گنوم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گنوم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 20 مئی، 2010

آج پھٹے چک لین دے

لو جی اس وقت ہمارے ڈیزل انجن لیپ ٹاپ پر ایک عدد گانا لگا ہوا ہے اور ہم اس پر جھوم جھوم کر پوسٹ لکھ رہے ہیں۔ قصہ اس پوسٹ لکھنے کا مختصر یہ کہ ہم نے اس پر اوبنٹو 10.04 انسٹال کرہی لیا ہے۔ کل ہمارا مڈٹرم کا آخری پرچہ تھا اور واپس آکر ہم نے پہلے اس کی خبر لی۔ اس پر پہلے سے انسٹال ونڈوز سیون نے پارٹیشن ایسے بنائی تھیں کہ لینکس ان کو سپورٹ نہیں کرتا۔ ڈائنامک پارٹیشنز جانے کب سپورٹ ہونگی لینکس میں، سنا ہے یہ 2000 تک بھی بنائی جاسکتی ہیں جبکہ پرائمری ایکسٹنڈڈ کی دُکّی چھبیس تک ہی جاسکتی ہے شاید۔ خیر رب جانے کیا بات ہے ہم نے سارے آپشن ٹرائی کرنے کے بعد دیسی حل ہی سوچا۔ لیپ ٹاپ کو ہوم نیٹورک سے منسلک کرکے اہم ڈیٹا ڈیسکٹاپ پر منتقل کیا اور ساری ہارڈ ڈرائیو کر جھاڑو پھیر دی۔ ایکس پی کی سی ڈی ڈال کر پارٹیشنز کیں اور اس کے بعد ونڈوز 7 دوبارہ، پھر اس کا میک اپ وغیرہ کیا، اپڈیٹ کیا اور پھر اوبنٹو لوسڈ انسٹال کرلیا۔
یہ ساری کارگزاری کل تین سے رات آٹھ بجے تک کی ہے جبکہ اس کے بعد ایک بجے اٹھ کر ہم نے اوبنٹو کے شگن کرنے شروع کیے اور صبح پانچ بجے تک کیے۔ آپس کی بات ہے لینکس استعمال کریں یا نہیں ہمیں اس کا بُوتھا سرخی پوڈر لگا ہی پسند ہے۔ اپنی پسند کے اطلاقیے ہوں جن میں بینشی ہے اور اس بار جس میں رئیل میڈیا فائلز کو لائبریری میں شامل کرنے کی سہولت بھی آگئی ہے، کبھی گنوم ڈو بھی ہوتا تھا لیکن اب لانچی ہے، اوپر والا پینل اڑا کر نیچے والے پینل پر سنگل مینیو لگانا جو اس بار ہمیں گِنو مینیو کی شکل میں ملا ظالموں نے کیا نقل اتاری ہے وسٹا کے سٹارٹ مینیو کی، ایک عدد بیک گراؤنڈ چینجر جیسے ڈریپس اور ایک دو سکرین لیٹس۔ یعنی گندی سی انگریزی زبان میں سیکسی سا ڈیسکٹاپ جو دیکھنے والے کے ڈیلے باہر نکلوا دے۔ تو ہمارا تقریبًا اسی قسم کا سسٹم تقریًبا تیار ہے اور یہ پوسٹ ہم اس کی تکمیل و افتتاح کی خوشی میں لکھ رہے ہیں۔ اس افتتاحیہ تقریب کے مہمان خصوصی و صدر نشین ہم بذات خود ہی تھے اور یہ ابھی ابھی ختم ہوچکی ہے۔ نیچے ہم کچھ سکرین شاٹس دے رہے ہیں جو کہ ہم نے ابھی ابھی لیے ہیں۔
ان میں ایک ہمارے بلاگ کی انگریزی ٹرانسلیشن کا بھی ہے۔ ہنسی بھی آرہی ہے اور خوشی بھی ہورہی ہے کہ چلو جیسا بھی ہے اردو کو بھی لفٹ کرائی گوگل نے۔

From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop
From Laptop

اتوار، 22 نومبر، 2009

لانچی

پہلی نظر میں الائچی لگ رہا ہوگا۔۔۔
لیکن یہ لانچی ہی ہے۔ لانچی ایک ایپلی کیشن لانچر ہے۔ اردو میں کہیں تو توپ ہے جو اطلاقیے داغتی ہے۔ :) خیر ہمارا مقصد یہاں اردو ترجمہ کرنا نہیں ہمارے احباب یہ کام بخوبی کررہے ہیں۔ (سجھ تے تُسیں گئے او :D)
خیر جناب ادھر اُدھر کی چھوڑیتے مدعے پر آئیے۔ تو مدعا یہ ہے کہ ہمیں اوبنٹو پر جس چیز کا شوق ہوتا ہے وہ مونو پر مشتمل اطلاقیے ہیں۔ جیسے مونو ڈویلپ، بینشی، ایف سپاٹ اور میرا پیارا گنوم ڈُو۔
صاحبو گنوم ڈُو بڑی پیاری شے ہے۔ اگر چل جائے تو۔ لیکن یہ اس سسٹم پر کچھ مسائل کررہا ہے۔ چلتے چلتے ہینگ ہوجاتا ہے اور پھر سارے سسٹم کے ریسورسز کھانے لگتا ہے۔ نجانے کیا مسئلہ ہے اسے۔ اور اس کی ویب سائٹ سے لگ رہا ہے کہ آخری ورژن بھی جنوری میں جاری کیا گیا تھا۔ اب آپ سوچئیے کتنا بھی پیارا کیوں نہ ہو، جب تک اس کی ڈویلپمنٹ جاری رہے تب تک ہی پیارا لگتا ہے۔ آپس کی بات ہے اوپن سورس والے گرم گرم کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ یعنی تازہ تازہ جو پکا ہو، خستہ مزے دار سا۔ اس سے نئے فیچر بھی آتے رہتے ہیں اور پروجیکٹ زندہ ہونے کی وجہ سے صارف کو بھی ایک احساس رہتا ہے کہ وہ "کلّا ای نئیں پھسیا، ہور وی نیں"۔ گنوم ڈُو کے ساتھ نجانے کیا مسئلہ ہے، لیکن ہم تو اب اسے چھوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت سادہ سا ہے، اور اس کی سادگی لیکن پُرکاری مار ڈالتی ہے، ننھی سی جان میں کیا کیا سموئے بیٹھا ہے جی میل کی ڈاک سے لے کر، پجن  کے روابط، بک مارکس اور آپ کا ڈیسکٹاپ تو ہے ہی۔ اور پھر بڑی آسانی سے اسے وضع یعنی کنفگر کیا جاسکتا ہے جو اس کے دوسرے مدمقابل اطلاقیوں جیسے گنوم لانچ باکس میں ممکن نہیں۔
خیر صاحب یہ سب کچھ دیکھ کر ہم نے لانچی کا سوچا۔ جس کا لینکس ورژن بھی اب دستیاب ہے اور ہم نے اس ربط سے صرف ڈیبئین اتارا اور اوبنٹو نے اسے نصب کردیا مع کچھ انحصاری پیکجز کے۔ اگرچہ اس کا مواجہ کیو ٹی ٹول کِٹ پر مشتمل ہے، کام پُورا کرتا ہے۔ آپ بھی ٹرائی کیجیے گا۔

ہفتہ، 24 نومبر، 2007

لینکس کی ہلکی پھلکی ڈِسٹروز

لینکس میں اس وقت کئی تصویری مواجے دستیاب ہیں۔ جیسے گنوم ، کیڈی اور ایکس ایف سی ای۔ اول الذکر دو ڈیسکٹاپ ماحول نسبتًا ماڈرن پی سی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان میں تبدیلیاں بہت تیزی کے ساتھ آتی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد صارف کو ایک مکمل تصویری مواجہ فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ ہر کام اپنے لینکس سسٹم ہر رہتے ہوئے کرسکے۔ چناچہ ان تصویری مواجوں کو استعمال کرنے والے بھی زیادہ ہیں اور ان کی "پیدائیشی" ڈویلپمنٹ کٹس میں تیار کئے گئے اطلاقیے لینکس دنیا میں تھوک کے حساب سے مل جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا مقصد ہر سہولت تصویری مواجے میں‌ فراہم کرنا ہے اس لیے پرانے پی سی جیسے پی ٹو 450 میگا ہرٹز پر ان کا چلنا خاصا اوکھا کام ہے۔ خصوصًا کیڈی تو پرانے پی سی کا ویری ہے ذرا سی میموری کم ہے یا سپیڈ کم ہے تو سسٹم اڑیل ٹٹو کی طرح بار بار کھڑا ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف لینکس کے لیے کچھ ایسے تصویری مواجے بھی دستیاب ہیں جو یا تو بہت ہی ہلکے پھلکے ہیں یا پھر ان کے اطلاقیے نسبتًا سادہ اور کام چلاو پالیسی کے تحت بنائے گئے ہیں۔ ایسے مواجے عمومًا فائل مینجر کہلاتے ہیں۔ کیڈی اورگنوم میں بھی فائل مینجر ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جہیز میں اور بھی بہت کچھ آجاتا ہے۔ ان کی عام مثال فلکس باکس
Free Image Hosting at www.ImageShack.us
اور انلائٹمنٹ وغیرہ ہیں۔ یہ فائل مینجر سادہ، آسان اور ہلکے پھلکے ہیں چناچہ اگر آپ کا پی سی دادا پڑدادا قسم کا ہے تو اچھی رفتار کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیجیے۔
جہاں تصویری مواجے کی سطح پر یہ تحریک چل رہی ہے وہیں ڈسٹرو کی سطح پر بہت سی ہلکی پھلی ڈسٹروز موجود ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانے 486 سسٹم پر بھی یہ ڈسٹروز چل جاتی ہیں۔ پپی لینکس اس قسم کی ڈسٹروز کی مثال ہے۔
پپی لینکس سے قطع نظر چونکہ ہم بھی 486 کو اب کوڑے کی زینت بنانا پسند کریں گے ہم آپ کو پی ٹو اور تھری سسٹمز کے لیے ایک آدھی اچھی اور ہلکی پھلی ڈسٹرو کا مشورہ دیں گے۔ اوبنٹو کے ایک عاشق نے فلکس باکس کو اوبنٹو پر لگا کر ایک نئی ڈسٹرو بنائی ہے۔
فلکس بنٹو
اوبنٹو کی روائیتی آزادی اور فلکس باکس کے "ہلکے پن" کے ساتھ پرانے پی سی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سادہ سا ٹیکسٹ بیسڈ انسٹالر استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔
اسی قسم کی ایک اور تحریک مینڈریوا کے فورمز پر بھی چل رہی ہے۔
جہاں مینڈریوا کا ایک ہلکا پھلکا بہروپ تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اگر دیسی چیز استعمال کرنے کا ارادہ ہے تو اردو سلیکس بھی استعمال کرسکتے ہیں جسے محمد علی مکی نے کچھ فونٹس اور وال پیپرز ڈال کر "مسلمان" کیا ہے۔

اتوار، 7 اکتوبر، 2007

اوبنٹو 7.10 گسٹی گبن


ٹھیک گیارہ دن بعد اوبنٹو کا نیا ورژن گسٹی گبن جاری کیا جارہا ہے۔ اس ورژن میں کافی ساری نئی چیزیں متعارف کروائی گئی ہیں۔




  • گوگل ڈیسکٹاپ جو اس سال لینکس کے لیے بھی جاری کردیا گیا تھا  کے مقابلے پر اوبنتو اور کبنٹو دونوں میں ڈیسکٹاپ تلاش گر متعارف کروائے گئے ہیں۔ امید ہے یہ "پیدائشی" اطلاقیے گوگل ڈیسکٹاپ کی نسبت بہتر اور تیزی سے کام کریں گے۔

  •  این ٹی ایف ایس فائل سسٹم کی رائٹنگ سپورٹ شامل کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے اوبنٹو لینکس اور اس کے "بچڑے" صرف اس کو پڑھ ہی سکتے تھے۔ یہ کام این ٹی ایف ایس 3 جی نامی ایک ڈرائیور کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

  • اوبنٹو میں سہ جہتی اثر کے لیے کمپز بیرائل طےشدہ طور پر شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا سسٹم اس قابل ہے (یعنی کم از کم 512 میگا بائٹ ریم اور 64 میگا بائٹ سے زیادہ گرافکس کارڈ میموری والا) تو سہ جہتی ڈیسکٹاپ خود بخود دوران تنصیب فعال ہوجائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ صرف اوبنٹو میں کیا گیا ہے۔ کبنٹو میں یہ سارا کام خود سے کرنا ہوگا۔

  • کبنٹو میں کنکرر کی چھٹی کرکے ڈولفن کو فائل مینجر بنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ کنکرر بھی یہ کام کرتا رہے گا۔

  • کے ڈی ای 4 اس اشاعت میں شامل نہیں۔ اس کا مستحکم ورژن اکتوبر کی بجائے اب نومبر میں متوقع ہے۔

  • کبنٹو میں ایجوکیشن اوبنتو کے پیکج شامل کردیئے گئے ہیں۔ ایجو اوبنتو اصل میں اوبنٹو کا ایک بچڑا ہے جو کہ خصوصًا بچوں اور اساتذہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن اس کے سارے اطلاقیے کے ڈی ای ایجوکشن پروجیکٹ سے لیے گئے ہیں جبکہ ڈیسکٹاپ گنوم ہے۔ اب یہ سارے اطلاقیے آپ کبنٹو میں ایک کمانڈ سے نصب کرسکتے ہیں۔



sudo apt-get install edubuntu-desktop-kde




  • فائر فاکس اور کنکرر میں پلگ انز کی تنصیب زیادہ آسان کردی گئی ہے۔ خصوصًا فائر فاکس میں اب انھیں ونڈوز کی طرح پلگ ان سرچ سے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔

  • اوبنٹو میں سکرین ریزولوشن کم زیادہ کرنے کے لیے ایک ٹول شامل کیا گیا ہے

  • ملکیتی ڈرائیورز کو منظم کرنے کے لیے ایک ڈرائیور مینجر الگ سے دونوں میں شامل کیا گیا ہے۔

  • اوبنٹو میں پرنٹرز کی تنصیب کے بارے میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔ اب یہ خودکارانہ نصب ہوتے ہیں۔

  • اوبنٹو میں غیر مفت پروگرام انسٹال کرنے کے لیے ایک پیکج ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا پیکج اب کبنٹو کے لیے بھی kubuntu-restricted-extras  کے نام سے دستیاب ہے۔ اس میں جاوا، فلیش پلئیر، کوڈکس وغیرہ شامل ہیں۔

  • کبنٹو کا آرٹ ورک اور اس کی دستاویزات کو بھی جدید کیا گیا ہے۔


ہم تو ابھی سے دانت تیز کررہے ہیں کہ سسٹم کو اپگریڈ کریں۔

 




 

جمعہ، 23 فروری، 2007

گیلیون(Galeon) گنوم کا بنیادی ویب براؤزر فی الوقت (کے)اوبنٹو پر میرے لیے بہترین اردو سائٹ براؤزر

آج بہت دنوں بعد دوبارہ سے لینکس پر انٹرنیٹ فعال کرواسکا ہوں۔ میں اصل میں روٹر سے براہ راست انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں اور میرے کیبل نیٹ ورک پر آئی پی سسٹم سارے کا سارا DHCP کے تحت ہے یعنی خودکار پی سی جاگتا ہے سرور سے رابطہ کرتاہے اور اس کو ایک آئی پی الاٹ ہوجاتا ہے میرے کیبل نیٹ ایڈمن نے روٹر کی میری درخواست پر نیٹ ورک ہب سے منسلک کرکے مجھے نیٹ استعمال کرنے کی اجازت تو دے دی تھی لیکن اس سے ایک مسئلہ بن رہا تھا جب بجلی بند ہونے کے بعد دوبارہ آتی تو روٹر صاحب بھی جن کا DHCPبھی فعال تھا پراکسی سرور کے ساتھ آئی پی بانٹنے لگ جاتے جس کے نتیجے میں سرور کے فکسڈ آئی پی کے ساتھ اس وقت چلنے والے سسٹم کا آئی پی پھڈا پڑ جاتا ایک ہی آئی پی پر دونوں اپنا راگ الاپنے لگتے اور نیٹ ورک کا بیڑہ غرق ہوجاتا تین چار بار اس سلسلے کو بجلی کی بندش کے بعد آمد سے مسئلہ پیدا ہونے کی وجہ سے منقطع کرنا پڑا اور میں لینکس پر نیٹ کے سلسلے میں محدودہوجاتا آج میں نے آخر روٹر میں جاکر اس کا ڈی ایچ سی پی ہی غیرفعال کروادیا اب چاہے جتنی بار مرضی بجلی بند ہولے روٹر بے چارے کا منہ بند کیا جاچکا ہے۔


لو جی بات کیا کرنی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ میں نے آج فائر فاکس (اوبنٹو کی آفیشل رپازیٹری سے) اتار کر نصب کیا تو سوچا گیلیون بھی نصب کرکے دیکھ لوں شاید چل جائے آخری بار اسے نصب کیا تھا تو ساتھ فائر فاکس بھی چلا آیا تھا جیسے فلموں میں اداکاراؤں کے ساتھ نانیاں دادیاں چلی آتی ہیں۔ اللہ اللہ کرکے نصب ہوا تو اس نے پراکسی لینے سے انکار کردیا تھا مصر تھا کہ گنوم کو بھی بلایا جائے اب بندہ پوچھے اگر گنوم پر ہی دھکے کھانے تھے تو میں کے ڈی ای پر کیوں آتا۔ اب چونکہ ہمارا نیٹ بغیر پراکسی کے چلتاہے اس لیے یہ ہماری بات مان گیا اور اب ہم اس پر اردو کی سائٹس کو وزٹ کیا کریں گے خصوصًا محفل اور بلاگز جہاں پر ویب پیڈ کنکرر میں چلتا نہ تھا اور جن کا اردو نسخ ایشیا ٹائپ یا کوئی دوسرا فونٹ فائر فاکس میں صحیح نظر نہ آتا تھا۔ محفل کا گیلیون سے ایک منظر


Free Image Hosting at www.ImageShack.us

بدھ، 7 فروری، 2007

سوِفٹ فاکس(Swiftfox) فائرفاکس کا لینکس روپ

موزیلا فائر فاکس اس وقت مقبول عام آزاد ویب براؤزر ہے۔ ونڈوز لینکس کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے ہی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موزیلا نے لینکس کے لیے فائر فاکس کو ٹھیک طرح پالش نہیں کیا جس کی وجہ سے بعض اوقات لینکس پر چلتے ہوئے فائر فاکس رک رک کر چلتا ہے اور کم رفتار سے چل کر سسٹم کو بھی وخت ڈال دیتا ہے۔


اس صورت حال کو اوبنٹو والوں نے اپنی فائر فاکس اشاعت بنا کر پورا کیا ہے۔ شاید باقی قسموں نے بھی کوئی اسی قسم کا حل نکالا ہو جس میں فائر فاکس کو متعلقہ ماحول کے تحت بہتر طریقے سے وضع کیا گیا ہو۔ لیکنہمارے پیش نظر اس وقت اوبنٹو ہے۔ اوبنٹو کا بنا ہوا فائر فاکس استعمال تو کرلیا جائے لیکن انھوں نے اس کی خودکار تازہ کاری کا انتخاب معطل کررکھا ہے جس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ونڈوز پر تو سیدھے سبھاؤ فائر فاکس خود ہی سارا کام کرکے آپ کو صرف اتنا بتاتا ہے کہ تازہ کاری اتر گئی نصب کرنے کے بارے میں بتائیں ابھی کریں گے یا ذرا ٹھہر کر۔


لیکن ہائے رے اوبنٹو۔ اوبنٹو کی ہر رگ ہی نرالی ہے۔ ہر چیز پر پہرے بٹھا رکھے ہیں انھوں نے۔


لیکن وہ کیا کہتےہیں کہ لوگ بھلا بعض آتے ہیں۔ صاحبو ہم بھی صدا کے ضدی ہیں وہ کام کرتے ہیں جو کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے ہم بجائے کہ طےشدہ ورژن استعمال کرتے سوِفٹ فاکس نصب کرلیا۔فائر فاکس کی ہر نئی اشاعت کی کانٹ چھانٹ اور رنگ روغن کرکے سوفٹ فاکس بنا لیا جاتا ہے جو ہے تو فائر فاکس بس نام بدلا ہوا ہے۔ لینکس قسم کی قید سے آزاد یہ براؤزر فائر فاکس سے بہتر نتائج دیتا ہے خصوصًا جب فائر فاکس کو گنوم کے علاوہ استعمال کرنا ہو یعنی کے ڈی ای میں۔


اس کے ریلیز والے صفحے پر جائیں اپنے سی پی یو کے مطابق تنصیب کار سکرپٹ اتاریں اور ٹرمینل سے چلا لیں۔ سوفٹ فاکس اتر کر نصب ہوجائے گا خودکار تازہ کاریوں کو فعال کرنا ہے تو روٹ کھاتے سے داخل ہوکر اس کی ترجیحات میں جاکر اس انتخاب کو نشان زد کردیں آئندہ یہ خودبخود تازہ ہوتا رہے گا۔


اگر ایسا نہیں کرنا تو آٹومیٹکس اس کا بہترین حل ہے۔یہ آپ کے لینکس ورژن(یعنی اوبنٹو کبنٹو ورژن) اور سی پی یو سپیڈ کے مطابق سوفٹ فاکس اتار کر نصب کردیتی ہے ساتھ ہی اس کے دخیلوں یعنی پلگ ان نصب کرنے کا بھی آپشن ہے لگے ہاتھوں وہ بھی نصب کرلیں اور فائر فاکس کے مزے لوٹیں۔ لیکن دخیلے کچھ دیر لے سکتے ہیں جیسے ہمیں کوئی اڑھائی گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں ابھی تک اترے ہی نہیں یہی کوئی 50 ایم بی ڈیٹا اتر چکا ہے۔


;)


 


 

اتوار، 7 جنوری، 2007

لینکس کونسی قسم نصب کی جائے اور اس کا حصول

تو جناب اب بات کرتے ہیں کہ لینکس کو نصب کس طرح کیا جائے۔ نہیں اس سے پہلے بھی ایک کام ہے اور وہ ہے کہ آخر کونسا لینکس نصب کیا جائے۔
لینکس کی کئی اقسام ہیں۔ یہ لوگ اسے ڈسٹریبیوشن یا ڈِسٹرو بولتے ہیں۔ کوئی ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے لینکس میں سے اپنی پسند کا لینکس چننا بہت مشکل ہے۔ ہر لینکس قسم کا اپنا ایک منشور ہے کوئی صارف کو آسانی مہیا کرنا چاہتا ہے، کوئی مفت سافٹویر کا نعرہ لگاتا ہے، کوئی قسم کاروباری پیمانے پر استعمال کے لیے قیمتًا جاری کی جاتی ہے۔ہم نے چونکہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے لینکس نصب کرنا ہے اس لیے میں آپ کو دو قسموں کا مشورہ دوں گا اور وہ ہیں اوبنٹو اور کے اوبنٹو۔
اصل میں یہ ایک ہی کمپنی کے جاری کردہ ہیں۔ اصل پراجیکٹ اوبنٹو ہے لیکن کے ابنٹو یا مختصرًا کبنٹو اس کا بچہ بچونگڑا ہے جس میں کرنل وہی ہے لیکن ڈیسکٹاپ ماحول مختلف ہے۔
ڈیسکٹاپ ماحول کیا ہوتا ہے؟
لینکس اصل میں باہر سے بن کر آنے والے آٹو پارٹس کی طرح ہے جن کو پاکستان میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ ہر لینکس قسم والے نے اسمبلنگ کا کارخانہ لگا رکھا ہے۔ جس میں وہ باہر سے آنے والے پرزے جوڑ کر اپنی قسم تیار کرلیتے ہیں۔
ہر خدمتگار نظام( آپریٹنگ سسٹم) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اس کا مغز یعنی کرنل جو کہ سی پی یو سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے اور کمانڈز کو اس تک پہنچاتا ہے دوسرا وہ تصویری مواجہ (گرافک یوزر انٹرفیس) ہے جو صارف کو نظر آتا ہے اور جس کے ساتھ کھیلنے کی صارف کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ لینکس میں کرنل الگ بنایا جاتا ہے اس کے مختلف ورژن ہیں جبکہ اس کے اوپر کام کرنے کے لیے مختلف ڈیسکٹاپ ماحول ہیں۔ ان میں سے کچھ کمرشل ہیں کچھ مفت لیکن مشہور اقسام دو تین ہی ہیں۔



ہوتا یہ ہے کہ ہر قسم کو تیار کرنے کے لیے پہلے ایک عدد لینکس کرنل لیا جاتا ہے اس کے بعد ڈیسکٹاپ ماحول کا انتخاب ہوتا ہے ان کو ملایا جاتا ہے ڈیسکٹاپ ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق یا سمجھ لیں کمپنی کی پالیسی کے مطابق کچھ تبدیلیاں کرکے نئی خوبیاں ڈالی جاتی ہیں اور قسم جاری کردی جاتی ہے۔ ہر نئی اشاعت پر نیا لینکس کرنل ورژن، نیا ڈیسکٹاپ ماحول ورژن اور دوسرے عمومی استعمال کے اطلاقیے جو اس میں‌ موجود ہیں کے نئے ورژن ڈال کر نیا ورژن اتارنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ آپ یقینًا سوچ رہے ہونگے اتنا آسان کام؟ ادھر ادھر سے چیزیں‌ اکٹھی کرو اور نیا لینکس نکال دو۔ اصل میں‌ یہ سب اتنا بھی آسان نہیں چونکہ تکنیکی معاونت مہیا کرنا، مختلف پراجیکٹس شروع کرنے کے لیے معاونت دینا،نئی خوبیوں کے مطالبات پر غور کرنا، تازہ کاریوں (اپڈیٹس) اور اصل ورژن کے اتارنے کے لیے سرور کمپیوٹر مہیا کرنا ایک لمبا درد سر ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جو خواب میں بھی لینکس کی کمانڈز میں بات کرے۔ :D :D
اصل میں اوبنٹو کو منتخب کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے بابے لینکس موجود ہیں لیکن اوبنٹو کے کچھ فائدے ہیں جو ہم آپ کو آئندہ سطور میں بتاتے ہیں پہلے آپ کو کچھ مشہور اقسام کے نام بتائے دیتے ہیں۔


    لِن سپائر جو کبھی لنڈوز کے نام سے مارکیٹ میں آیا تھا اور اس کا مفت اور آزاد مصدر ورژن فری سپائر

اب بات کرتے ہیں‌ کہ اوبنٹو ہی کیوں؟
پہلی بات تو یہ کہ اوبنٹو کے تین ورژن اس وقت موجود ہیں جو کہ تین مختلف ڈیسکٹاپ ماحول استعمال کرتے ہیں۔ اوبنٹو میں گنوم استعمال ہوتا ہے، کے اوبنٹو میں کے ڈی ای اور ایکس اوبنٹو میں ایکس ایف سی ای۔ زیادہ مشہور اقسام پہلی دو ہی ہیں تیسری قسم کم ہی استعمال ہوتی ہے۔ ان تمام اقسام میں‌ کرنل ایک ہی ہے اور ہر نئی اشاعت پر ہر قسم کا نیا ورژن نکالا جاتا ہے جس میں بنیادی قسم کی چیزیں ہر ایک میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیسے شٹ ڈاؤن کے انتخابات( آپشن) تینوں میں ایک جیسے ہونگے۔جبکہ دوسری اقسام کے لینکس کوئی ایک ہی ماحول استعمال کرتے ہیں جیسے فیڈورا کور میں گنوم استعمال ہوتا ہے یا ان کی مختلف ماحولات کے لیے الگ سے اشاعتیں‌ موجود نہیں۔
اوبنٹو کی بہت خاص خوبی اس کا ہر چھ ماہ کے بعد نیا ورژن آنا ہے جو کوئی بھی اور لینکس ڈسٹرو والے نہیں کرتے۔
اوبنٹو کی بہت ہی منظم برادری موجود ہے اس کی چوپالوں پر ہر درد کی دوا موجود ہے۔
اوبنٹو کی ایک خوبی جس کے لیے میں نے اسے پسند کیا تھا اس کی سی ڈیز کا پاکستان میں مفت مہیا کیا جانا تھا۔اگرچہ اب یہ لوگ اسے بند کررہے ہیں لیکن اس کے طویل مدتی معاونت شدہ ورژن اوبنٹو 6.06 کے لیے اب بھی یہ سہولت موجود ہے۔
اوبنٹو کی تازہ کاریاں بڑی باقاعدگی سے وارد ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کسی بھی قسم کے خطرے سے بچا رہتا ہے نیز سافٹویر کی تازہ کاریوں سے تازہ ترین ورژن نئی نئی خوبیوں کے ساتھ آپ کی دسترس میں‌ ہوتا ہے۔
ہاں آپ کو اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اوبنٹو میں طےشدہ طور پر روٹ یعنی سسٹم کے منتظم ایڈمن صاحب کا کھاتہ بند ہے جس کی وجہ سے سافٹویر کی تنصیب میں‌ مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن صارف اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور ہاں اس کو کھولا بھی جاسکتا ہے ہم ذاتی طور پر اس کی تنصیب کے بعد پہلا کام روٹ کھاتہ کھولنے کا کرتے ہیں اور یہ گر آپ کو بھی بتا دیں‌ گے۔
دوسری مشکل جو درپیش ہوسکتی ہے وہ ہے گانوں اور عمومی نوعیت کی ویڈیو فائلز چلانے میں‌ دشواری چونکہ ان کے کوڈکس ایک ملکیتی مال ہیں اس لیے اوبنٹو کی بنیادی تنصیب کے ساتھ یہ نصب نہیں‌ ہوتے۔ صارف کو یہ بعد میں اتار کر نصب کرنا ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہنمائیاں موجود ہں صرف ان پر عمل کرنے میں یا اتارنے میں وقت لگتا ہے بلکہ ایک بار پیکج اتار کر آپ اسے دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں سی ڈی بنا سکتے ہیں۔
خیر یہ تو تھا اوبنٹو لینکس بمقابلہ دوسرے لینکس اب ہم بات کرتے ہیں اوبنٹو کو حاصل کس طرح کیا جائے۔
اوبنٹو کو اگر سی ڈی پر حاصل کرنا ہے تو آپ اوبنٹو شپ اٹ یا کے اوبنٹو شپ اٹ پر چلے جائیں۔وہاں مندرج ہوکر سی ڈیز کا آرڈر دے دیں اور سی ڈیاں آپ کے گھر پہنچ جائیں گی لیکن یہ کچھ وقت لے گا کوئی چار سے چھ ہفتے۔ لیکن ہوگا سب مفت اگر آپ نے جلدی حاصل کرنا ہے تو اس کی سی ڈی امیج اتار کر خود سے سی ڈی رائٹ کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ پیسے خرچ کرنے کا موڈ ہے تو ان کے عالمی تقسیم کار موجود ہیں جو پیسے لے کر سی ڈی آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ پاکستان میں لینکس کی تمام اقسام کے تقسیم کار یعنی لینکس پاکستان والوں سے بھی اوبنٹو کی سی ڈیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انتہائی سستے داموں صرف 35 روپے میں۔(مختلف قسم کے لیے ریٹس مختلف ہوسکتے ہیں) لیکن ان کا دفتر کراچی میں‌ ہے۔ اگر آپ خود کراچی نہیں رہتے تو اپنے کسی دوست سے جو کراچی میں رہتا ہو رابطہ کرکے سی ڈی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ سی ڈی خود ہی اتار کر اسے رائٹ کیجیے گا۔
اور آخر میں آپ کو بتاتے چلیں کہ تنصیب اور وضع قطع کے سارے مراحل کے اوبنٹو( اگرچہ تازہ ترین ورژن 6.10 ہے لیکن ہم سارا کام 6.06 والے ورژن پر کریں گے جو کہ زیادہ استحکام پذیر ہے اور یہ 2009 تک معاونت شدہ بھی ہے۔) پر طے ہونگے۔چونکہ ہم بنیادی طور پر کبنٹو کے صارف ہیں۔ اگرچہ اوبنٹو بھی اچھی چیز ہے لیکن کے ڈی ای کا سواد جس کو لگ جائے وہ کم ہی گنوم کی طرف دیکھتا ہے۔

جمعہ، 27 اکتوبر، 2006

لینکس اردو نوٹ پیڈ

نعمان کی دعا اللہ میاں نے آخر سن ہی لی اور اوبنٹو میلنگ لسٹ کے ایک دوست جناب سعات سعید نے پائتھون میں ایک سادہ سا اردو مدوِن لکھا ہے جو صوابدیدی کی بورڈ ، انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی اور اس طرح کی عمومی خوبیوں پر مشتمل ہے۔ اس کو یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر گنوم ڈیسکٹاپ ماحول کے لیے لکھا گیا ہے لیکن کے ڈی ای پر بھی چل سکتا ہے۔ صرف ایک مسئلہ جو پیدا ہوتا ہے وہ ہے گنوم کا پرنٹ ماڈیول جو یہ درآمد کرنے کی کوشش میں کے ڈی ای پر منہ کے بل گرنا ہے۔ اس کا حل ہے کہ مین پی وائی فائل میں سطر نمبر پانچ مٹا دی جائے۔ جب میں نے ایسا کیا تو میرے سسٹم پر چلا کیا دوڑا۔ لینکس میں اردو کی سپورٹ اگرچہ ہے لیکن اس میں دائیں سے بائیں کی کوئی سپورٹ نہیں جس کی وجہ سے اردو لکھتے ہوئے بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ دو تین سطور کے بعد مدوِن الفاظ توڑنا شروع کردیتا ہے یا الٹے دکھانے لگتا ہے۔ ہر نئی سطر پر ماؤس اشاریہ بائیں طرف چلا جاتا ہے۔ اردو ایڈیٹر ان سارے مسائل کو کسی حد تک حل کردیتا ہے۔ بہرحال یہ اردنوٹ پیڈ ایک اچھی کاوش ہے لیکن اس میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ جیسے اس میں ہر بار فونٹ خود سے منتخب کرنا پڑتا ہے چونکہ بنیادی فونٹ ایک تو بھدا ہے دوسرے اردو ٹھیک نہیں لکھتا۔ چھ کو چ‌ھ لکھ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اردو کے موڈ میں کنٹرول پر مشتمل تیز راہیں یعنی شارٹ کٹس کام نہیں کرتے۔ کافی نازک مزاج ہے دو تین ابھی میں فونٹ ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ کریش ہوگیا۔ دعا ہے اللہ سعادت سعید صاحب اور دوسرے پروگرامر احباب کو توفیق دے تاکہ اس کے بنیادی ایرر دور کرکے اس میں دوسری مناسب خوبیاں بھی شامل کرسکیں۔ آمین۔ اور ہاں میرے سسٹم پر اردو ایڈیٹر ایکشن میں Free Image Hosting at www.ImageShack.us