مشرف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مشرف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 5 اپریل، 2013

خلافت چاہیئے جی

عوام سیاستدانوں سے اکتائی ہوئی ہے، الیکشن سر پر ہیں۔ مشرف کے آخری دن تھے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے امیدیں تھیں، اب شرعی نظام اور خلافت سے امیدیں لگ گئی ہیں۔ خلافت کی ڈفلی بجانے والوں نے اپنی پوتھیاں پُستکیں جھاڑ پونچھ کر رکھ لی ہیں، اپنے تھیلے خالی کر کے سامان پھر سے سامنے سجا لیا ہے۔ دھڑا دھڑ اقتباسات دئیے جا رہے ہیں، دلائل اٹھائے جا رہے ہیں ، اور اسلام کا بول بالا کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اور ایسے میں کوئی میرے جیسا نیچ ذات بول پڑے تو وہ غیر مہذب، گدھا اور جانبدار کہلاتا ہے۔ خیر یہ تحریر اپنے آپ کو ان القابات سے بری الذمہ کرنے کے لیے نہیں  لکھی جا رہی، بلکہ مقصد یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران ایویں مفت میں ہی دو تین بار خلافت نام کی بحث میں گھسیٹا گیا۔ جس کا نتیجہ اکثر یہ نکلا کہ عوام میری منہ پھٹ طبیعت سے بے زار ہو گئی اور مجھے القاباتِ عالیہ سے بھی نوازا گیا۔ ابھی کل برادرم میم بلال نے فیس بک پر ایک سوال کر دیا ، موضوع یہی خلافت تھی اور میں نے حسبِ معمول خاصا چپیڑ جیسا جواب ٹھونک دیا۔ بعد میں بیس پچیس تبصروں تک اس پر بڑی لے دے ہوئی، رات کو دیکھا تو مجھے لگا کہ اب ذر ا مناسب لمبائی والی پوسٹ میں اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے۔ چنانچہ تحریر لکھی جا رہی ہے۔

عوام خلافت مانگتی ہے۔ شاکر عوام کے ساتھ ہے، لیکن خلیفہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہو تو شاکر بیعت کرنے والوں میں سب سے پہلا، ورنہ شاکر کے ہاتھ کھڑے ہیں۔ چلو کوئی حسن ابنِ علی جیسا لے آؤ، حسین ابنِ علی، عبد اللہ ابنِ زبیر، معاویہ ابنِ ابو سفیان، عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ علیم اجمعین تک بھی بات چلے گی۔ اس کے بعد؟ اس کے بعد معذرت کے ساتھ شاکر کے دونوں ہاتھ کھڑے ہیں۔ شاکر کے لیے خلافتِ راشدہ کے بعد کوئی خلافت نہیں۔ جس کو یہ عوام خلافت کہتی ہے وہ شاکر کے لیے ملوکیت ہے، خلافت کے نام پر بادشاہت۔ جس میں باپ کے بعد بیٹا، چچا، پھوپھا ، تایا، یا جس کا بس چلا وہ "خلیفہ" بن بیٹھا۔ چاہے وہ یزید ابن معاویہ جیسا گدھا ہی ہو۔ اور جب کوئی گدھا خلیفہ بن بیٹھے تو مذہبی ٹھیکے دار کیا کہتے ہیں؟ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ اور اگر وہ گدھا ساری عمر کے لیے اقتدار پر براجمان رہے، جو خلافت/ بادشاہت/ ملوکیت کی اساس ہے تو شاکر جیسے نیچ ذات ساری عمر اس گدھے کو برداشت کریں؟ شاکر کے ہا تھ کھڑے ہیں جی، خلافت کی ڈفلی یہاں بے سُری ہو جاتی ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ کے کوئی تیرہ سو سال ان پر یہی خلافت /ملوکیت / بادشاہت مسلط رہی۔ کبھی بنو امیہ ، کبھی بنو عباس، کبھی عثمانی ، کبھی فاطمی ، کبھی عبد الرحمن الداخل کی اندلسی بنو امیہ کی شاخ۔ اس میں مسلمانوں نے بڑی ترقی کی، بڑی بڑی حکومتیں اس خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت سے تھرتھراتی تھیں۔ مسلمانوں کا بڑ اسنہرا دور اسی عرصے میں رہا۔ بڑے بڑے علاقے فتح ہوئے۔ یعنی خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت کو بھی تسلیم کیا جائے، جیسی بھی ٹوٹی پھوٹی تھی، آخر تھی تو خلافت جی۔ خلفائے راشدین کی نشانی، پر شاکر چونکہ نیچ ذات ہے اس لیے نہیں مانتا۔ وجہ بڑی سادہ سی ہے۔ یہ خلفائے راشدین کی نشانی نہیں اپنے باپ داداؤں کی نشانی تھی۔ یہ قیصر و کسری کی نشانی تھی۔ یہ اسلام سے پہلے کے اس سیاسی نظام کا تسلسل تھی جس میں سکندر اعظم سے لے کر ایران ور روم اور یورپ کی بادشاہتیں  آتی ہیں۔ بس نام بدلا تھا، نام بدلے تھے۔ نام خلافت ہو گیا، نام مسلمانوں والے ہو گئے۔ اور اعمال؟ اعمال وہی تھے جو قیصر و کسری کے تھے، جو اونچے کنگروں والے محلات بنانے والوں کے تھے، جو عیاشیاں کرنے والوں کے تھے، جو اپنی حکومت وسیع کرنے والوں کے تھے۔ بس نام اسلام کا لگ گیا، اور کام جس نے کیا وہ مسلمان اور پھر خلیفہ کہلایا، باقی کچھ نہ بدلا۔

زمانہ بدلا، زمانے کے تقاضے بدلے، اندازِ حکومت بدلے اور بادشاہتیں پکے ہوئے پھلوں کی طرح ٹپا ٹپ گرتی چلی گئیں ۔ جو رہ گئیں وہ آئینی بادشاہتیں رہ گئیں۔ اور وہی بات خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت پر بھی صادق آئی۔ زمانہ بدلا، تقاضے بدلے اور عوام نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، عثمانیوں کا پتہ کٹ گیا۔ یہی کوئی 1920 کے آس پاس کے دن ہیں، جب یہ واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اور یہیں سے برصغیر کے مسلمانوں کا خلافت بخار شروع ہوتا ہے۔ تحریکِ خلافت بڑے زور و شور سے چلائی جاتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب ترکی کے عوام ہی نہیں چاہتے کہ خلافت ہو تو آپ میں بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ؟ اور یہی کچھ ہوا بھی، تحریکِ خلافت کے غبارے سے پھونک نکل گئی۔ طبیعتیں پھُل گلاب ہو گئیں، عین روح تک سرشار ہو گئیں۔ وہ دن جائے اور آج کا دن آئے، خلافت ایک پرکشش نعرہ بن گیا۔ وہ خلافت تو نہ رہی لیکن ایک تحریک کی ڈفلی ہاتھ آ گئی، خلافت قائم کرنی ہے۔ خلافت قائم ہو گئی تو مسلمان پھر سے دنیا کے حاکم بن جائیں گے، جوتیوں سے اُٹھ کر ممبر پر جا بیٹھیں گے۔ خلافت ہو گئی تو اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ خلافت ۔۔۔۔۔خلافت ہر چیز کا حل، خلافت اسلام کا نظامِ حکومت۔

چلیں جی ماننا پڑتا ہے اب تو عوام اور نوجوان نسل بھی شرعی نظام کے حق میں ہے۔ اور یہی وقت ہے کہ لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگائی جائے،خلافت /ملوکیت / بادشاہت کے لیے کام کیا جائے۔ بس ایک سوال، یہ بھوکی ننگی عوام اسلام کی محبت میں ایسا کر رہی ہے یا روٹی کو ترسنے کے بعد؟ ترکی میں کوئی خلافت کا نعرہ کیوں نہیں لگاتا، وہاں تو خلافت نہیں بلکہ جب خلافت تھی اس سے بہتر صورتحال ہے اب۔ یہ پاکستان میں ہی خلافت کیوں؟ یہ ان جگہوں پر ہی خلافت کیوں جہاں حقوق غصب ہوتے ہیں، جہاں بھوک ننگا ناچ ناچتی ہے، جہاں  جنگل کا قانون ہے صرف وہیں خلافت کا نعرہ کیوں لگتا ہے؟  اگر آج اس ملک میں گڈ گورنس ہو جائے تو خلافتیوں کو ایندھن کہاں سے ملے؟ پاکستان سے تو نہ ملے کم از کم۔

تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ نظامِ حکومت میں ہے۔ بات پھر وہیں آ گئی۔ اور خلافت /ملوکیت / بادشاہت بہترین نظامِ حکومت ہے، ہیں جی۔ لیکن نہیں بہترین نہیں۔ جس کو ساری عمر کے لیے اقتدار میں لے آؤ گے وہ سر پر چڑھ کر ڈھول بجائے گا۔ اس لیے خلافت/ملوکیت/ بادشاہت نامنظور۔ حل؟ حل سادہ سا ہے اقتدار کی مدت مقرر کرو، ووٹ ڈلواؤ، ساتھ جو مرضی اسلامی ڈال لو۔ تھرمامیٹر لگا کر تقویٰ چیک کرو،  متھا اور گِٹے دیکھ کر متقی پرہیز گار لوگوں کی مجلس شوری بناؤ، لیکن وہ منتخب ہو، عوام کو حق دو، عوام کو حق ہے کہ وہ فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ جیسے نبی ﷺ کے جانشینوں نے مثال قائم کی، ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا۔ لیکن خلافت/ ملوکیت /بادشاہت؟ نا سائیں وہ دن لد گئے، جب سیاں جی کوتوال تھے۔ اب تو اور مسائل ہیں۔ اور بادشاہت آج کے مسئلوں کا حل کہیں سے بھی نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس نیم خلافت سے شاکر کو اتنی تکلیف کیوں؟ لیکن جوابی سوال یہ ہے کہ جمہوریت یا جو بھی آج کے نظامِ حکومت کو نام دیا جائے اس سے اتنی تکلیف کیوں ہے؟ جواب یہ کہ اس جمہوریت کے خمیازے آج بھگت رہے ہیں۔ سوال یہ کہ اگر جاگیر دار، وڈیرے، سرمایہ داروں کو ہی اقتدار سے باہر کرنا ہے تو یہ مسلمانوں کی تاریخ میں کب اقتدار میں نہ تھے۔ برصغیر کی تو تاریخ ہی جاگیر داروں اور بادشاہوں کے گرد گھومتی ہے، بادشاہ جاگیر دار کو نوازتا تھا اور جاگیر دار اپنے مزارعوں کو۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں عہد نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ کے علاوہ کونسا دور ہے جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نہیں نافذ رہا؟ تو آج اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے تو اتنی تکلیف کیوں؟ تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت اسلام کا ملمع چڑھا ہوا تھا، تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت کھانے کو مل ہی جاتا تھا بھوگ کا ننگا ناچ نہیں ہوتا تھا جو آج ہوتا ہے۔ تو حل یہ ہے کہ دماغ کو وسیع کرو محمد الرسو ل اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین خلافت و امامت سے اوپر کی چیز ہے۔ اگر خلافت اراکین اسلام میں سے ہوتی تو قرآن طلاق اور وراثت کے قوانین کی طرح خلافت کے قوانین بھی بتاتا۔ آخری نبی ﷺ صرف ایک عبوری فیصلہ کر کے، کہ خلیفہ قریش میں سے ہوگا ، اس دنیا سے پردہ نہ فرماتے۔ کیا محمد الرسول اللہ ﷺ اور محمد الرسول اللہ ﷺ کے خدا کو نہیں معلوم تھا کہ "خلیفہ قریش میں سے ہوگا" کا حکم تا قیامت نہیں چل سکے گا؟ اسلام میں کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں والے اصول کا رد نہ ہو جاتا یہ؟ اس لیے خلافت فرض نہیں کی گئی، خلافت کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ رسول ﷺ کے جانشینوں نے اپنے وقت میں بہترین طریقے سے نظامِ حکومت چلایا۔ اس بیک ورڈ قبائلی معاشرے میں اسلام پر عمل اور عوام کی فیصلہ سازی میں شمولیت کی ایسی درخشندہ مثال قائم کی کہ زمانہ انگشتِ بدنداں رہ گیا۔ لیکن اس کے بعد؟ اس کے بعد جب نیتیں صاف نہ رہیں تو وہی اندھیرا پھر سے لوٹ آیا ، کہیں کہیں ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اور پھر ایک لمبا اندھیرا۔ اور آخر بیسویں صدی آ پہنچی، تقاضے بدلے، زمانہ بدلا تو نظام بھی بدل گئے۔ بدلنا تو مقدر ہے، انسان ہوں، زمانہ ہو یا نظام۔ لیکن اسلام اگر زمانے کا پابند رہ گیا تو  تاقیامت دینِ انسانیت تو نہ ہوا۔ اس لیے شاکر کی سوچ بڑی سادہ سی ہے۔ اسلام کے اصول بڑے سادہ ہیں، کسی بھی نظامِ حکومت پر اطلاق کر دو اسلامی نظام ہو جائے گا۔ اور بھوک کا ننگا ناچ رکوانا ہے تو عوام کو تعلیم دو کہ ان کا حق ہے پوچھنا، سوال کرنا، انہیں بتاؤ کہ سوال کریں۔ جو سوال کے جواب میں آئیں بائیں شائیں کرتا ہے اسے رد کریں۔ آج کے نظام میں بہتری لاؤ۔ یہی نظام ترکی میں ہے، برطانیہ میں ہے، ملائیشیا میں ہے وہاں کیا تکلیف ہے کہ یہاں سے ہزار درجے بہتر صورتحال ہے؟ وہی کچھ یہاں کیوں نہیں ہو سکتا، اس کے حل کے لیے لیے برانڈ نیم کا چُوسا ہی کیوں؟

لیکن کیا کریں جی، برانڈ نیم سب کو اچھا لگتا ہے۔ خلافت /ملوکیت / بادشاہت حکومتی نظاموں میں ایک اسلامی برانڈ نیم ہے، اور پچھلے سو سال سے اس برانڈ نیم کی سیاست پر بہت سوں کی واہ واہ ہے، عزت ہے اور روزی روٹی لگی ہوئی ہے۔ عوام بھی سمجھتی ہے کہ بہتر ہے چیز "اسلامی" ہی ہو، چاہے اس پر اسلام کا ملمع ہی چڑھایا ہوا ہو، لیکن چیز اسلامی ہو۔ اس لیے عوام جمہوریت کو "کافرانہ" کہتی ہے، "خلافت" کو اسلامی سمجھتی ہے۔ بھولی عوام ہے، مذہبی ٹھیکے داروں نے چُوسا دیا ہوا ہے، اور عوام چُوس رہی ہے۔ کوئی سوال کر لے تو، خیر اس کا حال پھر شاکر جیسا ہوتا ہے۔ جس کے سوالنے کو گدھے کا رینکنا سمجھا جاتا ہے۔

خیر ایسے گدھے، نیچ ذات، ایمان کے آخری درجے پر کھڑے منش ہر دور میں ہوئے ہیں۔ ایک شاکر بھی ہو گیا تو کوئی گل نہیں۔ تحریر کسی کے متفق ہونے کے لیے نہیں لکھی، تحریر کوئی صفائی پیش کرنے کے لیے بھی نہیں لکھی ، تحریر صرف موقف بیان کرنے کے لیے لکھی ہے۔ اور غلط فہمی دور کرنے کے لیے کہ جو شاکر کو انٹلکچوئل سمجھتے تھے۔ غیر جانبدار سمجھتے تھے، سمجھدار سمجھتے تھے اپنی اپنی سمجھ پر نظرِ ثانی کر لیں۔ یہاں کوئی غیر جانبداری نہیں، یہاں سب کا ایجنڈا ہے، یہاں سب کے "سچ" ہیں، اپنے اپنے سچ۔ خلافتیوں کا اپنا سچ ہے، اور شاکر جیسے نیچ ذاتوں کا اپنا سچ۔ اور اپنے اپنے سچ میں گم ہیں۔ اس دن تک جس دن سارے جھوٹے سچ پرزے پرزے ہو جائیں اور سچے سائیں کا سچا سچ آنکھیں چندھیا دے۔

رہے نام اللہ کا۔

ہفتہ، 2 اپریل، 2011

اٹھارہویں ترمیم، کنکرنٹ لسٹ اور تعلیم

پچھلے کچھ دنوں سے مزید وزارتیں صوبوں کو منتقل کرنے کی باتیں ہورہی ہے۔ میں عمومًا حکومت کے کُت خانے میں نہیں پڑتا لیکن تعلیم چونکہ میرا پیشہ بھی ہے، اور طالب علم بھی ہوں اس لیے مجھے تعلیم کی وزارت کی صوبوں کو منتقلی سمجھ میں نہیں آرہی۔ ایک طرف ہمارے "وڈے" نظریہ پاکستان وغیرہم نظریات کے مامے بنتے ہیں اور دوسری طرف صوبوں کو وزارت تعلیم اور نصاب سازی کا اختیار دیا جارہا ہے۔ یعنی ہر صوبہ اپنی مرضی کا نصاب بنانے میں آزاد ہوگا۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے نظریہ پاکستان کا بُخار لاہور کے دائیں بازو والوں کو ہی سب سے زیادہ ہے مُلک میں، بلوچستان کی طرف نکل جائیں تو وہاں نظریہ پاکستان کا ن بھی گھس گھس کر ختم ہوجاتا ہے۔ نصاب میں آئندہ پانچ سات برس میں آنے والی یہ مشرق و مغرب کی تفاوت، کسی مرکزی باڈی کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں مزید تقسیم در تقسیم ڈانواں ڈول ہوتے اس مُلک کے مفاد میں ہے بھلا؟
چلیں وزارت تعلیم کو چھوڑیں، میاں رضا ربانی صاحب کو ہائیر ایچوکیشن کمیشن سے اللہ واسطے کا بیر لگ رہا ہے۔ موصوف اس کے حصے بخرے کرکے بھی صوبوں کو دینا چاہ رہے ہیں۔ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ غصہ نکالا جارہا ہے جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال میں دیانت داری برتنے کا۔ موصوف بن بیٹھے تو منصف ہیں لیکن اس سارے قضیے کا حال بندر اور روٹی والا ہونا ہے کہ آخر میں ہاتھ کچھ بھی نہیں آنا اور عوام نے ذلیل و خوار ہوجانا ہے۔ ایچ ای سی اس وقت ملک میں اعلی تعلیم کو کنٹرول کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔ اس کے تحت سکالر شپس، ڈگریوں کی تصدیق،، یونیورسٹیوں کی ریٹنگ وغیرہ کے معاملات چلتے ہیں۔ اور ہمارے وژن لیس سیاہ ستدان اسے صوبوں کو منتقل کررہے ہیں، وہ بھی حصے بخرے کرکے۔ اس کے کچھ اختیارات مختلف وفاقی وزارتوں کو دے دئیے جائیں گے اور باقی صوبوں کے حوالے کردئیے جائیں گے۔ اور امیدوار جگہ جگہ دھکے کھاتے پھریں گے۔ عجیب ذلالت ہے ویسے، مشرف جیسا بھی تھا اُس نے اعلی تعلیم کو فری ہینڈ دئیے رکھا۔ ان لوگوں نے آکر ایچ ای سی کو پہلے دیوار سے لگانا شروع کیا اب ختم کرنے پر تُل گئے ہیں۔
ایچ ای سی کے سلسلے میں پچھلے دو تین دن سے خبریں پڑھ رہا ہوں۔ آپ بھی ملاحظہ کریں۔

بدھ، 18 نومبر، 2009

کیا ہے؟

کیا ہے ہمیں جو چین لینے نہیں دیتا؟
بابا مشرف تھا تو سارے اس کی ماں بہن ایک کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اب وہ گیا ہے تو ہمارے وڈے بابے بڑا پکا سا منہ بنا کے کہتے ہیں
او نئیں جی مشرف تے بڑا چنگا سی اے جاگیرداراں ماں دیاں خصماں نے اوہدی مت مار چھڈی۔ آخری سالاں وچ اوہدے خلاف بڑیاں سازشاں ہوئیاں۔
اور میں چپ کرجاتا ہوں کہ بڑی اچھی یادداشت ہے ہماری۔ ہمیں اس کا چک شہزاد میں کروڑوں کی مالیت کا وہ فارم ہاؤس بھی دکھائی نہیں دیتا۔
اب زرداری بیٹھا ہے تو اب بھی پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ زرداری جاوے ای جاوے
زرداری ہائے ہائے۔
اچھا زرداری چلا گیا تے فیر کون آسیں؟
کوئی ہور ماں دا خصم؟ سادہ پنجابی میں یہی کہیں گے نا ہم۔ کہ جیسی قوم ہو ویسے ہی حاکم ملتے ہیں۔ تو آپ میں سب جانتے ہیں کہ ہم کتنی غیرت والی قوم ہیں۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟ کیا حاکم بدلنا ہماری ہابی تو نہیں جیسے رنڈی ہر رات خصم بدلتی ہے؟

اتوار، 12 اکتوبر، 2008

ایچ ای سی یتیم ہوگیا

مشرف کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف ہو لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خودمختاری دے کر اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کو اس کا چئیر مین بنا کر اس نے اچھا کام کیا تھا۔ آٹھ سال تک اس ادارے کے بجٹ میں کٹوتی نہیں ہوئی، ہونے لگی تو مشرف نے دوسرے ذرائع سے پوری کروائی۔ لیکن اب ڈاکٹر صاحب مستعفی ہوگئے ہیں اور کوئی لغاری صاحب اس کے چئرمین بن گئے ہیں۔ اب اس ادارے کا مستقبل بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسا ہی ہوگا۔ بجٹ میں کٹوتیاں پہلے ہی جاری ہیں جو مزید بھی جاری رہیں گی۔

اس پر کئی اعتراضات بھی تھے کہ اعلی تعلیم پر توجہ دے کر بنیادی تعلیم کو نظر انداز کردیا گیا۔ فنڈز گویا لٹائے گئے۔ لیکن یہ اپنی طرز کی ایک منفرد کوشش تھی جس میں لوگوں کو ڈاکٹریٹ اور ایم فل کے لیے زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سکیم کے تحت ہزاروں لوگ زیر تعلیم ہیں۔

اب دیکھیے اعلی تعلیم کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔

پیر، 18 اگست، 2008

بابا مشرف (مرحوم)

لو جی بابا مشرف مواخذے کے ڈر سے مستعفی ہو ہی گیا۔ بقول اس کے پارلیمنٹ کو چلتا بھی کیا جاسکتا تھا اور سپریم کورٹ کو پھڈے میں ملوث بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس نے احسان عظیم کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کو رکھ کر استعفے کا فیصلہ کیا۔


آہ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!


تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔ اب یاد آیا کرے گی اچھا بندہ تھا کم لوٹا اب والے زیادہ تجربہ کار لٹیرے ہیں۔


اس استعفے پر پی پی پی کو تو صدر کا عہدہ مل گیا۔ ہمیں کیا ملے گا۔ آٹا، بجلی،  گیس اور ضروریات زندگی سستی ہوجائیں گی؟ یہ سب اس حکومت پر منحصر ہے جس کے گوڈوں میں پانی نظر نہیں آتا۔


اب دیکھ لیتے ہیں کہ جج بحال ہوتے ہیں ان سے یا نہیں۔ یا پھر وہی مشاورت مشاورت کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں یہ لوگ۔


گڈ بائی بابا مشرف جی۔ اب اگر عدالتی ٹرائل ہوجائے تو موج ہی ہوجائے پھر مزید کسی آمر کو جرات نہ ہو ایسا کرنے کی۔ پر نہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اسے چپکے سے باہر نکال دیا جائے گا اور جب فوت ہوگا تو اسے گارڈ آف آنر اور پرچم مہیا ہوگا۔

بدھ، 9 اپریل، 2008

منظرنامہ

ارباب غلام رحیم اور شیر افگن کی ٹھکائی کے ساتھ ہی نئی حکومت اور حزب اختلاف کے مابین رسا کشی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے جو افہام و تفہیم کی باتیں کی جارہی تھیں سب ہوا بن کر اڑ گئی ہیں۔

کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی "نامعلوم" کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔

کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔

ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔

اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں "حقیقی" جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔

منگل، 25 مارچ، 2008

امید

آٹھ سال پہلے، جب مجھے اتنا ہوش نہیں تھا مجھے یاد ہے دوسرے ہم وطنوں کی طرح میں نے بھی لڈیاں ڈالی تھیں۔ بس اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوازشریف کی ایسی تیسی اس نے یہ کردیا وہ کردیا۔ ایک عرصے تک میں مشرف کا فین رہا اور اسے بابا مشرف سمجھتا رہا۔ پھر فیشن بدلا اور مشرف کو برا کہنے کا دور آیا۔ میں بھی نئے فیشن کے ساتھ بدل گیا اور اب میں مشرف کو برا بھلا کہتا ہوں۔

نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔


لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔


امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔


چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔


امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔

پیر، 18 فروری، 2008

نئی حکومت خدشات توقعات

انتخابات ہوگئے ہیں۔ حسب توقع سرکاری لیگ کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ اس کا وہی حال ہوا ہے جو 2002 میں نواز لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ پچاس سیٹیں بھی لے سکیں قومی اسمبلی میں۔ اب آگے دیکھنا ہے۔ نئی حکومت بنے گی۔ لیکن یہ نئی حکومت کیسے بنے گی؟؟؟؟؟؟؟

اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان ہیں۔ جو ٹرینڈ اب تک نظر آرہا ہے اس کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں پی پی پی کو۔ غالب امکان ہے کہ بلوچستان سے بھی پی پی پی کو اچھا حصہ مل جائے گا اور سرحد سے بھی حسب توفیق اچھی نشستیں کھینچ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی پی پی اکثریت میں تو ہوگی لیکن جماعت سازی اس کے بس کا کام نہیں ہوگا۔ اس کو کم از کم نواز لیگ یا پھر ایم کیو ایم سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ یا پھر ق لیگ سے اتحاد۔۔۔

مرحومہ نے بھی اپنی زندگی میں آئیں بائیں شائیں کی اور کسی منڈیر پر ٹک کر نہیں بیٹھی۔ یہی حال اب لیڈروں کا ہے۔ زرداری نے کسی بھی جماعت کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ تک نہیں دیا۔ اگرچہ نوازلیگ کے ساتھ ان کی گاڑھی چھن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پندرہ سال تک ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین رہنے والے اتنی جلدی حکومت میں بیٹھ جائیں گے۔

نئی حکومت جو بھی بنی نواز لیگ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بہت کم ہوگی۔ جس کے نتیجیے میں ججوں کی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہورہا ہے اگر تحریک انصاف وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجاتیں تو آج ججوں کی بحالی کے لیے زیادہ امکانات ہوتے۔ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی فیصلے کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ زرداری صاحب مفاہمتی آرڈیننس کے صدقے ہی جیل سے باہر ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا؟ پچھلے کئی ادوار سے تو ہم پچھلی حکومت کی ہر نشانی پر سرخ لکیر پھرتا دیکھتے آرہے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوائی۔ مشرف کتنا ہی برا ہو لیکن اس نے اعلٰی تعلیم کو جتنا فنڈ فراہم کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔ بے تحاشا سکالرشپس دی گئیں جس کے بل پر ہزاروں طلبا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ڈھیر لگ گئے اور نئے نئے کورسز پڑھائے جانے لگے۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں جیسے تعلیم کا معیار وغیرہ۔ لیکن اس پالیسی میں پہلی بار ایک سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو اعلٰی تعلیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا۔ اعلٰی تعلیم کا بجٹ ایک بار کٹ بھی چکا ہے لیکن ایوان صدر نے اس کی کمی پوری کردی تھی۔ چونکہ اس وقت فوجی وردی موجود تھی۔ لیکن اب کیا ہوگا؟

ہمارے ہاں جو شعبہ سب سے متاثر ہوتا ہے وہ تعلیم ہے۔ نئی حکومت میں یہ لگ رہا ہے کہ اعلٰی تعلیم کا بجٹ بہت سکیڑ دیا جائے گا۔ شاید پچھلے آٹھ سالوں کی "کارکردگی" کی بنیاد پر ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کو بھی احتساب عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی ایک جمہوری حکومت میں اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ آمر کے پاس جو وژن ہوتا ہے وہ اسے لاگو کردیتا ہے اور ہر حال میں لاگو کرتا ہے۔ جمہوریت ایسا ہجوم بن جاتا ہے جس میں جتنے منہ اتنی آوازیں۔ لیکن یہ آوازیں اپنے کھابوں کے لیے ہمیشہ یک آواز ہوتی ہیں۔ مجھے اعلٰی تعلیم کے لیے وقف شدہ فنڈز غرب مکاؤ یا ایسے ہی کسی دوسرے زمرے میں منتقل ہوتے نظر آرہے ہین۔

چلتے چلتے ایک اور بات ق لیگ والوں نے اپنے پیشرؤوں کے لیے بڑے مناسب قمسم کے ایشوز چھوڑے ہیں۔ جیسے کہ تیل کی قیمتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک دو روپے لیٹر نہیں کم از کم دس روپے لیٹر بڑھ جائیں گی۔ عالمی مارکیٹ میں تو آپ کو ریٹس کا اندازہ ہی ہے۔ بھارت میں بھی کچھ دن پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پٹرول کم از کم 80 روہے لیٹر اور ڈیزل 50 روپے لیٹر ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی ایک اور شدید لہر اٹھے گی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوجائے گی۔ بشمول بجلی جس کے فی یونٹ اضافے کی درخواست فورًا کردی جائے گی۔ ایک پرآزمائش گرما ہمارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 11 فروری، 2008

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کل رات یونیورسٹی سے واپس آیا تو باتوں باتوں میں ذکر چھڑ گیا۔ ذکر کیا تھا والدہ کی زبانی سنیے۔۔

آج یوٹیلٹی سٹور پر عورتیں بی بی نظیراں کو بہت یاد کررہی تھیں۔ میں نے کہا وہ دن بھول گئے ہیں جب اس خصم نے اسی طرح قطاروں میں لگوا کر گھی کے ساتھ تین تین کلو پیاز دئیے تھے۔ جن سے دس فٹ کی دوری سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے تھے۔۔

اب میں نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے تو۔ والدہ کہنے لگیں اس وقت گھی 35 روپے کلو تھا جی سی پی بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا جی سی پی بناسپتی جس کی ملیں یا تو بند ہوگئیں یا پرئیویٹائز کردی گئیں۔۔ تو بات ہورہی تھی قیمت کی اس وقت بھی گھی یوٹیلٹی سٹور سے سستا ملتا تھا عام مارکیٹ کی نسبت۔۔۔ بی بی کے بابو یعنی خصم ارجمند نے بھارت سے بڑی مقدار میں پیاز درآمد کئے۔۔وہ پیاز خراب ہورہے تھے بلکہ آدھےسے زیادہ گل سڑ چکے تھے اور پر یہ پیاز غریبوں کو گھی کے ساتھ تین تین کلو کرکے دئیے گئے۔۔ ورنہ گھی نہیں ملتا تھا۔۔۔

آج کل بھی یوٹیلٹی سٹور والے گھی کے پیکٹ کے ساتھ (چینی ہے تو یا آٹا ہے جس چیز کا بھی بحران ہو اس کے ساتھ) کوئی نہ کوئی چیز لازمی خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ گھی نہیں ملتا۔۔ کبھی تکہ مصالحہ، کبھی لکس صابن، کبھی ٹوتھ پیسٹ اور کبھی فئیر اینڈ لولی جو چیز بھی سٹاک میں زیادہ ہو۔ اب ہم جیسے غریب غرباء جنھوں نے تکے کو دور سے ہی سلام کیا ہوتا ہے اس تکے مصالحے کا کیا کریں؟ سو اس دن امرودوں پر چھڑ کر کھایا اور مشرف کو دعائیں دیں۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ ہم کتنی جلدی بھول جاتے ہیں نا؟ بی بی نظیراں فوت ہوگئی تو اب وہ فرشتی اور بہشتن ہوگئی ہے۔ زندہ باد بھئی اس قوم کے۔۔۔

پیر، 28 جنوری، 2008

ترقی کی حقیقت

آج جب میں سوچتا ہوں تو اپنے حال پر ہنسی بھی آتی ہے اور ترس بھی۔ کراچی سٹاک مارکیٹ کی تیزی اور ہر روز انڈیکس بڑھنے کی خبریں دیکھ کر میرے دل میں بھی خیال آیا کہ کیوں نہ ہم بھی کسی کمپنی کے شئیر لے لیں۔ منافع تو ملے گا ہی۔ ایسی ہی خبر ہمارے ایک عزیز نے بھی دی۔ لیکن پھر مالی مجبوریوں کی وجہ سے یہ سب تو نہ ہوسکا۔ اور اب مجھے ہنسی آتی ہے کہ میں اس وقت انڈیکس کے بڑھنے کو ترقی سمجھتا تھا۔

کل کی اخبار میں ایک خبر آئی ہے کہ کال میٹ نامی ایک کمپنی کے حصص جو چند ماہ پہلے 65 روپے تک خرید و فروخت ہوچکے ہیں اب 20 روپے سے بھی کم میں بک رہے ہیں۔ اور جن کے پاس یہ حصص تھے ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔

میں نے غور کیا تو بہت سی چیزیں سامنے آئیں۔ پچھلے آٹھ سال میں معیشت کی 7 فیصد افزائش اسی بل پر دکھائی جاتی رہی ہے۔ بینکوں کا قرضوں کا کاروبار، ٹیلی کام کے شعبے میں سرمایہ کاری، سٹاک مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری اور سروسز کے بزنس۔۔۔

میں نے غور کیا تو احساس ہوا کہ ان آٹھ دس سالوں میں کوئی ایسی ترقی نہیں ہوسکی جو زمین پر قائم ہو۔ یہ سب جس کو بنیاد بنا کر ترقی دکھائی جاتی رہی ہے کہ نتیجہ آج یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کار انڈسٹری لگانے کی بجائے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ آخر انھیں ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ انڈسٹری لگائیں سو بکھیڑے پالیں اور پھر چار پیسے کمائیں۔ بس کراچی کی سٹاک مارکیٹ کے بھیڑیوں سے رابطہ کریں حصص خریدیں، مصنوعی تیزی سے ان کی قیمتیں بڑھوائیں اور فروخت کرکے سائیڈ پر ہوجائیں۔ آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام۔۔

بینکوں نے قرضوں کا جو کاروبار شروع کیا، کریڈٹ کارڈز دئیے گئے اور لیز پر گاڑیاں دی گئی ان سب نے صرف اور صرف کنزیومر ازم کو فروغ دیا ہے۔ یہ قرضے انڈسٹری لگانے کی بجائے ان کاموں کے لیے دئیے گئے جو معاشیات کی اصطلاح میں ان پروڈکٹو مانے جاتے ہیں۔ اب لوگوں کے پاس گاڑیاں تو ہیں لیکن ان کو چلانے کے لیے پٹرول کے پیسے نہیں۔ چناچہ وہ رینٹ اے کار پر چل رہی ہیں۔ یا بینک انھیں واپس لے رہے ہیں۔ یا لوگ بینک سے بھاگ رہے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ استعمال تو کرلیا لیکن اب اس کا سود اور اصل واپس کرنے کے لیے گدھوں کی طرح لگے ہوئے ہیں۔

موبائل فون کے شعبے میں ہونےو الی سرمایہ کاری نے بہت کم مواقع پیدا کئیے ہیں۔ جبکہ صارفین اس سے ہزاروں گنا زیادہ پیدا ہوئے ہیں۔ اگر اس وقت پاکستان میں 7 کروڑ موبائل صارفین ہیں تو ان کو سروسز فراہم کرنے والا عملہ کوئی بہت لمبا چوڑا نہیں۔ ایک لاکھ یا دو لاکھ یا بڑی حد تو پانچ لاکھ کرلیں۔۔۔ موبائل فون آپریٹرز یہاں سے پیسہ کما کر دھڑا دھڑ ڈالر باہر منتقل کررہے ہیں۔ دوسری طرف موبائل سیٹس باہر سے درآمد کرنے میں ملک کا زرمبادلہ خرچ ہورہا ہے۔ میرے جیسا بھی اوکھا ہوکے 10000 والا سیٹ لے رہا ہے۔ اور پرویز مشرف بھی عوام کے ہاتھ میں چھنکنا دے کر خوش ہے کہ سات کروڑ موبائل صارفین ہوگئے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ انتہائی منفی سماجی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں مولوی نہیں لیکن اس موبائل نے نئی نسل کو خراب کرنے کی رفتار کو سو گنا کردیا ہے۔ لیٹ نائٹ پیکجز نے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے ٹرینڈ کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اجالے میں سبھی حاجی اور اندھیرے میں آج کی ساری نوجوان نسل اس حمام میں ننگی ہے۔ بے مقصد باتیں، بے وقت کی کالیں اور ساری ساری رات مقصد جاگ کر گزارنے والے یہ لوگ کیا خاک ترقی کریں گے؟

متبادل توانائی کے سلسلے میں انتہائی غفلت سے کام لیا گیا ہے۔ غریب کے ہاتھ چونی کی طرح اس کا ایک نام نہاد بورڈ تو بنادیا گیا ہے لیکن اس کے پاس فنڈز اور اختیارات کے نام پر کچھ نہیں۔ وہ صرف سوچ سکتا ہے اور آئیڈیے دے سکتا ہے۔ جو میں اکیلا ان سے زیادہ دے سکتا ہوں۔ کراچی کے نزدیک ٹھٹھہ اور اس کے نواح میں چند ونڈ ملز لگانے کا منصوبہ بنا ہے اور اس سلسلے میں سینکڑوں ایکٹر زمین بھی الاٹ کی گئی ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والی بجلی کم از کم 10 روپے یونٹ ہوگی۔ ملک میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن اس کے لیے صرف اتنا کیا گیا ہے کہ چند گنے چنے دیہاتوں کو پائلٹ پراجیکٹ کے نام پر شمسی توانائی کے منصوبے دے کر فرض ادا کردیا گیا ہے۔

گیس اور پٹرولیم کی پیداوار ایک سطح پر آکر رک گئی ہے۔ پچھے ایک سال میں گاڑیاں دھڑا دھڑ سی این جی اور ایل پی جی پر منتقل کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں پہلے ایل پی جی کی قیمتیں 25 روپے سے 100+ پر پہنچ گئی ہیں اور اب قدرتی گیس کا بحران منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ بغیر مستقبل کی منصوبہ بندی کئے اسی پیداوار میں رہتے ہوئے نئے صنعتی یونٹوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو لائسنس اور گیس فراہمی کے معاہدے کئے جارہے ہیں جس کا نتیجہ بجلی کی طرح گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت میں نکلے گا۔ گیس کے تین منصوبے اس وقت زیر غور ہیں۔ پاکستان ایران، پاکستان قطر اور ایک وسطی ایشیائی ریاستوں سے بذریعہ افغانستان۔ ان میں پاک ایران منصوبہ ہی شاید اگلے ساتھ آٹھ سال میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکے لیکن ایران کے تیور ابھی سے بتا رہے ہیں کہ وہ نرخ کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرے گا۔

ملک کو عارضی بنیادوں سے نکال کر یومیہ بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ سرکاری ملازمین کو کنٹریکٹ کے نام پر بھرتی کرکے ان سے ساری سہولیات چھین لی جاتی ہیں پھر انھی ملازمین کے کنٹرکیٹ ہر نئی مدت پر بڑھا دئیے جاتے ہیں۔ چناچہ نہ ہی مقابلے کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی پرانے ملازمین کو کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ پی ٹی اسی ایل اور پاکستان سٹیل جیسے کئی ادارے بڑی بے دردی سے نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کردئیے گئے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم یا تو قرضے اور ان کا سود دینے میں صرف ہورہی ہے یا پھر بلٹ پروف گاڑیاں اور سرکار کی زیب و زینت پر خرچ ہورہی ہے۔

عام آدمی سے لے کر حکومت تک کے پا س کماڈیٹیز یومیہ بنیادوں پر ہیں۔ آج اگر ہمارا معاشی بائیکاٹ کردیا جائے تو ہم کسی قابل نہیں رہیں گے۔ ہم ہر چیز باہر سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت درآمد کررہے ہیں۔ سوئی، موم بتیاں، جوتے، کھلونے، موٹر سائیکل اور کاریں چین سے دھڑا دھڑ آرہی ہیں۔ بڑی چیزوں پر تو ڈیوٹی لگا کر بڑے سرمایہ کاروں کو تحفظ دے دیا گیا ہے۔ موٹر سائکل جو چین سے قریبًا 20000 میں آتا ہے یہاں چالیس ہزارمیں بکتا ہے۔ لیکن جوتے، موم بتیاں اور کھلونوں جیسی چیزوں نے مقامی چھوٹی صنعتوں کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ملک کی بنی دس روپے والی موم بتی چین سے آنے والی اسی قیمت کی موم بتی کے مقابلے میں آدھےسے بھی کم ہے۔ مقامی طور پر سوفٹی اور گھریلوں جوتے بنانے والی صنعتیں بند ہوچکی ہیں یا آخری سانس لے رہی ہیں اور یہ لوگ اب چین سے جوتوں کے درآمد کنندہ بن گئے ہیں۔

ہر چند ماہ میں کسی نہ کسی چیز کا بحران پیدا کرکے اس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ پہلے چینی، پھر آٹا اور گھی اور اب دالیں بھی دستیاب نہیں۔ حکومت راشن کارڈ جاری کرکے اور چند ہزار یوٹیلٹی سٹورز پر راشن مہیا کرکے اپنا فرض پورا سمجھ رہی ہے۔ بڑے شہروں میں تو رُل کر کسی نہ کسی سٹور سے کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے لیکن بلوچستان جیسے علاقوں میں جہاں یہ سٹور بھی نہیں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے تیل کی قیمت منجمند ہے اور امید کی جارہی ہے اب یہ تحفہ عوام کو پیش کیا جائے گا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ تیل کی قیمت شاید 70 روپے لیٹر سے بھی بڑھ جائے۔

سماجی، اقتصادی اور معاشی ہرمیدان میں ملکی بنیادی طرح طرح کے گھن کھوکھلی کرچکے ہیں۔ عوام میں بے حسی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ اب وہ صرف اپنی اور اپنی روزی روٹی کی سوچتے ہیں۔ عزیز رشتہ داروں اور دوستوں کی بیٹھکوں میں ملک کے ٹوٹنے کا بڑے نارمل انداز میں جائزہ لے کر اعلان کیا جاتا ہے کہ بس اب پاکستان گیا۔۔۔۔۔

یااللہ ہم کہاں جارہے ہیں؟

ہفتہ، 26 جنوری، 2008

مشرف کا پاکستان زندہ باد

زندہ باد۔۔۔گیس نہیں تو کیا ہوا لکڑیاں تو ہیں نا۔۔۔

لکڑیاں بھی ختم ہوگئیں تو اُپلے آخر کہاں جائیں گے۔

ارے چھوڑو اس چکر کو اب سی این جی سٹیشنوں کے چکر کیوں لگاتے ہو۔۔ خودانحصاری سیکھو۔ گھر میں بھینس پالو اور اس کے اپلوں سے گاڑی چلاؤ۔ روٹیاں پکاؤ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں انھی اپلوں سے ملیں بھی چلائی جاسکتی ہیں۔ ایک بار ڈیمانڈ بن جانے کے بعد بھینسوں کا فضلہ کمرشل پیمانے پر پیدا کرنے کے لیے باہر سے سرمایہ کاری کو بھی دعوت دی جاسکتی ہے۔

میں تو کہتا ہوں چھوڑو یہ گیس ویس، پٹرول اور بجلی۔۔۔۔اپلے جلاؤ مشرف کے پاکستان کو روشن اور گرم رکھو۔

مشرف کا پاکستان زندہ باد۔۔۔مشرف کے پاکستان کے عوام مردہ باد۔۔۔۔

منگل، 22 جنوری، 2008

اَگا دوڑ تے پچھا چوڑ

پنجابی میں ایک کہاوت ہے اگا دوڑ تے پچھا چوڑ۔ یعنی آگے دوڑتے جاؤ اور پچھلا ویسے کا ویسا ہی۔ ہماری حکومتوں کا بھی یہی حال ہے۔ مشرف حکومت نے تو ات ہی مچا ڈالی ہے۔ انھے وا آگے کی طرف دوڑ لگائی گئی ہے۔ پیچھے کیا ہورہا ہے یہ اب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بجلی کے کنکشن 2007 تک سب دیہاتوں تک پہنچ جائیں گے سب کو بجلی دستیاب ہوگی۔ بندہ پوچھے کہ جن کے پاس پہلے یہ سہولت ہے وہ کتنے مستفید ہورہے ہیں؟ موبائل کمپنیوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں کو انھے وا لائنسنس جاری کئے گئے ہیں یہ خیال کئے بغیر کہ ان کی توانائی کی ضروریات کون پوری کرے گا۔ میرے محلے میں پہلے صرف گھروں کی بجلی جاتی تھی اب اس کے ساتھ ساتھ کیبل نیٹ کی تاریں بجلی سے چلتی ہیں، ٹی وی کیبل کو کرنٹ ملتا ہے، وائرلیس اور موبائل فون کے دو تین کھمبے لگ گئے ہیں انھیں بجلی چاہیے ہوتی ہے۔ اب بجلی کیا کرے؟ ڈیم تو وہی ہیں جو پچاس سال پہلے بن گئے اور اب آدھے رہ گئے ہیں لیکن باقی ہر چیز بڑھی ہے۔۔

گیس کو لے لیں تو اس کے کرتا دھرتا بھی ہر کام انھے وا کررہے ہیں۔ نئی بستیوں کو انھے وا گیس کی لائنیں مہیا کی جارہی ہیں۔ سی این جی سٹیشنوں کو لائسنس جاری کئے جارہے ہیں۔ صنعتوں کو گیس دینے کے معاہدے ہورہے ہیں۔ اور حال یہ ہے کہ صبح ناشتے کے وقت اور رات کے کھانے کے وقت اب گیس اتنی تھوڑی ہوجاتی ہے کہ روٹی پکانا عذاب ہوجاتا ہے۔ نتیجے میں اب گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی ہوا کرے گی۔ سی این جی سیٹشنوں کی فرمایا گیا ہے کہ 6 گھنٹے کے لیے ہوگی ملوں کی گیس سردیوں میں بعض اوقات مستقل منقطع کردی جاتی ہے۔ ہمارے قریب نور فاطمہ ٹیکسٹائل آئے دن اس وجہ سے بند ہوتی ہے کہ گیس نہیں آرہی۔ اب نہیں تو اگلے سال یہ ہمارے گھروں تک بھی آجائے گی۔ جس طرح ہر دو گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے اسی طرح گیس بھی بند ہوجایا کرے گی۔

ترقی تو انھے وا ہوئی ہے۔ ہر اس شعبے میں جہاں توانائی استعمال ہوسکتی ہے۔ لیکن توانائی کی ترقی کیا ہمارے ماموں نے آکر کرنی ہے باہر سے۔ اس کا کون ذمہ دار ہے۔ ایک ڈیم جو دس سال بعد بنے گا جب توانائی کی کمی میگا واٹس سے گیگا واٹس میں چلی جائے گی شاید۔

ہم ساری گرمیاں دھوپ میں سڑ سڑ کر لُوس جاتے ہیں لیکن اس قوم کے نام نہاد والی وارثوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کو ہی استعمال کرلیں۔ ہر تین ماہ بعد باں باں کرتے پھرتے ہیں کہ بجلی نہیں ہے۔ اب پانی نہیں ہے اور اب گرمی کی وجہ سے کھپت بڑھ گئی ہے۔ ارے یہ شمسی توانائی کیوں استعمال نہیں کرتے۔ کوئی انھیں مشورہ کیوں نہیں دیتا۔ جاپانی آج تیل سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ ان سے اللہ واسطے ہی ٹیکنالوجی مانگ لو۔ جس طرح موبائل ہر بندے کے ہاتھ میں دے دیا ہے ویسا کام ہی اس کے ساتھ کیوں نہیں کرتے۔ اگر ان کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے تو شمسی توانائی کے اداروں کی کیوں نہیں۔ سڑکیں نکو نک ہوگئی ہیں لیز کی گاڑیوں سے۔ آخر یہ بینک جن کے بل پر ہمارے ٹیکنو کریٹ وزیر اعظم مع اپنے صدر باس کے آٹھ سال تک معیشت کو آسمان کی بلندیوں تک ترقی کرتا دکھاتے رہے ہیں اب ان ہی بینکوں سے شمسی توانائی کے سامان کے لیے قرضے کیوں جاری نہیں کئے جاسکتے۔۔

کیوں آخر کیوں؟

ہمیں انھے وا صارف کیوں بنایا جارہا ہے۔ آٹا باہر سے، تیل باہر سے، گیس باہر سے، دالین باہر سے، موبائل فون کمپنیاں باہر سے، ضرورت زندگی کی ہر شےء حتٰی کہ سوئی اور جوتی تک باہر سے ۔۔۔۔ بس اس وقت کا انتظار ہےجب یہ قوم ہی اٹھ کر باہر کو چل پڑے۔

چل بلھیا اوتھے چلئیے جتھے سارے انھے

جتھے نا کوئی ساڈی قدر جانے نہ کوئی سانوں منے

پیر، 26 نومبر، 2007

آخر نوازشریف نے سرزمین پاک کو چھو ہی لیا!!

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مارشل لاء حکومت کے صدر پرویز مشرف کے سعودی عرب کے مختصر دورے میں نجانے کیا کھچڑی پکی ہے کہ نواز شریف کو واپسی کی اجازت مل گئی ہے۔ حاسدوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس بار سعودی عرب بھی امریکہ کے ساتھ اس ڈیل میں ملوث ہے۔ مارشل لاء حکومت تو ایسے لگتا ہے جیسے شترمرغ ریت میں سر دے لیتا ہے۔ نواز شریف کی طرف سے بھی ایسے بیان آرہے ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارا ایجنڈا مختلف ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایجنڈا کیا ہے۔ حالات واقعی نو مارچ والے نہیں ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو ایک ڈگڈگی چاہیے تھی جو انھیں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں مل گئی اور انھوں نے اچھی طرح بجا بھی لی۔ اب کی بار ان کے پاس الیکشن کی ڈگڈگی ہے۔ جسے بجا کر انھیں اصلی تے وڈا فائدہ مل سکتا ہے۔ چناچہ ہر کوئی دبے پاؤں الیکشن کی تیاری میں ہے۔ چند ایک سرپھرے ہیں جو ببانگ دہل بائیکاٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ بلوچ پہلے ہی فوجی صدر سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکے ہیں۔ عمران خان ابھی 'نواں آیاں اے سوہنیا' ہے۔ وکلاء کو اپنے چیف جسٹس کی فکر ہے چناچہ وہ تو تحریک جاری رکھیں گے ہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اے پی ڈی ایم کی چھتری تلے نوازشریف کی طرف سے کیا حکمت عملی طے ہوتی ہے۔ آیا کوئی "درمیانی" راہ نکل آتی ہے یا۔۔۔۔۔بے نظیر نے تو آج کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے بیان دے دیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نتیجہ ہے۔

اتوار، 2 ستمبر، 2007

پھر توقع رکھو کہ تم پر آفتیں ایسے آئیں جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے دانے یکے بعد دیگرے گرتے ہیں

ایک کے بعد ایک، جیسے لائن میں لگی ہوئی آفتیں یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اب کل کراچی میں پل گرگیا ہے۔ سنتے ہیں اپنے مشرف صاحب کے میگا پروجیکٹس، جن کا وہ تسبیح کی طرح ہی ہر انٹرویو میں ورد کیا کرتے ہیں یہ بھی حصہ تھا۔ اب ہوا کیا کہ این ایل سی کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ چار پانچ لوگوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ مرنے والوں کو امداد دی جارہی ہے ۔ اللہ اللہ خیر صلا


دو چار میں شور رہے گا پھر وہی پرانی صورت حال۔ سارا ناردرن بائی پاس دوبارہ تو بننے سے رہا۔۔اتنا حصہ پھر سے بن جائے گا اور کام پھر چلے گا۔ لیکن اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ ایک حصہ گرگیا تو باقی حصے نہیں گریں گے۔ یہ پل تو دوبارہ بن جائے گا وہ چنے والا جو اپنے بچوں کا کفیل تھا، جس کے بچے یتیم ہوگئے ان کا کون سرپرست ہوگا اب۔ جو بیوائیں ہوگئیں ان کا کون رہ جائے گا۔ وہ پانچ پانچ لاکھ روپے؟؟


کراچی کے ناظم صاحب کو گلہ ہے کہ اس شہر کے 13 سرپرست ہیں اور یہ کہ انھیں اس پروجیکٹ کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی، ان کے پاس ڈیزائن تک نہیں یہ وہ ۔ ہر کسی کو ایک دوسرے سے گلہ ہوگا۔۔اور ہم منہ دیکھیں گے الزام کس کو دیں۔۔۔


کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جو آفتوں کی قطار لگی ہوئی ہے یہ ہمارے اپنے اعمال ہیں۔۔ہم ہیں ہی اس قابل کہ ہمیں چھتر پڑیں اور پڑتے ہی چلے جائیں۔۔۔