ہیروئن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ہیروئن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 20 جولائی، 2010

دی کراٹے کڈ

لو جی ساڈے ذاتی مشاہدے دے مطابق اج کل کی فلموں میں نوعمر ہیرو ہیروئن فیشن ہیں۔ جیسے آج سے چالیس سال قبل کی فلموں میں آنٹیاں ہیروئن آجایا کرتی تھیں، آج کل جوان بی بیاں امیوں کے کردار وچ آندی ہیں۔ ہُن تسیں کہو گے او کِنج۔ تے اسیں تہانوں دساں گے او اِنج کہ اساں ہُنیں ہُنیں کراٹے کڈ ویکھی ہے۔ ہُن تُسیں پُچھو گے اے کی ہے؟ تے اسیں تہانوں دساں گے کہ اے ایک فلم ہے۔ مزید معلومات لئی گوگل نوں زحمت دو۔ تب تک ہم آپ کو ایک دو فوٹو دکھا دیتے ہیں۔


تے کیسی لگی جی آپ نوں فوٹو؟ مزید فوٹو کے لیے فیر گوگل کو زحمت دیں۔ ہمارا تو کہنے کا مطبل بس اتنا تھا کہ ہم نے بڑے عرصے بعد جیکی چن اور بروس لی سٹائل کی مووی دیکھی ہے۔ ہیرو پہلے رج کے ذلیل ہوتا ہے پھر اسے ایک ماسٹر مل جاتا ہے جو اسے کنگفو سکھاندا ہے اور پھر ہیرو ولن کا مقابلہ بیٹھتا ہے۔ مقابلہ بھی ایک ٹورنامنٹ میں، جیسا کہ اکثر ایک امریکی ہیرو کی فلموں میں ہوا کرتا تھا۔ کیا بھلا سارا ناں سی پائی دا یاد نہیں آرہا ایس ویلے۔ خیر اس فلم میں بچہ جی یعنی ہیرو جی کی اماں جی ڈیٹرائٹ امریکہ سے چین میں لینڈ فرماتی ہیں۔ بچہ جی کو ایک بچی جی یعنی ہیروئن جی چنگی لگتی ہیں۔ پہلے دن ہی، کیسی گل ہے نا جی ایڈوانس جنریشن،۔ لیکن پہلے دن ہی ہیرو جی کی ٹھکائی ہوجاندی اے ولن جی کے ہتھوں، حسب معمول ولن جی ہیروئن کا قریبی عزیز ہے۔ اس کے بعد بچہ جی سوری ہیرو جی کچھ وقت ذلیل ہوتے ہیں دو ایک بار دب کے کُٹ کھاتے ہیں اس کے بعد فیر جیکی چن جی آجاتے ہیں۔ ہائے  ہائے وہ بھی کیا دن تھے جب ہم جن تھے اب ہم دیو ہیں جنوں کے پیو ہیں۔ جیکی چن جی کبھی خود ایسی فلموں میں ماسٹر کے ہاتھوں جلییییییییییییییل ہورہے ہوتے تھے۔ ماشٹر عجیب و غریب انداز میں ٹریننگ دیتا اور انھیں لینی پڑتی، کیا کرتے ہیرو جو تھے۔ اس فلم میں موصوف اپنا سارا غصہ بچہ جی سوری ہیرو جی پر کڈتے ہیں۔ کیسے کڈتے ہیں آپ فلم دیکھ کر ملاحظہ کیجیے۔ بس اتنا سمجھ لیے کہ ہیرو جی ٹورنامنٹ سے پہلے تیار ہوجاتے ہیں۔ پھر حسب معمول فائنل کشتی ہیرو جی اور ولن جی کی بندھتی ہے۔ اور فیر ہوتا ہے مقابلہ۔ لیکن ٹھہریں، ایک واری فیر حسب معمول ہیرو جی کو بجی، ارے اپاہج کو کہتے ہیں جی پنجابی میں، کرنے کی سازش ہوتی ہے اور ہیرو کی ایک ٹانگ پر ولن جی کا ساتھی جان بوجھ کر ضرب لگا کر انھیں لنگڑا کردیتا ہے۔ ماسٹر جی اس کا دیسی چینی علاج کر تو دیتے ہیں پر پاء جی سٹ تے سَٹ ہوتی ہے جی۔ سو ہیرو جی لنگڑاتے ہوئے مقابلے میں واپس آتے ہیں جب کہ ولن جی تقریبًا جیت چکے ہوتے ہیں۔ اور فیر ہندی ہے ایک دھانسو قسم کی فےٹ۔ ہائے ہائے، اس کے ایشکن تے تُساں کو سکرین پر ہی چنگے لگیں گے۔ چناچہ تشریف لے جاؤ تے فلم ویکھو، اگر ڈالر ہیں تے سینما وچ ویکھو نہیں ہیں تے ٹورنٹ توں ڈاؤنلوڈ کرکے۔
ہیں جی؟

جمعہ، 8 جنوری، 2010

فلمیں شلمیں

پچھلے  سے  پچھلے ماہ اور پچھلے ماہ کے پہلے پندرھواڑے تک بجلی وافر مقدار میں ملتی رہی اور ہمیں مفت کا ایک وائرلیس نیٹ ورک بھی ملتا رہا تو اہم نے اسے رج کے استعمال کیا اور ڈھیر ساری فلمیں اتاریں۔ ان فلموں میں سے دو فلمیں جو یاد رہ گئیں وہ ان کی آپسی مماثلت ہے۔ سروگیٹس میں ایک سائنسدان ایسے روبوٹس ایجاد کرتا ہے جو انسانوں کے دوسرے جسم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ خود سارا دن ایک تابوت میں لیٹے رہیں اور آپ کا روبوٹ اوتار آپ کی جگہ کام کرے گا چونکہ اصل میں وہ بھی آپ ہی ہیں، وہی محسوسات اور ویسا ہی بلکہ طاقتور جسم۔ اس فلم کے آخر میں یہ سارا نظام اس کے خالق کے ہاتھوں ہی تباہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس فلم کا گنجا سا ہیرو پتا نہیں اس کا نام کیا ہے سارے انسانوں کو بچا لیتا ہے اور روبوٹ نظام قیں ہوجاتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں بڑی پسند آئی وہ اوتار ہے۔ کہانی  کی بنیاد وہی ہے ایک عدد ہیرو اور ایک عدد ولن۔ ایک ہیروئن اور اس کے گھر والے جن کو آخر میں ہیرو بچا لیتا ہے۔ اور ہاں ہیرو کی ٹریننگ بھی۔ لیکن جو چیز اس کی بہت اچھی تھی وہ ایک نئی دنیا تھی۔ آج کل کارٹون والے اور فلموں والے ایسی کہانیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں جن میں غیر ارضی مخلوق کو دکھایا گیا ہو۔ آپس کی بات ہے یہ اچھی بھی بہت لگتی ہے۔ بہت دلچسپ، ہماری بھی اندر سے خواہش ہے کہ ایسی دنیاؤں کے بارے میں جانیں جو ارضی نہ ہوں۔ اس فلم میں اینی میشن اور حقیقی عکس بندی کو کچھ اس طرح ملایا گیا ہے کہ ایک شاندار منظرنگاری پر مشتمل فلم وجود میں آئی۔ ارے ہاں اس کی سروگیٹس سے مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ معذور ہیرو ان انسان نماؤں میں ایسے ہی شامل ہوتا ہے جیسے سروگیٹس میں لوگ روبوٹس کو بطور متبادل جسم استعمال کرتے ہیں۔ ہیرو صاحب ایک تابوت نما چیز میں لیٹ جاتے ہیں پھر اللہ تیری یاری ہیروئن کے ساتھ چھلانگیں لگاتے پھرتے ہیں۔ اگرچہ ہیروئن کوئی اتنی "خوبصورت" نہیں تھی لیکن ہیروئن تو تھی نا۔ بہرحال فلم پسند آئی اور بہت ہی پسند آئی۔ بلکہ مجھے تو اتنی پسند آئی کہ میرا دل کیا کہ یہاں تبلیغ کرنے پہنچ جاؤں۔ الو کے پٹھے پتا نہیں کس کی عبادت کررہے ہیں اللہ میاں کی عبادت کریں۔  ہاں ان کے ہاں کعبے کا مسئلہ ہوتا لیکن وہ تو حل ہوجاتا جن محددات یعنی جتنے ارض بلد اور طولبلد پر کعبہ یہاں واقع ہے ایسا ہی وہاں بنا لیتے۔ کرنی تو عبادت ہے نا جی۔ ہائے ہمارا کتنا دل کرتا ہے ساری دنیا بلکہ ساری کائنات کو مسلمان کرلیں۔ اور خود آپس کے سیاپے ہی ختم نہ کر پائیں۔
خیر تُسیں چھڈو۔ یہ خبر پڑھو۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلم بن جائے گی، سہ جہتی ہے نا اس لیے اس کا ٹکٹ بھی مہنگا بکتا ہے۔ چلو جی سانوں کی، ہمیں تو مفت مل جاتی ہے دیکھنےکو۔ اصل سواد تو دوسری تیسری قسط کا ہے۔ سنا ہے ہدائیتکار صاحب کہانی ہٹ ہوگئی دیکھ کر اب دوسری تیسری قسط کے لیے چھری کانٹا تیز کررہے ہیں۔