دین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 28 جولائی، 2013

اجتہاد

دین کی سپیشلائزیشن دین پر ہزار سالہ پرانی فقہی سوچ کی اجارہ داری قائم کرتی ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان، مناسب حد تک عقائد سے واقفیت رکھنے کے باوجود کسی چیز پر اعتراض کرے تو اسے چپ کروا دیا جاتا ہے کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ حق حاصل کب ہو گا؟ اگر تم پچھلوں کی تھیوری گھول کر پی لو، انہیں روایات پر چلو جن پر وہ چلے تھے اور اس کی سیدھ میں رہ کر بات کرو جو پچھلوں نے متعین کر دیا تھا تو تمہاری بات قابلِ قبول ہو گی ورنہ جہنم میں جاؤ، تم فتنہ پرور ہو۔ جب یہ فکر و سوچ موجود ہو تو اجتہاد پر جتنا مرضی زور لگا لیا جائے کھوتی وہیں آ کر کھلوتی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ پچھلوں کے متعین کردہ راستے پر چلنے سے بار  بار  بار  بار  وہی نتیجہ نکلتا ہے جب متغیر کی قیمتیں وہی رکھنی ہے تو جواب بھی وہی آئے گا۔ مثلاً احادیث میں ہی تدوینِ جدید کی بات کر لیں جو ترکی میں جاری ہے۔ جس میں احادیث کو زمانی نکتہ نظر سے الگ کیا جا رہا ہے، ایسی احادیث جو ہزار سال پہلے کے لیے موزوں تھیں اور ایسی احادیث جو آفاقی پیغام رکھتی ہیں، زمانے سے ماوراء ہیں۔ اب اس پر اختلاف کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے کہ حدیث اس میراث کا حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چھوڑی، چنانچہ حدیث قیامت تک کے لیے ہے۔ جیسے قرآن قیامت تک کے لیے ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اونٹ کا پیشاب پلانے والی حدیث، اور اس جیسے کئی اقوالِ رسول ﷺ جو ایک خاص سیاق و سباق و موقع محل کے مطابق دئیے گئے ہر زمانے کے لیے کار آمد نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی اغلباً رسول اللہ ﷺ نے ایسا ارادہ فرمایا تھا۔ تو جب طرزِ فکر کو محدود کیا جاتا ہے، جب ہر غیر روایتی چیز کو رد کیا جاتا ہے، جب "اجماعِ امت" کے نام پر (جو پچھلوں کی پیروی کا ہی دوسرا نام ہے) ڈراوے دئیے جاتے ہیں۔ جب پچھلوں کی پیروی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ "ہم سے زیادہ متقی تھے"(حالانکہ ان کے متقی پن کا  آج کے مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں بنتا)  تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کھوتی وہیں آ  کھلوتی ہے  چاہے جتنا مرضی زور لگا لے۔
 ایک اور مسئلہ دین کے ماخذات کا ہے۔ دین کا ماخذ قرآن ہے، حدیثِ رسول ہے لیکن قرآن سے کم اہمیت والی اور اختلافات کا خدشہ نسبتاً زیادہ چونکہ اس کو محفوظ رکھنے کا کوئی   آسمانی وعدہ نہیں تھا، لوگوں نے خود سے احادیث بھی گھڑیں، سینکڑوں برس کی تدوین و تالیف کے باوجود آج بھی ضعیف احادیث انہیں کتب میں موجود ہیں اور عوام الناس میں گردش بھی کرتی ہیں (ظاہر ہے عوام ضعیف احادیث سے آگاہ نہیں ہوتے)۔ تیسرا ماخذ جو بنا لیا گیا ہے وہ پچھلوں کے اقوال ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین چونکہ انہیں زمانہ رسول ﷺ ملا، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے فقہا۔ یعنی جو کوئی زمانہ رسول ﷺ سے جتنا قریب ہے جنرل رول آف تھمب کے تحت اس کی رائے اتنی ہی زیادہ اہمیت والی ہو گی، آج کی رائے پر فوقیت دی جائے گی اور وہ اتنی ہی زیادہ روایت کی وہ چار دیواری قائم کرنے میں معاون ہو گی جو دین کے معاملے میں سوچتے ہوئے عائد کرنا، طاری کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔  یہ منظر نامہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ان سارے ماخذات کو ایک  دوسرے کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے۔ قرآنی احکام ، احادیثِ رسول اور احادیثِ اصحابِ رسول و بزرگان کو ایسے مکس کر  دیا جاتا ہے کہ  اللہ نے کیا فرمایا، رسول اللہ ﷺ  کا کیا حکم تھا اور دیگر بزرگان کی رائے، قول یا عمل کونسا تھا۔ سب کچھ یکساں اہمیت کے تحت نافذ کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی دو تین برس پہلے اردو محفل پر موسیقی کے  حلال حرام کے ہونے کے حوالے سے ایک قرآنی آیت پیش کی گئی (سورہ لقمان آیت 6) جس میں "لغو باتوں" (لہو الحدیث)  کا ذکر تھا۔ اس سلسلے میں "لغو باتوں" کا مطلب موسیقی نکالا گیا، جو دراصل ایک صحابیِ رسول ﷺ کی بیان کردہ اس آیت کی تفسیر سے آیا۔ اوپر بیان کردہ قانون کے مطابق صحابیِ رسول کا قول آج کسی شخص کے قول سے زیادہ اہمیت  کا  حامل ہے۔ کیوں؟ چونکہ وہ زمانہ رسول ﷺ کے قریب ترین ہیں، دوم وہ رسو ل اللہ کے تربیت  یافتہ ہیں۔ اس پر وہی سوال اٹھتا ہے کہ دین اللہ اور اس کے رسول  ﷺ (جن کی رہنمائی اللہ بذریعہ وحی کرتا ہے) سے آتا ہے یا اصحابِ رسول اور بزرگانِ دین سے۔ اور  جیسا کہ بتایا گیا دین کے حوالے سے  زمانی فاصلے کی اہمیت کے قانون کے تحت اصحابِ رسول  ﷺ کا کہنا بھی  کچھ کم اہمیت کے ساتھ  دین میں وہی درجہ رکھتا ہے، کہہ لیں کہ اللہ، رسول کے بعد تیسرے نمبر پر۔  موسیقی کو قرآن میں کہیں واضح الفاظ میں حرام نہیں کہا گیا، احادیث پر بحث کی جا سکتی ہے کچھ لوگ حرام کہتے ہیں ایک اقلیت نے حلال بھی کہا۔ لیکن موسیقی کو قرآن سے بھی حرام  ثابت کرنے کے لیے  تفسیر پیش کر دی گئی (جو تیسرے ذریعے سے آتی ہے یعنی صحابیِ رسول)۔ اب اسے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ قرآنی حکم ہی ہے۔ یعنی  دین کے ماخذات کو  مکس کر کے پیچیدگی پیدا کرنے کا کام، جیسا کہ اوپر  ذکر کیا گیا۔ ایسی صورت میں جاوید احمد غامدی اگر موسیقی کو حلال کہے، شاہ محمد جعفر پھلواری اسے مستحب کہے تو وہ غلط قرار پاتے ہیں ۔
چنانچہ وہی بات جو پیچھے عرض کی، اجتہاد روایت کے اندر رہ کر کیا جائے تو قابلِ قبول ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اجتہاد وہی جواب نکالتا ہے جو پانچ سو برس پہلے نکلتا تھا۔ "اجماعِ امت" اور روایات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ  کوئی ان حدود سے باہر جا کر نہ سوچ سکے جو پچھلوں نے متعین کر دیں۔ چنانچہ  دین بے زار طبقہ آخر کار یہ کہہ دیتا ہے کہ مذہب تو ایک ثقافتی عنصر ہے، گٹے ننگے کرو یا نہ کرو کیا فرق پڑتا ہے، پینٹ کے ساتھ  جرابیں پہن کر گٹے ننگے  کیا کریں برے لگتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ
نتیجہ یہ کہ ایسے ماحول میں اجتہاد پانی میں مدھانی کا کام کرتا ہے جتنی مرضی چلا لو مکھن نہیں آتا، یا جو مکھن آنا تھا وہ لوگ پہلے ہی نکال چکے۔

بدھ، 1 جون، 2011

ردعمل

دائرہ کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرنا تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
سائیں جب رسول اللہ ﷺ کے نام نامی کے ساتھ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں سلیمان علیہ السلام کے ستر بی بیوں کے ساتھ جماع کرنے اور انشاءاللہ نہ کہنے کا ذکر ملتا ہے۔ تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے؟ یہ سنت تو نہیں۔ یہ تو ان کی طرف منسوب ایک روایت ہے۔ اس میں تو عمل کرنے والی کوئی بات ہی نہیں۔ یہ کوئی فعل نہیں، ایک روایت ہے۔ یہ سنت نہیں، حدیث ہے۔ امید ہے آپ فرق سمجھ گئے ہونگے۔
ہاں آپ اسے بھی سنت ثابت کردیں تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوگی۔ پہلے سنت اور حدیث کو مکس اپ کردیا گیا، پھر حدیث رسول ﷺ اور حدیث اصحاب رسول ﷺ میں کوئی فرق روا نہ رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت احکام الہیہ اور نبی ﷺ کے بعد آنے والوں کے ورلڈ ویو کا مکسچر بن گئی۔ اور ہم نے سب کو دین سمجھ لیا۔ شیعہ جمعہ کی دوسری اذان اس لیے نہیں دیتے چونکہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم تھا۔ صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم نہیں کہتے چونکہ یہ "ایڈیشن" عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی۔ سنی ان سب کو بھی دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو اصحاب رسول ﷺ نے کیا، شیعہ اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو ان کے فقیہوں نے کیا، اذان میں ایڈیشن، کلمے میں ایڈیشن، عقائد میں ایڈیشن۔ دین کہاں گیا؟ دین کے بنیادی سورسز کو ہی ترجمے اور تفسیر نے ہرا، نیلا، پیلا، گلابی رنگ دے دیا۔ چناچہ دین پیچھے ہر گیا، رنگ برنگے اسلام سامنے آگئے۔ اور پھر قرآنسٹ سامنے آگئے جو قرآن کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے بغیر، صرف لفظی سیاق و سباق پر انحصار کرتے ہوئے۔
اس سب میں اسلام کہاں گیا؟ اور مسلمان کہاں گیا؟ اسلام کے ٹکڑے ہوگئے اور لوگوں نے اپنی اپنی پسند کا ٹکڑا اٹھا کر اس پر پینٹ کرکے اپنے طاقوں میں سجا لیا، جی یہ ہمارا اسلام ہے۔ اور مسلمان کہاں گیا؟ مسلمان، آج کا مسلمان گواچی گاں بن گیا کہ کدھر جائے، کونسا اسلام "خریدے"، کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجائی ہوئی ہے، اور ہر ایک کے نعرے بڑے دلکش ہیں، کہ رب کریم نے ہر ایک کے لیے اس کا عمل خوشگوار بنا دیا، جیسے کہ خود اس کا فرمان ہے۔ مسلمان دُبدھا میں پڑ گیا کہ اگر اسلام کا نفاذ ہوا تو کونسے اسلام کا ہوگا؟ شیعہ، سُنی؟ سلفی؟،دیوبندی؟ یا بریلوی؟ یا مودودی؟، یا قرآنسٹ اسلام؟ چناچہ مسلمان، یعنی میرے جیسا مسلمان، جو ایک گواچی گاں ہے، اور ہر پاسے منہ اُٹھائے باں باں کرتا پھرتا ہے، جان کی خلاصی اسی میں جانتا ہے کہ اسلام کو ذات تک ہی محدود رکھا جائے، اور بدنوق لے کر جو لوگ "اپنا اسلام" نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف حکومت کو بندوق کی زبان میں ہی بات کرنے کا کہے۔ تاکہ اس کا "اسلام" تو محفوظ رہ سکے۔

پیر، 12 جنوری، 2009

ہائے گرامر

میرے احباب کا گلہ ہے کہ میں کچھ لکھتا کیوں نہیں۔  میں کیا لکھوں۔۔۔

پچھلے پندرہ دن سے میرا انٹرنیٹ بند تھا۔ بجلی بند تھی۔ موبائل فون ایک ہفتہ بند رہا۔۔ آہ آپ کو کیا بتاؤں لگتا تھا کسی ظالم نے بندش کروا دی ہے۔ خیر اس بندشوں کے موسم میں ہم کیسے جیے۔ تو سنیے


لمبی داستان ہے لیکن مختصر کیے دیتے ہیں۔ قصہ شروع ہوتا ہے گرامر سے۔ گرامر۔۔۔ ہمارے ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کے پہلے سمسٹر میں ایک یہ کورس بھی ہے۔ گرامر اور وہ بھی انگریزی کی۔ وہ زبان جو میرے لیے آج بھی اجنبی ہے۔ تو صاحبو ان تمام دنوں میں ہم یہ مصرع گنگناتے رہے۔


ہم ہیں اور گرامر کے غم ہیں دوستو


مرحوم شاعر یا غیر مرحوم شاعر سے معذرت کے ساتھ۔ ہم نے مصرعے میں گرامر ٹانک کر اسے حسب حال کرلیا۔ پندرہ دن کہنے کو تو چھٹیوں کے تھے۔ لیکن ہمیں چھٹیوں کا کام دے کر بھیجا گیا تھا۔ کام اتنا سا تھا کہ 234 عدد مشقیں کرنا تھیں۔ جی گرامر کی ہی۔ بڑی مشہور اور پرانی انگریزی کی گرامر ہے ہائی سکول انگلش گرامر اس کی اڑھائی سو مشقیں۔ آہ۔۔۔ نام تو اس کمبخت کا ہائی سکول ہے لیکن اس نے یونیورسٹی کے طلباء کو سکول یاد کروا دیا۔


ہم و ہمارے ہم جماعت اب بھی اس صدمے کے زیر اثر ہیں۔ رات کو خوابوں میں ایک عرصے سے گرامر آتی ہے۔ گرامر نہ آئے تو انگریزی کے فقرے دھمال ڈالتے ہیں۔ آ ہمارا تجزیہ کر۔ تجزیہ؟ نہیں سمجھے۔۔ میں سمجھاتا ہوں۔ تجزیہ یعنی اینالسس بطور لسانیات کے طالب علم ہونے کے ہمیں آنا چاہیے۔ چونکہ زبان فرنگ زبان تعلیم بھی ہے اس لیے اسی کی گرامر سکھائی جاتی ہے۔ اور اسی کے فقروں کا تجزیہ بھی سکھایا جاتا ہے مقصد اتنا ہے کہ ہم آگے اسے اچھی طرح پڑھانے کے قابل ہوجائیں۔ ان اڑھائی سو مشقوں کا مقصد بھی ہماری مومیائی نکالنا اور ہمیں انگریزی گرامر کی مبادیات سے آگاہ کرنا تھا تاکہ ہم تجزیہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ تجزیہ جو ہمارے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ فقرہ لکھا ہے۔


چاچے پھجے نے مامے تاج دین کو کیوں مارا۔


ماسی کرشیداں کے وڈے منڈے کے چھوٹے صاحب زادے کو بخار کس وجہ سے چڑھا۔


یہ لوکل ورژن ہے جی انگریزی کے فقرے بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ایک فقرہ کسی مرے ہوئے شاعر کے دیوان سے دوسرا کسی ڈرامے سے اور تیسرا خود سے بنایا ہوا۔ ہر فقرہ جلیبی کی طرح سیدھا۔ پہلے کلاز clause نکالو پھر اس کے اندر فاعل، فعل ، مفعول بتاؤ۔ پھرمزید آگے جاکر ان کے اندر موجود الفاظ کا زمرہ بتاؤ۔ صفت ہے، نام ہے، فعل ہے ۔۔۔۔آہ یہ گرامر ہے کہ جیل ہے۔۔ بس صاحبو کیا بتائیں ہمارے تو گوڈوں میں گرامر ایسی بیٹھی کہ ساری چھٹیاں اسی میں گزر گئیں۔ اور ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ تین مارچ کو پرچے ہیں اور تب تک ہم نے گرامر کی مزید تین اسائنمنٹ کرنی ہیں۔ کچھ اسی طرح  کی جیسی ان چھٹیوں میں کی۔ مجھے تو شک ہے کہ اس سمسٹر کے بعد ہم انسان بھی رہیں گے یا چیر پھاڑ سپیشلسٹ بن جائیں گے۔ اس گرامر کے صدقے اچھے بھلے شعر کی معنی آفرینی اور ندرت خیال کی بجائے ہمیں اس میں فاعل فعل مفعول نظر آتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر کو بندہ نہیں پھیپھڑوں، جگر اور دل گردے کا مجموعہ انسان کی شکل میں نظر آتا ہے۔


اتنی بک بک بہت ہے امید ہے میرے احباب کا گلہ دور ہوگیا ہوگا۔ اگر بور ہوگئے ہیں تو معذرت نہیں کروں گا۔


اتنا ہی کہوں گا کہ ہور چوپو۔۔۔ تہانوں کیا کنھیں سی کے ایس پوسٹ نوں پڑھو۔

منگل، 30 ستمبر، 2008

اور کل عید ہے

اگرچہ کل عید ہے اور خوشی کا دن ہے لیکن میرے حساب سے اس عید کی خوشی خاصی کمینی سی خوشی ہے۔ وہ اس لیے کہ سعودیہ میں 29 روزوں کے بعد جب آج رویت "حلال" کمیٹی والے تین گھنٹوں تک اجلاس فرماتے رہے تو مجھے سخت غصہ آرہا تھا۔ ان کو کوسنے بدعائیں اور گالیاں دینے کو دل کررہا تھا۔ جو کل کا روزہ زبردستی کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ ساتھ پرائیویٹ چینل جو اپنی ہی بین بجانے لگتے ہیں۔ عید نہیں ہورہی، کل روزہ ہوگا۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ مجھے تو لگتا تھا رات بارہ بجے تک ان سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکے گا اور عید سے بھی جائیں گے اور تراویح سے بھی۔ جانے کونسی دعا کام آگئی کہ کل عید کا مژدہ مفتی جی کے منہ سے نکل گیا۔

خیر کمینی سی خوشی ہی سہی لیکن خوشی تو ہے۔

ایک بار پھر عید مبارک۔۔۔ ان کو جن کی ابھی نہیں ہوئی۔:D

پیر، 10 مارچ، 2008

اے دین کے ٹھیکیدارو

ہمیں کیوں روکتے ہو

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم نے دین میں رسمیں ایجاد کرلیں؟

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم 360 دنوں میں ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کرکے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوجاتے ہو؟

کیا ہم نے کبھی تمہارے جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا؟

جو تم اب شاہ کے پیسے کھا کر ہم پر کرتے ہو؟

آخر ہم کیوں سیاہ جھنڈے نہ لہرائیں؟

کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟

"جس قوم میں انصاف نہ رہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے"

کیا تم اندھے، گونگے بہرے ہو کہ تمہیں نظر نہیں آتا؟

کیا تمہیں یہ بربادی اپنی آنکھوں سے دکھتی نہیں؟

تو پھر ہمیں کیوں روکتے ہو؟

کیوں شاہ کا پیسہ کھا کر فتوٰی دیتے ہو کہ سیاہ جھنڈا لہرانا گناہ ہے؟

ہم ماتم کیوں نہ کریں؟

اپنی قوم کی بربادی پر ماتم کیوں نہ کریں؟

جس سے انصاف بھی چھن گیا۔۔۔

ہم آخر ماتم کیوں نہ کریں۔۔۔۔ ؟

جمعہ، 28 دسمبر، 2007

بےنظیر چلی گئی۔۔۔۔۔

بی بی سی پر تازترین میں‌ بینظیر کی ہلاکت کی خبر موجود ہے۔ ابھی سرکاری ٹیلی وژن نے بھی یہی خبر دی ہے۔ میں بے نظیر سے نظریاتی اختلاف رکھتا تھا اور بے شک میں‌ اسے ووٹ بھی نہ دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ جیسی بھی تھی ایک لیڈر تھی۔ لیڈر میں‌ پوری قوم کی جان ہوتی ہے۔ لیڈر کی موت قوم کے اندر ایسے نامٹنے والے زخم چھوڑ جاتی ہے جو ناسور بن کر قوم کو کھا جاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی موت ایک سیاسی عمل کی موت ہے۔ اگر پہلے انتخابات سے ہمیں‌ کچھ بہتری کی امید بھی تھی تو بھی نہیں‌۔ بے نظیر ایک ایسے طبقہ فکر کی نمائندہ تھی جو ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتا تھا۔ بے شک اس کی موت کا خلاء کبھی بھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
بےنظیر ایک جینوئن لیڈر تھی۔ بلاشک ذولفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے ہی کی تھی۔ اس کے اندر اظہار کی جرات تھی اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اس کا موقف بہت سخت اور واضح تھا۔ یہی موقف اس کی موت کا سبب بن گیا۔ لعنت ہے ایسی حکومت پر جو ایک لیڈر کو سیکیورٹی بھی فراہم نہ کرسکی۔ یہ سب کچھ مشرف کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس ایک ہلاکت کے ردعمل میں کیا کیا فتنے سراٹھائیں‌گے ان کا تصور ہی لرزہ طاری کردیتا ہے۔ اب پیچھے رہ ہی کیا گیا ہے لوٹے اور چمچے۔
اللہ سائیں لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے۔ یاللہ ہمیں‌ استقامت اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطاء‌فرما۔ آمین

پیر، 24 دسمبر، 2007

ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بی‌ٹا کا اجراء

ویکیا ایک اوپن سورس تلاش گر کا نام ہے۔ تلاش گری یعنی سرچ انجن کے میدان کا بادشاہ گوگل ہے۔ کبھی یاہو اور الٹا وسٹا کا نام بھی اسی ضمن میں بہت اونچا تھا آجکل لوگ ان کی طرف کم کم ہی جاتے ہیں۔ تلاش گری میں مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز لائیو سرچ کی صورت میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے لیکن گوگل کو ان پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔

جمعرات، 20 دسمبر، 2007

گوگل ٹاک میں اب زبانوں کے مابین ترجمہ

اگرچہ یہ خبر اوپن سورس سے متعلق نہیں لیکن مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بارے میں‌ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی سہولت سے ایک زمانہ واقف ہے اور رزانہ لاکھوں‌ یا شاید کروڑوں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اب تو گوگل نے عربی انگریزی ترجمے کی سہولت بھی دینی شروع کردی ہے۔ شاید کسی دن اردو انگریزی کی سہولت بھی میسر آجائے۔ خیر خبر یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی طرح ترجمہ کرنے کی یہ سہولت اب گوگل ٹاک میں‌ بھی دستیاب ہوگی۔ یعنی آپ انگریز ہیں اور آپ کا چیٹ‌ کرنے والا دوست چینی تو بھی آپ دونوں اپنی زبانوں یعنی انگریزی اور چینی میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو کنورسیشن میں‌ ترجمہ کرنے کے لیے ایک عدد گوگل بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ جیسے انگریزی سے چینی میں ترجمے کے لیے یہ بوٹ شامل کرنا ہوگا:‌en2zh@bot.talk.google.com۔ اسی طرح چینی سے انگریزی میں ترجمے کے لیے بھی ایک عدد بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ آپ کے چینی دوست کا پیغام انگریزی ترجمہ کرنے والے بوٹ‌ کے پاس جائے گا اور پھر چیٹ ونڈو میں آپ کو انگریزی میں ترجمہ ہوکر دکھائی دے گا۔ یہی حال انگریزی سے چینی ترجمہ کرنے والا بوٹ آپ کی انگریزی کا کرے گا۔ ونڈو ملاحظہ کیجیے۔ ترجمہ صرف انگریزی سے غیر انگریزی زبان میں نہیں بلکہ دو غیر انگریزی زبانوں‌ کے لیے بھی دستیاب ہوگا جیسے فرنچ اور ہسپانوی زبانیں‌ وغیرہ۔ زبانوں‌ کے ترجمے کے لیے متعلقہ بوٹس کے کوڈز یہاں‌‌ سے حاصل کریں۔

بدھ، 19 دسمبر، 2007

مجلس سائنس

مجلس سائنس اردو فورمز میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ محمد سعد نے اس چوپال کو خالصتًا سائنسی موضوعات پر گفتگو و معلومات کے لیے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں تھوڑا سا تعاون اردو کوڈر کا بھی ہے کہ ہم نے اپنے مسکین سے ہوسٹ پر انھیں ہوسٹنگ فراہم کی ہے۔ ابھی فورم پر آپ کو شاید ایک آدھ پوسٹ ہی نظر آئے لیکن امید ہے سعد کی محنت اور سائنس سے محبت رکھنے والوں کے تعاون سے یہ فورم بھی ہل چل والی محفل میں بدل جائے گا۔ ابھی فورم کا حلیہ بھی خاصا ڈیفالٹ سا ہے ذرا اس پر چہل پہل ہو تو ہم انشاءاللہ پی ایچ پی بی بی کے نئے تھیم اور بہتر سہولیات دینے والے موڈز بھی مہیا کردیں گے۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب عمومی انداز سے ہٹ کر مخصوص قسم کے فورمز بھی اردو میں بن رہے ہیں۔ اردو کوڈر پر بھی ہماری کوشش ہے کہ مقصد صرف اور صرف لینکس اور اوپن سورس ہی ہو لیکن ہمارے اراکین کا اصرار ہے کہ کچھ مزید زمرے بھی بنائے جائیں۔ ہم ان کی خواہشات کے احترام میں کچھ مزید فورمز تو بنا دیں گے لیکن بحیثیت انتظامیہ ہمارا فوکس لینکس اور اوپن سورس ہی ہوگا۔ اسی امید کے ساتھ کہ سعد بھی اپنے فورم کو پاکستان کا بہترین اردو سائنس فورم بنا دیں گے۔ اللہ انھیں مزید اچھا کام کرنے کی توفیق دے۔
اتنا سارا خطبہ سن لیا آپ نے اور مجلس سائنس کا وزٹ نہیں کیا۔ اب میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں۔
:D

زبان:‌ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!

لسانیات میں‌ ہمیں دو بہت ہی اہم تصورات سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر لسانیات اور خصوصًا اطلاقی لسانیات (Applied Linguistics) میں زیادہ تر کام انگریزوں کا ہے یا ایسے لوگوں کا جو انگریز نہیں لیکن انگریزی بول سکتے ہیں اور انھوں نے یہ کام انگریزی کے نکتہ نظر سے کیا۔ اطلاقی لسانیات کی بات چلی تو بتاتا چلوں زبان کو سیکھانے کے سلسلے میں ہونے والے تمام اعمال اسی شعبے میں آتے ہیں۔ اچھا لینگوئج ٹیچر اطلاقی لسانیات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے جیسے سکھانے کے نئے طریقے وغیرہ۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو "پابند" ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ "معیاری" اور "غیر معیاری" زبان کے بارے میں‌ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ‌ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی "آبائی" زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں "کیا ہونا چاہیے"۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو "بیان" کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ "لاپرواہ" نہیں‌ بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں‌ پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں‌ بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں‌ فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ‌ کا ماخذ‌ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں‌ ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ‌ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں‌ ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ‌ مڈ‌ہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاء‌کی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔

آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میں‌دی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیں‌کہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ "ایسے ہوتا ہے"۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔

ہفتہ، 1 دسمبر، 2007

تلاش گری کا جن اب وائرلیس کے میدان میں

تلاش گروں کا گرو گوگل اب موبائل اور وائرلیس نیٹ ورکس میں بھی ٹانگ اڑانے کی کوشش میں ہے۔ گوگل کی اینڈرائڈ سافٹویر ڈیلوپمنٹ کٹ کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ اینڈرائد موبائل کی ایپلی کیشنز تیار کرنے کے لیے ایک اوپن ڈویلپمنٹ کٹ ہے۔ اس سلسلے میں گوگل کو موبائل انڈسٹری کے دیووں کا تعاون حاصل ہے۔
اب گوگل امریکہ میں اپنا ایک وائرلیس نیٹ ورک شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی ماہ پہلے گوگل نے اعلان کردیا تھا کہ وہ امریکہ میں ہونے والی 700 میگا ہرٹز وائرلیس طیف کے لیے بولی لگائے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ریڈیائی امواج کی مختلف فریکوئنسی ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے آلات کو بذریعہ وائرلیس چلانے کے لیے ان سے نکلنے والی امواج کو ایک خاص فریکوئنسی حد ہی الاٹ کی جاتی ہے۔ جبکہ طیف سے مراد ہم ایسا سکیل لیتے ہیں جس پر مختلف امواج کو ان کی فریکوئنسی یا طول موج کے حساب سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ طیف کی سادہ سی مثال سورج کی روشنی کو منشور میں سے گزارنے سے حاصل ہونے والے رنگ ہیں۔ یہ سات رنگ جب سفید کاغذ پر ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے۔
گوگل اس طیف یعنی 700 میگا ہرٹز طیف کے لیے اگر بولی جیت جاتا ہے تو وہ اپنا وائرلیس نیٹ ورک لانچ کرسکے گا یا پھر ہوسکتا ہے وہ کسی کو اپنا پارٹنر بنا لے۔ اپنی سروس دینے کے ساتھ ساتھ گوگل وائرلیس سروس "تھوک" کے بھاؤ بھی بیچ سکتا ہے جسے آگے اینڈ یوزر تک دوسرے لوگ پہنچائیں گے۔

ہفتہ، 17 نومبر، 2007

احتجاج؟

ایمرجنسی لگے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ ہر جگہ احتجاج کی باتیں ہورہی ہیں یا احتجاج ہورہا ہے۔ حالات تیزی سے فوجی صدر کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی نے اس بار لوگوں کو بہت تیزی سے اس صورت حال سے باخبر کیا۔ اس کے نتیجیے میں مقبول ٹی وی چینلز کی بندش اور اس کے بعد جیو کے ختم ہونے کی خبر بھی سننی پڑی۔
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں‌ حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں‌ لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں‌ جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیں‌تو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں "سالا پاگل ہے"۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں‌ ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں‌ نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں‌ یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں‌ اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں‌ ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں‌ ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں‌ خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں‌ یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں‌ وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا

پیر، 15 اکتوبر، 2007

سبحان اللہ دل خوش ہوگیا

افتخار اجمل صاحب کی حالیہ پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آج ذرا فراغت تھی میں نے سنت کی آئینی حیثیت از ابواعلٰی مودودی کا دیا گیا پی ڈی ایف ربط اتار لیا۔ ابھی صرف ایک سو پچاسی صفحات پڑھے ہیں۔ شاید مزید پڑھنے کی بھی توفیق نہ ہو۔ لیکن بخدا مزہ آگیا ایک بار۔


وہ منکر حدیث صاحب کج بحث اور نئے اعتراضات جڑنے کے ماہر ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی علمی بات تو ان سے ہو نہیں رہی۔ بس بودے اعتراضات کیے چلے جارہے ہیں۔ ایک دو جگہ مجھے اپنی کم علمی کی وجہ سے اعتراضات میں وزن لگا لیکن جب قرآن سے اس کا ثبوت مودودی صاحب نے نکال کر دیا تو سب کچھ آئینے کی طرح شفاف ہوگیا۔


یہ کوئی پچاس سال پرانی بات ہے۔ لیکن اعتراضات وہی ہیں جو ابھی کچھ دن پہلے ہی محفل پر کیے جارہے تھے۔ احادیث کو لکھا کیوں نہیں گیا۔ ان کتب میں ہر چیز قابل اعتبار کیوں نہیں ۔یہ کیوں نہیں وہ کیوں نہیں۔ یہ کتب روایات ہیں۔ اور پھر جب موسیقی کے حلال حرام کا قصہ آیا تو قرآن کی ایک آیت جس کا مفہوم ہے تم پر جو چیزیں حلال کی گئی ہیں ان سے پچھے نہ ہٹو وغیرہ کا حوالہ دے کر مطمئن ہوجانا۔ لیکن دین صرف قرآن کا نام ہی نہیں۔ صاحب قرآن کے احکامات اور اطاعت کا نام بھی ہے۔


بخدا میرے تصورات اس کتاب کے معاملے سے مزید کلئیر ہوئے ہیں۔ یہ حق و باطل کی جنگ بڑی پرانی ہے چناچہ مجھے اب کوئی چنتا نہیں۔ اللہ سائیں بہتر کرے گا۔ اگر اس وقت ابو لاعلٰی مودودی جیسے علماء موجود تھے تو آج بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقین موجود ہیں۔

جمعہ، 5 اکتوبر، 2007

بلڈی پورز

ہر بچہ پڑھ جائے گا تے ملک ترقی پائے گا۔


صاحب کیا واقعی ایسا ہی ہوگا۔


ہاں ہاں کیوں ایسا ہورہا ہے۔ تم نے ٹیلی وژن پر نہیں دیکھا۔ بچے سکول جارہے ہیں۔ انھیں کتابیں مل رہی ہیں۔ میں روز تو پڑھا لکھا پنجاب ہمارا کے ساتھ ٹیلی وژن پر آتا ہوں۔


پر صاحب ہمارے محلے میں جو ہائی سکول ہے اس میں تو صرف ڈیڑھ سو بچہ رہ گیا ہے باقی سب بھاگ گئے ہیں۔


اچھا اسے چھوڑو یہ سنو۔ سب کی خدمت فرض ہمارا صحت مند پنجاب ہمارا۔ دیکھا پنجاب کتنا صحت مند ہوگیا ہے۔ پہلے کبھی ایسا ہوا تھا؟


پر صاحب ہمارے محلے میں جو ہسپتال جتنی بڑی ڈسپنسری تھی اس میں اب ناظم نے دفتر بنا لیا ہے۔


اوئے کم عقل جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ چھوٹے لوگ اور چھوٹی سوچ کی جان چھوڑ دو۔ ٹیلی وژن پر دیکھو یہ آج کی حقیقت ہے باقی سب چھوڑو۔


صاحب اس پر تو اربوں روپے لگتے ہونگے نا مشہوری دینے کے لیے؟ اگر یہ عوام پر لگتے تو کتنا اچھا ہوتا۔


ابے چپ کر۔ جنرل صاحب ٹھیک کہتے ہیں بڈی پورز انھیں ذرا بھی تمیز نہیں۔ دفع ہوجاؤ

پیر، 1 اکتوبر، 2007

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لسانیات

ہمارے اگلے سمسٹر میں ایک مضمون پڑھایا جائے گا ہمیں جس کا نام سٹائلسٹکس ہے۔ اردو ترجمہ کریں تو انداز بیاں۔ اس کا کام یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے انداز بیاں کا کھوج لگائے۔ یہ انداز کسی لکھاری کا بھی ہوسکتا ہے جیسے آپ ممتاز مفتی کو اس کی تحریر سے پہچان لیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص الفاظ، کچھ گرامر کے پیٹرنز کا بے تکلفانہ استعمال کرتا ہے۔ گرامر کے پیٹرن کا ایک رف سا خاکہ یہ ہوسکتا ہے کہ محی الدین نواب کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ گئی، گیا نہیں لکھتا ہمیشہ یہ لکھے گا کہ چلتی ہوئی گئی، چلتا ہوا گیا۔ یہ چلتا ہوا گیا جو کہ ایک فعل گیا کی جگہ استعمال ہورہا ہے ایک خاص گرامر پیٹرن ہے۔۔کم از کم میں فورًا پہچان جاتا ہوں کہ یہ بندہ محی الدین نواب ہے۔


اگر ہم عمومی سٹائلسٹکس کی بات کریں تو یہ انداز کسی خاص شعبہ زندگی کے لوگوں کا ہوسکتا ہے۔ جیسے قانون سے تعلق رکھنے والوں کی ایک مخصوص پیشہ ورانہ زبان ہوتی ہے۔ جسے وہ عدالتوں، کچہریوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہم ان کو بھی ان کے انداز بیاں سے پہچان لیتے ہیں۔


کسی بندے کا تکیہ کلام اس کے انداز بیاں کا حصہ ہے چناچہ اکثر آپ تکیہ کلام کے بل پر دوسرے بندے کو پہچان لیتے ہیں۔ سٹائلسٹکس میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کسی بے نام لکھاری کی تحاریر کو اس تجزے کی بنیاد پر شناخت کرلیا گیا۔ کام صرف اتنا تھا کہ بے نام لکھاری کی تحاریر کا سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے، کس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے، فعل زیادہ یا اسماء زیادہ، کونسے گرامر پیٹرن زیادہ استعمال کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کام کو ان لکھاریوں کی تحاریر کے تجزیے سے ملایا گیا جن کے بارے میں کنفرم تھا کہ اس تحریر کا لکھاری یہی ہے۔ اس طرح گمنام لکھاریوں کو انداز بیاں ایک ہونے کی بناء پر جانے مانے لکھاری سے ملایا گیا اور بعض اوقات سو سال بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ گمنام تحریر فلاں لکھاری کی ہے۔


اسی بنیاد پر میں نے آج سوچا کہ اگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے تو کیسا رہے؟ یہ خیال مجھے محفل پر کئی ماہ تک پڑی رہنے والی کھپ کی وجہ سے آیا جس میں یار لوگوں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچ ہونے پر انگلیاں اٹھائیں۔


اس تجزیے کے لیے ایک ایسا بندہ درکار ہوگا جو عربی اور لسانیات کی اس شاخ یعنی سٹائلسٹکس پر عبور رکھتا ہو۔ نیز عربی کا مشینی تجزیہ کرنے کے لیے کئی سافٹویر بھی درکار ہونگے۔ یعنی اچھا خاصا ایک پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ لیکن ہمارا کام تو تجویز دینا تھا۔ پتا نہیں یہ قابل عمل بھی ہے یا نہیں۔ چونکہ احادیث کو جانچنے کے کئی معیارات صدیوں سے مستعمل ہیں۔ اسماء الرجال اور شاید صرف و نحو بھی۔ ان میں شاید انداز بیاں کا تجزیہ جیسی کوئی چیز بھی ہو۔


آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟

اتوار، 30 ستمبر، 2007

محب علوی

محب علوی نال میرا ایک معاہدہ ہویا سی کے او میرے اُتے لکھن گے تے فیر میں کاؤنٹر اٹیک کراں گا۔ لیکن عرصہ ہویا ایس گل نوں۔ اج اونھاں نال گل ہورہی سی تے میں سوچیا چلو اے وی فرض ادا کردے چلئیے۔ چونکہ معاہدے دے مطابق میں کاؤنٹر اٹیک کرناں سی ایس لئی اردو دی جگہ پنجابی وچ لکھن لگا واں۔


محب علوی مینوں ہن تے یاد وی نئیں آؤنداں محفل سے کدوں آیا سی۔ لگدا اے جیویں اے ہمیشہ توں محفل تے سی۔ تسی یقین کرو یا نہ کرو زندگی وچ پہلی دفعہ جس علوی نال ملیا او محب علوی سی۔ حالانکہ شادی شہداء بندہ اے لیکن ایدے کم کاکیاں والے نیں۔


ٹیلی فون کرے گا تے پونا کینٹا کتے نئیں گیا۔ مینوں تے اینج لگدا اے فون اَک کے ایدے ہتھوں نکل کے نسدا اے تے اے کال مکاؤندا اے۔ اردو واسطے کجھ کرن دا جذبہ ایدے اندر ٹھاٹھاں ماردا اے۔ اے ٹھاٹھاں کس قسم دیاں نیں میں کجھ کہہ نئیں سکدا۔ شاید اُچی اڈی والے سینڈل دیاں ٹھاٹھاں۔


ہون نوں بہت کجھ ہوسکدا اے، لیکن اے ایسا بندا اے جیڑا بہت کجھ کرسکدا اے۔ گلاں اینج سناؤندا اے کہ اگلا بندہ کہندا اے بس دنیا تے اے ہو ای اے۔ ایدی ایسے خاصیت دی وجہ توں اینھوں اردو لائبریری دا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا اے۔ اردو ٹیک تے گیا تے اوتھے وی سائیاں اینھوں مزدوراں دا ہیڈ بنا چھڈیا۔


سٹیٹ لائف والیاں دی بدقسمتی کہ اونھاں نو نئیں مل سکیا چکانویں دے کے سافٹ وئیر پروگرامنگ ول آگیا۔ ورنہ ایدھے لچھن انشورنش ایجنٹاں والے نیں۔ گلاں گلاں وچ بیمار نو کھڑا کر دوے دے کھڑے نوں لمے پا دوے وچارہ ہائے ہائے کردا پھرے۔ چنگے پلے بندے نوں زمینوں چک کے اسمانیں چڑھا دندا اے۔ فیر آپ بے نیازی نال اگے ودھ جاندا اے پچھوں پانویں او غریب اپنی ہڈی پسلی تڑا بیٹھے۔


شروع شروع چ مینوں وی اسمانیں چڑھایا۔ لیکن شکر اے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مینوں اپنے آپ وچ او او خوبیاں نظر آؤن لگ پیاں سی جہیڑیاں کدی میں خواب وچ وی نئیں سی سوچیاں۔ ایہو جئے بندے کولوں تے بندہ سڑ وی نئیں سکدا۔ بھئی سڑے کس چیز تے، الٹا آپ تھلے بے کے تہانوں گڈی وانگ اسمانیں چاڑھد دندا ے۔


کوئی پراجیکٹ چلاؤنا ایدے کھبے ہتھ دی مار اے۔ ساریاں نوں ایک دفعہ تے گھن چکر بنا دیندا اے۔ فلانیاں نوں وی آجا ٹینگڑیا توں وی آجا۔ ایسے ایسے بندیاں نوں لے آؤندا اے کہ تسی سوچ وی نئیں سکدے۔ لوکیں نا نا کرکے وی کم کرجاندے نیں۔ بس اینھاں ای، ہاں ٹھیک اے اینھاں ای۔ اچھا تھوڑا جئا ہور چل دے اے وی۔تے اینیں دیر وچ کم ای مک گی ہندا اے۔


میں مشورہ دواں گا جنھاں ماواں دے بچے سکول نئیں جاندے، کوڑی دوائی پین لگے تنگ کردے نیں۔ او چینی دی بجائے محب علوی نوں ٹرائی کرن انشاءاللہ افاقہ ہوئے گا۔


ایس بندے دا ناں محب علوی نئیں محبوب علوی ہوناں چائیدا سی۔ اردو نال محبت رکھن والے محب علوی نال وی محبت رکھدے نیں۔ اے علیحدہ گل اے کہ پاء جی ہوراں دا اصل ناں فاروق ظفر اے۔ مینوں ایس ایم ظفر دے کوئی قریبی شریبی لگے نیں، شاید ایسے وجہ توں محب علوی کہلواؤندے نیں۔


خیر سانوں یار دی یاری نال غرض۔ محب علوی سدا خوش رہوے۔ بیبا بندا اے۔ (نہ بی بی نا بابا، بلکہ بی با رب جانے کیس سیانے نے اے لفظ ایجاد کیتا سی خیر چھڈو تسیں اگے پڑھو) دعا اے ایدا ساڈا تے اردو دا ساتھ سدا قائم رہے۔ اور آ

پیر، 24 ستمبر، 2007

ورڈپریس 2.3 کے ٹیگ پلگ انز

ورڈپریس ابھی آیا نہیں لیکن ڈھنڈورا گلی گلی پٹ رہا ہے۔ ورڈپریس والوں نے سادہ ٹیگ متعارف کروائے ہیں یار لوگوں نے اس بنیاد پر تین تین منزلہ پلازے کھڑے کرلیے ہیں۔ دو پلگ انز ملے ہیں دونوں ہی مجھے پسند آئے ہیں اگرچہ دونوں ہی میرے ہاں کام نہیں کررہے۔


آپ پریشان نہ ہوں آپ کے ہاں لازمی کریں گے۔ میرے پوسٹ پیج پر تو ٹنی ایم سی ای بھی عرصہ ہوا نہیں چلتا۔ چونکہ مجھے ورڈپریس سے پنگے بازی کی عادت ہے اس لیے سارا پوسٹ پیج تب سے ہی خراب ہے۔ اور سرور بھی ایسا ناراض ہوا ہے کہ کئی اپگریڈوں کے بعد بھی حالات ویسے ہیں ہیں۔ مجھے نبیل کا اردو کردہ ایف سی کے ایڈیٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔


خیر آپ اس کو چھوڑیں اور یہ پلگ انز دیکھیں۔ کیا شاندار چیز ہے۔ اور اجمل صاحب کے لیے خصوصًا: ورڈپریس ڈاٹ کوم پر ٹیگ کی سپورٹ شامل کردی گئ ہے۔ آپ اپنے پوسٹ پیج پر تحریر خانے کے نیچے ایک اور خانہ دیکھ سکتے ہیں جو کہ ٹیگز دینے کا ہے۔


ایڈوانسڈ ٹیگ انٹری



یہ پلگ ان آپ کے پوسٹ پیج کو خاصا لمبا کردیتا ہے۔ ٹیگ کا سلگ شامل کرنے کی سہولت مجھے کام کی لگی ہے اس طرح ٹیگ اردو ہونگے اور ان کا ربط انگریزی بنے گا۔ یعنی کیٹگری سلگ کی طرح اردو انگریزی دونوں۔


کلک ٹیگز



کلک سے ٹیگ شامل کرنے کے لیے اچھی چیز ہے۔ بالکل ویجٹ پلگ ان کی طرح اپنے ٹیگز کو ماؤس سے گھسیٹیے اور موج کیجیے۔


وسلام

اتوار، 23 ستمبر، 2007

عام سے لوگ اور عام سی باتیں

کئی دن سے ایک رسالہ لائبریری سے آیا ہوا تھا کل وہ واپس دینے گیا تو وہاں باتوں ہی باتوں میں وہی عام سی باتیں شروع ہوگئیں۔


لائبریرین عرفان بھائی نے حسب معمول کاروبار کا موضوع چھیڑ دیا۔ کہنے لگے کچھ بھی نہیں رہا۔ دونمبر کام کرنے والوں کے مزے ہیں اور مزدور آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا مشکل سے مشکل ترین ہوگئی ہے۔ گندم چھ سو روپے من ہوگئی ہے۔ لائبریری کا طریقہ کار یہ ہے کہ کتاب کی رقم کے برابر سیکیورٹی رکھوا کر پھر کتاب کرائے پر ایشو کی جاتی ہے۔ بتانے لگے اب لوگ پیسے رکھنے سے کترانے لگے ہیں۔ کسی کا دو سو روپیہ بھی جمع ہے تو کہتا ہے بس واپس کردو۔


عرفان بھائی لائبریری کو سروے پلیس کہتے ہیں۔  ہر طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں تو سروے خود ہی ہوجاتا ہے۔ اور ان کے اس سروے کے مطابق عام آدمی اس وقت ایسی حالت میں ہے جیسے کسی نے گِچی(گردن)  سے کَس کر پکڑ رکھا ہو۔ ایک خاتون کا قصہ سنانے لگے کہ اس دن آئی تو کہنے لگی عرفان بھائی رمضان ہے بچے افطار کے وقت سیب مانگتے ہیں کہاں سے لا کر دیں اتنے مہنگے ہیں۔ پھر خود ہی سبزیوں کے ریٹ بتانے لگے کہ ستر روپے تک کلو  ہوگئی ہیں۔ کریلے اور ٹینڈے جنھیں میرے جیسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے تھے اب قریب نہیں آنے دیتے۔ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی چیز نہیں مل رہی۔ حکومت والے کہتے ہیں یوٹیلٹی سٹور پر دستیاب ہے۔ ان کے باپ کے نوکر ہیں جو یوٹیلٹی سٹور سے جاکر قطاروں میں لگ کر یوٹیلٹی سٹور والے کی منتیں کرکے ساتھ اور بھی زبردستی کی خریداری کرکے آٹا لیں۔


عام سی باتیں کرتے کرتے کئی اور دوست اکٹھے ہوگئے اور پھر بات مشرف کے الیکشن تک پہنچ گئی۔ ایک دوست کا خیال تھا اس قوم کو چھِتر ہی پڑنے چاہئیں۔ نہ یہ ان لیڈروں کو منتخب کرے اور نہ وہ ان کا استحصال کریں۔ عرفان بھائی کا خیال تھا کہ کون ایسا کرے۔ کوئی بھی نہیں کرے گا۔ ہمارے اندر اتحاد کی کمی ہے اور سب سے بڑھ کر لیڈرشپ موجود نہیں۔ اس سوال پر کہ لیڈرشپ کہاں سے آئے وہ بولے ہم تو یہ نہیں کرسکتے اب تو یہ نوجوانوں کا کام ہے۔ وہ آگے بڑھیں۔


اور میں سوچنے لگا کہ نوجوان کیا کررہے ہیں۔ نوجوان کراچی میں ہیں تو لسانی مذہبی تنظیموں کے چنگل میں پھنس کر اپنا آپ گنوا رہے ہیں۔ نوجوان پنجاب میں ہیں تو انھیں دو وقت کی روٹی کی فکر ہے یا یہ کہ اچھی نوکری مل جائے پڑھ لکھ کر۔ نوجوان سرحد اور بلوچستان میں ہیں تو اتنے زہریلے اور کڑوے کہ اپنوں کو ہی ڈنک مار رہے ہیں۔ اور ان کے علاوہ باقی قوم؟


باقی قوم دو وقت کی روٹی کی فکر میں بھاگے چلے جارہی ہے بھاگے چلے جارہی ہے۔ تَیلی کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں صبح شام شام رات رات صبح پھر شام اور یہی چکر ازل سے ابد حتٰی کہ ایک دن لڑکھڑا کر گرتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ ان کی جگہ نیا بندہ لاکر کھڑا کردیا جاتا ہے پھر وہی چکر۔


اور لیڈر کیا کررہے ہیں۔ لیڈروں کو اپنی کرسیاں بچانے کی پڑی ہے۔ منافع کی پڑی ہے۔ اب اس چیز کو مہنگا کردو۔ اس کو بلیک کردو۔ یہ پرمٹ لے لو۔ اس بات یہ ڈیل کرلو۔ فلانا ہاتھ آیا ہے کام نکلوا لو۔ صدر کو اپنی صدارت کی ہے۔ وزیروں کو وزارت کی ہے۔ چوہدریوں کو چوہدراہٹ کی ہے۔


اگر آپ پاکستان کو اوپر سے دیکھیں تو ایسے لگے گا جیسے عام آدمی گلے کی بکریاں ہیں جو سرجھکائے بکریوں نہیں گدھوں کی طرح کام میں جتے ہوئے ہیں اور ان  کی رکھوالی کرنے والے آپس میں کتوں کی طرح ہڈی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دور کسی بلندی پر کوئی بیٹھا کچھ دیر بعد ان کے لیے ایک ہڈی پھینک دیتا ہے اور وہ پھر سے اس ہڈی کے لیے لڑنے لگتے ہیں۔


عجب طُرفہ تماشا ہے۔

پیر، 6 اگست، 2007

قصہ ہماری “کرنٹ” مصروفیات کا


یوں تو آج کل کرنٹ یعنی بجلی کا کافی کال شال پڑا ہوا ہے۔ جب چاہے بجلی آنکھ بند کرلیتی ہے۔ لیکن ہم نے سوچا ان دنوں کی کچھ مصروفیات کا ذکر کرتے چلیں۔


یونیورسٹی کھل چکی ہے، ہم ہیں اور اساتذہ کی ظالم اسائنمنٹس۔ ہمارا امتحانی نظام دوہرا سا ہے۔ ایک آدھ اسائنمٹ مبلغ پچیس فیصد نمبر کی ہر مضمون میں گھسیڑی ہوئی ہے۔ سمسٹر کے آخر پر سب کو ان کی پڑ جاتی ہے۔ چناچہ اب سارے اساتذہ ہم پر دانت تیز کررہے ہیں۔ کچھ نے اسائنمنٹس دے دی ہیں کچھ دینے کی باتیں کررہے ہیں۔ اور ہم جیسے نئے پنچھی منہ چَک کر دیکھ رہے ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ ساتھ ایک عدد پریزینٹیشن بھی ہے۔ یعنی نمائش غریباں بہ روئے رقیباں۔ سوال کرنے کے بھی نمبر ہیں اور یار لوگوں نے سوال کرکر کے سب رٹا شٹا بھلا دینا ہے۔ دعا کیجیے گا کہ اللہ ہمیں اس "امتحان" سے بخیر مکتی دے۔ ابھی فائنل کا امتحان پڑا ہے۔ آہ!!!!


آہ سے یاد آیا آہا اپنے مکی بھائی آج کل لینکس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ دھڑا دھڑ ڈسٹروز اتار رہے ہیں اور رائٹ کررہے ہیں۔ ڈی وی ڈی رائٹر کیا لے لیا ان کی تو چاندی ہوگئی۔ کوئی درجن بھر ڈسٹروز اتار چکے ہیں۔ اور کئی ایک قطار میں لگی اپنی باری کی منتظر ہیں۔ خود بھی کبھی فیڈورا استعمال کررہے ہوتے ہیں کبھی مینڈ(ر)ک۔ آج کل سلیک وئیر کو اتار رہے ہیں۔ ہمیں بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ڈی وی ڈی ریڈر ہی کم از کم لے لو تاکہ فیڈورا نصب کرسکو۔ ہم بس ایک ٹھنڈی آہ سی بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ابھی فرصت اور ہمت کہاں اتنی۔ لیکن امیدہے جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بس اس سمسٹر کا بخیر اختتام ہوجائے اور ہماری چنگی سے وہ بن جائے(پتا نہیں اسے کیا کہتے ہیں سی جی پی اے شاید) چلیں جو بھی ہے۔ بس بن جائے۔


دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اور بلاگ کا لے آؤٹ انشاءاللہ جلد ہی بدل دوں گا فی الحال گزارہ کریں۔


وسلام

جمعہ، 22 جون، 2007

صوبائی اور علاقائی خودمختاری کے دیرینہ مطالبات اور حکومت

عرصہ دراز سے ملک کے مختلف حصوں سے خودمختاری دینے کے مطالبات آرہے ہیں لیکن ہر حکومت نے اس کو پس پشت ڈالا ہے۔ اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چھوٹے صوبے اور آئینی حقوق سے محروم یہ علاقے سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور اسلام آباد کو نفرت کے نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔