اردو بلاگز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو بلاگز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 ستمبر، 2016

اردو بلاگنگ اور انٹرنیٹ پر اردو کا ارتقاء

بلاگنگ پچھلی صدی کے آخری عشرے کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق لوگوں نے اپنی ویب سائٹوں پر personal یا اپنے نام سے ایک ڈائریکٹری یا سب ڈومین بنا کر اس پر دن بھر کی مصروفیات، روئداد یا کسی ذاتی یا غیر ذاتی موضوع پر اپنے خیالات کو ایک ڈائری یا بیاض کی شکل میں بیان کرنا شروع کیا۔ زبان کی یہ تحریری صنف مضمون لکھنے جیسے ہی تھی، لیکن یہ اس سے مقابلے میں زیادہ بے تکلفانہ اور ذاتی رنگ لئے ہوئے تھی۔

 انگریزی اور دیگر زبانوں کی بلاگنگ کو دیکھتے ہوئے اردو میں بھی لوگوں نے 2004 یا اس کے بعد بلاگنگ شروع کی۔ اور چند برسوں میں چند لوگوں سے یہ تعداد سو کا ہندسہ پار کر گئی۔اردو بلاگرز نے 2005 سے 2010 بلکہ تین چار برس بعد تک بھی بلاگز چلائے، اور ان پر قارئین کی ایک مناسب (چند درجن سے سو یا زیادہ وزٹر فی پوسٹ) تعداد بھی آتی رہی۔ لیکن جیسا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز تیزی سے ارتقاء پذیر ہو کر نئی نئی شکلوں میں ظہور پذیر ہوتی رہی، ویسے ہی بلاگنگ کی شکل بھی بدلی اور اس میں پہلے جیسی دلچسپی بھی برقرار نہ رہ سکی۔

انگریزی کی بلاگنگ 2010 سے ایک دو برس پہلے سے ہی اپنا رخ تبدیل کر رہی تھی۔ اب لوگوں نے ذاتی بلاگنگ کی بجائے عنواناتی بلاگنگ پر توجہ دینا شروع کی۔ انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعے آمدن، اور اشتہارات لگانے کے لیے نئے تحریری (اب تصویری، ویڈیو مواد بھی) کی ضرورت محسوس ہوئی تو لوگوں نے مختلف شعبوں میں مدد کے لیے بلاگز بنائے (فلاں کام کیسے کریں، جنہیں انگریزی میں ہاؤ ٹُو قسم کی تحاریر کہا جاتا ہے)، کسی خاص شعبے کے حوالے سے خبریں، تازہ ترین اور معلومات کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا (مثلاً انگریزی میں ٹیکنالوجی، قانون، مذہب وغیرہ سے متعلق بلاگز وجود میں آئے)، کمپنیوں نے بلاگنگ کی طاقت دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹس پر عوام سے انٹرایکشن کے لیے بلاگ سیکشن شروع کر دئیے، اخبارات میں بلاگ سیکشن شروع ہوئے (پاکستان کے انگریزی اخبارات 2009 سے بلاگز چلا رہے ہیں، اردو اخبارات نے دو تین برس تاخیر سے یہی کام شروع کیا)۔ اب بلاگنگ سے ارتقاء پذیر ہو کر تحریری (اور دیگر اقسام کے) مواد کی تخلیق کا عمل اتنا کمرشل ہو گیا ہے کہ باقاعدہ آنلائن میڈیا ہاؤسز موجود ہیں جو اخبارات کی طرح (لیکن کاغذ پر چھاپے بغیر صرف آنلائن) مواد تخلیق کرتے ہیں۔ ان کمرشل سائٹوں میں ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹیں بھی ہیں (یہ اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ کبھی کبھار بلاگ کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں)، اپنی مدد آپ کے حوالے سے بلاگز یا ویب سائٹس بھی ہیں، اور وائرل مواد (میش ایبل اور اس کی پاکستانی نقل مینگو باز) کی خبر دینے والی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔

اردو کے حوالے سے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا) لوگوں نے بلاگنگ کچھ برس تاخیر سے شروع کی۔ لیکن انہوں نے انگریزی والے رجحانات کی پیروی کر کے اپنے ذاتی بلاگز سے ہی ابتدا کی۔ بدقسمتی سے اردو میں بلاگز کا ارتقاء انگریزی والے پیٹرن پر نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اردو میں دستیاب مواد کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کر سکنا تھا۔ اردو میں لوگ مواد تخلیق کرنے کو تو تیار تھے، لیکن انہیں اردو زبان میں موجود ویب سائٹس کے لیے اشتہارات (جو انٹرنیٹ پر آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور اس حوالے سے آج بھی گوگل ایڈ سینس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں) نہیں ملتے تھے ۔ چنانچہ ذاتی قسم کے بلاگز لوگوں نے کچھ عرصہ لکھے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رجحان اب بہت کم رہ گیا ہے (جیسا کہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہوا تھا)۔ اس وقت اردو زبان میں موضوعاتی بلاگنگ کے نام پر کرک نامہ، سائنس کی دنیا اورآئی ٹی نامہ جیسے چند ایک بلاگز ہی موجود ہیں، جو اشتہارات کے بغیر بھی معیاری اردو مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ اردو زبان میں ذاتی بلاگز میں دلچسپی کم ہونے کی ایک اور وجہ سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے فیس بُک اور ٹوئٹر کی مقبولیت بھی تھی۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، کم الفاظ یعنی کم وقت میں بات کہنے کی صلاحیت، زیادہ لوگوں سے انٹرایکشن کا موقع وغیرہ نے اردو بلاگرز کو فیس بک اور ٹوئٹر کا قیدی بنا دیا، اور ان کے بلاگ ماضی کے مزار بن گئے۔

انٹرنیٹ پرتحریری اردو کے فروغ میں بلاگنگ اصل میں تیسرا قدم تھی۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اردو فورمز (اردو محفل فورم، ہماری اردو فورم وغیرہ) تحریری اردو اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز مہیا کر رہے تھے۔ درحقیقت بیشتر اردو بلاگرز یہیں سے بلاگنگ کی طرف آئے۔ اور اِن آنلائن اردو چوپالوں سے بھی پہلے بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ وغیرہ کی اردو ویب سائٹس نے تحریری اردو کے فروغ کی بنیاد ڈال دی تھی۔ روزنامہ جنگ کی تحریری اردو کی ویب سائٹ بھی بہت پرانی ہے اگرچہ لوگ زیادہ تر نستعلیق (یعنی تصویری اردو) والی ویب سائٹ پر ہی جانا پسند کرتے تھے۔

اردو بلاگنگ کے بعد؟ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اردو بلاگنگ کا مختصر سا عروج جو 2007 اور اس کے بعد پانچ سات برس تک رہا، اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب لوگ بلاگ کی بجائے اپنی فیس بک وال پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی دھڑا دھڑ آمد نے ہمارے روزمرہ کے ٹاکرے (یا مناظرے) بھی آنلائن کر دئیے، چنانچہ یہاں لبرل، سیکولر، ملحد، قدامت پسند، اسلام پسند اور دیگر "پسندوں" نے سینگ اڑا کر مناظرے کیے۔ وہ مناظرے ختم ہو گئے یا ختم ہوں گے، اس سوال سے قطع نظر لوگوں نے سوچا کہ ان سوشل میڈیا ٹاکروں کے لیے جو کچھ لکھا جاتا ہے اسے مناسب جگہ پر شائع کیا جائے چونکہ فیس بک پر تو مواد چند دنوں میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اپڈیٹس کے انبار تلے دفن ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ویب سائٹس کی بنیاد رکھی جن میں لالٹین، ہم سب، دلیل، مکالمہ، ایک روزن، آئی بی سی اردو۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایک لمبی فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایک خاص نقطہ نظر کی ترجمان ہیں، کچھ ایسی نہیں ہیں، لیکن حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے وڈّوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والی یہ تحریری اردو کی ویب سائٹس ہمارے خیال میں بلاگنگ کے بعد انٹرنیٹ پر اردو کے ارتقاء کا اگلا قدم ہیں۔ (اگرچہ اردو پوائنٹ اردو آنلائن جرنلزم کا بہت پرانا نام ہے، لیکن ان کی ویب سائٹ آج بھی نیم تحریری اور باقی تصویری اردو پر چلتی ہے، اور ان کی آمدن کے ذرائع آغاز سے ہی مقامی کمپنیوں سے ملنے والے اشتہارات ہیں۔) ان ویب سائٹس کے اجراء نے نئے لکھاریوں کو لکھنے اور چھپنے کے آسان ذرائع مہیا کر دئیے ہیں جو اگرچہ ذاتی بلاگ کی شکل میں پہلے موجود تو تھے لیکن قارئین کی تعداد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے بددل ہو جاتے تھے۔ میڈیا کے وڈّے وڈّے ناموں کے سایہء عاطفت میں آج آپ جہاں بھی چلے جائیں، آپ کو تجزیہ کاروںِ، مضمون نگاروں، جوابی مضمون نگاروں، نوٹ نگاروں، اختلافی نوٹ نگاروں اور لکھاریوں کی ایک فوج ظفر موج نظر آتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت اچھے ہیں، کچھ اچھے ہیں، کچھ مناسب ہیں اور کچھ راقم کی طرح دھکا سٹارٹ ہیں۔ لیکن لوگ لکھ رہے ہیں، اردو لکھ رہے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے چونکہ اس سے اردو ترقی کرتی ہے، اردو پڑھنے سے تماشائیوں کو بھی اردو کو اردو میں لکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ان ویب سائٹس نے نوجوانوں کو اپنی فرسٹریشن نکالنے کے ذرائع بھی مہیا کر دئیے ہیں جس سے مختلف علاقوں کا درجہ حرارت معمول پر رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تفنن برطرف، آخر میں ہم آپ کی خدمت میں چند سوالات رکھ کر اجازت چاہیں گے۔

کیا مستقبل قریب میں انٹرنیٹ پر اردو مذہبی، نیم مذہبی، غیر مذہبی، سیاسی اور اس قسم کی دیگر مضمون بازی اور لفظی کُشتی سے آگے نکل پائے گی؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اسے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے (مثلاً سائنس کی دنیا جیسی کاوشیں جو سائنس سے متعلق تحاریر کا اردو ترجمہ مہیا کر رہے ہیں)؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اس میں معیاری تفریحی، تعلیمی، یا کسی بھی قسم کا مواد پیدا کر کے روزگار کمایا جا سکے؟

اور کیا مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہے کہ مذکورہ بالا فرضی اردو ویب سائٹس کو گوگل جیسی عالمی کمپنیاں نہیں تو مقامی کمپنیاں ہی اشتہارات دے کر ان کی روزی روٹی کے ذرائع پیدا کریں؟ (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے وڈّوں کے زیرِ سایہ چلنے والی ویب سائٹس کو آج بھی کچھ نہ کچھ اشتہارات مل سکتے ہیں، جس کے لیے اکثر اوقات ان کا نام ہی کافی ہو گا، چونکہ ان ویب سائٹس کوآ گیا چھا گیا کے مصداق آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اس لیے ٹریفک اور وزٹرز کی تعداد، نیز رینکنگ وغیرہ کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں چنانچہ کمپنیاں انہیں اشتہارات مہیا کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گی۔)

اتوار، 27 جنوری، 2013

اردو بلاگ کانفرنس پر پڑھی گئی

عزیزانِ گرامی، عالی قدر بلاگران و سامعین اسلام و علیکم!
سب سے پہلے تو اردو بلاگ فورم اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے  سینئر بلاگر سمجھا۔ ورنہ بقول کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی،  میرے جیسے لوگ اکثر کسی کونے میں پڑے پڑے  سینئر ہو جایا کرتے ہیں۔ جس میں  کمال ان کے کچھ نہ کرنے کا ہوتا ہے۔ میں بھی ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں،  اور پچھلے کئی سال سے ایویں بلاگر ہوں۔ خیر آپ سب احباب کا شکریہ، اور مزید شکریہ کہ آپ مجھے برداشت کر رہے ہیں۔
میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا کہ یہاں تشریف لا کر اردو بلاگنگ پر کچھ ارشاد فرماؤں۔ تو صاحبو کوشش کرتا ہوں کہ کچھ بیان کر سکوں، کوتاہی یا صرفِ نظر ہونے پر، کچھ رہ جانے پر پیشگی معذرت کرتا ہوں۔ میرے لیے اردو بلاگنگ کی تاریخ بیان کرنا تو ممکن نہیں ہو سکے گا، کہ یہ کام برادرم  میم بلال میم بہ احسن اپنے بلاگ پر سر انجام دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچے گا۔ اس مختصر سے وقت میں میری کوشش، یہاں اس محفل میں یہ ہو گی کہ پچھلے سات آٹھ برس میں جو کچھ میں نے دیکھا، محسوس کیا اور جو کچھ مجھے آئندہ ہوتا لگ رہا ہے، وہ بیان کر دوں اور کم سے کم الفاظ میں بیان کر دوں۔
تو آئیں پھر بلاگ سے بات شروع کرتے ہیں۔ بلاگ کی کوئی باضابطہ قسم کی تعریف مہیا نہیں کروں گا۔ بس اتنا  کہ میری سمجھ کے مطابق بلاگ ایک ڈائری ہے، ایسی ڈائری جو آپ آنلائن لکھتے ہیں اور دوسرے اسے پڑھ کر اس پر تبصرہ ، رائے وغیرہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ بلاگ ایک غیر رسمی قسم کی ویب سائٹ ہے، جہاں کوئی کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات تحاریر کی شکل میں بیان کر سکتا ہے۔ اور بلاگ عموماً زمروں اور ماہانہ بنیادوں پر  درجہ بند ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ہر دو اعتبار سے ایک بلاگ پر تحاریر کو پڑھ سکتے ہیں۔
بلاگ کی بات ہو گئی تو اب پاکستانی بلاگز اور اردو بلاگز کی جانب چلتے ہیں۔ انگریزی بلاگز کا ذکر نہیں کروں گا، چونکہ میں اس معاملے میں اناڑی ہوں، بذاتِ خود نہ انگریزی بلاگنگ میں بہت زیادہ ڈبکی لگائی، نہ انگریزی بلاگنگ کے رجحانات سے اتنی زیادہ واقفیت ہے۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ انگریزی بلاگر اور پاکستانی انگریزی بلاگر اردو کی نسبت کچھ آگے ہیں، آج کی محفل ،جو اردو بلاگز کی تاریخ کی پہلی ایسی محفل ہے، ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ اور وہ لوگ بطور پیشہ یہ کام بھی کرتے ہیں۔ تو واپس اردو بلاگز پر آتے ہیں۔  میں ماضی سے شروع کروں گا، کچھ یادیں کچھ باتیں آپ سے شئیر کر کے حال اور پھر مستقبل کی جانب بڑھوں گا۔
مجھے یاد ہے شاید 2005 کے آخری ماہ تھے ، جب میں نے انٹرنیٹ پر اردو محفل سے واقفیت حاصل کی۔ کیسے اس فورم کا پتا چلا، یہ اب یاد نہیں۔ تاہم اس کے بعد مجھے دوسروں کی دیکھا دیکھی بلاگ لکھنے کا شوق چڑھا۔ چند احباب جو کبھی بہت فعال تھے، یا اس وقت بلاگنگ کرتے تھے ان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ زکریا اجمل ہوا کرتے تھے، جو اردو اور انگریزی دونوں میں بلاگ لکھتے تھے۔ پھر ان کا اردو کی طرف رجحان کم ہوتا گیا۔ قدیر احمد رانا، ایک بہت ہی فعال بلاگر ، بہت پیارا انسان  لیکن پھر وہ بھی غمِ روزگار کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس  نے اپنا اردو بلاگ بھی شروع کیا، اور اردو ٹیک نیوز کے نام سے بھی ایک بلاگ چلایا کرتا تھا۔ ایک آدھ بار میں نے بھی اس بلاگ کے لیے کچھ لکھا۔ پھر ایک بدتمیز بھائی ہوا کرتے تھے، آج کل شادی شدہ ہو کر عمران حمید ہو گئے ہیں۔ بہت تیکھا بندہ تھا، ایک عرصے تک میں موصوف سے بات کرنے سے بھی ہچکچاتا تھا، یہی ڈر ہوتا تھا کہ اس کے ہتھے چڑھ گئے تو بہت بری ہونی ہے۔ لیکن بڑی پیاری شخصیت ، سنجیدہ اور متین ، بالمشافہ ملاقات میں  عرفیت کے بالکل متضاد نظر آئے۔ پھر ہمارے راشد کامران ہوا کرتے تھے۔ ہیں تو اب بھی لیکن بہت کم ۔ انہوں نے اردو بلاگنگ کے نام سے اردو بلاگرز کے لیے ایک سروس بھی شروع کی انہیں دنوں میں۔ تب اردو نسخ ایشیا ٹائپ کا دور تھا، تو ان کی سروس کے نئے نئے فونٹ بہت ہی بھلے لگتے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ سروس بند ہو گئی۔ عمران حمید کے حوالے سے اردو ٹیک بلاگنگ سروس کا  تذکرہ بھی ضروری ہے، جہاں اردو بلاگرز نے ایک عرصے تک بلاگز بنائے رکھے۔ لیکن پھر عدم توجہی کی بنیاد پر یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ ایک اور  صاحب ماشاءاللہ آج کل بہت مشہور قسم کے وکیل، جناب شعیب صفدر صاحب مجھ سے سینئر بلاگر، اور ان کے بلاگ کی تھیم مجھے ہمیشہ  بڑا اٹریکٹ کرتی تھی۔ پھر غلام مصطفٰی خاور جاپان والے بھی مجھ سے کئی سال سینئر بلاگر ہیں۔ ایک عرصے تک ان کی تحریر کا فونٹ  ٹائمز نیو رومن یا اس جیسا کوئی فونٹ رہا۔ پچھلے کچھ برسوں سے نستعلیق میں پوسٹ نظر آنے لگی ہے، اور قارئین کو پڑھنے میں کچھ آسانی ہوتی ہے اب۔ پھر ایک بھائی کراچی سے ہوا کرتے تھے، نعمان یعقوب، اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اور دودھ دہی کی دوکان کیا کرتے تھے۔ پھر ساتھ انگریزی بلاگنگ شرو ع کر دی، میرا اور ان کا ایک مشترکہ شوق لینکس تھا۔ آج کل ماشاءاللہ سوشل میڈیا ایکسپرٹ  ہیں، اور سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ماہر بھی ہیں۔ تذکرہ چلا تو افتخار اجمل صاحب جو  بزرگ اور پرانے ترین بلاگرز میں سے ایک ہیں، میرا پاکستان والے افضل صاحب جو ایک عرصہ تک بڑی باقاعدگی سے بلاگ لکھتے رہے۔ اور پھر اردو محفل والے نبیل، جن کے تیار کردہ جاوا اسکرپٹ اردو ایڈیٹر نے انٹرنیٹ پر اردو لکھنا بہت آسان کر دیا۔ (تدوین: جہانزیب اشرف کا نام رہ گیا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ وہ بھی عرصہ دراز تک اردو میں بلاگ لکھتے رہے اور ابتدائی بلاگروں میں شامل تھے، کچھ برسوں سے کم نظر آتے ہیں۔)
احبابِ مکرم!   2004، 5 یا 6  یا 2008تک بھی  اردو بلاگرز دو تین درجن کی تعداد میں تھے، اور ان میں سے بھی بہت کم فعال تھے۔ ابھی نستعلیق کا دور نہیں آیا تھا، اردو نسخ ایشیا ٹائپ بہر حال تاہوما سے بہتر فونٹ تھا، اور یہی طےشدہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ورڈپریس ابھی نیا نیا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار اس کے ورژن 1 اعشاریہ کچھ کا ترجمہ کرنے کی کوشش بھی کی، اور پھر  دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ ترجمہ آگے نہ چل سکا۔ اردو بلاگرز کئی جگہوں پر بلاگز بناتے رہے۔ 2006 میں بلاگسپاٹ پر پابندی لگی تو فری ہوسٹس پر منتقل ہو گئے۔ وہاں سے ڈیٹا ضائع ہوا تو واپس بلاگسپاٹ پر۔ کچھ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کو ٹرائی کیا، اس دوران اردو ٹیک کی بلاگنگ سروس بھی زیرِ استعمال رہی۔  رفتہ رفتہ کچھ احباب نے ذاتی ڈومین خرید لیے۔
اور آج، اگر ہم دیکھیں تو اردو بلاگز کے سب سے پرانے ایگریگیٹر اردو سیارہ پر ڈیڑھ سو بلاگز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں کئی نابغہ روزگار ہستیاں موجود ہیں۔ کرک نامہ کے ابوشامل، آئی ٹی نامہ کے ظہیر چوہان، موبائل پر اردو بلاگ کا آغاز کرنے والا نوجوان، میرا خیال یہ نوجوان ایک اور بلال ہے، جو شاید کراچی سے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ادب پر لکھنے والی شخصیات میں محمد وارث، آہنگِ ادب والے احباب، خرم بشیر بھٹی  جیسی شخصیات موجود ہیں۔  فرحان دانش اپنا بلاگ بھی لکھتے ہیں اور سُوکر نامہ بھی شاید انہی کی ادارت میں چلتا ہے۔ اسی طرح محمد اظہار الحق جو روزنامہ دنیا کے کالم نگار بھی ہیں، اور بلاگ پر بھی مضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔ غرض ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ہے جس میں موضوعاتی بلاگنگ کی کچھ بہت کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں جیسے کرک نامہ، شوگر پر شائع ہونے والا ایک بلاگ، اور منظرنامہ جو ایک بہت اچھی کوشش تھا لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکا۔ طنزو مزاح کے حوالے سے بلو بلا، ڈفر اور جعفر جس کی ہر تحریر کی کاٹ ہی الگ ہوتی ہے۔ پھر بہت سی خواتین بلاگرز موجود ہیں، اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے، عنیقہ ناز جیسی ہستی بھی ہمارے درمیان موجود تھی۔ کچھ احباب بھارت سے بھی بلاگنگ کرتے ہیں حیدرآبادی، شعیب صاحب وغیرہ۔ غرض لمبی فہرست ہے اور جن کا تذکرہ میں نہیں کر سکا ان سے معذرت، یہ میری کوتاہی  اور وقت کی کمی کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
عزیزانِ گرامی حال میں ہمارے پاس نہ اردو لکھنے میں کوئی مسئلہ کہ پاک اردو انسٹالر دستیاب ہے، نہ تھیم کی دستیابی کوئی بہت بڑی وجہ کہ بہت سے تھیم اردو میں پہلے سے تبدیل شدہ موجود ہیں، اور نہ اچھا فونٹ نہ ملنے کا عذر کہ ہمارے پاس نستعلیق کی کم از کم تین اقسام موجود ہیں۔ اور تاج نستعلیق جیسے ہیرے بھی جلد ہی دستیاب ہوں گے۔ آج ہم 2004 یا اس سے قبل کے مقابلے میں بہت آگے آ چکے ہیں۔ ہمارے پاس وہ سہولیات ہیں جن کا صرف ایک وقت میں خواب دیکھا جا سکتا تھا۔ مثلاً ویب پر رینڈرنگ کے قابل ایک نستعلیق فونٹ، یہاں وضاحت کرنا چلوں کہ نستعلیق فونٹ ڈسپلے ہونے میں زیادہ پروسیسنگ مانگتا ہے، یا پھر ان پیج کی طرح ترسیمہ جاتی فونٹ ہو جیسا کہ جمیل نستعلیق اور فیض لاہوری نستعلیق جیسے فونٹ موجود ہیں۔
تو صاحب ہمارے پاس آج بڑے پیارے پیارے لوگ موجود ہیں، بڑی نابغہ روزگار ہستیاں ہیں۔ آج اردو بلاگنگ اپنے پنگھوڑا دور سے باہر آ چکی ہے۔ لیکن آج بھی ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ میں بہت زیادہ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔ بس سرسری تذکرہ کرکے اس گفتگو کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پہلا مسئلہ تو مستقل مزاجی کا ہے۔ منظر نامہ کی مثال دی گئی، قدیر احمد رانا اور عمران حمید جیسے بلاگر، جو کچھ عرصے بعد بلاگنگ کو خیرباد کہہ گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بنیاد رکھی تھی، لیکن  پھر ہمارا اور ان کا ساتھ چھوٹ گیا۔ مستقل مزاجی سے جڑی ایک چیز ہے پیشہ ورانہ پن، جو اردو بلاگنگ میں ابھی موجود نہیں۔ صرف کرک نامہ جیسی جہادی قسم کی مثالیں موجود ہیں، تاہم ابوشامل جیسی ڈٹرمینیشن  ہر کسی کے پاس نہیں ۔ مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ پن اس وقت آتا ہے جب کسی کام کے ساتھ روزی روٹی لگ جائے۔ اور اردو بلاگنگ میں ابھی یہ بہت دور کی کوڑی لگتی ہے۔ شاید کئی سال اور، چونکہ اردو بلاگز کو اشتہار نہیں ملتے، جو آج کل کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اس لیے بلاگرز اتنے فعال نہیں رہتے یا پھر ویسے ہی غمِ روزگار پر بلاگنگ کو قربان کر دیتے ہیں۔
کمیونٹی کے حوالے سے دیکھیں تو ہمیں فعال نظر آنے کے لیے ایسے اکٹھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ اردو بلاگ فورم معرضِ وجود میں آیا اور دعا ہے کہ یہ کانفرنس ایک لمبے سلسلے کا پہلا قدم ہو، اور ہر برس بلکہ ہر چند ماہ بعد ہر بڑے شہر میں ایسے اکٹھ ہوں۔ جہاں ہم مل بیٹھ کر نہ صرف پیشہ ورانہ مسائل پر گفتگو کریں، بلکہ ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کریں۔
ایک اور اہم  چیز روایتی میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے رابطے کا فقدان ہے۔ اگرچہ بی بی سی اردو، جنگ، ڈان اردو وغیرہ وغیرہ پر اردو بلاگ نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ بطور کمیونٹی ہمارا تعلق ابھی دوری والا ہے۔ میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی کوشش نہیں کی کہ اپنی کوئی تحریر کسی بڑے ادارے مثلاً ڈان اردو کو ہی بھیج دوں کہ وہ اپنے بلاگنگ سیکشن میں شائع کر دیں۔ ہمیں رابطے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم، یعنی عام عوام میں سے کچھ لوگوں کی بات زیادہ بڑے پیمانے پر سنائی دے تو ایسے رابطے بڑھانے ہوں گے۔
کاپی رائٹ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کے کاپی رائٹس کا خیال رکھنا ہو گا، بلکہ اپنی تحاریر کی چوری پر بھی چپ رہنے کی بجائے مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے اس کا سدِباب کرنا ہو گا۔ کرک نامہ کی کچھ تحاریر کچھ ماہ قبل ایک کرکٹ میگزین نے بلا اجازت اور اپنے نام سے چھاپ دیں، لیکن ہمارے پاس  کاروائی کا کوئی ذریعہ ہی نہ تھا، چناچہ ایک دو پوسٹس، اور فیس بک پر دو چار شئیرنگ کے بعد چپ ہو کر بیٹھ گئے۔
آخر میں گروپ بلاگنگ اور موضوعاتی بلاگنگ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ گروپ بلاگنگ جس کی ایک اچھی مثال منظرنامہ تھا، ایک اچھا قدم ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا بلاگ جہاں پر اردو بلاگرز کی بہترین تحاریر کو جگہ ملے۔ یا حالاتِ حاضرہ پر کوئی ایسا بلاگ  بھی بن سکتا ہے۔ اور موضوعاتی بلاگنگ، کرک نامہ کی ٹیم کو سلام ہے کہ مفتو مفت کام کیے جا رہے ہیں۔ آئی ٹی نامہ، سوکر نامہ، پاک موبائل وغیرہ کچھ چراغ روشن تو ہیں لیکن انہیں چراغاں میں بدلنا ہو گا۔ اور اس کے لیے جہاں ذاتی کوشش چاہیے، وہاں اجتماعی کوشش بھی چاہیے۔ بطور کمیونٹی اگر ہم فعال ہوئے تو میڈیا اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو احساس ہو گا کہ  یہ لوگ بھی ریڈرشپ رکھتے ہیں۔ اور شاید اس طرح  ٹیلنٹڈ بلاگرز کے لیے مالی مشکلات کا بھی کچھ مداوا ہو سکے۔
بلاگرانِ عالی قدر، آپ کی سمع خراشی  کی ،ا تنا سارا وقت لیا۔ اس زحمت کو برداشت کرنے کا شکریہ۔ اردو بلاگ فورم کا پھر سے شکریہ جنہوں نے  یہ اکٹھ ممکن بنایا،  دعا ہے کہ اللہ کریم اس میں ہمارے لیے بہتری  پیدا فرما دے۔
وما علینا الالبلاغ

بدھ، 24 اکتوبر، 2012

یادیں

جانے والے چلے جاتے ہیں اور یادیں رہ جاتی ہیں۔ ابھی ہنستا کھیلتا لڑتا جھگڑتا آتا جاتا وجود، ابھی وہی وجود بے جان ہو کر سامنے پڑ اہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا استاد ہے۔ پر موت بھی بہت بڑ ا استاد ہے جی۔ ایسے ایسے سبق پڑھا جاتی ہے کہ ساری عمر نہیں بھولتے۔ پیچھے پچھتاوے، سوچیں اور رونے رہ جاتے ہیں۔ جب کوئی اپنا آنکھوں کے سامنے جان دے دے، ہاتھوں میں سانس کی ڈور منقطع کر ڈالے، جب زندگی بھرا وجود پل بھر میں کھگھا بن جائے۔ تب کی وہی جانتاہے جس پر یہ بیتتی ہے۔ باقر فوت ہو گیا، کئی احباب نے فون کیے، کئی نے میسج، فیس بک، ای میل، ذاتی ملاقات میں تعزیت کی۔ سب کی بڑی مہربانی، انہوں نے یاد رکھا۔ اللہ اس بچے کی مغفرت کرے۔ اس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ وہ کتنا اجنبی تھا۔ ایک گھر میں اٹھارہ سال ساتھ رہنے کے بعد، اچانک چلا گیا۔ اس کے جانے پر کونسی آنکھ ہے جو اشک بار نہیں تھی۔ عجیب بات ہے کہ میرے سامنے اس کی ڈیڈ باڈی پڑی تھی اور میں ہاتھ میں موبائل پکڑے کبھی کسی کو فون کروں کبھی کسی کو۔ خالہ کو بتایا، فلاں کو بتایا۔ ہر کسی نے رو لیا لیکن میں نہ رو سکا۔ بے حسی تھی، صبر تھا یا میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں مرتے نہیں دیکھا۔ میرے اندر اب بھی بس کبھی ابال سا اٹھ جاتا ہے لیکن اب تک میری آنکھوں سے آنسو نہیں گر سکے۔ دل کرتا ہے کہ کچھ لکھوں۔ لیکن کیا لکھوں۔ اس کے جانے پر اب کیا لکھوں۔ اب بھی یہ چند سطریں اس لیے گھسیٹ رہا ہوں کہ کراچی سے اردو بلاگر انیقہ ناز کی وفات کی خبر آ گئی۔ ان کے برادرِ نسبتی کے فیس بک اسٹیٹس سے ایکسیڈنٹ کے ذریعے موت کا پتا چلا۔ پیر کو وہ انتقال کر گئیں۔

اردو بلاگنگ میں ان لوگوں میں سے تھیں جن کا میں دلی احترام کرتا تھا۔ سارے بلاگر قابل احترام ہیں، لیکن کچھ لوگوں کا باقاعدہ قاری تھا۔ ان بلاگ بھی ان میں سے ایک تھا۔ اب اردو بلاگنگ میں ننھی پری کی چھوٹی چھوٹی باتیں کوئی نہیں لکھے گا۔ مختلف اور ترقی پسند (یا سیکولر قسم) کی تحاریر کوئی نہیں لکھے گا۔ متبادل نقطہ نظر، اور جسے پڑھ کر اکثر بلاگروں کو آگ لگ جاتی تھی، اس کا ایک ذریعہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ موت بہت بڑا دکھ ہے جی، پر جوان موت اس سے بھی بڑا دکھ۔ اگلوں پچھلوں کو توڑ کر مٹی کر دیتی ہے۔ جس کے سامنے کوئی اپنا بھری جوانی میں رخصت ہوا ہو یہ اسی کو پتا ہوتا ہے کہ جوان موت کا غم کیا ہوتا ہے۔ بیٹا، بھائی، باپ، ماں، بہن ان میں سے کوئی بھری جوانی میں چلا جائے تو پیچھے رہ جانے والے ساری عمر اس کے شاک سے نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کی بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ مرحومہ کے والدین اور خاوند کو حوصلہ اور صبر جمیل عطا کرے۔ پتا نہیں ان کی بچی ٹھیک ہے یا نہیں، اللہ اس کو دنیا کی تتی ہواؤں سے بچائے۔
 بہت بڑا غم ہے۔۔۔
 انا للہ و انا الیہ راجعون

اتوار، 1 جنوری، 2012

سالنامہ

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی "ان سوشل نیس"، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری "کھچ"۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔

اتوار، 10 جولائی، 2011

کراچی

کراچی پر کیا لکھوں۔ ایک عرصے سے بلاگنگ کی دنیا میں رہ کر، اور جب سے کراچی سے نعمان کے بعد بلاگرز اور تبصرہ نگاروں کی دوسری کھیپ لانچ ہوئی ہے تب سے اگر کراچی کے حالات کے بارے میں کچھ لکھا تو طعنے سننے پڑے۔ ایک بڑے سقہ قسم کے تبصرہ نگار نے فورًا پنجابی ہونے کے طعنے دینے شروع کردئیے، پنجاب میں ایسا ہو تو کوئی بولتا نہیں کراچی میں ہوگیا تو آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بات اس وقت ہورہی تھی ایک پل گرنے کی جو تعمیر کے دوران یا چند ہفتوں بعد ہی گر گیا تھا اور مجھے اس کے نیچے کھڑے ٹھیلے والوں کی موت پر بڑا افسوس ہوا تھا، کہ ایک بے ایمان کی وجہ سے غریبوں کی جان گئی، لیکن ان صاحب نے میرے لتے لینے شروع کردئیے۔
یہ ساری بات کرنے کا مقصد کسی کی گوشمالی، شکایت یا اختلافات کو ہوا دینا نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ ایسے موضوعات پر میں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ سیاست کے اتار چڑھاؤ پر کبھی کبھار کچھ لکھتا ہوں، دہشت گردی پر اس وقت لکھا جب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور تب چند ہفتے پہلے والی پوسٹ وجود میں آئی جس پر سب کو اعتراض تھا کہ فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، خیر اپنی اپنی سوچ، کراچی اور بلوچستان کے حالات پر بھی کچھ نہیں لکھتا، کیا لکھوں ہزاروں میل دور بیٹھ کر بندہ کیا لکھ سکتا ہے۔ جو حجاب شب، یا شعیب صفدر، ابن ضیاء یا ابوشامل لکھ سکتے ہیں وہ میں کہاں لکھ سکتا ہوں۔ میں تو ان ظالموں کے مرنے کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ دعا نہیں بدعا کہ خدا انھیں غارت کرے جنہوں نے کراچی کا سکون برباد کردیا، ان سیاہ ستدانوں اور ان بےغیرت حکمرانوں بھی غارت کرے جنہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے، ان جماعتوں اور ان کے لیڈروں کے بال بچے اس میں مریں تو انھی احساس ہو کہ بےگناہوں پر ظلم کرنے سے کیا بیتتی ہے۔ کیا کہوں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے بس غم بھری ایک چپ ہے،ان قانون کے رکھوالوں کی بےغیرتی پر جو مدد کے لے کال کرنے پر بھی یہ کہتے ہیں کہ اوپر سے حکم نہیں، ان حکمرانوں کی بےغیرتی پر جو لاشیں گرنے سے پہلے حالات کا ادراک نہیں کرسکتے، ہمیشہ سینچری پوری ہونے پر "نوٹس" لیتے ہیں۔ خدا انھیں ذلیل و خوار، مغضوب و مقہور کرے جو بےگناہوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ اب تو دعائیں بھی بے اثر ہوگئی ہیں، گناہوں سے لتھڑے دلوں سے نکلی دعائیں اوپر جاتی ہی نہیں، یہیں ڈولتی رہ جاتی ہیں۔ دعائیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 1 جنوری، 2011

مدیر گلوبل سائنس علیم احمد کے ساتھ کچھ تبادلہ خیال

گلوبل سائنس سے ہمارا رشتہ کوئی 9 سال پرانا ہے۔ 2001 میں پہلی بار گلوبل سائنس لے کر پڑھا تھا اور اب 2011 آگیا ہے۔ اس میں کئی بار لکھنے کا موقع بھی ملا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ برادرم علیم احمد نے مجھے کل خصوصی طور پر ای میل کی جس میں میرے پچھلے مضمون، جو اومیگا ٹی اوپن سورس ٹرانسلیشن ٹول پر لکھا گیا تھا، کی تعریف کی گئی تھی اور مزید ٹیوٹوریلز باقاعدگی سے لکھنے پر بھی اصرار شامل تھا۔ علیم بھائی کے کہنے پر ہی اس ساری خط و کتابت کو اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں، چونکہ انھیں کمپیوٹر کے موضوعات پر لکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ اردو بلاگنگ کمیونٹی سے اس سلسلے میں ہغور کی اپیل ہے۔ گلوبل سائنس جیسے پرچے میں لکھنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں ہے۔
Brother Shakir Aziz,
Assalaam U Alaikum,
I feel pleased to inform you that we have decided to celebrate 2011 as the year of revival and reinvention for monthly Global Science. As a matter of fact, it's a huge task to accomplish; and we can't do it alone. Therefore, I seek your cooperation on regular basis; and request you to write IT-related features/ tutorials for Global Science - that is, every month. You may also know that - during the last four or five years - tutorials like PHP, MySQL and others were left incompleted. I'd like to re-begin these tutorials, to complete before the end of 2011. Besides, Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani personally appreciated your article on OmegaT (translation memory software). On similar track, I'll appreciate if you write about more Urdu-language, Open Source, and free utilities available on the net; and how our readers can make better use of them.
Whatever your response may be, I'll appreciate an earliest possible reply from you.
Wassalaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
اسلام و علیکم
آپ کی ای میل کا شکریہ
ماشاءاللہ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ گلوبل سائنس نئے جذبے سے 2011 میں داخل ہورہا ہے۔ ٹیوٹوریل کی فراہمی کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے صارفین کو بھی اس سے آگاہی حاصل ہو۔ کمپیوٹنگ ایسا رسالہ تھا جس میں میں نے، اور محمد علی مکی نے باقاعدگی سے لکھا۔ اس کی وجوہات میں ایک تو اس کا مکمل طور پر کمپیوٹر کے موضوعات پر مبنی ہونا تھا، دوسرے اس وقت اتنی مصروفیت نہیں تھی، تیسری وجہ ہمارا امانت علی گوہر اور دوسرے مدیران وغیرہ سے آنلائن واقفیت اور اکثر گفتگو و چیٹ تھی۔ ایک اور وجہ ظاہر ہے ان کی طرف سے ادا کیا جانے والا معمولی سا مشاہرہ بھی تھا۔ گلوبل سائنس کے سلسلے میں کئی بار تو یہ دل کیا کہ آپ کے اعزازی مدیر والے پلان میں حصہ لوں تاہم مصروفیت اور گلوبل سائنس کے مزاج کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا۔ چونکہ یہاں سب کچھ ٹیوٹوریلز ہی نہیں ہوسکتے، یہ ایک عمومی سائنسی جریدہ ہے۔ تاہم میری کوشش ہوگی کہ اپنے محدود علم کے مطابق وقتًا فوقتًا آپ کو ٹیوٹوریلز ارسال کرتا رہوں۔ پروگرامنگ کے ٹیوٹوریلز کے بارے میں عرض یہ ہے کہ میرا علم اس سلسلے میں خاصا محدود ہے، سی شارپ کبھی سیکھی تھی کارپس لنگوئسٹکس اور ٹیکسٹ پروسیسنگ کے لیے، یہ سیلف سٹڈی نالج ہی ہے میرے پاس، اس کے علاوہ کسی اور پروگرامنگ زبان سے نابلد ہوں۔ چناچہ اس سلسلے میں پرانے ٹیوٹوریلز کو آگے لے کر نہیں چل سکوں گا۔ لینکس وغیرہ پر ٹیوٹوریلز کے لیے میں محمد علی مکی کا نام تجویز کروں گا۔ اردو لینکس کے سلسلے میں ان کا بہت کام ہے اور آپ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ دوسرے میری یہ گزارش ہوگی کہ اردو بلاگز اور اردو فورمز خصوصًا اردو ویب محفل، پر ضرور تشریف آوری رکھیں۔ آپ جو مسائل گلوبل سائنس کے ادارے میں اٹھاتے ہیں وہی مسائل آپ ان فورمز پر اٹھا کر زیادہ بہتر رسپانس حاصل کرسکتے ہیں۔ میری مراد ادارے کے مالی مسائل، اور نئے لکھاریوں کی فراہمی وغیرہ سے ہے۔ اردو انٹرنیٹ کمیونٹی بہت فعال ہوچکی ہے اور اب بھی اس سے دور رہنا گلوبل سائنس کے مستقبل کے لیے اچھی چیز نہیں ہوگی۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہنرمند موجود ہے، امید ہے آپ کی کمپیوٹر سے متعلق لکھاریوں کی کمی یہاں سے پوری ہوسکتی ہے۔ نیز آپ کو اردو سے متعلق بہت سی خبریں بھی ان ویب سائٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
اور آخر میں آپ کو نیا سال مبارک۔ ای میل اردو میں لکھی ہے چونکہ اردو ہی ہمارا مقصد ہے ۔
نیک خواہشات کے ساتھ
وسلام
Shakir Mian,
Assalaam U Alaikum,

sub say pehlay to mu'azrat chahoonga keh main yeh jawab Roman Urdu main likh raha hoon. Dar-asl meray computer main Urdu support bohet achchhi naheen, jebkeh mujhay Muqtadira kay puranay (1990 kay zamanay walay) keyboard per kaam kernay kee adat hay, aur koshish kay bawajood main phonetic keyboard per apna haath rawaan naheen kersaka.

Global Science kay baaray main aap ka farmana bilkul baja hay keh yeh science ka umoomi jareeda hay, jiss main computer or information technology kay mazameen "bhee" shamil hotay hain - y'ani hum poora shumara computer or IT kay leay makhtes naheen kersaktay. Yeh hamari aik idarti majboori hay. Computing kay zareay Amanat Ali Gauher nay koshish to bohet achchhi kee thee, (.....)

Main yeh da'wa bhee naheen karoonga keh agar aap logon main say koi Global Science kay leay likhay ga to hum usay m'uawza day sakaingay; taahem, itna yaqeen zuroor dila sakta hoon keh Global Science kay zareay aap ke awaz, Pakistan bher main phailay huay, unn logon tek zuroor ponhchay gee jo computer ka shauq rakhtay hain aur isay sanjeedgi say seekhna chaahtay hain.

Global Science kay saath t'aawun kay leay main chahoon ga keh agar aap meri saabiqah email aur apna jawab apni website per deegar ahbaab kay mulahizay kay leay rakh dain to shayed koi naya likhnay wala is jaanib mutawajjuh hosakay. Aap say email per raabta rahay gaa, aur, aanay waalay dino main, In-sha-Allah, hum koi aisa raasta zuroor nikaal laingay jiss say aap kay idaray/ website ka bhee fayeda ho aur humain bhee apna kaam behter taur per anjaam dainay ka mauqa milay.

Wasslaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
وعلیکم سلام بھائی جی
آپ نے بڑی نستعلیق اردو فرنگیوں کے رسم الخط میں لکھی۔ بے تکلفی اور مخصوص فیصل آباد سٹائل میں آنے پر معذرت نہیں چاہوں گا۔ آپ کی پہلی انگریزی ای میل کی وجہ سے فارمیلٹی سی بن گئی تھی ورنہ گلوبل سائنس تو گھر والی بات ہے۔ :-)
اب بات کیے لیتے ہیں کمپیوٹنگ کی۔ آپ کے نکتہ نظر کا احترام کروں گا تاہم اس سلسلے میں میری رائے محفوظ ہے۔ کمپیوٹنگ اچھی کوشش تھی جو اگر جاری رہتی تو اردو والوں کا بہت فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان لوگوں کا اپنے لکھاریوں سے بہت قریبی رابطہ تھا۔ اور اس چیز کی گلوبل سائنس کی انتظامیہ میں کمی ہے۔ اب آپ یہ دیکھ لیں کہ آپ کے علم میں یہ نہیں ہے کہ مقتدرہ کا کی بورڈ ونڈوز کے لیے بن چکا ہے۔ اور یہ اردو محفل پر ہی موجود تھا۔ ملاحظہ کریں۔ میں پھر گزارش کروں گا کہ گلوبل سائنس کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ اردو کمیونٹی کے بارے میں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے قارئین سے قریبی تعلق رکھنے کے لیے فیس بُک خصوصًا اردو فورمز پر تشریف آوری رکھنے کی ضرورت ہے، آپ کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جن سے ادارے کا نہ صرف بھلا ہوسکتا ہے بلکہ آپ کی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بارے میں اپروچ بھی بدلے گی۔ نیٹ نامہ وغیرہ کے سلسلے میں مجھے سخت اعتراض ہے کہ اس میں اردو کی ایک بھی ویب سائٹ کا کبھی تعارف شامل نہیں کیا گیا، جبکہ یہاں اردو فونٹس، اردو فورمز اور اردو سافٹویرز کے ڈھیر موجود ہیں۔ آپ کا قاری انٹرنیٹ سے کھیلتا ہے پاء جی اب، اسے ٹربل شوٹنگ، ونڈوز ٹپس وغیرہ جیسی چیزیں دکھا کر مطمئن کرنا میرے ذاتی خیال سے اب اتنا آسان نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے ہاؤ ٹو کے تو ڈھیر لگے ہوئے ہیں، ونڈوز کی ٹربل شوٹنگ جتنی کہیں اتنی، انگریزی سے ترجمہ کرکے چھاپ دینا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔۔ اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ محمد علی مکی اور اس جیسے دوسرے لکھاریوں سے رابطے میں رہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس آپ کو دے چکا ہوں۔ اردو بلاگرز ہی آپ کے لیے اتنا کچھ لکھ سکتے ہیں کہ آپ کو اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
اور آخر میں یہ کہ معاوضہ ہر کسی کو اچھا لگتا ہے، تاہم گلوبل سائنس کے معیار کے پرچے میں لکھنا بھی بڑی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو کمپیوٹر پر لکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی ٹیم مل جائے گی۔ یہ ای میل، اور آپ کے جوابات میں اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں۔ جس کا ربط آپ کو بھیج دوں گا تاکہ آپ بھی تازہ ترین تبصروں اور اپڈیٹس سے آگاہ رہیں۔
وسلام

منگل، 7 ستمبر، 2010

اردو بلاگز کا ڈیٹا درکار ہے

میں اردو بلاگز کے ڈیٹا پر مشتمل ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا چاہ رہا ہوں۔ یہ ٹیکسٹ آرکائیو کئی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے جیسے اردو کے الفاظ کی فہرست بنانا، لغات کی تیاری وغیرہ۔ اگرچہ اردو بلاگز کا ڈیٹا ٹیکسٹ آرکائیو کا ایک جزو ہوگا، لیکن یہ بہت اہم چیز ہے۔ میری احباب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پبلک پوسٹس کی ایکس ایم ایل فائل مجھے ای میل کریں۔
ورڈپریس پر ایکس ایم ایل میں ایکسپورٹ کرنے کا طریقہ کار۔
بلاگر ایکس ایم ایل ایکسپورٹ
یہ ڈیٹا کسی بھی قسم کے کمرشل، یا ذاتی کام کے لیے استعمال میں نہیں لایا جائے گا سوائے تحقیقی مقاصد کے۔ اور آپ کے بلاگ کا ربط  آپ کی ہر پوسٹ کے ساتھ شامل ہوگا۔
امید کرتا ہوں احباب میری درخواست پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ میں خود ہر بلاگ پر جاؤں اور ایک ایک پوسٹ کھول کر کاپی پیسٹ کروں جس میں بہت وقت لگنے کا امکان ہے، اور اجازت کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔
ای میل اس ایڈریس پر کریں۔
true.friend2004 at gmail.com
مثبت جواب کا منتظر۔

ہفتہ، 17 جولائی، 2010

کچھ یادیں

حالات کچھ عجیب سے ہیں لوگ لکھنے کی بجائے کچھ اور ہی کررہے ہیں۔ تو میں نے سوچا چلو کچھ لکھا جائے ورنہ عام حالات میں مَیں ایک خاموش اور ممکنہ بلاگر ہوں جو کسی بھی وقت اٹھ کر کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن یہ لکھنا بعض اوقات مہینوں کے وقفے کے بعد معرض وجود میں آتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں تھا لیکن میں نے سوچا چلو کچھ یادیں شئیر کروں۔ اپنی بلاگنگ کی ہسٹری بتاؤں۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ  تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا  کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی  ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ  بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔ 

بدھ، 14 جولائی، 2010

آخر لکھنا ہی پڑا

میں پچھلے ایک ماہ سے چلنے والی بکواسیات سے دامن بچا کر گزر رہا تھا لیکن آج معاملے کی انتہا سی ہوگئی ہے۔ ایک خاتون بلاگنگ چھوڑ کر جارہی ہیں اور اردو کے ایک بابے بلاگر نے بھی ان کے حق میں پوسٹ لکھ ماری ہے۔ تو میرا بھی فرض بنتا ہے کہ بابا جی کی پیروی میں ایک پوسٹ لکھوں جس میں اس کی مذمت کی گئی ہو۔ رب جانے یہ بکواس کہاں سے شروع ہوئی تھی، لیکن سادہ الفاظ میں ایسی کسی بھی بکواس کی مذمت کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا بھی پسند نہیں کرتا۔ میری نظر میں اس سارے ڈرامے کی اتنی اوقات ہے۔ اب جبکہ اس ڈرامے کا اینڈ ہونے جارہا ہے تو کچھ "ہمدردوں" نے، جیسا کہ پاکستانی معاشرے کی خاصیت ہے کہ خاتون کے بھائی ہر طرف سے نکل آتے ہیں اور جوق در جوق نکل آتے ہیں، ہمدردی کرتے ہوئے پھر اپنی زبان پلید کرنی شروع کردی ہے۔ پھر کمینہ وغیرہ وغیرہ قسم کی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں اور پھر لوگوں کے لیے تفریح کا سامان پیدا ہورہا ہے۔ لوگ آتے ہیں پڑھتے ہیں، اچھا یہ بات تھی، لطف لیتے ہیں، ایک تیلی اور پھینکتے ہیں اور نکل لیتے ہیں۔ ڈرامے کے اینڈ پر ایک اور ڈرامہ لگ گیا ہے۔ کس قسم کی اجتماعی فطرت ہے ہماری اور کتنی گندی فطرت ہے یہ۔
اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ نہیں ہوگا، معذرت کے ساتھ میں اپنے بلاگ پر ایک اور ڈرامہ نہیں لگانا چاہتا۔

جمعہ، 21 اگست، 2009

کچن کچن

  • کچن میں جارہے ہیں تو جانے سے پہلے اپنی آستینیں ٹانگ لیں۔ شلوار یا پتلون کو اونچا کرلیں اور دایاں پیر بسم اللہ پڑھ کر اندر رکھیں۔ 
  • سب سے پہلے برتنوں کی طرف دیکھیں آپ کو کئی قسم کے برتن نظر آئیں گے جیسے پتیلا، کُجا، ساس پین، فرائی پین، کولا، گلاس وغیرہ۔ اپنی پسند کے کوئی سے تین برتن منتخب کرلیں اور اس کے ساتھ ایک برتن ہماری پسند کا بھی منتخب کرلیں یعنی ایک عدد پتیلی۔
  • اس کے بعد کھانے کی چیزوں کی طرف آئیں۔ مصالحوں میں سے حسب ضرورت و حسب پسند جو بھی پسند ہو نکال کر سامنے رکھ لیں۔ اگر سمجھ نہ آرہی ہو کہ کونسا مصالحہ ہے تو سونگھ کر دیکھ لیں۔ جیسے مرچوں کی نشانی یہ ہے کہ سونگھنے سے آپ کو شدید قسم کا کھانسی کا دورہ پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اجزائے خوردونوش میں سے پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن اور ایسے جو بھی نام ذہن میں آئیں ایک ایک کلو منگوا کر اپنے سامنے رکھ لیں۔ شاپرز سے نکالیں مت ورنہ دیکھنے والے یہ سمجھیں گے کہ آپ ختم شریف دینے جارہے ہیں۔ اچھا صاحب آپ نے اپنی مرضی کرلی ہماری مرضی بھی کردیکھیے تھوڑی سی، آدھا کلو آلو لیجیے اور ان کو ایک لیٹر پانی میں ڈال کر اور دونوں کو پتیلی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔
  • اب چونکہ آنچ ہلکی ہے اس لیے تسلی سے بیٹھیں، لہسن چھیل لیں، پیاز کاٹ لیں۔ ننھے کا سویٹر بن لیں یا گُلو کو پڑھا لیں۔ امید ہے دو گھنٹوں کے اندر آلو اُبل جائیں گے۔
  • آلو ابل جائیں تو ان کو نکال لیں۔ ٹھنڈا کرلیں۔ فرج میں رکھیں یا ٹھنڈے پانی میں یہ آپ کی مرضی۔ اس کے بعد ان کو چھیل لیں۔ چھیل کر کاٹ لیں۔ کاٹیں ایسے جیسے گلاب کا پھول کٹتا ہے۔ چونکہ ہم آپ کو یہاں سکھا نہیں سکتے اس لیے کوکب کا دسترخوان جیسی کوئی کتاب لے کر اس میں سے سلاد کاٹنے والے حصے سے کوئی اچھا سا ڈیزائن منتخب کرلیں۔ اچھا تو اسے کاٹ لیا؟ اب آپ نے مصالحوں میں سے نمک پسند کرنا ہے۔ اسے ایک کولی میں نکالیں اور آلو پر نمک لگا کر مزے لے لے کر کھائیں۔
امید ہے آپ کو آج کی ترکیب پسند آئی ہوگی۔ اگر نہیں آئی تو کوکب کا دسترخوان تو آپ لا ہی چکے ہیں اس پر سے کچھ بھی پسند کرکے پکا لیں اور ہمیں دعائیں دیں۔

اردو بلاگنگ

فدوی اس میدان کا پرانا کھلاڑی ہے۔ سمجھ لیں کہ آثار قدیمہ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اردو بلاگنگ کے بابے نبیل، دانیال، زکریا ، قدیر احمد، نعمان وغیرہ کو دیکھ کر بلاگنگ کا خیال آیا اور غالبًا 2006 کے شروع یا 05 کے آخر میں بلاگ بنا لیا تھا۔ پہلے بلاگر پر رہا پھر ایک فری ہوسٹ پر منتقل کیا پھر اردو کوڈر پر رہا اور اب پھر بلاگر پر واپس ہے۔ اس دوران نام بھی بدلا کام بھی بدلا کبھی لکھنا چھوڑا کبھی بہت زیادہ لکھا قصہ مختصر یہ کہ ایک ٹُٹا پجا سا بلاگر ہوں اور اردو کا بلاگر ہوں۔ شروع میں بلاگ پر لکھنے کے لیے گھنٹوں سوچا کرتا اور بہترین لکھنے کی کوشش کرتا پھر احساس ہوا یہ تو آنلائن ڈائری ہے جو مرضی لکھو بلکہ بکواس کرو اور بھول جاؤ۔ چناچہ اب اگرچہ بکواس نہیں کرتا تو زبان سے پھول بھی نہیں جھڑتے۔
ایک وقت تھا جب ٹیکنالوجی پر لکھا، ورڈپریس پر لکھا، لینکس پر لکھا لیکن اب وقت ہی نہیں ہے ورنہ دل تو بہت کرتا ہے کہ بہت کچھ لکھا جائے۔ اب تو بہت رونق شونق ہوگئی ہے اور اردو بلاگنگ کی بیٹھک بہت بڑی ہوتی جارہی ہے۔ لسانیات کا طالب علم ہوں اور اردو کا بولنے والا ہونے کے ناطے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ زبان کا خیال رکھیں۔ اردو کے سپیل چیکر دستیاب نہیں ،ہیں بھی تو ڈیفالٹ تنصیب میں نہیں ملتے ،مل بھی جائین تو ہم انسٹال نہیں کرتے ،کر بھی لیں تو انگریزی سے اردو میں ہر بار سوئچ کرنا مسئلہ لگتا ہے۔ کئی سارے مسائل ہیں لیکن اگر ان مسائل کو تھوڑی سی توجہ سے حل کیا جاسکتا ہے۔انگریزی استعمال کرتے ہوئے ہم سیپلنگ کا بہت خیال کرتے ہیں اردو لکھتے ہوئے بھی ہجوں اور املاء کا خیال کرلیا کریں۔ لوگ ذ کو ز لکھ جاتے ہیں ح کو ہ لکھ جاتے ہیں اچھے خاصے لفظ کو بچوں کی طرح ص کی بجائے س سے لکھ جاتےہیں۔ یہ جو کچھ ہم لکھتے ہیں یہ تاریخ ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کا ورثہ۔ اگر ہم نے اردو کی معیار بندی نہ کی تو بہت نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ خدارا اپنی زبان کو بچائیں۔ اب تو بار بار ایک بلاگ پر ہی املاء کی غلطیاں نکالنے کے لیے تبصرہ کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ احباب ناراض نہ ہوجائیں۔ بس شرم آتی ہے۔ بخدا دو تین املاء کی غلطیاں دیکھ لوں تو اکتا کر پوسٹ کو ایسے ہی چھوڑ دیتا ہوں پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ آپ احباب سے یہ التماس ہے کہ خدارا تحریر کو ایک بار لکھ کر پڑھ لیا کریں۔ اس کی نوک پلک سنوار لیا کریں کم از کم املاء کی غلطیاں تو ٹھیک کرلیا کریں۔ کسی بھی زبان کا رسم الخط اور اس کا صوتی یعنی فونیٹک سسٹم اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو بچا لیا جائے تو زبان کبھی نہیں مرتی۔ اپنی زبان کو مرنے نہ دیں۔
وسلام

اتوار، 16 اگست، 2009

میرا بچپن

سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔

پیر، 29 جون، 2009

گلوبل سائنس کی ویب سائٹ

جون 2009 کے گلوبل سائنس سے پتا چلا کہ اس کی ویب سائٹ کا اجرا کیا جاچکا ہے۔ حسب توقع ویب سائٹ بڑی تعارفی قسم کی ہے جس میں حتی الامکان ہر چیز کا خلاصہ ہی دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ ابھی تک زیر تعمیر ہے اور اس میں کئی سیکشن موجود ہی نہیں جیسے پچھلے شمارے۔ لیکن اس سب کے علاوہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ 2005 والا ویب سائٹ بنانے کا سٹائل ہے یعنی ان پیج سے گیف میں برآمد کرکے ویب پر لگا دو۔ ساری ویب سائٹ تصاویر پر مشتمل ہے۔ ایک چیز جو تصویر میں نہیں تھی وہ رابطے کی معلومات تھیں اور وہ بھی اردو نہیں انگریزی میں تھیں۔ پاکستان کا واحد بندے کا پتر قسم کا رسالہ اور اس کی ویب سائٹ بھی تصویری؟
ہم سے زیادہ باعلم بندے، انٹرنیٹ سے 24 گھنٹے کنکٹ رہنے والے لوگ بھی ایسے کریں تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ گلوبل سائنس کے بارے میں مجھے کچھ شبہات سے ہیں کہ ان احباب کو انٹرنیٹ پر کرلپ کی سائٹ کے علاوہ شاید کہیں اردو نظر ہی نہیں آتی۔ پچھلے چار سال میں اردو چیختی چنگھاڑتی پھرتی ہے نیٹ پر لیکن آج تک ان کے کسی بھی شمارے میں اردو کی کسی بھی ویب سائٹ کا تعارف نہیں دیکھ سکا ہوں۔ نہ ہی کبھی اردو بلاگز کا تذکرہ پڑھا اور نہ ہی فورمز کا۔ انھیں تو شاید یہ بھی نہیں پتا کہ اردو یونیکوڈ میں نستعلیق فونٹ بھی دستیاب ہے اب۔ خیر وڈے لوگ ہیں جی۔ وڈے وڈے مسائل ہیں ان کے۔ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کی طرف دیکھنے کی فرصت کہاں۔
ورنہ یہ ویب سائٹ بڑے پیار سے ورڈپریس یا اردو جملہ جیسے کسی سی ایم ایس میں بن سکتی تھی جسے اپڈیٹ کرنا بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔

جمعرات، 2 اپریل، 2009

عرض کیا ہے

میرا پاکستان کے محمد افضل صاحب نے پچھلے دنوں ایک تحریر لکھی تھی۔ اس تحریر کے بعد اور پھر اصلی تے وڈے بلاگ پرجاکر تحریر پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ:
  • عروض بے کار چیز ہے
  • غالب اور اقبال وغیرہم کا کلام آدھے سے زیادہ عروض سے باہر ہے۔
  • اس سلسلے میں مشکلات غالب کے نام سے کسی عظیم آدمی نے ایک کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔
  • موجودہ دور کے عظیم ترین بلاگرز، اردو کے مامے اور ادیب عالمی اخبار پر بیٹھے ہیں۔
  • یہ دنیا کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ ہے جسے دن میں پانچ بار اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ سبحان اللہ اور یہ رفتار دنیا کے بڑے سے بڑے اخبار کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔
  • مذکورہ بلاگ کے علاوہ انٹرنیٹ پر اردو میں جو کہا جاتا ہے وہ بکواس ہے۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ اردو کے ماموں کو انٹرنیٹ کا انچارج بنا دینا چاہیے تاکہ اردو کی ترقی عین ممکن ہوسکے۔ چونکہ ہر چوہڑے چمار نے جس کے پاس تھوڑے سے پیسے ہوں بلاگ بنا کر بیٹھ جانا ہے جو اردو کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
  • عالمی اخبار پر حق گوئی، بے باکی اور سچائی کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ اور عوام الناس کو نصیحت ہے کہ وہاں جاکر فیضیاب ہوں اور اپنی عزت کا جنازہ نکلوائیں۔
اوپر مذکور ارشادات کی روشنی میں ہم نے آج ایک "گزل" کہنے کی کوشش کی۔ چونکہ اردو کے مامے ہمیں اس بات کی اجازت دے چکے ہیں کہ عروض بے کار چیز ہے۔ اور نثری شاعری باقاعدہ ایک فن کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ چناچہ ہم نے اپنے تخیل کو وسیع کیا۔ قریب موجود گندے نالے کے کنارے گھنٹوں ٹہل کر اور اس کے کالے پانی میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے ہم نے ایک عدد گزل کہنے کی کوشش کی ہے۔ شاعری خداداد چیز ہوتی ہے جناب اور یہ سیدھی آسمان سے اترتی ہے۔ چناچہ ہم پر بھی آج بہت سے راز افشا ہوئے۔ دوسری کی ریاضی کی کتاب کو پکڑ کر ہم نے جو تخیل کی اڑان بھری تو اس کا نتیجہ اس گزل کی صورت میں نکلا۔ ملاحظہ کیجیے
ایک دونی دونی
دو دونی چار
تین دونی چھ
چار دونی اٹھ
پنج دونی دس
چھ دونی بارہ
ست دونی چودہ
اٹھ دونی سولہ
نو دونی اٹھارہ
دس دونی وی
سبحان اللہ، واہ جی واہ کیا کہنے۔ اپنے آپ کو شاباش دینے کو بڑا ہی دل کرتا ہے یعنی ہم شاعر ہوگئے ہیں۔ ہماری درج بالا گزل مزید لمبی ہوسکتی تھی لیکن ہم نے سوچا نئی نئی شاعری سیکھ رہے ہیں ذرا ہتھ ہولا رکھیں۔ مزید کے لیے ہمارا بلاگ پڑھتے رہیں۔
نوٹ: یہ تبصرے کی صورت میں اردو کے اصلی دے وڈے عالمی اخبار پر پیش کیا گیا تھا لیکن چونکہ ہم ابھی طفل مکتب ہیں اور ہماری تعریف میں کچھ کمیاں رہ گئی تھیں اس لیے اردو کے مامے حضرات نے اسے حذف کردیا۔

جمعرات، 26 مارچ، 2009

ہجرت

ایک بار پھر سے ہجرت۔۔اور اب کے لگتا ہے ہمیں بھی کوئی بلاگر مہاجر موومنٹ بنا لینی چاہیے جس کی صدارت وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے ہمارے ہی ناتواں کندھوں پر ہوگی۔ خیر یہ تو نکتہ معترضہ تھا۔ عرض یہ ہے کہ ہمارا ڈومین اردو کوڈر ڈاٹ کوم بہ کمال مہربانی منتظمین اردو ویب، اردو ویب کے سرور پر ہی ہوسٹ شدہ تھا۔ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے اردو ویب کی تمام ویب سائٹس کے ساتھ خاصے مسائل آرہے ہیں جن میں سرفہرست میموری اوو فلو کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں کئی بار سائٹس کو ڈاؤن رکھا گیا تاکہ میموری اور پروسیسنگ وغیرہ کی ضروریات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ خیر ایرر اب تو خاصے کم ہوگئے ہیں لیکن ہم نے اسی دوران ایک فیصلہ کرلیا تھا کہ بلاگ کو بلا گر پر ہی ایک بار پھر سے منتقل کرلیا جائے۔ ورڈپریس چنگی چیز ہے لیکن یہ ہم اس وقت استعمال کریں گے جب اپنی ویب ہوسٹنگ وغیرہ لیں گے۔ فی الحال مفت والی سروس چلنے دیتے ہیں۔ احباب کو بھی زحمت دینے کو دل نہیں کرتا۔ نبیل اور زکریا کی مہربانی انھوں نے اردو کوڈر کی ویب سائٹس کو ہوسٹنگ سپیس دی لیکن ہمارے ذاتی خیال میں اردو ویب پر آنے والے ایررز کی ایک وجہ اردو کوڈر کی ویب سائٹس بھی تھیں۔
بلاگر پر بلاگ منتقل ہوگیا ہے تو ورڈپریس والی موجیں نہیں ہونگی اب۔ نہ ہی مسکراہٹیں، نہ ہی سسٹم سپورٹ کے بغیر اردو لکھنے کی سہولت اور نہ ہی گریواٹر۔۔خیر گزارہ کیجیے اور ہمیں چھما کیجیے۔ اور دعا بھی کیجیے کہ جلد ہی اپنی ویب ہوسٹنگ لے سکیں۔ ننھا سا بلاگ ہے اس کے لیے ننھی سی ویب ہوسٹنگ ہم نے لے لینی ہے۔ تب تک بلاگر پر آوازِ دوست کے مزے لیجیے۔ اس سڑی بُسی پوسٹ کے علاوہ بھی میرے پاس کچھ آئیڈیاز تھے جن پر کام کرنا ہے۔ کچھ پنگے لینے ہیں، آج کل کچھ وڈے لوگ بلاگنگ اور اردو بلاگرز کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی شان میں کچھ مطلعے اور مقطعے کہنے ہیں۔ انشاءاللہ ایک آدھ دن میں آپ قصیدہ گوئی دیکھ لیں گے۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے۔

اتوار، 3 اگست، 2008

کمی کمین

خاور کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ پر انھیں مسلم لیگ ن جاپان کے وڈوں نے دھمکیاں دی ہیں۔ بھئی خاور کو احتیاط کرنی چاہیے تھی اتنا سچ نہیں لکھنا چاہیے تھے۔ یہ ملک تو ہے ہی مسلم لیگ کا۔ نہ مسلم لیگ ہوتی نا پاکستان بنتا۔ اوپر سے ہر آمر کے ساتھ مسلم لیگ چمٹی رہی ہے۔ موجودہ اصلی تے وڈے مسلم لیگی تو بس ن لیگ والے ہیں۔ چاہے ق لیگ والے اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ کہلواتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ آٹھ سال کے بعد مسلم لیگ ن کی باری آئی ہے تو ان کا اتنا اکڑنا تو فرض بنتا ہے۔

لاہور میں وزیر اعلٰی شہباز شریف کے آنے کے بعد پولیس والوں نے بھی پارکوں اور باغوں سے فحاشی سے خاتمے کے لیے پھر سے مہم شروع کردی ہے۔ جوڑوں کو سرعام روک کر بے عزت کیا جاتا ہے۔ شادی ہالوں میں جاکر جوتے لگائے جاتے ہیں۔ تو باہر بھی تو ان کی ٹور ہونی چاہیے۔ آخر یہ ملک ان کے مامے کا ہے اور ہم کمی کمین غریب غرباء جنھیں جو چاہے آکر دبا دے، استحصال کردے، ظلم کرے۔ کون پوچھنے والا ہے۔

خاور کھوکھر نے غلطی کی۔ اسے تو چاہیے تھا جاپان میں بیٹھا ہے تو چپ چاپ بیٹھا رہے۔ یہ تو محفوظ ہے۔ خواہ مخواہ میں پنگا لے بیٹھا۔ اب بھی وقت ہے وڈوں سے معافی مانگ لے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلے۔

ہفتہ، 2 اگست، 2008

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔


ونڈوز یا لینکس؟


دونوں


ہالی وڈ یا بالی وڈ؟


دونوں ہی۔


پیپسی یا کوک؟


جو مل جائے


کراچی یا لاہور؟


فیصل آباد ;)


سیب یا انگور؟


غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے


پاپ یا راک؟


جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔


چائے یا کافی؟


چائے ہی۔


نہاری یا حلیم؟


حلیم کبھی کبھار۔


فورمز یا بلاگ؟


دونوں


دوست یا کزن؟


دوست


کرکٹ یا فٹ بال؟


کرکٹ


پرسکون یا پریشان؟


منحصر بہ وقت


چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔

اتوار، 16 مارچ، 2008

اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟

ہمارے ایک نئے اردو بلاگر خرم شہزاد خرم نےمحفل پر ایک پوسٹ میں گلہ کیا ہے کہ پرانے بلاگرز نئے بلاگروں کے بلاگ پڑھتے نہیں اور تبصرے نہیں کرتے۔ بلکہ آپس میں ہی تو میرا حاجی بگو اور میں تیرا حاجی بگویم کرتے رہتے ہیں۔

مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔

تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔

تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔

تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔

سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔

بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔

بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔

اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔  خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔

وسلام

ہفتہ، 19 جنوری، 2008

الحمد اللہ کہ ورڈپریس کا اردو ورژن اب دستیاب ہے

ورڈپریس کا اردو ورژن ہم نے اردو محفل پر جاری کردیا ہے۔ اس دھاگے پر تشریف لے جائیں اور ورڈپریس کو اردو کرکے ہمیں ثواب دارین حاصل کرنے کا موقع دیں۔

جمعہ، 30 نومبر، 2007

آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟

زکریا کا یہ اعتراض وزن دار ہے کہ پاکستانی بلاگز انگریزی میں‌ بھی تو ہیں تو پھر اردو میں کیوں نہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میں‌کمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں‌ کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میں‌اپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں‌ ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں‌ تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں‌ ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔