بدھ، 22 دسمبر، 2010

تُک بندی

بہت عرصے بعد ایک نشست میں بیٹھ کر کچھ تُک بندی کی ہے۔ حسب معمول کسی بھی بحر پر پوری نہیں اترے گی، تاہم تمام مصرعے ہم وزن کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ سمجھ لیں دل سے ڈائرکٹ بلاگ پر لینڈ ہوئے ہیں یہ لفظ۔
تم پاس رہو تو کیا ہے
تم آس رہو تو کیا ہے
پاگل سے بے کل اس من کی
تم پیاس رہو تو کیا ہے
بے روح سے تن میں بن کر
احساس رہو تو کیا ہے
اس عام سے انساں کے لیے
تم خاص رہو تو کیا ہے
کچھ راس نہیں ہے مجھ کو
تم راس رہو تو کیا ہے

ہفتہ، 18 دسمبر، 2010

لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ

آج محمد علی مکی سے بات ہورہی تھی۔ مکی آج کل اردو لینکس ڈِسٹرو پر کام کررہے ہیں۔ ان سے دوران چیٹ ترجمے کا کام، اس کی دیکھ بھال، اردو برادری کی حالت زار اور مستقبل کے نقشے پر کچھ بے معنی بکواس سی کی ہے۔ آپ کی نظر ہے۔ اس پر تھنکیں، اور مجھے چاہے نہ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ پنجابی کی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد سے کسی پنجابی کو پکڑ لیں۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا جو آپ کو بتا دے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ خوش رہیں۔
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: ‏‫جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..

ہفتہ، 11 دسمبر، 2010

فینٹیسی (افسانہ؟)

ہمیں آڈیو بُکس کا چسکا نعمان، المعروف نعمان کراچی والے نے لگایا۔ ان کی ایک بلاگ پوسٹ سے ہمیں آڈیو بُک کے بارے میں پتا چلا تھا۔  پہلے پہل ہم نے ہیری پوٹر کو سننے کی کوشش کی۔ حصہ نمبر سات سنا بھی۔ چونکہ باقی حصے پڑھے جاچکے تھے، اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر پڑھے جاچکے تھے اس لیے ساتویں کو سننے پر ہی اکتفا کیا۔ لیکن ہمارا سب سے بڑا پروجیکٹ وہیل آف ٹائم تھا۔
وہیل آف ٹائم آنجہانی رابرٹ جارڈن نے 1990 کے عشرے میں لکھنی شروع کی تھی۔ اس کی کوئی دس کے قریب کتابیں لکھ کر موصوف مرحوم ہوگئے۔ بیس سال کے عرصے میں دس کتابیں۔ کوئی حال نہیں ویسے اس مصنف کا بھی۔ خیر ہم نے سرچ وغیرہ ماری، پتا لگا کہ کہانی مزے دار ہے اور مصالحے دار بھی۔ ہمارے لیے مصالحے دار کہانی یہ ہوتی ہے کہ کوئی نئی دنیا ہو اور ہیرو کے پاس ڈھیر ساری طاقتیں ہوں۔ یہاں ہیرو کے پاس سب کچھ تھا اور دنیا بھی مصنف کے اپنے ذہن کی تخلیق۔ چناچہ ہم نے اللہ کا نام لے کر ٹورنٹس کو لگا دیا۔ اور کتاب نمبر صفر کو موبائل میں ڈال کر کانوں سے لگا لیا۔
بس نہ پوچھیں پر کیا گزری ہے ہم پر۔ اس کی دس کتابیں تحریر کردہ از رابرٹ جارڈن اور آخری 3 از برینڈن سینڈرسن، ہر کتاب اپنے اندر ایک نیا جہان۔ ہر کتاب کی آڈیو کوئی 60 گھنٹے طویل۔ اور ہم نے یہ ساری کتابیں بقلم خود سنی ہیں۔ اب آپ تصور کرلیں کہ واش روم میں، کھانا کھاتے ہوئے، شیو کرتے ہوئے، منہ دھوتے ہوئے، حتی کہ نہاتے ہوئے اونچی آواز میں باہر لگا کر ہم اسے سنتے رہے ہیں۔ گھر والے کہنے لگ گئے تھے پُتر کان پک جانے ہیں تمہارے۔ پر سائیں جو سواد آیا ہے، یہ سواد دس سال پہلے دیوتا پڑھ کر ہی آیا تھا۔ جب چوری چوری چالیس کتابیں، باریک لکھائی والی پڑھی تھیں۔ وہ بھی کیا دن تھے، اور یہ بھی کیا دن ہیں۔
ذرا سٹوری پر نظر ڈال لیں۔ وہیل آف ٹائم اصل میں فینٹیسی ناول سیریز ہے جس میں رابرٹ جارڈن نے بہت دور دور کی چھوڑی ہے۔ ہیرو جو ڈریگن کا نیا جنم ہے، اور اس کے کندھوں پر دنیا کو تاریکی والے سے بچانے کی ذمہ داری ہے۔ آخری لڑائی قریب ہے اور پہلے تو ڈریگن رسا تڑوا کر بھاگتا رہتا ہے، اور تاریکی کے دوست اسے پھڑکانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ آخر یہ سیکھ جاتا ہے اور ڈریگن بن جاتا ہے۔ اصلی تے وڈا ڈریگن۔ ڈریگن، اور دوسرے کچھ مخصوص لوگ طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ طاقت آگے پانی، ہوا، آگ، زمین اور روح میں منقسم ہے۔ ان اجزاء کو ملا کر یہ لوگ بنت یا ویو بناتے ہیں، جس سے مختلف کام لیے جاسکتے ہیں۔ جیسے کسی کو اٹھا کر پٹخنا، یا کسی کا علاج کرنا۔ طاقت کے دو حصے ہیں، ایک سائیڈار جسے خواتین ہی استعمال کرسکتی ہیں دوسرے سائیڈین جسے مرد ہی استعمال کرسکتے ہیں۔ پرانے کسی زمانے میں اس طاقت پر ریسرچ کرتے کرتے اس وقت کے محققین نے ایک نئی طاقت کا سراغ پایا۔  اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے جنس کی تخصیص نہیں تھی۔ لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ طاقت اصل میں تاریکی والا، یا شیطان، ہے۔ چناچہ پھر شیطان کے پیروکاروں اور روشنی کے پیروکاروں میں جنگ ہوتی ہے جو کئی سو سال چلتی ہے۔ پھر شیطان کو عارضی طور پر محصور کردیا جاتا ہے لیکن اب اس کی قید کمزور ہورہی ہے، ڈریگن ایک بار پھر سے پیدا ہوا ہے۔ اور کہانی چلتی رہتی ہے ایسے۔
بڑی مزے دار چیز ہے سائیں۔ سن کر دیکھیں کبھی۔ اتنے وسیع  و عریض پلاٹ اور اس افسانوی دنیا کو بڑی خوبی سے تخلیق کیا گیا ہے۔ رابرٹ جارڈن نے ایک ایک تصور پر بڑی وضاحت سے تفصیلات دی ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر آپ کو وہیل آف ٹائم کے کئی ایک وکی اور کمیونٹی سائٹ مل جائیں گی جہاں وہیل آف ٹائم کی دنیا، کرداروں وغیرہ کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

جمعہ، 10 ستمبر، 2010

عید مبارک

بیرون ملک و اندرون ملک آوازِ دوست کے قارئین، احباب اور کرم فرماؤں کو عید کی خوشیاں مبارک۔
اللہ ہم سب پر یہ عید مبارک کردے۔
عید مبارک

منگل، 7 ستمبر، 2010

اردو بلاگز کا ڈیٹا درکار ہے

میں اردو بلاگز کے ڈیٹا پر مشتمل ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا چاہ رہا ہوں۔ یہ ٹیکسٹ آرکائیو کئی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے جیسے اردو کے الفاظ کی فہرست بنانا، لغات کی تیاری وغیرہ۔ اگرچہ اردو بلاگز کا ڈیٹا ٹیکسٹ آرکائیو کا ایک جزو ہوگا، لیکن یہ بہت اہم چیز ہے۔ میری احباب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پبلک پوسٹس کی ایکس ایم ایل فائل مجھے ای میل کریں۔
ورڈپریس پر ایکس ایم ایل میں ایکسپورٹ کرنے کا طریقہ کار۔
بلاگر ایکس ایم ایل ایکسپورٹ
یہ ڈیٹا کسی بھی قسم کے کمرشل، یا ذاتی کام کے لیے استعمال میں نہیں لایا جائے گا سوائے تحقیقی مقاصد کے۔ اور آپ کے بلاگ کا ربط  آپ کی ہر پوسٹ کے ساتھ شامل ہوگا۔
امید کرتا ہوں احباب میری درخواست پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ میں خود ہر بلاگ پر جاؤں اور ایک ایک پوسٹ کھول کر کاپی پیسٹ کروں جس میں بہت وقت لگنے کا امکان ہے، اور اجازت کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔
ای میل اس ایڈریس پر کریں۔
true.friend2004 at gmail.com
مثبت جواب کا منتظر۔

اتوار، 22 اگست، 2010

تازہ ترین

لوگ سیلابوں کو پِٹ رہے ہیں، لاقانونیت کا رونا رو رہے ہیں اور دو بچوں کو زندہ جلا دینے کے واقعے پر سر پیٹ رہے ہیں۔ ہماری اپنی چھوٹی سی دنیا ہے جو آج کل لہروں کی زد میں ہے۔ چار دن قبل ہمارا لیپ ٹاپ بارش میں بھیگ کر ناکارہ ہوگیا۔ اس کا مدر بورڈ اب اگر بیس ہزار کے قریب مل جائے تو سبحان اللہ ورنہ لیپ ٹاپ کسی کام کا نہیں۔ اس کے خراب ہونے سے ایک دن پہلے ہم نے گیارہ بجے رات تک کام کرکے اردو ٹرانسلیشنز کو آنلائن کیا تھا۔ لیکن اب ڈیسکٹاپ پی سی سے صبح شام آنلائن ہونے پر دل نہیں کرتا کہ کچھ اور کیا جائے چناچہ ٹی وی لگا لیتے ہیں یا نیٹ گردی۔
ابھی خبر آئی ہے کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے ایم فِل کے داخلوں کا اعلان کردیا ہے۔ ہم نے اس سمسٹر کے شروع میں بڑے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ تھیسز بھی کرنا ہے اور ایم فِل بھی۔ اب تھیسر ہوجائے گا ایم فِل نہیں ہوسکے گا اس سال کم از کم۔ ابھی تک ہمارے تھیسز جمع بھی نہیں ہوسکا، یہ نہیں کہ لکھا نہیں جاسکا، لکھا ہوا رکھا ہے پچھلے پندرہ دن سے لیکن بورڈ آف سٹدیز کی میٹنگ ہی نہیں ہورہی، ہر بار وی سی طرح دے جاتا ہے۔ یہ ہوگی تو ٹاپک منظور ہوگا اور تھیسز بیرونی ممتحن کو بھیجا جاسکے گا۔ یعنی ہم منہ دیکھتے رہ گئے اس بار۔
ہم جس سکول میں انٹرنشپ کررہے ہیں اس کی تین برانچوں میں سے دو میں کچھ جھگڑا سا بن گیا ہے جس کی وجہ ہم ہیں۔ جس میں ہم تعینات ہیں وہ لوگ ہمیں رکھنا چاہتے ہیں اور مین برانچ کو فوری ایک ٹیچر چاہیے جو آٹھویں کو انگریزی پڑھائے چناچہ وہ ہمیں بلاتے ہیں۔ لیکن یہاں کی پرنسپل اور سینئیر ٹیچر نہیں مانتی۔ یہاں ہم چھٹی کی انگریزی اور ساتھ جیوگرافی، ہسٹری، اسلامیات پڑھائیں گے وہاں شاید انگریزی زیادہ پڑھانی پڑے۔ انگریزی اپنی فیلڈ بھی تو ہے لیکن کچھ کہا نہیں جاتا۔ کس سے کیا کہیں اب کوئی ناراض  ہوگیا تو ایویں جینا دشوار کردے گا، ہم جمعہ جمعہ آٹھ دن کے بھی نہیں ہوئے ابھی اس ادارے میں۔ چناچہ ہاں جی ہاں جی کرتے جاتے ہیں ہر کسی کو۔ عجیب ٹینشن سی بن گئی ہے۔
آخر میں درخواست کہ اگر کوئی دوست IBM Lenovo T61 کا مدربورڈ اپنے اردگرد کی مارکیٹ میں تلاش کرکے ہمیں بتا سکے۔ ہم مشکور ہونگے۔ شاید بیرون ملک سے مدربورڈ کورئیر نہ ہوسکے، بہت مہنگا پڑ جائےگا لیکن کراچی سے تو ہونا چاہیے۔ چناچہ کراچی و لاہور کے دوست بالخصوص اور بیرون ممالک میں بنسے والے دوست بالعموم اس مسئلے پر توجہ فرمائیں، ہمارے لیے یہ اس وقت سیلاب سے بھی زیادہ گھمبیر مسئلہ ہے چونکہ اس لیپ ٹاپ پر یکدم ہی بہت انحصار کرنے لگے تھے ہم، اور بہت کچھ ابھی کرنا ہے اس پر۔ اگر یہ ٹھیک ہوگیا تو۔ اور ہاں پیمنٹ کی فکر نہ کیجیے گا، انشاءاللہ اس قابل ہیں کہ پیمنٹ کرسکیں بس آپ دستیابی سے مطلع کیجیے گا مجھے۔
اور آخر میں اللہ کریم سے گناہوں کی معذرت اور اس کی بے پایاں رحمتوں پر شکر۔ یا اللہ تیرا شُکر ہے میرا ہر سانس تیری رحمت کا محتاج ہے۔ الحمداللہ۔

جمعہ، 30 جولائی، 2010

ڈاکٹر حمید اللہ

وہ دس زبانیں جانتا تھا اور سات زبانوں کا لکھاری تھا۔ اس کی 150 کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور شاید اسلام کا تعارف ہے۔ اس کو 22 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا فرانسیسی میں قرآن کی تفسیر کے ساتھ ترجمہ اس زبان میں کسی بھی مسلمان کی ایسی پہلی کوشش تھی، اور اس کے بعد اس کے قریبًا بیس ایڈیشن شائع ہوئے۔ کتاب مقدس کے اس فرانسیسی ترجمے اور اس کی ان تھک کوششوں نے یورپیوں خصوصًا فرانسیسیوں کو بڑی تعداد میں اسلام کی طرف مائل کیا۔ بہت سے اس تعداد کو تیس ہزار بیان کرتے ہیں جو کہ شاید مبالغہ ہے۔ انھوں نے یورپی جامعات سے دو پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں اور  اپنی زندگی اسلام اور مسلم معاشرے کے لیے وقف کرتے ہوئےعشروں تک درس و تدیس کی۔

جہاں تک احادیث کی بات ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر فرانسیسی میں دو جلدی کتاب لکھنے اور ان ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑی تعداد میں مختلف زبانوں میں تھقیقی مضامین لکھنے کے علاوہ، ان کی عظیم محققانہ دریافت وہ تیرہ سو سال پرانا نسخہ تھا جو احادیث کا ایک مجموعہ تھا۔ انھوں نے اس انتہائی نایاب کتاب کو برلن لائبریری کے اندھیرے کونوں میں دریافت کیا اور اسے روشنی میں لے کر آئے۔

احادیث کے سب سے پہلے لکھے ہوئے مجموعوں میں شمار ہونے والی یہ دستاویز صحیفہ همام بن منیبہ کے طور پر جانی جاتی ہے جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (58 ہجری بمطابق 677 عیسوی) اپنے طلباء کو پڑھانے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس عظیم محقق کا نام جس نے پیرس میں زاہدانہ زندگی گزاری، ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھا۔

میں نے ڈاکٹر حمید اللہ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں اور خصوصًا ان کی کتاب خطبات بہاولپور سے بہت متاثر ہوا، اس کا انگریزی میں ترجمہ  اسلام کی آمد کے نام سے کیا گیا ہے۔ چناچہ دسمبر 2002 میں ان کی موت کی المناک خبر سن کر میں ایک نجی جامعہ میں یہ غم اپنے طلباء کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔ ان کے بارے میں میرے تاثرات حیرت اور لاعلمی سے سنے گئے۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر حمید اللہ جیسے عظیم محقق کو نہیں جانتے تھے، تو میں نے پوچھا کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن کون ہے؟ اب کی بار آواز بہت بُلند اور مشترکہ ہاں تھی۔

ڈاکٹر حمید اللہ 19 فروری 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خلیل اللہ بھی ایک ادیب اور عالم تھے۔ ان کے دادا محمد صبغت اللہ نے 29 عربی، 24 فارسی اور 14 اردو کتابیں لکھیں اور ان کا شمار عظیم علماء میں ہوتا ہے۔ اسلام علم قانون میں ایم اے اور ایل ایل بی کی سند جامعہ عثمانیہ سے 1930 میں حاصل کرنے کے بعد محمد حمید اللہ نے ایم فل کی ڈگری بون یونیورسٹی جرمنی سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے۔ 1935 میں اپنے آبائی شہر آنے کے بعد انھوں نے جامعہ عثمانیہ میں بطور لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر 1948 تک خدمات سرانجام دیں۔

جس سال انڈیا نے ریاست حیدرآباد پر قبضہ کیا، ڈاکٹر حمید اللہ ڈاکٹر یوسف حسین کے ساتھ یورپ چلے گئے تاکہ ریاست کا کیس اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ واپس آتے ہوئے حمید اللہ پیرس میں اس کام کے لیے (جو انھوں نے اپنی بقیہ زندگی سرانجام دیا، یعنی اسلام کی خدمت) ٹھہر گئے۔ پیرس میں انھوں نے نیشنل سینٹر آف سائنٹیفک ریسرچ میں شمولیت اختیار کرلی اور جرمنی، فرانس، ترکی کی جامعات میں بطور گشتی پروفیسر پڑھانا شروع کردیا۔

1949 میں بہت سے علماء کو پاکستانی حکومت کی آئین سازی کے معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ ان علماء میں علامہ محمد اسد اور ڈاکٹر حمید اللہ بھی شامل تھے۔ یہ گہرے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد دونوں پاکستانی بیوروکریسی کی آئیں بائیں شائیں سے تنگ آکر پاکستان سے چلے گئے۔ لیکن پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران، انھوں نے نیک نیتی سے پاکستان کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور کراچی میں ’حیدرآباد کی جلاوطن حکومت‘ قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ اس اقدام کو ہماری وزارت خارجہ نے شرف قبولیت نہ بخشا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ پیرس میں مقیم ہوگئے اگرچہ وہ فرانس کے شہری نہ تھے اور نہ ان کے پاس وہاں کا پاسپورٹ تھا۔ وہ اپنے آخری وقت تک بےوطن رہے۔ درھقیقت ان کو ایک بین الاقوامی پناہ گزین قرار دے دیا گیا تھا، اور اس طرح وہ ہر دیس کے شہری بن گئے۔

انگریزی میں ڈاکٹر صاحب کی تصنیفات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں، دنیا کا پہلا لکھا ہوا آئین، ریاست کا اسلامی رویہ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مسلم خاتون، روزہ کیوں رکھیں؟، حدیث کی سب سے پہلی تدوین اور بہت سی کتب شامل ہیں۔ وہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں کوئی فخر و غرور نہ رکھتے تھے، اگرچہ انھوں نے تن تنہاسات زبانوں میں تھقیقی کام کیا۔ ان کے کچھ تحقیقی کام منفرد نوعیت کے تھے جو پہلے کبھی نہ کیے گئے، جیسا کہ ابتدائی ترین احادیث کا مخطوطہ۔

1980 میں بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ان کے دئیے لیکچرز اسلام کے کچھ بنیادی پہلوؤں اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ فی البدیہہ دئیے جانے والے یہ لیکچرز برسوں کی تحقیق اور دوسرے علم کا فی الواقع آسان زبان میں نچوڑ تھے۔ اردو میں سن کر لکھے جانے والے اور خطبات بہاولپور کے نام سے چھپنے والے یہ لیکچرز دوسری کئی چیزوں کے علاوہ اس بات پر مشتمل تھے کہ قرآن و حدیث کو  کیسے جمع کیا گیا اور ان کی تدوین کی گئی۔

ان کے دوسرے تھقیقی کام فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں ہیں۔

ان کے سائنسی اور تحقیقی کاموں نے مستشرقین اور یورپی قارئین کو اسلام کے ایک مختلف نظارے سے روشناس کروایا جو کہ ان کی بنائی ہوئی اسلام کی یکطرفہ تصویر سے یکسر مختلف تھا، جس میں صوفیانہ رواجوں پر زور، گھومتے درویش اور دیومالائی قسم کے نظریات شامل تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ اپنی تحاریر میں اسلام کے گرد کھڑی دیومالاؤں کو پاش پاش کردیتے ہیں اور قاری کو یہ دکھاتے ہیں کہ اسلام کتنا انسان شناس، سائنسی اور منطقی مذہب ہے۔ وہ اسلام کے ایک خاموش سپاہی اور اسلامی دنیا میں منفرد عالم تھے۔ اگرچہ انھوں نے اسلام اور علم و ادب کی خدمت بہت سارے طریقوں سے کی اور سب سے پہلے لکھے جانے والے احادیث کے مجموعے کی دریافت شاید ان کی خدمات میں سب سے اہم تھی، تاہم انھوں نے طبع زاد عربی تصانیف کی تدوین، ترجمہ اور اشاعت بھی کی اور انھیں ان زبانوں کے ماہرین علم و ادب کے سامنے پیش بھی کیا۔

یہ بہت حوصلہ افزاء تھا کہ ان کی وفات کی بعد نہ صرف ان کے تحقیقاتی کاموں کو دوبارہ شائع کیا گیا، بلکہ انھیں انڈیا اور پاکستان کے سکالروں نے اپنی کتابوں میں ولولہ انگیز خراج تحسین بھی پیش کیا۔ کچھ پرچوں نے ان پر خصوصی نمبر نکالے۔ ان میں سے نمایاں یہ ہیں: معارف اسلامی، دعوہ، فکر و نظر، اورئینٹل کالج میگزین، شاداب۔ ان کی زندگی اور علمی کام پر تین کتابیں لکھی اور شائع کی گئی ہیں: ڈاکٹر محمد حمید اللہ از راشد شیخ، آثارِ ڈاکٹر حمید اللہ از صفدر حسین اور مجددِ علومِ سیرت از غتریف شہباز۔ اسی طرح سید قاسم محمود، محمد عالم مختارِ حق اور کچھ دوسرے سکالرز نے بھی ان پر مضامین اور تحقیقی مضامین لکھے اور انھیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ لیکن انسان محسوس کرتا ہےڈاکٹر صاھب کے سینکڑوں مضامین جو بکھرے ہوئے ہیں اور عام قاری کی پہنچ سے باہر ہیں، انھیں جمع اور شائع کیا جائے کیونکہ ان کے رتبے کا عالم، علماء میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور ان کا ہر لفظ بہت قیمتی اور سنبھال لیے جانے کا متقاضی ہے۔

 وہ 17 دسمبر 2002 کو جیکسن ولا، فلوریڈا، یو ایس اے میں وفات پا گئے اور انھیں چیپل ہِل، فلوریڈا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر میرے انداز میں نہیں لکھی گئی، اتنا تو آپ سمجھ گئے ہونگے۔چونکہ فدوی مترجم کا کام بھی کرتا ہے اور یہ ہماری مترجمانہ افتاد طبع کا نتیجہ ہے۔ اصل تحریر ڈان کا ایک آرٹیکل تھا جس کا اردو ترجمہ عدنان مسعود کی اس تحریر سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ ایک عرصے سے ترجمہ شدہ تحاریر کو زینت بلاگ بنانے کا ارادہ تھا آج اس کی شروعات ہو ہی گئی۔ اور اس سلسلے میں عادت مجھے روشنی میگزین نے ڈالی ہے کہ آرٹیکلز و مضامین کا ترجمہ کرکے شائع کیا جائے۔ روشنی میگزین اردو زبان میں علم و دانش کے فروغ کے لیے ایک اچھی کاوش ہے، اور میں ان کی ویب سائٹ لانچ ہونے سے پہلے سے ان کے ساتھ بطور مترجم وابستہ ہوں۔ میری ترجمہ کی گئی تحاریر کونسی ہیں، وہاں جاکر پڑھ لیں شاید آپ میرا اُسلوب پہچان سکیں۔۔ چونکہ یہ تحاریر ان کی ملکیت ہیں اس لیے میں یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ کونسا ترجمہ میں نے کیا ہے۔ میرے بلاگ پر میری اپنی منتخب شدہ تحاریر کا ترجمہ شائع ہوگا، جو مجھے اچھی لگا کریں گی۔ اس تحریر کا ترجمہ کرنے کا ایک اور مقصد یہ درخواست بھی تھی کہ اگر کسی دوسر کے پاس ڈاکٹر صاحب کی کتب کی ای بکس ہوں، انگریزی کتب کی، کسی آنلائن لائبریری سے دلا سکیں یا سکین کرکے مہیا کرسکیں، تو میں مشکور ہونگا، میں ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میرا علم بھی بڑھے گا اور اردو و اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔ اور ہاں آپ مجھ سے ترجمہ کروانا چاہیں تو میرا کام ہی یہ ہے۔ :-)

پانی کی صورت حال

آج کی خبر پانی نہیں سیلاب کے متعلق ہے۔ سینکڑوں میں جاں بحق ہوگئے اور ہزاروں میں بے گھر۔ لیکن جس بات کو میں دیکھ رہا ہوں وہ بارشوں کا ٹائم فریم ہے۔ اس وقت یہ کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اصل میں ایسے کئی ریکارڈ اب ٹوٹیں گے اور ہر سال ٹوٹیں گے۔ پاکستان میں بارشوں کا ٹائم فریم اور بارشوں کے مقامات شفٹ ہورہے ہیں۔ ڈیر غازی خان کی طرف بارشیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارشیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بارشیں بھی صرف برسات کے ایک ماہ میں ہوا کریں گی اس کے بعد خشک تپتا بے رخ موسم ہوا کرے گا۔ اس وقت جو سیلاب سے مر رہے ہیں چند ماہ بعد وہی پانی کی کمی سے کُرلا رہے ہونگے۔ ہمارے دونوں ڈیم بھر گئے اور؟ باقی پانی سمندر میں جائے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے دس سالوں میں ہمارا نوے فیصد انحصار ڈیموں پر ہوگا۔ ورنہ پانی نہیں ملے گا۔ پانی صرف بارہ ماہ میں میں ایک بار برسا کرے گا، اور اتنا برسا کرے گا کہ موت کا پیغام بر بن جایا کرے گا۔ ہمالیہ کے گلیشئیرز؟ نہ آپ بچے ہیں نہ میں، ہمیں پتا ہی ہے کہ یہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اس کے بعد پیچھے سنگلاخ پہاڑ رہ جائیں گے گلگت بلتستان میں۔
کاش ہم آنے والے سخت ترین حالات کی پلاننگ کرسکیں۔

منگل، 27 جولائی، 2010

پھوڑے پھنسیاں

پھوڑے یا پھنسیاں  برصغیر پاک و ہند میں برسات میں بہتات میں ہوجاتے ہیں۔ جلد پر کسی جگہ درد شرو ع ہوتی ہے، وہ جگہ سوج جاتی ہے اور سرخ ہوجاتی ہے اور پھر وہاں سے ایک سر یا منہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ جس پر ہاتھ لگانے سے شدید درد ہوتا ہے۔ یہی چیز پھوڑا کہلاتی ہے۔ پھوڑا بننے کی بڑی وجوہات جلد  میں آجانے والےکریکس ہیں۔ جلد ہمارے لیے ایک غلاف کی طرح ہوتی ہے جو بیرونی دشمنوں کے خلاف پہلی ڈھال کا کا م کرتی ہے۔ بعض اوقات بلاوجہ خارش کرتے ہوئے، یا کوئی ننھا سا زخم یا کٹ لگ جانے کی صورت میں جلد میں شگاف پڑ جاتا ہے۔ ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں لیکن ہمارے دشمن اس میں آکر ڈیرا جما لیتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھانے لگتے ہیں۔ یہ دشمن یعنی بیکٹیریا گھس بیٹھیے ہوتے ہیں جن کا مقصد جلد سے گزر کر جسم میں داخل ہونا ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے جسم کا دفاعی نظام انھیں ایسا کرنے نہیں دیتا۔ چناچہ خون فورًا اپنے سفید خلیات کو ان سے مقابلہ کرنے کے لیے بھیجنے لگتا ہے۔ متعلقہ مقام کی ناکہ بندی کردی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی جسیمہ وہاں سے اندر کی طرف نہ آسکے۔ خون کے سفید خلیات بیکٹریا سے لڑتے ہیں اور اپنے آپ کو قربان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اس جگہ شدید سوزش، درد اور ابھار بنتا ہے۔ یہ ابھار جو انگریزی میں ہیڈ اور اردو میں پھوڑے کا منہ کہلاتا ہے اصل میں بیکٹیریا کو باہر نکالنے کے لیے بنتا ہے۔ خون کے سفید خلیات کے مردہ اجسام اور بیکٹریا نیز کچھ اور  اینٹی باڈیز وغیرہ سے مل کر بنا یہ مادہ جسے پیپ کہتے ہیں پھوڑے میں جمع ہوتا ہے۔ اسے باہر نکالنے کے لیے پھوڑا باہر کی طرف بڑھتا ہے اور آخر کار ایک مقرر وقت پر بہہ نکلتا ہے۔ اسے پھوڑے کا پک جانا بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات پھوڑا ایک ہی بار بہہ نکلتا ہے اور اس کو کسی جراثیم کش سے دھو کر زخم صاف کرلینےسے آرام آجاتا ہے۔ بعض اوقات پیپ سے بنا ہوا سخت مادہ جسے اردو میں کیل کہا جاتا ہے اس کے اندر ہی رہ جاتا ہے۔ یہ سخت مادہ بڑے بوڑھے دبا کر نکالنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ سخت مادہ دو تین دن میں خودبخود ہی  وقفے وقفےسے بہہ نکلتا ہے۔ احتیاط صرف یہ کی جانی چاہیے کہ پھوڑے کا زخم جراثیم کش سے دن میں تین چار بار صاف کرتے رہیں اور اس کے منہ کو کھلا رکھیں۔ اگر منہ بند ہوجائے گا تو یہ پھر سے بھرنے لگے گا اور پھر درد اور اکڑاؤکا باعث ہوگا۔ پھوڑے کے مقام پر گرمائش دینے سے بھی یہ جلدی پک جاتا ہے اور بہہ نکلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  گرمی دینے سے سفید خلیات کی جراثیم کو ہلاک کرنےصلاحیت بڑھ جاتی ہے۔  بعض اوقات پھوڑا خود نہیں بہتا بلکہ جراح کو دکھانا پڑتاہے جو وہاں سن کرنے والی دوا استعمال کرکے جراحی کرکے گند نکال دیتا ہے۔ تاہم جراحی کسی ہسپتال سے ہی کرانی چاہیے۔ پھوڑوں کے علاج کے لیے ہمارے ہاں نیم  کا عرق نکال کر پیا جاتا ہے جو قدرتی جراثیم کش ہے۔ انگریزی دواؤں میں اینٹی بائیوٹکس  استعمال کرائی جاتی ہیں۔ تاہم پھوڑا بننے سے پہلے ہی یہ دوائیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ جب منہ بننا شرو ع ہوجائے تو اینٹی بائیوٹکس یا دیسی دوائیں بے کار ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک بار پیپ بن جانے کے بعد اس کا جسم سے نکلنا ضروری ہوجاتا ہے جس کے لیے پھوڑے کا منہ ہی ذریعہ اخراج ہوتا ہے۔ تاہم پھوڑا بننے سے قبل ہونی والی درد اور سوزش  کے وقت ہی اگر دوا لینی شروع کردی جائے تو متاثرہ جگہ حملہ آور بیکٹیریا اندر ہی اندر ہلا ک کردئیے جاتے ہیں چناچہ پھوڑا نہیں بنتا، اور اضافی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔ پھوڑا اصل میں ہمارے دفاعی نظام کا ایک اہم ہتھیار ہے جس کی وجہ سے وہ گھس بیٹھیوں کو جسم سے نکال باہر کرتا ہے۔ تاہم اگر پھوڑے کی وجہ سے بخار ہورہا ہو، یا وہ کسی نازک مقام جیسے کمر ، بغل یا زیر ناف ہو تو ڈاکٹر کو دکھانا اشد ضروری ہوجاتا ہے۔

جمعہ، 23 جولائی، 2010

لے دس

ابھی ہم بلاگر کے نئے فیچرز کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان میں ایک تو سٹیٹ کا نیا ٹیب ہے جو شاید گوگل اینالیٹکس سے ہی مستعار شدہ ہے، اس کے علاوہ نئے شئیر بٹن بھی شامل کیے گئے ہیں میری پوسٹ کے نیچے دیکھیں، اور پیش منظر کو بھی نیا کردیا گیا ہے، اب نئے صفحے پر کھل کر پیش منظر نظر آئے گا۔
گوگل بلاگر پر پچھلے چند دنوں سے بہت فعال ہے اور خاصی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ خیر ایسا کرنا چاہیے بھی تھا، گوگل پتا نہیں کیسی سبز قدم کمپنی ہے جب بھی سوشل ویب میں آئی وہ پروجیکٹ ڈوبا ہی ڈوبا، بلاگر، آرکٹ اور ایسی کئی چیزیں۔
لے دس کے عنوان تلے آپ کو بتانا یہ تھا کہ سٹیٹ چیک کرتے ہوئے میں نے مطلوبہ کی ورڈز بھی دیکھے، جن کے تحت لوگ میرے بلاگ پر سرچ کرتے ہوئے آئے۔ اور ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔
پاکستانی اردو ٹرپل ایکس فلم
کمبخت گوگل صرف میرا اور ایک اور ویب سائٹ کا ربط دیتا ہے۔ اس میں ایکس اصل میں ایکس پی والا ایکس ہے، یار ایدے وچ میرا کی قصور اے۔
ہیں جی؟

منگل، 20 جولائی، 2010

دی کراٹے کڈ

لو جی ساڈے ذاتی مشاہدے دے مطابق اج کل کی فلموں میں نوعمر ہیرو ہیروئن فیشن ہیں۔ جیسے آج سے چالیس سال قبل کی فلموں میں آنٹیاں ہیروئن آجایا کرتی تھیں، آج کل جوان بی بیاں امیوں کے کردار وچ آندی ہیں۔ ہُن تسیں کہو گے او کِنج۔ تے اسیں تہانوں دساں گے او اِنج کہ اساں ہُنیں ہُنیں کراٹے کڈ ویکھی ہے۔ ہُن تُسیں پُچھو گے اے کی ہے؟ تے اسیں تہانوں دساں گے کہ اے ایک فلم ہے۔ مزید معلومات لئی گوگل نوں زحمت دو۔ تب تک ہم آپ کو ایک دو فوٹو دکھا دیتے ہیں۔


تے کیسی لگی جی آپ نوں فوٹو؟ مزید فوٹو کے لیے فیر گوگل کو زحمت دیں۔ ہمارا تو کہنے کا مطبل بس اتنا تھا کہ ہم نے بڑے عرصے بعد جیکی چن اور بروس لی سٹائل کی مووی دیکھی ہے۔ ہیرو پہلے رج کے ذلیل ہوتا ہے پھر اسے ایک ماسٹر مل جاتا ہے جو اسے کنگفو سکھاندا ہے اور پھر ہیرو ولن کا مقابلہ بیٹھتا ہے۔ مقابلہ بھی ایک ٹورنامنٹ میں، جیسا کہ اکثر ایک امریکی ہیرو کی فلموں میں ہوا کرتا تھا۔ کیا بھلا سارا ناں سی پائی دا یاد نہیں آرہا ایس ویلے۔ خیر اس فلم میں بچہ جی یعنی ہیرو جی کی اماں جی ڈیٹرائٹ امریکہ سے چین میں لینڈ فرماتی ہیں۔ بچہ جی کو ایک بچی جی یعنی ہیروئن جی چنگی لگتی ہیں۔ پہلے دن ہی، کیسی گل ہے نا جی ایڈوانس جنریشن،۔ لیکن پہلے دن ہی ہیرو جی کی ٹھکائی ہوجاندی اے ولن جی کے ہتھوں، حسب معمول ولن جی ہیروئن کا قریبی عزیز ہے۔ اس کے بعد بچہ جی سوری ہیرو جی کچھ وقت ذلیل ہوتے ہیں دو ایک بار دب کے کُٹ کھاتے ہیں اس کے بعد فیر جیکی چن جی آجاتے ہیں۔ ہائے  ہائے وہ بھی کیا دن تھے جب ہم جن تھے اب ہم دیو ہیں جنوں کے پیو ہیں۔ جیکی چن جی کبھی خود ایسی فلموں میں ماسٹر کے ہاتھوں جلییییییییییییییل ہورہے ہوتے تھے۔ ماشٹر عجیب و غریب انداز میں ٹریننگ دیتا اور انھیں لینی پڑتی، کیا کرتے ہیرو جو تھے۔ اس فلم میں موصوف اپنا سارا غصہ بچہ جی سوری ہیرو جی پر کڈتے ہیں۔ کیسے کڈتے ہیں آپ فلم دیکھ کر ملاحظہ کیجیے۔ بس اتنا سمجھ لیے کہ ہیرو جی ٹورنامنٹ سے پہلے تیار ہوجاتے ہیں۔ پھر حسب معمول فائنل کشتی ہیرو جی اور ولن جی کی بندھتی ہے۔ اور فیر ہوتا ہے مقابلہ۔ لیکن ٹھہریں، ایک واری فیر حسب معمول ہیرو جی کو بجی، ارے اپاہج کو کہتے ہیں جی پنجابی میں، کرنے کی سازش ہوتی ہے اور ہیرو کی ایک ٹانگ پر ولن جی کا ساتھی جان بوجھ کر ضرب لگا کر انھیں لنگڑا کردیتا ہے۔ ماسٹر جی اس کا دیسی چینی علاج کر تو دیتے ہیں پر پاء جی سٹ تے سَٹ ہوتی ہے جی۔ سو ہیرو جی لنگڑاتے ہوئے مقابلے میں واپس آتے ہیں جب کہ ولن جی تقریبًا جیت چکے ہوتے ہیں۔ اور فیر ہندی ہے ایک دھانسو قسم کی فےٹ۔ ہائے ہائے، اس کے ایشکن تے تُساں کو سکرین پر ہی چنگے لگیں گے۔ چناچہ تشریف لے جاؤ تے فلم ویکھو، اگر ڈالر ہیں تے سینما وچ ویکھو نہیں ہیں تے ٹورنٹ توں ڈاؤنلوڈ کرکے۔
ہیں جی؟

سوموار، 19 جولائی، 2010

آخر بھارت کو راہداری مل گئی

جیسا کہ آج کے اخبارات سے ظاہر ہے، بھارت کو افغانستان تک راہداری کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پہلے پاکستان اس پر تیار نہیں ہورہا تھا لیکن جیسے بچے کو کڑوی دوا اماں اپنے ہاتھوں سے خود پلاتی ہے اسی طرح ہیلری کلنٹن نے خود یہ معاہدہ کروایا ہے۔ اس کے نقصانات کیا ہونگے، ویسے تو کئی لال بُجھکڑ بیٹھے ہیں میڈیا میں اور اُرے پرے۔ ہمارے اپنے ذاتی خیال میں اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ بھارتی سامان افغانستان جانے کی بجائے پاکستان میں ہی رہ جایا کرے گا۔ جیسا کہ پہلے بھی افغانستان جانے والا مال پاکستان میں رہ جایا کرتا ہے اور اکثر رہ جایا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ مقامی صنعت کی تباہی اور ٹیکس کی مد میں کروڑوں شاید اربوں کا نقصان ہوگا۔
اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ بھارت کو راہداری نہیں دی گئی بلکہ وہ سامان پاکستانی ٹرکوں یا افغانی ٹرکوں پر لد کر جائے گا۔ سائیں کان ادھر سے پکڑیں یا اُدھر سے بات تو وہی ہے، بھارت کو راہداری مل گئی۔ ان کی موجیں۔ ہاں یہ ٹرکوں کی ادلا بدلی سے اتنا ہوگا کہ پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی چاندی ہوجائے گی۔

ہفتہ، 17 جولائی، 2010

کچھ یادیں

حالات کچھ عجیب سے ہیں لوگ لکھنے کی بجائے کچھ اور ہی کررہے ہیں۔ تو میں نے سوچا چلو کچھ لکھا جائے ورنہ عام حالات میں مَیں ایک خاموش اور ممکنہ بلاگر ہوں جو کسی بھی وقت اٹھ کر کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن یہ لکھنا بعض اوقات مہینوں کے وقفے کے بعد معرض وجود میں آتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں تھا لیکن میں نے سوچا چلو کچھ یادیں شئیر کروں۔ اپنی بلاگنگ کی ہسٹری بتاؤں۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ  تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا  کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی  ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ  بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔ 

بدھ، 14 جولائی، 2010

آخر لکھنا ہی پڑا

میں پچھلے ایک ماہ سے چلنے والی بکواسیات سے دامن بچا کر گزر رہا تھا لیکن آج معاملے کی انتہا سی ہوگئی ہے۔ ایک خاتون بلاگنگ چھوڑ کر جارہی ہیں اور اردو کے ایک بابے بلاگر نے بھی ان کے حق میں پوسٹ لکھ ماری ہے۔ تو میرا بھی فرض بنتا ہے کہ بابا جی کی پیروی میں ایک پوسٹ لکھوں جس میں اس کی مذمت کی گئی ہو۔ رب جانے یہ بکواس کہاں سے شروع ہوئی تھی، لیکن سادہ الفاظ میں ایسی کسی بھی بکواس کی مذمت کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا بھی پسند نہیں کرتا۔ میری نظر میں اس سارے ڈرامے کی اتنی اوقات ہے۔ اب جبکہ اس ڈرامے کا اینڈ ہونے جارہا ہے تو کچھ "ہمدردوں" نے، جیسا کہ پاکستانی معاشرے کی خاصیت ہے کہ خاتون کے بھائی ہر طرف سے نکل آتے ہیں اور جوق در جوق نکل آتے ہیں، ہمدردی کرتے ہوئے پھر اپنی زبان پلید کرنی شروع کردی ہے۔ پھر کمینہ وغیرہ وغیرہ قسم کی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں اور پھر لوگوں کے لیے تفریح کا سامان پیدا ہورہا ہے۔ لوگ آتے ہیں پڑھتے ہیں، اچھا یہ بات تھی، لطف لیتے ہیں، ایک تیلی اور پھینکتے ہیں اور نکل لیتے ہیں۔ ڈرامے کے اینڈ پر ایک اور ڈرامہ لگ گیا ہے۔ کس قسم کی اجتماعی فطرت ہے ہماری اور کتنی گندی فطرت ہے یہ۔
اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ نہیں ہوگا، معذرت کے ساتھ میں اپنے بلاگ پر ایک اور ڈرامہ نہیں لگانا چاہتا۔

ہفتہ، 10 جولائی، 2010

دل کے ارماں

صاحبِ دل تو ہم اس وقت سے تھے جب اس دنیا فانی میں تشریف آوری ہوئی، لیکن آج مریضِ دل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اب آپ پوچھیں گے او کِداں؟ تو ہم آپ کو دسیں گے۔ او ایداں کہ ہمیں ایک عرصے سے دل کے مقام پر درد کی شکایت ہے۔ کبھی کبھار یہ اچانک چھڑ جاتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے کوئی پٹھا کھنچنے سے یہ شروع ہوجاتی ہے لیکن کمبخت عین دل کے مقام پر ہوتی ہے اور ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ ناقابل برداشت نہیں ہوتی لیکن اس کا ہونا ہی "عین ہونا" ہے، اس سے بالکل اُلٹ جیسا کہ عابدہ پروین کوک سٹوڈیو کے ایک گانے میں فرماتی ہیں۔ تو ہم بات کررہے تھے درد کی، اس کے ساتھ ساتھ کبھی دل کی دھڑکن اچانک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دھڑکتا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور کبھی بہت سانس بھی چڑھ جاتی ہے۔ دو تین دن پہلے یہی نامُراد درد پھر چھڑا۔ شومئی قسمت ایک کلاس فیلو کے والد کا انتقال بھی اسی مرض میں پرسوں ہوا ہے۔ آج ان کے قُل سے واپسی پر یہ سوچ کر کہ کہیں عنقریب ہمارے قُل بھی نہ اس مرض میں ہوجائیں ہم فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو نکل لیے۔
 وہاں پہنچے تو کیا دیکھا۔ کیا دیکھنا تھا عمارت دیکھی۔ نویں نکور عمارت جسے مشرف دور کے کسی وزیر کی گرانٹ ملی تھی۔ آج کل اس کے نام کا کتبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ سائیکل کھڑا کرکے اوپر سے او پی ڈی میں گئے اور اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈ پے گئی بادشاہو۔ ساری عمارت سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ۔ سواد آگیا بادشاہو۔  استقبالیے پر جاکر آمد کا مقصد بتایا تو انھوں نے مبلغ تیس روپے لے کر ایک عدد کاپی تھما دی۔ اس کے بعد سامنے والے کمرے میں جانے کا اِذن ملا۔ وہاں پہنچے سے ایک صاحب نے ہمارے ابا جی سے لے کر ہمارا سب بائیو ڈیٹا پوچھ ڈالا۔ ابا جی کیا کرتے ہیں، تم کیا کرتے ہو، کتنا کماتے ہو۔ پہلے تو ہم سمجھے نہیں بتاتے گئے بعد میں پتا چلا "کیٹیگری" لاؤنی سی۔ یہاں یہ صاحب آمدن کے حساب سے مریضوں کو ایک مہر لگا کر دیتے تھے کاپی پر۔ اس کی بنیاد پر آگے چاجز لگتے ہیں۔ ہم نے تو کہہ دیا جی پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں پر پیسے کئی کئی ماہ بعد آتے ہیں۔ انھوں نے جھٹ سے "پوؤر" کی مہر لگا دی۔ لو جی ہم سرکاری طور پر غریب غربا قرار پاگئے۔
اگلا حُکم ملا کہ روم نمبر اٹھارہ وچ ونجو۔ ہم وہاں ونجے تو آگے ای سی جی والے نے ہمارا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ خاصے مریض بھی تھے۔ لیکن ای سی جی جلدی جلدی ہورہی تھی۔ جوتے اتارو، اوپر لیٹو، بازؤں کے بٹن کھولوں سینہ ظاہر کرو۔ وہ صاحب کوئی گوند سی چپچپی چیز لگاتے پھر ای سی جی مشین کی تاریں سینے پر جوڑنے لگتے۔ ہم سے پہلے چار لوگوں کا ہوا پھر ہماری باری آئی۔ ہم نے بڑی شان سے اپنا سینا دکھایا تودیکھنے والے ہماری پسلیاں دیکھ کر کہنے لگے تہانوں وی دل دی بیماری اے؟ تو ہم نے کہا صاحب دل ہیں، بیماری کے لیے ایک عدد دل ہونا ضروری ہے جس کے مالک ہم شروع دن سے ہیں چناچہ حیرت کاہے کی   ؟
خیر ہمارا ای سی جی ہوا جسے متعلقہ بندے نے ہمارے اعمال نامے میں لگا کر روم نمبری 13 کی طرف دھکیل دیا۔ وہاں پہلے ای سی جی کرانے والے حضرات بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی رکھوالی ایک مثلِ لیلی خاتون کے سپرد تھی جو رجسٹر کھولے مریضوں کا اندراج کررہی تھیں۔ ہمارا بھی اندراج کرکے انھوں نے کہا "بھائی بیٹھ جاؤ"۔ اور ہم بالکل ہی بہہ گئے، یعنی لیلی بھی تھی اور بے مروت بھی، سیدھا بھائی بنا ڈالا۔ خیر ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ پہلے حکم ملا کہ چودہ میں چلے جاؤ۔ وہاں گئے تو اندر سے حکم ملا پانچ منٹ بعد آئیے گا ڈاکٹر صاحبہ مصروف ہیں۔ ہم باہر آگئے۔ اس دوران ہم سے پیچھے والے صاحب بھی اندر آچکے تھے۔ دونوں سے اعمال نامے واپس لیے اور پھر بٹھا دیا۔ جب دوبارہ باری آئی تو ہم سے پچھلے کی باری پہلے آگئی۔ وہ باہر آئے تو ہم نے پوچھا بھیا کیا بنا۔ کہنے لگے شوگر چیک کرانے کا کہا ہے اور گولیاں لکھ دی ہیں۔ ہم جل تو جلال تو کا ورد کرتے اندر گئے تو پھر حکم ہوا پانچ منٹ بعد آئیں۔ شاید ہماری شکل پر ہی لکھا ہوا تھا کہ "انھیں پانچ منٹ بعد بُلایا جائے، اور ہر بارایسے ہی بُلایا جائے"۔۔
خیر پانچ منٹ بعد خود ہی بُلاوہ آگیا ہم اندر پدھارے۔ ایک شوخ سی ڈاکٹر صاحبہ مع ایک عدد ایکسٹرا قسم کی نرس کے ساتھ میز کی اِس جانب بیٹھی تھیں۔ شاید پروفیسر صاحب خود کہیں گئے ہوئے تھے او ریہ ان کی جگہ مریض بھُگتا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں اُٹھا دیا ادھر جاکر اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ ہم اُدھر گئے تو نرس صاحبہ نے چپس کرچتے ہوئے ہمارا بلڈ پریشر چیک کیا۔ پھر ڈاکٹر صاحبہ نے ہمارا ای سی جی دیکھا، اور پھر ہمیں دیکھا۔ "کیا مسئلہ ہے" اور ہم نے مسائل بتائے، جو اوپر بتا چکے ہیں۔ انھوں نے لمبے لمبے سانس دلوائے اور سٹیتھوسکوپ سے دل سے رازونیاز کیے۔  پھر ہماری بتائی ہوئی تفصیلات اعمال نامے پر لکھیں، جنہیں ہم آخر تک گولیوں کے نام سمجھتے رہے۔ پوچھنے لگیں سگریٹ پیتے ہوں؟ عرض کیا نہیں، پوچھا شوگر بلڈ پریشر عرض کیا نہیں۔ تو کہنے لگیں آپ کے دل کو کوئی مسئلہ نہیں، بلاوجہ دوائیں  نہ کھائیں تو بہتر ہے۔ مزید چیک اپ کروانا ہو تو سول یا الائیڈ میں کروالیں۔ وہ درد دل کا درد نہیں ہے۔
اور ہم خوشی خوشی گھر کو پدھارے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے۔ پہلے ائیر کنڈیشنر خراب ہونگے، پھر عمارت ، جس کا نقشہ مسترد ہوگیا ہے پہلے ہی، کے آسے پاسے اترنے لگیں گے، پھر رنگ روغن اڑنے لگے گا، مشینیں خراب ہونگی، اور پھر یہا ں بھی سول اور الائیڈ والا حال ہوگا۔ یعنی کتنے سارے مریض، تھوڑے سے ڈاکٹر اور مزید تھوڑی سی سہولیات۔ ہاہاہاہا ہے نا گندی پاکستانی سوچ، کیا کریں دل جو پاکستانی ہے، اور جانتا ہے کہ جو چیز پاکستان میں بن جاتی ہے اس کی دیکھ بھال تو ہونی نہیں ہوتی تو پیشن گوئی کرنا کونسا مشکل کام ہے۔
تو یہ تھا ہمارا مریض ِ دل نہ ہوسکنے کا ماجرا۔ دیکھیں اگلی بار کب جانا ہوتا ہے  ہسپتال۔

جمعہ، 25 جون، 2010

میونسپل کارپوریشن کی سڑک کا لائف سائیکل

آج تک بادلوں کا چکر، آکسیجن کا چکر اور ہائیڈروجن کا چکر پڑھتے آئے ہیں۔ آئیے آج آپ کو میونسپل کارپوریشن کی بنائی گئی سڑک کی زندگی کا چکر دکھاتے ہیں۔
  • پتھر ڈالا جاتا ہے، یا تو پہلی سڑک بس ہوچکی ہے یا وہاں سڑک سرے سے تھی ہی نہیں۔
  • پتھر ڈالنے کے بعد اس پر بلڈوزر پھیرا جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک، کئی بار یہ کچھ عرصہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، یہ پتھر یونہی رہتا ہے آخر ایک دن کول تار کے ڈرم، لکڑی اور گرم کول تار پھینکنے والی ایک مشین مع مزدور کہیں سے نمودار ہوتی ہے۔ پتھروں کو تیسی (ایک آلہ) سے کھرچا جاتا ہے اوپر کی مٹی الگ کرکے ان پر گرم کول تار کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور کول تار ملی بجری پھینک کر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ لیول کا خیال نہیں رکھا جاتا، اونچ نیچ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مقصد بس پتھروں پر بجری کی تہہ بچھانا ہوتا ہے۔ اور اگر "کارپٹ" روڈ بنانی ہو تو گرم گرم تازی تازی سڑک پر کاربن بچھا کر ایک بار اور بلڈوزر گزار دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سڑک فرش کی طرح ملائم ہوجاتی ہے۔
  • دو تین دن میں یہ کام مکمل ہوجاتا ہے اور پھر سڑک چلنے لگتی ہے۔ محلے کے بچے اس کارپٹڈ یا سادہ روڈ پر دوڑتے بھاگتے ہیں، کرکٹ کھیلتے ہیں، سائیکل سے کرتب دکھاتے ہیں ریس لگاتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور دوسری گاڑیاں اب زیادہ سپیڈ سے گزرنے لگتی ہیں۔
  • چند دن محلے والے اس سب کو برداشت کرتے ہیں اس کے بعد سڑک پر سپیڈ بریکر کھڑے ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر دوسرا گھر اپنی مدد آپ کے تحت سیمنٹ بجری لا کر ایک "مناسب" سا سپیڈ بریکر بنا دیتا ہے۔ چناچہ اب گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کو ہر چند میٹر کے بعد بریک لگا کر گاڑی آہستہ کرنی پڑتی ہے۔ کچھ چالاک سائیکل اور موٹرسائیکل والے سپیڈ بریکرز کی سائیڈوں سے نکال لے جاتے ہیں لیکن یہ چالاکی چند دن ہی چلتی ہے۔ یا تو سپیڈ بریکر کی سائیڈیں بھی مزید سیمنٹ بجری سے بھر دی جاتی ہیں یا وہاں پتھر یا اینٹیں رکھ دی جاتی ہیں۔ دوسری صورت میں ایک مسلسل کشمکش چل پڑتی ہے، سائیکل سوار ان کو آگے پیچھے کرکے گزرتے رہتے ہیں اور محلے دار ان پتھروں کو سیدھا کرکے لگانے میں لگے رہتے ہیں۔
  • سڑک ابھی قابل استعمال ہے چونکہ ابھی بارش نہیں ہوئی یا کسی کا مکان بننا شروع نہیں ہوا لیکن ایسا بہت دیر تک نہیں رہے گا۔ ایک دن بارش ہوگی اور سڑک کے زیریں حصوں اور اطراف میں پانی کھڑا ہوجائے گا۔ چند ایک دفعہ کی بارش کے بعد وہاں گڑھا نمودار ہوجائے گا جو بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ پانی کھڑا ہونے کا تیزرفتار ذریعہ گٹر کی بندش بھی ہے۔ گٹر بند ہوگیا تو نئی سڑک کا ستیا ناس ہو گیا، دس دن میں سڑک ایسے ادھڑ جائے گی جیسے پرانی رضائی  کا حال ہو جاتا ہے۔
  • اسی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی پرانی مکان یا تو ترمیم و اضافہ کی سٹیج پر آجاتا ہے یا پھر اس کے مکینوں کے پاس اتنے پیسے آجاتے ہیں کہ ڈھا کر نیا بنائیں۔ چناچہ مکان دوبارہ بنتا ہے اور ساتھ سیوریج کا پائپ بھی دوبارہ ڈالا جاتا ہے (گھر سے مین ہول تک)۔ چناچہ سڑک پر ایک لمبا چیرا لگ جاتا ہے۔ کبھی اس چیرے کو سیمنٹ بجری سے بھر دیا جاتا ہے لیکن یہ سیمنٹ بجری چند ماہ کے بعد ہی اڑنے لگتی ہے اور چیرا ظاہر ہوجاتا ہے۔ کبھی اس عمومًا ترچھے چیرے پر ایک عدد نیا سپیڈ بریکر بنا دیا جاتا ہے جو دوہرا کام کرتا ہے، سپیڈ بھی کم کراتا ہے اور چیرے کی بدصورتی بھی چھپاتا ہے۔
  • مکانوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون، واسا اوراسی قبیل کی دوسری کمپنیوں کو ترقیاتی کام یاد آجاتے ہیں چناچہ سڑک بننے کے ایک آدھ سال میں ہی یہ کھودی جاچکی ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ کھدائی ایک سائیڈ سے ہوتی ہے لیکن جہاں سے سڑک پار کرنی ہو، وہاں پر نشان ساری عمر کے لیے رہ جاتا ہے کہ یہاں سے فلاں کمپنی کے مزدوروں نے سڑک پار کی تھی۔
  • سڑک اب سال بھر پرانی ہوچکی ہے۔ ایک آدھ برسات سہ چکی ہے اور کئی ایک بار گٹر کی بندش بھی، کئی مکان بن چکے ہیں اور واسا بھی ایک بار نظر کرم کرچکا ہے۔ سڑک کا اپنا میٹریل بھی جواب دیتا جا رہا ہے چناچہ گڑھے نمودار ہو رہے ہیں، پہلے سے موجود وسیع ہو رہے ہیں اور سڑک کا پتھر ننگا ہورہا ہے۔ 
  • اگر کارپوریشن کے پاس فنڈ ہوا تو اگلے ایک آدھ سال میں ان بننے والے گڑھوں کو پر کرنے کے لیے بجری آجائے گی ورنہ یہ وسیع ہوتے جائیں گے۔ اور ہر بارش کے بعد ان کی چوڑائی اور گہرائی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک وقت یہ آئے گا کہ محلے والوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے گا اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت سڑک بنانا شروع کر دیں گے۔ ری سائیکلنگ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نوتعمیر شدہ مکانوں کا ملبہ سڑک کے گڑھوں میں ڈالا جانے لگے گا۔ اور چند ماہ میں سڑک جو کچھ نہ کچھ ہموار تھی اب سطح مرتفع پوٹھوہار کا منظر پیش کرنے لگے گی۔ اس پر سائیکل، موٹرسائیکل چلانا عذاب بن جائے گا چناچہ سائیکل موٹرسائیکل والے متبادل راستے ڈھونڈیں گے۔ کاریں وغیرہ اوکھی سوکھی چلتی رہیں گی اور وقت گزرتا رہے گا۔
  • حکومت بدلے گی یا فنڈ آئیں گے تو اس سڑک کا کسی کو خیال آجائے گا اور دوبارہ سے اس کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ ٹریکٹر آئیں گے جو سڑک پر دبائے ہوئے گھروں کے ملبے کو اکٹھا کریں گے اور ٹرالیاں اٹھا کر شہر سے باہر پھینک آئیں گی۔ چھ انچ سے دس انچ تک پتھر ڈالا جائے گا، بلڈوزر پھرے گا اور پھر بجری کا لیپ ہوگا۔ ایک اور سڑک بن جائے گی، پھر سے ٹوٹنے کے لیے۔
  •  یہ سارا چکر تین سال میں اوسطًا پورا ہوجائے گا اور ایسے چار یا پانچ چکروں یعنی قریبًا بیس سال بعد نئے بنے مکان، جو تعمیر کے وقت کئی فٹ اونچے رکھے گئے تھے، سڑک کے برابر آجائیں گے یا چند انچ بلند رہ جائیں گے۔ مکینوں کو احساس ہونے لگے گا کہ مکان نیواں ہونے لگا ہے اور برسات میں پانی اندر گھس آیا کرے گا۔ چناچہ مکان کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے بننے لگتے ہیں۔ مکان پھر تعمیر ہوتے ہیں اور سڑک پر پھر چیرے لگا جاتے ہیں۔
  • اور یہ چکر چلتا رہتا ہے۔
کیسا لگا پاکستان میں سڑکوں کی زندگی کا چکر؟

سوموار، 21 جون، 2010

اشکے وئی اشکے

لو جی ساڈی گورمنٹ نوں وی چےتا آگیا کہ بجلی بچانی اے۔
اسلام آباد ‘ ملک میں توانائی بچاؤ پروگرام کے تحت تمام موبائل فون ٹاورز اور بل بورڈز( برقی سائن بورڈز) کو واپڈا سپلائی سے ختم کر کے شمسی توانائی کے ذریعے برقی سپلائی حاصل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ’’’توانائی بچاؤ پروگرام‘‘ ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت تمام موبائل ٹاورز فون اور بل بورڈز(برقی سائن بورڈز) کو واپڈا سپلائی سے ہٹایا جائے اس حوالے سے تمام بل بورڈز اور موبائل فون ٹاورز کے مالکان کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی برقی سپلائی کو 30 جون 2010ء سے پہلے شمسی توانائی کے ذریعے حاصل کرنے کے اقدامات کر لیں اور 30 جون 2010ء کے بعد ان تمام بل بورڈز اور موبائل فون ٹاورز جو بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی سپلائی پر چلتے ہوئے پائے گئے ۔ ان کی بجلی کی منقطع کر دی جائے گی ۔
سورس
30 جون تک ملک وچ موجود سیکڑاں موبائل فون دے کھمبے شمسی توانائی تے ہوجاون گے۔
تہاڈا کی خیال اے؟

جمعہ، 18 جون، 2010

برساتی کیڑے

جِداں مینہ ورن توں بعد دھرتی وچون کیڑے مکوڑے نکل آندے نیں کجھ اینج دا حال اج کل فیس بُک تے لگن والے ڈرامے توں بعد انٹرنیٹ تے وے۔ 2006 وچ جد اے ڈرامہ پہلی واری لگیا سی تے لوکاں یورپی ملکاں دیاں چیزاں دا بائیکاٹ کیتا سی۔ کوکا کولا تے یپیسی وی ایسے چکر وچ آگیاں تے یار لوکاں کوکا کولا تے پیپسی تے مقابلے تے مسلم کولے بنا لئے۔ اپنے ایک پچھلے بلاگ وچ ایہو جئیے کولیاں دا حشر تہانوں دسیا سی۔ کجھ اے ہو ای حال ہُن انٹرنیٹ تے نیٹ ورکنگ سائٹاں دا اے۔ مسلماناں دے مذہبی جذبات نوں چھیڑ کے اے لوگ اپنا الو سیدھا کرنا چاہندے نیں۔ فیس بُک دی دشمنی وچ، تے اسلام دی دوستی وچ بہت ساریاں نیٹ ورکنگ سائٹاں بن گیاں نیں۔ کم اوہناں دی وی اوہو ای اے جیہڑا فیس بُک دا اے۔ یعنی مسُلیاں دا ٹیم لنگھاؤ بلکہ ضائع کراؤ۔ گانے، چیٹ، بلاگ تے پتا نئیں کی کی۔ تے نال اپنا ایڈز دا کم چلا کے پیسے کماؤ۔ آخر اللہ واسطے تے کسے نئیں بنایاں اے ویب سائٹاں۔
لیکن سائیں گل اینج اے کہ ہر کوئی اے کم نئیں کرسکدا۔ فیس بُک والے چھ سالاں تو لگے ہوئے نیں تے اج وی فیس بُک نوں ہوکے آجاندے نیں، اونہاں دی سروس ڈاؤن ہوجاندی اے یا کوئی ہور سیاپا پیا رہندا اے۔ تے اے برساتی کیڑیاں ورگیاں ویب سائٹاں جیہڑیاں ہن نکلیاں ہویا نیں تے نکلدیاں آندیاں نیں اینہاں دے حالات بہت ماڑے نیں۔ ایک ویب سائٹ دا حال تہانوں سنانے آں کہ اوتھے ںظامت کنی سوہنی اے۔
maureen.arnuld@yahoo.com
My name is miss prisca I was impressed when i saw your profile today and i will like to establish a long lasting relationship with you. i will like you to reply me through my e mail address (maureen.arnuld@yahoo.com) This is because i dont know the possibilities of remaining in forum for a long time. please If you are interested in knowing more about me, and for me to send you some of my pictures
please reply me back through my email and with your email so that i can contact you you age colour or distance does not matter in a real realationship but love matters a lot
Thanks waiting to hear from you .
cares prisca.
اے میسج سپیم اے جیہڑا مینوں فید فُل بلین تے وصول ہویا۔ چونکہ میں مسلمان آں ایس لئی ایس سائٹ تے رجسٹریشن کرا لئی کہ چلو خیر اے۔ پر ایتھے کرن لئی میرے کول کجھ نئیں سی۔ کرن لئی تے فیس بُک تے وی میرے کول کجھ نئیں ہندا پر اوتھے دو چار لوگ ہندے نیں تے ایویں دس پندرہ منٹ دی نظر مار کے اسیں مُڑ آئی دا اے۔ اج کئی دناں بعد فیدفُل بلین تے گیا تے ایک غیر فید فُل بی بی ولوں بڑا گرمان والا میسج میرا منتظر سی۔ مطلب تے ایس میسج دا اے ہے کہ میرا ای میل ایڈریس لیا جاوے، پر تساں اے ویکھوں کہ اینہاں ویب سائٹاں دا معیار کی اے۔ اج توں پنج سال پہلاں وی میرے کولوں مسلم کولا نئیں سی پیتا گیا تے اج وی میرے کولوں اے دیسی فیس بُکاں نئیں ہضم ہونیاں۔ میں تے فیس بُک تے ای چنگاں۔
اج توں آوازِ دوست اردو تے پنجابی دو زبانی بلاگ ہووے گا۔ سجن نوٹ کرلین۔ امید ہے تہانوں میری اردو ملی پنجابی سمجھ آجائے گی۔ میرے اُتے جنہاں اردو دا حق اے اوس توں بہتا میری ماں بولی دا حق اے۔ اردو لئی تے ساری دنیا کم کردی اے پنجابی ول کوئی سُکے منہ وی نئیں ویندا۔ تبدیلی ایک بندے توں چلدی اے تے میں فیر اپنے تھاں کم شروع کیتا۔ اگر تہانوں کوئی دکھ درد ہے پنجابی دا تے پنجابی لکھو، پنجابی بولو، تے اپنے بچیاں نوں پنجابی سکھاؤ۔ ورنہ پنجابی لگی جاندی جے۔

ڈھُڈی والا مینشن

ڈھُڈی والا مینشن۔۔۔۔۔ ایک پُراسرار عمارت
ڈھُڈی والا مینشن۔۔۔۔۔۔ جہاں عمران کُتے خصی کرتا پہنچ گیا
ڈھُڈی والا مینشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں عمران نے لالہ چمپت رام کے بھوت سے ملاقات کی
ڈھُڈی والا مینشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے دیکھ کر جوزف نے بھی اس عمارت کے منحوس ہونے کا اعلان کردیا
عمران۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ڈھُڈی والا مینشن کو نحوست سے پاک کرنے کی قسم کھالی
لیکن عمران وہاں گیا تو؟
ڈھُڈی والا مینشن کی جگہ ارشد چٹھہ میموریل سکول کی عمارت قائم ہوگئی تھی
ڈھُڈی والا مینشن کہاں گیا؟
عمران نے سلیمان کی منتیں کیں۔۔۔ کیوں؟
آخر کار سلیمان کے مرشد نے بتایا کہ ڈھُڈی والا مینشن غائب نہیں ہوئی بلکہ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید جاننے کے لیے آج ہی خریدیں۔ عمران سیریز کا خاص نمبر شائع ہوگیا ہے۔ شہر آفاق مصنف جناب ایم اے شاکر کی ایک اور تہلکہ خیز تصنیف
آج ہی اپنے ہاکر سے طلب فرمائیں۔ 

منگل، 15 جون، 2010

یاہو پروٹوکول اوپن

یاہو اپنے میسنجر پروٹوکول کو اوپن کرنے جارہا ہے۔
اس سے لینکس والوں کا بہت بھلا ہوگا۔ پجن جیسے میسنجر آڈیو اور ویڈیو چیٹ کی سہولیات شامل کرسکیں گے۔ یاہو کی وائس چیٹ سب سے زیادہ مس کرتا ہوں لینکس پر۔  

سوموار، 14 جون، 2010

ہائے تھیسز

ہمارے سر سنایا کرتے ہیں کہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں تجربات کے بعد نتائج کو سگنیفیکنٹ significant ایسے بنایا جاتا ہے کہ شماریات کے فارمولے لگائے جاتے ہیں اگر فرق قابل ذکر نہ ہو تو پیچھے سے آواز آتی پے پُتر سگنیفیکنٹ کر ہور۔ اور اس کام کے لیے فریکوئنسی بڑھا دی جاتی ہے۔ اور یہ اس وقت تک بڑھائی جاتی رہتی ہے جب تک نتائج اصلی تے وڈے نہ ہوجائیں۔ چناچہ ایسے ہی ایک دفعہ کپاس کے پودوں کے اگاؤ وغیرہ پر کی گئی ریسرچ کے نتائج اتنے سگنی فیکنٹ تھے کہ ریسرچ میں سامنے آنے والے پودوں پر پھولوں کی تعداد جو 52 بنتی تھی، عملی طور پر کسی بھی پودے پر ممکن نہ تھی۔ اتنے پھول پودا سہار ہی نہیں سکتا۔ لیکن یار لوگوں نے ریسرچ میں یہ نتائج "نکالے" اور زبردستی نکالے۔
صاحبو ریسرچ بڑا اوکھا کام ہے ناک سے لکیریں نکلوا دیتی ہے یہ رسرچ۔ آج کل ہم جوگی ہوئے ہوئے ہیں، کن پڑوائے بغیر ہی جوگی۔ اور جوگن ہمارا تھیسز ہے۔
تھیسز تھیسز کردی نیں میں آپے تھیسز ہوئی
ہمارا ڈیٹا اینالیسس فیز چل رہا ہے لیکن دو ماہ سے چلے ہی جارہا ہے۔ کارپس پر مشتمل یہ ریسرچ پاکستانی اور برطانوی انگلش میں دو مونہے افعال (Ditransitive Verbs) کا موازنہ ہے۔ دومونہے ہم نے ابھی ایجاد کیا ہے لیکن امید ہے اردو وکی پیڈیا پر اس کا بڑا عالمانہ قسم کا ترجمہ موجود ہوگا فارسی کے تڑکے کے ساتھ۔ خیر یہ تو ایک پنجابی والی چُونڈی تھی۔ ریسرچ بڑا اوکھا کم ہے سائیں۔ ابھی 3 گھنٹوں سے صرف فریکوئنسیاں ہی نکال رہا ہوں اور دماغ لسی ہوگیا ہے۔ ابھی اس کام کے لیے میں اپنے ذاتی تیار کردہ سافٹویر استعمال کررہا ہوں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نیم حکیم خطرہ جاں۔ تو جو کام میں سافٹویر سے اتنی دیر لگا کر، بار بار ڈی بگ کرکے، غلطیاں نکال نکال کر کرتا ہوں وہ شاید ہاتھ سے جلدی ہوجاتا۔  ;-D شاید نا ہو۔ چلو دل کو ڈھارس تو ہے کہ "جلدی" ہورہا ہے۔
میں اصل میں ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتے ہوئے ریگولر ایکسپریشنز پر بہت انحصار کرتا ہوں۔ لالچ یہ ہوتا ہے کہ کام جلدی ہوجائے گا لیکن کام خراب بھی ہوجاتا ہے اور اکثر ہوجاتا ہے۔

ہفتہ، 22 مئی، 2010

ٹور پروجیکٹ

ٹور پروجیکٹ انٹرنیٹ پر بے جا پابندیوں کو بائی پاس کرنے اور اپنی شناخت چھپا کر ویب سرفنگ کرنے کا ایک آسان، مفت اور اوپن سورس ذریعہ ہے۔ یہ پوری دنیا میں اپنے آنلائن صارفین کے ذریعے ایک نیٹ ورک بنا لیتا ہے جس کے ذریعے بلاک شدہ ویب سائٹس کو باآسانی کھولا جاسکتا ہے۔ فائرفاکس کے پورتیبل ورژن کے ساتھ اس کا یو ایس بی ورژن بھی اتار جاسکتا ہے جبکہ اسے ویسے بھی انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ یہ فائرفاکس کے ساتھ ایک ایکسٹنشن کے ذریعے متصل ہوجاتا ہے اور اپنی انٹری سسٹم سٹارٹ اپ میں ڈال دیتا ہے۔ فائرفاکس کے سٹیٹس بار میں نظر آنے والے ایک بٹن کے ذریعے ٹور کو فعال یا غیرفعال کیا جاسکتا ہے۔ میرا مقصد یوٹیوب کو چلانا تھا لیکن اس کے ذریعے فلیش ویڈیوز نہیں چلتیں، ہر باری فلیش پلگ ان انسٹال کرنے کا ایرر آجاتا ہے جبکہ فیس بُک وغیرہ کھل جاتی ہیں۔ ابھی دیکھا تو اٹھائیس ہزار ایک سو چونسٹھ سے ممبر ہوچکے تھے اس گروپ کے جس کا نام آنر پرافٹ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ الحمد اللہ میں بھی اس کا ایک رکن ہوں۔
بات صرف انداز نظر کی ہے، یہ الو کے پٹھے اگر اس پیج کو بلاک نہیں بھی کرتے تو کیا، میں اپنی بساط کے مطابق انھیں کے انداز میں انھیں جواب دوں گا۔ میں کسی پاکستان بلاگز ایسوسی ایشن کا صدر، جنرل سیکرٹری یا بانی رکن نہیں ہوں، فیصل آباد سے ایک کمی کمین سا بلاگر ہوں، فیصل آباد جو اگرچہ پاکستان میں ہی آتا ہے لیکن کراچی والوں کو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ کراچی میں رہ کر بھی پاکستان کی نمائندگی کی بات کریں اور پاکستان بلاگز ایسوسی ایشن وغیرہم تشکیل دیں۔ اور ایسی تنظمیں چاہے فیس بُک پر پابندی کے حق میں کانفرنس کریں یا اس کی مخالفت میں، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔
ویسے جس دن فیصل آباد سے ایک سے دو بلاگر ہوگئے تو میں بھی ایک عدد آل پاکستان بلاگرز ایسوسی ایشن بنا لوں گا، صدر میں اور جنرل سیکرٹری نیا بلاگر ہوگا۔ چناچہ اگر کوئی فیصل آباد آنلائن ہے تو رابطہ کرے، اردو بلاگ تشکیل دے تاکہ آل پاکستان بلاگرز ایسوسی ایشن تشکیل دی جاسکے۔
اپڈیٹ: یوٹیوب چلانے کے لیے ٹور بٹن پر کلک کرکے ترجیحات میں جائیں اور پلگ انز کو فعال کردیں پہلا ہی آپشن ہے۔

جمعہ، 21 مئی، 2010

کڑوا کڑوا تھُو تھُو

مسلمان بلکہ پاکستانی مسلمان اللہ میاں کی بھیڑیں ہیں۔ جس طرف ایک میں میں کرتی چل پڑے دوسری اس کے پیچھے سر جھُکائے بیں باں کرتی چل پڑتی ہیں آگے والی چاہے کھائی میں جاگرے لیکن پیچھے والی پھر میں باں باں کرتی پیروی کرتی جائیں گی حتی کہ کھائی میں خود بھی نہ گر جائیں۔
فیس بُک پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنانے کے سلسلے میں ایک گروپ بنا اور لوگوں نے اس پر احتجاج شروع کردیا۔ کسی نے اس کے خلاف گروپ بنایا، کسی نے ہولوکاسٹ کے گروپ کو جوائن کرلیا، کسی نے اس پیج  کے خلاف رپورٹ کی اور کسی نے فیس بُک ویسے ہی چھوڑ دی۔ اس کے بعد اسلام کے ٹھیکیداروں نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور کورٹ نے فیس بُک کو بلاک کروا دیا۔ اس فیصلے کی آڑ میں حکمرانوں نے یوٹیوب کو بھی بلاک کردیا، وجہ یہ بتائی گئی کہ اس پر بھی توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مواد موجود ہے۔ جتنا مواد موجود ہے وہ اچانک ہی یاد آگیا انھیں ورنہ یہ کونسا نئی بات تھی۔ اصل سیاپا تو ان ویڈیوز کا تھا جو میرے جیسے کمی کمین یوٹیوب پر اپلوڈ کردیتے تھے جن میں ان وزیروں مشیروں کے کچے چٹھے اور گندے پوتڑے دھوئے گئے ہوتے تھے۔ اصل سیاپا تو یہ تھا توہین رسالت کا تو نام لگا ہے بس ،اور مولوی بھی بے چارے مفت میں بدنام ہوگئے۔
اب یاران نکتہ داں اور نکتے نکال رہے ہیں کہ وکی پیڈیا پر بھی یہی کچھ موجود ہے اسے بھی بلاک کردو۔ اس کے بعد گوگل کو بھی بلاک کردیا جائے، یاہو کو بھی اور بنگ کو بھی۔ اور بلاگنگ کی ویب سائٹس کو بھی، کہ اس کے خلاف بھی بہت سے لوگ بہت عرصے سے سڑ رہے تھے کہ یہ کمی کمین انٹرنیٹ پر جاکر بکواس کرلیتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں، وہ ذریعہ بھی بند کیا جائے۔
میرے یار پاکستانی فیس بُک اور اسلامی فیس بُک کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اور میں حیران ہورہا ہو کہ اے کھلدی کیوں نئیں۔ یار کھلے تو صحیح  کہ میں یار کا نظارہ تو لوں کہ کیسے نظر آتے ہیں میرے سرکار۔ لیکن دو دن سے میں اس کے ربط pakfacebook.com پر جاکر اور انتظار کر کر کے پرابلم لوڈنگ پیج کا ایرر دیکھ کر واپس آجاتا ہوں۔ آج سے چند برس قبل جب پیپسی اور کوکا کولا کے خلاف مہمات چلیں تھیں تو مسلم کولا اور اس طرح کے کئی "مسلم" ڈرنک منظر عام پر آگئے تھے۔ ہم نے بھی دو ایک بار مذہبی جذبے سے لا کر اسے پیا لیکن اسے مستقل پینے کے لیے مجنوں ہونے کی ضرورت تھی جس کی لیلی کالی بھی اسے گوری لگتی تھی ۔ہم مجنوں نہ ہوسکے چناچہ اس دوسرے درجے کے ڈرنک کے عادی نہ ہوسکے اور جتھے دی کھوتی اوتھے آکھلوتی کے مصداق پھر کوکا کولا اور پیپسی پر واپس آگئے۔ مسلم کولا بھی ایک دن اپنی موت آپ مرگیا اور اب عرصے سے اس کا نام تک نہیں سنا ۔ اس ساری رام کہانی کا مقصد یہ تھا کہ صرف کی جھاگ کی طرح ہماری ایمانی جھاگ بہت چڑھی ہوئی ہے آج کل اور مسلم و پاکستانی فیس بُک کے نعرے لگ رہے ہیں، منہ سے کف اُڑ رہے ہیں لیکن میں شرط لگانے کو تیار ہوں چند ماہ میں یہ سب برابر ہوجائے گا اور سب ٹھنڈے ٹھنڈے اپنے اپنے کاموں پر لگ جائیں گے۔ پاکستانی فیس بُک والے پھر مکھیاں مار رہے ہونگے اور اصلی یہودیوں والی فیس بُک پھر سے جلوہ گر ہوگی۔
بات تو یہ ہے نا سائیں کہ اپنے پلے کچھ ہوبھی۔ ہمارے پلے ٹکا بھی نہیں اور ہم چلے ہیں فیس بُک کے مقابلے کی ویب سائٹ بنانے۔ اتنی تو ہماری اوقات ہے نہیں کہ فیس بُک پر جاکر چار پیسے ہی کما لیں۔ اپنی ویب سائٹ کی پروموشن کروا لیں مفت میں، اس کے لیے ٹریفک جنریٹ کروا لیں۔ یہ اپنی فیلڈ سے متعلق گروپس جوائن کریں، فیلڈ کے ماہرین سے رابطے میں رہ کر اپنے مستقبل کے لیے مواقع پیدا کرلیں۔ ہماری تو اڑان اتنی ہے کہ فیس بک پر جاکر مافیا وارز کھیل لیں، قسمت کا حال بتانے والی ایپلی کیشنز کو سبسکرائب کرا لیں، فی میلز میں انٹرسٹڈ ہوں، جو کڑی نظر آئے فٹ اسے ایڈ کرلیں حتی کہ اس کے دوستوں کا کھانہ فُل ہوجائے اور اس کے بعد بھی میرے جیسے باز نہ آئیں مسلسل ایڈ کرنے کی کوششیں فرماتے رہیں کہ کبھی تو ایڈ ہوگی ہی۔
یو ٹیوب پر پابندی لگ گئی ہے، تو ایک عدد پاکستانی یوٹیوب بھی بنا لیں۔ کے خیال ہے جناب دا؟ لیکن وہی بات پھر سائیں کہ اوقات تو ہماری اتنی ہے کہ یو ٹیوب پر بھارتی اور انگریزی گانے تو سن سکتے ہیں جاکر ہم لیکن اتنا نہیں کرسکتے کہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کے متعلق ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں۔
جتنی اوقات ہوتی ہے تو رب سائیں بھی اتنا ہی دیتا ہے۔ ہماری اوقات ہی یہ ہے کہ چھتر پڑیں اور لگاتار پڑتے ہی جائیں۔ ہم چیخیں چلائیں بھی لیکن پھر بھی پڑتے چلے جائیں۔ ایک طرف چھتر یہ پڑے کہ فیس بُک پر توہین رسالت ہو اور ہم بس ٹاپتے رہ جائیں اور اس پر پابندی لگوا دیں۔ جس کے نتیجے میں اگر کوئی مثبت کام اس کے ذریعے ہوبھی سکتا تھا تو وہ بھی نہ ہوسکے۔ یو ٹیوب پر پابندی لگوادیں تاکہ سیاستدانوں کے سیاہ کارنامے تو نظر نہ آسکیں لیکن تعلیم سے متعلق جو کچھ وہاں تھا وہ بھی جاتا رہے۔ ابھی وکی پیڈیا پر پابندی باقی ہے وہ بھی لگی کے لگی اب۔ رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ جن کو اسائنمنٹ بنانے کے لیے یہاں سے مواد مل جاتا تھا وہ بھی گئے۔
لیکن آپ فکر نہ کریں ورلڈ سیکس ڈاٹ کام ابھی بھی کھلتی ہے یہاں، دیسی بابا ڈاٹ کام بھی کھلتی ہے۔ چناچہ تفریح جتنی مرضی کریں اور "اصلی تے وڈی" تفریح کریں۔ باقی تعلیم و ترقی کا کیا ہے سالی ہوتی ہی رہے گی۔ پہلے باسٹھ سالوں میں ہم نے کیا کرلیا جو اس انٹرنیٹ سے ہم نے کرلینا تھا۔ بلکہ میرا تو خیال ہے کہ حکومت پاکستان پی ٹی وی کی طرح ایک انٹرنیٹ براڈکاسٹنگ سروس بنا لے اور پاکستان میں صرف یہ ویب سائٹ کھلا کرے۔ جو سب کچھ ہرا ہرا دکھائے، جہاں صدر، وزیر اعظم و ہمنواؤں کی روزانہ کی لمحہ لمحہ رپورٹ نشر کی جائے۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، جلسے جلوسوں میں عوام کا جوش خروش دکھایا جائے۔ باقی سب کچھ ہی بلاک کردیا جائے تاکہ عوام جو خراب ہورہی تھی، فیس بک پر وقت ضائع کرتی تھی، یوٹیوب پر انڈین گانے سنتی تھی اور بلاگز پر جاکر بکواس کرتی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی گھر بیٹھے اور شانتی کے شربت پیے۔
جیے پاکستان، جیے پاکستان کے ٹھیکے دار
جیویں اسلام کے ٹھیکے دار
اور اسلام کی خیر ہے، اس کا ٹھیکہ ویسے بھی اللہ نے لے رکھا ہے چناچہ اس کی کوئی فکر نہیں۔

جمعرات، 20 مئی، 2010

آج پھٹے چک لین دے

لو جی اس وقت ہمارے ڈیزل انجن لیپ ٹاپ پر ایک عدد گانا لگا ہوا ہے اور ہم اس پر جھوم جھوم کر پوسٹ لکھ رہے ہیں۔ قصہ اس پوسٹ لکھنے کا مختصر یہ کہ ہم نے اس پر اوبنٹو 10.04 انسٹال کرہی لیا ہے۔ کل ہمارا مڈٹرم کا آخری پرچہ تھا اور واپس آکر ہم نے پہلے اس کی خبر لی۔ اس پر پہلے سے انسٹال ونڈوز سیون نے پارٹیشن ایسے بنائی تھیں کہ لینکس ان کو سپورٹ نہیں کرتا۔ ڈائنامک پارٹیشنز جانے کب سپورٹ ہونگی لینکس میں، سنا ہے یہ 2000 تک بھی بنائی جاسکتی ہیں جبکہ پرائمری ایکسٹنڈڈ کی دُکّی چھبیس تک ہی جاسکتی ہے شاید۔ خیر رب جانے کیا بات ہے ہم نے سارے آپشن ٹرائی کرنے کے بعد دیسی حل ہی سوچا۔ لیپ ٹاپ کو ہوم نیٹورک سے منسلک کرکے اہم ڈیٹا ڈیسکٹاپ پر منتقل کیا اور ساری ہارڈ ڈرائیو کر جھاڑو پھیر دی۔ ایکس پی کی سی ڈی ڈال کر پارٹیشنز کیں اور اس کے بعد ونڈوز 7 دوبارہ، پھر اس کا میک اپ وغیرہ کیا، اپڈیٹ کیا اور پھر اوبنٹو لوسڈ انسٹال کرلیا۔
یہ ساری کارگزاری کل تین سے رات آٹھ بجے تک کی ہے جبکہ اس کے بعد ایک بجے اٹھ کر ہم نے اوبنٹو کے شگن کرنے شروع کیے اور صبح پانچ بجے تک کیے۔ آپس کی بات ہے لینکس استعمال کریں یا نہیں ہمیں اس کا بُوتھا سرخی پوڈر لگا ہی پسند ہے۔ اپنی پسند کے اطلاقیے ہوں جن میں بینشی ہے اور اس بار جس میں رئیل میڈیا فائلز کو لائبریری میں شامل کرنے کی سہولت بھی آگئی ہے، کبھی گنوم ڈو بھی ہوتا تھا لیکن اب لانچی ہے، اوپر والا پینل اڑا کر نیچے والے پینل پر سنگل مینیو لگانا جو اس بار ہمیں گِنو مینیو کی شکل میں ملا ظالموں نے کیا نقل اتاری ہے وسٹا کے سٹارٹ مینیو کی، ایک عدد بیک گراؤنڈ چینجر جیسے ڈریپس اور ایک دو سکرین لیٹس۔ یعنی گندی سی انگریزی زبان میں سیکسی سا ڈیسکٹاپ جو دیکھنے والے کے ڈیلے باہر نکلوا دے۔ تو ہمارا تقریبًا اسی قسم کا سسٹم تقریًبا تیار ہے اور یہ پوسٹ ہم اس کی تکمیل و افتتاح کی خوشی میں لکھ رہے ہیں۔ اس افتتاحیہ تقریب کے مہمان خصوصی و صدر نشین ہم بذات خود ہی تھے اور یہ ابھی ابھی ختم ہوچکی ہے۔ نیچے ہم کچھ سکرین شاٹس دے رہے ہیں جو کہ ہم نے ابھی ابھی لیے ہیں۔
ان میں ایک ہمارے بلاگ کی انگریزی ٹرانسلیشن کا بھی ہے۔ ہنسی بھی آرہی ہے اور خوشی بھی ہورہی ہے کہ چلو جیسا بھی ہے اردو کو بھی لفٹ کرائی گوگل نے۔

From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop

جمعرات، 13 مئی، 2010

فیس بُک ہائے ہائے

انڈین فلموں میں دس بارہ ایکسٹرے اکٹھے کرکے منتریوں اور بڑے لوگوں کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگوائے جاتے ہیں۔ اوپن سورس کی دنیا میں بھی ہائے ہائے کے نعرے لگتے رہتے ہیں جن کا نشانہ عمومًا مائیکروسافٹ اور اس کی پراڈکٹس ہوتی ہیں۔ اور اس کے "حواری" بھی نہیں بچتے، جیسے نوویل جو ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا اوپن سورس متبادل مونو بناتی ہے۔ خیر بات تھی فیس بُک کی ہائے ہائے کی۔ اوپن سورس والے جب کسی کی ہائے ہائے کرنا چاہیں تو اس چیز کا اوپن سورس متبادل شروع کردیتے ہیں۔ فلیش پلئیر کا اوپن سورس متبادل آیا جی نیش، چلا یا نہیں چلا یہ الگ بات ہے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ آفس کا متبادل اوپن آفس ہے جو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر والی بات ہے۔
تو جناب اب فیس بُک کے حالیہ پرائیویسی کے خلاف اقدامات نے بہت سے لوگوں کے احتجاج پر مجبور کردیا۔ قصہ ان کا یہ ہے کہ فیس بُک اپنی پارٹنر ویب سائٹس کے ساتھ آپ کی پروفائل سے معلومات شئیر کرے گا چناچہ جب آپ فیس بُک سے وہاں تشریف لے جائیں گے تو آپ کی آںکھوں کے سامنے وہی چیزیں نچائی جائیں گی جنھیں آپ نے وش لسٹ میں رکھا ہوا ہے یا فیورٹ لسٹ میں جیسے کوئی کتاب جو آپ پڑھنا چاہ رہے ہیں۔ امریکی سینٹرز سے لے کر عام لوگوں تک سب نے اس بات پر فیس بُک کو لعن طعن کیا ہے لیکن فیس بُک نے نہیں مان کر دی۔ تو اب اوپن سورس والے میدان میں آگئے، چار طلباء نے مل کر ڈائیاسپورا تشکیل دینے کا سوچا ہے جو کہ فیس بُک کی طرح کی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہوگی لیکن آپ کے کنٹرول میں، آپ کی مرضی کے مطابق پرئیویسی مہیا کرتے ہوئے۔ اور اس کام کے لیے انھوں نے فنڈ ریزنگ بھی شروع کی ہوئی ہے۔ فی الحال ان کے پاس اٹھاون ہزار ڈالر ہوچکے ہیں اور ابھی ان کے بیس دن باقی ہیں چندہ مہم کے۔ یعنی ایک لاکھ ڈالر سے اوپر ہوجائے گا اور اس کے بعد یہ نیٹ ورکنگ سائٹ شروع ہوگی۔ اور میں تو اس کا رکن دوڑ کر بنوں گا استعمال چاہے میں فیس بُک ہی کروں۔ آخر انگلی کٹا کر شہیدوں میں بھی تو شامل ہونا ہے۔ ہمیشہ کی طرح جیسے لینکس میرے پاس  انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اوپن آفس بھی انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اس کی رکنیت بھی ہوگی استعمال ۔۔۔۔۔
فیس بُک کے باغی ڈائیاسپورا میں پناہ لے سکتے ہیں انھیں ویلکم کہا جائے گا، منیر عباسی ایک اور فیس بُک آگئی ہے ہر ڈومین سے فیس بُک نکلے گی تم کتنی فیس بُک چھوڑو گے۔
یہ معلومات یہاں سے چرائی گی ہیں۔

بدھ، 12 مئی، 2010

میرا آئی بی ایم تھنک پیڈ ٹی 61

یہ ہے جی میرا لیپ ٹاپ۔ آئی بی ایم تھنک پیڈ ٹی 61۔


اس کی تفاصیل کچھ یوں ہیں۔

  • پروسیسر 2 گیگا ہرٹز کور ٹو ڈوئل سینٹرینو ٹیکنالوجی
  • ہارڈ ڈسک 160 جی بی
  • ریم 1 جی بی، دو ماڈیولز میں
  • 14 انچ سکرین
  • وائی فائی جو کہ کچھ مسئلہ کرتا ہے، چیک کرانا پڑے گا آج
  • سی ڈی اور ڈی وی ڈی روم
  • اور ایک عدد کی بورڈ بھی ہے اس میں ;)

ہائے مائیکروسافٹ

میری عادت ہے کہ عمومًا ایک سے زیادہ آفس سوئٹ انسٹال ہوتے ہیں میرے پاس. اور ایک سے زیادہ آپریٹنگ سسٹم بھی۔ اوبنٹو اور ونڈوز کا کمبی نیشن پچھلے پانچ سال سے استعمال کررہا ہوں۔ ہر پی سی پر یہ ہوتا ہے ہاں کبھی نیا ورژن آنا ہو تو کچھ وقت کے لیے لینکس اڑ جاتا ہے، یا ونڈوز دوبارہ کی ہو تو وقت کی کمی اور سستی کی وجہ سے ڈوئل بوٹ پر نہیں آپاتا کئی دن تک۔ ونڈوز کے اندر بھی میری عادت ہے کہ اوپن آفس اکثر انسٹال ہوتا ہے اور اپنا ذاتی کام مجھے اس میں کرنا پسند ہے، یہ الگ بات ہے کہ کچھ فیچرز کی کمی یہ کسی خاص انداز میں کام نہ کرنے کی وجہ سے میں اس سے اکتا بھی جاتا ہوں، جیسے ایکسل 2007 اور اب 2010 میں گراف بہت فینسی قسم کے بنتے ہیں جبکہ اوپن آفس کیلک اس معاملے میں غریب ہے ابھی۔
عرض یہ کرنا تھا بعد اس تمہید کے، کہ اوپن آفس میں بھی چونکہ کام کرتا رہتا ہوں تو اوپن ڈاک فارمیٹ میں کچھ فائلیں بھی ہوتی ہیں ہمیشہ۔ اب م  س کا 2010 آفس آگیا ہے جس میں اوپن ڈاک کی سپورٹ بھی ہے، اگرچہ یہ 2007 کے سروس پیک میں بھی فراہم کردی گئی تھی لیکن میرے پاس اس کا پرانا ورژن ہی تھا، تو میں اوپن ڈاک فائلیں بھی م س میں ہی کھول لیتا ہوں۔ لیکن کیلک کی فائل محفوظ کرتے وقت ایکسل ہر بار ایرر دیتا ہے۔ میری عادت ہے کہ ہر چند سیکنڈ کے بعد محفوظ کرنا ہوتا ہے چونکہ بجلی کا تو کوئی بھروسہ نہیں لیکن یہ ایرر بہت تکلیف دیتا ہے۔ ایرر بڑا سادہ سا ہے کہ یہ فائل فارمیٹ کچھ فیچرز کو سپورٹ نہیں کرتا۔
ایسی ہی ایک وارننگ اوپن آفس بھی دیتا ہے جب فائل کو ورڈ کے فارمیٹ میں محفوط کیا جارہا ہو۔ لیکن وہاں ہر بار اس پیغام سے بچنے کے لیے ایک آپشن ہوتا ہے کہ آئندہ نہ دکھاؤ۔ لیکن م س آفس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ م س آفس میں زیادہ خوبیاں سہی لیکن مائیکروسافٹ کا انداز ہمیشہ آگ لگانے والا ہوتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں ہمارے ہاں بکری نے دودھ بھی دیا تو مینگنیاں ڈال کر۔ سو حساب مائیکروسافٹ کا ہے۔

جمعرات، 6 مئی، 2010

ہونا ہمارا صاحب لیپ ٹاپ

لو جی ہم بھی صاحبِ لیپ ٹاپ ہوگئے۔ اگرچہ یہ پرانا سا ہے اور ماڈرن سا بھی نہیں لگتا لیکن یہ ایک لیپ ٹاپ ضرور ہے جس کی ہمیں خواہش کئی سالوں سے تھی۔ لیکن ہر بار منہ سنوار کر رہ جاتے تھے۔ اب اللہ کریم نے توفیق دی تو ایک عدد آئی بی ایم تھنک پیڈ لیا ہے۔ اگرچہ پرانا ہے لیکن ہمارے لیے نیا ہی ہے۔ اور انھے ہتھ بٹیرے جیسی کوئی بات بھی لگ رہی ہے۔ خیر اللہ کریم کا شکریہ۔۔ تھینک یو اللہ جی کہ تُسیں انھے ہتھ بٹیرا پھڑایا۔
مزید تفصیلات کے لیے ہمارے ساتھ رہیں، چونکہ یہ ابھی ہمارے پاس نہیں ہے اس لیے ماڈل و تصاویر مہیا نہیں کرسکتے اس وقت۔

جمعہ، 30 اپریل، 2010

sudo apt-get upgrade -d

اگر اوبنٹو کا ایک نیا ورژن آچکا ہے اور آپ سیدھے طریقے سے اس پر اپگریڈ نہیں کر پارہے، اپگریڈ مینجر کو کوئی سیاپا پڑ گیا ہے تو میری طرح یہ کام کیجیے۔ چونکہ اس بار میرے پکے ارادے کے باوجود کہ ٰصراط مستقیمٰ پر چل کر اپگریڈ کرنی ہے، پر نئیں۔ لو جی فیر اپگریڈ کرو دیسی انداز وچ۔
Alt+F2 دبا کے رن باکس وچ لکھو

sudo gedit /etc/apt/sources.list
اب 'karmic' کو 'lucid' سے تمام کا تمام بدل دیں اور ٹرمینل میں لکھیں۔

sudo apt-get update

اور پھر

sudo apt-get upgrade -d
اور اسے ڈاؤنلوڈنگ پر لگا کر خود سو جائیں۔ امید ہے صبح تک ہوجائے گا۔ لو جی فیر اسیں وی سون لگے۔

اتوار، 18 اپریل، 2010

جلدی جلدی کچھ باتیں

فیصل آباد کل سے بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ صبح آٹھ سے بارہ تک بجلی بند رہی، پھر دو سے پانچ تک اور اس کے بعد آٹھ بجے سے بھی پہلے بند ہوکر رات دس بجے کے بعد آئی۔ گیارہ ساڑھے گیارہ بند ہوئی تو اب صبح چار بج  کر 25 منٹ پر آئی ہے اور یہ بھی پانچ بجے تک بمشکل ہوگی۔ فیصل آباد کے ساتھ تو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ کیا تھا وفاقی وزیر نے لیکن لگتا ہے پھر ہڑتال کی کال دینی پڑے گی۔
پچھلی تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ وہ واقعی میرے اندر سے نکلی تھی اور میں ایسے ہی فرسٹریٹ ہوتا ہوں جب میرے پاس کام نہ ہو۔ احباب کے مشوروں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔
خاور صاحب آپ نے خبروں کا ترجمہ کروانا ہو تو ست بسم اللہ جب کروانا ہو بتا دیجیے گا۔ ریٹ آپ سے طے کرلیں گے۔ گوروں سے 4 روپے فی لفظ تک لیتے ہیں اس سے کم لیں تو ویب سائٹ والے بلاک کردیتے ہیں کہ مقابلے کا ماحول خراب کررہا ہے لیکن ایک پاکستانی صاحب کے ساتھ کوئی ڈیڑھ ماہ کام کیا، ان سے قریب پچیس پیسے فی لفظ لیے تھے۔ آج کل وہ کام نہیں کرراہے مجھ سے۔
نعمان کا خصوصی شکریہ جنہوں نے میری تحریر اپنے بلاگ پر لگائی اور اتنی ساری تعریف بھی کی۔
بدتمیز نے ایک خصوصی تحریر میں میری اس تحریر کا تذکرہ کیا اور اپنے مخصوص بے لاگ سٹائل میں اس کے بخیے ادھیڑے۔ آداب عرض ہے، اس جراحی کو۔ میں نے آج تک کبھی ڈیٹا اینٹری، آرٹیکل رائٹنگ یا ری رائٹنگ نہیں کی۔ بس میری خواہش ہوتی ہے کہ ترجمے کا کام مل جائے چونکہ وہ میری اپنی فیلڈ لسانیات سے بھی متعلق ہے۔ یہ دوسرے کام تو بس ایویں دل پشوری کو دیکھ لیا کرتا ہوں شاید کوئی پسند آجائے لیکن آج تک کوئی پسند نہیں آیا، بلکہ میں آج تک کسی گاہک کو پسند نہیں آیا۔ کئی بار بلاگ شروع کرنے کا بھی دل کیا لیکن بلاگ کے لیے بھی لکھنا پڑتا ہے، میں تو فری لانسر کے طور پر نہیں لکھتا بلاگ کے لیے کیا لکھوں۔ پچھلے چار سال سے انگریزی بلاگ شروع کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اب پھر شروع کیا ہے شاید اس بار کچھ مستقل مزاجی رہ جائے۔
اچھا تو میں آخر کرتا کیا ہوں پھر؟ میں نے عرض کیا تھا کہ لسانیات سے متعلق پراجیکٹس کبھی مل جاتے ہیں جیسے پنجابی کا کوئی کورس ڈویلپ کرنا۔ پچھلے دنوں ایسی ایک جاب ملتے ملتے رہ گئی، رقم بڑی تگڑی تھی لیکن انھیں چاہیے گورمکھی ایکسپرٹ تھا جو پنجابی کے ڈائلاگز لکھ کر دے سکے انھیں۔ میں شاہ مکھی جانتا تھا بس، چناچہ مجھ سے واپس لے لی انھوں نے ورنہ مجھ سے بہتر چوائس ان کے پاس نہیں تھی۔ خیر قسمت میں نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک پراجیکٹ پنجابی کے طلباء کی سننے کی صلاحیت جاننے کے لیے ریکارڈنگز تیار کرنا ہے۔ میں پنجابی چینلز سے ریکارڈنگ کرتا ہوں پھر انھیں 30 سیکنڈ سے 120 سیکنڈ تک کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، ایک ریکارڈنگ کسی ایک موضوع پر ہوسکتی ہے اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ اور پنجابی ٹرانسکرپشن کرکے بھیجتا ہوں۔ وہ منظور ہوجائے تو اچھے پیسے مل جاتے ہیں، انھیں پیسوں میں سے پچھلے ماہ دوست کو ادھار دیا تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک یہی پراجیکٹ ہے میرے پاس جسے مستقل کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اختتام کی طرف جارہا ہے، لیکن مجھے امید ہے جاتے جاتے مجھے یہ ایک لیپ ٹاپ دے جائے گا انشاءاللہ۔
اور جاتے جاتے یہ کہ میں نے گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا لوکل جی آر ای ہے۔ جب شروع ہوا تھا بہت مشکل ہوتا تھا اب تو بہت آسان کردیا ہے انھوں نے نا انگریزی کے الفاظ مشکل ہوتے ہیں اور نا ریاضی کے سوال ہی مشکل ہوتے ہیں۔ خیر میں نے ایم ایس سی کے بعد جو اس سال اگست تک ہوجائے گی، ایم فل میں داخلہ لینا ہے جس کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تو میں نے اسے بغیر تیاری کیے پاس کرلیا ہے، جس کی مجھے ککھ بھی امید نہیں تھی۔ نمبر میرے 74 آئے ہیں اور پرسنٹائل 99 بنتا ہے یعنی میں 99 فیصد طلباء سے بہتر ہوں۔ یہی مطلب ہوتا ہے نا پرسنٹائل کا؟
یہ چند باتیں جلدی جلدی آپ سے شئیر کنا تھیں۔ باقی پھر سہی۔

منگل، 13 اپریل، 2010

کام کرو جی کام

دنیا پاگل ہے جی روٹی کی تلاش میں۔ اور انٹرنیٹ پر تو لوگ باؤلے ہورہے ہیں۔ کام کام کام مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کماؤں۔ ہر طرف بس یہی ہاہا کار ہے۔ میرے جیسے کنویں کے مینڈک بھی ہر طرف تاکتے جھانکتے پھرتے ہیں ترجمہ کروا لو، پروف ریڈنگ کروا لو، ڈیٹا اینٹری کروا لو، آرٹیکل لکھوا لو۔۔ کہ شاید کہیں سے کوئی آواز پڑے اوئے چھوٹے ادھر آ یہ بوٹ تو پالش کردے۔
سائیں انٹرنیٹ پر یہ چھوٹے موٹے کام بوٹ پالش کرنے جیسے ہی ہیں۔ فری لانسر ایسی قوم کا نام ہے جسے آپ عام زندگی میں دیہاڑی دار کے نام سے یاد کرتے ہیں، دیہاڑی دار یعنی رنگساز جو برش کو رنگ کے ڈبے پر رکھ کر سارا دن اڈے پر بیٹھا رہتا ہے اور دن ڈھلنے پر انتظار کر کر کے اور بارہ ٹہنی کھیل کر گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ راج مستری ہے جو اوزاروں والا تھیلا سارا دن سامنے رکھ کر انتظار کرتا ہے اور روزگار نہ ملنے پر سارا دن بیٹھ کر سر جھکائے گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ مزدور ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے اور اب صرف ہتھوڑی چلا کر اینٹوں کی روڑی بنا سکتا ہے لیکن لمبے دستے والی ہتھوڑی لیے سارا دن بس بیٹھا ہی رہ جاتا ہے اور اسے کوئی بھی نہیں پوچھتا۔ تو صاحبو ہم بھی فری لانسر ہیں۔ انٹرنیٹ کی گلیوں آواز لگاتے پھرتے ہیں ہے کوئی جو ترجمہ کرالے، ہے کوئی جو ڈیٹا انٹری کروا لے ہے کوئی جو پروف ریڈنگ کروا لے ، ہے کوئی جو آرٹیکل رائٹنگ ہی کروا لے، ہے کوئی جو۔۔۔۔۔۔۔۔ کام دے دے۔
ابا جی کہا کرتے ہیں "گھنڈ چُک لیا تے نچن توں ڈرنا کی"۔ تو کام کرنا تو شرم کیا۔ ہاں ہم مزدور ہیں اس میں کونسا کوئی شک ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، اور معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ صاحبو انٹرنیٹ پر میرے جیسے لاکھوں ہیں۔ انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ لاکھوں لوگ جو ایک وقت میں آنلائن ہوتے ہیں اور معمولی سے معمولی معاوضے پر بھی جھپٹ پڑتے ہیں۔ صاحب ہم یہ کام کرسکتے ہیں، صاحب کم سے کم ریٹ دیں گے، صاحب ہمارے پاس پوری ٹیم ہے، 24 گھنٹے کی سروس صاحب، بہترین کوالٹی صاحب۔ اور صاحب کی مرضی کہ وہ کس کو چنتا ہے۔ صاحب کیپچا کی تصاویر کی ڈیٹا انٹری کے لیے پونا ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل لکھنے کا ایک ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل ری رائٹ( ارے جناب اسی کو اپنے الفاظ میں لکھنے) کے ایک سے ڈیڑھ ڈالر دیتا ہے، صاحب ٹرانسکرپشن کرانے کے کم سے کم پیسے دیتا ہے۔ صاحب گورا ہے، صاحب امریکی ہے، صاحب یورپی ہے، صاحب کی ویب سائٹ ہے، صاحب چھان بورے سے آٹا بنوا کر پھر روٹیاں لگواتا ہے اور اپنی دوکان پر سجا لیتا ہے، صاحب اپنی سائٹ کی تشہیر کے لیے ای میل ایڈریس پر سپیم بھیجنے کے پیسے دیتا ہے، صاحب فیس بک اور ٹویٹر پر فین اور فالورز مانگتا ہے، صاحب سب کچھ کروا سکتا ہے، صاحب کے پاس پیسا ہے، وہ فحش کہانیاں بھی لکھوا سکتا ہے، فحش ویڈیوز بھی بنوا سکتا ہے اور ان میں اداکاری بھی کرواسکتا ہے۔ فری لانسر مزدور ہے، کرتا ہے، ہر کام کرتا ہے، پیسے کے لیے کرتا ہے۔ ای میل ایڈریس بیچتا ہے، کیپچا کی ہزار تصویریں دیکھ کر ٹائپ کرکے پونا ڈالر لیتا ہے، آرٹیکل ری رائٹ کرکے ایک ڈالر لیتا ہے، فورمز اور بلاگز پر سپیم پوسٹنگ کرکے پیسے لیتا ہے، سپیم میلز بھیجتا ہے، مزدور ہے نا، بھوکا ننگا ہے اور ڈالر آتے ہیں، کم آتے ہیں تو کیا ہوا آتے تو ہیں، یہاں تو وہ بھی نہیں ملتے، تو مزدور سب کچھ کرتا ہے، سب کچھ بیچتا ہے، عزت بھی بیچنی پڑے تو بیچتا ہے، کیا ہے انٹرنیٹ پر کسی کو کیا پتا چلے گا اگر کسی فحش فلم کے لیے اپنی آواز دے بھی دی تو؟
صاحبو بھوک بڑی ظالم ہے۔ رب بھی بھلا دیتی ہے، جو پالنہار ہے۔ بھلا دیتی ہے سائیں سب کچھ بھلا دیتی ہے، بڑی ظالم ہے یہ بھوک ۔ جب آنکھوں میں ڈالروں کے سپنے اتر آئیں تو پھر حلال حرام کس کو دکھتا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ بس کھانے کو مل جائے، ارے کھانے کو تو ملے، جہاں بھوک برستی ہو وہاں کون دیکھتا ہے کہ آرٹیکل کو ری رائٹ کرکے وہ کسی کی امانت چوری کررہا ہے، وہاں کون دیکھتا ہے کہ "آنلائن جابز: ایڈسینس، ڈیٹا اینٹری، فارم فلنگ جابز" تو یہ دیکھے سوچے بغیر کہ حلال ہے کہ حرام بس چھ ہزار، دس ہزار کی انٹری فیس جمع کرا کے دھڑا دھڑ ڈالر بنانے میں لگ جاتا ہے۔ جیوے ڈالر، اعداد و شمار کا کھیل، جب تک ڈالر سائیں ہے تب تک موج ہے، ڈالر سائیں نہ ہوگا تو دیکھا جائے گا۔ سائیں یہ سب کچھ اعداد کا ہی تو کھیل ہے۔ اتنے کلک ہوگئے تو اتنے عدد ملیں گے۔ اب وہ کلک کسی نے کیسے بھی کیے ہوں، چار دوست مل کر اپنی ہی ویب سائٹ پر روزانہ ایک ایک کلک کرلیا کریں تو کون دیکھتا ہے جی، پر رب تو دیکھتا ہے نا۔ پر کون دیکھے اس دیکھنے کو، یہاں تو پوری پوری کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کام کے لیے، آنلائن جاب کرو جی، ڈالر کماؤ جی، دس ہزار سے تیس ہزار کماؤ جی۔ لوگ کماتے ہیں جی۔ ابھی پچھلے ماہ میرا دوست میرے پاس آیا شاکر پاء جی گھر میں آٹا لانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انجینئیر ہے وہ، ٹیکسٹائل انجینئیر۔ ابا جی کو گولڈن ہینڈ شیک ملا تھا نیشنل بینک سے تو انھوں نے ملنے والی رقم اس کی تعلیم پر لگا دی اب اسے نوکری بھی نہیں ملتی۔ کہنے لگا پاء جی اس میں حقیقت ہے کہ نہیں؟ میں بہن کا زیور رکھوا کر اس کی فیس دوں گا اور یہ کام کرنا ہے۔ میں نے کہا بھائی مجھ سے پیسے لے لو، زیور نہ رکھواؤ وہ مکر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اسے چھ ہزار دیا اور اس نے چھ ماہ کی ممبر شپ لی۔ پتا نہیں اب کام کررہا ہے کہ نہیں۔ مجھے کوئی امید نہیں میری رقم واپس ہوجائے گی، پر بھوک بڑی ظالم ہے سائیں۔ اور زندگی بڑی اوکھی ہے۔ اس کا احساس آج بڑی شدت سے ہورہا ہے۔
ابا جی رکشہ چلاتے ہیں، چنگ چی رکشہ جسے لوڈر رکشہ کہتے ہیں۔ آٹھ بازاروں میں ایک جوتوں کی مارکیٹ میں ہوتے ہیں، سیزن ہو، جیسے آج کل سکول کھل رہے ہیں پھر سے، تو اچھا کام مل جاتا ہے لوڈنگ کا۔ سیزن نہ ہو، جیسے اگلے ایک آدھ ماہ میں ہوجائے گا، تو سارا سارا دن وہاں کھڑے رہنا پڑتا ہے کوئی کام نہیں ملتا۔ پھر وہ گھر آکر فرسٹریشن نکالتے ہیں، آج سارا دن کوئی کام نہیں ملا، پریشانی، کیا بنے گا ہمارا۔ تو ہم انھیں تسلی دیتے ہیں کہ ایسے بھی ہوتا ہے، انسانوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہوجائے گا ٹھیک۔ آج یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میری جوتوں کی مارکیٹ انٹرنیٹ ہے جہاں میں اپنی ہتھ ریڑھی لیے بیٹھا رہتا ہوں، آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہوں، شاید کوئی کام مل جائے، شاید کوئی پرانا گاہک ہی بلا لے، شاید کہیں سے پھنسی ہوئی رقم آجائے، شاید۔۔۔۔۔۔۔ زندگی شاید پر چلتی ہے، فری لانسنگ ویب سائٹس کو کھنگالتے ہوئے، نئے نئے کام تلاشتے ہوئے، شاید یہ بھی میں کرسکوں، ہاں ٹرانسکرپشن کرسکوں گا، چلو ٹرائی کرتے ہیں، ری رائٹنگ مشکل تو نہیں چلو ٹرائی کرتے ہیں، کیوں نا کیپچا ڈیٹا اینٹری کا ہی کرلیا جائے پونا ڈالر تو مل ہی جاتا ہے ایک گھنٹے کا، اور اگر کبھی ترجمے کی کوئی جاب نکل آئے تو وہاں اپنا ریزیومے بھیجنا، جہاں سے اکثر جواب ہی نہیں آتا۔
زندگی بڑی مشکل لگتی ہے، ایک ایسے فیز میں جب آپ زیر تعمیر ہوں۔ میرے جیسا جو جاب بھی چاہتا ہے اور جس کے پاس کوئی قابل ذکر ہنر بھی نہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ؟ نہیں جی۔، ویب ڈویلپمنٹ؟ نہیں جی ورڈ پریس تھوڑا سا جانتا ہوں جی لیکن ویب ڈویلپمنٹ نہیں جی، پروگرامنگ؟ سی شارپ تھوڑی سی آتی ہے جی پر کبھی پروفیشنل ٹیسٹ یا کام نہیں کیا جی بس ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتا ہوں جی کارپس لنگوئسٹکس کے لیے سوری جی،۔ تو پھر پیچھے یہی رہ جاتا ہے کہ ترجمہ کرلیا جائے، تو ترجمہ کرتا ہوں لیکن یہ کام کم کم ملتا ہے بہت سارے لوگ ہیں اس میں بلکہ بڑے پروفیشنل لوگ ہیں، میرے جیسے کئی دھکے کھاتے پھرتے ہیں "پروفیشنل ٹرانسلیٹر" کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں، ترجمہ نہ ملے تو پھر کیا کریں؟ لسانیات کے حوالے سے کبھی کوئی جاب نکل آتی ہے اردو یا پنجابی کا کورس ڈویلپ کرنا یا ایسا کوئی کام۔۔۔ایک آدھ ملا بھی لیکن کبھی چھوٹ بھی جاتا ہے۔ پنجابی کی بات کرو تو گورمکھی کی بات ہوتی ہے، سکھوں والی پنجابی، اردو کی بات ہی کم ہوتی ہے ہندی کی بات ہوتی ہے زیادہ یعنی پھر ادھورا پن۔ لے دے کر پھر رائٹنگ، ری رائٹنگ، ڈیٹا انٹری، کیپچا ڈیٹا اینٹری، ورچوئل اسسٹنٹ، یہ رہ جاتی ہیں لیکن ان کے لیے درکار وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے جیسا پارٹ ٹائمر نہیں کرسکتا۔ سو چپ رہ جاتا ہے لیکن منصوبے بنانے سے نہیں ٹلتا چل یار اپنا بلاگ شروع کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھا کریں گے، گوگل ایڈسینس لگائیں گے اور کمائیں گے، لیکن دل نہیں مانتا، یا لکھا نہیں جاتا، انگریزی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں، پر لکھا نہیں جاتا۔ نہ ادھر ہوا جاتا ہے نہ ادھر۔ اسی دُبدھا میں زندگی گزرتی جاتی ہے۔ عجیب زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوموار، 12 اپریل، 2010

لانگ آرم سٹیچو

عامر ہاشم خاکوانی کا آج کا کالم پڑھنے کے لائق ہے۔ اس میں انھوں نے توہین رسالت کے بارے میں آئین پاکستان میں ایسی شق شامل کرنے کی تجویز دی ہے جس کے ذریعے پاکستان کو اسرائیل کی طرح یہ اختیار حاصل ہو کہ دنیا میں جہاں بھی توہین
رسالت کا ارتکاب کیا جائے ہم اس ملک سے اس مجرم کی حوالگی اور مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرسکیں ایسے ہی جیسے اسرائیل ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کے سلسلے میں کرتا ہے۔ ہمیں یہ سب کرنا ہی ہوگا۔
اب آپ یہ کہیں گے کہ پہلے کونسا توہین رسالت کے موجودہ قوانین کا انتہائی غلط استعمال ہورہا ہے تو ایک اور قانون۔ تو عرض اتنی سی ہے کہ یہ ہماری بے وقوفانہ جذباتیت اور نیتوں کا کھوٹ ہے جو ان قوانین کا غلط استعمال کراتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جان بھی قربان ہے اور اس میں کوئی شک شبہے والی بات ہی نہیں۔

جمعہ، 2 اپریل، 2010

ترقی؟


لو جی اوبنٹو کے بابا جی مارک شٹل ورتھ نے نئے نسخے میں ایک "انقلابی" قسم کی تبدیلی کی ہے۔ اب ونڈو کو بند کرنے والے بٹن دائیں کی بجائے بائیں ہوا کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے۔
ملاحظہ کریں اور سر دھنیں۔ یہ اپریل فول نہیں ہے۔ 10.04 میں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن شکر ہے یہ ایک دو طے شدہ تھیمز میں ہوگا۔ باقی تھیم "سیدھے" راستے پر ہی چلیں گے اور بٹن دائیں طرف ہی ہونگے۔ اس میں کیا مصلحت ہے ہماری ناقص عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ البتہ ایک اڑتی اڑتی یہ سنی تھی کہ ایک عدد مینیو جیسا کہ بائیں جانب آئکن پر کلک کرنے سے سامنے آتا ہے دائیں طرف شامل کردیا جائے گا۔ یعنی منہ کا ذائقہ بدلا جارہا ہے۔ یاد رہے ونڈو بند کھولنے والے یہ بٹن بائیں طرف ہونا میکنٹوش کا انداز ہے۔
پر سانوں کی۔۔۔ ہماری طرف سے انھیں نیچے لے آئیں۔ ہم نے تو اسے واپس اس کی جگہ پر پہنچا لینا ہے۔ یہی تو لینکس کا فائدہ ہے۔ لیجیے ابھی یہ سب کچھ ہونے کی اطلاعات ہی ہیں تو اس کا توڑ بھی موجود ہے۔ مووبٹنز یہ سہولت دیتا ہے کہ بڑا، چھوٹا اور بند کرنے والے بٹنوں کوجیسے مرضی اور جہاں مرضی ترتیب دیں۔

ہفتہ، 27 مارچ، 2010

گرین زون

گرین زون ہالی ووڈ کی ایک نئی فلم ہے جو اسی ماہ جاری ہوئی ہے اور اس کا موضوع عراق پر امریکی حملہ ہے۔ فلم کی کہانی 2003 میں امریکی بمباری سے شروع ہوتی ہے۔ مارچ میں امریکی حملہ ہورہا ہے اور اس کے چار ہفتے بعد امریکہ بغداد پر قابض ہے۔ اس کےبعد بغداد کے گرین زون کا منظر دکھایا جاتا ہے جہاں فوجی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کے لیے بریفنگ میں شریک ہیں، اور ایسی کاروائیاں کر بھی رہے ہیں۔ لیکن انھیں ملتا کچھ نہیں۔ پھر رائے ملر جو فلم کا ہیرو بھی ہے اسے اس سب پر اعتراض ہے کہ یہ ہتھیار مل کیوں نہیں رہے، وہ میٹنگ میں اعتراض بھی کرتا ہے لیکن اس کا منہ بند کروا دیا جاتا ہے۔ اس دوران ایک کاروائی میں اسے ایک مقامی عراقی ملتا ہے جو اسے بعث پارٹی کے افسران کی میٹنگ کے بارے میں بتاتا ہے۔ ملر ہتھیاروں کے لیے ایک پلاٹ کی کھدوائی کروا رہا ہے، سب چھوڑ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ وہاں سے ان کا سرغنہ جنرل الراوی تو نکل جاتا ہے لیکن دو ایک چھوٹے مرغے پکڑے جاتے ہیں ساتھ ایک نوٹ بک ہاتھ لگتی ہے جس میں الراوی کے ٹھکانوں کی تفصیل ہے۔ ابھی یہ لوگ واپس ہی آئے ہیں کہ ہیلی کاپٹر پر ایک اور پارٹی ریڈ کردیتی ہے اور ان سے گرفتار شدگان کو چھین کر لے جاتی ہے۔ یہاں سے ملر اپنی حکومت سے متنفر ہوجاتا ہے۔ اور سی آئی اے کے ایک آفیشل کے ساتھ مل کر، جو پہلے ہی اس جنگ کے خلاف ہے، اصل حقائق کو سامنے لانے پر کام کرتا ہے۔ ایک صحافی جسے واشنگٹن کے ایک اعلی عہدیدار کی طرف سے خودساختہ انٹیلی جنس اطلاعات ملتی ہیں کہ عراق میں ایسے ہتھیار موجود ہیں، ان میں شامل ہے جو امریکہ کی جنگجو حکومت کو عراق پر حملے کے لیے پریس کی مدد فراہم کرنے میں پیش پیش تھے۔ اس کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔ اس دوران ملر اور سی آئی اے کا افسر اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ الراوی کو مار کر حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے چونکہ الراوی ہی وہ ذریعہ ہے جس پر مشتمل خودساختہ رپورٹس اس صحافی کو فراہم کی گئی تھیں۔ ملر الراوی سے ملنے کا پیغام دیتا ہے اور اسکا پتا پینٹاگان کے اس افسر کو چل جاتا ہےجو اس سارے کھیل کے پیچھے ہے۔ وہ پہلے ہی ملر کو ٹرانسفر کروا چکا ہے اور اور سی آئی اے کے افسر سے وہ نوٹ بک واپس لے چکا ہے، جو ملر اسے دے دیتا ہے بعد میں، جنگجو اور بش کا بھائی یہ افسر اسی فوجی افسر کو بھیجتا ہے کہ الراوی کو اڑا دیا جائے۔ اسی دوران یہ افسر ایک اعلان میں عراق کی ساری فوج، انٹیلی جنس اور حکومتی اداروں کی تحلیل کا اعلان کردیتا ہے۔ جبکہ وہاں جنرل کو احساس ہوگیا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے، اور نئے عراقی سیٹ اپ میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اب۔ وہ ملر کو پکڑ لیتا ہے لیکن ملر اسے یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے تاہم ایسا نہیں ہوپاتا۔ کچھ آنکھ مچولی چلتی ہے ملر اسے اپنے مخلاف فوجی افسر سے تو بچا لیتا ہے لیکن ملر کا وہ مقامی مخبر اسے اڑا دیتا ہے۔ اس کے بعد پیناگان کا جنگ پسند افسر بڑے فخر سے عراقی پارٹیوں کے لیڈران کو اکٹھا کرتا ہے۔ ملر اس سے مل کر جھگڑتا ہے، اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے اور جب وہ افسر واپس آتا ہے تو کمرہ اجلاس مچھلی منڈی بنا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو گالیاں دے رہا ہے۔ ملر اپنی رپورٹ بڑے پریس اداروں کو بھی بھیج دیتا ہے جن میں وہ ہتھیاروں کی رپورٹ شائع کرنے والی یہ صحافی بھی شامل ہے۔ اور تماشا ختم ہوجاتا ہے۔
یہ کہانی ان حالات کی عکاس ہے جن کے تحت امریکی حکومت نے عراق پر حملہ کیا اور فتح کے شادیانے بجائے۔ وہاں کے مقامی سیٹ اپ کو تباہ کردیا، آرمی کو ختم کردیا اور پرانی لیڈر شپ کو دبا و قتل کردیا۔ جس کے نتیجے میں ایسی خانہ جنگی بھڑکی کہ آج بھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تو نہ ملے البتہ وسیع پیمانے پر عراق ضرور تباہ ہوگیا۔ سی آئی آے کے افسر کو حاجی دکھایا گیا ہے جو دعوی کرتا ہے کہ چھ ماہ میں خانہ جنگی بھڑک اٹھے گی، تاہم میرے خیال سے سی آئی اے کا ہی سارا رپھڑ تھا اس میں، ان کی غلط رپورٹس نے یہ جنگ بھڑکائی۔ خیر دیکھیے گا ضرور، اچھی اور فکر انگیز فلم ہے۔

ہفتہ، 27 فروری، 2010

ذرا ہٹ کے

سی ڈی اے لسانیات کی ایک شاخ ہے جس کا مقصد کمیونیکیشن کی زبان و الفاظ کے پیچھے چھپے پوشیدہ معانی کو سامنے لانا ہے۔ کمیونیکیشن کسی بھی طرح ہوسکتی ہے، الفاظ استعمال کرکے، کوئی جسمانی حرکت کرکے یا صرف کسی چیز کی اجازت دے کر۔
کل رات میرے محلے کی گلیوں میں چراغاں ہورہا تھا، مولویوں نے سپیکروں پر رولا ڈالا ہوا تھا اور بجلی بار بار بند ہوکر جارہی تھی۔ میں نے اس سب کو ذرا اور طرح سے دیکھنے کی کوشش کی۔
اس سال پچھلے سالوں سے زیادہ کمرشلائزیشن
دکھاوا، نمود و نمائش، سجاوٹ اور نعرے بازی
سرکاری تعطیل
اس سارے ڈسکورس کو اگر دیکھیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
ملک کے شمال میں دیوبندی انتہا پسند سرگرم ہیں جن کے زور کو توڑنے کے لیے حکومت کو ایک مذہبی ہتھیار کی ضرورت ہے۔ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی ہستی ہے جس کا نام آجائے تو محبت رسول کے نام پر جذبا ت کے فوارے ہمارے اندر سے پھوٹنے لگتے ہیں۔ چناچہ عید میلاد النبی کو پروموٹ کرنے کا مقصد دیوبندی انتہا پسندوں کے مقابل بریلوی اعتدال پسندوں کو کھڑا کرنا ہے۔ جیسا کہ آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ بریلوی مسلک کے علماء نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی ہے
مزید یہ کہ حکومت کو اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دینا ہے کہ پاکستان ایک کٹڑ اسلامی ملک ہے۔ چناچہ عید میلاد النبی کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔
میں اس بحث میں نہیں جاؤں گا کہ عید میلاد النبی بدعت ہے یا نہیں، اور صرف تیس سال پہلے تک یہ کمرشلائزیشن موجود نہیں تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں نے اس ڈسکورس کا ایک تجزیہ آپ کےسامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اتوار، 17 جنوری، 2010

لینکس جابز

انٹرنیٹ پر آج کل ہمارا کام جاب کی تلاش ہوتا ہے. اور جس طرح چیل کو اپنے مطلب کی چیز میل کے فاصلے سے نظر آجاتی ہے ویسے ہی  ہم ہر اس چیز کی لپکتے ہیں جس میں جاب کا لفظ آجائے. ایسے ہی ایک لپکنے چھپکنے میں ہمارے ہاتھ یہ ربط لگا. اگرچہ یہ میرے جیسوں کے لیے کوئی ایسی کام کی چیز بھی نہیں لیکن لینکس کی آنلائن جابز کے لیے اچھا آغاز ثابت ہوسکتی ہے.

جمعہ، 8 جنوری، 2010

فلمیں شلمیں

پچھلے  سے  پچھلے ماہ اور پچھلے ماہ کے پہلے پندرھواڑے تک بجلی وافر مقدار میں ملتی رہی اور ہمیں مفت کا ایک وائرلیس نیٹ ورک بھی ملتا رہا تو اہم نے اسے رج کے استعمال کیا اور ڈھیر ساری فلمیں اتاریں۔ ان فلموں میں سے دو فلمیں جو یاد رہ گئیں وہ ان کی آپسی مماثلت ہے۔ سروگیٹس میں ایک سائنسدان ایسے روبوٹس ایجاد کرتا ہے جو انسانوں کے دوسرے جسم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ خود سارا دن ایک تابوت میں لیٹے رہیں اور آپ کا روبوٹ اوتار آپ کی جگہ کام کرے گا چونکہ اصل میں وہ بھی آپ ہی ہیں، وہی محسوسات اور ویسا ہی بلکہ طاقتور جسم۔ اس فلم کے آخر میں یہ سارا نظام اس کے خالق کے ہاتھوں ہی تباہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس فلم کا گنجا سا ہیرو پتا نہیں اس کا نام کیا ہے سارے انسانوں کو بچا لیتا ہے اور روبوٹ نظام قیں ہوجاتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں بڑی پسند آئی وہ اوتار ہے۔ کہانی  کی بنیاد وہی ہے ایک عدد ہیرو اور ایک عدد ولن۔ ایک ہیروئن اور اس کے گھر والے جن کو آخر میں ہیرو بچا لیتا ہے۔ اور ہاں ہیرو کی ٹریننگ بھی۔ لیکن جو چیز اس کی بہت اچھی تھی وہ ایک نئی دنیا تھی۔ آج کل کارٹون والے اور فلموں والے ایسی کہانیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں جن میں غیر ارضی مخلوق کو دکھایا گیا ہو۔ آپس کی بات ہے یہ اچھی بھی بہت لگتی ہے۔ بہت دلچسپ، ہماری بھی اندر سے خواہش ہے کہ ایسی دنیاؤں کے بارے میں جانیں جو ارضی نہ ہوں۔ اس فلم میں اینی میشن اور حقیقی عکس بندی کو کچھ اس طرح ملایا گیا ہے کہ ایک شاندار منظرنگاری پر مشتمل فلم وجود میں آئی۔ ارے ہاں اس کی سروگیٹس سے مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ معذور ہیرو ان انسان نماؤں میں ایسے ہی شامل ہوتا ہے جیسے سروگیٹس میں لوگ روبوٹس کو بطور متبادل جسم استعمال کرتے ہیں۔ ہیرو صاحب ایک تابوت نما چیز میں لیٹ جاتے ہیں پھر اللہ تیری یاری ہیروئن کے ساتھ چھلانگیں لگاتے پھرتے ہیں۔ اگرچہ ہیروئن کوئی اتنی "خوبصورت" نہیں تھی لیکن ہیروئن تو تھی نا۔ بہرحال فلم پسند آئی اور بہت ہی پسند آئی۔ بلکہ مجھے تو اتنی پسند آئی کہ میرا دل کیا کہ یہاں تبلیغ کرنے پہنچ جاؤں۔ الو کے پٹھے پتا نہیں کس کی عبادت کررہے ہیں اللہ میاں کی عبادت کریں۔  ہاں ان کے ہاں کعبے کا مسئلہ ہوتا لیکن وہ تو حل ہوجاتا جن محددات یعنی جتنے ارض بلد اور طولبلد پر کعبہ یہاں واقع ہے ایسا ہی وہاں بنا لیتے۔ کرنی تو عبادت ہے نا جی۔ ہائے ہمارا کتنا دل کرتا ہے ساری دنیا بلکہ ساری کائنات کو مسلمان کرلیں۔ اور خود آپس کے سیاپے ہی ختم نہ کر پائیں۔
خیر تُسیں چھڈو۔ یہ خبر پڑھو۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلم بن جائے گی، سہ جہتی ہے نا اس لیے اس کا ٹکٹ بھی مہنگا بکتا ہے۔ چلو جی سانوں کی، ہمیں تو مفت مل جاتی ہے دیکھنےکو۔ اصل سواد تو دوسری تیسری قسط کا ہے۔ سنا ہے ہدائیتکار صاحب کہانی ہٹ ہوگئی دیکھ کر اب دوسری تیسری قسط کے لیے چھری کانٹا تیز کررہے ہیں۔

اتوار، 3 جنوری، 2010

لوڈ شیڈنگ

پاکستان میں دسمبر کے آخری اور جنوری کے شروع کے ہفتے پچھلے تین سال سے لوڈ شیڈنگ کے عروج کے دن ہوتے ہیں۔ دن میں بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجوہات کو پچھلے تین سالوں سے حل نہیں کیا جاسکا بلکہ یہ مسئلہ شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
سردیوں‌میں‌ہمارےپاس ایندھن کی کمی ہوتی ہے۔ ہماری گیس گھروں میں ہی اتنی لگ جاتی ہے کہ فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں۔ سی این جی سٹیشنز کو گیس کی دو دن فی ہفتہ بندش اسی وجہ سے ہے۔ پاور سٹیشنز کو بھی گیس نہیں ملتی اور کام پورا ہوجاتا ہے۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے ہمارے ڈیم بھر ہی نہیں‌ رہے، جیسے ہی سرما میں ڈیم بند کیے جاتے ہیں سارا پاور سسٹم ختم ہوجاتا ہے۔ پیچھے ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی ہوجاتی ہے۔ یاد رہے سردیوں میں چار ہزار میگا واٹ کی کمی گرمیوں کی چار ہزار میگا واٹس کی کمی سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پیداوار پندرہ ہزار کے اریب قریب اور کھپت بیس ہزار کے اریب قریب ہوتی ہے۔ سردیوں میں کھپت دس ہزار میگاواٹ سے بہت کم ہوتی ہے اور میں سے چار ہزار میگا واٹ کی کمی کا مطلب ہے فیصد میں ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی۔ پچھلے تین سال سے دسمبر کے آخری دو ہفتے اور جنوری کے پہلے دو ایک ہفتے اتنہائی بدترین لوڈ شیڈنگ کے ہوتے ہیں۔ اس سال سے تو گیس بھی کم آنے لگی ہے۔ بجلی بند ہوتے ہی گیس بھی کم ہوجاتی ہے، چولہا جلائیں تو گیس بلب نہیں جلتا وہ جلائیں‌ تو چولہے پر روٹی بھی نہیں پکتی۔ ہماری گیس زیادہ سے زیادہ اگلے آٹھ سال تک کے لیے ہے وہ بھی تب جب نئے کنکشن نہ دئیے جائیں اور سی این جی سٹیشن نہ لگائے جائیں۔ گیس کہاں سے آئے گی کا خیال کیے بغیر گاڑیوں کو بلامنصوبہ بندی سی این جی پر کیا گیا اور آج گھروں  میں روٹی پکانے کے لیے بھی گیس نہیں‌ ہوتی سردیوں‌ میں۔ قصبوں‌ اور دیہوں میں سیاسی بنیادوں پر گیس کنکشن دئیے گئے اور گنجان آباد شہروں‌ کے رہنے والے جہاں‌ کوئی اور ایندھن بھی دستیاب نہیں آئے دن گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں۔ عجیب سسٹم ہے ہمارا۔ ڈنگ ٹپاؤ۔ کھاتے جاؤ۔ جب ختم ہوگا دیکھی جائے گی۔
 ہمارے پاس ابھی تک متبادل ذرائع توانائی سے بجلی کے حصول کے لیے کوئی جامع منصوبہ، پالیسی یا ادارہ موجود نہیں ہے۔ متبادل توانائی بورڈ کے ملتے جلتے نام سے ایک حکومتی ادارہ مشرف دور میں کچھ سرگرم رہا ہے۔ ان لوگوں نے ٹھٹھہ بدین وغیرہ میں غیرملکی کمپنیوں کو پوَن چکیاں لگانے کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔ لیکن ابھی تک ایک آدھ پوَن چکی ہی آپریشنل ہوسکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی بجلی بھی دس روپے سے زیادہ فی یونٹ لاگت کی حامل ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کے قریب ایک ماڈل دیہہ جو شمسی توانائی پر چلتا ہے پچھلے کئی سال سے موجود ہے، پنجاب میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر کرنے کی بڑھک پچھلے دنوں خادم اعلی کی جانب سے سنائی دی۔ اب اس پر عمل کتنا ہوگا رب جانے اور خادم اعلی جانیں۔
ہمارے پانی کے ذخائر تیزی سے انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر پچھلے پانچ سال میں کئی بڑے اور بیسیوں چھوٹے ڈیم بنا چکا ہے جس کی وجہ سے آج راوی گندہ نالا ہے اور اس وقت چلتا ہے جب سیلاب آنا ہو۔ جہلم آدھا خشک ہوچکا ہے اور ستلج کو تو سندھ طاس معاہدہ کھا گیا۔ بھارت کے وولر بیراج اور بگلیہار ڈیم پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے نہ مشرف دور میں کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ موجودہ حکومت پچھلے ڈیڑھ سال سے کچھ کرسکی ہے۔ جماعت علی شاہ، ہمارا نام نہاد واٹر کمشنر پتا نہیں کیا کرتا پھر رہا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے اس عہدے پر موجود یہ شخص کن کا ایجنٹ ہے اور اسے پانی کی کمی نظر کیوں نہیں آتی۔ ہمارا بارشوں کا نظام تیزی سے نارمل سے ہٹ رہا ہے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں غیرموسمی بارشوں سے قریبًا ہرسال سیلاب آجاتا ہے اور  ماضی کے بارانی علاقے اب آسمان کو بادلوں سے عاری دیکھ دیکھ کر ترس جاتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے تحت پانی سٹور کرنے کے لیے ہماری  پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی یا جدت نہیں لائی گئی۔صرف ایک دیامر بھاشا ڈیم جس پر کام اگلے دس سال میں مکمل ہوگا اسے شروع کیا گیا ہے۔
ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہماری کوئی پالیسی نہیں۔ اور ہماری حکومت یہ ہے کہ ہماری کوئی حکومت نہیں۔ اور ہماری قوم یہ ہے کہ یہ کوئی قوم نہیں ہجوم ہے۔