اتوار، 16 مارچ، 2008
اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام
ہفتہ، 19 جنوری، 2008
الحمد اللہ کہ ورڈپریس کا اردو ورژن اب دستیاب ہے
بدھ، 19 دسمبر، 2007
مجلس سائنس
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب عمومی انداز سے ہٹ کر مخصوص قسم کے فورمز بھی اردو میں بن رہے ہیں۔ اردو کوڈر پر بھی ہماری کوشش ہے کہ مقصد صرف اور صرف لینکس اور اوپن سورس ہی ہو لیکن ہمارے اراکین کا اصرار ہے کہ کچھ مزید زمرے بھی بنائے جائیں۔ ہم ان کی خواہشات کے احترام میں کچھ مزید فورمز تو بنا دیں گے لیکن بحیثیت انتظامیہ ہمارا فوکس لینکس اور اوپن سورس ہی ہوگا۔ اسی امید کے ساتھ کہ سعد بھی اپنے فورم کو پاکستان کا بہترین اردو سائنس فورم بنا دیں گے۔ اللہ انھیں مزید اچھا کام کرنے کی توفیق دے۔
اتنا سارا خطبہ سن لیا آپ نے اور مجلس سائنس کا وزٹ نہیں کیا۔ اب میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں۔
:D
زبان: کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو "پابند" ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ "معیاری" اور "غیر معیاری" زبان کے بارے میں ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی "آبائی" زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں "کیا ہونا چاہیے"۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو "بیان" کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ "لاپرواہ" نہیں بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ کا ماخذ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ مڈہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاءکی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔
آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میںدی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیںکہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ "ایسے ہوتا ہے"۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔
اتوار، 9 دسمبر، 2007
مونو(Mono): مونو کے ساتھ میں؟ چہ معنی دارد
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی "کامی" کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے "گوڑھے" پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی "گھنڈیاں" ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔
جمعہ، 30 نومبر، 2007
آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میںکمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میںاپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔
ہفتہ، 17 نومبر، 2007
احتجاج؟
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیںتو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں "سالا پاگل ہے"۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا
پیر، 15 اکتوبر، 2007
سبحان اللہ دل خوش ہوگیا
افتخار اجمل صاحب کی حالیہ پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آج ذرا فراغت تھی میں نے سنت کی آئینی حیثیت از ابواعلٰی مودودی کا دیا گیا پی ڈی ایف ربط اتار لیا۔ ابھی صرف ایک سو پچاسی صفحات پڑھے ہیں۔ شاید مزید پڑھنے کی بھی توفیق نہ ہو۔ لیکن بخدا مزہ آگیا ایک بار۔
وہ منکر حدیث صاحب کج بحث اور نئے اعتراضات جڑنے کے ماہر ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی علمی بات تو ان سے ہو نہیں رہی۔ بس بودے اعتراضات کیے چلے جارہے ہیں۔ ایک دو جگہ مجھے اپنی کم علمی کی وجہ سے اعتراضات میں وزن لگا لیکن جب قرآن سے اس کا ثبوت مودودی صاحب نے نکال کر دیا تو سب کچھ آئینے کی طرح شفاف ہوگیا۔
یہ کوئی پچاس سال پرانی بات ہے۔ لیکن اعتراضات وہی ہیں جو ابھی کچھ دن پہلے ہی محفل پر کیے جارہے تھے۔ احادیث کو لکھا کیوں نہیں گیا۔ ان کتب میں ہر چیز قابل اعتبار کیوں نہیں ۔یہ کیوں نہیں وہ کیوں نہیں۔ یہ کتب روایات ہیں۔ اور پھر جب موسیقی کے حلال حرام کا قصہ آیا تو قرآن کی ایک آیت جس کا مفہوم ہے تم پر جو چیزیں حلال کی گئی ہیں ان سے پچھے نہ ہٹو وغیرہ کا حوالہ دے کر مطمئن ہوجانا۔ لیکن دین صرف قرآن کا نام ہی نہیں۔ صاحب قرآن کے احکامات اور اطاعت کا نام بھی ہے۔
بخدا میرے تصورات اس کتاب کے معاملے سے مزید کلئیر ہوئے ہیں۔ یہ حق و باطل کی جنگ بڑی پرانی ہے چناچہ مجھے اب کوئی چنتا نہیں۔ اللہ سائیں بہتر کرے گا۔ اگر اس وقت ابو لاعلٰی مودودی جیسے علماء موجود تھے تو آج بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقین موجود ہیں۔
بدھ، 10 اکتوبر، 2007
دوسال
میرے بلاگ کی پہلی پوسٹ پر 9 اکتوبر 2005 کی تاریخ درج ہے. بلاگ سپاٹ پر میں نے اکتوبر 2005 کے زلزلے کے ایک دن بعد پہلی پوسٹ لکھی تھی۔ اس کے بعد کبھی لکھا کبھی نہ لکھا اور پھر اسے ورڈپریس پر منتقل کرلیا۔ دوسال۔۔۔
پتا نہیں ان دوسالوں میں مَیں نے کچھ اچھا کام بھی کیا ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے اتنا احساس ہے کہ اردو بلاگنگ نے مجھے شعور بخشا۔ میں آج اگر بلاگنگ کرتا ہوں، یا ویب کے بارے میں میرے پاس کچھ علم ہے تو یہ میرے ان احباب کی کرم فرمائی ہے جو اردو محفل پر اور اردو بلاگنگ کی دنیا میں موجود ہیں۔
ان سب کا شکریہ جنھوں نے مجھے بلاگ شروع کرنے میں مدد دی، قدیر رانا، نبیل نقوی، زکریا اجمل اور محفل کے سارے دوست۔ ان سب کا شکریہ جن کے تبصروں اور حوصلہ افزائی نے مجھے مہمیز کیا کہ میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
پیر، 1 اکتوبر، 2007
محب علوی اردو ورژن
محب علوی کے ساتھ ہمارا ایک معاہدہ تھا کہ ان پر اس وقت تک نہیں لکھوں گا جب تک یہ میرے بارے نہیں لکھ دیتے۔ لیکن انھوں نے چونکہ ایسا کافی عرصے سے نہیں کیا تو ہم معاہدے کے "سو سال" پورے ہونے پر اسے کالعدم سمجھتے ہوئے بسم اللہ کرتے ہیں۔ یہ پہلے لکھی گئی پنجابی پوسٹ کا اردو ورژن ہے۔
محب علوی اب تو اچھی طرح یاد بھی نہیں محفل پر کب آیا تھا۔ شاید ہمیشہ سے محفل پر ہی تھا۔ آپ یقین کریں یا نہیں مجھے زندگی میں پہلا ملنے والا علوی محب علوی ہی تھا۔ شادی شہداء بندہ ہے لیکن کام اس کے کاکوں والے ہیں۔
ٹیلی فون کرے تو پونا گھنٹا تو گیا۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ فون اکتا کر اس کے ہاتھوں سے بھاگتا ہے تب یہ کال ختم کرتا ہے۔ اردو کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ اب یہ ٹھاٹھیں کس قسم کی ہیں میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہوسکتا ہے اونچی ایڑی والے سینڈل کی "ٹھا ٹھا" ہوں۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن یہ وہ بندا ہے جو بہت کچھ کرسکتا ہے۔ باتیں اس طرح سناتا ہے کہ اگلا بندہ کہتا ہے بس دنیا تو یہی ہے۔ اس کی اسی خاصیت کی وجہ سے اسے اردو لائبریری کا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا ہے۔ اردو ٹیک پر گیا تو وہاں بھی سائیاں اسے مزدوروں کا ہیڈ بنا دیا ہے۔
سٹیٹ لائف والوں کی بدقسمتی یہ ان کو نہیں مل سکا۔ چکما دے کر سافٹ وئیر پروگرامنگ کی طرف نکل آیا۔ ورنہ اس کے لچھن انشورنس ایجنٹوں والے ہیں۔ باتوں باتوں میں بیمار کو کھڑا کرے اور کھڑے کو بیمار کردے بیچارہ ہائے ہائے کرتا پھرے۔ اچھے بھلے بندے کو آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔ خود بے نیازی سے آگے بڑھ جاتا ہے پیچھے وہ غریب چاہے اپنی ہڈی پسلی تڑوا بیٹھے۔
شروع شروع میں مجھے بھی اس نے آسمان پر چڑھایا تھا۔ لیکن شکر ہے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مجھے تو اپنے اندر وہ وہ خوبیاں نظر آنے لگی تھیں کہ کبھی خواب میں نہیں سوچا تھا۔ ایسے بندے سے تو بندہ حسد بھی نہیں کرسکتا۔ حسد کس چیز پر کرے۔ الٹا یہ آپ کو پتنگ کی طرح آسمان پر چڑھا دے گا۔
کوئی پراجیکٹ چلانا اس کے بائیں ہاتھ کی مار ہے۔ سب کو ایک دفعہ گھن چکر بنا ڈالتا ہے۔ تم بھی آجاؤ، تم بھی آجاؤ۔ ایسے ایسے بندے لے آتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ لوگ نا نا کرکے بھی کام کر جاتے ہیں۔ بس اتنا ہی، ہاں ٹھیک ہے اتنا ہی۔ اچھا تھوڑا سا اور چلو دے دو یہ بھی۔ اور اتنے میں کام ہی ختم ہوجاتا ہے۔
میں مشورہ دوں گا جن ماؤں کے بچے سکول نہیں جاتے، کڑوی دوا پلانے پر تنگ کرتے ہیں۔ وہ چینی کی جگہ محب علوی کو ٹرائی کریں انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔
اس بندے کا نام محب علوی نہیں محبوب علوی ہونا چاہیے تھا۔ اردو کے ساتھ محبت رکھنے والے محب علوی سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا اصلی نام فاروق ظفر ہے۔ جس سے شک پڑتا ہے کہ یہ ایس ایم ظفر کا کوئی رشتے دار ہے۔ شاید اسی وجہ سے یہ اپنا اصلی نام پبلک نہیں کرتا۔
خیر ہمیں یار کی یاری سے غرض۔ محب علوی سدا خوش رہے۔ بیبا بندہ ہے۔ (بی با پنجابی میں اچھے بندے کو کہتے ہیں)۔ دعا ہے اس کا ہمارا اور اردو کا ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔ آمین۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لسانیات
ہمارے اگلے سمسٹر میں ایک مضمون پڑھایا جائے گا ہمیں جس کا نام سٹائلسٹکس ہے۔ اردو ترجمہ کریں تو انداز بیاں۔ اس کا کام یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے انداز بیاں کا کھوج لگائے۔ یہ انداز کسی لکھاری کا بھی ہوسکتا ہے جیسے آپ ممتاز مفتی کو اس کی تحریر سے پہچان لیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص الفاظ، کچھ گرامر کے پیٹرنز کا بے تکلفانہ استعمال کرتا ہے۔ گرامر کے پیٹرن کا ایک رف سا خاکہ یہ ہوسکتا ہے کہ محی الدین نواب کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ گئی، گیا نہیں لکھتا ہمیشہ یہ لکھے گا کہ چلتی ہوئی گئی، چلتا ہوا گیا۔ یہ چلتا ہوا گیا جو کہ ایک فعل گیا کی جگہ استعمال ہورہا ہے ایک خاص گرامر پیٹرن ہے۔۔کم از کم میں فورًا پہچان جاتا ہوں کہ یہ بندہ محی الدین نواب ہے۔
اگر ہم عمومی سٹائلسٹکس کی بات کریں تو یہ انداز کسی خاص شعبہ زندگی کے لوگوں کا ہوسکتا ہے۔ جیسے قانون سے تعلق رکھنے والوں کی ایک مخصوص پیشہ ورانہ زبان ہوتی ہے۔ جسے وہ عدالتوں، کچہریوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہم ان کو بھی ان کے انداز بیاں سے پہچان لیتے ہیں۔
کسی بندے کا تکیہ کلام اس کے انداز بیاں کا حصہ ہے چناچہ اکثر آپ تکیہ کلام کے بل پر دوسرے بندے کو پہچان لیتے ہیں۔ سٹائلسٹکس میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کسی بے نام لکھاری کی تحاریر کو اس تجزے کی بنیاد پر شناخت کرلیا گیا۔ کام صرف اتنا تھا کہ بے نام لکھاری کی تحاریر کا سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے، کس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے، فعل زیادہ یا اسماء زیادہ، کونسے گرامر پیٹرن زیادہ استعمال کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کام کو ان لکھاریوں کی تحاریر کے تجزیے سے ملایا گیا جن کے بارے میں کنفرم تھا کہ اس تحریر کا لکھاری یہی ہے۔ اس طرح گمنام لکھاریوں کو انداز بیاں ایک ہونے کی بناء پر جانے مانے لکھاری سے ملایا گیا اور بعض اوقات سو سال بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ گمنام تحریر فلاں لکھاری کی ہے۔
اسی بنیاد پر میں نے آج سوچا کہ اگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے تو کیسا رہے؟ یہ خیال مجھے محفل پر کئی ماہ تک پڑی رہنے والی کھپ کی وجہ سے آیا جس میں یار لوگوں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچ ہونے پر انگلیاں اٹھائیں۔
اس تجزیے کے لیے ایک ایسا بندہ درکار ہوگا جو عربی اور لسانیات کی اس شاخ یعنی سٹائلسٹکس پر عبور رکھتا ہو۔ نیز عربی کا مشینی تجزیہ کرنے کے لیے کئی سافٹویر بھی درکار ہونگے۔ یعنی اچھا خاصا ایک پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ لیکن ہمارا کام تو تجویز دینا تھا۔ پتا نہیں یہ قابل عمل بھی ہے یا نہیں۔ چونکہ احادیث کو جانچنے کے کئی معیارات صدیوں سے مستعمل ہیں۔ اسماء الرجال اور شاید صرف و نحو بھی۔ ان میں شاید انداز بیاں کا تجزیہ جیسی کوئی چیز بھی ہو۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
اتوار، 30 ستمبر، 2007
محب علوی
محب علوی نال میرا ایک معاہدہ ہویا سی کے او میرے اُتے لکھن گے تے فیر میں کاؤنٹر اٹیک کراں گا۔ لیکن عرصہ ہویا ایس گل نوں۔ اج اونھاں نال گل ہورہی سی تے میں سوچیا چلو اے وی فرض ادا کردے چلئیے۔ چونکہ معاہدے دے مطابق میں کاؤنٹر اٹیک کرناں سی ایس لئی اردو دی جگہ پنجابی وچ لکھن لگا واں۔
محب علوی مینوں ہن تے یاد وی نئیں آؤنداں محفل سے کدوں آیا سی۔ لگدا اے جیویں اے ہمیشہ توں محفل تے سی۔ تسی یقین کرو یا نہ کرو زندگی وچ پہلی دفعہ جس علوی نال ملیا او محب علوی سی۔ حالانکہ شادی شہداء بندہ اے لیکن ایدے کم کاکیاں والے نیں۔
ٹیلی فون کرے گا تے پونا کینٹا کتے نئیں گیا۔ مینوں تے اینج لگدا اے فون اَک کے ایدے ہتھوں نکل کے نسدا اے تے اے کال مکاؤندا اے۔ اردو واسطے کجھ کرن دا جذبہ ایدے اندر ٹھاٹھاں ماردا اے۔ اے ٹھاٹھاں کس قسم دیاں نیں میں کجھ کہہ نئیں سکدا۔ شاید اُچی اڈی والے سینڈل دیاں ٹھاٹھاں۔
ہون نوں بہت کجھ ہوسکدا اے، لیکن اے ایسا بندا اے جیڑا بہت کجھ کرسکدا اے۔ گلاں اینج سناؤندا اے کہ اگلا بندہ کہندا اے بس دنیا تے اے ہو ای اے۔ ایدی ایسے خاصیت دی وجہ توں اینھوں اردو لائبریری دا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا اے۔ اردو ٹیک تے گیا تے اوتھے وی سائیاں اینھوں مزدوراں دا ہیڈ بنا چھڈیا۔
سٹیٹ لائف والیاں دی بدقسمتی کہ اونھاں نو نئیں مل سکیا چکانویں دے کے سافٹ وئیر پروگرامنگ ول آگیا۔ ورنہ ایدھے لچھن انشورنش ایجنٹاں والے نیں۔ گلاں گلاں وچ بیمار نو کھڑا کر دوے دے کھڑے نوں لمے پا دوے وچارہ ہائے ہائے کردا پھرے۔ چنگے پلے بندے نوں زمینوں چک کے اسمانیں چڑھا دندا اے۔ فیر آپ بے نیازی نال اگے ودھ جاندا اے پچھوں پانویں او غریب اپنی ہڈی پسلی تڑا بیٹھے۔
شروع شروع چ مینوں وی اسمانیں چڑھایا۔ لیکن شکر اے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مینوں اپنے آپ وچ او او خوبیاں نظر آؤن لگ پیاں سی جہیڑیاں کدی میں خواب وچ وی نئیں سی سوچیاں۔ ایہو جئے بندے کولوں تے بندہ سڑ وی نئیں سکدا۔ بھئی سڑے کس چیز تے، الٹا آپ تھلے بے کے تہانوں گڈی وانگ اسمانیں چاڑھد دندا ے۔
کوئی پراجیکٹ چلاؤنا ایدے کھبے ہتھ دی مار اے۔ ساریاں نوں ایک دفعہ تے گھن چکر بنا دیندا اے۔ فلانیاں نوں وی آجا ٹینگڑیا توں وی آجا۔ ایسے ایسے بندیاں نوں لے آؤندا اے کہ تسی سوچ وی نئیں سکدے۔ لوکیں نا نا کرکے وی کم کرجاندے نیں۔ بس اینھاں ای، ہاں ٹھیک اے اینھاں ای۔ اچھا تھوڑا جئا ہور چل دے اے وی۔تے اینیں دیر وچ کم ای مک گی ہندا اے۔
میں مشورہ دواں گا جنھاں ماواں دے بچے سکول نئیں جاندے، کوڑی دوائی پین لگے تنگ کردے نیں۔ او چینی دی بجائے محب علوی نوں ٹرائی کرن انشاءاللہ افاقہ ہوئے گا۔
ایس بندے دا ناں محب علوی نئیں محبوب علوی ہوناں چائیدا سی۔ اردو نال محبت رکھن والے محب علوی نال وی محبت رکھدے نیں۔ اے علیحدہ گل اے کہ پاء جی ہوراں دا اصل ناں فاروق ظفر اے۔ مینوں ایس ایم ظفر دے کوئی قریبی شریبی لگے نیں، شاید ایسے وجہ توں محب علوی کہلواؤندے نیں۔
خیر سانوں یار دی یاری نال غرض۔ محب علوی سدا خوش رہوے۔ بیبا بندا اے۔ (نہ بی بی نا بابا، بلکہ بی با رب جانے کیس سیانے نے اے لفظ ایجاد کیتا سی خیر چھڈو تسیں اگے پڑھو) دعا اے ایدا ساڈا تے اردو دا ساتھ سدا قائم رہے۔ اور آ
جمعہ، 28 ستمبر، 2007
امید
چیف جسٹس معطل ہوئے تو پوری قوم کو جیسے 440 وولٹ کا کرنٹ لگ گیا۔ اس وقت تک سب چین سے نہیں بیٹھے جب تک چیف جسٹس بحال نہیں ہوگئے۔ چیف جسٹس بحال کیا ہوئے سب کی نظریں ان پر لگ گئیں جیسے اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ہماری یہ بڑی بری عادت ہے کہ اتنی جلدی امید لگا لیتے ہیں جیسے ابھی کوئی معجزہ ہوگا، جادو کی چھڑی گھومے گی، کوئی چھومنتر کہے گا اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
آج بی بی سی کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے صدر مشرف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے آئینی درخواستیں خارج کردی ہیں۔ اس قسم کے آثار ججوں کے تبصروں سے ہی دکھ رہے تھے۔ جانے اس خبر سے کتنوں کو دھچکا لگے گا۔ جانے کتنے بے ہوش ہونگے، چاہے کسی کا دم ہی نکل جائے۔ اور کتنے غصے میں آکر سپریم کورٹ کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پورے جسم پر سڑے ہوئے زخم ہوں تو ان کا علاج کیا ایک دن میں ہوجاتا ہے؟ نہیں ہوتا۔ یہی حال ہمارا ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کیفیت کوڑھ کے مریض جیسی ہے۔ جو اس بات کا منتظر ہے کہ آسمان سے بارش ہوگی اور اپنے ساتھ اس کے کوڑھ زدہ زخموں کو بہا لے جائے گی۔
لیکن یہ اس کی بھول ہے۔ کوڑھ صدیوں کی کاشت ہوتی ہے۔اور اسے ٹھیک ہونے میں بھی اتنا ہی عرصہ چاہیے۔ پاکستانی قوم کا کوڑھ عشروں کی کاشت ہے۔ یہ اتنی جلدی نہیں جانے والا۔
جن کی امیدیں ٹوٹیں مجھے بڑا افسوس ہے۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہی حال باقی امیدوں کا بھی ہوگا۔ پرویز مشرف پھر سے صدر منتخب ہوجائے گا۔ حزب اختلاف کے استعفے بے کار جائیں گے۔ یہ لوگ عوام کو اس ایشو پر بھی سڑکوں پر لانے میں ناکام رہیں گے۔ کاروبار زندگی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ گدھے کام کرتے رہیں گے ۔ ان کے رکھوالے موج کرتے رہیں گے۔ بس ہوگا یہ کہ گدھوں پر بوجھ کچھ مزید بڑھ جائے گا۔ کچھ مہنگائی ہوجائے گی۔ کچھ ٹیکس اور لگ جائیں گے۔ یہ جو غبارے میں پریشر بڑھا ہوا تھا۔ بڑے پیار سے آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔
ہاں ایک راستہ ہے۔ جیسے ایران میں ہوا تھا۔ ایک خونی انقلاب، جو شاید اس قوم کی تقدیر کو بدل دے ۔ لیکن انقلاب بہت کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی، سہاگنوں کے تاج اور بچوں کے والی۔ اگر انقلاب نہیں تو پھر نشتر بہت احتیاط سے چلانا ہوگا۔ تاکہ صحت یابی بھی ہو اور خون بھی کم نکلے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی، محفل پر کچھ گفتگو ہورہی ہے۔ بس یونہی ہمیں لگا شاید ہم کچھ کرسکتے ہیں۔ آپ کا خیال اگر ہم سے ملتا ہے، کہ ہم میں دم ہے ابھی، کچھ کرسکتے ہیں۔ تو آئیے شاید ہم سچ میں ہی کچھ کرسکیں۔
وسلام
جمعرات، 6 ستمبر، 2007
ورڈپریس 2.3 بی ٹا اور اشتہارات
نبیل بھائی نے کل جب یہ واضح کیا کہ محفل پر اشہتار ایسے ہی چل رہے ہیں تو ہم نے بھی اپنے بلاگ پر ایڈسینس کا کوڈ گھسیڑ ڈالا۔ اشتہار تو آرہے ہیں لیکن کچھ نامعقول قسم کے اشتہارات بھی ہیں۔ ان کا سادہ حل یہ ہے کہ کی ورڈز ٹھیک ہوں۔ اب اردو والے کہاں سے کی ورڈز لائیں؟
لیکن ورڈپریس 2.3 ایک نئی سہولت لے کر آرہا ہے۔ اسی میں ٹیگ لگانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اور میرا خیال ہے یہ انگریزی ٹیگ اگر پوسٹ کے ساتھ نمودار ہوں تو بغیر کسی غیر قانونیت اور دشواری کے یہ کی ورڈز کا کام کریں گے۔ اس طرح اشتہارات کی ٹارگٹنگ اچھی ہوسکے گی۔
منگل، 28 اگست، 2007
اردو مارفالوجی ایپلیکیشن
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔
جمعہ، 1 جون، 2007
کیا پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہے؟
محفل پر ایک نہایت ہی محترم رکن نے دوران گفتگو یہ بات کی کہ پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ان کی باتوں کے آغاز میں گالی درمیان میں گالی اور آخر میں بھی گالی ہوتی ہے۔
میں ایک پنجابی ہوں۔ پنجاب کے ایسے شہر کا رہنے والا جو قریبًا پنجاب کے درمیان میں واقع ہے۔ سوچا اس پر کچھ تحقیق کروں۔ محفل پر کچھ احباب نے اوپر دئیے گئے اس بیان پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے بھی ایک نہیں لکھ مارا کہ ایسا نہیں۔ لیکن بعد میں جب تسلی سے سوچا تو نتیجہ کچھ اور نکلا۔ میں کوشش کروں گا کہ اس سارے سلسلے کو غیر جانبدار ہوکر دیکھ سکوں۔
بدھ، 23 مئی، 2007
میرے ویب دوست (چلتے چلتے ایک کرم فرما پر میری نظر کرم)
امانت علی گوہر۔ بقول علمدار ان کے نام سے لگتا ہے کہ ایک نہیں تین بندے ہیں جنھیں پیک کردیا گیا ہے۔ امانت علی گوہر کے بارے میں ہمارے احساسات بڑے مریدانہ قسم کے تھے۔ ان سے واقفیت تب کی ہے جب یہ گلوبل سائنس میں لکھا کرتے تھے اور ہم ان کی تحاریر پڑھ پڑھ کر سر دھنا کرتے تھے۔
(کبھی ان کا سر دھننے کا خیال آیا ہو تو حد ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ذکر نہیں کررہے ۔) ان کے بارے میں اگلی سن گن اس وقت ملی جب ہم محفل پر تشریف لائے۔ یہ بھی کبھی کبھی آیا کرتے تھے۔ اس وقت ہمیں محسوس ہوتا تھا یہ کوئی انٹلکچوئل قسم کی چیز ہیں۔ مثلًا ایک بار تشریف آوری ہوئی تو ایک عدد اردو ورڈ فریکوئنسی کاؤنٹر بنا لائے۔ اب ہم ٹھہرے پینڈو ہم اتنے میں ہی مرعوب ہوگئے۔
پھر پتا چلا کہ طبیعت ناساز رہتی ہے۔ تو ہم نے اس سارے سیاق سباق سے یہ اندازہ لگایا کہ دانشور قسم کی چیز ہیں اور نازک طبع بھی کہ ذرا سی بات سے طبیعت ناساز ہوجاتی ہے۔
ان کا اگلا ٹاکر ہم سے محمد علی مکی کے "تھرُو" ہوا۔ انھوں نے انھیں ہماری طرف تھرو کردیا۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا مکی بھائی فون پر ہم سے بات کررہے تھے کرتے کرتے انھوں نے انھیں فون پکڑا دیا۔ ہمیں نوے فیصد شک ہے کہ ان کے احترام میں فورًا اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے ہم(اگرچہ یہ دو ماہ سے پرانی بات نہیں لیکن صاحبو ایسی باتیں ہمیں بھولنے کی پرانی عادت ہے)۔ ان کی آواز سنی تو لگا جیسے ساتھ والوں کا چھوٹا لڑکا بول رہا ہے۔ اس دن ہمارے ارے ارمان چکنا چور ہوگئے۔ ہم جو ان کو پیر و مرشد بنانے کے خواہش مند عرصہ دراز سے تھے اب ان کے انکل کے رتبہ جلیلہ پر فائز ہیں۔ یہ بھی لمبی داستا ن ہے بس اتنا سمجھ لیں کہ ایک بار جب ہم نے اپنی عمر عرض کرکے کہا کہ ابھی تو ہمارے کھلینے کودنے کے دن ہیں تو انھوں نے جواب آں غزل کے طور پر اپنی عمر ظاہر فرمائی اور ہمیں شک ہوا کہ اگر ہمارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں تو ان کے لازمًا جھولا جھولنے کے دن ہونگے۔
ٰامانت علی گوہرٰ واقعی تین بندے ہیں۔ جو کام انھوں نے "اتنی سی عمر" میں سنبھالا ہوا ہے ایک بندے کا کام نہیں۔ ویسے ہمیں شک ہے کہ ٰگوہرٰ ان میں عارضی بندہ ہے۔ چونکہ یہ ابھی منے ہیں لیکن بڑے ہونے پر ان کی شادی بھی ہوگی۔ اور ہمیں 99 فیصد یقین ہے کہ شادی کے بعد ان کا نام امانت علی گوہر نہیں امانت علی ٰشوہرٰ ہوجائے گا۔
امانت علی گوہر ہمارے بہت اچھے دوست اور کرم فرما ہیں۔ ان کی بدولت ہم خود اب لکھاری لکھاری سا محسوس کرتے ہیں۔ چلتے پھرتے یونہی جب خیال آئے کہ کمپیوٹنگ میں ہماری تحریریں بھی چھپتی ہیں گردن میں سریا آجاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا اور کمپیوٹنگ کا ہم سے اور اردو سے ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔
پیر، 26 مارچ، 2007
میرے ویب دوست
اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔
بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔
ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔
قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔
بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔
بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو ---کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔
بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔
اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔
کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔
ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔
شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب
;)
محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔
چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔
اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔
اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح "موج" بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔
ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔
اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
وسلام
ہفتہ، 3 مارچ، 2007
کراچی والوں سے بات کرنا
اردو بولنا اور اردو کے لیے بولنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کا احساس ہمیں اس وقت ہوا جب محفل کے کچھ احباب سے ہماری فون پر بات ہوئی۔ اور شومئی قسمت یہ احباب کراچی سے متعلق تھے۔ چونکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے یعنی منی پاکستان تو یہاں اردو ہی عمومًا بولی جاتی ہے۔
فہیم ہمارے بہت اچھے دوست ہیں محفل پر انھوں نے موبائل نمبر مانگا ہم نے بڑی خوشی سے دیا۔ ایک دن ان کا فون آگیا۔ بس نہ پوچھیں جناب کہ جو اس دن ہوئی۔ ہمارے بھائی صاحب اردو کے الفاظ لڑھکائے چلے جاتے تھے اور ہم ان کو سنبھالنے اور اکٹھا کرنے کے چکر میں ہلکان ہوئے جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی بات سمجھ میں آئی اور آدھی سر پر سے گزر گئی چونکہ منہ پر بات کہہ دینا ہماری پرانی عادت ہے اس لیے ہم نے فہیم سے بھی کہہ دیا بھائی جی اپنی سپیڈ ذرا آہستہ کرلیں ہمیں آپ کی اردو پتھروں کی طرح لگ رہی ہے۔
صاحبو ہم ٹھہرے پنجابی بولنے والے اردو لکھ تو لیتے ہیں لیکن بولنا اور وہ بھی فراٹوں کے ساتھ ابھی کم ہی آتا ہے۔ خیر کچھ مزید احباب کے ساتھ چند بار بات ہوئی اور اب افاقہ ہے سو میں سے اسی الفاظ سمجھ میں آجاتے ہیں جو نہیں آتے ہم ان پر بات بدل کر پردہ ڈال لیتے ہیں۔;)
جمعہ، 23 فروری، 2007
گیلیون(Galeon) گنوم کا بنیادی ویب براؤزر فی الوقت (کے)اوبنٹو پر میرے لیے بہترین اردو سائٹ براؤزر
آج بہت دنوں بعد دوبارہ سے لینکس پر انٹرنیٹ فعال کرواسکا ہوں۔ میں اصل میں روٹر سے براہ راست انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں اور میرے کیبل نیٹ ورک پر آئی پی سسٹم سارے کا سارا DHCP کے تحت ہے یعنی خودکار پی سی جاگتا ہے سرور سے رابطہ کرتاہے اور اس کو ایک آئی پی الاٹ ہوجاتا ہے میرے کیبل نیٹ ایڈمن نے روٹر کی میری درخواست پر نیٹ ورک ہب سے منسلک کرکے مجھے نیٹ استعمال کرنے کی اجازت تو دے دی تھی لیکن اس سے ایک مسئلہ بن رہا تھا جب بجلی بند ہونے کے بعد دوبارہ آتی تو روٹر صاحب بھی جن کا DHCPبھی فعال تھا پراکسی سرور کے ساتھ آئی پی بانٹنے لگ جاتے جس کے نتیجے میں سرور کے فکسڈ آئی پی کے ساتھ اس وقت چلنے والے سسٹم کا آئی پی پھڈا پڑ جاتا ایک ہی آئی پی پر دونوں اپنا راگ الاپنے لگتے اور نیٹ ورک کا بیڑہ غرق ہوجاتا تین چار بار اس سلسلے کو بجلی کی بندش کے بعد آمد سے مسئلہ پیدا ہونے کی وجہ سے منقطع کرنا پڑا اور میں لینکس پر نیٹ کے سلسلے میں محدودہوجاتا آج میں نے آخر روٹر میں جاکر اس کا ڈی ایچ سی پی ہی غیرفعال کروادیا اب چاہے جتنی بار مرضی بجلی بند ہولے روٹر بے چارے کا منہ بند کیا جاچکا ہے۔
لو جی بات کیا کرنی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ میں نے آج فائر فاکس (اوبنٹو کی آفیشل رپازیٹری سے) اتار کر نصب کیا تو سوچا گیلیون بھی نصب کرکے دیکھ لوں شاید چل جائے آخری بار اسے نصب کیا تھا تو ساتھ فائر فاکس بھی چلا آیا تھا جیسے فلموں میں اداکاراؤں کے ساتھ نانیاں دادیاں چلی آتی ہیں۔ اللہ اللہ کرکے نصب ہوا تو اس نے پراکسی لینے سے انکار کردیا تھا مصر تھا کہ گنوم کو بھی بلایا جائے اب بندہ پوچھے اگر گنوم پر ہی دھکے کھانے تھے تو میں کے ڈی ای پر کیوں آتا۔ اب چونکہ ہمارا نیٹ بغیر پراکسی کے چلتاہے اس لیے یہ ہماری بات مان گیا اور اب ہم اس پر اردو کی سائٹس کو وزٹ کیا کریں گے خصوصًا محفل اور بلاگز جہاں پر ویب پیڈ کنکرر میں چلتا نہ تھا اور جن کا اردو نسخ ایشیا ٹائپ یا کوئی دوسرا فونٹ فائر فاکس میں صحیح نظر نہ آتا تھا۔ محفل کا گیلیون سے ایک منظر