ہفتہ، 12 دسمبر، 2009
سندھ اور پانی
مجھے بہت ساری تکنیکی تفاصیل کا نہیں پتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ برسات کے موسم میں سیلاب آجاتا ہے۔ اور وہ سارا پانی سمندر میں ہی جاتا ہے اور کہیں نہیں جاتا۔ اگر اس پانی کو ڈیم بنا کر سٹور کرلیا جائے اور پھر دریا میں ہی سارا سال چھوڑا جاتا رہے تو اس سے شاید ڈیلٹا کا کچھ تحفظ ہوسکے۔ یاد رہے میں نہریں نکالنے کی بات نہیں کررہا بلکہ صرف ڈیم بنا کر اسے سٹور کیا جائے اور بجلی پیدا کی جائے اور پھر پانی واپس دریا میں ہی ڈال دیا جائے۔ اس کی مثال پنجاب میں غازی بروتھا پاور پروجیکٹ ہے۔ مزید یہ اقدامات کیے جاسکتے ہیں کہ سمندر کے راستے میں بند بنائے جائیں۔ اس کے لیے ہالینڈ کی مثال کو ذہن میں رکھیں جنھوں نے آدھا ملک سمندر خشک کرکے بنایا ہے۔ تجاویز اور منصوبے ڈھیر۔۔لیکن عمل کوئی نا۔
ہفتہ، 13 ستمبر، 2008
پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے
اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔
تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔
ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔
پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔
اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔
قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔
بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔
ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔
جمعہ، 4 اپریل، 2008
بارشیں، بجلی اور غذائی اجناس
پچھلے ایک سال سے پاکستان شدید غذائی بحران میں مبتلا ہے اور یہ بحران آئندہ بڑھتا ہی نظر آرہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اسی قسم کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ دنیا بڑے غذائی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں تو پہلے ہی صورت حال بہت خراب ہے۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ کراچی میں فلور ملوں کا کوٹہ کم کردیا گیا ہے۔ میرے ایک عزیز بتا رہے تھے کہ آٹے کا تھیلا لینے کے لیے سارا دن ذلیل ہوا ہوں پوری کالونی میں کسی بھی دوکان پر آٹا نہیں تھا۔ فیصل آباد میں متوسط طبقے کے لوگ یوٹیلٹی سٹور سے آٹا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب واقع سٹور پر پچھلے کئی ہفتوں سے آٹا نہیں آیا۔
کل رات سے فیصل آباد میں لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے۔ سات سے آٹھ تک بند رہنے والی بجلی صرف چند منٹ بند رہ کر دوبارہ آگئی۔ آج بھی 9 سے 10 تک کے لیے بجلی بند نہیں ہوئی۔ شاید ڈیموں میں پانی وافر مقدار میں آچکا ہے۔ لیکن اس کی قیمت شاید ہمیں گندم اور دوسری فصلوں کے بحران کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ اس سال کپاس کی فصل بھی ہدف سے کم حاصل ہوگی۔ گندم کی فصل کو تو دوہرا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔ جنوری میں پڑنے والی سردی کی شدید لہر نے گندم کے پودے ہی جلا ڈالے۔ کہتے ہیں سردی کا بہترین علاج ہے کہ فصل کو پانی دے دیا جائے۔ اس سے درجہ حرارت معتدل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس وقت پانی کہاں تھا۔ ڈیم تو بیوہ کی مانگ کی طرح خالی تھے۔ اب بارشیں ہورہی ہیں تو گندم کی فصل پھل دینے کے لیے تیار ہے۔ اسے اس وقت گرمی کی ضرورت ہے لیکن ان بارشوں سے اتنی ٹھنڈ ہوگئی ہے کہ مجبورًا دوہرا کھیس لے کر سونا پڑ رہا ہے پھچلے دو تین دن سے۔ ورنہ کمرے میں سونا ہی محال ہوتا جارہا تھا اس سے پہلے ۔
ملک کی آدھی آبادی اور چورانوے اضلاع خوراک کے بحران کا شکار ہیں۔ پھچلے ایک سال میں آٹے کی قیمت 28 فیصد اور چاول کی قیمت 48 فیصد بڑھ چکی ہے۔ مجھے یاد ہے آج سے صرف دس سال پہلے تک میرے نانا اور ماموں کے گاؤں اور آس پاس کے علاقے میں چاول کثرت سے کاشت کیا جاتا تھا۔ میں سانگلہ ہل کے علاقے کی بات کررہا ہوں جو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے شیخوپورہ سے کچھ ادھر واقع ہے جنکشن ہے اور اچھا خاصا شہر بن چکا ہے۔ لیکن اب پانی کی کمی کی وجہ سے چونا (چاول کی فصل چُونا نہیں چونا پیش کے بغیر) کاشت کرنا موقوف کردیا گیا ہے۔ بہت کم جگہ سے چاول کی سوندھی خوشبو اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔
آنے والا وقت نہ جانے ہم پر کیسی آزمائشیں لارہا ہے۔ لیکن اس کا دیباچہ ہی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان، چین، افغانستان، بھارت، نیپال اور بھوٹان جیسے ممالک ہمالیہ کے گلئیشیرز سے نکلنے والے دریاؤں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ عالمی موسمی تبدیلیوں نے ان کے پگھلنے کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ ایک طرف جہاں بنگلہ دیش جیسے علاقے سطح سمندر بلند ہونے سے ڈوب جائیں گے وہاں پاکستان جیسے علاقے پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید غذائی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ دنیا کے قریبًا تین ارب افراد ان ممالک میں رہتے ہیں۔ ہمالیہ کی جھیلیں جو گلیشئیرز کے پگھلنے سے وجود میں آتی ہیں اپنی گنجائش سے زیادہ بھر رہی ہیں اور آئندہ پانچ سے دس برس میں یہ اپنے کناروں سے چھلک کر کروڑوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیں گی۔ اربوں ڈالر کی املاک تباہ ہوجائیں گی اور شدید سیلابوں سے ایک وسیع علاقہ زیر آب آکر تباہ ہوجائے گا۔ جس حساب سے یہ گلیشئیر پگھل رہے ہیں لگتا ہے ہمالیہ کا دامن ان سے خالی ہوجائے گا۔ پھر بارشیں ہوا کریں گی اور سیلاب کی صورت میں سمندروں کی نذر ہوجایا کریں گی۔
پاکستان کو اپنے پانی کے ذخائر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے پلے ککھ نہیں رہے گا اور پاکستان سے زندہ بھاگ جیسے نعرے سچ ثابت ہوجائیں گے۔ اس وقت ڈیموں کی تعمیر جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے زیریں علاقوں کے رہنے والوں کو اعتراض ہے کہ پانی روکنے سے ڈیلٹا کا علاقہ تباہ ہورہا ہے۔ اوپر والے یہ شور مچاتے ہیں کہ اتنا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک وسیع مذاکرے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ڈیم ضرور بننے چاہیئں چاہے ان سے نہریں نہ نکلیں بلکہ پانی واپس دریا میں ہی ڈال دیا جائے تو کچھ برا نہیں۔ پاکستان میں ابھی سے نظر آرہا ہے کہ پانی ایک مخصوص وقت میں وافر مقدار میں ہوتا ہے اس کے بعد کوئی چار ماہ ہمیں ہاتھ ملنا پڑتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پچھلے دس سال میں کبھی ڈیم اس طرح خالی ہونے کے بارے میں سنا ہو۔ تربیلا اور منگلا کی گنجائش تیزی سے کم ہورہی ہے۔ گار اور مٹی نے ان کی جھیلوں کی گنجائش بہت کم کردی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچا کرتا ہوں اگر ان کی بھل صفائی ہی کردی جائے تو بہت سی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ خالی ہی تو نہیں ہوجاتے۔ ڈیڈ لیول تلے پانی ہوتا تو ہے جو کہ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ تاہم ان کی صفائی کرنا ناممکن نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس کا کوئی طریقہ نکل آئے تو ہم شاید آئندہ بحرانوں کو کچھ وقت کے لیے ٹال سکیں۔
وقت بہت تیزی سے ہمارے خلاف ہوتا جارہا ہے۔ اگر ہم نے اس کے ساتھ چلنے کی کوشش نہ کی تو ہمیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ کاش یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے۔ کاش ہم کچھ کرلیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔