔ ایک عرصے تک یہ زُعم رہا کہ شاید کہانیاں پڑھ پڑھ کر اور دیکھ دیکھ کر میری بھی ایسی تربیت ہو جائے، جیسی آ ج کل مشینی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس ) کے میدان میں گوگل، ایمازون اور اس جیسی کئی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ جیسے میں ڈیپ لرننگ کا ایک الگورتھم ہوں جسے ہزاروں کہانیاں پڑھوائی جائیں اور پھر وہ خود کہانی کار ہو جائے۔ ایک عرصے تک یہی امّید رہی کہ شاید میرا ڈیپ لرننگ کا الگورتھم اس قابل ہو جائے گا۔ لیکن شاید ایسا کبھی نہ ہو سکے۔ میرے ہارڈوئیر اور سافٹ ویئر کو بنانے والے نے کچھ ایسے بنایا ہے کہ ٹریننگ ڈیٹا جتنا مرضی مل جائے اُس کی بنیاد پر پیٹرن تلاش کرنے کی اور پھر اس پیٹرن کو استعمال کر کے باز تخلیق کی صلاحیت عنقا ہے۔
تو کہانی کار ہونے کا متمنی ایک کہانیاں پڑھنے والا اس کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہے کہ ہر کچھ عرصے کے بعد اس طرح چند سو الفاظ کی تحریریں لکھتا چلا جائے۔ جن میں کوئی چسکا نہیں، کوئی سیاست، معاشرت، مذہب نہیں، کوئی ردعمل ، حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ نہیں، بس سات ارب انسانوں کی دنیا میں بسنے والے ایک اکلوتے انسان کی بالائی منزل پر اُٹھنے والے نادیدہ طوفانوں کی سرگزشت ہوتی ہے۔ جس میں سوائے لکھنے والے کے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ علمِ سماجیات انسانوں کے باہمی تعلق، اور معاشرت کو، انسانوں کے مجموعے کو موضوع بناتا ہے۔ اور علمِ نفسیات فرد کو موضوع بناتا ہے۔ تو شاید یہ تحریریں بھی جو انسانوں کے مجموعے کے لیے تو شاید بے کار ہوں، لیکن کسی فرد کے حالات سے مماثل ہوں۔ شاید میری طرح کہانیوں کا ڈسا، اور کہانیاں نہ کہہ سکنے کے ازلی دُکھ کا شکار کوئی اور بھی یہاں موجود ہو۔ یا شاید نہیں۔۔۔
جمعرات، 2 فروری، 2017
ایک خواہش
یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔
بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔
حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔
تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اپنے پاس بلا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔
جمعرات، 8 دسمبر، 2016
تھوڑ دِلا
ممتاز مفتی کہتا ہے کہ رب جی سے یاری لگا لو۔ رات سونے لگو تو ساری باتیں رب جی کو سنا کر، دل کا بوجھ ہلکا کر کے سویا کرو۔ میری خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ کوئی آٹھ دس برس پہلے مفتی کو پڑھ لیا۔ اور اس کے دئیے گئے اس سبق کو بھی دل پر لے لیا۔ اور اب رب جی کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ رب جی سے سب کہہ دیتا ہوں۔ سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اکیلے یا محفل میں رب جی سے باتیں جاری رہتی ہیں۔
پنجابی میں تھوڑ دِلا کہتے ہیں، ایسا شخص جس کا دِل بہت تھوڑا سا ہو۔ مطلب تو اس کا شاید یہ ہے کہ تھوڑ دِلا دوسروں کے ساتھ کچھ بانٹنے سے بھاگتا ہے۔ شاید کچھ مطلب یہ بھی ہے کہ تھوڑ دِلا زود غم اور زود حس ہوتا ہے۔ ذرا سی بات پر دل دھڑک اٹھتا ہے کہ کچھ ہو گیا۔ اور یہ کچھ اکثر بُرا والا کچھ ہوتا ہے، اچھا والا نہیں۔ تو میں اس قسم کا تھوڑ دِلا ہوں۔ ہر بات پر بِدک جاتا ہوں، ہر آہٹ پر تریہہ جاتا ہوں اور خاموشی بھی کسی طوفان کا پیش خیمہ زیادہ اور سکون کی علامت کم لگتی ہے۔ میرے جیسا تھوڑ دِلا پھر اور کس کے در پر جا سوال کرے گا؟ بس رب جی کے آگے دستِ سوال دراز کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔
رب جی کے ساتھ یاری بڑا اوکھا کام ہے جی۔ میرے جیسے منافقوں کی یاری بھی مطلب کی یاری ہوتی ہے۔ آپ سے کیا چھپانا بس ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے، رب جی کی آزمائشوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے، یا میرے اندر کا تھوڑ دِلا مجھے خبردار کرتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو میرے روئیں روئیں میں الارم بجنے لگتے ہیں۔ بس پھر ایک ہی اُپائے ہوتا ہے، رب جی کے حضور درخواست گُذاری۔ رب جی کے حضور درخواست کرتا ہوں۔ بار بار کرتا ہوں۔ دیکھ لے مولا تُو تو رب ہے ناں، تیرا کیا چلا جائے گا۔ ایک میرے ساتھ اگر رحمت والا معاملہ کر دیا تو تیرے خزانے میں کونسا کمی آ جائے گی۔ میں مانتا ہوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے، لیکن تُو تو رب ہے۔ پالنہار ہے، تجھے پُوچھنے والا کون ہے۔ تُو تو آل اِن آل ہے، میرے ساتھ رحمت والا معاملہ کر دے میرے مالک۔ تجھے پتا ہے مجھے تیری آزمائش سے ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے عذاب سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے مُنصف بن جانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ کہ اگر تُو مُنصف بن گیا تو میرے پاس تو کچھ بھی نہیں پاس ہونے کےلیے۔ تُو رحمت والا معاملہ کر دے ناں، تو میرے لیے اس دنیا میں بھی اپنا کرم کر دے ناں۔ تو مجھ پر اپنی عطاء کر دے گا تو تیرا کیا چلا جائے گا۔ رب جی سے ایسی ایسی باتیں کہ کوئی اور سُن لے تو مجھے پاگل کہے۔
اور جب کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کوئی اور امید نہیں رہتی تو پھر ایک ہی واسطہ ہوتا ہے۔ رب جی، نبی جی ﷺ کا صدقہ اپنی عطاء کر دو۔ نبی جی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ بس اس کے بعد کچھ اپنے بس میں نہیں رہتا۔ نبی جی ﷺ کے نام کے بعد لفظ نہیں صرف آنسو کام کرتے ہیں۔ رب جی کے دربار میں نبی جیﷺ کے واسطے دے کر بھی تھوڑ دِلا کیا مانگتا ہے؟ دنیا ۔ لیکن تھوڑ دِلا کیا کرے، رب جی کی مہربانی سے اگر اب کچھ ملا ہے، تو تھوڑ دِلا تریہہ جاتا ہے۔ ہر آہٹ اور خاموشی پر بدک اٹھتا ہے۔ رب جی کی آزمائش کا خوف اسے چین نہیں لینے دیتا۔ تو پھر تھوڑ دِلا اگر رب جی سے رحمت مانگنے کی ٹیپ نہ چلائے تو اور کیا کرے؟ تھوڑ دِلا تو یہی کر سکتا ہے کہ رب جی سے معافی مانگتا رہے، اور رحمت مانگتا رہے اور نبی جی ﷺ کا واسطہ دیتا رہے۔ اور بھلا تھوڑ دِلا کیا کر سکتا ہے؟
ہفتہ، 23 جولائی، 2016
مرد
پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔
مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔
فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔
ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔
اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین
پیر، 9 مئی، 2016
بہار کی شام
آج کا سورج اپنی آخری سانسوں پر آ کر آسمان کو سرخ کیے ہوئے ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ماند پڑتی روشنی منظر کو دھیرے دھیرے رنگین سے بلیک اینڈ وائٹ میں منتقل کرتی جاتی ہے۔ ابھی مغرب کو عازمِ سفر ایک طیارہ سورج کی روشنی میں کسی غیر ارضی جسم کی طرح نظر آ رہا تھا، اور ابھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ پتوں سے بوجھل درخت ہوا سے ایسے لہلہاتے ہیں جیسے فقیر کو توقع سے بڑھ کر خیرات مل جائے تو وہ جھوم اُٹھتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اس تاریک پڑتے منظر میں نہ ہو تو دنیا گونگی ہو جائے۔
یہ منظر میری حسِ بصارت اور حسِ سماعت سے ٹکرا کر اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ میں کامن روم کی بالکنی میں جا کھڑا ہوتا ہوں۔ اور تب مجھ پر اس منظر کی ایک اور جہت کھُلتی ہے، سوندھی سوندھی سی خوشبو۔ میرے وطن میں جب رُکھوں (رُکھ= درخت، شجر) پر بہار اترتی ہے تو بُور (ننھے پھول) کھِلتا ہے۔ ٹاہلی کے پھول، نیم کے پھول اور دھریک کے پھول۔ ان پھولوں کی مہک بھی ایسی ہی جاں فزا ہوتی ہے، سوندھی سوندھی، ہلکی ہلکی اور مسلسل۔ اس اجنبی دیس کی اجنبی فضاؤں میں گھُلی یہ مہک جب میری سانسوں سے ہم آغوش ہوتی ہے تو میں بے خود ہو کر اپنے دیس، دور اپنے سوہنے دیس اُڑ جانے کے لیے مچل اُٹھتا ہوں۔ لیکن میں ایک پر کٹا پرندہ صرف پھڑپھڑا کر رہ جاتا ہوں۔
لیکن میری سوچ کی اُڑان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مہک، یہ بو باس مجھے ان گلی کُوچوں میں، کھیت کھلیانوں میں لے جاتی ہے، اس وقت میں لے جاتی ہے جب میرے دیس میں بہار اترتی تھی۔ اور دھریک پر ننھے ننھے پھول کھلا کرتے تھے۔ اور ان کی مست کر دینے والی خوشبو گرد و نواح کو مہکا دیتی تھی۔ کہتے ہیں کہ مہک اور بو باس کے ساتھ بھی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ خوشی اور غم کے احساسات منسلک ہوتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں کہوں تو مالیکیول جب ایک خاص تناسُب سے نتھنوں سے ٹکراتے ہیں تو خاص قسم کے برقی سگنل پیدا کرتے ہیں۔ جو دماغ میں عصبی خُلیوں کو متحرک کر دیتے ہیں۔ مہک محسوس کرواتے ہیں۔ اور اس سے وابستہ یادوں کو بیدار کر دیتے ہیں۔ آج ، اس وقت، یہ دھیرے دھیرے اترتی شام، گزرے برسوں کی بہاروں کی ان ہزاروں شاموں میں سے ایک شام بن کر مجھ پر اترتی ہے۔ اور میں اس خوشبو کو سانسوں میں بسا کر، پہلی تاریخوں کے ہلال کو دیکھ کر، اپنے رب سے اُس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔
اتوار، 27 مارچ، 2016
اللہ کے فضل کی تلاش
میں نے جب یہ سنا کہ اللہ کو گِڑ گِڑانا بہت پسند ہے، ہاتھ پھیلائے اس کے در پر بھیک مانگو تو اسے دینا اچھا لگتا ہے، تو میں نے اپنی دعاؤں میں گِڑگِڑانا شروع کر دیا۔ جب پتا چلا کہ اس کا شکر کرنے سے وہ اور دیتا ہے، تومیں نے طوطے کی طرح شکر کا رٹا لگانا شروع کر دیا۔ جب معلوم ہوا کہ ادھار دو تو وہ دس گُنا بڑھا کر دیتا ہے، میں نے اُس کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا، اس نیت سے کہ اب مال دس گُنا ہو کر واپس آئے گا۔ اُس نے ہر طرح سے مجھے دیا۔ مانگنے پر دیا، شکر کرنے پر دیا اور اپنی راہ میں دینے پر اور زیادہ دیا۔ بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب اللہ سائیں سے اس کا فضل اور کرم مانگنے کا کہا کرتے ہیں۔ میں نے جب یہ جانا تو اپنی دعاؤں میں پوری مصنوعی عاجزی طاری کر کے اور مسکین منہ بنا کر اس کا فضل، رحمت، کرم ، عطاء جو لفظ میری لغت میں اس کی رحمت کو ڈیفائن کرنے کے لیے موجود تھا سب استعمال کر کر کے اس سے مانگنا شروع کر دیا۔ تب اُس نے مجھے اور زیادہ عطاء کیا۔
میں پاکستان کی نوے فیصد آبادی کی طرح غربت کو دیکھ کر پلا بڑھا۔ پالنہار کی مہربانی اس نے کبھی بھُوکا نہیں سُلایا، لیکن اپنے والدین کو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جب سخت جدوجہد کرتے دیکھا تو میرے سامنے خودبخود پہلی منزل یہ آ گئی کہ اتنا کمالوں کہ انہیں دوبارہ وہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔ تو میں نے اللہ سے جب اس کا فضل مانگنا شروع کیا تو اس کے بیک اینڈ پر بھی یہی معنی ہوتے کہ اللہ جی بہت سا رزق یعنی روپیہ دے دیجیے۔ کافی زیادہ، بلکہ بہت زیادہ سا۔ اور اس نے مجھے دیا۔ پھر میں نے سنا کہ رزق صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا، اس کی اور بھی بے شمار صورتیں ہیں جیسے اولاد۔ اسی طرح اس کا فضل صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا اس کی بھی بے شمار صورتیں ہیں۔
آج ہمارا جرمن لینگوئج کورس باضابطہ طور پر ختم ہو گیا، ہمارا آخری ٹیسٹ بھی ہو گیا اور ہم یونیورسٹی جانے کے لیے آزاد ہو گئے۔ آج اپنے احباب کے درمیان ایک الوداعی سی تقریب میں وقت گزارا تو احساس ہوا کہ اہل علم کی صحبت بھی اس کا فضل ہے۔ پچھلے چار ماہ مُجھ پر پالنہار کا یہ فضل رہا کہ میں پاکستان کے بہترین دماغوں کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہا۔ ان میں سے ہر ایک جو اپنے شعبے کا ماہر ہے، جس کا اظہار ان کی گفتگو سے ہوتا۔ ان کے اندازِ تخاطب، نشست و برخاست اور طرزِ عمل سے پتا چلتا کہ یہ لوگ اس مقام کے حقدار تھے۔ یہ پاکستان میں جب اپنے اپنے شعبے میں، تدریس یا تحقیق جہاں بھی ہوتے ہوں گے تو وہاں اس کی ترقی کے لیے کتنے مؤثر ہوں گے۔ اور آج جب یہ یہاں ہیں، اور تین برس بعد واپس ڈاکٹر بن کر جائیں گے تو ان کی مہارت سے میرے ملک کو کتنا فائدہ ہو گا۔ تو مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ رہنا بھی باعثِ سعادت تھا۔ میں جو کسی زمانے میں اپنے والد کی ناشتے کی ریڑھی پر بیرا گیری کرتا تھا، آج مُجھے اُس کریم کی ذات نے کہاں لا بٹھایا ہے۔ تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ پر اس کا کِتنا فضل اور رحمت ہے۔ اور جو میں طوطے کی طرح ہر دعا میں آموختہ دوہراتا ہوں کہ مولا میں تیری رحمت کا محتاج، مجھ پر اپنا کرم کر دے، فضل کر دے، عطاء کر دے، تو وہ دعائیں رائیگاں نہیں جا رہیں۔ اس کی بارگاہ میں قبولیت پا رہی ہیں۔ تو میرا سر اس کی رحمت کے احساس سے جھُک گیا۔
میں نے آج یہ سیکھا کہ اچھا حلقۂ احباب بھی اس کا فضل ہے۔ علمِ نافع بھی اس کا فضل ہے۔ چاہے وہ دنیا کا ہو یا دین کا۔ میں نے یہ جانا کہ میں اور میرے یہ سب ساتھی، واپس جا کر اپنے اپنے شعبے میں اپنے وطن کی ترقی کے لیے کچھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا فائدہ عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہونے کی صورت میں ہو گا۔ پالیسی سازی، قانون سازی، تدریس اور تحقیق میں اس کا بالواسطہ اور بلاواسطہ اثر ہو گا۔ ان سب کی نیت نیک ہے، تو ان کا علم حاصل کرنے کا عمل بھی ایک نیک عمل قرار پائے گا۔ اور اس کی توفیق بھی اُس ذات کا فضل ہے۔ میں اپنے رب سے دعا گو ہوں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہم سب کو نیک نیتی کی توفیق دے، ہمیں اپنے اپنے شعبے کی بہتری کے لیے صدقِ دل اور دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق دے۔ اور ہمارے اس علم کو اپنی مخلوق کی مدد کرنے کا آلہ، ان کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ اور ہمارے اہل و عیال کے لیے رزقِ حلال کے حصول کا وسیلہ بنا دے۔ آمین، یارب العالمین۔
اتوار، 20 مارچ، 2016
ایک شہر
شہر تھا، نہروں کا شہر ایمسٹرڈیم۔ جال تھا، ایک دوسرے کو کاٹتی ہر طرف کو بڑھتی چلی جاتی سڑکوں کا جال۔ مشینیں تھیں، سڑکوں پر دوڑتی ان گنت مشینیں۔ عمارتیں تھیں، قطار اندر قطار کھڑی چھوٹی بڑی قدیم اور جدید عمارتیں۔ وجود تھے، دو ٹانگوں والے ہزاروں وجود، آپس میں مگن چلتے رکتے چہلیں کرتے وجود۔ اور ایک مسافر تھا، تنہا مسافر۔
پانی تھا، گدلا سبزئی پانی۔ بجرے تھے، کشتیاں تھیں اور گھر تھے۔ ان میں آنکھیں تھیں، متجسس آنکھیں، مگن آنکھیں، ٹٹولتی آنکھیں، کچھ ڈھونڈتی آنکھیں۔ جنگل تھا، کنکریٹ کا جنگل، آپس میں مگن، بے نیاز عمارتوں کا جنگل۔ اور ایک مسافر تھا، بے قرار مسافر۔
آسمان تھا، سرمئی چادر اوڑھے نیم روشن آسمان۔ ہوا تھی، سرد اور بے پرواہ ہوا۔ سورج تھا، بادلوں کی اوٹ میں چھپا شرمندہ سا سورج۔ درخت تھے، پتوں سے عاری ٹنڈ منڈ درخت۔ اور ایک مسافر تھا، اجنبی مسافر۔
بستی تھی، سرخی میں ڈوبی ایک بستی۔ پنجرے تھے، شیشے کے پنجرے۔ مال تھا، غازے میک اپ سے سجا مال، جوان بوڑھا خوبصورت بھدا مال۔ چہرے تھے، تاثرات سے عاری چہرے، لُبھاتے بُلاتے چہرے۔ نگاہیں تھیں، ہوس ناک نگاہیں، کھا جانے والی نگاہیں۔ اور ایک مسافر تھا، سزا جزا نیکی بدی کے بیچ معلق مسافر۔
رات تھی، سیاہ رات۔ روشنیاں تھیں، ہر طرف سے پھُوٹتی روشنیاں، دعوت انگیز روشنیاں۔ رنگ تھے، چمکیلے بھڑکیلے رنگ۔ اجنبیت تھی، زمین سے اُبلتی اجنبیت۔ تنہائی تھی، لامتناہی تنہائی۔ اور ایک مسافر تھا، سرگرداں مسافر۔
جمعہ، 18 مارچ، 2016
اعتراف
آج میرے لینگوئج سکول میں ہم نے اپنے اساتذہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی رکھی تھی۔ یہاں چار ماہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ میرے ملک کے عظیم دماغ جن کی صحبت کا شرف مجھے حاصل رہا۔ سائنس، معیشت، قانون غرض ہر شعبے کے ابھرتے ہوئے ستارے اور مجھ جیسا ایک عام سا انسان جو بس تُکے سے ان کے ہمراہ ہو لیا۔ پنجابی میں اسے انھے ہتھ بٹیرا (اندھے کے ہاتھ بٹیر) والی مثال سے سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ میں استاد ہوں اور میں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ کئی برس سے ترجمہ کر کر کے میں اچھا خاصا مترجم ہو چکا ہوں۔ دوسروں کے الفاظ ترجمہ کر کر کے اور لوگوں کی کتب سے پڑھا پڑھا کر مجھے چند لفظ کہنے اور لکھنے کا فن آ گیا ہے۔ میرے احباب نے میرے اس بہروپ کو سچ سمجھ کر جب الوداعی کلمات بولنے کے لیے کھڑا کیا تو اپنی کم مائیگی کا احساس اور شدید ہو گیا۔ اتنے بڑے بڑے لوگ اور ان کے سامنے کھڑا ایک بونا بھلا کیا بولتا۔ انگریزی میں چند جملے بول کر رہ گیا۔ وہ لفظ تو میری زبان سے نکل گئے، لیکن مجھے بہت دیر بعد (جیسا کہ میرا معمول ہے) احساس ہوا کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ کہ ان عظیم دماغوں کا ساتھ اب چند دنوں کا ہی ہے۔ پھر سب اپنے اپنے شہر پی ایچ ڈی کے لیے چلے جائیں گے، اور میں جو ان کی تابانی سے روشن ہو کر خود کو بھی ایک ہیرا سمجھنے لگ گیا تھا پھر سے بے قیمت کوئلہ رہ جاؤں گا۔
بھلا صلاح الدین جیسا ہنس مُکھ اور بے لوث دوست کہاں ملے گا۔ اس کی سدا بہار مسکراہٹ اور ایک خاص وقفے سے بلند ہوتی ہوئی ہنسی، عبدالرحمٰن کا افسرانہ انداز اور نپی تلی باتیں بھلا کون بھولے گا۔ عمران کی کھلکھلاتی ہوئی خاموش مسکراہٹ، رانا فیصل شہزاد کا اپنی تعریف پر جھینپتے ہوئے قہقہے لگانا، محمد فیصل کا میری جگت اندازی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، ظفر صاحب کا حیران کن حد تک وسیع جرمن ذخیرۂ الفاظ، سہیل آفتاب بھائی کامشفقانہ اور بزرگانہ انداز ۔۔ تنزیلہ علوی، غزالہ عنبرین، عظمیٰ علی جنہوں نے مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر سُدھارنے کی کوشش کی اور جو سخت ناکامی سے دوچار ہوئی، بشرٰی غفران احمد کا سو سنار کی کے جواب میں ایک لوہار کی چوٹ لگانا اور اس پر مخاطب کا بلبلا اُٹھنا، میمونہ منیر کا پانچ سالہ تدریسی تجربہ جو انہوں نے اس کلاس میں بے دریغ آزمایا اور ماریہ (اور ان کا بیٹا محمد عبداللہ)۔۔۔ یہ سب لوگ ستاروں کا ایک ایسا کلسٹر تھے جن کے قریب سے گزرتے گزرتے میں، ایک آوارہ سیارہ، کچھ عرصے کے لیے روشن ہو گیا۔ اور جب یہ سفر ختم ہوا تو پھر سے اندھیرا اس بے آب و گیاہ وجود کا مقدر ہو گا۔
جے میں ویکھاں عملاں ولے
کُجھ نئیں میرے پلے
جے ویکھاں تیری رحمت ولے
بلے بلے بلے
میرے پلّے تو کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ میں کل بھی تہی دامن تھا، آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ جو کچھ ہے اُس کی رحمت ہے۔ ان احباب کا ساتھ بھی اس کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھی۔ میرے لیے بہت کچھ سیکھنے کا موقع، جو میری نالائقی سے ضائع جا رہا ہے۔ جب میرے ہاتھ اُٹھیں اور آنکھیں بھر آئی ہوں تو منہ سے یہی لفظ ادا ہوا کرتے ہیں کہ مالک یہ تو تُجھے اور مُجھے پتا ہے کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے۔ لیکن تُو تو ستّار ہے، تُو میرے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھیو، یہ جو بہروپ میں نے بھر رکھا ہے، جو سوانگ رچا رکھا ہے اس پر اپنی عطاء کی چادر ڈالے رکھیو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاکر بہت کچھ ہے، لیکن یہ تو تُو اور میں جانتے ہیں کہ شاکر نامی یہ مٹی کا باوا ہر سانس تیری رحمت کا منتظر ہے، جس سانس تیرا کرم اس پر سے اُٹھا وہ سانس اس کی آخری سانس ہو گی۔
اتوار، 14 فروری، 2016
افشائے حقیقت
میں نے برقی آئینے میں خود کو دیکھا۔
قدیم داستانوں میں بیان کردہ دیوؤں سی بلند قامت۔۔
مقدس صحیفوں میں ذکر کردہ فرشتوں سی نورانی شباہت۔۔
میں بے اختیار خود کو تعظیم دینے کے لیے جھُکتا چلا گیا۔۔۔
جھُکا تو پتا چلا کہ میرا عکس تو 0 اور 1 کے مجموعے کے سِوا کچھ نہیں۔۔
میں جھُک کر اُٹھا تو میرے اردگرد میرے جیسے سات ارب اور نفوس آ موجود ہوئے۔
میں دیو سے بالشتیا ہو گیا۔۔۔
میں نے آسمان پر نگاہ دوڑائی تو اپنی دنیا جیسی اربوں دنیائیں چمکتی نظر آئیں۔
میں شرم سے زمین میں گڑ گیا۔۔۔
میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
میں عظیم کے قدموں میں گِر پڑا۔۔۔
اے میرے مالک! عظمت اور بڑائی تیرا ہی شیوہ!
میں تیرا بندہ اور غلام۔۔ گھٹیا پن میرا پیشہ۔۔
تُو مجھ پر اپنا رحم ہی رکھیو۔۔
اے میرے مالک اس بھلکڑ، نیچ ذات، گھٹیا پر اپنا کرم ہی رکھیو۔۔۔
اتوار، 7 فروری، 2016
مسافر
مسافر بنیادی طور پر ایک سیف پلیئر ہے۔ اپنی زندگی کے ساتھ کبھی رسک لینے کی حماقت کم ہی کرتا ہے۔ راستہ مشکل ہو جائے تو آسانی کا متلاشی ہوتا ہے۔ بند گلی مل جائے تو پیچھے مُڑ کر کوئی اور گلی لے لیتا ہے۔ ہمیشہ ایک سے زیادہ متبادل تیار رکھتا ہے اور ایک میں ناکام ہونے پر دوسرے متبادل کو اپنی منزل بنا لیتا ہے۔ اور پھر اس پر باقاعدگی سے فخر بھی کرتا ہے۔ مسافر نے آج سے چند برس قبل جب لاہور کا سفر شروع کیا تھا تو اس کی وجہ بھی ایک راستہ بند ہونے پر متبادل کو اپنی منزل بنا لینا تھا۔ آج کئی برس بعد بھی مسافر کا سفر جاری ہے۔
مسافر کی زندگی کو اگر کوئی کمپیوٹر گیم فرض کر لیا جائے، تو آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اسٹیج در اسٹیج اپنی زندگی کی اننگز کھیل رہا ہے۔ ایک اسٹیج ختم ہوتی ہے تو اگلی تیار کھڑی ہوتی ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں آنے والی کمپیوٹر گیمز میں ہر اسٹیج کے آخر پر ایک باس /بلا آیا کرتی تھی جس سے نمٹے بغیر اگلی اسٹیج پر جانا ناممکن ہوا کرتا تھا۔ تو مسافر کی زندگی کی ہر اسٹیج بھی کچھ ایسی ہی بلاؤں سے پُر ہے۔ ہر اسٹیج کے آخر پر پچھلی اسٹیج سے زیادہ بڑی اور سخت بلا راستے روکے کھڑی ہوتی ہے۔ اور مسافر کو اپنی پتلی گلی سے نکل لینے والی طبیعت کے برعکس اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ا س کی ٹانگوں تلے سے نکلنے کی جگہ مل جاتی ہے، اکثر البتہ ایسا نہیں ہوتا اور بلا سے مقابلہ کیے بغیر آگے جانا ناممکن ہوتا ہے۔ اپنی زندگی میں پار کردہ ہر اسٹیج ، اور ہر اسٹیج پر آنے والی بلا سے نپٹنے کے بعد ایک عرصے تک مسافر کو یہ گمان رہا کہ شاید اب والی اسٹیج آسان ہو گی۔ لیکن وقت نے مسافر کو سمجھا دیا ہے کہ آنے والی ہر اسٹیج پچھلی سے ایک درجہ زیادہ مشکل ہی ہو گی۔ اس لیے مسافر کے لیے یہ صورتحال چاہے کتنی بھی ناگوار کیوں نہ ہو، ایک حقیقت ہے۔
ایک دوسرے انداز میں دیکھیں تو مسافر کی زندگی گویا قسطوں میں چلنے والا ایک ڈرامہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس ڈرامے کی قسطیں اتنی تیز رفتاری سے ایک کے بعد ایک آتی چلی جاتی ہیں کہ ان پر بیک وقت چلنے کا گمان ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی زبان میں اس چیز کو ملٹی ٹاسکنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ مسافر کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ملٹی ٹاسکنگ کا مجموعہ ہے، جس میں مسافر مختلف پروگرامز میں مختلف کردار نبھا رہا ہو اور وہ سارے پروگرام بیک وقت کھُلے ہوئے ہوں۔ آسان لفظوں میں کہیں تو مسافر کی زندگی خانوں میں بٹی ہوئی ہے اور اس کے وجود کا ایک ایک ٹکڑا رئیل ٹائم (حقیقی وقت) میں اس خانے میں متعین زندگی کو بیک وقت گزار رہا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کمپیوٹر کا پروسیسر بیک وقت کئی ایک تھریڈز ہینڈل کر رہا ہوتا ہے۔
اس انداز سے دیکھیں تو مسافر کی زندگی کے خانے کسی آئینے کے ٹوٹے ہوئے بے شمار ٹکڑے محسوس ہوتے ہیں جن کے سامنے کھڑا وجود اتنے ہی ٹکڑوں میں بٹ کر اُن میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کی زندگی ایک مکمل اور بڑے آئینے جیسی بھی ہوتی ہو، کہ جس میں کوئی بال بھی نہ ہو اور انہیں اپنا آپ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ کر تقسیم بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن مسافر کے مشاہدے کے مطابق عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر و بیشتر، یا کم از کم مسافر کے ساتھ تو یہی معاملہ ہے۔ مسافر کو ملٹی ٹاسکنگ یا ایک ہی وقت میں کئی خانوں میں بٹی زندگی گزارنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ خانہ بندی اور تقسیم تنہائی کے چھوٹے چھوٹے لاتعداد فرنچائز کھول دیتی ہے۔ مسافر گویا لاتعداد کائناتوں کا تنہا باسی بن جاتا ہے، اور ہر کائنات میں اتنی ہی تنہائی اور خلاء موجود ہوتا ہے جیسا کہ حقیقی کائنات میں ہے۔ تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں مسافر کی زندگی اور شخصیت تو تقسیم در تقسیم سے گزرتی ہے، لیکن اس کی ازلی تنہائی ضرب در ضرب سے گزر کر رائی کا پہاڑ بن جاتی ہے۔
مسافر کی زندگی کا ایک خانہ کتاب سے جڑا ہے۔ کتاب سے مراد اہلِ علم والی کتاب نہیں، بلکہ سکول، کالج، یونیورسٹی والی کتاب جس کے پڑھنے کے بعد نوکری کا دروازہ کھُلتا ہے۔ اسی خانے سے جڑا ایک خانہ ایک مستقل کلاس روم ہے جہاں مسافر کی زندگی کی ہر اسٹیج پر موجود کلاس روم اکٹھا ہو کر ایک اچھی خاصی لمبی فلم بن جاتا ہے۔ نرسری اور کے جی ون، پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول، کالج، یونیورسٹی اور ٹریننگ ، لینگوئج کورس غرض ایسے متعدد کلاس رومز ہیں جو مسافر کی زندگی کے اس خانے میں پائے جاتے ہیں۔ کبھی آپ اس خانے میں نظر ڈالیں تو مسافرکو ایک مریل سے بچے سے ایک تقریباً جوان ہو چکے وجود میں تبدیل ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
مسافر کی زندگی کے یہ دو خانے ایک تیسرے خانے سے جڑے ہیں جس کا نام سفر ہے۔ مسافر، جیسا کہ اوپر صراحت کی جا چکی ہے، مشکلات سے بچ بچا کر ، چیلنجز سے نبرد آزما ہوئے بغیر ہی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ سفر بھی مسافر کی نظر میں ایک مشکل صورتحال کا نام ہے جس سے ہر ممکن حد تک احتراز گویا ایک فرضِ عین ہے۔ لیکن ستم ظریفی کہ مسافر کے اپنے آسانی تلاش کرنے والے فیصلے ہی اس کے پیروں میں چکر کی وجہ بن جاتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں اس خانے میں ایک لمبی بے ہنگم لکیر نظر آتی ہے۔ کبھی یہ لکیر دو نقاط کے درمیان شٹل کاک کی طرح چلتی ہے، کبھی کوئی تیسرا نقطہ بھی ساتھ آ لگتا ہے، کبھی نقاط کی تعداد بڑھ کر چار اور پھر پانچ ہو جاتی ہے۔ کبھی شٹل کاک کی آنیاں جانیاں ایک مختصر وقت کے لیے ہوتی ہیں اور کبھی عرصہ طویل ہو جاتا ہے۔
حسابی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ تین خانے مسافر کی زندگی کے ایک بڑے حصے کی تشکیل کرتے ہیں۔ بظاہر ان خانوں میں مسافر ایک شوریلا بچہ نظر آتا ہے ، جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی کچھ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ پسِ پردہ البتہ کچھ اور معاملہ چلتا ہے۔ مسافر، جیسا کہ اس سے جڑی پچھلی تحریر سے پتاچلتا ہے، فطری طور پر ایک تنہا شخص ہے۔ گلاس کو آدھا خالی دیکھنے کا عادی، تنہائی اور اندھیرے میں تلخی کے باوجود سکون محسوس کرنے والا ایک ایسا وجود جو ان ساری کیفیات سے بیک وقت لوْ ہیٹ کا تعلق رکھتا ہے۔ ایک ایسی عمارت جس کے سامنے والے پورشن میں چاہے ہر وقت بینڈ باجے والے اترے رہتے ہوں، لیکن سب سے پچھلے کمرے میں اندھیرا ہی رہتا ہے۔ مسافر کی دوہری زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے، سرد و گرم اور پرسکون و متلاطم جیسی متضاد کیفیات سے عبارت ،لیکن مسافر اس پر اندر ہی اندر فخر و غرور جیسے جذبات بھی رکھتا ہے۔ ہاں البتہ اس کی وجہ سے مسافر خود بھی لاعلم ہے۔ شاید مسافر کو جاننے والے اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احباب آسانی کے لیے اسے آج سے تین برس قبل لکھی گئی تحریر موٹروے کا تقریباً سیکوئل سمجھ سکتے ہیں۔ اس وقت موٹروے تھی، آج جرمنی کی بے کراں وُسعتیں مجھے اپنی آغوش میں لیتی ہیں تو کچھ ویسی کیفیات لوٹ آئیں جنہیں کاغذ پر اتار دیا۔
ہفتہ، 23 جنوری، 2016
اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔
![]() |
| اس بلاگ کے ایک قاری زبیر صاحب کی کاوش |
کہا اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بڑھاپا چمکنے لگا ہے اور میرے رب! تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں ہوا۔
لَمْ اَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا
اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا۔
بوڑھے زکریاؑ کو اولاد کی تمنا ہے۔ آہستہ سے پالنے والے کو پکارتے ہیں۔ دعا کرتے ہوئے ان کے لہجے کی امید اور رب پر مان نے آج میری آنکھیں نم کر
دیں۔ کتنا مان تھا ان لفظوں میں کہ رب العالمین نے انہیں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔
دیں۔ کتنا مان تھا ان لفظوں میں کہ رب العالمین نے انہیں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔
لَمْ اَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا
اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
بندہ ہونے کا احساس کیسے اپنے عروج پر ہے۔ زکریاؑ جانتے ہیں کہ یہیں سے ملا ہے اور یہیں سے ملے گا۔
کاش میں بھی اُس کا ایسا ہی بندہ بن جاؤں۔ مجھے احساس ہو جائے کہ وہیں سے ملا ہے اور وہیں سے ملے گا۔ کاش مجھے اُس پر زکریاؑ کے مان کے ایک لاکھویں حصے جتنا ہی مان ہو جائے۔ کاش جب میرے ہاتھ اٹھیں تو اس نیت سے اٹھیں کہ اسی در سے میری حاجت روائی ہو گی۔
آج زکریاؑ کے الفاظ برت کر ہی ایک رذیل کمین بھی بارگاہِ ایزدی میں ہاتھ اٹھائے گا تو اپنے لہجے میں کچھ مان رکھنے کی کوشش کرے گا۔
لَمْ اَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا
اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
تیری بارگاہ سے سب کچھ ملا۔
تیرے ہی در سے ہمیشہ حاجت روائی ہوئی۔
تو ہی میرا مولا ہے۔
تو اپنے حبیب ﷺ کے صدقے مجھ پر اپنا کرم رکھیو۔
لَمْ اَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا
اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
جمعرات، 7 جنوری، 2016
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
کچھ قارئین کے خیال میں کبھی کبھی میں بہت اچھا لکھ لیتا ہوں۔ لفظ جوڑنا بڑی پرانی بیماری ہے۔ عرصہ ہوا، ایک عشرہ اس بلاگ کو ہو گیا اور اس سے بھی پہلے سے لفظ جوڑ جوڑ کر ٹاٹ بُننے کی عادت ہے۔ کبھی کبھی لفظوں کی کُترن سے بنی یہ گدڑیاں اتنی اچھی بن جاتی ہیں کہ دیکھنے والے پسندیدگی کی رعایت دے جاتے ہیں۔ لفظ لکھاری کے غلام ہوتے ہیں۔ جیسے لوہا لوہار کا غلام ہوتا ہے، اس کے ہاتھوں میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ جیسے بڑھئی لکڑی میں سے اور مصور رنگوں میں سے شاہکار نکال لاتا ہے۔ لیکن میرے جیسے لفظوں کے لکھاری نہیں لفظوں کے بھکاری ہوا کرتے ہیں۔ کہ جب دل کرے لفظ مہربان ہو جاتے ہیں اور جب دل کرے رُوٹھ جاتے ہیں۔ لفظوں کی یہ لُکن میٹی تاعمر چلتی ہے، دھوپ چھاؤں کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسی لیے کبھی کبھی تو پوبارہ ہو جاتے ہیں لیکن اکثر تین کانے ہی نکلتے ہیں۔
سنا ہے اقبال پر اشعار اُترا کرتے تھے۔ جب میرے جیسے بھکاری یہ سنتے ہیں تو خود کو اقبال نہیں تو اس کے آس پڑوس کی کوئی چیز سمجھ کر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن لفظ رُوٹھے ہوں تو خالی کاغذ منہ چِڑاتا رہتا ہے۔ چار حرف جُڑ بھی جائیں تو معنی سے خالی، بے روح ڈھانچے وجود میں آتے ہیں۔ ذہن و دل میں جو کچھ کہنے کی تمنا ہوتی ہے اس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ جب لکھنا بھی ہو اور لفظ نہ ملیں تو اندر مانو آرے چلتے ہیں، بن پانی کے مچھلی کے کلیجے پر بھی شاید ایسے ہی آرے چلتے ہوں گے۔ جہاں کچھ بھی نہ ہو، کوئی ہریاول نہ ہو، بنجر بیابان ویرانہ ہو، وہاں سے بھلا چشمہ کیسے پھُوٹے؟ جب زبردستی چشمہ نکالنے کی کوشش کرو تو پھر یہی کچھ ہو گا۔ خلا میں سانس لینے سے بھلا آکسیجن تو نہیں مل جائے گی نا۔
بے بسی، بے کسی، کم مائیگی، کونسا احساس ہے جو اس تڑپن میں شامل نہیں ہوتا۔ اور جب لکھنا کسی ایسی ہستی کے بارے میں ہو، کہ جس کے بارے میں لکھنے میں لوگ فخر محسوس کریں، اور شاکر جیسے کمی کمین بھی ان ﷺکے مدح خوانوں میں نام لکھوانا چاہیں، لیکن لفظ نہ ملیں۔ دل کا مُدعا زبان پر آنے سے پہلے ہی آنسوؤں کے راستے بہ نکلے۔ تو ایسی بے بسی اور بے کسی کو کیا نام دیا جائے۔ حسان بن ثابتؓ سے لے کر آج تک ان کے جتنے مدح خواں ہوئے، کتنے خوش نصیب لگتے ہیں۔ اور پھر اپنے جلے نصیبوں پر نگاہ جاتی ہے تو اور رونا آتا ہے۔ آنسو اور اُبل پڑتے ہیں۔ محمد الرسول اللہ ﷺ کی شان میں لکھنے والے کتنے خوش نصیب ہیں۔ شاعر ان کی شان میں شعر کہتے ہیں، کتنے خوبصورت شعر کہتے ہیں۔ شاکر جیسے کمی کمین شعر نہیں کہہ سکتے تو نثر کے چار لفظ بھی نہیں لکھ پاتے کہ ان کی اتنی اوقات نہیں ہے۔ رحمتِ ایزدی کی آس میں نظریں ہر بار خالی لوٹ آتی ہیں، کاسہ لفظوں سے خالی ہی رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ آنسو بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ صرف سسکیاں باقی رہ جاتی ہیں۔ اور حسن نثار پر رشک آتا ہے۔
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس تُو لیتا اور میں جی اُٹھتا
کاش مکہ کی میں فضا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا
سنا ہے اقبال پر اشعار اُترا کرتے تھے۔ جب میرے جیسے بھکاری یہ سنتے ہیں تو خود کو اقبال نہیں تو اس کے آس پڑوس کی کوئی چیز سمجھ کر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن لفظ رُوٹھے ہوں تو خالی کاغذ منہ چِڑاتا رہتا ہے۔ چار حرف جُڑ بھی جائیں تو معنی سے خالی، بے روح ڈھانچے وجود میں آتے ہیں۔ ذہن و دل میں جو کچھ کہنے کی تمنا ہوتی ہے اس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ جب لکھنا بھی ہو اور لفظ نہ ملیں تو اندر مانو آرے چلتے ہیں، بن پانی کے مچھلی کے کلیجے پر بھی شاید ایسے ہی آرے چلتے ہوں گے۔ جہاں کچھ بھی نہ ہو، کوئی ہریاول نہ ہو، بنجر بیابان ویرانہ ہو، وہاں سے بھلا چشمہ کیسے پھُوٹے؟ جب زبردستی چشمہ نکالنے کی کوشش کرو تو پھر یہی کچھ ہو گا۔ خلا میں سانس لینے سے بھلا آکسیجن تو نہیں مل جائے گی نا۔
بے بسی، بے کسی، کم مائیگی، کونسا احساس ہے جو اس تڑپن میں شامل نہیں ہوتا۔ اور جب لکھنا کسی ایسی ہستی کے بارے میں ہو، کہ جس کے بارے میں لکھنے میں لوگ فخر محسوس کریں، اور شاکر جیسے کمی کمین بھی ان ﷺکے مدح خوانوں میں نام لکھوانا چاہیں، لیکن لفظ نہ ملیں۔ دل کا مُدعا زبان پر آنے سے پہلے ہی آنسوؤں کے راستے بہ نکلے۔ تو ایسی بے بسی اور بے کسی کو کیا نام دیا جائے۔ حسان بن ثابتؓ سے لے کر آج تک ان کے جتنے مدح خواں ہوئے، کتنے خوش نصیب لگتے ہیں۔ اور پھر اپنے جلے نصیبوں پر نگاہ جاتی ہے تو اور رونا آتا ہے۔ آنسو اور اُبل پڑتے ہیں۔ محمد الرسول اللہ ﷺ کی شان میں لکھنے والے کتنے خوش نصیب ہیں۔ شاعر ان کی شان میں شعر کہتے ہیں، کتنے خوبصورت شعر کہتے ہیں۔ شاکر جیسے کمی کمین شعر نہیں کہہ سکتے تو نثر کے چار لفظ بھی نہیں لکھ پاتے کہ ان کی اتنی اوقات نہیں ہے۔ رحمتِ ایزدی کی آس میں نظریں ہر بار خالی لوٹ آتی ہیں، کاسہ لفظوں سے خالی ہی رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ آنسو بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ صرف سسکیاں باقی رہ جاتی ہیں۔ اور حسن نثار پر رشک آتا ہے۔
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس تُو لیتا اور میں جی اُٹھتا
کاش مکہ کی میں فضا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا
اتوار، 3 جنوری، 2016
دو مناظر
میرے سامنے دو مناظر ہیں، دو تصاویر، ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ موجود لیکن متضاد تصاویر اور میں ان دونوں تصاویر میں ایک مِس فٹ عنصر:
میری کھڑی کے پار پہلا منظر جیسے صدیوں سے یونہی ساکن ہے۔۔کسی مصور کی پینٹنگ کی طرح۔۔۔تاحدِ نگاہ برستی بارش ۔۔ایک کے بعد ایک قطرہ ایسے قطار اندر قطار اترتا چلا آتا ہے جیسے آسمان سے زمین تک پانی کی چادر ٹنگی ہوئی ہو۔ ایک مخصوص ردھم میں ہلتے درخت اور اکثر کانوں تک پہنچ جانے والی ٹِپ ٹِپ کی آواز۔ لیکن اس منظر کے سکون میں کبھی کبھی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے اور جیسے زندگی انگڑائی لے کر اُٹھنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔۔۔کسی کار کے گزرنے سے، کسی چمنی سے دھواں برآمد ہونے سے، کسی پرندے کے منظر میں در آنے سے۔ اب پھر اس ابدی پینٹنگ میں زندگی نظر آ رہی ہے کہ ایک پرندہ بارش کے خلاف بغاوت کر کے گھر سے نکل آیا ہے۔۔۔۔
یہ میری نسل کے لوگوں کا ا لمیہ ہے یا خوش قسمتی کہ میرے سامنے ایک دوسرا منظر بھی ہے۔ میرے لیپ ٹاپ کی برقی اسکرین پر چلتا ہوا ڈیجیٹل منظر۔۔جس پر کھڑکی کے باہر ہونے والے عوامل کا کوئی اثر نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ یہ منظر برقی اشاروں سے تخلیق کردہ ایک فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں، کہ ماؤس سے کلک کرنے اور لیپ ٹاپ اسکرین پر ہاتھ لگانے سے ردعمل کا احساس سب مصنوعی ہیں۔ لیکن حقیقت سے مجاز اور قدرتی سے مصنوعی کا فرق آج مجھے اچھا لگتا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جس پر میرے اپنے، ہزاروں میل دور میرے دیس میں موجود میرے اپنے نمودار ہوتے ہیں تو میں چند لمحوں کے لیے کھڑکی کے باہر منجمد اس ازلی تصویر سے جدا ہو کر وہاں جا موجود ہوتا ہوں، ان گلی کُوچوں میں جن کا طواف میری روح اب بھی کرتی ہے۔ اور اسی مصنوعی منظر پر بار بار کچھ نئے چہرے بھی اُبھر آتے ہیں۔ زندہ، جوان، شوخ، چنچل، اور شرارت بھری آنکھوں والے کھلکھلاتے چہرے جنہیں ایک ماہ پہلے تک میں جانتا بھی نہ تھا۔ لیکن اب وہ ایک اجنبی دیس میں جیسے میرا خاندان ہیں۔ میرے دیس کی جانب کھُلنے والی کھڑکی، مجھے میرے اپنوں کی یاد دلاتے، حوصلہ دلاتے میرے اپنے، میرے مُلک کا سرمایہ، میرے مُلک کے ذہین ترین دماغ۔۔۔جن کا ساتھ میرے لیے باعثِ حوصلہ اور باعثِ فخر ہے۔
اور پھر میں ہوں، ان دونوں مناظر میں ایک مِس فٹ عنصر۔۔۔۔۔
بدھ، 30 دسمبر، 2015
قصہ ہماری ایک کچیچی کا
والدہ کہا کرتی ہیں کہ تیرے تایا عبد الرشید کے ماتھے پر پیدا ہوتے ہی تیوری چڑھی ہوئی تھی۔ اللہ سائیں تایا عبد الرشید کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے ، میرے والد صاحب سے بڑے چار بھائیوں میں سے اب یہ اور تایا جمیل ہی حیات ہیں۔ تایا جی کی تیوری کچھ ایسی ہی چیز ہے جیسے کسی کمپنی کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک ہو۔ مائیکروسافٹ ونڈوز کے چار ڈبے، پیپسی کا نیلا اور سرخ دائرہ اور، انٹیل کا نیلا اسٹیکر دور سے ایک نظر میں پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے تایا جی کا ٹریڈ مارک ان کے متھے کی چار لکیریں جنہیں اردو میں تیوری اور پنجابی میں گھُوری کہتے ہیں، دور سے ہی نظر آ جاتی ہیں۔ ابھی میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ والدہ کو یہ کہنا یاد کیوں آیا کرتا ہے۔ تو اس کی وجہ میری ذات شریف ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں روز افزوں وسیع ہوتے متھے کے ساتھ جو چیز میں نے بڑے نازوں سے اپنے ساتھ پالی ہے وہ میرے متھے کی چار لکیریں ہیں۔ اب تو اتنی عادت ہو گئی ہے کہ کبھی کبھی ہنستے ہوئے بھی متھا گھُورنے لگ جاتا ہے۔ والدہ کہتی ہیں کہ گھُوری تم نے اپنے تائے سے لی ہے۔
گھُوری میں تایا جی اور والد صاحب کے غصے کا دخل ہو سکتا ہے کہ یہ وراثتی معاملہ ہے۔ لیکن کچیچی اس میں قطعاً ہماری ذاتی ایجاد ہے۔ کچیچی کا اردو ترجمہ دانت پیسنا بنتا ہے لیکن پنجابی والے معانی اس میں عنقا ہیں۔ کچیچی ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی بندے کو کسی بھی وقت چڑھ سکتی ہے۔ یہ صرف ایک فعل نہیں، ایک حالت ہے۔ جب کچیچی چڑھتی ہے تو دانت پیسنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور افعال بھی سرزد ہو جاتے ہیں۔ جیسے ماتھے پر گھُوری، جبڑوں کا بھینچ جانا، کان سرخ اور آنکھوں سے آگ برسانے کی کوشش، اور پھر خون کا نقطہ کھولاؤ کے قریب پہنچ جانا۔ ان ساری کیفیات سے یہ ناتواں اپنے ابتدائی ایام سے واقف ہے۔ اس ناتواں وجود پر فرانسیسی فلسفی رینے دیکارت کا قول ("میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں") کچھ ترمیم و اضافے کے بعد ایسے فِٹ ہو سکتا ہے کہ "میں کچیچتا ہوں اس لیے میں ہوں"۔ شاید فدوی کو اپنے ہونے کا احساس ہی کسی اوّلین کچیچی سے ہوا تھا۔ اس حوالے سے ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں پیدا کرنے کے مرکزی مقصد یعنی اللہ کی عبادت کے علاوہ ہمیں خالق نے جو اضافی ذمہ داریاں سونپیں ان میں سے ایک کچیچنا بھی تھا۔ اور اللہ کے فضل سے پچھلے تین عشروں سے ہم عبادت کا فرض انجام دینے میں چاہے کوتاہی کر جائیں، کچیچی کا فرض بہ احسن و خوبی سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔
فنکاروں، اداکاروں اور مشاہیر سے پوچھا جاتا ہے کیا بچپن سے ہی یہ بننا چاہتے تھے؟ پہلی بار کیسے احساس ہوا کہ آپ کے اندر ایک فلاں چھپا بیٹھا ہے؟ اسی فلو میں ہم سے پوچھا جائے کہ پہلی کچیچی کب لی تھی، تو اس کا جواب دینا مشکل ہو گا۔ چونکہ ہمارے لیے کچیچی روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ رہی ہے۔ کچیچی لینا ہمارے لیے کچھ ایسا ہی نارمل عمل تھا جیسے بکری کے بچے (میمنے) کے لیے بے بے کرنا۔ ایک عرصے تک ہم بھی کچیچنے کو ہوا، پانی اور روٹی کی طرح زندگی کی ضرورت سمجھتے رہے۔ یادوں کے افق پر اس کی نفی کرتی ہوئی پہلی رنگین تصویر جو نقش ہے وہ ہمارے گیارہویں کے ٹیوشن پڑھانے والے پروفیسر صاحب تھے۔ پی ایچ ڈی اسسٹنٹ پروفیسر جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں استاذ تھے اور ساتھ ہومیو پیتھی کا شغل فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے چہرے پر طاری رہنے والی اس مستقل کیفیت کو دیکھ کر ایک دن ہمیں پکڑ کر زبردستی بٹھا لیا، اپنی ہومیو پیتھی والی کتاب کھول لی اور ہم سے سوال جواب کرنے کے بعد ایک انتہائی کڑوی دوائی کے چند قطرے حکماً ہماری زبان پر ٹپکائے۔ اس دن ہمیں ایسا لگا کہ ہماری کچیچیی ہی دوائی کی صورت میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ اللہ ان پروفیسر صاحب کا بھلا کرے، وہ ہمارا علاج تو نہ کر سکے لیکن علاج کرنے کی کوشش ضرور کی۔ اللہ انہیں نیت کا ثواب عطاء فرمائے۔
گیارہویں کے بعد بھی ظاہر ہے ہم زندہ و جاوید رہے اور ابھی تک بفضل تعالٰی شریکوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہشاش بشاش، اور ہٹے کٹے (چلیں اس کا دس فیصد کر لیں) ہیں۔ اور ہمارا یہ شغل بھی ویسے ہی جاری و ساری ہے۔ اللہ نے وجود بھی دھان پان سا دے رکھا ہے، یا اس کو دھان پان رکھنے میں ہماری کچیچیوں کا عمل دخل ہے۔ ایک تھیوری یہ پیش کی جاتی ہے کہ کچیچیوں سے ہم اپنا خون اتنا جلا لیتے ہیں کہ وجود دھان پان سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتا۔ اس سلسلے میں کتنی سچائی ہے اس کا جواب تو وقت ہی دے گا، ہم نے اپنی ایک کچیچی پر یہ سب لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔
کل کچھ احباب کے ساتھ کہیں پھرنے پھِرانے کا پروگرام تھا اور حسبِ عادت کسی بات پر ہمیں کچیچی چڑھ گئی۔ آج صبح سو کر اٹھے تو کچیچی جا چکی تھی۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے چند سطریں گھسیٹ ڈالیں۔ اپنی کچیچیوں سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کچیچی کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ کچیچی میں خون مسلسل دھیمی آگ پر کھولتا رہتا ہے جسمانی و نفسیاتی درجۂ حرارت میں اضافہ اگر دیر تلک چلتا رہے تو صحت کے لیے قطعاً کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ثبوت کے لیے آپ ہمارے فیس بُک صفحے پر ڈھیر ساری تصاویر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ کچیچنا ایک آرٹ ہے لیکن اس سے اتنی ہی جلد نجات حاصل کر لینا اس سے بھی بڑا آرٹ ہے۔ اور ہمارے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی کہ اس سلسلے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کہ غصہ آنے پر اندازِ نشست (کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں۔۔۔) تبدیل کر لیا جائے، وضو کر لیا جائے یا میں نے جھگڑا کرتے وقت سعودی عربوں کے طرزِ عمل بارے سنا ہے کہ چھڑانے والے لڑنے والے فریقین کو صلو علی الحبیب کے الفاظ سے درود شریف کی تلقین کرتے ہیں۔ اور نبی ﷺ کا تو نامِ نامی ہی ایسا ہے کہ زبان پر آتے ہی دل نرم پڑ جاتا ہے۔ اللہم صل علی محمد و اٰل محمد و اصحاب محمد۔
اپنی کچیچیوں سے تنگ آ کر ایک دن ہم بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب کی خدمت میں چلے گئے جو کسی بابے کی خدمت میں حاضری کا اوّلین موقع تھا۔ ہم نے عرض کیا سر غصہ بہت آتا ہے جواباً انہوں نے دعا کر کے ایک ٹافی عنایت فرما دی۔ یہ ان کی دعا کا اثر ہے یا ہماری ڈھلتی عمر کا تقاضا ہے، وسیلہ جو بھی ہو ، اللہ کریم کی خاص رحمت ہے کہ اب احساس ہو جاتا ہے اور ہم اپنے آپ کو لعن طعن کر کے اس کیفیت سے نکلنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ جس طرح سٹنٹ سین کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ گھر پر ٹرائی مت کریں، اسی طرح آپ قارئین سے بھی التماس ہے کہ گھر پر غصہ ٹرائی مت کریں بلکہ نبوی ﷺ نسخہ آزمائیں، اور میری گزارش تو یہی ہو گی کہ درود شریف پڑھنے سے غصہ چلا جاتا ہے۔
اور آخر میں فیض کا ایک شعر
قرب کے نا وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
گھُوری میں تایا جی اور والد صاحب کے غصے کا دخل ہو سکتا ہے کہ یہ وراثتی معاملہ ہے۔ لیکن کچیچی اس میں قطعاً ہماری ذاتی ایجاد ہے۔ کچیچی کا اردو ترجمہ دانت پیسنا بنتا ہے لیکن پنجابی والے معانی اس میں عنقا ہیں۔ کچیچی ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی بندے کو کسی بھی وقت چڑھ سکتی ہے۔ یہ صرف ایک فعل نہیں، ایک حالت ہے۔ جب کچیچی چڑھتی ہے تو دانت پیسنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور افعال بھی سرزد ہو جاتے ہیں۔ جیسے ماتھے پر گھُوری، جبڑوں کا بھینچ جانا، کان سرخ اور آنکھوں سے آگ برسانے کی کوشش، اور پھر خون کا نقطہ کھولاؤ کے قریب پہنچ جانا۔ ان ساری کیفیات سے یہ ناتواں اپنے ابتدائی ایام سے واقف ہے۔ اس ناتواں وجود پر فرانسیسی فلسفی رینے دیکارت کا قول ("میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں") کچھ ترمیم و اضافے کے بعد ایسے فِٹ ہو سکتا ہے کہ "میں کچیچتا ہوں اس لیے میں ہوں"۔ شاید فدوی کو اپنے ہونے کا احساس ہی کسی اوّلین کچیچی سے ہوا تھا۔ اس حوالے سے ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں پیدا کرنے کے مرکزی مقصد یعنی اللہ کی عبادت کے علاوہ ہمیں خالق نے جو اضافی ذمہ داریاں سونپیں ان میں سے ایک کچیچنا بھی تھا۔ اور اللہ کے فضل سے پچھلے تین عشروں سے ہم عبادت کا فرض انجام دینے میں چاہے کوتاہی کر جائیں، کچیچی کا فرض بہ احسن و خوبی سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔
فنکاروں، اداکاروں اور مشاہیر سے پوچھا جاتا ہے کیا بچپن سے ہی یہ بننا چاہتے تھے؟ پہلی بار کیسے احساس ہوا کہ آپ کے اندر ایک فلاں چھپا بیٹھا ہے؟ اسی فلو میں ہم سے پوچھا جائے کہ پہلی کچیچی کب لی تھی، تو اس کا جواب دینا مشکل ہو گا۔ چونکہ ہمارے لیے کچیچی روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ رہی ہے۔ کچیچی لینا ہمارے لیے کچھ ایسا ہی نارمل عمل تھا جیسے بکری کے بچے (میمنے) کے لیے بے بے کرنا۔ ایک عرصے تک ہم بھی کچیچنے کو ہوا، پانی اور روٹی کی طرح زندگی کی ضرورت سمجھتے رہے۔ یادوں کے افق پر اس کی نفی کرتی ہوئی پہلی رنگین تصویر جو نقش ہے وہ ہمارے گیارہویں کے ٹیوشن پڑھانے والے پروفیسر صاحب تھے۔ پی ایچ ڈی اسسٹنٹ پروفیسر جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں استاذ تھے اور ساتھ ہومیو پیتھی کا شغل فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے چہرے پر طاری رہنے والی اس مستقل کیفیت کو دیکھ کر ایک دن ہمیں پکڑ کر زبردستی بٹھا لیا، اپنی ہومیو پیتھی والی کتاب کھول لی اور ہم سے سوال جواب کرنے کے بعد ایک انتہائی کڑوی دوائی کے چند قطرے حکماً ہماری زبان پر ٹپکائے۔ اس دن ہمیں ایسا لگا کہ ہماری کچیچیی ہی دوائی کی صورت میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ اللہ ان پروفیسر صاحب کا بھلا کرے، وہ ہمارا علاج تو نہ کر سکے لیکن علاج کرنے کی کوشش ضرور کی۔ اللہ انہیں نیت کا ثواب عطاء فرمائے۔
گیارہویں کے بعد بھی ظاہر ہے ہم زندہ و جاوید رہے اور ابھی تک بفضل تعالٰی شریکوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہشاش بشاش، اور ہٹے کٹے (چلیں اس کا دس فیصد کر لیں) ہیں۔ اور ہمارا یہ شغل بھی ویسے ہی جاری و ساری ہے۔ اللہ نے وجود بھی دھان پان سا دے رکھا ہے، یا اس کو دھان پان رکھنے میں ہماری کچیچیوں کا عمل دخل ہے۔ ایک تھیوری یہ پیش کی جاتی ہے کہ کچیچیوں سے ہم اپنا خون اتنا جلا لیتے ہیں کہ وجود دھان پان سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتا۔ اس سلسلے میں کتنی سچائی ہے اس کا جواب تو وقت ہی دے گا، ہم نے اپنی ایک کچیچی پر یہ سب لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔
کل کچھ احباب کے ساتھ کہیں پھرنے پھِرانے کا پروگرام تھا اور حسبِ عادت کسی بات پر ہمیں کچیچی چڑھ گئی۔ آج صبح سو کر اٹھے تو کچیچی جا چکی تھی۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے چند سطریں گھسیٹ ڈالیں۔ اپنی کچیچیوں سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کچیچی کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ کچیچی میں خون مسلسل دھیمی آگ پر کھولتا رہتا ہے جسمانی و نفسیاتی درجۂ حرارت میں اضافہ اگر دیر تلک چلتا رہے تو صحت کے لیے قطعاً کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ثبوت کے لیے آپ ہمارے فیس بُک صفحے پر ڈھیر ساری تصاویر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ کچیچنا ایک آرٹ ہے لیکن اس سے اتنی ہی جلد نجات حاصل کر لینا اس سے بھی بڑا آرٹ ہے۔ اور ہمارے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی کہ اس سلسلے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کہ غصہ آنے پر اندازِ نشست (کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں۔۔۔) تبدیل کر لیا جائے، وضو کر لیا جائے یا میں نے جھگڑا کرتے وقت سعودی عربوں کے طرزِ عمل بارے سنا ہے کہ چھڑانے والے لڑنے والے فریقین کو صلو علی الحبیب کے الفاظ سے درود شریف کی تلقین کرتے ہیں۔ اور نبی ﷺ کا تو نامِ نامی ہی ایسا ہے کہ زبان پر آتے ہی دل نرم پڑ جاتا ہے۔ اللہم صل علی محمد و اٰل محمد و اصحاب محمد۔
اپنی کچیچیوں سے تنگ آ کر ایک دن ہم بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب کی خدمت میں چلے گئے جو کسی بابے کی خدمت میں حاضری کا اوّلین موقع تھا۔ ہم نے عرض کیا سر غصہ بہت آتا ہے جواباً انہوں نے دعا کر کے ایک ٹافی عنایت فرما دی۔ یہ ان کی دعا کا اثر ہے یا ہماری ڈھلتی عمر کا تقاضا ہے، وسیلہ جو بھی ہو ، اللہ کریم کی خاص رحمت ہے کہ اب احساس ہو جاتا ہے اور ہم اپنے آپ کو لعن طعن کر کے اس کیفیت سے نکلنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ جس طرح سٹنٹ سین کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ گھر پر ٹرائی مت کریں، اسی طرح آپ قارئین سے بھی التماس ہے کہ گھر پر غصہ ٹرائی مت کریں بلکہ نبوی ﷺ نسخہ آزمائیں، اور میری گزارش تو یہی ہو گی کہ درود شریف پڑھنے سے غصہ چلا جاتا ہے۔
اور آخر میں فیض کا ایک شعر
قرب کے نا وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
جمعہ، 25 دسمبر، 2015
تاثرات
کرسمس کے باضابطہ آغاز میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ شہر کے گرجا گھروں کے گھنٹے مسیح کی ولادت کی خوشی میں ہر کچھ عرصے بعد بجنے لگتے ہیں۔ میری کھڑکی پر ابھی ابھی ہونے والی بارش کے ان گنت قطرے ایسے بکھرے ہیں جیسے دور بہت دور میرے دیس پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیس برس پہلے کی راتوں میں آسمان پر ستارے بکھرے ہوا کرتے تھے۔ میرے سامنے والی عمارتوں میں کہیں کہیں جگنو نما ننھی ننھی روشنیاں نظر آ رہی ہیں ۔ ایک دو جگہ ہشت رخ ستارے بھی روشن ہیں۔ سٹریٹ لائٹ کی روشنیاں درختوں کے سائے، دھندلے سائے میری بصارتوں تک پہنچا رہی ہیں۔ ٹنڈ منڈ درخت جنہیں دن کی روشنی میں ذرادور سے دیکھنے پر ہریالی کا گمان ہوتا ہے لیکن قریب جانے پر احساس ہوتا ہے کہ بارشوں کی زیادتی نے ان پر کائی کی مستقل تہہ چڑھا رکھی ہے۔ دن ابھی روشن ہو تو کبھی کبھار کوئی اجنبی سا پرندہ قریب سے اڑتا چلا جاتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے یادوں کے پرندے بھی اڑان بھر کر اندر ہلچل مچا دیتے ہیں۔ میرے شہر فیصل آباد کی گرد اور دھواں، اور گرد بھرے درختوں پر چہچہاتی چڑیاں، کوے ، کبوتر بازوں کے کبوتر سب اڑان بھرنے چلے آتے ہیں۔ اور میں ہزاروں میل دور ہو کر بھی وہیں جا پہنچتا ہوں جہاں ایک ماہ پہلے میرے بھائی کی شادی کا ہلا گلا تھا، اور پھر میں یہاں آنے کے بارے میں اندر ہی اندر بے قرار تھا۔
یہ شہر بہت اچھا ہے۔ صاف ستھرا ، نیٹ اینڈ کلین، قانون انکل کے سامنے مؤدب اور فرمانبردار۔ لیکن اس سب کے باوجود جب بھی اس کے بارے میں سوچوں تو اجنبی، سرد، سرمئی جیسی صفات جیسے اوپر ہی کہیں رکھی ہوتی ہیں فوراً سامنے آن موجود ہوتی ہیں۔ ایک اجنبی دیس کا اجنبی شہر جس کی اجنبی زبان میں سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سو تک گنتی، سبزیوں اور پھلوں کے نام، نشست و برخاست کے کلمات اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر روز گھر سے نکل کر اسی راستے پر، اسی عمارت میں پہنچتا ہوں اور پھر وہیں واپسی جہاں سے صبح چلا تھا۔ جیسے ایک دائرے کا سفر۔۔۔رہائش سے اسکول ۔۔۔مسجد ۔۔۔گروسری کی چند دوکانیں ۔۔۔گھر۔۔۔اسکول۔۔۔اور دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اس دائرے میں کہیں کہیں دراڑ اس وقت پڑتی ہے جب ہم چودہ لوگوں کا گروپ کوئی پارٹی ارینج کر لے۔ آج بھی پاکستان کے ان ہونہار ترین لوگوں میں بیٹھا تو جیسے پاکستان کی جانب ایک کھڑکی کھلی رہی۔ ہنسی، قہقہے، چھیڑ چھاڑ ، دیر سے آنے پر غصہ اور پھر کھانا۔۔۔۔اور بیچ میں میری چولیں۔۔۔میرے پرانے احباب کے خیال میں میری تعلیم ایم فِل لسانیات نہیں ایم فِل میراثیات ہے۔ شاید ان کا کہنا بھی ٹھیک ہی ہے کہ میں نے اپنے اوپر ایک خاص کیفیت کچھ ایسے طاری کر رکھی ہے کہ تین عشروں بعد بھی آج بے تُکا، بے ڈھنگا، بے ہدائیتا، کھلنڈرا اور مورکھ ، بدتمیز شرارتی بچہ نظر آتا ہوں جس کی نظر ہمیشہ دوسرے بچے کو تنگ کرنے پر ہوتی ہے۔ اتنے قابل ترین لوگوں میں بیٹھ کر بھی مجھے ہدایت نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہونے کی کوئی امید نظر آتی ہے۔
چارلی چپلن کہتا ہے کہ مجھے بارش میں چلنا پسند ہے تاکہ کوئی میرے آنسو نہ دیکھ سکے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خلوت اور جلوت میں دو الگ الگ چہروں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوہرے چہرے والے لوگ، ان کے اندر کیسے ہی الاؤ روشن ہوں، دکھ کا سرما پھیلا ہو یا اداسی کی خزاں اتری ہو، اوپر سے ہمیشہ پُر بہار نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایسے ہی دو چہرہ لوگوں میں سے ہوں۔ اصل چہرے پر نقاب چڑھا کر اس بات کے آرزومند لوگ کہ دیکھنے والا "اگنور" کا بٹن دبا کر نقاب کو پرے کر دے اور براہِ راست اصل چہرے سے ہم کلام ہو۔
منگل، 18 اگست، 2015
پہلی نظر
پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔ پہلی نظر کے بعد باقی رہ جانے والی تشنگی، پہلی ملاقات کے بعد بھی رہ جانے والے ان دیکھے فاصلے اور پہلے لمس میں چھپی اجنبیت صرف ایک مرتبہ کا احساس ہوتے ہیں۔ لیکن یہ احساس کبھی نہیں جاتا۔ پھر چاہے تشنگی مٹانے کو جام بھر بھر کر ملیں، فاصلے ایسے مٹیں کہ قربتوں کو رشک آنے لگے، اجنبیت ایسے دور ہو کہ جنم جنم کا ساتھ لگنے لگے، لیکن وہ پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔
میں جب کسی شہر سے، کسی شخص سے، یا کسی راستے سے پہلی بار ملتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ بس کترا کر گُزر جاؤں۔ میرا انداز ایسا ہوتا ہے بس یہ وقت گزر جائے اور اللہ کرے دوبارہ ان سے آمنا سامنا نہ ہو۔ اگر قسمت میں لکھا ہو اور ساتھ طویل ہو جائے تو پھر دھیرے دھیرے میں ان پر اور یہ مجھ پر کھُلتے ہیں۔
کسی شہر میں پہلی بار داخل ہوں تو میرا انداز بتیاں دیکھنے شہر آنے والے پینڈو جیسا ہوتا ہے۔ ہر اجنبی چیز، عمارت، نشانِ راہ کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے ایسی کوئی چیز پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ ہر چیز کوری کنواری لگتی ہے۔ جیسے میرے ہی انتظار میں پڑی ہو کہ میں آؤں، دیکھوں اور اس دیکھنے سے اُسے بھی اُس کے ہونے کا احساس دلاؤں۔ کسی شہر سے پہلی ملاقات میں موجود اجنبیت، سرد مہری، ہلکا سا کٹھور پن اور پردیسی ہونے کا احساس حواسوں پر بہت مختصر عرصے کے لیے وارد ہوتا ہے، لیکن یادداشت میں برسوں تروتازہ رہتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ بڑی طویل پیاس کے بعد ملنے والے ٹھنڈے پانی کا احساس بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے گھونٹ کی اجنبیت اور ذائقہ بس ایک مِلی سیکنڈ کی گیم ہوتی ہے، لیکن وہ احساس یاد کی صورت میں ہمیشہ کے لیے دماغ میں کہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔
گجرات شہر میں میرا پہلا دن جب شروع ہوا تو دن ڈھل چکا تھا۔ اس لیے پہلا احساس اجنبی اور ملگجا سا ہے۔ اس کے بعد مسلسل بارش، نمی اور ہوا کی ٹھنڈک میرے اندر آج بھی کہیں بسی ہوئی ہے، اور آج اتنی بارشوں کے بعد بھی وہ پہلی بارش ان سب سے جدا ہے۔ ملازمت کے انٹرویو سے پہلے کا ایک انجانا سا خوف بھی اس پہلی ملاقات کا ایک اٹل حصہ ہے۔ پھر یونیورسٹی کو جانے والا راستہ اور اس پر سفر کرتے ہوئے مسلسل لگنے والے جھٹکے، ہر جھٹکے میں موجود ایک تیکھا کٹھور پن آج بھی یادداشت کا حصہ ہے۔ آج لگ بھگ ایک برس بعد ان گڑھوں سے اتنی مانوسیت ہو چکی ہے کہ چلتے چلتے کترا کر گزر جاتا ہوں۔ ان کا شکار بھی بن جاؤں تو روٹین کی بات ہے۔ لیکن وہ پہلا سفر جو میں نے اس راستے پر کیا، یونیورسٹی اور اس کے اندر اور پھر انٹرویو کے بعد گیٹ تک پیدل مارچ، ستمبر کی بے موسمی لگاتار برستی بارش میں چلتے چلتے اردگرد کے منظر کو جب میں نے پہلی بار اپنی یادداشت میں قید کیا، بارش کا پانی کس طرف جا رہا ہے، گرین بیلٹ کہاں ختم ہو رہی ہے، کہیں ایک برگد کا درخت ہے اور اس کے نیچے مزار ہے، کہیں ایک کھیل کا میدان نظر آ رہا ہے اور وہ سامنے ہاں وہی سامنے والا گیٹ ہے جہاں سے میں اندر داخل ہوا تھا۔ اور اس گیٹ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ، ان کی نیلی وردیاں اور ان سے دس فٹ کی دوری سے ہی آتا ہوا سگنل کہ "پرے ہٹ کے"۔ اس پہلے دن کی ہر بات، ہر منظر جو بہت مختصر مدت کے لیے میرے اندر جی کر اب کسی حنوط شدہ ممی کی طرح ذہن کے کسی تہہ خانے میں محفوظ ہے، آج اتنی مانوسیت ہونے کے باوجود میں اس اجنبیت بھرے احساس کو بہت مِس کرتا ہوں۔
گجرات بہت چھوٹا سا شہر ہے۔ ان گزرے مہینوں میں بہت حد تک اس شہر کا مزاج آشنا ہو چکا ہوں۔ راستوں کی اونچ نیچ میرے دماغی سکیما (schema) میں فِٹ ہو چکی ہے۔ اندرونِ شہر کی چھوٹی گلیاں، کھانا کھانے کے چند ایک مخصوص سپاٹ، چند بڑی سڑکیں، ایک لاری اڈا جہاں سے ہر ہفتے دو بار آنا جانا ہوتا ہے، کچہری چوک، جیل چوک، لاہور اور اسلام آباد جانے والی جی ٹی روڈ سب کچھ ایک روٹین بن چکا ہے۔ اور آج پہلی بار لگ رہا ہے کہ اس روٹین کے دن گِنے جا چکے ہیں۔ بہت جلد یہ روٹین بھی استعمال شدہ کپڑوں کی طرح کسی نچلے خانے میں رکھ دی جائے گی۔
میں لوگوں سے، شہروں سے اور راستوں سے اتنی جلدی بے تکلف نہیں ہوتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے بس کترا کر، دور دور رہ کر، بس کام کی بات کر کے چلا جاؤں، دور ہو جاؤں۔ اجنبیت برقرار رہے، دوری قائم رہے، وہ جو عدم مانوسیت کی وجہ سے ایک سرد مہری ہوتی ہے وہ ختم نہ ہونے پائے۔ اس سے مجھے تحفظ کا احساس ہوتا ہے، جیسے کسی جنگجو کو آہنی لباس کے پیچھے ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ میں کتراتا ہوں، بچتا ہوں، اس سب سے چونکہ مجھے پتا ہے کہ اگر قربت بڑھی، اجنبیت کی خندق کو مانوسیت کی مٹی نے پاٹ دیا تو احساسات پیدا ہوں گے، سوچنے کے مواقع ملیں گے، اجنبی خوامخواہ اندر آن گھُسے گا۔ اور جب کوئی اندر فروکش ہو جائے تو اسے دیس نکالا دینا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ وہ نکلنے پر آمادہ ہو بھی تو اس عمل میں ہونے والی تکلیف بہت شدید ہوتی ہے جسے برداشت کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔
اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا، چاہے ہو لوگ ہوں، شہر ہوں یا راستے۔ مجھے پتا ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن میرے مقدر کا چکر مجھے کہیں اور لے جائے گا۔ یہ سب وہیں رہ جائیں گے، اپنی اپنی جگہ پر اور میں کہیں اور دربدر ہو جاؤں گا، لیکن میرے سامان میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایک خلاء جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ایک سلو پوائزن جیسا میٹھا احساس، ایک کسک، ایک پھانس جو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں چبھ جائے گی۔ میرے سامان میں ایک گٹھڑی ان یادوں کی شامل ہو جائے گی جو میں نے اس شخص، اس شہر اور اس راستے کی معیت میں گزارے۔ اور میرے وجود کا ایک ٹکڑا وہیں کہیں رہ جائے گا۔ میری روح کا ایک حصہ قیامت تک اس کے طواف کے لیے وقف ہو جائے گا۔ میں کچھ اور کم ہو جاؤں گا، اور میری یادیں کچھ اور وزنی ہو جائیں گی۔ اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعرات، 2 اپریل، 2015
دل نگر
یوں توں دل نگر میں داخل ہونے پر روشنیاں، خوشیاں، قلقاریاں، مُسکراہٹیں اور مسرتیں ہی نظر آتی ہیں۔ عمارتوں کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ ہر طرف روشنی پھیلی ہے۔ چراغاں ہی چراغاں، ہر سُو میلے کا سا سماں۔ دن رات میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ہر وقت انجوائے منٹ کا وقت لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ آنے والوں کو جنت کا شبہ بھی ہو جاتا ہے۔ بار بار آنے والے البتہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جگہ تو اسی دنیا میں کہیں ہے، بس ذرا ماحول پکنک سپاٹ والا بنا رہتا ہے۔ ہر وقت ہلا گُلا جاری رہتا ہے۔ ابھی یہاں کیک کٹا تھا، اس کی مٹھاس اور تالیاں ہوا میں سے تحلیل بھی نہیں ہوئیں تو ایک اور ایونٹ چلا آتا ہے۔ ادھر دیکھیں تو اس دفتر نما عمارت میں کوئی نہ کوئی پارٹی چلتی ہی رہتی ہے۔ ذرا پرے اُدھر دیکھیں ۔۔ارے یہ تو کوئی گھر ہے اور یہاں بھی خوشیوں کے ڈیرے دور سے نظر آ رہے ہیں ۔ فضا میں کچھ دعائیں موجود ہیں۔ نیک روحوں کو ادھر اُدھر رحمتوں کی موجودگی بھی محسوس ہو جاتی ہے۔
ان عمارتوں، خوشیوں، مسرتوں اور قلقاریوں سے پرے ذرا مزید بائیں کو مڑیں تو روشنیاں دھیرے دھیرے دھیمی پڑنے لگتی ہیں۔ دیکھنے والا سجاوٹیں دیکھتا دیکھتا اتنی دور چلا آتا ہے کہ اسے دھیرے دھیرے دھیمی پڑتی روشنی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ جب احساس ہوتا ہے تو واپس مڑنے میں دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بستی کے بائیں طرف موجود بڑے احاطے کا پھاٹک یکدم ہی سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے ابھی ابھی عدم سے وجود میں آیا ہو۔ بڑا سا سیاہ پھاٹک، جس پر ایک بار نظر ڈالنے والا دوسری نظر تو ضرور ڈالتا ہے۔ اور اکثر یہ دوسری نظر اچنبھے کی ہوتی ہے۔ حیرت بھری نظر۔۔۔۔ قریباً ہر کوئی خوشیوں بھری بستی کی طرف نگاہ ڈالتا ہے اور پھر بڑے پھاٹک کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے۔ پھر کوئی بڑبڑاتا ہے، کوئی بدبداتا ہے اور کوئی صرف سوچ کر ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن آواز ہو یا نہ ہو، تاثرات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے کیا کہا ہو گا' ارے ایسی جنت نظیر بستی میں اس بھوت محل کا کیا کام؟'۔ اور پھر یہ سوچ کر ہی وہ واپس نہیں مڑ جاتا۔ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ آنے والے کے قدم سیاہ پھاٹک کی سمت اٹھنے لگتے ہیں۔ جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے، ایسے ہی آنے والا حیرت، تجسس اور جستجو کے کچے دھاگے سے بندھا کھنچا چلا آتا ہے۔ ہولے ہولے سے پھاٹک تک پہنچتا ہے۔ اپنی آنکھیں نیم ملگجے اندھیرے سے مانوس کرتا ہے۔ پہلے اُچک کر اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اندر کا دھندلا اندھیرا اس کی جستجو کو مہمیز دیتا ہے۔ اور پھاٹک تک آنے والا بالآخر اندر قدم دھر ہی دیتا ہے۔
نیم ملگجے سے اندھیرے میں تھوڑی سی اور سیاہی ڈال دیں تو ایسی روشنی بڑے پھاٹک کے احاطے میں پھیلی ہوتی ہے۔ آنکھیں اس سے مانوس ہونے میں چند لمحے لے لیتی ہیں۔ اور جب آنے والے کی نگاہیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں تو اکثر کو چھوٹا موٹا جھٹکا ضرور لگتا ہے۔ جھٹکا کیوں نہ لگے سامنے ہی تو تین چار ڈھیریاں ہیں۔ ایک آدھ گڑھا بھی موجود ہے جیسے ابھی ابھی گورکن نے زمین کا سینہ چاق کیا ہو۔ آنے والے کو یو ں لگتا ہے جیسے وہ قبرستان میں گھُس آیا ہے۔ کئی ایک تو ڈر کے مارے یہیں سے بھاگ جاتے ہیں۔ کچھ بہادر مقدس آیات کا ورد کر کے نادیدہ بلاؤں سے تحفظ کا حصار باندھتے ہیں۔ کچھ ڈھیٹ روحیں اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور قدم آگے بڑھا لیتی ہیں کہ چلو یہاں تک آ گئے تو بقیہ کام بھی نپٹاتے ہی چلیں۔ کچھ تو دور سے ہی ڈھیریوں کو سلام کر کے دیگر معائنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ قریب جا کر بغور جائزہ لیتے ہیں۔ ذرا قریب سے دیکھنے پر احساس ہوتا ہے کہ یہ ڈھیریاں واقعی قبریں ہی ہیں۔ کوئی پرانی اور پکی ہے، کوئی ذرا نئی اور کچی ہے، کوئی چند برس پرانی ہے اور کوئی چند ماہ پرانی ہے۔ اکثر کا تبصرہ یہی ہوتا ہے کہ ارمانوں کا قبرستان لگتا ہے۔ کبھی کوئی زیادہ غور کے موڈ میں ہو تو تازہ کھدی قبر پر بھی نگاہ ڈال کر اندازہ لگانے کی کوشش کر ڈالتا ہے کہ یہاں بھلا کون سا ارمان دفن ہو گا۔۔۔ کچھ تو یہیں سے واپس مُڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ بڑے احاطے کو میوزیم سمجھ کر باقاعدہ سیر پر اُتر آتے ہیں۔
قبروں سے پرے دائیں جانب ایک ادھوری سی عمارت ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں، ایک طرف ریت کی ڈھیری بھی لگی ہے۔ چھت موجود نہیں۔ 'شاید کوئی ادھورا منصوبہ ہو گا'، اکثر کا یہی تبصرہ ہوتا ہے۔ قبروں کے بائیں جانب زمین پر کھدائی کے نشان نظر آتے ہیں۔ جیسے کوئی عمارت تعمیر کرنے کا ارادہ بنا تھا لیکن ٹھیکیدار بھاگ گیا، یا مالک کا خیال بدل گیا۔ بڑے احاطے کی زمین تو آدھے ادھورے ارمانوں کا قبرستان ہے، اس کی فضا میں بھی سوگ جیسے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دور، کافی دور بستی کے روشنیوں بھرے محلے میں، جہاں ہوا بھی چلتی ہے تو ناچ کر، اِٹھلا کر چلتی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ہوا چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ جیسے سرما میں دھند چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ لیکن دھند میں اور اس سوگ بھری فضا میں فرق درجہ حرارت کا ہے۔ دھند سردی کا تاثر دیتی ہے، یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ بس فضا میں کچھ ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سردی کی بجائے ہلکی سی گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ جیسے کچھ فاصلے پر بھٹی جلنے سے حدت اردگرد کو نیم گرم سا کر دیتی ہے۔ ایسے ہی بڑے احاطے کی فضا نیم حزن و ملال، پشیمانی اور اداسی کے ملے جلے سے احساسات پیدا کرتے ہوئے نیم گرم سی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ آنے والوں کو تو ماں کی گود جیسا احساس ہونے لگتا ہے۔ کئی ایک تو ایک جانب ہو کر ادھوری عمارت کے ڈھانچے میں کوئی جگہ تلاش کر کے بیٹھ بھی جاتے ہیں اور کئی گھنٹے بیٹھے ہی رہتے ہیں۔ جانے کس سوگ میں بیٹھے رہتے ہیں۔ شاید بڑے احاطے کے ادھورے ارمانوں کا سوگ مناتے ہیں۔ کون جانے۔۔۔۔
دل نگر میں بڑے احاطے کی حیثیت وہی ہے جیسے پوش علاقے کے پچھواڑے میں ایک کچی بستی کی ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل لیکن بستی کا ایک لازمی جزو۔ یہ کچی بستی نہ ہو تو سامنے والا حصہ زیادہ خوبصورت کیسے معلوم ہو۔ امتیاز ختم ہو جائے تو شناخت ختم ہو جائے۔ بڑا احاطہ دل نگر کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ سُنا ہے کہ ہر دل نگر میں ایک بڑا احاطہ موجود ہوتا ہے۔ ساری روشنیوں، خوشیوں، قلقاریوں، مُسکراہٹوں اور مسرتوں سے کچھ ہی دور، ذرا ایک طرف کر کے ایک بڑا احاطہ ہوتا ہے۔ جس میں کچھ ادھورے ارمان دفن ہوتے ہیں، کچھ ادھوری خواہشیں فضا میں ٹھہری ہوتی ہیں، کچھ ادھورے منصوبے ادھر اُدھر بکھرے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے کہ دل نگر کے مکین اکثر بڑے احاطے کا پھاٹک تالا لگا کر بند ہی رکھتے ہیں تاکہ باہر سے آنے والوں کی نظر نہ پڑے اور انہیں کوئی ایسا ویسا تاثر نہ ملے۔ لیکن کبھی کبھی بڑے احاطے کے کواڑ کھُلے بھی رہ جاتے ہیں۔ اور تب کوئی ڈھیٹ قسم کا نڈر مہمان بلا دھڑک بڑے احاطے میں جا گھُستا ہے۔ اور اسے چار لفظ لکھنے بھی آتے ہوں تو وہ اس تحریر کی طرح مشاہدہ قلم بند بھی کر ڈالتا ہے۔ لیکن اکثر دل نگر کے مکین باہر سے آنے والوں کو اپنی خوشیاں ہی دکھاتے ہیں۔ ہنسی ہنسوڑ پن میں ہی اتنی مہمان نوازی کر دیتے ہیں کہ آنے والے کو اور کوئی تمنا ہی نہیں رہتی۔ لیکن کبھی کبھی شاید یہ خوشیاں دکھاوا لگتی ہیں۔۔۔کوئی زیادہ ہی چالاک قسم کا مہمان اپنی مدد آپ کے تحت سیر کرنے نکل پڑتا ہے۔۔۔۔اور پھر ایسی کوئی تحریر وجود میں آ جاتی ہے۔۔۔سنا ہے کبھی کبھی دل نگر میں داخل ہونے پر ایک ہی عمارت سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔بڑے احاطے سے۔۔۔اور باقی سب کچھ اس کے اندر ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن آدھا ادھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر، 16 مارچ، 2015
احساسِ رحمت
رب کی رحمت بھی عجیب چیز ہے سائیں۔ ہر وقت اس کی رحمت کا حصار رہتا ہے۔ ہر لمحہ اس کے کرم کی بارش برستی رہتی ہے۔ لیکن بندہ ناسمجھ، ناقص العقل نہیں سمجھتا۔ آنکھیں ہوتی ہے لیکن دیکھ نہیں پاتا۔ بینا ہوتے ہوئے نابینا ہو جاتا ہے۔ یہ اس کی رحمت کے صدقے ہی ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کا احساس مل جائے۔ اور جس کو اس کی رحمت کا احساس مل جائے اس کے کیا ہی کہنے۔ لگتا ہے جیسے کوئی یار سجن بیٹھا ہے۔ یہیں ساتھ ہی کہیں، یہیں پاس ہی کہیں بیٹھا ہے۔ ہر لحظہ اس کی عطاء کی آرزو رہتی ہے۔ اس کے کرم کی تمنا رہتی ہے۔ اور جب اس کا کرم ہو جائے، جب دعائیں ویسے قبول ہو جائیں جیسے بندے نے چاہا تھا، تو اندر جیسے بہار آ جاتی ہے۔ جیسے عید پر سارا جہاں مُسکرا اُٹھتا ہے۔ جیسے اندر باہر شادیانے بجنے لگتے ہیں۔ ہر طرف ہر چیز جیسے کھلکھلانے لگتی ہے۔ ہر سُو اسی کی عطاء نظر آتی ہے۔ بڑا پُر لُطف تجربہ ہوتا ہے۔ اس کی رحمت ہو جانا، اور پھر یہ احساس ہو جانا کہ اس کی رحمت ہوئی ہے۔ یہ اسی کا کرم ہوا ہے، اے بندے ورنہ تُو کس قابل تھا ۔ اور پھر رحمت کے بعد سر کا جھُک جانا۔ اس عطاء و کرم و فضل و رحمت پر سر جھُک جانا، نظر جھک جانا اور اس کی مزید رحمت ہو جائے تو دو قطرے آنسوؤں کے، اظہارِ عجز کے، اظہارِ بندگی کے، اظہارِ لاچاری کے۔ دو قطرے ٹپک پڑنا کہ مالک میں بھلا کس قابل تھا، یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ یہ جو کچھ میرے تن پر ہے، جو کچھ میرے اندر ہے، میرے پاس ہے یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ میرا تو ہونا ہی مجھ پر تیری رحمت ہے مولا۔ میں حقیر،ارذل، ادنیٰ، گھٹیا، گناہوں کی پوٹ اور تیری عطاء۔ کس منہ سے تیرا شکر کروں۔ مجھے تو شکر کرنا بھی نہیں آتا۔ یہ سب تیرے نبی ﷺ کے پیروں کی خاک کا صدقہ سائیں۔ تو سخی تیرے نبی ﷺ کی ذات سخی۔ اور میں تیرے در کا گدا۔ تُو بادشاہ مالک اور میں تیرے بُوہے پر بیٹھا منگتا۔ بھلا منگتے کی کیا اوقات کہ اس پر یہ عطاء ہو جاتی۔ یہ تو تیری کمال مہربانی ہے سائیں، تُونے اپنی نبی ﷺ کا صدقہ، آلِ نبیﷺ کا صدقہ، اصحابِ نبی ﷺ کا صدقہ مجھ پر یہ جو عطاء کردی بھلا میں کس قابل تھا۔
بڑا پُر لطف تجربہ ہے جی۔ کبھی کر کے دیکھیں۔ رب سے رحمت مانگ کر دیکھیں۔ بس رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور شکر کریں، ہر نعمت پر۔ اگر یہ کرم ہو جائے، اوریہ کرم ہو جاتا ہے آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے اپنی بے کسی اور بے بسی اور اس کی رحمت کا احساس وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ بھی پیش آئے، جو بھی اچھا پیش آئے، پہننے، کھانے، پینے یا زندگی میں جو کچھ بھی ملے بس آسمان کی جانب نظر اُٹھتی ہے۔ یہ سب تو اُس کی رحمت ہے۔ یہ تو مولا کا کرم ہے۔ اور اپنا آپ اور حقیر لگنے لگتا ہے۔ اس کے لاشمار احسانوں میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی محبت کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین اور مان بڑھ جاتا ہے۔
کاش رب یہ مقامِ شکر عطاء کر دے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
