اعلی تعلیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اعلی تعلیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 21 جنوری، 2016

ایک سانحہ اور

آج صبح ناشتے کے دوران ہی فیس بک پر یہ خبر نظر آ گئی تھی۔ یہ واقعہ ہوئے بھی چار گھنٹے بیت چکے تھے۔ اس کے بعد سارا دن اندر کھُد بُد لگی رہی اور ہر کچھ دیر بعد موبائل پر بی بی سی اردو یا ایکسپریس پی کے کھل جاتی اور اب رات ہو چکی ہے۔ میرے سامنے بھانت بھانت کے لوگ بھانت بھانت کی باتیں کر کے اپنے اپنے بستروں میں جا چکے ہیں۔ آپریشن کے بعد جامعہ کو کلیئر قرار دیا جا چکا ہے۔ شہداء کے لواحقین پر قیامت کا سماں ہے۔ دہشت گرد چار بندے مروا کر بھی جشن کی کیفیت میں ہوں گے۔ میرے ملک کی سلامتی کے ذمہ دار بھی لکیر پیٹ چکے ہیں، کھرا نکالنے کے بیانات دے چکے ہیں۔ اور میں یہاں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ کیا لکھوں؟ میں ایک استاد ہوں۔ زندگی کے تین عشرے جس ایک کام کے لیے محنت کی وہ کسی جامعہ میں تدریسی عہدے کا حصول تھا۔ جب واپس جاؤں گا تو تدریس میرا اوڑھنا بچھونا ہو گی۔ تو میں یہ سوچ رکھوں کہ باچا خان یونیورسٹی کے دو پروفیسروں اور طلبہ کی طرح دہشت گرد میرے بھی منتظر ہوں گے؟ وہ میری یونیورسٹی کی دیواریں پھلانگ کر میرے بچوں کو میرے سامنے گولیاں مارنے چلے آئیں گے؟ کیا مجھے پی ایچ ڈی کے ساتھ ان سے نمٹنے کی ٹریننگ بھی لینی ہو گی؟

میں بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں۔ میرے وطن میں نصف رات گزر چکی ہے اور میں یہاں اتنی دور بیٹھا ایسی ہی لایعنی باتیں سوچ رہا ہوں۔ کہ میرے وطن میں استاد کی کوئی اوقات تو نہیں رہی تھی اب اس کو جینے کا حق بھی نہیں ملے گا؟ میرے وطن میں تعلیم تو پہلے ہی نایاب تھی جو پڑھنا چاہتے ہیں گولیاں ہی ان کا مقدر رہیں گی؟ میں بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں۔ میری آنکھیں خشک ہیں، میرا دل سرد صحرا ہے جس میں دور دور تک کوئی سوچ نہیں ابھرتی۔ بس اس طرح کے سینکڑوں سوال بگولوں کی طرح چکراتے پھرتے ہیں۔

ہفتہ، 11 فروری، 2012

یااللہ تیرا شکر ہے

الحمد اللہ، ثم الحمد اللہ، ثم ثم الحمد اللہ۔
آج ہم آفیشلی گولڈ میڈل یافتہ ہو گئے ہیں۔ بہت دنوں کے بعد ایک اچھی خبر ملی ہے۔ اللہ سائیں کا کرم ہوا، ورنہ اپنے پلے کیا تھا کہ یہ نصیب ہوتا۔
یااللہ تیرا شکر ہے۔









ہفتہ، 14 مئی، 2011

ایک سال

آج مجھے اس سکول میں کام کرتے ایک سال تو نہیں ہوا تاہم تعلیمی سال ختم ہوگیا۔ آج سے کوئی دس ماہ پہلے، اگست 2010 میں جب میں اس ادارے میں داخل ہوا تھا تو میں وہ نہیں تھا جو آج ہوں۔ میرے پاس ابھی میری ڈگری بھی نہیں تھی، بس ایک زعم تھا کہ میں اپنی کلاس کا اول نمبر ہوں، اور مجھ پر فرض کردیا گیا ہے کہ مجھے سب کچھ آتا ہے۔
ہم یہاں پانچ چھ لوگ آئے تھے، انٹرن شپ کرنے کے نام پر۔ سکول والوں کو ٹیچر چاہیے تھے، اور ہمیں جاب، ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ان کی ایک میڈم سے واقفیت تھی چانچہ ہم یہاں انٹرنی بھرتی ہوگئے۔ ہماری خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ مبلغ نو ہزار روپے مہینہ پر ٹرینی یا انٹرنی، اور مدت آزمائش پوری ہوجانے پر تنخواہ بڑھ جانے کی نوید بھی۔ اور سب سے بڑی بات کام یعنی پڑھانا سیکھنے کی خوشی۔ یہ ادارہ پورے فیصل آباد کے نجی سکولوں میں نئے اساتذہ کو تربیت دینے کے لیے بہت مشہور ہے، چونکہ ان کا پیشہ ورانہ ماحول ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی آپ کی مدد کرنے کو تیار رہتا ہے۔
خیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھا۔ اور بہت سارے راز بھی کھلے۔ وہ جو سہانے سپنے سجے ہوئے تھے سب ٹوٹ گئے۔ یہ کہ میں ایک اچھا استاد بن سکتا ہوں۔ اب پتا چلا کہ اتنی جلدی بھی نہیں بن سکتا، دو چار سال میں شاید بن جاؤں۔ یہ سپنا کہ کلاس میں اول آنے کے بعد سب قطار میں کھڑے ہوکر نوکری کی آفر دیں گے، اس سکول کے علاوہ کسی بھی جگہ سے آج تک دوبارہ کال نہیں آئی۔ یعنی ابھی انتظار کرنا ہوگا، شاید دو چار سال اور۔ یہ کہ تنخواہ نو ہزار ہی رہے گی، چاہے جتنا مرضی زور لگا لو۔ نجی شعبے کے سکولوں میں تنخواہ اتنی جلدی نہیں بڑھتی، چناچہ ٹیوشن پڑھاؤ اور اپنی تنخواہ کی کمی ادھر سے پوری کرو۔ جو کہ ہم پڑھا رہے ہیں، جتنی تنخوا ہے اس سے زیادہ روپے 2 گھنٹے کی ٹیوشن سے ملتے ہیں۔
اس نظام میں آکر پتا چلا کہ امیروں کا نظام تعلیم کیا ہے پاکستان میں۔ پہلے صرف سنتے تھے کہ ملک میں کئی طبقاتی نظام تعلیم ہے، کیمبرج سسٹم وغیرہ وغیرہ۔ یہاں آکر پتا چلا کہ کیمبرج سسٹم کیا ہے۔ فیصل آباد کے ان سکولوں کی اوسط فیس چار سے چھ ہزار میں ہے۔ بیکن ہاؤس کی دس ہزار ہے، جو فیصل آباد میں سب سے زیادہ لے رہے ہیں۔ سنا ہے لاہور وغیرہ میں تیس پینتیس اور پچاس ہزار مہینہ تک بھی فیس ہوتی ہے۔ خیر فیس کے بعد یہاں کے اساتذہ ہیں۔ پرانے ہیں تو بیس پچیس ہزاراور بعض اوقات پچاس ہزار یا زیادہ بھی، نئے ہیں تو دس بارہ پندرہ ہزار، اور ساتھ دو چار ٹیوشن، ہوم ٹیوشن جو پانچ ہزار سے پندرہ بیس ہزار تک مل جاتی ہے۔ پرانا ٹیچر تیس سے چالیس ہزار کما لیتا ہے صبح آٹھ سے رات آٹھ کے دوران، یعنی سکول جمع ٹیوشن مل ملا کر۔ سکولوں میں پڑھائی رٹا نہیں سمجھ کی بنیاد پر کروائی جاتی ہے۔ پرچوں سے پہلے پرچوں والے سوالات کے بار بار ٹیسٹ لیے جاتے ہیں تاکہ بچہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائے۔ او لیول اور اے لیول کے امتحان قریب آنے پر بچوں کو پرانے پرچوں سے ہی تیاری کروائی جاتی ہے۔ انھیں اتنی پریکٹس کروا دی جاتی ہے کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائیں۔ مزید کسر ہوم ٹیوٹر پوری کردیتے ہیں محنت کروا کر۔ استاد موٹرسائیکل پر آتے ہیں اور طلباء ہنڈا سٹی، اکارڈ، پجارو پر۔ یہی حال پھر اساتذہ کی عزت کا بھی ہوتا ہے۔ بیکن ہاؤس جیسے سکول میں تو سنا ہے بہت بدتمیزی کی جاتی ہے استاد کے ساتھ، ہمارے سکول میں کچھ سکون ہے۔ لیکن استاد اور ایک سیلز مین کوئی فرق ہیں، دونوں کا کام مال فروخت کرنا ہے، مہیا کرنا ہے اور بس۔ وہ لوگ فیس بھرتے ہیں کہ انھیں پڑھایا جائے چناچہ استاد کوئی احسان نہیں کررہا۔ واقعی استاد کوئی احسان نہیں کررہا ہوتا، اگر کررہا ہوتا ہے تو اپنے اوپر کہ یہاں سے اسے اچھی ہوم ٹیوشن مل جائیں گی جو اس کی رزی روٹی چلاتی رہیں گی۔
ان بچوں کی انگریزی اچھی ہے، اردو کمزور ہے۔ انگریزی میں پڑھتے ہیں، انگریزی میں لکھتے ہیں اور انگریزی الفاظ بولتے ہیں۔ کئی دفعہ تلفظ میں سر کی بھی غلطی نکال دیتے ہیں، اور ہنس دیتے ہیں۔ جسے سر مسکرا کر پی جاتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے۔ سر تو کیمبرج سسٹم میں نہیں پڑھ ہوا، اس نے تو گورنمنٹ کھوتی ہائی سکول سے ٹاٹوں پر بیٹھ کر میٹرک کیا تھا۔ قسمت تھی کہ روزی روٹی کی کشش انگریزی پڑھانے کی طرف لے آئی، ورنہ وہ اور اس کی اوقات۔ اردو انھیں صرف بولنی آتی ہے، لکھنے کا کہہ دو تو جان جاتی ہے۔ اردو بورنگ ہے، اردو کے الفاظ بول دو تو سمجھ نہیں سکتے، انگریزی میں ترجمہ کرکے سمجھانا پڑتا ہے۔ ماں باپ پنجابی بولتے تھے کبھی، اب اردو بولتے ہیں اپنے بچوں کے ساتھ، چناچہ بچوں کی مادری زبان اردو ہے، اور پنجابی کو وہ ایک حقارت بھری نظر سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ابھی بھی پنجابی بولتے ہیں، لیکن منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے، یا ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے۔
بچے تو بچے ہیں جی، خواہ امیروں کے ہی ہیں۔ خواہ باپ ڈاکٹر ہے، مل مالک ہے یا گروپ آف انڈسٹریز کا ڈائریکٹر۔ بچے اردو بولیں یا انگریزی، لیکن پاکستانی بچے ہیں۔ ابھی یسو پنجو پاکستانی ہی کھیلتے ہیں، ریڈی گو بھی کھیلتے ہیں، اور برف پانی بھی۔ ہاں ہاکی، ٹینس اور تیراکی غریبوں کے بس کی بات نہیں، وہ اضافی سہولت ہے ان کے پاس۔ سر جی نے خود اپنی ذاتی آنکھوں سے اصلی والا سوئمنگ پول اس سکول میں دیکھا، اس سے پہلے فلموں ڈراموں میں ہی دیکھا تھا۔
نجی شعبے کے ان سکولوں میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو ڈرامے باز ہونا پڑے گا۔ کلاس میں داخل ہوتے ساتھ ہی ڈراما شروع کردیں۔ روایتی استادی ختم ہوجاتی ہے کہ آئے بلیک بورڈ بھرا اور چلے گئے۔ بچوں سے کرواؤ۔ بلکہ کرواؤ نہیں ساتھ ڈرامے بھی کرواؤ۔ میتھ پڑھاتے ہو، نفع نقصان کا باب چل رہا ہے، بچوں سے کہو تفریح کے وقت میں خرید و فروخت کا سٹال لگا کر چیزیں بیچیں، پھر پیسے کما کر نفع نقصان نکالیں۔ انگریزی پڑھاتے ہو، تو جینوئن کمیونیکیشن تخلیق کرواؤ، خط لکھواؤ، انٹرنیٹ پر ای میل کرواؤ۔ بچوں کو پریزنٹیشن کا موقع دو، خود سائیڈ پر رہ کر بس گائیڈ لائن دو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی بولو، خوب انگریزی۔ اگر خاتون ہو تو ترقی کے چانسز اتنے ہی بڑھتے جائیں گے جتنی شلوار اونچی ہوتی جائے گی اور قمیض گلے سے نیچی۔ جتنے ماڈرن اور فیشن ایبل اتنے کامیاب، جتنے کہانی باز اتنے کامیاب، اگر طالب علم راضی تو کیا کرے گا قاضی یعنی سکول کا مالک۔
خیر یہ کچھ تاثرات تھے، اس تعلیمی سال کے اختتام پر۔ دیکھیں اگلا سال کیا لاتا ہے۔ اس برس ایم فِل بھی کرنا ہے شام کی کلاسوں میں، نوکری بھی کرنی ہے۔ اللہ رحمت رکھے، زندگی ذرا اوکھی ہوجائے گی۔ لیکن ساری عمر نجی سکولوں میں نہیں گزارنا چاہتا، اس لیے آگے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

ہفتہ، 2 اپریل، 2011

اٹھارہویں ترمیم، کنکرنٹ لسٹ اور تعلیم

پچھلے کچھ دنوں سے مزید وزارتیں صوبوں کو منتقل کرنے کی باتیں ہورہی ہے۔ میں عمومًا حکومت کے کُت خانے میں نہیں پڑتا لیکن تعلیم چونکہ میرا پیشہ بھی ہے، اور طالب علم بھی ہوں اس لیے مجھے تعلیم کی وزارت کی صوبوں کو منتقلی سمجھ میں نہیں آرہی۔ ایک طرف ہمارے "وڈے" نظریہ پاکستان وغیرہم نظریات کے مامے بنتے ہیں اور دوسری طرف صوبوں کو وزارت تعلیم اور نصاب سازی کا اختیار دیا جارہا ہے۔ یعنی ہر صوبہ اپنی مرضی کا نصاب بنانے میں آزاد ہوگا۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے نظریہ پاکستان کا بُخار لاہور کے دائیں بازو والوں کو ہی سب سے زیادہ ہے مُلک میں، بلوچستان کی طرف نکل جائیں تو وہاں نظریہ پاکستان کا ن بھی گھس گھس کر ختم ہوجاتا ہے۔ نصاب میں آئندہ پانچ سات برس میں آنے والی یہ مشرق و مغرب کی تفاوت، کسی مرکزی باڈی کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں مزید تقسیم در تقسیم ڈانواں ڈول ہوتے اس مُلک کے مفاد میں ہے بھلا؟
چلیں وزارت تعلیم کو چھوڑیں، میاں رضا ربانی صاحب کو ہائیر ایچوکیشن کمیشن سے اللہ واسطے کا بیر لگ رہا ہے۔ موصوف اس کے حصے بخرے کرکے بھی صوبوں کو دینا چاہ رہے ہیں۔ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ غصہ نکالا جارہا ہے جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال میں دیانت داری برتنے کا۔ موصوف بن بیٹھے تو منصف ہیں لیکن اس سارے قضیے کا حال بندر اور روٹی والا ہونا ہے کہ آخر میں ہاتھ کچھ بھی نہیں آنا اور عوام نے ذلیل و خوار ہوجانا ہے۔ ایچ ای سی اس وقت ملک میں اعلی تعلیم کو کنٹرول کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔ اس کے تحت سکالر شپس، ڈگریوں کی تصدیق،، یونیورسٹیوں کی ریٹنگ وغیرہ کے معاملات چلتے ہیں۔ اور ہمارے وژن لیس سیاہ ستدان اسے صوبوں کو منتقل کررہے ہیں، وہ بھی حصے بخرے کرکے۔ اس کے کچھ اختیارات مختلف وفاقی وزارتوں کو دے دئیے جائیں گے اور باقی صوبوں کے حوالے کردئیے جائیں گے۔ اور امیدوار جگہ جگہ دھکے کھاتے پھریں گے۔ عجیب ذلالت ہے ویسے، مشرف جیسا بھی تھا اُس نے اعلی تعلیم کو فری ہینڈ دئیے رکھا۔ ان لوگوں نے آکر ایچ ای سی کو پہلے دیوار سے لگانا شروع کیا اب ختم کرنے پر تُل گئے ہیں۔
ایچ ای سی کے سلسلے میں پچھلے دو تین دن سے خبریں پڑھ رہا ہوں۔ آپ بھی ملاحظہ کریں۔

جمعرات، 20 اگست، 2009

تعلیم؟

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری تحریر اور موضوع تعلیم کے ساتھ لیٹ حاضر ہے۔ فدوی لسانیات کا طالب علم ہے اور یہ تعلیم کو اسی نظر سے دیکھے گا۔ اطلاقی لسانیات کا بڑا حصہ زبان کی تعلیم دینے پر مشتمل ہے اور اس زبان سکھانے کے علم کا  نوے فیصد انگریزی زبان سکھانے کا مضمون ہوتا ہے۔ ہم اسے اصطلاحی زبان میں ای ایل ٹی یعنی انگلش لینگوئج ٹیچنگ کہتے ہیں۔ انگریزی بطور دوسری زبان TESOL اور انگریزی بطور غیرملکی زبانTEFL وغیرہ بھی اسی شاخ کے نیچے آتے ہیں۔
ہمیں زبان پڑھانا سکھایا جاتا ہے جیسے بی ایڈ اور ایم ایڈ والوں کو پرائمری کے بچے پڑھانا سکھایا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں ہمیں زبان یا انگریزی زبان سکھانے کے لیے بطور استاد تیار کیا جاتا ہے ۔ ہمارا نصاب یعنی ماسٹرز کا دو سالہ اور بی اے آنرز کا چار سالہ کورس اسی پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس ساری تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یعنی پاکستانی میں انگریزی تعلیم ۔۔ پاکستان میں انگریزی تعلیم اور ہمارے بچوں کا انگریزی کا معیار اتنا برا کیوں ہے؟ اس سارے کو کچھ نکات کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ یاد رہے کہ میرا مقصد یہاں انگریزی کی وکالت کرنا نہیں بلکہ انگریزی تعلیم کے سلسلے میں درپیش مشکلات کا ذکر کرنا ہے۔ یہ ایک خالصتًا تکنیکی معاملہ ہے اس سیاسی معاملے سے الگ جس کے تحت ہم انگریزی کے اپنے ملک میں سٹیٹس پر سوال اٹھاتے ہیں اگرچہ یہ شک بھی انگریزی تعلیم کے غیر معیاری ہونے کی بڑی وجہ ہے۔
  • ہمارے ہاں انگریزی کے اساتذہ ہی تیار نہیں کیے جاتے۔ جو لوگ انگریزی پڑھاتے ہیں وہ مضمون کے ماہر نہیں ہوتے۔ یاد رہے انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنا اور اطلاقی لسانیات میں ماسٹرز کرنا ایسا ہے جیسے فزکس اور کیمسٹری دو الگ چیزیں۔ 
  • ہمارے ہاں ادب کی زبان کو ہی اصل زبان سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ ادب زبان کا ایک اُسلوب ہوتا ہے مکمل زبان ہیں۔ اردو کی کتابی اور عمومی زبان آپ کے سامنے ہے۔ بامحاورہ اور روزمرہ کی زبان ہمارا معمول ہے لیکن لکھی اور بولے جانے والی زبان نیز ادب اور عام آدمی کی زبان میں بہت سے فرق ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کو سکھائے ہی نہیں جاتے۔ آج بھی دو صدیاں پرانے ناول اور کہانیاں ہمارے انگریزی نصاب میں اس غرض سے شامل ہیں کہ یہ بچوں کو انگریزی سکھائیں گی۔ کونسی انگریزی؟ وہ جو ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی جاتی تھی؟
  • ہمارا انگریزی نصاب انتہائی فرسودہ اور سالخوردہ ہے۔ جیسا کہ اوپر ایک مثال دی گئی اس کے علاوہ بھی ہمیں پرائمری سے لے کر اعلٰی سطح تک نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پرائمری سطح پر ہمیں نصاب کو سائنسی بنیادوں پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اعلٰی سطح پر ہمیں متعلقہ فیلڈ کے مطابق انگریزی نصاب تیار کرنے کی ضرورت ہے جیسے انجنئیرز کو درکار انگریزی وکیل کو درکار انگریزی سے بہت مختلف ہوگی اور ایک بزنس مین کو درکار انگریزی ان دونوں سے مختلف۔
  • ہمارا طریقہ تعلیم ستر برس پرانا ہے۔ ہمارے سکولوں میں بچوں کو انگریزی پڑھانے کے طریقے کو اصطلاحی زبان میں ہم گرامر ٹرانسلیشن میتھڈ کہتے ہیں۔ یعنی گرامر اور ترجمے کے ذریعے زبان کی تعلیم۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس میں مادری زبان کو واسطہ بنا کر تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے کی سوچ اور سیکھی جانے والی زبان میں مادری زبان واسطہ بن جاتی ہے۔ یہ سب ایسا ہی ہے جیسے اردو میں لکھی تحریر پہلے انگریزی میں ترجمہ ہو پھر کمپیوٹر کی زبان میں یعنی دوہری پروسیسنگ۔ اگر جدید طریقہ ہائے تعلیم استعمال کیے جائیں جن میں کمیونیکیشن سے پڑھانا بھی شامل ہے تو اس کو بہت بہتر کیا جاسکتا ہے۔ بطور پروفیشنل ہم جی ٹی ایم نہیں بلکہ مختلف طریقہ ہائے تعلیم کو ملا کر پڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یعنی جیسا منہ ویسی چپیڑ اور جیسا ماحول ویسا طریقہ تعلیم۔
  • جیسا کہ اوپر ایم اے انگریزی ادب کے بارے مین بات کی گئی کہ یہ لوگ انگریزی ادب تو پڑھا سکتے ہیں انگریزی زبان نہیں ایسے ہی ہمارے پرائیویٹ سکولوں میں میٹرک پاس استانیاں بچوں کی بنیاد کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں۔ نیم حکیم کے مشابہ یہ اساتذہ بچے کو وقتی رٹا لگوا کر اس سے انگریزی تو بلوا دیتے ہیں لیکن ذخیرہ الفاظ ہی زبان نہیں ہوتی زبان صوتیات یعنی فونیٹکس سے لے کر گرامر تک ہوتی ہے جس میں ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے کے قوانین، جملہ بنانے کے قوانین، پیراگراف بنانے کے قوانین، معانی کا لیول اور اس سے بھی اوپر سیاق و سباق کے لحاظ سے معانی و مطالب اور پھر پورا پیغام بطور ایک یونٹ۔ ایسے ہی جیسے ایک خط اگرچہ جملوں پر مشتمل ہے لیکن وہ بطور ایک یونٹ بھی کام کرتا ہے اور بطور ایک اکائی ایک خاص مطلب و معانی بیان کررہا ہوتا ہے جو نچلے درجے کے تمام یونٹ آپس میں مل کر تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیول کو ہم ڈسکورس کا نام دیتے ہیں۔ ان سب درجہ ہائے زبان کا جب تک استاد کو پتا نہیں ہوگا وہ کیسے زبان کوسکھا سکے گا۔ 
  • یہ غلط طرز فکر ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں امریکیوں یا برطانویوں کی تقلید کرنی چاہیے۔ اس طرز فکر کی تلفظ سکھانے کے سلسلے میں انتہا پسندانہ انداز میں پیروی کی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں تو اکثر تلفظ ہوتا ہی غلط ہے لیکن نام نہاد انگریزی سکولوں میں بچوں کو انگریز بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ بطور ماہر لسانیات ہم جانتے ہیں کہ مادری زبان کا اثر ہمیں کبھی بھی غیرملکی زبان ایسے سیکھنے نہیں دیتا جیسے اس کے اہل زبان وہ زبان بول سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ بطور اردو بولنے والے ہم کبھی بھی تھیٹر کو ایسے نہیں بول سکتے جیسے انگریز بولتے ہیں۔ اس کے صوتیے غیرشعوری طور پر ہم اردو کے صوتیوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا گلہ اور منہ وہی صوتیے اور آوازیں نکالنے کا عادی ہوتا ہے جو ہماری مادری زبان میں ہوتے ہیں۔ اسی کی سادہ سی مثال انگریزی کے مصوتے یا واؤلز ہیں۔ انگریزی میں دو قسم کے مصوتے ہیں یک آوازی، دو آوازی۔ یک آوازی جیسے آ، او، ای اور دو آوازی ان یک آوازی مصوتوں سے مل کر بنتے ہیں۔ لفظ ڈے کے آخر میں سے ہم دو آوازی مصوتہ اڑا دیتے ہیں جبکہ اصل میں یہ ڈےای ہوگا آخر میں ایک دو آوازی مصوتے کے ساتھ۔
  • آخر میں ہمارا یہ المیہ کہ ہم آج تک انگریزی کا سٹیٹس متعین نہیں کرپائے جس کی وجہ سے نہ ہم انگریزی کو چھوڑتے ہیں اور نہ اپناتے ہیں اور نہ ہی اس کی تعلیم  کو بہتر بناتے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ ہوجائے کہ ہم نے اس زبان کی بطور غیرملکی زبان تعلیم دینی ہے تو پھر اس کے لیے پروفیشنل بھی تیار ہونے لگیں گے ایسے ہی جیسے کامرس اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیشنل تیار ہوتے ہیں۔ 

اتوار، 16 اگست، 2009

میرا بچپن

سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔

اتوار، 12 اکتوبر، 2008

ایچ ای سی یتیم ہوگیا

مشرف کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف ہو لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خودمختاری دے کر اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کو اس کا چئیر مین بنا کر اس نے اچھا کام کیا تھا۔ آٹھ سال تک اس ادارے کے بجٹ میں کٹوتی نہیں ہوئی، ہونے لگی تو مشرف نے دوسرے ذرائع سے پوری کروائی۔ لیکن اب ڈاکٹر صاحب مستعفی ہوگئے ہیں اور کوئی لغاری صاحب اس کے چئرمین بن گئے ہیں۔ اب اس ادارے کا مستقبل بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسا ہی ہوگا۔ بجٹ میں کٹوتیاں پہلے ہی جاری ہیں جو مزید بھی جاری رہیں گی۔

اس پر کئی اعتراضات بھی تھے کہ اعلی تعلیم پر توجہ دے کر بنیادی تعلیم کو نظر انداز کردیا گیا۔ فنڈز گویا لٹائے گئے۔ لیکن یہ اپنی طرز کی ایک منفرد کوشش تھی جس میں لوگوں کو ڈاکٹریٹ اور ایم فل کے لیے زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سکیم کے تحت ہزاروں لوگ زیر تعلیم ہیں۔

اب دیکھیے اعلی تعلیم کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔

پیر، 18 فروری، 2008

نئی حکومت خدشات توقعات

انتخابات ہوگئے ہیں۔ حسب توقع سرکاری لیگ کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ اس کا وہی حال ہوا ہے جو 2002 میں نواز لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ پچاس سیٹیں بھی لے سکیں قومی اسمبلی میں۔ اب آگے دیکھنا ہے۔ نئی حکومت بنے گی۔ لیکن یہ نئی حکومت کیسے بنے گی؟؟؟؟؟؟؟

اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان ہیں۔ جو ٹرینڈ اب تک نظر آرہا ہے اس کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں پی پی پی کو۔ غالب امکان ہے کہ بلوچستان سے بھی پی پی پی کو اچھا حصہ مل جائے گا اور سرحد سے بھی حسب توفیق اچھی نشستیں کھینچ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی پی پی اکثریت میں تو ہوگی لیکن جماعت سازی اس کے بس کا کام نہیں ہوگا۔ اس کو کم از کم نواز لیگ یا پھر ایم کیو ایم سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ یا پھر ق لیگ سے اتحاد۔۔۔

مرحومہ نے بھی اپنی زندگی میں آئیں بائیں شائیں کی اور کسی منڈیر پر ٹک کر نہیں بیٹھی۔ یہی حال اب لیڈروں کا ہے۔ زرداری نے کسی بھی جماعت کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ تک نہیں دیا۔ اگرچہ نوازلیگ کے ساتھ ان کی گاڑھی چھن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پندرہ سال تک ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین رہنے والے اتنی جلدی حکومت میں بیٹھ جائیں گے۔

نئی حکومت جو بھی بنی نواز لیگ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بہت کم ہوگی۔ جس کے نتیجیے میں ججوں کی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہورہا ہے اگر تحریک انصاف وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجاتیں تو آج ججوں کی بحالی کے لیے زیادہ امکانات ہوتے۔ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی فیصلے کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ زرداری صاحب مفاہمتی آرڈیننس کے صدقے ہی جیل سے باہر ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا؟ پچھلے کئی ادوار سے تو ہم پچھلی حکومت کی ہر نشانی پر سرخ لکیر پھرتا دیکھتے آرہے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوائی۔ مشرف کتنا ہی برا ہو لیکن اس نے اعلٰی تعلیم کو جتنا فنڈ فراہم کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔ بے تحاشا سکالرشپس دی گئیں جس کے بل پر ہزاروں طلبا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ڈھیر لگ گئے اور نئے نئے کورسز پڑھائے جانے لگے۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں جیسے تعلیم کا معیار وغیرہ۔ لیکن اس پالیسی میں پہلی بار ایک سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو اعلٰی تعلیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا۔ اعلٰی تعلیم کا بجٹ ایک بار کٹ بھی چکا ہے لیکن ایوان صدر نے اس کی کمی پوری کردی تھی۔ چونکہ اس وقت فوجی وردی موجود تھی۔ لیکن اب کیا ہوگا؟

ہمارے ہاں جو شعبہ سب سے متاثر ہوتا ہے وہ تعلیم ہے۔ نئی حکومت میں یہ لگ رہا ہے کہ اعلٰی تعلیم کا بجٹ بہت سکیڑ دیا جائے گا۔ شاید پچھلے آٹھ سالوں کی "کارکردگی" کی بنیاد پر ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کو بھی احتساب عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی ایک جمہوری حکومت میں اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ آمر کے پاس جو وژن ہوتا ہے وہ اسے لاگو کردیتا ہے اور ہر حال میں لاگو کرتا ہے۔ جمہوریت ایسا ہجوم بن جاتا ہے جس میں جتنے منہ اتنی آوازیں۔ لیکن یہ آوازیں اپنے کھابوں کے لیے ہمیشہ یک آواز ہوتی ہیں۔ مجھے اعلٰی تعلیم کے لیے وقف شدہ فنڈز غرب مکاؤ یا ایسے ہی کسی دوسرے زمرے میں منتقل ہوتے نظر آرہے ہین۔

چلتے چلتے ایک اور بات ق لیگ والوں نے اپنے پیشرؤوں کے لیے بڑے مناسب قمسم کے ایشوز چھوڑے ہیں۔ جیسے کہ تیل کی قیمتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک دو روپے لیٹر نہیں کم از کم دس روپے لیٹر بڑھ جائیں گی۔ عالمی مارکیٹ میں تو آپ کو ریٹس کا اندازہ ہی ہے۔ بھارت میں بھی کچھ دن پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پٹرول کم از کم 80 روہے لیٹر اور ڈیزل 50 روپے لیٹر ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی ایک اور شدید لہر اٹھے گی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوجائے گی۔ بشمول بجلی جس کے فی یونٹ اضافے کی درخواست فورًا کردی جائے گی۔ ایک پرآزمائش گرما ہمارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔