خبر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خبر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 30 جولائی، 2010

پانی کی صورت حال

آج کی خبر پانی نہیں سیلاب کے متعلق ہے۔ سینکڑوں میں جاں بحق ہوگئے اور ہزاروں میں بے گھر۔ لیکن جس بات کو میں دیکھ رہا ہوں وہ بارشوں کا ٹائم فریم ہے۔ اس وقت یہ کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اصل میں ایسے کئی ریکارڈ اب ٹوٹیں گے اور ہر سال ٹوٹیں گے۔ پاکستان میں بارشوں کا ٹائم فریم اور بارشوں کے مقامات شفٹ ہورہے ہیں۔ ڈیر غازی خان کی طرف بارشیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارشیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بارشیں بھی صرف برسات کے ایک ماہ میں ہوا کریں گی اس کے بعد خشک تپتا بے رخ موسم ہوا کرے گا۔ اس وقت جو سیلاب سے مر رہے ہیں چند ماہ بعد وہی پانی کی کمی سے کُرلا رہے ہونگے۔ ہمارے دونوں ڈیم بھر گئے اور؟ باقی پانی سمندر میں جائے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے دس سالوں میں ہمارا نوے فیصد انحصار ڈیموں پر ہوگا۔ ورنہ پانی نہیں ملے گا۔ پانی صرف بارہ ماہ میں میں ایک بار برسا کرے گا، اور اتنا برسا کرے گا کہ موت کا پیغام بر بن جایا کرے گا۔ ہمالیہ کے گلیشئیرز؟ نہ آپ بچے ہیں نہ میں، ہمیں پتا ہی ہے کہ یہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اس کے بعد پیچھے سنگلاخ پہاڑ رہ جائیں گے گلگت بلتستان میں۔
کاش ہم آنے والے سخت ترین حالات کی پلاننگ کرسکیں۔

ہفتہ، 12 ستمبر، 2009

پورٹیبل

لو جی اب طالبان پورٹیبل ہوگئے ہیں۔ سوات ہو یا پشاور جیل آپ کو ہر جگہ ایک جیسے نتائج ملیں گے۔

پیر، 8 دسمبر، 2008

پاکستان کے سینکڑوں سکالرزکو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو فنڈز اور سہولیات فراہم  کرنے والے کمیشن  ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مالی بحران کے پیش نظر رواں سال غیر ملکی سکالرشپس حاصل کرنے والے سینکڑوں سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے سے روک دیا، تمام سکالرز کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، سینکڑوں طلباء اعلیٰ کارکردگی، ٹیسٹ، انٹرویو کے بعد ایچ ای سی کی بیرون ملک ایم اے، ایم فل کی سکالرشپ حاصل کرنے کیلئے منتخب ہوئے تھے اور چند دنوں میں بیرون ملک روانہ ہونا تھا لیکن مالی طور پر غیر مستحکم ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سکالرز کو اپنے پروگرام ملتوی کرنے کے بارے آگاہ کر دیا کیونکہ ایچ ای سی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلباء کی مالی امداد نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق چند سکالرز نے عید کے فوراً بعد سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہونا ہے جبکہ اٹلی، جرمنی اور فرانس کی سکالرشپ حاصل کرنے والے درجنوں طلباء نے ضروری قرار دیا جانے والا چھ ماہ کا لینگجویجز کورس بھی مکمل کر لیا۔ ایچ ای سی کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں میں مالی بدعنوانیوں اور من پسند اداروں کو اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کی وجہ سے سکالرشپ پر جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا۔

ایچ ای سی کے اعلیٰ افسر کے مطابق ادارہ بمشکل پہلے سے بیرون ملک بھیجے جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی نے مالی بحران کی وجہ سے مستقبل میں بھی تمام سکالرشپس کے پروگرامز اور دو سو پچاس مختلف اکیڈیمک اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی منسوخ کر دیئے ہیں اس وقت ایچ ای سی کو دس ارب روپے کے شدید مالی بحران کا سامنا ہے

القمر پر فائل ہونے والی یہ خبر بلاتبصرہ

جمعہ، 28 نومبر، 2008

لوڈ شیڈنگ پھر سے: اوقات پر واپسی مبارک

ایک مہینہ لگژریز میں گزارنے کے بعد پاکستانی قوم کو اس کی اوقات میں واپس لانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بسم اللہ چالیس فیصد اضافہ نفی تیرہ فیصد اضافہ شدہ بجلی کے بل بھیج کر کردی گئی ہے۔ اس کے بعد دوسرا مصرع ڈیموں میں پانی کی کمی کی صورت میں ادا ہوا ہے۔ مزید غزل ابھی جاری ہے جس کی پہلی قسط میں ایک تھرمل پاور پلانٹ کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بندش کی خبر شامل ہے۔ یہ پاور پلانٹ یقینًا آئی پی پی ہے اور اس کی بندش کی نامعلوم وجوہات میں سرفہرست تیل کی عدم فراہمی ہوگی۔ دوسری غیر اہم وجوہات میں ٹرانسمشن سسٹم کی خرابی بھی ہوسکتی ہیں۔ ابھی آپ مزید اوقات میں آنے کے لیے تیار رہیے اور بھیک میں ملی ہوئی قرضے کی پہلی قسط کو بھول جائیے۔ وزرا مشراء اور وڈے لوگوں کی تنخواہیں کٹنے کے بعد کچھ بچ گیا تو ان کی حفاظت کے اخراجات پر لگ جائے گا۔ اس سے بھی کچھ بچ گیا تو بیوروکریسی بھی پڑی ہے راہوں میں۔ اس کے بعد شاید آپ کی باری آسکے۔ لیکن آپ کی باری کیا آئے گی ان پیسوں سے تیل تو خریدا نہیں جاسکتا، چناچہ اگلا ایک مہینا اپنی اوقات میں رہ کر گزاریے۔

انجوائے لوڈ شیڈنگ و بے روزگاری۔

بدھ، 26 نومبر، 2008

طیارے گرانے کی صلاحیت ہے، نہیں ابھی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں

آج کے ایکسپریس نیوز کی شہ سرخی ائیر چیف کا بیان ہے جس کے مطابق پاک فضائیہ کے ریڈار جاسوس طیاروں کا کھوج نکال لیتے ہیں اور ان کو ایف سولہ سے گرایا بھی جاسکتا ہے۔ یہی خبر اردو نیوز پر کچھ ایسے موجود ہے۔


کراچی ۔ پاک فضائیہ کے سر براہ ایئر چیف مارشل تنویر احمد نے کہا ہے کہ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں کوروکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیصلہ حکومت کوکرنا ہے کہ وہ کس وقت ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ بات انھوں نے آئیڈیاز 2008ء نمائش میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ انھوں نے جے 17 تھنڈر کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ ایسی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ جاسوس طیاروں اور جدید ترین میزائلوں کو اپنی حدود میں نشانہ بنا سکے لیکن اس بارے میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ حملہ آوروں سے جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاک فضائیہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔

ہمارے وزیر دفاع صاحب اس کے بالکل الٹ فرما رہے ہیں۔ جیسا کہ وہ شروع سے ہی بیان دیتے آرہے ہیں کہ اتنی بلندی پر طیارے گرانے کی ہم میں صلاحیت نہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔
کراچی ۔ وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ پاکستان بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش کر رہا ہے ۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے دوست ممالک سے با ت چیت ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی پروگرام کو بھی ترقی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اس میں 12 سوسیکورٹی اہلکار اور ساڑھے چار ہزار شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ سے سب سے زیا دہ خطرہ پاکستان کو لاحق ہے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے سابق انتظامیہ کے خلاف کئی بارکارروائی کے خلاف کئی بار کارروائی نہیں ہو سکی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دفاع بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

اب بتائیں کہ کس کی بات کا اعتبار کیا جائے؟

جمعہ، 17 اکتوبر، 2008

پٹرولیم پر ٹیکس

پچھلے دنوں ایک پوسٹ میں پٹرولیم پر حکومتی ٹیکس کا ذکر کیا تو بدتمیز نے تبصرے میں کہا کہ حکومت اتنا ٹیکس نہیں لے رہی۔ آج جنگ میں یہ خبر پڑھی تو سوچا شئیر کرتا چلوں۔




کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی11 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پرکمی کے باوجود حکومت نے وعدے کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس وصولی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ 16 اکتوبرکو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کی بجائے انہیں سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹیکس کی شرح بڑھا دی ہے۔ 15 اکتوبرکے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر16 فیصد کی شرح سے 10.94 روپے فی لیٹر سیلز ٹیکس اور33 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پی ڈی ایل وصول کررہی ہے۔ اس طرح ڈیزل پر ٹیکس کی شرح 11 روپے سے بڑھ گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل پر یہ شرح 13.55 روپے فی لیٹر ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کے ایک لیٹر پر عائد پی ڈی ایل کی شرح 25.12 فی لیٹرکردی گئی ہے جوکہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول پر آج تک عائد ہونے والی پی ڈی ایل کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ پیٹرول پر 11.26 روپے کے سیلز ٹیکس کو شامل کرنے سے ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکس کی شرح 36.38 روپے تک جا پہنچی ہے اگر اس میں کسٹمز ڈیوٹی کو شامل کیا جائے تو یہ40 روپے فی لیٹر سے بھی بڑھ جائے گی۔ ایچ او بی سی پر حکومت نے پی ڈی ایل کی شرح 23.37 روپے سے بڑھاکر30.51 روپے فی لیٹرکردی ہے۔ سیلز ٹیکس کے ساتھ ایچ او بی سی پر ٹیکس کی شرح 43.76 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ یہ شرح 50 روپے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم سیکٹر سے اس بڑے پیمانے پر ٹیکس وصولی کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے سبسڈی دے رہی ہے۔