معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 2 فروری، 2017

ایک خواہش

یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور  بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔

بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا  ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔

حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔

تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اپنے پاس بلا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔

ہفتہ، 23 جولائی، 2016

مرد

پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔

مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔

فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔

ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔

اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین

منگل، 15 دسمبر، 2015

132 بچے

ہاں 132 بچے تھے اور 16 دسمبر کا دن تھا۔ پچھلے برس بھی جب یہ خبر میرے سامنے آئی تھی تو میں کلاس پڑھا رہا تھا۔ پھر جیسے جیسے شام ہوتی گئی قطرہ قطرہ کر کے غم برداشت سے باہر ہوتا گیا اور میری آنکھیں برس پڑی تھیں۔ یہ تحریر انہیں لمحات میں لکھی گئی تھی۔
آج ایک دن کم ایک برس بعد میرے اندر لگے الارم کلاک نے پھر وہی کیفیت تازہ کر دی ہے۔ آج میں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک سرد اور اجنبی سرزمین پر تنہا بیٹھا اسی غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔ 132 بچے اور ان میں ایک ننھی سی بچی بھی تھی۔ میرا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے شاید مجھے احساس نہیں ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں اس غم کا ایک اربواں حصہ شاید محسوس کر سکتا ہوں جو ان بچوں کے ماں باپ پچھلے ایک برس سے جھیل رہے ہیں۔ جوان اولاد کھونے کا دکھ تو میرے ماں باپ بھی سہہ چکے ہیں اس لیے شاید میں اس اذیت کا عینی شاہد ہوں جو تاعمر ماں باپ کے جھریوں زدہ چہروں میں پیوست ہو جاتی ہے۔ جوان اولاد کی موت کا دُکھ بہت بڑی اور بُری چیز ہے۔ کمر توڑ دیتا ہے، بال سفید کر دیتا ہے، قویٰ میں سے جان نکال لیتا ہے اور زندگی بھر کا روگ لگا جاتا ہے۔ ہر عید شبرات اور خوشی پر تازہ ہو جانے والے زخم دے جاتا ہے۔ ماں باپ کو اولاد کبھی نہیں بھولتی چاہے رب اور کتنے ہی دے دے۔ ماں باپ کو بنایا ہی ایسا گیا ہے۔
اور میں یہاں بیٹھا قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں۔ شاید یہ ان معصوم طلبہ کا دکھ ہے، یا ان سے پہلے اس جنگ کا ایندھن بننے والے ہزارہا معصوموں کا دکھ ہے یا میرا اپنا بازو ٹوٹ جانے کا دکھ ہے۔ میں جذباتی ترانے سنتا ہوں تو میرے اندر سے غم اُبل اُبل کر باہر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مرے ذہن میں بیٹھا ایک اور شخص جمع تفریق بھی کر رہا ہے۔
پچھلے ایک برس میں کیا بدلا ہے؟
آتش و آہن کے کھیل کو روکنے کے لیے آتش و آہن کے استعمال کے علاوہ ہم نے اور کیا کِیا ہے؟
تعلیم اور تربیت، ذہن سازی اور قوم سازی کے لیے ہم نے کیا کِیا ہے؟
ابھی کل ہی لاہور حفیظ سنٹر پر ایک مذہبی اقلیت کے نازیبا کلمات ہٹانے کے خلاف ہونے والے احتجاج کی خبر پڑھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ آخر بدلا کیا ہے؟ کیا رویے بدل گئے ہیں؟ کیا برداشت پیدا ہو گئی ہے؟
کیا تیس برس قبل ہم نے نفرت و عداوت اور شدت پسندی کا جو کوڑھ کاشت کرنا شروع کیا تھا اسے آج ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں؟
کیا ہم نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے؟
برداشت، رواداری، حسنِ سلوک اور محبت یہ وہ جادوئی رویے ہیں جو ہمیں پھر سے یکجا کر سکتے ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صرف آتش و آہن سے ہی نہیں کسی اور محاذ پر بھی ایک ضربِ عضب کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ذہنوں میں قانون سازی کرنی ہو گی۔ ہمارے ادارے (خدا کرے کہ یہ خیال درست ہو) اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں، بحیثیت قوم اور افراد ہمیں سبق سیکھنا اور اپنے رویوں کی اصلاح کرنی ہے۔ وگرنہ ہمارا کام ہر سفاکی کے بعد اس کو کفار کی سازش ثابت کرنا ہی رہ جائے گا جیسے پچھلے دنوں امریکی شہر میں ہونے والے قتل عام میں ملوث پاکستانی خاتون کے معاملے میں ہوا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ 
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ہفتہ، 28 جون، 2014

سیاہ سیات

اس ملک میں ایک دیوار ہو جانا، یا درخت ہو جانا، یا راستے کا کوئی پتھر ہو جانا چاہے اسے ٹھُڈے پڑتے رہیں، یہ سب آسان کام ہیں۔ لیکن انسان ہونا مشکل اور ہولناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ دیوار، درخت اور پتھر نہ سنتے ہیں نا بولتے ہیں۔ اپنی دنیا (اگر ایسی کوئی دنیا ہے تو) میں مست رہتے ہیں۔ کوئی توڑ دے، اکھاڑ دے یا ٹھُڈے مارتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بدقسمتی سے انسان سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ اور اس سننے بولنے دیکھنے کی وجہ سے اس ملک میں انسان ہونا انتہائی مشکل اور بدترین باتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ پتھر ہو جائے صم بکم بے حسی کی آخری حدوں کو چھو لے یا پھر کف اڑاتا اور گالیاں بکتا پھرے۔ اور یہاں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یا تو بے حس ہو جاؤ یا پھر لڑنے کے لیے ہر دم تیار رہو۔

اخبار، فیس بک، ٹیلی وژن کچھ کھول لو ہر جگہ باؤلے پاگل ک (کتے والا کاف ملحوظ خاطر رکھیں) کا ایک گروہ نظر آتا ہے جو اقتدار نامی ہڈی ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ زمانہ جاہلیت اور دو تین سو سال قبل والی بادشاہت اور اس سے پہلے خلافت کے بھیس میں بادشاہت موجود نہیں اس لیے صرف منہ سے کف اڑانے اور ہُورے مُکے دکھانے پر ہی اکتفا ہوتا ہے۔ ورنہ یہاں ہر چوتھے دن لاشوں کا جمعہ بازار لگا کرتا۔ ہر کوئی مصلح قوم بن کر تلوار اٹھاتا اور بادشاہ/خلیفہ کے خلاف نکل کھڑا ہوا کرتا۔

جس دن کوئی لغت تیار کی تو سیاست کا غیر رسمی نام کنجر خانہ بھی پاورقی میں لازمی دوں گا۔ کہ ہر وقت تو کنجر خانہ لگا رہتا ہے۔ اور اسی کنجر خانے کو قوم نے تفریح طبع کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سارا دن دوکانوں، گھروں، مسافر خانوں، دفاتر میں ٹیلی وژن چلتے ہیں۔ اور سارا دن اقتدار کے بھوکے ک کی بھونکیاں چار چار لکیروں کی صورت میں "بریکنگ نیوز" بن کر چلتی رہتی ہیں۔ فلاں ک نے یہ کہہ دیا، فلاں وڈے ک نے یہ کہہ دیا۔ ہر ک کے الفاظ وکھرے مگر مفہوم یکساں: مجھے اقتدار سونپ دو اور دیکھو پھر میں اس ملک کو ساتویں آسمان پر لے جاؤں گا۔ خود دفعان ہو جاؤ۔ 

قوم نے اس کنجر خانے کو اب قومی کھیل سمجھ لیا ہے۔ کرکٹ گیا، ہاکی پھُس ہو گئی، سکواش ٹھُس ہو گئی۔ کبھی دھماکے ہو گئے، کبھی غیر ملکی ٹیم پر حملہ ہو گیا۔ کبھی میچ لگا تو نچلی نسل کے محلے دار مصلحان قوم نے فتویٰ دے دیا لو ساری قوم کو میچ دیکھنے پر لگایا ہوا ہے، بھلا یہ کوئی شیوہ مسلمانی ہے؟ اور اب سیاسی کنجر خانے سے آنکھیں چمٹی رہتی ہیں، اسی میں تفریح تلاش ہوتی ہے، کھاتے پیتے سوتے جاگتے اسی سے کان بھرتے رہتے ہیں نتیجے میں خون مسلسل دھیمی آنچ پر کھولتا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نیم کھولنے کی کیفیت میں ایک نشہ سا آ گیا ہے۔ ساتھ خود ترسی کا جام بھرا ملتا ہے تو چسکیاں لیتے ہوئے دو آتشہ کیفیت ہو جاتی، پوری قوم اس افیم کے نشے میں دھت ہلکے ہلکے سرور میں کھوئی اپنے کام کرتی چلی جاتی ہے اور ک اپنے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔

ادھر کسی اور ملک سے ایک غیر ملکی اپنے گروہ کے ساتھ انقلابی پھکی لے کر نمودار ہوتا ہے۔ نعرہ نظام بدلنے کا ہے اندر خواہش اپنے اقتدار کی ہے۔ وہی پہلے پیرے والی بات: بیان وکھرا وکھرا۔۔۔۔لیکن مفہوم ایک بس مجھے اقتدار دے دو۔ ادھر کہیں سے کوئی خلافت کا نعرہ لگاتا ہے نظام نہیں سب کچھ بدلو جھُرلو پھیرو بادشاہت لاؤ پھر دیکھو کیا مزیدار چاٹ بنے گی۔ مفہوم وہی پہلے پیرے والا تم سب دفعان ہو جاؤ متقی اور پرہیزگار تو میں ہی ہوں اس لیے خلیفہ/ بادشاہ بننے کا حقدار بھی میں ہی ہوں بس مجھے اقتدار دو پھر دیکھتا ہوں۔ اور پھر کچھ جو زبان نہیں چلا سکتے وہ بندوق اٹھا لیتے ہیں کبھی مذہب کا نام ہے اور کبھی محرومیوں کا نام ہے لیکن منزل وہی ہے کہ اقتدار ملے۔

اور یہ قوم افیم کے نشے میں سوئی رہتی ہے ساتھ مارفین کے ٹیکے بھی لگتے رہتے ہیں: تمہارا ملک بڑا عظیم ملک ہے۔ ارے یہ تو اللہ نے بچایا ہوا ہے ورنہ جتنا اسے کھا لیا یہ تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ ارے ساری دنیا، کفار کے سارے ملک اور ساری ایجنسیاں اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ ارے اس کے بانوے ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہیں۔ ارے یہاں کیا چیز نہیں ہے، ہر چیز ہے بس یہ لوگ کھا جاتا ہے ہمیں نہیں دیتے۔ ارے اس کی جغرافیائی لوکیشن ہی تو سب کچھ ہے، اسی لیے تو امریکہ توڑنا چاہتا ہے اسے۔

مارفین کے نشے کے ٹیکے لگتے رہتے ہیں اور قوم لگے دم مٹے غم کا نعرہ لگا کر مست رہتی ہے۔ بجلی نہیں ملتی (گردشی قرضہ چڑھتا چلا جاتا ہے)، گیس ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور روٹی پکانے کو بھی نہیں ملتی، پانی، زرعی زمین، جنگلات غرض ہر قدرتی وسیلہ (جو جتنا بھی ہے) ہر روز ناسور کی طرح پھیلتی آبادی ہڑپ کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر دن اگلے دن سے زیادہ اوکھا نکلتا ہے۔ لیکن قوم اپنے آپ میں مست، جُتیاں بھی کھاتی رہتی ہے اور ہذیانی کیفیت میں بڑبڑاتی بھی چلی جاتی ہے۔ ہر دوسرے چوتھے دن کوئی ڈرامہ کھڑا رہتا ہے قوم کی انٹرٹینمنٹ کے لیے۔ کنجر کنجروں کے خلاف عدالت لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور قوم ہمیشہ کی طرح دھیمی آنچ والے نشے میں انجوائے کرتی رہتی ہے۔ کبھی ایک ک دوسرے کو جج کی کرسی پر برداشت نہیں کر سکتا اور جلدی باری لینے کے لیے لڑنے لگتا ہے کبھی ایک ک جب باری دے رہا ہو تو حاجی ہوتا ہے باری لینے پر آ جائے تو اسی ک کی پگ سر پر رکھ کر اس سے ایک انچ وڈا ک بن جاتا ہے۔ اور پھر ایک تیسرا ک کہیں اور سے آ کر کہتا ہے اوئے اے عدالت نئیں لگ سکدی ساڈا حصہ وی دؤ۔ سارا ڈرامہ چلتا رہتا ہے۔ اور پاکستانی یا تو پتھر، درخت  دیوار ہو جائے یا پھر گریبان پھاڑ کر ملنگ ہو جائے۔ درمیان میں کہہ رہ گیا تو دھیمی آنچ پر کھولتا اس کا لہو ایک دن لاوے کی طرح پھٹتا ہے اور نتیجے میں نقصان صرف اُس کا ہوتا ہے ک عدالت ویسے ہی لگی رہتی ہے۔

پر سانوں کی؟ ویسے بھی کنجر خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے؟

پیر، 24 مارچ، 2014

دو قومی نظریہ؟

اس قوم کی تاریخ میں اتنے بڑے بڑے ہاسے ہیں کہ ہس ہس کر وکھیاں ٹوٹ جائیں لیکن ہاسے مخول ختم نہیں ہوتے۔ مثلاً یہ دو قومی نظریہ ہی لے لیں۔ ایک وقت تھا جب ابو الکلام آزاد وغیرہ کے خیال میں دو قومی نظریہ کچھ نہیں تھا۔ آج کل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ابوالکلام بعد میں اپنے خیال پر پچھتائے۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ ابوالکلام نے کوئی پیشن گوئیاں کر دی ہوئی تھیں کہ بنگال اور مغربی پاکستان وغیرہ کے ٹوٹنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خیال چونکہ دو قومی نظریے کی جانب پچھواڑا کر کے چلتا چلا جاتا ہے اس لیے اس کے پچھواڑے پر ہی حتی المقدور لات رسید کر کے اسے  دفع دور کیا جاتا ہے اور دو قومی نظریے کی جی جان سے حفاظت کی جاتی ہے۔

سینتالیس میں جو دو قومی نظریے کے مبینہ مخالف تھے آج وہ اس کے مبینہ وارث بنے بیٹھے ہیں۔ اور جو دو قومی نظریے کے مبینہ وارث تھے آج کل وہ مبینہ طور پر فریڈم مارچ وغیرہ نکالتے پائے جاتے ہیں۔ ہے نا ہاسے والی گل۔ سنا ہے کہ جس دن محمد بن قاسم نے برصغیر پر حملہ کیا تھا اس دن یہاں دو قومیں بن گئی تھیں ایک مسلمان اور ایک ہندو۔ پھر سینتالیس ہو گیا اور پھر اکہتر ہو گیا اور مسلمانوں کے اندر دو مزید قومیں بن گئیں۔ ایک بنگالی اور ایک پاکستانی۔ اور پھر اپنی ماں پاکستانی قوم کو کھا کر اس کے پیٹ سے کوئی ادھی درجن اور قومیں نکل آئیں۔ انہیں میں سے کل سندھی نامی ایک قوم کوئی لال جھنڈے اٹھائے کسی پاکستان نامی ملک سے آزادی کے نعرے لگا رہی تھی۔ ہے نا ہاسے والی گل کہ دو قومی نظریہ جو اب کثیر قومی نظریہ ہو گیا ہے لیکن نہیں ہوا۔ عیسائیوں کی تثلیث کی طرح۔ سارے ایک ہیں اور ایک سارے ہیں۔ کیسی ہاسے والی سی گل ہے نا جی؟

دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور باقی کافر ہیں۔ چنانچہ دنیا میں صرف دو قومیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ ارے نہیں مسلمان ایک امت ہیں۔ اور کافر ایک اور امت ہیں دو پھر دو امتیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ یعنی دو بیانات کو اکٹھا کریں تو ریاضی کی زبان میں قوم = امت۔ اور نتیجہ؟ ایک پانچ ٹانگوں اور دو دھڑ والا بچہ۔ جو امت بھی ہے اور قوم بھی ہے۔ قوم بھی ہے اور امت بھی ہے۔ اور پھر اس قوم/امت میں سے کبھی عرب قوم نکل آتی ہے اور عجمی قوم نکل آتی ہے۔ پھر عرب قوم میں سے سعودی قوم قطری قوم سے سفیر واپس بلا لیتی ہے۔ اور پھر پاکستانی قوم میں سے بنگالی قوم الگ ہو جاتی ہے۔ اور پھر سندھی قوم بھی ہو جاتی ہے اور مہاجر قوم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ امت کدھر گئی؟ لگتا ہے قوم = امت فٹ نہیں بیٹھتا۔ یہ اتنی ساری قومیں ایک ہی مذہب کی بنیاد پر کیوں ایک امت نہیں رہ سکیں؟ یا یہ امت ہی ہیں اور قوم کو امت کے برابر رکھ کر دو دھڑ پانچ ٹانگوں والا بچہ زبردستی جنا گیا ہے؟ یا شاکر فیر اپنے پاغل پن میں اول فول بک رہا ہے؟ ایہہ کی چکر است؟

گل سوچنے والی ہے نا؟ دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ قوم مذہب کی بنیاد پر بنتی ہے۔ اسلام آ گیا تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان قوم ہو گئی اور ایک کافر قوم ہو گئی۔ پر چودہ سو سال کی تاریخ میں مذہب قبائلی، لسانی، جغرافیائی اور نسلی تعصبات کیوں ختم نہ کر سکا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مذہب کی بنیاد پر قومیں بنتیں اور پھر قوم = امت ہو کر مسئلہ حل ہو جاتا۔ لیکن اس گندی غیر مثالی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ چند ایک مستثنیات کے علاوہ قوم پرستی اور قوم بندی میں مذہب کے ساتھ کوئی آدھ درجن اور فیکٹر آ شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے پھر امت کا تصور روحانی رہ جاتا ہے، بلکہ اخلاقی رہ جاتا ہے۔ چلیں اپنے صدر صاحب کی مثال لے لیں۔ وہ ہیں تو سہی لیکن بے ضرر ہیں، بس نام کے ہیں۔ تو امت بھی ہے تو سہی لیکن نام کی ہے۔ جس دن اللہ کا کوئی فرستادہ قیامت سے پہلے مسلمانوں پر اتر آیا تو قوم اور امت اکٹھے ہو جائیں شاید۔ اس سے پہلے امت وہ اوووووووووووپر آسمان پر موجود ایک تصور ہے۔ نظر تو آتا ہے، اچھا بھی لگتا ہے، اپنانے کو بھی دل کرتا ہے لیکن پھر یہ گندی دنیا، گندی باتیں، گندی دنیا داری اور مادی فائدے یہ سارے نظر کو گدلا کر دیتے ہیں دھندلا دیتے ہیں اور زیادہ مادی تصور یعنی قوم بحساب نسل، رنگ، جغرافیہ، زبان پر نظر چپک جاتی ہے۔ مذہب بھی حصہ رہتا ہے لیکن اسی طرح جس طرح باقی فیکٹر ہیں کبھی ذرا برتر کبھی ذرا کم تر۔ کبھی فیصلہ کن لیکن ہمیشہ نہیں۔ ویسے ہی جیسے بنگالیوں کی بار زبان فیصلہ کن ہو گئی تھی، پاکستان کی بار مذہب فیصلہ کن ہو گیا تھا۔

پر دو قومی نظریے کے وڈے یہ بات نہیں مانتے ان کے خیال میں ایک ہی قوم ہوتی ہے جس کا نام پاکستانی قوم ہے۔ اگر اس قوم کے علاوہ کوئی قوم مان لی تو پاکستان تو گیا۔ پاکستان کیوں گیا بھائی؟ پاکستان ایک حقیقت ہے اور کہیں نہیں جاتا۔ ساری قوموں کو تسلیم کرنے سے بھلا پاکستان کیوں کہیں جائے گا۔ یہ ہمارا گھر ہے، ہمارا وطن ہے، جیسے سعودی عرب سعودیوں کا وطن ہے۔ جیسے مکہ اور پھر مدینہ نبی ﷺ کا وطن تھا اور نبی ﷺ کو اپنے وطن سے محبت تھی۔ تو ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے۔ اس میں اتنا ڈرنے والی کیا بات ہے اگر اتنی ساری قومیں نکل آئی ہیں؟ شش، چپ رہو، بات نہ کرو، خبردار، ہٹو بچو کہہ کر کیا زبانیں بند کروا لو گے؟ دنیا اور چیخ چیخ کر کہے گی کہ بلوچستان کی تاریخ پاکستان سے الگ ہے۔ یہ کل ہی ایک سنڈے میگزین میں ایک بلوچ لکھاری کا ارشاد لکھا ہوا تھا۔ فریڈم مارچ ہوں گے۔ کراچی صوبہ اور سرائیکی صوبے کے نعرے لگیں گے۔ حق دو، جینے دو۔ پاکستان کی فیڈریشن میں ہر کسی کو حقوق دو۔ دو قومی نظریے نے پاکستان بنا دیا۔ اب اس کو قائم رکھو اور یہ قائم رکھنا دو قومی نظریے نہیں کثیر قومی نظریے سے ممکن ہے۔ اس ملک کے اندر دیکھو۔ اندر سے خطرے ہیں، آدھی درجن قوموں کے خطرے۔ تقسیم در تقسیم ہونے کے خطرے۔ ان کو زبردستی باندھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ محبت پیار امن آشتی سے فاصلے مٹاؤ۔

کب تک ستر سال قبل کی دنیا میں جیو گے۔ آج کو دیکھو، آج اس وقت کو 2014 کو۔ آج پاکستان بنانا نہیں اسے قائم رکھنا ہے۔ اندر سے ہی گھن کھا گیا تو کھوکھا کس مول کا؟ گھن لگی لکڑی تو ایک ٹھوکر نہیں سہہ پاتی۔ خدارا اسے گھن لگنے سے بچا لو۔

ہفتہ، 22 مارچ، 2014

نفاذِ اسلام

میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے کالج سیکشن میں ایک کلاس پڑھا رہا تھا۔ بچوں کو لکھنے کے لیے ایک محرکاتی عنوان دیا ہوا تھا۔ آپ کے بس میں ہوتا تو کیا بہتر کرتے۔ کچھ اس قسم کا عنوان تھا اور بچے نے انگریزی میں کچھ فقرے لکھنے تھے۔ ایک بچہ کلین شیو، جینز پہنی ہوئی۔ اس نے ٹھیک کرنے کے لیے جو چیز لکھی تھی وہ مسلمانوں کا دین تھا۔ بچہ دینِ اسلام نافذ (اِمپوز) کرنا چاہتا تھا۔ اس کے الفاظ اور تاثرات کی شدت مجھے آج کئی ماہ بعد بھی ابھی کل کی بات لگتی ہے۔

مولوی ارشد میرے محلے میں کسی دوسرے شہر سے آ کر حجام کی دوکان کرتا ہے۔ اچھا ملنسار بندہ ہے۔ اس کے پاس بیٹھے ہوں تو حجاموں کی عادت کے عین مطابق باتیں کرنا اور سننا چلتا رہتا ہے۔ کوئی ایک ڈیڑھ برس سے اس سے ہی بال کٹوانے ہوتے ہیں، اچھا کام کر لیتا ہے اور اسے پتا ہے کہ میں کیسے بال کٹواتا ہوں۔ کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے دوکان کے سامنے سے گزرا تو اس نے لکھ کر لگایا ہوا تھا ہمارے ہاں شیو نہیں کی جاتی۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور حسبِ عادت تپ بھی چڑھی۔ میں نے کوئی دو چار باتیں بھی کہیں سنیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ بات کوئی ایسی غلط بھی نہیں، ویسے بھی اس کا حق ہے جو کام اس کا دل نہیں مانتا نہ کرے۔ خیر میں بال اب بھی اسی سے کٹواتا ہوں۔ اس تبدیلی کے بعد ایک آدھ بار ملاقات میں اس کے ساتھ اسلام پر بات چھڑ گئی اور بات کا اختتام سزاؤں پر ہوا۔ اللہ کی کتاب میں سزائیں بیان کی ہوئی ہیں، اس کا کہنا تھا۔ سزائیں نافذ کر دو، سارے تیر کی طرح کیسے سیدھے نہیں ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 

اسلام کے "نفاذ" اور مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے کے حوالے سے مسلمانوں میں یہ جذباتی بخار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ اسلام نافذ کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔   خلافت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ امریکہ کو جواب خلافت ہی دے سکتی تھی۔ اور پھر لشکر اور مسواک والی روایات۔ جنگ نہ جیت سکنے کی وجہ مسواک کا نہ کرنا۔ 

جذبات ، بیانات اور گفتار یہ ہے اور عمل یہ ہے کہ شادی بیاہ پر رنڈیاں بھی نچواؤ اور ربیع الاول میں عاشقِ رسول کا ٹیگ ایک عدد نقش بھی سینے پر لگاؤ۔  میں سوچتا ہوں کہ نبی ﷺ نے مکے میں زندگی کے تیرہ سال گلا دئیے۔ اپنے رشتے داروں، رشتے کے بھائیوں، بیٹوں، چچاؤں، ماموؤں کو دعوتِ دین دیتے رہے۔ نبی ﷺ نے تو آتے ہی نہ کہا کہ اسلام نافذ کر دو۔ اپنی زندگی کے سنہرے تیرہ سال ان لوگوں پر قربان کیے اور پھر ہجرت کی، جب کوئی چارہ نہ رہا۔ مدینے کے دس سال اور ان دس سالوں میں بھی اسلام پہلے انفرادی زندگیوں میں آیا پھر اجتماعی زندگی میں، بیک جنبشِ قلم نہیں بتدریج۔ پہلے دعوت و تربیت اور پھر عمل کا تقاضا۔ کیا ہی پیارا طریقہ تھا اور کیا ہی پیارا انسان ﷺ تھا جس نے سب کیا۔

آج اس دوغلے اور منافق معاشرے کو ٹھیک کرنے کے دعوے دار انقلابی ، بندوق بردار اور "شرعی" داڑھیوں والے، ان کی سمجھ میں کیوں یہ بات نہیں آتی کہ اسلام نافذ کرنا ہوتا تو اللہ اور اس کے نبی نے اسی دن کر دینا تھا جس دن جبریل پہلی وحی لے کر اترا تھا۔ انہیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ حکومت کے اسلام "نافذ" کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ اس وقت ہوتا ہے جب عوام اپنے اوپر اسلام خود طاری کرے۔ 

خدا ان کو ہدایت دے، خدا ہمیں ہدایت دے، خدا ہم پر رحم کرے، خدا اس ملک اور قوم پر رحم کرے۔ ان لوگوں نے اسلام کا نام، شریعت کا نام بیچ بازار رسوا کر ڈالا۔ ان کی انقلابی پھُرتیوں، ان کی فرقہ وارانہ سازشوں، ان کے فہمِ دین نے آج اجتماعی سطح پر اسلام پر عمل کی کسی بھی کوشش کو اسلام مسلط کرنا بنا دیا۔ انہوں نے سیاست کے نام پر اسلام کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے سچ کر دکھایا کہ جہاں مذہب اور سیاست یکجا ہوئے وہاں یہی کچھ ہو گا۔ لوگ ڈرتے ہیں، اسلام کے نفاذ سے ڈرتے ہیں۔ لوگ خوف کھاتے ہیں، پتھر اٹھائے وحشی ہجوموں کا خوف جو کسی کو بھی زانی قرار دے کر پیوندِ زمین کر سکتا ہے۔ کٹے ہوئے ہاتھوں کا خوف، کسی نے روٹی چرائی ہو، دس روپے چرائے ہوں یا دس ہزار چرائے ہوں۔ سرِ بازار کوڑوں کا خوف، جرم کوئی بھی ہو سزا کوڑے ہوں گے۔ لوگ دھماکوں سے ڈرتے ہیں، سی ڈی اور حجاموں کی دوکانوں پر دھماکوں سے ڈرتے ہیں۔ سینماؤں میں دستی بموں کے حملوں سے ڈرتے ہیں۔ 

نفاذِ اسلام کے نام پر مافیائیں وجود میں آ چکی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے، ہر ایک کا اپنا نعرہ ہے، ہر ایک کا اپنا حلیہ ہے۔ ہر کوئی اسلام کے نام پر اپنے فرقے کا نمائندہ ہے۔ ہر کسی نے اسلام کو سیاست میں بیچ بازار بے پردہ کیا ہوا ہے۔ اسلام کے نام پر دوکان سجائے بیٹھا ہے، ڈگڈگی چل رہی ہے اور بندر اس ڈگڈگی پر محوِ رقص ہیں۔ نام اسلام کا، فائدہ سیاستدان کا۔ 

اور پھر میں سوچتا ہوں یہ کافر جو سارے ہیں، اس دنیا میں جو پچاس ساٹھ فیصد کافر ہیں اور کافر ملک ہیں۔ یہ جو امریکہ اور یورپ نامی کافروں کے علاقے ہیں۔ انہوں نے بھی کیا اسلام نافذ کیا ہوا ہے؟ وہ تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں نا، کافروں کا نظامِ حکومت۔ پھر بھی ان کے شہری ہم سے زیادہ سکون میں کیوں رہتے ہیں؟ ادھر یہ بھارت میں کجریوال جیسے ہندو مشرک، وہ کیسے مسلمان نہ ہو کر بھی اچھے کام کر لیتا ہے۔ پھر میں اپنے ملک میں دیکھتا ہوں ہر کسی کے نام کے ساتھ نبی ﷺ کا نام ہے، آلِ نبی ﷺ کا نام لگا ہوا ہے۔ لیکن کام کیسے ہیں؟  اور پھر یہ نفاذِ اسلام کی بات، یہ کونسے نفاذ کی بات کرتے ہیں؟ ہر بات کا حل نفاذِ اسلام ، ہر بات کا حل ایک عدد "اسلامی" حکومت۔ 
میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے پتا نہیں کیا کیا کفریہ سوچ سوچتا ہوں۔

بدھ، 1 مئی، 2013

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی

قوم افراد سے مل کر بنتی ہے۔ قوم دیوار ہے تو افراد اس کی اینٹیں۔ لیکن یہ اینٹیں اکیلی ہی دیوار نہیں بناتیں۔ صرف اینٹیں کھڑی کرو تو دیوار ایک حد کے بعد کھڑی رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اینٹوں کو جوڑنے کے لیے سیمنٹ درکار ہوتا ہے۔ اور قوم نامی دیوار کو مضبوط کرنے والے سیمنٹ کا نام مشترکہ اقدار ہیں، مشترکہ سوچ اور ایک ہونے کا احساس۔ افراد میں اگر یہ احساس مفقود ہو جائے، ماند پڑنے لگے تو اس کے نتیجے میں قوم نامی دیوار اینٹوں کی گھوڑی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ راج مستریوں کی اصطلاح میں گھوڑی اینٹوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتی ہے جو سراسر  عارضی مقصد کے لیے ایک جگہ اوپر نیچے لگا دی جاتی ہیں بغیر کسی سیمنٹ یا جڑنے والے مادے کے، اکثر گارے کے بھی بغیر۔ افراد میں اقدار مشترک نہ رہیں تو وہ قوم کے اندر اینٹوں کی گھوڑیاں بن جاتے ہیں۔ ایک یہاں لگی ہے دوسری وہاں لگی ہے، اور ان گھوڑیوں کا کوئی مقصد مشترک نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا بن جاتا ہے، لیکن یہ ایجنڈے عارضی، نا پائیدار اور عدم استحکام پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ افراد کے یہ گروہ نہ صرف قوم کو کمزور کرتے ہیں بلکہ خود کو بھی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اسی لیے افراد میں قدرِ مشترک کا احساس پایا جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

قدرِ مشترک کئی چیزوں کے اشتراک کا نام ہے۔ اس میں سیاسی، سماجی، لسانی، مذہبی، علاقائی، قبائلی، رنگ و نسل سے لے کر زمانے تک کے متغیر آ سماتے ہیں۔ انہیں میں کچھ متغیر تنوع بھی تشکیل دیتے ہیں لیکن متغیرات کی ایک اکثریت یکجہتی تشکیل دیتی ہے۔ جس کے تحت قوم آپس میں جڑی رہتی ہے۔ قدرِ مشترک کو ایک اور نام دیں تو سماجیات کی اصطلاح "سماجی شناخت" استعمال کی جا سکتی ہے۔ سماجی شناخت ایک تکنیکی اصطلاح ہے، لیکن یہاں ہم اوپر بیان کیے گئے تمام متغیرات میں سے ایک، کچھ یا تمام پر مشتمل احساسِ خودی اور پھر احساسِ یکجہتی کو سماجی شناخت کا نام دے سکتے ہیں۔ سماجیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی شناخت کوئی لوہا پتھر نہیں، بلکہ یہ مائع جیسی کوئی چیز ہے جو شکلیں بدلتی رہتی ہے۔ سماجی شناخت کسی ایک متغیر پر مشتمل نہیں ہوتی، یہ کئی متغیرات کا مجموعہ ہو سکتی ہے، یہ مختلف مواقع پر مختلف متغیرات کو اپنا سکتی ہے۔ ذاتی طور پر میں نے جو کچھ پڑھا، دیکھا، سنا اور محسوس کیا، مجھے جو سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ سماجی شناخت کئی متغیرات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس میں اوپر بیان کردہ تقریباً تمام تر چیزیں آ جاتی ہیں۔ اور یہ متغیرات مختلف مواقع پر، مختلف سیاق و سباق میں، ہماری روز مردہ زندگی کے ہر مقام، جگہ، وقت کے حوالے سے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً میں ایک جگہ بیٹا ہوں، ایک جگہ استاد ہوں، ایک جگہ فری لانس مترجم ہوں، ایک جگہ بلاگر ہوں، ایک جگہ مسلمان ہوں، ایک جگہ پنجابی ہوں، ایک جگہ پاکستانی ہوں، ایک جگہ پڑھا لکھا نوجوان ہوں، ایک جگہ مریض۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اپنے روز مرہ میں مَیں کئی چہرے اپناتا ہوں، اپنی سماجی شناخت تشکیل دیتا ہوں۔ کبھی کوئی متغیر سامنے رکھتا ہوں کبھی کوئی، لیکن ان سب کے علاوہ میری ایک نسبتاً مستقل سماجی شناخت ہے، میری خودی، میری انا، جو میری یعنی محمد شاکر عزیز کی شخصیت وضع کرتی ہے، میری نظروں میں بھی اور میرے جاننے والوں، پڑھنے والوں کی نظر میں بھی۔

اتنی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس ساری سماجی شناخت کے باوجود میں شناخت کے بحران کا شکار ہوں۔ جیسے اس قوم کا قریباً ہر فرد تذبذب میں مبتلا ہے کہ کدھر جائے، کیا کرے۔ کچھ متذبذب ہیں اور کچھ نے ایک شناخت کو اتنی شدت سے تھام لیا ہے کہ چاہے انگلیوں سے خون رسنے لگے، وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اور اس شناخت کو خود پر اتنا طاری کرتے ہیں کہ وہ دوسرے متغیرات سے مکمل طور پر انکار کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا شناخت کسی ایک سماجی متغیر کا نام نہیں، سماج میں موجود بے شمار متغیرات مل کر آپ کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کم ہوں یا زیادہ وہ الگ بات ہے لیکن کثیر متغیرات موجود ضرور ہوتے ہیں، جب کوئی شخص یا اشخاص کسی ایک متغیر کو خود پر ایک حد سے زیادہ طاری کر لیتا/ لیتے ہیں تو جو چیز سامنے آتی ہے اسے میں انتہا پسندی، فکری قحط سالی اور اپنی سماجی شناخت کے ایک حصے کا قتلِ عام گردانتا ہوں۔

اجتماعی سطح پر دیکھوں تو میرے سامنے دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک جو متذبذب ہیں، جو کوئی ایک سماجی شناخت اپنانے/ اس کا اقرار کرنے سے گریزاں ہیں، یا ڈرتے ہیں اور اسی ڈر میں دوسری سماجی شناخت اوڑھے رہتے ہیں، دوسری جانب وہ ہیں جو اتنے سخت دل ہو چکے ہیں کہ اپنے شخصی تنوع کو قبول نہیں کرتے اور خود کو ایک خول میں بند کر لیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے" اللہ نے تمہارے قبیلے بنا دئیے تاکہ تم پہچانے جاؤ" (مفہوم)۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر۔۔۔الخ کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ قرآن قبیلے کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ قرآن ایک سماجی شناخت کا ذکر کرتا ہے کہ ہاں تنوع رکھا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی نبی ﷺ کی زبان سے کہلوا بھی دیا گیا کہ خبردار خود کو افضل نہ سمجھ بیٹھنا۔

میں ایک پاکستانی ہوں، ایک مسلمان ہوں، میں ایک خاص جغرافیائی خطے کا رہائشی بھی ہوں، میں ایک خاص زبان بھی بولتا ہوں، میں ایک خاص پیشے سے منسلک بھی ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سارے متغیرات، یہ ساری شناختیں میری تعریف کرتی ہیں، میری شخصیت کو سماج میں تعمیر کرتی ہیں۔ مجھے وہ بناتی ہیں جو میں ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سوچ ہر ایک کی نہیں ہے۔ اس ملک کی اساس اسلام قرار دی جاتی ہے۔ میں بڑے بڑے مدلل مضامین پڑھتا ہوں جن میں نظریہ پاکستان کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہوتی ہے، پاکستان کی "نظریاتی بنیادیں" کھودنے والوں پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ فکری بحران، فکری قحط سالی کیوں؟ ایک ہی شناخت کو خود پر اوڑھ لینے کا عمل کیوں؟ انتہا پسندی کیوں؟

نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور والے بڑے عظیم لوگ ہیں، نوائے وقت کے تربیت یافتہ ، پاکستان کے رکھوالے اور پھر اسلام کے رکھوالے، یہ پاکستان کو 712 ء سے تخلیق شدہ بتاتے ہیں جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا۔  ایسا کرتے ہوئے یہ لوگ باقی سارے متغیرات نظر انداز کر جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہیں جو انہیں، مجھے اس قوم  کو شناخت عطاء کرتی ہیں۔ زبان، رنگ، نسل، جغرافیہ، پیشہ ،پانچ ہزار سالہ تاریخ اور آج کا زمانہ کچھ متغیرات ہیں جو مذہب کے علاوہ ہماری شناخت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان سب کو نظر انداز کر کے صرف مذہب کیوں؟ مذہب کو اپنانا افضل ہو گا، نبی ﷺ کے ساتھ خود کو موسوم کرنے سے بڑی بات بھلا دنیا میں کوئی ہو سکتی ہے؟ لیکن  پھر قرآن قبیلوں کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ اللہ نے رنگ اور نسل کیوں الگ الگ رکھ دئیے؟ اتنا تنوع کیوں ہے؟ ہم عرب میں ہی کیوں نہ پیدا ہو گئے؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے؟ عمومی مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ عین حق لگتا ہے۔ آخر اسلام دنیا کا آخری دین، اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں  رہنی چاہیئے۔

لیکن پھر بار بار اس یقین کا انکار کیوں ہوتا ہے؟ 1947 میں پاکستان ( جو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے مطابق دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا) کے بعد برصغیر میں کیا صرف مذہب  سماجی شناخت تشکیل دینے والا اکلوتا فیکٹر رہا ہے؟  کس کس کی مثال دوں؟ سقوطِ ڈھاکہ گنواؤں؟  جغرافیے کے نام پر بلوچوں کی بغاوت یاد کرواؤں؟ کراچی میں مہاجر نامی قومیت کی تشکیل کا ذکر کروں؟ پختون ، پنجابی ، سندھی کی اصطلاحات پیش کروں؟ کون کونسی مثال دوں جس سے یہ بات واضح ہو جائے کہ صرف مذہب سماجی شناخت تشکیل نہیں دیتا۔  عطاء اللہ شاہ بخاری اور ابو الکلام آزاد کے خطبات تحاریر گنواؤں؟  یا اسلام کا  مقصدِ دعوت  بیان کروں جس میں انسانیت اولین ہے، ساری دنیا اسلام کے لیے امتِ دعوت ہے۔ اسلام  دعوتِ دین کے لیے مذہب سے ماوراء ہو جاتا ہے، اسلام ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے مسلمانیت کا قتل نہیں۔ اسلام دین میں جبر کا قائل نہیں۔ کیا کیا دلیل پیش کروں؟

ایک طرف یہ کم شدت والے مذہبی چادر اوڑھنے والے ہیں۔ دوسری طرف وہ  بندوق بردار ہیں جو اپنی ہزار سالہ تاریخ کا انکار کر کے صرف ایک  چیز کو خود پر طاری کر چکے ہیں۔ خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور اس میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی تعلیمات  کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ جو جنگ میں ناحق درخت بھی کاٹنے سے منع کرے اس کے نام لیوا بے گناہ سروں کی فصلیں کاٹ  کر اس پر ذرا برابر شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مجھے آج کہنے دیں کہ اس ملک میں فکری انحطاط یہی نہیں، فکری قحط سالی ادھر ہی نہیں اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو مذہب کو زندگیوں سے نکال چکا ہے، اور اب صرف انسان کہلوانا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں "انسان" کی سماجی شناخت انہیں زیادہ غیر جانبدار بنا کر پیش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ  بھی ایک حقیقت سے انکار کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مذہب انہیں ڈیفائن کرتا ہے، جیسے ان کے اجداد کو ڈیفائن کرتا تھا۔ مذہب ان کے خون میں بہتا ہے وہ مانیں یہ نا مانیں۔ ان کے نام، رہن سہن کے طور طریقے مذہب سے متاثر ہیں۔ وہ مصنوعیت جتنی مرضی طاری کر لیں لیکن وہ متغیر ، مذہب نامی متغیر ان کی سماجی شناخت کا اہم جزو تھا، ہے اور رہے گا۔  لیکن اس سے جب انکار کیا جاتا ہے تو نتیجہ ایک اور قسم کے فکری بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک ایسا خلاء جسے پورا کرنے کے لیے وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں، کبھی ادھر سے اینٹ اٹھائی کبھی ادھر سے پتھرا ٹھایا اور عجیب الخلقت چیز تشکیل دے لیتے ہیں، چیز یعنی اپنی سماجی شخصیت۔ جس پر غصہ، ترس یا ہنسی  آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ  ڈر بھی آتا ہے۔ اس قوم کے فکری بحران سے ڈر لگتا ہے۔ شاکر ، اور شاکر جیسے بے شمار افراد اس قوم کی  کمزور ہوتی دیوار، گھوڑیاں بنتی دیوار سے تعلق کمزور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا آپس کا بانڈ  غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک قدر کو اختیار کر کے دوسری سے انکار کرتے ہیں۔ کبھی مذہب سے، کبھی جغرافیے سے، کبھی رنگ سے، کبھی نسل سے، کبھی زبان سے۔ کوئی مہاجر ہوا جاتا ہے، کوئی پنجابی، کوئی پختون ہوا جاتا ہے، کوئی مسلمان، کوئی پاکستانی ہوا جاتا  ہے، کوئی سیکولر، کوئی انسانیت نواز، کوئی لبرل۔ کوئی مشرق کو رخ کیے ، کوئی مغرب کو ، کوئی شمال کو اور کوئی شمال مغرب کو ۔ ایک دوسرے کی جانب پشت کیے بیٹھے یہ افراد، جن کے مابین اکثریتی اشتراکی اقدار کی قحط سالی طویل ہوتی چلی جاتی ہے، شدت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اور شاکر ڈرتا ہے اس وقت  سے۔ جب  اینٹوں کی یہ گھوڑیاں جو ابھی الگ الگ کھڑی ہیں، گر پڑیں اپنے وجود کھو بیٹھیں اور ساتھ اس کے قوم کا وجود بھی نابود کر ڈالیں۔ بہت ڈر لگتا ہے اس وقت سے سائیں۔ اللہ اس وقت سے بچائے۔ رب سائیں اس وقت سے بچائے۔

وما  علینا الا البلاغ

منگل، 17 اپریل، 2012

بجلیاں

اس قوم کے گھروں میں بجلی نہیں آ رہی لیکن اسے بجلیاں چڑھی ہوئی ہیں۔ کہیں سے صدا اٹھتی ہے کہ ایران مفتو مفت ہی بجلی دینے کو تیار ہے،کہیں سے میسج آتا ہے کہ چین 300 روپے مہینہ میں بجلی مہیا کرنے کو بس تیار ہی بیٹھا ہے ہاں کرنے کی دیر ہے۔ اور فیس بُک پر تصویریں رُلتی پھرتی ہیں کہ ڈاکٹر قدیر نے 90 دنوں میں بجلی بنانے کا دعوی کر دیا بس 3 سال پرانے اس دعوے کو قبول کرنا باقی ہے جو کہ حکومت نہیں کر رہی۔
پاکستانی قوم ایک ایسی افسانوی دنیا میں رہنے کی عادی ہے جس سے باہر نکلنا اسے پسند نہیں۔ منطق سے بات کرو تو کھوپڑی میں اترتی نہیں۔ اگر اوپر کیے گئےدعوؤں کو کوئی چیلنج کر دے تو مامے خاں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے ساتھ آپ کی ماں بہن بھی ایک کر ڈالتے ہیں۔ ثبوت مانگو تو آگے سے طعنوں تشنوں کی ڈبل بیرل بندوق چل پڑتی ہے۔
میں معاشیات کا کوئی ماما نہیں ہوں، عام سا قاری ہوں بس روزانہ اخبار پڑھنے کی عادت ہے۔ اور ایک اور گندی عادت ہر بات پر سوال اٹھانے کی ہے۔ جب سے میری کھوپڑی میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہاں فیس بک، میسج اور منہ زبانی گردش کرنے والا ہر ایک "فلاحی پیغام" ایک منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس قوم کو سلائے رکھنا ہے۔ کاکا سُتے رہو، منزل بس دو ہاتھ رہ گئی ہے، بس اتنی سی کسر رہ گئی ہے۔ بس ایران سے بجلی آ گئی، بس چین کو کنٹرول دو بجلی کا، بس ڈاکٹر قدیر خان کے ہاتھ میں روپیہ دو اور دیکھو۔ ارے پاکستان تو جنت میں ہے بس اس جنت کا پیکج ایکٹیویٹ کرانے کی ضرورت ہے۔
بڑی گندی عادت ہے جی ہر چیز پر سوال اٹھانے کی۔ مثلاً یہی لے لیں کہ کئی دنوں سے یہ سوال کھوپڑی میں ناچ رہے ہیں۔
آخر چین ہمارا اتنا ماما کہاں سے ہو گیا کہ دس ڈالر ماہانہ میں ہمیں بجلی مہیا کر دے؟ اگر فرض کیا مہیا کرتا بھی ہے تو قراقرم کے پہاڑوں میں سے بجلی کی تاریں بچھائے گا یا وائرلیس کے ذریعے بجلی آیا کرے گی؟ سوال تو یہ بھی ہے نا کہ تیل کہ چین جو خود تیل کا سب سے بڑا خریدار، کوئلے کا ویری اور ہر رکازی ایندھن کا دشمن ہے کہ اسے اپنی صنعت کا پہیہ چلانا ہے سوا ارب لوگوں کے پیٹ کا جہنم بھرنا ہے وہ اتنا ماما کیسے ہو گیا ہمارا کہ صرف 300 روپے میں بجلی مہیا کرنا شروع کر دے؟ جبکہ آپ کے اپنے ملک میں پن بجلی بھی پیدا ہونے لگے تو اس کی قیمت بھی تین سو نہ ہو۔ آپ کی کرنسی کی مت ہی اتنی وج چکی ہے سرکاراں۔
ایران کے بڑے ہیج چڑھے ہوئے ہیں لوگوں کو۔ ایران گیس دے گا، ایران بجلی دے گا،  یہ کوئی نہیں سوچتا ایران کیا لے گا؟ ایران نے گیس دیتے وقت اس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے ساتھ منسلک کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اس سے سستی گیس ترکمانستان دے سکتا ہے۔ اگر کبھی دے سکا تو۔  ایران کے ساتھ تجارت کا مطلب ہے کہ آپ کے بینک امریکہ میں بین۔ اس مطلب ہے کہ ایران سے تجارت صرف بارٹر سسٹم کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی؟ نہیں ہے بس باتیں ہیں۔ اور ہاں اگر پیسے بھی دینے پڑے تو ڈالروں میں جائیں گے اور آپ کے پاس اپنے نوٹوں کے (ردی کے) ڈھیر ہی ہیں، ڈالر جو آتے ہیں وہ فارن بل ادا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ڈاکٹر قدیر صاحب کو ہر مرض کی دوا سمجھ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سیاست میں آئیں۔ ڈاکٹر صاحب بجلی بنائیں۔ ڈاکٹر صاحب یہ ڈاکٹر صاحب وہ۔ تابکاری کی وجہ سے کینسر کا شکار ایک بوڑھا شخص، اس بے چارے کو ہر جگہ گھسیٹ لیتی ہے یہ قوم۔ ارے ڈاکٹر قدیر ہے لکڑ ہضم پتھر ہضم پھکی نہیں ہے جو سر درد، آنکھوں کی کمزوری اور معدے کی کمزوری سے لے کر گنٹھیا تک کے علاج میں استعمال ہو جاتی ہے (اور آرام پھر نہیں آتا)۔  ڈاکٹر صاحب نے بیرون ملک سے ایٹمی ٹیکنالوجی چرائی تھی، اپنا کیرئیر برباد کیا اور آپ کے ملک کو ایٹم بم بنا کر دے دیا۔ اب بس کرو جناب ان کا کام پورا ہو گیا اس بے چارے بوڑھے کو اب تو سکون سے جی لینے دو۔ عجیب چائنہ کٹ قسم کے ہیروہوتے ہیں ہمارے ہر کام کر لیتے ہیں۔ 90 دنوں میں بجلی کا بحران بھی ختم کر دیتے ہیں۔
یہ 90 دن میں بجلی کا بحران ختم کرنے والی بھی خوب رہی۔ کل فیس بک پر ایک صاحب اچھے خاصے جذباتی ہو گئے کہ اگر ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو ایٹمی بجلی گھر بنانا تو خالہ جی کا واڑہ ہے۔ میں نے کہا بھائی صرف یہ بتا دو کہ ایک ایٹمی بجلی گھر تیار ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، کسی حوالے کے ساتھ تو میں مان جاؤں گا۔ تو فرمانے لگے آپ ثابت کر میں کیوں کراں؟ بڑی گل کیتی اے وئی۔ پتا نہیں ہماری موٹی کھوپڑی میں یہ بات کب آئے گی کہ چوری کا ڈیزائن لے کر ایٹم بم بنا لینے میں تیس سال لگ گئے تھے، اگر اسی طرز پر ایٹمی بجلی گھر بھی بنانے لگے تو پانچ سال تو انتظار کرو میرے بھائی۔ کراچی کا ایک تھکڑ سا ایٹمی بجلی گھر جو جتنی بجلی بناتا ہے اس سے آدھی خود پی جاتا ہے۔ اور چشمہ کے دو ایٹمی ری ایکٹر جو جھونگے جتنی بجلی مہیا کرتے ہیں۔ چھ سو میگا واٹ اور کہاں پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال۔ یہ چشمہ بھی چین کا سر چشمہ ہے ورنہ آپ کے گوڈوں میں اتنا پانی نہیں ہے کہ ایٹمی بجلی گھر تیار کر سکیں۔ ارے پیسے ہی نہیں ہیں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کے لیے اور کیا کرنا ہے۔
ہاں پیسوں کی بھی خوب رہی۔ بجلی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ پر ہیں۔ پیسے ہیں۔ ماہانہ کروڑوں یا شاید اربوں کے نئے نوٹ چھپتے ہیں، چناچہ اگر اس ملک میں کسی چیز کی پیداوار روز افزوں ترقی پر ہے تو وہ نوٹ ہیں۔ نوٹ چھپتے ہیں تو پھر نوٹ زیادہ اور پیداوار کم، نتیجہ یہ کہ سبزی مہنگی نوٹ سستے، بجلی مہنگی نوٹ سستے، پٹرول مہنگا نوٹ سستے، آٹا مہنگا نوٹ سستے۔ حکومت تو اپنا کام کیے جا رہی ہے ہمارے پچھواڑے میں ڈانگ دئیے جا رہی ہے۔ نہ آمدن ہو نہ سرکلر ڈیٹ کا منحوس چکر ختم ہو اور نہ بجلی بنانیوالے پوری پیداوار دیں۔ مجھے تو ڈر اس وقت سے ہے کہ پاکستانی سرکار پاکستانی بینکوں کے سامنے ڈیفالٹر ہو جائے، دیوالیہ۔ جتنے قرضے یہ بینکوں سے لے رہے ہیں، اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے، اپنے حلقوں کو خوش کرنے کے لیے ترقیاتی کام کرانے کے لیے، مجھے ڈر ہے کہ یہ سرکار دیوالیہ ہو جائے گی۔ اور یونان والا حال ہوگا اس ملک کا۔ یقین نہیں آتا تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لو، ہر رپورٹ میں یہی رنڈی رونا ہوتا ہے کہ حکومت بہت زیادہ قرضہ لے رہی ہے۔
اور جاتے جاتے پانی کا حال بھی سنتے جائیں۔ یہ گلیشئیر اگلے تیس سال نکال گئے تو معجزہ ہو گا۔ جہاں سیاچن اور بالتورو کے ڈھیر ہیں وہاں صفا چٹ پتھر ہوں گے چند دہائیوں میں اور میٹھے پانی کا ذریعہ ٹھُٹھو۔ نہ پانی ہو گا، نہ ڈیم ہوں گے، نہ پانی محفوظ ہوگا نہ پینے کو ملے گا نہ بجلی بنانے کو ملے گا۔ اور آپ کے دریا تو پہلے ہی انڈیا لیے جا رہا ہے۔ بس تھوڑا سا اور صبر کرلو فیر ویکھو دما دم مست قلدر۔
ہاں حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی اور پرانا ہیرو جو ادھر ادھر پڑا ہو جھاڑ پونچھ کر دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے تاکہ عوام کا مورال بلند رہے، اسے نشے کا ٹیکا لگا رہے اور سُتی رہے۔ ستے خیراں، رہے نام اللہ کا جس نے جھوٹوں کے لیے بھی ان کا عمل اتنا خوشگوار بنا دیا کہ وہ اسے ہی سچ سمجھتے ہیں۔

منگل، 30 اگست، 2011

عیداں

ایک اور عید آ گئی سائیں۔ ایک اور رمضان گزر گیا۔
شکر ہے کہ ہمیں ایک اور رمضان عطا ہوا۔
شکر ہے کہ ہمیں ٹوٹی پھوٹی ہی سہی، عبادت کی توفیق ہوئی۔
 شکر ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں پر معافی مانگنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہمیں راتوں کو قیام اور دنوں کو ذکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہم پر عید کی صورت میں خوشی اتری۔
شکر ہے کہ ہمیں شکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، اپنے سوہنے نبی ﷺ کا صدقہ یہ عید ہمارے لیے مبارک کر دے۔
سب دوستوں، سجنوں، بیلیوں، کرم فرماؤں کو عید مبارک۔ اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان، رحمت و کرم اور عطا کے سائے میں رکھے۔
عید پر اپنے اردگرد ان لوگوں کو بھی یاد رکھیے گا جن کے لیے عید بھی پیر، منگل، بدھ جیسا کوئی کام پر جانے کا دن ہے۔ عید کی نماز پڑھنے جاتے وقت مسجد کے دروازے پر بیٹھا پولیس والا بھی مسلمان ہے اور عید منانے کا اتنا ہی حقدار جتنے ہم ہیں۔ اور کچھ نہیں تو واپسی پر اس سے عید ضرور ملیں۔ اور جہاں بھی کہیں پولیس کے جوان نظر آئیں انہیں سلام کرکے عید مبارک ضرور کہیں۔ وہ آپ کی حفاظت کے لیے ہی متعین ہیں ورنہ کونسی ماں ہے جو اپنے لعل کو عید کے دن ڈیوٹی پر بھیجتی ہے۔
ان دوست احباب کا خیال رکھیے گا جو ملوں، فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور ڈبل شفٹ بونس کے لالچ میں عید والے دن بھی دیہاڑی لگانے چلے جاتے ہیں کہ چار دن سکون سے گزر جائیں گے۔ ان سے خصوصاً عید ملیے گا۔ اللہ نے ان کی قسمت میں آزمائش لکھی ہے، ان کو دعا میں بھی یاد رکھیے گا، اور مالی امداد میں بھی۔
فطرانہ دیتے ہوئے اپنے اردگرد پہلے نظر ڈال لیجیے گا شاید کوئی زیادہ مستحق آپ کے ساتھ والے گھر میں منتظر ہو اور آپ پیشہ وروں میں فطرانہ تقسیم کرکے آجائیں۔
عید پر خوشیاں منانا آپ کا حق ہے، لیکن کچھ خوشیاں ان کے لیے بھی رکھ لیجیے گا جو عید والے دن بھی کام پر ہیں ایمرجنسی ڈیوٹی دیتے ڈاکٹر، 1122 کے اہلکار، آپ کا دودھ والا، گلی میں جھاڑو لگانے والا، چنے چاٹ بیچنے والا چھاپڑی فروش، گول گپے اور دہی بھلے لگانے والا، اور اس طرح کے کئی کردار جن کے لیے عید بھی عید نہیں ایک کام کا دن ہوتا ہے۔
ان سب کو عید مبارک ضرور کہیے گا۔
اللہ میرے آپ کے گناہ معاف کرے۔ ہماری بدزبانیوں، بد اعمالیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرے۔
مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو، کسی کا دل دکھا ہو، کسی کو کچھ کہہ گیا ہوں تو معاف کردیجیے گا، بول جانا میری عادت ہے لفظ نکالنے کے بعد سوچتا ہوں نادانوں کی طرح۔ ان پر معافی کا خواستگار ہوں، معاف کر دیجیے گا۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا، اللہ یہ عید آپ کے لیے مبارک کر دے۔
عید مبارک۔

جمعہ، 12 اگست، 2011

بارشیں

کہتے ہیں جی کہ بھرے پیٹ والوں کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں۔ نئے نئے کپڑے، کاریں، شوق اور انجوائے منٹ۔ ایسی ہی انجوائے منٹ بارش بھی ہے۔ لوگ بڑا انجوائے کرتے ہیں کہ بارش ہورہی ہے، پکوان بنتے ہیں، پارٹیاں ہوتی ہیں، موج مستی ہلا گُلا ہوتا ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک میری کیفیت بڑی عجیب سی ہوا کرتی تھی بارش ہونے پر۔ دل کرتا تھا کہ بارش ہوجائے، خوب ہوا چلے اور خوب بارش ہو تاکہ موسم ٹھنڈا ہوجائے اور پوڑے پکیں (میٹھے آٹے کی روٹیاں)۔ لیکن پھر مجھے ابو جی کا خیال آتا تو دل چور ہوجایا کرتا۔ ابوجی ناشتے کی ریڑھی لگایا کرتے تھے ان دنوں۔ اس کا طریقہ کار بہت سادہ سا تھا۔ ہم گھر سے سالن اور روٹیاں پکا کر انھیں باندھ دیتے تھے، اس کے بعد وہ سائیکل پر یہ سب کچھ (پیچھے بندھے ایک اسٹینڈ میں رکھ کر) اپنے اڈے پر پہنچایا کرتے تھے۔ میرا کام یہ ہوتا کہ ان سے پہلے وہاں جا کر اڈہ سیٹ کروں۔ اور جس دن موسم خراب ہوتا، ہمیں بہت دشواری ہوتی۔ تیز ہوا چل رہی ہوتی تو چھتری لگانا دشوار ہوجاتا، بار بار اُڑنے لگتی، باندھنی پڑتی اور کبھی بہت تیز ہوا آجاتی تو اس کا ایک آدھ بانس ٹوٹ جایا کرتا یا کپڑا پھٹ جایا کرتا۔ ایسے ہی تیز ہوا کے بگولے کبھی وہاں پڑا سامان چھابیاں، پتیلوں کے ڈھکن بھی اڑا لے جایا کرتے۔ بارش ہوتی تو حالت اور بری ہوجایا کرتی۔ شروع شروع میں صرف چھتری ہوتی تھی اور پلاسٹک کی شیٹ نہیں لی تھی۔ ابو بارش میں بھیگ جایا کرتے تھے اور سارا سامان بھی بھیگ جاتا۔ پھر پلاسٹک کی شیٹ لے لی اور بارش سے پہلے وہ چھتری کے اوپر ڈال کر باندھ دی جاتی۔ لیکن پھر بھی بارش یا چمب (بارش کے سائیڈ سے پڑنے والے چھینٹے) راستہ بنا ہی لیتے۔ میں ادھر ہوتا تو گھر بھاگنے کی کرتا کہ بارش میں بھیگ نہ جاؤں، گھر ہوتا تو خیال آتا کہ ابو کیسے گزارہ کررہے ہونگے۔ میرا دل آج بھی اسی انداز میں بٹا سا رہتا ہے۔ بارش ہو تو مجھے اچھی بھی لگتی ہے، اور اپنی چھتری کا ٹپکنا بھی یاد آجاتا ہے۔ آج بھی جب میں بارش ہونے کی دعا کرتا ہوں، تو نہ جانے کتنے لوگ بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ میں جسے انجوائے منٹ سمجھتا ہوں وہ جانے کس کس کے سر کی چھت چھین لینے والی چیز ہے، کسی کی چھت ٹپک رہی ہو، کسی ریڑھی والے کا کاروبار بارش کی وجہ سے ٹھپ ہورہا ہو، کسی کے مکان کی چھت ہی بیٹھ جائے، کسی کا مال و متاع بارش سے آنے والا سیلاب بہا لے جائے، اس کے محسوسات کا تھوڑا سا آئیڈیا ہے مجھے۔ میری زندگی کا ایک خاصا عرصہ اسی طرح گزرا ہے جب میرا گھر بھی بارش نہ ہونے کی دعا کیا کرتا تھا، کہ بارش ہوتی تھی تو کام بند ہوتا تھا، لیٹ ہوجاتا تھا، سامان بچ کر گھر آتا تھا، اس دن دیہاڑی نہیں بنتی تھی اور امی جی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، ان کے چہرے کی جھریاں کچھ اور نمایاں ہوجایا کرتی تھیں خرچوں کا سوچ کر، ہماری فیسوں، کھانے اور بجلی فون گیس کے بلوں کا سوچ کر، اور اس بچے ہوئے کھانے کو ٹھکانے لگانے کا سوچ کر جو ہم نے اصل میں کھانا ہی ہوتا تھا۔ اس دن گھر میں ہانڈی نہیں پکا کرتی تھی۔
باقی پھر سہی۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ کل کو اگر میں ڈاکٹر ہوجاؤں، پی ایچ ڈی ہولڈر ہوجاؤں تو میرے لکھے ہوئے الفاظ ہی مجھے میری اصل کا پتا دیں، میں کہیں بھول نہ جاؤں کہ میرے ماں باپ نے مجھے کیسے پالا تھا، میرا بچپن کیسے گزرا تھا اور مجھ پر رب کریم کے کتنے احسانات ہیں۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، تیری رحمت، تیرا کرم میں تیری رحمت کا محتاج تیرے کرم کا امیدوار۔ میرا ہر سانس، میرا ہر بال تیری رحمت تیرے کرم کا منتظر۔ میرا ہونا ہی تیری مجھ پر رحمت کی نشانی ہے مولا، ورنہ میری کیا اوقات میرے مالک۔
یا اللہ تیرا شکر ہے

بدھ، 1 جون، 2011

ردعمل

دائرہ کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرنا تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
سائیں جب رسول اللہ ﷺ کے نام نامی کے ساتھ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں سلیمان علیہ السلام کے ستر بی بیوں کے ساتھ جماع کرنے اور انشاءاللہ نہ کہنے کا ذکر ملتا ہے۔ تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے؟ یہ سنت تو نہیں۔ یہ تو ان کی طرف منسوب ایک روایت ہے۔ اس میں تو عمل کرنے والی کوئی بات ہی نہیں۔ یہ کوئی فعل نہیں، ایک روایت ہے۔ یہ سنت نہیں، حدیث ہے۔ امید ہے آپ فرق سمجھ گئے ہونگے۔
ہاں آپ اسے بھی سنت ثابت کردیں تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوگی۔ پہلے سنت اور حدیث کو مکس اپ کردیا گیا، پھر حدیث رسول ﷺ اور حدیث اصحاب رسول ﷺ میں کوئی فرق روا نہ رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت احکام الہیہ اور نبی ﷺ کے بعد آنے والوں کے ورلڈ ویو کا مکسچر بن گئی۔ اور ہم نے سب کو دین سمجھ لیا۔ شیعہ جمعہ کی دوسری اذان اس لیے نہیں دیتے چونکہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم تھا۔ صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم نہیں کہتے چونکہ یہ "ایڈیشن" عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی۔ سنی ان سب کو بھی دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو اصحاب رسول ﷺ نے کیا، شیعہ اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو ان کے فقیہوں نے کیا، اذان میں ایڈیشن، کلمے میں ایڈیشن، عقائد میں ایڈیشن۔ دین کہاں گیا؟ دین کے بنیادی سورسز کو ہی ترجمے اور تفسیر نے ہرا، نیلا، پیلا، گلابی رنگ دے دیا۔ چناچہ دین پیچھے ہر گیا، رنگ برنگے اسلام سامنے آگئے۔ اور پھر قرآنسٹ سامنے آگئے جو قرآن کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے بغیر، صرف لفظی سیاق و سباق پر انحصار کرتے ہوئے۔
اس سب میں اسلام کہاں گیا؟ اور مسلمان کہاں گیا؟ اسلام کے ٹکڑے ہوگئے اور لوگوں نے اپنی اپنی پسند کا ٹکڑا اٹھا کر اس پر پینٹ کرکے اپنے طاقوں میں سجا لیا، جی یہ ہمارا اسلام ہے۔ اور مسلمان کہاں گیا؟ مسلمان، آج کا مسلمان گواچی گاں بن گیا کہ کدھر جائے، کونسا اسلام "خریدے"، کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجائی ہوئی ہے، اور ہر ایک کے نعرے بڑے دلکش ہیں، کہ رب کریم نے ہر ایک کے لیے اس کا عمل خوشگوار بنا دیا، جیسے کہ خود اس کا فرمان ہے۔ مسلمان دُبدھا میں پڑ گیا کہ اگر اسلام کا نفاذ ہوا تو کونسے اسلام کا ہوگا؟ شیعہ، سُنی؟ سلفی؟،دیوبندی؟ یا بریلوی؟ یا مودودی؟، یا قرآنسٹ اسلام؟ چناچہ مسلمان، یعنی میرے جیسا مسلمان، جو ایک گواچی گاں ہے، اور ہر پاسے منہ اُٹھائے باں باں کرتا پھرتا ہے، جان کی خلاصی اسی میں جانتا ہے کہ اسلام کو ذات تک ہی محدود رکھا جائے، اور بدنوق لے کر جو لوگ "اپنا اسلام" نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف حکومت کو بندوق کی زبان میں ہی بات کرنے کا کہے۔ تاکہ اس کا "اسلام" تو محفوظ رہ سکے۔

ہفتہ، 14 مئی، 2011

ایک سال

آج مجھے اس سکول میں کام کرتے ایک سال تو نہیں ہوا تاہم تعلیمی سال ختم ہوگیا۔ آج سے کوئی دس ماہ پہلے، اگست 2010 میں جب میں اس ادارے میں داخل ہوا تھا تو میں وہ نہیں تھا جو آج ہوں۔ میرے پاس ابھی میری ڈگری بھی نہیں تھی، بس ایک زعم تھا کہ میں اپنی کلاس کا اول نمبر ہوں، اور مجھ پر فرض کردیا گیا ہے کہ مجھے سب کچھ آتا ہے۔
ہم یہاں پانچ چھ لوگ آئے تھے، انٹرن شپ کرنے کے نام پر۔ سکول والوں کو ٹیچر چاہیے تھے، اور ہمیں جاب، ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ان کی ایک میڈم سے واقفیت تھی چانچہ ہم یہاں انٹرنی بھرتی ہوگئے۔ ہماری خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ مبلغ نو ہزار روپے مہینہ پر ٹرینی یا انٹرنی، اور مدت آزمائش پوری ہوجانے پر تنخواہ بڑھ جانے کی نوید بھی۔ اور سب سے بڑی بات کام یعنی پڑھانا سیکھنے کی خوشی۔ یہ ادارہ پورے فیصل آباد کے نجی سکولوں میں نئے اساتذہ کو تربیت دینے کے لیے بہت مشہور ہے، چونکہ ان کا پیشہ ورانہ ماحول ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی آپ کی مدد کرنے کو تیار رہتا ہے۔
خیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھا۔ اور بہت سارے راز بھی کھلے۔ وہ جو سہانے سپنے سجے ہوئے تھے سب ٹوٹ گئے۔ یہ کہ میں ایک اچھا استاد بن سکتا ہوں۔ اب پتا چلا کہ اتنی جلدی بھی نہیں بن سکتا، دو چار سال میں شاید بن جاؤں۔ یہ سپنا کہ کلاس میں اول آنے کے بعد سب قطار میں کھڑے ہوکر نوکری کی آفر دیں گے، اس سکول کے علاوہ کسی بھی جگہ سے آج تک دوبارہ کال نہیں آئی۔ یعنی ابھی انتظار کرنا ہوگا، شاید دو چار سال اور۔ یہ کہ تنخواہ نو ہزار ہی رہے گی، چاہے جتنا مرضی زور لگا لو۔ نجی شعبے کے سکولوں میں تنخواہ اتنی جلدی نہیں بڑھتی، چناچہ ٹیوشن پڑھاؤ اور اپنی تنخواہ کی کمی ادھر سے پوری کرو۔ جو کہ ہم پڑھا رہے ہیں، جتنی تنخوا ہے اس سے زیادہ روپے 2 گھنٹے کی ٹیوشن سے ملتے ہیں۔
اس نظام میں آکر پتا چلا کہ امیروں کا نظام تعلیم کیا ہے پاکستان میں۔ پہلے صرف سنتے تھے کہ ملک میں کئی طبقاتی نظام تعلیم ہے، کیمبرج سسٹم وغیرہ وغیرہ۔ یہاں آکر پتا چلا کہ کیمبرج سسٹم کیا ہے۔ فیصل آباد کے ان سکولوں کی اوسط فیس چار سے چھ ہزار میں ہے۔ بیکن ہاؤس کی دس ہزار ہے، جو فیصل آباد میں سب سے زیادہ لے رہے ہیں۔ سنا ہے لاہور وغیرہ میں تیس پینتیس اور پچاس ہزار مہینہ تک بھی فیس ہوتی ہے۔ خیر فیس کے بعد یہاں کے اساتذہ ہیں۔ پرانے ہیں تو بیس پچیس ہزاراور بعض اوقات پچاس ہزار یا زیادہ بھی، نئے ہیں تو دس بارہ پندرہ ہزار، اور ساتھ دو چار ٹیوشن، ہوم ٹیوشن جو پانچ ہزار سے پندرہ بیس ہزار تک مل جاتی ہے۔ پرانا ٹیچر تیس سے چالیس ہزار کما لیتا ہے صبح آٹھ سے رات آٹھ کے دوران، یعنی سکول جمع ٹیوشن مل ملا کر۔ سکولوں میں پڑھائی رٹا نہیں سمجھ کی بنیاد پر کروائی جاتی ہے۔ پرچوں سے پہلے پرچوں والے سوالات کے بار بار ٹیسٹ لیے جاتے ہیں تاکہ بچہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائے۔ او لیول اور اے لیول کے امتحان قریب آنے پر بچوں کو پرانے پرچوں سے ہی تیاری کروائی جاتی ہے۔ انھیں اتنی پریکٹس کروا دی جاتی ہے کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائیں۔ مزید کسر ہوم ٹیوٹر پوری کردیتے ہیں محنت کروا کر۔ استاد موٹرسائیکل پر آتے ہیں اور طلباء ہنڈا سٹی، اکارڈ، پجارو پر۔ یہی حال پھر اساتذہ کی عزت کا بھی ہوتا ہے۔ بیکن ہاؤس جیسے سکول میں تو سنا ہے بہت بدتمیزی کی جاتی ہے استاد کے ساتھ، ہمارے سکول میں کچھ سکون ہے۔ لیکن استاد اور ایک سیلز مین کوئی فرق ہیں، دونوں کا کام مال فروخت کرنا ہے، مہیا کرنا ہے اور بس۔ وہ لوگ فیس بھرتے ہیں کہ انھیں پڑھایا جائے چناچہ استاد کوئی احسان نہیں کررہا۔ واقعی استاد کوئی احسان نہیں کررہا ہوتا، اگر کررہا ہوتا ہے تو اپنے اوپر کہ یہاں سے اسے اچھی ہوم ٹیوشن مل جائیں گی جو اس کی رزی روٹی چلاتی رہیں گی۔
ان بچوں کی انگریزی اچھی ہے، اردو کمزور ہے۔ انگریزی میں پڑھتے ہیں، انگریزی میں لکھتے ہیں اور انگریزی الفاظ بولتے ہیں۔ کئی دفعہ تلفظ میں سر کی بھی غلطی نکال دیتے ہیں، اور ہنس دیتے ہیں۔ جسے سر مسکرا کر پی جاتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے۔ سر تو کیمبرج سسٹم میں نہیں پڑھ ہوا، اس نے تو گورنمنٹ کھوتی ہائی سکول سے ٹاٹوں پر بیٹھ کر میٹرک کیا تھا۔ قسمت تھی کہ روزی روٹی کی کشش انگریزی پڑھانے کی طرف لے آئی، ورنہ وہ اور اس کی اوقات۔ اردو انھیں صرف بولنی آتی ہے، لکھنے کا کہہ دو تو جان جاتی ہے۔ اردو بورنگ ہے، اردو کے الفاظ بول دو تو سمجھ نہیں سکتے، انگریزی میں ترجمہ کرکے سمجھانا پڑتا ہے۔ ماں باپ پنجابی بولتے تھے کبھی، اب اردو بولتے ہیں اپنے بچوں کے ساتھ، چناچہ بچوں کی مادری زبان اردو ہے، اور پنجابی کو وہ ایک حقارت بھری نظر سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ابھی بھی پنجابی بولتے ہیں، لیکن منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے، یا ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے۔
بچے تو بچے ہیں جی، خواہ امیروں کے ہی ہیں۔ خواہ باپ ڈاکٹر ہے، مل مالک ہے یا گروپ آف انڈسٹریز کا ڈائریکٹر۔ بچے اردو بولیں یا انگریزی، لیکن پاکستانی بچے ہیں۔ ابھی یسو پنجو پاکستانی ہی کھیلتے ہیں، ریڈی گو بھی کھیلتے ہیں، اور برف پانی بھی۔ ہاں ہاکی، ٹینس اور تیراکی غریبوں کے بس کی بات نہیں، وہ اضافی سہولت ہے ان کے پاس۔ سر جی نے خود اپنی ذاتی آنکھوں سے اصلی والا سوئمنگ پول اس سکول میں دیکھا، اس سے پہلے فلموں ڈراموں میں ہی دیکھا تھا۔
نجی شعبے کے ان سکولوں میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو ڈرامے باز ہونا پڑے گا۔ کلاس میں داخل ہوتے ساتھ ہی ڈراما شروع کردیں۔ روایتی استادی ختم ہوجاتی ہے کہ آئے بلیک بورڈ بھرا اور چلے گئے۔ بچوں سے کرواؤ۔ بلکہ کرواؤ نہیں ساتھ ڈرامے بھی کرواؤ۔ میتھ پڑھاتے ہو، نفع نقصان کا باب چل رہا ہے، بچوں سے کہو تفریح کے وقت میں خرید و فروخت کا سٹال لگا کر چیزیں بیچیں، پھر پیسے کما کر نفع نقصان نکالیں۔ انگریزی پڑھاتے ہو، تو جینوئن کمیونیکیشن تخلیق کرواؤ، خط لکھواؤ، انٹرنیٹ پر ای میل کرواؤ۔ بچوں کو پریزنٹیشن کا موقع دو، خود سائیڈ پر رہ کر بس گائیڈ لائن دو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی بولو، خوب انگریزی۔ اگر خاتون ہو تو ترقی کے چانسز اتنے ہی بڑھتے جائیں گے جتنی شلوار اونچی ہوتی جائے گی اور قمیض گلے سے نیچی۔ جتنے ماڈرن اور فیشن ایبل اتنے کامیاب، جتنے کہانی باز اتنے کامیاب، اگر طالب علم راضی تو کیا کرے گا قاضی یعنی سکول کا مالک۔
خیر یہ کچھ تاثرات تھے، اس تعلیمی سال کے اختتام پر۔ دیکھیں اگلا سال کیا لاتا ہے۔ اس برس ایم فِل بھی کرنا ہے شام کی کلاسوں میں، نوکری بھی کرنی ہے۔ اللہ رحمت رکھے، زندگی ذرا اوکھی ہوجائے گی۔ لیکن ساری عمر نجی سکولوں میں نہیں گزارنا چاہتا، اس لیے آگے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

جمعرات، 10 مارچ، 2011

بےبسی

ابا جی ناشتے کی ریڑھی لگایا کرتے تھے۔ میری عمر اس وقت یہی کوئی بارہ تیرہ سال تھی، ساتویں آٹھویں میں پڑھتا تھا۔ ہمارا اڈہ جس جگہ واقع تھا وہ ریلوے سٹیشن کے قریب سڑک کے ساتھ ریلوے کی حدود میں زمین تھی۔ سٹیشن ہیڈماسٹر کو ہم سے جانے کیا بیر تھا، اس نے پہلے تو اڈہ اٹھا لینے کی وارننگ دی اور پھر پولیس بلالی۔ وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ پولیس والے ہمارا سارا سامان اٹھا کر سٹیشن پر لے آئے تھے۔ سالن، روٹی، چاول، اور بینچ وغیرہ۔ اور اپنا ناشتا اور لنچ انھوں نے وہیں سے کیا تھا۔ میں ابو کے پاس دوپہر میں شاید روٹیاں دینے گیا جب مجھے یہ پتا چلا۔ اس دن کی بےبسی مجھے آج تک نہیں بھولی۔
اس دن اپنے آفس میں اونچے ڈیسک کے پیچھے بیٹھا ہوا، فیصل آباد کے اس چھوٹے سے سٹیشن کا اسٹیشن ماسٹر مجھے وقت کا فرعون لگا۔ اس کا لہجہ تحکمانہ تھا، انداز مغرور اور زبان پر ایک ہی بات کہ تمہارے خلاف پرچہ کروا دینا ہے، تم نے سرکاری زمین پر اڈہ لگایا ہے۔ اور اس کے سامنے کھڑے ہوئے میرے والد اور میں۔ ہمارے ہاتھ جُڑے ہوئے اور آنکھوں میں آنسو، اور زبان پر منت کہ ہم پر رحم کرو، خدا کا واسطہ ہم پر رحم کرو۔
وہ دن مجھے آج بھی نہیں بھُولا، جب میرے گھر کے نو افراد کا دارومدار ناشتے کے اس اڈے پر تھا، اور اس اڈے کا دارومدار اس غیرمعروف اسٹیشن کے سٹیشن ماسٹر کے فیصلے پر۔ اس دن کی بے بسی، بےکسی، لاچارگی اور ذلت میری ہڈیوں میں آج بھی ویسے ہی موجود ہے، اور ساری عمر رہے گی۔ ایک وقت تھا جب میری اوقات یہ تھی۔ میں چاہے کچھ بھی بن جاؤں، وہ دن، وہ جڑے ہوئے ہاتھ، اور اپنے ہی آنسو، ہمیشہ تازہ رہیں گے۔

جمعہ، 30 جولائی، 2010

پانی کی صورت حال

آج کی خبر پانی نہیں سیلاب کے متعلق ہے۔ سینکڑوں میں جاں بحق ہوگئے اور ہزاروں میں بے گھر۔ لیکن جس بات کو میں دیکھ رہا ہوں وہ بارشوں کا ٹائم فریم ہے۔ اس وقت یہ کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اصل میں ایسے کئی ریکارڈ اب ٹوٹیں گے اور ہر سال ٹوٹیں گے۔ پاکستان میں بارشوں کا ٹائم فریم اور بارشوں کے مقامات شفٹ ہورہے ہیں۔ ڈیر غازی خان کی طرف بارشیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارشیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بارشیں بھی صرف برسات کے ایک ماہ میں ہوا کریں گی اس کے بعد خشک تپتا بے رخ موسم ہوا کرے گا۔ اس وقت جو سیلاب سے مر رہے ہیں چند ماہ بعد وہی پانی کی کمی سے کُرلا رہے ہونگے۔ ہمارے دونوں ڈیم بھر گئے اور؟ باقی پانی سمندر میں جائے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے دس سالوں میں ہمارا نوے فیصد انحصار ڈیموں پر ہوگا۔ ورنہ پانی نہیں ملے گا۔ پانی صرف بارہ ماہ میں میں ایک بار برسا کرے گا، اور اتنا برسا کرے گا کہ موت کا پیغام بر بن جایا کرے گا۔ ہمالیہ کے گلیشئیرز؟ نہ آپ بچے ہیں نہ میں، ہمیں پتا ہی ہے کہ یہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اس کے بعد پیچھے سنگلاخ پہاڑ رہ جائیں گے گلگت بلتستان میں۔
کاش ہم آنے والے سخت ترین حالات کی پلاننگ کرسکیں۔

منگل، 27 جولائی، 2010

پھوڑے پھنسیاں

پھوڑے یا پھنسیاں  برصغیر پاک و ہند میں برسات میں بہتات میں ہوجاتے ہیں۔ جلد پر کسی جگہ درد شرو ع ہوتی ہے، وہ جگہ سوج جاتی ہے اور سرخ ہوجاتی ہے اور پھر وہاں سے ایک سر یا منہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ جس پر ہاتھ لگانے سے شدید درد ہوتا ہے۔ یہی چیز پھوڑا کہلاتی ہے۔ پھوڑا بننے کی بڑی وجوہات جلد  میں آجانے والےکریکس ہیں۔ جلد ہمارے لیے ایک غلاف کی طرح ہوتی ہے جو بیرونی دشمنوں کے خلاف پہلی ڈھال کا کا م کرتی ہے۔ بعض اوقات بلاوجہ خارش کرتے ہوئے، یا کوئی ننھا سا زخم یا کٹ لگ جانے کی صورت میں جلد میں شگاف پڑ جاتا ہے۔ ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں لیکن ہمارے دشمن اس میں آکر ڈیرا جما لیتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھانے لگتے ہیں۔ یہ دشمن یعنی بیکٹیریا گھس بیٹھیے ہوتے ہیں جن کا مقصد جلد سے گزر کر جسم میں داخل ہونا ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے جسم کا دفاعی نظام انھیں ایسا کرنے نہیں دیتا۔ چناچہ خون فورًا اپنے سفید خلیات کو ان سے مقابلہ کرنے کے لیے بھیجنے لگتا ہے۔ متعلقہ مقام کی ناکہ بندی کردی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی جسیمہ وہاں سے اندر کی طرف نہ آسکے۔ خون کے سفید خلیات بیکٹریا سے لڑتے ہیں اور اپنے آپ کو قربان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اس جگہ شدید سوزش، درد اور ابھار بنتا ہے۔ یہ ابھار جو انگریزی میں ہیڈ اور اردو میں پھوڑے کا منہ کہلاتا ہے اصل میں بیکٹیریا کو باہر نکالنے کے لیے بنتا ہے۔ خون کے سفید خلیات کے مردہ اجسام اور بیکٹریا نیز کچھ اور  اینٹی باڈیز وغیرہ سے مل کر بنا یہ مادہ جسے پیپ کہتے ہیں پھوڑے میں جمع ہوتا ہے۔ اسے باہر نکالنے کے لیے پھوڑا باہر کی طرف بڑھتا ہے اور آخر کار ایک مقرر وقت پر بہہ نکلتا ہے۔ اسے پھوڑے کا پک جانا بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات پھوڑا ایک ہی بار بہہ نکلتا ہے اور اس کو کسی جراثیم کش سے دھو کر زخم صاف کرلینےسے آرام آجاتا ہے۔ بعض اوقات پیپ سے بنا ہوا سخت مادہ جسے اردو میں کیل کہا جاتا ہے اس کے اندر ہی رہ جاتا ہے۔ یہ سخت مادہ بڑے بوڑھے دبا کر نکالنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ سخت مادہ دو تین دن میں خودبخود ہی  وقفے وقفےسے بہہ نکلتا ہے۔ احتیاط صرف یہ کی جانی چاہیے کہ پھوڑے کا زخم جراثیم کش سے دن میں تین چار بار صاف کرتے رہیں اور اس کے منہ کو کھلا رکھیں۔ اگر منہ بند ہوجائے گا تو یہ پھر سے بھرنے لگے گا اور پھر درد اور اکڑاؤکا باعث ہوگا۔ پھوڑے کے مقام پر گرمائش دینے سے بھی یہ جلدی پک جاتا ہے اور بہہ نکلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  گرمی دینے سے سفید خلیات کی جراثیم کو ہلاک کرنےصلاحیت بڑھ جاتی ہے۔  بعض اوقات پھوڑا خود نہیں بہتا بلکہ جراح کو دکھانا پڑتاہے جو وہاں سن کرنے والی دوا استعمال کرکے جراحی کرکے گند نکال دیتا ہے۔ تاہم جراحی کسی ہسپتال سے ہی کرانی چاہیے۔ پھوڑوں کے علاج کے لیے ہمارے ہاں نیم  کا عرق نکال کر پیا جاتا ہے جو قدرتی جراثیم کش ہے۔ انگریزی دواؤں میں اینٹی بائیوٹکس  استعمال کرائی جاتی ہیں۔ تاہم پھوڑا بننے سے پہلے ہی یہ دوائیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ جب منہ بننا شرو ع ہوجائے تو اینٹی بائیوٹکس یا دیسی دوائیں بے کار ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک بار پیپ بن جانے کے بعد اس کا جسم سے نکلنا ضروری ہوجاتا ہے جس کے لیے پھوڑے کا منہ ہی ذریعہ اخراج ہوتا ہے۔ تاہم پھوڑا بننے سے قبل ہونی والی درد اور سوزش  کے وقت ہی اگر دوا لینی شروع کردی جائے تو متاثرہ جگہ حملہ آور بیکٹیریا اندر ہی اندر ہلا ک کردئیے جاتے ہیں چناچہ پھوڑا نہیں بنتا، اور اضافی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔ پھوڑا اصل میں ہمارے دفاعی نظام کا ایک اہم ہتھیار ہے جس کی وجہ سے وہ گھس بیٹھیوں کو جسم سے نکال باہر کرتا ہے۔ تاہم اگر پھوڑے کی وجہ سے بخار ہورہا ہو، یا وہ کسی نازک مقام جیسے کمر ، بغل یا زیر ناف ہو تو ڈاکٹر کو دکھانا اشد ضروری ہوجاتا ہے۔

ہفتہ، 10 جولائی، 2010

دل کے ارماں

صاحبِ دل تو ہم اس وقت سے تھے جب اس دنیا فانی میں تشریف آوری ہوئی، لیکن آج مریضِ دل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اب آپ پوچھیں گے او کِداں؟ تو ہم آپ کو دسیں گے۔ او ایداں کہ ہمیں ایک عرصے سے دل کے مقام پر درد کی شکایت ہے۔ کبھی کبھار یہ اچانک چھڑ جاتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے کوئی پٹھا کھنچنے سے یہ شروع ہوجاتی ہے لیکن کمبخت عین دل کے مقام پر ہوتی ہے اور ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ ناقابل برداشت نہیں ہوتی لیکن اس کا ہونا ہی "عین ہونا" ہے، اس سے بالکل اُلٹ جیسا کہ عابدہ پروین کوک سٹوڈیو کے ایک گانے میں فرماتی ہیں۔ تو ہم بات کررہے تھے درد کی، اس کے ساتھ ساتھ کبھی دل کی دھڑکن اچانک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دھڑکتا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور کبھی بہت سانس بھی چڑھ جاتی ہے۔ دو تین دن پہلے یہی نامُراد درد پھر چھڑا۔ شومئی قسمت ایک کلاس فیلو کے والد کا انتقال بھی اسی مرض میں پرسوں ہوا ہے۔ آج ان کے قُل سے واپسی پر یہ سوچ کر کہ کہیں عنقریب ہمارے قُل بھی نہ اس مرض میں ہوجائیں ہم فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو نکل لیے۔
 وہاں پہنچے تو کیا دیکھا۔ کیا دیکھنا تھا عمارت دیکھی۔ نویں نکور عمارت جسے مشرف دور کے کسی وزیر کی گرانٹ ملی تھی۔ آج کل اس کے نام کا کتبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ سائیکل کھڑا کرکے اوپر سے او پی ڈی میں گئے اور اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈ پے گئی بادشاہو۔ ساری عمارت سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ۔ سواد آگیا بادشاہو۔  استقبالیے پر جاکر آمد کا مقصد بتایا تو انھوں نے مبلغ تیس روپے لے کر ایک عدد کاپی تھما دی۔ اس کے بعد سامنے والے کمرے میں جانے کا اِذن ملا۔ وہاں پہنچے سے ایک صاحب نے ہمارے ابا جی سے لے کر ہمارا سب بائیو ڈیٹا پوچھ ڈالا۔ ابا جی کیا کرتے ہیں، تم کیا کرتے ہو، کتنا کماتے ہو۔ پہلے تو ہم سمجھے نہیں بتاتے گئے بعد میں پتا چلا "کیٹیگری" لاؤنی سی۔ یہاں یہ صاحب آمدن کے حساب سے مریضوں کو ایک مہر لگا کر دیتے تھے کاپی پر۔ اس کی بنیاد پر آگے چاجز لگتے ہیں۔ ہم نے تو کہہ دیا جی پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں پر پیسے کئی کئی ماہ بعد آتے ہیں۔ انھوں نے جھٹ سے "پوؤر" کی مہر لگا دی۔ لو جی ہم سرکاری طور پر غریب غربا قرار پاگئے۔
اگلا حُکم ملا کہ روم نمبر اٹھارہ وچ ونجو۔ ہم وہاں ونجے تو آگے ای سی جی والے نے ہمارا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ خاصے مریض بھی تھے۔ لیکن ای سی جی جلدی جلدی ہورہی تھی۔ جوتے اتارو، اوپر لیٹو، بازؤں کے بٹن کھولوں سینہ ظاہر کرو۔ وہ صاحب کوئی گوند سی چپچپی چیز لگاتے پھر ای سی جی مشین کی تاریں سینے پر جوڑنے لگتے۔ ہم سے پہلے چار لوگوں کا ہوا پھر ہماری باری آئی۔ ہم نے بڑی شان سے اپنا سینا دکھایا تودیکھنے والے ہماری پسلیاں دیکھ کر کہنے لگے تہانوں وی دل دی بیماری اے؟ تو ہم نے کہا صاحب دل ہیں، بیماری کے لیے ایک عدد دل ہونا ضروری ہے جس کے مالک ہم شروع دن سے ہیں چناچہ حیرت کاہے کی   ؟
خیر ہمارا ای سی جی ہوا جسے متعلقہ بندے نے ہمارے اعمال نامے میں لگا کر روم نمبری 13 کی طرف دھکیل دیا۔ وہاں پہلے ای سی جی کرانے والے حضرات بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی رکھوالی ایک مثلِ لیلی خاتون کے سپرد تھی جو رجسٹر کھولے مریضوں کا اندراج کررہی تھیں۔ ہمارا بھی اندراج کرکے انھوں نے کہا "بھائی بیٹھ جاؤ"۔ اور ہم بالکل ہی بہہ گئے، یعنی لیلی بھی تھی اور بے مروت بھی، سیدھا بھائی بنا ڈالا۔ خیر ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ پہلے حکم ملا کہ چودہ میں چلے جاؤ۔ وہاں گئے تو اندر سے حکم ملا پانچ منٹ بعد آئیے گا ڈاکٹر صاحبہ مصروف ہیں۔ ہم باہر آگئے۔ اس دوران ہم سے پیچھے والے صاحب بھی اندر آچکے تھے۔ دونوں سے اعمال نامے واپس لیے اور پھر بٹھا دیا۔ جب دوبارہ باری آئی تو ہم سے پچھلے کی باری پہلے آگئی۔ وہ باہر آئے تو ہم نے پوچھا بھیا کیا بنا۔ کہنے لگے شوگر چیک کرانے کا کہا ہے اور گولیاں لکھ دی ہیں۔ ہم جل تو جلال تو کا ورد کرتے اندر گئے تو پھر حکم ہوا پانچ منٹ بعد آئیں۔ شاید ہماری شکل پر ہی لکھا ہوا تھا کہ "انھیں پانچ منٹ بعد بُلایا جائے، اور ہر بارایسے ہی بُلایا جائے"۔۔
خیر پانچ منٹ بعد خود ہی بُلاوہ آگیا ہم اندر پدھارے۔ ایک شوخ سی ڈاکٹر صاحبہ مع ایک عدد ایکسٹرا قسم کی نرس کے ساتھ میز کی اِس جانب بیٹھی تھیں۔ شاید پروفیسر صاحب خود کہیں گئے ہوئے تھے او ریہ ان کی جگہ مریض بھُگتا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں اُٹھا دیا ادھر جاکر اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ ہم اُدھر گئے تو نرس صاحبہ نے چپس کرچتے ہوئے ہمارا بلڈ پریشر چیک کیا۔ پھر ڈاکٹر صاحبہ نے ہمارا ای سی جی دیکھا، اور پھر ہمیں دیکھا۔ "کیا مسئلہ ہے" اور ہم نے مسائل بتائے، جو اوپر بتا چکے ہیں۔ انھوں نے لمبے لمبے سانس دلوائے اور سٹیتھوسکوپ سے دل سے رازونیاز کیے۔  پھر ہماری بتائی ہوئی تفصیلات اعمال نامے پر لکھیں، جنہیں ہم آخر تک گولیوں کے نام سمجھتے رہے۔ پوچھنے لگیں سگریٹ پیتے ہوں؟ عرض کیا نہیں، پوچھا شوگر بلڈ پریشر عرض کیا نہیں۔ تو کہنے لگیں آپ کے دل کو کوئی مسئلہ نہیں، بلاوجہ دوائیں  نہ کھائیں تو بہتر ہے۔ مزید چیک اپ کروانا ہو تو سول یا الائیڈ میں کروالیں۔ وہ درد دل کا درد نہیں ہے۔
اور ہم خوشی خوشی گھر کو پدھارے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے۔ پہلے ائیر کنڈیشنر خراب ہونگے، پھر عمارت ، جس کا نقشہ مسترد ہوگیا ہے پہلے ہی، کے آسے پاسے اترنے لگیں گے، پھر رنگ روغن اڑنے لگے گا، مشینیں خراب ہونگی، اور پھر یہا ں بھی سول اور الائیڈ والا حال ہوگا۔ یعنی کتنے سارے مریض، تھوڑے سے ڈاکٹر اور مزید تھوڑی سی سہولیات۔ ہاہاہاہا ہے نا گندی پاکستانی سوچ، کیا کریں دل جو پاکستانی ہے، اور جانتا ہے کہ جو چیز پاکستان میں بن جاتی ہے اس کی دیکھ بھال تو ہونی نہیں ہوتی تو پیشن گوئی کرنا کونسا مشکل کام ہے۔
تو یہ تھا ہمارا مریض ِ دل نہ ہوسکنے کا ماجرا۔ دیکھیں اگلی بار کب جانا ہوتا ہے  ہسپتال۔

جمعہ، 25 جون، 2010

میونسپل کارپوریشن کی سڑک کا لائف سائیکل

آج تک بادلوں کا چکر، آکسیجن کا چکر اور ہائیڈروجن کا چکر پڑھتے آئے ہیں۔ آئیے آج آپ کو میونسپل کارپوریشن کی بنائی گئی سڑک کی زندگی کا چکر دکھاتے ہیں۔
  • پتھر ڈالا جاتا ہے، یا تو پہلی سڑک بس ہوچکی ہے یا وہاں سڑک سرے سے تھی ہی نہیں۔
  • پتھر ڈالنے کے بعد اس پر بلڈوزر پھیرا جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک، کئی بار یہ کچھ عرصہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، یہ پتھر یونہی رہتا ہے آخر ایک دن کول تار کے ڈرم، لکڑی اور گرم کول تار پھینکنے والی ایک مشین مع مزدور کہیں سے نمودار ہوتی ہے۔ پتھروں کو تیسی (ایک آلہ) سے کھرچا جاتا ہے اوپر کی مٹی الگ کرکے ان پر گرم کول تار کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور کول تار ملی بجری پھینک کر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ لیول کا خیال نہیں رکھا جاتا، اونچ نیچ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مقصد بس پتھروں پر بجری کی تہہ بچھانا ہوتا ہے۔ اور اگر "کارپٹ" روڈ بنانی ہو تو گرم گرم تازی تازی سڑک پر کاربن بچھا کر ایک بار اور بلڈوزر گزار دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سڑک فرش کی طرح ملائم ہوجاتی ہے۔
  • دو تین دن میں یہ کام مکمل ہوجاتا ہے اور پھر سڑک چلنے لگتی ہے۔ محلے کے بچے اس کارپٹڈ یا سادہ روڈ پر دوڑتے بھاگتے ہیں، کرکٹ کھیلتے ہیں، سائیکل سے کرتب دکھاتے ہیں ریس لگاتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور دوسری گاڑیاں اب زیادہ سپیڈ سے گزرنے لگتی ہیں۔
  • چند دن محلے والے اس سب کو برداشت کرتے ہیں اس کے بعد سڑک پر سپیڈ بریکر کھڑے ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر دوسرا گھر اپنی مدد آپ کے تحت سیمنٹ بجری لا کر ایک "مناسب" سا سپیڈ بریکر بنا دیتا ہے۔ چناچہ اب گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کو ہر چند میٹر کے بعد بریک لگا کر گاڑی آہستہ کرنی پڑتی ہے۔ کچھ چالاک سائیکل اور موٹرسائیکل والے سپیڈ بریکرز کی سائیڈوں سے نکال لے جاتے ہیں لیکن یہ چالاکی چند دن ہی چلتی ہے۔ یا تو سپیڈ بریکر کی سائیڈیں بھی مزید سیمنٹ بجری سے بھر دی جاتی ہیں یا وہاں پتھر یا اینٹیں رکھ دی جاتی ہیں۔ دوسری صورت میں ایک مسلسل کشمکش چل پڑتی ہے، سائیکل سوار ان کو آگے پیچھے کرکے گزرتے رہتے ہیں اور محلے دار ان پتھروں کو سیدھا کرکے لگانے میں لگے رہتے ہیں۔
  • سڑک ابھی قابل استعمال ہے چونکہ ابھی بارش نہیں ہوئی یا کسی کا مکان بننا شروع نہیں ہوا لیکن ایسا بہت دیر تک نہیں رہے گا۔ ایک دن بارش ہوگی اور سڑک کے زیریں حصوں اور اطراف میں پانی کھڑا ہوجائے گا۔ چند ایک دفعہ کی بارش کے بعد وہاں گڑھا نمودار ہوجائے گا جو بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ پانی کھڑا ہونے کا تیزرفتار ذریعہ گٹر کی بندش بھی ہے۔ گٹر بند ہوگیا تو نئی سڑک کا ستیا ناس ہو گیا، دس دن میں سڑک ایسے ادھڑ جائے گی جیسے پرانی رضائی  کا حال ہو جاتا ہے۔
  • اسی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی پرانی مکان یا تو ترمیم و اضافہ کی سٹیج پر آجاتا ہے یا پھر اس کے مکینوں کے پاس اتنے پیسے آجاتے ہیں کہ ڈھا کر نیا بنائیں۔ چناچہ مکان دوبارہ بنتا ہے اور ساتھ سیوریج کا پائپ بھی دوبارہ ڈالا جاتا ہے (گھر سے مین ہول تک)۔ چناچہ سڑک پر ایک لمبا چیرا لگ جاتا ہے۔ کبھی اس چیرے کو سیمنٹ بجری سے بھر دیا جاتا ہے لیکن یہ سیمنٹ بجری چند ماہ کے بعد ہی اڑنے لگتی ہے اور چیرا ظاہر ہوجاتا ہے۔ کبھی اس عمومًا ترچھے چیرے پر ایک عدد نیا سپیڈ بریکر بنا دیا جاتا ہے جو دوہرا کام کرتا ہے، سپیڈ بھی کم کراتا ہے اور چیرے کی بدصورتی بھی چھپاتا ہے۔
  • مکانوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون، واسا اوراسی قبیل کی دوسری کمپنیوں کو ترقیاتی کام یاد آجاتے ہیں چناچہ سڑک بننے کے ایک آدھ سال میں ہی یہ کھودی جاچکی ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ کھدائی ایک سائیڈ سے ہوتی ہے لیکن جہاں سے سڑک پار کرنی ہو، وہاں پر نشان ساری عمر کے لیے رہ جاتا ہے کہ یہاں سے فلاں کمپنی کے مزدوروں نے سڑک پار کی تھی۔
  • سڑک اب سال بھر پرانی ہوچکی ہے۔ ایک آدھ برسات سہ چکی ہے اور کئی ایک بار گٹر کی بندش بھی، کئی مکان بن چکے ہیں اور واسا بھی ایک بار نظر کرم کرچکا ہے۔ سڑک کا اپنا میٹریل بھی جواب دیتا جا رہا ہے چناچہ گڑھے نمودار ہو رہے ہیں، پہلے سے موجود وسیع ہو رہے ہیں اور سڑک کا پتھر ننگا ہورہا ہے۔ 
  • اگر کارپوریشن کے پاس فنڈ ہوا تو اگلے ایک آدھ سال میں ان بننے والے گڑھوں کو پر کرنے کے لیے بجری آجائے گی ورنہ یہ وسیع ہوتے جائیں گے۔ اور ہر بارش کے بعد ان کی چوڑائی اور گہرائی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک وقت یہ آئے گا کہ محلے والوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے گا اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت سڑک بنانا شروع کر دیں گے۔ ری سائیکلنگ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نوتعمیر شدہ مکانوں کا ملبہ سڑک کے گڑھوں میں ڈالا جانے لگے گا۔ اور چند ماہ میں سڑک جو کچھ نہ کچھ ہموار تھی اب سطح مرتفع پوٹھوہار کا منظر پیش کرنے لگے گی۔ اس پر سائیکل، موٹرسائیکل چلانا عذاب بن جائے گا چناچہ سائیکل موٹرسائیکل والے متبادل راستے ڈھونڈیں گے۔ کاریں وغیرہ اوکھی سوکھی چلتی رہیں گی اور وقت گزرتا رہے گا۔
  • حکومت بدلے گی یا فنڈ آئیں گے تو اس سڑک کا کسی کو خیال آجائے گا اور دوبارہ سے اس کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ ٹریکٹر آئیں گے جو سڑک پر دبائے ہوئے گھروں کے ملبے کو اکٹھا کریں گے اور ٹرالیاں اٹھا کر شہر سے باہر پھینک آئیں گی۔ چھ انچ سے دس انچ تک پتھر ڈالا جائے گا، بلڈوزر پھرے گا اور پھر بجری کا لیپ ہوگا۔ ایک اور سڑک بن جائے گی، پھر سے ٹوٹنے کے لیے۔
  •  یہ سارا چکر تین سال میں اوسطًا پورا ہوجائے گا اور ایسے چار یا پانچ چکروں یعنی قریبًا بیس سال بعد نئے بنے مکان، جو تعمیر کے وقت کئی فٹ اونچے رکھے گئے تھے، سڑک کے برابر آجائیں گے یا چند انچ بلند رہ جائیں گے۔ مکینوں کو احساس ہونے لگے گا کہ مکان نیواں ہونے لگا ہے اور برسات میں پانی اندر گھس آیا کرے گا۔ چناچہ مکان کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے بننے لگتے ہیں۔ مکان پھر تعمیر ہوتے ہیں اور سڑک پر پھر چیرے لگا جاتے ہیں۔
  • اور یہ چکر چلتا رہتا ہے۔
کیسا لگا پاکستان میں سڑکوں کی زندگی کا چکر؟

اتوار، 18 اپریل، 2010

جلدی جلدی کچھ باتیں

فیصل آباد کل سے بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ صبح آٹھ سے بارہ تک بجلی بند رہی، پھر دو سے پانچ تک اور اس کے بعد آٹھ بجے سے بھی پہلے بند ہوکر رات دس بجے کے بعد آئی۔ گیارہ ساڑھے گیارہ بند ہوئی تو اب صبح چار بج  کر 25 منٹ پر آئی ہے اور یہ بھی پانچ بجے تک بمشکل ہوگی۔ فیصل آباد کے ساتھ تو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ کیا تھا وفاقی وزیر نے لیکن لگتا ہے پھر ہڑتال کی کال دینی پڑے گی۔
پچھلی تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ وہ واقعی میرے اندر سے نکلی تھی اور میں ایسے ہی فرسٹریٹ ہوتا ہوں جب میرے پاس کام نہ ہو۔ احباب کے مشوروں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔
خاور صاحب آپ نے خبروں کا ترجمہ کروانا ہو تو ست بسم اللہ جب کروانا ہو بتا دیجیے گا۔ ریٹ آپ سے طے کرلیں گے۔ گوروں سے 4 روپے فی لفظ تک لیتے ہیں اس سے کم لیں تو ویب سائٹ والے بلاک کردیتے ہیں کہ مقابلے کا ماحول خراب کررہا ہے لیکن ایک پاکستانی صاحب کے ساتھ کوئی ڈیڑھ ماہ کام کیا، ان سے قریب پچیس پیسے فی لفظ لیے تھے۔ آج کل وہ کام نہیں کرراہے مجھ سے۔
نعمان کا خصوصی شکریہ جنہوں نے میری تحریر اپنے بلاگ پر لگائی اور اتنی ساری تعریف بھی کی۔
بدتمیز نے ایک خصوصی تحریر میں میری اس تحریر کا تذکرہ کیا اور اپنے مخصوص بے لاگ سٹائل میں اس کے بخیے ادھیڑے۔ آداب عرض ہے، اس جراحی کو۔ میں نے آج تک کبھی ڈیٹا اینٹری، آرٹیکل رائٹنگ یا ری رائٹنگ نہیں کی۔ بس میری خواہش ہوتی ہے کہ ترجمے کا کام مل جائے چونکہ وہ میری اپنی فیلڈ لسانیات سے بھی متعلق ہے۔ یہ دوسرے کام تو بس ایویں دل پشوری کو دیکھ لیا کرتا ہوں شاید کوئی پسند آجائے لیکن آج تک کوئی پسند نہیں آیا، بلکہ میں آج تک کسی گاہک کو پسند نہیں آیا۔ کئی بار بلاگ شروع کرنے کا بھی دل کیا لیکن بلاگ کے لیے بھی لکھنا پڑتا ہے، میں تو فری لانسر کے طور پر نہیں لکھتا بلاگ کے لیے کیا لکھوں۔ پچھلے چار سال سے انگریزی بلاگ شروع کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اب پھر شروع کیا ہے شاید اس بار کچھ مستقل مزاجی رہ جائے۔
اچھا تو میں آخر کرتا کیا ہوں پھر؟ میں نے عرض کیا تھا کہ لسانیات سے متعلق پراجیکٹس کبھی مل جاتے ہیں جیسے پنجابی کا کوئی کورس ڈویلپ کرنا۔ پچھلے دنوں ایسی ایک جاب ملتے ملتے رہ گئی، رقم بڑی تگڑی تھی لیکن انھیں چاہیے گورمکھی ایکسپرٹ تھا جو پنجابی کے ڈائلاگز لکھ کر دے سکے انھیں۔ میں شاہ مکھی جانتا تھا بس، چناچہ مجھ سے واپس لے لی انھوں نے ورنہ مجھ سے بہتر چوائس ان کے پاس نہیں تھی۔ خیر قسمت میں نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک پراجیکٹ پنجابی کے طلباء کی سننے کی صلاحیت جاننے کے لیے ریکارڈنگز تیار کرنا ہے۔ میں پنجابی چینلز سے ریکارڈنگ کرتا ہوں پھر انھیں 30 سیکنڈ سے 120 سیکنڈ تک کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، ایک ریکارڈنگ کسی ایک موضوع پر ہوسکتی ہے اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ اور پنجابی ٹرانسکرپشن کرکے بھیجتا ہوں۔ وہ منظور ہوجائے تو اچھے پیسے مل جاتے ہیں، انھیں پیسوں میں سے پچھلے ماہ دوست کو ادھار دیا تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک یہی پراجیکٹ ہے میرے پاس جسے مستقل کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اختتام کی طرف جارہا ہے، لیکن مجھے امید ہے جاتے جاتے مجھے یہ ایک لیپ ٹاپ دے جائے گا انشاءاللہ۔
اور جاتے جاتے یہ کہ میں نے گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا لوکل جی آر ای ہے۔ جب شروع ہوا تھا بہت مشکل ہوتا تھا اب تو بہت آسان کردیا ہے انھوں نے نا انگریزی کے الفاظ مشکل ہوتے ہیں اور نا ریاضی کے سوال ہی مشکل ہوتے ہیں۔ خیر میں نے ایم ایس سی کے بعد جو اس سال اگست تک ہوجائے گی، ایم فل میں داخلہ لینا ہے جس کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تو میں نے اسے بغیر تیاری کیے پاس کرلیا ہے، جس کی مجھے ککھ بھی امید نہیں تھی۔ نمبر میرے 74 آئے ہیں اور پرسنٹائل 99 بنتا ہے یعنی میں 99 فیصد طلباء سے بہتر ہوں۔ یہی مطلب ہوتا ہے نا پرسنٹائل کا؟
یہ چند باتیں جلدی جلدی آپ سے شئیر کنا تھیں۔ باقی پھر سہی۔

پیر، 30 نومبر، 2009

زبان کا تغیر

تغیر یعنی بدلنا۔ صاحبو بدلنا زبان کا مقدر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج سے صرف دو سو سال پہلے تک بولی جانے والی زبانوں کا آج وجود بھی نہیں۔ اور وہ زبانیں جو تب بھی بولی جاتی تھیں اور آج بھی زندہ ہیں، وہ زبانیں بھی وہی نہیں جو تب تھیں۔ میں آپ کو بائبل کی مثال دیتا ہوں۔ سولہویں صدی میں جب اس کا لاطینی سے انگریزی ترجمہ ہوا تو اسے اس وقت کی روزمرہ کی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ ایسی زبان جو عامیوں کی تھی، میرے آپ جیسوں کی، جو گلی محلوں کی زبان تھی۔ آج چار صدیاں گزر جانے کے بعد زبان کا نام کیا ہے؟ انگریزی۔ لیکن اس کی ہئیت بدل چکی ہے۔ اس وقت کی عامی انگریزی اور آج کی عامی انگریزی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اہل زبان تو دور کی بات ہے آپ میں جو انگریزی کو بطور دوسری زبان یا تیسری زبان یا غیرملکی زبان کے جانتے ہیں، وہ بھی بائبل کی زبان کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ پرانی انگریزی ہے۔ جناب من یہی حال اردو کے ساتھ بھی ہوا۔ غالب کے زمانے کی اردو اور آج کی اردو، صرف ڈھیڑھ سو سال کا فاصلہ ہے لیکن ہر دو میں اچھا خاصا فرق موجود ہے۔ اجی دور کیوں جائیے یہی جسے آپ آج ثقیل اردو کہہ دیتے ہیں اس وقت کی روزمرہ تھی۔ لیکن وہ الفاظ کیا ہوئے؟ یا تو لغات میں حنوط شدہ ہیں یا سرے سے ہی ختم ہوگئے ہیں۔ آج اس اُردو کو بولنے والے گنتی کے چند بھی نہیں ہونگے۔
زبان کیوں بدلتی ہے؟ اس سوال کا جواب دینا شاید خاصا مشکل ہو۔ تاہم کچھ اندازے لگائے جاسکتے ہیں کہ جوں جوں جغرافیائی فاصلہ بڑھتا ہے زبان بدل جاتی ہے۔ یا جوں جوں کلچر اور ثقافت، ماحول بدلتا ہے تو اہل زبان کی ضروریات بھی مختلف ہوتی جاتی ہیں چناچہ زبان بھی ویسے ویسے بدلی جاتی ہے۔ یہی کلیہ وقت کے ساتھ بھی عمل کرتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے زبان میں نئی چیزیں آتی جاتی ہیں اور پرانی قصہ پارنیہ بنتی جاتی ہیں۔ جوں جوں ترقی ہوتی ہے نئے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے لیے زبان میں نئی اصطلاحات متعارف کرائی جاتی ہیں اور زبان بدلتی جاتی ہے۔ زبان بدلنے کی ایک اور وجہ بیرونی حملہ آوروں کا آنا بھی ہے۔ جیسے عربوں کی زبان یعنی عربی آج سے چند سو سال پہلے عربوں کے زیر قبضہ علاقوں میں گہرا اثر ڈالا اور آج بھی مسلمانوں کی اکثر زبانیں عربی سے مستعار شدہ رسم الخط استعمال کرتی ہیں اور ان کے ذخیرہ الفاظ میں عربی نژاد الفاظ کی ایک مناسب تعداد موجود ہے۔ جیسے دوریاں بڑھنے سے زبان بدلتی ہے ایسے ہی دو یا زیادہ زبانوں کا ملاپ ہو تو بھی زبان بدلتی ہے۔ ملنے والی زبانیں ایک دوسرے پر اثر ڈالتی ہیں، ایک دوسرے سے الفاظ لیتی ہیں اور ایک دوسرے کی گرامر کو حلقہ دام میں لے کر اس میں تبدیلیاں کردیتی ہیں۔ اردو کی تشکیل ایسی ہی ایک تبدیلی کی مثال ہے جب فارسی، عربی، ترکی اس وقت کی ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں آپس میں قریب آئیں۔
زبان کا بدلاؤ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ یہ بڑا تکنیکی سا سوال ہے لیکن جہاں تک میرا علم کہتا ہے زبان کا تغیر سب سے پہلے ذخیرہ الفاظ میں نظر آتا ہے۔ اس کے بعد گرامر، اس کی صوتیات اور دوسرے شعبے تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ 
زبان کا تغیر اور آج
اس پوسٹ کو لکھنے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو میں کچھ مشاہدات آپ سے شئیر کرنا چاہتا تھا جو میں نے ہماری مقامی زبانوں کے سلسلے میں کیے ہیں۔ دوسرے میں اردو وکی پیڈیا پر لکھی جانے والی اردو کے بارے میں اپنے علم کے مطابق کچھ تحفظات کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔
صاحبو تغیر زبان کا مقدر ہے۔ آج ہمارے سامنے جتنی زبانیں موجود ہیں یہ تغیر کے سلسلے میں ہی وجود میں آئی ہیں۔ یورپ کو دیکھیں تو کلاسیکی یونانی اور لاطینی کی جگہ وہاں اب بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جو کہ کسی نہ کسی طرح ان دو زبانوں سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن ان دادا زبانوں اور موجودہ یورپی زبانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انگریزی بھی کئی ساری زبانوں سے مل کر وجود میں آئی ہے۔ فرانسیسی، یونانی، لاطینی اور انگلستان کی کچھ مقامی زبانیں اس کی امائیں خیال کی جاتی ہیں۔
تغیر ہوتا رہا ہے، ہوتا ہے اور ہوگا بھی۔ لیکن جو تغیر آج ہورہا ہے یہ ماضی کے تغیر سے مختلف ہے۔ ماضی کا تغیر ایسے ہے جیسے بڑے بوڑھوں کی جگہ ان کی اولاد لے لیتی ہے۔ ماضی کے تغیر میں نچلے درجے کی ورائیٹیز اس وقت کی اعلی درجے کی ورائیٹیز کی جگہ لیتی رہی ہیں۔ (یہاں ورائٹی سے مراد ہر وہ زبان کی قسم ہے جو رنگ، نسل، وقت، شعبے کسی بھی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے۔ پٹواریوں کی زبان ایک ورائٹی ہوگی چونکہ ایک شعبے سے متعلق ہے، سترہویں صدی کی انگریزی ایک ورائٹی ہوگی چونکہ وہ آج کے وقت سے مختلف ہوگی، پاکستانیوں کی انگریزی آسٹریلین کی انگریزی سے مختلف ہوگی چونکہ ان کی نسل اور جغرافیہ مختلف ہے، ۔۔۔ایسے ہی کئی ورائیٹیز بنیں گی)۔ اس کی مثال اطالوی سے دی جاسکتی ہے جس نے اطالیہ میں لاطینی کی جگہ لی۔ اطالوی لاطینی سےہی وجود میں آئی لیکن یہ اس سے بہت مختلف ہے اور یہ اپنے ابتدائی دور میں بہت نچلے درجے کی زبان خیال کی جاتی تھی۔ یعنی اسے بولنا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔
آج کا تغیر مختلف ہے۔ آج کا تغیر سماجی برتری کی بنیاد پر وقوع پذیر ہورہا ہے۔ اس تغیر میں کوئی ورائٹی نیچے سے اوپر کی طرف نہیں آرہی بلکہ لوگ وہ ورائٹی اپنا رہے ہیں جو طاقتور طبقے کی زبان ہے یعنی انگریزی۔دنیا کی کسی بھی زبان کو تاریخ میں ایسے پروموٹ نہیں کیا گیا جیسے آج انگریزی کو کیا جاتا ہے۔ میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جس نے آج زبانوں کے تغیر کی آگ اتنی تیزی سے بھڑکا دی ہے کہ ماضی میں کبھی بھی ایسا نہ ہوا تھا۔ گلوبلائزیشن کا تصور اور دنیا کو ایک دیہہ سمجھنے کے آئیڈیے نے انگریزی سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت اور بڑھائی ہے۔ بزنس، تعلیم اور آپسی رابطوں کے لیے ایک زبان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے اور انگریزی اس کام کے لیے بہترین ہے۔ یہ طاقتور کی زبان بھی ہے اور اسے پروموٹ بھی کیا جاتا ہے، اسے سیکھا سکھایا بھی جاتا ہے چناچہ اسے تیزی سےاپنایا جارہا ہے۔
اس سب کا اثر کیا ہورہا ہے۔
اس سب کا پہلا اثر تو یہ ہورہا ہے کہ تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔ ایجادات انگریزی میں ہوتی ہیں۔ چناچہ دوسری زبانوں کو انگریزی سے الفاظ اور اصطلاحات مستعار لینی پڑتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو اردو وکی پیڈیا کی انتظامیہ ماننے کو تیار نہیں۔ لفظ صرف ایک لفظ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ معانی کا پورا جہان ہوتا ہے۔ وہ لفظ کس موقع پر اور کیسے استعمال کرنا ہے، بطور اہل زبان، یہ ہمارے علم میں ہوتا ہے۔ صارف جب کی بورڈ پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں فورًا کمپیوٹر کے کی بورڈ کا تصور آتا ہے۔ لیکن کلیدی تختہ؟ کلید یعنی چابی اور تختہ (تخت یا تختہ والا تختہ؟) اس اصطلاح میں ایک نئے تصور کو جو نام دیا گیا ہے ، اور جو ایک مرکب نام ہے، صارف کے لیے پہلی باری میں بلکہ کئی باری میں اس کو یہ معانی دینا بہت مشکل کام ہے۔ ہم تختے کو کمپیوٹر سے جوڑتے ہی نہیں، تختہ ہمارے لیے یا تو تخت یا تختہ والا تختہ ہے یا پھر مردے کو غسل دینے والا تختہ یا ایسی ہی کوئی چیز جو نفیس نہیں ہے، اور ٹیکنالوجی کے طو رپر ایڈوانس بھی نہیں ہے۔ اور کلید؟ یعنی چابی کسی دقیانوسی تالے کی چابی لگتی ہے، ماڈرن تالا تو کِی سے کھلتا ہے نا۔ آپ کو شاید ہنسی آجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر ہر لفظ کے ساتھ اس کے لغاتی معنی کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے تصورات وابستہ ہوتے ہیں، ان صورتوں کے حوالے جڑے ہوتے ہیں اور ان مقامات کے حوالے جڑے ہوتے ہیں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے، آسان الفاظ میں وہ سیاق و سباق کہ کہاں کہاں اور کیسے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں عادت نہیں ہوتی کہ ہم ایسے الفاظ کو ایک جگہ سے اُٹھا کر کسی دوسری جگہ فٹ کریں اور استعمال کریں۔ چناچہ کیا ہوتا ہے؟ صارف ایسی کسی بھی تبدیلی کو مسترد کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو وکی پیڈیا پر موجود مضامین ہمیں اتنے مشکل، ثقیل اور ناقابل فہم لگتے ہیں کہ ہم انگریزی وکی پیڈیا سے معلومات کو اس سے زیادہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔  اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم پھر اپنی زبان میں علم کی ترویج ہی چھوڑ دیں؟ ہمارے خیال سے ہمیں زبان کے بارے میں پالیسی بنانی ہوگی اور اس کے لیے ہمارے پاس ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جس کا کام وہ ہو جو مقتدرہ قومی زبان کا ہے اور جو وہ سب کچھ نہ کرے جو مقتدرہ اب کررہا ہے یعنی بندے کے پتروں کی طرح دیانت داری سے اردو کی ترویج کرے، اصطلاح سازی کرے اور اردو میں علم کی ترویج کو یقینی بنائے۔ اردو وکی پیڈیا کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اردو زبان کی پالیسی سازی کرے اور نہ ہی اردو وکی پیڈیا ایسی کسی بھی پالیسی سازی کو رائج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے اردو وکی پیڈیا کے اختیار کو کوئی نہیں مانے گا نا۔ وکی پیڈیا کا مقصد علم کی ترویج ہے اور اردو وکی پیڈیا کو چاہیے کہ وہ یہ کام کرے، اردو میں کرے اور ایسی اردو میں کرے جسے اردو والے سمجھتے ہیں۔ فارسی اور عربی کے دقیق الفاظ کو اردو میں رائج کرنے کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ یہ 1857 نہیں ہے اور نہ ہی یہاں اردو کے ساتھ فارسی دان بیٹھے ہیں جو پڑھتے تو فارسی تھے اردو شغل میں خود ہی آجاتی تھی کہ روزمرہ کی نچلے درجے کی زبان تھی جبکہ فارسی شرفاء کی زبان تھی ( اس وقت)۔ 
دوسرا اثر یہ ہورہا ہے کہ علاقائی زبانیں گھٹ رہی ہیں۔ ان کے بولنے والے کم ہورہے ہیں۔ کثیر لسانی یعنی ایک سے زیادہ زبانیں جاننا دنیا میں ایک عام سی بات ہے۔ لیکن ہم بطور صارف اپنی آسانی کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ چناچہ اگر کام انگریزی سے چل رہا ہے، اور یہ اعلٰی طبقے کی زبان بھی ہے تو نچلے درجے کی زبانیں کیوں سیکھی جائیں؟ یہاں نچلے درجے کی زبان سے مراد اس کا سماجی رتبہ ہے، لسانیات کے حساب سے تمام زبانیں برابر ہیں کوئی بھی اچھی یا بری نہیں۔ ہر زبان کا مقصد ہوتا ہے اور وہ بہ احسن وہ مقصد پورا کرتی ہے چناچہ کسی تیسرے کو یہ اختیار نہیں کہ زبان کو برا یا اچھا کہے۔ آج دنیا میں یہ رواج بہت تیزی سے وقوع پذیر ہے کہ انگریزی بچوں کو بطور پہلی زبان سکھائی جائے۔ پڑوسی ملک بھارت میں ہندی کی جگہ تیزی سے انگریزی لے رہی ہے۔ بلکہ ایلیٹ کلاس تو اپنے بچوں کو انگریزی مادری زبان کے طور پر سکھا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ رجحان تیزی سے فرو غ پارہا ہے۔ انگریزی مادری نہیں تو دوسری سیکھی جانے والی زبان بن رہی ہے، میری مراد اشرافیہ طبقے سے ہے۔ جبکہ درمیانے تعلیم یافتہ طبقے میں یہ رجحان فروغ پارہا ہے کہ بچوں کی مادری زبان اردو ہو۔ چاہے ماں باپ کی مادری زبان پنجابی یا کوئی اور علاقائی زبان ہے۔ چناچہ اب حالات یہ ہیں کہ دادا دادی اور اماں باوا آپس میں پنجابی میں بات کرتے ہیں اور بچوں سے اردو میں۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ یہ نہیں کہ بچے اردو کی وجہ سے پنجابی سمجھ نہیں رہے۔ سمجھتے ہیں، بات کرو تو پنجابی میں جواب بھی دیتے ہیں لیکن یہ ان کی ترجیحی زبان نہیں۔ وہ اردو میں بات کرتے ہیں، انھیں پنجابی کی ضرورت ہی کیا ہے جب اردو یہ مقصد پورا کرتی ہے تو۔ چناچہ یہ نسل پنجابی سمجھ سکتی ہے۔ اگلی نسل؟ بالکل اگلی نسل پنجابی نہیں سمجھ سکے گی چونکہ ان کے ماں باپ اردو کے اہل زبان ہونگے۔ اور اگلی دو نسلوں میں پنجابی انا للہ ہوجائے گی۔ دوسری طرف انگریزی اشرافیہ اور درمیانے دونوں طبقوں میں تیزی سے اردو کی جگہ لے گی اور اردو رابطے کی زبان سے عامیوں کی زبان بن جائے گی جبکہ انگریزی رابطے کی زبان اور اعلٰی درجہ رکھنے والی زبان ہوگی۔ تغیر آرہا ہے لیکن یہ تغیر الٹی سمت سے آرہا ہے۔ نیچے سے اوپر کی بجائے اوپر سے ٹھونسا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے علاقائی زبانیں اقلیت بن رہی ہیں اور ایک دن وہ بھی آئے گا کہ دو سو تین سو لوگ رہ جائیں گے جو یہ زبانیں سمجھ سکتے ہونگے۔ جیسا آسٹریلیا میں وہاں کے باشندوں کی زبانیں مریں اور امریکا میں ریڈ انڈینز کی۔ تغیر کی اس یلغار کو روکنے کے لیے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
یاد رہے لغات اور اصطلاحات کے ڈھیر، اور مردہ الفاظ میں علم کی ترویج کرکے ہم اپنی زبانوں کو زندہ نہیں مردہ کررہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ تغیر زبان کا مقدر ہے، تغیر دریا ہے جس کے آگے بند باندھیں گے تو اور سمت سے راستہ بنا لے گا۔ لیکن یہ تغیر ایسا نہ ہو کہ ہماری زبانیں ہی مٹ جائیں۔ ہمیں زبانوں کو بچانے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ورنہ تغیر کی یہ یلغار اتنی تیز ہے کہ اگلے دس سال میں بہت کچھ بدل چکا ہوگا۔

اتوار، 5 اپریل، 2009

کس کو سنیں کس کو نہ سنیں؟

پچھلے دو دن سے میڈیا پر جو طوفان اٹھا ہوا ہے اور جو اب طوفان بدتمیزی میں بدلتا جارہا ہے، پہلے ہمارا خیال تھا کہ جان دیو کیا لکھنا وہی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرو اس کو بھی پی جاؤ۔ لیکن اجمل صاحب کی اس پوسٹ اور اس کے علاوہ کچھ دوسرے بلاگرز کی متواتر تحاریر نے مجبور کردیا کہ کچھ لکھا جائے۔ لیکن کیا لکھا جائے؟ اتنے سارے پر کیا کہا جاسکتا ہے۔ میں جو ایک عام شہری ہوں۔ جس کے سامنے بے شمار امکانات ہیں کہ یہ ویڈیو جعلی بھی ہوسکتی ہے، بیرونی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں یہ اصلی ہے۔ اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ کل اگر اس بچی کے ساتھ یہ ہوا تو میری بہن کے ساتھ بھی کوئی دین کا ماما یہ کرسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اصل بھی ہے تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ ہمیں یہ سب کچھ دیکھنا پڑے گا۔
پچھلے پانچ سال سے ہماری حکومت کی رِٹ کہا جارہی ہے؟ کبھی سوچا ہے آپ نے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ ہمارے حکمران شمالی علاقوں پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔
ہماری حکومت روشن خیالی اور جمہوریت کی آڑ میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک ایسی آگ بڑھکا رہی ہے جو خانہ جنگی کی طرف ہی لے کر جاسکتی ہے۔ اور لے جا بھی رہی ہے۔
میں آپ کو اپنا حال بتاتا ہوں۔ ایک طرف یہ خود کش حملے ہیں، بم دھماکے ہیں اور دوسری طرف جب مین فحش ناچ گانا اور اپنے شہر فیصل آباد کے تھیٹروں میں ہونے والے ڈرامے اور ان میں ناچنے والی رنڈیوں کے ننگے پوسٹر دیکھتا ہوں تو میرا دل کیا کرے گا۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے؟
جب میں اپنے معاشرے کی اخلاقی تنزلی دیکھوں گا، جھوٹ، ، رشوت اور ناانصافی کو پنپتا دیکھوں گا تو پھر میں کیا سوچوں گا؟
جناب پھر میرے ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ اگر آج سوات میں یہ کچھ ہورہا ہے تو کل فیصل آباد کی باری ہے۔ پھر پاکستان کی باری ہے۔
یہ حقیقت ہے جناب کہ ہم اس وقت دو انتہاؤں کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔ یہ دو انتہائیں اس قدر شدید ہیں کہ شاید یہ قومیتی اور صوبائی اختلافات کو بھی اپنے اندر سمیٹ لیں۔ اور تقسیم ایسی ہوجائے کہ کچھ صوبے یا نسلی گروہ بنیادہ پرست ہوجائیں اور کچھ مادر پدر آزادی کو ترجیح دیں۔
یہ ساری تقسیم پاکستان کو برباد کردے گی جناب اگر آپ نے میں نے یہ نا سوچا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔
اگر طالبان اٹھ رہے ہیں تو اس کی وجوہات ہیں جناب۔
اس کی وجوہات مرد مومن مرد ناحق کی وہ کوڑھ کی کاشت ہے جس نے اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔
اس کی وجوہات وہ یو ٹرن ہے جو 2001 میں لیا گیا جناب جس نے ایسا ردعمل پیدا کیا جو آج شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
اس کی وجوہات میں طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی شامل ہے جناب جو پچھلے پانچ سال میں شمالی علاقوں میں امریکی آشیرواد پر اندھا دھند استعمال کی گئی۔
اس کی وجوہات میں طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں سوات پر پچھلے دو سال میں ہونے والا آپریشن بھی ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں عام آبادی پر توپوں سے گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ بھی شامل ہے جناب۔
اس کی وجوہات میں ان زمینی حقائق سے مجرمانہ غفلت اور انٹیلی جنس سسٹم کی ناکامی بھی شامل ہے جناب۔
یہ بات نوٹ کرلیجیے جناب کہ اگر آج بھی ڈائیلاگ کی بات نہ کی گئی، طاقت کو ہی آخری حل سمجھا گیا اور حاکموں کا محاسبہ نہ کیا گیا تو اس ملک کا کچھ نہیں بچے گا جناب۔ اس ملک کے روشن خیال جمہوریت پسند حکمران اسلام آباد میں بیٹھے چھنکنے بجاتے رہ جائیں گے جیسے حامد کرزئی کابل میں بیٹھا چھنکنے بجاتا اور بیان جاری کرتا رہتا ہے۔
جناب یہ صورت حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنی نظر آرہی ہے۔ اور اس کا حل اتنا سادہ نہیں جتنا سادہ بیان کیا جاتا ہے۔ کہ طاقت کے استعمال سے ظالمان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ جناب یہ وہ کینسر ہے جو آپ کے جسم کے ان ان حصوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے جس کا آپ کو احساس بھی نہیں۔ اور اس کینسر کے خلاف ہونے والے آپریشن نے اس ملک کو ٹھیک کرنے کی بجائے مفلوج کرڈالا ہے۔
ہمیں اعتدال کی ضرورت ہے جناب اور ٹھنڈی طبیعت سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جناب۔
اس ملک میں رہنے والوں کو اپنے حقوق و فرائض اور اس ملک کا مستقبل پھر سے مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا جناب۔ ورنہ کسی خونی انقلاب کی چاپیں بہت قریب آگئی ہیں جناب۔ شاید خونی انقلاب نہیں خانہ جنگی۔