پٹرولیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پٹرولیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 15 جون، 2009

حساب برابر

سپریم کوڑت کے حکم پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ہونے والی کمی کس خوبصورتی سے واپس لی گئی ہے۔ سبحان اللہ اس فنکاری پر۔
اسلام آباد۔ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ کاربن سر چارج کی مد سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 1کھرب34 ارب روپے کے محصو لات حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ یہاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایل کی جگہ ماحول دوست پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر 3سے 14روپے فی لیٹر کا ربن سر چارج لگایا گیا ہے ۔ کاربن سرچارج کی مد میں ھائی سپیڈ ڈیزل آئل پر 8روپے فی لیٹر ، موٹر سپرٹ پر 10 روپے فی لیٹر ، ایس کے ایس او پر 6 روپے فی لیٹر ، لائٹ ڈیزل پر 3 روپے ، ایچ او بی سی پر 14 روپے اور سی این جی پر 6 روپے فی لیٹر کے حساب سے وصول کیا جائے گا

پیر، 12 جنوری، 2009

حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55 کروڑ 48 لاکھ 42 ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے

پشاور ۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55کروڑ 48لاکھ 42ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ جس میں ایک ارب16کروڑ58لاکھ62ہزار روپے پٹرولیم لیوی(ایل ای وائی)اور 38کروڑ89لاکھ79ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں صارفین سے وصول کئے جا رہے ہیں۔جبکہ حکومت نے نئی پیٹرولیم پالیسی کا اعلان بھی کردیا ہے جس کے تحت اب پندرہ روز کے بجائے مہینے کے مہینے کو قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے پٹرولیم منصوعات کو زیادہ سے زیادہ ریونیو وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔مصنوعات پر ملک میں پہنچ درآمدی قیمت سے دوگنے ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں ۔حکومت یکم جنوری سے پندرہ جنوری 2009ء تک مجموعی طور پر 23ارب32کروڑ26لاکھ34ہزار روپے وصول کرے گی جس میں 17ارب48کروڑ79لاکھ38ہزار روپے پٹرولیم لیوی اور پانچ ارب83کروڑ46لاکھ96ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں ہوں گے ۔اوگرا فارمولے کے مطابق پٹرول کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 20.83روپے فی لٹر ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.66روپے فی لٹر،لائٹ ڈیزل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت 28.29روپے جبکہ ریٹل قیمت 48روپے ،مٹی کے تیل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت30.70روپے جبکہ ریٹیل قیمت51.87روپے فی لٹر،ہائی اوکٹین کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 22.99روپے جبکہ ریٹیل قیمت 72.08روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ملک پہنچ درآمدی قیمت 32.59روپے ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.14روپے فی لٹر ہے ۔حکومت فی لٹر پٹرول پر 35.27روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں 27.32روپے پٹرول لیوی اور 7.95روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر مٹی کے تیل پر 20.10روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.92روپے پٹرول لیوی اور 7.15روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی سپیڈ ڈیزل پر 23.56روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 15.68روپے پٹرول لیوی اور 7.88روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر لائٹ ڈیزل پر 18.72روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.10روپے پٹرول لیوی اور 6.62روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی اوکٹین پر 47.36روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 37.43روپے پٹرول لیوی اور 9.94روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط یومیہ کھپت چار کروڑ41لاکھ59ہزار816لٹر ہے جس میں پٹرول کی یومیہ کھپت اکتیس لاکھ20ہزار213لٹر ،مٹی کے تیل کی پانچ لاکھ77ہزار792لٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی ایک کروڑ98لاکھ54ہزار179لٹر،لائٹ ڈیزل کی تین لاکھ 75ہزار888لٹر اور ہائی اوکٹین کی دو کروڑ2لاکھ31ہزار744لٹر ہے ۔حکومت پٹرول پر یومیہ گیارہ کروڑ49ہزار912روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں آٹھ کروڑ52لاکھ44ہزار219روپے پٹرول لیوی اور دو کروڑ48لاکھ5ہزار693روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔یکم جنوری سے پندرہ جنوری تک حکومت کو پٹرول پر ایک ارب 65کروڑ 7لاکھ48ہزار680روپے وصول کرے گی۔مٹی کے تیل پر یومیہ ایک کروڑ16لاکھ13ہزار618روپے کا ریونیو حاصل کیا جا رہا ہے جس میں 74لاکھ82ہزار406روپے پٹرولیم لیوی اور 41لاکھ31ہزار212روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔مٹی کے تیل پر سترہ کروڑ42لاکھ4ہزار282روپے کا ریونیو وصول کرے گی۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر یومیہ 46کروڑ77لاکھ64ہزار 456روپے کا ریونیہ وصول کیا جا رہا ہے جس میں 31کروڑ13لاکھ526روپے پٹرولیم لیوی اور پندرہ کروڑ64لاکھ50ہزار930روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر سات ارب ایک کروڑ64لاکھ66ہزار848روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔لائٹ ڈیزل پر یومیہ ستر لاکھ36ہزار622روپے کا ریونیووصول کیا جا رہا ہے جس میں 45لاکھ48ہزار244روپے پٹرول لیوی اور 24لاکھ88ہزار378روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔لائٹ ڈیزل پر مجموعی طور پر دس کروڑ55لاکھ 49ہزار338روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔ہائی اوکٹین پر یومیہ 95کروڑ83لاکھ77ہزار712روپے کا ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 75کروڑ72لاکھ74ہزار177روپے پٹرولیم لیوی اوربیس کروڑ11لاکھ3ہزار535روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں۔ہائی اوکٹین پر مجموعی طور پر چودہ ارب37کروڑ56لاکھ65ہزار کا ریونیو وصول ہو گا۔


ماخذ

جمعہ، 17 اکتوبر، 2008

پٹرولیم پر ٹیکس

پچھلے دنوں ایک پوسٹ میں پٹرولیم پر حکومتی ٹیکس کا ذکر کیا تو بدتمیز نے تبصرے میں کہا کہ حکومت اتنا ٹیکس نہیں لے رہی۔ آج جنگ میں یہ خبر پڑھی تو سوچا شئیر کرتا چلوں۔




کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی11 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پرکمی کے باوجود حکومت نے وعدے کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس وصولی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ 16 اکتوبرکو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کی بجائے انہیں سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹیکس کی شرح بڑھا دی ہے۔ 15 اکتوبرکے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر16 فیصد کی شرح سے 10.94 روپے فی لیٹر سیلز ٹیکس اور33 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پی ڈی ایل وصول کررہی ہے۔ اس طرح ڈیزل پر ٹیکس کی شرح 11 روپے سے بڑھ گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل پر یہ شرح 13.55 روپے فی لیٹر ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کے ایک لیٹر پر عائد پی ڈی ایل کی شرح 25.12 فی لیٹرکردی گئی ہے جوکہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول پر آج تک عائد ہونے والی پی ڈی ایل کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ پیٹرول پر 11.26 روپے کے سیلز ٹیکس کو شامل کرنے سے ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکس کی شرح 36.38 روپے تک جا پہنچی ہے اگر اس میں کسٹمز ڈیوٹی کو شامل کیا جائے تو یہ40 روپے فی لیٹر سے بھی بڑھ جائے گی۔ ایچ او بی سی پر حکومت نے پی ڈی ایل کی شرح 23.37 روپے سے بڑھاکر30.51 روپے فی لیٹرکردی ہے۔ سیلز ٹیکس کے ساتھ ایچ او بی سی پر ٹیکس کی شرح 43.76 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ یہ شرح 50 روپے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم سیکٹر سے اس بڑے پیمانے پر ٹیکس وصولی کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے سبسڈی دے رہی ہے۔


بدھ، 10 ستمبر، 2008

ٹیکس، ٹیکس اور ٹیکس

پچھلے دو ماہ سے ہم ٹیکس بھر رہے ہیں۔ پہلے پراپرٹی ٹیکس آیا اڑھائی مرلے کا مکان اور دو دوکانیں جن کا کرایہ 1500 ماہانہ ہے پر سال میں 3300 روپیہ ٹیکس وصول کرتی ہے حکومت۔


اس کے بعد صدر کی روزگار سکیم سے لیا گیا چنگ چی لوڈر رکشہ، جس کی ٹوکن فیس اور فٹنس فیس مبلغ 2425 روپے ادا کرنے کا حکم آگیا ہے۔ ابھی اس کی قسط کے پیسے کسی نہ کسی طرح پورے کیے تھے اور ٹیکس کا مژدہ آگیا۔


یہ تو انفرادی حال ہے۔


اجتماعی حال بجلی پر کتنے سرچارج اور ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے سیلابی متاثرین سے لے کر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تک کا فی یونٹ ٹیکس ہم بھرتے ہیں۔


سیلز ٹیکس سولہ فیصد کردیا گیا ہے جو ہر چیز پر نافذ ہے۔


بجلی پر پہلے سبسڈی دی جاتی تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے چناچہ پچھلے ماہ سے بلوں میں سولہ فیصد جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔


اگلے ماہ سے اکتیس فیصد اضافہ مزید متوقع ہے۔ یعنی ہمارا بل جو پچھلے ماہ 1600 تھا اس بار 2000 آیا اور اگلی بار 2500 کے اریب قریب ہوگا۔


موبائل فون کے ریٹس پر 21 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ چناچہ دو منٹ میں ہی دس روپے کٹ جاتے ہیں۔


پٹرولیم پر اچھا خاصا ٹیکس فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح بیس روپے سے کم نہیں۔


اور انھی ٹیکسوں پر عوام کی حکومت چل  رہی ہے۔ اور عوام بس ہورہے ہیں۔