اتوار، 10 جولائی، 2011
کراچی
یہ ساری بات کرنے کا مقصد کسی کی گوشمالی، شکایت یا اختلافات کو ہوا دینا نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ ایسے موضوعات پر میں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ سیاست کے اتار چڑھاؤ پر کبھی کبھار کچھ لکھتا ہوں، دہشت گردی پر اس وقت لکھا جب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور تب چند ہفتے پہلے والی پوسٹ وجود میں آئی جس پر سب کو اعتراض تھا کہ فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، خیر اپنی اپنی سوچ، کراچی اور بلوچستان کے حالات پر بھی کچھ نہیں لکھتا، کیا لکھوں ہزاروں میل دور بیٹھ کر بندہ کیا لکھ سکتا ہے۔ جو حجاب شب، یا شعیب صفدر، ابن ضیاء یا ابوشامل لکھ سکتے ہیں وہ میں کہاں لکھ سکتا ہوں۔ میں تو ان ظالموں کے مرنے کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ دعا نہیں بدعا کہ خدا انھیں غارت کرے جنہوں نے کراچی کا سکون برباد کردیا، ان سیاہ ستدانوں اور ان بےغیرت حکمرانوں بھی غارت کرے جنہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے، ان جماعتوں اور ان کے لیڈروں کے بال بچے اس میں مریں تو انھی احساس ہو کہ بےگناہوں پر ظلم کرنے سے کیا بیتتی ہے۔ کیا کہوں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے بس غم بھری ایک چپ ہے،ان قانون کے رکھوالوں کی بےغیرتی پر جو مدد کے لے کال کرنے پر بھی یہ کہتے ہیں کہ اوپر سے حکم نہیں، ان حکمرانوں کی بےغیرتی پر جو لاشیں گرنے سے پہلے حالات کا ادراک نہیں کرسکتے، ہمیشہ سینچری پوری ہونے پر "نوٹس" لیتے ہیں۔ خدا انھیں ذلیل و خوار، مغضوب و مقہور کرے جو بےگناہوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ اب تو دعائیں بھی بے اثر ہوگئی ہیں، گناہوں سے لتھڑے دلوں سے نکلی دعائیں اوپر جاتی ہی نہیں، یہیں ڈولتی رہ جاتی ہیں۔ دعائیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگل، 17 فروری، 2009
مرجائیں کیا؟
سوات میں پھر سے وہی امن معاہدہ کرنا پڑا. جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی.
ہاں فوج اس کو کنٹرول نہیں کرسکی.
ہاں وہاں عام لوگ زیادہ مارے جاتے رہے ہیں.
ہاں وہاں جاسوسی کا سارا سسٹم فیل ہوگیا.
ہاں وہاں اربوں کا نقصان ہوا.
آدھی آبادی ہجرت کرگئی.
باقی آدھی جہنم میں زندگی گزار رہی تھی.
پاکستان کے سوئٹزلینڈ کو جہنم لینڈ بنا دیا گیا.
ہاں وہ گروہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان سے آخر کار پھر سے مذکرات ہی کرنے پڑے.
ہاں وہ شریعت جو نافذ ہونے جارہی ہے جو حل کم اور لالی پاپ زیادہ ہے
تو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تو کیا کریں؟
مرجائیں کیا؟
مذاکرات نہ کریں کہ جھکنا حکومت کا شیوہ نہیں؟
یا جس شریعت کے نفاذ کی بات کی جارہی ہے وہ شریعت بھی نافذ نہ ہونے دیں. بقول وڈوں کے اس لولی لنگڑی بلکہ اختلاف زدہ اور بلکہ "کونسی" شریعت کو بھی نافذ نہ ہونے دیں؟
سکولوں کو بم دھماکوں میں اڑنے دیں؟
بے گناہوں، ہیرے جیسے جوانوں اور ان جنگجوؤں کو جو بدقسمتی سے ہم میں سے ہی ہیں خاک و خون میں رلنے دیں؟
را، موساد اور سی آئی اے کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے دیں؟
ایک اور مکتی باہنی کھڑی کرلیں؟
کیا کریں...یہ جو میرے وڈے ہیں... یہ جو اتنی باتیں کرتے ہیں کہ یہ کردیا وہ کردیا وہ بتائیں کہ کیا کریں پھر ہم....اب کیا جئیں بھی نا؟؟ اگر یہ سب نہ کریں تو پھر تو مرنا ہی مقدر ہے وہ بھی حرام موت...ڈیرہ غازی خان اور میانوالی تک تو کینسر آگیا ہے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد تک بھی آجائے گا...کراچی تک تو پہلے ہی پہنچ جانے کا واویلہ مچایا جارہا ہے..تو اس کو بندوق سے ہی حل کرتے رہیں تاکہ جو نہیں بھی صحیح وہ بھی صحیح لگنے لگے.... ہمیں جینے کیوں نہیں دیتی دنیا ایسے بھی اور ویسے بھی... ہر طرف سے گالیاں، طعنے، کوسنے، اختلافات، مفت کے مشورے...ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا..اسلام کے نام پر بیس سال تک جو کھلواڑ اس ملک کے ساتھ ہوتی رہی تو دو سال کے آپریشن سے ٹھیک ہوجائے گی؟ کیسے توقع کرتے ہیں آپ کہ ہر مسئلے کا حل بمباری اور بندوق ہوگا؟ امریکیوں کا تو بنتا ہے کہ وہ آئیں ڈرون سے میزائل گرائیں اور چلے جائیں...لیکن ہم کہاں جائیں جن پر گرائیں وہ بھی اپنے جو گرائیں وہ بھی اپنے ہم پھر بچ کر کہاں جائیں؟؟ کوئی بتائے گا مجھے یہ؟؟ اتنے لمبے لمبے تجزیے، دہشت گردی یہ گردی وہ گردی، انتہا پسندی وغیرہ وغیرہ وغیرہ تو کیا کریں ہم اس کا آپس میں لڑ لڑ ہی مرجائیں اب ہم؟
بدھ، 26 نومبر، 2008
طیارے گرانے کی صلاحیت ہے، نہیں ابھی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں
کراچی ۔ پاک فضائیہ کے سر براہ ایئر چیف مارشل تنویر احمد نے کہا ہے کہ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں کوروکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیصلہ حکومت کوکرنا ہے کہ وہ کس وقت ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ بات انھوں نے آئیڈیاز 2008ء نمائش میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ انھوں نے جے 17 تھنڈر کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ ایسی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ جاسوس طیاروں اور جدید ترین میزائلوں کو اپنی حدود میں نشانہ بنا سکے لیکن اس بارے میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ حملہ آوروں سے جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاک فضائیہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔
ہمارے وزیر دفاع صاحب اس کے بالکل الٹ فرما رہے ہیں۔ جیسا کہ وہ شروع سے ہی بیان دیتے آرہے ہیں کہ اتنی بلندی پر طیارے گرانے کی ہم میں صلاحیت نہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔
کراچی ۔ وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ پاکستان بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش کر رہا ہے ۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے دوست ممالک سے با ت چیت ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی پروگرام کو بھی ترقی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اس میں 12 سوسیکورٹی اہلکار اور ساڑھے چار ہزار شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ سے سب سے زیا دہ خطرہ پاکستان کو لاحق ہے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے سابق انتظامیہ کے خلاف کئی بارکارروائی کے خلاف کئی بار کارروائی نہیں ہو سکی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دفاع بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
اب بتائیں کہ کس کی بات کا اعتبار کیا جائے؟
ہفتہ، 2 اگست، 2008
ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ
احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔
ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
ہالی وڈ یا بالی وڈ؟
دونوں ہی۔
پیپسی یا کوک؟
جو مل جائے
کراچی یا لاہور؟
فیصل آباد ;)
سیب یا انگور؟
غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے
پاپ یا راک؟
جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔
چائے یا کافی؟
چائے ہی۔
نہاری یا حلیم؟
حلیم کبھی کبھار۔
فورمز یا بلاگ؟
دونوں
دوست یا کزن؟
دوست
کرکٹ یا فٹ بال؟
کرکٹ
پرسکون یا پریشان؟
منحصر بہ وقت
چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔
بدھ، 9 اپریل، 2008
منظرنامہ
کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی "نامعلوم" کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔
کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔
ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔
اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں "حقیقی" جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔
اتوار، 2 ستمبر، 2007
پھر توقع رکھو کہ تم پر آفتیں ایسے آئیں جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے دانے یکے بعد دیگرے گرتے ہیں
ایک کے بعد ایک، جیسے لائن میں لگی ہوئی آفتیں یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اب کل کراچی میں پل گرگیا ہے۔ سنتے ہیں اپنے مشرف صاحب کے میگا پروجیکٹس، جن کا وہ تسبیح کی طرح ہی ہر انٹرویو میں ورد کیا کرتے ہیں یہ بھی حصہ تھا۔ اب ہوا کیا کہ این ایل سی کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ چار پانچ لوگوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ مرنے والوں کو امداد دی جارہی ہے ۔ اللہ اللہ خیر صلا
دو چار میں شور رہے گا پھر وہی پرانی صورت حال۔ سارا ناردرن بائی پاس دوبارہ تو بننے سے رہا۔۔اتنا حصہ پھر سے بن جائے گا اور کام پھر چلے گا۔ لیکن اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ ایک حصہ گرگیا تو باقی حصے نہیں گریں گے۔ یہ پل تو دوبارہ بن جائے گا وہ چنے والا جو اپنے بچوں کا کفیل تھا، جس کے بچے یتیم ہوگئے ان کا کون سرپرست ہوگا اب۔ جو بیوائیں ہوگئیں ان کا کون رہ جائے گا۔ وہ پانچ پانچ لاکھ روپے؟؟
کراچی کے ناظم صاحب کو گلہ ہے کہ اس شہر کے 13 سرپرست ہیں اور یہ کہ انھیں اس پروجیکٹ کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی، ان کے پاس ڈیزائن تک نہیں یہ وہ ۔ ہر کسی کو ایک دوسرے سے گلہ ہوگا۔۔اور ہم منہ دیکھیں گے الزام کس کو دیں۔۔۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جو آفتوں کی قطار لگی ہوئی ہے یہ ہمارے اپنے اعمال ہیں۔۔ہم ہیں ہی اس قابل کہ ہمیں چھتر پڑیں اور پڑتے ہی چلے جائیں۔۔۔
ہفتہ، 12 مئی، 2007
آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔