اردو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 ستمبر، 2016

اردو بلاگنگ اور انٹرنیٹ پر اردو کا ارتقاء

بلاگنگ پچھلی صدی کے آخری عشرے کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق لوگوں نے اپنی ویب سائٹوں پر personal یا اپنے نام سے ایک ڈائریکٹری یا سب ڈومین بنا کر اس پر دن بھر کی مصروفیات، روئداد یا کسی ذاتی یا غیر ذاتی موضوع پر اپنے خیالات کو ایک ڈائری یا بیاض کی شکل میں بیان کرنا شروع کیا۔ زبان کی یہ تحریری صنف مضمون لکھنے جیسے ہی تھی، لیکن یہ اس سے مقابلے میں زیادہ بے تکلفانہ اور ذاتی رنگ لئے ہوئے تھی۔

 انگریزی اور دیگر زبانوں کی بلاگنگ کو دیکھتے ہوئے اردو میں بھی لوگوں نے 2004 یا اس کے بعد بلاگنگ شروع کی۔ اور چند برسوں میں چند لوگوں سے یہ تعداد سو کا ہندسہ پار کر گئی۔اردو بلاگرز نے 2005 سے 2010 بلکہ تین چار برس بعد تک بھی بلاگز چلائے، اور ان پر قارئین کی ایک مناسب (چند درجن سے سو یا زیادہ وزٹر فی پوسٹ) تعداد بھی آتی رہی۔ لیکن جیسا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز تیزی سے ارتقاء پذیر ہو کر نئی نئی شکلوں میں ظہور پذیر ہوتی رہی، ویسے ہی بلاگنگ کی شکل بھی بدلی اور اس میں پہلے جیسی دلچسپی بھی برقرار نہ رہ سکی۔

انگریزی کی بلاگنگ 2010 سے ایک دو برس پہلے سے ہی اپنا رخ تبدیل کر رہی تھی۔ اب لوگوں نے ذاتی بلاگنگ کی بجائے عنواناتی بلاگنگ پر توجہ دینا شروع کی۔ انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعے آمدن، اور اشتہارات لگانے کے لیے نئے تحریری (اب تصویری، ویڈیو مواد بھی) کی ضرورت محسوس ہوئی تو لوگوں نے مختلف شعبوں میں مدد کے لیے بلاگز بنائے (فلاں کام کیسے کریں، جنہیں انگریزی میں ہاؤ ٹُو قسم کی تحاریر کہا جاتا ہے)، کسی خاص شعبے کے حوالے سے خبریں، تازہ ترین اور معلومات کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا (مثلاً انگریزی میں ٹیکنالوجی، قانون، مذہب وغیرہ سے متعلق بلاگز وجود میں آئے)، کمپنیوں نے بلاگنگ کی طاقت دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹس پر عوام سے انٹرایکشن کے لیے بلاگ سیکشن شروع کر دئیے، اخبارات میں بلاگ سیکشن شروع ہوئے (پاکستان کے انگریزی اخبارات 2009 سے بلاگز چلا رہے ہیں، اردو اخبارات نے دو تین برس تاخیر سے یہی کام شروع کیا)۔ اب بلاگنگ سے ارتقاء پذیر ہو کر تحریری (اور دیگر اقسام کے) مواد کی تخلیق کا عمل اتنا کمرشل ہو گیا ہے کہ باقاعدہ آنلائن میڈیا ہاؤسز موجود ہیں جو اخبارات کی طرح (لیکن کاغذ پر چھاپے بغیر صرف آنلائن) مواد تخلیق کرتے ہیں۔ ان کمرشل سائٹوں میں ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹیں بھی ہیں (یہ اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ کبھی کبھار بلاگ کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں)، اپنی مدد آپ کے حوالے سے بلاگز یا ویب سائٹس بھی ہیں، اور وائرل مواد (میش ایبل اور اس کی پاکستانی نقل مینگو باز) کی خبر دینے والی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔

اردو کے حوالے سے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا) لوگوں نے بلاگنگ کچھ برس تاخیر سے شروع کی۔ لیکن انہوں نے انگریزی والے رجحانات کی پیروی کر کے اپنے ذاتی بلاگز سے ہی ابتدا کی۔ بدقسمتی سے اردو میں بلاگز کا ارتقاء انگریزی والے پیٹرن پر نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اردو میں دستیاب مواد کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کر سکنا تھا۔ اردو میں لوگ مواد تخلیق کرنے کو تو تیار تھے، لیکن انہیں اردو زبان میں موجود ویب سائٹس کے لیے اشتہارات (جو انٹرنیٹ پر آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور اس حوالے سے آج بھی گوگل ایڈ سینس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں) نہیں ملتے تھے ۔ چنانچہ ذاتی قسم کے بلاگز لوگوں نے کچھ عرصہ لکھے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رجحان اب بہت کم رہ گیا ہے (جیسا کہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہوا تھا)۔ اس وقت اردو زبان میں موضوعاتی بلاگنگ کے نام پر کرک نامہ، سائنس کی دنیا اورآئی ٹی نامہ جیسے چند ایک بلاگز ہی موجود ہیں، جو اشتہارات کے بغیر بھی معیاری اردو مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ اردو زبان میں ذاتی بلاگز میں دلچسپی کم ہونے کی ایک اور وجہ سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے فیس بُک اور ٹوئٹر کی مقبولیت بھی تھی۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، کم الفاظ یعنی کم وقت میں بات کہنے کی صلاحیت، زیادہ لوگوں سے انٹرایکشن کا موقع وغیرہ نے اردو بلاگرز کو فیس بک اور ٹوئٹر کا قیدی بنا دیا، اور ان کے بلاگ ماضی کے مزار بن گئے۔

انٹرنیٹ پرتحریری اردو کے فروغ میں بلاگنگ اصل میں تیسرا قدم تھی۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اردو فورمز (اردو محفل فورم، ہماری اردو فورم وغیرہ) تحریری اردو اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز مہیا کر رہے تھے۔ درحقیقت بیشتر اردو بلاگرز یہیں سے بلاگنگ کی طرف آئے۔ اور اِن آنلائن اردو چوپالوں سے بھی پہلے بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ وغیرہ کی اردو ویب سائٹس نے تحریری اردو کے فروغ کی بنیاد ڈال دی تھی۔ روزنامہ جنگ کی تحریری اردو کی ویب سائٹ بھی بہت پرانی ہے اگرچہ لوگ زیادہ تر نستعلیق (یعنی تصویری اردو) والی ویب سائٹ پر ہی جانا پسند کرتے تھے۔

اردو بلاگنگ کے بعد؟ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اردو بلاگنگ کا مختصر سا عروج جو 2007 اور اس کے بعد پانچ سات برس تک رہا، اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب لوگ بلاگ کی بجائے اپنی فیس بک وال پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی دھڑا دھڑ آمد نے ہمارے روزمرہ کے ٹاکرے (یا مناظرے) بھی آنلائن کر دئیے، چنانچہ یہاں لبرل، سیکولر، ملحد، قدامت پسند، اسلام پسند اور دیگر "پسندوں" نے سینگ اڑا کر مناظرے کیے۔ وہ مناظرے ختم ہو گئے یا ختم ہوں گے، اس سوال سے قطع نظر لوگوں نے سوچا کہ ان سوشل میڈیا ٹاکروں کے لیے جو کچھ لکھا جاتا ہے اسے مناسب جگہ پر شائع کیا جائے چونکہ فیس بک پر تو مواد چند دنوں میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اپڈیٹس کے انبار تلے دفن ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ویب سائٹس کی بنیاد رکھی جن میں لالٹین، ہم سب، دلیل، مکالمہ، ایک روزن، آئی بی سی اردو۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایک لمبی فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایک خاص نقطہ نظر کی ترجمان ہیں، کچھ ایسی نہیں ہیں، لیکن حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے وڈّوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والی یہ تحریری اردو کی ویب سائٹس ہمارے خیال میں بلاگنگ کے بعد انٹرنیٹ پر اردو کے ارتقاء کا اگلا قدم ہیں۔ (اگرچہ اردو پوائنٹ اردو آنلائن جرنلزم کا بہت پرانا نام ہے، لیکن ان کی ویب سائٹ آج بھی نیم تحریری اور باقی تصویری اردو پر چلتی ہے، اور ان کی آمدن کے ذرائع آغاز سے ہی مقامی کمپنیوں سے ملنے والے اشتہارات ہیں۔) ان ویب سائٹس کے اجراء نے نئے لکھاریوں کو لکھنے اور چھپنے کے آسان ذرائع مہیا کر دئیے ہیں جو اگرچہ ذاتی بلاگ کی شکل میں پہلے موجود تو تھے لیکن قارئین کی تعداد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے بددل ہو جاتے تھے۔ میڈیا کے وڈّے وڈّے ناموں کے سایہء عاطفت میں آج آپ جہاں بھی چلے جائیں، آپ کو تجزیہ کاروںِ، مضمون نگاروں، جوابی مضمون نگاروں، نوٹ نگاروں، اختلافی نوٹ نگاروں اور لکھاریوں کی ایک فوج ظفر موج نظر آتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت اچھے ہیں، کچھ اچھے ہیں، کچھ مناسب ہیں اور کچھ راقم کی طرح دھکا سٹارٹ ہیں۔ لیکن لوگ لکھ رہے ہیں، اردو لکھ رہے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے چونکہ اس سے اردو ترقی کرتی ہے، اردو پڑھنے سے تماشائیوں کو بھی اردو کو اردو میں لکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ان ویب سائٹس نے نوجوانوں کو اپنی فرسٹریشن نکالنے کے ذرائع بھی مہیا کر دئیے ہیں جس سے مختلف علاقوں کا درجہ حرارت معمول پر رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تفنن برطرف، آخر میں ہم آپ کی خدمت میں چند سوالات رکھ کر اجازت چاہیں گے۔

کیا مستقبل قریب میں انٹرنیٹ پر اردو مذہبی، نیم مذہبی، غیر مذہبی، سیاسی اور اس قسم کی دیگر مضمون بازی اور لفظی کُشتی سے آگے نکل پائے گی؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اسے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے (مثلاً سائنس کی دنیا جیسی کاوشیں جو سائنس سے متعلق تحاریر کا اردو ترجمہ مہیا کر رہے ہیں)؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اس میں معیاری تفریحی، تعلیمی، یا کسی بھی قسم کا مواد پیدا کر کے روزگار کمایا جا سکے؟

اور کیا مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہے کہ مذکورہ بالا فرضی اردو ویب سائٹس کو گوگل جیسی عالمی کمپنیاں نہیں تو مقامی کمپنیاں ہی اشتہارات دے کر ان کی روزی روٹی کے ذرائع پیدا کریں؟ (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے وڈّوں کے زیرِ سایہ چلنے والی ویب سائٹس کو آج بھی کچھ نہ کچھ اشتہارات مل سکتے ہیں، جس کے لیے اکثر اوقات ان کا نام ہی کافی ہو گا، چونکہ ان ویب سائٹس کوآ گیا چھا گیا کے مصداق آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اس لیے ٹریفک اور وزٹرز کی تعداد، نیز رینکنگ وغیرہ کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں چنانچہ کمپنیاں انہیں اشتہارات مہیا کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گی۔)

بدھ، 27 مارچ، 2013

اینڈرائیڈ کے لیے انگریزی اردو لغت

قارئین اس بلاگ کا خادم، یعنی شاکر عزیز اینڈرائیڈ کے پرانے عاشقوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اینڈرائیڈ ایپل آئی او ایس کے مقابلے میں ذرا "سستا" آپریٹنگ سسٹم گردانا جاتا ہے، اور یار لوگ اس پر مال وئیر اور وغیرہ وغیرہ 'وئیرز' کے خطرات کی نشاندہی فرماتے رہتے ہیں، پھر بھی میرا دل اینڈرائیڈ ہی مانگتا ہے۔ اسی عشق خانہ خراب کا شاخسانہ ایک عدد سام سنگ گلیکسی وائے اور پھر ایک عدد نیکسس سیون کی صورت میں میرے ہاں ظاہر ہو چکا ہے۔ اینڈرائیڈ چونکہ اب میری روزمرہ زندگی کا عمومی حصہ ہے تو اس کے لیے چھوٹے چھوٹے پروگراموں کی تلاش بھی رہتی ہے۔ انہیں میں سے ایک لغات کی تلاش ہے۔ پڑھتے ہوئے، براؤزنگ کرتے ہوئے، فلم دیکھتے ہوئے مجھے اکثر انگریزی سے انگریزی اور انگریزی سے اردو لغات کی ضرورت پڑی۔ انگریزی کے لیے تو مریم ویبسٹر کی بڑی شاندار ایپ موجود ہے۔ لیکن برا ہو اردو والوں کا اول تو کوئی ایپ دستیاب نہیں تھی، اگر ہونا شروع ہوئیں تو ان میں ڈھٹائی کی آخری حدوں کو بھی پار کر کے اشتہارات ٹھونسے ہوئے تھے۔ یعنی نستعلیقیت کا کوئی زمانہ ہی نہیں، ڈویلپر یہ سمجھتے ہیں کہ صارف کی ناک میں بھی چار پانچ اشتہار ٹھونس دئیے جائیں تو کم رہے گا۔ خدا کا غضب ڈیٹا سارا کلین ٹچ اردو لغت، مقتدرہ قومی لغت اور اردو انگلش ڈکشنری ڈاٹ کام جیسی جگہوں سے اٹھایا ہوا، اور صرف ایک سرچ ایپلی کیشن بنانے پر یہ سزا کہ انٹرنیٹ نہ ہو تو ایپ نہیں چلتی۔ اور ایپ نہ بھی چل رہی ہو تو نوٹیفکیشن بار میں اشتہار ٹھکا ٹھک چل رہے ہوتے ہیں۔ تو جناب ہم نے صرف ایک دن یہ گھٹیا پن برداشت کیا اور پھر کوئی اردو لغت استعمال کرنے سے توبہ کر لی۔ خدا بھلا کرے کوئک ڈکشنری والے کا جس نے ایک اوپن سورس اطلاقیہ بنا ڈالا، اشتہارات سے پاک اور بس کرنا یہ تھا کہ اردو ویب لغت والے ڈیٹا کو اس میں ڈال دیا جاتا۔ اللہ بھلا کرے محمد سعد کا اس نے اس ڈیٹا کو کوئک ڈکشنری لغت فائل کی صورت میں ڈھال دیا اور اب ہم ایک بہترین قسم کی آفلائن انگریزی اردو اور اکثر اردو انگریزی لغت سے مستفید ہوتے ہیں۔ تو جناب آپ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں، اینڈرائیڈ کے صارف ہیں تو انگریزی اردو لغت نصب کر کے اپنی زندگی آسان بنائیں۔ ہمارے لیے نوے فیصد مواقع پر یہ لغت کام دے جاتی ہے، امید ہے آپ کے لیے بھی دے گی۔ لغت نصب کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مراحل پر نمبر وار عمل کریں اور ثوابِ دنیا و آخرت کمائیں:
انگریزی اردو لغت فائل اتاریں۔
اپڈیٹ: مقتدرہ قومی لغت فائل اتاریں۔
اپڈیٹ2: اردو انگلش ڈکشنری فائل اتاریں۔
اپڈیٹ 3: ابھی درج بالا دو لغات فائلز میں مسائل ہیں جن پر مزید تحقیق ہو رہی ہے۔ تب تک ایک سے کام چلائیں۔
3۔ یہ سیون زپ یا زپ فارمیٹ میں ہے، اس لیے سیون زپ نصب کر کے اس کو زپ فائل سے نکال لیں۔
4۔ اپنے اینڈرائیڈ آلے کو پی سی سے منسلک کریں۔
5۔ اپنے ایس ڈی کارڈ میں quickDic نامی فائل فولڈر تلاش کریں۔ اور اپنی پسندیدہ لغت فائل اس میں کاپی کر دیں۔
6۔ کوئیک ڈکشنری ایپ کو چلائیں اور یہ خوبخود موجودہ لغت فائلوں کاسراغ لگا لے گی۔
7۔ استعمال کریں اور موج لوٹیں۔ یہ فائلیں بنیادی طور پر انگریزی سے اردو لغت کے لیے ہیں، تاہم اردو سے انگریزی تلاش کی سہولت بھی کوئک ڈکشنری میں موجود ہے بس سرچ باکس کے ساتھ بائیں طرف ایک بٹن کو دبا کر زبان تبدیل کر لیں۔
اور جن احباب کو اس لغت کا علم نہیں انہیں مطلع ضرور کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکے۔
اور جاتے جاتے میرے نیکسس 7 پر لغت کی تصویر ملاحظہ کرتے جائیں۔

اتوار، 27 جنوری، 2013

اردو بلاگ کانفرنس پر پڑھی گئی

عزیزانِ گرامی، عالی قدر بلاگران و سامعین اسلام و علیکم!
سب سے پہلے تو اردو بلاگ فورم اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے  سینئر بلاگر سمجھا۔ ورنہ بقول کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی،  میرے جیسے لوگ اکثر کسی کونے میں پڑے پڑے  سینئر ہو جایا کرتے ہیں۔ جس میں  کمال ان کے کچھ نہ کرنے کا ہوتا ہے۔ میں بھی ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں،  اور پچھلے کئی سال سے ایویں بلاگر ہوں۔ خیر آپ سب احباب کا شکریہ، اور مزید شکریہ کہ آپ مجھے برداشت کر رہے ہیں۔
میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا کہ یہاں تشریف لا کر اردو بلاگنگ پر کچھ ارشاد فرماؤں۔ تو صاحبو کوشش کرتا ہوں کہ کچھ بیان کر سکوں، کوتاہی یا صرفِ نظر ہونے پر، کچھ رہ جانے پر پیشگی معذرت کرتا ہوں۔ میرے لیے اردو بلاگنگ کی تاریخ بیان کرنا تو ممکن نہیں ہو سکے گا، کہ یہ کام برادرم  میم بلال میم بہ احسن اپنے بلاگ پر سر انجام دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچے گا۔ اس مختصر سے وقت میں میری کوشش، یہاں اس محفل میں یہ ہو گی کہ پچھلے سات آٹھ برس میں جو کچھ میں نے دیکھا، محسوس کیا اور جو کچھ مجھے آئندہ ہوتا لگ رہا ہے، وہ بیان کر دوں اور کم سے کم الفاظ میں بیان کر دوں۔
تو آئیں پھر بلاگ سے بات شروع کرتے ہیں۔ بلاگ کی کوئی باضابطہ قسم کی تعریف مہیا نہیں کروں گا۔ بس اتنا  کہ میری سمجھ کے مطابق بلاگ ایک ڈائری ہے، ایسی ڈائری جو آپ آنلائن لکھتے ہیں اور دوسرے اسے پڑھ کر اس پر تبصرہ ، رائے وغیرہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ بلاگ ایک غیر رسمی قسم کی ویب سائٹ ہے، جہاں کوئی کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات تحاریر کی شکل میں بیان کر سکتا ہے۔ اور بلاگ عموماً زمروں اور ماہانہ بنیادوں پر  درجہ بند ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ہر دو اعتبار سے ایک بلاگ پر تحاریر کو پڑھ سکتے ہیں۔
بلاگ کی بات ہو گئی تو اب پاکستانی بلاگز اور اردو بلاگز کی جانب چلتے ہیں۔ انگریزی بلاگز کا ذکر نہیں کروں گا، چونکہ میں اس معاملے میں اناڑی ہوں، بذاتِ خود نہ انگریزی بلاگنگ میں بہت زیادہ ڈبکی لگائی، نہ انگریزی بلاگنگ کے رجحانات سے اتنی زیادہ واقفیت ہے۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ انگریزی بلاگر اور پاکستانی انگریزی بلاگر اردو کی نسبت کچھ آگے ہیں، آج کی محفل ،جو اردو بلاگز کی تاریخ کی پہلی ایسی محفل ہے، ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ اور وہ لوگ بطور پیشہ یہ کام بھی کرتے ہیں۔ تو واپس اردو بلاگز پر آتے ہیں۔  میں ماضی سے شروع کروں گا، کچھ یادیں کچھ باتیں آپ سے شئیر کر کے حال اور پھر مستقبل کی جانب بڑھوں گا۔
مجھے یاد ہے شاید 2005 کے آخری ماہ تھے ، جب میں نے انٹرنیٹ پر اردو محفل سے واقفیت حاصل کی۔ کیسے اس فورم کا پتا چلا، یہ اب یاد نہیں۔ تاہم اس کے بعد مجھے دوسروں کی دیکھا دیکھی بلاگ لکھنے کا شوق چڑھا۔ چند احباب جو کبھی بہت فعال تھے، یا اس وقت بلاگنگ کرتے تھے ان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ زکریا اجمل ہوا کرتے تھے، جو اردو اور انگریزی دونوں میں بلاگ لکھتے تھے۔ پھر ان کا اردو کی طرف رجحان کم ہوتا گیا۔ قدیر احمد رانا، ایک بہت ہی فعال بلاگر ، بہت پیارا انسان  لیکن پھر وہ بھی غمِ روزگار کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس  نے اپنا اردو بلاگ بھی شروع کیا، اور اردو ٹیک نیوز کے نام سے بھی ایک بلاگ چلایا کرتا تھا۔ ایک آدھ بار میں نے بھی اس بلاگ کے لیے کچھ لکھا۔ پھر ایک بدتمیز بھائی ہوا کرتے تھے، آج کل شادی شدہ ہو کر عمران حمید ہو گئے ہیں۔ بہت تیکھا بندہ تھا، ایک عرصے تک میں موصوف سے بات کرنے سے بھی ہچکچاتا تھا، یہی ڈر ہوتا تھا کہ اس کے ہتھے چڑھ گئے تو بہت بری ہونی ہے۔ لیکن بڑی پیاری شخصیت ، سنجیدہ اور متین ، بالمشافہ ملاقات میں  عرفیت کے بالکل متضاد نظر آئے۔ پھر ہمارے راشد کامران ہوا کرتے تھے۔ ہیں تو اب بھی لیکن بہت کم ۔ انہوں نے اردو بلاگنگ کے نام سے اردو بلاگرز کے لیے ایک سروس بھی شروع کی انہیں دنوں میں۔ تب اردو نسخ ایشیا ٹائپ کا دور تھا، تو ان کی سروس کے نئے نئے فونٹ بہت ہی بھلے لگتے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ سروس بند ہو گئی۔ عمران حمید کے حوالے سے اردو ٹیک بلاگنگ سروس کا  تذکرہ بھی ضروری ہے، جہاں اردو بلاگرز نے ایک عرصے تک بلاگز بنائے رکھے۔ لیکن پھر عدم توجہی کی بنیاد پر یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ ایک اور  صاحب ماشاءاللہ آج کل بہت مشہور قسم کے وکیل، جناب شعیب صفدر صاحب مجھ سے سینئر بلاگر، اور ان کے بلاگ کی تھیم مجھے ہمیشہ  بڑا اٹریکٹ کرتی تھی۔ پھر غلام مصطفٰی خاور جاپان والے بھی مجھ سے کئی سال سینئر بلاگر ہیں۔ ایک عرصے تک ان کی تحریر کا فونٹ  ٹائمز نیو رومن یا اس جیسا کوئی فونٹ رہا۔ پچھلے کچھ برسوں سے نستعلیق میں پوسٹ نظر آنے لگی ہے، اور قارئین کو پڑھنے میں کچھ آسانی ہوتی ہے اب۔ پھر ایک بھائی کراچی سے ہوا کرتے تھے، نعمان یعقوب، اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اور دودھ دہی کی دوکان کیا کرتے تھے۔ پھر ساتھ انگریزی بلاگنگ شرو ع کر دی، میرا اور ان کا ایک مشترکہ شوق لینکس تھا۔ آج کل ماشاءاللہ سوشل میڈیا ایکسپرٹ  ہیں، اور سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ماہر بھی ہیں۔ تذکرہ چلا تو افتخار اجمل صاحب جو  بزرگ اور پرانے ترین بلاگرز میں سے ایک ہیں، میرا پاکستان والے افضل صاحب جو ایک عرصہ تک بڑی باقاعدگی سے بلاگ لکھتے رہے۔ اور پھر اردو محفل والے نبیل، جن کے تیار کردہ جاوا اسکرپٹ اردو ایڈیٹر نے انٹرنیٹ پر اردو لکھنا بہت آسان کر دیا۔ (تدوین: جہانزیب اشرف کا نام رہ گیا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ وہ بھی عرصہ دراز تک اردو میں بلاگ لکھتے رہے اور ابتدائی بلاگروں میں شامل تھے، کچھ برسوں سے کم نظر آتے ہیں۔)
احبابِ مکرم!   2004، 5 یا 6  یا 2008تک بھی  اردو بلاگرز دو تین درجن کی تعداد میں تھے، اور ان میں سے بھی بہت کم فعال تھے۔ ابھی نستعلیق کا دور نہیں آیا تھا، اردو نسخ ایشیا ٹائپ بہر حال تاہوما سے بہتر فونٹ تھا، اور یہی طےشدہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ورڈپریس ابھی نیا نیا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار اس کے ورژن 1 اعشاریہ کچھ کا ترجمہ کرنے کی کوشش بھی کی، اور پھر  دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ ترجمہ آگے نہ چل سکا۔ اردو بلاگرز کئی جگہوں پر بلاگز بناتے رہے۔ 2006 میں بلاگسپاٹ پر پابندی لگی تو فری ہوسٹس پر منتقل ہو گئے۔ وہاں سے ڈیٹا ضائع ہوا تو واپس بلاگسپاٹ پر۔ کچھ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کو ٹرائی کیا، اس دوران اردو ٹیک کی بلاگنگ سروس بھی زیرِ استعمال رہی۔  رفتہ رفتہ کچھ احباب نے ذاتی ڈومین خرید لیے۔
اور آج، اگر ہم دیکھیں تو اردو بلاگز کے سب سے پرانے ایگریگیٹر اردو سیارہ پر ڈیڑھ سو بلاگز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں کئی نابغہ روزگار ہستیاں موجود ہیں۔ کرک نامہ کے ابوشامل، آئی ٹی نامہ کے ظہیر چوہان، موبائل پر اردو بلاگ کا آغاز کرنے والا نوجوان، میرا خیال یہ نوجوان ایک اور بلال ہے، جو شاید کراچی سے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ادب پر لکھنے والی شخصیات میں محمد وارث، آہنگِ ادب والے احباب، خرم بشیر بھٹی  جیسی شخصیات موجود ہیں۔  فرحان دانش اپنا بلاگ بھی لکھتے ہیں اور سُوکر نامہ بھی شاید انہی کی ادارت میں چلتا ہے۔ اسی طرح محمد اظہار الحق جو روزنامہ دنیا کے کالم نگار بھی ہیں، اور بلاگ پر بھی مضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔ غرض ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ہے جس میں موضوعاتی بلاگنگ کی کچھ بہت کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں جیسے کرک نامہ، شوگر پر شائع ہونے والا ایک بلاگ، اور منظرنامہ جو ایک بہت اچھی کوشش تھا لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکا۔ طنزو مزاح کے حوالے سے بلو بلا، ڈفر اور جعفر جس کی ہر تحریر کی کاٹ ہی الگ ہوتی ہے۔ پھر بہت سی خواتین بلاگرز موجود ہیں، اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے، عنیقہ ناز جیسی ہستی بھی ہمارے درمیان موجود تھی۔ کچھ احباب بھارت سے بھی بلاگنگ کرتے ہیں حیدرآبادی، شعیب صاحب وغیرہ۔ غرض لمبی فہرست ہے اور جن کا تذکرہ میں نہیں کر سکا ان سے معذرت، یہ میری کوتاہی  اور وقت کی کمی کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
عزیزانِ گرامی حال میں ہمارے پاس نہ اردو لکھنے میں کوئی مسئلہ کہ پاک اردو انسٹالر دستیاب ہے، نہ تھیم کی دستیابی کوئی بہت بڑی وجہ کہ بہت سے تھیم اردو میں پہلے سے تبدیل شدہ موجود ہیں، اور نہ اچھا فونٹ نہ ملنے کا عذر کہ ہمارے پاس نستعلیق کی کم از کم تین اقسام موجود ہیں۔ اور تاج نستعلیق جیسے ہیرے بھی جلد ہی دستیاب ہوں گے۔ آج ہم 2004 یا اس سے قبل کے مقابلے میں بہت آگے آ چکے ہیں۔ ہمارے پاس وہ سہولیات ہیں جن کا صرف ایک وقت میں خواب دیکھا جا سکتا تھا۔ مثلاً ویب پر رینڈرنگ کے قابل ایک نستعلیق فونٹ، یہاں وضاحت کرنا چلوں کہ نستعلیق فونٹ ڈسپلے ہونے میں زیادہ پروسیسنگ مانگتا ہے، یا پھر ان پیج کی طرح ترسیمہ جاتی فونٹ ہو جیسا کہ جمیل نستعلیق اور فیض لاہوری نستعلیق جیسے فونٹ موجود ہیں۔
تو صاحب ہمارے پاس آج بڑے پیارے پیارے لوگ موجود ہیں، بڑی نابغہ روزگار ہستیاں ہیں۔ آج اردو بلاگنگ اپنے پنگھوڑا دور سے باہر آ چکی ہے۔ لیکن آج بھی ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ میں بہت زیادہ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔ بس سرسری تذکرہ کرکے اس گفتگو کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پہلا مسئلہ تو مستقل مزاجی کا ہے۔ منظر نامہ کی مثال دی گئی، قدیر احمد رانا اور عمران حمید جیسے بلاگر، جو کچھ عرصے بعد بلاگنگ کو خیرباد کہہ گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بنیاد رکھی تھی، لیکن  پھر ہمارا اور ان کا ساتھ چھوٹ گیا۔ مستقل مزاجی سے جڑی ایک چیز ہے پیشہ ورانہ پن، جو اردو بلاگنگ میں ابھی موجود نہیں۔ صرف کرک نامہ جیسی جہادی قسم کی مثالیں موجود ہیں، تاہم ابوشامل جیسی ڈٹرمینیشن  ہر کسی کے پاس نہیں ۔ مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ پن اس وقت آتا ہے جب کسی کام کے ساتھ روزی روٹی لگ جائے۔ اور اردو بلاگنگ میں ابھی یہ بہت دور کی کوڑی لگتی ہے۔ شاید کئی سال اور، چونکہ اردو بلاگز کو اشتہار نہیں ملتے، جو آج کل کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اس لیے بلاگرز اتنے فعال نہیں رہتے یا پھر ویسے ہی غمِ روزگار پر بلاگنگ کو قربان کر دیتے ہیں۔
کمیونٹی کے حوالے سے دیکھیں تو ہمیں فعال نظر آنے کے لیے ایسے اکٹھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ اردو بلاگ فورم معرضِ وجود میں آیا اور دعا ہے کہ یہ کانفرنس ایک لمبے سلسلے کا پہلا قدم ہو، اور ہر برس بلکہ ہر چند ماہ بعد ہر بڑے شہر میں ایسے اکٹھ ہوں۔ جہاں ہم مل بیٹھ کر نہ صرف پیشہ ورانہ مسائل پر گفتگو کریں، بلکہ ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کریں۔
ایک اور اہم  چیز روایتی میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے رابطے کا فقدان ہے۔ اگرچہ بی بی سی اردو، جنگ، ڈان اردو وغیرہ وغیرہ پر اردو بلاگ نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ بطور کمیونٹی ہمارا تعلق ابھی دوری والا ہے۔ میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی کوشش نہیں کی کہ اپنی کوئی تحریر کسی بڑے ادارے مثلاً ڈان اردو کو ہی بھیج دوں کہ وہ اپنے بلاگنگ سیکشن میں شائع کر دیں۔ ہمیں رابطے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم، یعنی عام عوام میں سے کچھ لوگوں کی بات زیادہ بڑے پیمانے پر سنائی دے تو ایسے رابطے بڑھانے ہوں گے۔
کاپی رائٹ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کے کاپی رائٹس کا خیال رکھنا ہو گا، بلکہ اپنی تحاریر کی چوری پر بھی چپ رہنے کی بجائے مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے اس کا سدِباب کرنا ہو گا۔ کرک نامہ کی کچھ تحاریر کچھ ماہ قبل ایک کرکٹ میگزین نے بلا اجازت اور اپنے نام سے چھاپ دیں، لیکن ہمارے پاس  کاروائی کا کوئی ذریعہ ہی نہ تھا، چناچہ ایک دو پوسٹس، اور فیس بک پر دو چار شئیرنگ کے بعد چپ ہو کر بیٹھ گئے۔
آخر میں گروپ بلاگنگ اور موضوعاتی بلاگنگ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ گروپ بلاگنگ جس کی ایک اچھی مثال منظرنامہ تھا، ایک اچھا قدم ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا بلاگ جہاں پر اردو بلاگرز کی بہترین تحاریر کو جگہ ملے۔ یا حالاتِ حاضرہ پر کوئی ایسا بلاگ  بھی بن سکتا ہے۔ اور موضوعاتی بلاگنگ، کرک نامہ کی ٹیم کو سلام ہے کہ مفتو مفت کام کیے جا رہے ہیں۔ آئی ٹی نامہ، سوکر نامہ، پاک موبائل وغیرہ کچھ چراغ روشن تو ہیں لیکن انہیں چراغاں میں بدلنا ہو گا۔ اور اس کے لیے جہاں ذاتی کوشش چاہیے، وہاں اجتماعی کوشش بھی چاہیے۔ بطور کمیونٹی اگر ہم فعال ہوئے تو میڈیا اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو احساس ہو گا کہ  یہ لوگ بھی ریڈرشپ رکھتے ہیں۔ اور شاید اس طرح  ٹیلنٹڈ بلاگرز کے لیے مالی مشکلات کا بھی کچھ مداوا ہو سکے۔
بلاگرانِ عالی قدر، آپ کی سمع خراشی  کی ،ا تنا سارا وقت لیا۔ اس زحمت کو برداشت کرنے کا شکریہ۔ اردو بلاگ فورم کا پھر سے شکریہ جنہوں نے  یہ اکٹھ ممکن بنایا،  دعا ہے کہ اللہ کریم اس میں ہمارے لیے بہتری  پیدا فرما دے۔
وما علینا الالبلاغ

پیر، 30 جنوری، 2012

اردو سے انگریزی لغت (ڈکشنری)

ایک عرصے سے ارمان تھا کہ اردو سے انگریزی لغت ہو۔ تاکہ اردو سے انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے جہاں انگریزی ختم ہو جائے وہاں لغت کی مدد لی جا سکے۔ تاہم اگر کوئی حل دستیاب بھی ہوا تو وہ آنلائن تھا، آفلائن حل کوئی نہ تھا۔ کلین ٹچ جیسی لغات بھی دستیاب ہیں لیکن مفت خورے ان کی طرف کیوں دیکھیں۔ خیر دو دن پہلے بخار سے اٹھے تو لغت پر جا پڑے۔ اور اردو ٹرانسلیٹر گلاسری ، جو کہ اردو ویب لغت کی ڈیٹا بیس فائل کو ہی سادہ ٹیکسٹ میں تبدیل کر کے اومیگا ٹی میں استعمال کے قابل بنائی گئی تھی، کے بعد اب پیش ہے ایک عدد اردو سے انگریزی لغت۔
اس سے ہزار گنا بہتر پروگرام لکھا جا سکتا تھا، فہرست الفاظ میں بےشمار غلطیاں ہونے کے قوی امکانات ہیں، اور ہو سکتا ہے سافٹویر ہی چلنے سے انکاری ہو جائے۔ تاہم ایک نیم حکیم سے اسی کی توقع کیجیے۔ ہم نے کوئی راکٹ سائنس استعمال نہیں کی بس اردو ویب  لغت کی انگریزی  سے اردو والی ورڈ لسٹ کو اردو سے انگریزی کے لیے قابل استعمال بنا دیا۔ کچھ کچھ قابل استعمال، اب یہ آفلائن مقاصد خاصی حد تک پورے کر سکتی ہے۔ اور اردو سے انگریزی متبادل مہیا کر سکتی ہے۔
اردو سے انگریزی لغت
سی شارپ میں لکھی گئی ہے۔ اور بڑا سادہ سا کام ہے۔ اردو حرف دیں تو پہلے تو یہ حرف بحرف انٹری دیکھے گی۔ اگر ہوئی تو پہلی انٹری وہی شو ہو گی۔ اس کے بعد تلاش کردہ لفظ سے شروع ہونے والے تمام اندراجات سامنے نکال کر رکھ دے گی۔ دوسرا آپشن "حرف بحرف" پہلے کا ہی آدھا ورژن ہے، یعنی اگر حرف بحرف ملتے لفظ ہوئے تو کچھ ملے گا ورنہ چھٹی۔ نبیل نقوی کے تیارہ کردہ اردو ڈاٹ نیٹ کنٹرولز کو استعمال کرتے ہوئے اردو لکھنے کی سہولت دی ہے۔ باقی سادہ سا انٹرفیس ذاتی تیار کردہ ہے۔ لغت اطلاقیہ سی شارپ میں لکھا گیا ہے، ونڈوز سیون 64 بٹ اور شارپ ڈویلپ ورژن 4۔ اس پوسٹ کے ساتھ اس کی ایگزی فائل اور سورس پراجیکٹ شامل ہیں۔ اگر ایگزی نہ چلے تو خود سے کمپائل کر لیں۔ لغت کا فونٹ جمیل نوری نستعلیق ہے، چناچہ بہتر ہے کہ فونٹ بھی انسٹال ہو۔
اردو انگریزی لغت
اردو انگریزی لغت شارپ ڈویلپ پراجیکٹ
اپڈیٹ:
شاکر القادری صاحب کے تعاون سے القلم اردو انگریزی لغت کا ڈیٹا مجھے مل گیا تھا۔ اسے بھی اس میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈاٹ نیٹ کا ورژن بھی 2 کرنے کی کوشش کی تھی، کامیاب ہوئی یا نہیں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ڈاٹ نیٹ 2 پر نہ چلے تو تین انسٹال کر کے چلا لیں۔ اور ایک وضاحت لغت میں *اعراب* والے الفاظ *اعراب کے بغیر* ٹائپ کریں ورنہ تلاش نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ تلاش کی تکنیک کی خامیاں تھیں، چناچہ اعراب کو اڑانا پڑتا ہے، تاہم شو کرواتے ہوئے اعراب نظر آتے ہیں۔ اسکرین شاٹ ملاحظہ ہو۔
اردو سے انگریزی لغت القلم کے ساتھ
علاوہ ازیں اب "حرف بحرف" تلاش کو طےشدہ (ڈیفالٹ) حیثیت دے دی ہے۔ یہاں دونوں لغات نظر آ رہی ہیں۔ جبکہ ملتے جلتے الفاظ کے آپشن میں صرف اردو ویب لغت ہی استعمال ہوتی ہے۔ اردو ویب لغت کے اندراجات قریباً دو لاکھ الفاظ کے ہیں، جبکہ القلم کے اندراجات تیس ہزار کے قریب ہیں۔
اردو انگریزی لغت

اردو انگریزی لغت سورس کوڈ

اپڈیٹ:

اردو انگریزی لغت ڈراپ باکس لنک

اردو انگریزی لغت سورس ڈراپ باکس لنک

جمعرات، 27 اکتوبر، 2011

ماں بولی کا نوحہ

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
کبھی یہ محاورہ/کہاوت/ مصرع سنا تھا۔ زبان ثقافت، زبان کلچر، زبان زندگی جینے کا ڈھنگ، زبان  نسلوں کی وراثت کی امین۔ زبان نہ رہے تو  نسلوں کی نسلیں بدل جاتی ہیں۔ اور یہی ہو رہا ہے۔ پنجاب میں، خیبر پختونخواہ میں، سندھ میں، بلوچستان میں یہی  ہور ہا ہے۔ مجھے دوسرے صوبوں کے شہری علاقوں کا نہیں پتا۔ لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ میرے صوبے پنجاب کے، سوہنے پنجاب کے شہری علاقوں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات ، شیخوپورہ، ملتان سے میری ماں بولی مر رہی ہے۔ پنجاب سے پنجابی مر رہی  ہے۔ اور اسے مارنے والے پنجابی ہیں۔ آٹھ کروڑ پنجابی، جو مل کر اپنی ماں بولی کو قبر میں اتار رہے ہیں۔  اردو کے نام پر، قومی زبان کے نام پر، یکجہتی کے نام پر، اور انگریزی سے نفرت کے نام پر وہ پنجابی کا قتل کر رہے ہیں۔ اور  حیرت ہے، صد حیرت ہے کسی کو اپنے ہاتھوں پر لہو نظر نہیں آتا۔ انہیں اردو کی بےحرمتی یاد  رہتی ہے، پنجابی  کی اکھڑتی سانسیں نظر نہیں آتیں۔ حیرت ہے، صد حیرت ہے۔

یہ تحریر پڑھنے والے جان لیں کہ یہ کسی تعصب میں نہیں لکھی جا رہی، نہ ہی کسی کے جواب میں لکھی جار ہی ہے۔ یہ تحریر کسی عام بندے کے ہاتھوں نہیں لسانیات کے ایک طالبعلم کے ہاتھوں لکھی جا رہی ہے۔ چناچہ اسے سستی جذباتیت سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش نہ کیجیے گا۔ یہاں حقائق کی بات کی جائے گی،جذباتیت اوپر والے پیرا گراف میں ختم ہو گئی۔ آگے حقائق کی دنیا ہے۔ یہ تحریر اس لیے لکھی جارہی ہے کہ کل کو تاریخ گلا نہ کرنے کا کسی پنجابی نے اپنی زبان کے مرنے کا نوحہ نہیں پڑھا تھا۔ یہ تحریر اس لیے لکھی جا رہی ہے کہ لوگوں کو یاد رہے کہ پنجابی اپنی زبان کے قاتل تھے، انہوں نے اپنی ماں بولی کی قبر خود تیار کی اور خود قتل کر کے قبر میں بڑے اہتمام سے دفنا کر اوپر اردو میں لکھا ایک کتبہ لگا دیا۔

سائیں سب اردو کی بات کرتے ہیں۔ سب انگریزی کے ہاتھوں اردو کی بے حرمتی کی بات کرتے ہیں۔ پنجابی کی بات کیوں نہیں کرتا کوئی؟ پنجابیوں نے قیام پاکستان سے پہلے سے لے کر پنجابی کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک روا رکھا۔ اس وقت بھی جب کسی نے پنجابی کو پنجاب کی  زبان کا درجہ دینے کی یا بات ہوئی، یا نصاب میں شامل کرنے کی بات ہوئی یا  ایسی  کوئی بھی بات ہوئی جہاں پنجابی کو رسمی طور پر حکومت نظم و نسق میں استعمال کرنے کو کہا جاتا۔ وہیں اردو بولنے والی پنجابی اردو کی حفاظت کے لیے آگے آ جاتے، پنجابی پیچھے چلی جاتی۔ اور آج یہ حال ہے کہ پنجابی کو کسی دفتر میں رائج کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔  دفتری زبان تو انگریزی ہے یا پھر اردو۔  مجھے بالکل یا دہے کہ یہ ہندوؤں کی اور سکھوں کی "سازش" تھی کہ پنجاب میں اردو کی بجائے پنجابی کو فروغ دیا جائے۔ "تاریخ" جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں یہی بتاتی ہے۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں۔ آج دنیا میں پنجابی کا نام لیں تو ذہن میں کون آتا ہے؟ شاکر، امجد، ارشد، ماجھا، گاما؟ نہیں بلبیر سنگھ، دلیر سنگھ جیسے نام اور سکھوں کے داڑھیوں والے چہرے پگڑیوں والے سر ذہن میں آتے ہیں۔  پنجابی بولے تو سکھوں کی زبان ہے۔ پنجابی بولے تو کافروں کی زبان ہے، مسلمانوں کی زبان اردو ہے۔  یہی ہو رہا ہے نا سائیں۔ سکھوں نے ہر جگہ پنجابی کو فروغ دیا، پنجابی ثقافت کو فروغ دیا، بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پنجابی کی لسانیات پر کام ہو رہا ہے۔ پنجابی کو ڈیجٹلائز کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ اس پر ڈاکٹریٹ ہو رہی ہے۔ اسے دفتری زبان بنانے کے سارے لوازمات ان کے پاس موجود ہیں۔ لغات ہیں جو قانون سے لے کر میڈیکل تک کی اصطلاحات کو کور کرتی ہیں۔  یہ سب کچھ ہے جو میں نے پچھلے چارسال میں بطور مترجم کام کرتے ہوئے اور بطور لسانیات کے طالبعلم پنجابی کے بارے میں جانا، کہ سکھ کیا کر رہے ہیں اپنی زبان کے لیے۔ چناچہ آج حال یہ ہے کہ پنجابی کا رسم الخط گورمکھی بن گیا ہے۔ میں ترجمہ کروں تو 99 فیصد جابز گورمکھی رسم الخط کی ہوتی ہیں، میں اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہوں۔ پنجابی کے سارے کمپیوٹر معیارات گورمکھی کی بنیاد پر بنے ہیں۔  اور شاہ مکھی؟ کچھ عرصہ پہلے گوگل پلس پر ایک صاحب سے بحث ہو گئی ۔ انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ پنجابی کا کوئی رسم الخط بھی ہے۔ ان کے خیال میں یہ اردو میں لکھی جاتی ہے۔ حالانکہ اردو کے پوتڑے پنجابی نے صاف کیے ہیں۔ اردو کو رسم الخط اور کسی زبان ہیں پنجابی نے دیا ہے۔ یہ جسے فارسی  رسم الخط کہتے ہیں اس میں صدیوں پہلے مسلمان صوفیا نے  پنجابی شاعری کی۔ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ پنجابی کا  رسم الخط گورمکھی ہے۔

 حیرت ہے نا جی؟ میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے سائیں یہ۔ شاید اور کسی کے لیے نہ ہو۔ پاکستانی پنجابی تو اردو کے مامے ہیں جی۔ ان کے تو گھروں سے بھی پنجابی کو دیس نکالا مل چکا ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں پنجابی چوڑوں، چماروں، میراثیوں اور بھنگیوں کی زبان بن  گئی ہے۔ پنجابی نوکروں کی زبان ہے۔ پنجابی غیر تہذیب یافتہ زبان ہے۔ پنجابی ماں بہن ایک کرنے کی زبان ہے۔ پنجابی جگت بازی کی زبان ہے۔ پنجابی غصے میں آ کر "بہتر" ذریعہ اظہار کی زبان ہے۔ پنجابی اوئے توئے، تُو کی زبان ہے۔ "پڑھے لکھے" گھر کے بچے سے پنجابی میں بات کر لو تو وہ گالی سمجھتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ وہ زبان ہے جو دادا دادی بولتے ہیں یا ابا جی نوکروں سے بولتے ہیں۔ ورنہ ممی تو سوفیسٹیکیٹڈ ہیں، اردو میں بات کرتی ہیں۔ یہ پنجابیوں کے خیالات ہیں سائیں پنجابی کے بارے میں۔ زبان کی وکالت کہاں گئی سائیں؟  حق گوئی کہاں گئی؟ یہاں زبان نہیں مر رہی؟ یہاں زبان کا قتل عام نہیں ہو رہا؟ یہاں نئی نسل پر ماں بولی کا دروازہ بند نہیں کیا جار ہا جب اسے "تہذیب یافتہ" زبان کے نام پر اردو سکھائی جاتی ہے، جب اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ پنجابی نچلے طبقے کی زبان ہے جس  کی کوئی تہذیب نہیں ہے۔ یہ ذلیلوں اور کمیوں چوڑوں کی زبان ہے۔  تو حق پرستی کیا ہوئی سائیں؟  تو  زبان بچانے کے نعرے کہاں گئے سائیں؟ پر کہیں بھی تو کس سے کہیں۔ جن سے کہیں وہی اپنے ہیں،انہیں کے ہاتھ میں خنجر ہے۔  کوئی یہ لازمی کہے گا کہ پنجابی کیسے دفتری زبان، اسکول یا سرکار کی زبان بن سکتی ہے۔ تو میرا جواب ہے کہ مجھ سے نہیں سکھوں سے پوچھو۔ انہوں نے تو بنا لی۔ پر ہمارے لیے تو اردو ہے نا سائیں، قومی یکجہتی کی زبان۔  پنجابی جائے بھاڑ میں۔

اردو کے بارے میں  بڑی خود ترسی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اردو کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے، اردو مر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو بولنے والے دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ میں پھر کسی اور صوبے کی بات نہیں کر رہا، میں پنجاب کی بات کررہا ہوں۔ یہاں کے شہری علاقوں، نیم شہری بلکہ اب تو دیہاتی علاقوں میں بھی ہر نیا پیدا ہونے والا بچہ اردو بولنے والا ہے۔ ماں باپ دن بدن اردو سکھانے پر زیادہ سے زیادہ زور دے رہے ہیں۔ اردو پنجاب میں مادری زبان بن رہی ہے۔ مادری زبان مطلب جس میں بچے کے ساتھ بات کی جائے۔ اردوبولنے کا موقع محل تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ پہلے اردو دفاتر کی زبان تھی، اسکول کالج اور میڈیا کی زبان تھی۔ اب گھروں میں بھی بولی جا رہی ہے۔ اگلے پانچ دس سال میں بازاروں میں بھی بولی جانے لگے گی۔ بلکہ اب بھی بولی جانا شروع ہو گئی ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ، ادھر ادھر دیکھیں اپنے بیٹے، بیٹی، بھانجے، بھتیجے کو بولتا دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ اردو مر رہی ہے؟


ایک اور بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اردو کے ذخیرہ الفاظ کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے انگریزی کے ہاتھوں۔  یہی کچھ پنجابی کے ساتھ ہو رہا ہے سائیں۔ آج کے پنجابی بولنے والے کے پاس پنجابی کا ذخیرہ الفاظ اردو کے تلفظ بدلے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ اصلی پنجابی الفاظ کہیں گم ہو گئے ہیں، بھول گئے ہیں چونکہ اردو کا اثر میڈیا، اخبارات اور سماجی رتبے کی وجہ سے اتنا زیادہ ہے کہ پنجابی  میں بھی اردو کے الفاظ استعمال کرنا "اچھا" سمجھا جاتا ہے۔ میری والدہ پنجابی بولتے ہوئے پچھلے کچھ سالوں سے اردو الفاظ کاتڑکا لگانے لگی ہیں، دور کہا جانا۔ چلیں پنجابی کی چھوڑیں سائیں اردو کی بات کرتے ہیں، ذخیرہ الفاظ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں ٹیکنالوجی کے الفاظ کا ذخیرہ سب سے زیادہ آرہا ہے۔ اس کے علاوہ  دوسرے الفاظ بھی ہیں، لیکن ذخیرہ الفاظ میں نئے لفظ در آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے۔ زندہ زبانیں ہمیشہ تبدیل ہوتی ہیں۔ اردو کو کوئی خطرہ نہیں۔ تو پنجابی کو بھی خطرہ نہیں؟ اوپر والے پیرا گراف کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔ پنجابی کو اردو اور انگریزی کے ذخیرہ الفاظ کی تکلیف ہی نہیں ہے۔ تکلیف رویوں کی ہے جو بڑی تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ چناچہ اردو  کے بارے میں خودترسی  کہ اس کا حلیہ بگڑ رہا ہے کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہے۔ اردو اچھی بھلی ہے، ہٹی کٹی ہے اور اللہ کے فضل سے مقامی زبانوں  کو لقمہ لقمہ کھا رہی ہے، ڈکار لیے بغیر۔

تعلیم کی بات کرنے والے، مادری زبان میں تعلیم کی بات کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مادری زبان اردو نہیں ہے۔ پنجابی ہے، سندھی ہے، بلوچی ہے ، ہندکو  ہے، سرائیکی ہے، پشتو ہے۔ اردو تو رابطے کی زبان ہے نا سائیں۔  تو تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ پانچویں تک تو سارے مضامین ماں بولی میں ہونے چاہئیں۔ انصاف کی بات نہیں یہ بھلا؟ ہمارے ساتھ سب سےبڑا المیہ یہی رہا  کہ قائد اعظم کے ایک بیان کو لے کر ہم نے اردو کو  مقدس گائے بنا  دیا۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہی ہو گی۔ ارے بھائی ہو گی تو کب انکار کیا ہے، دوسری زبانوں  کا گلا تو نہ گھونٹو۔ بنگالی اپنی زبان کا حق مانگتے مانگتے الگ ہوگئے۔ بنگلہ دیش بننے کی ایک وجہ یہ بھی تھی نا سائیں۔ یا 51 یا 52 عیسوی میں بنگالی کے حق میں ہونے والے فسادات بھول گئے سب کو؟ ہم سے تو اچھا بھارت ہے۔ ان کے نوٹ پر 22 زبانوں میں  اس کی رقم پرنٹ ہوتی ہے۔ 22 سرکاری زبانیں۔ پاکستان میں؟ انگریزی ہے نا جی، اردو ہے نا جی۔ مقامی زبانوں کا کام ہی کیا  رسمی مواقع پر، وہ تو بولیاں ہیں بس۔ پنجابی کی طرح ہنسی ٹھٹھے اور گالم گلوچ کا ذریعہ اظہار۔ وہ بھلا سرکاری زبان، یا تعلیم کی زبان یا رسمی زبان کیسے بن سکتی ہیں۔

انگریزی کے خلاف اور اردو کے  حق میں (یہاں پنجابی کہیں نہیں ہے ) بولنے والے بڑے لمبےچوڑے دلائل دیتے ہیں کہ اردو ہی ذریعہ تعلیم ہو۔ اردو ہی سب کو سکھائی جائے ۔ انگریزی صرف چند لوگ سیکھیں جنہوں نے باہر جانا ہے، یا جو مترجم ہیں تاکہ باقیوں کو سیاپا نہ کرنا پڑے نئی زبان سیکھنے کا۔ جاپان اور چین کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ مجھے ایک بات بتائیں  جاپان اور چین سے پاکستان کا موازنہ ہے؟ وہاں باہر سے لوگ آ کر رہتے ہیں، کام کرتے ہیں اور یہاں کے لوگ باہر جا کر کام کرتے ہیں۔ کتنے لاکھ پاکستانی باہر ہیں ملک سے؟ مزدور پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں مستقل باہر منتقل ہونے والوں کی نہیں۔ انہیں رابطے کے لیے جس زبان کی ضرورت پڑتی ہے بدقسمتی سے اکثر وہ انگریزی ہوتی ہے۔ اور جاپان، چین کی اپنی زبان میں ذریعہ تعلیم وغیرہم کی خیالی جنت سے بھی نکال دوں۔ جتنا جاپان اور چین، اور اب یورپ بھی انگریزی سیکھنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں  آپ تصور بھی نہیں فرما سکتے۔  چین والے انھے وا  انگریزی سیکھ رہے ہیں چونکہ انہیں اپنا کاروبار پھیلانا ہے، جاپان میں انگریزی کے اہل زبان امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا سے آکر رہائش رکھتے ہیں۔ انگریزی سکھانے کا کوئی ڈپلومہ لے کر آتے ہیں اور مقامی بچوں بڑوں کو انگریزی کی تعلیم دینا شروع کردیتے ہیں۔ اور اچھا کماتے ہیں، اپنے ملک سے بھی زیادہ۔  حقیقت اتنی بھی سیدھی نہیں ہے بھائی۔ آدھا کالا اور آدھا سفید نہیں ہے۔ درمیان میں  اتنا بڑا سارا حصہ گرے، سرخ، سبز،نیلا، پیلا بھی ہے۔ اردو کی خود ترسی میں دو جمع دو چار تو کر لیتے ہیں، حقیقت  دو جمع دو چار نہیں ساڑھے پانچ ہے۔

اور کیا نوحہ پڑھوں سائیں۔  میں اس بدنصیب زبان کا بولنے والا ہوں جس کے بولنے والے اسے لکھنا پسند نہیں کرتے۔لکھتے ہیں تو پڑھنا پسند نہیں کرتے، یا انہیں پڑھنا آتا ہی نہیں ہے۔ یہ  میرے بلاگ کی پچھلی تحریر پنجابی کی تھی۔ دو تبصرے ہوئے اس پر۔ اور یہاں درجن بھر لوگوں کے نام گنوا سکتا ہوں جو پنجاب سے ہیں اور پنجابی سمجھتے، بولتے ہیں۔ پنجابی چینلوں کا نوحہ بھی سنتے جائیں۔نام پنجابی ٹی وی ہے اور مشہوریاں اردو والی، فنکار سوفسٹیکیٹڈ زبان بولتے ہیں اردو  کی "بلینڈنگ" والی تاکہ پنجابی کا برا اثر نہ پڑے۔ ایک پروگرام میں ریمبو اور صاحبہ میزبانی کر رہے تھے (دونوں لاہور سے ہیں)۔ ریمبو پنجابی بول رہا تھا اور صاحبہ اردو، سوفسٹیکیٹڈ زبان جی۔ آخر زبان تو پھر اردو ہی ہے،پنجابی وہی مصلیوں،چوڑوں، چماروں کی زبان چاہے بولنے والے کو پیسے  ہی کیوں نہ ملیں۔ پنجابی بولنے والے  تسلی رکھیں اگلے بیس سالوں میں آپ کی اگلی نسل ساری اردو بولنے والی ہوگی۔  آپ پنجابی جانتے ہونگے ، آپ کے بچے اردو جانتے ہوں گے۔ آپ نے گلی محلے سے سیکھ لی پنجابی بولنی، آپ کے بچوں کو وہ سہولت بھی دستیاب نہیں ہوگی۔ چونکہ ساری آبادی اپنے بچوں کو اردو سکھا رہی ہو گی۔ پرانی نسل گزر جائے گی اور مجموعی طور پر اردو بولنے کا ٹرینڈ پروان چڑھے گا۔ پنجابی بولنے کے مواقع محدود ہو تے جائیں گے۔ اور پھرا یک دن آئے گا جب آخری پنجابی بولنے والا بھی مر جائے گا۔ اور پھر قومی یکجہتی پتھر پر لکیر ہو جائے گی۔  قومی یکجہتی کے نام، قومی زبان کے نام، پنجابیوں کی بے حسی کے نام، لسانیاتی اصلاحات نہ کرنے والے بزدلوں کے نام،  اس ملک کے عاقبت نا اندیش پالیسی سازوں اور جذبات پسند وڈوں کے نام، ایک مرتی زبان کے نام، ہیر رانجھے جیسی داستانیں لکھنے والے پنجابی صوفیوں کے نام ایک پنجابی بزدل کا عریضہ۔ جو اپنی زبان کا نوحہ بھی اپنی زبان میں نہیں پڑھ سکتا کہ اس کے اہل زبان پڑھنے کی زحمت نہیں کریں گے۔

منگل، 5 جولائی، 2011

مدیر اعلی کی طرف سے ایک اور خط

لو جی میرا بلاگ ڈاکیے کا کام کررہا ہے گلوبل سائنس اور اردو بلاگرز میں۔ کل ایک مضمون لکھا تھا، امید ہے اس کے بدلے ایک اچھا ڈنر کرسکوں گا اگلے ماہ۔ اس کے جواب میں مدیر اعلی کا خط آیا ملاحظہ کریں۔ اور اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ گلوبل سائنس کو لائٹ نہ لیں، آپ کے بلاگ کی تحاریر ہی اس میں شائع ہوتی رہیں تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہوجائیں گے۔

شاکر میاں
السلام علیکم
مضمون ارسال کرنے کا بے حد شکریہ؛ حمزہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا! آپ کا بہت شکریہ۔
آپ کی ارسال کردہ تحریر ڈی او سی ایکس فارمیٹ میں ہے؛ اور میرے پاس صرف پرانا ایم ایس ورڈ۲۰۰۰ اور اوپن آفس ہی موجود ہے۔ دونوں سافٹ ویئر ہی ڈی او سی ایکس فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ اگر ممکن ہو تو یہ مضمون مجھے اوپن آفس میں ارسال کردیجئے۔
آپ کی کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ فی الحال تمام جگہوں سے معذرت ہی سننے کو مل رہی ہے؛ لیکن اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کامیابی مل ہی جائے گی۔ کیا آپ کے پاس مولوی عبدالحق کی اُردو املا والی کتاب ہے؟
آپ کے فورم سے کچھ احباب نے رابطہ کیا تھا؛ لیکن بعد میں کوئی ای میل نہیں آئی۔ اگر ممکن ہو تو گلوبل سائنس کی طرف سے معاضوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیجئے؛ تاکہ وہاں آنے والے احباب کے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہے۔
سردست میری نظر چند ایسے موضوعات پر ہے جو شاید آپ جیسے ماہر لوگوں کے لیے معمولی ہوں؛ مگر مجھ جیسے پینڈووں کے لیے بہت اہم ہیں۔ مثلاً
کانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم (کیا ہوتے ہیں؛ کیسے کام کرتے ہیں؛ اور ویب سائٹ کی تیاری میں ان سے کیونکر استفادہ کیا جاسکتا ہے)۔
بلاگنگ (یعنی بلاگنگ کی ابتداء سے لے کر آج تک کی تاریخ؛ فوائد و نقصانات؛ دنیا کے مقبول بلاگز اور ان کے موضوعات؛ اردو بلاگنگ کے مقدار و معیار پر ایک طائرانہ نظر؛ بلاگنگ میں معاون مختلف سافٹ ویئر؛ اچھے یا معیاری بلاگ کی اہم ترین خصوصیات؛ انگریزی میں بلاگ کیسے بنایا جاسکتا ہے؛ اُردو میں بلاگ بنانے کے لیے اس کے علاوہ مزید کیا کرنا ہوگا وغیرہ)۔
اُردو زبان میں انٹرنیٹ سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے دستیاب آن لائن ’’اوزار‘‘ (یعنی ٹولز)؛ ان کی خوبیاں اور خامیاں؛ استعمال کے طریقے اور ان کے مختلف ورژنز وغیرہ۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل؛ چبھتے ہوئے سوالات: کیا اب بھی رومن اُردو کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی یہ اصرار کیا جانا چاہیے کہ محض انگریزی ہی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان ہے؟ کیا اس جدید دور میں ادیبوں اور شعراء میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اردو زبان کو ترقی دینے کے تقاضے پورے کرسکیں؟ کیا صرف اردو ویب سائٹس؛ بلاگز اور اردو ٹولز ہی اردو کو ترقی دینے کے لیے کافی ہیں یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟ وغیرہ۔
اُمید ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت جلد آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ سننے کو ضرور ملے گا۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو پہلے کی طرح اس بار بھی میرے اس خط کو اپنے بلاگ پر شامل کرسکتے ہیں۔ گر قبول افتد؛ زہے عز و شرف۔
آخر میں ایک بات اور: میں اپنی فطرت میں رجائیت پسند (آپٹمسٹ) ہوں؛ اور مایوسی کو کفر کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ لیکن میری ناقص رائے میں؛ اس جذبے کی ترویج کے لیے آپ اور آپ جیسے احباب سے رابطہ رہنا اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جاسکے۔
اُمید ہے کہ اس بار بھی تعاون ملے گا۔
جواب کا منتظر
علیم احمد

فون: 02132625545

ای میل: globalscience@yahoo.com


بدھ، 22 جون، 2011

مدیر گلوبل سائنس کی طرف سے ایک اور مراسلہ

یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ اردو بلاگر احباب نے میری صدا کو صدا بہ صحرا نہیں ہونے دیا، اور میرا مان رکھا۔ آپ کی نوازش۔ اور اب جناب علیم احمد کی ای میل جو آج ہی موصول ہوئی ہے۔ (یہاں آپ کو ء کے مسائل نہیں ملیں گے چونکہ میں نے ء کو ئ سے بدل دیا تھا)
برادرم شاکر عزیز
السلام علیکم
سب سے پہلے تو حمزہ (ئ) کے دوسرے حروف کے ساتھ درست طور پر منسلک نہ ہونے پر معذرت کروں گا۔
آپ نے دیگر احباب کو گلوبل سائنس کے لیے لکھنے پر آمادہ کرنے کی جو سعی فرمائی ہے؛ اس پر میں تہ دل سے آپ کا مشکور ہوں۔ برائے مہربانی میرے اس اظہار خیال کو رسم دنیا کی پاسداری نہ سمجھیے گا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ آواز دوست میں میرے خط کی شمولیت پر کچھ احباب نے رابطہ بھی فرمایا ہے۔ بلال میاں نے اپنے بلاگ کے روابط بھی ساتھ ارسال کیے تھے؛ جنہیں میں نے کل شام ہی دیکھ لیا تھا۔ ایسے تمام احباب جو گلوبل سائنس کے لیے قلمکاری کرنا چاہتے ہیں (خواہ وہ کمپیوٹر کے میدان کے لیے ہو یا ساینس کے کسی اور شعبے کے حوالے سے) ان سے گزارش ہے کہ وہ اس احقر کی ایک رہنما تحریر ضرور پڑھ لیں جو گلوبل سائنس کی ویب سائٹ پر شایع ہوئی تھی۔
آپ تمام احباب اس لحاظ سے میرے اور دوسرے محبان اُردو کے شکریے کے حقدار ہیں کہ آپ لوگ اُردو زبان کا دامن صحیح؛ تصدیق شدہ اور مستند علم سے لبریز کرنے کی اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ البتہ؛ کسی بھی زبان میں قلمکاری کے حوالے سے دو نکات بظاہر الگ الگ ہیں لیکن ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیں: اوّل وہ زبان لکھنے کا طریقہ؛ اور دوم اس زبان میں لکھنے کا سلیقہ۔ ماشائ اللہ؛ طریقہ آپ تمام احباب کو بخوبی آتا ہے۔ البتہ؛ مذکورہ بالا تحریر کے ذریعے آپ سلیقے کے بارے میں بھی تھوڑا بہت جان سکیں گے۔
رہا سوال گلوبل سائنس میں کوئی بھی تحریر تیار کرنے کا؛ تو پہلے ہی دن سے ہمارا ایک اصول ہے: پینڈووں کے لیے لکھیے۔ یہاں لفظ ’’پینڈو‘‘ سے میرا مقصد ہر گز ایسے کسی دوست کی تضحیک نہیں جو گاوں دیہات میں رہتا ہو؛ بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریر اتنی سادہ؛ سلیس اور رواں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والا اسے متعلقہ شعبے کا کم سے کم علم رکھنے کے باوجود بھی سہولت سے سمجھ سکے؛ اس کی غرض و غایت سے آگاہ ہوسکے؛ اور جب وہ اس تحریر کا مطالعہ مکمل کرے تو اپنے علم میں بجا طور پر اضافہ محسوس بھی کرسکے۔ دھیان رہے کہ یہ ’’علم‘‘ صرف کمپیوٹر سائنس یا انفارمیشن ٹیکنالوجی تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ دنیا کا کوئی سا بھی علم ہوسکتا ہے۔
باقی کے نکات؛ ان شائ اللہ؛ آپ کو متذکرہ بالا تحریر میں مل جائیں گے۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی وضاحت طلب بات رہ گئی ہو تو آپ اسی برقی ڈاک کے پتے پر مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ تمام احباب سے وعدہ ہے کہ میں نے اب تک قلمکاری اور ابلاغ کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھا ہے؛ وہ آپ تک پہنچانے میں کنجوسی یا بے ایمانی ہر گز نہ برتوں گا۔
درج ذیل اعلان ماہنامہ گلوبل سائنس کے شمارہ جون ۲۰۱۱ء میں شایع ہوا ہے؛ جسے احباب کی سہولت کے لیے یونی کوڈ میں تبدیل کرکے نقل کیا جارہا ہے۔
اعلانِ معاوضہ برائے آزاد قلمی معاونین
الحمدللہ! گزشتہ دو ماہ سے ”گلوبل سائنس“ میں شائع ہونے والی تحریروں پر قلمکاروں کو معاوضے دینے کا آغاز ہوچکا ہے۔ اِن شائاللہ، اب آپ کو عوامی سائنسی ابلاغ کے اس کارِ خیر میں بلا معاوضہ شرکت کرکے، کچھ حاصل نہ ہونے کا طعنہ نہیں سہنا پڑے گا۔ اس پیمانہء ادائیگی (پے اسکیل) کا مختصر احوال یہ ہے
معاوضہ برائے مختصر تحریر (100 تا 200 الفاظ، شائع شدہ): 50 روپے فی تحریر۔ مثلاً سائنسی خبریں بشمول دنیائے سائنس، صحت عامہ و طبّی ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر/ ہارڈویئر، ڈیفنس کارنر؛ کمپیوٹر ٹپس؛ سائنس دوست وغیرہ۔
معاوضہ برائے اوسط تحریر (200 تا 500 الفاظ، شائع شدہ): 100 روپے فی تحریر۔ مثلاً طویل خبر؛ خبری مضمون (نیوز فیچر)؛ کمپیوٹر ٹیوٹوریل؛ سائنسی تجربہ وغیرہ۔
معاوضہ برائے طویل تحریر (1,000 تا 2,000 الفاظ، شائع شدہ): 500 روپے فی تحریر۔ مثلاً 2 سے 3 صفحات پر مشتمل تحریر/ مضمون/ کمپیوٹر ٹیوٹوریل۔
معاوضہ خصوصی تحریر (3,000 یا زیادہ الفاظ، شائع شدہ): 1,000 روپے فی تحریر۔ یعنی تین سے زائد صفحات پر مشتمل تحریر یا خصوصی رپورٹ جو ایک سے زائد متعلقہ مضامین/ اضافی باکس آئٹمز وغیرہ پر مشتمل ہو۔
نوٹ
الف۔ مذکورہ بالا کے علاوہ، ایسی تحریریں یا رپورٹیں جو ادارہ گلوبل سائنس کسی قلمکار سے فرمائشی طور پر (یا بطورِ خاص) لکھوائے گا، اُن کا معاوضہ علیحدہ سے طے کیا جائے گا۔
ب۔ معاوضہ کسی بھی تحریر کی اشاعت کے بعد واجب الادا ہوگا، اور اشاعت کے 30 یوم کے اندر اندر ادا کردیا جائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کےلئے
globalscience@yahoo.com
 پر مدیر گلوبل سائنس (علیم احمد) سے رابطہ کیجئے۔

ہفتہ، 1 جنوری، 2011

مدیر گلوبل سائنس علیم احمد کے ساتھ کچھ تبادلہ خیال

گلوبل سائنس سے ہمارا رشتہ کوئی 9 سال پرانا ہے۔ 2001 میں پہلی بار گلوبل سائنس لے کر پڑھا تھا اور اب 2011 آگیا ہے۔ اس میں کئی بار لکھنے کا موقع بھی ملا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ برادرم علیم احمد نے مجھے کل خصوصی طور پر ای میل کی جس میں میرے پچھلے مضمون، جو اومیگا ٹی اوپن سورس ٹرانسلیشن ٹول پر لکھا گیا تھا، کی تعریف کی گئی تھی اور مزید ٹیوٹوریلز باقاعدگی سے لکھنے پر بھی اصرار شامل تھا۔ علیم بھائی کے کہنے پر ہی اس ساری خط و کتابت کو اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں، چونکہ انھیں کمپیوٹر کے موضوعات پر لکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ اردو بلاگنگ کمیونٹی سے اس سلسلے میں ہغور کی اپیل ہے۔ گلوبل سائنس جیسے پرچے میں لکھنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں ہے۔
Brother Shakir Aziz,
Assalaam U Alaikum,
I feel pleased to inform you that we have decided to celebrate 2011 as the year of revival and reinvention for monthly Global Science. As a matter of fact, it's a huge task to accomplish; and we can't do it alone. Therefore, I seek your cooperation on regular basis; and request you to write IT-related features/ tutorials for Global Science - that is, every month. You may also know that - during the last four or five years - tutorials like PHP, MySQL and others were left incompleted. I'd like to re-begin these tutorials, to complete before the end of 2011. Besides, Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani personally appreciated your article on OmegaT (translation memory software). On similar track, I'll appreciate if you write about more Urdu-language, Open Source, and free utilities available on the net; and how our readers can make better use of them.
Whatever your response may be, I'll appreciate an earliest possible reply from you.
Wassalaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
اسلام و علیکم
آپ کی ای میل کا شکریہ
ماشاءاللہ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ گلوبل سائنس نئے جذبے سے 2011 میں داخل ہورہا ہے۔ ٹیوٹوریل کی فراہمی کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے صارفین کو بھی اس سے آگاہی حاصل ہو۔ کمپیوٹنگ ایسا رسالہ تھا جس میں میں نے، اور محمد علی مکی نے باقاعدگی سے لکھا۔ اس کی وجوہات میں ایک تو اس کا مکمل طور پر کمپیوٹر کے موضوعات پر مبنی ہونا تھا، دوسرے اس وقت اتنی مصروفیت نہیں تھی، تیسری وجہ ہمارا امانت علی گوہر اور دوسرے مدیران وغیرہ سے آنلائن واقفیت اور اکثر گفتگو و چیٹ تھی۔ ایک اور وجہ ظاہر ہے ان کی طرف سے ادا کیا جانے والا معمولی سا مشاہرہ بھی تھا۔ گلوبل سائنس کے سلسلے میں کئی بار تو یہ دل کیا کہ آپ کے اعزازی مدیر والے پلان میں حصہ لوں تاہم مصروفیت اور گلوبل سائنس کے مزاج کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا۔ چونکہ یہاں سب کچھ ٹیوٹوریلز ہی نہیں ہوسکتے، یہ ایک عمومی سائنسی جریدہ ہے۔ تاہم میری کوشش ہوگی کہ اپنے محدود علم کے مطابق وقتًا فوقتًا آپ کو ٹیوٹوریلز ارسال کرتا رہوں۔ پروگرامنگ کے ٹیوٹوریلز کے بارے میں عرض یہ ہے کہ میرا علم اس سلسلے میں خاصا محدود ہے، سی شارپ کبھی سیکھی تھی کارپس لنگوئسٹکس اور ٹیکسٹ پروسیسنگ کے لیے، یہ سیلف سٹڈی نالج ہی ہے میرے پاس، اس کے علاوہ کسی اور پروگرامنگ زبان سے نابلد ہوں۔ چناچہ اس سلسلے میں پرانے ٹیوٹوریلز کو آگے لے کر نہیں چل سکوں گا۔ لینکس وغیرہ پر ٹیوٹوریلز کے لیے میں محمد علی مکی کا نام تجویز کروں گا۔ اردو لینکس کے سلسلے میں ان کا بہت کام ہے اور آپ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ دوسرے میری یہ گزارش ہوگی کہ اردو بلاگز اور اردو فورمز خصوصًا اردو ویب محفل، پر ضرور تشریف آوری رکھیں۔ آپ جو مسائل گلوبل سائنس کے ادارے میں اٹھاتے ہیں وہی مسائل آپ ان فورمز پر اٹھا کر زیادہ بہتر رسپانس حاصل کرسکتے ہیں۔ میری مراد ادارے کے مالی مسائل، اور نئے لکھاریوں کی فراہمی وغیرہ سے ہے۔ اردو انٹرنیٹ کمیونٹی بہت فعال ہوچکی ہے اور اب بھی اس سے دور رہنا گلوبل سائنس کے مستقبل کے لیے اچھی چیز نہیں ہوگی۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہنرمند موجود ہے، امید ہے آپ کی کمپیوٹر سے متعلق لکھاریوں کی کمی یہاں سے پوری ہوسکتی ہے۔ نیز آپ کو اردو سے متعلق بہت سی خبریں بھی ان ویب سائٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
اور آخر میں آپ کو نیا سال مبارک۔ ای میل اردو میں لکھی ہے چونکہ اردو ہی ہمارا مقصد ہے ۔
نیک خواہشات کے ساتھ
وسلام
Shakir Mian,
Assalaam U Alaikum,

sub say pehlay to mu'azrat chahoonga keh main yeh jawab Roman Urdu main likh raha hoon. Dar-asl meray computer main Urdu support bohet achchhi naheen, jebkeh mujhay Muqtadira kay puranay (1990 kay zamanay walay) keyboard per kaam kernay kee adat hay, aur koshish kay bawajood main phonetic keyboard per apna haath rawaan naheen kersaka.

Global Science kay baaray main aap ka farmana bilkul baja hay keh yeh science ka umoomi jareeda hay, jiss main computer or information technology kay mazameen "bhee" shamil hotay hain - y'ani hum poora shumara computer or IT kay leay makhtes naheen kersaktay. Yeh hamari aik idarti majboori hay. Computing kay zareay Amanat Ali Gauher nay koshish to bohet achchhi kee thee, (.....)

Main yeh da'wa bhee naheen karoonga keh agar aap logon main say koi Global Science kay leay likhay ga to hum usay m'uawza day sakaingay; taahem, itna yaqeen zuroor dila sakta hoon keh Global Science kay zareay aap ke awaz, Pakistan bher main phailay huay, unn logon tek zuroor ponhchay gee jo computer ka shauq rakhtay hain aur isay sanjeedgi say seekhna chaahtay hain.

Global Science kay saath t'aawun kay leay main chahoon ga keh agar aap meri saabiqah email aur apna jawab apni website per deegar ahbaab kay mulahizay kay leay rakh dain to shayed koi naya likhnay wala is jaanib mutawajjuh hosakay. Aap say email per raabta rahay gaa, aur, aanay waalay dino main, In-sha-Allah, hum koi aisa raasta zuroor nikaal laingay jiss say aap kay idaray/ website ka bhee fayeda ho aur humain bhee apna kaam behter taur per anjaam dainay ka mauqa milay.

Wasslaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
وعلیکم سلام بھائی جی
آپ نے بڑی نستعلیق اردو فرنگیوں کے رسم الخط میں لکھی۔ بے تکلفی اور مخصوص فیصل آباد سٹائل میں آنے پر معذرت نہیں چاہوں گا۔ آپ کی پہلی انگریزی ای میل کی وجہ سے فارمیلٹی سی بن گئی تھی ورنہ گلوبل سائنس تو گھر والی بات ہے۔ :-)
اب بات کیے لیتے ہیں کمپیوٹنگ کی۔ آپ کے نکتہ نظر کا احترام کروں گا تاہم اس سلسلے میں میری رائے محفوظ ہے۔ کمپیوٹنگ اچھی کوشش تھی جو اگر جاری رہتی تو اردو والوں کا بہت فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان لوگوں کا اپنے لکھاریوں سے بہت قریبی رابطہ تھا۔ اور اس چیز کی گلوبل سائنس کی انتظامیہ میں کمی ہے۔ اب آپ یہ دیکھ لیں کہ آپ کے علم میں یہ نہیں ہے کہ مقتدرہ کا کی بورڈ ونڈوز کے لیے بن چکا ہے۔ اور یہ اردو محفل پر ہی موجود تھا۔ ملاحظہ کریں۔ میں پھر گزارش کروں گا کہ گلوبل سائنس کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ اردو کمیونٹی کے بارے میں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے قارئین سے قریبی تعلق رکھنے کے لیے فیس بُک خصوصًا اردو فورمز پر تشریف آوری رکھنے کی ضرورت ہے، آپ کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جن سے ادارے کا نہ صرف بھلا ہوسکتا ہے بلکہ آپ کی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بارے میں اپروچ بھی بدلے گی۔ نیٹ نامہ وغیرہ کے سلسلے میں مجھے سخت اعتراض ہے کہ اس میں اردو کی ایک بھی ویب سائٹ کا کبھی تعارف شامل نہیں کیا گیا، جبکہ یہاں اردو فونٹس، اردو فورمز اور اردو سافٹویرز کے ڈھیر موجود ہیں۔ آپ کا قاری انٹرنیٹ سے کھیلتا ہے پاء جی اب، اسے ٹربل شوٹنگ، ونڈوز ٹپس وغیرہ جیسی چیزیں دکھا کر مطمئن کرنا میرے ذاتی خیال سے اب اتنا آسان نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے ہاؤ ٹو کے تو ڈھیر لگے ہوئے ہیں، ونڈوز کی ٹربل شوٹنگ جتنی کہیں اتنی، انگریزی سے ترجمہ کرکے چھاپ دینا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔۔ اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ محمد علی مکی اور اس جیسے دوسرے لکھاریوں سے رابطے میں رہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس آپ کو دے چکا ہوں۔ اردو بلاگرز ہی آپ کے لیے اتنا کچھ لکھ سکتے ہیں کہ آپ کو اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
اور آخر میں یہ کہ معاوضہ ہر کسی کو اچھا لگتا ہے، تاہم گلوبل سائنس کے معیار کے پرچے میں لکھنا بھی بڑی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو کمپیوٹر پر لکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی ٹیم مل جائے گی۔ یہ ای میل، اور آپ کے جوابات میں اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں۔ جس کا ربط آپ کو بھیج دوں گا تاکہ آپ بھی تازہ ترین تبصروں اور اپڈیٹس سے آگاہ رہیں۔
وسلام

ہفتہ، 18 دسمبر، 2010

لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ

آج محمد علی مکی سے بات ہورہی تھی۔ مکی آج کل اردو لینکس ڈِسٹرو پر کام کررہے ہیں۔ ان سے دوران چیٹ ترجمے کا کام، اس کی دیکھ بھال، اردو برادری کی حالت زار اور مستقبل کے نقشے پر کچھ بے معنی بکواس سی کی ہے۔ آپ کی نظر ہے۔ اس پر تھنکیں، اور مجھے چاہے نہ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ پنجابی کی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد سے کسی پنجابی کو پکڑ لیں۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا جو آپ کو بتا دے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ خوش رہیں۔
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: ‏‫جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..

منگل، 7 ستمبر، 2010

اردو بلاگز کا ڈیٹا درکار ہے

میں اردو بلاگز کے ڈیٹا پر مشتمل ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا چاہ رہا ہوں۔ یہ ٹیکسٹ آرکائیو کئی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے جیسے اردو کے الفاظ کی فہرست بنانا، لغات کی تیاری وغیرہ۔ اگرچہ اردو بلاگز کا ڈیٹا ٹیکسٹ آرکائیو کا ایک جزو ہوگا، لیکن یہ بہت اہم چیز ہے۔ میری احباب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پبلک پوسٹس کی ایکس ایم ایل فائل مجھے ای میل کریں۔
ورڈپریس پر ایکس ایم ایل میں ایکسپورٹ کرنے کا طریقہ کار۔
بلاگر ایکس ایم ایل ایکسپورٹ
یہ ڈیٹا کسی بھی قسم کے کمرشل، یا ذاتی کام کے لیے استعمال میں نہیں لایا جائے گا سوائے تحقیقی مقاصد کے۔ اور آپ کے بلاگ کا ربط  آپ کی ہر پوسٹ کے ساتھ شامل ہوگا۔
امید کرتا ہوں احباب میری درخواست پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ میں خود ہر بلاگ پر جاؤں اور ایک ایک پوسٹ کھول کر کاپی پیسٹ کروں جس میں بہت وقت لگنے کا امکان ہے، اور اجازت کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔
ای میل اس ایڈریس پر کریں۔
true.friend2004 at gmail.com
مثبت جواب کا منتظر۔

ہفتہ، 17 جولائی، 2010

کچھ یادیں

حالات کچھ عجیب سے ہیں لوگ لکھنے کی بجائے کچھ اور ہی کررہے ہیں۔ تو میں نے سوچا چلو کچھ لکھا جائے ورنہ عام حالات میں مَیں ایک خاموش اور ممکنہ بلاگر ہوں جو کسی بھی وقت اٹھ کر کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن یہ لکھنا بعض اوقات مہینوں کے وقفے کے بعد معرض وجود میں آتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں تھا لیکن میں نے سوچا چلو کچھ یادیں شئیر کروں۔ اپنی بلاگنگ کی ہسٹری بتاؤں۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ  تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا  کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی  ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ  بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔ 

جمعرات، 3 دسمبر، 2009

کچھ غلط فہمیاں

میری پچھلی دو تحاریر سے اٹھنے والی کچھ غلط فہمیاں اس بات کی متقاضی تھیں کہ ایک اور تحریر لکھی جائے۔
پہلی تحریر میں مَیں نے دو مسائل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ایک پنجابی اور دوسری علاقائی زبانوں کا انحطاط اور دوسرے اردو وکی پیڈیا پر زبان کی حالت زار۔ یہاں ایک تکنیکی وضاحت کرتا چلوں کہ زبان کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا ،جیسا کہ پنجابی کے بارے میں خاکم بدہن میں خدشے کا اظہار کرچکا ہوں ،سماجی لسانیات میں زبان کی موت کہلاتا ہے۔ جب کسی زبان کا کوئی بھی اہل زبان نہ رہے، یاد رہے وہ اہل زبان جو اسے بطور مادری زبان بولتا ہے، تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ زبان مرگئی۔ جہاں تک اردو کے ساتھ معاملہ ہے ، تو اردو بدل رہی ہے لیکن اسے ایسے کسی خطرے کا سامنا نہیں۔ اردو کو پاکستان میں بچوں کو بطور مادری زبان سکھایا جارہا ہے۔ اردو یورپ اور ہند میں بھی پھل پھول رہی ہے۔ اگرچہ اس کا رسم الخط دیوناگری اور اب رومن ہوچلا ہے لیکن اردو ہے۔ جبکہ علاقائی زبانیں جو پہلے ہی بولی کے طور پر موجود ہیں خسارے میں جارہی ہیں۔
اب ابوشامل کی تحریر جس میں انھوں نے بڑے دردمندانہ انداز میں عشاقان اردو یعنی میرے جیسے کم نصیبوں کی بلائیں لیں ہیں۔ پہلے تو ان کو آداب عرض ہے۔ مزے دار باتیں تھیں۔ اس کے بعد چند نکات جو مجھے اس میں نظر آئے ان کا جواب دیتا چلوں۔
مجھے دوسروں کا نہیں پتا لیکن اپنی بات بتا سکتا ہوں، میرے پاس بعض اوقات اپنا بلاگ لکھنے کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا اس لیے اردو وکی پیڈیا کو وقت نہیں دے سکتا۔ ہاں جب کوئی موضوع اگر دل میں مچل رہا ہوں تو میں لکھتا ہوں۔ اب یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنا لکھ چکا ہوں وکی پیڈیا پر شاید دو چار ہونگے ہی۔ مجھے پتا ہے یہ بہت ہی کم مقدار ہے جسے امید ہے مستقبل میں بڑھایا جائے گا، لیکن نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔ دوسری وجہ نہ لکھنے کی یہ ہے کہ میں اپنی فیلڈ سے متعلقہ لکھنا ہی پسند کرتا ہوں لیکن فیلڈ مجھے کچھ لکھنے تو دے، چونکہ میں خود ابھی ابتدائی مراحل میں ہوں  اس لیے میرا علم ناقص ہے سو سوچ سوچ کر رہ جاتا ہوں۔ بڑے لنگڑے لولے سے اعتراضات ہیں لیکن ۔۔ چلو جان دیو۔
دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم اردو وکی پیڈیا پر ہونے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یہاں ابوشامل کی مراد تواریخ، مذاہب وغیرہم جیسے موضوعات تھے۔ تو عرض ہے کہ میں سائنس کا طالب علم ہوں اور میری نظر سائنس پر ہی رہتی ہے۔ میں اردو کو سائنسی کی ابلاغی زبان دیکھنا چاہتا ہوں اور اس شعبے میں جب اردو کے پرخچے اڑتے دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔ اردو میں الحمداللہ ان موضوعات  میں سے ہر موضوع پر کئی کئی کتب موجود ہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ انھیں برقیا کرکے بہت بڑی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن میں پھر عرض کروں گا کہ میری مراد ویسے مضامین سے نہیں، وہ اپنی جگہ ہیں اور بہت اچھی کاوش ہیں، میری مراد اصل میں ایسے مضامین سے ہے۔ اسی موضوع کو خاکسار نے ایک صارف کے سوال کے جواب میں کچھ ایسے پیش کیا تھا۔ اب آپ زبان و بیان سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسے سمجھنا آسان ہے۔ بات صرف ذخیرہ الفاظ تک محدود نہیں بلکہ زبان و بیان اور انداز تحریر بھی بہت سی اصلاحات کا متقاضی ہے۔

منگل، 1 دسمبر، 2009

زبان کا تغیر اور اردو وکی پیڈیا

میری پچھلی تحریر زبان کے تغیر سے متعلق تھی۔ اس میں مَیں نے اردو وکی پیڈیا کے طرز عمل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، لیکن یہ پوسٹ اسی کام کے لیے وقف نہیں تھی۔ چناچہ موجودہ پوسٹ میں مَیں کچھ مزید عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا جو میری نظر میں اردو وکی پیڈیا کے طرز عمل کو انتہاپسندانہ بنادیتے ہیں۔
زبان بدلتی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہیں اب یہ بدلاؤ کہاں کہاں آسکتا ہے؟
یہ بدلاؤ زبان کے ہر لیول پر آسکتا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اور جلدی تغیر ذخیرہ الفاظ میں آتا ہے۔ ہر چند سال کے بعد، ہر چند کلومیٹر کے بعد زبان کا ذخیرہ الفاظ بدل جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، لیکن ایک مناسب فاصلے کے بعد خواہ وہ زمانی ہو یا مکانی، زبان میں ذخیرہ الفاظ کا ایک سیٹ دوسرے سیٹ سے بدل جاتا ہے۔ اس کی  وجہ سیاسی، سماجی یا لسانی کوئی بھی ہو، لیکن ایسا ہوتا ہے۔ اردو میں فارسی اور عربی نژاد الفاظ کی جگہ اگر انگریزی اور مقامی زبانوں کے الفاظ زور پکڑ رہے ہیں تو یہ اسی تغیر کی نشانی ہے۔ انگریزی تو خیر اب سیاسی برتری کی بھی حامل ہے چناچہ اس کے الفاظ اردو میں زیادہ استعمال ہورہے ہیں۔ دوسرے انگریزی تعلیم و ترقی کی بھی زبان ہے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
اس کے علاوہ صوتیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اردو کے حوالے سے اتنی مثال دینا چاہوں گا کہ اگر آپ انگریزی الفاظ کو اردو میں انگریزی لہجے کے ساتھ بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ایسے کسی ممکنہ تغیر کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے جس کے ذریعے اردو میں انگریزی کے مصوتے یعنی واؤلز داخل ہوجائیں گے۔ شاید آئندہ دس سالوں میں یا پچاس سالوں میں۔
تغیر کا عمل یہیں پر نہیں رک جاتا۔ زبان کی گرامر بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ میں آپ کو تاریخ کی بات نہیں بتاؤں گا کہ اردو نے کیسے عربی اور فارسی سے گرامر مستعارلی، اسم، فعل، صفت وغیرہ کی حالتیں وہاں سے حاصل کیں۔ میں آج کی بات بتاؤں گا جس کا میں مشاہدہ کرچکا ہوں۔ انگریزی کے پاسٹ رافی ایس سے تو سب واقف ہونگے۔ اسلم کی کار کو انگریزی میں اسلمز کار لکھا جائے گا نا۔ ایک کوما ڈال کر ساتھ ایس لکھ کر۔ تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ اسلم کی کار کو اردو میں بھی "اسلم'ز کار" لکھا  جارہا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی صرف  اشتہاراتی زبان میں ہے، اور سائن بورڈز پر نظر آتا ہے لیکن یہ کسی ممکنہ تغیر کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے جب اردو میں بھی "پاسٹ رافی ز" استعمال ہونے لگے۔
آپ کو شاید ان مثالوں پر ہنسی آئے یا آپ اسے دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ لیکن صاحب تغیر ایسے ہی آتا ہے۔ زبان ہر لیول پر اس سے متاثر ہوتی ہے۔ لفظ سے لے کر صوتیات اور گرامر تک۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ احساس ذخیرہ الفاظ کی تبدیلی سے زبان میں تغیر کا احساس ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زبان بدلنا اگر اتنا لمبا چوڑا کام ہے، یعنی ہر لیول متاثر ہوتا ہے، تو اگر ایک لیول یعنی ذخیرہ الفاظ بدل رہا ہے تواس میں ایسی کیا بات ہے؟ اردو کی گرامر تو نہیں بدل رہی؟ ہم انسٹال کو انسٹالڈ تو نہیں لکھ دیتے؟ انسٹال کرنا، انسٹال کیا، انسٹال کریں گے ہی لکھتے ہیں نا۔ صرف بنیادی لفظ یا سٹیم انگریزی سے حاصل کرتے ہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ تکنیکی اصطلاحات ہیں جو اردو میں پہلے سے موجود نہیں۔ چلیں فعل کو چھوڑیں ہم اسم کی بات کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ، کمپیوٹر، ویب، کی بورڈ، ماؤس۔۔۔ ان سب کو اردو میں لکھ دینے سے کیا ہوتا ہے؟ کیا اس سے اردو میں وسعت نہیں آرہی؟ کیا اردو میں پہلے سے ان تصورات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ تھے؟ نہیں تھے۔ اب اگر یہ مستعار لیے جارہے ہیں تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ اردو وکی پیڈیا پر بھی تو عربی فارسی سے الفاظ مستعار ہی لیے جارہے ہیں۔ یا نہیں؟ یہ جو فارسی نژاد اصطلاحیں بنائی جارہی ہیں، اور جن موجودہ یتیم و یسیر اصطلاحات کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے )جیسے احصاء جسے کیلکولس کی اردو کہتے ہیں، ہمارے ماہرین اس کی اردو کچھ اور ہی کررہے ہیں اس وقت یاد نہیں آرہی۔ ایسے ہی پرائم نمبر کو اردو میں مفرد عدد کہتے ہیں اس پر بھی اعتراض ہے( یہ سب اردو کے ذرائع استعمال کرکے بنائی جارہی ہیں؟  یہاں میری اردو سے مراد وہ اردو ہے جسے اردو کے اہل زبان سمجھتے ہیں۔ جو اصطلاحات بنائی جارہی ہیں اسے اردو کے اہل زبان نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی لنک کی بجائے ربط سمجھ جاتا ہے تو میں استعمال کرتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی ویب کی بجائے "بین جال" یا ایسی ہی کوئی جناتی اصطلاح نہ سمجھ سکے تو اس میں اُس بے چارے کا کیا قصور ہے۔ کہ وہ اردو جانتا ہے؟  ٹائی کی ہندی کسی نے کی "کنٹھ لنگوٹی"۔ موج ہے نا لیکن سارے ہندی بولنے والے اسے ٹائی ہی کہتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ صارف آسانی چاہتا ہے۔ ایک یک لفظی اسم کی بجائے آپ دو یا تین الفاظ کا ایک مرکب ہاتھ میں پکڑا دیں اور پھر وہ سمجھ بھی نہ آتا ہو تو صارف کو ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ اپنی زبان ٹیڑھی کرکے اسے پڑھے اور لکھے۔
تو میری مودبانہ گزارش ہے کہ جناب من، میرے ماہرین، میرے اساتذہ: آپ بہت اچھے لوگ ہیں۔ مجھ سے بھی زیادہ قابل اور صاحب علم۔ لیکن آپ کا طرز عمل طوفان کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے والا ہے۔ آپ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ زبان بدل رہی ہے۔ اور زبان اہل زبان سے ہوتی ہے۔ زبان ٹھونسی نہیں جاتی۔ زبان وہی زندہ رہتی ہے جو گلی محلوں میں اور لوگوں کی زبانوں پر ہوتی ہے۔ لغات اور اصطلاحاتی کتابیں زبان کا قبرستان بن جاتے ہیں۔ جن میں مردہ الفاظ کے کتبے بھی دیکھنا کوئی
پسند نہیں کرتا۔ میری دعا ہے کہ اردو وکی پیڈیا اردو کا ایسا ہی کوئی قبرستان نہ بن جائے۔
اور آخری بات یہ کہ ہمیں توجہ اس بات پر رکھنی چاہیے کہ صارف یہ سب سمجھ سکے اور آسان اردو میں سمجھ سکے۔ ہمیں اردو کو بطور تعلیم کی زبان ترویج دینا ہے ورنہ انگریزی تو پہلے ہی یہ مقام حاصل کرچکی ہے۔ ہم غیرشعوری طور پر یہ مان چکے ہیں کہ ہمیں پڑھنا انگریزی میں ہے، لکھنا اردو میں ہے اور بات کسی علاقائی زبان میں کرنی ہے، بولنا پنجابی میں یا سندھی میں یا بلوچی میں یا پشتو میں ہے۔ اسے میں ڈومین سیٹ ہونا کہتے ہیں، یعنی خاص مواقع کے لیے خاص زبان استعمال کرنا۔ اس پر پھر کبھی بحث کریں گے۔
وما علینا الا البلاغ۔

پیر، 30 نومبر، 2009

زبان کا تغیر

تغیر یعنی بدلنا۔ صاحبو بدلنا زبان کا مقدر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج سے صرف دو سو سال پہلے تک بولی جانے والی زبانوں کا آج وجود بھی نہیں۔ اور وہ زبانیں جو تب بھی بولی جاتی تھیں اور آج بھی زندہ ہیں، وہ زبانیں بھی وہی نہیں جو تب تھیں۔ میں آپ کو بائبل کی مثال دیتا ہوں۔ سولہویں صدی میں جب اس کا لاطینی سے انگریزی ترجمہ ہوا تو اسے اس وقت کی روزمرہ کی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ ایسی زبان جو عامیوں کی تھی، میرے آپ جیسوں کی، جو گلی محلوں کی زبان تھی۔ آج چار صدیاں گزر جانے کے بعد زبان کا نام کیا ہے؟ انگریزی۔ لیکن اس کی ہئیت بدل چکی ہے۔ اس وقت کی عامی انگریزی اور آج کی عامی انگریزی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اہل زبان تو دور کی بات ہے آپ میں جو انگریزی کو بطور دوسری زبان یا تیسری زبان یا غیرملکی زبان کے جانتے ہیں، وہ بھی بائبل کی زبان کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ پرانی انگریزی ہے۔ جناب من یہی حال اردو کے ساتھ بھی ہوا۔ غالب کے زمانے کی اردو اور آج کی اردو، صرف ڈھیڑھ سو سال کا فاصلہ ہے لیکن ہر دو میں اچھا خاصا فرق موجود ہے۔ اجی دور کیوں جائیے یہی جسے آپ آج ثقیل اردو کہہ دیتے ہیں اس وقت کی روزمرہ تھی۔ لیکن وہ الفاظ کیا ہوئے؟ یا تو لغات میں حنوط شدہ ہیں یا سرے سے ہی ختم ہوگئے ہیں۔ آج اس اُردو کو بولنے والے گنتی کے چند بھی نہیں ہونگے۔
زبان کیوں بدلتی ہے؟ اس سوال کا جواب دینا شاید خاصا مشکل ہو۔ تاہم کچھ اندازے لگائے جاسکتے ہیں کہ جوں جوں جغرافیائی فاصلہ بڑھتا ہے زبان بدل جاتی ہے۔ یا جوں جوں کلچر اور ثقافت، ماحول بدلتا ہے تو اہل زبان کی ضروریات بھی مختلف ہوتی جاتی ہیں چناچہ زبان بھی ویسے ویسے بدلی جاتی ہے۔ یہی کلیہ وقت کے ساتھ بھی عمل کرتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے زبان میں نئی چیزیں آتی جاتی ہیں اور پرانی قصہ پارنیہ بنتی جاتی ہیں۔ جوں جوں ترقی ہوتی ہے نئے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے لیے زبان میں نئی اصطلاحات متعارف کرائی جاتی ہیں اور زبان بدلتی جاتی ہے۔ زبان بدلنے کی ایک اور وجہ بیرونی حملہ آوروں کا آنا بھی ہے۔ جیسے عربوں کی زبان یعنی عربی آج سے چند سو سال پہلے عربوں کے زیر قبضہ علاقوں میں گہرا اثر ڈالا اور آج بھی مسلمانوں کی اکثر زبانیں عربی سے مستعار شدہ رسم الخط استعمال کرتی ہیں اور ان کے ذخیرہ الفاظ میں عربی نژاد الفاظ کی ایک مناسب تعداد موجود ہے۔ جیسے دوریاں بڑھنے سے زبان بدلتی ہے ایسے ہی دو یا زیادہ زبانوں کا ملاپ ہو تو بھی زبان بدلتی ہے۔ ملنے والی زبانیں ایک دوسرے پر اثر ڈالتی ہیں، ایک دوسرے سے الفاظ لیتی ہیں اور ایک دوسرے کی گرامر کو حلقہ دام میں لے کر اس میں تبدیلیاں کردیتی ہیں۔ اردو کی تشکیل ایسی ہی ایک تبدیلی کی مثال ہے جب فارسی، عربی، ترکی اس وقت کی ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں آپس میں قریب آئیں۔
زبان کا بدلاؤ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ یہ بڑا تکنیکی سا سوال ہے لیکن جہاں تک میرا علم کہتا ہے زبان کا تغیر سب سے پہلے ذخیرہ الفاظ میں نظر آتا ہے۔ اس کے بعد گرامر، اس کی صوتیات اور دوسرے شعبے تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ 
زبان کا تغیر اور آج
اس پوسٹ کو لکھنے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو میں کچھ مشاہدات آپ سے شئیر کرنا چاہتا تھا جو میں نے ہماری مقامی زبانوں کے سلسلے میں کیے ہیں۔ دوسرے میں اردو وکی پیڈیا پر لکھی جانے والی اردو کے بارے میں اپنے علم کے مطابق کچھ تحفظات کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔
صاحبو تغیر زبان کا مقدر ہے۔ آج ہمارے سامنے جتنی زبانیں موجود ہیں یہ تغیر کے سلسلے میں ہی وجود میں آئی ہیں۔ یورپ کو دیکھیں تو کلاسیکی یونانی اور لاطینی کی جگہ وہاں اب بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جو کہ کسی نہ کسی طرح ان دو زبانوں سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن ان دادا زبانوں اور موجودہ یورپی زبانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انگریزی بھی کئی ساری زبانوں سے مل کر وجود میں آئی ہے۔ فرانسیسی، یونانی، لاطینی اور انگلستان کی کچھ مقامی زبانیں اس کی امائیں خیال کی جاتی ہیں۔
تغیر ہوتا رہا ہے، ہوتا ہے اور ہوگا بھی۔ لیکن جو تغیر آج ہورہا ہے یہ ماضی کے تغیر سے مختلف ہے۔ ماضی کا تغیر ایسے ہے جیسے بڑے بوڑھوں کی جگہ ان کی اولاد لے لیتی ہے۔ ماضی کے تغیر میں نچلے درجے کی ورائیٹیز اس وقت کی اعلی درجے کی ورائیٹیز کی جگہ لیتی رہی ہیں۔ (یہاں ورائٹی سے مراد ہر وہ زبان کی قسم ہے جو رنگ، نسل، وقت، شعبے کسی بھی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے۔ پٹواریوں کی زبان ایک ورائٹی ہوگی چونکہ ایک شعبے سے متعلق ہے، سترہویں صدی کی انگریزی ایک ورائٹی ہوگی چونکہ وہ آج کے وقت سے مختلف ہوگی، پاکستانیوں کی انگریزی آسٹریلین کی انگریزی سے مختلف ہوگی چونکہ ان کی نسل اور جغرافیہ مختلف ہے، ۔۔۔ایسے ہی کئی ورائیٹیز بنیں گی)۔ اس کی مثال اطالوی سے دی جاسکتی ہے جس نے اطالیہ میں لاطینی کی جگہ لی۔ اطالوی لاطینی سےہی وجود میں آئی لیکن یہ اس سے بہت مختلف ہے اور یہ اپنے ابتدائی دور میں بہت نچلے درجے کی زبان خیال کی جاتی تھی۔ یعنی اسے بولنا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔
آج کا تغیر مختلف ہے۔ آج کا تغیر سماجی برتری کی بنیاد پر وقوع پذیر ہورہا ہے۔ اس تغیر میں کوئی ورائٹی نیچے سے اوپر کی طرف نہیں آرہی بلکہ لوگ وہ ورائٹی اپنا رہے ہیں جو طاقتور طبقے کی زبان ہے یعنی انگریزی۔دنیا کی کسی بھی زبان کو تاریخ میں ایسے پروموٹ نہیں کیا گیا جیسے آج انگریزی کو کیا جاتا ہے۔ میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جس نے آج زبانوں کے تغیر کی آگ اتنی تیزی سے بھڑکا دی ہے کہ ماضی میں کبھی بھی ایسا نہ ہوا تھا۔ گلوبلائزیشن کا تصور اور دنیا کو ایک دیہہ سمجھنے کے آئیڈیے نے انگریزی سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت اور بڑھائی ہے۔ بزنس، تعلیم اور آپسی رابطوں کے لیے ایک زبان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے اور انگریزی اس کام کے لیے بہترین ہے۔ یہ طاقتور کی زبان بھی ہے اور اسے پروموٹ بھی کیا جاتا ہے، اسے سیکھا سکھایا بھی جاتا ہے چناچہ اسے تیزی سےاپنایا جارہا ہے۔
اس سب کا اثر کیا ہورہا ہے۔
اس سب کا پہلا اثر تو یہ ہورہا ہے کہ تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔ ایجادات انگریزی میں ہوتی ہیں۔ چناچہ دوسری زبانوں کو انگریزی سے الفاظ اور اصطلاحات مستعار لینی پڑتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو اردو وکی پیڈیا کی انتظامیہ ماننے کو تیار نہیں۔ لفظ صرف ایک لفظ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ معانی کا پورا جہان ہوتا ہے۔ وہ لفظ کس موقع پر اور کیسے استعمال کرنا ہے، بطور اہل زبان، یہ ہمارے علم میں ہوتا ہے۔ صارف جب کی بورڈ پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں فورًا کمپیوٹر کے کی بورڈ کا تصور آتا ہے۔ لیکن کلیدی تختہ؟ کلید یعنی چابی اور تختہ (تخت یا تختہ والا تختہ؟) اس اصطلاح میں ایک نئے تصور کو جو نام دیا گیا ہے ، اور جو ایک مرکب نام ہے، صارف کے لیے پہلی باری میں بلکہ کئی باری میں اس کو یہ معانی دینا بہت مشکل کام ہے۔ ہم تختے کو کمپیوٹر سے جوڑتے ہی نہیں، تختہ ہمارے لیے یا تو تخت یا تختہ والا تختہ ہے یا پھر مردے کو غسل دینے والا تختہ یا ایسی ہی کوئی چیز جو نفیس نہیں ہے، اور ٹیکنالوجی کے طو رپر ایڈوانس بھی نہیں ہے۔ اور کلید؟ یعنی چابی کسی دقیانوسی تالے کی چابی لگتی ہے، ماڈرن تالا تو کِی سے کھلتا ہے نا۔ آپ کو شاید ہنسی آجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر ہر لفظ کے ساتھ اس کے لغاتی معنی کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے تصورات وابستہ ہوتے ہیں، ان صورتوں کے حوالے جڑے ہوتے ہیں اور ان مقامات کے حوالے جڑے ہوتے ہیں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے، آسان الفاظ میں وہ سیاق و سباق کہ کہاں کہاں اور کیسے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں عادت نہیں ہوتی کہ ہم ایسے الفاظ کو ایک جگہ سے اُٹھا کر کسی دوسری جگہ فٹ کریں اور استعمال کریں۔ چناچہ کیا ہوتا ہے؟ صارف ایسی کسی بھی تبدیلی کو مسترد کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو وکی پیڈیا پر موجود مضامین ہمیں اتنے مشکل، ثقیل اور ناقابل فہم لگتے ہیں کہ ہم انگریزی وکی پیڈیا سے معلومات کو اس سے زیادہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔  اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم پھر اپنی زبان میں علم کی ترویج ہی چھوڑ دیں؟ ہمارے خیال سے ہمیں زبان کے بارے میں پالیسی بنانی ہوگی اور اس کے لیے ہمارے پاس ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جس کا کام وہ ہو جو مقتدرہ قومی زبان کا ہے اور جو وہ سب کچھ نہ کرے جو مقتدرہ اب کررہا ہے یعنی بندے کے پتروں کی طرح دیانت داری سے اردو کی ترویج کرے، اصطلاح سازی کرے اور اردو میں علم کی ترویج کو یقینی بنائے۔ اردو وکی پیڈیا کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اردو زبان کی پالیسی سازی کرے اور نہ ہی اردو وکی پیڈیا ایسی کسی بھی پالیسی سازی کو رائج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے اردو وکی پیڈیا کے اختیار کو کوئی نہیں مانے گا نا۔ وکی پیڈیا کا مقصد علم کی ترویج ہے اور اردو وکی پیڈیا کو چاہیے کہ وہ یہ کام کرے، اردو میں کرے اور ایسی اردو میں کرے جسے اردو والے سمجھتے ہیں۔ فارسی اور عربی کے دقیق الفاظ کو اردو میں رائج کرنے کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ یہ 1857 نہیں ہے اور نہ ہی یہاں اردو کے ساتھ فارسی دان بیٹھے ہیں جو پڑھتے تو فارسی تھے اردو شغل میں خود ہی آجاتی تھی کہ روزمرہ کی نچلے درجے کی زبان تھی جبکہ فارسی شرفاء کی زبان تھی ( اس وقت)۔ 
دوسرا اثر یہ ہورہا ہے کہ علاقائی زبانیں گھٹ رہی ہیں۔ ان کے بولنے والے کم ہورہے ہیں۔ کثیر لسانی یعنی ایک سے زیادہ زبانیں جاننا دنیا میں ایک عام سی بات ہے۔ لیکن ہم بطور صارف اپنی آسانی کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ چناچہ اگر کام انگریزی سے چل رہا ہے، اور یہ اعلٰی طبقے کی زبان بھی ہے تو نچلے درجے کی زبانیں کیوں سیکھی جائیں؟ یہاں نچلے درجے کی زبان سے مراد اس کا سماجی رتبہ ہے، لسانیات کے حساب سے تمام زبانیں برابر ہیں کوئی بھی اچھی یا بری نہیں۔ ہر زبان کا مقصد ہوتا ہے اور وہ بہ احسن وہ مقصد پورا کرتی ہے چناچہ کسی تیسرے کو یہ اختیار نہیں کہ زبان کو برا یا اچھا کہے۔ آج دنیا میں یہ رواج بہت تیزی سے وقوع پذیر ہے کہ انگریزی بچوں کو بطور پہلی زبان سکھائی جائے۔ پڑوسی ملک بھارت میں ہندی کی جگہ تیزی سے انگریزی لے رہی ہے۔ بلکہ ایلیٹ کلاس تو اپنے بچوں کو انگریزی مادری زبان کے طور پر سکھا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ رجحان تیزی سے فرو غ پارہا ہے۔ انگریزی مادری نہیں تو دوسری سیکھی جانے والی زبان بن رہی ہے، میری مراد اشرافیہ طبقے سے ہے۔ جبکہ درمیانے تعلیم یافتہ طبقے میں یہ رجحان فروغ پارہا ہے کہ بچوں کی مادری زبان اردو ہو۔ چاہے ماں باپ کی مادری زبان پنجابی یا کوئی اور علاقائی زبان ہے۔ چناچہ اب حالات یہ ہیں کہ دادا دادی اور اماں باوا آپس میں پنجابی میں بات کرتے ہیں اور بچوں سے اردو میں۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ یہ نہیں کہ بچے اردو کی وجہ سے پنجابی سمجھ نہیں رہے۔ سمجھتے ہیں، بات کرو تو پنجابی میں جواب بھی دیتے ہیں لیکن یہ ان کی ترجیحی زبان نہیں۔ وہ اردو میں بات کرتے ہیں، انھیں پنجابی کی ضرورت ہی کیا ہے جب اردو یہ مقصد پورا کرتی ہے تو۔ چناچہ یہ نسل پنجابی سمجھ سکتی ہے۔ اگلی نسل؟ بالکل اگلی نسل پنجابی نہیں سمجھ سکے گی چونکہ ان کے ماں باپ اردو کے اہل زبان ہونگے۔ اور اگلی دو نسلوں میں پنجابی انا للہ ہوجائے گی۔ دوسری طرف انگریزی اشرافیہ اور درمیانے دونوں طبقوں میں تیزی سے اردو کی جگہ لے گی اور اردو رابطے کی زبان سے عامیوں کی زبان بن جائے گی جبکہ انگریزی رابطے کی زبان اور اعلٰی درجہ رکھنے والی زبان ہوگی۔ تغیر آرہا ہے لیکن یہ تغیر الٹی سمت سے آرہا ہے۔ نیچے سے اوپر کی بجائے اوپر سے ٹھونسا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے علاقائی زبانیں اقلیت بن رہی ہیں اور ایک دن وہ بھی آئے گا کہ دو سو تین سو لوگ رہ جائیں گے جو یہ زبانیں سمجھ سکتے ہونگے۔ جیسا آسٹریلیا میں وہاں کے باشندوں کی زبانیں مریں اور امریکا میں ریڈ انڈینز کی۔ تغیر کی اس یلغار کو روکنے کے لیے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
یاد رہے لغات اور اصطلاحات کے ڈھیر، اور مردہ الفاظ میں علم کی ترویج کرکے ہم اپنی زبانوں کو زندہ نہیں مردہ کررہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ تغیر زبان کا مقدر ہے، تغیر دریا ہے جس کے آگے بند باندھیں گے تو اور سمت سے راستہ بنا لے گا۔ لیکن یہ تغیر ایسا نہ ہو کہ ہماری زبانیں ہی مٹ جائیں۔ ہمیں زبانوں کو بچانے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ورنہ تغیر کی یہ یلغار اتنی تیز ہے کہ اگلے دس سال میں بہت کچھ بدل چکا ہوگا۔

جمعہ، 18 ستمبر، 2009

اک واری فیر

محمد سعد بڑا محنتی بچہ ہے۔ سر نیچے کرکے لگا رہتا ہے۔ اس نے پہلے اردو کوڈر پر ایک سائنسی فورم بنایا۔ اردو کوڈر فورم کی دیسی ہوسٹنگ اڑنے کے ساتھ ہی بے چارہ فورم بھی فوت ہوگیا۔ اس کے بعد اب اردو کوڈر اردو ویب کی فراہم کردہ سپیس اور اپنے ڈومین پر چل رہا ہے۔ محمد سعد نے ایک بار پھر اردو کوڈر کو عزت بخشی ہے۔ اس بار پی ایچ پی بی بی کی بجائے دروپل کو استعمال کرکے ایک عدد پورٹل اور فورم ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔ سعد پچھلے ڈیڑھ سال سے دروپل کو رام کرنے کوشش کررہا ہے آخر کار پچھلے دنوں محمد نبیل نقوی مدظلہ چیف ہنٹر اردو سافٹویرز اردو ویب محفل براستہ جرمنی کی نظر کرم سے دروپل کو خاصی حد تک اردو کرچکا ہے۔ چناچہ اب یہ ویب سائٹ خاصی اچھی لگ رہی ہے۔ اس پر موجود دروپل کا روایتی نشان مجھے پنجابی والے شلیڈے کی یاد دلا رہا ہے (جن کا شرارتی بچہ) اور یہ جن بچہ سعد کی صورت میں ہمارے مابین موجود ہے۔
سعد کا فورم ایک بار پھر حسب روایت "اردو کا پہلا" سائنسی فورم ہے۔ چونکہ ابھی اگلے دس سال تک بھی"اردو کا پہلا" فلانا فلانا فورم قسم کے فارمولا ناموں کی گنجائش ہے اس لیے آپ بے فکر رہیں اور فی الحال اردو کے اس پہلے فورم کو رونق بخشیں۔
امید ہے کہ اب یہ فورم فوت نہیں ہوگا اور سعد اس پر ایک اچھی سائنسی برادری قائم کرنے میں کامیاب رہے گا۔
بہت مبارکباد میاں فورم کی ازسر نو شروعات پر۔

جمعہ، 21 اگست، 2009

اردو بلاگنگ

فدوی اس میدان کا پرانا کھلاڑی ہے۔ سمجھ لیں کہ آثار قدیمہ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اردو بلاگنگ کے بابے نبیل، دانیال، زکریا ، قدیر احمد، نعمان وغیرہ کو دیکھ کر بلاگنگ کا خیال آیا اور غالبًا 2006 کے شروع یا 05 کے آخر میں بلاگ بنا لیا تھا۔ پہلے بلاگر پر رہا پھر ایک فری ہوسٹ پر منتقل کیا پھر اردو کوڈر پر رہا اور اب پھر بلاگر پر واپس ہے۔ اس دوران نام بھی بدلا کام بھی بدلا کبھی لکھنا چھوڑا کبھی بہت زیادہ لکھا قصہ مختصر یہ کہ ایک ٹُٹا پجا سا بلاگر ہوں اور اردو کا بلاگر ہوں۔ شروع میں بلاگ پر لکھنے کے لیے گھنٹوں سوچا کرتا اور بہترین لکھنے کی کوشش کرتا پھر احساس ہوا یہ تو آنلائن ڈائری ہے جو مرضی لکھو بلکہ بکواس کرو اور بھول جاؤ۔ چناچہ اب اگرچہ بکواس نہیں کرتا تو زبان سے پھول بھی نہیں جھڑتے۔
ایک وقت تھا جب ٹیکنالوجی پر لکھا، ورڈپریس پر لکھا، لینکس پر لکھا لیکن اب وقت ہی نہیں ہے ورنہ دل تو بہت کرتا ہے کہ بہت کچھ لکھا جائے۔ اب تو بہت رونق شونق ہوگئی ہے اور اردو بلاگنگ کی بیٹھک بہت بڑی ہوتی جارہی ہے۔ لسانیات کا طالب علم ہوں اور اردو کا بولنے والا ہونے کے ناطے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ زبان کا خیال رکھیں۔ اردو کے سپیل چیکر دستیاب نہیں ،ہیں بھی تو ڈیفالٹ تنصیب میں نہیں ملتے ،مل بھی جائین تو ہم انسٹال نہیں کرتے ،کر بھی لیں تو انگریزی سے اردو میں ہر بار سوئچ کرنا مسئلہ لگتا ہے۔ کئی سارے مسائل ہیں لیکن اگر ان مسائل کو تھوڑی سی توجہ سے حل کیا جاسکتا ہے۔انگریزی استعمال کرتے ہوئے ہم سیپلنگ کا بہت خیال کرتے ہیں اردو لکھتے ہوئے بھی ہجوں اور املاء کا خیال کرلیا کریں۔ لوگ ذ کو ز لکھ جاتے ہیں ح کو ہ لکھ جاتے ہیں اچھے خاصے لفظ کو بچوں کی طرح ص کی بجائے س سے لکھ جاتےہیں۔ یہ جو کچھ ہم لکھتے ہیں یہ تاریخ ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کا ورثہ۔ اگر ہم نے اردو کی معیار بندی نہ کی تو بہت نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ خدارا اپنی زبان کو بچائیں۔ اب تو بار بار ایک بلاگ پر ہی املاء کی غلطیاں نکالنے کے لیے تبصرہ کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ احباب ناراض نہ ہوجائیں۔ بس شرم آتی ہے۔ بخدا دو تین املاء کی غلطیاں دیکھ لوں تو اکتا کر پوسٹ کو ایسے ہی چھوڑ دیتا ہوں پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ آپ احباب سے یہ التماس ہے کہ خدارا تحریر کو ایک بار لکھ کر پڑھ لیا کریں۔ اس کی نوک پلک سنوار لیا کریں کم از کم املاء کی غلطیاں تو ٹھیک کرلیا کریں۔ کسی بھی زبان کا رسم الخط اور اس کا صوتی یعنی فونیٹک سسٹم اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو بچا لیا جائے تو زبان کبھی نہیں مرتی۔ اپنی زبان کو مرنے نہ دیں۔
وسلام

اتوار، 16 اگست، 2009

میرا بچپن

سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔

پیر، 29 جون، 2009

گلوبل سائنس کی ویب سائٹ

جون 2009 کے گلوبل سائنس سے پتا چلا کہ اس کی ویب سائٹ کا اجرا کیا جاچکا ہے۔ حسب توقع ویب سائٹ بڑی تعارفی قسم کی ہے جس میں حتی الامکان ہر چیز کا خلاصہ ہی دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ ابھی تک زیر تعمیر ہے اور اس میں کئی سیکشن موجود ہی نہیں جیسے پچھلے شمارے۔ لیکن اس سب کے علاوہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ 2005 والا ویب سائٹ بنانے کا سٹائل ہے یعنی ان پیج سے گیف میں برآمد کرکے ویب پر لگا دو۔ ساری ویب سائٹ تصاویر پر مشتمل ہے۔ ایک چیز جو تصویر میں نہیں تھی وہ رابطے کی معلومات تھیں اور وہ بھی اردو نہیں انگریزی میں تھیں۔ پاکستان کا واحد بندے کا پتر قسم کا رسالہ اور اس کی ویب سائٹ بھی تصویری؟
ہم سے زیادہ باعلم بندے، انٹرنیٹ سے 24 گھنٹے کنکٹ رہنے والے لوگ بھی ایسے کریں تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ گلوبل سائنس کے بارے میں مجھے کچھ شبہات سے ہیں کہ ان احباب کو انٹرنیٹ پر کرلپ کی سائٹ کے علاوہ شاید کہیں اردو نظر ہی نہیں آتی۔ پچھلے چار سال میں اردو چیختی چنگھاڑتی پھرتی ہے نیٹ پر لیکن آج تک ان کے کسی بھی شمارے میں اردو کی کسی بھی ویب سائٹ کا تعارف نہیں دیکھ سکا ہوں۔ نہ ہی کبھی اردو بلاگز کا تذکرہ پڑھا اور نہ ہی فورمز کا۔ انھیں تو شاید یہ بھی نہیں پتا کہ اردو یونیکوڈ میں نستعلیق فونٹ بھی دستیاب ہے اب۔ خیر وڈے لوگ ہیں جی۔ وڈے وڈے مسائل ہیں ان کے۔ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کی طرف دیکھنے کی فرصت کہاں۔
ورنہ یہ ویب سائٹ بڑے پیار سے ورڈپریس یا اردو جملہ جیسے کسی سی ایم ایس میں بن سکتی تھی جسے اپڈیٹ کرنا بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔

ہفتہ، 13 جون، 2009

اردو لسانیات

آج کل ہم اردو کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور و فکر فرما رہے ہیں۔ اگرچہ اپنا تھیسز ہم انگریزی پر ہی کریں گے لیکن اردو پر اس کے علاوہ تحقیق کا ارادہ ہے۔ لسانیات میں ہمارا میدان کارپس ہے۔ ڈیٹا کو ٹیکسٹ فائلوں میں اکٹھا کرو اور اس کے بعد اس پر جو چاہے عمل کاری کرو۔
اردو کے سلسلے میں وسائل ابھی بہت محدود ہیں۔ ہمارے پاس اردو کا کوئی مناسب کارپس ہی موجود نہیں۔ کرلپ والے ایک کارپس مہیا کررہے ہیں جو شاید بیس ہزار الفاظ کے قریب ہے۔ لیکن یہ کارپس انگریزی سے ترجمہ کیا ہوا لگتا ہے۔ انگریزی اردو نیبالی متوازی کارپس منصوبے کا حصہ یہ کارپس ہمارے ذاتی خیال میں اردو کے اہل زبان سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے مترجمین دس بارہ بھی ہوں تو بھی اردو کے فورمز یا بلاگز سے ڈیٹا حاصل کرنے کی صورت میں ہمارے پاس بہت زیادہ ورائٹی ہوگی۔ پچاس یا اس سے بھی زیادہ کی آبادی سے ڈیٹا حاصل کرنے سے بہت سی ایسی چیزیں سامنے آئیں گی جو اس کارپس پر تحقیق سے نہیں آسکتیں۔ مثلًا ہم انگریزی الفاظ کا بالکل بھی خیال نہیں رکھتے۔ اور اردو کے ساتھ انجانے میں رج کے کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس سب کو سٹڈی کرنا بڑا دلچسپ کام ہے۔
کارپس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹیکسٹ اکٹھا کرکے رکھ لیں۔ اس کے بعد ہمیں اس کو کچھ مزید مراحل سے بھی گزارنا پڑتا ہے۔ اس کو اینوٹیشن Annotation کہا جاتا ہے۔ یعنی ہم کارپس کو مختلف انداز سے ٹیگ کرتے ہیں۔ جیسے ایچ ٹی ایم ایل کے ٹیگز ہوتے ہیں۔ اردو کا ٹیگ شدہ کارپس آپ کرلپ کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ گرامر کے لحاظ سے ٹیگ شدہ ہے جس میں ہر لفظ کے ساتھ لگا ٹیگ یہ بتاتا ہے کہ اس کا گرامر کے لحاظ سے کونسا زمرہ ہے، اسم، فعل، حرف جار وغیرہ وغیرہ۔
کرلپ کا کا کارپس ہاتھ سے ٹیگ شدہ ہے۔ جسے دو ماہرین لسانیات نے گھنٹوں کی محنت سے ٹیگ کیا۔ یہ طریقہ کار محدود مقاصد کے لیے تو بہترین ہے اور اس میں درستگی کی شرح بھی سو فیصد ہے لیکن ہر بار یہی کام کرنا بہت دشوار ہے۔ یہ بہت زیادہ وقت طلب کام ہے۔ میں اگر ایک لاکھ الفاظ کا کارپس بنانے کی سوچ رہا ہوں تو اس کو ٹیگ کرنا بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا جبکہ میرے پاس وقت کی بھی کمی ہے اور مالی وسائل کی بھی کہ دوسروں کو معاوضے پر اس کام کے لیے مہیا کرسکوں۔ ایسی صورت میں ہم مشین ٹیگنگ کی بات کرتے ہیں۔ انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں اس سلسلے میں بہت ترقی کی ہے۔ انگریزی کے لیے ہمارے پاس درجن بھر ٹیگرز دستیاب ہیں۔ جبکہ اردو کے لیے ابھی تک صرف ایک ٹیگر دستیاب ہے۔ اس ٹیگر کی صلاحیت بھی محدود ہے۔ دس ہزار الفاظ کے ایک کارپس پر اسے ٹیسٹ کیا گیا جہاں اس نے ستانوے فیصد درستگی دکھائی۔ یہ کرلپ کے ہی ایک طالب علم کا ایم ایس کا پروجیکٹ تھا۔ 2007 میں مکمل ہونے والا یہ سافٹویر مزید اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اس کارپس کو مزید ڈیٹا پر ٹریننگ کی ضرورت ہے اور اس کی ڈیٹابیس کو مزید بڑا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عمومی مقاصد تحقیق کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکے۔
اس سلسلے میں ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو ڈیٹا کی کلیکشن، اس کے ذریعے اردو ٹیگر کو ٹریننگ دینا۔ اس کی خامیاں اور نقائص دور کرنا وغیرہ۔ بہت سارے کام ہیں جو میں اکیلا نہیں کرسکتا۔ وقت کی کمی اور میری پروگرامنگ صلاحیتوں کا محدود ہونا اس کی بڑی وجہ ہیں۔
متعلقہ روابط اوپر تحریر میں موجود ہیں۔ احباب اگر اس سلسلے میں کوئی مدد کرسکتے ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹا کیلکشن کی ذمہ دار میں لے سکتا ہوں۔ اردو فورمز، بلاگز، نیوز سائٹس اور اخبارات کی ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کی کانٹ چھانٹ کرنا میرا کام ہے۔ لیکن اس کے بعد ٹیگر کے پروگرامنگ مسائل کے حل کے لیے مجھے راجہ نعیم اور محترم نبیل حسن نقوی جیسے احباب کا تعاون درکار ہوگا۔ اس پروگرام کے سورس کوڈ کے لیے بھی ڈاکٹر سرمد سے درخواست کروں گا امید ہے وہ مہیا کردیں گے۔ اگر اس کو ڈویلپ کرنے والے صاحب سے رابطہ ہوجائے تو موج ہی ہوجائے۔

جمعرات، 2 اپریل، 2009

عرض کیا ہے

میرا پاکستان کے محمد افضل صاحب نے پچھلے دنوں ایک تحریر لکھی تھی۔ اس تحریر کے بعد اور پھر اصلی تے وڈے بلاگ پرجاکر تحریر پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ:
  • عروض بے کار چیز ہے
  • غالب اور اقبال وغیرہم کا کلام آدھے سے زیادہ عروض سے باہر ہے۔
  • اس سلسلے میں مشکلات غالب کے نام سے کسی عظیم آدمی نے ایک کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔
  • موجودہ دور کے عظیم ترین بلاگرز، اردو کے مامے اور ادیب عالمی اخبار پر بیٹھے ہیں۔
  • یہ دنیا کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ ہے جسے دن میں پانچ بار اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ سبحان اللہ اور یہ رفتار دنیا کے بڑے سے بڑے اخبار کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔
  • مذکورہ بلاگ کے علاوہ انٹرنیٹ پر اردو میں جو کہا جاتا ہے وہ بکواس ہے۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ اردو کے ماموں کو انٹرنیٹ کا انچارج بنا دینا چاہیے تاکہ اردو کی ترقی عین ممکن ہوسکے۔ چونکہ ہر چوہڑے چمار نے جس کے پاس تھوڑے سے پیسے ہوں بلاگ بنا کر بیٹھ جانا ہے جو اردو کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
  • عالمی اخبار پر حق گوئی، بے باکی اور سچائی کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ اور عوام الناس کو نصیحت ہے کہ وہاں جاکر فیضیاب ہوں اور اپنی عزت کا جنازہ نکلوائیں۔
اوپر مذکور ارشادات کی روشنی میں ہم نے آج ایک "گزل" کہنے کی کوشش کی۔ چونکہ اردو کے مامے ہمیں اس بات کی اجازت دے چکے ہیں کہ عروض بے کار چیز ہے۔ اور نثری شاعری باقاعدہ ایک فن کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ چناچہ ہم نے اپنے تخیل کو وسیع کیا۔ قریب موجود گندے نالے کے کنارے گھنٹوں ٹہل کر اور اس کے کالے پانی میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے ہم نے ایک عدد گزل کہنے کی کوشش کی ہے۔ شاعری خداداد چیز ہوتی ہے جناب اور یہ سیدھی آسمان سے اترتی ہے۔ چناچہ ہم پر بھی آج بہت سے راز افشا ہوئے۔ دوسری کی ریاضی کی کتاب کو پکڑ کر ہم نے جو تخیل کی اڑان بھری تو اس کا نتیجہ اس گزل کی صورت میں نکلا۔ ملاحظہ کیجیے
ایک دونی دونی
دو دونی چار
تین دونی چھ
چار دونی اٹھ
پنج دونی دس
چھ دونی بارہ
ست دونی چودہ
اٹھ دونی سولہ
نو دونی اٹھارہ
دس دونی وی
سبحان اللہ، واہ جی واہ کیا کہنے۔ اپنے آپ کو شاباش دینے کو بڑا ہی دل کرتا ہے یعنی ہم شاعر ہوگئے ہیں۔ ہماری درج بالا گزل مزید لمبی ہوسکتی تھی لیکن ہم نے سوچا نئی نئی شاعری سیکھ رہے ہیں ذرا ہتھ ہولا رکھیں۔ مزید کے لیے ہمارا بلاگ پڑھتے رہیں۔
نوٹ: یہ تبصرے کی صورت میں اردو کے اصلی دے وڈے عالمی اخبار پر پیش کیا گیا تھا لیکن چونکہ ہم ابھی طفل مکتب ہیں اور ہماری تعریف میں کچھ کمیاں رہ گئی تھیں اس لیے اردو کے مامے حضرات نے اسے حذف کردیا۔