منگل، 17 اپریل، 2012
بجلیاں
پاکستانی قوم ایک ایسی افسانوی دنیا میں رہنے کی عادی ہے جس سے باہر نکلنا اسے پسند نہیں۔ منطق سے بات کرو تو کھوپڑی میں اترتی نہیں۔ اگر اوپر کیے گئےدعوؤں کو کوئی چیلنج کر دے تو مامے خاں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے ساتھ آپ کی ماں بہن بھی ایک کر ڈالتے ہیں۔ ثبوت مانگو تو آگے سے طعنوں تشنوں کی ڈبل بیرل بندوق چل پڑتی ہے۔
میں معاشیات کا کوئی ماما نہیں ہوں، عام سا قاری ہوں بس روزانہ اخبار پڑھنے کی عادت ہے۔ اور ایک اور گندی عادت ہر بات پر سوال اٹھانے کی ہے۔ جب سے میری کھوپڑی میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہاں فیس بک، میسج اور منہ زبانی گردش کرنے والا ہر ایک "فلاحی پیغام" ایک منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس قوم کو سلائے رکھنا ہے۔ کاکا سُتے رہو، منزل بس دو ہاتھ رہ گئی ہے، بس اتنی سی کسر رہ گئی ہے۔ بس ایران سے بجلی آ گئی، بس چین کو کنٹرول دو بجلی کا، بس ڈاکٹر قدیر خان کے ہاتھ میں روپیہ دو اور دیکھو۔ ارے پاکستان تو جنت میں ہے بس اس جنت کا پیکج ایکٹیویٹ کرانے کی ضرورت ہے۔
بڑی گندی عادت ہے جی ہر چیز پر سوال اٹھانے کی۔ مثلاً یہی لے لیں کہ کئی دنوں سے یہ سوال کھوپڑی میں ناچ رہے ہیں۔
آخر چین ہمارا اتنا ماما کہاں سے ہو گیا کہ دس ڈالر ماہانہ میں ہمیں بجلی مہیا کر دے؟ اگر فرض کیا مہیا کرتا بھی ہے تو قراقرم کے پہاڑوں میں سے بجلی کی تاریں بچھائے گا یا وائرلیس کے ذریعے بجلی آیا کرے گی؟ سوال تو یہ بھی ہے نا کہ تیل کہ چین جو خود تیل کا سب سے بڑا خریدار، کوئلے کا ویری اور ہر رکازی ایندھن کا دشمن ہے کہ اسے اپنی صنعت کا پہیہ چلانا ہے سوا ارب لوگوں کے پیٹ کا جہنم بھرنا ہے وہ اتنا ماما کیسے ہو گیا ہمارا کہ صرف 300 روپے میں بجلی مہیا کرنا شروع کر دے؟ جبکہ آپ کے اپنے ملک میں پن بجلی بھی پیدا ہونے لگے تو اس کی قیمت بھی تین سو نہ ہو۔ آپ کی کرنسی کی مت ہی اتنی وج چکی ہے سرکاراں۔
ایران کے بڑے ہیج چڑھے ہوئے ہیں لوگوں کو۔ ایران گیس دے گا، ایران بجلی دے گا، یہ کوئی نہیں سوچتا ایران کیا لے گا؟ ایران نے گیس دیتے وقت اس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے ساتھ منسلک کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اس سے سستی گیس ترکمانستان دے سکتا ہے۔ اگر کبھی دے سکا تو۔ ایران کے ساتھ تجارت کا مطلب ہے کہ آپ کے بینک امریکہ میں بین۔ اس مطلب ہے کہ ایران سے تجارت صرف بارٹر سسٹم کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی؟ نہیں ہے بس باتیں ہیں۔ اور ہاں اگر پیسے بھی دینے پڑے تو ڈالروں میں جائیں گے اور آپ کے پاس اپنے نوٹوں کے (ردی کے) ڈھیر ہی ہیں، ڈالر جو آتے ہیں وہ فارن بل ادا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ڈاکٹر قدیر صاحب کو ہر مرض کی دوا سمجھ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سیاست میں آئیں۔ ڈاکٹر صاحب بجلی بنائیں۔ ڈاکٹر صاحب یہ ڈاکٹر صاحب وہ۔ تابکاری کی وجہ سے کینسر کا شکار ایک بوڑھا شخص، اس بے چارے کو ہر جگہ گھسیٹ لیتی ہے یہ قوم۔ ارے ڈاکٹر قدیر ہے لکڑ ہضم پتھر ہضم پھکی نہیں ہے جو سر درد، آنکھوں کی کمزوری اور معدے کی کمزوری سے لے کر گنٹھیا تک کے علاج میں استعمال ہو جاتی ہے (اور آرام پھر نہیں آتا)۔ ڈاکٹر صاحب نے بیرون ملک سے ایٹمی ٹیکنالوجی چرائی تھی، اپنا کیرئیر برباد کیا اور آپ کے ملک کو ایٹم بم بنا کر دے دیا۔ اب بس کرو جناب ان کا کام پورا ہو گیا اس بے چارے بوڑھے کو اب تو سکون سے جی لینے دو۔ عجیب چائنہ کٹ قسم کے ہیروہوتے ہیں ہمارے ہر کام کر لیتے ہیں۔ 90 دنوں میں بجلی کا بحران بھی ختم کر دیتے ہیں۔
یہ 90 دن میں بجلی کا بحران ختم کرنے والی بھی خوب رہی۔ کل فیس بک پر ایک صاحب اچھے خاصے جذباتی ہو گئے کہ اگر ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو ایٹمی بجلی گھر بنانا تو خالہ جی کا واڑہ ہے۔ میں نے کہا بھائی صرف یہ بتا دو کہ ایک ایٹمی بجلی گھر تیار ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، کسی حوالے کے ساتھ تو میں مان جاؤں گا۔ تو فرمانے لگے آپ ثابت کر میں کیوں کراں؟ بڑی گل کیتی اے وئی۔ پتا نہیں ہماری موٹی کھوپڑی میں یہ بات کب آئے گی کہ چوری کا ڈیزائن لے کر ایٹم بم بنا لینے میں تیس سال لگ گئے تھے، اگر اسی طرز پر ایٹمی بجلی گھر بھی بنانے لگے تو پانچ سال تو انتظار کرو میرے بھائی۔ کراچی کا ایک تھکڑ سا ایٹمی بجلی گھر جو جتنی بجلی بناتا ہے اس سے آدھی خود پی جاتا ہے۔ اور چشمہ کے دو ایٹمی ری ایکٹر جو جھونگے جتنی بجلی مہیا کرتے ہیں۔ چھ سو میگا واٹ اور کہاں پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال۔ یہ چشمہ بھی چین کا سر چشمہ ہے ورنہ آپ کے گوڈوں میں اتنا پانی نہیں ہے کہ ایٹمی بجلی گھر تیار کر سکیں۔ ارے پیسے ہی نہیں ہیں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کے لیے اور کیا کرنا ہے۔
ہاں پیسوں کی بھی خوب رہی۔ بجلی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ پر ہیں۔ پیسے ہیں۔ ماہانہ کروڑوں یا شاید اربوں کے نئے نوٹ چھپتے ہیں، چناچہ اگر اس ملک میں کسی چیز کی پیداوار روز افزوں ترقی پر ہے تو وہ نوٹ ہیں۔ نوٹ چھپتے ہیں تو پھر نوٹ زیادہ اور پیداوار کم، نتیجہ یہ کہ سبزی مہنگی نوٹ سستے، بجلی مہنگی نوٹ سستے، پٹرول مہنگا نوٹ سستے، آٹا مہنگا نوٹ سستے۔ حکومت تو اپنا کام کیے جا رہی ہے ہمارے پچھواڑے میں ڈانگ دئیے جا رہی ہے۔ نہ آمدن ہو نہ سرکلر ڈیٹ کا منحوس چکر ختم ہو اور نہ بجلی بنانیوالے پوری پیداوار دیں۔ مجھے تو ڈر اس وقت سے ہے کہ پاکستانی سرکار پاکستانی بینکوں کے سامنے ڈیفالٹر ہو جائے، دیوالیہ۔ جتنے قرضے یہ بینکوں سے لے رہے ہیں، اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے، اپنے حلقوں کو خوش کرنے کے لیے ترقیاتی کام کرانے کے لیے، مجھے ڈر ہے کہ یہ سرکار دیوالیہ ہو جائے گی۔ اور یونان والا حال ہوگا اس ملک کا۔ یقین نہیں آتا تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لو، ہر رپورٹ میں یہی رنڈی رونا ہوتا ہے کہ حکومت بہت زیادہ قرضہ لے رہی ہے۔
اور جاتے جاتے پانی کا حال بھی سنتے جائیں۔ یہ گلیشئیر اگلے تیس سال نکال گئے تو معجزہ ہو گا۔ جہاں سیاچن اور بالتورو کے ڈھیر ہیں وہاں صفا چٹ پتھر ہوں گے چند دہائیوں میں اور میٹھے پانی کا ذریعہ ٹھُٹھو۔ نہ پانی ہو گا، نہ ڈیم ہوں گے، نہ پانی محفوظ ہوگا نہ پینے کو ملے گا نہ بجلی بنانے کو ملے گا۔ اور آپ کے دریا تو پہلے ہی انڈیا لیے جا رہا ہے۔ بس تھوڑا سا اور صبر کرلو فیر ویکھو دما دم مست قلدر۔
ہاں حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی اور پرانا ہیرو جو ادھر ادھر پڑا ہو جھاڑ پونچھ کر دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے تاکہ عوام کا مورال بلند رہے، اسے نشے کا ٹیکا لگا رہے اور سُتی رہے۔ ستے خیراں، رہے نام اللہ کا جس نے جھوٹوں کے لیے بھی ان کا عمل اتنا خوشگوار بنا دیا کہ وہ اسے ہی سچ سمجھتے ہیں۔
پیر، 3 جنوری، 2011
کچھ تصویریں
اتوار، 3 جنوری، 2010
لوڈ شیڈنگ
سردیوںمیںہمارےپاس ایندھن کی کمی ہوتی ہے۔ ہماری گیس گھروں میں ہی اتنی لگ جاتی ہے کہ فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں۔ سی این جی سٹیشنز کو گیس کی دو دن فی ہفتہ بندش اسی وجہ سے ہے۔ پاور سٹیشنز کو بھی گیس نہیں ملتی اور کام پورا ہوجاتا ہے۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے ہمارے ڈیم بھر ہی نہیں رہے، جیسے ہی سرما میں ڈیم بند کیے جاتے ہیں سارا پاور سسٹم ختم ہوجاتا ہے۔ پیچھے ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی ہوجاتی ہے۔ یاد رہے سردیوں میں چار ہزار میگا واٹ کی کمی گرمیوں کی چار ہزار میگا واٹس کی کمی سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پیداوار پندرہ ہزار کے اریب قریب اور کھپت بیس ہزار کے اریب قریب ہوتی ہے۔ سردیوں میں کھپت دس ہزار میگاواٹ سے بہت کم ہوتی ہے اور میں سے چار ہزار میگا واٹ کی کمی کا مطلب ہے فیصد میں ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی۔ پچھلے تین سال سے دسمبر کے آخری دو ہفتے اور جنوری کے پہلے دو ایک ہفتے اتنہائی بدترین لوڈ شیڈنگ کے ہوتے ہیں۔ اس سال سے تو گیس بھی کم آنے لگی ہے۔ بجلی بند ہوتے ہی گیس بھی کم ہوجاتی ہے، چولہا جلائیں تو گیس بلب نہیں جلتا وہ جلائیں تو چولہے پر روٹی بھی نہیں پکتی۔ ہماری گیس زیادہ سے زیادہ اگلے آٹھ سال تک کے لیے ہے وہ بھی تب جب نئے کنکشن نہ دئیے جائیں اور سی این جی سٹیشن نہ لگائے جائیں۔ گیس کہاں سے آئے گی کا خیال کیے بغیر گاڑیوں کو بلامنصوبہ بندی سی این جی پر کیا گیا اور آج گھروں میں روٹی پکانے کے لیے بھی گیس نہیں ہوتی سردیوں میں۔ قصبوں اور دیہوں میں سیاسی بنیادوں پر گیس کنکشن دئیے گئے اور گنجان آباد شہروں کے رہنے والے جہاں کوئی اور ایندھن بھی دستیاب نہیں آئے دن گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں۔ عجیب سسٹم ہے ہمارا۔ ڈنگ ٹپاؤ۔ کھاتے جاؤ۔ جب ختم ہوگا دیکھی جائے گی۔
ہمارے پاس ابھی تک متبادل ذرائع توانائی سے بجلی کے حصول کے لیے کوئی جامع منصوبہ، پالیسی یا ادارہ موجود نہیں ہے۔ متبادل توانائی بورڈ کے ملتے جلتے نام سے ایک حکومتی ادارہ مشرف دور میں کچھ سرگرم رہا ہے۔ ان لوگوں نے ٹھٹھہ بدین وغیرہ میں غیرملکی کمپنیوں کو پوَن چکیاں لگانے کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔ لیکن ابھی تک ایک آدھ پوَن چکی ہی آپریشنل ہوسکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی بجلی بھی دس روپے سے زیادہ فی یونٹ لاگت کی حامل ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کے قریب ایک ماڈل دیہہ جو شمسی توانائی پر چلتا ہے پچھلے کئی سال سے موجود ہے، پنجاب میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر کرنے کی بڑھک پچھلے دنوں خادم اعلی کی جانب سے سنائی دی۔ اب اس پر عمل کتنا ہوگا رب جانے اور خادم اعلی جانیں۔
ہمارے پانی کے ذخائر تیزی سے انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر پچھلے پانچ سال میں کئی بڑے اور بیسیوں چھوٹے ڈیم بنا چکا ہے جس کی وجہ سے آج راوی گندہ نالا ہے اور اس وقت چلتا ہے جب سیلاب آنا ہو۔ جہلم آدھا خشک ہوچکا ہے اور ستلج کو تو سندھ طاس معاہدہ کھا گیا۔ بھارت کے وولر بیراج اور بگلیہار ڈیم پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے نہ مشرف دور میں کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ موجودہ حکومت پچھلے ڈیڑھ سال سے کچھ کرسکی ہے۔ جماعت علی شاہ، ہمارا نام نہاد واٹر کمشنر پتا نہیں کیا کرتا پھر رہا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے اس عہدے پر موجود یہ شخص کن کا ایجنٹ ہے اور اسے پانی کی کمی نظر کیوں نہیں آتی۔ ہمارا بارشوں کا نظام تیزی سے نارمل سے ہٹ رہا ہے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں غیرموسمی بارشوں سے قریبًا ہرسال سیلاب آجاتا ہے اور ماضی کے بارانی علاقے اب آسمان کو بادلوں سے عاری دیکھ دیکھ کر ترس جاتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے تحت پانی سٹور کرنے کے لیے ہماری پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی یا جدت نہیں لائی گئی۔صرف ایک دیامر بھاشا ڈیم جس پر کام اگلے دس سال میں مکمل ہوگا اسے شروع کیا گیا ہے۔
ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہماری کوئی پالیسی نہیں۔ اور ہماری حکومت یہ ہے کہ ہماری کوئی حکومت نہیں۔ اور ہماری قوم یہ ہے کہ یہ کوئی قوم نہیں ہجوم ہے۔
ہفتہ، 13 ستمبر، 2008
پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے
اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔
تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔
ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔
پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔
اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔
قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔
بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔
ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔
پیر، 18 اگست، 2008
بابا مشرف (مرحوم)
لو جی بابا مشرف مواخذے کے ڈر سے مستعفی ہو ہی گیا۔ بقول اس کے پارلیمنٹ کو چلتا بھی کیا جاسکتا تھا اور سپریم کورٹ کو پھڈے میں ملوث بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس نے احسان عظیم کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کو رکھ کر استعفے کا فیصلہ کیا۔
آہ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔ اب یاد آیا کرے گی اچھا بندہ تھا کم لوٹا اب والے زیادہ تجربہ کار لٹیرے ہیں۔
اس استعفے پر پی پی پی کو تو صدر کا عہدہ مل گیا۔ ہمیں کیا ملے گا۔ آٹا، بجلی، گیس اور ضروریات زندگی سستی ہوجائیں گی؟ یہ سب اس حکومت پر منحصر ہے جس کے گوڈوں میں پانی نظر نہیں آتا۔
اب دیکھ لیتے ہیں کہ جج بحال ہوتے ہیں ان سے یا نہیں۔ یا پھر وہی مشاورت مشاورت کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں یہ لوگ۔
گڈ بائی بابا مشرف جی۔ اب اگر عدالتی ٹرائل ہوجائے تو موج ہی ہوجائے پھر مزید کسی آمر کو جرات نہ ہو ایسا کرنے کی۔ پر نہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اسے چپکے سے باہر نکال دیا جائے گا اور جب فوت ہوگا تو اسے گارڈ آف آنر اور پرچم مہیا ہوگا۔
منگل، 25 مارچ، 2008
امید
نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔
امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔
چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔
امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔
پیر، 24 مارچ، 2008
الحمد اللہ
کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔
اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔
ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔
پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔
ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔
پیر، 3 مارچ، 2008
تازہ ترقیاں
میں نے اسے سمجھایا بیٹا نوٹوں کو کونسا کھا لینا ہے۔ نوٹ چھاپنے سے پہلے ان کے پیچھے بطور ضمانت سونا رکھا جاتا ہے یا ڈالر یورو رکھے جاتے ہیں۔ نوٹ ہونگے اور ان سے خریدنے کے لیے چیزیں نہ ہونگی تو نوٹ کونسا پیٹ بھر دیں گے۔ اسے یہ بات سمجھ آگئی لیکن میرے لیے سوچ کا ایک در وا ہوگیا۔
ابھی دو دن پہلے ہی تیل کی قمیتیں بڑھائی گئی ہیں۔ پٹرول 3 روپے اور ڈیزل 5 روپے۔ ابھی کرم فرما کہتے ہیں کہ یہ مزید بڑھیں گی۔ میں نے جب یہ سوچا کہ اس "دیباچے" کا ہم پر کیا اثر پڑے گا تو بڑی سادہ سی تصویر ابھری۔ پیداواری لاگتیں بڑھ جائیں گی۔ خصوصًا لانے لے جانے یعنی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس کے نتیجے میں کھانے پینے کی چیزوں کی قمیت سے لے کر کرایے تک سب کچھ بڑھ جائے گا۔
اس سلسلے میں مطلع واپڈا نے عرض کردیا ہے۔ بجلی کی قیمت 9 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ ہم ہر سال کی طرح اس بار بھی گرمیوں میں ہر اس چیز کو بند کرتے پھر رہے ہونگے جو "چل" رہی ہو بجلی سے نہیں ہمارے خون سے۔ لیکن بل اس بار بھی تین ہزار سے کم نہیں آئے گا بلکہ شاید 4000 تک پہنچ جائے ۔
ملک میں افراط زر کی شرح اس وقت 8 فیصد کے قریب ہے جو حالیہ تیل کی قیمتیں بڑھانے سے 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یعنی "پیسے بڑے کھانے کو کچھ نہیں"۔ ملک کی برآمدات میں مناسب کمی دیکھنے میں آئے گی اور ہوسکتا ہے کچھ عقلمند آجر فیکٹریوں سے سرمایہ نکال کر کراچی سٹاک ایکسچینچ میں لگا کر منافع کمانے کی سوچیں۔
ملک میں اس وقت جو سیکٹر ترقی کررہا ہے وہ آئی ٹی ہے۔ لیکن آئی ٹی سب کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ انٹرنیٹ کے ریٹس وہ واحد چیز ہیں جو سستے ہورہے ہیں۔ کاش ان کے کھانے سے پیٹ بھر جاتا تو میں 1024 کلو بٹس کی ایک ڈی ایس ایل لائن 1199 روپے مہینہ میں لے کر اس جھنجھٹ سے ہی جان چھڑا لیتا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں۔ یا پھر کاروں کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے یہی کوئی 34 ہزار روپے فی کار تک۔ اگر اس سے روزی روٹی کا کوئی بندوبست ہوسکتا تو میں ضرور ایک عدد کار لے لیتا اور قصہ ہی تمام ہوتا۔
ملک میں بیرون ممالک کے ری کنڈیشنڈ آلات تھوک کے حساب سے آرہے ہیں۔ گاڑیاں، بسیں، کاریں، کمپیوٹر، مانیٹر، کمپیوٹر کے لوازمات، موبائل فون اور نہ جانے کیا کچھ۔ آپ نے اگر کچھ کمانا ہے تو ان میں سے کسی کاروبار سے منسلک ہوجائیں۔ یا اپنی زرعی زمین بیچ کر شہر آجائیں۔ اگر شہر کے قریب زمین کے مالک ہیں تو کھیتوں کو ہموار کروا کر ایک کالونی کا منصوبہ شروع کرلیں۔ بلدیہ کو روکڑا لگوا کر آپ کی گیس بھی منظور ہوجائے گی، بجلی بھی اور پانی سیورج بھی۔ زمینیں بیچیں اور گھر بیٹھ کر کھائیں۔ یہ نہ سوچیں اس قیمتی اراضی سے جو ہر سال گندم ہوتی تھی وہ کہاں سے آئی گے۔ گندم تو باہر سے آہی رہی ہے۔ اللہ کا بڑا فضل ہے پچھلے سال وافر گندم ہونے کے باوجود ملک خداداد کے رہنے والے آتے کو ترستے رہے اور کئی کئی دن چاول کھا کر گزارہ کرتے رہے۔
کشکول ٹوٹ گئے ہیں۔ اب اگر آئی ایم ایف نے ترقیاتی اخراجات میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کا کہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ روشن خیال حکومت تو چلی گئی اب آنے والوں نے کیا کرلینا تھا؟ اس لیے بہتر ہے یہ غیر ضروری اخراجات ختم ہی کردئیے جائیں۔ ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی کردی گئی ہے اس کو بھی سنجیدگی سے نہ لیں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ڈیموں میں ایک ہفتے سے بھی کم کا پانی رہ گیا ہے اس کی بھی فکر نہ کریں آپ۔
بس آپ اپنے آپ کو تیار کرلیں کرایوں میں اضافے کے، سبزیاں سو روپے کلو تک خریدنے کے، "ڈھیر سارے پیسے" کے لیے، بجلی کی سردیوں سے بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کے لیے (جو کہ انشاءاللہ ایک ماہ میں شروع ہوا چاہتی ہے)۔
پیر، 28 جنوری، 2008
ترقی کی حقیقت
کل کی اخبار میں ایک خبر آئی ہے کہ کال میٹ نامی ایک کمپنی کے حصص جو چند ماہ پہلے 65 روپے تک خرید و فروخت ہوچکے ہیں اب 20 روپے سے بھی کم میں بک رہے ہیں۔ اور جن کے پاس یہ حصص تھے ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔
میں نے غور کیا تو بہت سی چیزیں سامنے آئیں۔ پچھلے آٹھ سال میں معیشت کی 7 فیصد افزائش اسی بل پر دکھائی جاتی رہی ہے۔ بینکوں کا قرضوں کا کاروبار، ٹیلی کام کے شعبے میں سرمایہ کاری، سٹاک مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری اور سروسز کے بزنس۔۔۔
میں نے غور کیا تو احساس ہوا کہ ان آٹھ دس سالوں میں کوئی ایسی ترقی نہیں ہوسکی جو زمین پر قائم ہو۔ یہ سب جس کو بنیاد بنا کر ترقی دکھائی جاتی رہی ہے کہ نتیجہ آج یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کار انڈسٹری لگانے کی بجائے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ آخر انھیں ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ انڈسٹری لگائیں سو بکھیڑے پالیں اور پھر چار پیسے کمائیں۔ بس کراچی کی سٹاک مارکیٹ کے بھیڑیوں سے رابطہ کریں حصص خریدیں، مصنوعی تیزی سے ان کی قیمتیں بڑھوائیں اور فروخت کرکے سائیڈ پر ہوجائیں۔ آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام۔۔
بینکوں نے قرضوں کا جو کاروبار شروع کیا، کریڈٹ کارڈز دئیے گئے اور لیز پر گاڑیاں دی گئی ان سب نے صرف اور صرف کنزیومر ازم کو فروغ دیا ہے۔ یہ قرضے انڈسٹری لگانے کی بجائے ان کاموں کے لیے دئیے گئے جو معاشیات کی اصطلاح میں ان پروڈکٹو مانے جاتے ہیں۔ اب لوگوں کے پاس گاڑیاں تو ہیں لیکن ان کو چلانے کے لیے پٹرول کے پیسے نہیں۔ چناچہ وہ رینٹ اے کار پر چل رہی ہیں۔ یا بینک انھیں واپس لے رہے ہیں۔ یا لوگ بینک سے بھاگ رہے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ استعمال تو کرلیا لیکن اب اس کا سود اور اصل واپس کرنے کے لیے گدھوں کی طرح لگے ہوئے ہیں۔
موبائل فون کے شعبے میں ہونےو الی سرمایہ کاری نے بہت کم مواقع پیدا کئیے ہیں۔ جبکہ صارفین اس سے ہزاروں گنا زیادہ پیدا ہوئے ہیں۔ اگر اس وقت پاکستان میں 7 کروڑ موبائل صارفین ہیں تو ان کو سروسز فراہم کرنے والا عملہ کوئی بہت لمبا چوڑا نہیں۔ ایک لاکھ یا دو لاکھ یا بڑی حد تو پانچ لاکھ کرلیں۔۔۔ موبائل فون آپریٹرز یہاں سے پیسہ کما کر دھڑا دھڑ ڈالر باہر منتقل کررہے ہیں۔ دوسری طرف موبائل سیٹس باہر سے درآمد کرنے میں ملک کا زرمبادلہ خرچ ہورہا ہے۔ میرے جیسا بھی اوکھا ہوکے 10000 والا سیٹ لے رہا ہے۔ اور پرویز مشرف بھی عوام کے ہاتھ میں چھنکنا دے کر خوش ہے کہ سات کروڑ موبائل صارفین ہوگئے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ انتہائی منفی سماجی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں مولوی نہیں لیکن اس موبائل نے نئی نسل کو خراب کرنے کی رفتار کو سو گنا کردیا ہے۔ لیٹ نائٹ پیکجز نے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے ٹرینڈ کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اجالے میں سبھی حاجی اور اندھیرے میں آج کی ساری نوجوان نسل اس حمام میں ننگی ہے۔ بے مقصد باتیں، بے وقت کی کالیں اور ساری ساری رات مقصد جاگ کر گزارنے والے یہ لوگ کیا خاک ترقی کریں گے؟
متبادل توانائی کے سلسلے میں انتہائی غفلت سے کام لیا گیا ہے۔ غریب کے ہاتھ چونی کی طرح اس کا ایک نام نہاد بورڈ تو بنادیا گیا ہے لیکن اس کے پاس فنڈز اور اختیارات کے نام پر کچھ نہیں۔ وہ صرف سوچ سکتا ہے اور آئیڈیے دے سکتا ہے۔ جو میں اکیلا ان سے زیادہ دے سکتا ہوں۔ کراچی کے نزدیک ٹھٹھہ اور اس کے نواح میں چند ونڈ ملز لگانے کا منصوبہ بنا ہے اور اس سلسلے میں سینکڑوں ایکٹر زمین بھی الاٹ کی گئی ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والی بجلی کم از کم 10 روپے یونٹ ہوگی۔ ملک میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن اس کے لیے صرف اتنا کیا گیا ہے کہ چند گنے چنے دیہاتوں کو پائلٹ پراجیکٹ کے نام پر شمسی توانائی کے منصوبے دے کر فرض ادا کردیا گیا ہے۔
گیس اور پٹرولیم کی پیداوار ایک سطح پر آکر رک گئی ہے۔ پچھے ایک سال میں گاڑیاں دھڑا دھڑ سی این جی اور ایل پی جی پر منتقل کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں پہلے ایل پی جی کی قیمتیں 25 روپے سے 100+ پر پہنچ گئی ہیں اور اب قدرتی گیس کا بحران منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ بغیر مستقبل کی منصوبہ بندی کئے اسی پیداوار میں رہتے ہوئے نئے صنعتی یونٹوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو لائسنس اور گیس فراہمی کے معاہدے کئے جارہے ہیں جس کا نتیجہ بجلی کی طرح گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت میں نکلے گا۔ گیس کے تین منصوبے اس وقت زیر غور ہیں۔ پاکستان ایران، پاکستان قطر اور ایک وسطی ایشیائی ریاستوں سے بذریعہ افغانستان۔ ان میں پاک ایران منصوبہ ہی شاید اگلے ساتھ آٹھ سال میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکے لیکن ایران کے تیور ابھی سے بتا رہے ہیں کہ وہ نرخ کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرے گا۔
ملک کو عارضی بنیادوں سے نکال کر یومیہ بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ سرکاری ملازمین کو کنٹریکٹ کے نام پر بھرتی کرکے ان سے ساری سہولیات چھین لی جاتی ہیں پھر انھی ملازمین کے کنٹرکیٹ ہر نئی مدت پر بڑھا دئیے جاتے ہیں۔ چناچہ نہ ہی مقابلے کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی پرانے ملازمین کو کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ پی ٹی اسی ایل اور پاکستان سٹیل جیسے کئی ادارے بڑی بے دردی سے نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کردئیے گئے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم یا تو قرضے اور ان کا سود دینے میں صرف ہورہی ہے یا پھر بلٹ پروف گاڑیاں اور سرکار کی زیب و زینت پر خرچ ہورہی ہے۔
عام آدمی سے لے کر حکومت تک کے پا س کماڈیٹیز یومیہ بنیادوں پر ہیں۔ آج اگر ہمارا معاشی بائیکاٹ کردیا جائے تو ہم کسی قابل نہیں رہیں گے۔ ہم ہر چیز باہر سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت درآمد کررہے ہیں۔ سوئی، موم بتیاں، جوتے، کھلونے، موٹر سائیکل اور کاریں چین سے دھڑا دھڑ آرہی ہیں۔ بڑی چیزوں پر تو ڈیوٹی لگا کر بڑے سرمایہ کاروں کو تحفظ دے دیا گیا ہے۔ موٹر سائکل جو چین سے قریبًا 20000 میں آتا ہے یہاں چالیس ہزارمیں بکتا ہے۔ لیکن جوتے، موم بتیاں اور کھلونوں جیسی چیزوں نے مقامی چھوٹی صنعتوں کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ملک کی بنی دس روپے والی موم بتی چین سے آنے والی اسی قیمت کی موم بتی کے مقابلے میں آدھےسے بھی کم ہے۔ مقامی طور پر سوفٹی اور گھریلوں جوتے بنانے والی صنعتیں بند ہوچکی ہیں یا آخری سانس لے رہی ہیں اور یہ لوگ اب چین سے جوتوں کے درآمد کنندہ بن گئے ہیں۔
ہر چند ماہ میں کسی نہ کسی چیز کا بحران پیدا کرکے اس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ پہلے چینی، پھر آٹا اور گھی اور اب دالیں بھی دستیاب نہیں۔ حکومت راشن کارڈ جاری کرکے اور چند ہزار یوٹیلٹی سٹورز پر راشن مہیا کرکے اپنا فرض پورا سمجھ رہی ہے۔ بڑے شہروں میں تو رُل کر کسی نہ کسی سٹور سے کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے لیکن بلوچستان جیسے علاقوں میں جہاں یہ سٹور بھی نہیں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے تیل کی قیمت منجمند ہے اور امید کی جارہی ہے اب یہ تحفہ عوام کو پیش کیا جائے گا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ تیل کی قیمت شاید 70 روپے لیٹر سے بھی بڑھ جائے۔
سماجی، اقتصادی اور معاشی ہرمیدان میں ملکی بنیادی طرح طرح کے گھن کھوکھلی کرچکے ہیں۔ عوام میں بے حسی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ اب وہ صرف اپنی اور اپنی روزی روٹی کی سوچتے ہیں۔ عزیز رشتہ داروں اور دوستوں کی بیٹھکوں میں ملک کے ٹوٹنے کا بڑے نارمل انداز میں جائزہ لے کر اعلان کیا جاتا ہے کہ بس اب پاکستان گیا۔۔۔۔۔
یااللہ ہم کہاں جارہے ہیں؟
ہفتہ، 26 جنوری، 2008
مشرف کا پاکستان زندہ باد
لکڑیاں بھی ختم ہوگئیں تو اُپلے آخر کہاں جائیں گے۔
ارے چھوڑو اس چکر کو اب سی این جی سٹیشنوں کے چکر کیوں لگاتے ہو۔۔ خودانحصاری سیکھو۔ گھر میں بھینس پالو اور اس کے اپلوں سے گاڑی چلاؤ۔ روٹیاں پکاؤ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں انھی اپلوں سے ملیں بھی چلائی جاسکتی ہیں۔ ایک بار ڈیمانڈ بن جانے کے بعد بھینسوں کا فضلہ کمرشل پیمانے پر پیدا کرنے کے لیے باہر سے سرمایہ کاری کو بھی دعوت دی جاسکتی ہے۔
میں تو کہتا ہوں چھوڑو یہ گیس ویس، پٹرول اور بجلی۔۔۔۔اپلے جلاؤ مشرف کے پاکستان کو روشن اور گرم رکھو۔
مشرف کا پاکستان زندہ باد۔۔۔مشرف کے پاکستان کے عوام مردہ باد۔۔۔۔
منگل، 22 جنوری، 2008
اَگا دوڑ تے پچھا چوڑ
بجلی کے کنکشن 2007 تک سب دیہاتوں تک پہنچ جائیں گے سب کو بجلی دستیاب ہوگی۔ بندہ پوچھے کہ جن کے پاس پہلے یہ سہولت ہے وہ کتنے مستفید ہورہے ہیں؟ موبائل کمپنیوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں کو انھے وا لائنسنس جاری کئے گئے ہیں یہ خیال کئے بغیر کہ ان کی توانائی کی ضروریات کون پوری کرے گا۔ میرے محلے میں پہلے صرف گھروں کی بجلی جاتی تھی اب اس کے ساتھ ساتھ کیبل نیٹ کی تاریں بجلی سے چلتی ہیں، ٹی وی کیبل کو کرنٹ ملتا ہے، وائرلیس اور موبائل فون کے دو تین کھمبے لگ گئے ہیں انھیں بجلی چاہیے ہوتی ہے۔ اب بجلی کیا کرے؟ ڈیم تو وہی ہیں جو پچاس سال پہلے بن گئے اور اب آدھے رہ گئے ہیں لیکن باقی ہر چیز بڑھی ہے۔۔
گیس کو لے لیں تو اس کے کرتا دھرتا بھی ہر کام انھے وا کررہے ہیں۔ نئی بستیوں کو انھے وا گیس کی لائنیں مہیا کی جارہی ہیں۔ سی این جی سٹیشنوں کو لائسنس جاری کئے جارہے ہیں۔ صنعتوں کو گیس دینے کے معاہدے ہورہے ہیں۔ اور حال یہ ہے کہ صبح ناشتے کے وقت اور رات کے کھانے کے وقت اب گیس اتنی تھوڑی ہوجاتی ہے کہ روٹی پکانا عذاب ہوجاتا ہے۔ نتیجے میں اب گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی ہوا کرے گی۔ سی این جی سیٹشنوں کی فرمایا گیا ہے کہ 6 گھنٹے کے لیے ہوگی ملوں کی گیس سردیوں میں بعض اوقات مستقل منقطع کردی جاتی ہے۔ ہمارے قریب نور فاطمہ ٹیکسٹائل آئے دن اس وجہ سے بند ہوتی ہے کہ گیس نہیں آرہی۔ اب نہیں تو اگلے سال یہ ہمارے گھروں تک بھی آجائے گی۔ جس طرح ہر دو گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے اسی طرح گیس بھی بند ہوجایا کرے گی۔
ترقی تو انھے وا ہوئی ہے۔ ہر اس شعبے میں جہاں توانائی استعمال ہوسکتی ہے۔ لیکن توانائی کی ترقی کیا ہمارے ماموں نے آکر کرنی ہے باہر سے۔ اس کا کون ذمہ دار ہے۔ ایک ڈیم جو دس سال بعد بنے گا جب توانائی کی کمی میگا واٹس سے گیگا واٹس میں چلی جائے گی شاید۔
ہم ساری گرمیاں دھوپ میں سڑ سڑ کر لُوس جاتے ہیں لیکن اس قوم کے نام نہاد والی وارثوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کو ہی استعمال کرلیں۔ ہر تین ماہ بعد باں باں کرتے پھرتے ہیں کہ بجلی نہیں ہے۔ اب پانی نہیں ہے اور اب گرمی کی وجہ سے کھپت بڑھ گئی ہے۔ ارے یہ شمسی توانائی کیوں استعمال نہیں کرتے۔ کوئی انھیں مشورہ کیوں نہیں دیتا۔ جاپانی آج تیل سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ ان سے اللہ واسطے ہی ٹیکنالوجی مانگ لو۔ جس طرح موبائل ہر بندے کے ہاتھ میں دے دیا ہے ویسا کام ہی اس کے ساتھ کیوں نہیں کرتے۔ اگر ان کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے تو شمسی توانائی کے اداروں کی کیوں نہیں۔ سڑکیں نکو نک ہوگئی ہیں لیز کی گاڑیوں سے۔ آخر یہ بینک جن کے بل پر ہمارے ٹیکنو کریٹ وزیر اعظم مع اپنے صدر باس کے آٹھ سال تک معیشت کو آسمان کی بلندیوں تک ترقی کرتا دکھاتے رہے ہیں اب ان ہی بینکوں سے شمسی توانائی کے سامان کے لیے قرضے کیوں جاری نہیں کئے جاسکتے۔۔
کیوں آخر کیوں؟
ہمیں انھے وا صارف کیوں بنایا جارہا ہے۔ آٹا باہر سے، تیل باہر سے، گیس باہر سے، دالین باہر سے، موبائل فون کمپنیاں باہر سے، ضرورت زندگی کی ہر شےء حتٰی کہ سوئی اور جوتی تک باہر سے ۔۔۔۔ بس اس وقت کا انتظار ہےجب یہ قوم ہی اٹھ کر باہر کو چل پڑے۔
چل بلھیا اوتھے چلئیے جتھے سارے انھے
جتھے نا کوئی ساڈی قدر جانے نہ کوئی سانوں منے


