آزاد مصدر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آزاد مصدر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 2 ستمبر، 2008

اک "براؤزر" ہور

شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔


حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome


کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔


اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔

بدھ، 19 مارچ، 2008

اوپن سورس کی حکمت عملی

میں پچھلے کچھ دنوں سے اس بارے میں پڑھ رہا ہوں سوچا آپ سے شئیر کرتا چلوں۔ رات الف نظامی سے بات ہوئی تو کہنے لگے تقسیم کرو اور فتح کرو کی پالیسی پر چلو۔ انھوں نے تو یہ سی شارپ سیکھنے کے تناظر میں کہا تھا لیکن میں اسے اوپن سورس کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔

آزاد مصدر پراجیکٹس زیادہ دیر نہ چل سکنے کے سلسلے میں خاصے بدنام ہیں۔ اکثر پراجیکٹ جو بہت مشہور ہوئے ان کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اچھی سپانسر شپ حاصل ہے اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ایک اور چیز جو میں نے ان مقبول پراجیکٹس کے بارے میں نوٹ کی وہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سہولیات ہیں۔ غضب خدا کا آپ کو ہر چیز کا حل مل جاتا ہے۔ اب فائر فاکس کو ہی لے لیں اضافتوں کے نام پر آپ فائر فاکس کو جانے کیا کیا روپ دے سکتے ہیں۔ ایف ٹی پی ٹرانسفر کی سہولت، اس میں بیٹھ کر بلاگ لکھیں، آنلائن بک مارکس محفوظ کریں اور جانے کیا کیا۔۔

یہ اضافتوں والا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ آپ پروگرامر کو ایک حد تک اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ سافٹویر میں قابل تبدیلی اضافے کردے۔ اس حکمت عملی کی کامیاب مثالیں فائر فاکس اور ورڈپریس ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اب کئی دوسرے پراجیکٹس بھی اس طرف آرہے ہیں۔ اوپن آفس مشہور زمانہ آزاد مصدر آفس پروگرام ہے۔ یہ پچھلے کچھ عرصہ سے اضافتوں کے سلسلے میں آگے آرہا ہے ۔اگرچہ یہ ابھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن اوپن آفس 3 جو کہ ستمبر اکتوبر کے قریب مارکیٹ میں آرہا ہے میں اضافتوں کے لیے اچھا فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اس سے اوپن آفس میں بہت زیادہ سہولیات میسر آجائیں گی۔ اس وقت اوپن آفس میں بہت سی چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں جو اس کے کمرشل متبادل مائیکروسافٹ آفس کے پانچ سال پرانے ورژنز میں بھی ہیں۔ عام سی مثال ایک عدد کلپ بورڈ ٹول ہے جو آپ کو فعال ہونے پر 24 کاپی کرنے کی اجازت دیتا ہے جنھیں آپ ترتیب وار ایسے ہی ورڈ فائل میں پیسٹ کرسکتے ہیں۔

مونو اور مونو ڈویلپ آج کل میرےعشق میں شامل ہیں اور میں سوتے میں بھی ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ایک الگ داستان ہے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ مونو ڈویلپ بھی پلگ انز کی طرز پر خصوصیات اور فیچرز میں اضافے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت اگرچہ اس کے پلگ ان نوویل کے ہی تیار کردہ ہیں لیکن مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ایویں کھیڈ تماشے کے لیے اس کے پلگ ان تشکیل دے دیا کریں گے۔

ہفتہ، 15 دسمبر، 2007

مونو (Mono) میری نظر سے

منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے "قابل پڑھائی" کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔Mono
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔

بدھ، 5 دسمبر، 2007

سی این آر کا اجراء

لِن سپائر اور فری سپائر کے ڈویلپرز لِن سپائر کارپوریشن نے سی این آر ڈاٹ کوم کا بی ٹا ورژن جاری کردیا ہے۔ یہ ویب 2 پر مشتمل سافٹویر ڈیلیوری سروس ہے جو دنیا بھر کے لینکس صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے۔ اس سروس کا مقصد ڈیبین اور آر پی ایم بیسڈ لینکس سسٹمز کے لیے سافٹویر کا حصول اور ان کی تنصیب آسان بنانا ہے۔ سی این آر کا یہ نیا اور مفت ورژن فی الحال فری سپائر 2، لِن سپائر 6، اوبنٹو 7.04 اور 7.10 کے لیے دستیاب ہے۔ جلد ہی اس کی معاونت مقبول لینکس ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردی جائے گی جیسے ڈیبین، فیڈورا، سوسی وغیرہ وغیرہ۔
یاد رہے سی این آر لِن سپائر کی کمرشل سافٹویر سروس تھی۔ لیکن فری سپائر کے اجراء کے بعد انھوں نے اسے فری سپائر میں بھی متعارف کروایا۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے ایک سافٹویر بنام سی این آر کلائنٹ فری سپائر کے ورژن 1.0 میں موجود تھا۔ لِن سپائر نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملکیتی مال کی جگہ سی این آر کا آزاد مصدر اور مفت ورژن ڈویلپ کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ فری سپائر 2 سے اسے اوبنٹو بیسڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی لِن سپائر اوبنٹو کو لے کر اس کے مواجے میں کچھ تبدیلیاں کرکے(فری سپائر کا طےشدہ ڈیسکٹاپ مواجہ کیڈی پر مشتمل ہے) اور کلوزڈ سورس ڈرائیورز و پلگ انز ڈال کر اسے فری سپائر کے نام سے جاری کرتا ہے۔ لِن سپائر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سی این آر اوبنٹو کے لیے جلد ہی دستیاب ہوگا اور اب اسے سب سے پہلے اوبنٹو کے لیے ہی جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسری ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔ ایک عام صارف کے لیے لینکس میں سافٹویر انسٹال کرنا اچھا خاصا درد سر ہوتا ہے۔ چونکہ اس کام کے لیے کئی پیکج مینجمنٹ سسٹم ہیں۔ ڈیبین کا .deb اور ریڈ ہیٹ و فیڈورا پر مشتمل ڈسٹروز کا .rpm اور تو اور مینڈریوا کا اپنا الگ ہی پیکج سسٹم ہے۔ پیکج لینکس میں ایگزی فائل کی طرح ہی ہوتے ہیں جو سافٹویر کو انسٹال کرنے کے کام آتے ہیں۔ لینکس دنیا میں ایک عرصے سے کسی ایک پیکج مینجمنٹ سسٹم پر اتفاق کے سلسلے میں متفق ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے نظام جاری بھی کیے گئے ہیں جو ڈسٹرو سے آزاد ہوتے ہیں یعنی ایسے فارمیٹ میں موجود سافٹویر کسی بھی ڈِسٹرو میں انسٹال ہوسکتا ہے۔ سی این آر بھی اسی سلسلے کی ایک منظم اور مربوط کڑی ہے۔
بحوالہ

بدھ، 28 نومبر، 2007

کنونشل نے اوبنٹولینکس ڈویلپرز سروس جاری کردی

اوبنٹو لینکس نے سافٹویر ڈویلپمنٹ اور ڈویلپرز کے لیے ایک نئی سروس لانچ کی ہے۔ یہ سروس اوبنٹو کے ڈیسکٹاپ، سرور اور موبائل ایڈینشنز کے لیے اطلاقیے لکھنے میں استعمال کی جائے گی۔
کنونشیل لیمٹڈ جو اوبنٹو کو سپانسر بھی کرتے ہیں نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ نئی لانچ پیڈ پرسنل پیکج آرکائیو کو موجودہ لانچ پیڈ ڈویلپمنٹ ویب سائٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔ یہ گروپس کو پیکجز کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی ڈویلپرز کو بھی آزاد مصدر اطلاقیوں کے ذاتی ورژن ہوسٹ کرنے کی سہولت دے گی۔
ڈویلپرز پی پی اے کو استعمال کرتے ہوئے ایک گیگا بائٹ کی سپیس حاصل کرے گا جہاں وہ اپنا سافٹویر پیکج چڑھا سکے گا۔ جبکہ شریک کار اس میں ہاتھ بٹا سکیں گے۔ یہ سپیس کنونشل کی طرف سے صرف فری سافٹویر کے لیے فراہم کی جائے گی۔
"پی پی اے جو آزمائشی مراحل میں تھا اب مکمل طور پر جاری کردیا گیا ہے" کمپنی نے کہا
" بہت سے ڈویلپرز موجودہ پیکجز میں تبدیلی یا اپنے سافٹویرز کے نئے پیکج بنانا چاہتے ہیں" کرسٹان روبوٹم ریز جنھوں نے کنونشل میں پی پی اے کے پراجیکٹ کی قیادت کی ہے نے ایک بیان میں کہا۔ "پی پی اے سروس ہر کسی کو اوبنٹو کا ڈویلپر بننے کی اجازت حاصل کیے بغیر اپنا پیکج شائع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ فری سافٹویر برادری میں دھماکہ خیز اضافہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پی پی اے پراجیکٹ ڈویلپرز اور ڈویلپمنٹ ٹیموں کو ان کے سافٹویر سازی کے بہترین تصورات کو صارف تک پہنچانے اور ان سے آراء کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔"
"انھیں تجربہ کار پیکج کاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی موقع ملے گا۔" انھوں نے کہا۔" پی پی اے ایک تعمیر کار اور اشاعتی نظام ہے جس میں کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہم لانچ پیڈ سے موبائل ماحول کے لیے پیکجز تیار کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کے سلسلے میں کافی پرجوش ہیں۔ "
کنونشل نے کہا کہ پی پی اے سروس ڈویلپرز کو براہ راست صارفین کے ساتھ ملادے گی اور صارفین یہ پیکج حاصل کرکے اپنے سسٹم میں صرف ایک اپڈیٹ سے نصب کرسکیں گے۔ نیز پی پی اے پر پیکج کا نیا ورژن جاری ہونے پر متعلقہ صارفین کو خودکارانہ اپڈیٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔
بحوالہ

ہفتہ، 3 فروری، 2007

How to Upgrade Wordpress?ورڈپریس کو جدید کس طرح کریں؟

کئی دن کی کھجل خواری اور ڈر ڈر کے آخر دو دن پہلے ہم نے ورڈپریس کو جدید کر ہی لیا۔ پہلے ہمارے پاس ورڈ پریس 2.0.4 تھا لیکن جب ورڈپریس 2.1 آیا تو اس میں موجود خوبیاں دیکھ کر ہمارا دل بے اختیار للچا اٹھا چناچہ ہم نے متعلقہ سائٹ سے ورڈپریس کو جدید کرنے کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اللہ کا نام لے کر پرسوں صبح بیٹھ کر یہ کام کرہی ڈالا۔ الحمد اللہ ہمارا ورڈپریس بالکل وَل چل رہا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے نبیل بھائی کا ویب پیڈ اب اس کے پوسٹ پیج پر کام نہیں کرتا چونکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ہم نے کافی زور آزمائی کی لیکن بات نہ بنی۔ خیر امید ہے یہ کام بھی ہوجائے گا بقول نبیبل بھائی کے وہ ویب پیڈ کی شمولیت مزید آسان بنانے کے لیے اس کو جدید کررہے ہیں اللہ کرے یہ آسانی سے شامل ہوجائے ورڈپریس میں۔


لو جی اتنی ساری بک بک سننے کے بعد آپ لازمًا بور ہوگئے ہونگے سو آپ کی بوریت کو دور کیے دیتے ہیں اور لیے چلتے ہیں آپ کو بطرف ورڈ پریس کی جدت۔


ویسے تو ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے پیشہ ورانہ سایٹ پر ہدایات موجود ہیں۔لیکن ہم آپ کو دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہیں جو کہ اخذ وہیں سے کیا گیا ہے لیکن ذرا دیسی سٹائل میں اس کا بیان آپ کو سمجھنے میں آسانی مہیا کردے گا۔


سب سے پہلا کام جو آپ نے ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی ویب سائٹ سے ورڈپریس اتار لینا ہے۔


اگلا کام یہ کریں کہ اپنی ڈیٹابیس کی پشتادہ نقل یعنی بیک اپ کرلیں تاکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوجائے تو مسئلہ نہ ہو۔ ورڈپریس والے تو ساری کی ساری فائلوں کو نقل کرلینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا بہرحال یہ آپ کے وسائل پر منحصر ہے ویسے احتیاط اچھی بات ہوتی ہے۔ اور ہاں ورڈپریس کی ڈیٹابیس کی نقل لینا کوئی مشکل کام نہیں پلگ انز میں جاکر ڈیٹابیس بیک اپ کے دخیلے کو فعال کریں پھر مینج میں جاکر اس سے پشتادہ نقل تیار کرلیں۔ یہ دخیلہ ورڈپریس میں طےشدہ طور پر موجود ہوتا ہے۔


لوجی ورڈپریس اتنی دیر میں اتر گیا ہوگا اور آپ نے یقینًا ڈیٹابیس اور متعلقہ فائلوں کی پشتادہ نقل تیار کرلی ہوگی۔ اگلا کام اب یہ ہے کہ آپ نے ورڈپریس کنفگ پی ایچ پی فائل جو کہ روٹ میں ہی موجود ہوتی ہے کو ہوبہو نقل کرکے نئے ورڈپریس فولڈر میں ڈال دینا ہے اور اس میں پہلے سے موجود فائل جو کہ wp-sample-config.php کے نام سے ہوگی کو اڑا دینا ہے اس فائل میں آپ کی ڈیٹابیس کی معلومات محفوظ ہوتی ہیں سو اس کو نہیں چھیڑتا۔


اس کے بعد آپ نے اپنے تمام کے تمام فعال دخیلے یعنی پلگ انز ورڈپریس ناظمی پینل کے پلگ ان نامی ربط میں جاکر باری باری غیر فعال کردیتے ہیں۔


اگلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ فائل زیلا یا اپنے کسی بھی پسندیدہ ایف ٹی پی مینجر سے ورڈپریس 2.1 کو اٹھا کر اپنے سرور پر چڑھا دینا ہے لیکن ٹھہریں آپ نے /wp-content نامی فولڈر کو سرور پر کچھ نہیں کہنا۔


اس فولڈر میں آپ کے پسندیدہ ورڈپریس حلیے یعنی تھیم اور دخیلے ہوتے ہیں اس کو ایسے ہی رہنے دینے کے لیے ہم نے یہ کیا تھا کہ ورڈپریس 2.1 جو سرور پر چڑھانا تھا کے فولڈر میں سے وپ کونٹینٹ والا فولڈر ہی اڑا دیا اور باقی سب کو منتخب تمام کرکے سرور پر چڑھا دیا۔ اس دوران آپ کا ایف ٹی پی ناظم پوچھے گا کہ کیا پرانی فائلوں کو اوور رائٹ کردوں آپ نے ہاں کردینی ہے بلکہ ہر بار کی زحمت س بچنے کےلیے آپ نیچے دئیے ہوئے ہمیشہ ایسا کریں کے بکس کو نشان زد کردیجیے۔ کوئی دو میگا بائٹ کے قریب ورڈپریس کی چڑھائی آپ کے کنکشن کی رفتار پر منحصر ہوگی۔ اس کو آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لینا چاہیے ویسے۔


لیجیے جب یہ کام ہوگیا تو اگلا کام آپ نے اپگریڈ پی ایچ پی فائل کو چلانے کا کرنا ہے۔ اس کی مثال یہ ہوسکتی ہے۔


( http://example.com/wordpress/wp-admin/upgrade.php )


یہاں مثال کی جگہ اپنا بلاگ پتہ لکھ دیں اور اسی کو چلالیں۔ فائل چلے گی اور آپ کو بلاگ جدید کرنے کو کہا جائے گا آپ اللہ کا نام لے کر اس بٹن پر کلک کردیں۔ اگلے مرحلے پر سب کچھ ہوجائے گا اور آپ کو انجوائے اٹ کا ایک ربط نظر آئے گا اس پر کلک کریں اورآپ کا بلاگ جدید ہوگیا۔ ایڈمن پینل میں جائیں آپ کو واضح تبدیلیاں نظر آئیں گی۔۔ اگر کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو صفحے کو ایک بار تازہ کرلیں امید ہے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اب اپنے دخیلے دوبارہ سے فعال کرلیں اور آپ تیار ہیں تازہ ترین ورڈپریس استعمال کرنے کے لیے۔


اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا آخر ورڈپریس 2.1 میں نیا ہے کیا۔ اس میں ویسے تو کافی ساری خوبیاں ہیں جن کا ذکر پیشہ ورانہ ویب سائٹ پر موجود ہے لیکن میرے خیال سے جو بہترین خوبیاں اس میں اس بار شامل کی گئی ہیں ان میں نمبر ایک تو پوسٹ لکھتے ہوئے اس کا خودکار انداز میں ایک مخصوص وقت کے بعد سرور پر محفوظ ہوتے جانا ہے یہ ایک عرصے سے مطالبہ تھا ورڈپریس کے صارفین کی طرف سے جس کو اس اشاعت میں پورا کیا گیا ہے۔اس طرح لکھنے والا بار بار محفوظ کرنے کے عذاب سے بچا رہتا ہے ۔


دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے وہ ہے ورڈپریس سے ورڈپریس بلاگ میں ڈیٹا برآمد کرنا۔ پہلے یہ سہولت غیر پیشہ ورانہ دخیلے کی صورت میں دستیاب تھی جس کو میں نے ٹرائی کیا بھی لیکن وہ کچھ اتنی خاص نہ تھی اور اس پر مزید کام کی ضرورت تھی۔ اب ورڈپریس میں درآمد اور برآمد دونوں کے انتخابات موجود ہیں۔


مینج میں جائیں اور ایکسپورٹ پر کلک کردیں۔ آپ کے سامنے ایک صفحہ کھل جائے گا جس میں کسی ایکس ایم ایل فائل بنانے کی بات کی گئی ہوگی۔ آپ کو صرف ایک بٹن پر کلک کرنا ہے اور آپ کے تمام کے تمام ورڈپریس ڈیٹا کی نقل آپ کے کمپیوٹر میں ایک ایکس ایم ایل یا آرایس ایس فائل کی شکل میں اتر جائے گی یہ فائل صرف ورڈپریس ہی استعمال کرسکے گا۔


اس کے بعد جب بھی آپ تحاریر دوبارہ سے واپس لانا چاہیں چاہے یہ کہیں کسی بھی ورڈپریس بلاگ پر ہو بس اسی ایکسپورٹ کے ساتھ والے ربط امپورٹ پر کلک کرکے تمام تحاریر، تبصرے، زمرے اور سب کچھ واپس حاصل کرلیں جو آپ کے پچھلے بلاگ میں موجود تھا۔ ہم یہ تجربہ ذاتی طور پر فرما چکے ہیں ملاحظہ کیجیے۔


مزے دار چیز ہے نا؟ وہ احباب جن کو اپنے ورڈپریس ڈیٹا کی فکر تھی اب بے فکر رہیں اب کچھ نہیں ہوگا اب آپ کسی بھی فری ہوسٹ پر بے دھڑک ورڈپریس بلاگ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک حد شاید لگ جائے وہ ہے فائل چڑھانے کی حد۔ میرے سرور پر یہ حد ایک میگا بائٹ ہے شاید جس کی وجہ سے ورڈپریس کے درآمد کنندہ نے مجھے ایک میگا بائٹ زیادہ سے زیادہ فائل سائز کا اشارہ دیا تھا۔ خیر جب ایک میگا بائٹ ہوگا ہم کہیں اور اڑ چکے ہونگے۔ فی الحال تو چلنے دیں۔


تو یہ تھا جناب ورڈپریس کے بارے میں ہمارے تازہ ترین تجربات اور جاتے جاتے ایک خبر بھی سن لیجیے ورڈپریس والوں نے بھی اوبنٹو کی طرح مخصوص دورانیے کے بعد اپنے نئے نسخے جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کا اگلا اہم نسخہ شاید اپریل کے آخر میں منظر عام پر آجائے گا۔


ورڈپریس جدید ہوتا جارہا ہے اور ہماری بدقسمتی ہم ہر بار اردو محفل پر صرف اس کا ترجمہ ہی جدید کرتے ہیں ایک اردو ورڈپریس پیکج بنانے کا خواب تھا جانے کب تعبیر بن سکے۔ :(


ہماری تو یہی دعا ہے کہ اللہ آزا د مصدر کو یونہی ترقی دے چاہے وہ لینکس کی صورت میں ہو یا ورڈپریس کی شکل میں۔


جئے آزاد مصدر جئیں آزاد مصدر کے چاہنے والے۔


دعاؤں میں یاد رکھیے گا


وسلام


 


 

اتوار، 7 جنوری، 2007

لینکس کونسی قسم نصب کی جائے اور اس کا حصول

تو جناب اب بات کرتے ہیں کہ لینکس کو نصب کس طرح کیا جائے۔ نہیں اس سے پہلے بھی ایک کام ہے اور وہ ہے کہ آخر کونسا لینکس نصب کیا جائے۔
لینکس کی کئی اقسام ہیں۔ یہ لوگ اسے ڈسٹریبیوشن یا ڈِسٹرو بولتے ہیں۔ کوئی ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے لینکس میں سے اپنی پسند کا لینکس چننا بہت مشکل ہے۔ ہر لینکس قسم کا اپنا ایک منشور ہے کوئی صارف کو آسانی مہیا کرنا چاہتا ہے، کوئی مفت سافٹویر کا نعرہ لگاتا ہے، کوئی قسم کاروباری پیمانے پر استعمال کے لیے قیمتًا جاری کی جاتی ہے۔ہم نے چونکہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے لینکس نصب کرنا ہے اس لیے میں آپ کو دو قسموں کا مشورہ دوں گا اور وہ ہیں اوبنٹو اور کے اوبنٹو۔
اصل میں یہ ایک ہی کمپنی کے جاری کردہ ہیں۔ اصل پراجیکٹ اوبنٹو ہے لیکن کے ابنٹو یا مختصرًا کبنٹو اس کا بچہ بچونگڑا ہے جس میں کرنل وہی ہے لیکن ڈیسکٹاپ ماحول مختلف ہے۔
ڈیسکٹاپ ماحول کیا ہوتا ہے؟
لینکس اصل میں باہر سے بن کر آنے والے آٹو پارٹس کی طرح ہے جن کو پاکستان میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ ہر لینکس قسم والے نے اسمبلنگ کا کارخانہ لگا رکھا ہے۔ جس میں وہ باہر سے آنے والے پرزے جوڑ کر اپنی قسم تیار کرلیتے ہیں۔
ہر خدمتگار نظام( آپریٹنگ سسٹم) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اس کا مغز یعنی کرنل جو کہ سی پی یو سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے اور کمانڈز کو اس تک پہنچاتا ہے دوسرا وہ تصویری مواجہ (گرافک یوزر انٹرفیس) ہے جو صارف کو نظر آتا ہے اور جس کے ساتھ کھیلنے کی صارف کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ لینکس میں کرنل الگ بنایا جاتا ہے اس کے مختلف ورژن ہیں جبکہ اس کے اوپر کام کرنے کے لیے مختلف ڈیسکٹاپ ماحول ہیں۔ ان میں سے کچھ کمرشل ہیں کچھ مفت لیکن مشہور اقسام دو تین ہی ہیں۔



ہوتا یہ ہے کہ ہر قسم کو تیار کرنے کے لیے پہلے ایک عدد لینکس کرنل لیا جاتا ہے اس کے بعد ڈیسکٹاپ ماحول کا انتخاب ہوتا ہے ان کو ملایا جاتا ہے ڈیسکٹاپ ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق یا سمجھ لیں کمپنی کی پالیسی کے مطابق کچھ تبدیلیاں کرکے نئی خوبیاں ڈالی جاتی ہیں اور قسم جاری کردی جاتی ہے۔ ہر نئی اشاعت پر نیا لینکس کرنل ورژن، نیا ڈیسکٹاپ ماحول ورژن اور دوسرے عمومی استعمال کے اطلاقیے جو اس میں‌ موجود ہیں کے نئے ورژن ڈال کر نیا ورژن اتارنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ آپ یقینًا سوچ رہے ہونگے اتنا آسان کام؟ ادھر ادھر سے چیزیں‌ اکٹھی کرو اور نیا لینکس نکال دو۔ اصل میں‌ یہ سب اتنا بھی آسان نہیں چونکہ تکنیکی معاونت مہیا کرنا، مختلف پراجیکٹس شروع کرنے کے لیے معاونت دینا،نئی خوبیوں کے مطالبات پر غور کرنا، تازہ کاریوں (اپڈیٹس) اور اصل ورژن کے اتارنے کے لیے سرور کمپیوٹر مہیا کرنا ایک لمبا درد سر ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جو خواب میں بھی لینکس کی کمانڈز میں بات کرے۔ :D :D
اصل میں اوبنٹو کو منتخب کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے بابے لینکس موجود ہیں لیکن اوبنٹو کے کچھ فائدے ہیں جو ہم آپ کو آئندہ سطور میں بتاتے ہیں پہلے آپ کو کچھ مشہور اقسام کے نام بتائے دیتے ہیں۔


    لِن سپائر جو کبھی لنڈوز کے نام سے مارکیٹ میں آیا تھا اور اس کا مفت اور آزاد مصدر ورژن فری سپائر

اب بات کرتے ہیں‌ کہ اوبنٹو ہی کیوں؟
پہلی بات تو یہ کہ اوبنٹو کے تین ورژن اس وقت موجود ہیں جو کہ تین مختلف ڈیسکٹاپ ماحول استعمال کرتے ہیں۔ اوبنٹو میں گنوم استعمال ہوتا ہے، کے اوبنٹو میں کے ڈی ای اور ایکس اوبنٹو میں ایکس ایف سی ای۔ زیادہ مشہور اقسام پہلی دو ہی ہیں تیسری قسم کم ہی استعمال ہوتی ہے۔ ان تمام اقسام میں‌ کرنل ایک ہی ہے اور ہر نئی اشاعت پر ہر قسم کا نیا ورژن نکالا جاتا ہے جس میں بنیادی قسم کی چیزیں ہر ایک میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیسے شٹ ڈاؤن کے انتخابات( آپشن) تینوں میں ایک جیسے ہونگے۔جبکہ دوسری اقسام کے لینکس کوئی ایک ہی ماحول استعمال کرتے ہیں جیسے فیڈورا کور میں گنوم استعمال ہوتا ہے یا ان کی مختلف ماحولات کے لیے الگ سے اشاعتیں‌ موجود نہیں۔
اوبنٹو کی بہت خاص خوبی اس کا ہر چھ ماہ کے بعد نیا ورژن آنا ہے جو کوئی بھی اور لینکس ڈسٹرو والے نہیں کرتے۔
اوبنٹو کی بہت ہی منظم برادری موجود ہے اس کی چوپالوں پر ہر درد کی دوا موجود ہے۔
اوبنٹو کی ایک خوبی جس کے لیے میں نے اسے پسند کیا تھا اس کی سی ڈیز کا پاکستان میں مفت مہیا کیا جانا تھا۔اگرچہ اب یہ لوگ اسے بند کررہے ہیں لیکن اس کے طویل مدتی معاونت شدہ ورژن اوبنٹو 6.06 کے لیے اب بھی یہ سہولت موجود ہے۔
اوبنٹو کی تازہ کاریاں بڑی باقاعدگی سے وارد ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کسی بھی قسم کے خطرے سے بچا رہتا ہے نیز سافٹویر کی تازہ کاریوں سے تازہ ترین ورژن نئی نئی خوبیوں کے ساتھ آپ کی دسترس میں‌ ہوتا ہے۔
ہاں آپ کو اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اوبنٹو میں طےشدہ طور پر روٹ یعنی سسٹم کے منتظم ایڈمن صاحب کا کھاتہ بند ہے جس کی وجہ سے سافٹویر کی تنصیب میں‌ مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن صارف اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور ہاں اس کو کھولا بھی جاسکتا ہے ہم ذاتی طور پر اس کی تنصیب کے بعد پہلا کام روٹ کھاتہ کھولنے کا کرتے ہیں اور یہ گر آپ کو بھی بتا دیں‌ گے۔
دوسری مشکل جو درپیش ہوسکتی ہے وہ ہے گانوں اور عمومی نوعیت کی ویڈیو فائلز چلانے میں‌ دشواری چونکہ ان کے کوڈکس ایک ملکیتی مال ہیں اس لیے اوبنٹو کی بنیادی تنصیب کے ساتھ یہ نصب نہیں‌ ہوتے۔ صارف کو یہ بعد میں اتار کر نصب کرنا ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہنمائیاں موجود ہں صرف ان پر عمل کرنے میں یا اتارنے میں وقت لگتا ہے بلکہ ایک بار پیکج اتار کر آپ اسے دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں سی ڈی بنا سکتے ہیں۔
خیر یہ تو تھا اوبنٹو لینکس بمقابلہ دوسرے لینکس اب ہم بات کرتے ہیں اوبنٹو کو حاصل کس طرح کیا جائے۔
اوبنٹو کو اگر سی ڈی پر حاصل کرنا ہے تو آپ اوبنٹو شپ اٹ یا کے اوبنٹو شپ اٹ پر چلے جائیں۔وہاں مندرج ہوکر سی ڈیز کا آرڈر دے دیں اور سی ڈیاں آپ کے گھر پہنچ جائیں گی لیکن یہ کچھ وقت لے گا کوئی چار سے چھ ہفتے۔ لیکن ہوگا سب مفت اگر آپ نے جلدی حاصل کرنا ہے تو اس کی سی ڈی امیج اتار کر خود سے سی ڈی رائٹ کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ پیسے خرچ کرنے کا موڈ ہے تو ان کے عالمی تقسیم کار موجود ہیں جو پیسے لے کر سی ڈی آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ پاکستان میں لینکس کی تمام اقسام کے تقسیم کار یعنی لینکس پاکستان والوں سے بھی اوبنٹو کی سی ڈیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انتہائی سستے داموں صرف 35 روپے میں۔(مختلف قسم کے لیے ریٹس مختلف ہوسکتے ہیں) لیکن ان کا دفتر کراچی میں‌ ہے۔ اگر آپ خود کراچی نہیں رہتے تو اپنے کسی دوست سے جو کراچی میں رہتا ہو رابطہ کرکے سی ڈی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ سی ڈی خود ہی اتار کر اسے رائٹ کیجیے گا۔
اور آخر میں آپ کو بتاتے چلیں کہ تنصیب اور وضع قطع کے سارے مراحل کے اوبنٹو( اگرچہ تازہ ترین ورژن 6.10 ہے لیکن ہم سارا کام 6.06 والے ورژن پر کریں گے جو کہ زیادہ استحکام پذیر ہے اور یہ 2009 تک معاونت شدہ بھی ہے۔) پر طے ہونگے۔چونکہ ہم بنیادی طور پر کبنٹو کے صارف ہیں۔ اگرچہ اوبنٹو بھی اچھی چیز ہے لیکن کے ڈی ای کا سواد جس کو لگ جائے وہ کم ہی گنوم کی طرف دیکھتا ہے۔

جمعہ، 29 دسمبر، 2006

لینکس تعارف( لینکس کی تنصیب سلسلے کا پہلا سبق)

کمپیوٹر استعمال کرنے والوں نے لینکس کا نام اکثر سنا ہوگا۔۔ لینکس ایک اوپن سورس یعنی آزاد مصدر خدمتگا نظام( آپریٹنگ سسٹم) ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آزاد مصدر ہے اور خدمتگار نظام بھی ہے تو اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ جب ونڈوز موجود ہے اور چل رہا ہے ،ہر کوئی اس کو استعمال کرنا جانتا ہے ہر چیز نارمل ہے تو پھر لینکس ہی کیوں؟ اس لیے کہ: لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی قسم کی چوری کے مرتکب نہیں ہوتے۔۔چوری؟ جی ہاں چوری! آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز ایکس پی یا 2000 یا 98 کی سی ڈی جو آپ 20 سے 30 روپے میں حاصل کرتے ہیں ان کی اصل قیمت کیا ہے؟ ان کی اصل قیمت ہزاروں میں ہے۔اور ہم ان کی پائریٹڈ یا آسان الفاظ میں غیر قانونی طور پر کی گئی نقول استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایکس پی کی سی ڈی 10000 روپے کی ہے تو آپ کتنے روپے کی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ بحث کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں، کون دیکھتا ہے اس کو، انگریز بھی تو ہمارا مال کھا رہے ہیں بالکل بودے بہانے ہیں اور حقیقت سے فرار کی لاحاصل کوششیں ہیں۔ لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کو کسی بھی قسم کا سیکیورٹی رسک لاحق نہیں ہوتا۔ہمارا مقصد ونڈوز کی برائیاں کرنا نہیں لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لینکس کی تمام قسمیں ونڈوز سے ہزاروں گنا زیادہ محفوظ ہیں۔ لینکس کی کسی بھی قسم کی بنیادی تنصیب (انسٹالیشن) کے ساتھ ہی درجنوں عمومی ضرورت کے سافٹویر نصب ہوجاتے ہیں جن کے لیے ونڈوز میں کئی جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں۔جیسے سی ڈی برنر لینکس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اس لیے اس کو کوئی بھی تقسیم کرسکتا ہے، بدل سکتا ہے جس کی وجہ سے اس میں جتنی جلد ترقی ہوتی ہے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ممکن ہے۔ یہ کچھ فائدے تھے جولینکس استعمال کرنے والے کو ملتے ہیں۔۔لیکن اگر آپ بطور مسلمان سوچیں تو حلال راستہ یہی ہے کہ یا تو ونڈوز خرید کر استعمال کیا جائے یا اگر استطاعت نہیں تو لینکس جیسا کوئی نظام استعمال کیا جائے جو قانونًا ایسی کوئی پابندی نہیں رکھتا کہ اسے خریدا ہی جائے۔ چلیں یہ تو قصیدے تھے جو ہم نے لینکس کی شان میں پڑھے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام صارف کو یا سیدھے لفظوں میں ایک ونڈوز کے صارف کو لینکس استعمال کرتے ہوئے کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ لینکس بنیادی طور پر ایک انتہائی غیر صارف دوست خدمتگار نظام کے طور پر مشہور ہے۔ایک لطیفہ کبھی گلوبل سائنس کے صفحات پر ہی پڑھا تھا کہ ایک صاحب کمپیوٹر لینے چلے گئے۔ ڈیلر نے پوچھا سر کونسا آپریٹنگ سسٹم پسند کریں گے صاحب بولے کوئی بھی کردو۔ ڈیلر بڑا متاثر ہوا کہ لائق بندہ ہے اس نے لینکس آپریٹنگ سسٹم نصب کردیا۔ صاحب کمپیوٹر لے کر گھر چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد ان ڈیلر کا گزر ایک جگہ سے ہوا تو ایک جگہ ایک پاگل نظر آیا جو لی لو لی لوکررہا تھا اور بچے اس کو پتھر مارتے تھے۔ حال دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ صاحب کمپیوٹر لینے گئے تھے اور اس پر لینکس نصب کروا لیا۔ کچھ ہی دن میں یہ حال ہوگیا کہ ہر بات کے جواب میں لی لو لی لو کرتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فکاہیہ تھا اصل میں لینکس اتنا مشکل بھی نہیں۔ ہمارے ایک لینکس دار دوست فرمایا کرتے ہیں کہ لینکس مشکل نہیں مختلف ہے۔ اور ہم ان کی بات سے متفق ہیں۔ لینکس میں یہ ضرور ہے کہ اب بھی کچھ گُرو تصویری مواجے( گرافک انٹرفیس) کی جگہ تحریری مواجے ( کمانڈ لائن انٹرفیس) کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لینکس سارا ایم ایس ڈوس جیسی کوئی چیز ہے۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے ایسا ہی تھا لیکن اب وہ زمانے لد گئے اب آپ اسی فیصد سے زیادہ کام تصویری مواجے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ لیکن تحریری مواجے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ لینکس والوں کے خیال میں جو کام ایک سطر کی کمانڈ سے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے آٹھ دس کلک وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہ آپ کی مرضی پر ہوتا ہے کہ آپ کیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق آپ جوں جوں لینکس کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے۔ لینکس کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس کی تنصیب بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک عدد سویپ پارٹیشن چاہیے ہوتی ہے جس کو بنانے سے ہارڈ ڈسک پر ڈیٹا اڑ سکتا ہے،یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کل لینکس کے اتنے آسان تنصیب کار آگئے ہیں جو دس منٹ میں تنصیب کردیتے ہیں اور پارٹیشن بنانے کا کام بھی خود ہی کرلیتے ہیں۔ لینکس پر سافٹویر نہیں ملتے۔ یاہو میسنجر کو ہی لے لیں اس کا لینکس ورژن کوئی تین سال پرانا ہے اور فیچر بھی محدود سے دیتا ہے جبکہ ونڈوز پر اس کا ورژن آٹھ دستیاب ہے اب۔ یہ بات بجا ہے کہ لینکس کے سلسلے میں سافٹویر ساز کمپنیاں سوتیلے پن کا سا سلوک کرتی ہیں لیکن لینکس والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر سافٹویر کے متبادل بنا لیے ہیں اس لیے کسی سافٹویر کی کمی کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ لینکس پر سافٹویر کی تنصیب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لینکس کے فورم پر جائیں تو آگے کمانڈ کا ڈھیر رکھ دیا جاتا ہے یہ کر لو وہ کرلو۔ صارف چکرا جاتا ہے بلکہ چکرا کر بھاگ جاتا ہے۔ اصل میں لینکس میں سافٹویر کی تنصیب ایک خاص انداز سے ہوتی ہے ۔ ونڈوز والے ایک عدد تنصیب کار کی توقع کرتے ہیں جو ڈبل کلک سے چلے اور نیکسٹ نیکسٹ کرکے سب کچھ نصب کردے۔ لینکس میں ہر ایرے غیرے کو منہ اٹھا کر نظام میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ لینکس کی ہر قسم(ڈِسٹرو) کے ذمہ داران اپنی ڈسٹرو کے لیے آنلائن سافٹویر رکھتے ہیں۔ یہ سافٹویر مختلف سرورز پر رکھے جاتے ہیں اور ان کو مختلف زمروں میں بانٹا گیا ہوتا ہے ا
ور یہ ریپازٹری کہلاتے ہیں۔چناچہ صارف کو جو بھی نصب کرنا ہوتا ہے وہ پیکج مینجر کے ذریعے تلاش کرکے اسے نصب کرنے کا آرڈر دے دیتا ہے اور آگے کام پیکج مینجر کا ہوتا ہے کہ وہ اتارے اور نصب کرے۔ پیکج مینجر جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایسا سافٹ ویر جو پروگرام اور اطلاقیوں ( ایپلی کیشنز) کو نصب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لینکس میں اگر کوئی سافٹویر باہر سے نصب کرنے کے لیے حاصل کر بھی لیں تو نصب نہیں ہوتا کہ اس کی انحصاریتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انحصاریت یعنی ڈیپینڈینسی کا مطلب ہے کہ سافٹویر جس جس چیز پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ایم پی تھری گانے چلانے کے لیے کسی میڈیا پلئیر کو ایک عدد ایم پی تھری ڈی کوڈر کی ضرورت ہوگی۔ یا ڈاٹ نیٹ پر مشتمل اطلاقیوں کو چلانے کے لیے ونڈوز پر م س ڈاٹ نیٹ فریم ورک نصب کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لیے ہمیشہ پیکج مینجر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا اکثر سافٹویر کی ریڈ می میں بتایا گیا ہوتا ہےکہ اس سافٹویر کو چلانے کے لیے فلاں فلاں انحصاریت چاہیے چناچہ صارف اسے نصب کرلیتا ہے سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں۔ لینکس پر ایک بہت بڑا مسئلہ ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔ ڈرائیور ہارڈ ویر کو چلانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لینکس چونکہ آزاد خدمتگار نظام ہے اس لیے اس کو کمپنیاں کم ہی سپورٹ کرتی ہیں چونکہ انھیں لینکس کی طرف سے کسی رائلٹی کی توقع نہیں ہوتی دوسری طرف ونڈوز میں ہر قسم کےہارڈ ویر کی سپورٹ موجود ہوتی ہے اور اس کی ڈرائیور ڈیٹابیس بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن اتنا بڑا نہیں۔ اگر آپ کا سسٹم بہت زیادہ پرانا نہیں(یعنی پی ون یا پی ٹو یا اس کے سن کا نہیں) تو فکر مند نہ ہوں اس کے سارے ڈرائیورز کا لینکس میں موجود ہونے کا اسی فیصد امکان ہے۔ آپ ان کو سسٹم کی تنصیب کے بعد بھی حاصل کرکے نصب کرسکتے ہیں۔مزید تسلی کے لیے آپ ان کے فورمز پر جاکر اپنی ہارڈویر کی تفاصیل دے کر ان کی سپورٹ کے بارے میں استفسار بھی کرسکتے ہیں۔ بلکہ اچھی قسمیں جیسے اوبنٹو وغیرہ کی ویب سائٹس پر یہ سہولت موجود ہے کہ آپ اپنے ہارڈویر کی سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ لینکس چلے گا تو میرے ونڈوز سسٹم کا کیا ہوگا؟ یا میں اگر ونڈوز کو بھی ساتھ ہی استعمال کرنا چاہوں تو؟ اس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوہرا یعنی ڈوئل بوٹ لینکس میں عام سی بات ہے۔ ایک ڈرائیو میں ونڈوز نصب ہے اور کسی بھی دوسری ڈرائیو میں لینکس نصب کرلیں۔ لینکس کا بوٹ لوڈر گرب یا لی لو آپ کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ ونڈوز سسٹم کو بھی بوٹ مینیو میں فعال رکھیں اور یہ سارا کام بوقت تنصیب خودکار انداز میں ہوتا ہے چناچہ اگر ونڈوز کا کوئی ورژن پہلے سے نصب شدہ ہے تو وہ بھی بوٹ کے وقت ایک آپشن کے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے چاہے لینکس چلائیں یا ونڈوز ایسے ہی جیسے کبھی ایکس پی اور 98 کا ڈوئل بوٹ بہت مقبول ہوا تھا۔ اور آخری مشکل جو صارف کو پیش آسکتی ہے وہ ہے لینکس کا انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار اور عمومًا نیٹ ورک ایڈمنز کا اسے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہ دینا(ڈائل اپ کی صورت میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا یہ کیبل نیٹ کی بات ہورہی ہے)۔ لینکس کی عمومی اور مقبول قسمیں تنصیب کے بعد سب سے پہلے تازہ کاری یعنی اپڈیٹ کا مشورہ دیتی ہیں۔ نیز عمومی نوعیت کے کئی سافٹویر جو بنیادی تنصیب میں شامل نہیں ہوتے براہ راست سرور سے حاصل کرنا پڑتے ہیں چونکہ لینکس کے سافٹویر سی ڈیز پر کم از کم ہمارے ہاں تو دستیاب نہیں۔ہمارے ڈائل اپ صارفین کے لیے یہ کافی مشکل ہوسکتا ہے لیکن ڈاؤنلوڈ مینجر سے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکل آتا ہے دوسر ے پیکج مینجر بھی ایک بار جتنا پروگرام اتار لے اگلی بار وہیں سے آگے اتارنا شروع کرتا ہے (یاد رہے پہلے اتارا جاتا ہے پھر نصب کیا جاتا ہے اور آپ کے پاس یہ انتخاب ہوتا ہے کہ پیکج کو صرف اتاریں نصب بعد میں کریں)۔ کیبل نیٹ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ڈی ایس ایل پر کیبل نیٹ چلایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ لینکس سسٹم منسلک کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ نیٹ ورک خالصتًا ونڈوز پر چلتے ہیں اور ان کے منتظمین بھی ونڈوز کلائنٹ کو رکھنا پسند کرتے ہیں یا لینکس کے لیے سیٹنگ میں مناسب تبدیلی کرنے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ لیکن ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک مل جاتا ہے جو لینکس سے بھی مکمل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے یا آپ کے لیے اپنی سیٹنگ اتنی تبدیل کرلیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا مسئلہ درپیش ہے تو ہم کچھ نسخے بتائیں گے جس سے کافی افاقے کی امید ہے لیکن یہ سب بنیادی وضع قطع کے بعد ہوگا۔خود ہم ذاتی طور پر کیبل نیٹ استعمال کرتے ہیں اور لینکس سے کرتے ہیں ہمارے نیٹ ورک ایڈمن نے ہمیں روٹر سے براہ راست رسائی دے رکھی ہے جس پر ہم اس کے بہت مشکور ہیں۔ یہ لینکس کا ہلکا سا تعارف تھا اور اس کے بارے میں وہ چند غلط فہمیاں جو عمومًا پائی جاتی ہیں یا پائی جانے کا امکان ہے۔ اگلی بار ہم انشاءاللہ اس کی کسی مقبول قسم کو لے کر اس کی تنصیب اور بعد میں مکمل وضع کرنے(کنفگریشن) تک تفصیل سے جانیں گے۔


 

منگل، 26 دسمبر، 2006

فاکس مارکس فائر فاکس کا ایک عمدہ دخیلہ

فائر فاکس بلاشبہ اس وقت آزاد مصدر میں مقبول ترین ویب براؤزر ہے۔۔اس کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ اس کی خوبیوں کو اپنی مرضی کے مطابق اضافتیں اور دخیلے شامل کرکے بڑھا سکتے ہیں۔۔۔یونہی ایک دن میں نے بک مارکس والا مینیو کھولا تو وہاں لکھا تھا Get Bookmark Addons۔۔
میں نے فورًا اس پر کلک کیا اور سیدھا متعلقہ صفحے پر پہنچ گیا۔ اور تو کوئی مجھے پسند نہ آیا لیکن فاکس مارکس واقعی کام کی چیز نکلی۔۔
یہ دخیلہ نصب ہونے کے بعد آپ کو بک مارکس سرور پر چڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔۔اور مزے کی بات بالکل مفت۔۔
اسے نصب کریں اپنے براؤزر کو دوبارہ چلائیں اور ایک فاکس مارکس کا بھوتنا نمودار ہوجائے گا(وزرڈ کے لیے یہ لفظ ابھی ابھی ذہن میں آیا ہے۔ ;) ) اس پر آپ ایک نیا کھاتہ بنا لیں اور اس کے بعد فاکس مارکس ہمیشہ پس منظر میں کام کرتا رہے گا۔۔۔جیسے ہی آپ نیا نشان زدہ ربط شامل کریں گے یہ فورًا اسے سرور پر چڑھا دے گا۔۔اس کے بعد اس کے جہاں سے مرضی حاصل کرلیں جاکر۔۔
میرے ساتھ تو ایسے ہے کہ دو سسٹم ہیں ونڈوز بھی اور لینکس بھی سو مجھے دونوں پر اپنے نشان زدہ صفحات ایک جیسے رکھنا پڑتے ہیں اور اس کا یہ بہترین حل ہے۔۔بس نئے سسٹم پر جاکر فاکس مارکس سے داخل ہوکر وہ فائل اتارنا ہوگی جو یہ خود ہی اتار لے گا۔۔آپ کا کام صرف کلک کرنا ہے اور اس کے بعد جہاں جہاں جس طرح آپ نے نشان زدگیاں شامل کی تھیں ویسے ہی نمودار ہوجائیں گی۔۔جیسے بک مارک ٹول بار میں الگ سے اور بک مارک مینیو میں الگ سے۔۔
ایک اور بات اس کا دخولی نظام معاملاتی حساس قسم کا ہے چناچہ اگر آپ نے کھاتہ اس طرح بنایا ہے کہ اس میں بڑے اور چھوٹے دونوں انگریزی حروف شامل ہیں تو ہر بار داخل ہوتے وقت آپ کو ترتیب وہی رکھنا ہوگی ورنہ فاکس مارکس اسے اسم صارف کی غلطی سمجھے گا۔۔
موج کریں لیکن اپنے خرچے پر۔۔ ;) ;)
وسلام

جمعہ، 20 اکتوبر، 2006

ایڈمن ہونا

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

جمعہ، 21 جولائی، 2006

اردو نستعلیق فانٹ ایک خواب جس کی تعبیر دور نہیں

دنیا دیوانوں سے خالی نہیں۔ اب دیکھیے نا اردو میں ہر کوئی ڈھول پیٹتا ہے کہ نستعلیق نہیں ہے مارے گئے لٹے گئے اردو کا حسن ماند پڑ گیا نسخ استعمال کرکرکے۔
مگر ہے کوئی مائی کا لعل جس نے نستعلیق خط بنانے کا سوچا ہو کبھی۔ وہی بات صاحب کہ باتیں اور ‫واویلہ تو سب ہی کرلیتے ہیں۔ مگر عمل کم کم ہی ہے ہم میں۔ کچھ دوست مجھ سے متفق نہ ہوں شاید۔ یقینًا نہیں ہونگے یہ قوم ابھی سوئی نہیں ابھی اس میں بڑے بڑے گوہر نایاب موجود ہیں۔ اس کا درد رکھنے والے موجود ہیں۔ تو صاحبو جو درد رکھتے ہیں۔ جو انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج چاہتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ اردو کی مانگ جو نستعلیق بنا ادھوری ہے بھر دی جائے۔ وہ ذرا قدم بڑھائیں۔ آئیں آگے بڑھیں ان غلطیوں کی تلافی کا ایک موقع ہے۔ ایک منصوبہ جس کا مقصد اردو کے لیے ایک آزاد مصدر نستعلیق فونٹ اردو نستعلیق بنانا ہے شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔ وہ صاحب بھی دیوانے ہیں جو آواز دے کر اس طرف بلا رہے ہیں اور وہ بھی دیوانے جو لبیک کہہ رہے ہیں۔ آئیے آپ بھی ان دیوانوں میں شامل ہوجائیے کہ یہ دیوانگی فرزانگی سے بدرجہا بہتر ہوگی۔ اردو
نستعلیق فانٹ پراجیکٹ
آپ کی توجہ اور مدد کا منتظر ہے۔ اٹھئیے کہیں دیر نہ ہوجائے کہیں کل کو ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اتوار، 4 جون، 2006

آزاد مصدر کیا کیوں؟

اوپن سررس یعنی آزاد مصدر کا ذکر کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے لیے نیا نہیں۔ لینکس کا نام بھی سب جانتے ہیں۔ آزاد مصدر ہے کیا؟
آزاد مصدر کا مطلب ہے سافٹ ویر کو اس طرح فراہم کرنا کہ صارف کو اسے استعمال کرنے اور تقسیم کرنے کی آزادی ہو معاوضہ ادا کرکے یا اس کے بغیر۔ ہر دو صورتوں میں ناشر کو صرف اپنے معاوضے سے غرض ہوگی نہ کہ اس بات سے کہ پروگرام کو کون آگے مزید تقسیم کررہا ہے یا اس میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے اپنے نام سے شائع کررہا ہے۔
آزاد مصدر کے پیچھے ایک فلسفہ کار فرما ہے۔حقوق دانش کے غیز منصفانہ استعمال کو روکنا۔یہ کہاں کاانصاف ہے کہ چند لوگ ایک چیز بنا لیں پر اس پر اجاردہ دار بن بیٹھیں۔ آزاد مصدر کے تحت ہر سافٹ ویر اور اس کا رمزی ذریعہ یعنی سورس کوڈ انسانیت کی میراث ہے نہ کہ کسی مخصوص کمپنی، یا شخص یا اشخاص کی۔
اس نعرے کو لے کر کچھ دیوانے آگے بڑھے اور یونکس سے لے کر لینکس اور عبارتی مواجے سے لے کر تصویری صارف مواجے تک ایک لمبی داستان ہے جو آزاد مصدر کے تحت لکھی گئی۔ انٹرنیٹ پر اس وقت ہزاروں سافٹ ویر دستیاب ہیں جو آزاد مصدر اجازت ناموں کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔
چلیں یہ سب تو ہے مگر ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟
ہمارا یہ حال ہے کہ جب کمپیوٹر کی بات کی جاتی ہے تو جو چیز پہلے ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ ہے مائیکرو سافٹ اور اس کا خدمتگار نظام یعنی ونڈوز۔ہماری سوچ صرف مائیکرو سافٹ تک ہی کیوں محدود ہوگئی ہے۔ چلیں تھوڑا آگے چلتے ہیں ونڈوز سے ہٹ کر کچھ مزید پروگرام بھی ہیں جن تک ہماری رسائی ہوجاتی ہے وہ ہیں مقبول عام ایڈوب بی فوٹو شاپ،کورل ڈرا اور اسی طرح کے دوسرے تیسرے پروگرام جو چوری شدہ ہیں اور تیس روپے کی سی ڈی پر با آسانی دستیاب ہیں۔
ہم چوری شدہ سافٹ ویر کو ہی کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ آزاد مصدر کی صورت میں ہمارے پاس اس کا ایک حل موجود ہے تو اسے استعمال کیوں نہیں کیا جاتا۔ میں نے اکثر یہ سوال اپنے دوستوں حتٰی کہ اپنے بھائی سے بھی پوچھا پتا کیا جواب ملا؟
‫” یہ لوگ ہمیں لوٹ کر کھارہے ہیں تو ان کو اتنا نقصان پہنچانا تو ہر مسلمان کا فرض ہے۔”
یہ ہے ہمارا نظریہ اس بارے میں۔ ذرا اس تحریر کو پڑحنا بند کیجیے اور ایک بار آنکھیں بند کرکے تسلی سے سوچیے کہ کیا یہ صحیح ہے۔ کیا یہ چوری ،چوری نہیں؟؟ ہاں یا نہیں میں جواب سوچیں گے تو یقینًا آپ کا جواب ہاں ہوگا۔ اگر ہاں تو پھر آپ میں ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اور اگر جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں تو کیا یہ سینہ زوری نہیں؟؟؟ اس کا جواب بھی سوچیے کیا آپ اس پر شرمندہ ہیں؟؟
اگر ہاں تو مبارکباد آپ ایک باضمیر جرات مند انسان ہیں اور اگر آپ آج غلطی تسلیم کر رہے ہیں تو کل اسے دہرانے سے پرہیز بھی کریں گے اور میرا خیال ہے یہی ایک اچھے مسلمان کی نشانی بھی ہے۔اور اگر آپ اس سینہ زوری پر شرمندہ نہیں یا اس چوری کو سرے سے چوری ہی نہیں سمجھتے تو پھر آپ کا اللہ ہی حافظ ہے مجھے بے اختیار قرآن کریم کی آیت یاد آرہی ہے جس میں اندھے گونگے اور بہرے لوگوں کا ذکر موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ایس کیوں کرتے ہیں؟ صرف اپنی دنیاوی آسانی کے لیے مگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آخرت میں آپ سے اس کا سوال ہوگا۔ چلیں اس کو چھوڑیں دنیاوی بات ہی کرلیتے ہیں۔ آپ ایسا کرکے بالواسطہ سافٹ ویر کی دنیا پر اجارہ دار چند کمپنیوں کw فائدہ اور ایک اچھی اور بامقصد تحریک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مگر کیسے؟؟
ایسے کہ پاکستان میں کمپیوٹر پر کیا چلتا ہے سب سے پہلے م س ونڈوز خدمتگار نظام۔ ٹھیک ہے آپ کی بات مان لیتے ہیں تیس روپے میں مل جاتا ہے اور ہم اس سے انگریزوں کو چونا لگا دیتے ہیں۔ مگر ذرا سوچیے ہمارے پروگرامر جو آج نکل رہے ہیں وہ کس چیز کے ماہر بن رہے ہیں۔ کبھی اخبار پڑھیے گا مائیکرو سافٹ کا فلاں پروفیشنل ماشاءاللہ بچے نے بہت کم عمر میں یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ قسم کی خبریں ملیں گی۔ اب ذرا یہ بتائیے کیا یہ سب مفت میں ہوجاتا ہے؟؟؟؟
ظاہر سی بات ہے پیسے لگتے ہیں۔ م س کی مفت میں مشتہری اور مزید گاہک بننے کا رجحان اسے اس بات کی فکر ہی نہیں ہونے دیتا کہ پاکستان میں حقوق دانش کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔آپ اپنی دانست میں انھیں چونا لگاتے ہیں اور وہ بڑے پیار سے آپ کو چونا لگا رہے ہیں بڑے غیر محسوس طریقے سے آپ کے ملک سے زرمبادلہ اور ذہانت کو کھینچ رہے ہیں۔
ہمارا یہی رویہ ہارڈویر ساز کمپینیوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ صرف چند بڑی کمپنیوں کے لیے ہارڈویر بنائیں اور پھر آزاد مصدر خدمتگار نظاموں کی بات ہوتی ہے تو کمپیوٹر صارفین مطابقت نہیں رکھتا اور مشکل ہے جیسے الزامات لگا کر بری ہوجاتے ہیں۔
کیا پروگرامنگ صرف م س اور اس جیسی چند بڑی کمپنیوں کی میراث ہے؟؟؟ نہیں۔ یہ ہمارا آپ کا وہم ہے۔کبھی اس کنویں سے نکل کر دیکھیے پروگرامنگ کی دنیا بہت وسیع ہے۔
آزاد مصدر کا فلسفہ ہے کہ آپ کو خود بھی کچھ نہ کچھ پروگرامنگ آنی چاہیے۔ یہ کسی پروگرامر اور کسی م س جیسی کمپنی کا ہی کام ہے کہ آپ کو گھر بیٹھے سی ڈی پر ونڈوز مل جائے اور آپ اسے نصب کرکے استعمال کرنا شروع کردیں۔ کمپیوٹر صارفین کو اس “پیشہ ورانہ پن” نے انتا تن آسان کردیا ہے کہ چند کلک کرنا انھیں عذاب محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں کمپیوٹر صارفین ہیں ہی کہاں ہمارے ہاں تو فلموں کے شوقین،گیموں کے شوقین کمپیوٹر صارف بنے بیٹھے ہیں۔ ایک تعمیری چیز کو انتہائی غلط انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔
جبکہ آزاد مصدر ہر اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ پہلی چیز تو یہ قانونی طور پر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جو آپ استعمال کررہے ہیں اس پر آپ کا حق ہے بغیر کسی معاوضے کے اور آپ اسے بغیر کسی ڈر کے آگے تقسیم کرسکتے ہیں اور ہاں اگر کہیں معاوضہ وصول کیا بھی جاتا ہے تو انتہائی کم ۔
دوسرے آزاد مصدر کے تحت جاری ہونے والے پروگرام کسی بھی طرح خریدے جانے والے پروگراموں سے کم نہیں۔ مزید آزاد مصدر خدمتگار نظاموں اور ان کی آبادیوں میں شمولیت سے صارفین کو پروگرامنگ کی شدھ بدھ کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کا استعمال تعمیری انداز میں کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
تو پھر کیوں نہ ایک اچھی چیز کی طرف قدم بڑھائیں۔ اگرچہ پہلے چند قدم ضرور لڑکھڑاہٹ ہوگی مگر اس کے بعد آپ سنبھل جائیں گے۔ آپ سے یہ مطالبہ نہیں کہ ابھی سے ونڈوز کو گھر سے باہر پھینکیں اور لینکس کی کوئی تقسیم نصب کرکے بیٹھ جائیں۔ مگر بسم اللہ تو کریں ونڈوز کے لیے ہی بے شمار آزاد مصدر سافٹ ویر موجود ہیں آپ موجودہ پراگراموں کے ساتھ انھیں بھی استعمال کریں اور آہستہ آہستہ چوری شدہ سافٹ ویر کے استعمال کو ختم کردیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کریں۔
یہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے اور اخلاقی و قانونی لحاظ سے ذمہ داری بھی۔