ٹیکس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ٹیکس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 7 نومبر، 2009

ترقی

پچھلے ایک ہفتے سے میرا گھر پیٹر انجن کی ٹھک ٹھک پھک پھک سے گونج رہا ہے۔ اس میں وقفے وقفے سے وہ آوازیں بھی شامل ہوجاتی ہیں جو اس کے ساتھ لگی مشین کے گھومنے سے پیدا ہورہی ہیں، اس میں بجری ڈالنے سے پیدا ہورہی ہیں اور پھر بجری اور کول تار کا ملغوبہ نکالنے سے پیدا ہورہی ہیں۔ یہ سب کچھ میرے محلے کی ایک سڑک تعمیر کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ یہ سڑک یعنی صدر بازار میرے محلے کے دو بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو اسے مین روڈ سے ملاتے ہیں۔
آپ بھی حیران ہونگے اگر سڑک تعمیر ہورہی ہے تو اس میں بری بات کیا ہے؟ مجھے بھی کوئی بری بات نہیں لگ رہی۔ آخر میرے محلے کی ترقی ہورہی ہے۔ سڑک جو صرف دو سال پہلے بنی تھی اب اس میں ایسے ایسے گڑھے تھے، کہیں سیوریج ڈالنے والوں نے ادھیڑ ڈالی تھی، کہیں رہائشیوں نے اپنا سیوریج پائپ ڈالنے کے لیے کھود ڈالی تھی اور رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے نئے پائپ ڈالنے والوں نے نکال دی تھی۔ تو یہ گڑھے مجھے ایسے لگتے تھے جیسے کسی بیوہ کی خستہ حال چادر کے اڑے ہوئے حصے جو اس کی برہنگی بھی نہیں چھپا سکتے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سڑک کو پھر سے پردہ دیا جارہا ہے جو سر بازار بے پردہ ہورہی تھی، کوڑھ زدہ مریض کی طرح اس کی کھال پھٹ گئی تھی اور پیپ زدہ ماس کی طرح پتھر نظر آرہے تھے۔ لیکن مجھے خوشی ہوتے ہوئے بھی خوشی نہیں ہے۔ اس کی وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ ابھی یہ سڑک مکمل نہیں ہوئی۔ اور میرے محلے کے چوک، صدر چوک، میں ایک کتبہ لگ گیا ہے۔ ایک بینر بھی لگ گیا ہے۔ جس میں میرے حلقے کے ایم این اے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ اور اس کے نیچے محلے کے تین چار چوہدریوں کے نام ہیں بشمول نائب ناظم۔ میں بس ذرا سا حیران ہوں کہ یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ لیکن یہ ایسے کیوں ہورہا ہے؟ کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ ہر سال حکومت میرے ڈھائی مرلے کے مکان سے دو ہزار روپیہ پراپرٹی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مجھے موبائل فون کے ہر سو روپے پر چھتیس فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ہر وہ کام جس میں روپے لگتے ہیں میں ٹیکس ادا کرکے کرتا ہوں۔ تو  دو سو میٹر کا سڑک کا یہ ٹکڑا اگر دوبارہ سے بنایا جارہا ہے تو اس میں اتنے احسان کی کیا بات ہے؟ اور اس میں اس ایم این اے کا کیا کام ہے؟ ایم این اے تو سمجھتے ہیں نا آپ؟ ممبر قومی اسمبلی۔ تو یہ ممبر جو میرے محلے جیسے دس اور محلوں کا بھی والی وارث ہے۔ اسے اتنا کشٹ اٹھانے ضرورت ہی کیا تھی آخر؟ صاحب اسلام آباد جاؤ، ایوان میں بیٹھو اور قانون سازی کرو۔ قومی نوعیت کے مسائل کو حل کرو۔ میرا محلہ، کہ جس جیسے سینکڑوں محلے اس ملک میں ہیں، پر اتنی مہربانی کیوں؟ کہ چند سو میٹر کا ایک سڑک کا ٹکڑا جناب نے کمال مہربانی سے اور خصوصی توجہ سے تعمیر کروایا جس پہ میرے محلے کے چوہدری سراپا ممنون احسان ہورہے ہیں۔ ارے یہ کام تو میرے محلے کا ناظم بھی کرسکتا تھا۔ اس کا کام ہی یہ ہے کہ مقامی طور پر ایسے کام کرائے، ترقی کے منصوبے بنائے اور ان پر عمل کرائے۔ ایم این اے بادشاہ کو کیا ضرورت پڑ گئی یہ سب کرنے کی؟
لیکن نہیں۔ یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہاں اب گلی بھی پکی کروانی پڑی تو اس کام کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے آئیں گے۔ ضلعی نظام تو ویسے ہی ختم ہورہا ہے۔ پھر وہی کونسلر رہ جائیں گے جن کا کام محلے کے چُوہڑوں کی انسپکٹری ہوگا بس۔ مجھے نہیں پتا سیاست دانوں کا اس نظام کے بارے میں کیا خیال ہے، اس میں کتنی غلط باتیں ہیں، لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ اس کی وجہ سے مجھے اتنا پتا لگا تھا کہ ترقی ہوسکتی ہے۔ میرے محلے کی گلیاں اور سڑکیں پچھلے پانچ سال میں اتنی بار بنیں کہ میں اکتا گیا۔ جہاں دیکھو ہر روز کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں کام ہورہا ہوتا تھا۔ چلیں اب یہ اکتاہٹ ختم ہوجائے گی۔ اختیارات واپس وڈوں کو مل رہے ہیں۔ اب نا وڈے صاحب کے پاس وقت ہوگا نہ وہ ایسی کسی چیز کا افتتاح کرسکیں گے۔ اور ہم منہ چک کے اسلام آباد کی طرف دیکھتے رہیں گے کب بڑے صاحب پدھاریں اور کب ان کو عرضی پیش کریں کہ صاحب محلے کے گٹر کا ڈھکن بدلوانا ہے ذرا فنڈز تو جاری کروا دیجیے۔ صاحب کوڑا سٹینڈ نہیں ہے محلے میں کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر اس کا سنگ بنیاد رکھوا دیجیے۔ سرکار کی مشہوری بھی ہوجائے گی غریب کا بھلا بھی ہوجائے گا اور ایک عدد کتبہ بھی لگ جائے گا۔
محلہ غریباں کے کوڑا سٹینڈ کا
سنگ بنیاد
جناب عزت مآب ایم این اے صاحب نے
اپنے دست مبارک سے فلاں تاریخ کو رکھا۔ 

پیر، 15 جون، 2009

حساب برابر

سپریم کوڑت کے حکم پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ہونے والی کمی کس خوبصورتی سے واپس لی گئی ہے۔ سبحان اللہ اس فنکاری پر۔
اسلام آباد۔ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ کاربن سر چارج کی مد سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 1کھرب34 ارب روپے کے محصو لات حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ یہاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایل کی جگہ ماحول دوست پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر 3سے 14روپے فی لیٹر کا ربن سر چارج لگایا گیا ہے ۔ کاربن سرچارج کی مد میں ھائی سپیڈ ڈیزل آئل پر 8روپے فی لیٹر ، موٹر سپرٹ پر 10 روپے فی لیٹر ، ایس کے ایس او پر 6 روپے فی لیٹر ، لائٹ ڈیزل پر 3 روپے ، ایچ او بی سی پر 14 روپے اور سی این جی پر 6 روپے فی لیٹر کے حساب سے وصول کیا جائے گا

اتوار، 14 جون، 2009

بجٹ بیتیاں

لو جی بجٹ تشریف لاچکا ہے۔ سنا ہے ٹیکس فری ہے۔ لیکن حقیقت آپ میں سب ہی جانتے ہیں کہ ٹیکس فری کہاں تک ہے اور ٹیکس کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ دوسروں کی کیا کہیے صاحب ہمیں تو اپنا اتنا پتا ہے کہ پہلے یوفون کے 500 ایس ایم ایس والے پیکج سے مہینہ گزر جاتا تھا۔ اب اس پر فی میسج 20 پیسے ایس ایم ایس سے یہ رقم ساٹھ سے ایک سو ساٹھ ہوجائے گی۔ سادہ میسج آن نیٹ ستر پیسے کے قریب کا تھا جو اب نوے کا ہوجائے گا اور آف نیٹ سوا روپے کے قریب کا تھا اب ڈیڑھ کا ہوجائے گا۔ ہاں اس سے اتنا فائدہ ہوگا کہ یار لوگ کھانسی کی اطلاع بھی میسج پر دینے لگے تھے اس سے باز آجائیں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

ہفتہ، 28 فروری، 2009

ایس ایم ایس

پاکستان میں اس وقت کم از کم پانچ موبائل فون کمپنیاں فعال ہیں اور جدید ترین خدمات فراہم کررہی ہیں. ملک کی آدھی کے قریب آبادی موبائل فون استعمال کررہی ہے. ہمارے میڈیا کے اشتہارات کا اچھا خاصا حصہ ان پانچ کمپنیوں کے اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے. ہر روز کوئی نیا پیکج اور ہر روز کوئی نئی آفر. یہ کردیا وہ کردیا وغیرہ وغیرہ.
ان کمپنیوں کی فراہم کردہ خدمات میں سے ایک ایس ایم ایس یعنی شارٹ میسنجنگ سروس ہے. ایس ایم ایس کے بارے میں کئی سال پہلے گلوبل سائنس میں پڑھا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہر وقت آنلائن رہ کر پیغامات وصول کرسکیں. خیر اس کا مقصد جو بھی آج کل یہ پاکستان میں انّھے وا استعمال ہورہے ہیں. لطائف سے لے کر مرے ہوئے شعرا بشمول فراز کی خوب مٹی پلید کی جاتی ہے.
ایک ایس ایم ایس، اگر آپ کے پاس کوئی پیکج نہیں، تو قریبًا سوا روپے میں پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس پیکج ہے جیسا کہ قریبًا ہر کمپنی دے رہی ہے تو آپ کو یہی ایس ایم ایس دس، بیس، تیس پیسے اور ایک پیسے سے بھی کم میں پڑتا ہے۔ لیکن اس سارے میں جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ بہت سادہ سا ہے۔ آپ پیکج کروائیں کمپنی کو مخصوص رقم ادا کریں۔ اور اس کے بعد مخصوص مدت کے لیے ایس ایم ایس کی مخصوص تعداد آپ کی ہوئی۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ایس ایم ایس کام کے لیے نہیں تفریح بلکہ وقت ضائع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ماہانہ سو کے قریب ایس ایم ایس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے پہلے پہل ایس ایم ایس کرنے سے پرہیز کی کوشش کی لیکن دوست احباب کے طعنے، ہم جماعتوں کے جائز استفسارات کے جواب (چونکہ میں کلاس کا سی آر ہوں) اور کئی ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے مجھے اس طرف آنا ہی پڑا۔ اب حال یہ ہے کہ ہر ماہ میرا سو کے قریب روپیہ ان پر لگتا ہے۔ اور پھر مجھے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس اتنے رہ گئے ہیں انھیں ختم بھی کرنا ہے۔ چناچہ میں نے جہاں ایک کرنا ہو وہاں تین چار بھی کردیتا ہوں۔ اب ان کو ختم بھی تو کرنا ہے کا سوچ کر۔
میرا سوال اتنا ہے کہ اگر ایس ایم ایس اتنا سستا ہوسکتا ہے جیسا کہ ان پیکجز کے ذریعے ہے تو اس کو مناسب ریٹ پر لاکر نارمل پیکج میں شامل کیوں نہیں کردیا جاتا؟ جس طرح ایس ایم ایس مفت بانٹے جارہے ہیں ،چار روپے کٹوائیں 24 گھنٹے میں 500 ایس ایم ایس آپ کے، اگر اس کو دس سے ضرب دی جائے تو جواب آٹھ پیسے آتا ہے۔ چلیں دس پیسے کرلیں اور ٹیکس ڈال کر پندرہ پیسے کرلیں۔ اگر پندرہ پیسے کا ایس ایم ایس بھی کردیا جائے تو کیا ہے۔
پچھلے دنوں ایک دوست سے چائنہ میں بات ہورہی تھی اس کے مطابق ایک ایس ایم ایس پاکستانی پانچ سے چھ روپے کا پڑتا ہے، کال سننے کے چارجز دینے پڑتے ہیں، روزانہ کے پیسے کاٹے جاتے ہیں جیسے پاکستان میں وائرلس لوکل لوپ والے روز کے پیسے کاٹتے ہیں بطور لائن رینٹ اور جب آپ کا بیلنس ختم تو نمبر بند۔ جب تک دوبارہ لوڈ نہ کریں تو نہ کال وصول سکیں گے نہ اس دوران آیا میسج آپ تک پہنچ سکے گا، کمپنی کے سرور پر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان میں اس سے حالات ہزار درجے بہتر ہیں اور اس کی وجہ کمپنیوں کا آپسی مقابلہ ہے۔ لیکن پھر بھی ان کمپنیوں ہمارا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سیل فون کام کی چیز نہیں فن اور مسخریاں کرنے کی چیز بن گیا ہے۔ کام کے لیے میسج کرنا ہے تو سوا روپیہ اور بے مقصد کرنے ہیں تو جتنے چاہیں۔ بس پیسے کٹواتے جائیں اور جو مرضی حاصل کرلیں مفت ایس ایم ایس سے لے کر انٹرنیٹ کے گھنٹوں کی سستے ترین گھنٹے۔ لیکن اس طرح کہ آپ انھیں استعمال صرف اور صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ عجیب سائنس ہے یہ بھی اور اس سائنس نے ہم نوجوانوں کی کیمیا کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کی بے مقصد رات ساری ساری رات گپ بازی اور موبائل چیٹ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ :roll:

پیر، 12 جنوری، 2009

حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55 کروڑ 48 لاکھ 42 ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے

پشاور ۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55کروڑ 48لاکھ 42ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ جس میں ایک ارب16کروڑ58لاکھ62ہزار روپے پٹرولیم لیوی(ایل ای وائی)اور 38کروڑ89لاکھ79ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں صارفین سے وصول کئے جا رہے ہیں۔جبکہ حکومت نے نئی پیٹرولیم پالیسی کا اعلان بھی کردیا ہے جس کے تحت اب پندرہ روز کے بجائے مہینے کے مہینے کو قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے پٹرولیم منصوعات کو زیادہ سے زیادہ ریونیو وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔مصنوعات پر ملک میں پہنچ درآمدی قیمت سے دوگنے ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں ۔حکومت یکم جنوری سے پندرہ جنوری 2009ء تک مجموعی طور پر 23ارب32کروڑ26لاکھ34ہزار روپے وصول کرے گی جس میں 17ارب48کروڑ79لاکھ38ہزار روپے پٹرولیم لیوی اور پانچ ارب83کروڑ46لاکھ96ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں ہوں گے ۔اوگرا فارمولے کے مطابق پٹرول کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 20.83روپے فی لٹر ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.66روپے فی لٹر،لائٹ ڈیزل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت 28.29روپے جبکہ ریٹل قیمت 48روپے ،مٹی کے تیل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت30.70روپے جبکہ ریٹیل قیمت51.87روپے فی لٹر،ہائی اوکٹین کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 22.99روپے جبکہ ریٹیل قیمت 72.08روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ملک پہنچ درآمدی قیمت 32.59روپے ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.14روپے فی لٹر ہے ۔حکومت فی لٹر پٹرول پر 35.27روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں 27.32روپے پٹرول لیوی اور 7.95روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر مٹی کے تیل پر 20.10روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.92روپے پٹرول لیوی اور 7.15روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی سپیڈ ڈیزل پر 23.56روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 15.68روپے پٹرول لیوی اور 7.88روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر لائٹ ڈیزل پر 18.72روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.10روپے پٹرول لیوی اور 6.62روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی اوکٹین پر 47.36روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 37.43روپے پٹرول لیوی اور 9.94روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط یومیہ کھپت چار کروڑ41لاکھ59ہزار816لٹر ہے جس میں پٹرول کی یومیہ کھپت اکتیس لاکھ20ہزار213لٹر ،مٹی کے تیل کی پانچ لاکھ77ہزار792لٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی ایک کروڑ98لاکھ54ہزار179لٹر،لائٹ ڈیزل کی تین لاکھ 75ہزار888لٹر اور ہائی اوکٹین کی دو کروڑ2لاکھ31ہزار744لٹر ہے ۔حکومت پٹرول پر یومیہ گیارہ کروڑ49ہزار912روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں آٹھ کروڑ52لاکھ44ہزار219روپے پٹرول لیوی اور دو کروڑ48لاکھ5ہزار693روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔یکم جنوری سے پندرہ جنوری تک حکومت کو پٹرول پر ایک ارب 65کروڑ 7لاکھ48ہزار680روپے وصول کرے گی۔مٹی کے تیل پر یومیہ ایک کروڑ16لاکھ13ہزار618روپے کا ریونیو حاصل کیا جا رہا ہے جس میں 74لاکھ82ہزار406روپے پٹرولیم لیوی اور 41لاکھ31ہزار212روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔مٹی کے تیل پر سترہ کروڑ42لاکھ4ہزار282روپے کا ریونیو وصول کرے گی۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر یومیہ 46کروڑ77لاکھ64ہزار 456روپے کا ریونیہ وصول کیا جا رہا ہے جس میں 31کروڑ13لاکھ526روپے پٹرولیم لیوی اور پندرہ کروڑ64لاکھ50ہزار930روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر سات ارب ایک کروڑ64لاکھ66ہزار848روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔لائٹ ڈیزل پر یومیہ ستر لاکھ36ہزار622روپے کا ریونیووصول کیا جا رہا ہے جس میں 45لاکھ48ہزار244روپے پٹرول لیوی اور 24لاکھ88ہزار378روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔لائٹ ڈیزل پر مجموعی طور پر دس کروڑ55لاکھ 49ہزار338روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔ہائی اوکٹین پر یومیہ 95کروڑ83لاکھ77ہزار712روپے کا ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 75کروڑ72لاکھ74ہزار177روپے پٹرولیم لیوی اوربیس کروڑ11لاکھ3ہزار535روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں۔ہائی اوکٹین پر مجموعی طور پر چودہ ارب37کروڑ56لاکھ65ہزار کا ریونیو وصول ہو گا۔


ماخذ

جمعہ، 17 اکتوبر، 2008

پٹرولیم پر ٹیکس

پچھلے دنوں ایک پوسٹ میں پٹرولیم پر حکومتی ٹیکس کا ذکر کیا تو بدتمیز نے تبصرے میں کہا کہ حکومت اتنا ٹیکس نہیں لے رہی۔ آج جنگ میں یہ خبر پڑھی تو سوچا شئیر کرتا چلوں۔




کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی11 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پرکمی کے باوجود حکومت نے وعدے کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس وصولی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے۔ 16 اکتوبرکو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کی بجائے انہیں سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹیکس کی شرح بڑھا دی ہے۔ 15 اکتوبرکے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر16 فیصد کی شرح سے 10.94 روپے فی لیٹر سیلز ٹیکس اور33 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پی ڈی ایل وصول کررہی ہے۔ اس طرح ڈیزل پر ٹیکس کی شرح 11 روپے سے بڑھ گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل پر یہ شرح 13.55 روپے فی لیٹر ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کے ایک لیٹر پر عائد پی ڈی ایل کی شرح 25.12 فی لیٹرکردی گئی ہے جوکہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول پر آج تک عائد ہونے والی پی ڈی ایل کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ پیٹرول پر 11.26 روپے کے سیلز ٹیکس کو شامل کرنے سے ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکس کی شرح 36.38 روپے تک جا پہنچی ہے اگر اس میں کسٹمز ڈیوٹی کو شامل کیا جائے تو یہ40 روپے فی لیٹر سے بھی بڑھ جائے گی۔ ایچ او بی سی پر حکومت نے پی ڈی ایل کی شرح 23.37 روپے سے بڑھاکر30.51 روپے فی لیٹرکردی ہے۔ سیلز ٹیکس کے ساتھ ایچ او بی سی پر ٹیکس کی شرح 43.76 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ یہ شرح 50 روپے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم سیکٹر سے اس بڑے پیمانے پر ٹیکس وصولی کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے سبسڈی دے رہی ہے۔


ہفتہ، 13 ستمبر، 2008

پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے

اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔


تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔


ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔


پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔


اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔


قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔


بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔


ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔

بدھ، 10 ستمبر، 2008

ٹیکس، ٹیکس اور ٹیکس

پچھلے دو ماہ سے ہم ٹیکس بھر رہے ہیں۔ پہلے پراپرٹی ٹیکس آیا اڑھائی مرلے کا مکان اور دو دوکانیں جن کا کرایہ 1500 ماہانہ ہے پر سال میں 3300 روپیہ ٹیکس وصول کرتی ہے حکومت۔


اس کے بعد صدر کی روزگار سکیم سے لیا گیا چنگ چی لوڈر رکشہ، جس کی ٹوکن فیس اور فٹنس فیس مبلغ 2425 روپے ادا کرنے کا حکم آگیا ہے۔ ابھی اس کی قسط کے پیسے کسی نہ کسی طرح پورے کیے تھے اور ٹیکس کا مژدہ آگیا۔


یہ تو انفرادی حال ہے۔


اجتماعی حال بجلی پر کتنے سرچارج اور ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے سیلابی متاثرین سے لے کر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تک کا فی یونٹ ٹیکس ہم بھرتے ہیں۔


سیلز ٹیکس سولہ فیصد کردیا گیا ہے جو ہر چیز پر نافذ ہے۔


بجلی پر پہلے سبسڈی دی جاتی تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے چناچہ پچھلے ماہ سے بلوں میں سولہ فیصد جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔


اگلے ماہ سے اکتیس فیصد اضافہ مزید متوقع ہے۔ یعنی ہمارا بل جو پچھلے ماہ 1600 تھا اس بار 2000 آیا اور اگلی بار 2500 کے اریب قریب ہوگا۔


موبائل فون کے ریٹس پر 21 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ چناچہ دو منٹ میں ہی دس روپے کٹ جاتے ہیں۔


پٹرولیم پر اچھا خاصا ٹیکس فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح بیس روپے سے کم نہیں۔


اور انھی ٹیکسوں پر عوام کی حکومت چل  رہی ہے۔ اور عوام بس ہورہے ہیں۔