جمعہ، 29 دسمبر، 2006

لینکس تعارف( لینکس کی تنصیب سلسلے کا پہلا سبق)

کمپیوٹر استعمال کرنے والوں نے لینکس کا نام اکثر سنا ہوگا۔۔ لینکس ایک اوپن سورس یعنی آزاد مصدر خدمتگا نظام( آپریٹنگ سسٹم) ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آزاد مصدر ہے اور خدمتگار نظام بھی ہے تو اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ جب ونڈوز موجود ہے اور چل رہا ہے ،ہر کوئی اس کو استعمال کرنا جانتا ہے ہر چیز نارمل ہے تو پھر لینکس ہی کیوں؟ اس لیے کہ: لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی قسم کی چوری کے مرتکب نہیں ہوتے۔۔چوری؟ جی ہاں چوری! آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز ایکس پی یا 2000 یا 98 کی سی ڈی جو آپ 20 سے 30 روپے میں حاصل کرتے ہیں ان کی اصل قیمت کیا ہے؟ ان کی اصل قیمت ہزاروں میں ہے۔اور ہم ان کی پائریٹڈ یا آسان الفاظ میں غیر قانونی طور پر کی گئی نقول استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایکس پی کی سی ڈی 10000 روپے کی ہے تو آپ کتنے روپے کی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ بحث کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں، کون دیکھتا ہے اس کو، انگریز بھی تو ہمارا مال کھا رہے ہیں بالکل بودے بہانے ہیں اور حقیقت سے فرار کی لاحاصل کوششیں ہیں۔ لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کو کسی بھی قسم کا سیکیورٹی رسک لاحق نہیں ہوتا۔ہمارا مقصد ونڈوز کی برائیاں کرنا نہیں لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لینکس کی تمام قسمیں ونڈوز سے ہزاروں گنا زیادہ محفوظ ہیں۔ لینکس کی کسی بھی قسم کی بنیادی تنصیب (انسٹالیشن) کے ساتھ ہی درجنوں عمومی ضرورت کے سافٹویر نصب ہوجاتے ہیں جن کے لیے ونڈوز میں کئی جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں۔جیسے سی ڈی برنر لینکس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اس لیے اس کو کوئی بھی تقسیم کرسکتا ہے، بدل سکتا ہے جس کی وجہ سے اس میں جتنی جلد ترقی ہوتی ہے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ممکن ہے۔ یہ کچھ فائدے تھے جولینکس استعمال کرنے والے کو ملتے ہیں۔۔لیکن اگر آپ بطور مسلمان سوچیں تو حلال راستہ یہی ہے کہ یا تو ونڈوز خرید کر استعمال کیا جائے یا اگر استطاعت نہیں تو لینکس جیسا کوئی نظام استعمال کیا جائے جو قانونًا ایسی کوئی پابندی نہیں رکھتا کہ اسے خریدا ہی جائے۔ چلیں یہ تو قصیدے تھے جو ہم نے لینکس کی شان میں پڑھے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام صارف کو یا سیدھے لفظوں میں ایک ونڈوز کے صارف کو لینکس استعمال کرتے ہوئے کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ لینکس بنیادی طور پر ایک انتہائی غیر صارف دوست خدمتگار نظام کے طور پر مشہور ہے۔ایک لطیفہ کبھی گلوبل سائنس کے صفحات پر ہی پڑھا تھا کہ ایک صاحب کمپیوٹر لینے چلے گئے۔ ڈیلر نے پوچھا سر کونسا آپریٹنگ سسٹم پسند کریں گے صاحب بولے کوئی بھی کردو۔ ڈیلر بڑا متاثر ہوا کہ لائق بندہ ہے اس نے لینکس آپریٹنگ سسٹم نصب کردیا۔ صاحب کمپیوٹر لے کر گھر چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد ان ڈیلر کا گزر ایک جگہ سے ہوا تو ایک جگہ ایک پاگل نظر آیا جو لی لو لی لوکررہا تھا اور بچے اس کو پتھر مارتے تھے۔ حال دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ صاحب کمپیوٹر لینے گئے تھے اور اس پر لینکس نصب کروا لیا۔ کچھ ہی دن میں یہ حال ہوگیا کہ ہر بات کے جواب میں لی لو لی لو کرتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فکاہیہ تھا اصل میں لینکس اتنا مشکل بھی نہیں۔ ہمارے ایک لینکس دار دوست فرمایا کرتے ہیں کہ لینکس مشکل نہیں مختلف ہے۔ اور ہم ان کی بات سے متفق ہیں۔ لینکس میں یہ ضرور ہے کہ اب بھی کچھ گُرو تصویری مواجے( گرافک انٹرفیس) کی جگہ تحریری مواجے ( کمانڈ لائن انٹرفیس) کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لینکس سارا ایم ایس ڈوس جیسی کوئی چیز ہے۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے ایسا ہی تھا لیکن اب وہ زمانے لد گئے اب آپ اسی فیصد سے زیادہ کام تصویری مواجے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ لیکن تحریری مواجے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ لینکس والوں کے خیال میں جو کام ایک سطر کی کمانڈ سے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے آٹھ دس کلک وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہ آپ کی مرضی پر ہوتا ہے کہ آپ کیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق آپ جوں جوں لینکس کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے۔ لینکس کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس کی تنصیب بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک عدد سویپ پارٹیشن چاہیے ہوتی ہے جس کو بنانے سے ہارڈ ڈسک پر ڈیٹا اڑ سکتا ہے،یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کل لینکس کے اتنے آسان تنصیب کار آگئے ہیں جو دس منٹ میں تنصیب کردیتے ہیں اور پارٹیشن بنانے کا کام بھی خود ہی کرلیتے ہیں۔ لینکس پر سافٹویر نہیں ملتے۔ یاہو میسنجر کو ہی لے لیں اس کا لینکس ورژن کوئی تین سال پرانا ہے اور فیچر بھی محدود سے دیتا ہے جبکہ ونڈوز پر اس کا ورژن آٹھ دستیاب ہے اب۔ یہ بات بجا ہے کہ لینکس کے سلسلے میں سافٹویر ساز کمپنیاں سوتیلے پن کا سا سلوک کرتی ہیں لیکن لینکس والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر سافٹویر کے متبادل بنا لیے ہیں اس لیے کسی سافٹویر کی کمی کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ لینکس پر سافٹویر کی تنصیب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لینکس کے فورم پر جائیں تو آگے کمانڈ کا ڈھیر رکھ دیا جاتا ہے یہ کر لو وہ کرلو۔ صارف چکرا جاتا ہے بلکہ چکرا کر بھاگ جاتا ہے۔ اصل میں لینکس میں سافٹویر کی تنصیب ایک خاص انداز سے ہوتی ہے ۔ ونڈوز والے ایک عدد تنصیب کار کی توقع کرتے ہیں جو ڈبل کلک سے چلے اور نیکسٹ نیکسٹ کرکے سب کچھ نصب کردے۔ لینکس میں ہر ایرے غیرے کو منہ اٹھا کر نظام میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ لینکس کی ہر قسم(ڈِسٹرو) کے ذمہ داران اپنی ڈسٹرو کے لیے آنلائن سافٹویر رکھتے ہیں۔ یہ سافٹویر مختلف سرورز پر رکھے جاتے ہیں اور ان کو مختلف زمروں میں بانٹا گیا ہوتا ہے ا
ور یہ ریپازٹری کہلاتے ہیں۔چناچہ صارف کو جو بھی نصب کرنا ہوتا ہے وہ پیکج مینجر کے ذریعے تلاش کرکے اسے نصب کرنے کا آرڈر دے دیتا ہے اور آگے کام پیکج مینجر کا ہوتا ہے کہ وہ اتارے اور نصب کرے۔ پیکج مینجر جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایسا سافٹ ویر جو پروگرام اور اطلاقیوں ( ایپلی کیشنز) کو نصب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لینکس میں اگر کوئی سافٹویر باہر سے نصب کرنے کے لیے حاصل کر بھی لیں تو نصب نہیں ہوتا کہ اس کی انحصاریتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انحصاریت یعنی ڈیپینڈینسی کا مطلب ہے کہ سافٹویر جس جس چیز پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ایم پی تھری گانے چلانے کے لیے کسی میڈیا پلئیر کو ایک عدد ایم پی تھری ڈی کوڈر کی ضرورت ہوگی۔ یا ڈاٹ نیٹ پر مشتمل اطلاقیوں کو چلانے کے لیے ونڈوز پر م س ڈاٹ نیٹ فریم ورک نصب کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لیے ہمیشہ پیکج مینجر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا اکثر سافٹویر کی ریڈ می میں بتایا گیا ہوتا ہےکہ اس سافٹویر کو چلانے کے لیے فلاں فلاں انحصاریت چاہیے چناچہ صارف اسے نصب کرلیتا ہے سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں۔ لینکس پر ایک بہت بڑا مسئلہ ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔ ڈرائیور ہارڈ ویر کو چلانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لینکس چونکہ آزاد خدمتگار نظام ہے اس لیے اس کو کمپنیاں کم ہی سپورٹ کرتی ہیں چونکہ انھیں لینکس کی طرف سے کسی رائلٹی کی توقع نہیں ہوتی دوسری طرف ونڈوز میں ہر قسم کےہارڈ ویر کی سپورٹ موجود ہوتی ہے اور اس کی ڈرائیور ڈیٹابیس بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن اتنا بڑا نہیں۔ اگر آپ کا سسٹم بہت زیادہ پرانا نہیں(یعنی پی ون یا پی ٹو یا اس کے سن کا نہیں) تو فکر مند نہ ہوں اس کے سارے ڈرائیورز کا لینکس میں موجود ہونے کا اسی فیصد امکان ہے۔ آپ ان کو سسٹم کی تنصیب کے بعد بھی حاصل کرکے نصب کرسکتے ہیں۔مزید تسلی کے لیے آپ ان کے فورمز پر جاکر اپنی ہارڈویر کی تفاصیل دے کر ان کی سپورٹ کے بارے میں استفسار بھی کرسکتے ہیں۔ بلکہ اچھی قسمیں جیسے اوبنٹو وغیرہ کی ویب سائٹس پر یہ سہولت موجود ہے کہ آپ اپنے ہارڈویر کی سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ لینکس چلے گا تو میرے ونڈوز سسٹم کا کیا ہوگا؟ یا میں اگر ونڈوز کو بھی ساتھ ہی استعمال کرنا چاہوں تو؟ اس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوہرا یعنی ڈوئل بوٹ لینکس میں عام سی بات ہے۔ ایک ڈرائیو میں ونڈوز نصب ہے اور کسی بھی دوسری ڈرائیو میں لینکس نصب کرلیں۔ لینکس کا بوٹ لوڈر گرب یا لی لو آپ کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ ونڈوز سسٹم کو بھی بوٹ مینیو میں فعال رکھیں اور یہ سارا کام بوقت تنصیب خودکار انداز میں ہوتا ہے چناچہ اگر ونڈوز کا کوئی ورژن پہلے سے نصب شدہ ہے تو وہ بھی بوٹ کے وقت ایک آپشن کے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے چاہے لینکس چلائیں یا ونڈوز ایسے ہی جیسے کبھی ایکس پی اور 98 کا ڈوئل بوٹ بہت مقبول ہوا تھا۔ اور آخری مشکل جو صارف کو پیش آسکتی ہے وہ ہے لینکس کا انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار اور عمومًا نیٹ ورک ایڈمنز کا اسے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہ دینا(ڈائل اپ کی صورت میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا یہ کیبل نیٹ کی بات ہورہی ہے)۔ لینکس کی عمومی اور مقبول قسمیں تنصیب کے بعد سب سے پہلے تازہ کاری یعنی اپڈیٹ کا مشورہ دیتی ہیں۔ نیز عمومی نوعیت کے کئی سافٹویر جو بنیادی تنصیب میں شامل نہیں ہوتے براہ راست سرور سے حاصل کرنا پڑتے ہیں چونکہ لینکس کے سافٹویر سی ڈیز پر کم از کم ہمارے ہاں تو دستیاب نہیں۔ہمارے ڈائل اپ صارفین کے لیے یہ کافی مشکل ہوسکتا ہے لیکن ڈاؤنلوڈ مینجر سے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکل آتا ہے دوسر ے پیکج مینجر بھی ایک بار جتنا پروگرام اتار لے اگلی بار وہیں سے آگے اتارنا شروع کرتا ہے (یاد رہے پہلے اتارا جاتا ہے پھر نصب کیا جاتا ہے اور آپ کے پاس یہ انتخاب ہوتا ہے کہ پیکج کو صرف اتاریں نصب بعد میں کریں)۔ کیبل نیٹ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ڈی ایس ایل پر کیبل نیٹ چلایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ لینکس سسٹم منسلک کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ نیٹ ورک خالصتًا ونڈوز پر چلتے ہیں اور ان کے منتظمین بھی ونڈوز کلائنٹ کو رکھنا پسند کرتے ہیں یا لینکس کے لیے سیٹنگ میں مناسب تبدیلی کرنے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ لیکن ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک مل جاتا ہے جو لینکس سے بھی مکمل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے یا آپ کے لیے اپنی سیٹنگ اتنی تبدیل کرلیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا مسئلہ درپیش ہے تو ہم کچھ نسخے بتائیں گے جس سے کافی افاقے کی امید ہے لیکن یہ سب بنیادی وضع قطع کے بعد ہوگا۔خود ہم ذاتی طور پر کیبل نیٹ استعمال کرتے ہیں اور لینکس سے کرتے ہیں ہمارے نیٹ ورک ایڈمن نے ہمیں روٹر سے براہ راست رسائی دے رکھی ہے جس پر ہم اس کے بہت مشکور ہیں۔ یہ لینکس کا ہلکا سا تعارف تھا اور اس کے بارے میں وہ چند غلط فہمیاں جو عمومًا پائی جاتی ہیں یا پائی جانے کا امکان ہے۔ اگلی بار ہم انشاءاللہ اس کی کسی مقبول قسم کو لے کر اس کی تنصیب اور بعد میں مکمل وضع کرنے(کنفگریشن) تک تفصیل سے جانیں گے۔


 

منگل، 26 دسمبر، 2006

فاکس مارکس فائر فاکس کا ایک عمدہ دخیلہ

فائر فاکس بلاشبہ اس وقت آزاد مصدر میں مقبول ترین ویب براؤزر ہے۔۔اس کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ اس کی خوبیوں کو اپنی مرضی کے مطابق اضافتیں اور دخیلے شامل کرکے بڑھا سکتے ہیں۔۔۔یونہی ایک دن میں نے بک مارکس والا مینیو کھولا تو وہاں لکھا تھا Get Bookmark Addons۔۔
میں نے فورًا اس پر کلک کیا اور سیدھا متعلقہ صفحے پر پہنچ گیا۔ اور تو کوئی مجھے پسند نہ آیا لیکن فاکس مارکس واقعی کام کی چیز نکلی۔۔
یہ دخیلہ نصب ہونے کے بعد آپ کو بک مارکس سرور پر چڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔۔اور مزے کی بات بالکل مفت۔۔
اسے نصب کریں اپنے براؤزر کو دوبارہ چلائیں اور ایک فاکس مارکس کا بھوتنا نمودار ہوجائے گا(وزرڈ کے لیے یہ لفظ ابھی ابھی ذہن میں آیا ہے۔ ;) ) اس پر آپ ایک نیا کھاتہ بنا لیں اور اس کے بعد فاکس مارکس ہمیشہ پس منظر میں کام کرتا رہے گا۔۔۔جیسے ہی آپ نیا نشان زدہ ربط شامل کریں گے یہ فورًا اسے سرور پر چڑھا دے گا۔۔اس کے بعد اس کے جہاں سے مرضی حاصل کرلیں جاکر۔۔
میرے ساتھ تو ایسے ہے کہ دو سسٹم ہیں ونڈوز بھی اور لینکس بھی سو مجھے دونوں پر اپنے نشان زدہ صفحات ایک جیسے رکھنا پڑتے ہیں اور اس کا یہ بہترین حل ہے۔۔بس نئے سسٹم پر جاکر فاکس مارکس سے داخل ہوکر وہ فائل اتارنا ہوگی جو یہ خود ہی اتار لے گا۔۔آپ کا کام صرف کلک کرنا ہے اور اس کے بعد جہاں جہاں جس طرح آپ نے نشان زدگیاں شامل کی تھیں ویسے ہی نمودار ہوجائیں گی۔۔جیسے بک مارک ٹول بار میں الگ سے اور بک مارک مینیو میں الگ سے۔۔
ایک اور بات اس کا دخولی نظام معاملاتی حساس قسم کا ہے چناچہ اگر آپ نے کھاتہ اس طرح بنایا ہے کہ اس میں بڑے اور چھوٹے دونوں انگریزی حروف شامل ہیں تو ہر بار داخل ہوتے وقت آپ کو ترتیب وہی رکھنا ہوگی ورنہ فاکس مارکس اسے اسم صارف کی غلطی سمجھے گا۔۔
موج کریں لیکن اپنے خرچے پر۔۔ ;) ;)
وسلام

بہت دنوں بعد۔۔

آج بہت دنوں بعد دوبارہ بلاگ پر کچھ لکھ رہا ہوں۔۔
بنیادی طور پر میں ایک غیر مستقل مزاج انسان ہوں۔۔جس چیز کا بھوت سوار ہوجائے سر پر بس وہی دنیا ہے باقی سب غیر اہم۔۔
بلاگ پر نہ لکھنے کو دل کیا تو کئی ہفتے سے سُونا پڑھا ہوا تھا۔۔
کچھ ہمارے تھیم کی آنکھ مچولیاں۔ لینکس سسٹم کی تنصیب اور ہماری ہارڈ ڈسک و نیٹ کے سکتے۔۔سب نے مل کر اس طرف سے غافل رکھا۔ لیکن آخر ہم نے ایک دین غیرت کھاکر کئی تھیم اتارے اور ان میں سے ایک کو پسند کرکے اردوا لیا۔۔اللہ کا شکر ہے کہ اتنا پیچیدہ تھیم نہیں تھا پہلی کوشش ہی کارگر رہی۔۔
اس میں بھی حسب معمول نیلا رنگ نمایاں ہے جو میری کمزوری ہے۔۔نیلا رنگ مجھے لامتناہی سکون کا احساس دلاتا ہے ۔۔خیر رنگ و روشنی کی باتیں تو چلتی رہیں گی اس پوسٹ سے تو اپنے ہونے اور واپسی کی خبر دینا مقصود تھا۔۔
انشاءاللہ اب باقاعدگی سے لکھوں گا۔۔
پچھلے کئی ماہ سے لینکس کی تنصیب اور بنیادی وضع قطع کرنے پر کچھ لکھنے کا ارادہ کررہا تھا آخر آج اس کی ابتدا کررہا ہوں۔۔۔کل یا آئندہ ایک دو دنوں میں میری اگلی پوسٹ کے اوبنٹو لینکس کی تنصیب اور اس کی بنیادی وضع قطع کے سلسلے میں ہوگی۔۔میرے سارے تجربات، مشاہدات اور کٹھنائیاں جو مجھے جھیلنا پڑیں اور سب سے بڑھ کر میرے نیم حکیمی مشورے امید ہے لینکس کے شائق دوستوں کو کچھ نہ کچھ فائدہ دے جائیں گے۔۔
اب چلوں آپ کا بہت سارا سر و وقت کھا لیا۔۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
وسلام

جمعہ، 1 دسمبر، 2006

ونٹر ڈے کی آنکھ مچولیاں

ہمارا تھیم ونٹر ڈے کئی دنوں سے تنگ کررہا تھا۔ احباب نے اکثر شکایت کی کہ تبصروں کا قطعہ ٹھیک نہیں نظر آتا اور کبھی تبصرہ ہی ٹھی
لکھا نہیں جاتا کہ ویب پیڈ درست کام نہیں کررہا ہوتا۔
لیکن ہم پرسکون تھے کہ چلو ہمارے پاس تو ٹھیک ہے۔
مگر وائے ری قسمت ہارڈ اڑی اور دوبارہ سے ونڈوز کی تنصیب کے بعد سارا کچھ غلط ملط ہوگیا۔
اس کا حلیہ تو ہم نے ٹھیک فرما لیا لیکن اب اس کا کمنٹس والا سانچہ مسئلہ کررہا ہے جس کی وجہ سے تلاش خانہ اور تبصرہ جاتی قطعہ عجیب بے ڈھنگے سے ہوگئے ہیں۔ ہم نے انھیں ٹھیک کرنے کی بہتیری کوشش کی لیکن کمبخت ہاتھ نہیں آئے۔
کوئی بات نہیں ہم انھیں ٹھیک فرماتے ہیں پرانا نسخہ یعنی پورا تھیم دوبارہ سے اردو کرو اور چڑھاؤ آزماتے ہیں۔
ہمارے حساب سے ونٹرڈے خاصا ناقابل بھروسہ قسم کا تھیم ہے لیکن کمبخت سادہ سا تو ہے اور اب ہمارے قارئین کو بھی عادت ہوچلی ہے اس تھیم میں ہمارا بلاگ دیکھنے کی اس لیے ہم اسے ہی دوبارہ سے سیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں دعا کیجیے گا کہ یہ ٹھیک کام کرنے لگے اتنی دیر تک آپ تبصروں کے لیے پاک نستعلیق اور دیکھنے کے لیے بنیادی کربک تھیم جو کہ ایشیا ٹائپ میں ہے پر گزارہ کریں۔
وسلام۔

ہفتہ، 25 نومبر، 2006

ونڈوز کی دوبارہ تنصیب اور بلاگ کا حلیہ

کل ہم نے اپنی ونڈوز دوبارہ نصب کی۔ اس کے بعد جب بلاگ دیکھا تو اس کا حلیہ ہی بگڑا ہوا تھا۔ ہم نے تو سوچا کہ شاکر میاں گئے کام سے فری ہوسٹ پر بلاگ بنانے کا مزہ چکھو اب بے اختیار وہاب اعجاز خاں کے بنوں فورم کا خیال آیا۔
لیکن اللہ کا شکر ہے یہ سب پاک نستعلیق کی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔ ایک ہماری ہارڈڈسک مسئلہ کررہی ہے دوسرے ونڈوز کا ورژن بھی اس بار لگتا ہے پرانا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ہوا۔
اب دوبارہ سے بلاگ کا تھیم ٹھیک کرکے فعال کیا ہے دعا کیجیے گا کہ ہمارا بلاگ اور ہماری ہارڈ اب ٹھیک چلتی رہے۔
اس کے پارٹیشن ٹیبل میں کبھی کبھی موڈ ہو تو مسئلہ آجاتا ہے جس کے بعد یہ بوٹ ہونے سے بھی انکار کردیتی ہے۔ ہماری بدقسمتی کے ہم نے ونڈوز پر لینکس پر نصب کردیا جس نے ایک پارٹیشن کا لیٹر ہی خراب کردیا۔ 4 بار چلنے کے بعد لینکس تو بوٹ ہونے سے بھی گیا اور ہم نے کل پارٹینش اڑا کر ونڈوز دوبارہ کردی۔ جس نے ہمیں اچھا بھلا وخت ڈالے رکھا۔
شکر ہے اب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔اسی میں ہمارا لینکس پر نیٹ‌چلانے کا خواب ، خواب ہی بن گیا ہے۔ اب دوبارہ ایک کوشش فرماتے ہیں لینکس نصب کرنے کی اگر اب ہارڈ ڈسک کے نازک مزاج کو تاؤ نہ آگیاتو۔

سوموار، 20 نومبر، 2006

الحمد للہ ہماری نیٹ کیبل لگ گئی

آج مورخہ بیس نومبر کو ہماری دوسری نیٹ کیبل لگ گئی ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ ونڈوز پر تو سب ٹھیک چل رہا ہے اور اس نے لینکس پر بھی چلانے کے لیے مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کرے وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔
وسلام

ہفتہ، 18 نومبر، 2006

ہمارا پیشہ

آج کل ہم سٹوڈنٹس کے ازلی پیشے بلکہ پاکستانی پیشے یعنی ٹیوشن پڑھانے سے منسلک ہیں۔ ہم نے طالب علم اس لیے نہیں کہا کہ طالب علم پڑھاتا نہیں پڑھتا ہے اور اگر پڑھائے بھی تو معاوضے میں پیسے نہیں لیتا۔ لیکن ہماری مجبوری کہیں، فیشن کہیں ٹرینڈ کہیں کچھ بھی کہہ لیں کہ یہ پیشہ آج کل ہر سٹوڈنٹ اختیار کررہا ہے۔ا س کا جیب خرچ بھی نکل آتا ہے اور گھر والوں سے بے کاری کے طعنے بھی نہیں ملتے اور ساتھ ساتھ جو بھول چکے ہوں وہ دوبارہ یاد آتا چلا جاتا ہے۔
کہتے ہیں استاد کو دوبار پڑھنا پڑتا ہے ایک بار خود سمجھنے کے لیے اور دوسرے سمجھانے کے لیے۔ ہم جیسوں کو تین بار پڑھنا پڑتا ہے۔ ایک بار پچھلا یاد کرنے کے لیے ۔ پھر سمجھنے کے لیے اور پھر سمجھانے کے لیے۔ ویسے آپس کی بات بتاؤں یہاں سمجھاتا کوئی بھی نہیں بس پڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں بیٹا یاد کر آنا۔ اگر بیٹے کو سمجھانے بھی بیٹھ جائیں تو ان کا انداز بتارہا ہوتا ہے پاگل ای اوئے۔
بڑا شہنشاہی پیشہ ہے۔ سوٹڈ بوٹڈ ہوکر جاؤ ڈیڑھ سے دو گھنٹے پڑھاؤ اور واپس گھر۔ اس کے معاوضے میں ایک ہینڈسم سی رقم آپ کے ہاتھ میں مہینے بعد آجاتی ہے۔ ہر سکول کے ریٹ مقرر ہیں بچہ جتنے بڑے سکول کا ہوگا اس کی فیس اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔ جتنی بڑی کلاس ہوگی فیس اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور اکثر ہوتا کیا ہے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ہی انگریزی میڈیم کتابیں پڑھانا ہوتی ہیں۔
کبھی سنا کرتے تھے کہ بیکن ہاؤس کے بچوں کو ہوم ٹیوشن پڑھانا بہت مشکل ہے اس کے لیے پہلے خود ان کی کتابیں ٹیوشن رکھ کر پڑھنا پڑتی ہیں۔ ہمارے ساتھ ابھی تک تو بیکن ہاؤس کا واہ نہیں پڑا۔ ہمیں تو بس اتنا کرنا پڑا کہ جس کلاس کا پڑھانا ہوتا اس کی کتابیں خرید لاتے اور ایک بار دوہرائی کرکے اللہ تیری یاری۔
ٹیوشن خصوصًا ہوم ٹیوشن اپر کلاس اور اپر مڈل کلاس میں فیشن سا بن گیا ہے۔ بچے کو امتحانوں کے قریب لازمی ٹیوشن رکھوا دی جاتی ہے۔ اور مڈل کلاس یعنی درمیانے طبقے کی تو مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اکیڈمی بھیجیں۔ چونکہ سکول میں ٹھیک طرح پڑھائی نہیں ہوتی اس لیے ٹیوشن لازمی ہوتی ہے۔
ہم نے اب تک جو تجربہ حاصل کیا اور جو کچھ اس میں دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ انگریزی ہمارا مسئلہ ہے۔ مثلاً ہمارا ایک سٹوڈنٹ جو انگریزی میڈیم میں نویں میں پڑھتا ہے۔ اس کا بڑا مسئلہ ہی انگریزی میں یاد کرنا ہے۔ کہتا ہے سر ترجمہ کردیں۔ 5 سے 7 لائنوں کا ایک پیرا بڑی مشکل سے یاد کرپاتا ہے۔ اس دن کہہ رہا تھا کہ سر پاکستان سڈیز کا کس طرح یاد کروں ( وہ بھی انگلش میں ہے)۔ میں نے کہا کیا اردو میں‌ رکھنے کی اجازت نہیں وہاں تو بولا کچھ لڑکوں نے رکھی ہے لیکن ان کے والدین نے بہت منت سماجت کے بعد رکھوائی ہے جبکہ ابو کہتے ہیں کہ اب انگریزی پڑھ لو گے تو آگے آسان ہوجائے گا۔
آسان تو جو ہوگا سو ہوگا مجھے شک ہے کہ اس بچے کے میٹرک میں سائنس میں داخلہ لینے کے قابل نمبر بھی آجائیں گے یا نہیں۔
دوسری جگہ ایک اکیڈمی ہے جہاں مابدولت بطور سر تعینات ہیں۔ نویں اور دسویں کے بچے جو درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں آتے ہیں۔ سارے اردو میڈیم لیکن ان کا مسئلہ بھی انگریزی ہے۔ اللہ ان کو ہدایت دے ان کا بس چلے تو اردو کے “ہے“ کی جگہ بھی انگریزی کا is اردو میں ایز کرکے لکھا کریں۔ ہر چیز انگریزی میں کردی گئی ہے۔ عمل تنفس کو ریسپیریشن لکھا ہوا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ بریکٹ میں‌ اس کی اردو لکھی ہوئی تھی ورنہ ہم خود سوچ میں‌پڑ گئے کہ یہ الٹا سا کیا لکھا ہوا ہے۔
چونکہ ہم پہلے کچھ انگریزی میڈیم بچوں کو پڑھا چکے ہیں اس لیے ہمارے منہ سے جمع تفریق کی بجائے ایڈ اور سبٹریکٹ نکلتا ہے جس کی وجہ سے اکیڈمی میں‌بچے اکثر ٹوک دیتے ہیں سر جی اردو میں بولیں۔
سر کا کیا ہے انھیں تو جو کچھ پڑھانے کو ملے گا وہ پڑھا لیں گے چاہے اردو ہو یا انگریزی۔ بات تو ان معصوموں کی ہے جن کو ابھی انگریزی کے بنیادی قواعد بھی نہیں آتے اور ان پر سائنس کے نام پر انگریزی ٹھونک دی گئی ہے۔ ہم تو اس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں جہاں پر اردو انگریزی بے معنی ہوجاتی ہے چونکہ بات سمجھ اور تصور یعنی کونسیپٹ کی ہوتی ہے۔
لیکن ان بے چاروں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ اس انگریزی نما اردو کو رٹا لگائیں اور نمبر لیں۔ پھر ہمارے ارباب اقتدار و اختیار روتے ہیں کہ ملک ترقی نہیں‌ کررہا تعلیم عام نہیں‌ ہورہی۔ لیکن یہی لوگ ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں‌بیٹھ کر پالیسیاں بناتے ہیں‌جو نئی پود کا بیڑہ غرق کرتی جارہی ہیں۔
کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم سوچتے پنجابی، پشتو، سندھی بلوچی یا اردو میں ہیں۔ سکول میں بولتے اردو اور پڑھتے انگریزی میں‌ہیں۔ ہمارے بچوں کی دماغی صلاحیتیں انھی میں صرف ہوجاتی ہیں۔ بے شک یہ حقیقت ہے کہ ایک سے زیادہ زبانیں صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں لیکن زبانیں بھی آسان ہوں اردو اور علاقائی زبانوں کا تعلق اور ناتہ بہت گہرا ہے۔ لیکن انگریزی تو ان سب کی سوتیلی ہے جس کی ہر چیز مختلف ہے اب بچہ اسے کس طرح ان کےساتھ ملائے۔
اسی انگریزی کی وجہ سے پاکستان میں ٹیوشنوں کا رواج اتنا جڑ پکڑ چکا ہے کہ ایک ٹیوشن مافیا وجود میں آچکی ہے۔ جگہ جگہ اکیڈمیاں بنی ہوئی ہیں۔ میرے جیسے لاکھوں اس روزگار سے وابستہ ہیں۔ باقاعدہ ہوم ٹیوشن نیٹ ورک بنے ہوئے ہیں جو اپنی تشہیر کرتے ہیں اور لوگ ان سے رابطہ کرکے ٹیوٹر مانگتے ہیں۔خاص طور پر ستمبر سے مارچ تک ٹیوشن کا بہت زیادہ زور ہوتا ہے۔ ہر کسی نے اپنا کورس مکمل کرنا ہوتا ہے اس لیے میرے جیسے نتھو پھتو بھی موج میں‌ہوتے ہیں۔
بھلا یہ کسی اور پیشے میں ممکن ہے کہ صرف 4 سے 5 گھنٹے کام کرکے 5 ہزار کے اریب قریب کما لیا جائے؟؟
کم از پاکستان میں تو ایسا ممکن نہیں۔میں‌اگر اپنے بی کام کے بل پر نوکری تلاش کروں تو کسی مل فیکٹری میں مجھے زیادہ سے زیادہ 4 ہزار پر آٹھ گھنٹے کی نوکری مل سکے گی اور وہ بھی ایسے کہ جانے کا پتہ واپس آنے کا نہیں۔ کب چھٹی ہو، کوئی شپمنٹ جانی ہو تو سٹاف کو روک لیا جائے یا حساب کتاب کرتے ہوئے کوئی انٹری مس ہورہی ہو تو چاہے آدھی رات ہوجائے۔
تو میں کیوں نہ ٹیوشنیں ہی پڑھاؤں۔ بلکہ اب تو میں اسے سنجیدگی سے بطور پیشہ اپنانے پر غور کررہا ہوں کیا ہے جو سال کے 3 یا 4 ماہ مندی کے ہوتے ہیں باقی دن تو موج ہوتی ہے نا۔
جب تک اوپر ایسے لوگ بیٹھے ہیں، جب تک ایسی پالیسیاں بنتی ہیں تب تک اس قوم کی حالت نہیں بدلے گی، تب تک یہ معصوم بچے پہلے سکول اور پھر ٹیوشن کے لیے دن میں آٹھ گھنٹے ذلیل ہوتے پھریں گے اور تب تک میرے جیسے ان کو پڑھا کر اپنا پیٹ بھرتے رہیں گے۔
کاش ۔۔۔۔اے کاش کہ اس قوم پر کوئی مسیحا اترے۔
کاش ہم میں‌اتنی جرات اور غیرت آجائے کہ اپنی حالت سنوار سکیں۔
وسلام

جمعہ، 17 نومبر، 2006

پاک نستعلیق بیٹا ورژن

ماشاءاللہ اور الحمد اللہ کہ پاک نستعلیق کا بیٹا ورژن منظر عام پر آچکا ہے۔ اگرچہ رات ہمیں دھچکا نہیں دھچکے لگے جب اتفاق سے ہی ایک بہت ہی غیر معروف سائٹ سے ہمیں اس کے آنے کی اطلاع ملی۔ ہم اچھے بھلے جذباتی ہوگئے جیسا کہ ہماری عمومی و قومی عادت ہے کہ حجازی صاحب نے ہمیں مطلع کرنا ہی ضروری نہیں سمجھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب ہمیں احساس ہورہا ہے کہ وہ بے چارے جانے کن کن مصروفیتوں میں‌ جکڑے ہوئے ہونگے۔ بہرحال ان کی مہربانی پورے سال بھر کے انتظار کے بعد پاک نستعلیق آج ہمارے سامنے ہے۔ اس کا بیٹا ورژن فی الحال جاری کیا گیا ہے امید ہے چند ہی ماہ میں ٹھیک ورژن بھی جاری کردیا جائے گا۔ ہم سے البتہ صبر نہیں ہوسکا اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ سے ہمارا بلاگ نستعلیق خط پر مشتمل ہوگا۔ اس لیے ہمارے قارئین اور احباب جو ہمارا بلاگ پڑھتے ہیں براہ کرم پاک نستعلیق کا بیٹا ورژن اپنے کمپیوٹروں میں نصب کرلیں۔ ہم نے اپنے بلاگ پر اسے فعال کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے قارئین اگر ہمیں اس کی خامیوں سے بھی آگاہ کریں تو بہت ہی مناسب بات ہوگی تاکہ ان کو محسن حجازی صاحب جو اس فونٹ کے خالق ہیں کو پیش کیا جاسکے یہ آپ سب بشمول مابدولت کا احسان ہوگا اردو پر۔ باالخصوص پاکستان سے وہ دوست جو ڈائل اپ سے آتے ہیں اور پی ٹو وغیرہ پی سی رکھتے ہیں ضرور اطلاع دیں کہ صفحہ کھلنے میں عمومًا سے کتنی دیر زیادہ لیتا ہے۔ کہیں کوئی الفاظ ٹوٹے تو نظر نہیں آتے۔ سائز مناسب ہے یا مزید بڑا کیا جائے۔ ذاتی طور پر ہمیں جو خامیاں محسوس ہوئیں ان میں نمبر ایک تو فونٹ کو ہِنٹنگ کی شدید ضرورت ہے اس کی وجہ سے ہمیں اپنے بلاگ میں فونٹ سائز 12 سے 14 کرنا پڑا ہے۔ دوسری چیز اس کی انگریزی سپورٹ ہے انگریزی کے سارے الفاظ کو یہ ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے کہ لمبا سا ایک ہی لفظ بن جاتا ہے۔ You can see this example. یار زندہ صحبت باقی۔ پھر ملیں گے۔ اور ہمیں ایک اور بہت خوشی ہے کہ اردو برادری میں ہم نے ہی سب سے پہلے اپنی ویب سائٹ/بلاگ پر پاک نستعلیق کو فعال کیا ہے۔ اللہ اردو کو مزید ترقی دے۔ وسلام

جمعرات، 16 نومبر، 2006

ہماری ممکنہ غیر حاضری

کل رات ہم اپنے کیبل نیٹ والے سے اپنے تمام تعلقات توڑنے کا اعلان کرچکےہیں۔
وجہ بہت پرانی تھی۔ ہم کہتے تھے کہ لینکس پر انٹرنیٹ کو فعال کرو لیکن وہ کہتا تھا ایسا کروں تو دوسرے صارفین کو پریشانی ہوگی۔ کبھی کہتا کہ میں نے کبھی یہ کیا ہی نہیں۔
غرضیکہ مختلف بہانوں سے تنگ آکر ہم نے کل اسے بالآخر وہ دھمکی دے دی کہ اگر وہ ہماری ضرورت پوری نہیں کرسکتا تو ہم کیبل نیٹ بدل لیتے ہیں۔ چناچہ اس کے مکرر انکار کے بعد ہم نے کیبل نیٹ والا بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو ہمیں لینکس پر بھی انٹرنیٹ کی مکمل فراہمی کا یقین دلا رہا ہے۔
سو رات ہم نے اسے نوٹس دے دیا کہ ہمارا آپ کا تعلق ختم اس حساب سے اس وقت ہمارا آئی پی اس کے نیٹ‌ ورک پر بلاک ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا کرنا شاید اسے یاد نہیں رہا اور ہم نے بھی اسے غنیمت جانتے ہوئے یہ اطلاع دینا ضروری سمجھی۔
اگلے چند دنوں تک شاید ایک ہفتے تک اور شاید اگلے ماہ تک ہم آنلائن نہ آسکیں کہ نئی کیبل لگوانی ہے۔
دعا کیجیے گا کہ یہ کام جلد ہوجائے اور اس کی خدمات ہماری ضروریات کو پورا کردیں۔
اپنا خیال رکھیے گا۔
وسلام

اتوار، 12 نومبر، 2006

میرے شہر کی ترقی

ہمارے ہاں بھی ٹرینڈز ہوا کرتے ہیں۔ آج کل چونکہ ترقی کا دور دورہ ہے۔ ہر طرف ملک کی ترقی کے نعرے لگ رہے ہیں اس صورت حال میں میرے شہر کی ضلعی انتظامیہ بھی پیچھے نہیں رہی۔ انھوں نے بھی دھڑا دھڑ ترقیاتی کام شروع کررکھے ہیں۔
جس طرف دیکھیں سڑکیں بن رہی ہیں۔ ہر جگہ پتھر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے تو دو بننا شروع ہوجاتی ہیں اور اب یہ حال ہوگیا ہے کہ دس دس سال جن سڑکوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا ان دو تین سالوں میں کئی کئی بار بن چکی ہیں۔
خدا جھوٹ نہ بلوائے میرے محلے کی ایک گلی اس عرصے میں کوئی 4 بار بن چکی ہے۔ ہر آٹھ دس ماہ میں کہیں سے ٹھیکیدار نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک جگہ مٹی کھود کر اپنا تارکول گرم کرنے کا کڑھاؤ اور دوسرا ساز وسامان فٹ کرلیتے ہیں اور پھر کسی اچھی بھلی سڑک کی کمبختی آجاتی ہے۔ اگلے دن ایک ٹریکٹر نمودار ہوتا ہے جس کے پیچھے صرف ایک بلیڈ پر مشمل ہل ہوتا ہے۔ ساری سڑک پر وہ ہل پھیر کر اسے برباد کردیا جاتا ہے۔ کل یہ کام میرے محلے کی دو سڑکوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ اور یہ دونوں سڑکیں صرف دو یا تین جگہوں سے زیادہ خراب تھیں جن کی وجہ پانی کا کھڑا ہونا تھا جس کی با آسانی مرمت کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ترقی ہورہی ہے اس لیے فنڈز کی بھی فراوانی ہے اس طرف کوئی بھی نہیں سوچتا۔ اب چند دنوں بعد اس پر پتھر کے ڈھیر لگ جائیں گے پھر ان کو بچھانے کے لیے بلڈوزر اور ٹریکٹر آجائیں گے اور فٹ فٹ بھر پتھر بچھا دیا جائے گا۔
اس دوران ٹریفک جائے بھاڑ میں انھیں چاہے گرزنے کا بھی رستہ نہ ملے کسی کو کیا۔ ٹھیکدار کو پیسوں سے غرض ہے، انتظامیہ کو خوشی ہے کہ ترقی ہورہی ہے اور عوام۔ عوام کی کون سنتا ہے۔
سڑکیں بنتی جارہی ہیں لیکن پانی کی نکاسی کا نظام ویسے کا ویسا ہے۔ شروع شروع میں ایک ٹھیکیدار صاحب نے سڑک پر سے پانی کے نکاس کے سلسلے میں اس کے ساتھ ملنے والی ساری گلیوں میں پانی کھینچنے والی چھوٹی چھوٹی ہودیاں بنوا دی تھیں۔ لیکن اس کے بعد ان کا کیا بنا وہ بھی نشان عبرت ہے۔ کچھ تو ویسے ہی بند ہوگئیں کہ جھاڑو دینے والے اپنا سارا گند انھیں میں پھینکتے تھے۔ کچھ پر سے لوہے کے جنگلے یار لوگ اتار کر لے گئے اور ہمارے صدر چوک میں موجود ایک ایسی ہودی کو تو دوسرے ٹھیکدار صاحب نے جو چوک میں سے گزرتے دوسرے بازار کی سڑک بنا رہے تھے زمین میں جہاں ہے جیسے ہی کی بنیاد پر گڑوا دیا۔ غالبًا یہ آنے والی نسلوں کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ جب اس مقام پر کھدائی کریں تو ان کو آثار قدیمہ میں ایک ہودی کے ساتھ نالی اور اوپر جنگلا بھی ملے جس سے وہ ہزاروں سال قدیم شہر کی تہذیب کے بارے میں رائے قائم کرسکیں۔
جہاں سے سڑک نیچی ہے وہاں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہےا ور چار ایک بارشوں کے بعد وہاں اس کی محبت کے نشان نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک کنکر اکھڑ جائے تو اس کے پیچھے لائن لگ جاتی ہے اور دو ماہ میں وہاں ایک اچھا بھلا گڑھا نمودار ہوجاتا ہے۔پھر وہ گڑھا ناسور کی طرح بڑھتا رہتا ہے اور آخر کسی ناظم کی نظر میں آجاتا ہے ناظم صاحب فنڈز فراہم کرتے ہیں اور سڑک کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے۔
پتھرڈالے جاتے ہیں اور اوپر کنکر تارکول کا ایک لیپ کردیا جاتا ہے جو ناقص رنگ کی طرح چند ہی ماہ میں اکھڑنے لگتا ہے اور دوبارہ سے پھر وہی چکر سڑ ک کی بربادی سے تعمیر تک۔ اس کا نتیجہ اور تو جو نکلے سو نکلے ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ گھر جو زمین سے 2 فٹ سے بھی اونچے تھے اب زمین کے برابر یا اس سے نیچے ہیں۔ چونکہ گھروں کو بارش اور گٹروں کے گندے پانی سے بچانا بھی واسا کی نہیں عوام کی اپنی ذمہ داری ہے اس لیے گھروں کو اونچا بنانے کا رواج ہے لیکن اب لگتا ہے ہر بار سڑک بننے کے بعد اس کے باسیوں کو بھی گھروں میں مٹی ڈلوا کر اونچا کروانا پڑا کرے گا۔ ورنہ حال ہمارے پڑوسی جیسا ہوگا جو چار نفوس ہر بارش میں باری باری پانی نکالنے پر ہی لگے رہتے ہیں ایک بالٹی پکڑے۔ چاہے بارش ادھر آدھ گھنٹے کی بھی کبھی کبھار ہی ہوتی ہے لیکن ان کی اچھی بھلی درگت بنا جاتی ہے۔
ادھر یہ ترقیاں ہیں اور ادھر گاؤں اور قصبوں کا یہ حال ہے کہ میرے ماموں کے گاؤں کو جانے والے سڑک بالکل گنجی ہوچکی ہے۔ میری پیدائش سے پہلے کی بنی ہوئی وہ سڑک ابھی تک ویسے کی ویسے ہے اس طرف پتا نہیں کیوں کسی ناظم کی نظر کیوں نہیں جاتی۔پھر کھپ مچاتے ہیں کہ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت ہورہی ہے۔ ہجرت نہ ہوتو اور کیا ہو۔ اسی گاؤں میں میرے ماموں کے دو ذرا کھاتے پیتے پڑوسی ایک لاہور جاچکے ہیں اور دوسرے ادھر فیصل آباد آگئے ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے جو ان علاقوں میں رہتے ہیں اور ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم پر ہر چند ماہ بعد ایک آدھ سڑک ٹھونک کر ترقی کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔

اتوار، 5 نومبر، 2006

میں۔۔۔

میرا میں سے تعارف سب سے پہلے ممتاز مفتی نے کروایا۔ ممتاز مفتی سرعام خود کو کوستا ہے،، اپنی میں والی عادت کو برا بھلا کہتا ہے اور ساتھ ساتھ میں میں بھی کرتا جاتا ہے۔ میں یہ ہوں میں وہ ہوں۔ اسی کو پڑھ کر مجھے میں کو دیکھنے کا شعور اٹھا۔ پھر ایسے ہی آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے میرے ریسیور نے میں کے سگنل وصول کرنے شروع کردیے۔
صاحبو یہ میرے انٹینا کی خرابی کہہ لیں یا میرے نفس کی آوارگی۔ ایک دن یونہی اذان کے وقت بیٹھے بیٹھے مجھے “میں“ کے سگنل وصول ہونے لگے۔
سب سے پہلے ایک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی اور میرے کانوں میں آوازیں گونجنے لگیں“حضرات یہ فلاں فلاں مسجد اہلحدیث ہے۔ ہم سڑے ہوئے نظریات اور نام نہاد فقہ کو نہیں مانتے۔ ہم قرآن و حدیث سے براہ راست استدلال کرتے ہیں۔ ہماری مسجد کو پہنچاننا ہو تو یہ دیکھ لیں کہ سب سے پہلی اذان کہاں سے ہورہی ہے۔ اور اب آئیں ہم نماز پڑھ لیں۔“
ایک اور مسجد سے صلوۃ سلام کے بعد اذان کی آواز بلند ہوئی“ حضرات ہم آپ سے فلاں فلاں مسجد اہلسنت ولجماعت حنفی بریلوی سے مخاطب ہیں۔ ہمارے آقا و مولٰی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے سب سے زیادہ محبت ہم ہی کرتے ہیں جس کا ثبوت ہر اذان کے ساتھ صلوۃ سلام کا ورد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنے والوں کو ہم دین اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ہماری مسجد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اذان اور ہر اعلان کے ساتھ ہم صلوۃ سلام کا ورد ضرور کرتے ہیں آئیے اب ہم نماز بھی پڑھ لیں۔“
پھر ایک اور مسجد سے صدائے حق بلند ہوئی“ دیکھیں جناب یہ مسجد فلاں فلاں اہلسنت حنفی دیوبندی ہے۔ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول کریم کے بعد سب سے اونچا مقام دیتے ہیں۔ ہم پیر پرستی اور قبر پرستی سے بیزار ہیں اور ہاں ہماری مسجد کی پہچان یہ ہے کہ ہماری اذان سب سے مختصر ہوتی ہے۔ ہم کسی اور کلمے کا اضافہ نہیں‌کرتے ۔ آئیں اب نماز پڑھ لی جائے۔“
سب سے آخر میں ایک طرف سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے“ جناب ہم اہل تشیع ہیں۔ ہم اہل بیت کے سب سے بڑے محب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کا عاشق ہم سے زیادہ کون ہوگا۔ ہماری مسجد کی نشانی یہ ہے کہ ہم صرف تین بار اذان دیتے ہیں اور ہماری اذان میں کچھ مزید کلمات کا اضافہ بھی ہوتا ہے جس سے آپ باآسانی ہمیں پہچان سکتے ہیں۔ تو آئیے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں۔“
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ اذانیں نیہں بلکہ نفس بول رہے ہیں۔ میری طرف دیکھو میں دیوبندی ہوں، ارے ادھر کدھر ادھر دیکھ میں ہوں شیعہ ہوں ہم سے بہتر کون مسلمان ہے۔ اوئے ادھر کیا دیکھتا ہے ادھر دیکھ یہ تو کافر ہیں ان کے عقائد ہی ہم سے نہیں ملتے ہم بڑے مسلمان ہیں ہمارا فرقہ بہترین ہے۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ لوگ مخلوق خدا کو اللہ کی طرف نہیں اپنی طرف بلا رہے ہیں۔
آؤ ہماری طرف آؤ اہلحدیث ہوجاؤ اسی میں فلاح ہے۔
آؤ بریلویت کی طرف یہی کامیابی کی راہ ہے۔
آؤ ادھر آؤ ادھر آؤ ہم سب سے بڑے ہیں۔
آؤ ہم ہی جنتی ہیں۔
ادھر آجاؤ۔
اور پھر ایسا ہوا کہ میرے اردگرد کھڑی مسجدیں غائب ہوگئیں اور ان کی جگہ بڑے بڑے گلیور نمودار ہوگئے۔ ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے، اپنے فرقے کی کتابیں اٹھائے، سر پر ٹوپیاں لیے لمبی لمبی ڈاڑھیاں رکھے اور عمامے باندھے، شلواریں ٹخنوں سے اونچی کیے، آپس میں لڑتے نہیں اسے ہماری طرف آنے دو نہیں میری طرف، نہیں میری طرف، اور میں ایک بونا، جو ان کے پیروں کے نیچے آنے سے بچ رہا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں اور آخر ایک طرف بھاگ نکلتا ہوں۔
میری طرف۔۔۔ نہیں ۔۔۔میری طرف۔۔۔ نہیں۔۔ میری طرف۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساری آوازیں معدوم ہوتی جارہی ہیں اور پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے میں نہیں رہتا، کوئی بھی نہیں رہتا اور میرے سامنے میرا رب ہے۔ میں دھیرے سے اپنے رب سائیں سے پوچھتا ہوں۔
“سائیں یہ سب لوگ اتنا لڑ کیوں رہے ہیں۔ آپ کے نام پر ہی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ایسا کیوں ہے سائیں۔ آپ تو سراپا محبت ہونا۔ آپ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو۔ سائیں تو پھر یہ لوگ کیوں لڑتے ہیں آپ کے نام پر ہی۔ انھیں تو مل جل کر محبت سے رہنا چاہیے۔“
اور مجھے ایسا لگا جیسے میرے اللہ سائیں مسکرا دیے ہیں جیسے کہہ رہے ہیں یہ سب تو پاگل ہیں، نادان ہیں۔ میری کتاب کو اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی عقلیں محدود ہیں۔ اپنی محدود عقلوں سے جو اندازے لگا لیتے ہیں ان پر ڈٹ جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو فرعون سمجھنے لگتے ہیں ان کا خیال ہے سب کچھ انھیں کو عطاء ہوگیا ہے باقی سب جاہل مطلق ہیں‌اور ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ان کی میں انھیں جینے نہیں دیتی۔ اس لیے کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے۔

جمعرات، 2 نومبر، 2006

What is a LOTTA

پاک بلاگرز آرایس ایس جمع کار ویب سائٹ‌ہے۔ ساجد اقبال کے بلاگ سے اس کی سن گن ملی تو میں بھی اس پر اندراج کے لیے چل پڑا۔ اندراج تو کروا لیا ہے میں نے لیکن مجھے بہت ہنسی آئی۔ کیوں آئی۔ آپ بھی دیکھ لیں۔
LOTTA
کیسی رہی۔

:lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol:

منگل، 31 اکتوبر، 2006

یونہی گزرا تو سوچا۔۔

ایک دن لائبریری جارہا تھا راستے میں آمنے سامنے دو قبرستان آتے ہیں۔ میں‌قریب سے گزرا تو ایک جنازہ آرہا تھا۔ گنتی کے 8 یا 10 بندے تھے اس کے ساتھ۔ میرے دل میں بے اختیار ہُوک سی اٹھی کون بدنصیب ہے جس کے جنازے کو کندھا دینے والے بھی اتنے کم ہیں۔دل بہت اداس ہوا۔ ابھی یہ اداسی قائم تھی کہ اندر سے آواز آئی نادان اپنی فکر کر۔ تجھے معلوم ہے کہ اتنے سوار بھی نصیب ہوجائیں گے؟؟
اور میں‌کانپ کررہ گیا۔ پتا نہیں میرا نصیب اتنے سوار بھی ہیں یا نہیں، کفن بھی نصیب ہوگا یا نہیں۔ اپنے وطن کی مٹی میں مل سکوں گا یا نہیں۔
ان سارے خدشوں نے کوڑیالے سانپوں کی طرح پھن اٹھا لیے۔ اور پھر ایک اور سانپ اٹھا ان سب سے بڑا۔ بولا جو جہاں بھی جائے گا آئے گا تو اسی کے پاس نا۔ وہ جس کی رحمت اور کرم کے تو گن گاتاہے جبار و قہار بھی ہے۔ کبھی تو نے سوچا کہ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔ جب تیرے پاس کچھ زاد راہ نہیں ہوگا۔
پہلے میں صرف کانپا تھا اب مجھے جاڑے کے بخار کی طرح پھریریاں آنے لگیں۔ میں‌ نے بے اختیار اس کے لیے دعائے مغفرت کی جو خوش نصیب تھا اسے سوار تو نصیب ہوئے تھے، اسے کچھ لوگ تو نصیب ہوئے تھے جو اس کے لیے ہاتھ اٹھانے والے تھے۔ اور میں؟؟ میرے سامنے اپنے اعمال تھے اور بےیقینی تھی کہ کوئی میرے لیے بھی ہاتھ اٹھائے گا یا نہیں۔
پھر دل نے صلاح دی۔ تو اگردوسروں کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو کوئی تیرے لیے بھی ہاتھ اٹھانے والا ضرور ہوگا۔ اس دن سے میرا معمول ہے جب بھی کسی قبرستان کے قریب سے گزروں ان کے لیے دل ہی دل میں‌ دعائے مغفرت کی ایک عرضی اوپر روانہ کردیا کرتا ہوں۔ کہ شاید اس طرح میری بخشش کا کوئی وسیلہ بن جائے۔ اتنے ساری سیاہ اعمالیوں میں کوئی کمی پیدا ہوجائے۔
یہ قبرستان ہمارا مقدر ہیں، ایسا مقدر جس سے ہم ساری عمر دور بھاگتے ہیں لیکن اصل میں ہمارا رخ انھی کی طرف ہوتا ہے بالآخر کسی قبر میں بڑے آرام سے جاکر لیٹ‌ جاتےہیں۔ صاحبو یہ سب لکھنے سے مراد یہ نہیں‌کہ میں‌جوگی ہوگیا ہوں، نہ میری فٹ بھر کی داڑھی نکل آئی ہے۔ بس ایک احساس پیدا ہوا تو یہ سب لکھ ڈالا۔ اس جذبے کے تحت کے آپ بھی جب ان قبرستانوں کے قریب سے گزریں تو دعائے مغفرت کے لیے ہاتھ ضرور اٹھا دیا کریں، چاہے دل میں ہی گزرتے گزرے دعا کردیا کریں۔ شاید یہ عمل ہی ہماری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔
آئیے ایک بارسب مسلمین کے لیے دعائے مغفرت کرلیں۔
یا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ جتنے بھی مسلمان مرد و عورت وفات پاچکے ہیں ان کی مغفرت فرما آمین۔
و صلی اللہ تعالٰی علٰی حبِیبِہِ سیًدنا محمد وسلم

اتوار، 29 اکتوبر، 2006

ورڈپریس کی تنصیب(چوتھا سبق)

جیسا کہ تیسرے سبق میں بتایا گیا تھا کہ اس سبق میں کسی تھیم کو اردوانے کے سلسلے میں اس کے قابل تبدیل حصوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ورڈپریس کے تھیم عمومًا ایک جیسے کوڈ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چند ایک میں ہی ایک آدھ ڈورے کا فرق پڑجاتا ہے۔ بنیادی چیز جو ایک تھیم کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے اس کی سٹائل شیٹ یعنی سی ایس ایس CSS۔ سٹائل شیٹ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تھیم کس طرح نظر آئے گا۔ میرا علم سٹائل شیٹ‌ کے سلسلے میں اگرچہ بہت محدود ہے لیکن کوشش ہے جو کچھ مجھے سمجھ آئی ہے آپ کو بھی سمجھا سکوں۔ انگریزی اور اردو تھیم میں بنیادی فرق سمت کا ہے۔ انگریزی بائیں سے دائیں ہے اور اردو دائیں سے بائیں، دوسرا بڑا فرق فونٹ کے استعمال کا ہے۔ انگریزی کے اچھے فونٹ جیسے تاہوما وغیرہ یونیکوڈ کو سپورٹ تو کرتے ہیں لیکن ان کا نتیجہ انتہائی بھدا ہوتا ہے۔ اس لیے اردو کے فونٹ استعمال کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ بھی کوئی اتنی زیادہ تعداد میں نہیں‌ لیکن گزارہ کرتے ہیں۔ عمومی پسند کیے جانے والے فونٹس میں‌ پہلے نمبر پر اردو نسخ ایشیا ٹائپ ہے جو قریبا ویب استعمال کرنے والے ہر اردو صارف کے پی سی پر نصب ہوتا ہے۔ دوسرے نمبر پر نفیس ویب نسخ ہے۔ یہ فونٹ اکثر اوقات ایشیا ٹائپ سے بہتر نتیجہ دیتا ہے۔ بہرحال یہ آپ کی پسند ہوتی ہے کہ بنیادی فونٹ کونسا ہو لیکن متن کے لیے ہم آپ کو انھی دو میں سے کوئی ایک منتخب کرنے کا مشورہ دیں گے چونکہ ایک تو یہ چھوٹے سائز میں خوبصورت لگتے ہیں دوسرے جلدی پیش ہوجاتے ہیں یعنی انکی نمائش کے لیے زیادہ عمل کاری نہیں کرنا پڑتی کمپیوٹر کو۔ (اگر تجربہ کرنا چاہیں تو نفیس نستعلیق میں ایک ویب پیج بنا کر دیکھ لیں دو پیروں کا صفحہ بھی کھلنے میں کم از کم ایک منٹ لے گا یہ طاقتور پی سی کی بات ہورہی ہے پی ون اور ٹو تو چاہے جام ہوجائیں اس افتاد سے گھبرا کر)۔ اچھا تو اب ہم دیکھتے ہیں ایک تھیم کے لیے کیا بنیادی تبدیلیاں درکار ہونگی۔ سب سے پہلے ہم نے ہیڈر فائل میں تھوڑی سے تبدیلی کرنا ہے۔ ہر تھیم میں ایک ہیڈر فائل، ایک فوٹر فائل، ایک سائڈ بار، ایک سرچ رزلٹ فائل، ایک آرچیو فائل ، اور پوسٹ فائل قسم کی چیز ہونگی ۔ ساتھ میں ایک فولڈر ہوگا جس میں اس تھیم میں استعمال کی گئی تصاویر ہونگی۔ چلتے چلتے ایک ٹپ سے دے دیں ہم نے ذاتی طور پر زیادہ گرافکس والے تھیم کو اردوانے کی کوشش کی تھی شروع شروع میں لیکن ناکامی ہوئی چونکہ سمت بدل دی جاتی ہے اس لیے گرافکس کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔ تحریر کا پس منظر سائیڈ بار کے پیچھے نظر آرہا ہوتا ہے اور سائیڈ بار کا تحریر کے پیچھے۔ اس لیے ہم نے توبہ کی اور اس وقت ہمارے بلاگ پر سادہ سا تھیم جس میں گرافکس کے نام پر آر ایس آیس کے آئکن ہیں اردوا لیا۔ خیر ماہرین بے شک ان کو للکار سکتے ہیں۔ بس یہ یاد رکھیے گا اگر کوئی گرافکس سے بھرپور تھیم پسند آگیا ہے تو پس منظر کی تصاویر کو بھی اس حساب سے دائیں بائیں کرنا ہوگا۔ چلیں اب شروع کریں۔ ہیڈر ڈاٹ پی ایچ پی فائل کھول لیں۔ میرے تھیم ونٹر ڈے کی فائل کی ابتدائی سطور کچھ ایسے ہیں۔


<!DOCTYPE html PUBLIC "-//W3C//DTD XHTML 1.0 Strict//EN" "http://www.w3.org/TR/xhtml1/DTD/xhtml1-strict.dtd">

<html xmlns="http://www.w3.org/1999/xhtml" lang="ur" xml:lang="ur" dir="rtl">



<head profile="http://gmpg.org/xfn/11" link rel="shortcut icon" href="favicon.ico"
link rel="icon" href="animated_favicon1.gif" type="image/gif">

اس میں دوسری سطر دیکھیں سب سے پہلی تبدیلی یہاں کرنی ہے۔ اگر آپ اپنے تھیم کی اسی فائل کا موازنہ اس فائل سے کریں تو آپ کو اس میں دو چیزیں اضافی نظر آئیں گی ایک تو lag= ur دوسرے dir =rtl یہ دونوں کمانڈیں خود سے دینے کی بجائے آپ یہ لائن نقل کریں اور اپنے تھیم کی فائل کی متعلقہ سطر اس سے بدل دیں۔ براؤزر اب اس صفحے کو اردو کے طور پر شناخت کرے گا اور سمت دائیں سے بائیں کردے گا۔ دوسری چیز ہے اس فائل میں ویب پیڈ کی شمولیت کے لیے کوڈ شامل کرنا۔ چونکہ ہمارا مقصد صارف کی آسانی ہے اس لیے ویب پیڈ کی شمولیت ضروری ہے اور اس کی سکرپٹ کو کال ہیڈر میں‌ ہی کیا جائے گا بعد میں مختلف جگہوں پر اسے لاگو کردیا جائے گا۔ چناچہ اپنی اسی فائل میں باڈی کا ٹیگ ڈھونڈیں۔ یہ اکیلا ہوگا اس کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ صرف یہی لکھا ہوگا۔


<body>

اس کے فورًا بعد آپ نے یہ سطور شامل کردینی ہیں۔ یہاں میں اپنی متعلقہ فائل سے سارا کوڈ کاپی کررہا ہوں آپ باڈی کو چھوڑ کر باقی اٹھا لیجیے۔


<body>
<script language="javascript1.2" type="text/javascript" src="http://www.yourdomain.com/UrduEditor.js"></script>
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
initUrduEditor("http://www.yourdomain.com/");
</script>

یہاں yourdomain کو اپنے ڈومین سے بدل دیں۔ اور اردوپیڈ آپ نے اپنی روٹ ڈائرکڑی میں کاپی کر ہی لیا ہوگا۔ یہ تو کام ختم ہوا ایک اور چیز جو بونس میں بتائے دیتا ہوں وہ ہے فےو آئکن۔ اس کا ربط بھی اسی فائل میں دینا ہے۔ ہیڈ سیکشن میں جیسے میرے ہاں کچھ ایسے ہے۔


<head profile="http://gmpg.org/xfn/11" link rel="shortcut icon" href="favicon.ico" 
link rel="icon" href="animated_favicon1.gif" type="image/gif">

فےو آئکن کیا ہے اس کے لیے میرا لکھا ہوا چھوٹا سا ایک سبق اردو محفل پر موجود ہے۔ چلیں صاحب اب چلتے ہیں سائیڈ بار میں جہاں ہم نے تلاش کے قطعے میں ویب پیڈ شامل کرنا ہے۔میری فائل کی مثال ملاحظہ کیجیے۔


<li id="search">
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle1" onclick='setEnglish("s")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle1" onclick='setUrdu("s")'>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>

</li>

تلاش کا خانہ ہوسکتا ہے الگ سے ایک فائل میں موجود ہو جیسے ورڈپریس کے بنیادی کربک تھیم میں ہے۔ لیکن اس میں یہ چیز مشترک ہوگی۔ اب آپ کا کام ہے کہ اوپر والی مثال اور اپنی فائل میں موجود فرق جانچیں اور ان کو ایک جیسا کرلیں۔ آپ اس کو بھی اپنی فائل کے متعلقہ حصے میں اٹھا کر رکھ سکتے ہیں پرانا اڑا کر۔ اصل میں زیادہ فرق نہیں ہوگا صرف اتنا ہی کہ پیرا کی جگہ اس نے ڈویژن کی کمانڈ دی ہوگی۔ باقی اردو پیڈ کی شمولیت ایسے ہی ہوگی۔ اردو ویب پیڈ کی شمولیت کے سلسلے میں آپ کو ایک دو بار شاید پریشانی ہو لیکن پھر آپ اسے کسی بھی عبارتی/تدوینی علاقے میں شامل کرنے کے قابل ہونگے۔ خیر یہ تو بات تھی تلاش کے قطعے کی۔ اب چلتے ہیں کمنٹس کی فائل میں۔ اور یہ وہ فائل ہے جس نے مجھے بہت تنگ کیا تھا۔ اس فائل میں دو جگہیں ہیں جہاں آپ کو ویب پیڈ شامل کرنا ہوگا نمبر ایک مصنف کا نام اور دوسرے تبصروں کا خانہ۔ دونوں کی مثالیں اپنی فائل سے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں انھیں دیکھیں، فرق جانچیں اور متعلقہ تبدیلی اسی طرح کرلیں۔ یاد رہے p کا ٹیگ div کے ٹیب سے بدل دینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ ہے مصنف کے نام کا قطعہ


<div><label for="author"><?php _e('نام'); ?> <?php if ($req) _e('(درکار)'); ?></label></div>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick='setEnglish("author")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick='setUrdu("author")'>
<div><input type="text" name="author" id="author" onfocus="setEditor(this)" value="<?php echo $comment_author; ?>" size="22" tabindex="1" />

<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("author", 12);
</script></div>

اور یہ ہے تبصرہ کرنے کا خانہ


<div><label for="comment"><?php _e('لکھیں'); ?> <?php _e('تبصرہ'); ?></label></div>
<div><textarea name="comment" id="comment" onfocus="setEditor(this)" cols="50" rows="10" tabindex="4"></textarea></div>
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("comment", 16);
</script>
English<input type="radio" value="English" name="toggle1" onclick='setEnglish("comment")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle1" onclick='setUrdu("comment")'>

ہمارا مشورہ ہے کہ یہ سب تبدیلیاں اپنے ڈیسکٹاپ پر کی جائیں پھر ایک ہی بار فائلوں کو بلاگ پر چڑھا کر ان کو جانچا جائے۔ اب ہم آتے ہیں آخری کام پر اور وہ ہے سٹائل شیٹ میں تبدیلی۔ یہ اصل میں سب سے آسان کام ہے۔ یہاں صرف کاپی پیسٹ کرنا ہے ہم نے۔ سٹائل شیٹ میں جو چیزیں تبدیل ہونگی وہ ہیں font-size, font-family, float اور بعض صورتوں میں padding , margin وغیرہ بھی۔ بنیادی طور پر اگر آپ سادہ تھیم پسند کرتے ہیں تو پہلی تین صورتیں ہی کافی ہونگی۔ اب ہم بات کرتے ہیں کہ فونٹ کوکس طرح بدلنا ہے اور کہاں کہاں۔ فونٹ کو آپ نے صرف ایک جگہ نہیں‌ بدلنا اور وہ ہے code کی آئی ڈی۔ باقی ہر جگہ خصوصًا content, sidebar, heading, h1, h2 وغیرہ وغیرہ میں جہاں بھی فونٹ کا ذکر موجود ہے وہاں آپ نے اللہ کا نام لے کر یہ پیسٹ کرتے جانا ہے۔


font-family : "Urdu Naskh Asiatype", "Nafees Web Naskh", "Lucida Grande", Verdana, Arial, Sans-Serif;

یاد رہے فونٹ فیملی کی ساری کمانڈ کو آپ نے اس سے بدلتے جانا ہے۔ اس میں پہلا فونٹ ایشیا ٹائپ ہے اگر وہ نہ ہوتو نفیس ویب نسخ اگر وہ بھی دستیاب نہیں تو لوسیڈا وغیرہ وغیرہ۔ آپ ان میں اپنی پسند کے مطابق آگے پیچھے کرکے تبدیلی کرسکتے ہیں۔ اگلی بات ہے فونٹ سائز کی۔ فونٹ کا سائز تھوڑا سا بڑا کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ آپ کو خود کرنا ہے۔ پہلے بنیادی سائز پر دیکھ لیں بلاگ کیسا لگتا ہے اگر نہ جچے تو اس کو بڑا کرلیں فونٹ سائز em, pt, px اور % وغیرہ میں ہوسکتا ہے یہ اب آپ کی پسند و لیاقت پر ہے کہ کتنا فونٹ سائز پسند کرتے ہیں۔ تیسری چیز ہے فلوٹ۔ یہ اصل میں براؤزرکو بتاتی ہے کہ یہ چیز دائیں ہویا بائیں۔ جیسے اگر ایک تھیم میں سائیڈ بار دائیں طرف ہے تو اس کی سٹائل شیٹ میں sidebar کی آئی ڈی کے تحت فلوٹ رائٹ لکھا ہوگا۔ اسی طرح متن یعنی content کا حساب ہے۔ لیکن دونوں کبھی بھی ایک ہی طرف نہیں ہونگے مخالف سمتوں میں ہونگے۔ سو اگر آپ سائیڈ بار بائیں اور متن بار دائیں کرنا چاہیں تو آپ کو فلوٹ کی کمانڈ الٹنا ہوگی۔ بس یہ ہی تھا سب۔ سٹائل شیٹ میں بس اتنی ہی تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں ہمارے خیال میں۔ اب بات کرتے ہیں‌ اصطلاحات کے ترجمہ کی۔ ترجمہ آُپ پی ایچ پی کوڈ کے اندر باآسانی پہچان لیتے ہیں جو عمومًا دو واوین جیسے ٰیہٰ کی شکل میں ہوتے ہیں، اکثر ان کے شروع میں ایک e بھی دیا ہوتا ہے یا ایک -جیسی چیز نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان کو دیکھیں اور مناسب الفاظ میں اردو ترجمہ کرکے فائل کو یو ٹی ایف 8 بناوٹ میں محفوظ کردیں ایکس پی میں اگر آپ یہ سب کررہے ہیں تو وہ نوٹ پیڈ میں فائل کی تدوین کے بعد محفوظ کرنے سے پہلے ایرر دے گا کہ انکوڈنگ ٹھیک نہیں چناچہ اسے یو ٹی ایف 8 کرلیجیے گا۔ لینکس طےشدہ طور پر ہی فائل کو یو ٹی ایف 8 میں محفوظ کرتا ہے۔ اب ایک آخری بات جب آپ کوئی پرانی تحریر دیکھ رہے ہوں تو نیچے لکھا آتا ہے ٰ<<فلاں تحریرٰ اور ٰفلاں تحریر>>ٰ۔ انگریزی میں ہونے کی وجہ سے ان کی جگہیں الٹ ہونگی دائیں والی بائیں اور بائیں والی دائیں ہوگی۔ اس میں آپ تبدیلی کرلیں کہ متعلقہ فائل میں جاکر (جو ترجمہ کرتے وقت آپ کو کلیئیر ہوجائے گی) ان کی سمت الٹ کردیں۔ تو یہ تھا سب کچھ جو ہم نے اب تک سیکھا۔ اگرچہ ہم اب بھی کچھ معاملات میں پریشان ہیں جیسے اگر صفحے کی چوڑائی بڑھا کر رقبہ زیادہ کرنا ہو تو سٹائل شیٹ کا کونسا بٹن دبائیں لیکن امید ہے آپ کے لیے نارمل بلاگنگ کرنے کے لیے یہ سب کچھ بہت ہوگا۔ باقی ورڈپریس کے سپورٹ فورم پر حاضر رہیے گا، وہاں سے آپ کو بہترین اور ہر قسم کی مدد مل سکے گی، اس کے علاوہ اپنی ضرورت کے مطابق دخیلے یعنی پلگ ان نصب کرلیجیے گا ان سے بہت آسانی ہوجاتی ہے اس سلسلے میں بھی ورڈپریس کے گرو جو متعلقہ چوپالوں میں بیٹھے ہیں آپ کو ربط فراہم کردیں گے۔ اب دعا کیجیے گا کہ انھیں صفحات پر اردو ورڈپریس کا تعارف بھی لکھوں۔ اللہ توفیق دے۔ آمین وسلام

ہفتہ، 28 اکتوبر، 2006

میں اور میرا لینکس :)

مجھے بھی الٹی ہی سوجھا کرتی ہیں۔ اول تو لینکس کو ہاتھ تک نہ لگاؤں ( یہ الگ بات ہے کہ پچھلے 8 ماہ سے باقاعدہ نصب شدہ رکھتا ہوں اسے)۔ کبھی لینکس پر آجاؤں تو ونڈوز کو چھوؤں بھی نہ۔ لینکس پر بھی مجھے ہمیشہ ایک ہی کام سوجھتا ہے۔ نئے نئے سافٹویر تلاشنا پھر انھیں اتار کر نصب کرنا، ان کے ساتھ پنگے بازی کرنا اور آخر اپنے سسٹم کو کریش کرکرے دوبارہ لینکس نصب کرنا خدا جھوٹ‌ نہ بلوائے تو کم از کم دس بار لینکس نصب کرچکا ہوں۔ کبھی اوبنٹو کبھی کبنٹو۔ اور آج کل میں سوچ رہا ہوں اگر زبنٹو کی سی ڈی مل جائے تو اسے بھی ٹرائی کروں۔:D ابھی تک میں لینکس پر ٹرائیاں کررہا ہوں۔ کبھی فری سپائر کا سوچتا ہوں۔ کبھی اوبنٹو اچھا لگنے لگتا ہے اور کبھی کبنٹو سے بہتر کچھ بھی نہیں لگتا۔ لینکس پر آنلائن ہوں اور جب سے کیبل نیٹ لگی ہے تب سے میرا واحد مشغلہ ویب براؤزنگ اور ڈاؤنلوڈنگ ہوتا ہے۔ بیٹھے بیٹھے سو ڈیڑھ سو میگا بائٹ کے سافٹویر اتار لینا میرے لیے معمولی بات ہے۔ کبھی کے ڈی ای کوجدید کیا جارہا ہے یہ الگ بات ہے کہ دو بار اسی وجہ سے مار کھا چکا ہوں۔ کے ڈی ای اپگریڈ کیا دوران تنصیب بجلی چلی گئی اور پھر جب کے ڈی ای چلا تو سکرین کی ریزولوشن غائب۔ اسی اکھاڑ پچھاڑ نے مجھے آٹومیٹکس کی طرف متوجہ کیا۔ آٹومیٹکس ایک خودکار تنصیب کار ہے۔ اصل میں ایک سکرپٹ لیکن کام بہترین کرتی ہے اگرچہ ایک لینکس گرو نے اس جیسی چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کی تھی کہ یہ سسٹم کو کریش کردیتی ہیں لیکن‌ سنتا کون ہے۔ اس وقت بھی میں آٹومیٹکس سے کے آفس کا تازہ ترین ورژن اتار رہا ہوں۔ ایویں اتارنا تھا اوپن آفس کا کلپ آرٹ اس میں مسئلہ آرہا تھا میں نے کہا چلو یہ ہی سہی۔ آٹو میٹکس کئی عمومی استعمال کے لینکس پروگرام صرف ایک کلک پر نصب کردیتی ہے ۔ اگر لینکس استعمال کرتے ہیں تو اسے ضرور ٹرائی کیجیے گا۔ یہاں لینکس سے مراد اوبنٹو اور اس کی ذیلی اقسام ہیں۔ آٹومیٹکس صرف اوبنٹو اور میپس کو سپورٹ کرتی ہے فی الحال۔ اس کی تنصیب بہت سادہ ہے جو آپ کو اس کی ویب سائٹ پر مل جائے گی۔ اب تو اس کا ورژن دو آچکا ہے جس میں بہت آسانی ہوگئی ہے اس سے نصب شدہ سافٹویر اسی کے ذریعے نکالے بھی جاسکتے ہیں۔ سو ٹرائی کیجیے گا۔ کوئی مسئلہ ہو تو میں حاضر ہوں۔:D

عید ایسے بھی گزری

کہانی کوئی نئی نہیں۔ وہی پرانی جو پچھلے چند عشروں سے ہمارا طرہ امتیاز بن گیا ہے۔
عید والے دن میرے دوست کا فون آیا یار آکر مل جا۔ میں رات کو اس کی طرف گیا تو یونہی باتوں باتوں میں کہنے لگا باہر دیکھا ہماری مسجد بن گئی ہے۔ ان کے محلے میں ایک مسجد زیر تعمیر تھی اب مکمل ہوگئی ہے۔ لیکن مکمل ہوکر اس نے کیا گل کھلائے یہی ہمارا موضوع ہے۔ سمجھ تو آپ گئے ہونگے کہ کیا ہوا ہوگا۔
چلیں میں بھی بتائے دیتا ہوں۔ کچھ بھی نہیں ہوا جس بندے نے مسجد کے لیے زیادہ چندہ دیا وہ خود مکان بدل کر پرے چلا گیا۔ اور اس کے بعد محلے کے "چوہدریوں" میں لڑائی شروع ہوگئی۔ لڑائی کس بات کی۔ مسجد کس فرقے کی ہو۔ بات کچھ بھی نہیں تھی۔ محلہ سارا بریلویوں کا ہے۔ انھوں نے مسجد بنی تو امام لاکر کھڑا کردیا۔ اب امام صاحب نے ہر اذان کے بعد سلام اور نماز جمعہ کے بعد جناب اعلٰی حضرت کا لکھا ہوا سلام جو شاعری کی شکل میں ہے پیش کرنا شروع کردیا۔
محلے کے ایک "سان" (سان کہتے ہیں جو سورما ہو) کو یہ بات بری لگی موصوف دیوبندی ہیں ان کے خیال میں یہ بدعت ہے چناچہ انھوں نے دو تین بندوں کو ساتھ ملایا، کہیں کچھ رابطے کیے اور مسجد میں اگلے دن موٹرسائیکلوں پر کلاشنکوف بردار فرشتے آگئے۔
سلام نہیں پڑھا جائے گا۔ کیوں نہیں۔ یہ وہ تو تکار اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی۔ امام صاحب کو انھوں نے پرے کیا اور اپنا بدعت سے پاک نیک امام وہاں کھڑا کردیا۔ اگلا جمعہ آیا تو امام صاحب نے 4 کلاشنکوفوں کے سائے میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ اسی دوران اتنی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ ایک راہ چلتے سنتری نے پولیس بلا لی۔ مسجد کے باہر پولیس کا پہرہ لگ گیا اور بے گناہ نمازیوں کو بھی اندر محبوس رہنا پڑا۔ ناظم، محلے کے معززرین سب اس معاملے میں بے بس ہوگئے تو ایس پی نے دونوں پارٹیوں کے 4 4 بندے آفس بلالیے ۔
وہاں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اب حال یہ ہے کہ اس مسجد میں محلے کے صرف 5، 7 بندے نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ ہاں البتہ کئی "فرشتے" موٹرسائیکلوں پر نماز پڑھنے ضرور آجاتے ہیں۔ خلق خدا کا کہناہے کہ سپاہ صحابہ کے فرشتے ہیں۔ حقیقت حال تو اللہ جانے ۔ اس سارے قضیے کا نتیجہ یہ ہے کہ محلے والے جو پہلے باہم شیر و شکر تھے اب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں کہ یہ مخالف پارٹی کا بندہ تو نہیں، عید کے دن کا حال بھی سن لیں میرا دوست بتاتا ہے عید کے دن کم از کم ڈیڑھ ہزار آبادی والے اس محلے سے اس مسجد میں صرف بیس لوگ تھے۔ گنتی کے بیس لوگ دو صفیں جن میں وہ "فرشتے" بھی شامل تھے جو خصوصًا اس کام کے لیے آسمان سے بذریعہ موٹر سائیکل نازل ہوتے ہیں۔
یہیں بس نہیں ہوتی یہ ہمارے ایک عزیز کا قصہ ہے۔ شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں ان کی کچھ زرعی اراضی ہے جس کے قریب ہی اب ٹاؤن وغیرہ بننے لگے ہیں لیکن اب بھی کہیں کہیں وہاں کاشت ہوتی ہے۔ انھوں نے اس رقبے پر ایک کونے میں مسجد بنا دی اور اوپر مدرسہ کہ خلق خدا نماز پڑھے اور دعائیں دے۔ مسجد کے مولانا نے پہلے تسلی سے جانچا پرکھا اور اب مسجد کی توسیع کے بہانے بغل میں لیڑینیں بنا کر باقی کے پلاٹ جو قریبًا ایک ایکڑ کا ہے کو راستہ بلاک کردیا ہے۔ مخالف پارٹی نے مولانا کو ہلا شیری دی بھئی شیر ہوجاؤ‌ ہم تہمارے ساتھ ہیں اور مولانا نے اب مالکان پر ایک عدد مقدمہ بھی کردیا ہے کہ مسجد میں آکر دہشت پھیلاتے ہیں ان بیچاروں کا قصور صرف اتنا تھا مولانا سے اس سلسلے میں بات چیت کرنے گئے تھے گرما گرمی ہوگئی اور مولانا تھانے پہنچ گئے۔ اس عید کا حال سنیے۔ عید پر اسی سلسلے میں ایک جھگٹرا بھی ہوچکا ہے اور اس میں ایک بندہ فائر لگنے سے زخمی بھی ہوگیا ہے۔
اب اگر میں دین کو ہائی جیکڈ اور ان مولویوں کو ہائی جیکر سمجھوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں مسجد جاکر نماز پڑھنے سے گھبراؤں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں ان کے اس نام نہاد دین جس کو یہ اسلام کا نام دیتے ہیں کو نہ مانوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟

جمعہ، 27 اکتوبر، 2006

لینکس اردو نوٹ پیڈ

نعمان کی دعا اللہ میاں نے آخر سن ہی لی اور اوبنٹو میلنگ لسٹ کے ایک دوست جناب سعات سعید نے پائتھون میں ایک سادہ سا اردو مدوِن لکھا ہے جو صوابدیدی کی بورڈ ، انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی اور اس طرح کی عمومی خوبیوں پر مشتمل ہے۔ اس کو یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر گنوم ڈیسکٹاپ ماحول کے لیے لکھا گیا ہے لیکن کے ڈی ای پر بھی چل سکتا ہے۔ صرف ایک مسئلہ جو پیدا ہوتا ہے وہ ہے گنوم کا پرنٹ ماڈیول جو یہ درآمد کرنے کی کوشش میں کے ڈی ای پر منہ کے بل گرنا ہے۔ اس کا حل ہے کہ مین پی وائی فائل میں سطر نمبر پانچ مٹا دی جائے۔ جب میں نے ایسا کیا تو میرے سسٹم پر چلا کیا دوڑا۔ لینکس میں اردو کی سپورٹ اگرچہ ہے لیکن اس میں دائیں سے بائیں کی کوئی سپورٹ نہیں جس کی وجہ سے اردو لکھتے ہوئے بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ دو تین سطور کے بعد مدوِن الفاظ توڑنا شروع کردیتا ہے یا الٹے دکھانے لگتا ہے۔ ہر نئی سطر پر ماؤس اشاریہ بائیں طرف چلا جاتا ہے۔ اردو ایڈیٹر ان سارے مسائل کو کسی حد تک حل کردیتا ہے۔ بہرحال یہ اردنوٹ پیڈ ایک اچھی کاوش ہے لیکن اس میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ جیسے اس میں ہر بار فونٹ خود سے منتخب کرنا پڑتا ہے چونکہ بنیادی فونٹ ایک تو بھدا ہے دوسرے اردو ٹھیک نہیں لکھتا۔ چھ کو چ‌ھ لکھ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اردو کے موڈ میں کنٹرول پر مشتمل تیز راہیں یعنی شارٹ کٹس کام نہیں کرتے۔ کافی نازک مزاج ہے دو تین ابھی میں فونٹ ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ کریش ہوگیا۔ دعا ہے اللہ سعادت سعید صاحب اور دوسرے پروگرامر احباب کو توفیق دے تاکہ اس کے بنیادی ایرر دور کرکے اس میں دوسری مناسب خوبیاں بھی شامل کرسکیں۔ آمین۔ اور ہاں میرے سسٹم پر اردو ایڈیٹر ایکشن میں Free Image Hosting at www.ImageShack.us

جمعرات، 26 اکتوبر، 2006

فائر فاکس دو آگیا

ساجد اقبال کے اردو ٹیکنالوجی بلاگ پر فائر فاکس دو کے آنے کی خبر پڑھی تو میں کے اوبنٹو پر تھا۔متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر لینکس کے لیے اسے اتارا اور اوبنٹو کے فورمز پر جاکر اس کی تنصیب کے سلسلے میں ہدایات دیکھیں۔ دو تین پیغامات دیکھنے پر پتا چلا کہ یہ تو سیدھا سادھا کیس ہے اسے غیر مختصر کریں اور فائر فاکس کی کمانڈ دے کر چلانا شروع کردیں۔ یعنی کمپائل کا کوئی رپھڑ نہیں ورنہ لینکس میں تو بندہ مرنے والا ہوجاتا ہے کمپائل کرکرکے ہی۔ بہرحال فائر فاکس کو چلانا ہو تو 1۔ جہاں اسے غیر مختصر کیا ہے وہاں چلے جائیں اور ٹرمینل کھول کر لکھیں


./firefox

2۔ یا پھر اپنے ڈیسکٹاپ پر رائٹ کلک کریں اور اطلاقیے کو ربط بنا لیں۔ یعن لنک ٹو ایپلی کیشن اس میں آپ نے اپنے فولڈ کا پاتھ دے کر آخر میں اوپر والی کمانڈ کا دم چھلہ لگا دینا ہے جیسے میرے ہاں کچھ ایسے ہے


/home/ss/firefox/firefox

فائر فاکس لینکس میں ویسے کا ویسا ہی ہے بلکہ یوں کہنا ہوگا کہ اوبنٹو میں ویسے کا ویسا ہی ہے۔ ڈیپر میں خرابی کی وجہ سے اردو فونٹس کی پیشکش انتہائی خراب ہوتی ہے فائر فاکس میں اور اس ورژن میں بھی وہی حال ہے۔ میرا بلاگ کہیں تاہوما اور کہین ٹوٹے پھوٹے ایشیا ٹائپ میں نظر آرہا ہے۔ یہی حال اردو محفل کا ہے۔ ہاں فائر فاکس کا مواجہ خوبصورت لگ رہا ہے پہلی نظر میں ونڈوز وسٹا کے کسی اطلاقیے کا گمان ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کچھ نئی خوبیاں بھی شامل کی گئی ہیں فائر فاکس میں۔ جیسے پچھلی نشست کی بحالی، ہر روزن یعنی ٹیب کے ساتھ بند کرنے کا ایک بٹن۔ اگر ٹیب زیادہ ہوجائیں تو دائیں بائیں ایک بٹن نمودار ہوکر زائد روزنوں کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(تیسرا سبق)

ورڈپریس کی تنصیب کے بعد اگلا مرحلہ اس کو اردو دکھانے کے قابل بنانے کا ہے۔ ورڈپریس کو اردو دکھانے کے قابل بنانے کے لیے اس کے تھیم میں کچھ تبدیلیاں کرتا پڑتی ہیں۔ جیسے اردو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے تو اس کے لیے ایک کمانڈ ہیڈر فائل میں دینا پڑتی ہےاس کے علاوہ سٹائل شیٹ میں فونٹ وغیرہ کی تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اگر تھیم کا بھی اردو ترجمہ کرنا ہے تو کمانڈز کو اردو میں کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور چیز وہ ہے ورڈپریس میں اردو میں پوسٹ لکھنا۔ خوش قسمتی سے یہ سب کچھ کسی حد تک پہلے ہی کرچکے ہیں ہم اور آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ کاپی پیسٹ کرتے جائیں یا اتار کر اپنے ورڈپریس میں چڑھا لیں۔ پہلے بات کرتے ہیں تھیم کو اردوانے کی۔اردو محفل پر ورڈپریس کے اردوائے گئے تھیم دستیاب ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر دو تین تھیمز پر کام کیا ہے۔ ان میں سے دو تو محفل پر موجود بھی ہیں لیکن یہاں جو ربط میں دے رہا ہوں ان تھیمز میں ویب پیڈ کی سہولت بھی موجود ہے۔ ویب پیڈ ایک جاوا سکرپٹ ہے جسے جناب نبیل نقوی نے لکھا ہے۔ اردو محفل پر اردو پوسٹنگ کے لیے اسی کو استعمال کیا جاتا ہے اسے ویب بیسڈ اردو ایڈیٹر کہہ لیں۔ میرے بلاگ پر بھی اگر آپ تلاش کے خانے، تبصروں کے قطعے اور مصنف کے نام کے قطعے کو دیکھں تو ان میں سبز رنگ اسی وجہ سے نظر آتا ہے اور صارف بغیر ونڈوز کی اردو سپورٹ کے سیدھے سادھے انداز میں اردو لکھ لیتا ہے۔ میرا موجودہ تھیم جو اس وقت زیر استعمال ہے وہ ونٹر ڈے ہے جسے یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ورڈپریس کا بنیادی کربک تھیم جس کا سٹائل جناب زکریا اجمل نے اردو میں کیا تھا کو میں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے اور اس میں بھی تلاش، تبصروں اور تبصروں کے مصنف کے قطعات میں ویب پیڈ شامل کیا ہے یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔ پوسٹ کو کس طرح اردو میں لکھیں یا آسان الفاظ میں یہاں ویب پیڈ کس طرح شامل کریں۔ جناب نبیل نقوی نے میری فرمائش پر اس سلسلے میں کام کیا تھا اور اب یہ سارا کام اردو محفل پر موجود ہے وہاں موجود ہدایات پر عمل کرکے آپ با آسانی اپنے ورڈپریس وزی وگ مدوِن ٹنی ایم سی ای کی جگہ ویب پیڈ شامل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے اگر آپ اوپر والے تھیم بھی اتارتے ہیں تو ان میں ویب پیڈ کو چالو کرنے کے لیے آپ کو اسے یہاں سے اتار کر اپنے روٹ فولڈر یعنی / والی ڈائرکٹری میں کاپی کرنا ہوگا۔(بفرض محال اگر ویب پیڈ ٹھیک کام نہیں کرتا تو اس کی جاوا سکرپٹ یعنی جس کے ساتھ جے ایس کی اضافت لگی ہے فائل کو آپ نے اس فائل سے بدل دینا ہے۔) اس کے بعد تھیم فائلوں header.php میں باڈی ٹیگ کے فورًا بعد جہاں www.dost.ueuo.com لکھا ہے اسے اپنے ڈومین سے تبدیل کردیجیے گا یہی کام آپ نے ویب پیڈ کی پوسٹ پیج والی فائل میں شمولیت دوران کرنا ہے جس کی نبیل بھائی نے ہدایات بھی دی ہوئی ہیں۔ اور ہاں تھیم چڑھانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اسے غیر مختصر کریں یعنی زپ سے نکالیں اور اپنی /wp-content/themes/ ڈائرکٹری میں چڑھا دیں۔ اس کے بعد جب آپ ورڈپریس کنٹرول پینل سے Presentation یعنی پیشکش میں جائیں گے تو وہ تھیم وہاں نظر آرہا ہوگا بس اس کی تصویر پر کلک کردیں اور تھیم حاضر۔ اوپر بتائے گئے تمام سبق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کرنے کے بعد نمبر ایک آپ اس قابل ہونگے کہ آپ کا بلاگ بالکل اردو میں نظر آئے، نبمر دو اس قابل ہونگے کہ بلاگ پر پوسٹ لکھتے ہوئے اسے ونڈوز کی معاونت کے بغیر براہ راست اردو میں لکھ سکیں۔(انگریزی میں لکھنے کے لیے کنٹرول سپیس سے انگریزی موڈ میں چلے جائیں)۔ نمبر تین صارف تلاش کرتے یا تبصرہ کرتے ہوئے ویب پیڈ استعمال کرکے باآسانی اردو لکھ سکےگا۔ اگلے سبق میں ہم ورڈپریس کے تھیم کی ساخت اور اس کو اردوانے کے لیے جو حصے بدلنے ضروری ہیں کا جائزہ لیں گے تاکہ آپ اپنی پسند کے تھیم کو اردو میں کرکے اسے لگا سکیں۔ وسلام

بدھ، 25 اکتوبر، 2006

پہلی بار

َِ
تیری فرقتوں کے قصے
تیرے وصال کی باتیں
وہ جو گزرگئے ہیں بہت سے
ان گزرے مہ و سال کی باتیں
کچھ ماضی کے قصے
کچھ حال کی باتیں
وہ قربتوں کے قصے
وہ دوریوں کی باتیں
میری بے قراریوں کے قصے
تیری مجبوریوں کی باتیں
جیسے سب مٹ سا گیا ہے
اور میں
اب بھی وہیں‌کھڑا ہوں
جب میں نے
پہلی بار
آنکھوں میں‌خواب لیئے
ہاتھوں میں گلاب لیئے
لرزتے لبوں سے
تمہیں عید مبارک کہا تھا

منگل، 24 اکتوبر، 2006

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(دوسرا سبق)

اب ہم بات کرتے ہیں ورڈپریس کو اتارنا کہاں سے ہے اور اسے نصب کس طرح کرنا ہے۔ ورڈپریس کو یہاں سے حاصل کرلیں۔ اگر آپ کے پاس ونڈوز ہیں تو زپ ورژن اور اگر لینکس ہے تو ٹار جی زپ فائل حاصل کیجیے گا۔ ورڈپریس کا اس وقت ورژن 2.0.4 دستیاب ہے۔ اس کو اتارنے کے بعد پہلا کام اس کی فائل wp-config-sample.php کا نام بدلنے کا ہے۔ اس کے نام سے سیمپل ہٹا کر یہ کردیں wp-config.php۔ پی ایچ پی تو طےشدہ اضافت ہے جو کہ ظاہر ہے نہیں بدلے گی۔ اب اس فائل میں جو معلومات آپ کو داخل کرنی ہیں وہ پہلی تین چار سطور میں‌ ہونگی۔ اس فائل کا متن کچھ اس طرح ہے۔


<?php
// ** MySQL settings ** //
define('DB_NAME', 'wordpress'); // The name of the database
define('DB_USER', 'username'); // Your MySQL username
define('DB_PASSWORD', 'password'); // ...and password
define('DB_HOST', 'localhost'); // 99% chance you won't need to change this value

// You can have multiple installations in one database if you give each a unique prefix
$table_prefix = 'wp_'; // Only numbers, letters, and underscores please!

// Change this to localize WordPress. A corresponding MO file for the
// chosen language must be installed to wp-includes/languages.
// For example, install de.mo to wp-includes/languages and set WPLANG to 'de'
// to enable German language support.
define ('WPLANG', '');

/* That's all, stop editing! Happy blogging. */

define('ABSPATH', dirname(__FILE__).'/');
require_once(ABSPATH.'wp-settings.php');
?>

اس میں ڈیٹا بیس نیم کی جگہ آپ نے اپنے ہوسٹ کا فراہم کردہ ڈیٹابیس نیم داخل کرنا ہے۔ ueuo.com پر اکثر نمبر کی شکل میں ہوتا ہے جیسے 26254 وغیرہ۔ اس سے بعد والی سطور میں کوموں کے مابین آپ نے ڈیٹابیس کا اسم صارف اور کلمہ شناخت داخل کرنا ہے جو آپ کو فراہم کیا گیا ہو گا۔ اگلی سطر میں آپ نے ڈیٹابیس کا ہوسٹ جو اکثر لوکل ہوسٹ ہی ہوگا رہنے دینا ہے نہ ہونے کی صورت میں آپ کو مطلع کیا جائے گا چناچہ اسے بھی بدل دینا ہے۔ تبدیل شدہ فائل کو محفوظ کریں۔ فائل زیلا کھول لیں۔ اور اس میں اپنے سرور کا فراہم کردہ ایف ٹی پی کھاتہ اور کلمہ شناخت لکھ کر کنکٹ کا بٹن دبا دیں۔ تصویر ملاحظہ ہو۔ پورٹ والے خانے میں 21 لکھ دیں نہ بھی لکھیں تو بنیادی سیٹنگ 21 ہی ہے۔تصویر ملاحظہ کریں FileZilla Guide اب لوکل سائیٹ والا خانہ دیکھیں۔ اس میں اپنا فولڈر جس میں بلاگ کی زپ فائل کو غیر مختصر(Extract) کیا تھا کھولیں اور وہاں سے سب کچھ سیلیکٹ آل کرکے ریموٹ سائٹ والے خانے میں ڈریگ ڈراپ کردیں۔ فائل زیلا ان فائلوں کو چڑھانا شروع کردے گا۔ قریبًا ڈیڑھ میگا بائٹ کا یہ وزن کوئی بیس پچیس منٹ لے لے گا عمومًا۔یاد رہے اگر آپ کے ایف ٹی پی سے کوئی مسئلہ ہے یا رابطہ نہیں ہوپارہا تو آپ کو تمام فائلیں خود سے چڑھانا ہونگی بذریعہ براؤزر۔ فائل مینجر میں جاکر خود سے ایک ایک ڈائرکٹری بنا بنا کر۔ خیر دعا ہے آپ کو میرے جیسی صورت حال سے نہ گزرنا پڑے۔ لو جی اسی دوران آپ کی فائلیں چڑھ چکی ہونگی۔ اب ہم جارہے ہیں اس کی تنصیب کی جانب۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی فائلیں اپنی ہوم ڈائرکٹری میں چڑھائیں ہیں۔یعنی www.yourdomian.com/ میں۔ اب آپ اپنے اس پتے کو براؤزر میں لکھ کر انٹر دبائیں(اگر آپ نے کوئی فولڈر بنا کر اس میں فائلیں چڑھائیں ہیں تو سلیش کے بعد وہ لکھ دیں جیسے وہ ڈائرکٹری blog ہوسکتی ہے سلیش ڈالنے کے بعد)۔ آپ کے سامنے جو صفحہ کھلے گا اس پر آپ کو install.php فائل چلانے کا مشورہ دیا گیا ہوگا۔ یا تو وہیں اس کے ربط پر کلک کردیں یا پھر اس کا پتہ کچھ یوں ہوگا۔ http://www.yourdomain.com/wp-admin/install.php اس کو لکھ کر انٹر ماریں اور پہلا صفحہ کچھ یوں ظاہر ہوگا۔ WP Step 1 فرسٹ سٹیپ پر کلک کرنے سے آپ اس صفحے پر پہنچ جائیں گے۔ WP Step 2 یہاں اپنے بلاگ کا ٹائٹل جیسے میرے بلاگ کا ہے “شاکر کا بلاگ“ داخل کریں( اس کے لیے ونڈوز کی اردو معاونت درکار ہوگی اگر اردو لکھنا چاہیں ورنہ انگریزی رہنے دیں۔کاپی پیسٹ بھی کرسکتے ہیں کسی یونیکوڈ مدوِن میں لکھ کر۔) اگلے قطعے میں اپنا برقی پتا لکھیں جس پر آپ کو کھاتے کی تفصیلات بھیجی جائی گی۔ سیکنڈ سٹیپ پر سفر جاری رکھیں اگلا صفحہ کچھ ایسا ہوگا۔ Step 2 Final یہاں آپ کو ایک اسم صارف adminجو کہ ناقابل تبدیل ہے اور ایک اٹکل سے بنایا گیا کلمہ شناخت دیا جائے گا۔ اس کو دخول کے لیے استعمال کریں اور بلاگنگ شروع کردیں۔ کلمہ شناخت اوپر دائیں طرف مائی اکاؤنٹ میں جا کر بدل سکتے ہیں۔ اب بات آتی ہے بلاگ کو اردو کے قابل کیسے بنائیں۔ اس کے لیے ہمیں اردو کے قابل تھیم چاہیں ہونگے۔ اگلے سبق میں ورڈپریس میں اردو پوسٹ لکھنا، ورڈپریس کے کچھ اردو تھیم ان کا حصول اور ان کی وضع قطع میں تبدیلی کے لیے کچھ ٹوٹکے شامل ہونگے۔ وسلام

سوموار، 23 اکتوبر، 2006

عید

سنا ہے کل عید آرہی ہے
ہم پر تو اداسی چھارہی ہے
سنا ہے خوشیوں کے میلے ہونگے
مگر ہم! ہم تو اکیلے ہونگے
سنا ہے لوگ چانددیکھیں گے
اور دعا مانگیں گے
مگر ہم سوچ رہے ہیں
کہ کیا مانگیں گے
چلو کوئی دیپک
کوئی تارہ مانگیں گے
اپنے لیے کوئی پیارا مانگیں گے
جو خوشیوں کی نوید ہوجائے
جسے دیکھ کر ہماری بھی عید ہوجائے

اتوار، 22 اکتوبر، 2006

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(پہلا سبق)

محترم عادل جاوید چوہدری نے میرے بلاگ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ایک ورڈپریس بلاگ بنانے کے سلسلے میں مدد کی درخواست کی تو میرے اس خیال کو مہیمز ملی کہ جو کچھ ورڈپریس کی تنصیب کے دوران سیکھا ہے اسے آگے پہنچاؤں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تحریر ہے۔
انٹرنیٹ پر بلاگنگ اب اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ بلاگنگ کیا ہے سب جانتے ہیں۔ اردو بلاگرز البتہ بلاگز کو شاعری وغیرہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی پچاس سے زیادہ اردو بلاگ موجود ہیں۔ جن میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بلاگنگ کی مشہور خدمات بلاگر، بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم جیسی ویب سائٹس فراہم کرتی ہیں۔ کچھ چھوٹی موٹی اور بھی کمپنیاں ہیں۔ بلکہ ان میں بھی بلاگر ممتاز ہے۔ میں نے بھی اپنا بلاگ بلاگر پر ہی بنایا تھا۔ چند ماہ پہلے بلاگر پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی اور ساتھ ہی اردو بلاگرز یتیم ہوگئے۔ بہت سے ٹوٹکے آزمائے گئے کبھی پی کے بلاگ سائٹ بنائی گئی۔ کبھی پراکسی سائٹس ٹرائی کی گئییں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مزہ جاتا رہا ۔ خود میں بلاگنگ سے ایسا بے زار ہوا کہ مہینوں کے بعد جا کر ایک آدھ پوسٹ ہوتی وہ بھی صرف اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے۔ آہستہ آہستہ اردو بلاگروں نے بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم کی طرف ہجرت شروع کردی۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ان عمومی مستعمل خدمات پر بھی کسی دن پابندی لگ جائے گی اور حال وہی۔ تو کیوں نہ کوئی مستقل حال نکالا جائے۔ مستقل حل یہ ہے کہ اپنی جگہ خرید کر یا کسی فری ہوسٹ پر ورڈپریس نصب کرکے اردو بلاگنگ شروع کردی جائے
اسی خیال کا نتیجہ کہ میں اب اس پر بلاگنگ کررہا ہوں۔ اگرچہ میں پس دید میں اس کا انگریزی ورژن استعمال کررہا ہوں لیکن ہم اردو محفل پر اس کے اردو ورژن پر بھی کام کررہے ہیں۔ ترجمہ مکمل ہے بس اس کی سٹائل شیٹ اور تدوینی قطعات میں ویب پیڈ شامل کرنے کی کسر رہ گئی ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد ہی پوری ہوجائے گی۔ تب تک ہم انگریزی ورژن پر ہی طبع آزمائی کرتے ہیں اور آپ کو اسی سے سارا طریقہ کار سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک عدد ویب سائٹ بنانے کے لیے سب سے پہلی چیز ایک عدد ہوسٹ ہے یعنی انٹرنیٹ پر کچھ جگہ کی فراہمی جہاں ویب سائٹ رکھی جاسکے ایک بلاگ کے لیے 50 میگا بائٹ کی جگہ بہت ہوگی۔ آپ کسی بھی ہوسٹ سے یہ جگہ خرید سکتے ہیں۔ ورڈپریس کی پیشہ ورانہ ویب سائٹ اپنے کچھ شرکائے کار کا بھی ذکر کرتی ہے جیسے ڈریم ہوسٹ، یاہو ویب ہوسٹ وغیرہ تاہم آپ اپنی پسند کے ہوسٹ پر جگہ اور اپنا ڈومین نیم خریدیں۔ نہیں‌استطاعت رکھتے تو فری ہوسٹ ہمارے لیے ہی ہیں۔ خود ہمارا بلاگ ایک فری ہوسٹ پر چل رہا ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے لحاظ سے بہترین فری ہوسٹ بتا رہا ہوں۔ایک تو
www.ueuo.com اور دوسرے www.ifastnet.com۔ بہت تحقیق و جستجو کے بعد انھیں ہی بہترین پایا ہے۔ بلکہ اول الذکر تو سب سے اعلٰی سمجھ لیں۔ اس پر اشتہار بازی نہیں( کم از کم اب تک اس کا چکر کیاہے وہ آگے کھاتا بنانے کے دوران بتاتے ہیں) یہ کرل اضافت کی سپورٹ کرتا ہے فقط اتنا سمجھ لیں کہ آپ اس طرح اپنے بلاگر بلاگ سے تحاریر درآمد کرسکیں گے صرف ایک سنگل کلک سے۔ آئی فاسٹ نیٹ بھی اچھی سروس ہے اس کا اچھا پن صرف اشتہار نہ دینے تک ہے یہ اعلانیہ اشتہار کے بغیر ہوسٹنگ مہیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر بندہ بلاگر ہوسٹ سے اپنی تحاریر درآمد نہیں کرسکتا۔ مزید یہ ایک کلک سے ورڈپریس کی تنصیب کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں جس کے استعمال کا ہمیں ذاتی طور پر اتفاق نہیں ہوا چونکہ ہمیں اول الذکر بہت پسند آیا تھا۔
خیر آپ اپنی پسند کا کوئی اور ہوسٹ بھی چن سکتے ہیں گوگل اس سلسلے میں مددگار ہوگا اگر کوئی اچھا ہوسٹ ملے تو ہم سے بھی ذکر کیجیے گا تاکہ اسے اس فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ تو صاحبو بسم اللہ کرتے ہیں۔
ueuo.com پر چلے جائیں اور صفحے کے آخر میں جاکر اپنی پسند کا سب ڈومین لکھ کر Proceed دبا دیں۔ تمام اندراجات کو احتیاط سے پر کریں۔ دو تین مراحل میں آپ کا اندراج ہوجائے گا(جب ایڈز یعنی اشتہارات کا انتخاب سامنے آئے توManual کا انتخاب کیجیےگا)۔برقی پتہ دھیان سے دیں کیونکہ اسی پر آپ کو فعالی کوڈ موصول ہوگا ہمارا مشورہ ہے کہ جی میل استعمال کریں خیر کوئی بھی چلے گا۔ کھاتہ فعال ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کرنا ہے وہ ہے ایک عدد کوائفیہ (Database) بنانے کا کام۔ یہ مائی ایس کیو ایل میں بنے گا۔ جو مقبول عام ویب بیسڈ کوائفیہ پروگرام ہے۔ ایک بات اور جب آپ نے ہوسٹ یا فری ہوسٹ ورڈپریس بلاگنگ کے لیے چننا ہے تو اس میں مائی ایس کیو ایل ڈیٹابیس اور پی ایچ پی 5 کی سہولیات لازمی دیکھ لینی ہے۔ پی ایچ پی ایک سکرپٹنگ زبان ہے اگر اس کی معاونت نہ ہوئی تو ورڈپریس نہیں چلے گا جو سارے کا سارا ورڈپریس پر مشتمل ہے۔
اچھا تو ہم کوائفیہ بنانے جارہے تھے۔ یہ سارا کام یک سنگل کلک کا ہے۔ اس تصویر میں جو کنٹرول پینل آپ کو نظر آرہا ہے اسی سے ہم نے سارا کام کرنا ہے۔
DataBase
دائرہ لگے انتخابات پر غور کریں ان میں سے پہلے والا یعنی بائیں طرف والا جب آپ کا کھاتہ ابھی نیا بنا ہوگا اس پیغام پر مشتمل ہوگا کہ کوائفیہ بنائیں۔ بٹن پر کلک کریں اور اگلے صفحے پر کوائفیے کی تفاصیل ہونگی جو آپ کو ورڈپریس میں داخل کرنی ہیں۔ انھیں سنبھال لیں یہ ضروری ہے۔
کوائفیہ بنا لیا۔ اب اگلا کام ہے فائلیں چڑھانا ۔ ایسا کریں یہاں جائیں اور فائل زیلا اتار لیں۔ یہ ایک عمومی مستعمل اور بہترین نتائج دینے والا آزاد سافٹویر ہے اور اسی کو ہم فائلیں چڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔
اگلی قسط میں ورڈپریس کی بنیادی وضع قطع(Configuration) اس کو چڑھانا اور اس کی تنصیب کے اسباق شامل ہونگے۔
وسلام

میرا بلاگ اب مکمل ہے :D

پچھلے ایک ماہ بلکہ زیادہ کی ہی محنت اب جاکر ٹھکانے لگی ہے۔ بلاگر سے دانہ پانی اٹھ جانے کے بعد وہاں لکھنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا۔ بی کام کے پرچے دے کر بھی اس طرف دھیان نہ گیا۔ پھر ورڈپریس کا ایسا چسکا پڑا کہ اپنے نہ ہونے والے داخلے سے زیادہ فکر مجھے اس کی رہی۔ آج کونسا ٹوٹکا آزمانا ہے۔ تھیم اردو میں کرنا ہے یہ مسئلہ آرہا ہے اس کا حل یہ ٹرائی کرنا ہے، آج فلاں فری ہوسٹ پر آزمائشی بلاک بنانا ہے، آج فلاں تھیم ٹرائی کروں گا۔ یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے۔ حتٰی کہ میں فارم جمع کروا رہا تھا، انٹرویو کے لیے دھکے کھا رہا تھا اور دھیان اس میں لگا ہوتا تھا۔
کہتے ہیں شکرخورے کو رب شکر ہی دیتا ہے، اور واقعی میں جو سوچتا رہا ہوں وہی ملا۔ یعنی ایک عدد ورڈپریس بلاگ وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
اور داخلہ سائیاں کہا پتر اگلے سال سہی۔
اس کھجل خواری نے بھی بہت سے سبق دیے اور بلاگ کی کھجل خواری نے بھی۔ اور اب میرا دھیان اردو ورڈ پریس کی طرف ہے جسے ہم بہت جلد جاری کرنا چاہ رہے ہیں۔ انشاءاللہ جلد ہی اس کے تدوینی قطعات(Editing Areas) جن میں اردو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اردو ویب پیڈ شامل کرنے کا آغاز کردوں گا۔
دعا کیجیے گا یہ کام جلد مکمل ہوسکے۔ نعمان مجھ سے تنگ رہتے ہیں کہ ابھی تک جی ڈی ایم ہیڈر فائل کا ترجمہ نہیں کرسکا اور میں اپنی ہی دھن میں مست ہوں۔ اللہ مجھ پر رحم کرے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
اور عید آرہی ہے آپ سب کو بہت بہت عید مبارک۔ دعا ہے یہ عید روزہ داروں، غیر روزہ داروں و روزہ خوروں کے لیے مبارک ہوجائے اور ہمیشہ کی طرح سو کر نہ گزارنی پڑے۔
Eid Mubarakعید مبارک

جمعہ، 20 اکتوبر، 2006

سمپل کوڈ

سمپل کوڈ ورڈ پریس کے لیے ایک سادہ سا دخیلہ ہے جسے پوسٹ وغیرہ میں کوڈ لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ورڈپریس میں کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کوڈ ٹیگ کے اندر لکھے ہوئے کوڈ کو بھی براؤزر چلانا شروع کردیتا ہے جس کے نتیجے میں صفحے کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ سمپل کوڈ ایک سادہ سا دخیلہ جو کوڈ پر کوئی پھونک مار کر اسے سلیمانی چادر اوڑھا دیتا ہے اور براؤزر اسے بھی پوسٹ کا مواد سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں کچھ خامیاں تھیں جیسے یہ یونیکوڈ کا ستیا ناس کردیتا تھا۔(تفصیل کے لیے) سو اس مسئلے کا حل نکال کر یہ اس کا تبدیل شدہ ورژن حاضر ہے۔ احباب اسے صرف ایک پی ایچ پی فائل کی اضافت میں محفوظ کرکے اپنے ورڈپریس کے پلگ ان فولڈر میں چڑھا دیں۔ پھر اسے فعال کرلیں اور دیکھیں خدا کی قدرت۔ ;)
<?php
/*
Plugin Name: SimpleCode for WordPress
Plugin URI: http://www.village-idiot.org/archives/2006/04/09/wp-simplecode/
Description: Simplecode for WordPress takes ordinary markup, and processes it for use within code examples. It's inspired by Dan Cederholm's SimpleCode script.
Author: whoo
Version: 1.00
Author URI: http://www.village-idiot.org/
*/


function sc_menu () {

add_submenu_page('post.php', 'SimpleCode', 'SimpleCode', 9, basename(__FILE__), 'sc_form');

}

function sc_form () {
echo "<div class=\"wrap\">";
echo "<h2>SimpleCode</h2>";
echo "<p>Enter normal (X)HTML in the markup box below. Press \"Process\" and it will spit out entity-encoded markup suitable for &lt;code&gt; examples.</p>";
echo "<h3>1. Enter Markup</h3>";
echo "<div class=\"form\">";?>
<form action="post.php?page=<?php echo basename(__FILE__); ?>" method="post">
<?php
echo "<textarea name=\"html\" rows=\"10\" cols=\"40\"></textarea><br />";
echo "<input name=\"send\" type=\"submit\" id=\"send\" value=\"Process\" class=\"submit\" /></form></div>";
echo "<h3>2. Cut n' Paste</h3>";
echo "<div class=\"paste\">";
echo "<textarea rows=\"10\" cols=\"40\">";
echo "&lt;pre&gt;&lt;code&gt;";
if( $_POST['send'] ) {
echo htmlentities(htmlentities(stripslashes($_REQUEST["html"]),ENT_COMPAT,"UTF-8"),ENT_COMPAT,"UTF-8");
}
echo "&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;";
echo "</textarea>";
echo "</div>";
echo "<h3>3. Preview</h3>";
echo "<div class=\"preview\">";
echo "<textarea rows=\"10\" cols=\"40\">";
echo "<pre>";
if( $_POST['send'] ) {
echo stripslashes($_REQUEST["html"]);
}
echo "</pre></textarea>";
echo "</div>";
echo "</div>";
}
add_action('admin_menu', 'sc_menu');
?>

ایڈمن ہونا

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

بدھ، 18 اکتوبر، 2006

ویب پیڈ کی شمولیت اور میرے ایڈونچرز

مجھے لگتا ہے ایک آدھ سنسنی خیز سا ناول لکھ ڈالوں اس موضوع پر جس کا عنوان ہو “شاکر اینڈ دا ویب پیڈ انٹیگریشن اِن ورڈپریس“
ان تھیم والوں کو رب ہی پوچھے۔ اتنا کھپنا پڑا اتنا کھپنا پڑا کہ نہ پوچھیں۔ نبیل بھائی نے تو بنیادی تھیم میں ویب پیڈ کی شمولیت کے لیے ہدایات دے دیں اور اس کے بعد ہمارا سدا کا پاپی من مچل اٹھا کہ اسے اپنے موجودہ تھیم میں بھی شامل کرنا ہے۔ بس پھر کیا تھا شروع ہوگئے۔ تبصروں کے مصنف کے قطعہ میں شامل کیا، تبصروں کے قطعے میں شامل کیا۔ لیکن ۔۔۔۔ یہ کیا۔ایک میں دو دو حرف لکھے جارہے تھے اور دوسرے میں اردو بنیادی زبان منتخب ہی نہیں‌ہوتی تھی۔ اب؟؟؟؟؟؟
اب رولا ڈالا محفل پر جاکر اور بھلا ہو نعمان کا جنھوں نے ایک سیاپا ختم کیا۔ دو دو حرفوں کی ٹائپنگ تو ختم ہوگئی لیکن تبصروں والا قطعہ جوں کا توں رہا اور انھوں نے بھی ہاتھ اٹھا دیے میرے بس سے باہر ہے۔
ہماری قسمت، اور طبیعت جس کی ہوس نہیں جاتی۔ ہم نے ٹھانی کہ اب تلاش کے قطعے میں بھی اردو ویب پیڈ شامل ہو۔ بس پھر کیا تھا کل تین گھنٹے لگا کر شامل کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ سائیڈ بار بجائے سائیڈ بارے کے نیچے دکھنے لگا، تبصروں کے قطعے میں بنیادی زبان معجزاتی طور پر اردو ہوگئی یعنی ویب پیڈ ٹھیک کام کرنے لگا، تلاش کے قطعے میں بھی سب ٹھیک تھا لیکن مصنف والا قطعہ پھر اڑ گیا۔ :( :(
تھیم کا ستیا ناس کرکے ہم نے سوچا اس کو فی الحال بند کرو اور بنیادی تھیم کو چالو کرلو۔ سو آج پھر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کی محنت کے بعد تلاش کے قطعے میں بھی ویب پیڈ شامل کرکے یہ پوسٹ فرما رہے ہیں۔
حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔
لیکن ہم بھی چین لینے والے نہیں۔ ہم واپس آئیں گے۔ اس کوچہ گردی نے پی ایچ پی میں نقب لگانے کے کئی بھید کھولے ہیں ہم پر کہ ویب پیڈ کس طرح شامل کرنا ہے۔ ورڈ پریس ویب پیڈ ڈاکٹر یعنی مابدولت اب اس قابل ہیں کہ کسی بھی تھیم میں ویب پیڈ شامل کرسکتے ہیں۔
چلیں آپ کو بھی بتائے دیتے ہیں۔ ایک گر کی بات جو نعمان کی مہربانی سے پتا چلی۔ وہ یہ کہ نبیل بھائی کے طریقہ کے مطابق
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick=’setEnglish("s")’><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick=’setUrdu("s")’>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>

ہمیشہ ہیڈر پی ایچ پی فائل میں باڈی کے ٹیگ کے نیچے شامل کریں اس کے بعد تھیم میں‌ کہیں بھی ویب پیڈ شامل کرلیں۔ جیسے تلاش کے قطعے میں ایسے شامل ہوگا۔
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick=’setEnglish("s")’><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick=’setUrdu("s")’>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>

یہ بنیادی ورڈپریس تھیم میں شامل کرنے کا طریقہ کار تھا جس میں مابدولت نے تھوڑی سی تبدیلی بھی کی ہے۔ باقی طریقہ کار جاننا ہو تو اسے پڑھیں انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔آپ پر معرفت کے نئے راز کھلیں گے، جو غلطیاں میں نے کیں ان سے پرہیز کیجیے گا، اور مزید یہ کہ مشق کا کوئی مول نہیں۔ اتنا کھجل خوار ہونے کے بعد مجھے جو ملا ہے وہ شاید ویسے نہ ملتا اب انشاءاللہ کل دوبارہ ٹرائی کرتا ہوں ونٹر ڈے میں ویب پیڈ کی شمولیت کی۔
دعا کیجیے گا اس میں‌ کامیاب ہوجاؤں۔
وسلام

بدھ، 11 اکتوبر، 2006

واہ جی واہ

کیا کہنے بھئی نبیل بھائی کے۔
انھوں نے تو کمال ہی کردیا۔ یعنی ورڈپریس میں بھی اردو ویب پیڈ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ نبیل بھائی ۔۔۔:)

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2006

دوست سے ماسی پھاتاں تک۔۔۔۔۔

کرم فرماؤں نے اردو محفل پر مابدولت کا نام ماسی پھاتاں رکھ دیا ہے۔ ماسی پھاتاں جیسے کردار ہمارے آپ کے ارد گرد عام پائے جاتے ہیں ۔ محرومیوں کے مارے ہوئے، اولاد کے ڈسے(میں اسے ڈسے ہی کہوں گا جب اولاد لاپرواہ ہوجاتی ہے اور بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارا نہیں بنتی تو اس سے بھی بدتر کہلائی جانی چاہیے) اکیلے پن کا شکار، نفسیاتی کجی میں مبتلا یہ وجود اپنی دنیا اور عاقبت کو دونوں ہاتھوں سے لٹا دیتے ہیں۔ لوگ ان کی پیتھ پیچھے انھیں الٹے سیدھے القابات سے نوازتے ہیں، لیکن منہ سامنے ہر کوئی عزت کرتا ہے ساتھ بیٹھتا ہے اور تازہ ترین و گرما گرم جاننے کا متمنی رہتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا یہ کردار خود رو ہوتے ہیں؟؟ یا انھین ہمارے رویے پروان چڑھاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ چغلی یا غیبت کیوں کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم اسے اتنی رغبت سے سنتے کیون ہیں۔ ہماری خواتین انھی "باوثوق ذرائع" سے حاصل کردہ خبروں کو محلہ جاتی جھگڑوں میں بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کرتی ہیں۔ نیں تو ں تے فلاں نیں تیرا فلاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آخر ہمارے رویے کب ٹھیک ہونگے۔

منگل، 3 اکتوبر، 2006

میری پہلی پوسٹ

آج اپنے ورڈپریس بلاگ پر پہلی پوسٹ کررہا ہوں۔ بہت دنوں بعد بلاگ کا خیال آیا اور ان بہت سے دنوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ زندگی کا رخ بدل سا گیا ہے۔ کچھ خواب پورے ہوئے اور کچھ آسیں دم توڑ گئیں۔ کہیں مات ہوئی، کہیں مقابلہ برابر رہا اور کہیں کہیں شاید جیت بھی ہوئی۔ زندگی نے بہت سے رخ ان دنوں میں دکھا دئیے جو شاید پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اب تو یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے ثابت قدم رکھے۔

رمضان کی مبارک ساعتیں اور میں اتنا پاگل کہ اپنا روٹھا یار نہیں منا سکا ابھی تک۔ شاید میرے جیسوں کے لیے ہی کہا گیا تھا۔

لعنت ہے اس پر جس کی زندگی میں رمضان آئے اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکے۔

سوموار، 21 اگست، 2006

غیروں کی مشابہت : خبردار ہوشیار اس سے بچو

غیروں کی مشابہت سے بچیں۔ جی ہاں بالکل ایسا کریں۔
اب دیکھیں نا غیر انٹیل کے پی سی استعمال کرتےہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو استعمال نہ کریں۔ نہیں کرسکتے؟؟ چلیں ایسا کریں جہاں سٹکر لگا ہوتا ہے "انٹیل انسائڈ" وہاں پر "ساختہ پاکستان " کا سٹکر لگا دیں۔ جہاں بھی انگریزی میں کچھ پرنٹ ہوا ہو اسے چھری سے کھرچ دیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ٹھہریے ۔ یہ سب کچھ تو غیر بھی استعمال کرتے ہیں بھئی ونڈوز وغیرہ ۔ تو ان کی مشابہت سے بھی بچیں ۔ غیر لائسنس لے کر اور پیسے لگا کر اسے خریدتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ونڈوز کے چوری شدہ ورژن خریدیں جو سستے بھی مل جاتے ہیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ہم یہ سب استعمال ہی کیوں کریں۔ کمپیوٹر غیروں کی ایجاد، سافٹ ویرز ان کی ایجاد۔ اس طرح تو ہم غیروں سے مشابہہ ہورہے ہیں۔ اس لیے اٹھیں اپنے پی سی کو بند کریں اور اٹھا کر گلی میں پھینک دیں۔ مبارک ہو آپ غیروں کی مشابہت سے بچ گئے۔ آپ فلاح پانے والوں میں سے ہوگئے۔
ارے یہ کیا آپ ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ چاہے اس پر کیو ٹی وی اور پیس ٹی وی ہی دیکھتےہیں۔ چلیں چلیں اسے بھی اٹھائیں اور گلی میں پھینکیں۔ بھئی یہ بھی غیروں کی مشابہت ہے۔ یہ جو نادان لوگ ہر وقت ان چینلوں پر بولتے رہتے ہیں یہ تو منافق ہیں۔ سچے مسلمان تو ہم ہیں جو ہر لحظہ غیروں کی مشابہت سے بچنا چاہتے ہیں۔
ارے آپ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں؟؟ اسے ون ویل پر چلائیں ورنہ اتریں اس سے ۔اتریں اتریں ۔ آگ لگائیں کمبخت کو یہ تو غیروں کی مشابہت ہوگئی۔ بھئی ہمیں منع کیا گیا ہے اس سے۔
ہاں جی بالکل کوئی دن ون بھی نہیں منانا ہم نے۔ آخر جی غیروں کی مشابہت ہے یہ۔ کوئی یوم آزادی اور 14 اگست نہیں آگے سے ۔
منانا ہے؟؟ چلیں ہم ان کی طرح نہیں مناتے۔
غیر تو اپنے ان دنوں میں عہد کرتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں گے اپنے جذبے تازہ کرتے ہیں۔ہمیں کیا۔ ہمیں کونسا حکم ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ ہم تو ایسے اپنا دن نہیں منائیں گے۔ ہم تو گھوڑے تیار رکھنے کا عزم نہیں کریں گے۔ بھئی ہم مسلمان ہیں ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہمیں جذبہ تازہ کرنے سے کیا۔ہم تو ویسے ہی بھرے بیٹھے ہیں۔ اپنے آپ پر،اپنے ملک پر اور اپنوں پر۔ ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہم تو اسے اور ہی طرح منائیں گے۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکلوا کر، بتیاں لگا کر، اونچی آواز میں کار میں گانے چلا کر اور ٹی وی دیکھ کر اور حکومت کو گالیاں دے کر ہم یہ دن منائیں گے۔ یہ غیروں کی مشابہت تھوڑا ہوئی۔ یہ تو شیطان کی مشابہت بھی نہیں اس سے بھی آگے کی چیز ہے۔ لیکن ہمیں تو غیروں کی مشابہت سے بچنا ہے ناں۔ سو ٹھیک ہے۔
تو صاحبو ٹوٹ پڑو ہر اس چیز پر جو غیروں سے مشابہہ ہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ ہمیں غیروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ ہمیں کونسا اچھی چیز اختیار کرلینے کا حکم ہے۔ مٹا دیں ہر وہ نقش جو غیروں سے ملتا جلتا ہوں۔ ہمیں اپنی الگ دنیا بسانی ہے۔ ان سب کافروں سے الگ۔ ان بے دینوں ملحدوں سے الگ۔ ہمیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی دنیا الگ بسانی ہے ان سے ۔ دیواریں کھڑی کردو، منہ موڑ لو ہمیں ان سب سے بچنا ہے کہیں انجانے میں ان کی مشابہت نہ ہوجائے۔
عقلمند را اشارہ است۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوموار، 14 اگست، 2006

جشن آزادی کے موقع پر

جشن آزادی کے موقع پر مجھے اپنا ہی لکھا ہوا ایک مضمون یاد آگیا۔ وہی دوبارہ پیش کررہا ہوں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ اس مملکت کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے۔ اور تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک۔
مجھےپاکستان سے کبھی اتنی الفت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ آپ کو اس کا پس منظر بتاتا ہوں۔
زیادہ پرانی بات نہیں۔ یہی گزرے رمضان کی بات ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا:شاکر مجھے ممتاز مفتی کی کتاب تلاش خریدنا ہے اپنے لائبریرین سے کہہ کر منگوا دو میں عید پر گھر آیا تو لے جاؤں گا۔ میں نے حسب وعدہ کتاب وقت مقرر سے پہلے منگوا کر رکھ لی۔ میں ازلی کتابوں کا بھوکا۔ ایک کتاب سامنے پڑی ہو اور اسے پڑہوں نا چناچہ میں نے ایک یا دو نشستوں میں وہ ساری کتاب چاٹ ڈالی۔ اس سے پہلے میں نے ممتاز مفتی کو کبھی نہیں پڑھا تھا۔ کبھی کبھار رسالوں میں ڈائجسٹوں میں اس کی تحریروں سے اقتباسات چھپتے رہتے تھے. میں اسے صوفی ٹائپ بندہ سمجھتا تھا۔ یہ کتاب پڑھی تو پتا لگا یہ بندہ تو مولویوں کے خلاف ہے۔ مولویوں کی مخالفت ہر نوجوان کی طرح میرا پسندیدہ موضوع ہے۔
کچھ اقتباسات اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔
اللہ کو حلق کے نچلے پردوں سے اس طرح نکالتے ہیں کہ اللہ ہا بن جاتا ہے۔ جیسے ان کا اللہ ہمارے اللہ سے مختلف ہو جیسے اس نے سر پر بھاری ":
"سا جبہ دستار اور یہ بڑی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہو
میں بہت ہنسا تھا اس کے اللہ کو اللہ ہا کہنے پر ۔ پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا اس بات پر مولاناؤں کی محافل میں بیٹھتا تھا یہ سب سنتا بھی تھا مگر کسی نے اتنی جرأت کبھی نہیں دکھائی تھی۔ میں نے سوچا بندہ یہ اپنی برادری کا لگتا ہے اسے پڑھنا چاہیے۔
میں نے اگلے دن ہی اپنے لائبریرین سے ممتاز مفتی کی کتابوں کی فرمائش کر دی۔ ایک دوافسانوں کے مجموعے پڑھے،اچھا لکھا تھا نفسیات موضوعِ بحث ہوتی تھی مگر وہ چیز نہیں جو میں چاہتا تھا۔ میں تو اس بات کہ تلاش میں تھا کہ یہ بابوں ،مولویوں اور اسلام کی بات چھیڑے۔ پھر میرے لائبریرین نے مجھے علی پور کا ایلی پڑھنے کے لیے دی۔ اس میں بابوں کا کچھ ذکر تھا۔ پڑھ تو میں نے لی مگر اس نے میرے کئی طبق روشن کردیے۔خصوصٌٌا عورتوں کے بارے میں مفتی کے مشاہدات اور ارشادات۔ یہ سب بھی پہلی بار سنا تھا۔
خیر اسی ناول میں پہلی بار میں نے شعوری طور پر نصاب سے ہٹ کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیا۔ اس بارے میں مفتی کے مشاہدات جانے :اورپھر جیسے جیسے ان پر سوچا یقین کیجیے مجھے ان سے ایک فیصد بھی اختلاف محسوس نہ ہوا۔ مفتی کہتا ہے
ہندو بڑی شائستہ قوم ہیں۔ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اچھے انسان ہیں اور کاروباری تو بہت ہی اچھے ہیں ۔مگران کو جب بھی موقع ملے یہ مسلمانوں کو نقصان پہچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کی اس خوبی کا میں معترف ہوں کہ انتقام کو ہماری طرح ایک ہی بار ظاہر نہیں کر دیتے اسے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں سینت سینت کر پھر جب موقع ملتا ہے تو مسلمانوں پر کاری وار کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔آل انڈیا کانگرس کی کمیٹی کی قرار داد کے وہ الفاظ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں
:یہ کہا گیا ہے کہ
انڈیا جیسا ہے جہاں ہے ہمیشہ ویسا ہی رہے گا اور اس کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے اسکی اصل کی طرف لوٹائیں۔
پھر مفتی چھرا بازی کے واقعات بارے سناتا ہے جو اس جیسے برائے نام مسلمان کے اندر کو بھی جنجھوڑ دیتے ہیں اور اسےیہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔
اسی طرح ناول میں کچھ بابوں کا بھی ذکر ہے۔ دلی کے حاجی صاحب اور پاگ بابا۔ اور پھر بڈھا جو مفتی کا انتظار کر رہا ہے۔جس کے بارے میں پاگ بابا اسے بتاتا ہے۔
اس کے بعد مفتی کی آپ بیتی کا دوسرا حصہ الکھ نگری پڑھی اور یہاں سے پاکستان کے بارے میں میری سوچ میں کئی تبدیلیاں ہوئیں۔ الکھ نگری تھوڑی سی مفتی نامہ اور باقی پاکستان نامہ اور پاکستان کے حوالے سے بابے نامہ اور شہاب نامہ ہے۔
مفتی الکھ نگری میں پاکستان اور قدرت اللہ شہاب کے گرد ناچتا ہے دیوانہ وار ناچتا ہے لوگوں کو بتاتا ہے دیکھو یہ جو پاکستان نظر آرہا ہے یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
مفتی کو بڈھا مل جاتا ہے۔جسے وہ مرشد تو نہیں بناتا مگر اس کااحترام ضرور کرنے لگتا ہے۔ مفتی جیسا اڑیل احترام بھی ڈنڈے کھا کر کرتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ بابا اس پر رونا مسلط کر دیتا ہے۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے چلتے پھرتے مفتی بھوں بھوں کر کے رونا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دن چلتا ہے۔ اور یہ سب ایک ایسے بندے کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو رہا ہے جو اس دنیا میں موجود نہیں آخر مفتی ہار مان لیتا ہےاور بابے کےحلقے میں شامل ہوجاتاہے۔
پھر مفتی کو پاکستان بارے کئی باتوں کا پتا چلتاہے۔ جیسے بھائی جان جو کہ بڈھے کے مرید خاص ہیں اسے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے منصوبے کے روحانی طور پر چیف کوآرڈینیٹر بابا جی تھے۔ انھوں نے ریاست دکن کے نواب کو پیغام بھیجا تھا کہ آؤ تمہیں ایک اسلام ریاست کا وزیراعظم بنا دیں۔ پھر یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے منصوبے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی اجازت سے زیر عمل لایا گیا۔
مفتی ایک دن بیٹھے بیٹھے بھائی جان سے پوچھ لیتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا تو اسے بتایا جاتاہے کہ وہ پاکستان کی فکر کرنا چھوڑ دے اس کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں۔ وہ بس یہ خیال رکھے کہ کوئی کام ایسا تو نہیں کر رہا جس سے پاکستان کو نقصان پہچنے کا احتمال ہے۔
یہاں سے مجھے پتا چلا کہ پاکستان کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں ۔ پھر میں بھی مفتی کی طرح پاکستان کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ مجھے اس سے محبت تو پہلے سے ہی تھی مگر اب کچھ اور قسم کی ہے۔ کیونکہ میرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے محبت ہے اس لیے مجھے بھی اس سے محبت ہے۔ میں جب یہ سوچتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے پاکستان کو بنانے کا اذن ملا تھا تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جسے وہاں سے اجازت مل جائے اسے کیا چاہیے۔
خیر ذکر مفتی کا ہو رہا تھا تو اسی طرح چلتے چلتے مفتی شہاب کو داستان میں گھسیٹ لیتا ہے۔ بڈھا،بھائی جان اور بڑی بڑی ہستیاں قدرت اللہ شہاب کا ذکر احترام سے کرتی ہیں۔اور پھر مفتی قدرت اللہ شہاب کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔پاکستان سے تو اسے محبت تھی ہی اور یہ محبت شہاب کے توسط سے دوہری ہوجاتی ہے۔ پھر اسی دوران اس پر کئ انکشافات ہوتے ہیں ۔پاکستان کی ترقی بارے،پاکستان کی عظمت بارے اور وہ اپنی تحریروں میں جابجا پاکستان کا ذکر اس طرح کرتا ہے جیسےپاکستان کوئی بزرگ ہے۔
صاحبو سچ پوچھو تو مفتی کی ان ہی تحریروں نے میرے گوڈوں میں پاکستان کا عشق اس طرح بٹھا دیا ہے جس طرح گھٹیا کے مریضوں میں درد بیٹھ جاتے ہیں۔ مفتی جابجا اس طرح پاکستان کی عظمت کی کلیاں ٹانکتاہے اور اس کی آنے والی شان کے بارے میں راگ الاپتا جاتا ہے کہ میں مسحور ہو تا جاتا ہوں اور اب میرا یہ حال ہے کہ کوئی پاکستان کے بارے میں خدشے کا اظہار کرتا ہے تو مجھے وہ بچہ محسوس ہوتاہے میرا جی کرتاہے کہ چیخ چیخ کر اسے بتاؤں فکر نہ کرو اس کی فکر کرنے والی ہستیاں ہیں تم بس اپنے آپ کو ٹھیک کرلو۔
مفتی شہاب کے ساتھ فیصل آباد کے ایک قصبے میں ایک بزرگ سے ملنے جاتا ہے تو وہ برزگ دو ڈھائی سو لوگوں کے مجمع میں کہتے ہیں لوگو ایک دن ایسا آئے گا جب یواین کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گا تم وہ دن دیکھوگے ہاں ہم نہیں ہونگے اگر ایسا نہ ہوا تو تم میری قبر پر آکر تھوکنا
مفتی کا ایک دوست ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں ہالینڈ جاتا ہے وہاں ایک اسلامی نایاب کتب کی لائبریری میں دوران ریسرچ اس پر کھلتا ہے کہ حضرت بری امام رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارے قدموں میں ایک عظیم اسلامی مملکت کا شہر آباد ہوگا۔بری امام کا مزار تو آپ جانتے ہیں نا اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں جس کی طرف جانے والی سڑک سی ڈی اےوالوں نے توڑ دی تھی اور وہاں جانے والے ٹانگوں کا اسلام آباد سے گزرنا منع ہے۔
مفتی حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر بھی کرتا ہے جب انھیں انگریز جنگ آزادی کی ناکامی پر گرفتار کر لیتے ہیں اور ان کی وہ ریاست جو انھوں نے پنجاب میں قائم کی تھی ختم ہوجاتی ہے تو بوقت گرفتاری مجمع سے ایک مجذوب باہر آکر انھیں تسلی دیتا ہے کہ نوے سال بعد اسی سرزمین پر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم ہوگی۔
پھر پینسٹھ کی جنگ جس میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ چھوٹے قد والے سرخ اور سفید لباس والے اور سفید گھوڑوں والے اور برق پاش تلواروں والے بھی لڑے۔
پاکستان کی ایک خاتون جو کہ عرصے سے مدینہ میں روضہ رسول کے قریب مقیم تھیں دیکھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روضہ مبارک سے باہر آۓہیں کہ ان کی زلفیں پریشان ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان جہاد کے لیے جارہے ہیں۔
مفتی اس طرح کی کئی باتیں کرتا ہے۔
پھر ایک شاہ صاحب کا تذکرہ جو صاحب کشف ہیں بتانے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں ایک بڑی جنگ ہوگی لاکھوں لوگ مارے جائیں گے پھر پاکستان کو عروج حاصل ہوگا۔
سبز آنکھوں والا ایک حکمران جو شاید افریقہ یا یورپ سے ہے آۓ گاا ور سب کو سیدھا کر دے گا پھر پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرےگا۔
اس قسم کی بے شمار حکائتیں۔جو ممتاز مفتی بیان کرتاچلا جاتا ہےاور میرے جیسا بندہ جو پاکستان کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس چکا ہےپڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔
یہ سب آپ سے شئیرکرنے کامقصد کیا ہے؟
یہ کہ آپ لوگ نراش نہ ہوں۔ ہمت نہ چھوڑیں ۔ اس ملک کی فکر کرنے والے موجود ہیں ہمیں بس یہ کرناہے کہ اسکی ترقی کے لیے کام کریں ثمر اللہ دے گا۔ بس بیج ڈالنے کی ضرورت ہے پھل تو آنے کو بے تاب کھڑا ہے۔ ہمارے اس ملک نے آگے چل کر ایک ذمہ داری اٹھانی ہےایک ععظیم مقصد پورا کرنا ہے اور وہ ہے اسلامی دنیا کی قیادت۔ جانےیہ عظمت اسے کس کے طفیل ملے گی مگر ساتھ ہم جیسوں کی بھی چاند ہوجائے گی۔ اس لیے مایوسی نہیں بس کام کرنا ہے پاکستان کے لیے اس کی ترقی کے لیے۔
ے کو عظمت ملےگی انشأءاللہ ضرور ملے گی جانے کس کی برکت ترقی اب بھی تو کم نہیں۔ پاکستان جس کا ایک نام ہے۔ باوجود بے شمار اندورنی بیرونی خطرات کےباوجود یہ پھلتا جارہا ہے پھولتا جارہا ہے۔ اسکے دشمنوں کے اندر جل رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے یہ پاکستان ترقی کر ہا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیےکبھی وہ ہمیں اندر سے بلوچستان اور اس جیسے کئی دوسرے طریقوں سے تنگ کرتے ہیں تو کھبی براہ راست وار کرتے ہیں
مگر دشمنوں کے واویلے کے باوجود کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا۔ کتنے عرصے سے یہ لوگ اسلامی بم اسلامی بم چِلا رہے تھے اب اسلامی بم ان کےسروں پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے اور وہ صرف پیچ وتاب کھا سکتے ہیں۔ میزائل ٹیکنولوجی میں بے مثال ترقی، کروز میزائلوں کی طرف قدم اور خلا کی تسخیر کے منصوبے۔
اس مملکت کی عظمت کے گواہ ہیں۔ کام صرف اتنا ہےکہ انفرادی سطح پر اپنے آپ کو درست کر لیں پھر جب اللہ کا کرم ہوگا تو دنیا دیکھے گی کرم تو اس کا اب بھی ہےمگر ہماری کوتاہیاں اس کا اثر موڑ دیتی ہیں اسکی رحمت کو ناراض کردیتی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکستان سے محبت نہیں عشق کرنے کی توفیق دے۔ اتنا عشق کہ ہمیں ہر طرف پاکستان ہی نظر آئے۔ ہم سب سے پہلے پاکستان سوچیں باقی سب بعد میں ۔ ہم میں جذبہ نہیں قدرت اللہ شہاب کے بقول جنون پیدا ہوجائے اپنےملک کے لیے تعصب پیدا ہوجائے فخر پیدا ہوجائے پھر انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہے ہاں عظیم پاکستان ہے۔
اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر اور ہمارے ملک پر اپنا رحم و کرم نازل کرے اور کرتا رہے آمین یا رب العٰلمین۔