شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome
کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔