پولیس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پولیس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 3 اگست، 2008

کمی کمین

خاور کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ پر انھیں مسلم لیگ ن جاپان کے وڈوں نے دھمکیاں دی ہیں۔ بھئی خاور کو احتیاط کرنی چاہیے تھی اتنا سچ نہیں لکھنا چاہیے تھے۔ یہ ملک تو ہے ہی مسلم لیگ کا۔ نہ مسلم لیگ ہوتی نا پاکستان بنتا۔ اوپر سے ہر آمر کے ساتھ مسلم لیگ چمٹی رہی ہے۔ موجودہ اصلی تے وڈے مسلم لیگی تو بس ن لیگ والے ہیں۔ چاہے ق لیگ والے اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ کہلواتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ آٹھ سال کے بعد مسلم لیگ ن کی باری آئی ہے تو ان کا اتنا اکڑنا تو فرض بنتا ہے۔

لاہور میں وزیر اعلٰی شہباز شریف کے آنے کے بعد پولیس والوں نے بھی پارکوں اور باغوں سے فحاشی سے خاتمے کے لیے پھر سے مہم شروع کردی ہے۔ جوڑوں کو سرعام روک کر بے عزت کیا جاتا ہے۔ شادی ہالوں میں جاکر جوتے لگائے جاتے ہیں۔ تو باہر بھی تو ان کی ٹور ہونی چاہیے۔ آخر یہ ملک ان کے مامے کا ہے اور ہم کمی کمین غریب غرباء جنھیں جو چاہے آکر دبا دے، استحصال کردے، ظلم کرے۔ کون پوچھنے والا ہے۔

خاور کھوکھر نے غلطی کی۔ اسے تو چاہیے تھا جاپان میں بیٹھا ہے تو چپ چاپ بیٹھا رہے۔ یہ تو محفوظ ہے۔ خواہ مخواہ میں پنگا لے بیٹھا۔ اب بھی وقت ہے وڈوں سے معافی مانگ لے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلے۔

بدھ، 9 اپریل، 2008

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ بس بازار سے گزرتے ہوئے اس کو دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ ہاتھ میں اچھی نسل کی کوئی گن پکڑے وہ جیولرز کے باہر کبھی کھڑا ہوتا تھا اور کبھی بیٹھا ہوا ہوتا تھا۔ شکل سے پٹھان لگتا تھا۔ پچھلے کچھ ماہ سے اس کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی نظر آنے لگا تھا جس کے ہاتھ میں اکثر پستول ہوا کرتا۔ دونوں کبھی کرسیوں پر بیٹھے ہوتے اور کبھی کھڑے ہوتے۔ میں نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔ بس چپ چاپ اس کے قریب سے گزر جایا کرتا۔ آج جب میں وہاں سے گزرا تو وہ مانوس منظر میرا منتظر نہیں تھا۔ وہ جہاں کھڑا ہوتا تھا وہاں دوکان کی سیڑھیوں پر خون کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔ انھیں چھپانے کے لیے کہیں کہیں ریت ڈالی ہوئی تھی۔ قریب ہی لوگوں کا ایک مجمع تھا جو چہ مگویاں کررہے تھے۔  ذرا ادھر دوکان کا مالک سنار چند لوگوں میں گھرا کھڑا تھا۔ اس کے قریب ہی شکل سے پختون لگنے والا ایک ادھیڑ عمر سا آدمی بھی کھڑا باتیں کررہا تھا۔ شاید وہ اس کا باپ تھا۔

اس کا نام گل خان تھا۔ اور اس کے ساتھی لڑکے کا نام اخلاق احمد۔ کل شام ساڑھے سات کے قریب اس دوکان پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا۔ ندیم اسلم جیولرز منصور آباد کے اچھے خاصے مشہور اور کھاتے پیتے جیولرز ہیں۔ پہلے بھی ایک بار ڈکینی کی کوشش ہوچکی تھی جس کی وجہ سے انھوں نے دو محافظ رکھ چھوڑے تھے۔ لیکن یہ محافظ بھی کچھ نہ کرسکے۔ درندوں نے سب سے پہلے انھیں مزاحمت پر گولیاں ماریں۔ پھر دوکان کے شوکیس توڑ کر زیورات اور نقدی نکال کر فرار ہوگئے۔ گل خان اور اخلاق احمد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ جبکہ ایک گاہک خاتون کی ٹانگ میں گولی لگی۔

پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ لیکن وہ کہاں پکڑے جاسکتے ہیں۔ اگر پکڑے بھی گئے تو گل خان اور اخلاق احمد کے گھر والوں کو ان کے سپوت لوٹا سکیں گے؟ ان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ معاشرہ جس کی بدولت وہ اتنے مجبور ہوگئے کہ اپنی جان داؤ پر لگا کر دوسروں کو سیکیورٹی فراہم کریں؟ یا وہ درندے جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں؟ ان کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت کون کرے گا؟ دونوں شاید پردیسی تھے۔ دور کہیں کسی علاقے میں بیٹھے ان کے عزیز جنھوں نے دو وقت کی روٹی کی امید میں انھیں اتنی دور جانے دیا تھا اب ان کے بے جان لاشے وصول کر جانے کتنا روئے ہونگے۔۔۔ کون ذمہ دار ہے اس سب کا؟ شاید ہم سب۔ :(

ہفتہ، 6 اکتوبر، 2007

بریت

"اوئے مودے کچھ سنا تم نے۔" شیدے نے بڑے رازدارانہ انداز میں اس کے قریب آکر کہا۔


 

"کیوں کیا ہوگیا ہے" مودے چرسی نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مسرور لہجے میں کہا۔


 

"اوئے سنا ہے نیا قانون آیا ہے اور دس سال کے مقدمے معاف۔"


 

"سچیں شیدے تو کہیں مذاق تو نہیں کررہا؟" مودے چرسی کا سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔


 

" او نہیں یار اپنا باؤ اشفاق سب کو خبریں پڑھ کر سنا رہا تھا وہاں تھڑے پر۔ وہاں سے پتا لگا ہے۔" شیدے نے منہ بنا کر جواب دیا۔


 

"اوئے پھر تو ہم بھی حاجی ہوگئے ہیں۔ اوئے میرے اوپر چرس بیچنے کا مقدمہ دس سال پرانا ہی ہے۔ اوئے وہ تو گیا۔" مودا چرسی جیسے ہواؤں میں اڑنے لگا۔


 

 "میرے اوپر حاجیوں کی مرغیاں چوری کرنے کا الزام بھی اب ختم ہوجائے گا۔" شیدے نے کُکڑ کی طرح سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔


 

"او چل بھئی پھر تھڑے پر جاکر بیٹھتے ہیں۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں۔" مودے چرسی نے سگریٹ کا آخری کش لگایا اور اور اسے پھینکتے ہوئے بولا۔


 

"ہاں ہاں۔ باؤ اشفاق سے خبریں سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے مٹھائی لے کر چلتے ہیں۔" شیدے نے جیب پر ہاتھ مارتے ہوئے ایک پچاس کا نوٹ نکالا۔


 

"کیوں بھئی آج بڑی مٹھائیاں کھلا رہے ہو۔" ریٹائرڈ ماسٹر محمد اسلم نے مودے کے ہاتھ سے برفی لے کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔


 

"ماسٹر جی آپ کو نہیں پتا۔آج کا اخبار کیا کہہ رہا ہے؟"


 

"کیا کہہ رہا ہے بھئی" ماسٹر اسلم نے جیسے مزہ لیتے ہوئے کہا۔


 

"او جی اب سارے مقدمے معاف ہوجائیں گے۔ اب ہم مشتبہ بھی نہیں رہیں گے جی۔ محلے کا تھانے دار ہمیں تنگ نہیں کرے گا۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں جی۔ نیا قانون جو پاس ہوا ہے۔" مودے چرسی نے چرس کے بغیر نشے میں آکر کہا۔


 

اور اس کی یہ بات سن کر تھڑے پر بڑے زور کا قہقہہ پڑا۔ باؤ اشفاق نے ہنسی سے دوہرے ہوتے ہوئے کہا


 

" مودے تجھے کس نے کہہ دیا کہ تیرے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔"


 

"جناب جب قانون بنتاہے تو سب کے لیے ہوتا ہے نا۔ تو ہم بھی تو یہیں رہتے ہیں۔" مودے کی آواز میں ہلکی  سی ہکلاہٹ آگئی۔


 

"او بھولے بادشاہ یہاں قانون خاص لوگوں کے لیے بنتے ہیں۔ یہ قانون تیرے میرے لیے نہیں وڈے بدمعاشوں کے لیے ہے۔ ان کے دس سال کے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔ تاکہ پھر ہماری رگوں سے آکر لہو نچوڑیں۔ یہاں قانون سب کے لیے نہیں صرف وڈے لوگوں کے لیے بنتا ہے۔" باؤ اشفاق کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔


 

"تے فیر ہمارے مقدمے ویسے ہی رہیں گے۔" مودے چرسی اور شیدے کے منہ پھر سے لٹک گئے۔


 

"ہاں تمہارے مقدمے ایسے ہی رہیں گے۔ اگر تم نے بھی مقدمے معاف کروانے ہیں تو اچھی نسل کا جرم کرکے آؤ۔ اس قوم کو لوٹو۔ کرپشن کرو۔ پولیس مقابلوں میں بندے مرواؤ۔ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرواؤ۔ پھر تمہیں معافی مل سکتی ہے۔" اس بار ماسٹر اسلم کے لہجے میں بلا کی کاٹ تھی۔ اور مودا شیدے کے کندے پر ہاتھ رکھ کر واپس پلٹ پڑا۔ چل یار دو سُوٹے لگاتے ہیں بیٹھ کر۔