کارپس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کارپس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 7 ستمبر، 2010

اردو بلاگز کا ڈیٹا درکار ہے

میں اردو بلاگز کے ڈیٹا پر مشتمل ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا چاہ رہا ہوں۔ یہ ٹیکسٹ آرکائیو کئی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے جیسے اردو کے الفاظ کی فہرست بنانا، لغات کی تیاری وغیرہ۔ اگرچہ اردو بلاگز کا ڈیٹا ٹیکسٹ آرکائیو کا ایک جزو ہوگا، لیکن یہ بہت اہم چیز ہے۔ میری احباب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پبلک پوسٹس کی ایکس ایم ایل فائل مجھے ای میل کریں۔
ورڈپریس پر ایکس ایم ایل میں ایکسپورٹ کرنے کا طریقہ کار۔
بلاگر ایکس ایم ایل ایکسپورٹ
یہ ڈیٹا کسی بھی قسم کے کمرشل، یا ذاتی کام کے لیے استعمال میں نہیں لایا جائے گا سوائے تحقیقی مقاصد کے۔ اور آپ کے بلاگ کا ربط  آپ کی ہر پوسٹ کے ساتھ شامل ہوگا۔
امید کرتا ہوں احباب میری درخواست پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ میں خود ہر بلاگ پر جاؤں اور ایک ایک پوسٹ کھول کر کاپی پیسٹ کروں جس میں بہت وقت لگنے کا امکان ہے، اور اجازت کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔
ای میل اس ایڈریس پر کریں۔
true.friend2004 at gmail.com
مثبت جواب کا منتظر۔

پیر، 14 جون، 2010

ہائے تھیسز

ہمارے سر سنایا کرتے ہیں کہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں تجربات کے بعد نتائج کو سگنیفیکنٹ significant ایسے بنایا جاتا ہے کہ شماریات کے فارمولے لگائے جاتے ہیں اگر فرق قابل ذکر نہ ہو تو پیچھے سے آواز آتی پے پُتر سگنیفیکنٹ کر ہور۔ اور اس کام کے لیے فریکوئنسی بڑھا دی جاتی ہے۔ اور یہ اس وقت تک بڑھائی جاتی رہتی ہے جب تک نتائج اصلی تے وڈے نہ ہوجائیں۔ چناچہ ایسے ہی ایک دفعہ کپاس کے پودوں کے اگاؤ وغیرہ پر کی گئی ریسرچ کے نتائج اتنے سگنی فیکنٹ تھے کہ ریسرچ میں سامنے آنے والے پودوں پر پھولوں کی تعداد جو 52 بنتی تھی، عملی طور پر کسی بھی پودے پر ممکن نہ تھی۔ اتنے پھول پودا سہار ہی نہیں سکتا۔ لیکن یار لوگوں نے ریسرچ میں یہ نتائج "نکالے" اور زبردستی نکالے۔
صاحبو ریسرچ بڑا اوکھا کام ہے ناک سے لکیریں نکلوا دیتی ہے یہ رسرچ۔ آج کل ہم جوگی ہوئے ہوئے ہیں، کن پڑوائے بغیر ہی جوگی۔ اور جوگن ہمارا تھیسز ہے۔
تھیسز تھیسز کردی نیں میں آپے تھیسز ہوئی
ہمارا ڈیٹا اینالیسس فیز چل رہا ہے لیکن دو ماہ سے چلے ہی جارہا ہے۔ کارپس پر مشتمل یہ ریسرچ پاکستانی اور برطانوی انگلش میں دو مونہے افعال (Ditransitive Verbs) کا موازنہ ہے۔ دومونہے ہم نے ابھی ایجاد کیا ہے لیکن امید ہے اردو وکی پیڈیا پر اس کا بڑا عالمانہ قسم کا ترجمہ موجود ہوگا فارسی کے تڑکے کے ساتھ۔ خیر یہ تو ایک پنجابی والی چُونڈی تھی۔ ریسرچ بڑا اوکھا کم ہے سائیں۔ ابھی 3 گھنٹوں سے صرف فریکوئنسیاں ہی نکال رہا ہوں اور دماغ لسی ہوگیا ہے۔ ابھی اس کام کے لیے میں اپنے ذاتی تیار کردہ سافٹویر استعمال کررہا ہوں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نیم حکیم خطرہ جاں۔ تو جو کام میں سافٹویر سے اتنی دیر لگا کر، بار بار ڈی بگ کرکے، غلطیاں نکال نکال کر کرتا ہوں وہ شاید ہاتھ سے جلدی ہوجاتا۔  ;-D شاید نا ہو۔ چلو دل کو ڈھارس تو ہے کہ "جلدی" ہورہا ہے۔
میں اصل میں ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتے ہوئے ریگولر ایکسپریشنز پر بہت انحصار کرتا ہوں۔ لالچ یہ ہوتا ہے کہ کام جلدی ہوجائے گا لیکن کام خراب بھی ہوجاتا ہے اور اکثر ہوجاتا ہے۔

ہفتہ، 13 جون، 2009

اردو لسانیات

آج کل ہم اردو کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور و فکر فرما رہے ہیں۔ اگرچہ اپنا تھیسز ہم انگریزی پر ہی کریں گے لیکن اردو پر اس کے علاوہ تحقیق کا ارادہ ہے۔ لسانیات میں ہمارا میدان کارپس ہے۔ ڈیٹا کو ٹیکسٹ فائلوں میں اکٹھا کرو اور اس کے بعد اس پر جو چاہے عمل کاری کرو۔
اردو کے سلسلے میں وسائل ابھی بہت محدود ہیں۔ ہمارے پاس اردو کا کوئی مناسب کارپس ہی موجود نہیں۔ کرلپ والے ایک کارپس مہیا کررہے ہیں جو شاید بیس ہزار الفاظ کے قریب ہے۔ لیکن یہ کارپس انگریزی سے ترجمہ کیا ہوا لگتا ہے۔ انگریزی اردو نیبالی متوازی کارپس منصوبے کا حصہ یہ کارپس ہمارے ذاتی خیال میں اردو کے اہل زبان سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے مترجمین دس بارہ بھی ہوں تو بھی اردو کے فورمز یا بلاگز سے ڈیٹا حاصل کرنے کی صورت میں ہمارے پاس بہت زیادہ ورائٹی ہوگی۔ پچاس یا اس سے بھی زیادہ کی آبادی سے ڈیٹا حاصل کرنے سے بہت سی ایسی چیزیں سامنے آئیں گی جو اس کارپس پر تحقیق سے نہیں آسکتیں۔ مثلًا ہم انگریزی الفاظ کا بالکل بھی خیال نہیں رکھتے۔ اور اردو کے ساتھ انجانے میں رج کے کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس سب کو سٹڈی کرنا بڑا دلچسپ کام ہے۔
کارپس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹیکسٹ اکٹھا کرکے رکھ لیں۔ اس کے بعد ہمیں اس کو کچھ مزید مراحل سے بھی گزارنا پڑتا ہے۔ اس کو اینوٹیشن Annotation کہا جاتا ہے۔ یعنی ہم کارپس کو مختلف انداز سے ٹیگ کرتے ہیں۔ جیسے ایچ ٹی ایم ایل کے ٹیگز ہوتے ہیں۔ اردو کا ٹیگ شدہ کارپس آپ کرلپ کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ گرامر کے لحاظ سے ٹیگ شدہ ہے جس میں ہر لفظ کے ساتھ لگا ٹیگ یہ بتاتا ہے کہ اس کا گرامر کے لحاظ سے کونسا زمرہ ہے، اسم، فعل، حرف جار وغیرہ وغیرہ۔
کرلپ کا کا کارپس ہاتھ سے ٹیگ شدہ ہے۔ جسے دو ماہرین لسانیات نے گھنٹوں کی محنت سے ٹیگ کیا۔ یہ طریقہ کار محدود مقاصد کے لیے تو بہترین ہے اور اس میں درستگی کی شرح بھی سو فیصد ہے لیکن ہر بار یہی کام کرنا بہت دشوار ہے۔ یہ بہت زیادہ وقت طلب کام ہے۔ میں اگر ایک لاکھ الفاظ کا کارپس بنانے کی سوچ رہا ہوں تو اس کو ٹیگ کرنا بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا جبکہ میرے پاس وقت کی بھی کمی ہے اور مالی وسائل کی بھی کہ دوسروں کو معاوضے پر اس کام کے لیے مہیا کرسکوں۔ ایسی صورت میں ہم مشین ٹیگنگ کی بات کرتے ہیں۔ انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں اس سلسلے میں بہت ترقی کی ہے۔ انگریزی کے لیے ہمارے پاس درجن بھر ٹیگرز دستیاب ہیں۔ جبکہ اردو کے لیے ابھی تک صرف ایک ٹیگر دستیاب ہے۔ اس ٹیگر کی صلاحیت بھی محدود ہے۔ دس ہزار الفاظ کے ایک کارپس پر اسے ٹیسٹ کیا گیا جہاں اس نے ستانوے فیصد درستگی دکھائی۔ یہ کرلپ کے ہی ایک طالب علم کا ایم ایس کا پروجیکٹ تھا۔ 2007 میں مکمل ہونے والا یہ سافٹویر مزید اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اس کارپس کو مزید ڈیٹا پر ٹریننگ کی ضرورت ہے اور اس کی ڈیٹابیس کو مزید بڑا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عمومی مقاصد تحقیق کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکے۔
اس سلسلے میں ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو ڈیٹا کی کلیکشن، اس کے ذریعے اردو ٹیگر کو ٹریننگ دینا۔ اس کی خامیاں اور نقائص دور کرنا وغیرہ۔ بہت سارے کام ہیں جو میں اکیلا نہیں کرسکتا۔ وقت کی کمی اور میری پروگرامنگ صلاحیتوں کا محدود ہونا اس کی بڑی وجہ ہیں۔
متعلقہ روابط اوپر تحریر میں موجود ہیں۔ احباب اگر اس سلسلے میں کوئی مدد کرسکتے ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹا کیلکشن کی ذمہ دار میں لے سکتا ہوں۔ اردو فورمز، بلاگز، نیوز سائٹس اور اخبارات کی ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کی کانٹ چھانٹ کرنا میرا کام ہے۔ لیکن اس کے بعد ٹیگر کے پروگرامنگ مسائل کے حل کے لیے مجھے راجہ نعیم اور محترم نبیل حسن نقوی جیسے احباب کا تعاون درکار ہوگا۔ اس پروگرام کے سورس کوڈ کے لیے بھی ڈاکٹر سرمد سے درخواست کروں گا امید ہے وہ مہیا کردیں گے۔ اگر اس کو ڈویلپ کرنے والے صاحب سے رابطہ ہوجائے تو موج ہی ہوجائے۔