ہفتہ، 7 فروری، 2009
فنکشن
ضیا یعنی ضیاء اللہ بدر بیچلر آف سائنس لنگوئسٹکس اینڈ لٹریچر کا طالب علم، ہمارا سینئیر اور کل رات ہونے والے فنکشن کا آرگنائزر، کمپئر اور پرفارمر.
ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان "میں کون ہوں" انگریزی میں
Who Am I جس میں آپ کچھ بھی بنا سکتے تھے. اس کو بھی فنکشن کے ساتھ ہی جوڑ دیا گیا. چناچہ ایک جانب تقریب جاری تھی دوسری جانب لوگ اس حصے میں آجارہے تھے جہاں طلباء کے چارٹس، پینٹگز، کارڈز، گڑیاں، سینریاں اور دوسری چیزیں لگی ہوئی تھیں. (ہم نے بھی بنایا تھا ایک چارٹ :oops: . ان اللہ علی کل شیء قدیر کو ہم نے انتالیس فونٹس میں لکھا اوپن آفس میں اور چھ عدد پرنٹ نکال کر چارٹ پیپر پر چسپاں کرلیے. آرٹ کا آرٹ ٹیکنالوجی کی ٹیکنالوجی :grin: )
ہمارا پروگرام ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس ہے اور سمسٹر ابھی پہلا. مابدولت کلاس کے سی آر ہیں اور ساتھ میں سینئیر بھی کہ پہلے ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ یہیں سے کیا ہے. ہم نے بھاگم بھاگ ایک عدد نظم لکھی. نظم کیا تھی بس قذاقی اور ڈاکا تھی. ہم نے زاہد فخری کی "کدی تے پیکے جا نی بیگم" کو "کدی تے چھٹی جا نی میڈم" کرلیا. ایک دو الفاظ بدل کر ہم نے سارا مفہوم بیگم سے میڈم اور گھر سے لنگوئسٹکس کے کلاس روم تک پہنچا دیا. خیر یہ تو ہماری ذاتی کہانی تھی. ہماری کلاس....پہلا سمسٹر... سارے بی اے...زندگی میں پہلی بار مخلوط طرز تعلیم میں آمد...یونیورسٹی کے ماحول سے کافی حد تک کم ہوچکی لیکن ابھی بھی باقی اجنبیت ... وغیرہ وغیرہ کے مارے ہوئے.. ہمیں ہمارے سینئرز جو پہلے ہی ڈیڈ سولز (جی مردہ روحیں اردو میں) قرار دیتے ہیں. ہم نے یعنی سی آر صاحب نے زور لگایا یار کجھ کرلو. تہانوں اللہ دا واسطہ نک دا سوال اے. تو اللہ اللہ کرکے ایک عدد ڈرامہ لکھا گیا، تھوڑی بہت پریکٹس بھی ہوئی. (لیکن ہم اس میں نہیں تھے) وقت کی کمی کی وجہ سے آخری وقت میں اسے اڑا دیا گیا.. :roll: اس کے علاوہ ہماری کلاس سے دو اور لوگ گانے میں حصہ لے رہے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور ... ایک دن میں نے اور باقی لڑکوں نے غصہ کھا کر ایک مزاحیہ سکرپٹ بھی تیار کرڈالا..آئیڈیا زرداری کا توا لگانے کا تھا... لیکن یہ سکرپٹ پھر ہماری ہی عدم دلچسپی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے پیش ہی نہ ہوسکا. ہماری کاسٹ دوسرے ڈرامے میں مصروف تھی، مکالمے جاندار نہ تھے اور ہمارے ڈائرکٹر صاحب کا انداز چھڈ یار قسم کا تھا. سو ہم نے کہا بھاڑ میں جاؤ ہم تو نظم پڑھ دیں گے.
خیر ہم اور میں سے باہر آئیں کہ فنکشن اس سے باہر باہر ہی ہوا. ہمارے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں دو ذیلی شعبے ہیں. لنگوئسٹکس اور لٹریچر. لنگوئسٹکس میں چار کلاسیں بی ایس آنرز کی ہیں جو چار سال کا کورس ہے اور اس میں لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے مع لسانیات. دو کورس ایک تھرڈ اور ایک فرسٹ ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس اورلٹریچر میں چار کلاسیں ایم اے انگریزی صبح و شام اور فرسٹ و تھرڈ سمسٹر کی ہیں. خیر تو اتنی ساری کلاسوں میں سے کس نے زیادہ حصہ لیا. تو اس کا جواب ہے کہ بی ایس 7 اور ایم ایس سی 3 سمسٹر والوں نے. یہ دونوں کلاسیں اصل میں ایک ہی کمرے میں ہوتی ہیں وجہ کمروں کی کمی ہے، ان کے کورسز بھی ایک ہیں بس پروگرام کا نام مختلف ہے. یہ جی سی کے کھنڈ لوگ ہیں. ضیاء اللہ بدر، غلام دستگیر عرف جی ڈی، زین، امجد، قندیل اور حنان وغیرہ وغیرہ. ضیاء جانا مانا ڈرامہ نگار ہے. مجھے تو شکل سے ہی ڈرامے باز لگتا ہے. ہاتھ میں سگریٹ، عینک وہی بال، لگتا ہے ابھی آواز دے گا اوئے ابھی تک سیٹ نہیں لگا، جلدی کرو. اس نے پچھلے سال فنکشن پر شیکسپئر کے تین ڈراموں کی ہدایات دی تھیں. اس بار اس نے اپنا ڈرامہ لکھا اسٹیشن بستی سیداں والی. اچھا ڈرامہ تھا، لو سٹوری تھی. لیکن اچھا تھا اگرچہ اس کا مرکزی کردار وہ خود تھا، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح سارے راستے اسی کی طرف جاتے تھے، لیکن پھر بھی اچھا ڈرامہ تھا، محنت ہوئی تھی اس پر اور پسند کیا گیا. وائس چانسلر صاحب اسی دوران آئے تھے اور اس ڈرامے سے اتنا متاثر ہوئے کہ پانچ ہزار کے انعام کا اعلان کرگئے. خیر...یہ تو 7 سمسٹر والوں کا تھا ایک ڈرامہ لٹریچر والوں کی طرف سے تھا. ایک عدد قوالی تیار کی گئی تھی جس میں حسب توقع بی ایس 7، ایم ایس سی 3 اور بی ایس 3 کے لوگ شامل تھے. قوالی کا بنیادی مقصد لٹریچر والی کی مٹی پلید کرنا تھا. اور خوب کی گئی. ہوسکا تو اس کی ویڈیو پوسٹ کروں گا. بول کچھ ایسے تھے " لٹریچر والوں سے اللہ بچائے" حسن والوں سے اللہ بچائے کی طرز پر.
تو صاحب یہ پس منظر تھا، فنکشن پہلے چار کو ہونا تھا پھر چھ کو کردیا گیا. ہم یعنی سی آر صاحب نے بھی اپنا نام انتظامیہ میں لکھوا لیا کہ چلو اسی بہانے ذرا چوہدراہٹ بن جائے گی. لیکن ...آہ کیا بنا.. بنا یہ کہ کل ہمارے سیٹ کی ایک بیٹری جواب دے گئی اور ہمیں دوسری بیٹری نکال کر اسے چارج کرنا پڑا. اس کی چارجنگ پورٹ خراب ہے چناچہ چارجنگ تو موبائل آف.. اب وہاں ہمیں کال کیا جاتا ہے اور ہمارا موبائل بند.... ہم بھی کیا کریں ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی آتی تھی جب آتی ہم موبائل چارجنگ پر لگا دیتے جب چلی جاتی تو اسے پھر آن کرلیتے. :roll: شام کو جب ہم وہاں تشریف لے جانے سے پہلے جی آر سے مخاطب ہوئے کہ میڈم وہ پاسز اور لسٹ لیتی آنا یاد سے تو آگے سے ہماری جو ہوئی :grin: .... نہ پوچھیں... اس بے چاری کی ہماری ٹیچر نے کی تھی کہ کم بخت نے انتظامیہ میں نام لکھوا لیا اور اب اس کا سیل بھی آف ہے. خیر ہم کیا کہتے عذر پیش کردیا جوکہ خاصا معقول بھی تھا... وہاں پہنچے تو پہلے زین اور قندیل نے واٹ لگائی... پھر جی آر نے ایک بار پھر سے... :oops: ...پھر دوران فنکشن جی ڈی نے بڑے پیار سےاور ابھی میڈم یعنی ہماری ٹیچر رہتی ہیں.. یا اللہ خیر :neutral:
تو جناب فنکشن شروع ہوتا ہے... کتنے بجے پانچ بجے لیکن پانچ بجے صرف انتظامیہ کے ٹانویں ٹانویں لوگ تھے وہاں اصل کام ساڑھے چھ شروع ہوا... آتے ہی پہلے تھیم سانگ چلا، تجھ سے نیناں لاگے پر 7 اور 3 سمسٹر کے چار لڑکوں کی گھمن گھیریاں، ہمیں تو ککھ سمجھ نہیں آئی کہ تھیم کیا تھا، خیر پھر ضیاء کا ڈرامہ جو تیس منٹ کی بجائے پونے گھنٹے سے اوپر لے گیا.. پھر ایک انگریزی ٹیبلو سا سنو وائٹ پیش کیا گیا. پھر دو گز کی چادر سٹیج ہوا. اسی دوران قوالی بھی ہوچکی تھی بس ضیاء کا ڈرامہ اور یہ قوالی ہی دیکھی ہم نے اور ادھر ادھر پھرتے رہے. تصاویر کھنچوانے، گروپ فوٹو بنوانے جو کہ بن ہی نہ سکی ہر بار دو چار بندے کم ہوجاتے..اور ہم یعنی شاکر میاں اپنی نظم پڑھنے کی باری کا انتظار کرنے ...ہان شہزاد بھی جس نے گانا گانا تھا اور اس کے لیے وہ اپنا مووی کیمرہ بھی لے کر آیا تھا اور مجھے سکھا بھی چکا تھا کہ مووی کیسے بنانی ہے. :oops:
آہ... لیکن حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے. اس دوران دس بج گئے تھے، کئی لڑکیاں جاچکی تھیں اور کئی کو لے جانے والے آچکے تھے. چناچہ فنکشن کو مہمان خصوصی اور چئیر پرسن کے اختتامی کلمات کے ساتھ دی اینڈ کردیا گیا اور ہم دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے گاتے کھانے پر ٹوٹ پڑے. جیسا تیسا کھایا کہ ہم سے تو ایسے مواقع پر کھایا ہی نہیں جاتا... پھر آخر میں تھوڑا سا کام کروا دیا کہ تھوڑا سا ازالہ کردیں صبح نہیں اب تو کروایا ہے کام. آہ پھر واپسی.
اگرچہ:
ہماری کلاس کا ڈرامہ ریجیکٹ ہوگیا.. برا سا لگا
ہمارے دونوں گانے اور نظم شامل نہیں کی گئی.
فنکشن لیٹ شروع کرکے اس میں پرفارمنسز وہ کاٹی گئیں جو ہماری تھیں یا جہاں ایم ایس سی 3 اور بی ایس 7 کے لوگ نہیں تھے. :sad:
ہمیں کھانے کے دوران بوتل نہیں ملی :oops: چار بندوں نے ایک بوتل شئیر کی..
اور ہمارا نام انتظامیہ میں شامل نہ ہوسکا کہ ہم تو آئے ہی نہیں تھے..قسم سے ہمیں اپنی جی آر اور جی ڈی لوگوں سے ڈھیر سارا حسد محسوس ہوا جب وہ آرگنائزر کا کارڈ گلے میں ڈالے قریب سے گزرتے :cry:
لیکن:
اس کے باوجود یہ تقریب ایک اچھی یاد بن کر دل کے کینوس پر نقش ہوگئی.
ہم نے اسے انجوائے کیا.
بقول عاصم صاحب یہ لائف سائنسز ہیں آپ کو پہننے، اوڑھنے، کھانے، پینے کا سلیقہ دیتی ہیں یہ تقاریب. آپ کو آداب سکھاتی ہیں. چناچہ ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا. ہم جو وہاں شاید سفید کرتے شلوار میں پہنچ جاتے لیکن ہمیں مت دی گئی کہ کاکے ڈنر میں گہرے رنگ چلتے ہیں، ٹو پیس کرلینا. چناچہ ہم نے پینٹ شرٹ گھر سے پہنی اور کوٹ ایک دوست کی مہربانی سے وہاں جاکر پہن لیا.. سنا ہے کہ خاصے معقول صورت بلکہ خوبصورت ہی لگ رہے تھے، تصویر مہیا کرنے کی کوشش کریں گے. :oops: :razz:
آج ہمیں لگ رہا ہے جیسے ہماری روح کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے. جی سی کے اسی لان پر منڈلاتا ہوا، اس فنکشن کے اندر باہر آتا جاتا.. عجیب خالی پن سا لگ رہا ہے، جیسے یکدم آپ کسی بھیڑ والی جگہ سے خلا میں آجائیں جہاں پہلے سینکڑوں چیزیں اور لوگ تھے اب وہاں صرف آپ ہوں اور مہیب خلاء، بیکراں سناٹے اور ملگجا سا اندھیرا. شاید خلیل جبران نے ٹھیک ہی کہا کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے اپنی زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں.
اتوار، 18 جنوری، 2009
تم آؤ تو
---
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
صدیوں بعد
تپتے تھر میں
بارش برسے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
بنجر تن میں
خوشیاں اتریں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
ویراں من میں
نغمے بکھریں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
ٹکڑے جاں کے
پھر جڑ جائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
سارے دُکھ یہ
پھُر اڑ جائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
کالی شب میں
چندا اترے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
سوہنے رب کی
رحمت اترے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
امّیدوں کا
سورج نکلے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
کلیاں باغوں
میں مسکائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
تپتے تھر میں
بارش برسے
----
بدھ، 5 دسمبر، 2007
سی این آر کا اجراء
یاد رہے سی این آر لِن سپائر کی کمرشل سافٹویر سروس تھی۔ لیکن فری سپائر کے اجراء کے بعد انھوں نے اسے فری سپائر میں بھی متعارف کروایا۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے ایک سافٹویر بنام سی این آر کلائنٹ فری سپائر کے ورژن 1.0 میں موجود تھا۔ لِن سپائر نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملکیتی مال کی جگہ سی این آر کا آزاد مصدر اور مفت ورژن ڈویلپ کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ فری سپائر 2 سے اسے اوبنٹو بیسڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی لِن سپائر اوبنٹو کو لے کر اس کے مواجے میں کچھ تبدیلیاں کرکے(فری سپائر کا طےشدہ ڈیسکٹاپ مواجہ کیڈی پر مشتمل ہے) اور کلوزڈ سورس ڈرائیورز و پلگ انز ڈال کر اسے فری سپائر کے نام سے جاری کرتا ہے۔ لِن سپائر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سی این آر اوبنٹو کے لیے جلد ہی دستیاب ہوگا اور اب اسے سب سے پہلے اوبنٹو کے لیے ہی جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسری ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔ ایک عام صارف کے لیے لینکس میں سافٹویر انسٹال کرنا اچھا خاصا درد سر ہوتا ہے۔ چونکہ اس کام کے لیے کئی پیکج مینجمنٹ سسٹم ہیں۔ ڈیبین کا .deb اور ریڈ ہیٹ و فیڈورا پر مشتمل ڈسٹروز کا .rpm اور تو اور مینڈریوا کا اپنا الگ ہی پیکج سسٹم ہے۔ پیکج لینکس میں ایگزی فائل کی طرح ہی ہوتے ہیں جو سافٹویر کو انسٹال کرنے کے کام آتے ہیں۔ لینکس دنیا میں ایک عرصے سے کسی ایک پیکج مینجمنٹ سسٹم پر اتفاق کے سلسلے میں متفق ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے نظام جاری بھی کیے گئے ہیں جو ڈسٹرو سے آزاد ہوتے ہیں یعنی ایسے فارمیٹ میں موجود سافٹویر کسی بھی ڈِسٹرو میں انسٹال ہوسکتا ہے۔ سی این آر بھی اسی سلسلے کی ایک منظم اور مربوط کڑی ہے۔
بحوالہ
اتوار، 2 دسمبر، 2007
حسب معمول سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹی جائے گی
اب ہر طرف امن اور سکھ چین ہے۔
اطلاعات سے پتا چل رہا ہے کہ طالبان اچانک اپنے مورچے چھوڑ کر غائب ہوگئے ہیں۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ شاید اب وہ چھاپہ مار جنگ کریں۔ لیکن اس سے بھی وڈی چیز وہ سوالیہ نشان ہیں جو لال مسجد آپریشن کے بعد قوم کے سامنے ناچتے رہے۔ اب پھر سے خٹک ڈانس کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ بڑے سادہ سے سوالات ہیں۔
جیسے مولانا فضل اللہ کو آخر اتنی ڈھیل ہی کیوں دی گئی؟
ایک عرصے تک آخر کیسے اپنا ایف ایم ریڈیو مولانا موصوف بغیر کسی رکاوٹ کے چلاتے رہے؟ آپس کی بات ہے اگر میں مشرف کی جگہ ہوتا تو پہلے اس ریڈیو کے ٹاور پر نیپام بم گروا کر اس کو نیست کرواتا اور پھر کوئی اور کام کرواتا۔
طالبان نے پولیس اسٹیشنوں پر قبضہ کیوں کیا اور انھیں وہ خالی ہی کیوں ملتے رہے؟ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
چونکہ یہ ہماری پرانی عادت ہے کہ سانپ نکل جائے تو پھر لکیر پیٹنا شروع کرتےہیں۔ سو اخبارات میں بھی کالم نگاروں کو اس سلسلے میں ہوش آگیا ہے۔ حمید اختر ایکسپریس کے سینئیر کالم نگار ہیں ان کا دو حصوں میں موجود کالم پڑھیے اور سر دھنئے۔
قیاسات اور خیالی گھوڑوں کی ایک فوج ہے جو دوڑائی جاسکتی ہے۔ لیکن جس نے بھی یہ کیا ہے بڑے منظم انداز میں کیا ہے۔ ادھر بی بی سی اردو پر ملاحظہ کیجیے مشرف صاحب کا بیان
پتا نہیں اس شخص کے جانے کے بعد ہمیں کب تک اس کے "ضمنی اثرات" سے نمٹنا ہوگا۔
ہفتہ، 17 نومبر، 2007
احتجاج؟
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیںتو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں "سالا پاگل ہے"۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا
بدھ، 10 اکتوبر، 2007
نادرا کیاسک ہمارا تجربہ
ہماری حکومت کی آئی ٹی کمپنی نادرا نئے نئے "سٹیپ دکھاتی" رہتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس نے نادرا کیاسک کے نام سے نئی سروس شروع کی ہے۔ شناختی کارڈ کی تصدیق کروائیں، بل جمع کروائیں، موبائل فون کارڈ لیں۔ آج ہم نے بینک میں کھاتہ کھلوانا تھا لیکن اس کے لیے اب گواہی کی بجائے نادرا سے شناختی کارڈ کی تصدیق کروانا پڑتی ہے۔ ہمارے ساتھ والے محلے میں ایک کیاسک مشین نصب کی گئی ہے کچھ عرصہ پہلے۔ وہاں گئے تو وہاں بیٹھے بابا جی بولے بھئی یہ تو تصدیق کا کام نہیں کرتی۔ کئی دن سے خراب ہے ٹھیک کرنے والے آتے ہی نہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ اکبر چوک چلا جاؤں وہاں بھی ایک مشین ہے۔ میں نے سوچا چلو شہر چلتے ہیں یونیورسٹی سے بھی ہولیں گے اور یہ کام بھی ہوجائے گا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر پہلے نادرا کے رجسٹریشن سنٹر گیا وہاں سے پتا چلا کہ وہ تو پیچھے ہے جہاں سے آیا ہوں۔ چناچہ پیدل مارچ کرکے واپس امین پور بازار آیا (فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں سے ایک)، پوچھ پاچھ کر اس دوکان پر پہنچا وہاں پہلے ہی پانچ چھ بندے بیٹھے ہوئے تھے بیماران کیاسک۔ کوئی بل جمع کروانے آیا تھا اور کوئی شناختی کارڈ کی تصدیق کروانے۔ لیکن مشین کا پرنٹر ہی کام نہیں کررہا تھا۔ آخر بیس پچیس منٹ بیٹھ کر میں لوٹ آیا۔ اب کل دوبارہ اکبر چوک جاکر ٹرائی کروں گا اگر وہ میرے جانے سے پہلے خراب نہ ہوگئی تو۔
ہماری یہ بڑی گندی عادت ہے کہ سکیم شروع کردیتے ہیں پھر اس کو چلانا اور اس کی دیکھ بھال کا کوئی مربوط اور منظم نظام نہیں ہوتا۔ بس سروس سے لے کر کیاسک تک یہی حال ہے۔
اتوار، 7 اکتوبر، 2007
اوبنٹو 7.10 گسٹی گبن
ٹھیک گیارہ دن بعد اوبنٹو کا نیا ورژن گسٹی گبن جاری کیا جارہا ہے۔ اس ورژن میں کافی ساری نئی چیزیں متعارف کروائی گئی ہیں۔
- گوگل ڈیسکٹاپ جو اس سال لینکس کے لیے بھی جاری کردیا گیا تھا کے مقابلے پر اوبنتو اور کبنٹو دونوں میں ڈیسکٹاپ تلاش گر متعارف کروائے گئے ہیں۔ امید ہے یہ "پیدائشی" اطلاقیے گوگل ڈیسکٹاپ کی نسبت بہتر اور تیزی سے کام کریں گے۔
- این ٹی ایف ایس فائل سسٹم کی رائٹنگ سپورٹ شامل کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے اوبنٹو لینکس اور اس کے "بچڑے" صرف اس کو پڑھ ہی سکتے تھے۔ یہ کام این ٹی ایف ایس 3 جی نامی ایک ڈرائیور کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
- اوبنٹو میں سہ جہتی اثر کے لیے کمپز بیرائل طےشدہ طور پر شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا سسٹم اس قابل ہے (یعنی کم از کم 512 میگا بائٹ ریم اور 64 میگا بائٹ سے زیادہ گرافکس کارڈ میموری والا) تو سہ جہتی ڈیسکٹاپ خود بخود دوران تنصیب فعال ہوجائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ صرف اوبنٹو میں کیا گیا ہے۔ کبنٹو میں یہ سارا کام خود سے کرنا ہوگا۔
- کبنٹو میں کنکرر کی چھٹی کرکے ڈولفن کو فائل مینجر بنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ کنکرر بھی یہ کام کرتا رہے گا۔
- کے ڈی ای 4 اس اشاعت میں شامل نہیں۔ اس کا مستحکم ورژن اکتوبر کی بجائے اب نومبر میں متوقع ہے۔
- کبنٹو میں ایجوکیشن اوبنتو کے پیکج شامل کردیئے گئے ہیں۔ ایجو اوبنتو اصل میں اوبنٹو کا ایک بچڑا ہے جو کہ خصوصًا بچوں اور اساتذہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن اس کے سارے اطلاقیے کے ڈی ای ایجوکشن پروجیکٹ سے لیے گئے ہیں جبکہ ڈیسکٹاپ گنوم ہے۔ اب یہ سارے اطلاقیے آپ کبنٹو میں ایک کمانڈ سے نصب کرسکتے ہیں۔
sudo apt-get install edubuntu-desktop-kde
- فائر فاکس اور کنکرر میں پلگ انز کی تنصیب زیادہ آسان کردی گئی ہے۔ خصوصًا فائر فاکس میں اب انھیں ونڈوز کی طرح پلگ ان سرچ سے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
- اوبنٹو میں سکرین ریزولوشن کم زیادہ کرنے کے لیے ایک ٹول شامل کیا گیا ہے
- ملکیتی ڈرائیورز کو منظم کرنے کے لیے ایک ڈرائیور مینجر الگ سے دونوں میں شامل کیا گیا ہے۔
- اوبنٹو میں پرنٹرز کی تنصیب کے بارے میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔ اب یہ خودکارانہ نصب ہوتے ہیں۔
- اوبنٹو میں غیر مفت پروگرام انسٹال کرنے کے لیے ایک پیکج ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا پیکج اب کبنٹو کے لیے بھی kubuntu-restricted-extras کے نام سے دستیاب ہے۔ اس میں جاوا، فلیش پلئیر، کوڈکس وغیرہ شامل ہیں۔
- کبنٹو کا آرٹ ورک اور اس کی دستاویزات کو بھی جدید کیا گیا ہے۔
ہم تو ابھی سے دانت تیز کررہے ہیں کہ سسٹم کو اپگریڈ کریں۔
اتوار، 7 جنوری، 2007
لینکس کونسی قسم نصب کی جائے اور اس کا حصول
لینکس کی کئی اقسام ہیں۔ یہ لوگ اسے ڈسٹریبیوشن یا ڈِسٹرو بولتے ہیں۔ کوئی ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے لینکس میں سے اپنی پسند کا لینکس چننا بہت مشکل ہے۔ ہر لینکس قسم کا اپنا ایک منشور ہے کوئی صارف کو آسانی مہیا کرنا چاہتا ہے، کوئی مفت سافٹویر کا نعرہ لگاتا ہے، کوئی قسم کاروباری پیمانے پر استعمال کے لیے قیمتًا جاری کی جاتی ہے۔ہم نے چونکہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے لینکس نصب کرنا ہے اس لیے میں آپ کو دو قسموں کا مشورہ دوں گا اور وہ ہیں اوبنٹو اور کے اوبنٹو۔
اصل میں یہ ایک ہی کمپنی کے جاری کردہ ہیں۔ اصل پراجیکٹ اوبنٹو ہے لیکن کے ابنٹو یا مختصرًا کبنٹو اس کا بچہ بچونگڑا ہے جس میں کرنل وہی ہے لیکن ڈیسکٹاپ ماحول مختلف ہے۔
ڈیسکٹاپ ماحول کیا ہوتا ہے؟
لینکس اصل میں باہر سے بن کر آنے والے آٹو پارٹس کی طرح ہے جن کو پاکستان میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ ہر لینکس قسم والے نے اسمبلنگ کا کارخانہ لگا رکھا ہے۔ جس میں وہ باہر سے آنے والے پرزے جوڑ کر اپنی قسم تیار کرلیتے ہیں۔
ہر خدمتگار نظام( آپریٹنگ سسٹم) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اس کا مغز یعنی کرنل جو کہ سی پی یو سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے اور کمانڈز کو اس تک پہنچاتا ہے دوسرا وہ تصویری مواجہ (گرافک یوزر انٹرفیس) ہے جو صارف کو نظر آتا ہے اور جس کے ساتھ کھیلنے کی صارف کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ لینکس میں کرنل الگ بنایا جاتا ہے اس کے مختلف ورژن ہیں جبکہ اس کے اوپر کام کرنے کے لیے مختلف ڈیسکٹاپ ماحول ہیں۔ ان میں سے کچھ کمرشل ہیں کچھ مفت لیکن مشہور اقسام دو تین ہی ہیں۔
- نمبر ایک کے ڈی ای
- نمبر دو گنوم
- نمبر تین ایکس ایف سی ای
ہوتا یہ ہے کہ ہر قسم کو تیار کرنے کے لیے پہلے ایک عدد لینکس کرنل لیا جاتا ہے اس کے بعد ڈیسکٹاپ ماحول کا انتخاب ہوتا ہے ان کو ملایا جاتا ہے ڈیسکٹاپ ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق یا سمجھ لیں کمپنی کی پالیسی کے مطابق کچھ تبدیلیاں کرکے نئی خوبیاں ڈالی جاتی ہیں اور قسم جاری کردی جاتی ہے۔ ہر نئی اشاعت پر نیا لینکس کرنل ورژن، نیا ڈیسکٹاپ ماحول ورژن اور دوسرے عمومی استعمال کے اطلاقیے جو اس میں موجود ہیں کے نئے ورژن ڈال کر نیا ورژن اتارنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ آپ یقینًا سوچ رہے ہونگے اتنا آسان کام؟ ادھر ادھر سے چیزیں اکٹھی کرو اور نیا لینکس نکال دو۔ اصل میں یہ سب اتنا بھی آسان نہیں چونکہ تکنیکی معاونت مہیا کرنا، مختلف پراجیکٹس شروع کرنے کے لیے معاونت دینا،نئی خوبیوں کے مطالبات پر غور کرنا، تازہ کاریوں (اپڈیٹس) اور اصل ورژن کے اتارنے کے لیے سرور کمپیوٹر مہیا کرنا ایک لمبا درد سر ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جو خواب میں بھی لینکس کی کمانڈز میں بات کرے۔ :D :D
اصل میں اوبنٹو کو منتخب کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے بابے لینکس موجود ہیں لیکن اوبنٹو کے کچھ فائدے ہیں جو ہم آپ کو آئندہ سطور میں بتاتے ہیں پہلے آپ کو کچھ مشہور اقسام کے نام بتائے دیتے ہیں۔
- سوسی لینکساور اس کی آزاد مصدر قسم اوپن سوسی
- ریڈ ہیٹ ایک بابا لینکس اور اس کی ایک مزید قسم فیڈورا کور
اب بات کرتے ہیں کہ اوبنٹو ہی کیوں؟
پہلی بات تو یہ کہ اوبنٹو کے تین ورژن اس وقت موجود ہیں جو کہ تین مختلف ڈیسکٹاپ ماحول استعمال کرتے ہیں۔ اوبنٹو میں گنوم استعمال ہوتا ہے، کے اوبنٹو میں کے ڈی ای اور ایکس اوبنٹو میں ایکس ایف سی ای۔ زیادہ مشہور اقسام پہلی دو ہی ہیں تیسری قسم کم ہی استعمال ہوتی ہے۔ ان تمام اقسام میں کرنل ایک ہی ہے اور ہر نئی اشاعت پر ہر قسم کا نیا ورژن نکالا جاتا ہے جس میں بنیادی قسم کی چیزیں ہر ایک میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیسے شٹ ڈاؤن کے انتخابات( آپشن) تینوں میں ایک جیسے ہونگے۔جبکہ دوسری اقسام کے لینکس کوئی ایک ہی ماحول استعمال کرتے ہیں جیسے فیڈورا کور میں گنوم استعمال ہوتا ہے یا ان کی مختلف ماحولات کے لیے الگ سے اشاعتیں موجود نہیں۔
اوبنٹو کی بہت خاص خوبی اس کا ہر چھ ماہ کے بعد نیا ورژن آنا ہے جو کوئی بھی اور لینکس ڈسٹرو والے نہیں کرتے۔
اوبنٹو کی بہت ہی منظم برادری موجود ہے اس کی چوپالوں پر ہر درد کی دوا موجود ہے۔
اوبنٹو کی ایک خوبی جس کے لیے میں نے اسے پسند کیا تھا اس کی سی ڈیز کا پاکستان میں مفت مہیا کیا جانا تھا۔اگرچہ اب یہ لوگ اسے بند کررہے ہیں لیکن اس کے طویل مدتی معاونت شدہ ورژن اوبنٹو 6.06 کے لیے اب بھی یہ سہولت موجود ہے۔
اوبنٹو کی تازہ کاریاں بڑی باقاعدگی سے وارد ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کسی بھی قسم کے خطرے سے بچا رہتا ہے نیز سافٹویر کی تازہ کاریوں سے تازہ ترین ورژن نئی نئی خوبیوں کے ساتھ آپ کی دسترس میں ہوتا ہے۔
ہاں آپ کو اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اوبنٹو میں طےشدہ طور پر روٹ یعنی سسٹم کے منتظم ایڈمن صاحب کا کھاتہ بند ہے جس کی وجہ سے سافٹویر کی تنصیب میں مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن صارف اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور ہاں اس کو کھولا بھی جاسکتا ہے ہم ذاتی طور پر اس کی تنصیب کے بعد پہلا کام روٹ کھاتہ کھولنے کا کرتے ہیں اور یہ گر آپ کو بھی بتا دیں گے۔
دوسری مشکل جو درپیش ہوسکتی ہے وہ ہے گانوں اور عمومی نوعیت کی ویڈیو فائلز چلانے میں دشواری چونکہ ان کے کوڈکس ایک ملکیتی مال ہیں اس لیے اوبنٹو کی بنیادی تنصیب کے ساتھ یہ نصب نہیں ہوتے۔ صارف کو یہ بعد میں اتار کر نصب کرنا ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہنمائیاں موجود ہں صرف ان پر عمل کرنے میں یا اتارنے میں وقت لگتا ہے بلکہ ایک بار پیکج اتار کر آپ اسے دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں سی ڈی بنا سکتے ہیں۔
خیر یہ تو تھا اوبنٹو لینکس بمقابلہ دوسرے لینکس اب ہم بات کرتے ہیں اوبنٹو کو حاصل کس طرح کیا جائے۔
اوبنٹو کو اگر سی ڈی پر حاصل کرنا ہے تو آپ اوبنٹو شپ اٹ یا کے اوبنٹو شپ اٹ پر چلے جائیں۔وہاں مندرج ہوکر سی ڈیز کا آرڈر دے دیں اور سی ڈیاں آپ کے گھر پہنچ جائیں گی لیکن یہ کچھ وقت لے گا کوئی چار سے چھ ہفتے۔ لیکن ہوگا سب مفت اگر آپ نے جلدی حاصل کرنا ہے تو اس کی سی ڈی امیج اتار کر خود سے سی ڈی رائٹ کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ پیسے خرچ کرنے کا موڈ ہے تو ان کے عالمی تقسیم کار موجود ہیں جو پیسے لے کر سی ڈی آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ پاکستان میں لینکس کی تمام اقسام کے تقسیم کار یعنی لینکس پاکستان والوں سے بھی اوبنٹو کی سی ڈیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انتہائی سستے داموں صرف 35 روپے میں۔(مختلف قسم کے لیے ریٹس مختلف ہوسکتے ہیں) لیکن ان کا دفتر کراچی میں ہے۔ اگر آپ خود کراچی نہیں رہتے تو اپنے کسی دوست سے جو کراچی میں رہتا ہو رابطہ کرکے سی ڈی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ سی ڈی خود ہی اتار کر اسے رائٹ کیجیے گا۔
اور آخر میں آپ کو بتاتے چلیں کہ تنصیب اور وضع قطع کے سارے مراحل کے اوبنٹو( اگرچہ تازہ ترین ورژن 6.10 ہے لیکن ہم سارا کام 6.06 والے ورژن پر کریں گے جو کہ زیادہ استحکام پذیر ہے اور یہ 2009 تک معاونت شدہ بھی ہے۔) پر طے ہونگے۔چونکہ ہم بنیادی طور پر کبنٹو کے صارف ہیں۔ اگرچہ اوبنٹو بھی اچھی چیز ہے لیکن کے ڈی ای کا سواد جس کو لگ جائے وہ کم ہی گنوم کی طرف دیکھتا ہے۔
بدھ، 2 اگست، 2006
جشن آزادی کیسے منائی جائے گی
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں گے یا بارشوں میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔
جشن آزادی کیسے منائی جائے گی
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں گے یا بارشوں میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔
اتوار، 14 مئی، 2006
شاکر صاحب شاعر صاحب
زندگی میں ہر کسی پر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے اپنے “ہونے“ ک احساس ہوتا ہے۔ایک گانا ہے شاید آپ نے بھی سنا ہو “مینوں چڑھیا سولہواں سال۔۔۔۔“۔یہ سولہواں سال ہی شاید وہ وقت ہوتا ہے۔مگر مجھ پر سولہواں سال دو سال لیٹ آیا۔شاید یہ بھی میری طرح سست واقع ہوا۔عمر عزیز کے اٹھارہویں سال مجھے احساس ہوا کہ “میں ہوں“۔زندگی حسین لگنے لگی۔ اپنے آپ کو سنوارنے کو دل چاہا۔ہر چیز نکھری نکھری اور انوکھی لگنے لگی۔ خاص طور پر محبت نے مجھے ان دنوں بہت متاثر کیا۔ہر چیز سے محبت اللہ سے اس کے بندوں سے اس کی مخلوق سے اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں سے بے تحاشا محبت محسوس ہونے لگی۔اور پھرایک اور احساس کوئی بہت بہت ہی خاص ہو۔کوئی محرم۔کوئی جس کے ساتھ دل کا رشتہ ہو۔انھی دنوں مجھ پر اپنی ایک اور صلاحیت کا انکشاف ہوا۔
یونہی ایک دوست کی دیکھا دیکھی ایک دن نظم لکھنے بیٹھ گیا۔ایک بے تکی آزاد سی نظم لکھ کر اسے بلا مبالغہ کئی بار پڑھا۔ہر بار اپنے آپ پر ڈھیروں پیار آیا یہ میں نے لکھی ہے کتنی پیاری ہے۔وغیرہ وغیرہ قسم کے سینکڑوں خیالات دل میں آتے۔شاید اللہ نے بھی جب احسن تقویم انسان کو پیدا کیا اسے بھی اپنے آپ پر ڈھیروں پیار آیا ہوگا۔ محبت،کسی محبوب کی تڑپ اور ادب سے لنگڑی سی واقفیت نے تمام لوازمات پورے کردیے۔
اس کے بعد پھر میرے اندر کے شاعر نے ایسی انگڑائی لی کہ باقی سب صلاحیتوں کو سلا دیا۔ہر روز ایک نظم یا غزل کا نزول ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ وہ نظمیں اور غزلیں نفس مضمون کے اعتبار سے تو شاید قابل قبول ہوں پر تکنیکی اعتبار سے بے تکی بے ڈھنگی اور بے بحری بھی تھیں۔ان دنوں کمپیوٹر نیا نیا استعمال کرنا سیکھا تھا اور میرے لیے کمپیوٹر پر اردو کے نام پر ایک ہی چیز تھی ان پیج ۔سو آدھ آدھ گھنٹا لگا کر نظم پہلے لکھتا پھر اس کی تزئین کرتا پھر اس کو گِف بناوٹ میں محفوظ کرتا۔
تو یہ تھا شاکر جو ایک شاعر بھی تھا۔تھا اس لیے کہا کہ آج کل اتنی فرصت نہیں۔زندگی کے چودہ سالوں کی محنت پھل پانے چلی ہے۔سو کچھ لعن طعن کچھ مرضی سے اپنے آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتا رہتا ہوں۔اب کیسی شاعری اب تو یہ حال ہے کوئی شعرکہنے کی کوشش کروں تو ایک مصرع شعر کا اور دوسرا مصرف ایڈوانس اکاونٹنگ کی انٹری سے نکلتا ہے۔کاسٹ اکاؤنٹنگ،پاکستانی معاشیات،بزنس لاء آج کل یہی اوڑھنا بچھونا ہیں۔
مورخہ چھ جون سنہ2004ء سے میرے بی کام پارٹ ٹو کے امتحان شروع ہورہے ہیں۔تاریخ مصدقہ اطلاعات کے مطابق کئی سالوں سے یہی چلی آرہی ہے اور ڈیٹ شیٹ + رولنمبر سلپ کی آمد بھی جلد ہی متوقع ہے۔ایک مہینے کی ٹینشن کے بعد کہیں خلاصی ہوگی۔دعا کیجیے گا سخت گرمی میں یہ امتحان زیادہ امتحان نہ بنیں۔اب شاید جولائی میں آپ سے مخاطب ہوسکوں۔اور ہاں جاتے جاتے میری دوسری نظم (پہلی کچھ زیادہ ہی آزاد ہے یعنی قافیہ ردیف بھی کہیں کہیں نظر آتا ہے اس میں۔)،جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہوں گا۔نظم اس لیے کہ اس میں آزاد کا بہانہ چل سکتا ہے غزل میں نہیں۔اور میری تو ساری شاعری بے بحری ہے۔
جب درد کا بادل آیا ہو
جب آنکھوں میں نمی سی ہو
جب خوشیوں میں کمی سی ہو
جب حزن سا ہر سو پھیلا ہو
جب موسم بہت اداس ہو
جب ایسے ہی سلگتے سلگتے
لگ گئی بہت ہی پیاس ہو
جب درخت بھی ویراں ہوجائیں
جب پت جھڑ کا موسم ہو
جب چھاجوں مینہ برستا ہو
جب ساون کی رِم جھم ہو
کہیں چمبیلی مہکی ہو
کہیں کوئی چڑیا چہکی ہو
تب کہیں، کہیں کوئی آس ہو
کوئی بہت،بہت ہی خاص ہو
جب تصور میں آجائے
سارے درد بھلا جائے
چھاجائے غموں پر خورشید بن کر
نئی صبح کی نوید بن کر
پیر، 20 فروری، 2006
21 فروری
آئیے ذرا تاریخ میںچلتے ہیں۔ یہ آج سے کوئی چار سو سال پہلے کی بات ہے۔ گورے اپنی ریاستوںسے نکل کر پوری دنیا میںبحری راستوںسے پھیل رہے تھے۔ یورپ کے کئی ملکوںکے لوگ افریقہ بھی پہنچ چکے تھے جہاںانھوںنے اپنی نو آبادیاںقائم کرلی تھی۔وہ کالوںپر جانوروںکی طرح ظلم کرتے اور انھیںجانوروںکی طرحہی رکھتے۔پھر کولمبس نے امریکہ دریافت کرلیا۔ گورے جوق در جوق اس نئے دیس میں ہجرت کرنے لگے۔متمول گورے اپنے ساتھ اپنے غلام بھی وہاں لے گئے۔ یہ کالے جنھیںافریقہ میںبھی بے دردی سے انکے حقوق سے محروم رکھا گیا اب انھیںنئی سرزمین پر ان کی مرضی کے خلاف لے جایا جارہا تھا۔انھیںبھیڑ بکریوںکی طرحجہازوںمیںٹھونس دیا جاتا۔ نامناسب خوراک،رہائش ناقص جس کے نتیجہ میں راستے میں کئی مرنے لگے۔ گورے وحشی ایسے لوگوں کو بڑے آرام سےسمندر میں ڈال دیتےجنھیںوہ شارک مچھلیاں بسماللہ کر کے کھالیتیںجو ان جہازوں کا تعاقب کرکے سیکھ چکی تھیں کہ کھانایہیںسے ملتاہے۔ان سمندروںکا پیٹبھرنےکے بعد یہ مظلوم جو آدھے سے بھی کم رہ جاتے کو نئی اور اجنبی سر زمین پر لاکھڑا کیا جاتااور ان کی زندگی پہلے سے بھی بدتر کر دی جاتی۔ ان سے بدترین مشقت لیجاتی اور نتیجے میں صرف جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے چند لقمے خوراک کے۔یہ مظلوم لوگ جو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتےصحابی بلال رض کی نسل سے تھے،موٹے ہونٹوںاور بھدے پیروںاور کالے رنگ کے یہ لوگ جن کے دل گورے تھے جن میںمیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق اور ان کے نام لیوا بھی موجود تھے جنھیںان کتوںنے اسلیے قید کر لیا تھا کہ وہ صورت شکل میں کالے ہیں۔یہ لوگ جن میں بلا تخصیصمسلم و غیر مسلم صرف کالے موجود تھے ان کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ وہ اپنا آپ تک بھولتے گئے۔ انھیںیہ یاد تک نہ رہا کہ ان کی مادری زبانیںکیا تھیں۔وہ کس قبیلے یا قوم سے متعلق تھے بس انھیںیہ یاد تھاکہ گورا صاحب انھیںافریقہ سے لایا تھا ان سے غلامی کروانے کے لیے۔
اب آئیے بیسویںصدی کے شروع اور انیسویںصدی کے اواخر میں جب امریکہ میں آخر ان مظلوموںکی خدا نے سن لی اور غلامی غیر قانونی قرار دے دی گئی۔ مگر پھر بھی کوئی ان کی قومی شناخت نہ لوٹا سکا انھیں نفرت اور حقارت سے گورے نے Nigerاور Negroکہنا شروع کر دیا۔اس معاشی اور معاشرتی استحصال کے بعد ان کے اندر ایک طرف کالوںکے اندر اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی تو دوسری طرف ان کی معاشی اورمعاشرتی حالت اس حد تک گر گئی کہ صرف سوچا جا سکتا ہے۔ معاشرے کی تمام برائیاںان کے اندر موجود تھیں،غنڈے،موالی،نشے باز یہ لوگ جنھیںاپنے دین دنیا کی کوئی خبر نہ تھی،اگر کسی چیز کی خبر تھی تو وہ یہ کہ اگر ان کے بالوںکے کنڈل ختم ہوجائیںاور رنگ کسی طرحتھوڑا سفید ہوجائے تو ان کا سٹیٹس معاشرے میںبلند ہو جائے گا۔
اس کاباپ پہلے طبقےسے متعلق تھا۔مارکس گاروی کا پیروکار یہ شخص کالوںمیںاس بات کہ تبلیغ کرتا کہ انھیںایک دن اپنے دیس افریقہ میںواپس جانا ہے۔اسی سلسلہ میں ایک رات اس کے گھر پر حملہ ہوا اور وہ مارا گیا۔اس کے بعد وہ اور اس کے دیگر سات بہن بھائی کچھ عرصہ اپنی ماںکے ساتھ پلے۔ اسکی ماں ویسٹ انڈین دوغلی تھی اور وہ کہتا ہے کہ میری ماں کو ساری عمر اس خون سے نفرت رہی جو کسی گورے نے اس کی ماںکے ذریعے رگوںمیںانڈیل دیا تھا۔ اس کا نمبر پانچواںتھا۔باپ کے مرنے کے بعد ان کی ماں نے ان کی پرورش کرنے کی کوشش کی مگر جلد ہی اخراجات حد سے باہر نکلنے لگے۔انھوںنے قرض لے کر گزاراہ کیا۔لیکن آہستہ آہستہ معاملات حد سے باہر نکلنے لگے اور ریاست کی فلاح سے متعلق ادارے کے لوگ ان کے گھر آنےجانے لگے انھوں نے نفسیاتی تشدد کر کر کے ان کی ماںکو بالآخر پاگل کر دیا۔ اب بچوںکے مختلف مخیر لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا اسے بھی جو اپنے سرخ بالوںجو اسے ماںکی طرف سےملے تھے کی وجہ سے ریڈ پکارا جاتا تھا کو ایک مخیًر گھرانے میں دے دیا گیا۔اس کا نام میلکم لٹل تھا مگر اکثر اسے ریڈ کہہ کر بلایا جاتا۔ وہاںاس نے آٹھ درجوںتک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد سب چھوڑ چھاڑ دیا۔
عام کالوںکی طرحوہ بھی اس کریز میںمبتلا ہوگیا کہ گوروںکی طرحاس کی بھی معاشرے میںعزت ہو۔ اس نے بوٹ پالش کرنے کی نوکری کی کلب میں۔اپنے بالوںکو کانک(کنڈل ختم کروانا)کروایا، کالے اس کے ہلکے سیاہ رنگ کو دیکھ کر رشک کرتے سرخ سے بال اس کی شان ہی اور بڑھا دیتے۔ اس زمانے میں میلکم نے اپنے آپ کو سنوارنے کے لیے قرضہ تک اٹھایا۔ وہ کلب کی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے ادھار پر سوٹ خریدتا۔
اس کی عمر یہی کوئی پندرہ سال کے قریب ہوگی جب کسی لڑکی سے اس کے تعلقات بنے۔دوستوںکے مشورے اور حالات کا رخ دیکھ کر وہ نیویارک چلا آیا۔ اس دوران وہ دوسرے ایک دو شہروںمیںبھی کام کرچکاتھا۔ کام یہ ہی کہ کلبوںمیںگوروںکے جوتے پالش کردینے یا بیرا گیری۔نیویارک آکر اس نے ہارلم کے علاقے کو رہائش اور کام کے لیے چنا جو ان دنوںکالوںکا مرکز بن رہا تھا اور جہاںسے یہودی علاقہ چھوڑ چھاڑکے نکل رہ تھے۔ یہاںکے کئی کلبوںمیںاس نے کام کیا،آہستہ آہستہ وہ نشے کی طرف آیا اور ماری جوآنا اور اس قسم سے بھرے سگریٹ جنھیں ریفرز کہتے بیچنے لگا۔اس نے طوائفوں کے دلال تک کا کام کیا۔گورے جو منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کالی طوائفیںمانگتے اور گوری عورتیںجو کالنے مردوںکی طلب گار ہوتیں۔آہستہ آہستہ وہ ہسٹلنگHustlingکی طرف متوجہ ہوا اور بیس سے بھی کم عمر میںیہ کام کرنے لگا۔بٹوہ چھین لینا،نقلی چیزیں اصلی کہہ کے بیچ دینا،نشہ بیچنا،چوری کرنا،نقب زنی کرنا غرضاس نے ہر غلط کام کیا۔ آخری زمانے میں اس نے اپنا ایک گروہ بھی بنا لیا جس میںاس کا ایک دوست،ایک گوری لڑکی جو اس کی داشتہ بھی تھی اور اس کی بہن شامل تھے۔ لڑکیاں مکان میںجاسوسی کے لیےجاتیںاور یہ رات کو نقب زنی کرتے۔اس دور میںاس نے بے تحاشا نشہ استعمال کیا خود بتاتا ہے کہ وہ کام کے وقت غیر معمولی طور پر چست رہنے کے لیے بے تحاشا نشہ استعمال کرتا تھا۔ اسی دوران ایک دفعہ اس کی واقفیت گوری لڑکیوںکے ساتھ کھل گئی اور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا اس کے اپارٹمنٹکی تلاشی کے بعد نقب زنی کے شواہد بھی ملے جس ک بعد اسے دس سال کی سزا ہوگئی۔اس کی سزا صرف دوسال بنتی تھی مگر وہ خود بتاتاہے کہ اس کا اصل جرم گوری لڑکیوںسے دوستی تھا جس کی اسےیہ سزا ملی۔
ان دس سالوں اس کی زندگی کو بدل دینے میں اہم کرداد ادا کیا۔ اپنے بہن بھائیوںاور دوستوںکے کہنے پر اس نے جیل میں اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش شروع کردی۔ اسے ایک اصلاحی جیل میںمنتقل کروا دیا گیا جہاںکتب خانے کی سہولت بھی موجود تھی۔وہاں اس نے انگریزی سیکھی،وہ خود بتاتا ہے کہ اس کا ذخیرہ الفاظ چند الفاظ تھے جوغنڈہ گردی میںمستعمل عام اصطلاحات تھیں۔اس نے لغت کو یاد کیا اپنی انگریزی بہتر کی اس کے بعد کتب خانہ جو کوئی اس جیل کو وصیت میںعطیہ کر گیا تھا سے استفادہ کرنا شروع کر دیا۔ اس پر گوروں کے مظالم واضح ہونے لگے۔اس دوران اس نے اپنے اندر مباحثے کی صلاحیت پیدا کی۔ جیل میں بحث مباحثے ہوتے اور میلکم ان میں حصہ لیتا اس چیز نہ آئندہ زندگی میںاس کی بڑی مدد کی۔پھر اس کا بھائی اس سے ایک دن ملا اور اسے ایلیا محمد(Elijah Muhammad) کے بارے میںبتایا جس کی تعلیمات کا وہ پیرو ہوگیا تھا۔اس نے میلکم کو بھی قوم اسلام(The Nation of Islam) میںشمولیت کی دعوت دی۔ میلکم بتاتا ہے کہ میںحیران رہ گیا کہ میرا بھائی صاف ستھرےلباس میںملبوس تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ میںجھوٹنہیںبولتا اور شراب نہیں پیتاسور بھی نہیںکھاتا کیونکہ مسلمان یہ سب نہیںکرتے۔اس کے بعد میلکم نے جیل سے ایلیا محمد سے خط و کتابت شروع کردی۔ اس خط و کتابت کے ذریعے اسے اسلام کی تعلیمات کا پتہ چلا اورجب1952 کے موسم بہارمیں وہ جیل سے باہر آیا تو سب سے پہلا کام جواس نے کیا وہ ایلیا محمد کی تعلیمات قبول کرنے کا اعلان تھا۔
ایلیا محمد ایک شخصڈبلیو ڈی فارڈکو خدا کہتا تھا جس نےاسے اپنا نبی مقرر کیا تھا۔ اس نے ایک تنظیم قوم اسلام کے نام سے قائم کی اور اپنے عقائد کالوں میں پھیلانے شروع کردیے مگر جب میلکم اس میںشامل ہوا تو یہ سب اتنا نہیں پھیلا تھا۔ وہ گوروں کا دشمن تھا انھیں سفید شیطان کہہ کر پکارتا اس سلسلے میں اس نے ایک دیو مالائی قصہ بھی گھڑ رکھا تھا جس کے مطابق اصل انسان کالے تھے مگر ان میں ملاوٹ کرکے گوری نسل پیدا کی گئی۔ایلیا محمد کی تعلیمات چند گمراہ کن عقائد کے علاوہ تمام کی تمام اسلامی تھیں مگر اس نے تحریف ضرور کر دی تھی۔ایلیا محمد نے کئی اسلامی ممالک کو دورے بھی کیے جن میںایوب دورمیںپاکستان بھی آیا۔ وہ 1975 میںمرا۔
تو بات میلکم لٹل کی ہورہی تھی۔ میلکم نے تنظیم میںشمولیت کے بعد اس میںایک نئی روحپھونک دی۔ یہاںآکر اسے پتا چلا کہ زندگی کیا ہے۔ ایک صاف ستھری اور بامقصد زندگی، تنظیم کے نظم و ضبط کو بیان کرتے وہ کہتا ہے کہ مسلمان جی جان سے ایلیامحمد کی تعلیمات کی پیروی کرتے تھے،ثمر اسلام(The Fruit Of Islam) کے نام سے تنظیم کا ایک شعبہ قائم تھا جو نظم و ضبط کا ذمہ دار تھا۔ میلکم جو کبھی گورے رنگ کا دیوانہ تھا اب گوروں سے نفرت کرنے لگا۔ بنیادی طور پر وہ ایک غیر معمولی انسان تھا،ایک پیچھے نہ ہٹنے والا شخص،ایلیا محمد نے اس کی تربیت کی اور میلکم اس کی تعلیمات کو پھیلانے لگا۔ وہ عام کالے کی نفسیات سے واقف تھا اس لیے انھیں باآسانی قائل کر لیتا کہ فلاحصرف ایلیا محمد کی تعلیمات میںہی ہے۔ اس کی عمر اس زمانے میں تیس برس کے قریب تھی۔میلکم جسے اب تنظیم کی طرف سے ایکس کاخطاب مل گیا تھااتنی محنت کی کہ چند معبدوں سے اس نے تنظیم کےمعابد کی تعداد ساتھ ستر کردی۔ ایلیا محمد نے اسے اپنا وزیر بنا دیا۔ میلکم ایکس اس زمانے کے بار ےمیںبتاتا ہے کہ اسے آرام کرنے کا بھی ہوش نہ تھا وہ یہ کام بھی جہاز یا ٹرین میں کرتا۔
1956 میںاسے تنظیم کی طرف سے ایک شیور لیٹ ملی اس کی لگن کا اندزہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس نے پانچ ماہ کے عرصے میں اس پر تیس ہزار میل کا سفر کیا۔ایلیا محمد کی قوم اسلام کو اس نے پورے امریکہ میںپھیلانے کا عزم کیااور اس کے لیے کام بھی کیا۔ اسی دوران نیویارک میں ایک جھگڑے کی وجہ سے یہ تنظیم پریس کی نگاہ میںآگئی جس کے بعد قوم اسلام کو پریس میں بھی جگہ ملنے لگی۔اس کے بعد میلکم ایکس ناراضمیلکم ایکس کے نام سے مشہور ہوگیا کیونکہ وہ ہر مباحثے اور تقریر میں گوروں کو برملابرا بھلا کہتا اور کالوںکی موجودہ حالت کا ذمہ دار انھیںٹھہراتا۔
اسی طرحقریبًا بارہ سال کام کرنے کے بعد ایک دن اس کی ساری خدمات کو نظر انداز کرکے اسے بودا سابہانہ کرکے تنظیم سے علیحدہ کر دیاگیا۔ایلیا محمد اس کی مقبولیت سے خائف تھا اس کے حاسدوںنےا س نے فائدہ اٹھایا اور تنظیم سے الگ کردیا گیا۔(ایلیا محمد پر ایک اپنی سیکرٹریوں سے ناجائز تعلقات کا الزام اس دوران لگ چکا تھا جسے امریکی پریس نے بہت اچھالا) اس دوران میلکم ایکس شادی بھی کرچکا تھا بیٹی ایکس ایک نرس تھی جس کےبطن سے اس کی چار بیٹیاںپیدا ہوئیں۔
پھر اسی دوران وہ تاریخی لمحہ آیا جب ایک کالے نے گورے کو باکسنگ کے میدان میں شکست دی اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ کیسئیس کلے سے محمد علی کلے بننے والا یہ شخص جب مقابلہ کررہا تھا تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے میلکم ایکس وہاںموجود تھا۔اگرچہ میلکم ایکس قوم اسلام سے الگ ہوگیا تھا مگر محمد علی کلے اس تنظیم سے منسلک رہا بعد میںمیلکم ایکس نے خود ہی اس سے ملنا کم کردیا تھا(بہت کم لوگ شاید یہ جانتے ہوںکہ محمد علی کلے نے جب اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو اس سے مراد ایلیا محمد کی قوم اسلام کا تحریف شدہ اسلام تھا)۔
میلکم ایکس کو اس دوران پتا چلا کہ اس کے قتل کی سازشیںہورہی ہیں۔ اس کے بہی خواہوں نے اسے خبردار کیا مگر اس نے پرواہ نہ کی۔ پھر اس کی ملاقات ڈاکٹر یوسف شورال سے ہوئی۔ جنھوں نے اسے صحیحاسلام سے روشناس کرایا۔اس کے بعد میلکم ایکس نے حج کا ارادہ کیا اور براستہ قاہرہ جدہ کو روانہ ہوا۔وہاںاس کی ملاقات ڈاکٹر محمد شورابی سے ہوئی جنھوںنے اس کے تصور اسلام کی مزید تطہیر کی۔آخر اس نے جدہ کا قصد کی مگر اسے نومسلم اور امریکی ہونے کی وجہ سے روک لیا گیا۔ مسافر خانے میں اسے نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا گیا وہ بتاتا ہےکہ جھکنا اور گھٹنےموڑ کر بیٹھنا اس کے لیے عذاب سے کم نہیں تھا اس دوران اس کا ٹخنہ بھی سوج گیا۔آخر ڈاکٹر عمر اعظم کو فون کرکے اس نے اپنے مسئلے کے بارے میں بتایا۔جس کے بعد اسے سرکاری مہمان کا درجہ مل گیا۔ اس نے مطواف کی نگرانی میں حج ادا کیا۔ اس دوران اس کے گوارا مخالف جزبات پر مثبت اثر پڑا اور اسلام کی عالمی اخوت کا تصور مضبوط ہوا۔دوران حج اس نے امریکہ خطوط لکھے جنھیںپریس نے بھی کوریج دی۔اس کے خطوط سے اس کے رجحانات کی تبدیلی کا واضحپتا چلتاہے۔اس دوران قوم اسلام نے اس پر کئی مقدمات قائم کردیے تھے جو ان کی بدنیتی کی ثبوت تھے۔
حج کے دوران اس کی ملاقات شہزادہ فیصل سے بھی ہوئی ۔اس کے بعد اس نے کئی افریقی اور مسلم ممالک کا دورہ کیا۔ جہاںکالوں کو درپیش مسائل کے بارے میںتبادلہ خیال کیا گیا۔ آخر میکلم ایکس واپس امریکہ پہنچ گیا۔وہاں جانے کے بعد اس نے اسلام کے صحیح تصور کو پھیلانا شروع کردیا۔ مگر دشمنوں کو یہ بات پسند یہ آئی اور یہ گوہر نایاب نہ جانے کتنے دلوں کو روتا چھوڑ کر آخرت کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ وہ خود کہا کرتا تھا کہ مجھے ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے مگر میں اس کی پرواہ نہیںکروںگا۔ 21 فروری 1965 کا دن تھا نیویارک میں دی آڈیو بون بال روم اس کی تنظیم نے کرائے پر حاصل کررکھا تھا جہاں اس کا لیکچر تھا۔ جب وہ خطاب کرنے آیا تو ایک طرف سے آواز آئی “میری جیب سے ہاتھ نکالو“ لوگوں کی توجہ اس طرف ہونے کی دیر تھی کہ اگلی قطار سے تین آدمیوں نے جو ریوالور اور شاٹ گن سے لیس تھے اس پر بے دریغ فائرنگ کردی۔ میلکم ایکس موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ اللہ اسے اپنے جوار رحمت میںجگہ دے عجب آزاد مرد تھا۔ساری عمر بے چین رہا جب برا تھا تب بھی اورجب اچھا تھا تب بھی۔ مرتے وقت اس کی عمر صرف چالیس سال سے کچھ عرصہ کم تھی۔اس کا جنازہ شیخ الحاج ہشام جابر نے پڑھایا اس کی قبر پرستاروں نےگورے گورکنوںکے کھودنے نہیں دی اور اپنے ہاتھوں نے ساراکام کیا۔اس کی قبرپرجو قطبہ لگایا گیا اس پر لکھا تھا
“الحاج ملک الشہباز 29 مئی 1925تا 21 فروری 1965“
ایلیا محمد کے بعد نیشن آف اسلام کی تخت نشینی اس کے بیٹے والس محمد نے سنبھالی۔ یہ شخص اسلام کے بارے میں سنجیدہ نکتہ نظر رکھتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنی تنظیم کا نام ورلڈ کمیونٹی آف اسلام ان دا ویسٹ رکھا پھر بدل کر دی امریکن مسلم کردیا جس میں امریکی گورے مسلمانوں کو بھی داخلے کی اجازت تھی۔ والس محمد نے اسلام قبول کرلیا تھا جس کیوجہ سے ایلیا محمد کے کچھ پیروکار اس سےالگ ہوگئے لوئیس فرخان اس تنظیم کا سربراہ بنا۔اس شخص پر نسل پرستانہ ذہنیت کا الزام لگا اور میلکم ایکس کے قتل کے سلسلے میںمقدمہ بھی چلا۔اس نے کئی سال ایلیا محمد کے نظریات پھیلائے۔16 اکتوبر 1995 کو اس نے واشنگٹن میںملین مارچ کا انعقاد کیا جسے دنیا میںکافی مقبولیت حاصل ہوئی۔
ورلڈ فرینڈ شپ ٹور میں اس نے 20 کے قریب اسلامی ممالک کا دورہ بھی کیا جن میںایران ،لیبیا اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ کرنل معمر قذافی نے اسے 5۔2 لاکھ پونڈ کا انعام بھی دیا۔ بنگلہ دیش میں اس کا استقبال مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری مولانا شفیق لاسلام نے کیا جس سے مسلمانوںکی اس تنظیم کے عقائد سے بے خبری واضح ہوتی ہے۔ پاکستان میںالبتہ راجہ ظفرالحق نے اس کے دورے کی اطلاع پاکر اس بارے میںپتا لگنے پر اسے بروقت منسوخکردیا۔فروری 2002 میں لوئیس فرخان اور والس محمد میںاتحا د ہوگیا اور لوئیس فرخان نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر ایمان کا اعلان کرتے ہوئے اہلسنت کا مسلک اختیار کیا۔
امریکہ میںاسلام کے پھلینے کی جدوجہد کا ایک محتصر سا احوال تھا آج ہمیںمیلکم ایکس الحاج ملک الشہباز کا جذبہ درکار ہے اگر ہم نے اسلام کی اشاعت کرنا ہے ورنہ
“مل گئے کعبے کو پاسباں صنم خانے سے“ کے مصداق اللہ تو اپنے دین کی اشاعت کے لیے ذرائع پیدا کر ہی دیاکرتاہے۔اللہ آپس کے اختلافات ختم کرکے اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے کی توفیق دے۔ آمین
(آج مورخہ 21 فروری 2006 خاکسار کی سالگرہ بھی ہے آج عمر عزیز کے21 سال گزر گئے۔ یہ ایک اور وجہ تھی کہ میںنے یہ تحریر آج کے دن لکھی۔)
اتوار، 29 جنوری، 2006
ایم کیوایم کیا؟کیوں؟کیسے؟
ایم کیو ایم سے مجھےکوئی ذاتی بیر نہیںمگر پچھلے کچھ عرصے سے یہ نام کچھ اس طرحمیرے سامنے آیا ہے کہ مجھے مجبورًا اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔ حکومت میں ایم کیو ایم کی شمولیت۔ میرے شہر فیصل آباد میںایم کیوایم کے دفتر کے قیام کی خبر۔ پھر زلزلے کی حوالے سے ایم کوایم کی سرگرمیاں اور اس کے بعد اردو ویب آرگ پر ایم کیوایم کےبارے میںبحث۔
اس بحث کی وجہ سے میںمجبور ہوا کہ ایم کیوایم کے بارے میںجانوںاور اس کے بارے میںکچھ لکھوں، میرے جیسے کئی ہونگے جو اس کے بارے میںنہیںجانتے ہونگےاورجاننے کے خواہش مند ہونگے اسی لیے میںیہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ اس کو لکھنے کے لیے جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے ان میںایک تو الطاف حسین جو ایم کیوایم کاقائد بھی ہے کی آپ بیتی “سفر زندگی “ (جنگ پبلشرز)اور دوسری کتاب “ایمکیو ایم“از منیر احمد ہے(نگارشات لاہور) ۔مَیںکوشش کروںگا کہ اس تحریر میںجذبات سے بالاتر ہوکر صرف حقائق بیان کرنے کی کوشش کروں۔
ایم کیو ایم کے قیام کی وجوہات:
الطاف حسین 17 ستمبر 1953میں کراچی میںپیداہوا۔ 1969 میںبوائز سکینڈری سکول جیل روڈ سے میٹرک کرنے کے بعد سٹی کالج سے انٹر سائنس کے ساتھ کیا۔ اس کے بعد 1972 میںاسلامیہ کالج سے بی ایس سی کی۔اسی دوران کچھ ایسے واقعات و حالات پیش آئے جس سے آئندہ ایم کیوایم کے قیام کے حالات پیدا ہوئے۔
1970میں نیشنل کیڈٹ سروس کے تحت الطاف حسین نے بھی فوجی تربیت حاصل کی۔ خود الطاف حسین کا بیان ہے کہ وطن کی حفاظت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ جی کرتا اڑکر سرحدوںپر پہنچ جائیں۔ اس دوران کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنھوںنے الطاف کا دل فوج سے کھٹا کر دیا حالانکہ اس کی بچپن سے خواہش تھی کہ فوج میںبھرتی ہوکر وطن کی خدمت کرے۔ دوران تربیت امتیازات کا ایسا ایسا مظاہرہ ہوا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ شاید کراچی والے اچھوت ہیں۔ انھیںکمزور اور شہری ہونے کے طعنے دیے جاتے دوران تربیت اور مشقوںمیںبھی انھیںایسا کام دیا جاتا جو نسبتًامشکل ہوتا۔ اس سب سے گھبرا کر اور اکتا کر اطاف حسین نے فوج چھوڑ دی۔
بی ایس سی کے بعد بی فارمیسی میں داخلہ لیا۔ یہ کیسے ملا یہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ ان کا نتیجہ دیر سے آیا اور یونیورسٹی نے داخلے دینے سے انکار کردیا۔ آخر نوماہ کے طویل احتجاج کے بعد داخلہ ملا۔ بی فارمیسی میں داخلے کے بعد جب الطاف حسین یونیورسٹی(جامعہ کراچی) میںداخل ہوا تو اس کی وطن پرستانہ سوچ پر ایک اور ضرب اس وقت پڑی جب اس نے جگہ جگہ پنجابی سٹوڈنٹ فیڈریشن،پختون سٹوڈنٹفیڈریشن،گلگتی سٹوڈنٹ فیڈریشن،بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن اور اسی طرحکے دوسرے قوم پرستانہ ناموںپر مشتمل طلبہ یونینوں کے بینر دیکھے۔ الطاف حسین کو یہ پتا چلا کہ بڑی یونینیںجیسے جمعیت اور پروگریسوسٹوڈنٹ وغیرہ ان علاقائی ناموں پر مشتمل تنظیموںسے دوران انتخابات اتحاد کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سب اور پھر مہاجر طلبہ سے امتیازات دیکھ کر الطاف حسین نے اے پی ای ایس او قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
الطاف حسین نے تحریک نظام مصطفٰی میں بھی بطور کارکن کام کیا۔ سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی میں اہم عہدے پر رہا۔ مگر یہاں بھی تلخ تجربات ہوئے سازش کے ذریعے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں الطاف حسین کے ذہن میں مہاجر قومیت کا تصور مزید مضبوط ہوا۔
آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کا قیام 11جون 1978 کو عمل میںآیا۔ اس سے پہلے دوسال تک صرف خفیہ میٹینگز ہوئیںتھیں۔قیام کے وقت الیکشن کے ذریعے الطاف حسین کو چئیرمین اورعظیم طارق (بعد میں ایم کیوایم کا چئیر مین بھی بنا پھر کراچی کے فسادات میں قتل ہوا) کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔
اے پی ایم ایس او اصل میںطبل جنگ تھا۔ اس نے آگے ایم کیوایم کے قیام کی راہیںہموار کیں۔ اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد الطاف حسین کو جن مشکلات اور صدموںسے گزرنا پڑا انھوں نے آگے چل کر ایم کیوایم کے قیام کی راہ ہموار کی۔جعیت جو جماعت اسلام کی ذیلی تنظیم ہے سے الطاف حسین کے اختلافات اسی دور میں شروع ہوئے آج بھی جماعت اسلامی اور ایم کیوایم میںایسا بیر موجود ہے جس کی مثالیںدی جاسکتی ہیں۔
الطاف حسین نے اپنی تحریک کے فروغ کے لیے بہت جدوجہد کی۔ سائیکل پر کام کیا۔ چندہ جمع کرکے تنظیم کے اخراجات پورے کیے۔ ٹیویشن پڑھا کر اپنے تعلیمی اور تنظیمی اخراجات میںچندہ دیا۔ اس دوران اتنی تکالیف برداشت کرنا پڑیںکہ تنطیم کے اراکین جو قیام کے وقت ڈیڑھ سو تھے پینتیس چالیس رہ گئے۔الطاف حسین کو اسی دوران سرمایہ داروں نے چندہ کے سلسلے میںبہت مایوس کیا حالانکہ وہ سب بھی مہاجر تھے۔ تنظیم پر سب سے زیادہ سختیاںجمعیت نے کیں۔ تھنڈر سکواڈ سے اراکین کو ہراساںکیا گیا۔ جھگڑے ہوئے ہر حد پارکر دی گئی۔
پہلے الیکشن میںتنظیم کو خاص کامیابی نہ ملی ۔ دوسرے الیکشن میں نو سو ووٹ، تین کونسلر اور ایک فیکلٹی کا نمائندہ کامیاب ہوا۔ اس دوران داخلہ مہم میںطلبہ نے تنظیم پر اپنے اعتماد کا بے پناہ اظہار کیا۔ اسی دوران مہاجرسٹوڈنٹ فیڈریشن کا شوشہ بھی چھوڑا گیا جو کامیاب نہ ہوا۔ داخلہ مہم میں جمعیت نے کھلی چھیڑ چھاڑ کی حتٰی کہ الطاف حسین پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی ایف آئی آر بھی درج نہ کروائی جاسکی۔
ایم کیوایم کا قیام:
اے پی ایم ایس او کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر ارباب اختیار اور دوسری حریف تنظیموںنے ایسے اقدامات کیے کہ اسے تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا۔ جامعہ کراچی اور دوسرے تعلیمی اداروں میںتنظیم کے اراکین پر بے پناہ سختی کی گئی۔ تنظیم کے تعلیمی اداروںسے اخراج کے بعد الطاف حسین اور ساتھیوںکو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ اب انھوں نے اپنی تنظیم کو گلی کوچوں کی سطح پر منظم کرنے کا کام شروع کردیا۔عوامی سطحپر اے پی ایم ایس او کے منشور کی مقبولیت کے بعد 18 ماچ 1984 میں ایم کیو ایم یعنی مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میںآیا۔
اپنے قیام کے دوسال تک اس پارٹی نے خاموشی سے کام کیا۔ الطاف حسین اور ساتھیوں نے جماعت کی تنظیم سازی ،آئین،اس کا علاقائی ڈھانچہ تیار کرنے میںیہ دو سال گزارے۔ تنظیم نے اپنے اخراجات چلانے کے لیے آزمودہ طریقہ کار یعنی چندے کا سہارہ لیا۔ پاکستان کی تاریخ میںایم کیو ایم شاید واحد جماعت ہے جو عوامی چندے پر چلی اور چلتی ہے۔ 1986 میںکراچی میںسیاسی سرگرمیوںکا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کے کارکنان نے بھی نشتر پارک کراچی میں جلسہ کرنے کی خواہش کی۔ یہاںسے ایم کیوایم نے اپنے سیاسی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا اور معاصرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی۔ لاکھوںافراد کے اس اجتماع نے کراچی کے عوام میںجماعت کی مقبولیت ثابت کردی۔جلسے کے انتظامات کے سلسلے میں رقم چندے سے جمع کی گئی تھی۔
اس کے بعد حیدر آباد کے کارکنان نے بھی اسی قسم کاجلسہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہاںتک تو شاید سب ٹھیک تھا۔ مگر یہ وہ نقطہ ہے جہاںسے ایم کیو ایم کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ 31 اکتوبر 1986 کو جماعت کے لوگوں کے حیدر آباد جلسے میںجاتے ہوئے سہراب گوٹھ کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بقول الطاف حسین یہ ڈرگ مافیا کی ایجنسیوںکے اشارے پر کاروائی تھی تاکہ مہاجروں اور پختونوںکو لڑایا جاسکے۔ یاد رہے اس علاقے میں پختونوںکی اکثریت آباد ہے۔(بعد میں اسی طرح کے اور کئی واقعات ہوئے جن میںپنجابیوں،سندھیوں اور دوسری قوموںکو ایم کیوایم کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی۔ الطاف حسین ان سب کو ایم کیوایم کے خلاف سازش سے تعبیر کرتاہے۔ حقیقت تو خدا جانتا ہے تاہم ان واقعات اور پریس کی مہربانیوںسے ایم کیوایم کے خلاف پنجاب اور سرحد میںبالخصوص اور پورے ملک میںبالعموم نفرت پھیلی۔) کئی لوگ مارے گئے کئی زخمی ہوئے مگر حیدر آبادکا جلسہ ناکام نہ کرایا جاسکا۔ اس روز واپسی پر گھگھر پھاٹک کے قریب الطاف حسین کو گرفتار کر لیا گیا جب وہ مقتولین سہراب گوٹھ کے جنازے میں شرکت کرنے کراچی جارہا تھا۔
14 اور 15 دسمبر1986 کا دن شایداہل کراچی کبھی نہ بھلا سکیںجب علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میںبدترین قتل عام کیا گیا۔مخالف رائے دستیاب نہیں مگر الطاف حسین کے بقول مساجد کے سپیکروںسے دہشت گردوں کو گائیڈ کیا جاتا رہا۔ بچے بوڑھے اور جوان کی تخصیص کے بغیر قتل عام کیا گیا۔یہ سب ڈرگ مافیا کے ذریعے کیا گیا۔ حتٰی کہ ایک جگہ ایک خاتون کے جنازے پر بھی حملہ ہوا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود ایم کیوایم نے بلدیاتی انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی۔جو کراچی اور حیدرآبادکے لوگوں کی الطاف حسین سے والہانہ محبت کا ثبوت تھا۔اس کے بعد ایم کیو ایم کے کونسلروں کو کام سے روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جو کہ ہماری سیاست کی ریت بھی ہے۔
جب روشنیوںکا شہر کراچی جلا:
ایم کیو ایم کی مقبولیت روکنے کے لیے ہر دور حکومت میںکام ہوا۔ بے نظیر کے دور حکومت میںخصوصًا ایم کیوایم پر بے پناہ ظلم و ستم کیا گیا1988 کے انتخابات کے بعد بے نظیر کی حکومت بنی اس حکومت میں ایم کیوایم بھی معاہدہ کراچی کے تحت شامل تھی۔(ایم کیو ایم کے سیاسی معاہدے آگے ایک اور سرخی کے ذیل میںتفصیلًا بیان کیے جائیں گے)۔ بے نظیر نے ہمیشہ ایم کیو ایم کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور بہانے بہانے سے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا۔
بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں جب حکومت کے مظالم حدسے بڑھ گئے تو الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا۔ مگر حکومتی یقین دہانیوںکے باعث ختم کردی۔ مگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے۔ بے نظیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس سے پہلے ہی الطاف حسین اس کے رویےسے مایوس ہوکر نواز شریف سے معاہدہ کرچکا تھا۔نواز شریف کے دور حکومت میں1990 سے1992 تک ایم کیوایم اقتدار میں شامل رہی۔
جون 1992 میںنواز شریف کے دور حکومت میں ایم کیوایم کے خلاف خوفناک آپریشن شروع ہوا۔فوج کے جنرل آصف نواز نے ایم کیو ایم کے خلاف پوری طاقت استعمال کی نواز شریف کے بقول اس بات سے اسے لاعلم رکھا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ یہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہے۔
اسی آپریشن اورماضی کی زیادتیوںسے مجبورہو کر ایم کیو ایم نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اگرچہ الطاف حسین تنظیم کے کسی عسکری ونگ کی موجودگی سے ہمیشہ انکاری رہا ہے تاہم یہ عسکری ونگ کی موجودگی بعیداز حقیقت نہیں۔
اس سے پہلے نواز شریف بطور وزیر اعظم الطاف حسین سے مل کر ایم کیو ایم کے جرائم جن میںغنڈہ ٹیکس اور ماردھاڑ ،عقوبت خانے وغیرہ شامل تھے کی نشاندہی کرچکا تھا۔ الطاف حسین کے علم میںکچھ جرائم تھے بھی تاہم اس کے چہرے کا رنگ ایک بار ضرور بدلا تھا۔اسی دور میںایم کیو ایم سے کچھ لوگوںکو اس الزام کے تحت الگ کیا گیا کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوںمیںملوثہیں۔اسی دوران راء کے دہشت گرد ایم کیوایم میں گھس آئے اور انھوںنے تنظیم کے لیڈروںکی قربت حاصل کرلی۔ حتٰی کہ بعض لیڈر بھی ان کی موجودگی جدوجہد اور تنظیم کے لیے ضروری قراردینے لگے۔
فوج اگرچہ پہلے ایم کیو ایم کی حامی تھی ضیاءالحق کے دور میں ایم کیوایم کی پرورش اینٹی پیپلز پارٹی کے طور پر کی گئی تاہم بعد میںکچھ وجوہات کی بنا پر فوج اس کے خلاف ہوگئی ۔ انھی وجوہات میں کراچی سیکٹر کے ایک میجر کلیم کا ایم کیوایم کے کارکنوںکے ہاتھوںاغواء بھی بتایا جاتاہے۔ان باتوں سے تنگ آکر جنرل آصف نواز نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا۔
فوج کے آپریشن اور ایم کیو ایم میںجرائم پیشہ لوگوںکی شمولیت کا اگر کسی کو کچھ نقصان ہوا تو وہ کراچی کے معصوم عوام تھے۔ان پر زندگی دوبھر کردی گئی۔ ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے دوسری طرف دہشت گرد چکی کے دوپاٹوں میںعوام گندم کی طرحپس کر رہ گئی۔
فوج اور ایجنسیوںنے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جاسوسی شروع کردی۔ اسی دوران جناحپورکی سازش منظر عام پر آئی جو بقول حکومت علیحدہ ملک بنانے کی سازش تھی اور الطاف حسین اسے ایجنسیوں کی چال قرار دیتا ہے۔اس دوران الطاف حسین علاج کی غرضسے لندن جاچکا تھا جس کےبعد وہ وہیںکا ہوکر رہ گیا۔
فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز نے برملا اس بات کہ اظہار کیا کہ اگر مسلم لیگ میں دھڑے بندیاںہو سکتی ہیںتو ایم کیو ایم میںکیوںنہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ایم کیوایم حقیقی کے نام سے عامر اور آفاق جنھیںالطاف حسین نے پارٹی سے جرائم پیشہ سرگرمیوں کی بناء بر نکال دیا تھا(بقول ایم کیو ایم ذرائع) ایک پارٹی کھڑی کر لی۔ اس کے بعد آگ اور خون کا جو کھیل شروع ہوا اس سے سب ہی واقف ہیں۔ یوںحالات پیدا ہوگئے جیسے ایم کیو ایم (جسے حکومتی ادارے الطاف گروپ کہتے تھے) اور حقیقی کے مابین گینگ وار شروع ہوگئی ہو۔ نواز شریف کے دور میںتو کچھ بچت رہی۔تاہم بے نظیر نے اس کا خوب استعمال کیا۔
اسی دوران آصف نواز کا انتقال ہو گیا اور نئے فوجی سربراہ جنرل وحید نے فوج کو واپس بلانے کا عندیہ دیا۔ اسے ایم کیوایم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مزید جنرل وحید کو احساس تھا کہ فوج کے وقار کو آپریشن نے نقصان پہنچایا ہے۔ نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ اور غلام اسحاق خان کے دور صدارت کا خاتمہ ایم کیو ایم کے لیے بدترین سانحے لے کر آیا۔
بے نظیر نے 1993حکومتیںاور اتحاد قائم کرنے کےبعد جو کام کیا وہ ایم کیو ایم کےخلاف آپریشن تھا۔ اس بار اسے جنرل(ر)نصیر اللہ بابر کا بطور وزیر داخلہ تعاون حاصل تھا۔ پیپلز پارٹی کا صدر ہونے کی وجہ سے فاروق لغاری نے بھی غفلت برتی جس کا خمیازہ غریب عوام نے بھگتا۔
ایم کیوایم اور حقیقی کے مابین ہونے والی گینگ وار میں نہ صرف ان کے کارکن مارے جاتے رہے بلکہ عوام بھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہر حربہ اختیار کیا جو کوئی مہذب ذہن سوچ بھی نہیں سکتا۔عامر اور آفاق اس دوران سرکاری سرپرستی حاصل کرنے میںکامیاب ہوچکے تھے۔ فوج اوررینجرز کے ٹرکوںپر بیٹھ کر یہ لوگ ایم کیو ایم کے دفاتر پر حملہ آور ہوتے اور ان پر قبضہ کر لیتے۔ کارکنوںکو مارتے اور سامان لوٹتے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا بیان ہے کہ اس دوران کروڑوںروپے کا سامان بھی ایم کیو ایم کے دفاتر سے لوٹا گیا۔
بے گناہ بچیوںکی عزتوںسے کھیلا گیا انھیںاغوا کیا گیا۔ ہر وہ ناجائز حربہ اختیار کیاگیا جو سوچا جاسکتاہے۔ اس دوران کراچی کے عوام تنگ آچکے تھے۔ آئے دن کے محاصرے،فائرنگ اور حملے۔ کراچی کے کچھ ضلعے خصوصًا وسطی،غربی کا پچاس فیصد اور شرقی کا قریبًا پینتیس فیصد علاقہ دہشت گردوںکی لپیٹ میںتھا۔ ملیر کے کچھ علاقے بھی اس میںشامل ہیں۔
یوںلگتا تھا جیسے ایم کیوایم والوںکے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو ان دونوں دھڑوںکے کارکنوںکو نشانہ بنا رہا ہے۔ الطاف حسین نے ہمیشہ اسے ڈرگ مافیا اورایجنسیوںکی کارستانی قرار دیا۔ تاہم یہ بات قرین قیاس ہے کہ اس میںبیرونی ہاتھ ضرور ملوث تھا جس نے بہتی گنگا میںہاتھ دھونا اپنا فرضسمجھا۔
جنرل نصیر اللہ بابر نے اپنے انٹرویوز اور تقاریر میںایم کیوایم کو علیحدگی پسند تنظیم قرار دیا۔ اور اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم کو بھارت سے امداد ملتی ہے۔ اس نے یہ دعوٰ ی بھی کیا تھا کہ ایجنسیوںنے اس بات کا سراغ لگایا ہے کہ بھارت ان کے پچاس پچاس لوگوںکے ٹولوںکے دریائے گومتی کے کنارے ٹریننگ دیتا ہے۔
بات کوئی بھی ہو اس کا نتیجہ عوام کے حق میںبرا نکلا۔ بے پناہ قتل و غارت گری آئے دن فائرنگ کے واقعات جیسے معمول بن گئے تھے۔ ایدھی کے مطابق ان دنوں میںحیدر آباد اور کراچی سے چار سو مسخشدہ لاشیںبرآمد ہوئیں۔ بوریوںمیںبند لاشیںملنا معمول کی بات تھی۔
بقول وزیر داخلہ انھی دنوںکھجی گراونڈکو آزاد کروایا گیا۔ گلبہار اور گولی مار کے علاقے میںتنگ مکانات اور گلیوںکے پیچھے یہ گراؤنڈ دھشت گردوںکا گڑھ بن چکی تھی۔ پولوںسے زنجیریںباندھ کر اور سڑکوںمیںگڑھے ڈال کر کاروںاور گاڑیوںکی آمدو رفت کو روکا گیا تھا۔ ہر وقت اس جگہ 60سے70دہشت گرد موجود رہتے تھے۔پولیس اور رینجرز نے کاروائی کرکے اس علاقے کودہشت گردوںسے پاک کیا ۔ بعد میںبی بی سی کے نامہ نگار کو کچھ مقامیوںنے بتایا کہ وہ اکثر لوگوںکے چیخنے کی آوازیںیہاںسے سنا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے اس جگہ لوگوںپر نشانہ بازی کی مشق کیجاتی تھی کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیںیہ “قائد“ کے غدار لوگ ہوتے تھے۔ بعد میںعقوبت خانے اور اسلحہ وغیرہ میڈیا کو دکھایا گیا۔
ٹی وی پر گرفتار دہشت گردوں کو دکھایا جاتا اسی دوران عظیم طارق چئیرمیںن ایم کیوایم کے قتل کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف ہوا۔
اکتوبر 1993 سے لے کر نومبر 1994 تک فوج کی موجودگی میںمارے جانے والے لوگوںکی تعداد 701 اور زخمی ہونے والوںکی تعداد 1056 ہے۔ اس میںغالب تعداد عام شہریوںکی ہے تاہم آرمی اور دیگر اداروں اور دوسری جماعتوں کے لوگ بھی شامل تھے۔
فوج کے جانے کے بعد 30 نومبر 1994 سے لے کر 30ستمبر 1995 تک ہلاک ہونے والوںکی تعداد پہلے سے دوگنی سے بھی زیادہ 1759 اور زخمی ہونے والے چارگنا4128 تھے۔ اس میںغالب تعداد(1103و2500) ایم کیوایم کے لوگوںکی ہے جو ہلاک اور زخمی ہوئے اس طرح بے نظیر حکومت کی بدنیتی اور ظلم سامنے آجاتا ہے۔
الطاف حسین کے سیاستدانوں سے معاہدے:
الطاف حسین کو ہمیشہ سیاستدانوںنے دھوکا دیا۔ سیاست کے میدان میںاناڑی ہونے کی وجہ سے سب نے اس کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنا الوسیدھا کیا اور چل دیے۔الطاف حسین ایک طاقتور آدمی تھا بے شک ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سیاستدان اس سے ملاقات کرنے کے لیے وقت مانگا کرتے تھے۔مگر وہ اپنی سیاسی طاقت کو صحیحطرحاستعمال نہیںکر سکا۔
ایم کیوایم کا پہلا معاہدہ بے نظیر سے ہوا۔ 1988 کے انتخابات کے بعد مسلسل بارہ روز کے مذاکرات کے بعد یہ 59 شقوں پر مشتمل معاہدہ طے پایا۔ جس پر عمل کبھی بھی نہ ہوسکا۔ اس معاہدے میںبھی بقول ایک سیاستدان ایم کیو ایم کی ناتجربہ کاری کے باعث ان کا بنیادی مطالبہ یعنی مہاجر قومیت کو تسلیم کرنا بھی معاہدے سے متفقہ طور پر نکال دیا گیا۔ ان 59 مطالبات یا شقوںمیںتمام کی تمام فروعی توعیت کی تھیںجو 6یا7 بنیادی نوعیت کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد پوری ہوجاتیں۔ تاہم بے نظیر نے اس کا بھی فائدہ اٹھایا اور ہر بار جب ایم کیو ایم نے احتجاج کی دھمکی دی بے نظیر نے اس معاہدے پر عمل کرنے کا اعلان کرکے اپنا مطلب نکال لیا۔
بے نظیر سے مایوسی کے بعد اسلام جمہوری اتحاد سے الطاف حسین کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کو کچھ عرصہ خفیہ رکھنے کے بعد منظر عام پر لایا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایم کیوایم نواز شریف کے ساتھ حکومت میںشامل بھی ہوئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ الطاف حسین کا معاہدہ بے نظیر کے دور حکومت میںہی ہوگیا تھا۔ کیونکہ الطاف حسین بے نظیر سے مایوس ہوچکا تھا۔ نواز شریف نے ایم کیوایم کے بل بوتے پر کراچی اور حیدر آباد میںبڑے بڑے جلسے کیے۔ انتخابی ایڈجسٹمنٹ میں کچھ گڑبڑ اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی نے کراچی میںاپنی نشستینہارے بغیر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ نواز شریف نے ایم کیو ایم سے ہر ممکن تعاون کیا حتٰی کہ جب اس کے سامنے ایم کیوایم کے جرائم کے ثبوت اور عقوبت خانوںکے بارے میںرپورٹین رکھی گئیںتو بطور وزیر اعظم الطاف حسین نے ملاقات کرکے اس بارے میںمطلع کیا۔ الطاف حسین نے تعاون کا یقین دلایا اور اس نے ایسا کیابھی تنظیم سے کئی ایسے عناصر کو نکالا بھی گیا۔
مگر شاید دیر ہوچکی تھی۔ فوج اور اسٹیبلیشمنٹ ایم کیوایم کے خلاف ہوچکی تھی۔ بعد میںنواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد حالات مزید ابتر ہوگئے کراچی میںخون کی ہولی کھیلی گئی جس کے شریک تمام لوگ کچھ نہ کچھ قصور وار تھے
ایم کیو ایم کے1993 کے انتخابات میںچند نشستوں پر امید وار کھڑے کرنے کی اجازت ملی تھی(فوج اور اسٹیبلیشمنٹ کی طرف سے) جس کے بعد انھوںنے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ مگر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں شرکت سے اس لیے نہ روکا گیا کیونکہ مقتدر قوتوںکو احساس ہوچکا تھا۔جیتنے والے امید وار لاکھوںکے حلقے سے چند ہزار ووٹ لے کر جیتے تھے جو لوگوںکی ایم کیو ایم سے محبت کا ثبوت تھا چناچہ ایم کیو ایم نے 24 گھنٹے کے نوٹس پر تیاری کر کے سندھ اسمبلی کے لیے شہری علاقوں سے میدان مار لیا۔
ایم کیو ایم بطور پارٹی:
ایم کیو ایم کی تنظیم سازی میںمرکز کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اصل میںیہ تمام پارٹی الطاف حسین کے گرد گھومتی ہے۔پارٹی کے کارکنوںکے ذہنوںمیںقائد کی محبت اور اطاعت راسخ ہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان میںاگر کوئی تنظیم اس قدر منظم ہے تو وہ ایم کیوایم ہی ہے۔
ایم کیوایم کے حلف نامے میںواضح طور پر اللہ اور ماںکی قسم کھا کر پارٹی اور الطاف حسین سے وفاداری کا عہد کیا گیاہے۔ جس سے واضع ہوجاتاہے کہ الطاف حسین ایم کیوایم کے لیے کیا ہے۔کسی بھی قسم کی اطلاع جو پارٹی کے مفاد میں ہو یا اس کے خلاف کوئی سازش فوری طور پر اس کی اطلاع مرکز یا قائد کو پہنچانے کی ہدایت ہے۔
الطاف حسین کے اس قدر اثر کی ہی وجہ سے شاید ایم کیوایم کے کارکن قائد کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتے۔
ایم کیو ایم کی ایک اور خاص بات اور جس پر انھیں سب سے زیادہ فخر بھی ہے ان کی مڈل کلاس قیادت ہے۔ یہ بات بالکل قابل تعریف ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت مڈل کلاس سے اٹھی اور مقبولیت حاصل کی۔ اب کا حال تو خدا جانتا ہے کیونکہ تازہ ترین دستیاب مواد بھی دس سال پرانا ہے اب شاید کچھ اور صورت حال ہو۔
ایم کیو ایم کا منشور:
بنیادی طور پر ایم کیوایم مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وجود میںآئی۔الطاف حسین اور اس جیسے کئی دوسرے بانیانِ پارٹی جو معاشرے کے ڈسے ہوئے تھے نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی ۔ اسی لیے اس کا منشور بھی مہاجر قومیت کو درپیش مسائل اور اکثر سندھ کی طرف سے مطالبات پر مشتمل ہے۔
مقامی غیر مقامی کی ایک مخصوص تعریف،کراچی کی ترقی کے لیے مطالبات،سندھ اور مرکز میںمہاجروں کی نمائندگی کے لیے حلقہ بندیاںاور دوسرے اقدامات،اندورن سندھ کے تعلیمی اداروںمیںمہاجر طلبہ کا داخلہ،سرکاری ملازمتوں میںمہاجروں اور شہری سندھ کا کوٹہ،فوج میں سندھ کے لوگوں کی بھرتی کے لیے الگ معیارات،تعلیم کا بجٹ میں زیادہ حصہ اور اہم عہدوںپر مہاجروںکے تقرر بارے مطالبات اس کے منشور کا حصہ ہیں۔
ایم کیو ایم اب مہاجر قومی موومنٹکی بجائے متحدہ قومی موومنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ نام کی تبدیلی اور ملکی سطحپر سیاست میںآنے کا فیصلہ 14 اگست 1992 میںہونا تھا مگر جنرل آصف نواز کے آپریشن کی وجہ سے (شاید) موخرکردیاگیا۔(اس سلسلے میں زیادہ تفصیل ان کتابوںمیںموجود نہیںکیونکہ یہ 1995 تک کے حالات کا حاطہ کرتی ہیں)ایم کیو ایم کے کچھ مطالبات جو میرے علم کے مطابق پورے کیے جاچکے ہیں۔
فوج میںسندھ کے لوگوںکے لیے قدکا معیار کم کر دیا گیا ہے چونکہ سندھی عام طور پر پست قامت ہوتے ہیں۔
سندھ میںاس وقت ڈاکٹر عشرت العباد گورنر ہے جو مہاجر اور ایم کیوایم والوں میںسے ہے۔
تعلیم کے اخراجات ہر سال بجٹ میںبتدریج بڑھائے جارہے ہیں۔
ایم کیو ایم اچھی یا بری:
ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخکی انتہائی متنازعہ جماعت ہے ۔اس کے حامی حد سے زیادہ حامی اور مخالف بھی حد سے گزر جانے والے ہیں۔ الطاف حسین کے بقول ایم کیوایم کے بارے میںرائے عامہ بگاڑنے میںایجنسیوںاور فوج کا ہاتھ رہا ہے۔ شاید یہ بات ٹھیک بھی ہو۔ تاہم ایم کیوایم سے خود بھی غلطیاںہوئی ہیں۔دوسرے ایم کیو ایم نے کا پیغام عام آدمی تک صحیحطرحسے پہنچ نہیںسکا یعنی ایم کیوایم کا پروپیگنڈا یونٹ خاصا کمزور ہے۔ کراچی اور حیدر آباد کی بات اور ہے تاہم اگر ایم کیوایم نے ملکی سطح پر مقام پیدا کرنا ہے تو پورے ملک کو اس بارے آگاہی ہونی چاہیے۔
اردو ویب آرگ پر دوران بحث ایم کیو ایم کے کارکن کی طرف سے بدزبانی نے مجھے مہمیز کیا کے اس بارے جانوںگو میرا جذبہ بھی منفی تھا کہ اس کی برائیوںبارے جانوںتاہم عام آدمی جب اس حد سے زیادہ تنگ نظری کو دیکھے گا تو وہ اس بارے کچھ اچھی رائے قائم نہیںکرے گا اور صاف سی بات ہے کہ ایم کیو ایم کے نام سے ہی دور بھاگے گا۔
ایم کیو ایم اب متحدہ قومی موومنٹ ہے۔ اسے اپنے منشور میںوہ مسائل بھی شامل کرنے چاہیں جو پاکستان کے دوسرے علاقوںکےعوام کو درپیش ہیں۔
بلاشبہ ایم کیو ایم کا یہ نعرہ کہ وہ وڈیروں جاگیر داروں کے مخالف ہیں غریب کے لیے کشش کا باعث ہے مگر بات عمل کی ہے۔
ایم کیو ایم غریب قیادت کا نعرہ تو لگاتی ہے مگر مشرف حکومت میں وزارتیںلے کر سکون سے بیٹھی ہے اور غریب ختم ہورہے ہیں۔ صرف کالا باغ اور بلوچستان کے مسائل پر ہمیںپتا چلا کہ ایم کیوایم بھی ہے ورنہ ان لوگوںنے چپ سادھی ہوئی ہے۔ شاید اب ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
بات کہاںسے چلی اور کہاںپہنچی۔ خلاصہ یہ کہ ایم کیوایم کی تاریخآپکے سامنے ہے۔ میں نے حتٰی لامکان حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے ماضی اور حال کو دیکھ کر آپ بہتر فیصلہ کر سکیںگے کہ کیا صحیحاور کیا غلط ہے۔
اللہ ہمیںصرف اور صرف پاکستان کو سامنے رکھ کر سوچنے اورعمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔
بدھ، 30 نومبر، 2005
علماءے دين
ے کا طریقہ نماز اپنا لیا۔ یہ احترام تھا محبت تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احترام نہیں رہا اب بات بہت مختلف ہوچکی ہے اب تو فرقے ایسے جزیرے ہیں جن کے مابین اختلافات کے سینکڑوں میل وسیع سمندر حائل ہیں۔ اب کچھ بات برِصغیر کے علماء کی اور یہاں کے دینی تعلیمی نظام کی۔یہ نظام انگریزوں کے دور میں انگریزی تعلیم کے خلاف رد عمل میں شروع ہوا جسے درسِ نظامی کہتے ہیں(میں پہلے عرض کر چکا ہوں میرا علم خام ہے اسلئے اگر یہاں غلطی پر ہوں تو درست فرما دیجیے گا۔) ایک طرف انگریزی تعلیمی نظام دوسری طرف درسِ نظامی۔ درسِ نظامی اصل میں دین کو بچانے کی ایک کوشش تھی مگر اس کوشش کے نتائج آج کل کچھ اچھے نہیں مل رہے۔ اس زمانے کے مطابق بھلے یہ ٹھیک تھی مگر آج کل جو دور چل رہا ہے یہ نظامِ تعلیم بدلنا چاہیے۔ بے شک اس بات میں کوئی شک نہیں اس نظام سے ہی وہ ہیرے نکلے جنھوں نے انگریز مشنری پادریوں کے ناطقے بند کردیے۔ جنھوں نے اس دور میں اسلام کو بچایا جب انگریز سرکار،انکے حمایت یافتہ مشنری اور ہندو قوم اسلام کو ہڑپ کرلینے کے چکر میں تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ انھی کی وجہ سے آج بھی سخت سردی میں فجر کی اذان وقت پر ہوتی ہے۔ بارش ہو،مینہ ہو ، سردی ہو گرمی ہو جنازہ یہی لوگ پڑھاتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے قابلِ صداحترام ہیں۔ بے شک یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثین میں سےہیں (ظاہری علوم میں)۔ یہ ہم سے بر تر ہیں ہم وہ وقت گالم گلوچ یا خرافات میں گزارتے ہیں اور یہ لوگ وہی وقت قرآن کو سمجھنے اور حدیث رسول کو یاد کرنے اور اس کا علم حاصل کرنے میں گزارتے ہیں۔ قابل صداحترام ہیں یہ علم حاصل کرنے والے اور اس کے اساتذہ۔ بے شک یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے اردو کو اس بات کا اعزاز بخشا کہ اس میں دینی علوم کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو شاید ہی کسی زبان میں ہو شاید عربی میں بھی نہیں۔ ہر قابل ذکر دینی کتاب خواہ وہ کسی بھی زبان میں ہو کا اردو ترجمہ موجود ہے جو ان کاایک اور اعزاز ہے۔ مگر میں جو عرض کررہا تھا وہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ اس نظام میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مسالک کے پیچھے لگ کر علماء دین کی اصل کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا معمول بن چکا ہے۔ ان کی ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک نہیں ہوتی۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر مسلک کی الگ مسجد ہے اور ایک ہی محلے میں یوں کئی کئی مساجد ہیں۔ مسجد کے ساتھ لکھا ہے فلانی مسجد اہلحدیث،اہلسنت بریلوی،اہلسنت دیوبندی یا اہل تشیع ۔۔ انڈیا میں مسلم پرسنل لاء بورڈ میں اس قدر اختلافات ہوگئے کہ وہاں اہل تشیع نے آل انڈیا شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ قائم کرلیا ان کے خیال میں انکے دینی تقاضے اکٹھے رہ کر پورے نہیں ہورہے تھے۔ پاکستان میں مدارس کے پانچ وفاق قائم ہیں یعنی ہر مسلک کا الگ وفاق(اسے آپ یوں سمجھ لیں جیسے یونورسٹی جو امتحان لینے کی ذمہ دار ہو اور سلیبس وغیرہ بھی مہیا کرے ساتھ ہی سند بھی امتحان پاس کرنے کے بعد جاری کرے )۔ آپ میں بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں بلکہ اندازہ کیا جانتے ہیں کہ ان مدارس سےنکلنے والے طلبا دوسرے مسلک بارے کس قدر متعصب ہوتے ہیں۔ جہاں دو عالم اکٹھے ہوجائیں عام سے مسائل پر بحث شروع ہوجاتی ہے جن پرپہلے ہی ہر فرقے نے مخالفت اور موافقت میں درجنوں کتب تحریر کر رکھی ہیں۔ہر فرقہ خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتا ہے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے آج کے دور میں جبکہ ہم دین کے پہلے سے بہتر جانتے ہیں۔ اس کی وجہ میری ناقص عقل کے مطابق یہ ہے کہ ہم لوگ اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دے ہے۔ بے شک تبدیلی کی مخالفت ہو رہی ہے تاہم تبدیلی ہونی چاہیے۔ دوسرے اس شعبے کو انتہائی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو ماں باپ اپنے بچے کو صرف اسی صورت میں اس شعبے میں بھیجتے ہیں جب یقین ہوجائے کہ یہ اب کسی کام کا نہیں۔ تو سوچا جاتا ہے کہ آخرت ہی سنوار لیں۔ یا وہ بچے جو یتیم ہیں۔ دیانتداری سے بتایے اگر یہ شعبہ خیرات پر نہ چلے، یہ لوگ بھی فیس لیں ،ان سے فارغ التحصیل افراد کی معاشرے میں ویسی ہی مانگ ہو جو کسی ڈاکٹر یا انجینئیر کی ہے تو کیا اس کا معیار بہتر نہیں ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ مگر اس شعبے کے حصے میں وہ طلبا آتے ہیں جو کچرا ہوتے ہیں کند ذہن ماں باپ کی نظر میں جن کی کھپت اور کہیں نہیں۔(یاد رہے میں عمومی بات کر رہا ہوں ایسے لوگ بے شک موجود ہیں جو اپنے بچوں کے دین کی تعلیم خصوصًا دلواتے ہیں۔) دیانتداری سے بتایے اس سب کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ہمارے دشمنوں کو ظاہر سی بات ہے۔ہم جو توانائیاں اس بات پر لگا رہے ہیں کہ فلانے کافر ہیں اپنے ہی بھائیوں کو ذلیل کر ہے ہیں کیا وہ ان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہییں جو اسلام پر قدغن لگا رہے ہیں ۔ میری مراد جدید دنیا کے ان غیر مسلم نام نہاد مفکرین سے ہے جن کی کتابیں اس بنیاد پر بیسٹ سیلر کا اعزاز حاصل کرتی ہیں کہ اسلام ایک غلط مذہب ہے اور مسلمان دہشت گرد۔(نیز نومسلموں کو بڑی دقت ہوتی ہے جب وہ مسلمان تو ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں اندر کے حالات کا پتا چلتاہے ان سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا مسلک کیا ہے۔ اس طرح اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔) علم کے محاذ پر،دلیل کے ساتھ میں یا میرے جیسے عام لوگ انھیں قائل نہیں کرسکتے انھیں شکست نہیں دے سکتے۔ انکے ساتھ بحث اور مناظرہ نہیں کرسکتے یہ کام علماء ہی کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں تقابل ادیان کا خصوصی علم سکھایا جاتا ہے انھیں منطق پر عبور حاصل ہوتاہے وہ دلیل دینا اور دی گئی دلیل کو رد کرنے کے قاعدے جانتے ہیں جو میں اور میرے جیسے جاہل نہیں جانتے۔ تو اس سب ک
ہفتہ، 26 نومبر، 2005
زلزلہ زدگان کی بحالی کچھ تجاویز
اسی ذیل میں ملک کے ایک معروف روزنامے میں دو الگ الگ تجاویز پڑھیں تو دل کیا اسے آن لائن کر دیا جائے۔
دونوں تجاویر گھر بنا کر دینے کے سلسلے میں ہیں ۔ دونوں تجاویز باری باری پیش کرتا ہوں۔
1۔ محمد اشرف جن کا تعلق ایک کرافٹ مین فیملی سے ہے لاہور کالج آف آرٹس کے طالبعلم ہیں نے کنٹینروں کی تجویز پیش کی ہے۔ انکے مطابق کنٹینر
ایک تو زلزلہ پروف ہیں
دوسرے آسانی سے اور فوری دستیاب ہیں
تیسرے کم خرچ اور موسم جیسے نمی سرد ہوا کو برداشت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں انسولیشن سے انھیں سردی گرمی پروف بنایا جاسکتا ہے
نیز ایک اوسط خاندان کے لیے اسی ہزار (80,000) سے ڈیڑھ لاکھ (150,000)روپے تک کنٹیزکا حصول ممکن ہے جس کی عمر سو سال تک ہوسکتی ہےبشرطہ ہر سال اندر اور باہر سے اینیمل پینٹ کیا جاتارہے۔
پارلیمنٹ کی موجودہ قائم ہونے والی کمیٹی کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔
2۔پانچ لوگوں کی ایک ٹیم جس میں ایک کارپینٹر باقی مزدور ہوں یا اس میں مناسب رد وبدل کر کے ایک ٹیم یعنی ایک یونٹ بنا لیا جائے (بہتر یہ ہے کہ یہ لوگ آرمی انجینئرنگ کور کے ہوں چونکہ یہ نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں اس لیے بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے) اور اس طرح کے ہزار یونٹ تجرباتی طور پر ان علاقوں جیسے نیلہ بٹ جہاں زیادہ تباہی ہوئی اور جلد برفباری اور سردی آنے کا امکان ہے تعینات کیا جائے اور ان کے گھروں کی مرمت اور تعمیر کروائی جائے پھرایک یونٹ ایک گھر بنانے میں جتنا وقت لیتا ہے اس کی اوسط لے کر مزید یونٹ مناسب تعداد میں تعینات کیے جائیں تاکہ جلد از جلد گھروں اور پناہ گاہ کی فراہمی کا مسئلہ حل ہوسکے۔
تجاویز کئی ایک ہو سکتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کو حکومتی اور نجی سطح پر ایک پالیسی کے طور پر اپنا لیا جائے تاکہ کام باآسانی اور بروقت ہوسکے ۔ اب حال یہ ہے کہ کوئی تنظیم خیمے فراہم کر رہی ہے، کوئی جستی چادریں اور کوئی فائبر کے گھر اور جست کے بنے ہوئے گھر۔
اس سلسلے میں مزید تجاویز دی جائیں تاکہ متعلقہ اداروں کے اس سلسلے میں آگاہ کیا جائے۔