متفرق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
متفرق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 دسمبر، 2016

تھوڑ دِلا

ممتاز مفتی کہتا ہے کہ رب جی سے یاری لگا لو۔ رات سونے لگو تو ساری باتیں رب جی کو سنا کر، دل کا بوجھ ہلکا کر کے سویا کرو۔ میری خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ کوئی آٹھ دس برس پہلے مفتی کو پڑھ لیا۔ اور اس کے دئیے گئے اس سبق کو بھی دل پر لے لیا۔ اور اب رب جی کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ رب جی سے سب کہہ دیتا ہوں۔ سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اکیلے یا محفل میں رب جی سے باتیں جاری رہتی ہیں۔

پنجابی میں تھوڑ دِلا کہتے ہیں، ایسا شخص جس کا دِل بہت تھوڑا سا ہو۔ مطلب تو اس کا شاید یہ ہے کہ تھوڑ دِلا دوسروں کے ساتھ کچھ بانٹنے سے بھاگتا ہے۔ شاید کچھ مطلب یہ بھی ہے کہ تھوڑ دِلا زود غم اور زود حس ہوتا ہے۔ ذرا سی بات پر دل دھڑک اٹھتا ہے کہ کچھ ہو گیا۔ اور یہ کچھ اکثر بُرا والا کچھ ہوتا ہے، اچھا والا نہیں۔ تو میں اس قسم کا تھوڑ دِلا ہوں۔ ہر بات پر بِدک جاتا ہوں، ہر آہٹ پر تریہہ جاتا ہوں اور خاموشی بھی کسی طوفان کا پیش خیمہ زیادہ اور سکون کی علامت کم لگتی ہے۔ میرے جیسا تھوڑ دِلا پھر اور کس کے در پر جا سوال کرے گا؟ بس رب جی کے آگے دستِ سوال دراز کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔

رب جی کے ساتھ یاری بڑا اوکھا کام ہے جی۔ میرے جیسے منافقوں کی یاری بھی مطلب کی یاری ہوتی ہے۔ آپ سے کیا چھپانا بس ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے، رب جی کی آزمائشوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے، یا میرے اندر کا تھوڑ دِلا مجھے خبردار کرتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو میرے روئیں روئیں میں الارم بجنے لگتے ہیں۔ بس پھر ایک ہی اُپائے ہوتا ہے، رب جی کے حضور درخواست گُذاری۔ رب جی کے حضور درخواست کرتا ہوں۔ بار بار کرتا ہوں۔ دیکھ لے مولا تُو تو رب ہے ناں، تیرا کیا چلا جائے گا۔ ایک میرے ساتھ اگر رحمت والا معاملہ کر دیا تو تیرے خزانے میں کونسا کمی آ جائے گی۔ میں مانتا ہوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے، لیکن تُو تو رب ہے۔ پالنہار ہے، تجھے پُوچھنے والا کون ہے۔ تُو تو آل اِن آل ہے، میرے ساتھ رحمت والا معاملہ کر دے میرے مالک۔ تجھے پتا ہے مجھے تیری آزمائش سے ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے عذاب سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے مُنصف بن جانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ کہ اگر تُو مُنصف بن گیا تو میرے پاس تو کچھ بھی نہیں پاس ہونے کےلیے۔ تُو رحمت والا معاملہ کر دے ناں، تو میرے لیے اس دنیا میں بھی اپنا کرم کر دے ناں۔ تو مجھ پر اپنی عطاء کر دے گا تو تیرا کیا چلا جائے گا۔ رب جی سے ایسی ایسی باتیں کہ کوئی اور سُن لے تو مجھے پاگل کہے۔

اور جب کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کوئی اور امید نہیں رہتی تو پھر ایک ہی واسطہ ہوتا ہے۔ رب جی، نبی جی ﷺ کا صدقہ اپنی عطاء کر دو۔ نبی جی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ بس اس کے بعد کچھ اپنے بس میں نہیں رہتا۔ نبی جی ﷺ کے نام کے بعد لفظ نہیں صرف آنسو کام کرتے ہیں۔ رب جی کے دربار میں نبی جیﷺ کے واسطے دے کر بھی تھوڑ دِلا کیا مانگتا ہے؟ دنیا ۔ لیکن تھوڑ دِلا کیا کرے، رب جی کی مہربانی سے اگر اب کچھ ملا ہے، تو تھوڑ دِلا تریہہ جاتا ہے۔ ہر آہٹ اور خاموشی پر بدک اٹھتا ہے۔ رب جی کی آزمائش کا خوف اسے چین نہیں لینے دیتا۔ تو پھر تھوڑ دِلا اگر رب جی سے رحمت مانگنے کی ٹیپ نہ چلائے تو اور کیا کرے؟ تھوڑ دِلا تو یہی کر سکتا ہے کہ رب جی سے معافی مانگتا رہے، اور رحمت مانگتا رہے اور نبی جی ﷺ کا واسطہ دیتا رہے۔ اور بھلا تھوڑ دِلا کیا کر سکتا ہے؟

منگل، 23 اپریل، 2013

زبان

✩ کسی قوم کی خود داری کا اندازہ کرنا ہو تو  اپنی زبان کے متعلق اس کے رویّوں کا جائزہ لے لو۔

✩ زبان سیاسی نہیں ہوتی لیکن گندی سیاست زبان کو سیاسی بنا دیتی ہے۔

✩ زبان زندہ تو ثقافت، روایت اور کلچر زندہ۔ ایک زبان کی موت ایک ثقافت  کی موت ہوتی ہے۔

✩ زبان ہزاروں برس کے جینے مرنے، دکھ  سکھ، ان گنت زندگیوں کا جیتا جاگتا ریکارڈ ہوتی ہے۔

✩ زبان بولی جائے یا لکھی جائے، زبان  ہی کہلائے  گی۔

✩ کوئی زبان کسی دوسری زبان سے بہتر یا بد تر نہیں۔  ہر زبان اپنے اہلِ زبان کی لسانی ضروریات کے لیے عین کافی ہوتی ہے اور یہی زبان کے پرفیکٹ ہونے کی دلیل ہے۔

✩ کسی قوم کو یقین دلا دو کہ اس کی زبان کمتر ہے۔ اور وہ زبان اپنوں کی بے رخی کا زہر پیتے پیتے ہی گھُل گھُل کر دم توڑ جائے گی۔

✩ مادری زبان میں تعلیم کا حصول ہر انسان   کا بنیادی انسانی حق ہے۔

✩ اگر کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی گورے کو کسی کالے  پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، تو  ایک زبان کو بھی کسی دوسری زبان پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔

✩ خدا زبان کا محتاج نہیں۔ دل کی زبان میں بات کرو  وہ جواب دے گا،  وہ جواب دیتا ہے، وہ جواب دیتا آیا ہے۔

✩ جس نے دشمن کی زبان سیکھ لی وہ اس کے شر سے محفوظ ہو گیا۔

✩ زبانیں سیکھو، ہر زبان  دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہوتی ہے۔ ہر زبان دنیا سے ایک نئے انداز میں ملاقات کرواتی ہے۔

✩ یک لسان کی مثال ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے شخص کی طرح ہے، اور کثیر اللسان کئی کمروں کے پرتعیش مکان میں رہنے والا رہائشی، دونوں کی سوچ، رہن سہن، اندازِ فکر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

✩ شاعر، ادیب اور لکھاری زبان کو  اوزار  عطا کرتے ہیں لیکن اگر عوام ان اوزاروں کو شرفِ قبولیت نہ بخشے تو  وہ تاریخ کے کباڑ خانے میں زنگ آلود پڑے رہ جاتے ہیں۔

✩ زبان وہ ہے جو عوام کی زبان پر ہو، زبان وہ ہے جو تھڑے، گلی محلے اور کوچے میں بولی جائے۔ لغات اور قواعد و انشاء کی کتب اگر اس زبان سے میل نہ کھائیں تو  ان کی حیثیت لسانی قبرستان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

✩ تغیر زبان کا مقدر ہے۔ تغیر ایک ایسا دریا ہے جس کے آگے بند باندھ بھی لو تو وہ کسی اور جانب سے راستہ بنا لے گا۔

✩ اہلِ زبان کے لیے آج، ابھی کی زبان ہی زبان ہوتی ہے۔ ان کے لیے زبان کی تاریخ وہیں سے شرو ع ہوتی ہے جب ان کا شعور پروان چڑھا۔ ان  کے لیے سو سال قبل کی زبان بے معنی ہوتی ہے، جیسے سو سال بعد کی زبان بے معنی ہو گی۔

پیر، 16 فروری، 2009

دعا

میرے مالک میں ایسے کسی بھی وقت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی کی عزت میرے ہاتھ میں ہو اور میں کم ظرف ہوجاؤں۔
میرے مالک میں ایسے کسی بھی وقت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری عزت کسی کے ہاتھ میں ہو اور وہ کم ظرف ہوجائے۔
بے شک عزت اور ذلت دینے والی تیری ذات مولا۔
تیری ستاری کا واسطہ میرے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھیو۔
آمین۔

جمعرات، 12 فروری، 2009

ہمارا نیا نوکیا

ہمارا سونی ایرکس k510i پچھلے دنوں خراب ہوگیا. چلتے چلتے جام ہوجاتا تھا ہم نے مبلغ تین سو روپے دے کر ٹھیک بھی کروایا لیکن پندرہ دن چل کر پھر وہی مسئلہ کرنے لگا. چناچہ ہم نے تنگ آکر اسے بیچ ہی ڈالا.
اب بیچا کیسے... یہ رہنے دیں. مارکیٹ میں دو ہزار تک کا بک سکتا تھا. لیکن ہماری خر دماغی ہم ہر دوکاندار کے پاس جا کر پہلے سیٹ دکھاتے اور پھر یہ بھی بتا دیتے کہ بھائی اس میں یہ نقص ہے اس لیے بیچ رہے ہیں ہم. تو کون لیتا.... اللہ اللہ کرکے ایک بندے نے 1000 روپے کا لیا... اس نے بھی اپنی طرف سے ہمیں جتنا ٹھگا جاسکتا تھا اتنا ٹھگا. اور اس کے بعد گھر سے ہماری ایک بار نہیں کئی بار ہوچکی ہے.... اب تو عادت سی ہے ایسے جینے میں... کہ یہ موبائل ٹھیک کرواکے دوگنی قیمت میں بیچا جاسکتا تھا کس کو پتا تھا کہ یہ پھر مسئلہ کرے گا لیکن ہمارا دل نہ مانا اور بیچنے میں جلدی کی... :neutral:
خیر اس کے بعد کچھ دن والدہ کا سیٹ استعمال کیا اور اب ہم نے آخر کار نیا موبائل لے ہی لیا. پرانے موبائل میں بڑا سکون تھا، 1.3 میگا پکسل کیمرہ، مناسب سی میموری 32 میگا بائٹ، تھیمز، گانے شانے، ریکارڈنگ، اپنی رنگ ٹونز یہ وہ... ہمارا دل پھر کرتا تھا کہ کوئی ایسا سیٹ لیں. چائنہ کاپی سیٹ کے بارے میں سوچا لیکن ادھر اُدھر سے یہ سن کر کہ یہ تو جلد خراب ہوجاتے ہیں بلکہ کبھی چلتے ہی نہیں تو ہم نے اسے لینے کا ارادہ ترک کردیا. پرانا سیٹ لینے سے جی اتنا اکتایا کہ نوکیا کا 1200 ہی لے لیا مبلغ 2300 روپے میں اس دن مارکیٹ سے..

موبائل فون اور کمپیوٹر ڈیسکٹاپ ہو یا لیپ ٹاپ اس کے بارے میں جتنی خواہش کرلیں اتنی ہی کم ہے. ہمیں تو ذاتی طور پر اپنے اندر کی ہوس اسی میں نظر آتی ہے. موبائل ہو اور کِنّا(بہت) سارا ہو. یہ بھی کرسکے، وہ بھی کرسکے، ایسا بھی کرسکے ویسا بھی کرسکے وغیرہ وغیرہ. لیکن ہماری ہوس ہار گئی اور ہم نے نوکیا1200 لے لیا میسجنگ اور کال کرنے کے لیے. نوکیا آپ کی زندگی کی ڈور :grin: وہ مشہوری بار بار یاد آتی ہے. اس میں شک نہیں کہ نوکیا کے سیٹ پائیدار ہوتے ہیں. اب کم از کم ایک سال تو سکون رہے گا کہ سیٹ چل رہا ہے. پیسے آتے ہیں تو کوئی اچھا سیٹ لے لیں گے ایل جی یا سام سنگ گا..لیکن ابھی تو لیپ ٹاپ بھی لینا ہے...ہائے ہماری ہوس :roll:

جمعہ، 12 دسمبر، 2008

اور اپگریڈ ہوگئی

عمار کے بلاگ سے اپگریڈ پلگ ان کے بارے میں پڑھا اور آج صبح قریبًا دس منٹ لگا کر اپنے بلاگ کو ورڈپریس 2.7 پر اپگریڈ کرلیا۔
شکریہ عمار۔

پیر، 8 دسمبر، 2008

عید مبارک

تمام احباب کو عید الاضحٰی کی خوشیاں مبارک۔

مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، بم دھماکے، دہشت گردی اور اس جیسے کئی عوامل کے باوجود عید تو ہے۔

منگل، 30 ستمبر، 2008

اور کل عید ہے

اگرچہ کل عید ہے اور خوشی کا دن ہے لیکن میرے حساب سے اس عید کی خوشی خاصی کمینی سی خوشی ہے۔ وہ اس لیے کہ سعودیہ میں 29 روزوں کے بعد جب آج رویت "حلال" کمیٹی والے تین گھنٹوں تک اجلاس فرماتے رہے تو مجھے سخت غصہ آرہا تھا۔ ان کو کوسنے بدعائیں اور گالیاں دینے کو دل کررہا تھا۔ جو کل کا روزہ زبردستی کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ ساتھ پرائیویٹ چینل جو اپنی ہی بین بجانے لگتے ہیں۔ عید نہیں ہورہی، کل روزہ ہوگا۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ مجھے تو لگتا تھا رات بارہ بجے تک ان سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکے گا اور عید سے بھی جائیں گے اور تراویح سے بھی۔ جانے کونسی دعا کام آگئی کہ کل عید کا مژدہ مفتی جی کے منہ سے نکل گیا۔

خیر کمینی سی خوشی ہی سہی لیکن خوشی تو ہے۔

ایک بار پھر عید مبارک۔۔۔ ان کو جن کی ابھی نہیں ہوئی۔:D

پیر، 29 ستمبر، 2008

عید مبارک

تمام احباب اور اہل وطن کو جو وطن میں اور اس وقت باہر ہیں، عید مبارک۔ اللہ کریم آپ پر یہ خوشیاں مبارک کردے۔

وسلام

ہفتہ، 13 ستمبر، 2008

پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے

اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔


تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔


ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔


پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔


اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔


قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔


بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔


ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔

جمعہ، 29 اگست، 2008

اسلام اور موسیقی از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی

اردو محفل پر حال ہی میں ایک طویل مباحثہ ہوا جس کا موضوع اسلام اور موسیقی تھا۔ ربط

اس کا انجام کیا ہوا وہ الگ موضوع ہے لیکن اس دوران مجھے ایک کتاب ملی جس کا عنوان اس پوسٹ کا عنوان بھی ہے۔ اس کتاب کو سکین کرکے آنلائن کرنے کی خواہش ابھری اور اب اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہوں۔ امید ہے احباب اس کتاب کو پڑھ کر اس مسئلے کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کرسکیں گے۔

جمعرات، 14 اگست، 2008

جشن آزادی مبارک

میری طرف سے بھی تمام احباب کو جشن آزادی مبارک۔

اللہ کریم اس ملک پر اپنا لطف و کرم رکھے۔ رات گیارہ بجے لاہور میں ایک خودکش بم دھماکے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔

ہفتہ، 2 اگست، 2008

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔


ونڈوز یا لینکس؟


دونوں


ہالی وڈ یا بالی وڈ؟


دونوں ہی۔


پیپسی یا کوک؟


جو مل جائے


کراچی یا لاہور؟


فیصل آباد ;)


سیب یا انگور؟


غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے


پاپ یا راک؟


جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔


چائے یا کافی؟


چائے ہی۔


نہاری یا حلیم؟


حلیم کبھی کبھار۔


فورمز یا بلاگ؟


دونوں


دوست یا کزن؟


دوست


کرکٹ یا فٹ بال؟


کرکٹ


پرسکون یا پریشان؟


منحصر بہ وقت


چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔

جمعہ، 1 اگست، 2008

ایک واری فیر

لو بھئی اللہ والیو ہم پھر آگئے ہیں۔ :D

قدیر کی طرح ہم تڑی دے کر انٹرنیٹ سے نہیں بھاگتے بس کچھ حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔

کبھی سرور اڑ جاتا ہے، کبھی تھیم خراب ہوجاتا ہے اور اتنے میں ہمارا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد ہم پھر سے حاضر ہیں اور امید ہے کہ اب حاضر ہی رہیں گے۔

سنا ہے ہمارا انٹرویو شنٹرویو کرنا ہے وڈے لوگوں نے۔ اپنا سوال نامہ بھیجو بھئی ہم بھی انٹرویو دیں آخر دو سال پرانے بلاگر ہیں اور اب "کھنڈز" میں شمار ہوتے ہیں۔

کھنڈ کی سمجھ نہ لگے تو کسی پنجابی دوست سے پوچھ لیجیے گا۔ اردو میں اس کا بڑا لمبا سا بنتا ہے سرد و گرم چشیدہ شاید....

خیر بلاگ تو بن گیا ہے مہربانی نبیل نقوی کی ہے جنھوں نے اردو کوڈر کو سپیس فراہم کی۔ شکریہ پاء جی۔ مزید یہ کہ کوئی اللہ والا ایک عدد لوگو بنا دے ہمارے نام کا۔ اوپر سائیڈ بات میں لوگوں نظر آرہا ہوگا اس کے سائز کا ہم تاعمر مشکور رہیں گے۔ خود سے نہیں کریں گے تو ہم خود جا دھمکیں گے تب تو کرنا ہی پڑے گا اس لیے ایسے ہی کردیں تو بہتر ہے۔ ;)

وسلام

جمعہ، 29 فروری، 2008

اگلے چھ ماہ

مورخہ سات مارچ سے میرے سمسٹر فائنل ٹیسٹ ہورہے ہیں جو چودہ مارچ کو ختم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد میں ایک بار پھر ویلا مصروف ہوجاؤں گا۔ بی کام کرنے کے بعد پتا ہی نہیں لگا ڈیڑھ سال گزر گیا۔ میرے ہم جماعت اس وقت اپنا ایم بی اے اور ایم کام مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ جبکہ میں ابھی تک لنڈورا ہی پھر رہا ہوں۔

اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔  میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔

اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔  ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟

ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔

بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔

میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔

اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔

اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔

اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

اتوار، 24 فروری، 2008

دعا

گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔

اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک

بدھ، 6 فروری، 2008

ایک بھاگا ہوا بچہ

پانچویں جماعت پاس کی تو والدین نے بڑے دلار سے مدرسے میں داخل کروا دیا کہ بچہ قرآن حفظ کرلے تو سات پشتیں بخشی جائیں گی۔ بچہ بھی بہت خوش تھا کہ قرآن حفظ کرنا ہے۔ بڑے اہتمام سے موٹی مشین سے ٹنڈ کروائی اور خوشی خوشی مدرسے کو گیا۔ قاری جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت مارتا ہے نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ باتیں کرنے کے بعد داخل کرلیا۔ وقت دھیرے دھیرے گذرنے لگا۔

کوئی اڑھائی ماہ میں نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھ لیا۔ قاعدے کی گردان ہوئی۔ ایک نگران نے سنا اور اسے پاس کرکے اگلے درجے میں بھیج دیا گیا۔ اس کو سو روپے لانے کو کہا گیا جن کے عوض اسے آخر پانچ سپاروں کا سیٹ دے دیا گیا جو اکٹھے جلد کئے ہوئے تھے۔ آخری سپارہ حفظ کیا گیا۔ اس کی ترتیب ذرا مختلف تھی تاکہ نیا بچہ آسانی سے حفظ کرسکے۔ چناچہ آسان سے مشکل کی طرف والی اس ترتیب کو قرآن کی ترتیب کے مطابق کیا گیا۔۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ کوئی ایک سات آٹھ ماہ میں دو سپارے ختم ہوچکے تھے جب اسے پہلا دورہ پڑا۔ میں نے پڑھنے نہیں جانا۔ ایک دن گھر واپسی پر وہ اڑ گیا۔ مدرسے کی ٹائمنگ صبح فجر سے رات عشاء تک تھی۔ آٹھ بجے ناشتے کی چھٹی آدھ گھنٹا۔ دوپہر ساڑھے بارہ سے ظہر اور شام عصر سے مغرب تک کی رخصت ملا کرتی تھی۔ لیکن بچے کو لگتا تھا جیسے اسے قید کردیا گیا ہے۔ سارا سارا دن دونواز بیٹھ کر قرآن کو رٹنا اوررات کو آکر سوجانا۔۔۔اس اڑی کا قاری کو پتا چلا تو اس نے پہلے کرسی لگوایا۔ پھر ٹانگیں اوپر کروا کر تشریف کی مزاج پرسی کی۔ بچے کو فورًا یاد آگیا کہ یہ سب شیطان کی کارستانی تھی ورنہ وہ تو اب بھی پڑھنے کو تیار ہے۔۔

بچہ سیدھا ہوگیا اور پڑھائی پھر سے چلنے لگی۔ کچھ مزید عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھر وہی بخار چڑھا تو قاری نے جمعرات اور جمعے کی اکلوتی ہفتہ وار چھٹی بند کردی۔ دو ہفتے چھٹی بند رہی تو بچہ پھر راہ راست پر آگیا۔ اس دوران قاری نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے زمین خرید لی اور پہلا مدرسہ جہاں وہ تنخواہ دار تھا چھوڑ دیا۔ اکثر طلباء اس کے ساتھ نئے مدرسے چلے گئے کچھ پرانے مدرسے میں رہ گئے۔ کچھ عرصہ پھر سکون سے گزرا اور پھر بچے کو دورہ پڑا۔ اب کے یہ بہت شدید تھا جمعے کے دن بچہ ریل پر بیٹھ کر اپنی نانی کے پاس پہنچ گیا۔ آخر گھر والے اسے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے لیکن سکون عارضی ثابت ہوا۔ نیا مدرسہ عارضی سی عمارت تھی۔ چناچہ بچہ پھر سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ بھاگ کر سیدھا اسٹیشن پہنچ گیا لیکن گھر والوں کو پتا چل گیا اور اسٹیشن سے اسے پکڑ لیا گیا۔ گھر تک اس کی ٹھکائی ہوتی رہی۔ آخر گھر والوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مدرسے سے ہٹا لیا گیا۔ بچے کی رٹ تھی کہ اور جگہ داخل کروا دیں یہاں نہیں پڑھوں گا۔۔۔آخر اسے ایک اور شہر میں اقامتی درسگاہ میں داخل کروادیا گیا۔ لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہاں سے بھاگ کر پھر گھر آگیا۔ اب اس کی رٹ تھی کہ میں نے قرآن حفظ ہی نہیں کرنا۔ گھر والوں نے بہتیرا سمجھایا لیکن اس کے بھیجے میں بات نہ آسکی۔۔چناچہ اسے چھٹی میں داخل کروا دیا گیا۔ ذہین تھا آدھا سال ضائع ہونے کے باوجود دوسرے بچوں سے آگے نکل گیا۔۔۔

وہ بچہ آج بی کام ہے، لسانیات میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اس کی محبوبائیں ہیں۔۔۔ وہ بچہ یعنی منکہ مسمی شاکر عزیز آپ کے سامنے اپنی زندگی کا ایک تلخ پہلو کھول رہا ہے۔ شاید کتھارسس کے لیے یا پھر اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔۔ زندگی کا وہ ڈیڑھ سال میری شخصیت سازی میں بہت حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت کا احساس اب تک میرے ذہن سے نہیں مٹتا کہ خادم القرآن کہلوانے والے اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔ عجیب عجیب سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔ شاکر شاید آج حافظ شاکر ہوتا اگر وہ قاری اتنا مارنے والا نہ ہوتا، یا وہ شیڈیول اتنا ٹف نا ہوتا جو پڑھائی کی بجائے قید لگتا تھا۔۔یا شاید اس کی نیت ہی خراب تھی۔۔۔لیکن وہ ڈیڑھ سال اگر ضائع نہ ہوتا میں کہیں اور ہوتا۔۔۔۔وہ ڈیڑھ سال بس ایسے ہی ماضی کا وہ ورق بن گیا جسے الٹتے ہوئے بہت سی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔اور احساس ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی نعمت سے محروم رہ گیا۔۔۔قرآن جسے میرے سینے میں نقش ہونا تھا نہ ہوسکا۔۔۔جو چند سپارے یاد تھے وہ بھی آہستہ آہستہ محو یادداشت ہوگئے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قرآن یاد کرنے کو تم ایسے پاؤ گے جیسے اونٹ ہے جس کے گلے میں رسی ڈالی گئی ہو اور وہ اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرے۔۔ قرآن یاد کرنا اور اس کو یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کے نصیب میں تھا ہی نہیں شاید۔۔آج جب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک نہیں کئی خطائیں کی تھیں۔۔۔اللہ کی کتاب کو یاد نہ کرسکا جو یاد تھی اسے بھلا ڈالا تو میری زبان پر استغر اللہ الذی لا الہ الا ہوا الحی القیوم و اتوب الیہ کا ورد جاری ہوجاتا ہے۔ میرا مالک مجھے معاف کرے میں بہت گناہگار ہوں۔۔

یہاں لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میں نے لکھ ڈالا، اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں گے۔

وسلام

پیر، 21 جنوری، 2008

مبارکباد بدتمیز سیّاں

لو جی بدتمیز کو مبارکباد ان کی سالگرہ پر۔ ویسے تو ہمارا آج کل لکھنے کو ککھ بھی دل نہیں کررہا۔ اس بہانے ایک اور پوسٹ ہی سہی۔ اللہ تم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ رکھے۔ آمین۔

اتوار، 23 دسمبر، 2007

اردو کوڈر فورم اپگریڈ کے بعد

محمد علی مکی کو عربی اور عربوں سے روحانی قسم کی وابستگی ہے۔ چناچہ سافٹویرز کو عربی سے اردو کرنا ان کی اضافی خوبی ہے۔ اردو کوڈر کو بھی ایک عربی فورم پیکج پر اپگریڈ کردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ساتھ عربی مترجم لائیں ۔۔۔سافٹویر کا اردو ترجمہ احتیاطًا کردیا گیا تھا۔ یہ فورم سافٹویر پی ایچ پی بی بی کی اولاد میں سے ہی لگتا ہے شاید اس کا کوئی کزن شزن ہے۔ یعنی تھوڑا سا مختلف ہے کچھ اختیارات زیادہ ہیں جیسے ذیلی فورم وغیرہ۔ چناچہ آپ بلاخطر تشریف لائیے اور ہمیں اس اپگریڈ کی خوبیوں اور خامیوں سے بھی آگاہ کیجیے۔ فورم کا ٹیپلیٹ ابھی ڈیفالٹ سا ہے اسے بدلنا ہے۔
وسلام

ہفتہ، 22 دسمبر، 2007

اردو کوڈر فورمز کی اپگریڈ

اردو کوڈر فورمز اپگریڈ کے سلسلے میں بند ہیں۔ محمد علی مکی آج اسے پی ایچ پی بی بی کے ایک ایکسٹرا پیکج پر اپگریڈ کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ آپ اور میں دونوں دیکھتے ہیں کہ کیا بنتا ہے یا تو اپگریڈ ہوجائے گا یا موج ہوجائے گی۔ ;)