جمعرات، 8 دسمبر، 2016
تھوڑ دِلا
منگل، 23 اپریل، 2013
زبان
✩ زبان سیاسی نہیں ہوتی لیکن گندی سیاست زبان کو سیاسی بنا دیتی ہے۔
✩ زبان زندہ تو ثقافت، روایت اور کلچر زندہ۔ ایک زبان کی موت ایک ثقافت کی موت ہوتی ہے۔
✩ زبان ہزاروں برس کے جینے مرنے، دکھ سکھ، ان گنت زندگیوں کا جیتا جاگتا ریکارڈ ہوتی ہے۔
✩ زبان بولی جائے یا لکھی جائے، زبان ہی کہلائے گی۔
✩ کوئی زبان کسی دوسری زبان سے بہتر یا بد تر نہیں۔ ہر زبان اپنے اہلِ زبان کی لسانی ضروریات کے لیے عین کافی ہوتی ہے اور یہی زبان کے پرفیکٹ ہونے کی دلیل ہے۔
✩ کسی قوم کو یقین دلا دو کہ اس کی زبان کمتر ہے۔ اور وہ زبان اپنوں کی بے رخی کا زہر پیتے پیتے ہی گھُل گھُل کر دم توڑ جائے گی۔
✩ مادری زبان میں تعلیم کا حصول ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے۔
✩ اگر کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، تو ایک زبان کو بھی کسی دوسری زبان پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔
✩ خدا زبان کا محتاج نہیں۔ دل کی زبان میں بات کرو وہ جواب دے گا، وہ جواب دیتا ہے، وہ جواب دیتا آیا ہے۔
✩ جس نے دشمن کی زبان سیکھ لی وہ اس کے شر سے محفوظ ہو گیا۔
✩ زبانیں سیکھو، ہر زبان دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہوتی ہے۔ ہر زبان دنیا سے ایک نئے انداز میں ملاقات کرواتی ہے۔
✩ یک لسان کی مثال ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے شخص کی طرح ہے، اور کثیر اللسان کئی کمروں کے پرتعیش مکان میں رہنے والا رہائشی، دونوں کی سوچ، رہن سہن، اندازِ فکر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
✩ شاعر، ادیب اور لکھاری زبان کو اوزار عطا کرتے ہیں لیکن اگر عوام ان اوزاروں کو شرفِ قبولیت نہ بخشے تو وہ تاریخ کے کباڑ خانے میں زنگ آلود پڑے رہ جاتے ہیں۔
✩ زبان وہ ہے جو عوام کی زبان پر ہو، زبان وہ ہے جو تھڑے، گلی محلے اور کوچے میں بولی جائے۔ لغات اور قواعد و انشاء کی کتب اگر اس زبان سے میل نہ کھائیں تو ان کی حیثیت لسانی قبرستان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
✩ تغیر زبان کا مقدر ہے۔ تغیر ایک ایسا دریا ہے جس کے آگے بند باندھ بھی لو تو وہ کسی اور جانب سے راستہ بنا لے گا۔
✩ اہلِ زبان کے لیے آج، ابھی کی زبان ہی زبان ہوتی ہے۔ ان کے لیے زبان کی تاریخ وہیں سے شرو ع ہوتی ہے جب ان کا شعور پروان چڑھا۔ ان کے لیے سو سال قبل کی زبان بے معنی ہوتی ہے، جیسے سو سال بعد کی زبان بے معنی ہو گی۔
پیر، 16 فروری، 2009
دعا
جمعرات، 12 فروری، 2009
ہمارا نیا نوکیا
اب بیچا کیسے... یہ رہنے دیں. مارکیٹ میں دو ہزار تک کا بک سکتا تھا. لیکن ہماری خر دماغی ہم ہر دوکاندار کے پاس جا کر پہلے سیٹ دکھاتے اور پھر یہ بھی بتا دیتے کہ بھائی اس میں یہ نقص ہے اس لیے بیچ رہے ہیں ہم. تو کون لیتا.... اللہ اللہ کرکے ایک بندے نے 1000 روپے کا لیا... اس نے بھی اپنی طرف سے ہمیں جتنا ٹھگا جاسکتا تھا اتنا ٹھگا. اور اس کے بعد گھر سے ہماری ایک بار نہیں کئی بار ہوچکی ہے.... اب تو عادت سی ہے ایسے جینے میں... کہ یہ موبائل ٹھیک کرواکے دوگنی قیمت میں بیچا جاسکتا تھا کس کو پتا تھا کہ یہ پھر مسئلہ کرے گا لیکن ہمارا دل نہ مانا اور بیچنے میں جلدی کی... :neutral:
خیر اس کے بعد کچھ دن والدہ کا سیٹ استعمال کیا اور اب ہم نے آخر کار نیا موبائل لے ہی لیا. پرانے موبائل میں بڑا سکون تھا، 1.3 میگا پکسل کیمرہ، مناسب سی میموری 32 میگا بائٹ، تھیمز، گانے شانے، ریکارڈنگ، اپنی رنگ ٹونز یہ وہ... ہمارا دل پھر کرتا تھا کہ کوئی ایسا سیٹ لیں. چائنہ کاپی سیٹ کے بارے میں سوچا لیکن ادھر اُدھر سے یہ سن کر کہ یہ تو جلد خراب ہوجاتے ہیں بلکہ کبھی چلتے ہی نہیں تو ہم نے اسے لینے کا ارادہ ترک کردیا. پرانا سیٹ لینے سے جی اتنا اکتایا کہ نوکیا کا 1200 ہی لے لیا مبلغ 2300 روپے میں اس دن مارکیٹ سے..
موبائل فون اور کمپیوٹر ڈیسکٹاپ ہو یا لیپ ٹاپ اس کے بارے میں جتنی خواہش کرلیں اتنی ہی کم ہے. ہمیں تو ذاتی طور پر اپنے اندر کی ہوس اسی میں نظر آتی ہے. موبائل ہو اور کِنّا(بہت) سارا ہو. یہ بھی کرسکے، وہ بھی کرسکے، ایسا بھی کرسکے ویسا بھی کرسکے وغیرہ وغیرہ. لیکن ہماری ہوس ہار گئی اور ہم نے نوکیا1200 لے لیا میسجنگ اور کال کرنے کے لیے. نوکیا آپ کی زندگی کی ڈور :grin: وہ مشہوری بار بار یاد آتی ہے. اس میں شک نہیں کہ نوکیا کے سیٹ پائیدار ہوتے ہیں. اب کم از کم ایک سال تو سکون رہے گا کہ سیٹ چل رہا ہے. پیسے آتے ہیں تو کوئی اچھا سیٹ لے لیں گے ایل جی یا سام سنگ گا..لیکن ابھی تو لیپ ٹاپ بھی لینا ہے...ہائے ہماری ہوس :roll:
جمعہ، 12 دسمبر، 2008
اور اپگریڈ ہوگئی
شکریہ عمار۔
پیر، 8 دسمبر، 2008
منگل، 30 ستمبر، 2008
اور کل عید ہے
خیر کمینی سی خوشی ہی سہی لیکن خوشی تو ہے۔
ایک بار پھر عید مبارک۔۔۔ ان کو جن کی ابھی نہیں ہوئی۔:D
پیر، 29 ستمبر، 2008
ہفتہ، 13 ستمبر، 2008
پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے
اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔
تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔
ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔
پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔
اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔
قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔
بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔
ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔
پیر، 1 ستمبر، 2008
جمعہ، 29 اگست، 2008
اسلام اور موسیقی از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی
جمعرات، 14 اگست، 2008
جشن آزادی مبارک
اللہ کریم اس ملک پر اپنا لطف و کرم رکھے۔ رات گیارہ بجے لاہور میں ایک خودکش بم دھماکے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
ہفتہ، 2 اگست، 2008
ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ
احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔
ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
ہالی وڈ یا بالی وڈ؟
دونوں ہی۔
پیپسی یا کوک؟
جو مل جائے
کراچی یا لاہور؟
فیصل آباد ;)
سیب یا انگور؟
غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے
پاپ یا راک؟
جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔
چائے یا کافی؟
چائے ہی۔
نہاری یا حلیم؟
حلیم کبھی کبھار۔
فورمز یا بلاگ؟
دونوں
دوست یا کزن؟
دوست
کرکٹ یا فٹ بال؟
کرکٹ
پرسکون یا پریشان؟
منحصر بہ وقت
چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔
جمعہ، 1 اگست، 2008
ایک واری فیر
قدیر کی طرح ہم تڑی دے کر انٹرنیٹ سے نہیں بھاگتے بس کچھ حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
کبھی سرور اڑ جاتا ہے، کبھی تھیم خراب ہوجاتا ہے اور اتنے میں ہمارا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد ہم پھر سے حاضر ہیں اور امید ہے کہ اب حاضر ہی رہیں گے۔
سنا ہے ہمارا انٹرویو شنٹرویو کرنا ہے وڈے لوگوں نے۔ اپنا سوال نامہ بھیجو بھئی ہم بھی انٹرویو دیں آخر دو سال پرانے بلاگر ہیں اور اب "کھنڈز" میں شمار ہوتے ہیں۔
کھنڈ کی سمجھ نہ لگے تو کسی پنجابی دوست سے پوچھ لیجیے گا۔ اردو میں اس کا بڑا لمبا سا بنتا ہے سرد و گرم چشیدہ شاید....
خیر بلاگ تو بن گیا ہے مہربانی نبیل نقوی کی ہے جنھوں نے اردو کوڈر کو سپیس فراہم کی۔ شکریہ پاء جی۔ مزید یہ کہ کوئی اللہ والا ایک عدد لوگو بنا دے ہمارے نام کا۔ اوپر سائیڈ بات میں لوگوں نظر آرہا ہوگا اس کے سائز کا ہم تاعمر مشکور رہیں گے۔ خود سے نہیں کریں گے تو ہم خود جا دھمکیں گے تب تو کرنا ہی پڑے گا اس لیے ایسے ہی کردیں تو بہتر ہے۔ ;)
وسلام
جمعہ، 29 فروری، 2008
اگلے چھ ماہ
اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔ میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔
اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔ ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟
ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔
بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔
میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔
اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔
اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔
اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
اتوار، 24 فروری، 2008
دعا
اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک
بدھ، 6 فروری، 2008
ایک بھاگا ہوا بچہ
پیر، 21 جنوری، 2008
مبارکباد بدتمیز سیّاں
اتوار، 23 دسمبر، 2007
اردو کوڈر فورم اپگریڈ کے بعد
وسلام