بلوچستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بلوچستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 2 اگست، 2013

اگست

ابو جی کبھی کبھی بتایا کرتے ہیں کہ تیرے دادے کے پاس بڑی زمین تھی۔ اور تیری دادی بڑی شیر دل عورت تھی۔ دادا جی آخری عمر میں ذہنی توازن کھو بیٹھے ۔ نماز پڑھنے نکلتے تو گھر کا پتا بھول جاتے تھے۔ چارپائی پر دھوپ پڑتی تھی تو نیچے اس کے سائے کو جانوروں کا کترا ہوا چارہ سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیتے۔ آوازیں دینے لگتے کہ وچھے کو ڈالو وہ بھوکا ہے۔

ابو جی بتایا کرتے ہیں کہ دادی ایک بار اکیلی کماد میں ڈنڈا لے کر بیٹھ گئی۔ ایک باہر والا (خنزیر شاید) بہت تنگ کرتا تھا، دادی نے اکیلے ڈانگ کے ساتھ اس کا کریا کرم کر دیا۔
ابو جی سب سے چھوٹے تھے ۔ ابوجی سے پہلے چار پانچ بھائی چھوٹے ہوتے ہی فوت ہو گئے۔ ان کے اور دوسرے تایاؤں کے نام دوبارہ دوبارہ رکھے ہوئے تھے، مرنے والے بچوں کے نام پر۔ سنا ہے ہمارا سب سے بڑا تایا عبدالحق ہجرت کے وقت ہوش سنبھال چکا تھا۔ تایا عبدالحق اب اللہ بخشے اس دنیا سے گزر چکا ہے۔ تایا عبد الحمید بھی بس چارپائی سے لگ گیا ہے۔ تایا عبد الجمیل بھی سنا ہے اس وقت لڑکپن میں تھا، پر ان کا ذہنی توازن بھی اب ٹھیک نہیں رہا، انہیں اب باتیں یاد نہیں رہتیں۔ بس اپنی اولاد کے نام اور چہرے یاد ہیں، اور بھائیوں کے چہرے ۔ بس ۔۔۔۔ایک پھوپھی تھی وہ بھی چھ سات برس پہلے چل بسی۔

بڑے کزن بتاتے ہیں کہ دادے کا نام شیر محمد، پڑدادے کا نام ماموں تھا۔ لکڑ دادے کا نام بھی شاید بتایا وہ یاد نہیں رہا۔ ابو جی کی یادیں اکثر فیصل آباد آنے کے بعد کی ہیں، گٹی اسکول جاتے تھے پیدل، یا بھڑولیاں والا جو ڈجکوٹ، فیصل آباد کے نزدیک ایک پنڈ ہے۔ جہاں ہمارے دادے کو بارڈر پار آنے کے بعد پانچ ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تھی، بھارتی پنجاب کی زمین کے بدلے۔ اب پتا نہیں دادے کی کتنی زمین تھی وہاں۔ لیکن یہاں پانچ کِلّے ہی ملی، جس میں سے کوئی دو کِلّے کلر زدہ ہے وہاں پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔ ڈجکوٹ اور فیصل آباد سارا نہری علاقہ ہے زمین کا پانی آک جیسا کڑوا۔ پِنڈ وہاں ہے جہاں نہر چھوٹی ہوتے ہوتے راجباہ رہ جاتی ہے۔ وہاں پانی بھی بس ایسے ہی پہنچتا ہے۔ ابا جی کواب آ کر ان پانچ کِلّوں میں سے ایک حصے آئی ہے، تین چار ٹکڑوں میں۔ جہاں ہم پچھلے دو سال سے گندم کاشت کرتے ہیں۔
یہ ساری یادیں اور پھر اگست آ جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا مجھے اگست کا بڑا شوق تھا۔ بیج لے کر لگاتا تھا، جھنڈا لگایا جاتا تھا۔ اللہ بخشے پچھلے سال فوت ہونے والا چھوٹا بھائی باقر بھی جھنڈا لگانے اور چراغاں کرنے کا بڑا شوقین تھا۔ شاید میں بھی اس کی عمر میں ایسا ہی تھا۔ لیکن اب عرصہ ہوا، آٹھ دس سال ہو گئے مجھے چودہ اگست کا دن زہر لگتا ہے۔ اس وجہ سے کے میرے ارد گرد کے لوگ سلنسر نکال کر جشن آزادی مناتے ہیں۔ اور بین کرنے والی آوازوں والے واجے وجاتے ہیں۔ پہلے پہلے پریڈ وغیرہ بھی ہوا کرتی تھی، شاید 23 مارچ کو تو اس سے بھی کچھ "حب الوطنی" جاگ جاتی تھی۔ اب وہ بھی نہیں ہوتی، تو حب الوطنی کو ڈنڈا دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس لیے حب الوطنی سوئی رہتی ہے۔
عرصہ ہوا میری سوچ اُلٹی ہو چکی ہے۔ مجھے جو پہلے سیدھا نظر آتا تھا اب اُلٹا نظر آتا ہے۔ پاکستان بننا جو ایک سادہ حقیقت لگتی تھی، جیسے دو جمع دو چار ہو اب یوں لگتا ہے جیسے سارا سیاست کا کھیل تھا۔ پنجاب کے جاگیر داروں نے پنجاب کو پاکستان بنا دیا، بلوچستان والے روتے ہیں کہ ہم سے ہاتھ ہوا، سابقہ سرحد والے شاید وہاں بھی کوئی ریفرنڈم کا چکر تھا سرحدی گاندھی وغیرہ۔ اور پھر سندھ اسمبلی تھی جہاں قرارداد پاس ہوئی تھی، اب پتا نہیں متفقہ تھی یا ہمارے آج کل کے وزرائے اعظم کے انتخاب کی طرح سادی اکثریت سے پاس ہوئی تھی۔ اور بنگال تھا جو پھر بنگلہ دیش بن گیا۔

اور پھر چودہ اگست کو شہداء کی قربانیاں، اور ان کے رونے، جو مر گئے ان کے بین۔ اور اس ملک کی بنیادیں اور ان کا خون وغیرہ وغیرہ۔ ایک عرصے تک میں اسے عظیم قربانی سمجھتا رہا۔ معلومہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت، پاکستان کے لیے ہجرت۔ ایک نظریاتی ملک کے لیے ہجرت۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ لاکھوں لوگ اس کے لیے کٹ مرے۔ پنجاب کے بزرگ، بڑے بوڑھے بتاتے کیسے انہوں نے خون کےدریا پار کیے۔ پھر میری سوچ الٹی ہو گئی۔ اور مجھے ادھر اُدھر سے پتا لگنے لگا کہ اُدھر والے "کافروں" نے بھی ایسے ہی چھوٹے موٹے دریا نہیں تو خون کی ندیاں کم از کم ضرور پار کی تھیں۔ مستنصر حسین تارڑ کہتا ہے لاہور میں لکشمی مارکیٹ ہوا کرتی تھی کہ محلہ ہوا کرتا تھا۔ امیر ہندوؤں کی آبادی، جسے پتا نہیں کس نے ساڑ کر سواہ کر دیا کہ کئی دن تک اس کی راکھ اطراف کے علاقوں پر گرتی رہی۔ اور پتا نہیں کتنے اس چتا میں جل گئے۔ اور وہاں، باقی رہ جانے والے لاہوریے ہندوؤں کے خزانے کھودنے جایا کرتے تھے۔ تارڑ جاٹ ہے، اور جاٹ سنا ہے سکھ ہوا کرتے تھے مسلمان ہونے سے پہلے۔ اور تارڑ کہتا ہے کہ سکھ جاٹ اور مسلمان جاٹ سارے خوشی غمی شادی بیاہ پر اکٹھے ہوا کرتے تھے مذہب سے بالا ہو کر۔ پر پھر ۔۔۔۔پھر شاید سینتالیس آ گیا یا اس سے پہلے ہی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں۔

پھر ہجرتیں ہوئیں۔ ادھر آنے والے مہاجر کہلاتے، اُدھر جانے والے شرنارتھی۔ سنا ہے پہلے "کافروں" نے مسلمانوں پر حملے کیے ان کے خون بہائے، ان کی بیٹیاں اغواء کیں اور ان کے بوڑھوں اور بچوں کو قتل کیا۔ پھر سنا ہے کہ اِدھر کے مسلمانوں کو بھی جوش آیا اور انہوں نے بھی یہی کچھ کیا۔ لیکن یہ دوسرا سنا ہے مجھے بعد میں پتا چلا جب میں اُلٹی سوچ والا ہو گیا تھا۔ جب میں نے آگ کا دریا کے بارے میں سن لیا تھا، پتا نہیں قراۃ العین حیدر کیا کہتی ہے اس میں لیکن ایسا ہی کچھ سنا ہے اس کے بارے میں۔ کہ مسلمان بھی حاجی لق لق نہیں ہو گئے تھے، انہوں نے بھی "کافروں" کی بینڈ بجائی تھی، جتنی ان سے بج سکی۔
پھر کچھ انصار بن گئے۔ انصار بن کر خود ہی مہاجروں کی اراضیوں، حویلیوں، مکانوں، جائیدادوں پر قابض ہو گئے۔ راتوں رات امیر ہو گئے۔ کچھ کے تکے لگ گئے وہ ادھر آ کر امیر ہو گئے۔ کچھ کے نہ لگے وہ غریب ہی رہے۔ پتا نہیں میرا دادا امیر تھا یا غریب۔ میرے ابو جی کی یادیں دھندلی ہیں، ہم کونسا سید ہیں جو شجرہ رکھتے، مجھے تو ابھی تک یہ نہیں یاد ہوا، کہ ہم جالندھرئیے تھے یا ہوشیار پورئیے۔ ہر بار کزن سے پتا کر کے بھول جاتا ہوں ۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید ہم وہاں اچھے حال میں ہوتے، یا شاید نہ ہوتے۔
لیکن ہر سال چودہ اگست آ جاتا ہے۔ اور مجھے مجبوراً رونے والا منہ بنانا پڑتا ہے۔ کہ یہ روایت ہو گئی ہے مرنے والوں کا بین کرنے کے لیے، یاد دہانی کے لیے کہ یہ ملک کیسے وجود میں آیا تھا۔ پر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے میرے پاس بین کے آپشن وسیع ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر پچھلے دس برس میں ادھر شمال مغرب کی جانب بین کے وسیع مواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ادھر کراچی میں جنوب میں بڑی زرخیزی ہے۔ ادھر جنوب مغرب میں، بلوچستان میں خون تھوک کے حساب سے بہہ رہا ہے۔ میرے پاس اب پینسٹھ سال پہلے مرنے والوں کے بین کے علاوہ بھی آپشن موجود ہیں۔ میں اتنا پُر ہو چکا ہوں کہ سمجھ نہیں آتا کس کا بین کروں، کس کس کا بین کروں۔ بین کروں یا نہ کروں۔ اس ملک کے بننے کا بین کروں، یا بننے کے بعد بگڑنے کا بین کروں۔ سینتالیس میں مرنے والوں کا بین کروں، بے گناہوں کا جو مسلمان تھے ان کا یا جو مسلمان نہیں تھے ان کا (مسلمان نہیں تھے کا بین نہیں بنتا ویسے یہ ان کا کام ہے جو مسلمان نہیں ہیں، اصولی طور پر ایسے ہی ہوتا آیا ہے پینسٹھ سالوں سے ۔) غیر مسلمانوں کا بین تو قطعاً نہیں بنتا، رب جانے ان مردودوں میں سے کوئی مرا بھی تھا یا نہیں یا "کافروں" نے کہانیاں ہی گھڑ رکھی ہیں۔ یا آج کے کافر قرار دے کر مارے گئے مسلمانوں کا بین کروں۔ جنہیں پتا ہی نہیں کہ انہیں کس لیے مارا جا رہا ہے ان کا بین کروں، یا جو نا سمجھ بم باندھ کر ان کو مار رہے ہیں ان کا بین کروں۔ "مجاہدین" کا بین کروں یا "کرائے کی فوج" کے مرنے والے، دس ہزار تنخواہ کی خاطر اغواء ہو کر گلے کٹوانے والے ان خاصہ داروں کا بین کروں۔
میں اتنا پُر باش ہو چکا ہوں، اتنا لد گیا ہوں کہ سمجھ نہیں آتا کس کس کا بین کروں۔ اس سب کا یا اپنی عقل کا، اپنی وکھری سوچ کا، اپنی بے غیرت طبیعت کا جو کہیں فٹ نہیں بیٹھتی، جو ہر رویے پر سوال اٹھاتی ہے، ہر بات پر پہلے ناں کہتی ہے پھر ہاں کی طرف جاتی ہے، ہر جگہ گلاس آدھا خالی دیکھتی ہے۔ میرا خیال ہے مجھے یہی کرنا چاہیئے، اس بے غیرت طبیعت کا بین، جو سوال کرنے کی کُتی عادت کا شکار ہے، ہر جگہ سوالنے کی گندی عادت کا شکار۔

جمعرات، 24 دسمبر، 2009

سوڈان تقسیم کی طرف

انڈونیشیا کے ایک صوبے مشرقی تیمور کی علیحدگی والی ساری کہانی آج جنوبی سوڈان میں دوہرائی جارہی ہے۔ کافی عرصے سے تشدد کی خبریں میڈیا میں آرہی تھیں اور آج یہ خبر پڑھی ہے۔
خرطوم ۔ سوڈان کی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس سے جنوری میں جنوبی سوڈان کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو گئی ہے بل کے مطابق ریفرنڈم میں جنوبی سوڈان کے 60 فیصد قحط افراد کا حق رائے دہی میںحصہ لینا ضروری ہے ۔ اگر 30 فیصد سے زیادہ افراد نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے تو جنوبی سوڈان شمالی سوڈان سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ شمالی سوڈان زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل ہے جب کہ جنوبی سوڈان میں مسیحی اور دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں ۔ سوڈان کے تیل کے زیادہ تر ذخائر اس کے جنوبی علاقے میں ہیں
اس ریفرنڈم کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جنوبی سوڈان الگ ہوجائے گا۔ سوڈان پہلے ہی غریب مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، تیل کے ذخائر جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سے ہمیں عبرت حاصل ہونی چاہیے جو بلوچستان کے معاملے پر آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک میں علیحدگی پسند عناصر کو کتنا سپورٹ کرتی ہیں۔ جبکہ کشمیر کے معاملے میں اس کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔

اتوار، 27 ستمبر، 2009

جیت مبارک ہو

کل صبح مجھے ایک ایس ایم ایس آیا جس میں بڑے صدق دل سے دعا کی گئی تھی کہ پاکستان میچ جیت جائے۔ کہ یہ میچ نہیں اصل میں جنگ ہے اور پاکستان کو یہ جنگ جیتنا ہوگی۔ نیچے بڑے جذباتی قسم کے نعرے درج تھے۔ میں نے وہ ایس ایم ایس ایک نوٹ کے ساتھ آگے ارسال کردیا کہ ہاں پاکستان کو یہ جنگ جیتنا ہوگی چاہے بلوچستان، کشمیر اور پانی کے محاذ پر ہار جائے۔
ابھی دو دن قبل یہ خبر پڑھی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔
مظفر آباد ۔ بھارتی آبی جارحیت پر پاکستان و آزاد کشمیر کے حکمران ، سیاست دان اور ادارے مکمل خاموش ، دریائے جہلم نالہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جنوری فروری میں مکمل سوکھنے کا خدشہ ، پنجاب ، سندھ اور میرپور ڈویژن کی ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین بنجر ہونے کے علاوہ آزاد خطہ میں ماحولیاتی تبدیلیاں بھی متوقع ۔ دریائے جہلم و نیلم کے پانیوں سے بھارتی مشرقی پنجاب اور ہریانہ کی زمینیں سیراب کرنے کی منصوبہ بندی حتمی مراحل میں داخل ۔ حریت قائدین سید علی شاہ گیلانی ، بھارت نواز فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی پاکستان کو پانیوں سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی پر متفکر ، آزاد خطہ کے سیاست دان مطمئن و مسرور ۔ تفصیلات کے مطابق بھارت ، اسرائیل ، فرانس کے تعاون اور ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان و آزاد خطہ کو پانیوں سے محروم کرنے کے لیے 62 منصوبوں پر کام کا آغاز کر چکا ہے۔ 12 منصوبے تکمیل کے قریب ہیں ان منصوبوں کے ذریعے دریائے جہلم و نیلم میں ایک قطرہ بھی آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہو سکے گا بھارت سرنگ کے ذریعے دونوں دریاؤں کا پانی جموں ، گورداسپور اور مشرقی پنجاب ، ہریانہ پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہے وولر بیراج کے فنکشنل ہونے سے دریائے جہلم کا پانی معمول سے کئی گنا کم ہو گیا ہے ۔ گرمیں کے موسم دریائے جہلم میں سطح آب سردیوں کے موسم سے بھی کئی گنا کم ہے ۔ آمدہ سردیوں میں دریائے جہلم کا خشک ہونا تقریبا ً طے ہے ۔ وادی جہلم کے ہزاروں افراد اس صورت حال پر پریشان ہیں ۔ دریائے نیلم کا پانی کشن گنگا کے ذریعے منتقل کیا جارہا ہے ان دونوں دریاؤں کے خشک ہونے سے پاکستان و آزاد کشمیر میں شدید غدائی بحران پیدا ہونے کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوں گی ۔ انتہائی باعث تشویش امر ہے کہ دریا سوکھ رہے ہیں مگر پاکستان و آزاد کشمیر کے حکمران دینی ، سیاسی جماعتوںکے قائدین ملکی دفاع ، اور مفاد میں فیصلے کرنے والے اداروں سمیت ہر وقت یہاں تک کہ عوام کی بڑی تعداد خاموش ہے۔ سیاسی قائدین جنہیں قوم کی راہنمائی کرنی ہوتی ہے مخصوص مفادات کے اسیر ہیں اور پنجاب سندھ اور میرپور ڈویژن ریگستانوں میں بدلنے جا رہاہے مقبوضہ کشمیر کے پیشتر سیاست دان اس صورت حال پر متفکر ہیں ۔ سید علی گیلانی کے علاوہ بھارتی وزیر فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کے اقدامات کی مذمت کر چکے ہیں ۔ حریت قائدین سید علی گیلانی اور محبوبہ مفتی نے سندھ طاس معاہدہ ختم کر کے پانیوں پر کشمیریوں کا حق ملکیت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان و آزاد کشمیر نے اگر اس صورت حال کے تدارک کے لیے فوری لائحہ عمل مرتب نہ کیا تو آئندہ 5 سالوں میں ان دریاؤں کے نشانات ہی باقی رہیں گے
تفصیل میں جانے کا دل نہیں کررہا تو اتنا بتائے دیتا ہوں بات وہی پرانی ہے کہ انڈیا نے ہمارا پانی روک لیا۔ اس طرح کی خبریں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ لیکن چونکہ ہمیں "اصلی تے وڈی" فتح چاہیے ہوتی ہے جس پر بھنگڑے بھی ڈالے جاسکیں اور کرکٹ ایسے تمام نتائج  دیتا ہے اس لیے ہمیں یہ فتح مبارک ہو۔ پانی کا کیا ہے چند لاکھ ایکڑ اراضی ہی بنجر ہونے جارہی ہے وہ بھی ابھی کئی سال پڑے ہیں اللہ خیر کرے گا۔ کوئی سلسلہ بن ہی جائے گا نا۔ ہمیں میچ جیتنے کی خوشی منانی چاہیے۔ بلوچستان کا کیا ہے اللہ خیر کرے گا بلوچستان کہیں نہیں جارہا ادھر ہی ہے۔ اور کشمیر پہلے کونسا اپنے پاس تھا باسٹھ سال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا چھنکنا ہی بجا رہے ہیں ہم۔
تو صاحبو آپ کو ایک اور "فتح" مبارک ہو۔ لیکن جاتے جاتے ایک بات، کہیں اس فتح اور ایسی دوسری "فتوحات" (یہ فتوحات صوفیوں والی نہیں جس کا مفہوم چندے کی صورت میں نکلتا ہے) کی قیمت ہم کسی اور میدان میں ہار کر تو ادا نہیں کررہے۔ ذرا سوچیے گا ضرور۔

منگل، 1 ستمبر، 2009

؟

یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے بڑی سکیم کے ساتھ ہورہا ہے۔ اوپر والی خبر تو آپ نے پڑھ لی ہوگی۔ اس سے پہلے بھی تین قوم پرست رہنماؤں کو قتل کیا جاچکا ہے اور اب ایک اور۔۔۔ اس وقت بھی الزام لگا تھا کہ یہ ایجنسیوں کا کام ہے اور اب بھی یہی الزام لگے گا۔ ہڑتال ہوگی اور لعن طعن اور بی ایل اے جیسے اور مضبوط ہوجائیں گے۔ یہ کون کررہا ہے؟ ایجنسیاں اتنی بے وقوف ہیں؟ کہ وہ مسلسل ایسا کرتی جارہی ہیں جبکہ انھیں پتا ہے کہ یہ سب علیحدگی پسندوں کو طاقت فراہم کرے گا۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کون ہے؟ کوئی سازش؟ کوئی سازش ہے تو اس کا تدارک کیوں نہیں کیا جاتا۔ بلوچستان آہ بلوچستان۔۔۔ آدھا پاکستان

ہفتہ، 11 اپریل، 2009

یہ اچھا نہیں ہوا

بلوچستان میں ہونے والے تین رہنماؤں کا قتل جس نے بھی کروایا ہے بہت عیار اور چالاک ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ہر طرف سے مسائل میں گھرا ہوا ہے یہ ایک اور مصیبت ہے۔ اور عین وقت پر آنے والی مصیبت۔ بلوچستان پہلے ہی حقوق سے محرومی کی آگ میں جل رہا ہے اوپر سے یہ سب۔ یااللہ کیا بنے گا ہمارا۔ آج کے ایکسپریس میں محمد عامر خاکوانی کا کالم پڑھنے کا لائق ہے۔
مجھے تو یہ پڑھ کر پھریریاں آرہی ہیں کہ پورے کوئٹہ میں صرف ایک سی این جی سٹیشن ہے۔ اور یہاں جس ماں کے خصم کو چاہے اٹھا کر سی این جی سٹینش کا لائسنس دے دیتے ہیں۔ پانچ پانچ سو میٹر کے فاصلے پر سی این جی سٹیشن بنے ہوئے ہیں اور کبھی دو ساتھ ساتھ کے پلاٹوں پر سی این جی سٹیشن بنے ہوئے ہیں۔ جو موبائل فون کمپنیوں کی طرح گاہک گھیرنے کے لیے کبھی سستی گیس بیچتے ہیں کبھی ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں کبھی کوئی اور بچت سکیم کا متعارف کرواتے ہیں۔
آخر بلوچستان کو کیوں حق نہیں دیا جاتا۔ یہاں فیصل آباد میں بیٹھے ہم پنجابی اس گیس کے زیادہ مامے ہیں جو سینکڑوں میل دور سوئی اور دوسرے علاقوں سے نکلتی ہے۔ ان کی عقلیں کہاں ہیں اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کدھر ہے۔ پرویز مشرف بھی میگا پراجیکٹس کی ڈگڈگی بجاتے رخصت ہوگیا اور اب شاید یہی کچھ یہ کررہے ہیں۔

ہفتہ، 30 اگست، 2008

صدارت اور آصف علی زرداری

بطور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی عوام میں غیر مقبولیت کو اب ایک اور انداز میں ایک کالم نگار پیش کررہے ہیں۔ پی پی پی کو ایک ہی چیز کی فکر ہے اور وہ ہے کہ 12 سال کے بعد جو اقتدار ملا ہے اس پر ہر طرف سے گرفت مضبوط کرلی جائے۔ باقی ستے خیراں ہیں۔  ججوں کو بھی پی سی او کے تحت بحال کیا جارہا ہے۔ زرداری جی جن کے نازک کندھوں پر پورے ملک کی ذمہ داری ہے اب ایوان صدر میں بیٹھ کر اسے بہ احسن سرانجام دے سکیں گے۔


مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی جب صدر ایک علامتی عہدہ ہے، صرف وفاق کی علامت تو اس کے لیے زرداری جی اتنے کشٹ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اپنی بے عزتی خراب کروارہے ہیں اور پارٹی کی الگ درگت بن رہی ہے۔ صدر بن کر زرداری کو کیا مل جائے گا؟ صدر پی پی پی کا ہوجائے گا، ایوان صدر سے کوئی مداخلت نہیں ہوسکے گی، پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اس کے جواب ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے اگر سترہویں ترمیم ختم کردی جاتے ہے تو صدر کی طرف سے مداخلت کا خدشہ پھر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اب یہ ختم نہیں ہوگی۔ زرداری صاحب اب گولف کھیلنے اور تقاریب کا افتتاح کرنے تو جائیں گے نہیں۔ کوئی دھوم دھڑکا پاس ہونا چاہیے چاہے وہ 58-2بی ہی ہو۔


اوپر ذکر کیے گئے کالم نگار مخالفت کو پھر پنجابی اسٹبلشمنٹ کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب نے یہ کردیا، پنجاب نے وہ کردیا۔ اب پنجاب ایک چھوٹے صوبے سے صدر بھی نہیں بننے دے رہا۔  میرا ذاتی طور پر خیال تھا کہ پی پی پی اب بلوچستان سے صدر لائے گی۔ جو سندھ سے بھی زیادہ مستحق صوبہ ہے۔ لیکن وائے قسمت وڈے سائیں راضی نہ ہوئے۔ کھٹک تو اسی وقت لگ گئی تھی جب موصوف نے ضمنی انتخابات نہ لڑے اور 3 ماہ کے وزیر اعظم بعد میں بھی حاضر سروس رہے۔


ن لیگ سے اتحاد واقعی غیر فطری تھا اور اسے ختم ہونا ہی تھا۔ لیکن پارٹی کا طرز عمل اور زرداری جی کے لارے لپوں نے نواز شریف کو یہ سب پہلے ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ پی پی پی کی فکر کہ اقتدار مضبوط ہوجائے امید ہے چھ ماہ کے بعد اگلے ماہ مُک ہی جائے گی۔ اب دیکھتے ہیں معیشت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے قرضے کی بات بھی ہوگئی ہے۔ عالمی بینک بھی "امداد" دے رہا ہے۔ امید ہے اس بھیک سے کچھ عرصہ تو گزرے گا ہی۔

جمعہ، 23 نومبر، 2007

ایک اور جنازہ اٹھتا ہے

میر بالاچ مری ایک عرصے تک بلوچ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک کاروائی میں‌ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پر سندھ اور بلوچستان میں ہنگامے ہورہے ہیں‌ جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں‌۔

میں نہیں‌ جانتا وہ صحیح‌ تھا یا غلط۔ بقول میرے ایک جاننے والے کے قبائلی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان پر ہیلی کاپٹروں‌ سے آگ برسا کر بالکل ٹھیک کیا جارہا ہے۔ میں اس وقت بھی ان صاحب سے متفق نہیں تھا اور اب بھی نہیں‌۔ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں‌ کے مطالبات ایسے نہیں‌ کہ انھیں پورا نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا کہیں ہماری فوج کا جسے اپنی تربیت بھی تو کہیں آزمانی ہے۔ گولہ بارود پڑا سڑتا رہے اس سے بہتر ہے کہ کہیں "کام" آجائے۔