فیس بُک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فیس بُک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 25 اپریل، 2016

کچھ لکھیے!

"کچھ لکھیے۔" آج کئی دن ہو گئے ہمارے اندر کھد بد سی جاری ہے۔ ہر کچھ دیر بعد اندر سے ایک آواز آتی ہے "کچھ لکھیے ناں"۔ ہمارے کان لال ہو جاتے ہیں، گالوں کا درجہ حرارت سو کو چھونے لگتا ہے۔ ہم پہلے ہڑبڑا کر ادھر اُدھر دیکھتے ہیں پھر خود کو لعنت ملامت کرتے ہیں کہ ایسی بھی کیا ۔۔اچھا خیر چھوڑیے۔ اصل میں مسئلہ ہے کہ اندر سے آنے والی یہ آواز خاصی لوچ دار اور نرم و نازک سی ہوتی ہے۔ جیسے بھلے وقتوں میں کوئی دروازے کے پیچھے سے مُنے کے ابا کو کہا کرتا تھا،" اجی سنیے بازار سے کشمش ہی لیتے آئیے گا"۔ تو شاید ہمیں ہسٹیریا، دو قطبیت یا اس کا قریبی رشتہ دار کوئی چھوٹا موٹا نفسیاتی عارضہ ہو گیا ہے جو  ہمارے کان بجنے لگتے ہیں۔ اور کمبخت کچھ ایسے ٹیون ہوئے ہیں کہ ایک ہی فریکوئنسی کی آواز کیچ کرتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کبھی کوئی کھرکھراتی ہوئی، بیٹھی ہوئی، کھانستی ہوئی یا بلغم زدہ آواز میں "کچھ لکھیے ناں" کہے۔ جمالیات کا تو بیڑہ غرق جو ہو گا سو ہو گا، لکھا بھی ہسپتالوں کی حالتِ زار قسم کے موضوع پر جائے گا۔

تو صاحب آج کل ہمارے اندر سے کوئی آواز آتی ہے کہ کچھ لکھیے۔ ہم عرصہ پچیس یوم سے کچھ ایسی بنجر زمین ہوئے ہیں کہ جرمنی کی سرد بارشیں بھی اس پر ہریاول لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے سامنے ٹہنیوں پر بُور آیا اور اب نوجوان پتے لہلہاتے ہیں۔ لیکن ہم کچھ ایسی زمین بن گئے ہیں کہ گھاس بھی روٹھ گئی ہے۔ اب اس بے موسم خزاں میں بھلا کیا لکھا جائے۔ لیکن ہم نے بھی آج کچھ لکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ تو آئیں بسم اللہ کرتے ہیں۔ آپ پڑھتے جائیں ہم لکھتے جاتے ہیں۔

سیاست ، جسے پیار سے ہم سیاہ ست پکارا کرتے ہیں، پر کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے کشمیری میاں صاحب وزیرِ اعظم اور ان کی سیاسی فلم کے ولن عمران خان نیازی آج کل بڑھک آرا (بر وزن معرکہ آرا) ہیں۔ بڑا گرما گرم موضوع ہے اور یار لوگ دھڑا دھڑ پکوڑے تل تل کر بیچ رہے ہیں۔ ہم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ وزیرِ اعظم کو دو چار دھولیں رسید کر لیں۔ ماہرِ دھرنا احتجاجیوں کی ٹانگ کھینچ لیں۔ پانامہ لیک کی بوری  سے کچھ مزید گندے کپڑے برآمد کر لیں۔ یا پہلے ہی برآمد شدہ کو ذرا اونچا کر کے ٹانگ کر ان پر تبصرہ کر دیں۔ لیکن پھر ہمیں ہر دو طرف کے "مجاہدین" کے ہاتھوں توپ دم ہونے سے کون بچائے گا؟ تو ہم اس موضوع پر اپنی رائے محفوظ رکھتے ہوئے کسی اور موضوع کی طرف چلتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ کچھ مہینوں میں ہم فیس بُک پر بہت سے لکھاریوں کے پیروکار (فالور) بن گئے ہیں۔ کوئی دو ایک ایسی ویب سائٹس لانچ ہو گئی ہیں جن پر بہت بڑے بڑے گلیور قسم کے سخن ور اپنی دانش کے موتی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ آج کل فیس بُک پر ایک معرکہ حق و باطل برپا ہے جس کے ایک طرف اسلام کے "محافظ" رائٹسٹ اور دوسری طرف "نئے" بیانیے کے داعی سیکولر(فاشسٹ وغیرہ وغیرہ) اپنے اپنے قلم سونتے معرکہ آرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک گھُمسان کا رن پڑا ہے، کمنٹس کے چھینٹے اُڑ رہے ہیں، لائیکس چلائے جا رہے ہیں اور دھڑا دھڑ پوسٹس شیئر ہو رہی ہیں۔ مشورے دئیے اور لئے  جار ہے ہیں۔ ایک قیامت کا سا سماں ہے، سینگ سے سینگ لڑا ہے اور ہم کافی فاصلے سے چوری چوری دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم بھی کسی سے سینگ لڑائیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمارے نازک سر پر ایک عدد ہیلمٹ ہونا چاہیئے جو ہمیں جوابی بھیڈوانہ (بھیڈو پنجابی میں بھیڑ کے جوان بچے کو کہتے ہیں) ٹکروں سے بچائے۔ تو ان ٹکروں بلکہ ڈھُڈوں سے بچنے کے لیے ہم اس موضوع پر لکھنے سے بھی توبہ کرتے ہیں۔

تو صاحب اس کا منطقی نتیجہ کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس پر لکھا جائے۔ اور آج کل ہم لسانیات کر رہے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے ہم پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش شروع کر چکے ہیں۔ اپنا موضوعِ تحقیق جسے انگریزی میں ریسرچ پروپوزل کہتے ہیں تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارے سامنے طرح طرح کے پاکستانی انگریزی بلاگز کا ڈیٹا ہے اور اس کے ساتھ ہم لُکن میٹی کھیل رہے ہیں۔ گراف ہیں، ٹیبل ہیں، ایچ ٹی ایم ایل فائلیں ہیں اور ان سے ڈیٹا نکالنے کے لیے سی شارپ نامی ایک پروگرامنگ زبان میں کچھ شاعری (بقول شخصے  coding is poetry) فرمانا آج کل ہماری مصروفیات میں شامل ہے۔ آپ سے لسانیات کی بات کریں تو کیا کریں۔ ہم کون سا ادبی نقاد ہیں جو مصنف کی تحریر پڑھ کر ایک اور ادبی قسم کی تحریر لکھ ڈالیں۔ ہماری آٹھ سالہ تربیت تو کچھ ایسے ہوئی ہے کہ آنکھیں ایکسرے مشین بن گئی ہیں۔ لفظ مل کر ترکیب (فریز) بناتے ہیں، جس سے جملہ اور پھر پیرا گراف بنتا ہے۔ آوازیں اور صرفیے ، معانی اور سیاقی معانی (پریگمیٹکس) اور لسانی تغیرات۔ ہماری تربیت اگر آرٹسٹ کے طور پر ہوئی ہوتی تو ہم بھی کچھ لکھتے۔ ہم رینچ پانا پکڑے ایسے مستری جیسے ہیں جس کی نظر گاڑی کی خوبصورتی نہیں اس کے کُل پرزوں اور ڈھانچے پر جاتی ہے۔ اس کے ہونے کو انجوائے کرنے کی بجائے وہ بونٹ کھول کر اپنے ہاتھ کالے کرنے میں روحانی اطمینان اور سکون محسوس کرتا ہے۔ تو صاحب اب آپ ہی بتائیں آپ کو اپنے رینچ پانےاور سیاہی بھرے کالے ہاتھ دکھائیں یا یہ تحریر یہیں ختم کر کے آپ کی بھی خلاصی کروائیں؟ لگتا ہے کہ موخر الذکر آپشن بہتر ہے۔ 

تو اخلاقی سبق یہ ملا کہ ہم نے آج ناں ناں کرتے ہوئے بھی کچھ لکھ ہی لیا۔

ہفتہ، 20 فروری، 2016

فیس بُک پر لائیکنے کے رہنما اُصول

حضراتِ گرامی فیس بُک آج اُمت کی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ لاتعداد صالحین روزانہ اس میدان میں برسرِ عمل نظر آتے ہیں۔ فیس بک کی ان بے پایاں خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ضرورت محسوس ہوئی کہ فیس بُک کے حوالے سے کچھ آداب وضع کر لیے جائیں۔ علماء کے ہاں لائیکنا فیس بُک کے اہم ترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں لائیکنے کے آداب اور اصول و مبادی پر کوئی خاطر خواہ تصنیف نہیں ملتی۔ اسی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فدوی یہ مختصر رسالہ لکھ رہا ہے تاکہ عوام الناس کو فیس بک پر صراطِ مستقیم اپنانے کی تلقین ہو۔

1۔ مقدس ہستیوں سے منسوب اشیاء کی تصاویر کو لائیکنا فیس بُک کے فرائض میں شمار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ تصویر میں دئیے گئے تیر کے نشان کو فالو کرتے ہوئے لائیک کا بٹن دبایا جائے۔ بلکہ افضل یہ ہے کہ لائیکنے کے ساتھ ساتھ شیئرنے کا عمل بھی سرانجام دے کر شیطان کو شکست دی جائے جو ہمیشہ آپ کو ایسی تصویر شیئرنے سے روکے گا۔ امید ہے اس طرح مزید خیر و برکت حاصل ہو گی۔

2۔ ڈی پی اور کور فوٹو تبدیل ہوتے ساتھ ہی لائیک کرنا فیس بُک کے واجبات میں شمار کیا جائے گا۔ آپ کے فرینڈز آپ کے پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔ نیز چونکہ آپ اپنی ڈی پی کے لیے بھی ان کی جانب سے لائیکنے کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی وہی چاہیں جو آپ اپنے لیے چاہتے ہیں۔ ڈی پی اور کور فوٹو فوراً لائیکنا افضل ہے تاہم مصروفیت کی وجہ سے چند گھنٹے تک کی تاخیر گوارا کی جا سکتی ہے۔ ڈی پی یا کور فوٹو پر جا کر تعریفی کمنٹس بھی افضل عمل شمار کیے جائیں گے۔

3۔ آپ کی فیڈ میں آنے والی تصویری اور عبارتی شاعری کو لائیکنا فیس بُک کے علماء کے نزدیک ایک مستحسن عمل خیال کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف فرینڈز کی دلجوئی ہوتی ہے بلکہ انہیں مزید عملِ نیک کی توفیق بھی ملتی ہے۔

4۔ آپ کے فرینڈز میں اگر کوئی فیس بُکی رائٹر یا شاعر موجود ہیں تو ان کی طبع زاد پوسٹوں کو لائیکنا باعثِ فضیلت ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے لائیکنے کو نئے پودوں کو پانی دینے سے تشبیہ دی ہے۔ آپ کے لائیکنے سے یہ ننھے پودے کل تناور درخت بھی بن سکتے ہیں۔

5۔ اپنے فرقے/ گروہ/ قوم کی تعریف کرنے والی اور مخالفین کی ذاتیات پر حملہ کرنے والی پروپیگنڈہ تصاویر اور پوسٹس کو لائیکنا بھی فیس بُک کے افضل الاعمال میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے شیئرنے کی بھی پرزور تاکید کی ہے۔

فیس بک کے حوالے سے یہ رسالہ ابھی زیرِ تکمیل ہے۔ ہماری دیگر علمائے فیس بُک سے بھی دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس کارِ خیر میں حصہ ڈالیں اور اُمت کو فیس بُک پر صراطِ مستقیم دِکھا کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

جمعرات، 8 اگست، 2013

فیس بُکی ارشادات و اقوالات

میرے احباب میں سے اکثر فیس بُک پر پلاٹ یا پلازوں کے مالک ہیں۔ اور میری سڑیل طبعیت کے کرم ہیں کہ پورے محلے میں مجھے لوگ اتنی بار مہینے میں نہیں دیکھتے ہوں گے جتنی بار فیس بک پر روزانہ دیکھتے ہیں۔ چنانچہ اس صورتِ حال کا سادہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میں اکثر فیس بُک پر پایا جاتا ہوں، اور دن کے کسی بھی وقت (بشمول رات) کسی بھی وقت بڑی بے شرمی سے پایا جا سکتا ہوں۔ اس پائے جا سکنے کی وجہ سے میں نہ صرف بذاتِ خود وہاں ادھر اُدھر کی ہانکتا رہتا ہوں، بلکہ اپنے جیسے دوسرے (ویلے کہنا زیادتی ہو گی) فیس بُکیوں کے ارشاداتِ گرامی بھی پڑھتا سنتا رہتا ہوں۔

کہتے ہیں جی کہ سانپ کو سانپ مارتا ہے، آرائیں کو آرائیں ہی ٹکرتا ہے اور فیس بُکیے کا دکھ درد ایک فیس بُکیا ہی سمجھ سکتا ہے۔ فیس بُک پر آپ غم غلط کرنے کے لیے بے شمار کام کر سکتے ہیں۔ گیم کھیلنا تو اب پرانا شوق ہو چکا ہے، تصویر بنا کر شئیر کرنا بھی کچھ نیا نہیں رہا، اپنے "میں ڈھڈی والے جا رہا ہوں" قسم کے اسٹیٹس اپڈیٹ بھی اب پرانے ہو چکے ہیں۔ لیکن فیس بک پر نئی چیزوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ چنانچہ آج کل حبیبانِ فیس بُک  کے ہاتھ آ ئے چھنکنے کا نام ہیش ٹیگ ہے۔ اب ہیش ٹیگ اکیلا ہوتا تو کوئی حیرت والی بات نہیں تھی یہی ہیش ٹیگ ٹوئٹر اور گوگل پلس پر عرصہ دراز سے کھجل ہو رہے ہیں۔ فیس بُک احباب نے (یہاں اردو لکھنے والے فیس بکیے مراد ہیں) ایک نئی جگاڑ لگائی ہے۔ اپنے اقوالِ زرّیں کی تشہیر کے لیے انہوں نے ذاتی ٹیگ تخلیق کیے ہیں۔ مثلاً بلو، ٹِلو، اچھو، نِمو، بھالو وغیرہ ۔ چنانچہ اپنے اقوالِ زریں اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کرنے کے بعد نیچے یہ ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو فیس بک پر جا کر ان ناموں سے ہیش ٹیگ سرچ کر کے دیکھ لیں آپ کو زندگی کو سنوارنے والے ایسے ایسے اقوال ملیں گے کہ کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا، آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے لگے گا، اب تک کی زندگی برباد شدہ لگے گی، آئندہ زندگی اس فیس بُک مرشد کے بغیر بے کار لگنے لگے گی، اور آپ حد سے زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں تو غصہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، فون وغیرہ وغیرہ قسم کے آلہ رسائی فیس بُک پر بھی نکل سکتا ہے۔

عزیزانِ گرامیِ بلاگ آوازِ دوست! ایک وقت تھا کہ ہم کھُل کر حسد فرما لیا کرتے تھے۔ یہی کوئی بیس برس پہلے۔ جب ہم چھوٹے یعنی، نِکے ہوا کرتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے ہمیں اپنا حسد چھپانا پڑا کہ یہی دنیا کی ریت ہے۔ اب تقریباً پکی عمر تک پہنچتے پہنچتے اور پکتے پکتے یہ عادت اتنی پک چکی ہے کہ حسد کیے بغیر اگلا کھانا ہضم نہیں ہوتا (ہم حسد مارکہ پھکی بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔)۔ خیر حسد تو ہوتا ہے لیکن ہم اس کو ویسے نکال نہیں سکتے جیسے چھوٹے ہوتے نکال لیا کرتے تھے۔ اور چونکہ ہماری اکثر و بیشتر کائنات فیس بُک ہی ہے، تو اس پر لوگو ں نے جب نئے طریقے ایجاد کر لیے تو ہمارا بھی دل کیا کہ ہم بھی ایسا کریں۔ اور نہ کر سکنے کی وجہ سے ہم بھی شدید قسم کے حسد کا شکار ہو گئے۔ اس کو نکالنے کے لیے ہم نے سوچا کہ زہر کو زہر سے اور ہیش ٹیگ کو ہیش ٹیگ سے مارا جائے، # حاسد کا ہیش ٹیگ تشکیل دے کر عوام الناس، خواص الناس بلکہ یکے بعد دیگرے ہر ایک کاستیا ناس بلکہ سوا ستیا ناس مارا جائے، دل کی بھڑاس نکالی جائے، ریسٹ روم میں 'ریسٹ' فرماتے ہوئے اترنے والے، بدہضمی اور پیٹ کی خرابی کی صورت میں گیس کے ساتھ دماغ کو چڑھنے والے زریں خیالات کو اقوالِ زریں کی صورت میں عوام الناس کی مت مار نے کے لیے فیس بُک پر رکھا جائے۔

لیکن صاحبو کیا بتائیں آپ کو، کہ جیسے ہم اکثر و بیشتر شاعری کی قبض کا شکار رہتے ہیں، کچھ یہی صورتحال اقوالِ زریں کی صورت میں بھی رہی۔ ہم نے بہتیری کوشش کی، فیس بک پر کئی کئی گھنٹے قیام کیا کہ شاید کچھ غیرت ہی آ جائے، مشہور و معروف احباب کے ہیش ٹیگز پر مشتمل ارشاداتِ گرامی کو بار بار پڑھا کہ شاید کوئی لیڈ مل جائے، کوئی سرا ہاتھ آ جائے۔ لیکن صاحب یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔۔الخ، ہماری قسمت تھی ہی نہیں ہم زور لگا کر رہ گئے اور فیس بُکی احباب اقوالِ زریں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے۔ چنانچہ ہمارے پاس آخری حل یہ بچا کہ ایک عدد بلاگ پوسٹ لکھ کر دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں، جو ہم نے پھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں بھی سواد نہیں آیا۔ پھپھولے کچھ نہ کچھ رہ گئے۔

یہ تو منفی باتیں تھیں، مثبت بات یہ ہے کہ ہم کُلی طور پر اقوالِ زریں سازی کے عمل سے باہر نہیں رہے، کچھ نہ کچھ اس سلسلے میں تشکیل پاتا رہا، وہ الگ بات ہے کہ اسے عوام کے سامنے شئیر کرنے کی بجائے آگ لگا دینا اکثر بہتر معلوم ہوا۔ لیکن چونکہ اب معاملہ دل کی بھڑاس نکالنے کا ہے، اور اظہارِ حسد کا ہے، اور اس پوسٹ کا پیٹ بھرنے کا بھی ہے تو ہم نے ان اقوالِ زریں کو یہاں پیسٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ کو پسند آئیں یا نہ آئیں یہ یہیں پڑے ہیں۔ کر لو جو کرنا ہے۔

پہلا قولِ زریں در اصل ایک پیروڈی ہے جو ماہا ملک کے ناول 'جو چلے تو جاں سے گزر گئے' کا ٹیمپلیٹ لے کر ہم نے 'جو چلے تو گاں سے گزر گئے' بنایا۔ گاں یا اگاں پنجابی میں آگے یا فرنٹ کو کہتے ہیں، اب آپ اس کے اطلاقات پر سیر حاصل غور فرما سکتے ہیں، اور کوئی بعید نہیں کہ ایسے ایسے معانی دریافت کر لیں جو ہم نے خواب میں بھی نہ سوچے ہوں۔

ایسے ہی اگلے دن ہم لائبریری سے ایک ناول لینے گئے چھوٹی کی فرمائش پر تو اس کا نام تھا "زندگی گلزار ہے"۔ ہماری منجی ٹھوک طبیعت نے اس کے حصے بخرے کیے اور اپنی تھرڈ کلاس طبیعت سے مجبور ہو کران ٹکڑوں کو دوبارہ سے جوڑا تو نتیجہ یہ نکلا "زندگی شلوار ہے"۔ یہ ہم وزن تو ہو گیا لیکن ساتھ ہی خاصا بے ہودہ بھی ہو گیا (یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے فیس بک پر نہیں لگایا)۔ چنانچہ اس کی اضافی تشریح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تو ہم نے کچھ ایسے تشریح کی: "زندگی شلوار ہے۔ جس کا نالا زیادہ کسا جائے تو بھی سانس رک جاتا ہے اور ڈھیلا رہ جائے تو بھی سنبھالنی مشکل ہو جاتی ہے۔۔۔" اس سلسلے میں مزید بکنے کی گنجائش موجود تھی لیکن ہم نے امنِ عامہ اور پی ٹی اے کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اتنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

عزیزانِ گرامی اس سے پہلے کہ ہم مزید اقوالِ زریں بکیں، اور آپ کے ہاتھ اپنے بال (ظاہر ہے ہمارے بال آپ نہیں نوچ سکتے) نوچنے کی جانب بڑھنے لگیں، ہم اس پوسٹ کا یہیں اختتام کرتے ہیں۔ خوش رہیں، مسکراتے رہیں، اور فیس بُکی اقوالِ زریں تخلیق کرتے رہیں۔ کیا خبر کسی دن آپ کی ذاتی کتاب ہی چھپ جائے۔

جمعہ، 18 جون، 2010

برساتی کیڑے

جِداں مینہ ورن توں بعد دھرتی وچون کیڑے مکوڑے نکل آندے نیں کجھ اینج دا حال اج کل فیس بُک تے لگن والے ڈرامے توں بعد انٹرنیٹ تے وے۔ 2006 وچ جد اے ڈرامہ پہلی واری لگیا سی تے لوکاں یورپی ملکاں دیاں چیزاں دا بائیکاٹ کیتا سی۔ کوکا کولا تے یپیسی وی ایسے چکر وچ آگیاں تے یار لوکاں کوکا کولا تے پیپسی تے مقابلے تے مسلم کولے بنا لئے۔ اپنے ایک پچھلے بلاگ وچ ایہو جئیے کولیاں دا حشر تہانوں دسیا سی۔ کجھ اے ہو ای حال ہُن انٹرنیٹ تے نیٹ ورکنگ سائٹاں دا اے۔ مسلماناں دے مذہبی جذبات نوں چھیڑ کے اے لوگ اپنا الو سیدھا کرنا چاہندے نیں۔ فیس بُک دی دشمنی وچ، تے اسلام دی دوستی وچ بہت ساریاں نیٹ ورکنگ سائٹاں بن گیاں نیں۔ کم اوہناں دی وی اوہو ای اے جیہڑا فیس بُک دا اے۔ یعنی مسُلیاں دا ٹیم لنگھاؤ بلکہ ضائع کراؤ۔ گانے، چیٹ، بلاگ تے پتا نئیں کی کی۔ تے نال اپنا ایڈز دا کم چلا کے پیسے کماؤ۔ آخر اللہ واسطے تے کسے نئیں بنایاں اے ویب سائٹاں۔
لیکن سائیں گل اینج اے کہ ہر کوئی اے کم نئیں کرسکدا۔ فیس بُک والے چھ سالاں تو لگے ہوئے نیں تے اج وی فیس بُک نوں ہوکے آجاندے نیں، اونہاں دی سروس ڈاؤن ہوجاندی اے یا کوئی ہور سیاپا پیا رہندا اے۔ تے اے برساتی کیڑیاں ورگیاں ویب سائٹاں جیہڑیاں ہن نکلیاں ہویا نیں تے نکلدیاں آندیاں نیں اینہاں دے حالات بہت ماڑے نیں۔ ایک ویب سائٹ دا حال تہانوں سنانے آں کہ اوتھے ںظامت کنی سوہنی اے۔
maureen.arnuld@yahoo.com
My name is miss prisca I was impressed when i saw your profile today and i will like to establish a long lasting relationship with you. i will like you to reply me through my e mail address (maureen.arnuld@yahoo.com) This is because i dont know the possibilities of remaining in forum for a long time. please If you are interested in knowing more about me, and for me to send you some of my pictures
please reply me back through my email and with your email so that i can contact you you age colour or distance does not matter in a real realationship but love matters a lot
Thanks waiting to hear from you .
cares prisca.
اے میسج سپیم اے جیہڑا مینوں فید فُل بلین تے وصول ہویا۔ چونکہ میں مسلمان آں ایس لئی ایس سائٹ تے رجسٹریشن کرا لئی کہ چلو خیر اے۔ پر ایتھے کرن لئی میرے کول کجھ نئیں سی۔ کرن لئی تے فیس بُک تے وی میرے کول کجھ نئیں ہندا پر اوتھے دو چار لوگ ہندے نیں تے ایویں دس پندرہ منٹ دی نظر مار کے اسیں مُڑ آئی دا اے۔ اج کئی دناں بعد فیدفُل بلین تے گیا تے ایک غیر فید فُل بی بی ولوں بڑا گرمان والا میسج میرا منتظر سی۔ مطلب تے ایس میسج دا اے ہے کہ میرا ای میل ایڈریس لیا جاوے، پر تساں اے ویکھوں کہ اینہاں ویب سائٹاں دا معیار کی اے۔ اج توں پنج سال پہلاں وی میرے کولوں مسلم کولا نئیں سی پیتا گیا تے اج وی میرے کولوں اے دیسی فیس بُکاں نئیں ہضم ہونیاں۔ میں تے فیس بُک تے ای چنگاں۔
اج توں آوازِ دوست اردو تے پنجابی دو زبانی بلاگ ہووے گا۔ سجن نوٹ کرلین۔ امید ہے تہانوں میری اردو ملی پنجابی سمجھ آجائے گی۔ میرے اُتے جنہاں اردو دا حق اے اوس توں بہتا میری ماں بولی دا حق اے۔ اردو لئی تے ساری دنیا کم کردی اے پنجابی ول کوئی سُکے منہ وی نئیں ویندا۔ تبدیلی ایک بندے توں چلدی اے تے میں فیر اپنے تھاں کم شروع کیتا۔ اگر تہانوں کوئی دکھ درد ہے پنجابی دا تے پنجابی لکھو، پنجابی بولو، تے اپنے بچیاں نوں پنجابی سکھاؤ۔ ورنہ پنجابی لگی جاندی جے۔

ہفتہ، 22 مئی، 2010

ٹور پروجیکٹ

ٹور پروجیکٹ انٹرنیٹ پر بے جا پابندیوں کو بائی پاس کرنے اور اپنی شناخت چھپا کر ویب سرفنگ کرنے کا ایک آسان، مفت اور اوپن سورس ذریعہ ہے۔ یہ پوری دنیا میں اپنے آنلائن صارفین کے ذریعے ایک نیٹ ورک بنا لیتا ہے جس کے ذریعے بلاک شدہ ویب سائٹس کو باآسانی کھولا جاسکتا ہے۔ فائرفاکس کے پورتیبل ورژن کے ساتھ اس کا یو ایس بی ورژن بھی اتار جاسکتا ہے جبکہ اسے ویسے بھی انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ یہ فائرفاکس کے ساتھ ایک ایکسٹنشن کے ذریعے متصل ہوجاتا ہے اور اپنی انٹری سسٹم سٹارٹ اپ میں ڈال دیتا ہے۔ فائرفاکس کے سٹیٹس بار میں نظر آنے والے ایک بٹن کے ذریعے ٹور کو فعال یا غیرفعال کیا جاسکتا ہے۔ میرا مقصد یوٹیوب کو چلانا تھا لیکن اس کے ذریعے فلیش ویڈیوز نہیں چلتیں، ہر باری فلیش پلگ ان انسٹال کرنے کا ایرر آجاتا ہے جبکہ فیس بُک وغیرہ کھل جاتی ہیں۔ ابھی دیکھا تو اٹھائیس ہزار ایک سو چونسٹھ سے ممبر ہوچکے تھے اس گروپ کے جس کا نام آنر پرافٹ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ الحمد اللہ میں بھی اس کا ایک رکن ہوں۔
بات صرف انداز نظر کی ہے، یہ الو کے پٹھے اگر اس پیج کو بلاک نہیں بھی کرتے تو کیا، میں اپنی بساط کے مطابق انھیں کے انداز میں انھیں جواب دوں گا۔ میں کسی پاکستان بلاگز ایسوسی ایشن کا صدر، جنرل سیکرٹری یا بانی رکن نہیں ہوں، فیصل آباد سے ایک کمی کمین سا بلاگر ہوں، فیصل آباد جو اگرچہ پاکستان میں ہی آتا ہے لیکن کراچی والوں کو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ کراچی میں رہ کر بھی پاکستان کی نمائندگی کی بات کریں اور پاکستان بلاگز ایسوسی ایشن وغیرہم تشکیل دیں۔ اور ایسی تنظمیں چاہے فیس بُک پر پابندی کے حق میں کانفرنس کریں یا اس کی مخالفت میں، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔
ویسے جس دن فیصل آباد سے ایک سے دو بلاگر ہوگئے تو میں بھی ایک عدد آل پاکستان بلاگرز ایسوسی ایشن بنا لوں گا، صدر میں اور جنرل سیکرٹری نیا بلاگر ہوگا۔ چناچہ اگر کوئی فیصل آباد آنلائن ہے تو رابطہ کرے، اردو بلاگ تشکیل دے تاکہ آل پاکستان بلاگرز ایسوسی ایشن تشکیل دی جاسکے۔
اپڈیٹ: یوٹیوب چلانے کے لیے ٹور بٹن پر کلک کرکے ترجیحات میں جائیں اور پلگ انز کو فعال کردیں پہلا ہی آپشن ہے۔

جمعہ، 21 مئی، 2010

کڑوا کڑوا تھُو تھُو

مسلمان بلکہ پاکستانی مسلمان اللہ میاں کی بھیڑیں ہیں۔ جس طرف ایک میں میں کرتی چل پڑے دوسری اس کے پیچھے سر جھُکائے بیں باں کرتی چل پڑتی ہیں آگے والی چاہے کھائی میں جاگرے لیکن پیچھے والی پھر میں باں باں کرتی پیروی کرتی جائیں گی حتی کہ کھائی میں خود بھی نہ گر جائیں۔
فیس بُک پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنانے کے سلسلے میں ایک گروپ بنا اور لوگوں نے اس پر احتجاج شروع کردیا۔ کسی نے اس کے خلاف گروپ بنایا، کسی نے ہولوکاسٹ کے گروپ کو جوائن کرلیا، کسی نے اس پیج  کے خلاف رپورٹ کی اور کسی نے فیس بُک ویسے ہی چھوڑ دی۔ اس کے بعد اسلام کے ٹھیکیداروں نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور کورٹ نے فیس بُک کو بلاک کروا دیا۔ اس فیصلے کی آڑ میں حکمرانوں نے یوٹیوب کو بھی بلاک کردیا، وجہ یہ بتائی گئی کہ اس پر بھی توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مواد موجود ہے۔ جتنا مواد موجود ہے وہ اچانک ہی یاد آگیا انھیں ورنہ یہ کونسا نئی بات تھی۔ اصل سیاپا تو ان ویڈیوز کا تھا جو میرے جیسے کمی کمین یوٹیوب پر اپلوڈ کردیتے تھے جن میں ان وزیروں مشیروں کے کچے چٹھے اور گندے پوتڑے دھوئے گئے ہوتے تھے۔ اصل سیاپا تو یہ تھا توہین رسالت کا تو نام لگا ہے بس ،اور مولوی بھی بے چارے مفت میں بدنام ہوگئے۔
اب یاران نکتہ داں اور نکتے نکال رہے ہیں کہ وکی پیڈیا پر بھی یہی کچھ موجود ہے اسے بھی بلاک کردو۔ اس کے بعد گوگل کو بھی بلاک کردیا جائے، یاہو کو بھی اور بنگ کو بھی۔ اور بلاگنگ کی ویب سائٹس کو بھی، کہ اس کے خلاف بھی بہت سے لوگ بہت عرصے سے سڑ رہے تھے کہ یہ کمی کمین انٹرنیٹ پر جاکر بکواس کرلیتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں، وہ ذریعہ بھی بند کیا جائے۔
میرے یار پاکستانی فیس بُک اور اسلامی فیس بُک کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اور میں حیران ہورہا ہو کہ اے کھلدی کیوں نئیں۔ یار کھلے تو صحیح  کہ میں یار کا نظارہ تو لوں کہ کیسے نظر آتے ہیں میرے سرکار۔ لیکن دو دن سے میں اس کے ربط pakfacebook.com پر جاکر اور انتظار کر کر کے پرابلم لوڈنگ پیج کا ایرر دیکھ کر واپس آجاتا ہوں۔ آج سے چند برس قبل جب پیپسی اور کوکا کولا کے خلاف مہمات چلیں تھیں تو مسلم کولا اور اس طرح کے کئی "مسلم" ڈرنک منظر عام پر آگئے تھے۔ ہم نے بھی دو ایک بار مذہبی جذبے سے لا کر اسے پیا لیکن اسے مستقل پینے کے لیے مجنوں ہونے کی ضرورت تھی جس کی لیلی کالی بھی اسے گوری لگتی تھی ۔ہم مجنوں نہ ہوسکے چناچہ اس دوسرے درجے کے ڈرنک کے عادی نہ ہوسکے اور جتھے دی کھوتی اوتھے آکھلوتی کے مصداق پھر کوکا کولا اور پیپسی پر واپس آگئے۔ مسلم کولا بھی ایک دن اپنی موت آپ مرگیا اور اب عرصے سے اس کا نام تک نہیں سنا ۔ اس ساری رام کہانی کا مقصد یہ تھا کہ صرف کی جھاگ کی طرح ہماری ایمانی جھاگ بہت چڑھی ہوئی ہے آج کل اور مسلم و پاکستانی فیس بُک کے نعرے لگ رہے ہیں، منہ سے کف اُڑ رہے ہیں لیکن میں شرط لگانے کو تیار ہوں چند ماہ میں یہ سب برابر ہوجائے گا اور سب ٹھنڈے ٹھنڈے اپنے اپنے کاموں پر لگ جائیں گے۔ پاکستانی فیس بُک والے پھر مکھیاں مار رہے ہونگے اور اصلی یہودیوں والی فیس بُک پھر سے جلوہ گر ہوگی۔
بات تو یہ ہے نا سائیں کہ اپنے پلے کچھ ہوبھی۔ ہمارے پلے ٹکا بھی نہیں اور ہم چلے ہیں فیس بُک کے مقابلے کی ویب سائٹ بنانے۔ اتنی تو ہماری اوقات ہے نہیں کہ فیس بُک پر جاکر چار پیسے ہی کما لیں۔ اپنی ویب سائٹ کی پروموشن کروا لیں مفت میں، اس کے لیے ٹریفک جنریٹ کروا لیں۔ یہ اپنی فیلڈ سے متعلق گروپس جوائن کریں، فیلڈ کے ماہرین سے رابطے میں رہ کر اپنے مستقبل کے لیے مواقع پیدا کرلیں۔ ہماری تو اڑان اتنی ہے کہ فیس بک پر جاکر مافیا وارز کھیل لیں، قسمت کا حال بتانے والی ایپلی کیشنز کو سبسکرائب کرا لیں، فی میلز میں انٹرسٹڈ ہوں، جو کڑی نظر آئے فٹ اسے ایڈ کرلیں حتی کہ اس کے دوستوں کا کھانہ فُل ہوجائے اور اس کے بعد بھی میرے جیسے باز نہ آئیں مسلسل ایڈ کرنے کی کوششیں فرماتے رہیں کہ کبھی تو ایڈ ہوگی ہی۔
یو ٹیوب پر پابندی لگ گئی ہے، تو ایک عدد پاکستانی یوٹیوب بھی بنا لیں۔ کے خیال ہے جناب دا؟ لیکن وہی بات پھر سائیں کہ اوقات تو ہماری اتنی ہے کہ یو ٹیوب پر بھارتی اور انگریزی گانے تو سن سکتے ہیں جاکر ہم لیکن اتنا نہیں کرسکتے کہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کے متعلق ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں۔
جتنی اوقات ہوتی ہے تو رب سائیں بھی اتنا ہی دیتا ہے۔ ہماری اوقات ہی یہ ہے کہ چھتر پڑیں اور لگاتار پڑتے ہی جائیں۔ ہم چیخیں چلائیں بھی لیکن پھر بھی پڑتے چلے جائیں۔ ایک طرف چھتر یہ پڑے کہ فیس بُک پر توہین رسالت ہو اور ہم بس ٹاپتے رہ جائیں اور اس پر پابندی لگوا دیں۔ جس کے نتیجے میں اگر کوئی مثبت کام اس کے ذریعے ہوبھی سکتا تھا تو وہ بھی نہ ہوسکے۔ یو ٹیوب پر پابندی لگوادیں تاکہ سیاستدانوں کے سیاہ کارنامے تو نظر نہ آسکیں لیکن تعلیم سے متعلق جو کچھ وہاں تھا وہ بھی جاتا رہے۔ ابھی وکی پیڈیا پر پابندی باقی ہے وہ بھی لگی کے لگی اب۔ رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ جن کو اسائنمنٹ بنانے کے لیے یہاں سے مواد مل جاتا تھا وہ بھی گئے۔
لیکن آپ فکر نہ کریں ورلڈ سیکس ڈاٹ کام ابھی بھی کھلتی ہے یہاں، دیسی بابا ڈاٹ کام بھی کھلتی ہے۔ چناچہ تفریح جتنی مرضی کریں اور "اصلی تے وڈی" تفریح کریں۔ باقی تعلیم و ترقی کا کیا ہے سالی ہوتی ہی رہے گی۔ پہلے باسٹھ سالوں میں ہم نے کیا کرلیا جو اس انٹرنیٹ سے ہم نے کرلینا تھا۔ بلکہ میرا تو خیال ہے کہ حکومت پاکستان پی ٹی وی کی طرح ایک انٹرنیٹ براڈکاسٹنگ سروس بنا لے اور پاکستان میں صرف یہ ویب سائٹ کھلا کرے۔ جو سب کچھ ہرا ہرا دکھائے، جہاں صدر، وزیر اعظم و ہمنواؤں کی روزانہ کی لمحہ لمحہ رپورٹ نشر کی جائے۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، جلسے جلوسوں میں عوام کا جوش خروش دکھایا جائے۔ باقی سب کچھ ہی بلاک کردیا جائے تاکہ عوام جو خراب ہورہی تھی، فیس بک پر وقت ضائع کرتی تھی، یوٹیوب پر انڈین گانے سنتی تھی اور بلاگز پر جاکر بکواس کرتی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی گھر بیٹھے اور شانتی کے شربت پیے۔
جیے پاکستان، جیے پاکستان کے ٹھیکے دار
جیویں اسلام کے ٹھیکے دار
اور اسلام کی خیر ہے، اس کا ٹھیکہ ویسے بھی اللہ نے لے رکھا ہے چناچہ اس کی کوئی فکر نہیں۔

جمعرات، 13 مئی، 2010

فیس بُک ہائے ہائے

انڈین فلموں میں دس بارہ ایکسٹرے اکٹھے کرکے منتریوں اور بڑے لوگوں کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگوائے جاتے ہیں۔ اوپن سورس کی دنیا میں بھی ہائے ہائے کے نعرے لگتے رہتے ہیں جن کا نشانہ عمومًا مائیکروسافٹ اور اس کی پراڈکٹس ہوتی ہیں۔ اور اس کے "حواری" بھی نہیں بچتے، جیسے نوویل جو ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا اوپن سورس متبادل مونو بناتی ہے۔ خیر بات تھی فیس بُک کی ہائے ہائے کی۔ اوپن سورس والے جب کسی کی ہائے ہائے کرنا چاہیں تو اس چیز کا اوپن سورس متبادل شروع کردیتے ہیں۔ فلیش پلئیر کا اوپن سورس متبادل آیا جی نیش، چلا یا نہیں چلا یہ الگ بات ہے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ آفس کا متبادل اوپن آفس ہے جو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر والی بات ہے۔
تو جناب اب فیس بُک کے حالیہ پرائیویسی کے خلاف اقدامات نے بہت سے لوگوں کے احتجاج پر مجبور کردیا۔ قصہ ان کا یہ ہے کہ فیس بُک اپنی پارٹنر ویب سائٹس کے ساتھ آپ کی پروفائل سے معلومات شئیر کرے گا چناچہ جب آپ فیس بُک سے وہاں تشریف لے جائیں گے تو آپ کی آںکھوں کے سامنے وہی چیزیں نچائی جائیں گی جنھیں آپ نے وش لسٹ میں رکھا ہوا ہے یا فیورٹ لسٹ میں جیسے کوئی کتاب جو آپ پڑھنا چاہ رہے ہیں۔ امریکی سینٹرز سے لے کر عام لوگوں تک سب نے اس بات پر فیس بُک کو لعن طعن کیا ہے لیکن فیس بُک نے نہیں مان کر دی۔ تو اب اوپن سورس والے میدان میں آگئے، چار طلباء نے مل کر ڈائیاسپورا تشکیل دینے کا سوچا ہے جو کہ فیس بُک کی طرح کی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہوگی لیکن آپ کے کنٹرول میں، آپ کی مرضی کے مطابق پرئیویسی مہیا کرتے ہوئے۔ اور اس کام کے لیے انھوں نے فنڈ ریزنگ بھی شروع کی ہوئی ہے۔ فی الحال ان کے پاس اٹھاون ہزار ڈالر ہوچکے ہیں اور ابھی ان کے بیس دن باقی ہیں چندہ مہم کے۔ یعنی ایک لاکھ ڈالر سے اوپر ہوجائے گا اور اس کے بعد یہ نیٹ ورکنگ سائٹ شروع ہوگی۔ اور میں تو اس کا رکن دوڑ کر بنوں گا استعمال چاہے میں فیس بُک ہی کروں۔ آخر انگلی کٹا کر شہیدوں میں بھی تو شامل ہونا ہے۔ ہمیشہ کی طرح جیسے لینکس میرے پاس  انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اوپن آفس بھی انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اس کی رکنیت بھی ہوگی استعمال ۔۔۔۔۔
فیس بُک کے باغی ڈائیاسپورا میں پناہ لے سکتے ہیں انھیں ویلکم کہا جائے گا، منیر عباسی ایک اور فیس بُک آگئی ہے ہر ڈومین سے فیس بُک نکلے گی تم کتنی فیس بُک چھوڑو گے۔
یہ معلومات یہاں سے چرائی گی ہیں۔