جمعہ، 20 نومبر، 2009
گوگل کروم او ایس
گوگل نے کل آخر رحم کھا ہی لیا اور ان تمام افواہوں، قیاس آرائیوں اور الٹی سیدھی تنقید کا سلسلہ بند کروا دیا۔ جیسا کہ پیشن گوئی تھی کہ گوگل کا یہ او ایس لینکس پر مشتمل ہوگا۔ بالکل یہی حقیقت نکلی ہے۔ لیکن یہ خبر میرے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے کہ گوگل کا یہ او ایس ایک خاص ہارڈ وئیر پر چل سکے گا۔ اگلے سال کے آخر تک گوگل اپنی ایک عدد نیٹ بُک لانچ کرے گا جس میں پہلے سے یہ او ایس نصب ہوگا، یعنی ڈیسکٹاپ پی سی کی چھُٹی۔ ایک اور بات یہ کہ یہ او ایس خالصتًا ویب اطلاقیوں پر مشتمل ہے۔ نیٹ بُک کو اٹھا کر کہیں بھی لے جائیں لیکن اس پر سارا کام ویب سے چلنے والے اطلاقیے کریں گے اور آپ کی ہر چیز انٹرنیٹ پر، ظاہر ہے گوگل کے سرورز پر، محفوظ ہوگی۔ اور ہمیں امید ہے کہ گوگل نے ایسا اور بہت سی وجوہات کے علاوہ پیسہ کمانے کی غرض سے بھی کیا ہوگا۔ چونکہ گوگل کا کام ہی آنلائن ہے اس لیے یہ عادت سے مجبور ہے۔ :)
اس او ایس کی سیکیورٹی کے بارے میں گوگل نے بڑے اونچے اونچے دعوے کیے تھے جن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لیکن اب جبکہ گوگل نے اس کا کوڈ آزاد مصدر کردیا ہے اور اس کے سیکیورٹی نظام کی تفصیلات بتائی ہیں تو یہ دعوے درست بھی لگ رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو ویب اطلاقیے ہی اس کو محفوظ بنا دیتے ہیں۔ اس کا سارا روٹ فائل سسٹم صرف قابل پڑھائی بنایا گیا ہے یعنی اس پر کچھ بھی نہیں لکھا جاسکتا۔ او ایس کا کام صرف بنیاد فراہم کرنا ہے جس کے بل پر ویب اطلاقیے چل سکیں۔ باقی سب کچھ سرورز پر ہوگا۔ یعنی وائرس آ بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ میموری میں دھمال ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل کا براؤزر کرومیم جو کہ اس او ایس کا بھی براؤزر ہوگا پہلے ہی اس صلاحیت کا حامل ہے کہ اس میں کھلنے والا ہر ٹیب دوسرے ٹیب سے جداگانہ طور پر کھلتا ہے۔ چناچہ اگر ایک ٹیب ہیلڈ ہوجائے، مسئلہ کرے یا کوئی ویب اطلاقیہ کام خراب کرے تو اتنے حصے کی جراحی کرکے باقی سارے جسم کو گزند پہنچائے بغیر کام جاری رکھا جاسکتا ہے۔ بقول گوگل کے بڑوں کے انھوں نے ویب اطلاقیوں کو ایک دوسرے سے لڑائی کرنے سے اور بنیادی سسٹم سے لڑائی کرنے سے روکنے کے لیے موثر انتظام کیا ہے۔ یعنی مہمان ویب اطلاقیے صرف بیٹھک تک آسکیں گے اس سے آگے نہیں، اور یہاں بھی ان کے لیے الگ الگ پورشن مخصوص ہوگا۔ گوگل نے بوٹ کرنے کے عمل کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بنیادی نظام کی ہر فائل کے ساتھ مخصوص دستخط جڑے ہیں، دوران بُوٹ ہر فائل کو اس کے دستخط کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے اگر کسی ایک میں بھی تھوڑی سی گڑبڑ ہو تو سسٹم ری سٹارٹ ہوجائے گا، نیٹ سے وہ فائل دوبارہ اتار کر نصب کرے گا، سیکیورٹی پیوند لگائے گا اور پھر نیا جیسا ہوجائے گا۔
یہ سب تو گوگل کے بارے میں تھا اب کنونیکل کی سنئیے، جو مقبول ترین لینکس ڈِسٹرو کی کمرشل اماں ہے۔ کنونیکل گوگل کے ساتھ ٹھیکے پر کام کررہی ہے تاکہ اسے کروم او ایس کے بارے میں مدد فراہم کرسکے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کروم او ایس اور اوبنٹو نوٹ بُک ری مکس کا کام ایک ہی ہے۔ یعنی نیٹ بُک کمپیوٹرز لیکن کنونیکل کے بقول کروم ویب پر انحصار کرے گا اور اوبنٹو نیٹ بُک ری مکس ڈیسکٹاپ اطلاقیے بھی چلاتا ہے۔
ویسے ہمیں تو خاصی مایوسی ہوئی ہے۔ گوگل نے وہی کیا جس کی اس سے امید تھی، یعنی پھر ویب پر لا کر پھنسا دیا، ساتھ اپنے ہارڈوئیر کی شرط لگا دی اور او ایس کو مینوفیکچرر تک محدود کردیا۔ ہم جو سمجھ رہے تھے کہ ہُن مزہ آئے گا جد گوگل تے مائیکرو سافٹ ککڑاں وانگ لڑ سن۔ پر کتھوں۔ ہمارا مفت کا تماشا گوگل نے لگنے
ہی نہیں دیا۔
اتوار، 2 نومبر، 2008
کون کہتا ہے اردو یتیم ہے
علوی امجد خدا کرے تمہاری دنیا اور آخرت ایسے سنورے کہ دیکھنے والے رشک کریں۔ بخدا میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس بندے کی تعریف کرسکوں، میرے پاس شکریے کے الفاظ نہیں، جو کام اس بندے نے کردیا ہے وہ اردو کے لیے صدیوں پر محیط ایسی چھلانگ ہے جو اسے کہاں سے کہاں پہنچا دے گی۔ اب کوئی طعنہ نہیں دے سکے گا کہ اردو والے اردو کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ جب تک ہم میں علوی امجد جیسے سپوت موجود ہیں اردو مر نہیں سکتی، بخدا اردو زندہ رہے گی اور اپنے مخالفین کے سینوں پر مونگ دلتی رہے گی۔ علوی امجد اور علوی نستعلیق زندہ باد۔
اگر آپ نے ابھی تک علوی نستعلیق اتار کر انسٹال نہیں کیا تو کتنی بڑی نعمت سے محروم ہیں آپ۔ ارے ابھی اتاریں، انسٹال کریں اور میرے بلاگ کا فائرفاکس میں مزہ لیں خالص اردو رسم الخط کے ساتھ، نستعلیق میں اسی نستعلیق میں جس کے آپ اخباروں، رسالوں اور تصویری اردو کی ویب سائٹس پر عادی ہیں۔ اب یہ سب کچھ ممکن ہے۔
انشاءاللہ یہ ابتدا ہے۔ ابھی ایسے کئی نستعلیق میدان میں اتریں گے اور دنیا اردو کا عروج انٹرنیٹ پر دیکھے گی۔
علوی امجد اور امجد نستعلیق کی بنیاد بننے والے خط رعنا فونٹ کے خالق فاروق سرور خان کا بہت شکریہ۔ اللہ ان کے دو جہانوں کو سنوار دے انھوں نے اردو کو سنوار دیا۔
یہ فونٹ لینکس پر ونڈوز سے بھی پیارا لگ رہا ہے۔ اوبنٹو پر فائرفاکس 3 میں مجھے ابھی تک کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا جبکہ ونڈوز پر فائرفاکس میں ہی اردو محفل کے نیویگیشن بار کے روابط اوپر نیچے نظر آرہے تھے۔
منگل، 2 ستمبر، 2008
اک "براؤزر" ہور
شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome
کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔
اتوار، 16 مارچ، 2008
اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام
پیر، 21 جنوری، 2008
مبارکباد بدتمیز سیّاں
پیر، 24 دسمبر، 2007
ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بیٹا کا اجراء
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔
اتوار، 9 دسمبر، 2007
مونو (Mono) لینکس میں ڈاٹ نیٹ ٹیکنالوجی کا پلیٹ فارم
(اردو بلاگرز سے معذرت کے ساتھ باوجود کوشش کے میں اس وقت کے ہاٹ ٹاپک یعنی عورتوں کو گھورنا شورنا پر لکھنے کا موڈ نہیں بنا سکا۔ لکھتا کیا کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔)
جمعہ، 7 دسمبر، 2007
سورس فورج مارکیٹ پلیس
اس سال مئی سے سورس فورج ایک بی ٹا سروس چلا رہی تھی۔ کبھی آپ سورس فورج پر گئے ہوں تو کسی بھی پراجیکٹ سے فائل اتارنے والے صفحے پر Get Support For xxx کا آئکن بھی نظر آتا ہوگا۔ میں بھی ایک عرصے تک اس بارے میں حیران ہوتا رہا ہوں۔ بہرحال اب سورس فورج نے اس سروس کو آزمائشی بنیادوں سے نکال کر آفیشلی جاری کردیا ہے۔ اسے سورس فورج مارکیٹ پلیس کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے چہرے و انداز کی بدولت سورس فورج اب اوپن سورس سافٹویرز کی مفت میں میزبانی کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت میں بھی حصہ لےگا اور گاہک و پروفیشنل میں رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ اس وقت مارکیٹ پلیس پر رجسٹرڈ پراجیکٹس کی تعداد 700 کے قریب ہے جس میں بہت تیزی سے بڑھوتری کی توقع کی جارہی ہے۔
بدھ، 5 دسمبر، 2007
سی این آر کا اجراء
یاد رہے سی این آر لِن سپائر کی کمرشل سافٹویر سروس تھی۔ لیکن فری سپائر کے اجراء کے بعد انھوں نے اسے فری سپائر میں بھی متعارف کروایا۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے ایک سافٹویر بنام سی این آر کلائنٹ فری سپائر کے ورژن 1.0 میں موجود تھا۔ لِن سپائر نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملکیتی مال کی جگہ سی این آر کا آزاد مصدر اور مفت ورژن ڈویلپ کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ فری سپائر 2 سے اسے اوبنٹو بیسڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی لِن سپائر اوبنٹو کو لے کر اس کے مواجے میں کچھ تبدیلیاں کرکے(فری سپائر کا طےشدہ ڈیسکٹاپ مواجہ کیڈی پر مشتمل ہے) اور کلوزڈ سورس ڈرائیورز و پلگ انز ڈال کر اسے فری سپائر کے نام سے جاری کرتا ہے۔ لِن سپائر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سی این آر اوبنٹو کے لیے جلد ہی دستیاب ہوگا اور اب اسے سب سے پہلے اوبنٹو کے لیے ہی جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسری ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔ ایک عام صارف کے لیے لینکس میں سافٹویر انسٹال کرنا اچھا خاصا درد سر ہوتا ہے۔ چونکہ اس کام کے لیے کئی پیکج مینجمنٹ سسٹم ہیں۔ ڈیبین کا .deb اور ریڈ ہیٹ و فیڈورا پر مشتمل ڈسٹروز کا .rpm اور تو اور مینڈریوا کا اپنا الگ ہی پیکج سسٹم ہے۔ پیکج لینکس میں ایگزی فائل کی طرح ہی ہوتے ہیں جو سافٹویر کو انسٹال کرنے کے کام آتے ہیں۔ لینکس دنیا میں ایک عرصے سے کسی ایک پیکج مینجمنٹ سسٹم پر اتفاق کے سلسلے میں متفق ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے نظام جاری بھی کیے گئے ہیں جو ڈسٹرو سے آزاد ہوتے ہیں یعنی ایسے فارمیٹ میں موجود سافٹویر کسی بھی ڈِسٹرو میں انسٹال ہوسکتا ہے۔ سی این آر بھی اسی سلسلے کی ایک منظم اور مربوط کڑی ہے۔
بحوالہ
پیر، 3 دسمبر، 2007
پی ٹی سی ایل کا پاکستان پیکج
ملک کی پرائیویٹ شدہ قومی فون کمپنی نے ایک نیا پیکج شروع کیا ہے۔ سرکاری چینل کے ساتھ ساتھ دوسرے چینلز پر بھی یہ مشہوری بڑے زوروشور سے آرہی ہے کہ اب پورے پاکستان میں لامحدود وقت کے لیے کال کریں۔ لیکن ان کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس میں کتنا جھوٹ ملا کر بول رہے ہیں۔
- پہلی چیز کہ یہ مفت نہیں ہے صارف کو اس کے لیے ماہانہ 200 روپیہ (ایک روپیہ کم کرلیں) علاوہ ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے
یہ وقت لامحدود نہیں ہے صرف پانچ ہزار منٹ ہیں۔
یہ لوکل کالز پر لاگو نہیں ہوگا۔ یعنی اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے رشتے دار بیرونی شہروں میں ہوں۔
َ
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آپ پر یہ سروس زبردستی لگا دی گئی ہے۔ یعنی اگر استعمال نہیں کرنی تو اسے ڈی ایکٹیویٹ کرواؤ
غضب خدا کا ہونا تو یہ چاہیے تھا جو کوئی چاہتا اسے ایکٹیویٹ کروا لیتا لیکن ان کی منطق ہی نرالی ہے۔ کوئی ان کے باپ کا نوکر ہے جو فون کرکر کے اس کو ڈی ایکٹیویٹ کرواتا پھرے۔
سب سے بڑا نقصان ان بے چاروں کو ہے جنھیں پتا ہی نہیں کہ انھیں ہر ماہ اضافی بل پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ چاہے وہ اسے استعمال کریں یا نہ کریں۔ دیہات کے سیدھے سادھے پی ٹی سی ایل صارفین کی تو واٹ لگ گئی۔ آپ بھی اگر اس زبردستی کے ڈھول سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں تو 1236 پر کال کرکے اسے ختم کروائیے۔
اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی اس کے بارے میں آگاہی دیجیے تاکہ اگر لوگ نہ اسے استعمال نہ کرنا چاہیں تو اس زبردستی کے ڈھول کو اتار پھینکیں۔
اس ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ عجیب لوگ ہیں اور عجیب حکومت ہے جس کو ذرا بھی خیال نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ پی ٹی اے والے کہاں سوئے پڑے ہیں۔
جمعہ، 30 نومبر، 2007
آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میںکمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میںاپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔
اردو میں بلاگنگ کیوں نہیں؟
میں آپ کو اپنی بات بتاتا ہوں۔ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ والد ناشتے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کا خرچہ مرچہ میں اپنے پلے سے پورا کرتا ہوں یا چھوٹے بھائی کی مہربانی کہ وہ کام کرتا ہے اور کیبل نیٹ کی فیس اکثر دے دیا کرتا ہے۔ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ساتھ اس لیے اکثر و بیشتر پایا جاتا ہوں کہ میرا سوشل سرکل بہت محدود ہے۔ خاندان میں پچھلے دس سال سے کوئی شادی اٹینڈ نہیں کی میں نے۔ دوست وہ جو یونیورسٹی وغیرہ میں ہیں۔ محلے میں بس کسی کسی سے سلام دعا ہے۔ تو میں جب کچھ نہیں کرتا تو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنا خون جلاتا ہوں۔ سڑتا کڑھتا ہوں اور بلاگنگ کرتا ہوں۔
اگر میں ایسا کرتا ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں کرتے؟
اول تو کسی کو اس کا شعور ہی نہیں۔ لوگ انٹرنیٹ کے بارے میں جانتے ہیں بلاگنگ کے بارے میں نہیں۔ میرے چھوٹے بھائی کو پتا ہے کہ میں بلاگنگ بھی کرتا ہوں۔ لیکن وہ اسی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر آرکٹ کو وزٹ کرنا پسند کرتا ہے اور کسی بی بی سے چیٹ کرنا اسے زیادہ مرغوب ہے۔
جو لوگ اس وقت بلاگنگ کررہے ہیں ان میں سے بہت سے بیرون ممالک سے بلاگنگ کرتے ہیں۔ یا کم از کم پردیس پلٹ ہیں۔
پاکستان میں بلاگنگ کرنے والے یا تو فارغ و البال قسم کے احباب ہیں۔ یا پھر وہ معاشی طور پر خوشحال لوگ ہیں۔ میرے جیسے چند ایک ہی ہیں یا پھر وہ لوگ جن کا وقت زیادہ تر نوکری کے سلسلے میں کمپیوٹر پر گزرتا ہے۔
انٹرنیٹ پر وقت یہاں فحش ویب سائٹس دیکھنے اور اس کے بعد چینٹنگ کرنے اور آرکٹ جیسی ویب سائٹس کو دیکھنے میں گزرتا ہے۔
بلاگنگ کیا خاک ہوگی؟
ابھی پاکستانیوں کو کم از کم پانچ سال مزید چاہییں کہ انھیں ٹیکنالوجی کا صحیح اندازہ ہوسکے۔
جمعرات، 29 نومبر، 2007
سکائپ لینکس بیٹا 2
سکائپ کو اوبنٹو میں انسٹال کرنے کے لیے یہ پیکجز درکار ہونگے: Qt 4.2.1, D-Bus 1.0.0, اور libasound2 1.0.12۔ سکائپ کے مواجے میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ آپشنز کے مینیو میں ایک نئے زمرے ویڈیو ڈیوائسز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
بدھ، 28 نومبر، 2007
کنونشل نے اوبنٹولینکس ڈویلپرز سروس جاری کردی
کنونشیل لیمٹڈ جو اوبنٹو کو سپانسر بھی کرتے ہیں نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ نئی لانچ پیڈ پرسنل پیکج آرکائیو کو موجودہ لانچ پیڈ ڈویلپمنٹ ویب سائٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔ یہ گروپس کو پیکجز کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی ڈویلپرز کو بھی آزاد مصدر اطلاقیوں کے ذاتی ورژن ہوسٹ کرنے کی سہولت دے گی۔
ڈویلپرز پی پی اے کو استعمال کرتے ہوئے ایک گیگا بائٹ کی سپیس حاصل کرے گا جہاں وہ اپنا سافٹویر پیکج چڑھا سکے گا۔ جبکہ شریک کار اس میں ہاتھ بٹا سکیں گے۔ یہ سپیس کنونشل کی طرف سے صرف فری سافٹویر کے لیے فراہم کی جائے گی۔
"پی پی اے جو آزمائشی مراحل میں تھا اب مکمل طور پر جاری کردیا گیا ہے" کمپنی نے کہا
" بہت سے ڈویلپرز موجودہ پیکجز میں تبدیلی یا اپنے سافٹویرز کے نئے پیکج بنانا چاہتے ہیں" کرسٹان روبوٹم ریز جنھوں نے کنونشل میں پی پی اے کے پراجیکٹ کی قیادت کی ہے نے ایک بیان میں کہا۔ "پی پی اے سروس ہر کسی کو اوبنٹو کا ڈویلپر بننے کی اجازت حاصل کیے بغیر اپنا پیکج شائع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ فری سافٹویر برادری میں دھماکہ خیز اضافہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پی پی اے پراجیکٹ ڈویلپرز اور ڈویلپمنٹ ٹیموں کو ان کے سافٹویر سازی کے بہترین تصورات کو صارف تک پہنچانے اور ان سے آراء کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔"
"انھیں تجربہ کار پیکج کاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی موقع ملے گا۔" انھوں نے کہا۔" پی پی اے ایک تعمیر کار اور اشاعتی نظام ہے جس میں کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہم لانچ پیڈ سے موبائل ماحول کے لیے پیکجز تیار کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کے سلسلے میں کافی پرجوش ہیں۔ "
کنونشل نے کہا کہ پی پی اے سروس ڈویلپرز کو براہ راست صارفین کے ساتھ ملادے گی اور صارفین یہ پیکج حاصل کرکے اپنے سسٹم میں صرف ایک اپڈیٹ سے نصب کرسکیں گے۔ نیز پی پی اے پر پیکج کا نیا ورژن جاری ہونے پر متعلقہ صارفین کو خودکارانہ اپڈیٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔
بحوالہ
منگل، 27 نومبر، 2007
دنیا بھی آخرت بھی :D
انجوائے کیجیے۔
بدھ، 10 اکتوبر، 2007
دوسال
میرے بلاگ کی پہلی پوسٹ پر 9 اکتوبر 2005 کی تاریخ درج ہے. بلاگ سپاٹ پر میں نے اکتوبر 2005 کے زلزلے کے ایک دن بعد پہلی پوسٹ لکھی تھی۔ اس کے بعد کبھی لکھا کبھی نہ لکھا اور پھر اسے ورڈپریس پر منتقل کرلیا۔ دوسال۔۔۔
پتا نہیں ان دوسالوں میں مَیں نے کچھ اچھا کام بھی کیا ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے اتنا احساس ہے کہ اردو بلاگنگ نے مجھے شعور بخشا۔ میں آج اگر بلاگنگ کرتا ہوں، یا ویب کے بارے میں میرے پاس کچھ علم ہے تو یہ میرے ان احباب کی کرم فرمائی ہے جو اردو محفل پر اور اردو بلاگنگ کی دنیا میں موجود ہیں۔
ان سب کا شکریہ جنھوں نے مجھے بلاگ شروع کرنے میں مدد دی، قدیر رانا، نبیل نقوی، زکریا اجمل اور محفل کے سارے دوست۔ ان سب کا شکریہ جن کے تبصروں اور حوصلہ افزائی نے مجھے مہمیز کیا کہ میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
منگل، 2 اکتوبر، 2007
نیوز پورٹل
یہ تھیم اس وقت مورخہ 7 جنوری 2007 کو ہمارے بلاگ کے زیر استعمال ہے۔ اس تھیم میں ایک آدھ ناقابل غور غلطیوں کے علاوہ اور کوئی غلطی موجود نہیں۔مکمل اردو ترجمہ شدہ ہے اور ویب پیڈ اس بار ہم نے تھیم کے فولڈر میں ہی رکھ دیا ہے اب صارف کو صرف اسے حاصل کرکے ورڈپریس کی /wp-contetn/themes ڈائرکٹری میں چڑھانے کی زحمت کرنا پڑے گی اور کچھ نہیں۔ اس تھیم میں قدیر احمد رانا کی مہربانی سے ایک اور چھوٹی سی خوبی بھی شامل کی گئی ہے کہ اس کا فونٹ اپنی پسند کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔ یہ کھڑاگ اس لیے پھیلانا پڑا کہ ہم جو پاک نستعلیق کے بڑے دعویدار بنے پھرتے تھے لینکس پر اس کے درست نظر نہ آنے کا سن کر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اور مجبوًا اردو نسخ ایشیا ٹائپ کو بنیادی فونٹ بنانا پڑا دوبارہ سے۔ البتہ اس جاوا سکرپٹ میں پاک نستعلیق کا انتخاب بھی شامل کردیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ پاک نستعلیق کا لینکس پر پیشکش کا مسئلہ جلد حل ہو اور ہم اپنے بلاگ اور آئندہ تھیموں کا بنیادی فونٹ اسے بنا سکیں۔ اگر آپ کو اچھا لگے تو دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔ وسلام اتارنے کے لیئے یہاں کلک کریں متبادل ربط
بدھ، 19 ستمبر، 2007
جگاڑ
کراچی والے دوست تکے لگانے کو شاید جگاڑ لگانا بولتے ہیں۔ صاحبو آج ہم نے بھی ایک جگاڑ لگائی ہے۔ اس جگاڑ کو آپ ہمارے بلاگ کے سائیڈ بار میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
یہ گوگل تلاش ہے جس میں ہم نے اوپن پیڈ گھسیڑ دیا ہے۔ اب گوگل بیبے بچوں کی طرح اردو یونیکوڈ میں تلاش کرے گا۔
یہ سب ہوا کیسے؟ کافی پرانا قصہ ہے۔ایک بار جب قدیر نے گوگل کسٹم سرچ پیج بنایا تھا جس میں صرف اردو کے صفحات تلاشے جاسکتے تھے میں نے اسے یہ آئیڈیا دیا تھا کہ گوگل کی اصلی تے وڈی والی تلاش میں ویب پیڈ (اب اوپن پیڈ) شامل کیا جانا چاہیے۔ قدیر نے تو یہ کام نہیں کیا لیکن میں آج ایویں یہ سب کر بیٹھا۔
کرنا کچھ تھا کر کچھ لیا۔ اپنا گوگل ایڈ سینس کھولا تو مبلغ چار ڈالر کی آمدن دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ سوچا بلاگ کو مزید "گوگلا" لوں۔ چناچہ اوپر اور دائیں اشتہارات موجود ہونے کے باوجود گوگل تلاش کا ایک اور آپشن ڈال دیا کہ مرغا کہیں تو پھنسے گا
مرغا کیا پھنستا ہم ایک بار پھر اردو کے چکر میں پھنس گئے۔ اپنے بلاگ کے تلاش خانے کو نیچے کیا اور اس کو اوپر کرکے اس میں ویب پیڈ کا کوڈ ڈالا۔ تھوڑی سی لیپا پوتی کی دو تین لیبل اردو کیے اور اب گوگل بیبا پاکستانی بچہ ہے۔ اگرچہ اس کی زبان انگریزی ہے لیکن کام یہ اردو والوں کے لیے کرے گا۔ غرض تھی کہ صارف اس سے تلاشے گا اور کہیں نہ کہیں کسی سپانسرڈ لنک پر جاپھنسے گا لیکن اب اردو ہوگیا تو کہاں کے لنک۔۔اردو میں تو سپانسرڈ لنک ہی نہیں۔ چلو خیر ہمیں یہ خوشی ہے کہ گوگل بغیر اردو سپورٹ کے اردو تلاش کردے گا۔
آپ بھی اپنے بلاگ میں اردو گوگل کو ڈال لیں۔ طریقہ بڑا سادہ سا ہے۔ گوگل ایڈسینس میں جائیں اپنے لیے ایڈسینس برائے تلاش منتخب کریں۔ پسند کے مطابق کوڈ سیٹ کرنے کے بعد اپنے بلاگ کے مطلوبہ حصے میں ڈال دیں۔
اس کے بعد اس کوڈ کا معائنہ کریں تو آپ کو یہ حصہ نظر آئے گا۔
<input type="text" name="q" size="31" maxlength="255" value="" id="sbi"></input>
بس اس کے نیچے اوپن پیڈ کو کال کرنے وال کوڈ ڈال دیں۔ <script language="javascript" type="text/javascript">makeUrduEditor("q", 16)</script>
یہاں یہ فرض کیا گیا ہے کہ اوپن پیڈ آپ کے تھیم میں پہلے سے شامل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو اس کو پہلے اپنے تھیم کی ڈائرکٹری میں کاپی کریں اس کے بعد ہیڈر ڈاٹ پی ایچ پی فائل میں جاکر
</header>
کے ٹیگ سے فورًا اوپر یہ کوڈ ڈال دیں۔
<script type="text/javascript" src="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/urdu-open-pad.js"></script>
<script type="text/javascript">
initUrduEditor();
</script>
ایک اور اللہ لوک سا کوڈ یہ ہے جو ویب پیڈ شدہ خانے میں زبان کو بدل سکتا ہے۔ یہی کام آپ کنٹرول سپیس سے بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارے لینکس پر چونکہ سسٹم میں زبان بدلنے کا شارٹ کٹ بھی یہی ہے اس لیے زبان اردو پر اردو ہوجاتی ہے بجائے کہ انگریزی ہو۔ چناچہ ہمارے لیے تو یہ مجبوری ہے اگرچہ کافی بھدا سا لگ رہا ہے یہ۔ لیکن آپ اپنی مرضی کے مطابق اس کوڈ کو بھی ڈال سکتے ہیں۔ ورنہ کنٹرول جمع سپیس سے زبان بدلنے کا شارٹ کٹ ایک جملے میں بتا دیں۔
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick='setEnglish("q")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick='setUrdu("q")'>
یہی کام پی ایچ پی بی بی فورمز اور اردو ویب سائٹس کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایڈسینس کے ساتھ ساتھ گوگل پر اردو تلاش کو بھی فروغ ملے گا۔ شاید گوگل کو اس طرح اردو والوں پر کچھ رحم آجائے اور زیادہ استفسارات ملنے کی صورت میں اردو صفحات کی قدر بھی بڑھ جائے۔
وسلام
جمعرات، 30 اگست، 2007
تھیم رے تھیم تیری کونسی کِل سیدھی
ہمارے بلاگ پر آپ مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس تحریر کے پیچھے ہمارا کیا حال ہوا ہم ہی جانتے ہیں۔۔۔۔تھوڑا سا آپ بھی جان لیں۔ ایک ماہ قبل ہم نے اس تھیم کو اردوانا شروع کیا تھا۔ اس دوران ہم نے لینکس کو دوبارہ نصب کیا تو سارا ڈویلپمنٹ ماحول پھر کرگیا۔ تھیم جو اس دوران اردو قریبًا ہوچکا تھا کی بیک اپ بنائی تھی۔ دو تین دن بعد وہ ساری پارٹیشن اڑ گئی۔ یعنی موج ماحول۔
ہم نے پھر کام الف سے شروع کیا۔ آج کل آج کل کرتے کرتے آج کا دن آگیا ہے۔ کبھی ترجمہ آگے پیچھے ہوجاتا تھا، کبھی گرافکس ٹھیک نہیں بیٹھتے تھے اور کبھی سی ایس ایس ناچ نچانا شروع کردیتی تھی۔ اللہ اللہ کرکے آج ہم نے اس کو مکمل کرہی لیا۔ پورے تین گھنٹے کی محنت کے بعد ہمارا سر بے سُرا ہورہا ہے تب جاکر یہ تھیم لگا ہے۔ ابھی بھی اس میں کئی جگہ نقائص ہیں۔ پوسٹ کے نیچے نظر آنے والے گرافکس عبارت کے پیچھے گھسے ہوئے ہیں۔ ویب پیڈ کی جگہ اوپن پیڈ شامل کرنے کی کوشش کی تو اس نے چلنے سے انکار کردیا چناچہ پھر سے ویب پیڈ چل رہا ہے۔
اب صبح آکر اردو ٹیک پر کسی کے پلے باندھتا ہوں تاکہ اس میں اوپن پیڈ شامل کرکے مجھے بھی دے اور وہاں بھی رکھ دے۔
آہ۔۔۔ہماری تھیم بیتیاں۔۔
منگل، 28 اگست، 2007
اردو مارفالوجی ایپلیکیشن
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔