قانونی ماہرین کے مطابق متحدہ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے کیس ختم کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی سنگین بے قاعدگیاں کی گئی ہیں
کراچی ۔۔۔ متحدہ قومی مو ومنٹ نے این آر او کے ذریعے اپنے قائد الطاف حسین اور مرکزی رہنماؤں سمیت کارکنوں کے 3ہزار5سو70 مقدمات ختم کروائے ہیں جن میں بیشتر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔ختم کرائے گئے مقدمات میں قتل، اقدام قتل، چوری ڈکیتی، پولیس مقابلہ، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات شامل ہیں۔مرکزی رہنماؤں سمیت متحدہ قومی مو ومنٹ کا کوئی بھی کارکن این آر او کے تحت مقدمات ختم کرانے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے روبرو پیش ہی نہیں ہوا لیکن ا سکے باوجود حکومتی اثر و رسوخ استعمال کر کے مقدمات ختم کرالئے گئے ۔ذرائع کے مطابق مشرف دور میں این آر او جاری ہونے کے بعد حکومت سندھ نے ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس نے این آر او کے مقدمات کا جائزہ لیکر ان پر سفارشات وزیر اعلیٰ کو بھیجنا تھیں جو این آر او کے تحت مقدمات ختم کرنے کی ا تھارٹی تھی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کمیٹی نے متحدہ قومی مو ومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف زیر سماعت 4 ہزار سے زائد مختلف مقدمات پیش کئے تھے ۔کمیٹی نے مختصر سے وقت میں کسی بھی قسم کی تفتیش اور مناسب جائزہ لئے بغیر متحدہ قومی مو ومنٹ کے خلاف 90 فیصد سے زائد مقدمات یک جنبش قلم ختم کرنے کی سفارشات وزیر اعلیٰ کو بھیج دیں جو اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے منظور کر لی بعدازاں حکومت سندھ نے ان مقدمات کے خاتمے کیلئے متعلقہ عدالتوں میں درخواستیں جمع کراکے مقدمات باقاعدہ ختم کرادئے تھے ۔سندھ کی سطح پر بننے والی این آر او کمیٹی میں اس وقت کے ایڈو وکیٹ جنرل خواجہ نوید احمد اور سندھ کے سیکریٹری قانون سید غلام نبی شاہ بھی ممبران کے طور پر شامل تھے ۔ختم کرائے جانے والے مقدمات میں متحدہ قومی مو ومنٹ کے مرکزی رہنماؤں الطاف حسین، فاروق ستار، وسیم اختر اور دیگر کارکنان و رہنماؤںکے مقدمات شامل تھے ۔متعدد قانونی ماہرین نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ قانونی لحاظ سے مقدمات دو نوعیت کے ہوتے ہیں ایک قابل رضامندی (compoundable) اور دوسرے ناقابل رضامندی (non-compoundable) قتل ، اقدام قتل قابل رضامندی مقدمات تو ضرور ہیںلیکن ان مقدمات کے خاتمے کیلئے متاثرہ فریق کی رضامندی ضروری ہے ۔قتل کے مقدمے کو مقتول کے ورثاء کے سوائے حکومت یا ریاست کسی طور پر معاف نہیں کرسکتی ہے جبکہ چوری، ڈکیتی ، اغواء، دہشت گردی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے مقدمات بھی ناقابل رضامندی مقدمات کے زمرے میں آتے ہیں جنہیں معاف کرنے کا حق مقدمے کے متاثرہ فریق سے لیکر کسی کو بھی نہیںہوتا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق متحدہ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے کیس ختم کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی سنگین بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔
متحدہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
متحدہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعرات، 12 نومبر، 2009
ہو چُوپو
لو جی الطاف پائین و ہمنواؤں نے این آر او کھا کے ڈکار بھی نہیں لی۔ ملاحظہ کیجیے۔
بدھ، 9 اپریل، 2008
منظرنامہ
ارباب غلام رحیم اور شیر افگن کی ٹھکائی کے ساتھ ہی نئی حکومت اور حزب اختلاف کے مابین رسا کشی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے جو افہام و تفہیم کی باتیں کی جارہی تھیں سب ہوا بن کر اڑ گئی ہیں۔
کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی "نامعلوم" کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔
کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔
ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔
اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں "حقیقی" جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔
کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی "نامعلوم" کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔
کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔
ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔
اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں "حقیقی" جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)