خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 12 نومبر، 2009

ہو چُوپو

لو جی الطاف پائین و ہمنواؤں نے این آر او کھا کے ڈکار بھی نہیں لی۔ ملاحظہ کیجیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق متحدہ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے کیس ختم کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی سنگین بے قاعدگیاں کی گئی ہیں
کراچی ۔۔۔ متحدہ قومی مو ومنٹ نے این آر او کے ذریعے اپنے قائد الطاف حسین اور مرکزی رہنماؤں سمیت کارکنوں کے 3ہزار5سو70 مقدمات ختم کروائے ہیں جن میں بیشتر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔ختم کرائے گئے مقدمات میں قتل، اقدام قتل، چوری ڈکیتی، پولیس مقابلہ، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات شامل ہیں۔مرکزی رہنماؤں سمیت متحدہ قومی مو ومنٹ کا کوئی بھی کارکن این آر او کے تحت مقدمات ختم کرانے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے روبرو پیش ہی نہیں ہوا لیکن ا سکے باوجود حکومتی اثر و رسوخ استعمال کر کے مقدمات ختم کرالئے گئے ۔ذرائع کے مطابق مشرف دور میں این آر او جاری ہونے کے بعد حکومت سندھ نے ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس نے این آر او کے مقدمات کا جائزہ لیکر ان پر سفارشات وزیر اعلیٰ کو بھیجنا تھیں جو این آر او کے تحت مقدمات ختم کرنے کی ا تھارٹی تھی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کمیٹی نے متحدہ قومی مو ومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف زیر سماعت 4 ہزار سے زائد مختلف مقدمات پیش کئے تھے ۔کمیٹی نے مختصر سے وقت میں کسی بھی قسم کی تفتیش اور مناسب جائزہ لئے بغیر متحدہ قومی مو ومنٹ کے خلاف 90 فیصد سے زائد مقدمات یک جنبش قلم ختم کرنے کی سفارشات وزیر اعلیٰ کو بھیج دیں جو اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے منظور کر لی بعدازاں حکومت سندھ نے ان مقدمات کے خاتمے کیلئے متعلقہ عدالتوں میں درخواستیں جمع کراکے مقدمات باقاعدہ ختم کرادئے تھے ۔سندھ کی سطح پر بننے والی این آر او کمیٹی میں اس وقت کے ایڈو وکیٹ جنرل خواجہ نوید احمد اور سندھ کے سیکریٹری قانون سید غلام نبی شاہ بھی ممبران کے طور پر شامل تھے ۔ختم کرائے جانے والے مقدمات میں متحدہ قومی مو ومنٹ کے مرکزی رہنماؤں الطاف حسین، فاروق ستار، وسیم اختر اور دیگر کارکنان و رہنماؤںکے مقدمات شامل تھے ۔متعدد قانونی ماہرین نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ قانونی لحاظ سے مقدمات دو نوعیت کے ہوتے ہیں ایک قابل رضامندی (compoundable) اور دوسرے ناقابل رضامندی (non-compoundable) قتل ، اقدام قتل قابل رضامندی مقدمات تو ضرور ہیںلیکن ان مقدمات کے خاتمے کیلئے متاثرہ فریق کی رضامندی ضروری ہے ۔قتل کے مقدمے کو مقتول کے ورثاء کے سوائے حکومت یا ریاست کسی طور پر معاف نہیں کرسکتی ہے جبکہ چوری، ڈکیتی ، اغواء، دہشت گردی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے مقدمات بھی ناقابل رضامندی مقدمات کے زمرے میں آتے ہیں جنہیں معاف کرنے کا حق مقدمے کے متاثرہ فریق سے لیکر کسی کو بھی نہیںہوتا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق متحدہ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے کیس ختم کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی سنگین بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔


جمعرات، 5 نومبر، 2009

تسیں خوش ہوجاؤ

لو جی این آر او پارلیمنٹ میں نہیں پیش کیا گیا۔ 
وجہ؟
ملاحظہ کریں

پس ثابت ہوا کہ جماعت اسلامی والے اتنے طاقتور ہیں۔ :D

منگل، 3 نومبر، 2009

بھارتی اسلحہ؟

ہمارے میڈیا کو شاید عادت ہوگئی ہے بغیر ثبوت کے دعوے کرنے کی اور ہمیں بھی شاید ان کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرلینے کی عادت ہوگئی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بھارت ہماری اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کررہا لیکن مجھے اس تصویر اور اس کے کیپشن پر اعتراض ہے۔ 
 
 
مجھے اصل میں اس تصویر میں "بھارتی اسلحے" کا کوئی ثبوت نظر نہیں آرہا۔ آپ کو آرہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس تصویر کا کیپشن یہ کیوں دیا گیا ہے؟ صرف جذبات بھڑکانے کے لیے؟

پیر، 12 جنوری، 2009

حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55 کروڑ 48 لاکھ 42 ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے

پشاور ۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55کروڑ 48لاکھ 42ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ جس میں ایک ارب16کروڑ58لاکھ62ہزار روپے پٹرولیم لیوی(ایل ای وائی)اور 38کروڑ89لاکھ79ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں صارفین سے وصول کئے جا رہے ہیں۔جبکہ حکومت نے نئی پیٹرولیم پالیسی کا اعلان بھی کردیا ہے جس کے تحت اب پندرہ روز کے بجائے مہینے کے مہینے کو قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے پٹرولیم منصوعات کو زیادہ سے زیادہ ریونیو وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔مصنوعات پر ملک میں پہنچ درآمدی قیمت سے دوگنے ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں ۔حکومت یکم جنوری سے پندرہ جنوری 2009ء تک مجموعی طور پر 23ارب32کروڑ26لاکھ34ہزار روپے وصول کرے گی جس میں 17ارب48کروڑ79لاکھ38ہزار روپے پٹرولیم لیوی اور پانچ ارب83کروڑ46لاکھ96ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں ہوں گے ۔اوگرا فارمولے کے مطابق پٹرول کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 20.83روپے فی لٹر ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.66روپے فی لٹر،لائٹ ڈیزل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت 28.29روپے جبکہ ریٹل قیمت 48روپے ،مٹی کے تیل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت30.70روپے جبکہ ریٹیل قیمت51.87روپے فی لٹر،ہائی اوکٹین کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 22.99روپے جبکہ ریٹیل قیمت 72.08روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ملک پہنچ درآمدی قیمت 32.59روپے ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.14روپے فی لٹر ہے ۔حکومت فی لٹر پٹرول پر 35.27روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں 27.32روپے پٹرول لیوی اور 7.95روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر مٹی کے تیل پر 20.10روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.92روپے پٹرول لیوی اور 7.15روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی سپیڈ ڈیزل پر 23.56روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 15.68روپے پٹرول لیوی اور 7.88روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر لائٹ ڈیزل پر 18.72روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.10روپے پٹرول لیوی اور 6.62روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی اوکٹین پر 47.36روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 37.43روپے پٹرول لیوی اور 9.94روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط یومیہ کھپت چار کروڑ41لاکھ59ہزار816لٹر ہے جس میں پٹرول کی یومیہ کھپت اکتیس لاکھ20ہزار213لٹر ،مٹی کے تیل کی پانچ لاکھ77ہزار792لٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی ایک کروڑ98لاکھ54ہزار179لٹر،لائٹ ڈیزل کی تین لاکھ 75ہزار888لٹر اور ہائی اوکٹین کی دو کروڑ2لاکھ31ہزار744لٹر ہے ۔حکومت پٹرول پر یومیہ گیارہ کروڑ49ہزار912روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں آٹھ کروڑ52لاکھ44ہزار219روپے پٹرول لیوی اور دو کروڑ48لاکھ5ہزار693روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔یکم جنوری سے پندرہ جنوری تک حکومت کو پٹرول پر ایک ارب 65کروڑ 7لاکھ48ہزار680روپے وصول کرے گی۔مٹی کے تیل پر یومیہ ایک کروڑ16لاکھ13ہزار618روپے کا ریونیو حاصل کیا جا رہا ہے جس میں 74لاکھ82ہزار406روپے پٹرولیم لیوی اور 41لاکھ31ہزار212روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔مٹی کے تیل پر سترہ کروڑ42لاکھ4ہزار282روپے کا ریونیو وصول کرے گی۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر یومیہ 46کروڑ77لاکھ64ہزار 456روپے کا ریونیہ وصول کیا جا رہا ہے جس میں 31کروڑ13لاکھ526روپے پٹرولیم لیوی اور پندرہ کروڑ64لاکھ50ہزار930روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر سات ارب ایک کروڑ64لاکھ66ہزار848روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔لائٹ ڈیزل پر یومیہ ستر لاکھ36ہزار622روپے کا ریونیووصول کیا جا رہا ہے جس میں 45لاکھ48ہزار244روپے پٹرول لیوی اور 24لاکھ88ہزار378روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔لائٹ ڈیزل پر مجموعی طور پر دس کروڑ55لاکھ 49ہزار338روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔ہائی اوکٹین پر یومیہ 95کروڑ83لاکھ77ہزار712روپے کا ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 75کروڑ72لاکھ74ہزار177روپے پٹرولیم لیوی اوربیس کروڑ11لاکھ3ہزار535روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں۔ہائی اوکٹین پر مجموعی طور پر چودہ ارب37کروڑ56لاکھ65ہزار کا ریونیو وصول ہو گا۔


ماخذ

پیر، 8 دسمبر، 2008

پاکستان کے سینکڑوں سکالرزکو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو فنڈز اور سہولیات فراہم  کرنے والے کمیشن  ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مالی بحران کے پیش نظر رواں سال غیر ملکی سکالرشپس حاصل کرنے والے سینکڑوں سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے سے روک دیا، تمام سکالرز کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، سینکڑوں طلباء اعلیٰ کارکردگی، ٹیسٹ، انٹرویو کے بعد ایچ ای سی کی بیرون ملک ایم اے، ایم فل کی سکالرشپ حاصل کرنے کیلئے منتخب ہوئے تھے اور چند دنوں میں بیرون ملک روانہ ہونا تھا لیکن مالی طور پر غیر مستحکم ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سکالرز کو اپنے پروگرام ملتوی کرنے کے بارے آگاہ کر دیا کیونکہ ایچ ای سی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلباء کی مالی امداد نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق چند سکالرز نے عید کے فوراً بعد سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہونا ہے جبکہ اٹلی، جرمنی اور فرانس کی سکالرشپ حاصل کرنے والے درجنوں طلباء نے ضروری قرار دیا جانے والا چھ ماہ کا لینگجویجز کورس بھی مکمل کر لیا۔ ایچ ای سی کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں میں مالی بدعنوانیوں اور من پسند اداروں کو اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کی وجہ سے سکالرشپ پر جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا۔

ایچ ای سی کے اعلیٰ افسر کے مطابق ادارہ بمشکل پہلے سے بیرون ملک بھیجے جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی نے مالی بحران کی وجہ سے مستقبل میں بھی تمام سکالرشپس کے پروگرامز اور دو سو پچاس مختلف اکیڈیمک اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی منسوخ کر دیئے ہیں اس وقت ایچ ای سی کو دس ارب روپے کے شدید مالی بحران کا سامنا ہے

القمر پر فائل ہونے والی یہ خبر بلاتبصرہ

جمعہ، 28 نومبر، 2008

لوڈ شیڈنگ پھر سے: اوقات پر واپسی مبارک

ایک مہینہ لگژریز میں گزارنے کے بعد پاکستانی قوم کو اس کی اوقات میں واپس لانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بسم اللہ چالیس فیصد اضافہ نفی تیرہ فیصد اضافہ شدہ بجلی کے بل بھیج کر کردی گئی ہے۔ اس کے بعد دوسرا مصرع ڈیموں میں پانی کی کمی کی صورت میں ادا ہوا ہے۔ مزید غزل ابھی جاری ہے جس کی پہلی قسط میں ایک تھرمل پاور پلانٹ کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بندش کی خبر شامل ہے۔ یہ پاور پلانٹ یقینًا آئی پی پی ہے اور اس کی بندش کی نامعلوم وجوہات میں سرفہرست تیل کی عدم فراہمی ہوگی۔ دوسری غیر اہم وجوہات میں ٹرانسمشن سسٹم کی خرابی بھی ہوسکتی ہیں۔ ابھی آپ مزید اوقات میں آنے کے لیے تیار رہیے اور بھیک میں ملی ہوئی قرضے کی پہلی قسط کو بھول جائیے۔ وزرا مشراء اور وڈے لوگوں کی تنخواہیں کٹنے کے بعد کچھ بچ گیا تو ان کی حفاظت کے اخراجات پر لگ جائے گا۔ اس سے بھی کچھ بچ گیا تو بیوروکریسی بھی پڑی ہے راہوں میں۔ اس کے بعد شاید آپ کی باری آسکے۔ لیکن آپ کی باری کیا آئے گی ان پیسوں سے تیل تو خریدا نہیں جاسکتا، چناچہ اگلا ایک مہینا اپنی اوقات میں رہ کر گزاریے۔

انجوائے لوڈ شیڈنگ و بے روزگاری۔

اتوار، 2 نومبر، 2008

کون کہتا ہے اردو یتیم ہے

علوی امجد خدا کرے تمہاری دنیا اور آخرت ایسے سنورے کہ دیکھنے والے رشک کریں۔ بخدا میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس بندے کی تعریف کرسکوں، میرے پاس شکریے کے الفاظ نہیں، جو کام اس بندے نے کردیا ہے وہ اردو کے لیے صدیوں پر محیط ایسی چھلانگ ہے جو اسے کہاں سے کہاں پہنچا دے گی۔ اب کوئی طعنہ نہیں دے سکے گا کہ اردو والے اردو کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ جب تک ہم میں علوی امجد جیسے سپوت موجود ہیں اردو مر نہیں سکتی، بخدا اردو زندہ رہے گی اور اپنے مخالفین کے سینوں پر مونگ دلتی رہے گی۔ علوی امجد اور علوی نستعلیق زندہ باد۔


اگر آپ نے ابھی تک علوی نستعلیق اتار کر انسٹال نہیں کیا تو کتنی بڑی نعمت سے محروم ہیں آپ۔ ارے ابھی اتاریں، انسٹال کریں اور میرے بلاگ کا فائرفاکس میں مزہ لیں خالص اردو رسم الخط کے ساتھ، نستعلیق میں اسی نستعلیق میں جس کے آپ اخباروں، رسالوں اور تصویری اردو کی ویب سائٹس پر عادی ہیں۔ اب یہ سب کچھ ممکن ہے۔


انشاءاللہ یہ ابتدا ہے۔ ابھی ایسے کئی نستعلیق میدان میں اتریں گے اور دنیا اردو کا عروج انٹرنیٹ پر دیکھے گی۔


علوی امجد اور امجد نستعلیق کی بنیاد بننے والے خط رعنا فونٹ کے خالق فاروق سرور خان کا بہت شکریہ۔ اللہ ان کے دو جہانوں کو سنوار دے انھوں نے اردو کو سنوار دیا۔


یہ فونٹ لینکس پر ونڈوز سے بھی پیارا لگ رہا ہے۔ اوبنٹو پر فائرفاکس 3 میں مجھے ابھی تک کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا جبکہ ونڈوز پر فائرفاکس میں ہی اردو محفل کے نیویگیشن بار کے روابط اوپر نیچے نظر آرہے تھے۔

جمعہ، 17 اکتوبر، 2008

پٹرولیم پر ٹیکس

پچھلے دنوں ایک پوسٹ میں پٹرولیم پر حکومتی ٹیکس کا ذکر کیا تو بدتمیز نے تبصرے میں کہا کہ حکومت اتنا ٹیکس نہیں لے رہی۔ آج جنگ میں یہ خبر پڑھی تو سوچا شئیر کرتا چلوں۔




کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی11 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پرکمی کے باوجود حکومت نے وعدے کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس وصولی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ 16 اکتوبرکو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کی بجائے انہیں سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹیکس کی شرح بڑھا دی ہے۔ 15 اکتوبرکے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر16 فیصد کی شرح سے 10.94 روپے فی لیٹر سیلز ٹیکس اور33 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پی ڈی ایل وصول کررہی ہے۔ اس طرح ڈیزل پر ٹیکس کی شرح 11 روپے سے بڑھ گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل پر یہ شرح 13.55 روپے فی لیٹر ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کے ایک لیٹر پر عائد پی ڈی ایل کی شرح 25.12 فی لیٹرکردی گئی ہے جوکہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول پر آج تک عائد ہونے والی پی ڈی ایل کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ پیٹرول پر 11.26 روپے کے سیلز ٹیکس کو شامل کرنے سے ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکس کی شرح 36.38 روپے تک جا پہنچی ہے اگر اس میں کسٹمز ڈیوٹی کو شامل کیا جائے تو یہ40 روپے فی لیٹر سے بھی بڑھ جائے گی۔ ایچ او بی سی پر حکومت نے پی ڈی ایل کی شرح 23.37 روپے سے بڑھاکر30.51 روپے فی لیٹرکردی ہے۔ سیلز ٹیکس کے ساتھ ایچ او بی سی پر ٹیکس کی شرح 43.76 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ یہ شرح 50 روپے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم سیکٹر سے اس بڑے پیمانے پر ٹیکس وصولی کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے سبسڈی دے رہی ہے۔


اتوار، 12 اکتوبر، 2008

ایچ ای سی یتیم ہوگیا

مشرف کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف ہو لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خودمختاری دے کر اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کو اس کا چئیر مین بنا کر اس نے اچھا کام کیا تھا۔ آٹھ سال تک اس ادارے کے بجٹ میں کٹوتی نہیں ہوئی، ہونے لگی تو مشرف نے دوسرے ذرائع سے پوری کروائی۔ لیکن اب ڈاکٹر صاحب مستعفی ہوگئے ہیں اور کوئی لغاری صاحب اس کے چئرمین بن گئے ہیں۔ اب اس ادارے کا مستقبل بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسا ہی ہوگا۔ بجٹ میں کٹوتیاں پہلے ہی جاری ہیں جو مزید بھی جاری رہیں گی۔

اس پر کئی اعتراضات بھی تھے کہ اعلی تعلیم پر توجہ دے کر بنیادی تعلیم کو نظر انداز کردیا گیا۔ فنڈز گویا لٹائے گئے۔ لیکن یہ اپنی طرز کی ایک منفرد کوشش تھی جس میں لوگوں کو ڈاکٹریٹ اور ایم فل کے لیے زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سکیم کے تحت ہزاروں لوگ زیر تعلیم ہیں۔

اب دیکھیے اعلی تعلیم کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔

منگل، 2 ستمبر، 2008

اک "براؤزر" ہور

شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔


حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome


کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔


اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔

جمعرات، 10 اپریل، 2008

اردو کوڈر آنلائن ہے

اردو کوڈر فورم کو ایس ایم ایف پر منتقل کردیا گیا ہے۔ نیا ربط یہ ہے۔ urducoder.com سے ری ڈائرکشن اب نئے ربط پر ہی ہوتی ہے۔


شاکر القادری صاحب کا شکریہ انھوں نے باوجود تکلیف میں ہونے کے پی ایچ پی بی بی 3 کا اردو پیکج بھی جاری کردیا لیکن میں نے جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قدیر، محب اور نبیل کے مشورے کو مدنظر رکھا۔ پرانے فورم کا ڈیٹا کامیابی سے منتقل کرلیا گیا ہے لیکن کچھ نہ کچھ ڈیٹا ضائع ضرور ہوا ہے جس کا ثبوت آنے والے کچھ ایررز تھے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ غیر اہم قسم کا ڈیٹا ہوگا۔ اراکین فورم سے درخواست ہے اگر وہ کسی بھی قسم کی مشکل پائیں تو مجھ سے رابطہ کریں اور میں آگے رابطہ کروں گا ;) :D


استعمال کریں اگر یہ کام نہ کرے تو پی ایچ پی بی بی 3 تو ہے ہی۔

بدھ، 19 مارچ، 2008

اوپن سورس کی حکمت عملی

میں پچھلے کچھ دنوں سے اس بارے میں پڑھ رہا ہوں سوچا آپ سے شئیر کرتا چلوں۔ رات الف نظامی سے بات ہوئی تو کہنے لگے تقسیم کرو اور فتح کرو کی پالیسی پر چلو۔ انھوں نے تو یہ سی شارپ سیکھنے کے تناظر میں کہا تھا لیکن میں اسے اوپن سورس کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔

آزاد مصدر پراجیکٹس زیادہ دیر نہ چل سکنے کے سلسلے میں خاصے بدنام ہیں۔ اکثر پراجیکٹ جو بہت مشہور ہوئے ان کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اچھی سپانسر شپ حاصل ہے اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ایک اور چیز جو میں نے ان مقبول پراجیکٹس کے بارے میں نوٹ کی وہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سہولیات ہیں۔ غضب خدا کا آپ کو ہر چیز کا حل مل جاتا ہے۔ اب فائر فاکس کو ہی لے لیں اضافتوں کے نام پر آپ فائر فاکس کو جانے کیا کیا روپ دے سکتے ہیں۔ ایف ٹی پی ٹرانسفر کی سہولت، اس میں بیٹھ کر بلاگ لکھیں، آنلائن بک مارکس محفوظ کریں اور جانے کیا کیا۔۔

یہ اضافتوں والا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ آپ پروگرامر کو ایک حد تک اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ سافٹویر میں قابل تبدیلی اضافے کردے۔ اس حکمت عملی کی کامیاب مثالیں فائر فاکس اور ورڈپریس ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اب کئی دوسرے پراجیکٹس بھی اس طرف آرہے ہیں۔ اوپن آفس مشہور زمانہ آزاد مصدر آفس پروگرام ہے۔ یہ پچھلے کچھ عرصہ سے اضافتوں کے سلسلے میں آگے آرہا ہے ۔اگرچہ یہ ابھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن اوپن آفس 3 جو کہ ستمبر اکتوبر کے قریب مارکیٹ میں آرہا ہے میں اضافتوں کے لیے اچھا فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اس سے اوپن آفس میں بہت زیادہ سہولیات میسر آجائیں گی۔ اس وقت اوپن آفس میں بہت سی چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں جو اس کے کمرشل متبادل مائیکروسافٹ آفس کے پانچ سال پرانے ورژنز میں بھی ہیں۔ عام سی مثال ایک عدد کلپ بورڈ ٹول ہے جو آپ کو فعال ہونے پر 24 کاپی کرنے کی اجازت دیتا ہے جنھیں آپ ترتیب وار ایسے ہی ورڈ فائل میں پیسٹ کرسکتے ہیں۔

مونو اور مونو ڈویلپ آج کل میرےعشق میں شامل ہیں اور میں سوتے میں بھی ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ایک الگ داستان ہے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ مونو ڈویلپ بھی پلگ انز کی طرز پر خصوصیات اور فیچرز میں اضافے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت اگرچہ اس کے پلگ ان نوویل کے ہی تیار کردہ ہیں لیکن مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ایویں کھیڈ تماشے کے لیے اس کے پلگ ان تشکیل دے دیا کریں گے۔

جمعرات، 28 فروری، 2008

اوبنٹو کی دو خبریں

اوبنٹو نے برین سٹارم کے نام سے اپنی ایک سائٹ لانچ کی ہے۔ یہاں اوبنٹو کے صارفین اپنے محبوب آپریٹنگ سسٹم کے لیے نئی تجاویز دے سکیں گے۔ یہ تجاویز کسی عمومی بگ رپورٹ سے لے کر نیا فیچر متعارف کروانے تک ہوسکتی ہیں۔ پہلے سے موجود تجاویز پر آپ اثبات یا نفی میں ووٹ دے سکتے ہیں اور اس پر تبصرہ بھی کرسکتے ہیں۔ میں نے اپنا کھاتہ درج کروا کے ہائبر نیٹ والے آپشن کی خرابی والی تجویز میں اثبات کا ووٹ ڈال دیا ہے۔ آپ کے پاس بھی اگراوبنٹو کے بارے میں کوئی ایسا آئیڈیا ہے جسے سن کر دنیا پھڑک اٹھے تو اسے اوبنٹو برین سٹارم پر دوسروں ساتھ شئیر کیجیے۔

فُل سرکل اوبنٹو لینکس کا ترجمان ایک ای میگزین ہے۔ اس میں اوبنٹو لینکس کے مختلف ذائقوں، اس کے بارے میں ٹیوٹوریل اور خبریں وغیرہ شئیر کی جاتی ہیں۔فل سرکل کا شمارہ نمبر 10 منظر عام پر آچکا ہے اپنی کاپی اتاریں اور پڑھیں۔ 

بدھ، 27 فروری، 2008

KubuntuKDE4 Alpha

کے اوبنٹو ہارڈی ہیرون 8.04 اپریل میں منظر عام پر آرہا ہے۔ اس کے دور ورژن ہونگے اس بار۔ ایک کیڈی 3 کے ساتھ اور ایک کیڈی چار کے ساتھ۔ موخر الذکر تجارتی بنیادوں پر سپورٹ شدہ نہیں ہوگا۔ اسے صرف کمیونٹی کی سپورٹ حاصل ہوگی۔ لیکن کے ڈی ای کے چاہنے والے کہاں یہ دیکھتے ہیں۔ یہ دیکھیے کے ڈی ای چار کے ساتھ کیا سکرین شاٹ ہے اس کے الفا ورژن کی۔ اگرچہ ابھی تک کے ڈی ای 4 سٹیبل نہیں اس میں بہت سی چیزیں درست ہونے والی ہیں لیکن امید کرتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں کے ڈی ای چار پوری آب و تاب کے ساتھ 3 کی جگہ لے لے گا۔

پیر، 24 دسمبر، 2007

ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بی‌ٹا کا اجراء

ویکیا ایک اوپن سورس تلاش گر کا نام ہے۔ تلاش گری یعنی سرچ انجن کے میدان کا بادشاہ گوگل ہے۔ کبھی یاہو اور الٹا وسٹا کا نام بھی اسی ضمن میں بہت اونچا تھا آجکل لوگ ان کی طرف کم کم ہی جاتے ہیں۔ تلاش گری میں مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز لائیو سرچ کی صورت میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے لیکن گوگل کو ان پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔

جمعرات، 20 دسمبر، 2007

گوگل ٹاک میں اب زبانوں کے مابین ترجمہ

اگرچہ یہ خبر اوپن سورس سے متعلق نہیں لیکن مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بارے میں‌ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی سہولت سے ایک زمانہ واقف ہے اور رزانہ لاکھوں‌ یا شاید کروڑوں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اب تو گوگل نے عربی انگریزی ترجمے کی سہولت بھی دینی شروع کردی ہے۔ شاید کسی دن اردو انگریزی کی سہولت بھی میسر آجائے۔ خیر خبر یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی طرح ترجمہ کرنے کی یہ سہولت اب گوگل ٹاک میں‌ بھی دستیاب ہوگی۔ یعنی آپ انگریز ہیں اور آپ کا چیٹ‌ کرنے والا دوست چینی تو بھی آپ دونوں اپنی زبانوں یعنی انگریزی اور چینی میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو کنورسیشن میں‌ ترجمہ کرنے کے لیے ایک عدد گوگل بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ جیسے انگریزی سے چینی میں ترجمے کے لیے یہ بوٹ شامل کرنا ہوگا:‌en2zh@bot.talk.google.com۔ اسی طرح چینی سے انگریزی میں ترجمے کے لیے بھی ایک عدد بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ آپ کے چینی دوست کا پیغام انگریزی ترجمہ کرنے والے بوٹ‌ کے پاس جائے گا اور پھر چیٹ ونڈو میں آپ کو انگریزی میں ترجمہ ہوکر دکھائی دے گا۔ یہی حال انگریزی سے چینی ترجمہ کرنے والا بوٹ آپ کی انگریزی کا کرے گا۔ ونڈو ملاحظہ کیجیے۔ ترجمہ صرف انگریزی سے غیر انگریزی زبان میں نہیں بلکہ دو غیر انگریزی زبانوں‌ کے لیے بھی دستیاب ہوگا جیسے فرنچ اور ہسپانوی زبانیں‌ وغیرہ۔ زبانوں‌ کے ترجمے کے لیے متعلقہ بوٹس کے کوڈز یہاں‌‌ سے حاصل کریں۔

جمعرات، 13 دسمبر، 2007

چین میں‌ لینکس مارکیٹ

چین میں 2003 سے 2006 کے دوران لینکس کی مارکیٹ بیس ملین ڈالر کے حساب سے بڑھی ہے۔ اگر اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو لینکس ڈیکسٹاپ سافٹویر کی مارکیٹ سولہ فیصد سے بارہ فیصد پر آچکی ہے۔ لیکن سی سڈ کنسلٹنگ کے مطابق اس سال کی تیسری سہ ماہی میں لینکس ڈیسکٹاپ سافٹویر کی فروخت 25.1 فیصد بڑھی ہے۔
چینی حکومت کی سافٹویر قذاقی کے خلاف مہم نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں دو قانون پاس کیے تھے جن کے مطابق حکومتی ادارے اور مقامی حکومتیں چوری شدہ ملکیتی سافٹویرز کی جگہ اب کم قیمت لینکس سافٹویر استعمال کررہی ہیں۔ حکومت نے کم قیمت لینکس ڈیسکٹاپ پر اپنا خرچ بھی بڑھا دیا ہے۔ پچھلے سال یہ مہم صرف بڑے شہروں اور وہاں کی مقامی حکومتوں تک محدود تھی لیکن اب یہ گاؤں اور قصبوں تک پھیل گئی ہے۔ اس وقت حکومت لینکس سافٹویر مارکیٹ کے ایک چوتھائی کی خریدار ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ چین کے اپنے بنائے گئے ریڈ فلیگ لینکس کا ہے۔
انڈسٹری کے صارفین جیسے ہوٹل، لاٹری سیلر اور ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں نے بھی اس سال لینکس ڈیسکٹاپ کے سلسلے میں اپنے فنڈز کو بڑھا دیا ہے۔سی سی ڈبلیو ریسرچ کے مطابق چین کی ہوٹل انڈسٹری کے آنلائن کاروبار نے اس سال 30 فیصد سے زیادہ ترقی کی ہے جس نے یہاں کمپیوٹرز اور سستے لینکس سافٹویرز کی کھپت کو بڑھا دیا ہے۔
چین میں اکثر کمپیوٹرز لینکس کی تنصیب کے ساتھ فروخت کئے جارہے ہیں جن کی وجہ سے لینکس کا مارکیٹ میں حصہ مزید بڑھ جائے گا۔ لیکن اس سارے عمل کا تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ صارفین کمپیوٹر خریدنے کے بعد لینکس کو اڑا کر ونڈوز کا چوری شدہ ورژن نصب کرلیتے ہیں۔ کمپیوٹر فروخت کرنے والے بھی صارفین کو لینکس اڑا کر ونڈوز کا چوری شدہ ورژن انسٹال کردیتے ہیں۔ دوسری طرف مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز کی قمیتیں چین میں بہت کم کردی ہیں جو قریبًا لینکس کمپنیوں کی سروس فیس کے برابر ہیں۔ چناچہ لوگ ونڈوز کو استعمال کرنا زیادہ پسند کررہے ہیں۔ تاہم یہ لینکس کی فتح ہے کہ مائیکروسافٹ کو اپنی پراڈکٹس کی قمیتیں کم کرنا پڑی ہیں۔

جمعہ، 7 دسمبر، 2007

ایران کا سپر کمپیوٹر اور اے ایم ڈی

کمپیوٹر ورلڈ کی ایک خبر کے مطابق ایرانیوں نے اپنے ایک تحقیقاتی مرکز میں چھوٹا موٹا کلسٹر کمپیوٹر بنا لیا ہے۔ گیگا فلوپس کی حد میں آنے والا یہ سپر کمپیوٹر بقول ایرانیوں کے اے ایم ڈی کے آپٹرون پروسیسرز کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس میں آپریٹنگ سسٹم کے طور پر لینکس کو استعمال کیا گیا ہے۔ ایرانی بھی عجیب لوگ ہیں اب امریکہ بہادر میں پسوڑی پڑی ہوئی ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران کو امریکی کمپنی نے کس طرح ٹیکنالوجی مہیا کردی۔ ادھر اے ایم ڈی حریان و پریشان ہے کہ میرے نال بنی کی۔۔۔
ایران والے ویسے بھی پراپیگنڈے میں خاصے ماہر ہیں اور میزائل، جنگی کشتیاں اور اب جنگی طیارے بھی اپنے ہاں ہی "بنا" رہے ہیں۔ اب رب جانے یا ایران والے جانیں کہ یہ بھی ایران کے پروپیگنڈے کا ہی حصہ ہے یا سچ مچ میں کچھ کام ہوا ہے۔ کمپیوٹر ورلڈ والوں کو کچھ کچھ شک ہوا ہے کہ شاید ایران کے اس تحقیاتی مرکز کی فوٹو گیلری میں موجود تصویریں یو اے ای کی طرف کوئی اشارہ کررہی ہیں۔
ہمیں بہرحال خوشی ہے کہ ایران نے مغرب کو پسوڑی پائی ہوئی ہے۔ اور دعا ہے کہ یہ خبر سچ ہی ہو۔ ان کے مطابق اسے موسمیاتی پیش گوئیوں وغیرہ میں استعمال کیا جائے گا۔

سورس فورج مارکیٹ‌ پلیس

سورس فورج کو انٹرنیٹ کی بڑی ویب سائٹوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے ایک دعوے کے مطابق اس وقت قریبًا سترہ لاکھ صارفین ان کے پاس مندرج ہیں۔ سورس فورج کی بنیادی خاصیت اس کی وہ خدمات ہیں جو یہ اوپن سورس پراجیکٹس کی ہوسٹنگ کی صورت میں فراہم کرتی ہے۔ سورس فورج پر ان کے بقول اس وقت ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پراجیکٹس رجسٹر ہیں۔
اس سال مئی سے سورس فورج ایک بی ٹا سروس چلا رہی تھی۔ کبھی آپ سورس فورج پر گئے ہوں تو کسی بھی پراجیکٹ سے فائل اتارنے والے صفحے پر Get Support For xxx کا آئکن بھی نظر آتا ہوگا۔ میں بھی ایک عرصے تک اس بارے میں حیران ہوتا رہا ہوں۔ بہرحال اب سورس فورج نے اس سروس کو آزمائشی بنیادوں سے نکال کر آفیشلی جاری کردیا ہے۔ اسے سورس فورج مارکیٹ پلیس کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے چہرے و انداز کی بدولت سورس فورج اب اوپن سورس سافٹویرز کی مفت میں میزبانی کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت میں بھی حصہ لےگا اور گاہک و پروفیشنل میں رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ اس وقت مارکیٹ پلیس پر رجسٹرڈ پراجیکٹس کی تعداد 700 کے قریب ہے جس میں بہت تیزی سے بڑھوتری کی توقع کی جارہی ہے۔

بدھ، 5 دسمبر، 2007

سی این آر کا اجراء

لِن سپائر اور فری سپائر کے ڈویلپرز لِن سپائر کارپوریشن نے سی این آر ڈاٹ کوم کا بی ٹا ورژن جاری کردیا ہے۔ یہ ویب 2 پر مشتمل سافٹویر ڈیلیوری سروس ہے جو دنیا بھر کے لینکس صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے۔ اس سروس کا مقصد ڈیبین اور آر پی ایم بیسڈ لینکس سسٹمز کے لیے سافٹویر کا حصول اور ان کی تنصیب آسان بنانا ہے۔ سی این آر کا یہ نیا اور مفت ورژن فی الحال فری سپائر 2، لِن سپائر 6، اوبنٹو 7.04 اور 7.10 کے لیے دستیاب ہے۔ جلد ہی اس کی معاونت مقبول لینکس ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردی جائے گی جیسے ڈیبین، فیڈورا، سوسی وغیرہ وغیرہ۔
یاد رہے سی این آر لِن سپائر کی کمرشل سافٹویر سروس تھی۔ لیکن فری سپائر کے اجراء کے بعد انھوں نے اسے فری سپائر میں بھی متعارف کروایا۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے ایک سافٹویر بنام سی این آر کلائنٹ فری سپائر کے ورژن 1.0 میں موجود تھا۔ لِن سپائر نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملکیتی مال کی جگہ سی این آر کا آزاد مصدر اور مفت ورژن ڈویلپ کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ فری سپائر 2 سے اسے اوبنٹو بیسڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی لِن سپائر اوبنٹو کو لے کر اس کے مواجے میں کچھ تبدیلیاں کرکے(فری سپائر کا طےشدہ ڈیسکٹاپ مواجہ کیڈی پر مشتمل ہے) اور کلوزڈ سورس ڈرائیورز و پلگ انز ڈال کر اسے فری سپائر کے نام سے جاری کرتا ہے۔ لِن سپائر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سی این آر اوبنٹو کے لیے جلد ہی دستیاب ہوگا اور اب اسے سب سے پہلے اوبنٹو کے لیے ہی جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسری ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔ ایک عام صارف کے لیے لینکس میں سافٹویر انسٹال کرنا اچھا خاصا درد سر ہوتا ہے۔ چونکہ اس کام کے لیے کئی پیکج مینجمنٹ سسٹم ہیں۔ ڈیبین کا .deb اور ریڈ ہیٹ و فیڈورا پر مشتمل ڈسٹروز کا .rpm اور تو اور مینڈریوا کا اپنا الگ ہی پیکج سسٹم ہے۔ پیکج لینکس میں ایگزی فائل کی طرح ہی ہوتے ہیں جو سافٹویر کو انسٹال کرنے کے کام آتے ہیں۔ لینکس دنیا میں ایک عرصے سے کسی ایک پیکج مینجمنٹ سسٹم پر اتفاق کے سلسلے میں متفق ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے نظام جاری بھی کیے گئے ہیں جو ڈسٹرو سے آزاد ہوتے ہیں یعنی ایسے فارمیٹ میں موجود سافٹویر کسی بھی ڈِسٹرو میں انسٹال ہوسکتا ہے۔ سی این آر بھی اسی سلسلے کی ایک منظم اور مربوط کڑی ہے۔
بحوالہ