رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 28 جولائی، 2013

اجتہاد

دین کی سپیشلائزیشن دین پر ہزار سالہ پرانی فقہی سوچ کی اجارہ داری قائم کرتی ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان، مناسب حد تک عقائد سے واقفیت رکھنے کے باوجود کسی چیز پر اعتراض کرے تو اسے چپ کروا دیا جاتا ہے کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ حق حاصل کب ہو گا؟ اگر تم پچھلوں کی تھیوری گھول کر پی لو، انہیں روایات پر چلو جن پر وہ چلے تھے اور اس کی سیدھ میں رہ کر بات کرو جو پچھلوں نے متعین کر دیا تھا تو تمہاری بات قابلِ قبول ہو گی ورنہ جہنم میں جاؤ، تم فتنہ پرور ہو۔ جب یہ فکر و سوچ موجود ہو تو اجتہاد پر جتنا مرضی زور لگا لیا جائے کھوتی وہیں آ کر کھلوتی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ پچھلوں کے متعین کردہ راستے پر چلنے سے بار  بار  بار  بار  وہی نتیجہ نکلتا ہے جب متغیر کی قیمتیں وہی رکھنی ہے تو جواب بھی وہی آئے گا۔ مثلاً احادیث میں ہی تدوینِ جدید کی بات کر لیں جو ترکی میں جاری ہے۔ جس میں احادیث کو زمانی نکتہ نظر سے الگ کیا جا رہا ہے، ایسی احادیث جو ہزار سال پہلے کے لیے موزوں تھیں اور ایسی احادیث جو آفاقی پیغام رکھتی ہیں، زمانے سے ماوراء ہیں۔ اب اس پر اختلاف کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے کہ حدیث اس میراث کا حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چھوڑی، چنانچہ حدیث قیامت تک کے لیے ہے۔ جیسے قرآن قیامت تک کے لیے ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اونٹ کا پیشاب پلانے والی حدیث، اور اس جیسے کئی اقوالِ رسول ﷺ جو ایک خاص سیاق و سباق و موقع محل کے مطابق دئیے گئے ہر زمانے کے لیے کار آمد نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی اغلباً رسول اللہ ﷺ نے ایسا ارادہ فرمایا تھا۔ تو جب طرزِ فکر کو محدود کیا جاتا ہے، جب ہر غیر روایتی چیز کو رد کیا جاتا ہے، جب "اجماعِ امت" کے نام پر (جو پچھلوں کی پیروی کا ہی دوسرا نام ہے) ڈراوے دئیے جاتے ہیں۔ جب پچھلوں کی پیروی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ "ہم سے زیادہ متقی تھے"(حالانکہ ان کے متقی پن کا  آج کے مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں بنتا)  تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کھوتی وہیں آ  کھلوتی ہے  چاہے جتنا مرضی زور لگا لے۔
 ایک اور مسئلہ دین کے ماخذات کا ہے۔ دین کا ماخذ قرآن ہے، حدیثِ رسول ہے لیکن قرآن سے کم اہمیت والی اور اختلافات کا خدشہ نسبتاً زیادہ چونکہ اس کو محفوظ رکھنے کا کوئی   آسمانی وعدہ نہیں تھا، لوگوں نے خود سے احادیث بھی گھڑیں، سینکڑوں برس کی تدوین و تالیف کے باوجود آج بھی ضعیف احادیث انہیں کتب میں موجود ہیں اور عوام الناس میں گردش بھی کرتی ہیں (ظاہر ہے عوام ضعیف احادیث سے آگاہ نہیں ہوتے)۔ تیسرا ماخذ جو بنا لیا گیا ہے وہ پچھلوں کے اقوال ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین چونکہ انہیں زمانہ رسول ﷺ ملا، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے فقہا۔ یعنی جو کوئی زمانہ رسول ﷺ سے جتنا قریب ہے جنرل رول آف تھمب کے تحت اس کی رائے اتنی ہی زیادہ اہمیت والی ہو گی، آج کی رائے پر فوقیت دی جائے گی اور وہ اتنی ہی زیادہ روایت کی وہ چار دیواری قائم کرنے میں معاون ہو گی جو دین کے معاملے میں سوچتے ہوئے عائد کرنا، طاری کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔  یہ منظر نامہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ان سارے ماخذات کو ایک  دوسرے کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے۔ قرآنی احکام ، احادیثِ رسول اور احادیثِ اصحابِ رسول و بزرگان کو ایسے مکس کر  دیا جاتا ہے کہ  اللہ نے کیا فرمایا، رسول اللہ ﷺ  کا کیا حکم تھا اور دیگر بزرگان کی رائے، قول یا عمل کونسا تھا۔ سب کچھ یکساں اہمیت کے تحت نافذ کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی دو تین برس پہلے اردو محفل پر موسیقی کے  حلال حرام کے ہونے کے حوالے سے ایک قرآنی آیت پیش کی گئی (سورہ لقمان آیت 6) جس میں "لغو باتوں" (لہو الحدیث)  کا ذکر تھا۔ اس سلسلے میں "لغو باتوں" کا مطلب موسیقی نکالا گیا، جو دراصل ایک صحابیِ رسول ﷺ کی بیان کردہ اس آیت کی تفسیر سے آیا۔ اوپر بیان کردہ قانون کے مطابق صحابیِ رسول کا قول آج کسی شخص کے قول سے زیادہ اہمیت  کا  حامل ہے۔ کیوں؟ چونکہ وہ زمانہ رسول ﷺ کے قریب ترین ہیں، دوم وہ رسو ل اللہ کے تربیت  یافتہ ہیں۔ اس پر وہی سوال اٹھتا ہے کہ دین اللہ اور اس کے رسول  ﷺ (جن کی رہنمائی اللہ بذریعہ وحی کرتا ہے) سے آتا ہے یا اصحابِ رسول اور بزرگانِ دین سے۔ اور  جیسا کہ بتایا گیا دین کے حوالے سے  زمانی فاصلے کی اہمیت کے قانون کے تحت اصحابِ رسول  ﷺ کا کہنا بھی  کچھ کم اہمیت کے ساتھ  دین میں وہی درجہ رکھتا ہے، کہہ لیں کہ اللہ، رسول کے بعد تیسرے نمبر پر۔  موسیقی کو قرآن میں کہیں واضح الفاظ میں حرام نہیں کہا گیا، احادیث پر بحث کی جا سکتی ہے کچھ لوگ حرام کہتے ہیں ایک اقلیت نے حلال بھی کہا۔ لیکن موسیقی کو قرآن سے بھی حرام  ثابت کرنے کے لیے  تفسیر پیش کر دی گئی (جو تیسرے ذریعے سے آتی ہے یعنی صحابیِ رسول)۔ اب اسے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ قرآنی حکم ہی ہے۔ یعنی  دین کے ماخذات کو  مکس کر کے پیچیدگی پیدا کرنے کا کام، جیسا کہ اوپر  ذکر کیا گیا۔ ایسی صورت میں جاوید احمد غامدی اگر موسیقی کو حلال کہے، شاہ محمد جعفر پھلواری اسے مستحب کہے تو وہ غلط قرار پاتے ہیں ۔
چنانچہ وہی بات جو پیچھے عرض کی، اجتہاد روایت کے اندر رہ کر کیا جائے تو قابلِ قبول ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اجتہاد وہی جواب نکالتا ہے جو پانچ سو برس پہلے نکلتا تھا۔ "اجماعِ امت" اور روایات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ  کوئی ان حدود سے باہر جا کر نہ سوچ سکے جو پچھلوں نے متعین کر دیں۔ چنانچہ  دین بے زار طبقہ آخر کار یہ کہہ دیتا ہے کہ مذہب تو ایک ثقافتی عنصر ہے، گٹے ننگے کرو یا نہ کرو کیا فرق پڑتا ہے، پینٹ کے ساتھ  جرابیں پہن کر گٹے ننگے  کیا کریں برے لگتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ
نتیجہ یہ کہ ایسے ماحول میں اجتہاد پانی میں مدھانی کا کام کرتا ہے جتنی مرضی چلا لو مکھن نہیں آتا، یا جو مکھن آنا تھا وہ لوگ پہلے ہی نکال چکے۔

جمعہ، 30 جولائی، 2010

ڈاکٹر حمید اللہ

وہ دس زبانیں جانتا تھا اور سات زبانوں کا لکھاری تھا۔ اس کی 150 کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور شاید اسلام کا تعارف ہے۔ اس کو 22 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا فرانسیسی میں قرآن کی تفسیر کے ساتھ ترجمہ اس زبان میں کسی بھی مسلمان کی ایسی پہلی کوشش تھی، اور اس کے بعد اس کے قریبًا بیس ایڈیشن شائع ہوئے۔ کتاب مقدس کے اس فرانسیسی ترجمے اور اس کی ان تھک کوششوں نے یورپیوں خصوصًا فرانسیسیوں کو بڑی تعداد میں اسلام کی طرف مائل کیا۔ بہت سے اس تعداد کو تیس ہزار بیان کرتے ہیں جو کہ شاید مبالغہ ہے۔ انھوں نے یورپی جامعات سے دو پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں اور  اپنی زندگی اسلام اور مسلم معاشرے کے لیے وقف کرتے ہوئےعشروں تک درس و تدیس کی۔

جہاں تک احادیث کی بات ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر فرانسیسی میں دو جلدی کتاب لکھنے اور ان ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑی تعداد میں مختلف زبانوں میں تھقیقی مضامین لکھنے کے علاوہ، ان کی عظیم محققانہ دریافت وہ تیرہ سو سال پرانا نسخہ تھا جو احادیث کا ایک مجموعہ تھا۔ انھوں نے اس انتہائی نایاب کتاب کو برلن لائبریری کے اندھیرے کونوں میں دریافت کیا اور اسے روشنی میں لے کر آئے۔

احادیث کے سب سے پہلے لکھے ہوئے مجموعوں میں شمار ہونے والی یہ دستاویز صحیفہ همام بن منیبہ کے طور پر جانی جاتی ہے جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (58 ہجری بمطابق 677 عیسوی) اپنے طلباء کو پڑھانے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس عظیم محقق کا نام جس نے پیرس میں زاہدانہ زندگی گزاری، ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھا۔

میں نے ڈاکٹر حمید اللہ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں اور خصوصًا ان کی کتاب خطبات بہاولپور سے بہت متاثر ہوا، اس کا انگریزی میں ترجمہ  اسلام کی آمد کے نام سے کیا گیا ہے۔ چناچہ دسمبر 2002 میں ان کی موت کی المناک خبر سن کر میں ایک نجی جامعہ میں یہ غم اپنے طلباء کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔ ان کے بارے میں میرے تاثرات حیرت اور لاعلمی سے سنے گئے۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر حمید اللہ جیسے عظیم محقق کو نہیں جانتے تھے، تو میں نے پوچھا کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن کون ہے؟ اب کی بار آواز بہت بُلند اور مشترکہ ہاں تھی۔

ڈاکٹر حمید اللہ 19 فروری 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خلیل اللہ بھی ایک ادیب اور عالم تھے۔ ان کے دادا محمد صبغت اللہ نے 29 عربی، 24 فارسی اور 14 اردو کتابیں لکھیں اور ان کا شمار عظیم علماء میں ہوتا ہے۔ اسلام علم قانون میں ایم اے اور ایل ایل بی کی سند جامعہ عثمانیہ سے 1930 میں حاصل کرنے کے بعد محمد حمید اللہ نے ایم فل کی ڈگری بون یونیورسٹی جرمنی سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے۔ 1935 میں اپنے آبائی شہر آنے کے بعد انھوں نے جامعہ عثمانیہ میں بطور لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر 1948 تک خدمات سرانجام دیں۔

جس سال انڈیا نے ریاست حیدرآباد پر قبضہ کیا، ڈاکٹر حمید اللہ ڈاکٹر یوسف حسین کے ساتھ یورپ چلے گئے تاکہ ریاست کا کیس اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ واپس آتے ہوئے حمید اللہ پیرس میں اس کام کے لیے (جو انھوں نے اپنی بقیہ زندگی سرانجام دیا، یعنی اسلام کی خدمت) ٹھہر گئے۔ پیرس میں انھوں نے نیشنل سینٹر آف سائنٹیفک ریسرچ میں شمولیت اختیار کرلی اور جرمنی، فرانس، ترکی کی جامعات میں بطور گشتی پروفیسر پڑھانا شروع کردیا۔

1949 میں بہت سے علماء کو پاکستانی حکومت کی آئین سازی کے معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ ان علماء میں علامہ محمد اسد اور ڈاکٹر حمید اللہ بھی شامل تھے۔ یہ گہرے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد دونوں پاکستانی بیوروکریسی کی آئیں بائیں شائیں سے تنگ آکر پاکستان سے چلے گئے۔ لیکن پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران، انھوں نے نیک نیتی سے پاکستان کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور کراچی میں ’حیدرآباد کی جلاوطن حکومت‘ قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ اس اقدام کو ہماری وزارت خارجہ نے شرف قبولیت نہ بخشا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ پیرس میں مقیم ہوگئے اگرچہ وہ فرانس کے شہری نہ تھے اور نہ ان کے پاس وہاں کا پاسپورٹ تھا۔ وہ اپنے آخری وقت تک بےوطن رہے۔ درھقیقت ان کو ایک بین الاقوامی پناہ گزین قرار دے دیا گیا تھا، اور اس طرح وہ ہر دیس کے شہری بن گئے۔

انگریزی میں ڈاکٹر صاحب کی تصنیفات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں، دنیا کا پہلا لکھا ہوا آئین، ریاست کا اسلامی رویہ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مسلم خاتون، روزہ کیوں رکھیں؟، حدیث کی سب سے پہلی تدوین اور بہت سی کتب شامل ہیں۔ وہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں کوئی فخر و غرور نہ رکھتے تھے، اگرچہ انھوں نے تن تنہاسات زبانوں میں تھقیقی کام کیا۔ ان کے کچھ تحقیقی کام منفرد نوعیت کے تھے جو پہلے کبھی نہ کیے گئے، جیسا کہ ابتدائی ترین احادیث کا مخطوطہ۔

1980 میں بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ان کے دئیے لیکچرز اسلام کے کچھ بنیادی پہلوؤں اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ فی البدیہہ دئیے جانے والے یہ لیکچرز برسوں کی تحقیق اور دوسرے علم کا فی الواقع آسان زبان میں نچوڑ تھے۔ اردو میں سن کر لکھے جانے والے اور خطبات بہاولپور کے نام سے چھپنے والے یہ لیکچرز دوسری کئی چیزوں کے علاوہ اس بات پر مشتمل تھے کہ قرآن و حدیث کو  کیسے جمع کیا گیا اور ان کی تدوین کی گئی۔

ان کے دوسرے تھقیقی کام فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں ہیں۔

ان کے سائنسی اور تحقیقی کاموں نے مستشرقین اور یورپی قارئین کو اسلام کے ایک مختلف نظارے سے روشناس کروایا جو کہ ان کی بنائی ہوئی اسلام کی یکطرفہ تصویر سے یکسر مختلف تھا، جس میں صوفیانہ رواجوں پر زور، گھومتے درویش اور دیومالائی قسم کے نظریات شامل تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ اپنی تحاریر میں اسلام کے گرد کھڑی دیومالاؤں کو پاش پاش کردیتے ہیں اور قاری کو یہ دکھاتے ہیں کہ اسلام کتنا انسان شناس، سائنسی اور منطقی مذہب ہے۔ وہ اسلام کے ایک خاموش سپاہی اور اسلامی دنیا میں منفرد عالم تھے۔ اگرچہ انھوں نے اسلام اور علم و ادب کی خدمت بہت سارے طریقوں سے کی اور سب سے پہلے لکھے جانے والے احادیث کے مجموعے کی دریافت شاید ان کی خدمات میں سب سے اہم تھی، تاہم انھوں نے طبع زاد عربی تصانیف کی تدوین، ترجمہ اور اشاعت بھی کی اور انھیں ان زبانوں کے ماہرین علم و ادب کے سامنے پیش بھی کیا۔

یہ بہت حوصلہ افزاء تھا کہ ان کی وفات کی بعد نہ صرف ان کے تحقیقاتی کاموں کو دوبارہ شائع کیا گیا، بلکہ انھیں انڈیا اور پاکستان کے سکالروں نے اپنی کتابوں میں ولولہ انگیز خراج تحسین بھی پیش کیا۔ کچھ پرچوں نے ان پر خصوصی نمبر نکالے۔ ان میں سے نمایاں یہ ہیں: معارف اسلامی، دعوہ، فکر و نظر، اورئینٹل کالج میگزین، شاداب۔ ان کی زندگی اور علمی کام پر تین کتابیں لکھی اور شائع کی گئی ہیں: ڈاکٹر محمد حمید اللہ از راشد شیخ، آثارِ ڈاکٹر حمید اللہ از صفدر حسین اور مجددِ علومِ سیرت از غتریف شہباز۔ اسی طرح سید قاسم محمود، محمد عالم مختارِ حق اور کچھ دوسرے سکالرز نے بھی ان پر مضامین اور تحقیقی مضامین لکھے اور انھیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ لیکن انسان محسوس کرتا ہےڈاکٹر صاھب کے سینکڑوں مضامین جو بکھرے ہوئے ہیں اور عام قاری کی پہنچ سے باہر ہیں، انھیں جمع اور شائع کیا جائے کیونکہ ان کے رتبے کا عالم، علماء میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور ان کا ہر لفظ بہت قیمتی اور سنبھال لیے جانے کا متقاضی ہے۔

 وہ 17 دسمبر 2002 کو جیکسن ولا، فلوریڈا، یو ایس اے میں وفات پا گئے اور انھیں چیپل ہِل، فلوریڈا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر میرے انداز میں نہیں لکھی گئی، اتنا تو آپ سمجھ گئے ہونگے۔چونکہ فدوی مترجم کا کام بھی کرتا ہے اور یہ ہماری مترجمانہ افتاد طبع کا نتیجہ ہے۔ اصل تحریر ڈان کا ایک آرٹیکل تھا جس کا اردو ترجمہ عدنان مسعود کی اس تحریر سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ ایک عرصے سے ترجمہ شدہ تحاریر کو زینت بلاگ بنانے کا ارادہ تھا آج اس کی شروعات ہو ہی گئی۔ اور اس سلسلے میں عادت مجھے روشنی میگزین نے ڈالی ہے کہ آرٹیکلز و مضامین کا ترجمہ کرکے شائع کیا جائے۔ روشنی میگزین اردو زبان میں علم و دانش کے فروغ کے لیے ایک اچھی کاوش ہے، اور میں ان کی ویب سائٹ لانچ ہونے سے پہلے سے ان کے ساتھ بطور مترجم وابستہ ہوں۔ میری ترجمہ کی گئی تحاریر کونسی ہیں، وہاں جاکر پڑھ لیں شاید آپ میرا اُسلوب پہچان سکیں۔۔ چونکہ یہ تحاریر ان کی ملکیت ہیں اس لیے میں یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ کونسا ترجمہ میں نے کیا ہے۔ میرے بلاگ پر میری اپنی منتخب شدہ تحاریر کا ترجمہ شائع ہوگا، جو مجھے اچھی لگا کریں گی۔ اس تحریر کا ترجمہ کرنے کا ایک اور مقصد یہ درخواست بھی تھی کہ اگر کسی دوسر کے پاس ڈاکٹر صاحب کی کتب کی ای بکس ہوں، انگریزی کتب کی، کسی آنلائن لائبریری سے دلا سکیں یا سکین کرکے مہیا کرسکیں، تو میں مشکور ہونگا، میں ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میرا علم بھی بڑھے گا اور اردو و اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔ اور ہاں آپ مجھ سے ترجمہ کروانا چاہیں تو میرا کام ہی یہ ہے۔ :-)

اتوار، 24 فروری، 2008

دعا

گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔

اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک

بدھ، 6 فروری، 2008

ایک بھاگا ہوا بچہ

پانچویں جماعت پاس کی تو والدین نے بڑے دلار سے مدرسے میں داخل کروا دیا کہ بچہ قرآن حفظ کرلے تو سات پشتیں بخشی جائیں گی۔ بچہ بھی بہت خوش تھا کہ قرآن حفظ کرنا ہے۔ بڑے اہتمام سے موٹی مشین سے ٹنڈ کروائی اور خوشی خوشی مدرسے کو گیا۔ قاری جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت مارتا ہے نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ باتیں کرنے کے بعد داخل کرلیا۔ وقت دھیرے دھیرے گذرنے لگا۔

کوئی اڑھائی ماہ میں نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھ لیا۔ قاعدے کی گردان ہوئی۔ ایک نگران نے سنا اور اسے پاس کرکے اگلے درجے میں بھیج دیا گیا۔ اس کو سو روپے لانے کو کہا گیا جن کے عوض اسے آخر پانچ سپاروں کا سیٹ دے دیا گیا جو اکٹھے جلد کئے ہوئے تھے۔ آخری سپارہ حفظ کیا گیا۔ اس کی ترتیب ذرا مختلف تھی تاکہ نیا بچہ آسانی سے حفظ کرسکے۔ چناچہ آسان سے مشکل کی طرف والی اس ترتیب کو قرآن کی ترتیب کے مطابق کیا گیا۔۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ کوئی ایک سات آٹھ ماہ میں دو سپارے ختم ہوچکے تھے جب اسے پہلا دورہ پڑا۔ میں نے پڑھنے نہیں جانا۔ ایک دن گھر واپسی پر وہ اڑ گیا۔ مدرسے کی ٹائمنگ صبح فجر سے رات عشاء تک تھی۔ آٹھ بجے ناشتے کی چھٹی آدھ گھنٹا۔ دوپہر ساڑھے بارہ سے ظہر اور شام عصر سے مغرب تک کی رخصت ملا کرتی تھی۔ لیکن بچے کو لگتا تھا جیسے اسے قید کردیا گیا ہے۔ سارا سارا دن دونواز بیٹھ کر قرآن کو رٹنا اوررات کو آکر سوجانا۔۔۔اس اڑی کا قاری کو پتا چلا تو اس نے پہلے کرسی لگوایا۔ پھر ٹانگیں اوپر کروا کر تشریف کی مزاج پرسی کی۔ بچے کو فورًا یاد آگیا کہ یہ سب شیطان کی کارستانی تھی ورنہ وہ تو اب بھی پڑھنے کو تیار ہے۔۔

بچہ سیدھا ہوگیا اور پڑھائی پھر سے چلنے لگی۔ کچھ مزید عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھر وہی بخار چڑھا تو قاری نے جمعرات اور جمعے کی اکلوتی ہفتہ وار چھٹی بند کردی۔ دو ہفتے چھٹی بند رہی تو بچہ پھر راہ راست پر آگیا۔ اس دوران قاری نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے زمین خرید لی اور پہلا مدرسہ جہاں وہ تنخواہ دار تھا چھوڑ دیا۔ اکثر طلباء اس کے ساتھ نئے مدرسے چلے گئے کچھ پرانے مدرسے میں رہ گئے۔ کچھ عرصہ پھر سکون سے گزرا اور پھر بچے کو دورہ پڑا۔ اب کے یہ بہت شدید تھا جمعے کے دن بچہ ریل پر بیٹھ کر اپنی نانی کے پاس پہنچ گیا۔ آخر گھر والے اسے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے لیکن سکون عارضی ثابت ہوا۔ نیا مدرسہ عارضی سی عمارت تھی۔ چناچہ بچہ پھر سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ بھاگ کر سیدھا اسٹیشن پہنچ گیا لیکن گھر والوں کو پتا چل گیا اور اسٹیشن سے اسے پکڑ لیا گیا۔ گھر تک اس کی ٹھکائی ہوتی رہی۔ آخر گھر والوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مدرسے سے ہٹا لیا گیا۔ بچے کی رٹ تھی کہ اور جگہ داخل کروا دیں یہاں نہیں پڑھوں گا۔۔۔آخر اسے ایک اور شہر میں اقامتی درسگاہ میں داخل کروادیا گیا۔ لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہاں سے بھاگ کر پھر گھر آگیا۔ اب اس کی رٹ تھی کہ میں نے قرآن حفظ ہی نہیں کرنا۔ گھر والوں نے بہتیرا سمجھایا لیکن اس کے بھیجے میں بات نہ آسکی۔۔چناچہ اسے چھٹی میں داخل کروا دیا گیا۔ ذہین تھا آدھا سال ضائع ہونے کے باوجود دوسرے بچوں سے آگے نکل گیا۔۔۔

وہ بچہ آج بی کام ہے، لسانیات میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اس کی محبوبائیں ہیں۔۔۔ وہ بچہ یعنی منکہ مسمی شاکر عزیز آپ کے سامنے اپنی زندگی کا ایک تلخ پہلو کھول رہا ہے۔ شاید کتھارسس کے لیے یا پھر اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔۔ زندگی کا وہ ڈیڑھ سال میری شخصیت سازی میں بہت حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت کا احساس اب تک میرے ذہن سے نہیں مٹتا کہ خادم القرآن کہلوانے والے اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔ عجیب عجیب سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔ شاکر شاید آج حافظ شاکر ہوتا اگر وہ قاری اتنا مارنے والا نہ ہوتا، یا وہ شیڈیول اتنا ٹف نا ہوتا جو پڑھائی کی بجائے قید لگتا تھا۔۔یا شاید اس کی نیت ہی خراب تھی۔۔۔لیکن وہ ڈیڑھ سال اگر ضائع نہ ہوتا میں کہیں اور ہوتا۔۔۔۔وہ ڈیڑھ سال بس ایسے ہی ماضی کا وہ ورق بن گیا جسے الٹتے ہوئے بہت سی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔اور احساس ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی نعمت سے محروم رہ گیا۔۔۔قرآن جسے میرے سینے میں نقش ہونا تھا نہ ہوسکا۔۔۔جو چند سپارے یاد تھے وہ بھی آہستہ آہستہ محو یادداشت ہوگئے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قرآن یاد کرنے کو تم ایسے پاؤ گے جیسے اونٹ ہے جس کے گلے میں رسی ڈالی گئی ہو اور وہ اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرے۔۔ قرآن یاد کرنا اور اس کو یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کے نصیب میں تھا ہی نہیں شاید۔۔آج جب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک نہیں کئی خطائیں کی تھیں۔۔۔اللہ کی کتاب کو یاد نہ کرسکا جو یاد تھی اسے بھلا ڈالا تو میری زبان پر استغر اللہ الذی لا الہ الا ہوا الحی القیوم و اتوب الیہ کا ورد جاری ہوجاتا ہے۔ میرا مالک مجھے معاف کرے میں بہت گناہگار ہوں۔۔

یہاں لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میں نے لکھ ڈالا، اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں گے۔

وسلام

جمعرات، 29 مارچ، 2007

آخر کیوں اتنا جنون کیوں؟

کل میں  آنلائن نہیں ہوسکا آج دیکھا تو بی بی سی اردو کی ایک خبر کی ڈھنڈیا مچی ہوئی ہے۔ ملک طالبانائز ہورہا ہے۔ ہر طرف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہوئی ہے ۔ یہ وہ۔۔۔


ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے سر پر جو بھوت سوار ہوجاتا ہے پھر ارنے بھینسے کی طرح ہم سر جھکا کر اسی طرف پل پڑتے ہیں۔


ہمارے ہاں آہستہ آہستہ ہر دو معاملات میں جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف اگر ویلنٹائن ڈے کو اتنا فروغ دیا جارہا ہے اور یوم محبت کا نام دیا جارہا ہے دوسری طرف کچھ مذہبی تہواروں کو بھی اسی قسم کی شکل دی جارہی ہے اور ان پر پہلے کے مقابلے میں بڑی شدت سے عمل کیا جارہا ہے ۔۔


آج سے دس بارہ سال پہلے کسی کو نہیں پتا تھا کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہے اور اب آٹھویں کا بچہ بھی جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہےا ور اس پر کیا کیا ،"کِیا" جاسکتا ہے۔


مذہب کے حوالے سے دیکھیں تو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کبھی ہمارے مولوی صاحب بتاتے تھے کہ یہی بیس پچیس سال پہلے کسی کو اتنا پتا نہیں تھا۔ لیکن اب یہ ایک رچوال بنتا جارہا ہے۔ گھر کو جھنڈیوں سے سجانا، سڑکوں کو سبز جھنڈوں سے سجانا، بینر لگانا، سٹکر لگانا اور اب  مرحبا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے لگانا۔


میں اس کی مذہبی حیثیت پر بحث نہیں کرتا چاہتا ورنہ اسے بڑی آسانی سے بدعت کہا جاسکتا ہے اور کہا بھی جاتا ہے۔


میرا یہاں یہ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔


ویلنٹائن ڈے، فلانا ڈے یہ ڈے وہ ڈے اور مذہب کے نام پر یہ تہوار عروس یہ وہ۔ یہ سب آہستہ آہستہ فیشن بنتے جارہے ہیں ہردو طبقوں میں۔ ان میں بھی جو دنیا دار ہیں اور ان میں بھی جو مذہبی سمجھے جاتے ہیں۔ اور اس سب کا فائدہ کس کوہورہا ہے؟


 اس کا فائدہ سراسر ان کو ہورہا ہے جو ہمارے لیے قطعًا مخلص نہیں۔ ہم دین کو چھوڑ کر چند بے معنی رسومات سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ مغربی تہوار ہمارے اندر میڈیا کے ذریعے زبردستی گھسیڑے جارہے ہیں۔ اب تو مذہبی تہواروں پر بھی میڈیا بڑے "اچھے" انداز میں نشریات پیش کرتا ہے۔ اب ربیع  االاول کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارا سرکاری ٹی وی رحمت اللعالمین کے نام سے نشریات پیش کررہا ہے، صبح آدھے گھنٹے کے گانوں کی جگہ نعتیں پیش کی جارہی ہیں، میزبان صاحب رائزنگ پاکستان میں آکر تلقین کرتے ہیں کہ اس مہینے خصوصًا درود شریف کی کثرت رکھی جائے وغیرہ وغیرہ۔


اسی طرح ویلنٹائن ڈے پر رج کے بے ہودگی کی جاتی ہے اور اسے حسین لبادوں میں لپیٹ کر ہمارے دماغوں میں داخل کیا جاتا ہے۔


یہ سب آخر کس طرف لے کر جارہا ہے؟


ہمیں رسومات کا عادی بنایا جارہا ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا صرف ایک اسی مہینے کے لیے ہے؟ ان کی سالگرہ منانا، نعرے بازی کرنا، جھنڈے لگانا، چار نعتیں پڑھ لینا، بس؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


اس ملک کا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہاں کی حکومت کے گوڈوں میں پانی نہیں رہا۔ وہ خود بھی منافق ہوچکے ہیں اور باقی قوم کو بی منافقت کا سبق دے رہے ہیں۔ بلکہ دے کیا رہے ہیں مناق ہوچکے ہیں ہم۔


قوانین کو عجیب انداز سے مبہم بنایا جارہا ہے کہ کسی پر کوئی چیک نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کو روزی روٹی اور بھوک کی فکر ڈال دی گئی ہے۔ ہر دو قسم کے جنونیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔


اگر اسلام آباد میں جامعہ حفصہ جیسے ادارے موجود ہیں جو صرف محلے والوں کی درخواست پر خواتین کو اٹھوا لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے بدکاری جسٹ نارمل سی بات ہے۔ میرا دوست اسلام آباد میں زیر تعلیم ہے اور اسے کسی واقف کار کے مطابق کسی برگیڈیر صاحب کی بیٹی کے ان کی بڑی اچھی سلام دعا رہی ہے اور بڑے عرصے تک وہ اس سے "فیضیاب  " ہوتا رہا ہے بلکہ کئی بار اپنے دوستوں کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے لے جاچکا ہے۔


شاید آپ مجھے بے شرم کہیں لیکن سچ بولنے میں مجھے کوئی عار نہیں۔ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو واقعی ایسا ہوگا۔ چلیں وہ جھوٹ بول لے کوئی بات نہیں آپ میں سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا "ممکن" نہیں۔ بس روکڑا چاہیے ہر قسم تفریح مل سکتی ہے۔


یہ سب جنون نہیں تو اور کیا ہے؟


اور حکومت کیا کررہی ہے؟


حکومت بے حس بنی بیٹھی ہے۔ سڑکوں کے افتتاح ہورہے ہیں، پلوں کے افتتاح ہورہے ہیں، سیورج لائنوں کے افتتاح ہورہے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے انھیں کوئی ٹینشن نہیں۔


پھر نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ یا تو ڈاڑھیوں اور سر پر پگڑیوں اونچی شلواروں والی مخلوق پیدا ہورہی ہے جو دین پر عمل کروانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں نہ صرف عام جنتا کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہیں۔


دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دین کو پس پشت ڈالے ہر الٹے سیدھے کام میں بڑی ڈھٹائی سے ملوث ہیں، سود خوری ہورہی ہے، رشوت خوری ہورہی  ہے، بدکاری ہورہی ہے، سرعام بلیو پرنٹ فلموں کا لین دین ہورہا ہے دیکھی جارہی ہیں۔ دکھائی جارہی ہیں۔


اگر کوئی ان کے علاوہ ہیں تو وہ چپ بیٹھے ہوئے ہیں کہ کیا کریں؟


میرے جیسوں کو پتا ہے کہ اسلام آباد میں غلط ہورہا ہے، وزیرستان میں غلط ہورہا ہے اس کا سدباب کرنا چاہیے لیکن کون کرے گا؟ میں کروں؟ میں اپنی روزی روٹی کی اپنے گھر کی فکر کروں یا اس کی فکر کروں۔


میرے جیسے جن کو پتا ہے کہ اپنے محلے ہی میں کہاں کہاں کیا ہورہا ہے کس کے گھر میں بے غیرتی ہورہی ہے، کس انٹرنیٹ کلب پر نوجوانان ملت کو جنس کے جال میں پھنسا کر گھلایا جارہا ہے۔ لیکن میں کیا کروں اس کے لیے؟ اس کو روکوں جاکر؟ مجھے اپنے گھر کی فکر ہے اپنی روزی روٹی کی فکر ہے میں ان کو کیا دیکھوں۔


تو پھر کون یہ کرے گا؟ ۔۔۔۔۔کیا حکومت؟؟؟ یا عوام؟؟؟


یا اس طرح کے لٹھ براداران دین؟؟؟


آپ کا کیا خیال ہے کون ہوگا جو یہ کرے گا؟؟


مجھے تو لگتا ہے کہ ہم پر حجاج بن یوسف جیسا کوئی حکمران متعین کردیا جائے جو اس قوم کو ذلیل و خوار کرکر کے سیدھا کردے اور تو کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔


 

اتوار، 5 نومبر، 2006

میں۔۔۔

میرا میں سے تعارف سب سے پہلے ممتاز مفتی نے کروایا۔ ممتاز مفتی سرعام خود کو کوستا ہے،، اپنی میں والی عادت کو برا بھلا کہتا ہے اور ساتھ ساتھ میں میں بھی کرتا جاتا ہے۔ میں یہ ہوں میں وہ ہوں۔ اسی کو پڑھ کر مجھے میں کو دیکھنے کا شعور اٹھا۔ پھر ایسے ہی آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے میرے ریسیور نے میں کے سگنل وصول کرنے شروع کردیے۔
صاحبو یہ میرے انٹینا کی خرابی کہہ لیں یا میرے نفس کی آوارگی۔ ایک دن یونہی اذان کے وقت بیٹھے بیٹھے مجھے “میں“ کے سگنل وصول ہونے لگے۔
سب سے پہلے ایک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی اور میرے کانوں میں آوازیں گونجنے لگیں“حضرات یہ فلاں فلاں مسجد اہلحدیث ہے۔ ہم سڑے ہوئے نظریات اور نام نہاد فقہ کو نہیں مانتے۔ ہم قرآن و حدیث سے براہ راست استدلال کرتے ہیں۔ ہماری مسجد کو پہنچاننا ہو تو یہ دیکھ لیں کہ سب سے پہلی اذان کہاں سے ہورہی ہے۔ اور اب آئیں ہم نماز پڑھ لیں۔“
ایک اور مسجد سے صلوۃ سلام کے بعد اذان کی آواز بلند ہوئی“ حضرات ہم آپ سے فلاں فلاں مسجد اہلسنت ولجماعت حنفی بریلوی سے مخاطب ہیں۔ ہمارے آقا و مولٰی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے سب سے زیادہ محبت ہم ہی کرتے ہیں جس کا ثبوت ہر اذان کے ساتھ صلوۃ سلام کا ورد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنے والوں کو ہم دین اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ہماری مسجد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اذان اور ہر اعلان کے ساتھ ہم صلوۃ سلام کا ورد ضرور کرتے ہیں آئیے اب ہم نماز بھی پڑھ لیں۔“
پھر ایک اور مسجد سے صدائے حق بلند ہوئی“ دیکھیں جناب یہ مسجد فلاں فلاں اہلسنت حنفی دیوبندی ہے۔ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول کریم کے بعد سب سے اونچا مقام دیتے ہیں۔ ہم پیر پرستی اور قبر پرستی سے بیزار ہیں اور ہاں ہماری مسجد کی پہچان یہ ہے کہ ہماری اذان سب سے مختصر ہوتی ہے۔ ہم کسی اور کلمے کا اضافہ نہیں‌کرتے ۔ آئیں اب نماز پڑھ لی جائے۔“
سب سے آخر میں ایک طرف سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے“ جناب ہم اہل تشیع ہیں۔ ہم اہل بیت کے سب سے بڑے محب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کا عاشق ہم سے زیادہ کون ہوگا۔ ہماری مسجد کی نشانی یہ ہے کہ ہم صرف تین بار اذان دیتے ہیں اور ہماری اذان میں کچھ مزید کلمات کا اضافہ بھی ہوتا ہے جس سے آپ باآسانی ہمیں پہچان سکتے ہیں۔ تو آئیے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں۔“
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ اذانیں نیہں بلکہ نفس بول رہے ہیں۔ میری طرف دیکھو میں دیوبندی ہوں، ارے ادھر کدھر ادھر دیکھ میں ہوں شیعہ ہوں ہم سے بہتر کون مسلمان ہے۔ اوئے ادھر کیا دیکھتا ہے ادھر دیکھ یہ تو کافر ہیں ان کے عقائد ہی ہم سے نہیں ملتے ہم بڑے مسلمان ہیں ہمارا فرقہ بہترین ہے۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ لوگ مخلوق خدا کو اللہ کی طرف نہیں اپنی طرف بلا رہے ہیں۔
آؤ ہماری طرف آؤ اہلحدیث ہوجاؤ اسی میں فلاح ہے۔
آؤ بریلویت کی طرف یہی کامیابی کی راہ ہے۔
آؤ ادھر آؤ ادھر آؤ ہم سب سے بڑے ہیں۔
آؤ ہم ہی جنتی ہیں۔
ادھر آجاؤ۔
اور پھر ایسا ہوا کہ میرے اردگرد کھڑی مسجدیں غائب ہوگئیں اور ان کی جگہ بڑے بڑے گلیور نمودار ہوگئے۔ ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے، اپنے فرقے کی کتابیں اٹھائے، سر پر ٹوپیاں لیے لمبی لمبی ڈاڑھیاں رکھے اور عمامے باندھے، شلواریں ٹخنوں سے اونچی کیے، آپس میں لڑتے نہیں اسے ہماری طرف آنے دو نہیں میری طرف، نہیں میری طرف، اور میں ایک بونا، جو ان کے پیروں کے نیچے آنے سے بچ رہا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں اور آخر ایک طرف بھاگ نکلتا ہوں۔
میری طرف۔۔۔ نہیں ۔۔۔میری طرف۔۔۔ نہیں۔۔ میری طرف۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساری آوازیں معدوم ہوتی جارہی ہیں اور پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے میں نہیں رہتا، کوئی بھی نہیں رہتا اور میرے سامنے میرا رب ہے۔ میں دھیرے سے اپنے رب سائیں سے پوچھتا ہوں۔
“سائیں یہ سب لوگ اتنا لڑ کیوں رہے ہیں۔ آپ کے نام پر ہی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ایسا کیوں ہے سائیں۔ آپ تو سراپا محبت ہونا۔ آپ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو۔ سائیں تو پھر یہ لوگ کیوں لڑتے ہیں آپ کے نام پر ہی۔ انھیں تو مل جل کر محبت سے رہنا چاہیے۔“
اور مجھے ایسا لگا جیسے میرے اللہ سائیں مسکرا دیے ہیں جیسے کہہ رہے ہیں یہ سب تو پاگل ہیں، نادان ہیں۔ میری کتاب کو اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی عقلیں محدود ہیں۔ اپنی محدود عقلوں سے جو اندازے لگا لیتے ہیں ان پر ڈٹ جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو فرعون سمجھنے لگتے ہیں ان کا خیال ہے سب کچھ انھیں کو عطاء ہوگیا ہے باقی سب جاہل مطلق ہیں‌اور ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ان کی میں انھیں جینے نہیں دیتی۔ اس لیے کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے۔

پیر، 14 اگست، 2006

جشن آزادی کے موقع پر

جشن آزادی کے موقع پر مجھے اپنا ہی لکھا ہوا ایک مضمون یاد آگیا۔ وہی دوبارہ پیش کررہا ہوں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ اس مملکت کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے۔ اور تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک۔
مجھےپاکستان سے کبھی اتنی الفت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ آپ کو اس کا پس منظر بتاتا ہوں۔
زیادہ پرانی بات نہیں۔ یہی گزرے رمضان کی بات ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا:شاکر مجھے ممتاز مفتی کی کتاب تلاش خریدنا ہے اپنے لائبریرین سے کہہ کر منگوا دو میں عید پر گھر آیا تو لے جاؤں گا۔ میں نے حسب وعدہ کتاب وقت مقرر سے پہلے منگوا کر رکھ لی۔ میں ازلی کتابوں کا بھوکا۔ ایک کتاب سامنے پڑی ہو اور اسے پڑہوں نا چناچہ میں نے ایک یا دو نشستوں میں وہ ساری کتاب چاٹ ڈالی۔ اس سے پہلے میں نے ممتاز مفتی کو کبھی نہیں پڑھا تھا۔ کبھی کبھار رسالوں میں ڈائجسٹوں میں اس کی تحریروں سے اقتباسات چھپتے رہتے تھے. میں اسے صوفی ٹائپ بندہ سمجھتا تھا۔ یہ کتاب پڑھی تو پتا لگا یہ بندہ تو مولویوں کے خلاف ہے۔ مولویوں کی مخالفت ہر نوجوان کی طرح میرا پسندیدہ موضوع ہے۔
کچھ اقتباسات اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔
اللہ کو حلق کے نچلے پردوں سے اس طرح نکالتے ہیں کہ اللہ ہا بن جاتا ہے۔ جیسے ان کا اللہ ہمارے اللہ سے مختلف ہو جیسے اس نے سر پر بھاری ":
"سا جبہ دستار اور یہ بڑی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہو
میں بہت ہنسا تھا اس کے اللہ کو اللہ ہا کہنے پر ۔ پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا اس بات پر مولاناؤں کی محافل میں بیٹھتا تھا یہ سب سنتا بھی تھا مگر کسی نے اتنی جرأت کبھی نہیں دکھائی تھی۔ میں نے سوچا بندہ یہ اپنی برادری کا لگتا ہے اسے پڑھنا چاہیے۔
میں نے اگلے دن ہی اپنے لائبریرین سے ممتاز مفتی کی کتابوں کی فرمائش کر دی۔ ایک دوافسانوں کے مجموعے پڑھے،اچھا لکھا تھا نفسیات موضوعِ بحث ہوتی تھی مگر وہ چیز نہیں جو میں چاہتا تھا۔ میں تو اس بات کہ تلاش میں تھا کہ یہ بابوں ،مولویوں اور اسلام کی بات چھیڑے۔ پھر میرے لائبریرین نے مجھے علی پور کا ایلی پڑھنے کے لیے دی۔ اس میں بابوں کا کچھ ذکر تھا۔ پڑھ تو میں نے لی مگر اس نے میرے کئی طبق روشن کردیے۔خصوصٌٌا عورتوں کے بارے میں مفتی کے مشاہدات اور ارشادات۔ یہ سب بھی پہلی بار سنا تھا۔
خیر اسی ناول میں پہلی بار میں نے شعوری طور پر نصاب سے ہٹ کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیا۔ اس بارے میں مفتی کے مشاہدات جانے :اورپھر جیسے جیسے ان پر سوچا یقین کیجیے مجھے ان سے ایک فیصد بھی اختلاف محسوس نہ ہوا۔ مفتی کہتا ہے
ہندو بڑی شائستہ قوم ہیں۔ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اچھے انسان ہیں اور کاروباری تو بہت ہی اچھے ہیں ۔مگران کو جب بھی موقع ملے یہ مسلمانوں کو نقصان پہچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کی اس خوبی کا میں معترف ہوں کہ انتقام کو ہماری طرح ایک ہی بار ظاہر نہیں کر دیتے اسے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں سینت سینت کر پھر جب موقع ملتا ہے تو مسلمانوں پر کاری وار کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔آل انڈیا کانگرس کی کمیٹی کی قرار داد کے وہ الفاظ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں
:یہ کہا گیا ہے کہ
انڈیا جیسا ہے جہاں ہے ہمیشہ ویسا ہی رہے گا اور اس کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے اسکی اصل کی طرف لوٹائیں۔
پھر مفتی چھرا بازی کے واقعات بارے سناتا ہے جو اس جیسے برائے نام مسلمان کے اندر کو بھی جنجھوڑ دیتے ہیں اور اسےیہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔
اسی طرح ناول میں کچھ بابوں کا بھی ذکر ہے۔ دلی کے حاجی صاحب اور پاگ بابا۔ اور پھر بڈھا جو مفتی کا انتظار کر رہا ہے۔جس کے بارے میں پاگ بابا اسے بتاتا ہے۔
اس کے بعد مفتی کی آپ بیتی کا دوسرا حصہ الکھ نگری پڑھی اور یہاں سے پاکستان کے بارے میں میری سوچ میں کئی تبدیلیاں ہوئیں۔ الکھ نگری تھوڑی سی مفتی نامہ اور باقی پاکستان نامہ اور پاکستان کے حوالے سے بابے نامہ اور شہاب نامہ ہے۔
مفتی الکھ نگری میں پاکستان اور قدرت اللہ شہاب کے گرد ناچتا ہے دیوانہ وار ناچتا ہے لوگوں کو بتاتا ہے دیکھو یہ جو پاکستان نظر آرہا ہے یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
مفتی کو بڈھا مل جاتا ہے۔جسے وہ مرشد تو نہیں بناتا مگر اس کااحترام ضرور کرنے لگتا ہے۔ مفتی جیسا اڑیل احترام بھی ڈنڈے کھا کر کرتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ بابا اس پر رونا مسلط کر دیتا ہے۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے چلتے پھرتے مفتی بھوں بھوں کر کے رونا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دن چلتا ہے۔ اور یہ سب ایک ایسے بندے کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو رہا ہے جو اس دنیا میں موجود نہیں آخر مفتی ہار مان لیتا ہےاور بابے کےحلقے میں شامل ہوجاتاہے۔
پھر مفتی کو پاکستان بارے کئی باتوں کا پتا چلتاہے۔ جیسے بھائی جان جو کہ بڈھے کے مرید خاص ہیں اسے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے منصوبے کے روحانی طور پر چیف کوآرڈینیٹر بابا جی تھے۔ انھوں نے ریاست دکن کے نواب کو پیغام بھیجا تھا کہ آؤ تمہیں ایک اسلام ریاست کا وزیراعظم بنا دیں۔ پھر یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے منصوبے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی اجازت سے زیر عمل لایا گیا۔
مفتی ایک دن بیٹھے بیٹھے بھائی جان سے پوچھ لیتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا تو اسے بتایا جاتاہے کہ وہ پاکستان کی فکر کرنا چھوڑ دے اس کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں۔ وہ بس یہ خیال رکھے کہ کوئی کام ایسا تو نہیں کر رہا جس سے پاکستان کو نقصان پہچنے کا احتمال ہے۔
یہاں سے مجھے پتا چلا کہ پاکستان کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں ۔ پھر میں بھی مفتی کی طرح پاکستان کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ مجھے اس سے محبت تو پہلے سے ہی تھی مگر اب کچھ اور قسم کی ہے۔ کیونکہ میرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے محبت ہے اس لیے مجھے بھی اس سے محبت ہے۔ میں جب یہ سوچتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے پاکستان کو بنانے کا اذن ملا تھا تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جسے وہاں سے اجازت مل جائے اسے کیا چاہیے۔
خیر ذکر مفتی کا ہو رہا تھا تو اسی طرح چلتے چلتے مفتی شہاب کو داستان میں گھسیٹ لیتا ہے۔ بڈھا،بھائی جان اور بڑی بڑی ہستیاں قدرت اللہ شہاب کا ذکر احترام سے کرتی ہیں۔اور پھر مفتی قدرت اللہ شہاب کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔پاکستان سے تو اسے محبت تھی ہی اور یہ محبت شہاب کے توسط سے دوہری ہوجاتی ہے۔ پھر اسی دوران اس پر کئ انکشافات ہوتے ہیں ۔پاکستان کی ترقی بارے،پاکستان کی عظمت بارے اور وہ اپنی تحریروں میں جابجا پاکستان کا ذکر اس طرح کرتا ہے جیسےپاکستان کوئی بزرگ ہے۔
صاحبو سچ پوچھو تو مفتی کی ان ہی تحریروں نے میرے گوڈوں میں پاکستان کا عشق اس طرح بٹھا دیا ہے جس طرح گھٹیا کے مریضوں میں درد بیٹھ جاتے ہیں۔ مفتی جابجا اس طرح پاکستان کی عظمت کی کلیاں ٹانکتاہے اور اس کی آنے والی شان کے بارے میں راگ الاپتا جاتا ہے کہ میں مسحور ہو تا جاتا ہوں اور اب میرا یہ حال ہے کہ کوئی پاکستان کے بارے میں خدشے کا اظہار کرتا ہے تو مجھے وہ بچہ محسوس ہوتاہے میرا جی کرتاہے کہ چیخ چیخ کر اسے بتاؤں فکر نہ کرو اس کی فکر کرنے والی ہستیاں ہیں تم بس اپنے آپ کو ٹھیک کرلو۔
مفتی شہاب کے ساتھ فیصل آباد کے ایک قصبے میں ایک بزرگ سے ملنے جاتا ہے تو وہ برزگ دو ڈھائی سو لوگوں کے مجمع میں کہتے ہیں لوگو ایک دن ایسا آئے گا جب یواین کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گا تم وہ دن دیکھوگے ہاں ہم نہیں ہونگے اگر ایسا نہ ہوا تو تم میری قبر پر آکر تھوکنا
مفتی کا ایک دوست ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں ہالینڈ جاتا ہے وہاں ایک اسلامی نایاب کتب کی لائبریری میں دوران ریسرچ اس پر کھلتا ہے کہ حضرت بری امام رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارے قدموں میں ایک عظیم اسلامی مملکت کا شہر آباد ہوگا۔بری امام کا مزار تو آپ جانتے ہیں نا اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں جس کی طرف جانے والی سڑک سی ڈی اےوالوں نے توڑ دی تھی اور وہاں جانے والے ٹانگوں کا اسلام آباد سے گزرنا منع ہے۔
مفتی حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر بھی کرتا ہے جب انھیں انگریز جنگ آزادی کی ناکامی پر گرفتار کر لیتے ہیں اور ان کی وہ ریاست جو انھوں نے پنجاب میں قائم کی تھی ختم ہوجاتی ہے تو بوقت گرفتاری مجمع سے ایک مجذوب باہر آکر انھیں تسلی دیتا ہے کہ نوے سال بعد اسی سرزمین پر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم ہوگی۔
پھر پینسٹھ کی جنگ جس میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ چھوٹے قد والے سرخ اور سفید لباس والے اور سفید گھوڑوں والے اور برق پاش تلواروں والے بھی لڑے۔
پاکستان کی ایک خاتون جو کہ عرصے سے مدینہ میں روضہ رسول کے قریب مقیم تھیں دیکھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روضہ مبارک سے باہر آۓہیں کہ ان کی زلفیں پریشان ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان جہاد کے لیے جارہے ہیں۔
مفتی اس طرح کی کئی باتیں کرتا ہے۔
پھر ایک شاہ صاحب کا تذکرہ جو صاحب کشف ہیں بتانے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں ایک بڑی جنگ ہوگی لاکھوں لوگ مارے جائیں گے پھر پاکستان کو عروج حاصل ہوگا۔
سبز آنکھوں والا ایک حکمران جو شاید افریقہ یا یورپ سے ہے آۓ گاا ور سب کو سیدھا کر دے گا پھر پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرےگا۔
اس قسم کی بے شمار حکائتیں۔جو ممتاز مفتی بیان کرتاچلا جاتا ہےاور میرے جیسا بندہ جو پاکستان کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس چکا ہےپڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔
یہ سب آپ سے شئیرکرنے کامقصد کیا ہے؟
یہ کہ آپ لوگ نراش نہ ہوں۔ ہمت نہ چھوڑیں ۔ اس ملک کی فکر کرنے والے موجود ہیں ہمیں بس یہ کرناہے کہ اسکی ترقی کے لیے کام کریں ثمر اللہ دے گا۔ بس بیج ڈالنے کی ضرورت ہے پھل تو آنے کو بے تاب کھڑا ہے۔ ہمارے اس ملک نے آگے چل کر ایک ذمہ داری اٹھانی ہےایک ععظیم مقصد پورا کرنا ہے اور وہ ہے اسلامی دنیا کی قیادت۔ جانےیہ عظمت اسے کس کے طفیل ملے گی مگر ساتھ ہم جیسوں کی بھی چاند ہوجائے گی۔ اس لیے مایوسی نہیں بس کام کرنا ہے پاکستان کے لیے اس کی ترقی کے لیے۔
ے کو عظمت ملےگی انشأءاللہ ضرور ملے گی جانے کس کی برکت ترقی اب بھی تو کم نہیں۔ پاکستان جس کا ایک نام ہے۔ باوجود بے شمار اندورنی بیرونی خطرات کےباوجود یہ پھلتا جارہا ہے پھولتا جارہا ہے۔ اسکے دشمنوں کے اندر جل رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے یہ پاکستان ترقی کر ہا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیےکبھی وہ ہمیں اندر سے بلوچستان اور اس جیسے کئی دوسرے طریقوں سے تنگ کرتے ہیں تو کھبی براہ راست وار کرتے ہیں
مگر دشمنوں کے واویلے کے باوجود کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا۔ کتنے عرصے سے یہ لوگ اسلامی بم اسلامی بم چِلا رہے تھے اب اسلامی بم ان کےسروں پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے اور وہ صرف پیچ وتاب کھا سکتے ہیں۔ میزائل ٹیکنولوجی میں بے مثال ترقی، کروز میزائلوں کی طرف قدم اور خلا کی تسخیر کے منصوبے۔
اس مملکت کی عظمت کے گواہ ہیں۔ کام صرف اتنا ہےکہ انفرادی سطح پر اپنے آپ کو درست کر لیں پھر جب اللہ کا کرم ہوگا تو دنیا دیکھے گی کرم تو اس کا اب بھی ہےمگر ہماری کوتاہیاں اس کا اثر موڑ دیتی ہیں اسکی رحمت کو ناراض کردیتی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکستان سے محبت نہیں عشق کرنے کی توفیق دے۔ اتنا عشق کہ ہمیں ہر طرف پاکستان ہی نظر آئے۔ ہم سب سے پہلے پاکستان سوچیں باقی سب بعد میں ۔ ہم میں جذبہ نہیں قدرت اللہ شہاب کے بقول جنون پیدا ہوجائے اپنےملک کے لیے تعصب پیدا ہوجائے فخر پیدا ہوجائے پھر انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہے ہاں عظیم پاکستان ہے۔
اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر اور ہمارے ملک پر اپنا رحم و کرم نازل کرے اور کرتا رہے آمین یا رب العٰلمین۔

اتوار، 15 جنوری، 2006

میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم


:تمہید
موضوع چھیڑ بیٹھا ہوںمیر ےلیے بھی لکھنا ایسا ہی ایک عمل ہے جب میں پڑھ پڑھ کر لبا لب بھر جاتا ہوں تو میرے اندر کھد بد سی ہونے لگتی ہے۔ کوئی ٹہوکے دیتا ہے کہ کچھ لکھ۔ پھر میں جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں وہاں،اوپر نیچے، لیٹتے اٹھتے سوچتا ہوں اورجب تک کچھ لکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا۔ آپ شاید میری میں میں سے جان گئے ہونگے کہ میرے اندر کسی اور چیز کی خواہش ہو یا نہ ہو یہ میں میں تھی جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا تھا۔ اسی میں میں سے مجبورہو کر میں لکھنے بیٹھا ہوں۔
مگر قلم اور ذہن ساتھ نہیں دے رہے۔ مجھے بھی انوکھی سوجھا کرتی ہیں۔ ایک ایسا موضوع جس پر پہنچ کر بڑے بڑوں کے پر جل جاتے ہیں اور قوت پرواز دم توڑ جاتی ہےکو لکھنے لگا ہوں۔ مگر میں بھی مجبور ہوں ۔ میرے اندر ہر طرف میں میں ہو رہی ہے ۔ اور میری نظر میں اس کا حل یہ ہی ہے کہ کچھ لکھوں ۔ کیا لکھوں؟ تو میں نے سوچا کیوں نہ اپنے سائیں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کچھ لکھوں ۔ میں کیااور میری اوقات کیا۔ گندی نالی کا کیڑا۔ مگر میں بھی مجبور ہوں۔ شاید آپ اکتا گئے ہوں کہ یہ بندہ کس وجہ سے مجبور ہے۔ اس لیے کہ میں بہت سارا پڑھ چکا ہوں جب میں بہت سارا پڑھ چکوں تو میرا لکھنے کو دل کرتاہے۔ میری مثال اس ٹنکی کی طرح ہے جو پانی سے بھر جاتی ہے تو پانی رسنے لگتاہے۔ اگر ٹونٹی نا کھولی جائے تو پانی رستا
ہی جاتا ہے۔ اس لیے میں لکھنے پر مجبورہوں
میں کی بات چلی ہے تو اس کا سبب نفس بھی دیکھ لیں ۔ نفس بھی عجیب چیز ہےاللہ نے انسان میں رکھ دیا۔ سنا کرتے ہیں کہ نفس کوتو ہزاروں سال جہنم کی آگ میں جلایا گیا پھر جب رب کریم نے اس سے پوچھا بتا میں کون ہوں تو بولا تُو تُو ہے اور میں میں ہوں ۔ آگئی نہ بات میں کی۔ میرے اندر یہ ہی میں میں ادھم مچائے رکھتی ہے۔ کچھ لوگ اسے اپنے اندر دبا لیتے
.ہیں اور کچھ میرے جیسے سرِ بازار اپنی میں کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں
اب میں نے بہت میں میں کر لی ہے۔ چلا کیا لکھنے تھا اور لکھ کیا رہا ہوں۔ مگر کیا کروں میرے جیسے جاہل اور منافق سے اور امید ہی کیا کی جاسکتی ہے۔
:تیری تعریف کروں میری اتنی کہاں اڑان
یہاں تو بڑے بڑے عالم فاضل موجود ہیں۔ جنھوں نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھا ۔ اور خوب لکھا۔ کسی نے ایک مخصوص پہلو پر لکھا اور کسی نے پورے کردار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ۔ فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے گئے ۔ سنا کرتے ہیں کہ کئی بزرگوں نے تو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بغیر نقطے تک کے کتابیں لکھیں ۔ ان علمی سورجوں کے سامنے میری حیثیت ہی کیا ہے ۔ مگر سچ بتائیے دل تو ہر کسی میں ہوتا ہے ناں ۔ میرے اندر بھی دل ہے۔
میرا بھی جی کرتا ہے کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ لکھوں۔ اگر چہ میرے پر جلنے لگے ہیں۔ میرا قلم رک رک کر چلتا ہے۔ میرے اندر ہمت نہیں مگر میں کچھ نہ کچھ لکھوں گا ضرور۔ شاید میرا اس تحریر کے صدقے ان کے عشاق میں نام آجائے۔
میں اس کی تعریف کیا کروں جسکی تعریف رب کائنات کرتا ہے۔ فخر موجودات،سرور دوعالم، رحمتہ اللعٰلمین صلی اللہ علیہ وسلم۔
میرے خیال میں تو اس سے جامع تعریف ہو ہی نہیں سکتی
"اللہ اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام بھیجتے ہیں سو اے ایمان والوں تم بھی ان پر درودو سلام بھیجو۔"
اس سے آگے تو تعریف کے الفاظ ہی ختم ہو جاتے ہیں ۔ جب اللہ کہتا ہے کے ان پر درود بھیجو۔ پھر کیسی تعریف ۔
جس کا مقام وہاں کہ جبریل کے پر جلتے ہیں جس کا مقام وہاں کی میرے جیسے گندی نالی کے کیڑے بھی اس کے امتی ہونے اور اس کی شفاعت کے امید وار ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں اسکی اور کیا تعریف کی جائے ۔ یا شاید یہ سمجھ لیجیے میرا قلم جواب دے گیا ہے مجھے اس عظیم ہستی کی تعریف اس کی عظمت اور بزرگی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے میں تو عامی ہوں عام سی باتیں کرنے والا شاید اپنی بساط سے بڑا بوجھ اٹھانے چلا ہوں۔ اس بات کا بھرم رکھنے کے لیے کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہوں۔
:عام سی باتیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوٰی سب کرتے ہیں ۔ داڑھی والے جن کے سر پر بڑے بڑے جبے اور دستاریں ہوتی ہیں اور شلواریں ٹخنوں سے اونچی ۔ محبت کا دعوٰی مجھ جیسے منافق بھی کرتےہیں جن کی نا ظاہری ہیت ان سے میل کھاتی ہے اور نہ ہی باطنی ہیت مگر پھر بھی ان کے امتی ہونے پر اس طرح اکڑتے پھرتے ہیں جیسے مرغ مرغی کو فتح کرنے کے بعد سینہ پھلائے پھر تا ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی عجیب چیز ہے۔
اللہ کو کوئی برا کہے تو ہمیں برا نہیں لگتا۔ مگر جب کوئی ان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اندر آگ سی لگ جاتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں غازی علم دین شہید جیسے کئی کردار نظر آتے ہیں جو بظاہر عام سے مسلمان ہیں مگر ناموس رسول پر اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔عجیب جذبہ رکھ دیا ہے اللہ نے ہمارے اندر اسے کوئی کچھ کہے تو خود ہی کہتا ہے کہ رہنے دو انھیں کچھ نہ کہو اور اگر اس کے نبی کو کوئی کچھ کہے تو سننے والے کے اندر باہر آگ سی لگ جاتی ہے۔
یہ عام سی باتیں ہیں۔ مرزائیوں کا پیشوا ہو،یا سلمان رشدی جیسا شاتم رسول جب ان کے نام سامنے آتے ہیں تو بے اختیار لبوں پر جو پہلا لفظ آتا ہے وہ کلاسیکل قسم کی گالی ہوتاہے۔ یا اگر کوئی بہت ہی مہذب ہوگا تو گالی کے بغیر بات کر لے گا۔
حب رسول بھی عجیب چیز ہے اور ہم بھی عجیب تر ۔ دعوٰی تو محبت کا ہے مگر کام ۔۔۔۔۔
کام نہ پوچھیں۔ عجب لوگ ہیں ہم بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوٰی ہے تو اسے نبھانے کی کوشش بھی کیجیے جتناہوسکے۔
محبت سے یاد آیا محبت کرنے کے کچھ آداب ہواکرتےہیں۔آپ میں سب ہی جانتے ہیں کہ جب ہم کسی کا ذکر محبت سے کرتے ہیں تو وہ بھی ہمارا ذکر محبت سے کرتا ہے۔ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاصل کر نی ہے تو ان کا ذکر کیا کیجیے۔
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا مگر ہم اپنی سی کوشش تو کر سکتے ہیں ۔ ہمیں اللہ کی طرف سے حکم بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا کریں۔ تو صاحبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردرود پڑھتے رہا کرو۔ اس پر کونسا پیسے خرچ ہوتے ہیں ۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اگر یہ کام کرتے رہیں تو یہ فطرت بن جائے گی۔ درود کا جاری ہونا بھی قرب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی ہے۔ اس لیے اگر ان کے قریب ہونا لہے تو ان کا ذکر کیا کیجیے ۔
لکھنے کیا بیٹھا تھا اور لکھا کیا۔ اسی لیے کہا تھا کہ ابھی میری اڑان اتنی نہیں ۔ مگر پاپی دل مان کر نہیں دیتا تھا۔ اب اسے سکون ہے۔ مجھے اتنی دیر برداشت کیا میری میَں میَں برداشت کی آپ کا شکریہ۔
اللہ ہمیں حب رسول صلی اللہ علیہ سلم نصیب فرما دے۔آمین
(نوٹ: ایک دوست نے میری تحریر بارے استفسار کیا تھا کوئی بھی اپنے بلاگ پر میری تحریر شائع کر سکتا ہے۔ تبصرے کے ذیل میں)‌مجھے مطلع کر دیجیےگا)

ہفتہ، 14 جنوری، 2006

میرا پاکستان


مجھےپاکستان سے کبھی اتنی الفت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ آپ کو اس کا پس منظر بتاتا ہوں۔
زیادہ پرانی بات نہیں۔ یہی گزرے رمضان کی بات ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا:شاکر مجھے ممتاز مفتی کی کتاب تلاش خریدنا ہے اپنے لائبریرین سے کہہ کر منگوا دو میں عید پر گھر آیا تو لے جاؤں گا۔ میں نے حسب وعدہ کتاب وقت مقرر سے پہلے منگوا کر رکھ لی۔ میں ازلی کتابوں کا بھوکا۔ ایک کتاب سامنے پڑی ہو اور اسے پڑہوں نا چناچہ میں نے ایک یا دو نشستوں میں وہ ساری کتاب چاٹ ڈالی۔ اس سے پہلے میں نے ممتاز مفتی کو کبھی نہیں پڑھا تھا۔ کبھی کبھار رسالوں میں ڈائجسٹوں میں اس کی تحریروں سے اقتباسات چھپتے رہتے تھے. میں اسے صوفی ٹائپ بندہ سمجھتاتھا۔ یہ کتاب پڑھی تو پتا لگا یہ بندہ تو مولویوں کے خلاف ہے۔ مولویوں کی مخالفت ہر نوجوان کی طرح میرا پسندیدہ موضوع ہے۔
کچھ اقتباسات اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔
اللہ کو حلق کے نچلے پردوں سے اس طرح نکالتے ہیں کہ اللہ ہا بن جاتا ہے۔ جیسے ان کا اللہ ہمارے اللہ سے مختلف ہو جیسے اس نے سر پر بھاری ":
"سا جبہ دستار اور یہ بڑی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہو
میں بہت ہنسا تھا اس کے اللہ کو اللہ ہا کہنے پر ۔ پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا اس بات پر مولاناؤں کی محافل میں بیٹھتا تھا یہ سب سنتا بھی تھا مگر کسی نے اتنی جرأت کبھی نہیں دکھائی تھی۔ میں نے سوچا بندہ یہ اپنی برادری کا لگتا ہے اسے پڑھنا چاہیے۔
میں نے اگلے دن ہی اپنے لائبریرین سے ممتاز مفتی کی کتابوں کی فرمائش کر دی۔ ایک دوافسانوں کے مجموعے پڑھے،اچھا لکھا تھا نفسیات موضوعِ بحث ہوتی تھی مگر وہ چیز نہیں جو میں چاہتا تھا۔ میں تو اس بات کہ تلاش میں تھا کہ یہ بابوں ،مولویوں اور اسلام کی بات چھیڑے۔ پھر میرے لائبریرین نے مجھے علی پور کا ایلی پڑھنے کے لیے دی۔ اس میں بابوں کا کچھ ذکر تھا۔ پڑھ تو میں نے لی مگر اس نے میرے کئی طبق روشن کردیے۔خصوصٌٌا عورتوں کے بارے میں مفتی کے مشاہدات اور ارشادات۔ یہ سب بھی پہلی بار سنا تھا۔
خیر اسی ناول میں پہلی بار میں نے شعوری طور پر نصاب سے ہٹ کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیا۔ اس بارے میں مفتی کے مشاہدات جانے :اورپھر جیسے جیسے ان پر سوچا یقین کیجیے مجھے ان سے ایک فیصد بھی اختلاف محسوس نہ ہوا۔ مفتی کہتا ہے
ہندو بڑی شائستہ قوم ہیں۔ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اچھے انسان ہیں اور کاروباری تو بہت ہی اچھے ہیں ۔مگران کو جب بھی موقع ملے یہ مسلمانوں کو نقصان پہچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کی اس خوبی کا میں معترف ہوں کہ انتقام کو ہماری طرح ایک ہی بار ظاہر نہیں کر دیتے اسے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں سینت سینت کر پھر جب موقع ملتا ہے تو مسلمانوں پر کاری وار کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔آل انڈیا کانگرس کی کمیٹی کی قرار داد کے وہ الفاظ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں
:یہ کہا گیا ہے کہ
انڈیا جیسا ہے جہاں ہے ہمیشہ ویسا ہی رہے گا اور اس کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے اسکی اصل کی طرف لوٹائیں۔
پھر مفتی چھرا بازی کے واقعات بارے سناتا ہے جو اس جیسے برائے نام مسلمان کے اندر کو بھی جنجھوڑ دیتے ہیں اور اسےیہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔
اسی طرح ناول میں کچھ بابوں کا بھی ذکر ہے۔ دلی کے حاجی صاحب اور پاگ بابا۔ اور پھر بڈھا جو مفتی کا انتظار کر رہا ہے۔جس کے بارے میں پاگ بابا اسے بتاتا ہے۔
اس کے بعد مفتی کی آپ بیتی کا دوسرا حصہ الکھ نگری پڑھی اور یہاں سے پاکستان کے بارے میں میری سوچ میں کئی تبدیلیاں ہوئیں۔ الکھ نگری تھوڑی سی مفتی نامہ اور باقی پاکستان نامہ اور پاکستان کے حوالے سے بابے نامہ اور شہاب نامہ ہے۔
مفتی الکھ نگری میں پاکستان اور قدرت اللہ شہاب کے گرد ناچتا ہے دیوانہ وار ناچتا ہے لوگوں کو بتاتا ہے دیکھو یہ جو پاکستان نظر آرہا ہے یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
مفتی کو بڈھا مل جاتا ہے۔جسے وہ مرشد تو نہیں بناتا مگر اس کااحترام ضرور کرنے لگتا ہے۔ مفتی جیسا اڑیل احترام بھی ڈنڈے کھا کر کرتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ بابا اس پر رونا مسلط کر دیتا ہے۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے چلتے پھرتے مفتی بھوں بھوں کر کے رونا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دن چلتا ہے۔ اور یہ سب ایک ایسے بندے کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو رہا ہے جو اس دنیا میں موجود نہیں آخر مفتی ہار مان لیتا ہےاور بابے کےحلقے میں شامل ہوجاتاہے۔
پھر مفتی کو پاکستان بارے کئی باتوں کا پتا چلتاہے۔ جیسے بھائی جان جو کہ بڈھے کے مرید خاص ہیں اسے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے منصوبے کے روحانی طور پر چیف کوآرڈینیٹر بابا جی تھے۔ انھوں نے ریاست دکن کے نواب کو پیغام بھیجا تھا کہ آؤ تمہیں ایک اسلام ریاست کا وزیراعظم بنا دیں۔ پھر یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے منصوبے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی اجازت سے زیر عمل لایا گیا۔
مفتی ایک دن بیٹھے بیٹھے بھائی جان سے پوچھ لیتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا تو اسے بتایا جاتاہے کہ وہ پاکستان کی فکر کرنا چھوڑ دے اس کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں۔ وہ بس یہ خیال رکھے کہ کوئی کام ایسا تو نہیں کر رہا جس سے پاکستان کو نقصان پہچنے کا احتمال ہے۔
یہاں سے مجھے پتا چلا کہ پاکستان کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں ۔ پھر میں بھی مفتی کی طرح پاکستان کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ مجھے اس سے محبت تو پہلے سے ہی تھی مگر اب کچھ اور قسم کی ہے۔ کیونکہ میرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے محبت ہے اس لیے مجھے بھی اس سے محبت ہے۔ میں جب یہ سوچتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے پاکستان کو بنانے کا اذن ملا تھا تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جسے وہاں سے اجازت مل جائے اسے کیا چاہیے۔
خیر ذکر مفتی کا ہو رہا تھا تو اسی طرح چلتے چلتے مفتی شہاب کو داستان میں گھسیٹ لیتا ہے۔ بڈھا،بھائی جان اور بڑی بڑی ہستیاں قدرت اللہ شہاب کا ذکر احترام سے کرتی ہیں۔اور پھر مفتی قدرت اللہ شہاب کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔پاکستان سے تو اسے محبت تھی ہی اور یہ محبت شہاب کے توسط سے دوہری ہوجاتی ہے۔ پھر اسی دوران اس پر کئ انکشافات ہوتے ہیں ۔پاکستان کی ترقی بارے،پاکستان کی عظمت بارے اور وہ اپنی تحریروں میں جابجا پاکستان کا ذکر اس طرح کرتا ہے جیسےپاکستان کوئی بزرگ ہے۔
صاحبو سچ پوچھو تو مفتی کی ان ہی تحریروں نے میرے گوڈوں میں پاکستان کا عشق اس طرح بٹھا دیا ہے جس طرح گھٹیا کے مریضوں میں درد بیٹھ جاتے ہیں۔ مفتی جابجا اس طرح پاکستان کی عظمت کی کلیاں ٹانکتاہے اور اس کی آنے والی شان کے بارے میں راگ الاپتا جاتا ہے کہ میں مسحور ہو تا جاتا ہوں اور اب میرا یہ حال ہے کہ کوئی پاکستان کے بارے میں خدشے کا اظہار کرتا ہے تو مجھے وہ بچہ محسوس ہوتاہے میرا جی کرتاہے کہ چیخ چیخ کر اسے بتاؤں فکر نہ کرو اس کی فکر کرنے والی ہستیاں ہیں تم بس اپنے آپ کو ٹھیک کرلو۔
مفتی شہاب کے ساتھ فیصل آباد کے ایک قصبے میں ایک بزرگ سے ملنے جاتا ہے تو وہ برزگ دو ڈھائی سو لوگوں کے مجمع میں کہتے ہیں لوگو ایک دن ایسا آئے گا جب یواین کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گا تم وہ دن دیکھوگے ہاں ہم نہیں ہونگے اگر ایسا نہ ہوا تو تم میری قبر پر آکر تھوکنا
مفتی کا ایک دوست ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں ہالینڈ جاتا ہے وہاں ایک اسلامی نایاب کتب کی لائبریری میں دوران ریسرچ اس پر کھلتا ہے کہ حضرت بری امام رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارے قدموں میں ایک عظیم اسلامی مملکت کا شہر آباد ہوگا۔بری امام کا مزار تو آپ جانتے ہیں نا اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں جس کی طرف جانے والی سڑک سی ڈی اےوالوں نے توڑ دی تھی اور وہاں جانے والے ٹانگوں کا اسلام آباد سے گزرنا منع ہے۔
مفتی حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر بھی کرتا ہے جب انھیں انگریز جنگ آزادی کی ناکامی پر گرفتار کر لیتے ہیں اور ان کی وہ ریاست جو انھوں نے پنجاب میں قائم کی تھی ختم ہوجاتی ہے تو بوقت گرفتاری مجمع سے ایک مجذوب باہر آکر انھیں تسلی دیتا ہے کہ نوے سال بعد اسی سرزمین پر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم ہوگی۔
پھر پینسٹھ کی جنگ جس میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ چھوٹے قد والے سرخ اور سفید لباس والے اور سفید گھوڑوں والے اور برق پاش تلواروں والے بھی لڑے۔
پاکستان کی ایک خاتون جو کہ عرصے سے مدینہ میں روضہ رسول کے قریب مقیم تھیں دیکھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روضہ مبارک سے باہر آۓہیں کہ ان کی زلفیں پریشان ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان جہاد کے لیے جارہے ہیں۔
مفتی اس طرح کی کئی باتیں کرتا ہے۔
پھر ایک شاہ صاحب کا تذکرہ جو صاحب کشف ہیں بتانے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں ایک بڑی جنگ ہوگی لاکھوں لوگ مارے جائیں گے پھر پاکستان کو عروج حاصل ہوگا۔
سبز آنکھوں والا ایک حکمران جو شاید افریقہ یا یورپ سے ہے آۓ گاا ور سب کو سیدھا کر دے گا پھر پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرےگا۔
اس قسم کی بے شمار حکائتیں۔جو ممتاز مفتی بیان کرتاچلا جاتا ہےاور میرے جیسا بندہ جو پاکستان کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس چکا ہےپڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔
یہ سب آپ سے شئیرکرنے کامقصد کیا ہے؟
یہ کہ آپ لوگ نراش نہ ہوں۔ ہمت نہ چھوڑیں ۔ اس ملک کی فکر کرنے والے موجود ہیں ہمیں بس یہ کرناہے کہ اسکی ترقی کے لیے کام کریں ثمر اللہ دے گا۔ بس بیج ڈالنے کی ضرورت ہے پھل تو آنے کو بے تاب کھڑا ہے۔ ہمارے اس ملک نے آگے چل کر ایک ذمہ داری اٹھانی ہےایک ععظیم مقصد پورا کرنا ہے اور وہ ہے اسلامی دنیا کی قیادت۔ جانےیہ عظمت اسے کس کے طفیل ملے گی مگر ساتھ ہم جیسوں کی بھی چاند ہوجائے گی۔ اس لیے مایوسی نہیں بس کام کرنا ہے پاکستان کے لیے اس کی ترقی کے لیے۔
ے کو عظمت ملےگی انشأءاللہ ضرور ملے گی جانے کس کی برکت ترقی اب بھی تو کم نہیں۔ پاکستان جس کا ایک نام ہے۔ باوجود بے شمار اندورنی بیرونی خطرات کےباوجود یہ پھلتا جارہا ہے پھولتا جارہا ہے۔ اسکے دشمنوں کے اندر جل رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے یہ پاکستان ترقی کر ہا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیےکبھی وہ ہمیں اندر سے بلوچستان اور اس جیسے کئی دوسرے طریقوں سے تنگ کرتے ہیں تو کھبی براہ راست وار کرتے ہیں
مگر دشمنوں کے واویلے کے باوجود کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا۔ کتنے عرصے سے یہ لوگ اسلامی بم اسلامی بم چِلا رہے تھے اب اسلامی بم ان کےسروں پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے اور وہ صرف پیچ وتاب کھا سکتے ہیں۔ میزائل ٹیکنولوجی میں بے مثال ترقی، کروز میزائلوں کی طرف قدم اور خلا کی تسخیر کے منصوبے۔
اس مملکت کی عظمت کے گواہ ہیں۔ کام صرف اتنا ہےکہ انفرادی سطح پر اپنے آپ کو درست کر لیں پھر جب اللہ کا کرم ہوگا تو دنیا دیکھے گی کرم تو اس کا اب بھی ہےمگر ہماری کوتاہیاں اس کا اثر موڑ دیتی ہیں اسکی رحمت کو ناراض کردیتی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکستان سے محبت نہیں عشق کرنے کی توفیق دے۔ اتنا عشق کہ ہمیں ہر طرف پاکستان ہی نظر آئے۔ ہم سب سے پہلے پاکستان سوچیں باقی سب بعد میں ۔ ہم میں جذبہ نہیں قدرت اللہ شہاب کے بقول جنون پیدا ہوجائے اپنےملک کے لیے تعصب پیدا ہوجائے فخر پیدا ہوجائے پھر انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہے ہاں عظیم پاکستان ہے۔
اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر اور ہمارے ملک پر اپنا رحم و کرم نازل کرے اور کرتا رہے آمین یا رب العٰلمین۔


اتوار، 8 جنوری، 2006

میں باغی ہوں!!!!

rمیں باغی ہوں!!!!
ہاں میں باغی ہوں۔ اس رسم و رواج سے ۔ اس اندھی تقلید سے۔ اس رویے سے جس نے ہمیں مجبور کر رکھا ہے کہ ان سڑی ہوئی اور سوکھی ہوئی شاخوں کو پکڑے رکھیں اور اصل درخت جو آج بھی ہرا بھرا ہے کو بھول جائیں ۔
مگر ٹھہریں آپ کیا جانیں میری بغاوت کے کیا اسباب ہیں۔
میں بتاتاہوں۔
زیادہ پرانی بات نہیں اردو ویب آرگ پر ایک فورم میں دورانِ بحث مجھے ایک خبر ملی ۔
خبر یہ تھی کہ بھارت میں ایک خاتون کے سسر نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے اور اس پر وہاں کے دارلعلوم دیوبند نے وہ عورت اس کے خاوند پر حرام قرار دے دی ہے۔
میں نے پہلے اس پر دھیان نہیں دیا مگر پھر یونہی پھرتے پھراتے میں ایک اور فورم پر جا پہنچا جہاں پر اسی مسئلہ پر بحث ہورہی تھی۔ میں جیسے جیسے وہ بحث پڑھتا گیا میرا خدا گواہ ہے میرے دل میں آگ لگ گئی مجھے مسئلے کی سنگینی کا تب جا کر احساس ہوا۔
میرے تن بدن میں جیسے کسی نے انگارے بھر دیے، مظلوم کی بجائے داد رسی کی جاتی اس کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی اور کتنی آسانی سے مذہب کی آڑ لے لی گئی۔
چلیں میری بات چھوڑیں آپ ذرا ایک لمحہ غور کریں کیا آپ کا دل یہ مانتا ہے کہ مظلوم کے ساتھ مزید ظلم کیا جائے یعنی ایک تو اس کی عزت گئی ساتھ میں اس کے سر کا سائیں بھی چھینا جا رہا ہے۔
میری بات پوچھیں نا۔
تو میرے اندر سے جیسے کوئی چِلایا تھا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے نہیں ہوسکتا۔
کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔ میرے پیارے اللہ میاں کا دین اور میرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کا خطاب رحمتہ للعٰلمین ہے کا دین ایسا کبھی کہہ ہی نہیں سکتا ۔
میرے اندر اس تحریر کے لکھنے تک کوئی بین کرتا رہا ہے، میرے اندر کوئی روتا کرلاتا اور سسکتا رہا ہے میں مجبور کر دیا گیا ہوں کہ یہ سب لکھوں ورنہ شاید مجھے کچھ ہوجاتا۔
کیسے ہوسکتا ہے یہ ۔ میرے اندر اب بھی چیخیں ابھر رہی ہیں اسلام اتنا بے حس اور سفاک کیسے ہو سکتا ہے۔ نہیں نہیں یہ جھوٹ ہے یہ الزام ہے بہتان ہے میرے نبی سائیں صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر۔
اس لیے میں نے شروع میں کہا تھا میں باغی ہوں ۔ ہاں میں باغی ہوں ۔ ان علماء سے جو دینکے خدا بنے بیٹھے ہیں ۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عقل کل ہیں یا ان سے اگلے جن کے اقوال یہ نقل کرتے ہیں اور جن کے استدلال یہ نقل کرتے ہیں وہ عقل کل تھے۔
کیا ایسا کبھی ہوا ہے آپ خود سوچیے انسان سے کیا غلطی نہیں ہوسکتی۔ اور یہ لوگ بجائے کہ قرآن سے یہ سب ثابت کرے حدیث سے یہ ثابت کرتے ان کے اقوال نقل کرتے پھرتے ہیں۔
میں پڑھ چکا ہوں جس آیت کا یہ حوالہ دے رہے ہیں سورہ نساء کی آیت نمبر باییس۔ وہاں صرف سوتیلی ماں کے نکاح کے لیے حرام ہونے کا ذکر ہے اور بس۔ اس سے یہ کیسے نتیجہ نکلتا ہے کہ زنا با لجبر کی صورت میں بھی یہی کچھ ہوگا۔
میں باغی ہوں ہاں میں باغی ہوں ان لوگوں سے جن کی عقلوں پر رب نے قفل ڈالے ہوئے ہیں جو اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر راستہ تلاش کرتے پھرتے ہیں حالانکہ انھیں بصیرت کی بینائی دی گئی ہے۔ پھر بھی یہ ان سڑی ہوئی شاخوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اصل دین کو بھلائے بیٹھے ہیں۔
کیوں نہیں کرسکتے یہ لوگ ۔ کیا انکے پاس عقل نہیں جو یہ انکی جنکی اب ہڈیا بھی نابود ہوگئی ہیں جان نہیں چھوڑتے۔ کیا ان کے درمیان کتاب اللہ اور حدیث رسول موجود نہیں پھر یہ اس سے اخذ کی گئ کتابوں کے حوالے کیوں دیتے ہیں اپنے خود ساختہ فیصلوں میں۔
یہ کتابیں آدھی سے زیادہ قیاسات ہیں جنھیں یہ لوگ فقہہ کا نام دیتے ہیں۔ قرآن میں صرف ڈیڑھ سو آیات ہیں جن میں معاشرتی احکام بیان کیے گئے ۔ پھر ان تھوڑی سے آیات سے ان لوگوں نے اتنی لا شمار کتابیں کس طرح تخلیق کر لیں اس طرح کہ ایک اینٹ تبرک کے لیے قرآن اور حدیث کی اور اسکے بعد اس کے بل پر قیاسا ت اور استدلال کی بڑی بڑی عمارات۔
ایک کتاب میں پڑھا تھا اسلام دریا ہے اور فرقے نہریں ۔پھر ان نہروں سے بھی مزید چھوٹی نہریں اور پھر ان نہروں سے کھالے ۔ کہاں دریا اور کہاں یہ کھالے۔ یہ لوگ ان کھالوں کی جان نہیں چھوڑتے جہاں اسلام کا پانی آتے آتے اتنا گندہ ہو جاتا ہے کہ اس کی شکل ہی مسخ ہوجاتی ہے۔ اسکی ساری شفافیت ان لوگوں کے خیالات اور خود ساختہ نتائج میں دب جاتی ہے۔
میں جانتا ہوں مجھ پر کفر کا فتوٰی بھی لگ سکتا ہے۔ لگا دیں پہلے کونسا یہ کسی کو بخشتے ہیں انھوں نے تو گویا دین کا ٹھیکا لے رکھا ہے۔ اللہ انھی کا ہے نا ہمارا تو کچھ بھی نہیں اور اسلام بھی انھی کا اور اللہ کا رسول بھی انھی کا ہم تو بس تماشائی ہیں۔
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
کے مصداق ہم تو بس یہ ہی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں مگر اب نہیں اب بس۔ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔ پتہ نہیں کیوں عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں یہ لوگ تو دین میں تحقیق کرنا گوارا نہیں کرتے دنیاوی اور سائنسی تحقیق کیا خاک کریں گے۔ اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کو سمجھنے کی خود کوشش نہیں جو آج سے صدیوں پہلے کے لوگوں نے کہہ دیا پتھر پر لکیر ہے اب ان کاکام ہے انکے فتووں کو رٹیں اور ان کی بنیاد پر فیصلے سناتے جائیں ۔
پتہ نہیں یہ مہریں کب ٹوٹیں گی ٹوٹیں گی بھی یا نہیں۔ میرے جیسا دین کے معاملے میں جاہل بھی ایک سیدھا سا فیصلہ دے سکتا ہے کہ یہ ایسے نہیں ایسے ہے متعلقہ آیت میں صرف نکاح کے بارے میں یہ حکم ہے کہ باپ کی منکوحہ سابقہ یا موجودہ بیٹے پر حرام ہے پتہ نہیں اس سے انھوں نے زنا بالجبر کس طرح جوڑ لیا ہے۔ انتہائی واضح اور غیر مبہم طور پر وہاں جب بتا دیا گیا ہے پھر یہ ہچر مچر پتا نہیں کیوں ۔ فلانے کا فتوٰ ی یہ تھا فلانے کا یہ تھا ہوگا۔ ان کی اپنی عقل انھوں نے جو صحیح سمجھا کہہ دیا اب اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اپنی عقل استعمال ہی نہیں کرنی ۔ اوپر سے اسے ہی اسلام کہلانے پر مصر۔ عجیب لوگ ہیں ۔ دین کو اتنا مشکل بنا دیا ہے ان لوگوں نے کہ وحشت ہوتی ہے۔
پھر میرے جیسے جب سر اٹھاتے ہیں تو آوازیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں نئی نسل اپنی مرضی کا اسلام چاہتی ہے۔


جمعہ، 30 دسمبر، 2005

نعرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی چھابڑی لگائے بیٹھا تھا۔ کافی دیر کوئی گاہک نا آیا تو ساتھ والے سے اخبار لے کرپڑھنے لگا۔ ابھی اخبار پڑھتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ جمعے کی نمازکا وقت قریب آگیا۔ تمام مساجد کے سپیکروں سے مولاناؤں نے وعظ نشر کرنے شروع کردیے۔
ایک طرف سے گوہر افشانیاں ہورہی تھیں اور اس کا دھیان بار بار بٹ رہا تھا مولانا فرما رہے تھے
“ان لوگوں نے تو اسلام کو مذاق بنایا ہوا ہے غضب خدا کا جب اہل بیت زندہ ہیں تب سوگ مناتے ہیں جب شہید ہوگئے پھر چپ۔ ان لوگوں میں صحابہ کا کچھ احترام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ ابھی مولانا نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک نعرہ بلند ہوا
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔اللہُ اکبر“
“نعرہِ رسالت۔۔۔۔۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“
“نعرہِ حیدری۔۔۔۔یاعلی رضی اللہ عنہُ“
“نعرہِ غوثیہ۔۔۔۔۔۔یاغوث اعظم“
اب اس کا دھیاں لاشعوری طور پر ایک اور مسجد سے آتی آواز پر لگ گیا ۔ کچھ دیر سننے کے بعد اسے اندازہ ہوا مولانا غالبًادیو بندیوں کے بخیے ادھیڑ رہے تھے۔
“اجی ان لوگوں نے تو گند مچا رکھا ہے یعنی اللہ کے رسول کا ذرا بھی احترام نہیں کہتے ہیں وہ ہم میں موجود نہیں۔۔۔۔“
اس نے چشم تصور سے دیکھا لوگ بیٹھےوجد میں ہل رہے ہیں داد دے رہے ہیں پھر دفعتًا ایک نعرہ بلند ہوا
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔اللہُ اکبر“ اور اسکے بعد نعروں کی سیریز شروع ہوگئی۔
“نعرہِ رسالت۔۔۔۔۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“
“نعرہِ حیدری۔۔۔۔یاعلی رضی اللہ عنہُ“
“نعرہِ غوثیہ۔۔۔۔۔۔یاغوث اعظم“
نعرے ختم ہوئے تو مولانا ازسرِ نو دیوبندیوں کے بخیے ادھیڑنے لگے۔اس کا دھیان اس طرف سے اچاٹ ہو گیا دھیان لگایا تو ایک اور مسجد میں سے اس قسم کی آواز آرہی تھی۔
“یعنی دین میں اتنا گند مچا دیا ہے کہ لوگ پیروں کو سب کچھ سمجھنے لگے ہیں ان لوگوں نے قبر پرستی پھیلا رکھی ہے کہتے ہیں اولیا سب کرسکتے ہیں اجی کرنے والی تو صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
ایک اور مسجد میں مولانا نغمہ سرا تھے:
“واہ کہتے ہیں اولیا کچھ نہیں کر سکتے اجی اللہ کے بندے کچھ نہیں کریں گے تو یہ لوگ کریں گے ۔۔۔۔۔“
اور ساتھ ہی پھر نعرے
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔“
اب اس کا ذہن بے زار ہو چکا تھا مگر پھر بھی ایک مسجد نے اسکی توجہ کھینچ لی
“کہتے ہیں سب حق پر ہیں کیسے حق پر ہوں۔ کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں ۔حسین رضی للہ عنہ بھی حق پر ہیں اور معاویہ ابن ابوسفیان(رضی اللہ عنہ) بھی حق پرہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب حق پر ہوں۔۔۔۔۔۔۔“
اور پھر وہی نعروں کی سیریز
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔اللہُ اکبر“
“نعرہِ رسالت۔۔۔۔۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“
“نعرہِ حیدری۔۔۔۔یاعلی رضی اللہ عنہُ“
“یزیدیت۔۔۔۔۔۔۔مردہ باد“
“حسینیت۔۔۔۔۔۔۔زندہ باد“
وہ اب ان باتوں سے بے نیاز ہوکر اخبار پڑھ رہا تھا۔ مگر یہ کیا اخبار میں کیا خبریں تھیں۔
“امریکیوں نے عراق میں ایک گاؤں بمباری کرکے تباہ کردیا انھیں شک تھا کہ یہاں حریت پسند چھپے ہوئے ہیں“
“روسیوں نے چیچنیا میں اتنے مسلمان قتل کردیے ان پر چیچن مجاہد ہونے کاشبہ تھا“
“اسرائیل نے غزہ میں اپنے تازہ فضائی حملوں میں تین فلسطینی شہید کردیے۔“
“بھارتی فوج نےکشمیر میں ایک طالب علم کو سرِعام گولیوں سے اڑا دیا ۔“
اور وہ سوچ رہا تھا کیا یہ امریکی،اسرائیلی،روسی اور بھارتی یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں سنی،شیعہ،بریلوی،اہلحدیث یا دیوبندی۔ اس کے اندرسے کوئی بولا نہیں وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور انھیں ٹھوک دو۔ دوسری کوئی بات نہیں۔
دفعتًا اس کے اندر کوئی ہنسنے لگا۔ بے تحاشا ہنسنے لگاقریب تھا کہ اس ہنسی سے گھبرا کر وہ بھی ہنسنے لگتا مگر اس کے کانوں میں آوازیں آنے لگیں۔
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔اللہُ اکبر“
“نعرہِ رسالت۔۔۔۔۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“
“نعرہِ حیدری۔۔۔۔یاعلی رضی اللہ عنہُ“
“نعرہِ غوثیہ۔۔۔۔۔۔یاغوث اعظم“
اس نے اخبار پھینکی اور سر بازار نعرے لگانے شروع کردیے۔
“نعرہِ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر
نعرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 30 نومبر، 2005

علماءے دين

ایک متنازعہ موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور ہوا ہوں یا شاید حالات نے کردیا ہے۔ عنوان آپ کے سامنے ہے یعنی “علمائے دین“۔ میں نہ ہی کوئی طنز کا تیر چلاؤں گا نہ ہی ان کی تعریف کروں گا۔ بلکہ اپنے محدود علم اور تجربے کی روشنی میں کچھ حقائق بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ کچھ مسائل بیان کرنے کی کوشش کروں گا اور پھر اپنی محدود عقل کے مطابق ان کا حل پیش کرنے کی جسارت بھی کروں گا۔ میرا لکھا غلط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ میرا علم خام ہے اس لیے میرے قارئین کو حق حاصل ہے کہ مجھے ٹوک دیں میں بصد احترام ان کی تنقیدوتصحیح پر لبیک کہوں گا۔ بات شروع کرتے ہیں۔ علماء کیا ہیں۔ آپ میں سب جانتے ہیں کہ ہر شعبے کے سپشلائزڈ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے متعلقہ شعبے کی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ جیسے ایک فزکس کے ڈاکٹر کو میں چیلنج نہیں کر سکتا کہ میرا علم اس سے کم ہے۔ آخر اس نے سالوں اس علم کے حصول میں لگا دیےہیں۔ کچھ تو ہوگا نا اس کے پاس جو اس کو مجھ سے ممتاز کرتا ہے ۔ اسی طرح علمائے دین ایسے لوگ ہیں جو دین کے معاملے میں سپیشلائزڈ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں دین کا صحیح پتا ہے ۔ ان لوگوں نے سالوں اس بات کی تعلیم حاصل کرنے میں لگا دیے ہیں کہ فلاں آیت کب نازل ہوئی،اس کا پس منظر کیا ہے، فلاں حدیث کب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں سے موتی بن کر بکھری اور اس کا پس منظر کیا تھا۔مختصرًا ان معلومات پر ان لوگوں کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو تھی بات کہ علماء کا مقام کیا ہے۔ اب بات کرتے ہیں ان کااسلام کے لیے کیا کردار ہے۔ یہ بات میں مانتا ہوں کہ ہر زمانے میں ایک ٹولہ ایسا رہا ہے جو درباری تھا سرکار کا کھا کر حق نمک ادا کرتا تھا ان لوگوں کو علمائے سوء کہتے ہیں ۔ یہ بات بھی میں مانتا ہوں کہ صوفیا کرام رحمتہ اللہ علیھم کا کردار اسلام کو پھیلانے میں انتہائی اہم بلکہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ مگر دین کو محفوظ کرنے کے لیے جن لوگوں نے ٹھوکریں کھائیں،رات کا چین اور دن کا سکون برباد کیا،حق بات کہنے کے لیے اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی ان میں علماء بھی ہیں۔ اصل میں دین کے معاملات کو علماء ہی چلا سکتے ہیں۔ صوفیا کا تبلیغ میں اہم کردار ہے رہا ہے اور رہے گا مگر عام لوگ براہِ راست صوفیا سے متعلق نہیں ہوتے۔ صوفیا کا ایک مخصوص اسلوب ہوتاہے وہ بات کچھ اور کرتے ہیں اور مطلب کچھ اور ہوتا ہے جسے صاحبِ نظر ہی پہچان سکتاہے ۔ دوسرے صوفیا کرام اللہ کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ بیٹھتے ہیں ظاہر ہے وہ جو کچھ دیکھیں گے،محسوس کریں گے وہ ہی بیان کریں گے اسی کی نصیحت کریں گے اکثر اوقات یہ باتیں عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتیں(صوفیا باطن کو اہمیت دیتے ہیں ہم آپ ٹھہرے دنیا دار اس لیے ان کی باتیں جو ان کے لحاظ سے ٹھیک ہیں ہمارے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہوتیں کیونکہ ان کا ایک مقام ہے اس مقام کے اپنے تقاضے ہیں۔ اسکی مثال ایسے لے لیں ایک بازی گر جو رسے پر چل رہا ہے اور ایک بندہ جو نیچے زمین پر۔ صوفیا رسے پر چلنے والے بازیگر کی طرح ہیں اپنی زندگی بلکہ اپنا ایمان تک خطرے میں ڈال کر اللہ کو پہچاننے کی کوشش کوئی دیوانہ ہی کر سکتا ہے اور سچ پوچھیں تو کئی لوگ اس رسے سے گر کر اپنے ہوش خرد بھی گنوا بیٹھے تاریخ کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں اس لیے تفصیل میں نہیں جارہا جبکہ ہم عام لوگ سیدھی سادھی تشریح چاہتے ہیں ہمیں بازی گر سے کیا واسطہ ہم تو زمین پر چل رہے ہیں ہمارے تقاضے بھی مختلف ہیں) ۔ اس لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو دین کی باتیں بتائے ان اصولوں کے مطابق ان راوایات کے مطابق ان واقعات کے مطابق جو اللہ کے رسول صلی علیہ وسلم سے ماخوذ ہیں۔چناچہ اس کل وقتی کام کو علماء بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں بہ نسبت صوفیاکے۔ اگلی بات مذہب کی تبلیغ میں بھی ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ صوفیا کا اپنا انداز ہے وہ کسی کے منانے کے لیے ایسا طریقہ استعمال کرتے ہیں(یا ان کے ہاتھوں سرزد کرادیا جاتاہے) جو عقل تسلیم نہیں کرسکتی اس طرح سائل اسلام کی حقانیت جان کر مسلم ہو جاتاہے۔ علماء دلیل سے بات کرتے ہیں عام خوبیاں خامیاں گنواتے ہیں اور پھر نتیجہ کے طور پر اسلام کی حقانیت ثابت کرتے ہیں مگر ایک مختلف انداز میں۔(ہر مسلمان اسلام کا سفیر اور مبلغ ہے اور ہونا چاہیے اور ہم کوشش بھی کرتے ہیں کہ جب کوئی غیر مسلم ہم سے اسلام کے بارے میں پوچھے تو اس کو مطمئن کریں مگر بات وہی آجاتی ہے ہمارا علم خام ہے۔ ہمارے مقابلے میں ان لوگوں کا علم زیادہ ہے اس لیے وہ بہتر طریقے سے یہ کام کرسکتے ہیں بلاشبہ اسلام کی تبلیغ میں عام مسلمانوں کابھی ہاتھ ہے تاہم اس وقت موضوع گفتگو کچھ ایسا ہے کہ میں اس ذکر کو مختصرًا یہیں ختم کرتا ہوں۔) دین کی تبلیغ کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس لیے اسلام کے شروع سے مختلف طریقے اپنائے گئے جو آخر کار ایک منظم نظام کی صورت میں سامنے آئے یعنی دینی مدارس۔ پہلے ان مدارس میں غیر دینی علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی جیسے سائینس ۔ قرونِ و:سطٰی کے مسلم سائنسداں اسکی واضح مثال ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں علوم عمرانیات اور پھر دینی علوم تک محدود ہوگئے۔ ایک اور خرابی جو پیدا ہوئی وہ ہر ایک کا اپنا نکتہ نظر تھا۔ جب ہر کسی نے ریسرچ کی اپنی عقل کے مطابق جو بات اسے ٹھیک لگی اس نے اپنا لی جس سے مختلف مکتبہ فکر وجود میں آئے جنھیں مسالک یا فرقے کہاجاتاہے۔ اختلاف کوئی ایسی بات نہیں جسکی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ایک بار دو مختلف مسالک کے علماء آپس میں ملے تو نماز کے وقت دونوں نے ایک دوسرے کے احترام میں اپنا طریقہ نماز چھوڑ کر دوسر
ے کا طریقہ نماز اپنا لیا۔ یہ احترام تھا محبت تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احترام نہیں رہا اب بات بہت مختلف ہوچکی ہے اب تو فرقے ایسے جزیرے ہیں جن کے مابین اختلافات کے سینکڑوں میل وسیع سمندر حائل ہیں۔ اب کچھ بات برِصغیر کے علماء کی اور یہاں کے دینی تعلیمی نظام کی۔یہ نظام انگریزوں کے دور میں انگریزی تعلیم کے خلاف رد عمل میں شروع ہوا جسے درسِ نظامی کہتے ہیں(میں پہلے عرض کر چکا ہوں میرا علم خام ہے اسلئے اگر یہاں غلطی پر ہوں تو درست فرما دیجیے گا۔) ایک طرف انگریزی تعلیمی نظام دوسری طرف درسِ نظامی۔ درسِ نظامی اصل میں دین کو بچانے کی ایک کوشش تھی مگر اس کوشش کے نتائج آج کل کچھ اچھے نہیں مل رہے۔ اس زمانے کے مطابق بھلے یہ ٹھیک تھی مگر آج کل جو دور چل رہا ہے یہ نظامِ تعلیم بدلنا چاہیے۔ بے شک اس بات میں کوئی شک نہیں اس نظام سے ہی وہ ہیرے نکلے جنھوں نے انگریز مشنری پادریوں کے ناطقے بند کردیے۔ جنھوں نے اس دور میں اسلام کو بچایا جب انگریز سرکار،انکے حمایت یافتہ مشنری اور ہندو قوم اسلام کو ہڑپ کرلینے کے چکر میں تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ انھی کی وجہ سے آج بھی سخت سردی میں فجر کی اذان وقت پر ہوتی ہے۔ بارش ہو،مینہ ہو ، سردی ہو گرمی ہو جنازہ یہی لوگ پڑھاتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے قابلِ صداحترام ہیں۔ بے شک یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثین میں سےہیں (ظاہری علوم میں)۔ یہ ہم سے بر تر ہیں ہم وہ وقت گالم گلوچ یا خرافات میں گزارتے ہیں اور یہ لوگ وہی وقت قرآن کو سمجھنے اور حدیث رسول کو یاد کرنے اور اس کا علم حاصل کرنے میں گزارتے ہیں۔ قابل صداحترام ہیں یہ علم حاصل کرنے والے اور اس کے اساتذہ۔ بے شک یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے اردو کو اس بات کا اعزاز بخشا کہ اس میں دینی علوم کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو شاید ہی کسی زبان میں ہو شاید عربی میں بھی نہیں۔ ہر قابل ذکر دینی کتاب خواہ وہ کسی بھی زبان میں ہو کا اردو ترجمہ موجود ہے جو ان کاایک اور اعزاز ہے۔ مگر میں جو عرض کررہا تھا وہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ اس نظام میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مسالک کے پیچھے لگ کر علماء دین کی اصل کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا معمول بن چکا ہے۔ ان کی ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک نہیں ہوتی۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر مسلک کی الگ مسجد ہے اور ایک ہی محلے میں یوں کئی کئی مساجد ہیں۔ مسجد کے ساتھ لکھا ہے فلانی مسجد اہلحدیث،اہلسنت بریلوی،اہلسنت دیوبندی یا اہل تشیع ۔۔ انڈیا میں مسلم پرسنل لاء بورڈ میں اس قدر اختلافات ہوگئے کہ وہاں اہل تشیع نے آل انڈیا شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ قائم کرلیا ان کے خیال میں انکے دینی تقاضے اکٹھے رہ کر پورے نہیں ہورہے تھے۔ پاکستان میں مدارس کے پانچ وفاق قائم ہیں یعنی ہر مسلک کا الگ وفاق(اسے آپ یوں سمجھ لیں جیسے یونورسٹی جو امتحان لینے کی ذمہ دار ہو اور سلیبس وغیرہ بھی مہیا کرے ساتھ ہی سند بھی امتحان پاس کرنے کے بعد جاری کرے )۔ آپ میں بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں بلکہ اندازہ کیا جانتے ہیں کہ ان مدارس سےنکلنے والے طلبا دوسرے مسلک بارے کس قدر متعصب ہوتے ہیں۔ جہاں دو عالم اکٹھے ہوجائیں عام سے مسائل پر بحث شروع ہوجاتی ہے جن پرپہلے ہی ہر فرقے نے مخالفت اور موافقت میں درجنوں کتب تحریر کر رکھی ہیں۔ہر فرقہ خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتا ہے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے آج کے دور میں جبکہ ہم دین کے پہلے سے بہتر جانتے ہیں۔ اس کی وجہ میری ناقص عقل کے مطابق یہ ہے کہ ہم لوگ اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دے ہے۔ بے شک تبدیلی کی مخالفت ہو رہی ہے تاہم تبدیلی ہونی چاہیے۔ دوسرے اس شعبے کو انتہائی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو ماں باپ اپنے بچے کو صرف اسی صورت میں اس شعبے میں بھیجتے ہیں جب یقین ہوجائے کہ یہ اب کسی کام کا نہیں۔ تو سوچا جاتا ہے کہ آخرت ہی سنوار لیں۔ یا وہ بچے جو یتیم ہیں۔ دیانتداری سے بتایے اگر یہ شعبہ خیرات پر نہ چلے، یہ لوگ بھی فیس لیں ،ان سے فارغ التحصیل افراد کی معاشرے میں ویسی ہی مانگ ہو جو کسی ڈاکٹر یا انجینئیر کی ہے تو کیا اس کا معیار بہتر نہیں ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ مگر اس شعبے کے حصے میں وہ طلبا آتے ہیں جو کچرا ہوتے ہیں کند ذہن ماں باپ کی نظر میں جن کی کھپت اور کہیں نہیں۔(یاد رہے میں عمومی بات کر رہا ہوں ایسے لوگ بے شک موجود ہیں جو اپنے بچوں کے دین کی تعلیم خصوصًا دلواتے ہیں۔) دیانتداری سے بتایے اس سب کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ہمارے دشمنوں کو ظاہر سی بات ہے۔ہم جو توانائیاں اس بات پر لگا رہے ہیں کہ فلانے کافر ہیں اپنے ہی بھائیوں کو ذلیل کر ہے ہیں کیا وہ ان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہییں جو اسلام پر قدغن لگا رہے ہیں ۔ میری مراد جدید دنیا کے ان غیر مسلم نام نہاد مفکرین سے ہے جن کی کتابیں اس بنیاد پر بیسٹ سیلر کا اعزاز حاصل کرتی ہیں کہ اسلام ایک غلط مذہب ہے اور مسلمان دہشت گرد۔(نیز نومسلموں کو بڑی دقت ہوتی ہے جب وہ مسلمان تو ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں اندر کے حالات کا پتا چلتاہے ان سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا مسلک کیا ہے۔ اس طرح اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔) علم کے محاذ پر،دلیل کے ساتھ میں یا میرے جیسے عام لوگ انھیں قائل نہیں کرسکتے انھیں شکست نہیں دے سکتے۔ انکے ساتھ بحث اور مناظرہ نہیں کرسکتے یہ کام علماء ہی کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں تقابل ادیان کا خصوصی علم سکھایا جاتا ہے انھیں منطق پر عبور حاصل ہوتاہے وہ دلیل دینا اور دی گئی دلیل کو رد کرنے کے قاعدے جانتے ہیں جو میں اور میرے جیسے جاہل نہیں جانتے۔ تو اس سب ک