اردو ترجمہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو ترجمہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 18 اگست، 2020

لفظ، علامت اور معنی

 کوئی ایک عشرہ قبل جب ہم نے لسانیات کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو زبان کے بنیادی خواص میں سے ایک کا علم حاصل ہوا۔ آربی ٹریری نیس یعنی آواز/ حروف اور معنی میں رشتے کا بے قاعدہ پن۔ آج ترجمہ کرتے ہوئے ایک لفظ 'اندر' پر نگاہ پڑی تو یہ لفظ انتہائی اجنبی معلوم پڑا۔ اشتقاقیات یا ایٹمالوجی (الفاظ کی تاریخ جاننے) کے علم کی رو سے اس لفظ کے حصے بخرے کر کے مزید ذیلی معنی دریافت کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ 'در' شاید فارسی سے آیا اور جس کا مطلب بھی 'اندر' یا شاید 'دروازہ' ہے۔

لیکن آوازوں یا حروف اور معنی کے درمیان بے قاعدہ رشتے کی خاصیت وہیں رہتی ہے۔ ان دو کے اس رشتے کی اجنبیت بالکل بھی کم نہیں ہوتی، اسے پنجابی میں جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی اور اردو میں زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کہا جا سکتا ہے۔ درحقیقت یہ رشتہ صرف روایت یا کنونشن کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے، یعنی اگر ہمارے آباء و اجداد نے اس کی جگہ کوئی اور لفظ استعمال کر لیا ہوتا تو وہ آج اتنا ہی بامعنی ہوتا اور شاید اتنا ہی اجنبی بھی۔

اس معاملے میں مزید غور کرتے ہوئے آشکار ہوا کہ اگر اردو زبان یا اردو کی مادری زبانوں کے ارتقائی دور میں کسی نے گھوڑے کو پتھر اور پتھر کو گھوڑا کہہ دیا ہوتا اور ہمارے آباء و اجداد نے اس پر اتفاق رائے کر کے اسے روایت یا کنونشن کا درجہ دے دیا ہوتا تو آج کیا صورتحال ہوتی۔ اس حوالے سے ہمارے ذہن میں موجود زبان و بیان اور روزمرہ میں استعمال ہونے والے کچھ جملے آ گئے جن کی ترکیب کچھ یوں ہو جاتی:

اس نے گھوڑیلے لہجے میں کہا۔

گھوڑ دل۔

وہ کمال کا پتھر سوار ہے۔

پتھر ہڑبڑا کر سرپٹ بھاگ نکلا۔

مرد اور پتھر کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ان تمام جملوں کو درست کر کے بھی پڑھ لیا جائے لیکن تین چار مرتبہ دہرا کر اور ذرا غور کر کے پڑھا جائے تو۔۔۔ الفاظ یکدم اپنے معنی کے کپڑے اتار کر ننگ دھڑنگ بھاگ نکلتے ہیں۔ اور پیچھے قاری کے منہ پر بے اختیار پنجابی کا ایک روزمرہ جملہ آ جاتا ہے: اے کی بے غیرتی اے وئی۔

روایت سے یاد آیا کہ انسان کی سماجی زندگی اور اس کے سماج میں موجود ہر علامت کے معنی ایسے ہی متعین ہوتے ہیں جس میں برسوں، عشروں، صدیوں کے اتفاق رائے اور روایت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اور ہوتے ہوتے یہ علامتیں اتنی مقدس ہو جاتی ہیں کہ معنی اور علامت کے اس رشتے کی اٹوٹ اجنبیت پر سوال اٹھانا جرم بن جاتا ہے جس کا داغ خون سے دھو کر بھی دھل نہیں پاتا۔

ہفتہ، 27 فروری، 2016

ملعون نسلِ انسانی از مارک ٹوین

پچھلے برس ایک کرم فرما کے لیے مارک ٹوین کا مضمون دی ڈیمڈ ہیومن ریس ترجمہ کیا تھا۔ ادب کے حوالے سے انتہائی محدود مطالعہ ہونے کی وجہ سے کبھی ادبی ترجمہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ یہ بچگانہ سی نوعیت کا ترجمہ بھی آپ احباب کے ساتھ ڈرتے ڈرتے بانٹ رہا ہوں۔

میں نے (نام نہاد) ادنیٰ حیوانات کے عادات و خصائل کا مطالعہ کیا ہے، اور انہیں انسان کے عادات و خصائل سے ملا کر دیکھا ہے۔ مجھے اس کا نتیجہ اپنے لیے باعثِ ذلت محسوس ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں 'انسان کے ادنٰی حیوانات سے عروج' کے ڈارونی نظریے کے ساتھ اپنی وفاداری سے اظہارِ برأت کر دوں؛ چونکہ اب مجھے صاف صاف لگتا ہے کہ اس نظریے کو ایک نئے اور زیادہ سچے نظریے سے تبدیل کر دینا چاہیئے، یہ نیا اور زیادہ سچا نظریہ 'اعلیٰ حیوانات سے انسان کا زوال' کہلا سکتا ہے۔

اس ناپسندیدہ نتیجے  پر پہنچنے کے لیے میں نے اندازے یا قیاس کے گھوڑے نہیں دوڑائے، بلکہ ایک ایسا طریقہ استعمال کیا ہے جو عرفِ عام میں سائنسی طریقہ کار کہلاتا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ میں نے سامنے آنے والے ہر مفروضے کو حقیقی تجربے کی ناگزیر کسوٹی پر پرکھا ہے، اور اس کے نتیجے کے مطابق اسے اپنایا یا مسترد کیا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے راستے کے ہر قدم پر تصدیق اور ثبوت کی فراہمی کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا ہے۔ یہ تجربات لندن زوالوجیکل گارڈنز میں سرانجام دئیے گئے، اور کئی ماہ کے جفاکش اور تھکا دینے والے کام پر مشتمل تھے۔
ان تجربات کی جزئیات بیان کرنے سے قبل، میں ایک یا دو چیزیں بیان کرنا چاہوں گا جو اگلے حصوں کی بجائے یہاں بیان کرنا مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد صراحت پیدا کرنا ہے۔ ان اجتماعی تجربات نے میرے خیال کے عین مطابق کچھ عمومی اُصول ثابت کیے، یعنی:

یہ کہ نسلِ انسانی ایک ممیّز نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں آب و ہوا، ماحول، اور دیگر عوامل کے باعث معمولی تغیرات (جیسے رنگ، قدوقامت، ذہنی استعداد وغیرہ وغیرہ) پائے جاتے ہیں؛ لیکن یہ اپنے آپ میں ایک نوع ہے، اور اسے کسی اور نوع کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیئے۔

یہ کہ چوپائے بھی ایک ممیّز خاندان ہیں۔ اس خاندان میں تغیرات پائے جاتے ہیں (جیسے رنگ، حجم، کھانے کی ترجیحات وغیرہ وغیرہ؛ لیکن یہ اپنی ذات میں ایک خاندان ہے)۔

یہ کہ دیگر خاندان (پرندے، مچھلیاں، حشرات، خزندے وغیرہ) بھی کم یا زیادہ ممیّز ہیں۔ وہ ایک تسلسل میں پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی زنجیر کی کڑیاں ہیں جو اعلیٰ حیوانات سے نیچے پیندے میں موجود انسان تک پھیلی ہوئی ہے۔ 

میرے کچھ تجربات خاصے متجسسانہ تھے۔ اپنے مطالعے کے دوران میرے سامنے ایک کیس آیا جس میں، کئی برس قبل، ہمارے عظیم میدانوں میں کچھ شکاریوں نے ایک انگریز ارل کی تفریح طبع کے لیے بھینسے کے شکار کا اہتمام کیا۔ انہوں نے بڑا دلکش کھیل پیش کیا۔ انہوں نے بہتر کی تعداد میں یہ عظیم حیوانات مار ڈالے؛ اور ان میں سے ایک کا کچھ حصہ کھا کر بقیہ اکہتر کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ایک ایناکونڈا اور ایک ارل (اگر ایسی کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو) کے مابین فرق کا تعین کرنے کے لیے میں نے کئی ننھے بچھڑے ایک ایناکونڈا کے پنجرے میں ڈالے۔ اس ممنون خزندے نے فوری طور پر ان میں سے ایک کو کچل کر نگل لیا، اور پھر مطمئن ہو کر لیٹ گیا۔ اس نے بچھڑوں میں مزید کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، اور نہ انہیں نقصان پہنچانے کی جانب مائل ہوا۔ میں نے دیگر ایناکونڈا کے ساتھ یہی تجربہ سرانجام دیا؛ نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایک ارل اور اینا کونڈا میں فرق یہ ہے کہ ارل ظالم ہے جبکہ ایناکونڈا ایسا نہیں؛ اور یہ کہ ارل کو جس کی ضرورت نہ ہو اسے خوامخواہ غارت کر دیتا ہے، لیکن ایناکونڈا ایسا نہیں کرتا۔ اس سے خیال پیدا ہوتا تھا کہ ایناکونڈا کا جدِ امجد ارل نہیں ہے۔ اس سے یہ خیال بھی پیدا ہوتا تھا کہ ارل کا جدِ امجد ایناکونڈا ہے، اور وہ اس وراثتی تبدیلی کے دوران بہت سے خصائل گنوا چکا ہے۔

میں باخبر ہوں کہ بہت سے انسانوں، جنہوں نے کروڑوں روپے کے اتنے انبار لگا لیے ہیں کہ تمام عمر خرچ کرنے سے بھی ختم نہ ہوں، نے مزید دولت کی سگ گزیدہ بھوک ظاہر کی ہے، اور جزوی طور پر یہ بھوک مٹانے کے لیے انہوں نے بے خبروں اور بے کسوں کی جمع پونجی لوٹنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ میں نے ایک سو مختلف اقسام کے جنگلی اور پالتو حیوانات کو کھانے کی بڑی مقداریں ذخیرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے، لیکن ان میں کسی نے بھی ایسا نہ کیا۔ گلہریوں اور شہد کی مکھیوں اور کچھ پرندوں نے ذخائر جمع کیے، لیکن وہ بھی ایک سرما کے برابر ذخیرہ کر کے پیچھے ہٹ گئے، اور انہیں ایمانداری یا حیلے بازی، کسی بھی طریقے سے مزید کرنے پر مائل نہ کیا جا سکا۔ اپنی بری شہرت کو مزید تقویت دینے کے لیے چیونٹی نے ظاہر کیا کہ وہ رسد ذخیرہ کر رہی ہے، لیکن میں نے دھوکا نہ کھایا۔ میں چیونٹی کو جانتا ہوں۔ ان تجربات نے مجھے قائل کیا کہ انسان اور اعلیٰ حیوانات میں یہ فرق پایا جاتا ہے: انسان حریص اور بخیل ہے؛ وہ نہیں ہیں۔
اپنے تجربات کے دوران میں نے خود کو قائل کیا کہ حیوانات میں سے انسان اکلوتا حیوان ہے جو اہانتیں اور زخم اکٹھے کرتا ہے، انہیں سینچتا ہے، موقع ملنے کا انتظار کرتا ہے، اور پھر بدلہ لیتا ہے۔ اعلیٰ حیوانات بدلہ لینے کے جذبے سے آشنائی نہیں رکھتے۔

مرغ حرم رکھتے ہیں، لیکن یہ ان کی داشتاؤں کی اجازت کے ساتھ ہوتا ہے؛ اس لیے اس میں کوئی برائی نہیں۔ انسان حرم رکھتا ہے لیکن اس کے لیے وحشیانہ طاقت استعمال کرتا ہے، اور اسے خبیثانہ قوانین کی حمایت حاصل ہوتی ہے جن کے بنانے میں دوسری صنف کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح سے انسان مرغ سے بھی کہیں پست مقام پر جا فائز ہوتا ہے۔

بلیوں کا اخلاق کمزور ہوتا ہے، لیکن وہ بے خبری میں ایسا کرتی ہیں۔ آدمی بلیوں سے نسبِ وراثت کے حصول کے دوران ان کی کمزور اخلاقیات تو اپنے اندر لے آیا لیکن اس نے بے خبری کو پیچھے چھوڑ دیا (خاصیت جس کے باعث بلیاں قابلِ معافی قرار پاتی ہیں)۔  بلی معصوم ہے، انسان نہیں ہے۔

ابتذال، سفلہ پن، فحاشی عریانی (یہ بعینہ انسان تک محدود ہیں)؛ یہ اس نے ایجاد کیے۔ اعلٰی حیوانات میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ وہ کچھ نہیں چھپاتے؛ وہ شرمسار نہیں ہوتے۔ انسان، اپنے آلودہ دماغ کے ساتھ، خود کو ڈھانپتا ہے۔ وہ اپنا سینہ اور پُشت برہنہ چھوڑ کر کمرہ ملاقات میں بھی داخل نہ ہو گا، چنانچہ وہ اور اس کے رفقاء نازیبا مشورے سے اتنے حساس ہوتے ہیں۔ انسان ایک ایسا حیوان ہے جو قہقہہ لگاتا ہے۔ لیکن بندر بھی ایسا کرتا ہے، جیسا کہ مسٹر ڈارون نے اشارہ کیا؛ اور اسی طرح آسٹریلوی پرندہ، جسے قہقہہ لگاتا گدھا کہا جاتا ہے، بھی کرتا ہے۔ نہیں! آدمی ایک ایسا حیوان ہے جو شرم سے سرخ ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا کرنے یا کرنے کا موقع پانے والا اکلوتا حیوان ہے۔

اس مضمون کے آغاز پر ہم نے دیکھا کہ چند دن قبل تین بھکشوؤں کو جلا کر مار دیا گیا، اور ایک مہمتمم کو سنگدلانہ اذیت پہنچا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کیا ہم تفصیلات میں جائیں؟ نہیں؛ یا کیا ہمیں سراغ لگانا چاہیے کہ مہمتمم کے اعضاء کی قطع برید کو اشاعتی الفاظ کی حد میں نہیں لایا جا سکتا۔ انسان (جب وہ شمالی امریکی انڈین ہو) اپنے قیدیوں کی آنکھیں نکال لیتا ہے؛ جب شاہ جان ہو تو بھتیجے کو بے ضرر بنانے کے لیے لوہے کی سرخ سلائیاں پھیر دیتا ہے؛ قرونِ وسطیٰ میں کافروں کے مقابل جوشیلا مذہبی ہو تو اپنے قیدی کی زندہ ہی کھال کھینچ کر پشت پر نمک چھڑک دیتا ہے؛ رچرڈ اول کے دور میں ہو تو کثیر تعداد میں یہودی خاندانوں کو ایک ٹاور میں بند کر کے آگ لگا دیتا ہے؛ کولمبس کے عہد میں ہو تو ہسپانوی یہودیوں کے ایک خاندان کو پکڑ لیتا ہے اور (لیکن یہ قابلِ اشاعت نہیں ہے؛ ہمارے زمانے کے انگلینڈ میں ایک آدمی کو دس شلنگ کا جرمانہ ہوا اور اس کا جرم صرف اپنی ماں کو کرسی کے ساتھ مار مار کر ادھ مُوا کر دینا تھا، اور ایک اور شخص کو چالیس شلنگ کا جرمانہ بھرنا پڑا کہ اس کے قبضے سے چکور کے چار انڈے برآمد ہوئے جن کے ذریعۂ حصول کے بارے میں وہ قابلِ اطمینان وضاحت پیش نہ کر سکا)۔ تمام حیوانات میں، صرف انسان ہی ظالم ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو درد اس لیے دیتا ہے کہ اس سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو اعلیٰ حیوانات کے لیے اجنبی ہے۔ بلی خوفزدہ چوہے کے ساتھ کھیلتی ہے؛ لیکن اس کے پاس بہانہ ہے، کہ وہ نہیں جانتی کہ چوہا تکلیف میں ہے۔ بلی معتدل ہے (غیر انسانی طور پر معتدل: وہ چوہے کو صرف ڈراتی ہے، وہ اسے تکلیف نہیں پہنچاتی؛ وہ انسان کی طرح اس کی آنکھیں نہیں نکالتی، یا اس کی کھال نہیں کھینچتی، یا اس کے ناخنوں تلے لکڑی کی کھچیاں نہیں گھسیڑتی)؛ جب وہ چوہے سے کھیلنے سے اکتا جائے تو ایک ہی بار نوالہ بنا کر اسے تمام تکلیف سے نجات دلا دیتی ہے۔ انسان ظالم حیوان ہے۔ وہ اکیلا ہی اس امتیاز کا حامل ہے۔

اعلیٰ حیوانات انفرادی لڑائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، لیکن کبھی منظم جتھوں میں یہ کام نہیں کرتے۔ انسان اکلوتا حیوان ہے جو خباثتوں کی خباثت، یعنی جنگ، میں ملوث ہوتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بھائی بندوں کو گرد جمع کرتا ہے اور سفاکی اور پرسکون دل کے ساتھ اپنی نوع کو نابود کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو فرومایہ اجرت کے بدلے جنگ پر نکل کھڑا ہو گا، جیسے ہمارے انقلاب میں کرائے کے جرمن سپاہیوں نے کیا، اور جیسے لڑکا نما شہزادہ نپولین نے زولو کی جنگ میں کیا، اور اپنی ہی نوع کے اجنبیوں کے قتلِ عام میں مدد فراہم کرے گا جنہوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور جن کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں۔

انسان اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بے کس ہم وطن کو لوٹ لیتا ہے -- اس کو قبضے میں لے لیتا ہے اور اسے ملکیت سے بے دخل کر دیتا ہے یا تباہ کر دیتا ہے۔ انسان نے ہر قرن میں ایسا کیا ہے۔ اس کُرے پر زمین کا ایک ایکڑ بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے جائز حقدار کے قبضے میں ہو، یا جسے مالک در مالک، سلسلہ در سلسلہ، طاقت اور خون ریزی کے ذریعے ہتھیایا نہ گیا ہو۔

انسان اکلوتا غلام ہے۔ اور وہی اکلوتا حیوان بھی جو غلام بناتا ہے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں غلام رہا ہے، اور ہمیشہ اس کی جبری بندش میں کسی نہ کسی انداز میں غلام موجود رہے ہیں۔ ہمارے دور میں وہ ہمیشہ اجرت کے لیے کسی نہ کسی انسان کا غلام ہوتا ہے، اور اس انسان کا کام کرتا ہے؛ اور اس غلام کے نیچے کم تر اجرت پر دیگر غلام ہوتے ہیں، اور وہ اِس کا کام کرتے ہیں۔ اعلٰی حیوانات اس حوالے سے خاص ہیں کہ وہ اپنے کام بذاتِ خود سرانجام دیتے ہیں اور اپنی روزی آپ کماتے ہیں۔

انسان اکلوتا محب وطن ہے۔ وہ خود کو اپنے ملک، اپنے ذاتی جھنڈے کے نیچے الگ تھلگ کر لیتا ہے اور پھر دوسری اقوام کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے، اور بھاری اخراجات پر بے شمار وردی پوش قاتل تیار رکھتا ہے تاکہ دوسروں کے ممالک کے ٹکڑے ہتھیا سکے، اور انہیں اپنے ملک کے ساتھ ایسا کرنے سے باز رکھ سکے۔ اور مہمات کے درمیانی اوقات میں، وہ اپنے ہاتھ دھو کر خون صاف کر لیتا ہے اور منہ سے انسان کی عالمی اخوت کا درس دینے لگتا ہے۔

انسان مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے جس کے پاس سچا مذہب ہے، کئی ایک سچے مذہب۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے پڑوسی سے اپنی ذات کی طرح محبت کرتا ہے، اور اگر اس کا عقیدہ درست نہ ہو تو اس کا گلا کاٹ دیتا ہے۔ اس نے خوشی اور جنت تک اپنے بھائی کا راستہ صاف کرنے کی مخلصانہ کوشش میں کرۂ ارض کو ایک قبرستان بنا دیا ہے۔ اس نے سیزر کے عہد میں ایسا کیا، اس نے عہدِ تفتیش میں ایسا کیا، اس نے فرانس میں دو صدیوں تک ایسا کیا، اس نے میری کے دور کے انگلینڈ میں ایسا کیا، وہ تب سے ایسا کر رہا ہے جب اس نے پہلی روشنی دیکھی تھی، اس نے آج کے کریٹ میں ایسا کیا (بمطابق اوپر پیش کردہ ٹیلی گرام) وہ مستقبل میں بھی کسی جگہ ایسا ہی کرے گا۔ اعلٰی حیوانات کا کوئی مذہب نہیں۔ اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آخرت کی زندگی میں انہیں شامل نہیں کیا جائے گا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ آخر کیوں؟ پسند کا یہ معیار قابلِ اعتراض سا معلوم ہوتا ہے۔

آدمی عقلی حیوان ہے۔ خیر دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس پر مباحثہ ہو سکتا ہے۔ درحقیقت، میرے تجربات نے مجھے بذریعہ ثبوت بتایا کہ وہ غیر عقلی حیوان ہے۔ اس کی تاریخ دیکھیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ مجھے تو صاف لگتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہو کم از کم ایک عقلی حیوان نہیں ہے۔ اس کا ماضی ایک جنونی کا شاندار ماضی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذہانت کے خلاف مضبوط ترین حقیقت یہ ہے کہ اپنے پیچھے ایسے ماضی کے باوجود وہ بڑی نرمی سے خود کو ان سب کا سربراہ حیوان مقرر کر لیتا ہے: جبکہ اپنے ہی معیارات کے مطابق وہ ارذل ترین حیوان ہے۔

حقیقت میں، انسان ایک ایسا احمق ہے جس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ سادہ چیزیں جو دیگر حیوان باآسانی سیکھ لیتے ہیں، وہ انہیں سیکھنے کے قابل نہیں۔ میرے تجربات میں یہ پیش آیا۔ ایک گھنٹے میں مَیں نے ایک بلی اور کتے کو دوست رہنا سکھایا۔ میں نے انہیں ایک پنجرے میں ڈالا۔ اگلے گھنٹے میں مَیں نے انہیں خرگوش کے ساتھ دوستی سے رہنا سکھا دیا۔ دو دنوں کے دوران میں ایک لومڑی، ایک ہنس، ایک گلہری اور کچھ فاختاؤں کو شامل کرنے میں کامیاب رہا۔ آخر کار ایک بندر بھی شامل کر لیا۔ وہ پرامن -- بلکہ پیار بھرے -- انداز میں اکٹھے رہے۔

اس کے بعد، میں نے ایک پنجرے میں ٹپریری سے ایک آئرش کیتھولک کو محبوس کر دیا، جیسے ہی وہ سدھایا گیا تو میں نے ایبرڈین سے ایک اسکاچ پريسبيٹيريَن کو ساتھ ڈال دیا۔ بعد ازاں قسطنطنیہ سے ایک ترک؛ کریٹ سے ایک یونانی عیسائی؛ ایک آرمینیائی؛ آرکنساس کے جنگلات سے ایک میتھوڈسٹ؛ چین سے ایک بُودھ؛ بنارس سے ایک برہمن۔ آخر میں واپِنگ سے جیشِ نجات کا ایک کرنل ڈالا۔ پھر میں دو مکمل دن ان سے دور رہا۔ جب میں نتائج کے اندراج کے لیے واپس آیا، تو اعلیٰ حیوانات کا پنجرہ بالکل ٹھیک تھا، لیکن دوسرے پنجرے میں خونی فسادات اور پگڑیوں کے سِروں اور طرپوشوں اور اونی چادروں اور ہڈیوں اور ماس کے علاوہ کوئی زیرِ مطالعہ نمونہ باقی نہیں بچا تھا۔ یہ عقلی حیوانات ایک مذہبی مسئلے پر اختلاف کا شکار ہوئے تھے اور اس مسئلے کو ایک 'اعلٰی عدالت' میں لے گئے۔

فرد یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کردار کے حقیقی غرور میں مبتلا انسان گھٹیا ترین اعلیٰ حیوانات تک پہنچنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ دستوری طور پر اس بلندی تک پہنچنے کے لیے معذور ہے؛ یہ کہ وہ دستوری طور پر ایک نقص کا شکار ہے جس کے باعث ایسی کوئی کوشش ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جانی چاہیئے، چونکہ یہ عیاں ہے کہ  اس میں یہ نقص مستقل، لازوال اور ناقابلِ انسداد ہے۔

میرے خیال میں یہ نقص حسِ اخلاق ہے۔ ایسی کوئی چیز رکھنے والا یہ اکلوتا حیوان ہے۔ یہ اس کی تنزلی کا راز ہے۔ یہ ایسی صفت ہے جو اسے غلط کرنے کے قابل کرتی ہے۔ اس کا اور کوئی منصب نہیں ہے۔ یہ کوئی اور فعل سرانجام دینے کے قابل ہی نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا کہ نفرت کا کوئی اور مقصد ہو۔ اس کے بغیر، انسان کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا۔ وہ فوراً اعلیٰ حیوانات کے رتبے پر عروج کر جائے گا۔

چونکہ حسِ اخلاق کا صرف ایک ہی منصب ہے، اکلوتی اہلیت (یعنی انسان کو غلط کرنے کے قابل بنانا) یہ صریحاً اس کے لیے کسی قدر کی حامل نہیں۔ یہ اس کے لیے اتنی ہی بے قدر ہے جیسے کوئی بیماری ہو۔ درحقیقت، یہ اعلانیہ طور پر ایک بیماری ہے۔ باؤلا پن برا ہے، لیکن یہ اس بیماری جتنا برا نہیں۔ باؤلا پن انسان کو ایک کام کرنے کے قابل بناتا ہے، جو وہ صحت مند حالت میں کبھی نہ کرے: زہریلے دانتوں سے کاٹ کر اپنے پڑوسی کو مارنا۔ باؤلے پن کا شکار کوئی بھی انسان بہتر نہیں ہے: حسِ اخلاق انسان کو غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ اسے ہزاروں طریقوں سے غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ باؤلا پن تو حسِ اخلاق کے مقابلے میں ایک معصوم بیماری ہے۔ تو پھر، حسِ اخلاق کا حامل کوئی بھی انسان بہتر انسان نہیں ہے۔ تو کیا آدم پر خدائی لعنت اس کی وجہ ہے؟ صاف طور پر یہ آغاز میں جو تھی: انسان پر حسِ اخلاق کا عذاب؛ اچھائی کو برائی سے ممتاز کرنے کی صلاحیت؛ اور اس کے ساتھ، لازماً، برائی کرنے کی صلاحیت؛ چونکہ مُرتکب میں برائی کے شعور کے بغیر کوئی برا فعل سرزد نہیں ہو سکتا۔

تو اس لیے میں نتیجہ نکالتا ہوں کہ ہم، کسی دُور پار کے جد سے (کوئی خردبینی ایٹم جو پانی کے ایک قطرے کے عظیم افقوں کے مابین اتفاقاً مزے لے رہا ہو گا) حشرہ در حشرہ، حیوان در حیوان، خزندہ در خزندہ، طویل راستے پر گندگی اور کم تر معصومیت پر اترتے رہے، یہاں تک کہ ہم ارتقاء کی ارذل ترین منزل پر آ پہنچے (جسے نسلِ انسانی کا نام دیا جا سکتا ہے)۔ ہم سے ارذل کچھ نہیں ہے۔

اتوار، 7 فروری، 2016

سیرت النبی ﷺ اور غیر مسلم سیرت نگار

نبی کریم ﷺ کی ذاتِ والا صفات سے محبت اور نسبت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ بڑے بڑے صاحبِ ایمان اور بزرگ ترین لوگ تو ان ﷺ سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، میرے جیسے نیچ ذات بھی ان ﷺ کے قدموں کی خاک بننے کے تمنائی ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے نبی سائیں ﷺ کا وجود سیاہ رات میں چودھویں کے چاند جیسا ہے۔ وہ ﷺ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انسانوں میں ان ﷺ سے بلند مرتبہ کسی کا نہ ہوا اور نہ ہو گا۔ ان ﷺ کی ذات کی نسبت سے ہماری نسبت اللہ سائیں کے ساتھ طے ہوتی ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب ایک ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب ایک ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے۔ ہم اللہ کو رب اس لیے مانتے ہیں کہ محمد الرسول اللہ ﷺ نے ایسا کہا۔ وہ ہمارے سالارِ قافلہ ہیں، ان ﷺ کا کہا ہمارا جزوِ ایمان۔ انہوں ﷺ  نے کہا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو ہم مانتے ہیں کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

محمد الرسول اللہ ﷺ کی سیرت لکھنے کا باسعادت کام بہت سے علماء نے سرانجام دیا۔ اور آج بھی یہ کام جاری و ساری ہے۔ ان ﷺ کے زندگی کو پڑھنا، ان کے حالات کو جاننا ہمیں ان ﷺ کی پیروی کرنے، ان جیسا بننے کی کوشش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سیرت الرسول ﷺ ایسا بابرکت شعبہ ہے کہ اسلامی تواریخ میں باقاعدہ ایک اہم ترین صنف بن کر ابھرا۔ لیکن سیرت الرسول ﷺ پر صرف مسلم علماء نے ہی نہیں، غیر مسلموں نے بھی بے تحاشا کام کیا۔ بحیثیت قاری میں نے سیرت النبی ﷺ کی ایک آدھ کتاب کا ہی مطالعہ کیا ہو گا۔ لیکن اپنے مشاہدے اور کتب سیرت بارے مطالعہ سے یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ مسلمان مصنفین سیرت النبی ﷺ لکھتے ہوئے ایک خاص تقدس اور احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل عین درست ہے چونکہ انہوں نے جن قارئین کے لیے یہ لکھنا ہے وہ بھی حبِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جاننا ہو تو کسی نسبتاً دیانت دار اور غیر جانبدار مستشرق کی لکھی ہوئی سیرت بھی پڑھی جائے۔ چونکہ ایسا مصنف ایک مختلف پسِ منظر سے آتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی ذات کو اپنے مذہبی، سماجی اور ثقافتی آئینے میں دیکھتا ہے، اپنی تہذیب اور روایات کی روشنی میں پرکھتا ہے، اس طرح ہمارے سامنے نبی ﷺ کی ذات کے وہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو مسلم مصنفین عقیدت و احترام اور مانوسیت کی وجہ سے نظر انداز کر جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کی ذات والا صفات بارے کسی غیر مسلم کی تحریر ہمیشہ مجھے کشش کرتی ہے۔ جب کوئی ایسا مصنف چاہے ان ﷺ کو نبی اور رسول نہ بھی مانے، لیکن جب وہ ان ﷺ کے کردار، اخلاق اور اعلٰی انسانی صفات کا اقرار کرتا ہے تو اس سے میرا ایمان ان ﷺ کی ذات پر اور بڑھ جاتا ہے کہ وہ واقعی بہترین اخلاق کے مالک تھے۔

میں اپنے قارئین سے بھی درخواست کروں گا کہ نبی ﷺ کی سیرت پڑھنی ہو تو کم از کم کسی ایک غیر مسلم مصنف کی سیرت ضرور پڑھیں۔ ہاں یہ خیال کر لیں کہ مصنف مناسب حد تک دیانت دارانہ رائے دینے کے لیے معروف ہے، چونکہ بعض مستشرقین انتہائی منفی رجحان بھی رکھتے ہیں۔ اس سے فائدہ ہو گا کہ ہمارے علماء اور مصنفین کی تحریر کردہ کتب سیرت سے جو مانوسیت اور تقدس کا ہالا بن جاتا ہے، اس کے پار ایک تیسری آنکھ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اور کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن سے نبی ﷺ کو بطور انسان جاننے میں کچھ مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر حمید اللہ کی کتب جو انہوں نے غیر مسلموں سے نبی ﷺ کا تعارف کروانے کے لیے لکھیں بھی قابلِ توجہ ہیں۔ اگرچہ مجھے ان میں سے کوئی بھی کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایک داعی کے نقطہ نظر سے وہ کتب لکھیں، اس لیے ان کے قارئین غیر مسلم تھے۔ چنانچہ ان سے ہمیں نبی ﷺ کو ایک اور انداز میں جاننے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک برطانوی یہودی مصنفہ لیزلی ہیزلیٹن کی سیرت النبی ﷺ پر کتاب دی فرسٹ مسلم بھی قابلِ توجہ ہے۔ مصنفہ معقول حد تک غیر جانبداری سے نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات بیان کرتی ہے۔ اور آج کل مجھے اس کتاب کا اردو ترجمہ 'اول المسلمین' ایک دوست بلاگر برادرم عمر احمد بنگش کے توسط سے پڑھنے کو مل رہا ہے۔ ماشاءاللہ ان کی ترجمے کی صلاحیتیں بھی قابلِ داد ہیں، لیکن اصل خوشی یہ ہو رہی ہے کہ ایک غیر مسلم مصنفہ بھی نبی ﷺ پر لکھے تو ان کے اعلٰی کردار اور اخلاق کی تعریف پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ نیز اس کا اندازِ تحریر، جو یقیناً ہمارے ہاں لکھی گئی کتب سیرت سے قطعاً مختلف نوعیت کا ہے، مجھے نبی ﷺ اور اس وقت کے عرب سماج کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے لیے میں مصنفہ اور مترجم ہر دو کا شکر گزار ہوں۔ آپ احباب سے بھی گزارش ہے کہ نبی ﷺ کی سیرت ویسے تو ہمارے نصاب کا لازمی حصہ ہے، لیکن خود بھی دو تین کتب سیرت ضرور پڑھیں۔ اور ان میں سے کم از کم ایک کسی غیر مسلم مصنف کی تحریر کردہ ہو تاکہ آپ کو نبی ﷺ کے کردار، اعلٰی اخلاق اور بحیثیت انسان ان کی عظمت کا احساس ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہو سکے۔


ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

اینڈرائیڈ کے لیے انگریزی اردو اور اردو انگریزی لغت Urdu English and English Urdu Dictionary for Android

احباب کی ایک عرصے سے خواہش تھی کہ اینڈرائیڈ کے لیے اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغت مہیا ہو جو لالچی اشتہار بازوں سے بھی پاک ہو۔ اس سلسلے میں دو برس پہلے ایک کوشش کی تھی۔ لیکن اس سلسلے میں دو خرابیاں تھیں ایک تو یہ سرچ ایپ بہت پرانی ہو چکی تھی، دوسرے استعمال ہونے والی ڈکشنری ڈیٹابیس کافی محدود سی تھی۔ پچھلے دنوں پی سی کے لیے گولڈن ڈکشنری کے پورٹیبل ورژن میں اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغات ڈالیں۔ آج فیس بُک اردو بلاگر گروپ پر برادرم نعیم سواتی کے ایک سوال پر خیال آیا کہ گولڈن ڈکشنری اینڈرائیڈ کے لیے بھی تو ہے۔ لیکن مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ قیمتاً کے علاوہ ایک مفت ورژن بھی موجود ہے۔ چنانچہ آج قیمتاً کو خریدتے خریدتے مفت والے ورژن کا پتا چلا جو جھٹ سے اتار کر میں نے تو اپنی لغت چالو کر لی ہے۔ آپ بھی کریں۔
  • یہاں سے گولڈن ڈکشنری ایپ مفت والی اتار لیں۔
گولڈن ڈکشنری نصب ہو گئی ہے۔
  • یہاں سے ڈکشنری ڈیٹابیسز اتار لیں۔ اس میں اردو انگریزی اور انگریزی اردو دونوں موجود ہیں۔
  • اب آپ نے اپنے ایس ڈی کارڈ یا فون اسٹوریج میں ایک نیا فولڈر بنانا ہے اور فون کو پی سی سے جوڑ کر یہ ڈیٹابیس فائلیں اس فولڈر میں ان زپ کر دیں۔
  • میں نے UrduDictionary نامی فولڈر بنا کر اس میں ساری ڈیٹا بیسز کاپی کر دی تھیں۔ اس کے بعد گولڈن ڈکشنری ایپ چلائی۔ پہلی مرتبہ چلانے پر آپ کو Preferences میں جا کر لغات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹری شامل کرنا پڑے گی یعنی جہاں آپ نے اردو ڈکشنری ڈیٹابیسز رکھی ہیں۔
اس وقت پریفرینسز میں موجود ہیں۔
میں نے متعلقہ فولڈر منتخب کر لیا ہے۔
یہاں ساری ڈکشنری ڈیٹابیسز نظر آ رہی ہیں۔ اردو انگریزی والی بھی اور انگریزی اردو والی بھی۔
ڈکشنریاں انڈیکسنگ کے لیے تیار ہیں۔
انڈیکسنگ جاری ہے۔
 انڈیکسنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ہر ڈکشنری میں اندراجات کی تعداد بھی نظر آ رہی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں انگریزی سے اردو تلاش کا ایک نمونہ۔
اردو سے انگریزی تلاش کا ایک نمونہ۔
اور آخر میں اتنا ہی کہ یہ سب جگاڑ ہے۔ امید ہے آپ کا گزارہ کرے گی جیسے میرا گزارہ کر رہی ہیں۔

جمعہ، 18 ستمبر، 2015

جنت کی پوشاکیں



ڈبلیو بی ییٹس کی ایک نظم کے ساتھ کھلواڑ، ایک نثری اور کافی سارا بے تُکا ترجمہ۔


جنت کی پوشاکیں

کاش میرے پاس جنت کی پوشاکیں ہوتیں،
سنہری اور نقرئی کرنوں سے بُنی،
شوخ اور ہلکے آسمانی رنگ کی پوشاکیں،
سیاہ اور سفید رنگوں میں گُندھی؛
تو میں یہ سب تمہارے قدموں میں بچھا دیتا:
لیکن میرے دامن میں خوابوں کے علاوہ کچھ نہیں؛
میں نے اپنے خواب ہی تمہارے قدموں میں بچھا دئیے ہیں؛
دیکھو! سنبھل کر چلنا کہ تم میرے خوابوں پر چل رہے ہو۔
ترجمہ: بقلم خود
The Cloths of Heaven




Had I the heaven's embroidered cloths,
Enwrought with golden and silver light,
The blue and the dim and the dark cloths 
Of night and light and the half-light;
I would spread the cloths under your feet:
But I, being poor, have only my dreams;
I have spread my dreams under your feet;
Tread softly because you tread on my dreams.

W. B. Yeats

بدھ، 29 جولائی، 2015

ہنرمند

ابو جی کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا۔ مڈل بھی مکمل نہیں کیا تھا۔ سب سے چھوٹے تھے۔ والدین ضلع ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آئے تھے، انہوں نے بھی تعلیم پر توجہ نہ دی۔ ساری عمر مختلف کام کیے۔ کبھی ٹیکسٹائل مل میں کام کیا، کبھی رکشہ چلایا، کبھی پولٹری فارم ، کبھی کپڑے کی دوکان، کبھی کریانے کی دوکان، کبھی گول گپے، پلاسٹک کے برتن ریڑھی پر اور جمعہ/اتوار بازاروں میں، ناشتے کی ریڑھی، لوڈر رکشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھے دنوں میں جب رکشے کا کام ابھی مندا نہیں پڑا تھا، اور پھر بعد میں جب ناشتے سے اچھے پیسے بن جاتے تھے تو ابوجی نے دو مرتبہ مکان کی توسیع کروائی۔ غریب کے مکان کی توسیع یہی ہوتی ہے کہ پہلے ایک منزل ڈلوا لی، پھر پلستر کروا لیا، پھر دوسری منزل ڈلوا لی اور پھر ہمت ہوئی تو تیسری منزل۔ ابو جی نے اس طرح کر کے تین چار بار مکان میں ترمیم و اضافہ کیا تاکہ بڑھتے ہوئے خاندان کے رہن سہن میں آسانی پیدا ہوتی۔

ہر بار ابو جی کو مستری ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ پہلے پہلے جب میں چھوٹا تھا تو یہ مسئلہ بہت زیادہ علم میں نہیں تھا۔ ماموں کے گاؤں سے مستری اور مزدور آ گئے اور اوپر والی منزل تعمیر ہو گئی، سارے مکان کو پلستر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد دو تین بار جب بھی ضرورت پڑی تو ہر مرتبہ مستری کی تلاش ایک الگ جدوجہد رہی۔ خواہش ہوتی تھی کہ فلک شیر یعنی پرانا مستری ہی کام کر جائے، لیکن وہ لاہور شفٹ کر گیا، پھر واپس آیا تو اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے وقت ملتا، جلدی جلدی کام کر کے چلا جاتا۔ 

آخر ہر مرتبہ فلک شیر ہی کیوں؟ مسئلہ اس کا یا ہمارا نہیں، اس کے ہنر کا تھا۔ وہ بندہ سمجھدار تھا، ہاتھ میں صفائی تھی اور لوگ اس کے آگے پیچھے قطار میں کھڑے نہ بھی رہتے ہوں کم از کم آئندہ کئی مہینوں کے لیے وہ بُک ہوا کرتا تھا۔ ہم ہر بار فلک شیر کے ہنر سے مجبور ہو کر اس کے پاس جاتے تھے۔ ورنہ مستری تو میرے محلے میں کئی تھے، میرے محلے کے باہر اڈے پر ہر روز سو ڈیڑھ سو مستری مزدور کھڑا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سے کام کروانے کو دل نہیں مانتا تھا۔

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں سیکھا کہ پیشہ ورانہ اعتماد قائم کرنا ایک بہت ہی اہم خصوصیت ہے۔ ایک آپ کا کلائنٹ/کسٹمر/گاہک آپ پر کام چھوڑ کر مطمئن ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔ اس کے لیے میں نے مستری فلک شیر سے یہ سیکھا کہ اتنے ہنرمند ہو جاؤ کہ دوسروں کی ضرورت بن جاؤ۔ لوگ دروازے پر آ کر کام کی درخواست کریں۔ 

مجھے نہیں پتا اس کو اور پُراثر انداز میں کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں  کہ ہنرمند بن جائیں۔ چاہے موٹرمکینک ہوں، انجینئر ہوں، پی ایچ ڈی ہوں، اگر آپ ہنرمند نہیں ہیں تو آپ میں اور آپ کے گلی محلے کے باہر راج مستریوں کے اڈے پر بیٹھنے والے ان مستریوں اور مزدوروں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ روز سامان اٹھا کر اڈے پر آتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ مل جائے تو ایک دو دیہاڑیوں کا ہوتا ہے۔ نہ ملے تو سارا دن وہیں بیٹھے بیٹھے بارہ ٹہنی کھیل کر گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ 

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں یہ سیکھا کہ میں اپنے کلائنٹ کو جو کچھ کر کے دوں اس پر اُسے اعتماد ہو۔ جیسے مستری فلک شیر عین نوے کے زاویے پر دیوار اٹھاتا ہے، پلستر میں کہیں اونچ نیچ نہیں آنے دیتا اور آج بھی اس کا لگایا ہوا فرش کہیں سے اکھڑا نہیں۔ ویسے ہی میں ترجمہ کروں تو میرے کلائنٹ کو بہت کم ضرورت پڑتی ہے کہ اُس پر نظر ثانی یا تصحیح کروائے۔ گزرے برسوں میں مَیں نے بہت کم معاوضے پر بھی کام کیا۔ رات کو اُٹھ اُٹھ کر بھی کام کیا۔ لیکن اب میں تھوڑا کام کرتا ہوں، تھوڑا لیکن سُتھرا۔ میں ترجمہ کرتے وقت پاکستان کے اندر کا کام نہیں پکڑتا، مجھے پتا ہے یہاں لوگ اچھی ادائیگی نہیں کرتے۔ غیر ملکی جب کام کرواتے ہیں تو پیسے اچھے دیتے ہیں۔ وہاں اور یہاں کے کام میں ایک بمقابلہ چار کا فرق سمجھ لیں۔ اگر یہاں روپیہ ملے تو وہ چار روپیہ بھی دے دیتے ہیں۔ تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اب  معاوضے میں بہت کم رعایت دیتا ہوں، لیکن اس کے بدلے میرا کام معیاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ معیار اور ساکھ بنانے، اپنے آپ کو زیادہ معاوضے کے قابل بنانے میں مجھے ایک دو سال نہیں آٹھ نو سال لگ گئے ۔

دوسری جانب میں تدریس کے حوالے سے بھی اسی بات پر عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپ کو اس مقام پر لے جاؤں جہاں میرے جیسے کم ہی متبادل دستیاب ہوں ۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہی میں ایک اچھی ملازمت یا کام کی امید کر سکتا ہوں۔ اس کے لیے آج سے دس برس پہلے پی ایچ ڈی کرنے کا عزم کیا تھا۔ اور وہ عزم آج بھی تازہ ہے۔ انشاءاللہ اس عزم کو مکمل بھی کرنا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی منزل نہیں، صرف نشانِ منزل ہو گی۔ مختصر یہ کہ میری ذات پر سے "زیرِتعمیر" کا بورڈ کبھی نہیں اترے گا۔ میری دعاؤں میں مستقلاً شامل دعا رَبِّ زِدْنِي عِلْما بھی ہے۔ اور جیسے جیسے میری عمرِ عزیز کا اختتام قریب آتا جاتا ہے، مجھے یہ احساس زیادہ شدت سے ہوتا جاتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔ علم دراصل اپنی جہالت کا ادراک کرنے کا نام ہے، اور وہ ادراک دھیرے دھیرے ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ احساس بھی کہ یہ جو کچھ دیا ہے، یہ سب اُس کی کرم نوازی ہے۔ کہ میرے بس میں تو کبھی  کچھ بھی نہیں تھا، آج میں جس جگہ بھی کھڑا ہوں، یہ سب اُس کی رحمت ہے۔

تو آپ بھی اگر ابھی یونیورسٹی سے چوندے چوندے ماسٹرز کی ڈگری لے کر نکلے ہیں، یاکسی شعبے میں داخل ہو رہے ہیں، دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ یکدم چھلانگ نہ لگائیں۔ اللہ کی رحمت پر نگاہ رکھیں اور یادر کھیں کہ کامیابی ایک دو دن یا مہینے نہیں برسوں کا کھیل ہے۔ دس برس کا ہدف رکھیں اور محنت کریں۔ اپنے آپ کو اس قابل کر لیں کہ دوسرے آپ کے دروازے  پر آپ سے کام کروانے کی درخواست لے کر آئیں۔ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ یاد رکھیں کامیابی کا اگر کوئی شارٹ کٹ ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سب پیدائشی جینئس نہیں ہوتے۔ ہاں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر محنت کرتے چلے جانا سب کے اختیار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ محنت کریں، کچھوا چال ہی سے کریں لیکن محنت کرتے چلے جائیں، اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ ہنرمند  ہو جائیں تو آپ کے دلدر دور ہو جائیں گے۔ Jack of all trades, master of none کے مقولے کو ذہن میں رکھیں۔ ایک شعبہ ایسا ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماسٹر آپ ہوں۔ باقی شوق تو کئی پالے جا سکتے ہیں، لیکن روزی روٹی کے لیے ایک یا دو شعبے ایسے ہونے لازمی ہیں جن میں آپ کی مہارت پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا جا سکے۔ اللہ سائیں آپ پر اپنی رحمت رکھے۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

میں اور ترجمہ

آج سے کوئی آٹھ  برس قبل میرے گھر میں ایک بابا جی تشریف لائے۔ ان سے پہلے زندگی میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اردو محفل کے توسط سے دعا سلام تھی اور بس۔ اتنی واجبی سی دعا سلام کے باوجود وہ کمال شفقت سے نہ صرف میرے غریب خانے پر تشریف لائے بلکہ انہوں نے کچھ ایسے گراں قدر مشوروں سے بھی نوازا جنہوں نے آج کے شاکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔ محمد اصغر صاحب جو اردو محفل پر تلمیذ  کی عرفیت سے جانے جاتے تھے، مورخہ 18 جولائی 2015 بروز عید الفطر  اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ جس نے بھی سُنا سناٹے میں رہ گیا۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ وہ چلے گئے ، لیکن انہوں نے مجھ جیسے کئی نوجوانوں  کو گائیڈ کیا۔ انشاءاللہ اس صدقہ جاریہ کا اجر انہیں ملتا رہے گا۔

تو جناب  اصغر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھے آگاہ کیا کہ آنلائن ترجمہ کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، اور اچھے خاصے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ 2007 میں ابھی میں ایک گواچی گاں جیسی چیز تھا۔ بی کام کے بعد ایم بی اے کا داخلہ بھیج کر واپس منگوا چکا تھا، اور ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن انگلش لنگوئسٹکس فرما رہا تھا۔  مالی حالت پتلی تو ہمیشہ سے تھی، ٹیوشن  اور چھوٹے موٹے کاموں پر گزارا تھا۔ اصغر صاحب نے کھُل کر کہا کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ مل کر بوجھ اٹھائیں اور اس کے لیے فری لانس ترجمہ ایک اچھا پیشہ ہے۔ آپ فلاں فلاں ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں، اپنی پروفائل اور سی وی تیار کر کے ٹرانسلیشن ایجنسیوں کو تعارفی ای میل کے ساتھ بھیجا کریں۔ تو یہ وہ برس تھا جب میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور آج آٹھ برس بعد جب میں اپنے آپ کو مترجم بتاتا ہوں تو اس وقت سے شروع کرتا ہوں جب میں نے اپنے آپ کو مترجم کہنا شروع کیا تھا۔  پہلی پیمنٹ دو یا ایک برس بعد ملی تھی اٹھانوے ڈالر جس سے ایک  پی فور کمپیوٹر لیا۔

فاسٹ فاورڈ ٹو 2015، آج فری لانس ترجمے میں آٹھ برس ہو گئے۔  سافٹویئر، آئی ٹی اور خبروں کا ترجمہ میرے بائیں ہاتھ  کا کھیل ہے۔ ترجمے کی رفتار ایک زمانے میں ایک عام مترجم سے  کوئی دوگنی تو ہو گی۔ اب بھی اچھے دنوں  کے کچھ اثرات باقی ہوں شاید۔ لیکن اب کام کبھی کبھی ملتا ہے، وہ روزانہ ہزار پندرہ سو الفاظ ترجمہ کرنے والا زمانہ گزر گیا۔ لیکن آج بھی میں اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہوں تو لسانیات +ترجمہ جیسی کسی چیز کا طالبعلم سمجھتا ہوں۔ لسانیات میرا شوق ہے اور ترجمہ میر اپیشہ۔ لسانیات اور ترجمہ کا گہرا تعلق ہے۔ نقصِ امن کے خطرے سے میں علومِ ترجمہ کو لسانیات کی ذیلی شاخ قرار نہیں دے رہا چونکہ اب پاکستان میں بھی علومِ ترجمہ کے الگ سے شعبے قائم ہو رہے ہیں۔ 

تو جناب میں مترجم ہوں، ترجمہ میرا پیشہ ہے، میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ میں پچھلے آٹھ برس میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دس لاکھ الفاظ ترجمہ کر چکا ہوں جن میں سافٹویئر لوکلائزیشن، ویب سائٹ ترجمہ، خبریں اور مضامین، قوانین اور ایکٹ وغیرہ، خطوط، سرٹیفکیٹس اور جرنل آرٹیکلز وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے والے اور انٹرنیٹ پر مجھ سے شناسائی رکھنے والے احباب "جوانی" سے "بڑھاپے" کے اس سفر کو جانتے ہیں۔ آج سے چھ برس پہلے جو بندہ اردو وکی پیڈیا کی  جناتی اصطلاحات کے بارے میں لکھتا رہا، آج وہ کچھ اسی طرح کا کام کر کے اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔

فرانس کا ایک سماجی مفکر مِشل فُوکُو (یا شاید کوئی اور سڑیل بابا)کہتا ہے کہ میں کُتا نہیں جو ہر مرتبہ ایک ہی انداز میں بھونکے۔ بابے کے کہنے کا مطلب ہے  کہ انسان ارتقاء پذیر چیز ہے۔ چنانچہ پچھلے آٹھ برس میں آنے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی بطور مترجم میری سوچ میں بھی آئی۔ مَیں نے ترجمہ کر کے ترجمہ کرنا سیکھا ہے۔ اس کے لیے خاور کی ویب سائٹ پر میں نے جو ترجمہ کر کے سیکھا، وہ ہمیشہ بطور مترجم میری بنیاد رہے گا۔ میں نے اپنے کلائنٹس سے ، مارکیٹ سے، اور ٹھوکریں کھا کر سیکھا کہ ترجمہ میں کیا کرنا چاہیئے۔ اور پاکستان میں ترجمہ کا کیا مستقبل ہے۔ اتنی لمبی تمہید کے بعد بھی اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو آپ کی مہربانی ہے چونکہ یہ  نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے پاس آج ضائع کرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ چنانچہ اب ہم کام کی بات شروع کرتے ہیں۔

پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل کیا ہے؟ سچی بات بتاؤں تو پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل آج سے چند برس پہلے(اور آج بھی)  ایک ٹکے کا بھی نہیں تھا۔ سارا کام بھارت کی ایجنسیاں لے جاتیں (آج بھی ایسا ہی ہے)۔ یہاں میری اکثر مثالیں سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے ہوں گی ، چونکہ میرا بنیادی فیلڈ یہی  ہے۔ 2003  کے اطراف میں ایکس پی کا ترجمہ کرلپ لاہور نے کیاا ور اس کے بعد سارا کام غیر ملکی ایجنسیوں کے پاس چلا گیا۔ مائیکروسافٹ اپنے ہر سافٹویئر (آفس2007 سے اب تک ہر ورژن، ونڈوز وسٹا سے آج تک ہر ونڈوز) کا ترجمہ اردو میں کرواتا رہا ہے۔ اور یہ کام پاکستان کے فری لانسرز نے تو شاید کیا ہو، کوئی ادارہ اس میں کم ہی ملوث رہا ہے۔ (اب مائیکروسافٹ پاکستانی پنجابی میں بھی سافٹویئر کا ترجمہ کرواتا ہے۔) انفرادی سطح پر تو لوگ کچھ کما سکتے تھے، لیکن ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہونے، سرکاری سطح پر ترجمہ کی پالیسی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ترجمے کی صنعت پنپ ہی نہیں سکی۔ آج  تک اس ملک میں شاید دو ہندسوں میں بھی ایسے ادارے نہ ہوں جو پیشہ ورانہ سطح پر ترجمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ میں کورٹ کچہری کے احاطے میں بیٹھے مترجمین کی بات نہیں کر رہا ، ایسا مترجم تومیں بھی ہوں۔ لیکن آج 2015 میں، مجھے کچھ امید ہے کہ شاید اگلے چند برسوں میں پاکستان میں ادارہ جاتی سطح پر ترجمہ کی سپورٹ شروع ہو جائے، چونکہ پاکستان کی کم از کم تین جامعات میرے علم کے مطابق علومِ ترجمہ کے چار سالہ بیچلرز پروگرام شروع کر چکی /کرنے جا رہی ہیں۔ اور یہ سب لوگ مترجم ہوں گے، سند یافتہ مترجم۔ اب سادہ  ایم اے اردو یا ایم اے انگریزی کی دال نہیں گلے گی۔ علومِ ترجمہ کے فارغ التحصیل یا کم از کم قانون، طب، مالیات وغیرہ وغیرہ کے مخصوص شعبوں میں ترجمہ کی معتبر اسناد/ڈپلومہ رکھنے والے امیدوار آئندہ ایک دو برس میں سامنے آنے لگیں گے۔ جس سے ترجمہ کا معیار بھی بہتر ہو گا اور ادارے یعنی ٹرانسلیشن ایجنسیاں بھی وجود میں آئیں گی۔ سرکاری سطح پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے موجب بہت سی بہتریوں کی توقع ہے۔ کم از کم ، کچھ نہ کچھ دستاویزات ترجمہ ہونے لگیں گی۔ اور امید ہے کہ اردو کو سرکاری سطح پر انگریزی کے ہم پلہ کچھ نہ کچھ رتبہ ملے گا۔

یہ تو بطور ترجمہ صورتحال پر کچھ رائے، امیدیں اور تجزیہ تھا۔ اب ذرا صارفین یعنی جن کے لیے ترجمہ پیدا کیا جاتا ہے، ان کے حوالے سے کچھ حالات پر نظر ڈالی جائے۔ سرکاری سطح پر اردو کو اس کا جائز مقام دینے سے ترجمہ کی روایت کی داغ بیل پڑے گی اور اس سے عام عوام کو بھی فائدہ ہو گا کہ انہیں قومی زبان میں دستاویزات کا مطالعہ نصیب ہو گا۔ نجی شعبے کو بھی ترجمے کی کچھ نہ کچھ تحریک ملے گی۔ اگر سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو بہت سے ادارے پہلے ہی اپنے سافٹویئر اردو، سندھی، پشتو وغیرہ میں پیش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ سے اینڈرائیڈ کا کوئی موبائل خرید لیں اس میں کم از کم گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی یا صارف مواجہ) اردو میں کرنے کا آپشن ضرور ملے گا۔ سام سنگ، لینووو، اوپو، ہاوے/ہواوے وغیرہ وغیرہ اور مائیکروسافٹ سب اردو زبان میں سافٹویئر دکھانے کی سہولت دیتے ہیں۔ اور تو اور ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کی آنلائن ویب سائٹس/ایپس بھی اردو میں دستیاب ہیں۔ لیکن کیا صارفین اس کے لیے تیار ہیں؟

ایک لفظی جواب دوں تو "نہیں"۔ پاکستانی صارفین ایک ترجمہ شدہ صارف مواجہ استعمال کرنے کے لیے سو میں  سے زیادہ سے زیادہ دس فیصد تیار ہیں۔ اس کی وجہ/وجوہات کیا ہیں؟

اول تو یہ کہ ترجمہ غیر معیاری ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف اداروں، ٹرانسلیشن ایجنسیوں اور فری لانسر مترجمین نے ترجمہ اور اصطلاح سازی کے ساتھ کھلواڑ کی جس سے غیر معیاری، کھچڑی ترجمہ وجود میں آیا۔ بطورِ خاص اصطلاحات سازی کا کوئی معیار مقرر نہیں، اور نجی سطح پر اردو وکی پیڈیا جیسے اداروں کو ایسی کسی بھی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی پیش کردہ اصطلاحات بری طرح مسترد ہوئیں۔ میرے دو تین مضامین اس سلسلے میں یہاں موجود ہیں۔ غیر معیاری ترجمے کی ایک اور وجہ اللہ واسطے کے تراجم ہیں۔ گوگل جی میل اب آپ کو اردو میں ملے گی۔ لیکن اس کا موازنہ آپ فیس بُک کے اردو مواجہ سے کریں۔ آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر اللہ واسطے ترجمہ کرواتے ہیں۔ جہاں مترجم کو بیج وغیرہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ گوگل سخت معیارات کے تحت پیشہ ور ایجنسیوں اور مترجمین سے ترجمہ کرواتا ہے ا س لیے کچھ نہ کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔

ترجمہ کے لیے تیار نہ ہونے کی دوسری وجہ صارفین میں پائی جانے والی نامانوسیت ہے۔ جو چیز مانوس نہیں، وہ مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ ہم اس کی بھد اڑاتے ہیں، ہنسی ٹھٹھول کرتے ہیں۔ ترجمہ کو جب کوئی پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور لنک=ربط،  فارمیٹنگ = وضع کاری، کنفگریشن = تشکیل جیسے تراجم پڑھتا ہے تو پہلے حیران ہوتا  ہے پھر ہنستا ہے اور آخر میں دوسروں کو دکھانے کے لیے ایک طنزیہ پوسٹ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہے۔ صارف کے ورلڈ ویو (world view)  یعنی دنیا کو سمجھنے کی طرزِ فکر میں یہ بات ہی فٹ نہیں بیٹھتی کہ سافٹویئر کا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے، اور انگریزی کے علاوہ بھی ونڈوز کو کسی اور زبان میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر شاید کبھی ہمارے بابوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوئی، ہم تو آج قیامِ پاکستان کی ستر سال بعد والی نسل ہیں جس کے سر پر انگریزی ہی انگریزی سوار ہے (کمپیوٹر کے علاوہ بھی ہر جگہ)۔ ایک اور وجہ یہ کہ صارفین کو علم ہی نہیں کہ سافٹویئر جیسی کسی چیز کے تراجم بھی دستیاب ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے وہ اس کے استعمال سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اور آخر میں تھوڑی سی بات اصطلاح سازی کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ دو انتہائیں ہیں۔ یا تو آپ جناتی اصطلاحات تخلیق کریں جیسے اردو وکی پیڈیا نے کیا، یا پھر آپ دسویں تک کے اردو سائنسی نصاب کے ساتھ سرکار نے کچھ برس پہلے کیا وہ کریں یعنی جو کچھ بھی "سائنسی" یا "اصطلاح" سا لگے اسے نقلی حرفی کر کے لکھ دیں۔ حروف اور گرامر اردو کی ہو لیکن لکھی انگریزی ہو۔ سادہ لفظوں میں حروفِ جار کے علاوہ ساری انگریزی۔ "ای میل سینڈ کریں"، "ای میل بھیجیں"، "برقی چٹھی ارسال کریں" جیسے تراجم سے میری مختصر سی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی مرتبہ واسطہ پڑا ہے۔ پہلا ترجمہ کسی اردو سے نابلد، غیر پیشہ ور اور بدنیت مترجم کا ہے جس کا مطلب صرف پیسے کمانا ہے۔ دوسرا ترجمہ کسی میرے جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیر کا ہے جو انگریزی بھی رکھنا چاہتا ہے اور اردو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور تیسرا ترجمہ اردو میں  گردن گردن دھنسے کسی اردو دان کو زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ میں ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان چلنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اصطلاح سازی میں ہم بہت سے تراجم پر تقریباً متفق ہو چکے ہیں۔ مثلاً سنکرونائزیشن کا ترجمہ مائیکروسافٹ کے ہائر کردہ مترجمین نے آج سے چند برس قبل "ہم وقت ساز کریں" کیا۔ اب میری کوشش ہوتی ہے کہ یہی ترجمہ استعمال کروں چونکہ سام سنگ، لینووو کے پچھلے تراجم میں ان گناہگار آنکھوں نے اسی ترجمہ کو استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ تو ترجمے کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے میں یہی ترجمہ استعمال کرتا ہوں چونکہ تسلسل ہو گا تو معیار بندی اور مانوسیت ہوتی جائے گی۔ اس کا ترجمہ "ہم آہنگ" اور "مطابقت پذیر" بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ ترجمہ "کمپیٹبلٹی" کے لیے پہلے ہی مختص ہو چکا تھاچنانچہ ایک امتیاز روا رکھنے کے لیے نئی اصطلاح تشکیل دی گئی۔ یہ سارا عمل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اوپر بیان کردہ سارے مسائل کے باوجود، ایک مترجم جب ترجمہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے سامنے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری  زبان میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کچھ اصول، کچھ پیشہ ورانہ پریکٹسز، کلائنٹ کے تقاضے، اپنی زبان کووسیع  (اِنرچ) کرنے کی خواہش، ترجمے میں معیاری بندی اور تسلسل کا قیام جیسی کئی اور چیزیں ہوتی ہیں۔ مترجم ہمیشہ یلل بللڑ نہیں ہوتا کہ آنکھیں بند  کر کے ترجمہ کر دیا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر جیسے اللہ واسطے کے تراجم میں بھی آپ لاکھ کیڑے نکال لیں لیکن اس پر انسانی گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔ آپ کا دل اگر اپنی قومی زبان میں سافٹویئر استعمال کرنے کو نہیں کرتا تو اس میں جتنا ترجمے کا مسئلہ ہے اتنا ہی آپ کی سوچ کا مسئلہ بھی ہے۔ آپ ترجمہ استعمال کریں، اس پر فیڈ بیک دیں تو یقیناً یہ ترجمہ بہتر ہو سکتا ہے۔ (رضاکارانہ تراجم میں کام ایسے ہی چلتا ہے۔ کمپنیوں کے کروائے گئے تراجم میں ان کا کوالٹی کنٹرول کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اور میرے تجربے کے مطابق یہ طریقہ کار خاصا سخت اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔)

پچھلے دنوں ہمارے ایک محترم و مربی اور استاد جناب ڈاکٹر تفسیر احمد صاحب نے ایک فیس بُک پوسٹ شیئر کی جس پر دو تین تبصروں کے بعد زیرِ نظر بلاگ پوسٹ کا خیال آیا۔ جس میں ادھر اُدھر کی کئی باتوں کے علاوہ مذکورہ فیس بُک پوسٹ کے حوالے سے بھی کچھ باتیں بھی زیرِ بحث آ گئیں۔ امید کرتا ہوں کہ آج سے چند برس بعد ترجمہ کی صورتحال بہت بہتر ہو گی، مشینی ترجمہ کی ترقی، اصطلاحات کی معیار بندی اور تسلسل ،مانوسیت بڑھنے سے ترجمہ کردہ اورمقامیائے گئے سافٹویئر کا استعمال بڑھے گا۔ اور صارفین کی شکایات کم ہوں گی۔

اتوار، 22 مارچ، 2015

مقتدرہ فرہنگِ اصطلاحاتِ لسانیات (انگریزی اردو)

کسی مترجم کے لیے لغات اور فرہنگیں بالکل وہی حیثیت رکھتی ہیں جو راج مستری کے لیے ہتھوڑی چھینی یا فوجی کے لیے بندوق کی ہوتی ہے۔ ترجمے کے میدان میں کسی بھی قسم کے کارہائے نمایاں و غیر نمایاں سرانجام نہ دے سکنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ دوسرے مترجمین اور ان کے ساتھ اپنا بھی بھلا کر لیا جائے۔ اسی بھلے کے سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان کی مذکورہ بالا فرہنگِ لسانیات انتہائی بدمعاشی اور کسی بھی قسم کے کاپی رائٹس کا خیال نہ کرتے ہوئے اسکین کی گئی ہے۔ مقصد اردو لسانیات کی کتب ترجمہ کرنے والوں کے لیے اصطلاحات کا کم از کم ایک معیار مہیا کرنا ہے، تاکہ مترجم کو ترجمے کے ساتھ ساتھ اصطلاحات کا پہیہ بھی دوبارہ ایجاد نہ کرنا پڑے۔ اصطلاحات سازی میں معیار بندی ہی دراصل وہ کلید ہے جو چند برسوں کے اندر اندر اس ملک میں ایسے مترجم اور ترجمہ ساز ادارے قائم کر سکتی ہے جن کی ترجمہ شدہ کتب کو پڑھنے کے لیے قاری کو اردو انگریزی لغت کا سہارا نہ لینا پڑے، یا جس کے چند صفحات پڑھ کر وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس انگریزی کی جانب کُوچ نہ کر جائے۔
اتنی لمبی تمہید کے بعد قبول فرمائیں ایک عدد پی ڈی ایف۔ اس کا فائدہ صرف اتنا ہے کہ پی ڈی ایف کھول کر Ctrl + F دبائیں اور انگریزی لفظ لکھ کر سرچ فرما لیں۔ اردو الفاظ مٹے مٹے ہوئے لگیں گے جو شاید انگریزی او سی آر کی شرارت ہے، لیکن ابتدائی قدم ہے اس لیے درگزر فرمائیں۔ اسی کو ٹیب سے الگ شدہ فہرست کی صورت میں بھی ٹائپ کروا رہا ہوں، دعا فرمائیں کہ جلد ہو جائے۔ اس کے دیر سویر کے خیال سے ہی میں نے یہ اپنے اور دوسرے احباب کے لیے تیار کی ہے۔
نوٹ: اس کی اسکین تصاویر (300 ڈی پی آئی) پر موجود ہیں، جو احباب اوپن سورس او سی آر سسٹم پر کچھ کرنا چاہ رہے تھے انہیں یہ تصاویر مل سکتی ہیں۔ ایک صفحے پر انگریزی اور اردو دونوں آمنے سامنے کالم میں ہیں۔

ہفتہ، 1 جنوری، 2011

مدیر گلوبل سائنس علیم احمد کے ساتھ کچھ تبادلہ خیال

گلوبل سائنس سے ہمارا رشتہ کوئی 9 سال پرانا ہے۔ 2001 میں پہلی بار گلوبل سائنس لے کر پڑھا تھا اور اب 2011 آگیا ہے۔ اس میں کئی بار لکھنے کا موقع بھی ملا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ برادرم علیم احمد نے مجھے کل خصوصی طور پر ای میل کی جس میں میرے پچھلے مضمون، جو اومیگا ٹی اوپن سورس ٹرانسلیشن ٹول پر لکھا گیا تھا، کی تعریف کی گئی تھی اور مزید ٹیوٹوریلز باقاعدگی سے لکھنے پر بھی اصرار شامل تھا۔ علیم بھائی کے کہنے پر ہی اس ساری خط و کتابت کو اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں، چونکہ انھیں کمپیوٹر کے موضوعات پر لکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ اردو بلاگنگ کمیونٹی سے اس سلسلے میں ہغور کی اپیل ہے۔ گلوبل سائنس جیسے پرچے میں لکھنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں ہے۔
Brother Shakir Aziz,
Assalaam U Alaikum,
I feel pleased to inform you that we have decided to celebrate 2011 as the year of revival and reinvention for monthly Global Science. As a matter of fact, it's a huge task to accomplish; and we can't do it alone. Therefore, I seek your cooperation on regular basis; and request you to write IT-related features/ tutorials for Global Science - that is, every month. You may also know that - during the last four or five years - tutorials like PHP, MySQL and others were left incompleted. I'd like to re-begin these tutorials, to complete before the end of 2011. Besides, Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani personally appreciated your article on OmegaT (translation memory software). On similar track, I'll appreciate if you write about more Urdu-language, Open Source, and free utilities available on the net; and how our readers can make better use of them.
Whatever your response may be, I'll appreciate an earliest possible reply from you.
Wassalaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
اسلام و علیکم
آپ کی ای میل کا شکریہ
ماشاءاللہ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ گلوبل سائنس نئے جذبے سے 2011 میں داخل ہورہا ہے۔ ٹیوٹوریل کی فراہمی کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے صارفین کو بھی اس سے آگاہی حاصل ہو۔ کمپیوٹنگ ایسا رسالہ تھا جس میں میں نے، اور محمد علی مکی نے باقاعدگی سے لکھا۔ اس کی وجوہات میں ایک تو اس کا مکمل طور پر کمپیوٹر کے موضوعات پر مبنی ہونا تھا، دوسرے اس وقت اتنی مصروفیت نہیں تھی، تیسری وجہ ہمارا امانت علی گوہر اور دوسرے مدیران وغیرہ سے آنلائن واقفیت اور اکثر گفتگو و چیٹ تھی۔ ایک اور وجہ ظاہر ہے ان کی طرف سے ادا کیا جانے والا معمولی سا مشاہرہ بھی تھا۔ گلوبل سائنس کے سلسلے میں کئی بار تو یہ دل کیا کہ آپ کے اعزازی مدیر والے پلان میں حصہ لوں تاہم مصروفیت اور گلوبل سائنس کے مزاج کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا۔ چونکہ یہاں سب کچھ ٹیوٹوریلز ہی نہیں ہوسکتے، یہ ایک عمومی سائنسی جریدہ ہے۔ تاہم میری کوشش ہوگی کہ اپنے محدود علم کے مطابق وقتًا فوقتًا آپ کو ٹیوٹوریلز ارسال کرتا رہوں۔ پروگرامنگ کے ٹیوٹوریلز کے بارے میں عرض یہ ہے کہ میرا علم اس سلسلے میں خاصا محدود ہے، سی شارپ کبھی سیکھی تھی کارپس لنگوئسٹکس اور ٹیکسٹ پروسیسنگ کے لیے، یہ سیلف سٹڈی نالج ہی ہے میرے پاس، اس کے علاوہ کسی اور پروگرامنگ زبان سے نابلد ہوں۔ چناچہ اس سلسلے میں پرانے ٹیوٹوریلز کو آگے لے کر نہیں چل سکوں گا۔ لینکس وغیرہ پر ٹیوٹوریلز کے لیے میں محمد علی مکی کا نام تجویز کروں گا۔ اردو لینکس کے سلسلے میں ان کا بہت کام ہے اور آپ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ دوسرے میری یہ گزارش ہوگی کہ اردو بلاگز اور اردو فورمز خصوصًا اردو ویب محفل، پر ضرور تشریف آوری رکھیں۔ آپ جو مسائل گلوبل سائنس کے ادارے میں اٹھاتے ہیں وہی مسائل آپ ان فورمز پر اٹھا کر زیادہ بہتر رسپانس حاصل کرسکتے ہیں۔ میری مراد ادارے کے مالی مسائل، اور نئے لکھاریوں کی فراہمی وغیرہ سے ہے۔ اردو انٹرنیٹ کمیونٹی بہت فعال ہوچکی ہے اور اب بھی اس سے دور رہنا گلوبل سائنس کے مستقبل کے لیے اچھی چیز نہیں ہوگی۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہنرمند موجود ہے، امید ہے آپ کی کمپیوٹر سے متعلق لکھاریوں کی کمی یہاں سے پوری ہوسکتی ہے۔ نیز آپ کو اردو سے متعلق بہت سی خبریں بھی ان ویب سائٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
اور آخر میں آپ کو نیا سال مبارک۔ ای میل اردو میں لکھی ہے چونکہ اردو ہی ہمارا مقصد ہے ۔
نیک خواہشات کے ساتھ
وسلام
Shakir Mian,
Assalaam U Alaikum,

sub say pehlay to mu'azrat chahoonga keh main yeh jawab Roman Urdu main likh raha hoon. Dar-asl meray computer main Urdu support bohet achchhi naheen, jebkeh mujhay Muqtadira kay puranay (1990 kay zamanay walay) keyboard per kaam kernay kee adat hay, aur koshish kay bawajood main phonetic keyboard per apna haath rawaan naheen kersaka.

Global Science kay baaray main aap ka farmana bilkul baja hay keh yeh science ka umoomi jareeda hay, jiss main computer or information technology kay mazameen "bhee" shamil hotay hain - y'ani hum poora shumara computer or IT kay leay makhtes naheen kersaktay. Yeh hamari aik idarti majboori hay. Computing kay zareay Amanat Ali Gauher nay koshish to bohet achchhi kee thee, (.....)

Main yeh da'wa bhee naheen karoonga keh agar aap logon main say koi Global Science kay leay likhay ga to hum usay m'uawza day sakaingay; taahem, itna yaqeen zuroor dila sakta hoon keh Global Science kay zareay aap ke awaz, Pakistan bher main phailay huay, unn logon tek zuroor ponhchay gee jo computer ka shauq rakhtay hain aur isay sanjeedgi say seekhna chaahtay hain.

Global Science kay saath t'aawun kay leay main chahoon ga keh agar aap meri saabiqah email aur apna jawab apni website per deegar ahbaab kay mulahizay kay leay rakh dain to shayed koi naya likhnay wala is jaanib mutawajjuh hosakay. Aap say email per raabta rahay gaa, aur, aanay waalay dino main, In-sha-Allah, hum koi aisa raasta zuroor nikaal laingay jiss say aap kay idaray/ website ka bhee fayeda ho aur humain bhee apna kaam behter taur per anjaam dainay ka mauqa milay.

Wasslaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
وعلیکم سلام بھائی جی
آپ نے بڑی نستعلیق اردو فرنگیوں کے رسم الخط میں لکھی۔ بے تکلفی اور مخصوص فیصل آباد سٹائل میں آنے پر معذرت نہیں چاہوں گا۔ آپ کی پہلی انگریزی ای میل کی وجہ سے فارمیلٹی سی بن گئی تھی ورنہ گلوبل سائنس تو گھر والی بات ہے۔ :-)
اب بات کیے لیتے ہیں کمپیوٹنگ کی۔ آپ کے نکتہ نظر کا احترام کروں گا تاہم اس سلسلے میں میری رائے محفوظ ہے۔ کمپیوٹنگ اچھی کوشش تھی جو اگر جاری رہتی تو اردو والوں کا بہت فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان لوگوں کا اپنے لکھاریوں سے بہت قریبی رابطہ تھا۔ اور اس چیز کی گلوبل سائنس کی انتظامیہ میں کمی ہے۔ اب آپ یہ دیکھ لیں کہ آپ کے علم میں یہ نہیں ہے کہ مقتدرہ کا کی بورڈ ونڈوز کے لیے بن چکا ہے۔ اور یہ اردو محفل پر ہی موجود تھا۔ ملاحظہ کریں۔ میں پھر گزارش کروں گا کہ گلوبل سائنس کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ اردو کمیونٹی کے بارے میں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے قارئین سے قریبی تعلق رکھنے کے لیے فیس بُک خصوصًا اردو فورمز پر تشریف آوری رکھنے کی ضرورت ہے، آپ کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جن سے ادارے کا نہ صرف بھلا ہوسکتا ہے بلکہ آپ کی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بارے میں اپروچ بھی بدلے گی۔ نیٹ نامہ وغیرہ کے سلسلے میں مجھے سخت اعتراض ہے کہ اس میں اردو کی ایک بھی ویب سائٹ کا کبھی تعارف شامل نہیں کیا گیا، جبکہ یہاں اردو فونٹس، اردو فورمز اور اردو سافٹویرز کے ڈھیر موجود ہیں۔ آپ کا قاری انٹرنیٹ سے کھیلتا ہے پاء جی اب، اسے ٹربل شوٹنگ، ونڈوز ٹپس وغیرہ جیسی چیزیں دکھا کر مطمئن کرنا میرے ذاتی خیال سے اب اتنا آسان نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے ہاؤ ٹو کے تو ڈھیر لگے ہوئے ہیں، ونڈوز کی ٹربل شوٹنگ جتنی کہیں اتنی، انگریزی سے ترجمہ کرکے چھاپ دینا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔۔ اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ محمد علی مکی اور اس جیسے دوسرے لکھاریوں سے رابطے میں رہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس آپ کو دے چکا ہوں۔ اردو بلاگرز ہی آپ کے لیے اتنا کچھ لکھ سکتے ہیں کہ آپ کو اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
اور آخر میں یہ کہ معاوضہ ہر کسی کو اچھا لگتا ہے، تاہم گلوبل سائنس کے معیار کے پرچے میں لکھنا بھی بڑی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو کمپیوٹر پر لکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی ٹیم مل جائے گی۔ یہ ای میل، اور آپ کے جوابات میں اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں۔ جس کا ربط آپ کو بھیج دوں گا تاکہ آپ بھی تازہ ترین تبصروں اور اپڈیٹس سے آگاہ رہیں۔
وسلام

ہفتہ، 18 دسمبر، 2010

لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ

آج محمد علی مکی سے بات ہورہی تھی۔ مکی آج کل اردو لینکس ڈِسٹرو پر کام کررہے ہیں۔ ان سے دوران چیٹ ترجمے کا کام، اس کی دیکھ بھال، اردو برادری کی حالت زار اور مستقبل کے نقشے پر کچھ بے معنی بکواس سی کی ہے۔ آپ کی نظر ہے۔ اس پر تھنکیں، اور مجھے چاہے نہ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ پنجابی کی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد سے کسی پنجابی کو پکڑ لیں۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا جو آپ کو بتا دے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ خوش رہیں۔
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: ‏‫جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..

جمعہ، 30 جولائی، 2010

ڈاکٹر حمید اللہ

وہ دس زبانیں جانتا تھا اور سات زبانوں کا لکھاری تھا۔ اس کی 150 کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور شاید اسلام کا تعارف ہے۔ اس کو 22 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا فرانسیسی میں قرآن کی تفسیر کے ساتھ ترجمہ اس زبان میں کسی بھی مسلمان کی ایسی پہلی کوشش تھی، اور اس کے بعد اس کے قریبًا بیس ایڈیشن شائع ہوئے۔ کتاب مقدس کے اس فرانسیسی ترجمے اور اس کی ان تھک کوششوں نے یورپیوں خصوصًا فرانسیسیوں کو بڑی تعداد میں اسلام کی طرف مائل کیا۔ بہت سے اس تعداد کو تیس ہزار بیان کرتے ہیں جو کہ شاید مبالغہ ہے۔ انھوں نے یورپی جامعات سے دو پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں اور  اپنی زندگی اسلام اور مسلم معاشرے کے لیے وقف کرتے ہوئےعشروں تک درس و تدیس کی۔

جہاں تک احادیث کی بات ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر فرانسیسی میں دو جلدی کتاب لکھنے اور ان ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑی تعداد میں مختلف زبانوں میں تھقیقی مضامین لکھنے کے علاوہ، ان کی عظیم محققانہ دریافت وہ تیرہ سو سال پرانا نسخہ تھا جو احادیث کا ایک مجموعہ تھا۔ انھوں نے اس انتہائی نایاب کتاب کو برلن لائبریری کے اندھیرے کونوں میں دریافت کیا اور اسے روشنی میں لے کر آئے۔

احادیث کے سب سے پہلے لکھے ہوئے مجموعوں میں شمار ہونے والی یہ دستاویز صحیفہ همام بن منیبہ کے طور پر جانی جاتی ہے جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (58 ہجری بمطابق 677 عیسوی) اپنے طلباء کو پڑھانے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس عظیم محقق کا نام جس نے پیرس میں زاہدانہ زندگی گزاری، ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھا۔

میں نے ڈاکٹر حمید اللہ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں اور خصوصًا ان کی کتاب خطبات بہاولپور سے بہت متاثر ہوا، اس کا انگریزی میں ترجمہ  اسلام کی آمد کے نام سے کیا گیا ہے۔ چناچہ دسمبر 2002 میں ان کی موت کی المناک خبر سن کر میں ایک نجی جامعہ میں یہ غم اپنے طلباء کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔ ان کے بارے میں میرے تاثرات حیرت اور لاعلمی سے سنے گئے۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر حمید اللہ جیسے عظیم محقق کو نہیں جانتے تھے، تو میں نے پوچھا کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن کون ہے؟ اب کی بار آواز بہت بُلند اور مشترکہ ہاں تھی۔

ڈاکٹر حمید اللہ 19 فروری 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خلیل اللہ بھی ایک ادیب اور عالم تھے۔ ان کے دادا محمد صبغت اللہ نے 29 عربی، 24 فارسی اور 14 اردو کتابیں لکھیں اور ان کا شمار عظیم علماء میں ہوتا ہے۔ اسلام علم قانون میں ایم اے اور ایل ایل بی کی سند جامعہ عثمانیہ سے 1930 میں حاصل کرنے کے بعد محمد حمید اللہ نے ایم فل کی ڈگری بون یونیورسٹی جرمنی سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے۔ 1935 میں اپنے آبائی شہر آنے کے بعد انھوں نے جامعہ عثمانیہ میں بطور لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر 1948 تک خدمات سرانجام دیں۔

جس سال انڈیا نے ریاست حیدرآباد پر قبضہ کیا، ڈاکٹر حمید اللہ ڈاکٹر یوسف حسین کے ساتھ یورپ چلے گئے تاکہ ریاست کا کیس اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ واپس آتے ہوئے حمید اللہ پیرس میں اس کام کے لیے (جو انھوں نے اپنی بقیہ زندگی سرانجام دیا، یعنی اسلام کی خدمت) ٹھہر گئے۔ پیرس میں انھوں نے نیشنل سینٹر آف سائنٹیفک ریسرچ میں شمولیت اختیار کرلی اور جرمنی، فرانس، ترکی کی جامعات میں بطور گشتی پروفیسر پڑھانا شروع کردیا۔

1949 میں بہت سے علماء کو پاکستانی حکومت کی آئین سازی کے معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ ان علماء میں علامہ محمد اسد اور ڈاکٹر حمید اللہ بھی شامل تھے۔ یہ گہرے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد دونوں پاکستانی بیوروکریسی کی آئیں بائیں شائیں سے تنگ آکر پاکستان سے چلے گئے۔ لیکن پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران، انھوں نے نیک نیتی سے پاکستان کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور کراچی میں ’حیدرآباد کی جلاوطن حکومت‘ قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ اس اقدام کو ہماری وزارت خارجہ نے شرف قبولیت نہ بخشا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ پیرس میں مقیم ہوگئے اگرچہ وہ فرانس کے شہری نہ تھے اور نہ ان کے پاس وہاں کا پاسپورٹ تھا۔ وہ اپنے آخری وقت تک بےوطن رہے۔ درھقیقت ان کو ایک بین الاقوامی پناہ گزین قرار دے دیا گیا تھا، اور اس طرح وہ ہر دیس کے شہری بن گئے۔

انگریزی میں ڈاکٹر صاحب کی تصنیفات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں، دنیا کا پہلا لکھا ہوا آئین، ریاست کا اسلامی رویہ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مسلم خاتون، روزہ کیوں رکھیں؟، حدیث کی سب سے پہلی تدوین اور بہت سی کتب شامل ہیں۔ وہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں کوئی فخر و غرور نہ رکھتے تھے، اگرچہ انھوں نے تن تنہاسات زبانوں میں تھقیقی کام کیا۔ ان کے کچھ تحقیقی کام منفرد نوعیت کے تھے جو پہلے کبھی نہ کیے گئے، جیسا کہ ابتدائی ترین احادیث کا مخطوطہ۔

1980 میں بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ان کے دئیے لیکچرز اسلام کے کچھ بنیادی پہلوؤں اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ فی البدیہہ دئیے جانے والے یہ لیکچرز برسوں کی تحقیق اور دوسرے علم کا فی الواقع آسان زبان میں نچوڑ تھے۔ اردو میں سن کر لکھے جانے والے اور خطبات بہاولپور کے نام سے چھپنے والے یہ لیکچرز دوسری کئی چیزوں کے علاوہ اس بات پر مشتمل تھے کہ قرآن و حدیث کو  کیسے جمع کیا گیا اور ان کی تدوین کی گئی۔

ان کے دوسرے تھقیقی کام فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں ہیں۔

ان کے سائنسی اور تحقیقی کاموں نے مستشرقین اور یورپی قارئین کو اسلام کے ایک مختلف نظارے سے روشناس کروایا جو کہ ان کی بنائی ہوئی اسلام کی یکطرفہ تصویر سے یکسر مختلف تھا، جس میں صوفیانہ رواجوں پر زور، گھومتے درویش اور دیومالائی قسم کے نظریات شامل تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ اپنی تحاریر میں اسلام کے گرد کھڑی دیومالاؤں کو پاش پاش کردیتے ہیں اور قاری کو یہ دکھاتے ہیں کہ اسلام کتنا انسان شناس، سائنسی اور منطقی مذہب ہے۔ وہ اسلام کے ایک خاموش سپاہی اور اسلامی دنیا میں منفرد عالم تھے۔ اگرچہ انھوں نے اسلام اور علم و ادب کی خدمت بہت سارے طریقوں سے کی اور سب سے پہلے لکھے جانے والے احادیث کے مجموعے کی دریافت شاید ان کی خدمات میں سب سے اہم تھی، تاہم انھوں نے طبع زاد عربی تصانیف کی تدوین، ترجمہ اور اشاعت بھی کی اور انھیں ان زبانوں کے ماہرین علم و ادب کے سامنے پیش بھی کیا۔

یہ بہت حوصلہ افزاء تھا کہ ان کی وفات کی بعد نہ صرف ان کے تحقیقاتی کاموں کو دوبارہ شائع کیا گیا، بلکہ انھیں انڈیا اور پاکستان کے سکالروں نے اپنی کتابوں میں ولولہ انگیز خراج تحسین بھی پیش کیا۔ کچھ پرچوں نے ان پر خصوصی نمبر نکالے۔ ان میں سے نمایاں یہ ہیں: معارف اسلامی، دعوہ، فکر و نظر، اورئینٹل کالج میگزین، شاداب۔ ان کی زندگی اور علمی کام پر تین کتابیں لکھی اور شائع کی گئی ہیں: ڈاکٹر محمد حمید اللہ از راشد شیخ، آثارِ ڈاکٹر حمید اللہ از صفدر حسین اور مجددِ علومِ سیرت از غتریف شہباز۔ اسی طرح سید قاسم محمود، محمد عالم مختارِ حق اور کچھ دوسرے سکالرز نے بھی ان پر مضامین اور تحقیقی مضامین لکھے اور انھیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ لیکن انسان محسوس کرتا ہےڈاکٹر صاھب کے سینکڑوں مضامین جو بکھرے ہوئے ہیں اور عام قاری کی پہنچ سے باہر ہیں، انھیں جمع اور شائع کیا جائے کیونکہ ان کے رتبے کا عالم، علماء میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور ان کا ہر لفظ بہت قیمتی اور سنبھال لیے جانے کا متقاضی ہے۔

 وہ 17 دسمبر 2002 کو جیکسن ولا، فلوریڈا، یو ایس اے میں وفات پا گئے اور انھیں چیپل ہِل، فلوریڈا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر میرے انداز میں نہیں لکھی گئی، اتنا تو آپ سمجھ گئے ہونگے۔چونکہ فدوی مترجم کا کام بھی کرتا ہے اور یہ ہماری مترجمانہ افتاد طبع کا نتیجہ ہے۔ اصل تحریر ڈان کا ایک آرٹیکل تھا جس کا اردو ترجمہ عدنان مسعود کی اس تحریر سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ ایک عرصے سے ترجمہ شدہ تحاریر کو زینت بلاگ بنانے کا ارادہ تھا آج اس کی شروعات ہو ہی گئی۔ اور اس سلسلے میں عادت مجھے روشنی میگزین نے ڈالی ہے کہ آرٹیکلز و مضامین کا ترجمہ کرکے شائع کیا جائے۔ روشنی میگزین اردو زبان میں علم و دانش کے فروغ کے لیے ایک اچھی کاوش ہے، اور میں ان کی ویب سائٹ لانچ ہونے سے پہلے سے ان کے ساتھ بطور مترجم وابستہ ہوں۔ میری ترجمہ کی گئی تحاریر کونسی ہیں، وہاں جاکر پڑھ لیں شاید آپ میرا اُسلوب پہچان سکیں۔۔ چونکہ یہ تحاریر ان کی ملکیت ہیں اس لیے میں یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ کونسا ترجمہ میں نے کیا ہے۔ میرے بلاگ پر میری اپنی منتخب شدہ تحاریر کا ترجمہ شائع ہوگا، جو مجھے اچھی لگا کریں گی۔ اس تحریر کا ترجمہ کرنے کا ایک اور مقصد یہ درخواست بھی تھی کہ اگر کسی دوسر کے پاس ڈاکٹر صاحب کی کتب کی ای بکس ہوں، انگریزی کتب کی، کسی آنلائن لائبریری سے دلا سکیں یا سکین کرکے مہیا کرسکیں، تو میں مشکور ہونگا، میں ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میرا علم بھی بڑھے گا اور اردو و اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔ اور ہاں آپ مجھ سے ترجمہ کروانا چاہیں تو میرا کام ہی یہ ہے۔ :-)

اتوار، 18 اپریل، 2010

جلدی جلدی کچھ باتیں

فیصل آباد کل سے بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ صبح آٹھ سے بارہ تک بجلی بند رہی، پھر دو سے پانچ تک اور اس کے بعد آٹھ بجے سے بھی پہلے بند ہوکر رات دس بجے کے بعد آئی۔ گیارہ ساڑھے گیارہ بند ہوئی تو اب صبح چار بج  کر 25 منٹ پر آئی ہے اور یہ بھی پانچ بجے تک بمشکل ہوگی۔ فیصل آباد کے ساتھ تو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ کیا تھا وفاقی وزیر نے لیکن لگتا ہے پھر ہڑتال کی کال دینی پڑے گی۔
پچھلی تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ وہ واقعی میرے اندر سے نکلی تھی اور میں ایسے ہی فرسٹریٹ ہوتا ہوں جب میرے پاس کام نہ ہو۔ احباب کے مشوروں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔
خاور صاحب آپ نے خبروں کا ترجمہ کروانا ہو تو ست بسم اللہ جب کروانا ہو بتا دیجیے گا۔ ریٹ آپ سے طے کرلیں گے۔ گوروں سے 4 روپے فی لفظ تک لیتے ہیں اس سے کم لیں تو ویب سائٹ والے بلاک کردیتے ہیں کہ مقابلے کا ماحول خراب کررہا ہے لیکن ایک پاکستانی صاحب کے ساتھ کوئی ڈیڑھ ماہ کام کیا، ان سے قریب پچیس پیسے فی لفظ لیے تھے۔ آج کل وہ کام نہیں کرراہے مجھ سے۔
نعمان کا خصوصی شکریہ جنہوں نے میری تحریر اپنے بلاگ پر لگائی اور اتنی ساری تعریف بھی کی۔
بدتمیز نے ایک خصوصی تحریر میں میری اس تحریر کا تذکرہ کیا اور اپنے مخصوص بے لاگ سٹائل میں اس کے بخیے ادھیڑے۔ آداب عرض ہے، اس جراحی کو۔ میں نے آج تک کبھی ڈیٹا اینٹری، آرٹیکل رائٹنگ یا ری رائٹنگ نہیں کی۔ بس میری خواہش ہوتی ہے کہ ترجمے کا کام مل جائے چونکہ وہ میری اپنی فیلڈ لسانیات سے بھی متعلق ہے۔ یہ دوسرے کام تو بس ایویں دل پشوری کو دیکھ لیا کرتا ہوں شاید کوئی پسند آجائے لیکن آج تک کوئی پسند نہیں آیا، بلکہ میں آج تک کسی گاہک کو پسند نہیں آیا۔ کئی بار بلاگ شروع کرنے کا بھی دل کیا لیکن بلاگ کے لیے بھی لکھنا پڑتا ہے، میں تو فری لانسر کے طور پر نہیں لکھتا بلاگ کے لیے کیا لکھوں۔ پچھلے چار سال سے انگریزی بلاگ شروع کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اب پھر شروع کیا ہے شاید اس بار کچھ مستقل مزاجی رہ جائے۔
اچھا تو میں آخر کرتا کیا ہوں پھر؟ میں نے عرض کیا تھا کہ لسانیات سے متعلق پراجیکٹس کبھی مل جاتے ہیں جیسے پنجابی کا کوئی کورس ڈویلپ کرنا۔ پچھلے دنوں ایسی ایک جاب ملتے ملتے رہ گئی، رقم بڑی تگڑی تھی لیکن انھیں چاہیے گورمکھی ایکسپرٹ تھا جو پنجابی کے ڈائلاگز لکھ کر دے سکے انھیں۔ میں شاہ مکھی جانتا تھا بس، چناچہ مجھ سے واپس لے لی انھوں نے ورنہ مجھ سے بہتر چوائس ان کے پاس نہیں تھی۔ خیر قسمت میں نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک پراجیکٹ پنجابی کے طلباء کی سننے کی صلاحیت جاننے کے لیے ریکارڈنگز تیار کرنا ہے۔ میں پنجابی چینلز سے ریکارڈنگ کرتا ہوں پھر انھیں 30 سیکنڈ سے 120 سیکنڈ تک کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، ایک ریکارڈنگ کسی ایک موضوع پر ہوسکتی ہے اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ اور پنجابی ٹرانسکرپشن کرکے بھیجتا ہوں۔ وہ منظور ہوجائے تو اچھے پیسے مل جاتے ہیں، انھیں پیسوں میں سے پچھلے ماہ دوست کو ادھار دیا تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک یہی پراجیکٹ ہے میرے پاس جسے مستقل کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اختتام کی طرف جارہا ہے، لیکن مجھے امید ہے جاتے جاتے مجھے یہ ایک لیپ ٹاپ دے جائے گا انشاءاللہ۔
اور جاتے جاتے یہ کہ میں نے گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا لوکل جی آر ای ہے۔ جب شروع ہوا تھا بہت مشکل ہوتا تھا اب تو بہت آسان کردیا ہے انھوں نے نا انگریزی کے الفاظ مشکل ہوتے ہیں اور نا ریاضی کے سوال ہی مشکل ہوتے ہیں۔ خیر میں نے ایم ایس سی کے بعد جو اس سال اگست تک ہوجائے گی، ایم فل میں داخلہ لینا ہے جس کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تو میں نے اسے بغیر تیاری کیے پاس کرلیا ہے، جس کی مجھے ککھ بھی امید نہیں تھی۔ نمبر میرے 74 آئے ہیں اور پرسنٹائل 99 بنتا ہے یعنی میں 99 فیصد طلباء سے بہتر ہوں۔ یہی مطلب ہوتا ہے نا پرسنٹائل کا؟
یہ چند باتیں جلدی جلدی آپ سے شئیر کنا تھیں۔ باقی پھر سہی۔

منگل، 13 اپریل، 2010

کام کرو جی کام

دنیا پاگل ہے جی روٹی کی تلاش میں۔ اور انٹرنیٹ پر تو لوگ باؤلے ہورہے ہیں۔ کام کام کام مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کماؤں۔ ہر طرف بس یہی ہاہا کار ہے۔ میرے جیسے کنویں کے مینڈک بھی ہر طرف تاکتے جھانکتے پھرتے ہیں ترجمہ کروا لو، پروف ریڈنگ کروا لو، ڈیٹا اینٹری کروا لو، آرٹیکل لکھوا لو۔۔ کہ شاید کہیں سے کوئی آواز پڑے اوئے چھوٹے ادھر آ یہ بوٹ تو پالش کردے۔
سائیں انٹرنیٹ پر یہ چھوٹے موٹے کام بوٹ پالش کرنے جیسے ہی ہیں۔ فری لانسر ایسی قوم کا نام ہے جسے آپ عام زندگی میں دیہاڑی دار کے نام سے یاد کرتے ہیں، دیہاڑی دار یعنی رنگساز جو برش کو رنگ کے ڈبے پر رکھ کر سارا دن اڈے پر بیٹھا رہتا ہے اور دن ڈھلنے پر انتظار کر کر کے اور بارہ ٹہنی کھیل کر گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ راج مستری ہے جو اوزاروں والا تھیلا سارا دن سامنے رکھ کر انتظار کرتا ہے اور روزگار نہ ملنے پر سارا دن بیٹھ کر سر جھکائے گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ مزدور ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے اور اب صرف ہتھوڑی چلا کر اینٹوں کی روڑی بنا سکتا ہے لیکن لمبے دستے والی ہتھوڑی لیے سارا دن بس بیٹھا ہی رہ جاتا ہے اور اسے کوئی بھی نہیں پوچھتا۔ تو صاحبو ہم بھی فری لانسر ہیں۔ انٹرنیٹ کی گلیوں آواز لگاتے پھرتے ہیں ہے کوئی جو ترجمہ کرالے، ہے کوئی جو ڈیٹا انٹری کروا لے ہے کوئی جو پروف ریڈنگ کروا لے ، ہے کوئی جو آرٹیکل رائٹنگ ہی کروا لے، ہے کوئی جو۔۔۔۔۔۔۔۔ کام دے دے۔
ابا جی کہا کرتے ہیں "گھنڈ چُک لیا تے نچن توں ڈرنا کی"۔ تو کام کرنا تو شرم کیا۔ ہاں ہم مزدور ہیں اس میں کونسا کوئی شک ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، اور معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ صاحبو انٹرنیٹ پر میرے جیسے لاکھوں ہیں۔ انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ لاکھوں لوگ جو ایک وقت میں آنلائن ہوتے ہیں اور معمولی سے معمولی معاوضے پر بھی جھپٹ پڑتے ہیں۔ صاحب ہم یہ کام کرسکتے ہیں، صاحب کم سے کم ریٹ دیں گے، صاحب ہمارے پاس پوری ٹیم ہے، 24 گھنٹے کی سروس صاحب، بہترین کوالٹی صاحب۔ اور صاحب کی مرضی کہ وہ کس کو چنتا ہے۔ صاحب کیپچا کی تصاویر کی ڈیٹا انٹری کے لیے پونا ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل لکھنے کا ایک ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل ری رائٹ( ارے جناب اسی کو اپنے الفاظ میں لکھنے) کے ایک سے ڈیڑھ ڈالر دیتا ہے، صاحب ٹرانسکرپشن کرانے کے کم سے کم پیسے دیتا ہے۔ صاحب گورا ہے، صاحب امریکی ہے، صاحب یورپی ہے، صاحب کی ویب سائٹ ہے، صاحب چھان بورے سے آٹا بنوا کر پھر روٹیاں لگواتا ہے اور اپنی دوکان پر سجا لیتا ہے، صاحب اپنی سائٹ کی تشہیر کے لیے ای میل ایڈریس پر سپیم بھیجنے کے پیسے دیتا ہے، صاحب فیس بک اور ٹویٹر پر فین اور فالورز مانگتا ہے، صاحب سب کچھ کروا سکتا ہے، صاحب کے پاس پیسا ہے، وہ فحش کہانیاں بھی لکھوا سکتا ہے، فحش ویڈیوز بھی بنوا سکتا ہے اور ان میں اداکاری بھی کرواسکتا ہے۔ فری لانسر مزدور ہے، کرتا ہے، ہر کام کرتا ہے، پیسے کے لیے کرتا ہے۔ ای میل ایڈریس بیچتا ہے، کیپچا کی ہزار تصویریں دیکھ کر ٹائپ کرکے پونا ڈالر لیتا ہے، آرٹیکل ری رائٹ کرکے ایک ڈالر لیتا ہے، فورمز اور بلاگز پر سپیم پوسٹنگ کرکے پیسے لیتا ہے، سپیم میلز بھیجتا ہے، مزدور ہے نا، بھوکا ننگا ہے اور ڈالر آتے ہیں، کم آتے ہیں تو کیا ہوا آتے تو ہیں، یہاں تو وہ بھی نہیں ملتے، تو مزدور سب کچھ کرتا ہے، سب کچھ بیچتا ہے، عزت بھی بیچنی پڑے تو بیچتا ہے، کیا ہے انٹرنیٹ پر کسی کو کیا پتا چلے گا اگر کسی فحش فلم کے لیے اپنی آواز دے بھی دی تو؟
صاحبو بھوک بڑی ظالم ہے۔ رب بھی بھلا دیتی ہے، جو پالنہار ہے۔ بھلا دیتی ہے سائیں سب کچھ بھلا دیتی ہے، بڑی ظالم ہے یہ بھوک ۔ جب آنکھوں میں ڈالروں کے سپنے اتر آئیں تو پھر حلال حرام کس کو دکھتا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ بس کھانے کو مل جائے، ارے کھانے کو تو ملے، جہاں بھوک برستی ہو وہاں کون دیکھتا ہے کہ آرٹیکل کو ری رائٹ کرکے وہ کسی کی امانت چوری کررہا ہے، وہاں کون دیکھتا ہے کہ "آنلائن جابز: ایڈسینس، ڈیٹا اینٹری، فارم فلنگ جابز" تو یہ دیکھے سوچے بغیر کہ حلال ہے کہ حرام بس چھ ہزار، دس ہزار کی انٹری فیس جمع کرا کے دھڑا دھڑ ڈالر بنانے میں لگ جاتا ہے۔ جیوے ڈالر، اعداد و شمار کا کھیل، جب تک ڈالر سائیں ہے تب تک موج ہے، ڈالر سائیں نہ ہوگا تو دیکھا جائے گا۔ سائیں یہ سب کچھ اعداد کا ہی تو کھیل ہے۔ اتنے کلک ہوگئے تو اتنے عدد ملیں گے۔ اب وہ کلک کسی نے کیسے بھی کیے ہوں، چار دوست مل کر اپنی ہی ویب سائٹ پر روزانہ ایک ایک کلک کرلیا کریں تو کون دیکھتا ہے جی، پر رب تو دیکھتا ہے نا۔ پر کون دیکھے اس دیکھنے کو، یہاں تو پوری پوری کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کام کے لیے، آنلائن جاب کرو جی، ڈالر کماؤ جی، دس ہزار سے تیس ہزار کماؤ جی۔ لوگ کماتے ہیں جی۔ ابھی پچھلے ماہ میرا دوست میرے پاس آیا شاکر پاء جی گھر میں آٹا لانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انجینئیر ہے وہ، ٹیکسٹائل انجینئیر۔ ابا جی کو گولڈن ہینڈ شیک ملا تھا نیشنل بینک سے تو انھوں نے ملنے والی رقم اس کی تعلیم پر لگا دی اب اسے نوکری بھی نہیں ملتی۔ کہنے لگا پاء جی اس میں حقیقت ہے کہ نہیں؟ میں بہن کا زیور رکھوا کر اس کی فیس دوں گا اور یہ کام کرنا ہے۔ میں نے کہا بھائی مجھ سے پیسے لے لو، زیور نہ رکھواؤ وہ مکر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اسے چھ ہزار دیا اور اس نے چھ ماہ کی ممبر شپ لی۔ پتا نہیں اب کام کررہا ہے کہ نہیں۔ مجھے کوئی امید نہیں میری رقم واپس ہوجائے گی، پر بھوک بڑی ظالم ہے سائیں۔ اور زندگی بڑی اوکھی ہے۔ اس کا احساس آج بڑی شدت سے ہورہا ہے۔
ابا جی رکشہ چلاتے ہیں، چنگ چی رکشہ جسے لوڈر رکشہ کہتے ہیں۔ آٹھ بازاروں میں ایک جوتوں کی مارکیٹ میں ہوتے ہیں، سیزن ہو، جیسے آج کل سکول کھل رہے ہیں پھر سے، تو اچھا کام مل جاتا ہے لوڈنگ کا۔ سیزن نہ ہو، جیسے اگلے ایک آدھ ماہ میں ہوجائے گا، تو سارا سارا دن وہاں کھڑے رہنا پڑتا ہے کوئی کام نہیں ملتا۔ پھر وہ گھر آکر فرسٹریشن نکالتے ہیں، آج سارا دن کوئی کام نہیں ملا، پریشانی، کیا بنے گا ہمارا۔ تو ہم انھیں تسلی دیتے ہیں کہ ایسے بھی ہوتا ہے، انسانوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہوجائے گا ٹھیک۔ آج یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میری جوتوں کی مارکیٹ انٹرنیٹ ہے جہاں میں اپنی ہتھ ریڑھی لیے بیٹھا رہتا ہوں، آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہوں، شاید کوئی کام مل جائے، شاید کوئی پرانا گاہک ہی بلا لے، شاید کہیں سے پھنسی ہوئی رقم آجائے، شاید۔۔۔۔۔۔۔ زندگی شاید پر چلتی ہے، فری لانسنگ ویب سائٹس کو کھنگالتے ہوئے، نئے نئے کام تلاشتے ہوئے، شاید یہ بھی میں کرسکوں، ہاں ٹرانسکرپشن کرسکوں گا، چلو ٹرائی کرتے ہیں، ری رائٹنگ مشکل تو نہیں چلو ٹرائی کرتے ہیں، کیوں نا کیپچا ڈیٹا اینٹری کا ہی کرلیا جائے پونا ڈالر تو مل ہی جاتا ہے ایک گھنٹے کا، اور اگر کبھی ترجمے کی کوئی جاب نکل آئے تو وہاں اپنا ریزیومے بھیجنا، جہاں سے اکثر جواب ہی نہیں آتا۔
زندگی بڑی مشکل لگتی ہے، ایک ایسے فیز میں جب آپ زیر تعمیر ہوں۔ میرے جیسا جو جاب بھی چاہتا ہے اور جس کے پاس کوئی قابل ذکر ہنر بھی نہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ؟ نہیں جی۔، ویب ڈویلپمنٹ؟ نہیں جی ورڈ پریس تھوڑا سا جانتا ہوں جی لیکن ویب ڈویلپمنٹ نہیں جی، پروگرامنگ؟ سی شارپ تھوڑی سی آتی ہے جی پر کبھی پروفیشنل ٹیسٹ یا کام نہیں کیا جی بس ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتا ہوں جی کارپس لنگوئسٹکس کے لیے سوری جی،۔ تو پھر پیچھے یہی رہ جاتا ہے کہ ترجمہ کرلیا جائے، تو ترجمہ کرتا ہوں لیکن یہ کام کم کم ملتا ہے بہت سارے لوگ ہیں اس میں بلکہ بڑے پروفیشنل لوگ ہیں، میرے جیسے کئی دھکے کھاتے پھرتے ہیں "پروفیشنل ٹرانسلیٹر" کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں، ترجمہ نہ ملے تو پھر کیا کریں؟ لسانیات کے حوالے سے کبھی کوئی جاب نکل آتی ہے اردو یا پنجابی کا کورس ڈویلپ کرنا یا ایسا کوئی کام۔۔۔ایک آدھ ملا بھی لیکن کبھی چھوٹ بھی جاتا ہے۔ پنجابی کی بات کرو تو گورمکھی کی بات ہوتی ہے، سکھوں والی پنجابی، اردو کی بات ہی کم ہوتی ہے ہندی کی بات ہوتی ہے زیادہ یعنی پھر ادھورا پن۔ لے دے کر پھر رائٹنگ، ری رائٹنگ، ڈیٹا انٹری، کیپچا ڈیٹا اینٹری، ورچوئل اسسٹنٹ، یہ رہ جاتی ہیں لیکن ان کے لیے درکار وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے جیسا پارٹ ٹائمر نہیں کرسکتا۔ سو چپ رہ جاتا ہے لیکن منصوبے بنانے سے نہیں ٹلتا چل یار اپنا بلاگ شروع کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھا کریں گے، گوگل ایڈسینس لگائیں گے اور کمائیں گے، لیکن دل نہیں مانتا، یا لکھا نہیں جاتا، انگریزی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں، پر لکھا نہیں جاتا۔ نہ ادھر ہوا جاتا ہے نہ ادھر۔ اسی دُبدھا میں زندگی گزرتی جاتی ہے۔ عجیب زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 19 جنوری، 2008

الحمد اللہ کہ ورڈپریس کا اردو ورژن اب دستیاب ہے

ورڈپریس کا اردو ورژن ہم نے اردو محفل پر جاری کردیا ہے۔ اس دھاگے پر تشریف لے جائیں اور ورڈپریس کو اردو کرکے ہمیں ثواب دارین حاصل کرنے کا موقع دیں۔