یوسف رضا گیلانی نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد تقریر کرتے ہوئے متعدد انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ جیسے طلباء یونینز کی بحالی، میڈیا یونینز کی بحالی اور قبائلی علاقوں سے ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان بلاشبہ تاریخی اقدامات ہیں۔ لیکن یہ اور اس طرح کے دوسرے اعلانات جو وزیر اعظم نے کیے ہیں ان کے لیے بہت دھیرج سے عمل درآمد ہوسکے گا۔ اعلانات تو ہوگئے ہیں لیکن ان کے لیے قانون سازی کرنا اور متبادل نظام لانا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ ایف سی آر اگرچہ کالا قانون تھا لیکن اس کے بعد قبائل عوام تھانہ کچہری کلچر بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس کی بجائے وہ اپنے جرگہ سسٹم کو مزید فعال دیکھنا چاہیں گے۔ حکومت کو اس کا بہترین ممکن متبادل مہیا کرنا ہوگا ورنہ بات تعمیر سے تخریب کی طرف جاسکتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں ڈیڑھ صدی سے موجود وہ مراعات یافتہ طبقہ جو پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے اس صورت حال پر اچھا خاصا تلملائے گا اور اس کی مخالفت ضرور کرے گا۔
طلباء اور میڈیا یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اچھی چیز ہے لیکن اس کے لیے بھی مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا تو دور ہی گزر گیا دو سال انٹر کے اور دو سال گریجویشن کے اور ہمیں پتا ہی نہ تھا کہ یونین بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیکن اب الیکشنوں کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے مناسب ضابطہ اخلاق ضرور تشکیل دینا چاہیے۔ کہیں کالج اور تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے ہی نہ بن جائیں۔ ہم ویسے بھی ہر معاملے کو بگاڑنے اور اس کی ممکنہ منفی حد تک لے جانے میں مہارت کاملہ رکھتے ہیں۔ پابندی تھی تو کیا حال تھا اب جانے کیا ہو۔۔۔
دعا ہے کہ جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔
ووٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ووٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ہفتہ، 29 مارچ، 2008
پیر، 18 فروری، 2008
ووٹ ڈالنے گیا تو دیکھا
لو جی زندگی کا پہلا ووٹ ہم نے ڈال ہی دیا۔ ہمارے گھر کل ہی نون لیگ کے ایک امیدوار کی چھپی ہوئی پرچیوں پر والدین اور میرے ووٹ نمبر وغیرہ آچکے تھے۔ صبح ہم نے نو بجے کے قریب شناختی کارڈ ڈھونڈنے کا ڈول ڈالا۔ آخر پانچ سات منٹ کی تلاش بسیار کے بعد ہمارے کاغذات والے ڈبے سے مل ہی گیا۔ اسی دوران ہم نے محمد علی مکی کا فون بھگتایا جو انھوں نے اپنا وی وائرلیس بونس ختم کرنے کے لیے کیا تھا۔ انھیں بھی لگے ہاتھوں مشورہ دے ڈالا کہ ووٹ ڈالیں اور شیر کو ڈالیں تو کہنے لگے یار دو بار پہلے بھی ۔۔۔۔۔ آچکا ہے کچھ بھی نہیں کیا۔ خیر ہم نے انھیں اللہ حافظ کہنے کے بعد شناختی کارڈ ڈھونڈا امی سے پوچھ کر پرچی لی اور جیب میں لے کر امیدوار کے لگائے گئے ٹینٹ کی طرف چل دئیے۔
وہاں ایک محلے دار نے ہی ہماری رہنمائی پولنگ سٹیشن تک کی۔ قریبی پرائیویٹ سکول میں بننے والا یہ پولنگ سٹیشن مناسب حد تک پرہجوم تھا۔ ہم نے ایک سے پوچھا پھر دوسرے سے پھر تیسرے سے آخر مطلوبہ بندے کے پاس جاکر کہا کہ ہمارا ووٹ یہ ہے پرچی پر لکھ دو۔ لیکن یہ کیا ہمارا ووٹ تھا ہی نہیں اس لسٹ میں۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم واپس گھر کو آئے۔ پھر اس امیدوار کے دفتر نما میں گئے اور پھر وہاں سے واپس پولنگ سٹیشن۔ پھر اس بندے نے ہمیں کہا کہ آپ کا ووٹ نہیں ہے یہاں یہ کوئی ماجد خان ہے۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر واپس آئے۔ پھر سوچا ان کے پاس نہیں تو پیپلز پارٹی والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس کے دفتر چلے گئے تو وہ بےچارے اپنی پریشانیوں میں تھے۔ یکے بعد دیگرے لوگ ووٹ نمبر نکلوانے کے لیے نازل ہورہے تھے۔ آخر کچھ دیر اس کے ہاتھ میں شناختی کارڈ دینے کے بعد واپس لیا اور پھر ہمیں عقل آئی کہ ہماری گلی والا دفتر ادھر نہیں دوسری طرف ہے۔ وہاں گئے اور پھر نون لیگ والے امیدوار کے دفتر میں لسٹ پر نام نہ ملا۔ آخر ساتھ تیر والے دفتر میں ہمیں اپنا نام مل گیا اور ہم نے نعرہ بلند کردیا مل گیا مل گیا۔ دیکھنے والا لڑکا بے چارہ خوش ہوگیا کہ چلو ایک ووٹ بن گیا۔ ہم نے پرچی پر لکھوایا اور چلے پولنگ سٹیشن کو۔
وہاں پہنچ کر پھر اصل بندے کو ڈھونڈا۔ اب کے ہمیں چونکہ عقل آگئی تھی اس لیے اپنی گلی کا نمبر بتا کر مطلوبہ لسٹ والے بندے کے پاس گئے۔ اسے پرچی دکھائی۔ اس نے تصدیق کی اورلسٹ سے نام کاٹ کر ہمیں بوتھ نمبر دو کی طرف راہ دکھائی۔ وہاں گئے۔ پولنگ آفیسر کو شناختی کارڈ تھمایا۔ انگوٹھے پر نشان لگوایا۔ اس نے پرچی پر نشان لگادیا اور ہم پرچی لینے کے لیے لائن میں لگ گئے۔ ہماری باری آنے لگی تو افسر بولا یار ایک نیسلے کی بوتل لادو۔ اسے بوتل لا کر دی اور پھر انگوٹھا لگا کر بیلٹ پیپر لیا۔ آٹھ خانوں والی مہر اٹھائی "گیلی" کی اور بوتھ میں جاکر شیر پر ٹھپہ لگا دیا۔
ہمیں کئی بار خیال آیا کہ آزاد امیدوار کو ووٹ دے دیں۔ چونکہ وہ بندہ ہم جیسا ہی لگتا تھا۔ مثلًا اس کے "دفتر" پر ٹینٹ کی چھت بھی نہیں تھی۔ اور ایک ہی دفتر تھا اس کا جس میں وہ خود ہی ایک کرسی اور میز سمیت موجود تھا۔ حیرت ہے باقی پولنگ سٹیشن پر اس کا "نام لیوا" کون ہوگا۔ ہمیں ترس تو بہت آیا لیکن پھر دل پر پتھر رکھ لیا۔ نواز شریف کو بھی اس لیے ووٹ دیا ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کا وعدہ کرتا ہے۔ ورنہ یہ امیدوار وہی پرانے گھگے تھے جو پچھلے تین چار الیکشنوں میں اسی ٹکٹ پر اسی حلقے سے کھڑے ہوتے ہیں۔
اجمل صاحب کی بات تھی تو سچ کہ اس کو ووٹ دیں جس کو آپ مل بھی سکیں۔ لیکن جس کو ملنے کی امید کی جاسکتی تھی اس کے کامیاب ہونے کی امید نہیں تھی ووٹ ضائع ہی جاتا۔ سو ہم نے سوچا نون لیگ ہی سہی۔ ورنہ تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا ارادہ تھا۔ مجھے عمران خان سے گلہ ہے اس نے بائیکاٹ کرکے اپنے کئی متوقع ووٹر کھودئیے اور ہمیں انتخابات میں چوائس سے محروم کردیا۔
آخر میں وہ تصاویر جو میں نے اپنے موبائل سے کھینچیں۔ آپ کو نون لیگ کا دفتر نظر آئے گا۔ تیر والوں کا بھی ساتھ ہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سائیکل والوں کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ادھر ان کی کتنی "عزت" ہے۔ موصوف دو حلقوں سے امیدوار ہیں اور ٹاؤن ناظم بھی تھے شاید اب بھی ہوں۔ لیکن مجھے جو بھی ملا اس نے کہا شیر کو یا تیر کو ووٹ ڈالنا۔ ایک دوست تو یہاں تک بولا اب یہ نہ کہہ دینا کہ سائیکل کو ووٹ ڈالا ہے۔ اور ایک آدھ تصویر میں آزاد امیدوار بھی نظر آئے گا جسے میں ووٹ ضرور دیتا۔۔۔۔مگر میں نے اپنے محلے کو دیکھنے کی بجائے قومی سطح پر دیکھا جہاں بڑے مسائل ہیں۔
ویسے اڑتی اڑتی سنی تھی کہ تیر والے 35 ووٹوں پر موٹر سائیکل دے رہے ہیں۔ اور سائیکل والے شناختی کارڈ جمع کروانے پر سائیکل دے رہے ہیں۔ لاہور میں مستنصر حسین تارڈ کو 1500 نقد ملے لیکن ادھر ابھی شاید رواج نہیں چلا۔ ورنہ میں تو تیار تھا کہ سائیکل ہی سہی۔ ووٹ کا کیا ہے ووٹ تو اپنی مرضی سے دینا ہوتا ہے۔ چوروں کو مور پڑ گئے تو کیا ہوجائے گا۔ خیر یہ تھی روائیدادِ الیکشن۔۔۔۔
ادھر ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں۔ اگرچہ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق کم از کم دو جگہوں سے بیلٹ پیپر اڑائے جاچکے ہیں اور لاہور سمیت کئی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں کئی لوگ بھی پرلوک سدھار چکے ہیں۔
وہاں ایک محلے دار نے ہی ہماری رہنمائی پولنگ سٹیشن تک کی۔ قریبی پرائیویٹ سکول میں بننے والا یہ پولنگ سٹیشن مناسب حد تک پرہجوم تھا۔ ہم نے ایک سے پوچھا پھر دوسرے سے پھر تیسرے سے آخر مطلوبہ بندے کے پاس جاکر کہا کہ ہمارا ووٹ یہ ہے پرچی پر لکھ دو۔ لیکن یہ کیا ہمارا ووٹ تھا ہی نہیں اس لسٹ میں۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم واپس گھر کو آئے۔ پھر اس امیدوار کے دفتر نما میں گئے اور پھر وہاں سے واپس پولنگ سٹیشن۔ پھر اس بندے نے ہمیں کہا کہ آپ کا ووٹ نہیں ہے یہاں یہ کوئی ماجد خان ہے۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر واپس آئے۔ پھر سوچا ان کے پاس نہیں تو پیپلز پارٹی والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس کے دفتر چلے گئے تو وہ بےچارے اپنی پریشانیوں میں تھے۔ یکے بعد دیگرے لوگ ووٹ نمبر نکلوانے کے لیے نازل ہورہے تھے۔ آخر کچھ دیر اس کے ہاتھ میں شناختی کارڈ دینے کے بعد واپس لیا اور پھر ہمیں عقل آئی کہ ہماری گلی والا دفتر ادھر نہیں دوسری طرف ہے۔ وہاں گئے اور پھر نون لیگ والے امیدوار کے دفتر میں لسٹ پر نام نہ ملا۔ آخر ساتھ تیر والے دفتر میں ہمیں اپنا نام مل گیا اور ہم نے نعرہ بلند کردیا مل گیا مل گیا۔ دیکھنے والا لڑکا بے چارہ خوش ہوگیا کہ چلو ایک ووٹ بن گیا۔ ہم نے پرچی پر لکھوایا اور چلے پولنگ سٹیشن کو۔
وہاں پہنچ کر پھر اصل بندے کو ڈھونڈا۔ اب کے ہمیں چونکہ عقل آگئی تھی اس لیے اپنی گلی کا نمبر بتا کر مطلوبہ لسٹ والے بندے کے پاس گئے۔ اسے پرچی دکھائی۔ اس نے تصدیق کی اورلسٹ سے نام کاٹ کر ہمیں بوتھ نمبر دو کی طرف راہ دکھائی۔ وہاں گئے۔ پولنگ آفیسر کو شناختی کارڈ تھمایا۔ انگوٹھے پر نشان لگوایا۔ اس نے پرچی پر نشان لگادیا اور ہم پرچی لینے کے لیے لائن میں لگ گئے۔ ہماری باری آنے لگی تو افسر بولا یار ایک نیسلے کی بوتل لادو۔ اسے بوتل لا کر دی اور پھر انگوٹھا لگا کر بیلٹ پیپر لیا۔ آٹھ خانوں والی مہر اٹھائی "گیلی" کی اور بوتھ میں جاکر شیر پر ٹھپہ لگا دیا۔
ہمیں کئی بار خیال آیا کہ آزاد امیدوار کو ووٹ دے دیں۔ چونکہ وہ بندہ ہم جیسا ہی لگتا تھا۔ مثلًا اس کے "دفتر" پر ٹینٹ کی چھت بھی نہیں تھی۔ اور ایک ہی دفتر تھا اس کا جس میں وہ خود ہی ایک کرسی اور میز سمیت موجود تھا۔ حیرت ہے باقی پولنگ سٹیشن پر اس کا "نام لیوا" کون ہوگا۔ ہمیں ترس تو بہت آیا لیکن پھر دل پر پتھر رکھ لیا۔ نواز شریف کو بھی اس لیے ووٹ دیا ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کا وعدہ کرتا ہے۔ ورنہ یہ امیدوار وہی پرانے گھگے تھے جو پچھلے تین چار الیکشنوں میں اسی ٹکٹ پر اسی حلقے سے کھڑے ہوتے ہیں۔
اجمل صاحب کی بات تھی تو سچ کہ اس کو ووٹ دیں جس کو آپ مل بھی سکیں۔ لیکن جس کو ملنے کی امید کی جاسکتی تھی اس کے کامیاب ہونے کی امید نہیں تھی ووٹ ضائع ہی جاتا۔ سو ہم نے سوچا نون لیگ ہی سہی۔ ورنہ تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا ارادہ تھا۔ مجھے عمران خان سے گلہ ہے اس نے بائیکاٹ کرکے اپنے کئی متوقع ووٹر کھودئیے اور ہمیں انتخابات میں چوائس سے محروم کردیا۔
آخر میں وہ تصاویر جو میں نے اپنے موبائل سے کھینچیں۔ آپ کو نون لیگ کا دفتر نظر آئے گا۔ تیر والوں کا بھی ساتھ ہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سائیکل والوں کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ادھر ان کی کتنی "عزت" ہے۔ موصوف دو حلقوں سے امیدوار ہیں اور ٹاؤن ناظم بھی تھے شاید اب بھی ہوں۔ لیکن مجھے جو بھی ملا اس نے کہا شیر کو یا تیر کو ووٹ ڈالنا۔ ایک دوست تو یہاں تک بولا اب یہ نہ کہہ دینا کہ سائیکل کو ووٹ ڈالا ہے۔ اور ایک آدھ تصویر میں آزاد امیدوار بھی نظر آئے گا جسے میں ووٹ ضرور دیتا۔۔۔۔مگر میں نے اپنے محلے کو دیکھنے کی بجائے قومی سطح پر دیکھا جہاں بڑے مسائل ہیں۔
ویسے اڑتی اڑتی سنی تھی کہ تیر والے 35 ووٹوں پر موٹر سائیکل دے رہے ہیں۔ اور سائیکل والے شناختی کارڈ جمع کروانے پر سائیکل دے رہے ہیں۔ لاہور میں مستنصر حسین تارڈ کو 1500 نقد ملے لیکن ادھر ابھی شاید رواج نہیں چلا۔ ورنہ میں تو تیار تھا کہ سائیکل ہی سہی۔ ووٹ کا کیا ہے ووٹ تو اپنی مرضی سے دینا ہوتا ہے۔ چوروں کو مور پڑ گئے تو کیا ہوجائے گا۔ خیر یہ تھی روائیدادِ الیکشن۔۔۔۔
ادھر ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں۔ اگرچہ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق کم از کم دو جگہوں سے بیلٹ پیپر اڑائے جاچکے ہیں اور لاہور سمیت کئی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں کئی لوگ بھی پرلوک سدھار چکے ہیں۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)