اتوار، 22 نومبر، 2009
این آر او
این آر او پر ہونے والی پچھلے کئی ماہ کی بحث اور میڈیا بشمول عوام و حزب اختلاف کی حکومت پر لعن طعن کے بعد آخر کار پیپلز پارٹی نے یہ کہہ دیا کہ عدالت جو کچھ کہے گی ہم وہی کریں گے۔ اب کیا ہوگا؟ جیسا کہ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ حکومت میں موجود افراد کے خلاف مقدمات تو پھر بھی دائر نہیں کیے جائیں گے کم از کم صدر زرداری کے خلاف تو نہیں۔ یعنی درون خانہ کچھ بھی نہیں بدلے گا۔
اس سلسلے کا ایک قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں ان ہزاروں مقدمات میں سے بہت کم کو نمٹایا جاسکا ہے۔ سیاسی،انتظامی اور جانے کون کونسی وجوہات کی بنا پر انھیں ملتوی کیا جاتا رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی۔ اس سلسلے میں آصف علی زرداری جنھوں نے آٹھ دس سال بلا سزا ہی جیل کاٹی کا واقعہ ہمارے نظام انصاف پر ایک داغ ہے۔ یہ تو خیر صدر مملکت کی بات تھی ایسی ہزاروں مثالیں ہر جگہ موجود ہیں جہاں قیدی صرف جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں سالوں سے بند ہے اور اس کا مقدمہ ختم نہیں ہورہا۔ ہمیں اس سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدمات کو پہلی فرصت میں نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ورنہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حکومت والے حکومت کرتے رہیں گے اور عوام انھیں کوستے رہیں گے۔ کاش ہم اس موقعے کو گنوائیں نہیں۔ لیکن اس کے لیے بہت سی ہمت درکار ہے۔ ہمارے سیاستدان وہ ہمت مجتمع کرپائیں گے؟
ابھی تک تو اس کا جواب نہیں لگ رہا ہے۔
اتوار، 5 اپریل، 2009
کس کو سنیں کس کو نہ سنیں؟
پچھلے پانچ سال سے ہماری حکومت کی رِٹ کہا جارہی ہے؟ کبھی سوچا ہے آپ نے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ ہمارے حکمران شمالی علاقوں پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔
ہماری حکومت روشن خیالی اور جمہوریت کی آڑ میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک ایسی آگ بڑھکا رہی ہے جو خانہ جنگی کی طرف ہی لے کر جاسکتی ہے۔ اور لے جا بھی رہی ہے۔
میں آپ کو اپنا حال بتاتا ہوں۔ ایک طرف یہ خود کش حملے ہیں، بم دھماکے ہیں اور دوسری طرف جب مین فحش ناچ گانا اور اپنے شہر فیصل آباد کے تھیٹروں میں ہونے والے ڈرامے اور ان میں ناچنے والی رنڈیوں کے ننگے پوسٹر دیکھتا ہوں تو میرا دل کیا کرے گا۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے؟
جب میں اپنے معاشرے کی اخلاقی تنزلی دیکھوں گا، جھوٹ، ، رشوت اور ناانصافی کو پنپتا دیکھوں گا تو پھر میں کیا سوچوں گا؟
جناب پھر میرے ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ اگر آج سوات میں یہ کچھ ہورہا ہے تو کل فیصل آباد کی باری ہے۔ پھر پاکستان کی باری ہے۔
یہ حقیقت ہے جناب کہ ہم اس وقت دو انتہاؤں کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔ یہ دو انتہائیں اس قدر شدید ہیں کہ شاید یہ قومیتی اور صوبائی اختلافات کو بھی اپنے اندر سمیٹ لیں۔ اور تقسیم ایسی ہوجائے کہ کچھ صوبے یا نسلی گروہ بنیادہ پرست ہوجائیں اور کچھ مادر پدر آزادی کو ترجیح دیں۔
یہ ساری تقسیم پاکستان کو برباد کردے گی جناب اگر آپ نے میں نے یہ نا سوچا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔
اگر طالبان اٹھ رہے ہیں تو اس کی وجوہات ہیں جناب۔
اس کی وجوہات مرد مومن مرد ناحق کی وہ کوڑھ کی کاشت ہے جس نے اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔
اس کی وجوہات وہ یو ٹرن ہے جو 2001 میں لیا گیا جناب جس نے ایسا ردعمل پیدا کیا جو آج شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
اس کی وجوہات میں طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی شامل ہے جناب جو پچھلے پانچ سال میں شمالی علاقوں میں امریکی آشیرواد پر اندھا دھند استعمال کی گئی۔
اس کی وجوہات میں طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں سوات پر پچھلے دو سال میں ہونے والا آپریشن بھی ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں عام آبادی پر توپوں سے گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں ان زمینی حقائق سے مجرمانہ غفلت اور انٹیلی جنس سسٹم کی ناکامی بھی شامل ہے جناب۔
یہ بات نوٹ کرلیجیے جناب کہ اگر آج بھی ڈائیلاگ کی بات نہ کی گئی، طاقت کو ہی آخری حل سمجھا گیا اور حاکموں کا محاسبہ نہ کیا گیا تو اس ملک کا کچھ نہیں بچے گا جناب۔ اس ملک کے روشن خیال جمہوریت پسند حکمران اسلام آباد میں بیٹھے چھنکنے بجاتے رہ جائیں گے جیسے حامد کرزئی کابل میں بیٹھا چھنکنے بجاتا اور بیان جاری کرتا رہتا ہے۔
جناب یہ صورت حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنی نظر آرہی ہے۔ اور اس کا حل اتنا سادہ نہیں جتنا سادہ بیان کیا جاتا ہے۔ کہ طاقت کے استعمال سے ظالمان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ جناب یہ وہ کینسر ہے جو آپ کے جسم کے ان ان حصوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے جس کا آپ کو احساس بھی نہیں۔ اور اس کینسر کے خلاف ہونے والے آپریشن نے اس ملک کو ٹھیک کرنے کی بجائے مفلوج کرڈالا ہے۔
ہمیں اعتدال کی ضرورت ہے جناب اور ٹھنڈی طبیعت سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جناب۔
اس ملک میں رہنے والوں کو اپنے حقوق و فرائض اور اس ملک کا مستقبل پھر سے مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا جناب۔ ورنہ کسی خونی انقلاب کی چاپیں بہت قریب آگئی ہیں جناب۔ شاید خونی انقلاب نہیں خانہ جنگی۔
پیر، 8 دسمبر، 2008
بدھ، 10 ستمبر، 2008
ٹیکس، ٹیکس اور ٹیکس
پچھلے دو ماہ سے ہم ٹیکس بھر رہے ہیں۔ پہلے پراپرٹی ٹیکس آیا اڑھائی مرلے کا مکان اور دو دوکانیں جن کا کرایہ 1500 ماہانہ ہے پر سال میں 3300 روپیہ ٹیکس وصول کرتی ہے حکومت۔
اس کے بعد صدر کی روزگار سکیم سے لیا گیا چنگ چی لوڈر رکشہ، جس کی ٹوکن فیس اور فٹنس فیس مبلغ 2425 روپے ادا کرنے کا حکم آگیا ہے۔ ابھی اس کی قسط کے پیسے کسی نہ کسی طرح پورے کیے تھے اور ٹیکس کا مژدہ آگیا۔
یہ تو انفرادی حال ہے۔
اجتماعی حال بجلی پر کتنے سرچارج اور ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے سیلابی متاثرین سے لے کر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تک کا فی یونٹ ٹیکس ہم بھرتے ہیں۔
سیلز ٹیکس سولہ فیصد کردیا گیا ہے جو ہر چیز پر نافذ ہے۔
بجلی پر پہلے سبسڈی دی جاتی تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے چناچہ پچھلے ماہ سے بلوں میں سولہ فیصد جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔
اگلے ماہ سے اکتیس فیصد اضافہ مزید متوقع ہے۔ یعنی ہمارا بل جو پچھلے ماہ 1600 تھا اس بار 2000 آیا اور اگلی بار 2500 کے اریب قریب ہوگا۔
موبائل فون کے ریٹس پر 21 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ چناچہ دو منٹ میں ہی دس روپے کٹ جاتے ہیں۔
پٹرولیم پر اچھا خاصا ٹیکس فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح بیس روپے سے کم نہیں۔
اور انھی ٹیکسوں پر عوام کی حکومت چل رہی ہے۔ اور عوام بس ہورہے ہیں۔
ہفتہ، 30 اگست، 2008
صدارت اور آصف علی زرداری
بطور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی عوام میں غیر مقبولیت کو اب ایک اور انداز میں ایک کالم نگار پیش کررہے ہیں۔ پی پی پی کو ایک ہی چیز کی فکر ہے اور وہ ہے کہ 12 سال کے بعد جو اقتدار ملا ہے اس پر ہر طرف سے گرفت مضبوط کرلی جائے۔ باقی ستے خیراں ہیں۔ ججوں کو بھی پی سی او کے تحت بحال کیا جارہا ہے۔ زرداری جی جن کے نازک کندھوں پر پورے ملک کی ذمہ داری ہے اب ایوان صدر میں بیٹھ کر اسے بہ احسن سرانجام دے سکیں گے۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی جب صدر ایک علامتی عہدہ ہے، صرف وفاق کی علامت تو اس کے لیے زرداری جی اتنے کشٹ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اپنی بے عزتی خراب کروارہے ہیں اور پارٹی کی الگ درگت بن رہی ہے۔ صدر بن کر زرداری کو کیا مل جائے گا؟ صدر پی پی پی کا ہوجائے گا، ایوان صدر سے کوئی مداخلت نہیں ہوسکے گی، پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اس کے جواب ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے اگر سترہویں ترمیم ختم کردی جاتے ہے تو صدر کی طرف سے مداخلت کا خدشہ پھر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اب یہ ختم نہیں ہوگی۔ زرداری صاحب اب گولف کھیلنے اور تقاریب کا افتتاح کرنے تو جائیں گے نہیں۔ کوئی دھوم دھڑکا پاس ہونا چاہیے چاہے وہ 58-2بی ہی ہو۔
اوپر ذکر کیے گئے کالم نگار مخالفت کو پھر پنجابی اسٹبلشمنٹ کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب نے یہ کردیا، پنجاب نے وہ کردیا۔ اب پنجاب ایک چھوٹے صوبے سے صدر بھی نہیں بننے دے رہا۔ میرا ذاتی طور پر خیال تھا کہ پی پی پی اب بلوچستان سے صدر لائے گی۔ جو سندھ سے بھی زیادہ مستحق صوبہ ہے۔ لیکن وائے قسمت وڈے سائیں راضی نہ ہوئے۔ کھٹک تو اسی وقت لگ گئی تھی جب موصوف نے ضمنی انتخابات نہ لڑے اور 3 ماہ کے وزیر اعظم بعد میں بھی حاضر سروس رہے۔
ن لیگ سے اتحاد واقعی غیر فطری تھا اور اسے ختم ہونا ہی تھا۔ لیکن پارٹی کا طرز عمل اور زرداری جی کے لارے لپوں نے نواز شریف کو یہ سب پہلے ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ پی پی پی کی فکر کہ اقتدار مضبوط ہوجائے امید ہے چھ ماہ کے بعد اگلے ماہ مُک ہی جائے گی۔ اب دیکھتے ہیں معیشت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے قرضے کی بات بھی ہوگئی ہے۔ عالمی بینک بھی "امداد" دے رہا ہے۔ امید ہے اس بھیک سے کچھ عرصہ تو گزرے گا ہی۔
اتوار، 16 دسمبر، 2007
میں 16 دسمبر 1971 کا نوحہ کہوں یا اپنے حال کا؟
کیا لکھوں؟
میرا حال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی ملنی مشکل ہوگئی ہے۔ سارا سارا دن یوٹیلٹی سٹور پر لائن میں کھڑے ہو کر چار کلو گھی اور ایک تھیلا آٹے کا ملتا ہے۔ ساتھ میں یوٹیلیٹی سٹور والا اور خریداری کے بغیر گھی اور آٹا بھی نہیں دیتا۔ کہتا ہے ہم نے یہ کہاں بیچنا ہے۔
ہر تین گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے۔ یہ آنکھ مچولی سارا دن جاری رہتی ہے میں کاروبار کیا خاک کروں؟
میرے ملک کے حکمران اس بات پر سراپا فخر و غرور ہیں کہ ایک کروڑ عوام کے پاس موبائل ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی ریل پیل ہوچکی ہے اور خزانہ بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ موبائل فون، یہ کاریں اور موٹر سائیکل مجھے دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں؟
مجھے کھانے کو نہ ملے تو کیا ان موبائل فونوں کو ہی چبانا شروع کردوں؟
میں کس بات کا نوحہ پڑھوں؟
اپنے اور اپنے خاندان کے فاقہ زدہ اور محروم چہروں کا یا چھتیس سال پہلے کا؟
کوئی بتائے مجھے میں کس کی نوحہ خوانی کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر، 25 جون، 2007
لوٹ کے بدھو۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے والد صاحب فرمایا کرتے ہیں "جد کُنڈ چُک لیا فیر نچنے توں کی ڈرنا" یعنی گھونگھٹ اٹھا لیا تو ناچنے سے کیا گھبرانا۔ سو ہم نے بھی آنکھیں بند کرکے غوطہ لگا دیا۔ کل سے اسی فری ہوسٹ پر ہمارا انگریزی بلاگ بھی فنکشنل ہوچکا ہے۔اس کا مقصد سادہ سا ہے۔ انگریزی میں اپنی استعداد کار کو بڑھانا چونکہ ہماری روزی روٹی اب اس سے وابستہ ہوچکی ہے ۔ نیز ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق کچھ اشتہارات وغیرہ عوام کو دکھا کر مشتہرین سے پیسے بٹورنا۔
ہم احباب سے فردًا فردًا بھی درخواست کریں گے لیکن اس تحریر کو پڑھنے والے احباب اسے اپنے انگریزی روابط میں شامل کرلیں تو ہم ان کے تاعمر ابھاری رہیں گے۔
ہفتہ، 12 مئی، 2007
آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔