پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 2 فروری، 2017

ایک خواہش

یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور  بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔

بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا  ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔

حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔

تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اپنے پاس بلا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔

پیر، 28 مارچ، 2016

ہر سانحے کے بعد

ہر کربلا کے بعد، ہر سانحے کے بعد، ہر گلشن اجڑ جانے کے بعد میں جو ایک پیشہ ور نوحہ گر ہوں بیٹھتا ہوں، نوحہ لکھتا ہوں۔ میں جو ایک پیشہ ور عزا دار ہوں، سینہ پیٹتا ہوں۔ ہر قیامت گزرنے کے بعد گریبان چاک کیے گلیوں میں مرثیے پڑھتا پھِرتا ہوں۔ ہر بار میرا دل کرتا ہے کاش میں اُن ﷺ کے قدموں میں جا کر بیٹھ سکتا۔ اُن ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر، اُن ﷺ کے سامنے بیٹھ کر رو رو کر پگھل جاتا۔ اُنھیں بتاتا کہ
سیدی ﷺ میرا وطن لہو لہو ہے۔
سیدی ﷺ، آپ کے نام لیواؤں نے ایک دوسرے پر زمین تنگ کر دی ہے۔
سیدی ﷺ میرے وطن میں بہار اُترے تو وہ بھی خزاں میں بدل جاتی ہے۔
سیدی ﷺ جہاں میرے نونہالوں کے گلشن ہونا تھے وہاں بارود اور موت کا راج ہے۔
سیدی ﷺ جہاں گلابوں کی کیاریاں ہونی تھیں وہاں خون کی سرخی کے کیارے ہیں۔
سیدی ﷺ اب تو لگتا ہے کہ نیلی چھتری والے نے بھی ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔
سیدی ﷺ آنکھیں رو رو کر صحرا ہو گئیں لیکن رحمت کی بارش نہیں برستی۔
سیدی ﷺ لگتا ہے کہ دعائیں بھی آدھ رستے سے واپس لوٹ آتی ہیں۔
سیدی ﷺ میں لاشے اُٹھا اُٹھا کر تھک گیا ہوں۔
کاش میں ان ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو سکوں۔ ان ﷺ کے سامنے رو رو کر پگھل جاؤں، ان ﷺ کے پیروں کی خاک ہو جاؤں ۔ کاش رنج و الم کی یہ گٹھڑی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بھاری ہوتی چلی جاتی ہے، میں انﷺ کے سامنے لےجا  کر رکھوں، انھیں ایک ایک زخم کھول کھول کر دکھاؤں۔ کاش مالک مجھ پر یہ کرم کر دے کہ میں اُن ﷺ کے سامنے حاضر ہو سکوں۔ اور عرض کروں کہ سیدی ﷺ اپنی رحمت کا سایہ کیجیے، ہم سے آسمان والا روٹھ گیا، ہماری سفارش کیجیے۔ سیدی ﷺ ہمیں کالی کملی کے سائے میں چھُپا لیجیے۔

منگل، 15 دسمبر، 2015

132 بچے

ہاں 132 بچے تھے اور 16 دسمبر کا دن تھا۔ پچھلے برس بھی جب یہ خبر میرے سامنے آئی تھی تو میں کلاس پڑھا رہا تھا۔ پھر جیسے جیسے شام ہوتی گئی قطرہ قطرہ کر کے غم برداشت سے باہر ہوتا گیا اور میری آنکھیں برس پڑی تھیں۔ یہ تحریر انہیں لمحات میں لکھی گئی تھی۔
آج ایک دن کم ایک برس بعد میرے اندر لگے الارم کلاک نے پھر وہی کیفیت تازہ کر دی ہے۔ آج میں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک سرد اور اجنبی سرزمین پر تنہا بیٹھا اسی غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔ 132 بچے اور ان میں ایک ننھی سی بچی بھی تھی۔ میرا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے شاید مجھے احساس نہیں ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں اس غم کا ایک اربواں حصہ شاید محسوس کر سکتا ہوں جو ان بچوں کے ماں باپ پچھلے ایک برس سے جھیل رہے ہیں۔ جوان اولاد کھونے کا دکھ تو میرے ماں باپ بھی سہہ چکے ہیں اس لیے شاید میں اس اذیت کا عینی شاہد ہوں جو تاعمر ماں باپ کے جھریوں زدہ چہروں میں پیوست ہو جاتی ہے۔ جوان اولاد کی موت کا دُکھ بہت بڑی اور بُری چیز ہے۔ کمر توڑ دیتا ہے، بال سفید کر دیتا ہے، قویٰ میں سے جان نکال لیتا ہے اور زندگی بھر کا روگ لگا جاتا ہے۔ ہر عید شبرات اور خوشی پر تازہ ہو جانے والے زخم دے جاتا ہے۔ ماں باپ کو اولاد کبھی نہیں بھولتی چاہے رب اور کتنے ہی دے دے۔ ماں باپ کو بنایا ہی ایسا گیا ہے۔
اور میں یہاں بیٹھا قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں۔ شاید یہ ان معصوم طلبہ کا دکھ ہے، یا ان سے پہلے اس جنگ کا ایندھن بننے والے ہزارہا معصوموں کا دکھ ہے یا میرا اپنا بازو ٹوٹ جانے کا دکھ ہے۔ میں جذباتی ترانے سنتا ہوں تو میرے اندر سے غم اُبل اُبل کر باہر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مرے ذہن میں بیٹھا ایک اور شخص جمع تفریق بھی کر رہا ہے۔
پچھلے ایک برس میں کیا بدلا ہے؟
آتش و آہن کے کھیل کو روکنے کے لیے آتش و آہن کے استعمال کے علاوہ ہم نے اور کیا کِیا ہے؟
تعلیم اور تربیت، ذہن سازی اور قوم سازی کے لیے ہم نے کیا کِیا ہے؟
ابھی کل ہی لاہور حفیظ سنٹر پر ایک مذہبی اقلیت کے نازیبا کلمات ہٹانے کے خلاف ہونے والے احتجاج کی خبر پڑھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ آخر بدلا کیا ہے؟ کیا رویے بدل گئے ہیں؟ کیا برداشت پیدا ہو گئی ہے؟
کیا تیس برس قبل ہم نے نفرت و عداوت اور شدت پسندی کا جو کوڑھ کاشت کرنا شروع کیا تھا اسے آج ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں؟
کیا ہم نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے؟
برداشت، رواداری، حسنِ سلوک اور محبت یہ وہ جادوئی رویے ہیں جو ہمیں پھر سے یکجا کر سکتے ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صرف آتش و آہن سے ہی نہیں کسی اور محاذ پر بھی ایک ضربِ عضب کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ذہنوں میں قانون سازی کرنی ہو گی۔ ہمارے ادارے (خدا کرے کہ یہ خیال درست ہو) اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں، بحیثیت قوم اور افراد ہمیں سبق سیکھنا اور اپنے رویوں کی اصلاح کرنی ہے۔ وگرنہ ہمارا کام ہر سفاکی کے بعد اس کو کفار کی سازش ثابت کرنا ہی رہ جائے گا جیسے پچھلے دنوں امریکی شہر میں ہونے والے قتل عام میں ملوث پاکستانی خاتون کے معاملے میں ہوا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ 
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

پیر، 22 دسمبر، 2014

کاش ایک بار۔۔۔

ممتاز مفتی کہتا ہے کہ مجھ پر غم فوراً اثر نہیں کرتا۔ دھیرے دھیرے، جیسے قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہے غم اندر ہی کہیں ٹپکتا رہتا ہے اور جب وہ اکٹھا ہو جائے تو پھر احساس میں شدت آتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایک بے حس شخص ہوں، جس کی حس بہت دیر کے بعد جا کر جاگتی ہے۔ جیسے ایپلی کیشن بیک گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہے ویسے میرے اندر کا میکانزم بھی دھیرے دھیرے غم جمع کرتا رہتا ہے اور پھر جب معاملہ برداشت سے باہر ہو جائے تو میرے اندر آتش فشاں پھوٹ پڑتا ہے۔

پشاور میں ڈیڑھ سو نونہال جان ہار گئے۔ میں نے اس دن ٹی وی نہیں دیکھا۔ یونیورسٹی میں تھا جب یہ خبر بی بی سی اردو پر دیکھی۔ مجھے افسوس ہوا ایک اور دہشت گردی کا واقعہ ہو گیا ہے۔ لیکن شام ہوتے ہوتے جب یہ خبر کھلی تو میرے اندر کھد بد مچنے لگی۔ اگلے دن اخبار پڑھتے ہوئے دو آنسو ٹپکے تھے۔ "مولا میرے بچے"۔ "یہ درندے انہیں چیر پھاڑ گئے"۔ اور اس کے بعد پھر میں نے اس غم کو اپنے اندر زبردستی بند کر لیا۔

آج فیس بک پر اسلامی تاریخ کے صفحے پر روزانہ اسلامی تاریخ کے سلسلے کے تحت ولادتِ رسول ﷺ کا واقعہ درج تھا۔ نبی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ مجھ جیسے ادنی ترین ایمان والے سے بھی رہا نہیں جاتا۔ دل موم ہو جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ دل کیا میں دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ کاش سائیں ﷺ سامنے مل جائیں۔ ایک بار اذنِ باریابی مل جائے۔ ایک بار مدینے میں حاضری کی اجازت مل جائے۔ میں چوکھٹ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روؤں۔

"یا رسول اللہ ﷺ میرے بچے!!"۔

"سائیں ﷺ میری قوم والے سارے سانپ کی نسل سے ہو گئے ہیں۔ اپنے ہی بچوں کو کھانے لگے ہیں"۔

"سائیں ﷺ آپ تو رحمت والے تھے۔ رحمت اللعالمین تھے۔ میری قوم پر نظرِ کرم ہو جائے۔ سائیں ایک نظر ہو جائے۔ سائیں ان بچوں کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔ خدارا ایک نظر کرم ہو جائے۔ حسنؓ اور حسینؓ کا صدقہ ایک بار نظرِ کرم ہو جائے۔ یہ جو ہر روز ایک کربلا اس قوم کا مقدر ہو گیا ہے، ایک نظرِ کرم ہو جائے"۔

کاش مجھے اذنِ باریابی مل جائے تو میں چوکھٹ پر سر رکھ کر فریاد کروں۔ کاش ایک بار۔۔۔۔

اتوار، 31 اگست، 2014

خود کلامی

میں اپنے کمرے میں بیٹھا سورج کو نکلتا دیکھ رہا ہوں۔ ایک شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے۔ 
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیا واقعی شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے؟ یا ایک شروع ہو رہی ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ 
شاید سورج آج معمول سے زیادہ اداس ہے۔ یا شاید نہیں ہے۔
شاید چودہ سو سال پہلے جب عثمان ابن عفان ؓ کی شہادت ہوئی تھی تب بھی ایسا ہی دن نکلا ہو گا؟
شاید فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ کے لعل حسینؓ ابنِ علی ؓ اور اسماء ؓ بنت ابی بکر ؓکے جگر گوشے عبداللہؓ ابن زبیرؓ کی شہادت کے بعد بھی ایسا ہی سورج نکلا تھا؟
نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ وہ تو محبوب بندے تھے۔ ان کے جانے پر تو ساری کائنات بھی روتی تو کم تھا۔ 
ساری کائنات روئی ہو گی۔ میں خود کو جواب دیتا ہوں۔ لیکن دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان نہیں ہوں گے۔
کیا یہ سورج ایک بار پھر بے گناہ مرگ دیکھ کر اداس ہے؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟ مجھے کچھ ہلیوسی نیشنز کچھ دماغی فتور یاد ہے۔
شاید مجھے بخار تھا؟ نیند میں بڑبڑاتا رہا ہوں؟ میں ہذیان بکتا رہا ہوں؟
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔ میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟
ہاں مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا ہے۔ میں نیم نیند میں رہا ہوں۔ 
میں سوتا بھی رہا ہوں اور جاگتا بھی رہا ہوں۔ بڑی لمبی رات تھی۔ 
میں ساری رات سنتا رہا ہوں، دوکانوں پر چلتے ٹیلی وژنوں پر جلتی بجھتی سرخیاں جو اتنی دور سے بھی میرے کان پھاڑتی رہی ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر کچھ مناظر اور کچھ تحریریں۔۔۔گلا پھاڑتی خاموش تحریریں۔۔۔
میں سنتا ہوں غریبوں پر بڑی لمبی رات تھی۔ ایک طرف کے غریب دوسری طرف کے غریبوں سے لڑتے رہے۔
ہر کوئی کنٹینر کی بات کرتا ہے۔ 
کون سا کنٹینر؟ میں سوال کرتا ہوں۔
اور میرے سامنے رنگ برنگے کنٹینر آ جاتے ہیں۔
ایک سے اعلان ہو رہا ہے کارکنو آگے بڑھو کپتان نے سوچ سمجھ کر تمہیں کہا ہے۔
ایک سے اذان نشر ہوتی ہے۔
اور کئی ایک کنٹینر ایک بستی کے اطراف میں پڑے ہیں، راستے بند کرنے کے لیے۔
میں نیم نیند کی کیفیت میں شاید ہذیان بکتا رہا ہوں۔ مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
لیکن یہ مرگ بر کنٹینر کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیوں کہ ہر کنٹینر کے پیچھے انا، مَیں ، تکبر اور گھمنڈ کی ایک ڈھیری چھپی ہوئی ہے۔ میں اپنے آپ کو جواب دے کر پھر سے نعرے لگانے لگتا ہوں۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
بخار شاید میرے دماغ کو چڑھ رہا ہے۔ اتنی گرمی بھی تو لگ رہی ہے۔ اوپر کپڑا لوں تو پسینہ آتا ہے ، نہ لوں تو سردی لگتی ہے۔
میں عجیب دوہری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کدھر جاؤں۔
یہ کروں یا وہ کروں۔
بے چینی اور بے کلی ہے۔ میں پھر انٹرنیٹ کھول لیتا ہوں۔
لوگ جاگ رہے ہیں۔ سب جاگ رہے ہیں، پاکستان جاگ رہا ہے۔ شاید میری طرح جاگ رہے ہیں؟ نیم نیند کی کیفیت میں؟ شاید انہیں بھی نیند نہیں آ رہی؟
ہر چند منٹ بعد ایک اسٹیٹس آ دھمکتا ہے۔ 
لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے ہیں۔ ایک ہجوم کو دوسرے ہجوم سے لڑتا دیکھ رہے ہیں۔ 
پیچھے کہیں کنٹینر بھی نظر آ رہے ہیں۔
ایک ہجوم وردی والا ہے۔ ایک ہجوم وردی کے بغیر ہے۔
لیکن کپڑوں سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کپڑوں کے اندر کون ہے؟
 تیس ہزار تنخواہ لینے والا ایک پولیس والا ہے۔ جس نے اپنے بچے پالنے ہیں۔
اس پولیس والے کے خلاف ایک کنٹینر بول رہا ہے۔ میرے کارکنوں کو کچھ نہ کہو ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
ہاں کارکن بھی ہیں۔ کارکن کون ہیں؟
عام لوگ ہیں۔ میرے جیسے۔ آنکھوں میں خواب سجائے وہاں گئے ہیں۔ 
نظام تبدیل کرنے کی خواہش لیے۔ اپنوں سے ٹکراتے ہیں۔
کیا یہ پولیس والے اپنے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں۔
اگر یہ اپنے ہیں تو انہیں پتھر کیوں پڑ رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
اگر یہ اپنے ہیں تو آنسو گیس کیوں برسا رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔
میں پھر اکتا جاتا ہوں۔
ایک جیسی باتیں۔ ایک جیسے اسٹیٹس۔ 
کوئی ایک کنٹینر کا حامی ہے۔ کوئی دوسرے کنٹینر کا حامی ہے۔
ہر کوئی کسی کو کوس رہا ہے۔
ہر کسی اسٹیٹس کے پیچھے موجود ہیجان صاف دکھائی دیتا ہے۔
جیسے اسٹیٹس گو سامنے بیٹھا کف اڑاتا ہوا سب کچھ چنگھاڑ رہا ہو۔
کنٹینروں پر لگے اسپیکروں کی طرح۔ یا شاید نہیں۔
ایک کنٹینر والا 14 لاشوں کا حساب مانگنے پہنچا ہے۔
ایک کنٹینر والا نیا پاکستان بنانے پہنچا ہے۔
اور ایک کنٹینروں والا استعفیٰ دینے کو تیار نہیں۔
تین اناؤں کی جنگ۔
لعنت ہو، لعنت ہو۔۔۔۔
مجھ پر پھر وحشت طاری ہوتی ہے۔ نیم نیند اور بخار مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ پھر وحشت اور ہذیان۔۔۔۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔۔
لاشوں کی سیاست کرنے والو۔ تمہیں خون کی پیاس ہے۔ تمہیں خون چاہیئے۔ غریب کا خون چاہیے۔ تبھی تمہارے اندر جلتی ہوسِ اقتدار کی آگ بجھے گی۔
پھر ہذیان ۔۔۔میں شاید پاگل ہو رہا ہوں۔ میں ہوش کھو رہا ہوں۔
کیا واقعی میں ہوش کھو رہا ہوں؟ 
اگر میں ہوش کھو رہا ہوں تو یہ جو ہجوم آپس میں گتھم گتھا ہے ، کیا یہ ہوش والے ہیں؟
یا ان کو لڑانے والے ہوش مند ہیں؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
لیکن مجھے لگتا ہے میں ہوش کھو رہا ہے۔
یا شاید مجھے نیند آ رہی ہے۔
میں سو جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر سکون سے گزرتی ہے۔ اور پھر سورج نکل آتا ہے۔
میں نماز بھی قضا کر بیٹھا ہوں۔
خدایا! یہ کیسا دن نکلا ہے؟
کیا شب ظلمات کا اختتام ہو گیا؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔
کیا ظلم کی سیاہ رات ختم ہو گئی ہے؟
کیا آنے والا عذاب ٹل گیا ہے؟
یا ایک اور ظلمتوں بھرے عہد کا آغاز ہو رہا ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

وزیرستان کے ضرورتمند بہن بھائیوں کے لیے عطیہ

رمضان بھی ہے اور وزیرستان کے بہن بھائی اس وقت ضرورتمند بھی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ، خیرات کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اپنا دل بھی ہو گا کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ قابل اعتماد تنظیم، شخص یا ادارے کو عطیہ دیں۔ اس سلسلے میں مَیں نے جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کو بہترین پایا ہے۔ جماعت الدعوۃ والوں کی خیراتی سروس فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی اچھی ساکھ کی حامل ہے لیکن ان کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ایک آدھ بار کے علاوہ کبھی ان کو عطیہ دینے پر دل مائل نہیں ہوا۔ ضرورتمندوں کو دیکھ کر برساتی کھبمیوں کی طرح اگنے والی جعلی تنظیموں سے ہوشیار رہیں۔ یاد رکھیں صدقہ دے دینا ہی آپ کی ذمہ داری نہیں، یہ بھی جہاں تک ممکن ہو یقینی بنائیں کہ وہ ضرورتمند تک پہنچے گا بھی۔ یہ بھی پوچھ لیں کہ متعلقہ ادارہ یا تنظیم وزیرستان کے لیے کوئی آپریشن چلا رہا ہے یا نہیں، اگر ہاں تو کہہ کر اس فنڈ میں پیسے لکھوائیں۔ آپ کے شہر میں بے شمار مخیروں نے خیرات کرنی ہے، وزیرستان تک جانے والے سو میں سے چند ہی ہوں گے۔ اس لیے یقینی بنائیں کہ آپ عطیہ دیں بلکہ یہ عطیہ ضرورتمند بہن بھائیوں تک پہنچے بھی۔ 
اللہ کریم جزائے خیر دے۔

ہفتہ، 28 جون، 2014

سیاہ سیات

اس ملک میں ایک دیوار ہو جانا، یا درخت ہو جانا، یا راستے کا کوئی پتھر ہو جانا چاہے اسے ٹھُڈے پڑتے رہیں، یہ سب آسان کام ہیں۔ لیکن انسان ہونا مشکل اور ہولناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ دیوار، درخت اور پتھر نہ سنتے ہیں نا بولتے ہیں۔ اپنی دنیا (اگر ایسی کوئی دنیا ہے تو) میں مست رہتے ہیں۔ کوئی توڑ دے، اکھاڑ دے یا ٹھُڈے مارتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بدقسمتی سے انسان سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ اور اس سننے بولنے دیکھنے کی وجہ سے اس ملک میں انسان ہونا انتہائی مشکل اور بدترین باتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ پتھر ہو جائے صم بکم بے حسی کی آخری حدوں کو چھو لے یا پھر کف اڑاتا اور گالیاں بکتا پھرے۔ اور یہاں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یا تو بے حس ہو جاؤ یا پھر لڑنے کے لیے ہر دم تیار رہو۔

اخبار، فیس بک، ٹیلی وژن کچھ کھول لو ہر جگہ باؤلے پاگل ک (کتے والا کاف ملحوظ خاطر رکھیں) کا ایک گروہ نظر آتا ہے جو اقتدار نامی ہڈی ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ زمانہ جاہلیت اور دو تین سو سال قبل والی بادشاہت اور اس سے پہلے خلافت کے بھیس میں بادشاہت موجود نہیں اس لیے صرف منہ سے کف اڑانے اور ہُورے مُکے دکھانے پر ہی اکتفا ہوتا ہے۔ ورنہ یہاں ہر چوتھے دن لاشوں کا جمعہ بازار لگا کرتا۔ ہر کوئی مصلح قوم بن کر تلوار اٹھاتا اور بادشاہ/خلیفہ کے خلاف نکل کھڑا ہوا کرتا۔

جس دن کوئی لغت تیار کی تو سیاست کا غیر رسمی نام کنجر خانہ بھی پاورقی میں لازمی دوں گا۔ کہ ہر وقت تو کنجر خانہ لگا رہتا ہے۔ اور اسی کنجر خانے کو قوم نے تفریح طبع کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سارا دن دوکانوں، گھروں، مسافر خانوں، دفاتر میں ٹیلی وژن چلتے ہیں۔ اور سارا دن اقتدار کے بھوکے ک کی بھونکیاں چار چار لکیروں کی صورت میں "بریکنگ نیوز" بن کر چلتی رہتی ہیں۔ فلاں ک نے یہ کہہ دیا، فلاں وڈے ک نے یہ کہہ دیا۔ ہر ک کے الفاظ وکھرے مگر مفہوم یکساں: مجھے اقتدار سونپ دو اور دیکھو پھر میں اس ملک کو ساتویں آسمان پر لے جاؤں گا۔ خود دفعان ہو جاؤ۔ 

قوم نے اس کنجر خانے کو اب قومی کھیل سمجھ لیا ہے۔ کرکٹ گیا، ہاکی پھُس ہو گئی، سکواش ٹھُس ہو گئی۔ کبھی دھماکے ہو گئے، کبھی غیر ملکی ٹیم پر حملہ ہو گیا۔ کبھی میچ لگا تو نچلی نسل کے محلے دار مصلحان قوم نے فتویٰ دے دیا لو ساری قوم کو میچ دیکھنے پر لگایا ہوا ہے، بھلا یہ کوئی شیوہ مسلمانی ہے؟ اور اب سیاسی کنجر خانے سے آنکھیں چمٹی رہتی ہیں، اسی میں تفریح تلاش ہوتی ہے، کھاتے پیتے سوتے جاگتے اسی سے کان بھرتے رہتے ہیں نتیجے میں خون مسلسل دھیمی آنچ پر کھولتا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نیم کھولنے کی کیفیت میں ایک نشہ سا آ گیا ہے۔ ساتھ خود ترسی کا جام بھرا ملتا ہے تو چسکیاں لیتے ہوئے دو آتشہ کیفیت ہو جاتی، پوری قوم اس افیم کے نشے میں دھت ہلکے ہلکے سرور میں کھوئی اپنے کام کرتی چلی جاتی ہے اور ک اپنے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔

ادھر کسی اور ملک سے ایک غیر ملکی اپنے گروہ کے ساتھ انقلابی پھکی لے کر نمودار ہوتا ہے۔ نعرہ نظام بدلنے کا ہے اندر خواہش اپنے اقتدار کی ہے۔ وہی پہلے پیرے والی بات: بیان وکھرا وکھرا۔۔۔۔لیکن مفہوم ایک بس مجھے اقتدار دے دو۔ ادھر کہیں سے کوئی خلافت کا نعرہ لگاتا ہے نظام نہیں سب کچھ بدلو جھُرلو پھیرو بادشاہت لاؤ پھر دیکھو کیا مزیدار چاٹ بنے گی۔ مفہوم وہی پہلے پیرے والا تم سب دفعان ہو جاؤ متقی اور پرہیزگار تو میں ہی ہوں اس لیے خلیفہ/ بادشاہ بننے کا حقدار بھی میں ہی ہوں بس مجھے اقتدار دو پھر دیکھتا ہوں۔ اور پھر کچھ جو زبان نہیں چلا سکتے وہ بندوق اٹھا لیتے ہیں کبھی مذہب کا نام ہے اور کبھی محرومیوں کا نام ہے لیکن منزل وہی ہے کہ اقتدار ملے۔

اور یہ قوم افیم کے نشے میں سوئی رہتی ہے ساتھ مارفین کے ٹیکے بھی لگتے رہتے ہیں: تمہارا ملک بڑا عظیم ملک ہے۔ ارے یہ تو اللہ نے بچایا ہوا ہے ورنہ جتنا اسے کھا لیا یہ تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ ارے ساری دنیا، کفار کے سارے ملک اور ساری ایجنسیاں اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ ارے اس کے بانوے ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہیں۔ ارے یہاں کیا چیز نہیں ہے، ہر چیز ہے بس یہ لوگ کھا جاتا ہے ہمیں نہیں دیتے۔ ارے اس کی جغرافیائی لوکیشن ہی تو سب کچھ ہے، اسی لیے تو امریکہ توڑنا چاہتا ہے اسے۔

مارفین کے نشے کے ٹیکے لگتے رہتے ہیں اور قوم لگے دم مٹے غم کا نعرہ لگا کر مست رہتی ہے۔ بجلی نہیں ملتی (گردشی قرضہ چڑھتا چلا جاتا ہے)، گیس ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور روٹی پکانے کو بھی نہیں ملتی، پانی، زرعی زمین، جنگلات غرض ہر قدرتی وسیلہ (جو جتنا بھی ہے) ہر روز ناسور کی طرح پھیلتی آبادی ہڑپ کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر دن اگلے دن سے زیادہ اوکھا نکلتا ہے۔ لیکن قوم اپنے آپ میں مست، جُتیاں بھی کھاتی رہتی ہے اور ہذیانی کیفیت میں بڑبڑاتی بھی چلی جاتی ہے۔ ہر دوسرے چوتھے دن کوئی ڈرامہ کھڑا رہتا ہے قوم کی انٹرٹینمنٹ کے لیے۔ کنجر کنجروں کے خلاف عدالت لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور قوم ہمیشہ کی طرح دھیمی آنچ والے نشے میں انجوائے کرتی رہتی ہے۔ کبھی ایک ک دوسرے کو جج کی کرسی پر برداشت نہیں کر سکتا اور جلدی باری لینے کے لیے لڑنے لگتا ہے کبھی ایک ک جب باری دے رہا ہو تو حاجی ہوتا ہے باری لینے پر آ جائے تو اسی ک کی پگ سر پر رکھ کر اس سے ایک انچ وڈا ک بن جاتا ہے۔ اور پھر ایک تیسرا ک کہیں اور سے آ کر کہتا ہے اوئے اے عدالت نئیں لگ سکدی ساڈا حصہ وی دؤ۔ سارا ڈرامہ چلتا رہتا ہے۔ اور پاکستانی یا تو پتھر، درخت  دیوار ہو جائے یا پھر گریبان پھاڑ کر ملنگ ہو جائے۔ درمیان میں کہہ رہ گیا تو دھیمی آنچ پر کھولتا اس کا لہو ایک دن لاوے کی طرح پھٹتا ہے اور نتیجے میں نقصان صرف اُس کا ہوتا ہے ک عدالت ویسے ہی لگی رہتی ہے۔

پر سانوں کی؟ ویسے بھی کنجر خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے؟

پیر، 24 مارچ، 2014

دو قومی نظریہ؟

اس قوم کی تاریخ میں اتنے بڑے بڑے ہاسے ہیں کہ ہس ہس کر وکھیاں ٹوٹ جائیں لیکن ہاسے مخول ختم نہیں ہوتے۔ مثلاً یہ دو قومی نظریہ ہی لے لیں۔ ایک وقت تھا جب ابو الکلام آزاد وغیرہ کے خیال میں دو قومی نظریہ کچھ نہیں تھا۔ آج کل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ابوالکلام بعد میں اپنے خیال پر پچھتائے۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ ابوالکلام نے کوئی پیشن گوئیاں کر دی ہوئی تھیں کہ بنگال اور مغربی پاکستان وغیرہ کے ٹوٹنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خیال چونکہ دو قومی نظریے کی جانب پچھواڑا کر کے چلتا چلا جاتا ہے اس لیے اس کے پچھواڑے پر ہی حتی المقدور لات رسید کر کے اسے  دفع دور کیا جاتا ہے اور دو قومی نظریے کی جی جان سے حفاظت کی جاتی ہے۔

سینتالیس میں جو دو قومی نظریے کے مبینہ مخالف تھے آج وہ اس کے مبینہ وارث بنے بیٹھے ہیں۔ اور جو دو قومی نظریے کے مبینہ وارث تھے آج کل وہ مبینہ طور پر فریڈم مارچ وغیرہ نکالتے پائے جاتے ہیں۔ ہے نا ہاسے والی گل۔ سنا ہے کہ جس دن محمد بن قاسم نے برصغیر پر حملہ کیا تھا اس دن یہاں دو قومیں بن گئی تھیں ایک مسلمان اور ایک ہندو۔ پھر سینتالیس ہو گیا اور پھر اکہتر ہو گیا اور مسلمانوں کے اندر دو مزید قومیں بن گئیں۔ ایک بنگالی اور ایک پاکستانی۔ اور پھر اپنی ماں پاکستانی قوم کو کھا کر اس کے پیٹ سے کوئی ادھی درجن اور قومیں نکل آئیں۔ انہیں میں سے کل سندھی نامی ایک قوم کوئی لال جھنڈے اٹھائے کسی پاکستان نامی ملک سے آزادی کے نعرے لگا رہی تھی۔ ہے نا ہاسے والی گل کہ دو قومی نظریہ جو اب کثیر قومی نظریہ ہو گیا ہے لیکن نہیں ہوا۔ عیسائیوں کی تثلیث کی طرح۔ سارے ایک ہیں اور ایک سارے ہیں۔ کیسی ہاسے والی سی گل ہے نا جی؟

دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور باقی کافر ہیں۔ چنانچہ دنیا میں صرف دو قومیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ ارے نہیں مسلمان ایک امت ہیں۔ اور کافر ایک اور امت ہیں دو پھر دو امتیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ یعنی دو بیانات کو اکٹھا کریں تو ریاضی کی زبان میں قوم = امت۔ اور نتیجہ؟ ایک پانچ ٹانگوں اور دو دھڑ والا بچہ۔ جو امت بھی ہے اور قوم بھی ہے۔ قوم بھی ہے اور امت بھی ہے۔ اور پھر اس قوم/امت میں سے کبھی عرب قوم نکل آتی ہے اور عجمی قوم نکل آتی ہے۔ پھر عرب قوم میں سے سعودی قوم قطری قوم سے سفیر واپس بلا لیتی ہے۔ اور پھر پاکستانی قوم میں سے بنگالی قوم الگ ہو جاتی ہے۔ اور پھر سندھی قوم بھی ہو جاتی ہے اور مہاجر قوم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ امت کدھر گئی؟ لگتا ہے قوم = امت فٹ نہیں بیٹھتا۔ یہ اتنی ساری قومیں ایک ہی مذہب کی بنیاد پر کیوں ایک امت نہیں رہ سکیں؟ یا یہ امت ہی ہیں اور قوم کو امت کے برابر رکھ کر دو دھڑ پانچ ٹانگوں والا بچہ زبردستی جنا گیا ہے؟ یا شاکر فیر اپنے پاغل پن میں اول فول بک رہا ہے؟ ایہہ کی چکر است؟

گل سوچنے والی ہے نا؟ دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ قوم مذہب کی بنیاد پر بنتی ہے۔ اسلام آ گیا تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان قوم ہو گئی اور ایک کافر قوم ہو گئی۔ پر چودہ سو سال کی تاریخ میں مذہب قبائلی، لسانی، جغرافیائی اور نسلی تعصبات کیوں ختم نہ کر سکا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مذہب کی بنیاد پر قومیں بنتیں اور پھر قوم = امت ہو کر مسئلہ حل ہو جاتا۔ لیکن اس گندی غیر مثالی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ چند ایک مستثنیات کے علاوہ قوم پرستی اور قوم بندی میں مذہب کے ساتھ کوئی آدھ درجن اور فیکٹر آ شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے پھر امت کا تصور روحانی رہ جاتا ہے، بلکہ اخلاقی رہ جاتا ہے۔ چلیں اپنے صدر صاحب کی مثال لے لیں۔ وہ ہیں تو سہی لیکن بے ضرر ہیں، بس نام کے ہیں۔ تو امت بھی ہے تو سہی لیکن نام کی ہے۔ جس دن اللہ کا کوئی فرستادہ قیامت سے پہلے مسلمانوں پر اتر آیا تو قوم اور امت اکٹھے ہو جائیں شاید۔ اس سے پہلے امت وہ اوووووووووووپر آسمان پر موجود ایک تصور ہے۔ نظر تو آتا ہے، اچھا بھی لگتا ہے، اپنانے کو بھی دل کرتا ہے لیکن پھر یہ گندی دنیا، گندی باتیں، گندی دنیا داری اور مادی فائدے یہ سارے نظر کو گدلا کر دیتے ہیں دھندلا دیتے ہیں اور زیادہ مادی تصور یعنی قوم بحساب نسل، رنگ، جغرافیہ، زبان پر نظر چپک جاتی ہے۔ مذہب بھی حصہ رہتا ہے لیکن اسی طرح جس طرح باقی فیکٹر ہیں کبھی ذرا برتر کبھی ذرا کم تر۔ کبھی فیصلہ کن لیکن ہمیشہ نہیں۔ ویسے ہی جیسے بنگالیوں کی بار زبان فیصلہ کن ہو گئی تھی، پاکستان کی بار مذہب فیصلہ کن ہو گیا تھا۔

پر دو قومی نظریے کے وڈے یہ بات نہیں مانتے ان کے خیال میں ایک ہی قوم ہوتی ہے جس کا نام پاکستانی قوم ہے۔ اگر اس قوم کے علاوہ کوئی قوم مان لی تو پاکستان تو گیا۔ پاکستان کیوں گیا بھائی؟ پاکستان ایک حقیقت ہے اور کہیں نہیں جاتا۔ ساری قوموں کو تسلیم کرنے سے بھلا پاکستان کیوں کہیں جائے گا۔ یہ ہمارا گھر ہے، ہمارا وطن ہے، جیسے سعودی عرب سعودیوں کا وطن ہے۔ جیسے مکہ اور پھر مدینہ نبی ﷺ کا وطن تھا اور نبی ﷺ کو اپنے وطن سے محبت تھی۔ تو ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے۔ اس میں اتنا ڈرنے والی کیا بات ہے اگر اتنی ساری قومیں نکل آئی ہیں؟ شش، چپ رہو، بات نہ کرو، خبردار، ہٹو بچو کہہ کر کیا زبانیں بند کروا لو گے؟ دنیا اور چیخ چیخ کر کہے گی کہ بلوچستان کی تاریخ پاکستان سے الگ ہے۔ یہ کل ہی ایک سنڈے میگزین میں ایک بلوچ لکھاری کا ارشاد لکھا ہوا تھا۔ فریڈم مارچ ہوں گے۔ کراچی صوبہ اور سرائیکی صوبے کے نعرے لگیں گے۔ حق دو، جینے دو۔ پاکستان کی فیڈریشن میں ہر کسی کو حقوق دو۔ دو قومی نظریے نے پاکستان بنا دیا۔ اب اس کو قائم رکھو اور یہ قائم رکھنا دو قومی نظریے نہیں کثیر قومی نظریے سے ممکن ہے۔ اس ملک کے اندر دیکھو۔ اندر سے خطرے ہیں، آدھی درجن قوموں کے خطرے۔ تقسیم در تقسیم ہونے کے خطرے۔ ان کو زبردستی باندھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ محبت پیار امن آشتی سے فاصلے مٹاؤ۔

کب تک ستر سال قبل کی دنیا میں جیو گے۔ آج کو دیکھو، آج اس وقت کو 2014 کو۔ آج پاکستان بنانا نہیں اسے قائم رکھنا ہے۔ اندر سے ہی گھن کھا گیا تو کھوکھا کس مول کا؟ گھن لگی لکڑی تو ایک ٹھوکر نہیں سہہ پاتی۔ خدارا اسے گھن لگنے سے بچا لو۔

ہفتہ، 22 مارچ، 2014

نفاذِ اسلام

میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے کالج سیکشن میں ایک کلاس پڑھا رہا تھا۔ بچوں کو لکھنے کے لیے ایک محرکاتی عنوان دیا ہوا تھا۔ آپ کے بس میں ہوتا تو کیا بہتر کرتے۔ کچھ اس قسم کا عنوان تھا اور بچے نے انگریزی میں کچھ فقرے لکھنے تھے۔ ایک بچہ کلین شیو، جینز پہنی ہوئی۔ اس نے ٹھیک کرنے کے لیے جو چیز لکھی تھی وہ مسلمانوں کا دین تھا۔ بچہ دینِ اسلام نافذ (اِمپوز) کرنا چاہتا تھا۔ اس کے الفاظ اور تاثرات کی شدت مجھے آج کئی ماہ بعد بھی ابھی کل کی بات لگتی ہے۔

مولوی ارشد میرے محلے میں کسی دوسرے شہر سے آ کر حجام کی دوکان کرتا ہے۔ اچھا ملنسار بندہ ہے۔ اس کے پاس بیٹھے ہوں تو حجاموں کی عادت کے عین مطابق باتیں کرنا اور سننا چلتا رہتا ہے۔ کوئی ایک ڈیڑھ برس سے اس سے ہی بال کٹوانے ہوتے ہیں، اچھا کام کر لیتا ہے اور اسے پتا ہے کہ میں کیسے بال کٹواتا ہوں۔ کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے دوکان کے سامنے سے گزرا تو اس نے لکھ کر لگایا ہوا تھا ہمارے ہاں شیو نہیں کی جاتی۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور حسبِ عادت تپ بھی چڑھی۔ میں نے کوئی دو چار باتیں بھی کہیں سنیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ بات کوئی ایسی غلط بھی نہیں، ویسے بھی اس کا حق ہے جو کام اس کا دل نہیں مانتا نہ کرے۔ خیر میں بال اب بھی اسی سے کٹواتا ہوں۔ اس تبدیلی کے بعد ایک آدھ بار ملاقات میں اس کے ساتھ اسلام پر بات چھڑ گئی اور بات کا اختتام سزاؤں پر ہوا۔ اللہ کی کتاب میں سزائیں بیان کی ہوئی ہیں، اس کا کہنا تھا۔ سزائیں نافذ کر دو، سارے تیر کی طرح کیسے سیدھے نہیں ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 

اسلام کے "نفاذ" اور مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے کے حوالے سے مسلمانوں میں یہ جذباتی بخار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ اسلام نافذ کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔   خلافت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ امریکہ کو جواب خلافت ہی دے سکتی تھی۔ اور پھر لشکر اور مسواک والی روایات۔ جنگ نہ جیت سکنے کی وجہ مسواک کا نہ کرنا۔ 

جذبات ، بیانات اور گفتار یہ ہے اور عمل یہ ہے کہ شادی بیاہ پر رنڈیاں بھی نچواؤ اور ربیع الاول میں عاشقِ رسول کا ٹیگ ایک عدد نقش بھی سینے پر لگاؤ۔  میں سوچتا ہوں کہ نبی ﷺ نے مکے میں زندگی کے تیرہ سال گلا دئیے۔ اپنے رشتے داروں، رشتے کے بھائیوں، بیٹوں، چچاؤں، ماموؤں کو دعوتِ دین دیتے رہے۔ نبی ﷺ نے تو آتے ہی نہ کہا کہ اسلام نافذ کر دو۔ اپنی زندگی کے سنہرے تیرہ سال ان لوگوں پر قربان کیے اور پھر ہجرت کی، جب کوئی چارہ نہ رہا۔ مدینے کے دس سال اور ان دس سالوں میں بھی اسلام پہلے انفرادی زندگیوں میں آیا پھر اجتماعی زندگی میں، بیک جنبشِ قلم نہیں بتدریج۔ پہلے دعوت و تربیت اور پھر عمل کا تقاضا۔ کیا ہی پیارا طریقہ تھا اور کیا ہی پیارا انسان ﷺ تھا جس نے سب کیا۔

آج اس دوغلے اور منافق معاشرے کو ٹھیک کرنے کے دعوے دار انقلابی ، بندوق بردار اور "شرعی" داڑھیوں والے، ان کی سمجھ میں کیوں یہ بات نہیں آتی کہ اسلام نافذ کرنا ہوتا تو اللہ اور اس کے نبی نے اسی دن کر دینا تھا جس دن جبریل پہلی وحی لے کر اترا تھا۔ انہیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ حکومت کے اسلام "نافذ" کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ اس وقت ہوتا ہے جب عوام اپنے اوپر اسلام خود طاری کرے۔ 

خدا ان کو ہدایت دے، خدا ہمیں ہدایت دے، خدا ہم پر رحم کرے، خدا اس ملک اور قوم پر رحم کرے۔ ان لوگوں نے اسلام کا نام، شریعت کا نام بیچ بازار رسوا کر ڈالا۔ ان کی انقلابی پھُرتیوں، ان کی فرقہ وارانہ سازشوں، ان کے فہمِ دین نے آج اجتماعی سطح پر اسلام پر عمل کی کسی بھی کوشش کو اسلام مسلط کرنا بنا دیا۔ انہوں نے سیاست کے نام پر اسلام کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے سچ کر دکھایا کہ جہاں مذہب اور سیاست یکجا ہوئے وہاں یہی کچھ ہو گا۔ لوگ ڈرتے ہیں، اسلام کے نفاذ سے ڈرتے ہیں۔ لوگ خوف کھاتے ہیں، پتھر اٹھائے وحشی ہجوموں کا خوف جو کسی کو بھی زانی قرار دے کر پیوندِ زمین کر سکتا ہے۔ کٹے ہوئے ہاتھوں کا خوف، کسی نے روٹی چرائی ہو، دس روپے چرائے ہوں یا دس ہزار چرائے ہوں۔ سرِ بازار کوڑوں کا خوف، جرم کوئی بھی ہو سزا کوڑے ہوں گے۔ لوگ دھماکوں سے ڈرتے ہیں، سی ڈی اور حجاموں کی دوکانوں پر دھماکوں سے ڈرتے ہیں۔ سینماؤں میں دستی بموں کے حملوں سے ڈرتے ہیں۔ 

نفاذِ اسلام کے نام پر مافیائیں وجود میں آ چکی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے، ہر ایک کا اپنا نعرہ ہے، ہر ایک کا اپنا حلیہ ہے۔ ہر کوئی اسلام کے نام پر اپنے فرقے کا نمائندہ ہے۔ ہر کسی نے اسلام کو سیاست میں بیچ بازار بے پردہ کیا ہوا ہے۔ اسلام کے نام پر دوکان سجائے بیٹھا ہے، ڈگڈگی چل رہی ہے اور بندر اس ڈگڈگی پر محوِ رقص ہیں۔ نام اسلام کا، فائدہ سیاستدان کا۔ 

اور پھر میں سوچتا ہوں یہ کافر جو سارے ہیں، اس دنیا میں جو پچاس ساٹھ فیصد کافر ہیں اور کافر ملک ہیں۔ یہ جو امریکہ اور یورپ نامی کافروں کے علاقے ہیں۔ انہوں نے بھی کیا اسلام نافذ کیا ہوا ہے؟ وہ تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں نا، کافروں کا نظامِ حکومت۔ پھر بھی ان کے شہری ہم سے زیادہ سکون میں کیوں رہتے ہیں؟ ادھر یہ بھارت میں کجریوال جیسے ہندو مشرک، وہ کیسے مسلمان نہ ہو کر بھی اچھے کام کر لیتا ہے۔ پھر میں اپنے ملک میں دیکھتا ہوں ہر کسی کے نام کے ساتھ نبی ﷺ کا نام ہے، آلِ نبی ﷺ کا نام لگا ہوا ہے۔ لیکن کام کیسے ہیں؟  اور پھر یہ نفاذِ اسلام کی بات، یہ کونسے نفاذ کی بات کرتے ہیں؟ ہر بات کا حل نفاذِ اسلام ، ہر بات کا حل ایک عدد "اسلامی" حکومت۔ 
میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے پتا نہیں کیا کیا کفریہ سوچ سوچتا ہوں۔

جمعہ، 2 اگست، 2013

اگست

ابو جی کبھی کبھی بتایا کرتے ہیں کہ تیرے دادے کے پاس بڑی زمین تھی۔ اور تیری دادی بڑی شیر دل عورت تھی۔ دادا جی آخری عمر میں ذہنی توازن کھو بیٹھے ۔ نماز پڑھنے نکلتے تو گھر کا پتا بھول جاتے تھے۔ چارپائی پر دھوپ پڑتی تھی تو نیچے اس کے سائے کو جانوروں کا کترا ہوا چارہ سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیتے۔ آوازیں دینے لگتے کہ وچھے کو ڈالو وہ بھوکا ہے۔

ابو جی بتایا کرتے ہیں کہ دادی ایک بار اکیلی کماد میں ڈنڈا لے کر بیٹھ گئی۔ ایک باہر والا (خنزیر شاید) بہت تنگ کرتا تھا، دادی نے اکیلے ڈانگ کے ساتھ اس کا کریا کرم کر دیا۔
ابو جی سب سے چھوٹے تھے ۔ ابوجی سے پہلے چار پانچ بھائی چھوٹے ہوتے ہی فوت ہو گئے۔ ان کے اور دوسرے تایاؤں کے نام دوبارہ دوبارہ رکھے ہوئے تھے، مرنے والے بچوں کے نام پر۔ سنا ہے ہمارا سب سے بڑا تایا عبدالحق ہجرت کے وقت ہوش سنبھال چکا تھا۔ تایا عبدالحق اب اللہ بخشے اس دنیا سے گزر چکا ہے۔ تایا عبد الحمید بھی بس چارپائی سے لگ گیا ہے۔ تایا عبد الجمیل بھی سنا ہے اس وقت لڑکپن میں تھا، پر ان کا ذہنی توازن بھی اب ٹھیک نہیں رہا، انہیں اب باتیں یاد نہیں رہتیں۔ بس اپنی اولاد کے نام اور چہرے یاد ہیں، اور بھائیوں کے چہرے ۔ بس ۔۔۔۔ایک پھوپھی تھی وہ بھی چھ سات برس پہلے چل بسی۔

بڑے کزن بتاتے ہیں کہ دادے کا نام شیر محمد، پڑدادے کا نام ماموں تھا۔ لکڑ دادے کا نام بھی شاید بتایا وہ یاد نہیں رہا۔ ابو جی کی یادیں اکثر فیصل آباد آنے کے بعد کی ہیں، گٹی اسکول جاتے تھے پیدل، یا بھڑولیاں والا جو ڈجکوٹ، فیصل آباد کے نزدیک ایک پنڈ ہے۔ جہاں ہمارے دادے کو بارڈر پار آنے کے بعد پانچ ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تھی، بھارتی پنجاب کی زمین کے بدلے۔ اب پتا نہیں دادے کی کتنی زمین تھی وہاں۔ لیکن یہاں پانچ کِلّے ہی ملی، جس میں سے کوئی دو کِلّے کلر زدہ ہے وہاں پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔ ڈجکوٹ اور فیصل آباد سارا نہری علاقہ ہے زمین کا پانی آک جیسا کڑوا۔ پِنڈ وہاں ہے جہاں نہر چھوٹی ہوتے ہوتے راجباہ رہ جاتی ہے۔ وہاں پانی بھی بس ایسے ہی پہنچتا ہے۔ ابا جی کواب آ کر ان پانچ کِلّوں میں سے ایک حصے آئی ہے، تین چار ٹکڑوں میں۔ جہاں ہم پچھلے دو سال سے گندم کاشت کرتے ہیں۔
یہ ساری یادیں اور پھر اگست آ جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا مجھے اگست کا بڑا شوق تھا۔ بیج لے کر لگاتا تھا، جھنڈا لگایا جاتا تھا۔ اللہ بخشے پچھلے سال فوت ہونے والا چھوٹا بھائی باقر بھی جھنڈا لگانے اور چراغاں کرنے کا بڑا شوقین تھا۔ شاید میں بھی اس کی عمر میں ایسا ہی تھا۔ لیکن اب عرصہ ہوا، آٹھ دس سال ہو گئے مجھے چودہ اگست کا دن زہر لگتا ہے۔ اس وجہ سے کے میرے ارد گرد کے لوگ سلنسر نکال کر جشن آزادی مناتے ہیں۔ اور بین کرنے والی آوازوں والے واجے وجاتے ہیں۔ پہلے پہلے پریڈ وغیرہ بھی ہوا کرتی تھی، شاید 23 مارچ کو تو اس سے بھی کچھ "حب الوطنی" جاگ جاتی تھی۔ اب وہ بھی نہیں ہوتی، تو حب الوطنی کو ڈنڈا دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس لیے حب الوطنی سوئی رہتی ہے۔
عرصہ ہوا میری سوچ اُلٹی ہو چکی ہے۔ مجھے جو پہلے سیدھا نظر آتا تھا اب اُلٹا نظر آتا ہے۔ پاکستان بننا جو ایک سادہ حقیقت لگتی تھی، جیسے دو جمع دو چار ہو اب یوں لگتا ہے جیسے سارا سیاست کا کھیل تھا۔ پنجاب کے جاگیر داروں نے پنجاب کو پاکستان بنا دیا، بلوچستان والے روتے ہیں کہ ہم سے ہاتھ ہوا، سابقہ سرحد والے شاید وہاں بھی کوئی ریفرنڈم کا چکر تھا سرحدی گاندھی وغیرہ۔ اور پھر سندھ اسمبلی تھی جہاں قرارداد پاس ہوئی تھی، اب پتا نہیں متفقہ تھی یا ہمارے آج کل کے وزرائے اعظم کے انتخاب کی طرح سادی اکثریت سے پاس ہوئی تھی۔ اور بنگال تھا جو پھر بنگلہ دیش بن گیا۔

اور پھر چودہ اگست کو شہداء کی قربانیاں، اور ان کے رونے، جو مر گئے ان کے بین۔ اور اس ملک کی بنیادیں اور ان کا خون وغیرہ وغیرہ۔ ایک عرصے تک میں اسے عظیم قربانی سمجھتا رہا۔ معلومہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت، پاکستان کے لیے ہجرت۔ ایک نظریاتی ملک کے لیے ہجرت۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ لاکھوں لوگ اس کے لیے کٹ مرے۔ پنجاب کے بزرگ، بڑے بوڑھے بتاتے کیسے انہوں نے خون کےدریا پار کیے۔ پھر میری سوچ الٹی ہو گئی۔ اور مجھے ادھر اُدھر سے پتا لگنے لگا کہ اُدھر والے "کافروں" نے بھی ایسے ہی چھوٹے موٹے دریا نہیں تو خون کی ندیاں کم از کم ضرور پار کی تھیں۔ مستنصر حسین تارڑ کہتا ہے لاہور میں لکشمی مارکیٹ ہوا کرتی تھی کہ محلہ ہوا کرتا تھا۔ امیر ہندوؤں کی آبادی، جسے پتا نہیں کس نے ساڑ کر سواہ کر دیا کہ کئی دن تک اس کی راکھ اطراف کے علاقوں پر گرتی رہی۔ اور پتا نہیں کتنے اس چتا میں جل گئے۔ اور وہاں، باقی رہ جانے والے لاہوریے ہندوؤں کے خزانے کھودنے جایا کرتے تھے۔ تارڑ جاٹ ہے، اور جاٹ سنا ہے سکھ ہوا کرتے تھے مسلمان ہونے سے پہلے۔ اور تارڑ کہتا ہے کہ سکھ جاٹ اور مسلمان جاٹ سارے خوشی غمی شادی بیاہ پر اکٹھے ہوا کرتے تھے مذہب سے بالا ہو کر۔ پر پھر ۔۔۔۔پھر شاید سینتالیس آ گیا یا اس سے پہلے ہی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں۔

پھر ہجرتیں ہوئیں۔ ادھر آنے والے مہاجر کہلاتے، اُدھر جانے والے شرنارتھی۔ سنا ہے پہلے "کافروں" نے مسلمانوں پر حملے کیے ان کے خون بہائے، ان کی بیٹیاں اغواء کیں اور ان کے بوڑھوں اور بچوں کو قتل کیا۔ پھر سنا ہے کہ اِدھر کے مسلمانوں کو بھی جوش آیا اور انہوں نے بھی یہی کچھ کیا۔ لیکن یہ دوسرا سنا ہے مجھے بعد میں پتا چلا جب میں اُلٹی سوچ والا ہو گیا تھا۔ جب میں نے آگ کا دریا کے بارے میں سن لیا تھا، پتا نہیں قراۃ العین حیدر کیا کہتی ہے اس میں لیکن ایسا ہی کچھ سنا ہے اس کے بارے میں۔ کہ مسلمان بھی حاجی لق لق نہیں ہو گئے تھے، انہوں نے بھی "کافروں" کی بینڈ بجائی تھی، جتنی ان سے بج سکی۔
پھر کچھ انصار بن گئے۔ انصار بن کر خود ہی مہاجروں کی اراضیوں، حویلیوں، مکانوں، جائیدادوں پر قابض ہو گئے۔ راتوں رات امیر ہو گئے۔ کچھ کے تکے لگ گئے وہ ادھر آ کر امیر ہو گئے۔ کچھ کے نہ لگے وہ غریب ہی رہے۔ پتا نہیں میرا دادا امیر تھا یا غریب۔ میرے ابو جی کی یادیں دھندلی ہیں، ہم کونسا سید ہیں جو شجرہ رکھتے، مجھے تو ابھی تک یہ نہیں یاد ہوا، کہ ہم جالندھرئیے تھے یا ہوشیار پورئیے۔ ہر بار کزن سے پتا کر کے بھول جاتا ہوں ۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید ہم وہاں اچھے حال میں ہوتے، یا شاید نہ ہوتے۔
لیکن ہر سال چودہ اگست آ جاتا ہے۔ اور مجھے مجبوراً رونے والا منہ بنانا پڑتا ہے۔ کہ یہ روایت ہو گئی ہے مرنے والوں کا بین کرنے کے لیے، یاد دہانی کے لیے کہ یہ ملک کیسے وجود میں آیا تھا۔ پر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے میرے پاس بین کے آپشن وسیع ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر پچھلے دس برس میں ادھر شمال مغرب کی جانب بین کے وسیع مواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ادھر کراچی میں جنوب میں بڑی زرخیزی ہے۔ ادھر جنوب مغرب میں، بلوچستان میں خون تھوک کے حساب سے بہہ رہا ہے۔ میرے پاس اب پینسٹھ سال پہلے مرنے والوں کے بین کے علاوہ بھی آپشن موجود ہیں۔ میں اتنا پُر ہو چکا ہوں کہ سمجھ نہیں آتا کس کا بین کروں، کس کس کا بین کروں۔ بین کروں یا نہ کروں۔ اس ملک کے بننے کا بین کروں، یا بننے کے بعد بگڑنے کا بین کروں۔ سینتالیس میں مرنے والوں کا بین کروں، بے گناہوں کا جو مسلمان تھے ان کا یا جو مسلمان نہیں تھے ان کا (مسلمان نہیں تھے کا بین نہیں بنتا ویسے یہ ان کا کام ہے جو مسلمان نہیں ہیں، اصولی طور پر ایسے ہی ہوتا آیا ہے پینسٹھ سالوں سے ۔) غیر مسلمانوں کا بین تو قطعاً نہیں بنتا، رب جانے ان مردودوں میں سے کوئی مرا بھی تھا یا نہیں یا "کافروں" نے کہانیاں ہی گھڑ رکھی ہیں۔ یا آج کے کافر قرار دے کر مارے گئے مسلمانوں کا بین کروں۔ جنہیں پتا ہی نہیں کہ انہیں کس لیے مارا جا رہا ہے ان کا بین کروں، یا جو نا سمجھ بم باندھ کر ان کو مار رہے ہیں ان کا بین کروں۔ "مجاہدین" کا بین کروں یا "کرائے کی فوج" کے مرنے والے، دس ہزار تنخواہ کی خاطر اغواء ہو کر گلے کٹوانے والے ان خاصہ داروں کا بین کروں۔
میں اتنا پُر باش ہو چکا ہوں، اتنا لد گیا ہوں کہ سمجھ نہیں آتا کس کس کا بین کروں۔ اس سب کا یا اپنی عقل کا، اپنی وکھری سوچ کا، اپنی بے غیرت طبیعت کا جو کہیں فٹ نہیں بیٹھتی، جو ہر رویے پر سوال اٹھاتی ہے، ہر بات پر پہلے ناں کہتی ہے پھر ہاں کی طرف جاتی ہے، ہر جگہ گلاس آدھا خالی دیکھتی ہے۔ میرا خیال ہے مجھے یہی کرنا چاہیئے، اس بے غیرت طبیعت کا بین، جو سوال کرنے کی کُتی عادت کا شکار ہے، ہر جگہ سوالنے کی گندی عادت کا شکار۔

بدھ، 1 مئی، 2013

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی

قوم افراد سے مل کر بنتی ہے۔ قوم دیوار ہے تو افراد اس کی اینٹیں۔ لیکن یہ اینٹیں اکیلی ہی دیوار نہیں بناتیں۔ صرف اینٹیں کھڑی کرو تو دیوار ایک حد کے بعد کھڑی رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اینٹوں کو جوڑنے کے لیے سیمنٹ درکار ہوتا ہے۔ اور قوم نامی دیوار کو مضبوط کرنے والے سیمنٹ کا نام مشترکہ اقدار ہیں، مشترکہ سوچ اور ایک ہونے کا احساس۔ افراد میں اگر یہ احساس مفقود ہو جائے، ماند پڑنے لگے تو اس کے نتیجے میں قوم نامی دیوار اینٹوں کی گھوڑی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ راج مستریوں کی اصطلاح میں گھوڑی اینٹوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتی ہے جو سراسر  عارضی مقصد کے لیے ایک جگہ اوپر نیچے لگا دی جاتی ہیں بغیر کسی سیمنٹ یا جڑنے والے مادے کے، اکثر گارے کے بھی بغیر۔ افراد میں اقدار مشترک نہ رہیں تو وہ قوم کے اندر اینٹوں کی گھوڑیاں بن جاتے ہیں۔ ایک یہاں لگی ہے دوسری وہاں لگی ہے، اور ان گھوڑیوں کا کوئی مقصد مشترک نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا بن جاتا ہے، لیکن یہ ایجنڈے عارضی، نا پائیدار اور عدم استحکام پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ افراد کے یہ گروہ نہ صرف قوم کو کمزور کرتے ہیں بلکہ خود کو بھی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اسی لیے افراد میں قدرِ مشترک کا احساس پایا جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

قدرِ مشترک کئی چیزوں کے اشتراک کا نام ہے۔ اس میں سیاسی، سماجی، لسانی، مذہبی، علاقائی، قبائلی، رنگ و نسل سے لے کر زمانے تک کے متغیر آ سماتے ہیں۔ انہیں میں کچھ متغیر تنوع بھی تشکیل دیتے ہیں لیکن متغیرات کی ایک اکثریت یکجہتی تشکیل دیتی ہے۔ جس کے تحت قوم آپس میں جڑی رہتی ہے۔ قدرِ مشترک کو ایک اور نام دیں تو سماجیات کی اصطلاح "سماجی شناخت" استعمال کی جا سکتی ہے۔ سماجی شناخت ایک تکنیکی اصطلاح ہے، لیکن یہاں ہم اوپر بیان کیے گئے تمام متغیرات میں سے ایک، کچھ یا تمام پر مشتمل احساسِ خودی اور پھر احساسِ یکجہتی کو سماجی شناخت کا نام دے سکتے ہیں۔ سماجیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی شناخت کوئی لوہا پتھر نہیں، بلکہ یہ مائع جیسی کوئی چیز ہے جو شکلیں بدلتی رہتی ہے۔ سماجی شناخت کسی ایک متغیر پر مشتمل نہیں ہوتی، یہ کئی متغیرات کا مجموعہ ہو سکتی ہے، یہ مختلف مواقع پر مختلف متغیرات کو اپنا سکتی ہے۔ ذاتی طور پر میں نے جو کچھ پڑھا، دیکھا، سنا اور محسوس کیا، مجھے جو سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ سماجی شناخت کئی متغیرات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس میں اوپر بیان کردہ تقریباً تمام تر چیزیں آ جاتی ہیں۔ اور یہ متغیرات مختلف مواقع پر، مختلف سیاق و سباق میں، ہماری روز مردہ زندگی کے ہر مقام، جگہ، وقت کے حوالے سے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً میں ایک جگہ بیٹا ہوں، ایک جگہ استاد ہوں، ایک جگہ فری لانس مترجم ہوں، ایک جگہ بلاگر ہوں، ایک جگہ مسلمان ہوں، ایک جگہ پنجابی ہوں، ایک جگہ پاکستانی ہوں، ایک جگہ پڑھا لکھا نوجوان ہوں، ایک جگہ مریض۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اپنے روز مرہ میں مَیں کئی چہرے اپناتا ہوں، اپنی سماجی شناخت تشکیل دیتا ہوں۔ کبھی کوئی متغیر سامنے رکھتا ہوں کبھی کوئی، لیکن ان سب کے علاوہ میری ایک نسبتاً مستقل سماجی شناخت ہے، میری خودی، میری انا، جو میری یعنی محمد شاکر عزیز کی شخصیت وضع کرتی ہے، میری نظروں میں بھی اور میرے جاننے والوں، پڑھنے والوں کی نظر میں بھی۔

اتنی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس ساری سماجی شناخت کے باوجود میں شناخت کے بحران کا شکار ہوں۔ جیسے اس قوم کا قریباً ہر فرد تذبذب میں مبتلا ہے کہ کدھر جائے، کیا کرے۔ کچھ متذبذب ہیں اور کچھ نے ایک شناخت کو اتنی شدت سے تھام لیا ہے کہ چاہے انگلیوں سے خون رسنے لگے، وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اور اس شناخت کو خود پر اتنا طاری کرتے ہیں کہ وہ دوسرے متغیرات سے مکمل طور پر انکار کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا شناخت کسی ایک سماجی متغیر کا نام نہیں، سماج میں موجود بے شمار متغیرات مل کر آپ کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کم ہوں یا زیادہ وہ الگ بات ہے لیکن کثیر متغیرات موجود ضرور ہوتے ہیں، جب کوئی شخص یا اشخاص کسی ایک متغیر کو خود پر ایک حد سے زیادہ طاری کر لیتا/ لیتے ہیں تو جو چیز سامنے آتی ہے اسے میں انتہا پسندی، فکری قحط سالی اور اپنی سماجی شناخت کے ایک حصے کا قتلِ عام گردانتا ہوں۔

اجتماعی سطح پر دیکھوں تو میرے سامنے دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک جو متذبذب ہیں، جو کوئی ایک سماجی شناخت اپنانے/ اس کا اقرار کرنے سے گریزاں ہیں، یا ڈرتے ہیں اور اسی ڈر میں دوسری سماجی شناخت اوڑھے رہتے ہیں، دوسری جانب وہ ہیں جو اتنے سخت دل ہو چکے ہیں کہ اپنے شخصی تنوع کو قبول نہیں کرتے اور خود کو ایک خول میں بند کر لیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے" اللہ نے تمہارے قبیلے بنا دئیے تاکہ تم پہچانے جاؤ" (مفہوم)۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر۔۔۔الخ کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ قرآن قبیلے کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ قرآن ایک سماجی شناخت کا ذکر کرتا ہے کہ ہاں تنوع رکھا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی نبی ﷺ کی زبان سے کہلوا بھی دیا گیا کہ خبردار خود کو افضل نہ سمجھ بیٹھنا۔

میں ایک پاکستانی ہوں، ایک مسلمان ہوں، میں ایک خاص جغرافیائی خطے کا رہائشی بھی ہوں، میں ایک خاص زبان بھی بولتا ہوں، میں ایک خاص پیشے سے منسلک بھی ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سارے متغیرات، یہ ساری شناختیں میری تعریف کرتی ہیں، میری شخصیت کو سماج میں تعمیر کرتی ہیں۔ مجھے وہ بناتی ہیں جو میں ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سوچ ہر ایک کی نہیں ہے۔ اس ملک کی اساس اسلام قرار دی جاتی ہے۔ میں بڑے بڑے مدلل مضامین پڑھتا ہوں جن میں نظریہ پاکستان کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہوتی ہے، پاکستان کی "نظریاتی بنیادیں" کھودنے والوں پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ فکری بحران، فکری قحط سالی کیوں؟ ایک ہی شناخت کو خود پر اوڑھ لینے کا عمل کیوں؟ انتہا پسندی کیوں؟

نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور والے بڑے عظیم لوگ ہیں، نوائے وقت کے تربیت یافتہ ، پاکستان کے رکھوالے اور پھر اسلام کے رکھوالے، یہ پاکستان کو 712 ء سے تخلیق شدہ بتاتے ہیں جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا۔  ایسا کرتے ہوئے یہ لوگ باقی سارے متغیرات نظر انداز کر جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہیں جو انہیں، مجھے اس قوم  کو شناخت عطاء کرتی ہیں۔ زبان، رنگ، نسل، جغرافیہ، پیشہ ،پانچ ہزار سالہ تاریخ اور آج کا زمانہ کچھ متغیرات ہیں جو مذہب کے علاوہ ہماری شناخت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان سب کو نظر انداز کر کے صرف مذہب کیوں؟ مذہب کو اپنانا افضل ہو گا، نبی ﷺ کے ساتھ خود کو موسوم کرنے سے بڑی بات بھلا دنیا میں کوئی ہو سکتی ہے؟ لیکن  پھر قرآن قبیلوں کا ذکر کیوں کرتا ہے؟ اللہ نے رنگ اور نسل کیوں الگ الگ رکھ دئیے؟ اتنا تنوع کیوں ہے؟ ہم عرب میں ہی کیوں نہ پیدا ہو گئے؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے؟ عمومی مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ عین حق لگتا ہے۔ آخر اسلام دنیا کا آخری دین، اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں  رہنی چاہیئے۔

لیکن پھر بار بار اس یقین کا انکار کیوں ہوتا ہے؟ 1947 میں پاکستان ( جو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے مطابق دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا) کے بعد برصغیر میں کیا صرف مذہب  سماجی شناخت تشکیل دینے والا اکلوتا فیکٹر رہا ہے؟  کس کس کی مثال دوں؟ سقوطِ ڈھاکہ گنواؤں؟  جغرافیے کے نام پر بلوچوں کی بغاوت یاد کرواؤں؟ کراچی میں مہاجر نامی قومیت کی تشکیل کا ذکر کروں؟ پختون ، پنجابی ، سندھی کی اصطلاحات پیش کروں؟ کون کونسی مثال دوں جس سے یہ بات واضح ہو جائے کہ صرف مذہب سماجی شناخت تشکیل نہیں دیتا۔  عطاء اللہ شاہ بخاری اور ابو الکلام آزاد کے خطبات تحاریر گنواؤں؟  یا اسلام کا  مقصدِ دعوت  بیان کروں جس میں انسانیت اولین ہے، ساری دنیا اسلام کے لیے امتِ دعوت ہے۔ اسلام  دعوتِ دین کے لیے مذہب سے ماوراء ہو جاتا ہے، اسلام ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے مسلمانیت کا قتل نہیں۔ اسلام دین میں جبر کا قائل نہیں۔ کیا کیا دلیل پیش کروں؟

ایک طرف یہ کم شدت والے مذہبی چادر اوڑھنے والے ہیں۔ دوسری طرف وہ  بندوق بردار ہیں جو اپنی ہزار سالہ تاریخ کا انکار کر کے صرف ایک  چیز کو خود پر طاری کر چکے ہیں۔ خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور اس میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی تعلیمات  کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ جو جنگ میں ناحق درخت بھی کاٹنے سے منع کرے اس کے نام لیوا بے گناہ سروں کی فصلیں کاٹ  کر اس پر ذرا برابر شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مجھے آج کہنے دیں کہ اس ملک میں فکری انحطاط یہی نہیں، فکری قحط سالی ادھر ہی نہیں اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو مذہب کو زندگیوں سے نکال چکا ہے، اور اب صرف انسان کہلوانا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں "انسان" کی سماجی شناخت انہیں زیادہ غیر جانبدار بنا کر پیش کرتی ہے۔ حالانکہ وہ  بھی ایک حقیقت سے انکار کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مذہب انہیں ڈیفائن کرتا ہے، جیسے ان کے اجداد کو ڈیفائن کرتا تھا۔ مذہب ان کے خون میں بہتا ہے وہ مانیں یہ نا مانیں۔ ان کے نام، رہن سہن کے طور طریقے مذہب سے متاثر ہیں۔ وہ مصنوعیت جتنی مرضی طاری کر لیں لیکن وہ متغیر ، مذہب نامی متغیر ان کی سماجی شناخت کا اہم جزو تھا، ہے اور رہے گا۔  لیکن اس سے جب انکار کیا جاتا ہے تو نتیجہ ایک اور قسم کے فکری بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک ایسا خلاء جسے پورا کرنے کے لیے وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں، کبھی ادھر سے اینٹ اٹھائی کبھی ادھر سے پتھرا ٹھایا اور عجیب الخلقت چیز تشکیل دے لیتے ہیں، چیز یعنی اپنی سماجی شخصیت۔ جس پر غصہ، ترس یا ہنسی  آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ  ڈر بھی آتا ہے۔ اس قوم کے فکری بحران سے ڈر لگتا ہے۔ شاکر ، اور شاکر جیسے بے شمار افراد اس قوم کی  کمزور ہوتی دیوار، گھوڑیاں بنتی دیوار سے تعلق کمزور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا آپس کا بانڈ  غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک قدر کو اختیار کر کے دوسری سے انکار کرتے ہیں۔ کبھی مذہب سے، کبھی جغرافیے سے، کبھی رنگ سے، کبھی نسل سے، کبھی زبان سے۔ کوئی مہاجر ہوا جاتا ہے، کوئی پنجابی، کوئی پختون ہوا جاتا ہے، کوئی مسلمان، کوئی پاکستانی ہوا جاتا  ہے، کوئی سیکولر، کوئی انسانیت نواز، کوئی لبرل۔ کوئی مشرق کو رخ کیے ، کوئی مغرب کو ، کوئی شمال کو اور کوئی شمال مغرب کو ۔ ایک دوسرے کی جانب پشت کیے بیٹھے یہ افراد، جن کے مابین اکثریتی اشتراکی اقدار کی قحط سالی طویل ہوتی چلی جاتی ہے، شدت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اور شاکر ڈرتا ہے اس وقت  سے۔ جب  اینٹوں کی یہ گھوڑیاں جو ابھی الگ الگ کھڑی ہیں، گر پڑیں اپنے وجود کھو بیٹھیں اور ساتھ اس کے قوم کا وجود بھی نابود کر ڈالیں۔ بہت ڈر لگتا ہے اس وقت سے سائیں۔ اللہ اس وقت سے بچائے۔ رب سائیں اس وقت سے بچائے۔

وما  علینا الا البلاغ

جمعہ، 5 اپریل، 2013

خلافت چاہیئے جی

عوام سیاستدانوں سے اکتائی ہوئی ہے، الیکشن سر پر ہیں۔ مشرف کے آخری دن تھے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے امیدیں تھیں، اب شرعی نظام اور خلافت سے امیدیں لگ گئی ہیں۔ خلافت کی ڈفلی بجانے والوں نے اپنی پوتھیاں پُستکیں جھاڑ پونچھ کر رکھ لی ہیں، اپنے تھیلے خالی کر کے سامان پھر سے سامنے سجا لیا ہے۔ دھڑا دھڑ اقتباسات دئیے جا رہے ہیں، دلائل اٹھائے جا رہے ہیں ، اور اسلام کا بول بالا کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اور ایسے میں کوئی میرے جیسا نیچ ذات بول پڑے تو وہ غیر مہذب، گدھا اور جانبدار کہلاتا ہے۔ خیر یہ تحریر اپنے آپ کو ان القابات سے بری الذمہ کرنے کے لیے نہیں  لکھی جا رہی، بلکہ مقصد یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران ایویں مفت میں ہی دو تین بار خلافت نام کی بحث میں گھسیٹا گیا۔ جس کا نتیجہ اکثر یہ نکلا کہ عوام میری منہ پھٹ طبیعت سے بے زار ہو گئی اور مجھے القاباتِ عالیہ سے بھی نوازا گیا۔ ابھی کل برادرم میم بلال نے فیس بک پر ایک سوال کر دیا ، موضوع یہی خلافت تھی اور میں نے حسبِ معمول خاصا چپیڑ جیسا جواب ٹھونک دیا۔ بعد میں بیس پچیس تبصروں تک اس پر بڑی لے دے ہوئی، رات کو دیکھا تو مجھے لگا کہ اب ذر ا مناسب لمبائی والی پوسٹ میں اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے۔ چنانچہ تحریر لکھی جا رہی ہے۔

عوام خلافت مانگتی ہے۔ شاکر عوام کے ساتھ ہے، لیکن خلیفہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہو تو شاکر بیعت کرنے والوں میں سب سے پہلا، ورنہ شاکر کے ہاتھ کھڑے ہیں۔ چلو کوئی حسن ابنِ علی جیسا لے آؤ، حسین ابنِ علی، عبد اللہ ابنِ زبیر، معاویہ ابنِ ابو سفیان، عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ علیم اجمعین تک بھی بات چلے گی۔ اس کے بعد؟ اس کے بعد معذرت کے ساتھ شاکر کے دونوں ہاتھ کھڑے ہیں۔ شاکر کے لیے خلافتِ راشدہ کے بعد کوئی خلافت نہیں۔ جس کو یہ عوام خلافت کہتی ہے وہ شاکر کے لیے ملوکیت ہے، خلافت کے نام پر بادشاہت۔ جس میں باپ کے بعد بیٹا، چچا، پھوپھا ، تایا، یا جس کا بس چلا وہ "خلیفہ" بن بیٹھا۔ چاہے وہ یزید ابن معاویہ جیسا گدھا ہی ہو۔ اور جب کوئی گدھا خلیفہ بن بیٹھے تو مذہبی ٹھیکے دار کیا کہتے ہیں؟ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ اور اگر وہ گدھا ساری عمر کے لیے اقتدار پر براجمان رہے، جو خلافت/ بادشاہت/ ملوکیت کی اساس ہے تو شاکر جیسے نیچ ذات ساری عمر اس گدھے کو برداشت کریں؟ شاکر کے ہا تھ کھڑے ہیں جی، خلافت کی ڈفلی یہاں بے سُری ہو جاتی ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ کے کوئی تیرہ سو سال ان پر یہی خلافت /ملوکیت / بادشاہت مسلط رہی۔ کبھی بنو امیہ ، کبھی بنو عباس، کبھی عثمانی ، کبھی فاطمی ، کبھی عبد الرحمن الداخل کی اندلسی بنو امیہ کی شاخ۔ اس میں مسلمانوں نے بڑی ترقی کی، بڑی بڑی حکومتیں اس خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت سے تھرتھراتی تھیں۔ مسلمانوں کا بڑ اسنہرا دور اسی عرصے میں رہا۔ بڑے بڑے علاقے فتح ہوئے۔ یعنی خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت کو بھی تسلیم کیا جائے، جیسی بھی ٹوٹی پھوٹی تھی، آخر تھی تو خلافت جی۔ خلفائے راشدین کی نشانی، پر شاکر چونکہ نیچ ذات ہے اس لیے نہیں مانتا۔ وجہ بڑی سادہ سی ہے۔ یہ خلفائے راشدین کی نشانی نہیں اپنے باپ داداؤں کی نشانی تھی۔ یہ قیصر و کسری کی نشانی تھی۔ یہ اسلام سے پہلے کے اس سیاسی نظام کا تسلسل تھی جس میں سکندر اعظم سے لے کر ایران ور روم اور یورپ کی بادشاہتیں  آتی ہیں۔ بس نام بدلا تھا، نام بدلے تھے۔ نام خلافت ہو گیا، نام مسلمانوں والے ہو گئے۔ اور اعمال؟ اعمال وہی تھے جو قیصر و کسری کے تھے، جو اونچے کنگروں والے محلات بنانے والوں کے تھے، جو عیاشیاں کرنے والوں کے تھے، جو اپنی حکومت وسیع کرنے والوں کے تھے۔ بس نام اسلام کا لگ گیا، اور کام جس نے کیا وہ مسلمان اور پھر خلیفہ کہلایا، باقی کچھ نہ بدلا۔

زمانہ بدلا، زمانے کے تقاضے بدلے، اندازِ حکومت بدلے اور بادشاہتیں پکے ہوئے پھلوں کی طرح ٹپا ٹپ گرتی چلی گئیں ۔ جو رہ گئیں وہ آئینی بادشاہتیں رہ گئیں۔ اور وہی بات خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت پر بھی صادق آئی۔ زمانہ بدلا، تقاضے بدلے اور عوام نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، عثمانیوں کا پتہ کٹ گیا۔ یہی کوئی 1920 کے آس پاس کے دن ہیں، جب یہ واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اور یہیں سے برصغیر کے مسلمانوں کا خلافت بخار شروع ہوتا ہے۔ تحریکِ خلافت بڑے زور و شور سے چلائی جاتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب ترکی کے عوام ہی نہیں چاہتے کہ خلافت ہو تو آپ میں بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ؟ اور یہی کچھ ہوا بھی، تحریکِ خلافت کے غبارے سے پھونک نکل گئی۔ طبیعتیں پھُل گلاب ہو گئیں، عین روح تک سرشار ہو گئیں۔ وہ دن جائے اور آج کا دن آئے، خلافت ایک پرکشش نعرہ بن گیا۔ وہ خلافت تو نہ رہی لیکن ایک تحریک کی ڈفلی ہاتھ آ گئی، خلافت قائم کرنی ہے۔ خلافت قائم ہو گئی تو مسلمان پھر سے دنیا کے حاکم بن جائیں گے، جوتیوں سے اُٹھ کر ممبر پر جا بیٹھیں گے۔ خلافت ہو گئی تو اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ خلافت ۔۔۔۔۔خلافت ہر چیز کا حل، خلافت اسلام کا نظامِ حکومت۔

چلیں جی ماننا پڑتا ہے اب تو عوام اور نوجوان نسل بھی شرعی نظام کے حق میں ہے۔ اور یہی وقت ہے کہ لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگائی جائے،خلافت /ملوکیت / بادشاہت کے لیے کام کیا جائے۔ بس ایک سوال، یہ بھوکی ننگی عوام اسلام کی محبت میں ایسا کر رہی ہے یا روٹی کو ترسنے کے بعد؟ ترکی میں کوئی خلافت کا نعرہ کیوں نہیں لگاتا، وہاں تو خلافت نہیں بلکہ جب خلافت تھی اس سے بہتر صورتحال ہے اب۔ یہ پاکستان میں ہی خلافت کیوں؟ یہ ان جگہوں پر ہی خلافت کیوں جہاں حقوق غصب ہوتے ہیں، جہاں بھوک ننگا ناچ ناچتی ہے، جہاں  جنگل کا قانون ہے صرف وہیں خلافت کا نعرہ کیوں لگتا ہے؟  اگر آج اس ملک میں گڈ گورنس ہو جائے تو خلافتیوں کو ایندھن کہاں سے ملے؟ پاکستان سے تو نہ ملے کم از کم۔

تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ نظامِ حکومت میں ہے۔ بات پھر وہیں آ گئی۔ اور خلافت /ملوکیت / بادشاہت بہترین نظامِ حکومت ہے، ہیں جی۔ لیکن نہیں بہترین نہیں۔ جس کو ساری عمر کے لیے اقتدار میں لے آؤ گے وہ سر پر چڑھ کر ڈھول بجائے گا۔ اس لیے خلافت/ملوکیت/ بادشاہت نامنظور۔ حل؟ حل سادہ سا ہے اقتدار کی مدت مقرر کرو، ووٹ ڈلواؤ، ساتھ جو مرضی اسلامی ڈال لو۔ تھرمامیٹر لگا کر تقویٰ چیک کرو،  متھا اور گِٹے دیکھ کر متقی پرہیز گار لوگوں کی مجلس شوری بناؤ، لیکن وہ منتخب ہو، عوام کو حق دو، عوام کو حق ہے کہ وہ فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ جیسے نبی ﷺ کے جانشینوں نے مثال قائم کی، ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا۔ لیکن خلافت/ ملوکیت /بادشاہت؟ نا سائیں وہ دن لد گئے، جب سیاں جی کوتوال تھے۔ اب تو اور مسائل ہیں۔ اور بادشاہت آج کے مسئلوں کا حل کہیں سے بھی نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس نیم خلافت سے شاکر کو اتنی تکلیف کیوں؟ لیکن جوابی سوال یہ ہے کہ جمہوریت یا جو بھی آج کے نظامِ حکومت کو نام دیا جائے اس سے اتنی تکلیف کیوں ہے؟ جواب یہ کہ اس جمہوریت کے خمیازے آج بھگت رہے ہیں۔ سوال یہ کہ اگر جاگیر دار، وڈیرے، سرمایہ داروں کو ہی اقتدار سے باہر کرنا ہے تو یہ مسلمانوں کی تاریخ میں کب اقتدار میں نہ تھے۔ برصغیر کی تو تاریخ ہی جاگیر داروں اور بادشاہوں کے گرد گھومتی ہے، بادشاہ جاگیر دار کو نوازتا تھا اور جاگیر دار اپنے مزارعوں کو۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں عہد نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ کے علاوہ کونسا دور ہے جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نہیں نافذ رہا؟ تو آج اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے تو اتنی تکلیف کیوں؟ تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت اسلام کا ملمع چڑھا ہوا تھا، تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت کھانے کو مل ہی جاتا تھا بھوگ کا ننگا ناچ نہیں ہوتا تھا جو آج ہوتا ہے۔ تو حل یہ ہے کہ دماغ کو وسیع کرو محمد الرسو ل اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین خلافت و امامت سے اوپر کی چیز ہے۔ اگر خلافت اراکین اسلام میں سے ہوتی تو قرآن طلاق اور وراثت کے قوانین کی طرح خلافت کے قوانین بھی بتاتا۔ آخری نبی ﷺ صرف ایک عبوری فیصلہ کر کے، کہ خلیفہ قریش میں سے ہوگا ، اس دنیا سے پردہ نہ فرماتے۔ کیا محمد الرسول اللہ ﷺ اور محمد الرسول اللہ ﷺ کے خدا کو نہیں معلوم تھا کہ "خلیفہ قریش میں سے ہوگا" کا حکم تا قیامت نہیں چل سکے گا؟ اسلام میں کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں والے اصول کا رد نہ ہو جاتا یہ؟ اس لیے خلافت فرض نہیں کی گئی، خلافت کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ رسول ﷺ کے جانشینوں نے اپنے وقت میں بہترین طریقے سے نظامِ حکومت چلایا۔ اس بیک ورڈ قبائلی معاشرے میں اسلام پر عمل اور عوام کی فیصلہ سازی میں شمولیت کی ایسی درخشندہ مثال قائم کی کہ زمانہ انگشتِ بدنداں رہ گیا۔ لیکن اس کے بعد؟ اس کے بعد جب نیتیں صاف نہ رہیں تو وہی اندھیرا پھر سے لوٹ آیا ، کہیں کہیں ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اور پھر ایک لمبا اندھیرا۔ اور آخر بیسویں صدی آ پہنچی، تقاضے بدلے، زمانہ بدلا تو نظام بھی بدل گئے۔ بدلنا تو مقدر ہے، انسان ہوں، زمانہ ہو یا نظام۔ لیکن اسلام اگر زمانے کا پابند رہ گیا تو  تاقیامت دینِ انسانیت تو نہ ہوا۔ اس لیے شاکر کی سوچ بڑی سادہ سی ہے۔ اسلام کے اصول بڑے سادہ ہیں، کسی بھی نظامِ حکومت پر اطلاق کر دو اسلامی نظام ہو جائے گا۔ اور بھوک کا ننگا ناچ رکوانا ہے تو عوام کو تعلیم دو کہ ان کا حق ہے پوچھنا، سوال کرنا، انہیں بتاؤ کہ سوال کریں۔ جو سوال کے جواب میں آئیں بائیں شائیں کرتا ہے اسے رد کریں۔ آج کے نظام میں بہتری لاؤ۔ یہی نظام ترکی میں ہے، برطانیہ میں ہے، ملائیشیا میں ہے وہاں کیا تکلیف ہے کہ یہاں سے ہزار درجے بہتر صورتحال ہے؟ وہی کچھ یہاں کیوں نہیں ہو سکتا، اس کے حل کے لیے لیے برانڈ نیم کا چُوسا ہی کیوں؟

لیکن کیا کریں جی، برانڈ نیم سب کو اچھا لگتا ہے۔ خلافت /ملوکیت / بادشاہت حکومتی نظاموں میں ایک اسلامی برانڈ نیم ہے، اور پچھلے سو سال سے اس برانڈ نیم کی سیاست پر بہت سوں کی واہ واہ ہے، عزت ہے اور روزی روٹی لگی ہوئی ہے۔ عوام بھی سمجھتی ہے کہ بہتر ہے چیز "اسلامی" ہی ہو، چاہے اس پر اسلام کا ملمع ہی چڑھایا ہوا ہو، لیکن چیز اسلامی ہو۔ اس لیے عوام جمہوریت کو "کافرانہ" کہتی ہے، "خلافت" کو اسلامی سمجھتی ہے۔ بھولی عوام ہے، مذہبی ٹھیکے داروں نے چُوسا دیا ہوا ہے، اور عوام چُوس رہی ہے۔ کوئی سوال کر لے تو، خیر اس کا حال پھر شاکر جیسا ہوتا ہے۔ جس کے سوالنے کو گدھے کا رینکنا سمجھا جاتا ہے۔

خیر ایسے گدھے، نیچ ذات، ایمان کے آخری درجے پر کھڑے منش ہر دور میں ہوئے ہیں۔ ایک شاکر بھی ہو گیا تو کوئی گل نہیں۔ تحریر کسی کے متفق ہونے کے لیے نہیں لکھی، تحریر کوئی صفائی پیش کرنے کے لیے بھی نہیں لکھی ، تحریر صرف موقف بیان کرنے کے لیے لکھی ہے۔ اور غلط فہمی دور کرنے کے لیے کہ جو شاکر کو انٹلکچوئل سمجھتے تھے۔ غیر جانبدار سمجھتے تھے، سمجھدار سمجھتے تھے اپنی اپنی سمجھ پر نظرِ ثانی کر لیں۔ یہاں کوئی غیر جانبداری نہیں، یہاں سب کا ایجنڈا ہے، یہاں سب کے "سچ" ہیں، اپنے اپنے سچ۔ خلافتیوں کا اپنا سچ ہے، اور شاکر جیسے نیچ ذاتوں کا اپنا سچ۔ اور اپنے اپنے سچ میں گم ہیں۔ اس دن تک جس دن سارے جھوٹے سچ پرزے پرزے ہو جائیں اور سچے سائیں کا سچا سچ آنکھیں چندھیا دے۔

رہے نام اللہ کا۔

جمعرات، 27 اکتوبر، 2011

ماں بولی کا نوحہ

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
کبھی یہ محاورہ/کہاوت/ مصرع سنا تھا۔ زبان ثقافت، زبان کلچر، زبان زندگی جینے کا ڈھنگ، زبان  نسلوں کی وراثت کی امین۔ زبان نہ رہے تو  نسلوں کی نسلیں بدل جاتی ہیں۔ اور یہی ہو رہا ہے۔ پنجاب میں، خیبر پختونخواہ میں، سندھ میں، بلوچستان میں یہی  ہور ہا ہے۔ مجھے دوسرے صوبوں کے شہری علاقوں کا نہیں پتا۔ لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ میرے صوبے پنجاب کے، سوہنے پنجاب کے شہری علاقوں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات ، شیخوپورہ، ملتان سے میری ماں بولی مر رہی ہے۔ پنجاب سے پنجابی مر رہی  ہے۔ اور اسے مارنے والے پنجابی ہیں۔ آٹھ کروڑ پنجابی، جو مل کر اپنی ماں بولی کو قبر میں اتار رہے ہیں۔  اردو کے نام پر، قومی زبان کے نام پر، یکجہتی کے نام پر، اور انگریزی سے نفرت کے نام پر وہ پنجابی کا قتل کر رہے ہیں۔ اور  حیرت ہے، صد حیرت ہے کسی کو اپنے ہاتھوں پر لہو نظر نہیں آتا۔ انہیں اردو کی بےحرمتی یاد  رہتی ہے، پنجابی  کی اکھڑتی سانسیں نظر نہیں آتیں۔ حیرت ہے، صد حیرت ہے۔

یہ تحریر پڑھنے والے جان لیں کہ یہ کسی تعصب میں نہیں لکھی جا رہی، نہ ہی کسی کے جواب میں لکھی جار ہی ہے۔ یہ تحریر کسی عام بندے کے ہاتھوں نہیں لسانیات کے ایک طالبعلم کے ہاتھوں لکھی جا رہی ہے۔ چناچہ اسے سستی جذباتیت سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش نہ کیجیے گا۔ یہاں حقائق کی بات کی جائے گی،جذباتیت اوپر والے پیرا گراف میں ختم ہو گئی۔ آگے حقائق کی دنیا ہے۔ یہ تحریر اس لیے لکھی جارہی ہے کہ کل کو تاریخ گلا نہ کرنے کا کسی پنجابی نے اپنی زبان کے مرنے کا نوحہ نہیں پڑھا تھا۔ یہ تحریر اس لیے لکھی جا رہی ہے کہ لوگوں کو یاد رہے کہ پنجابی اپنی زبان کے قاتل تھے، انہوں نے اپنی ماں بولی کی قبر خود تیار کی اور خود قتل کر کے قبر میں بڑے اہتمام سے دفنا کر اوپر اردو میں لکھا ایک کتبہ لگا دیا۔

سائیں سب اردو کی بات کرتے ہیں۔ سب انگریزی کے ہاتھوں اردو کی بے حرمتی کی بات کرتے ہیں۔ پنجابی کی بات کیوں نہیں کرتا کوئی؟ پنجابیوں نے قیام پاکستان سے پہلے سے لے کر پنجابی کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک روا رکھا۔ اس وقت بھی جب کسی نے پنجابی کو پنجاب کی  زبان کا درجہ دینے کی یا بات ہوئی، یا نصاب میں شامل کرنے کی بات ہوئی یا  ایسی  کوئی بھی بات ہوئی جہاں پنجابی کو رسمی طور پر حکومت نظم و نسق میں استعمال کرنے کو کہا جاتا۔ وہیں اردو بولنے والی پنجابی اردو کی حفاظت کے لیے آگے آ جاتے، پنجابی پیچھے چلی جاتی۔ اور آج یہ حال ہے کہ پنجابی کو کسی دفتر میں رائج کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔  دفتری زبان تو انگریزی ہے یا پھر اردو۔  مجھے بالکل یا دہے کہ یہ ہندوؤں کی اور سکھوں کی "سازش" تھی کہ پنجاب میں اردو کی بجائے پنجابی کو فروغ دیا جائے۔ "تاریخ" جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں یہی بتاتی ہے۔ لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں۔ آج دنیا میں پنجابی کا نام لیں تو ذہن میں کون آتا ہے؟ شاکر، امجد، ارشد، ماجھا، گاما؟ نہیں بلبیر سنگھ، دلیر سنگھ جیسے نام اور سکھوں کے داڑھیوں والے چہرے پگڑیوں والے سر ذہن میں آتے ہیں۔  پنجابی بولے تو سکھوں کی زبان ہے۔ پنجابی بولے تو کافروں کی زبان ہے، مسلمانوں کی زبان اردو ہے۔  یہی ہو رہا ہے نا سائیں۔ سکھوں نے ہر جگہ پنجابی کو فروغ دیا، پنجابی ثقافت کو فروغ دیا، بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پنجابی کی لسانیات پر کام ہو رہا ہے۔ پنجابی کو ڈیجٹلائز کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ اس پر ڈاکٹریٹ ہو رہی ہے۔ اسے دفتری زبان بنانے کے سارے لوازمات ان کے پاس موجود ہیں۔ لغات ہیں جو قانون سے لے کر میڈیکل تک کی اصطلاحات کو کور کرتی ہیں۔  یہ سب کچھ ہے جو میں نے پچھلے چارسال میں بطور مترجم کام کرتے ہوئے اور بطور لسانیات کے طالبعلم پنجابی کے بارے میں جانا، کہ سکھ کیا کر رہے ہیں اپنی زبان کے لیے۔ چناچہ آج حال یہ ہے کہ پنجابی کا رسم الخط گورمکھی بن گیا ہے۔ میں ترجمہ کروں تو 99 فیصد جابز گورمکھی رسم الخط کی ہوتی ہیں، میں اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہوں۔ پنجابی کے سارے کمپیوٹر معیارات گورمکھی کی بنیاد پر بنے ہیں۔  اور شاہ مکھی؟ کچھ عرصہ پہلے گوگل پلس پر ایک صاحب سے بحث ہو گئی ۔ انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ پنجابی کا کوئی رسم الخط بھی ہے۔ ان کے خیال میں یہ اردو میں لکھی جاتی ہے۔ حالانکہ اردو کے پوتڑے پنجابی نے صاف کیے ہیں۔ اردو کو رسم الخط اور کسی زبان ہیں پنجابی نے دیا ہے۔ یہ جسے فارسی  رسم الخط کہتے ہیں اس میں صدیوں پہلے مسلمان صوفیا نے  پنجابی شاعری کی۔ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ پنجابی کا  رسم الخط گورمکھی ہے۔

 حیرت ہے نا جی؟ میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے سائیں یہ۔ شاید اور کسی کے لیے نہ ہو۔ پاکستانی پنجابی تو اردو کے مامے ہیں جی۔ ان کے تو گھروں سے بھی پنجابی کو دیس نکالا مل چکا ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں پنجابی چوڑوں، چماروں، میراثیوں اور بھنگیوں کی زبان بن  گئی ہے۔ پنجابی نوکروں کی زبان ہے۔ پنجابی غیر تہذیب یافتہ زبان ہے۔ پنجابی ماں بہن ایک کرنے کی زبان ہے۔ پنجابی جگت بازی کی زبان ہے۔ پنجابی غصے میں آ کر "بہتر" ذریعہ اظہار کی زبان ہے۔ پنجابی اوئے توئے، تُو کی زبان ہے۔ "پڑھے لکھے" گھر کے بچے سے پنجابی میں بات کر لو تو وہ گالی سمجھتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ وہ زبان ہے جو دادا دادی بولتے ہیں یا ابا جی نوکروں سے بولتے ہیں۔ ورنہ ممی تو سوفیسٹیکیٹڈ ہیں، اردو میں بات کرتی ہیں۔ یہ پنجابیوں کے خیالات ہیں سائیں پنجابی کے بارے میں۔ زبان کی وکالت کہاں گئی سائیں؟  حق گوئی کہاں گئی؟ یہاں زبان نہیں مر رہی؟ یہاں زبان کا قتل عام نہیں ہو رہا؟ یہاں نئی نسل پر ماں بولی کا دروازہ بند نہیں کیا جار ہا جب اسے "تہذیب یافتہ" زبان کے نام پر اردو سکھائی جاتی ہے، جب اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ پنجابی نچلے طبقے کی زبان ہے جس  کی کوئی تہذیب نہیں ہے۔ یہ ذلیلوں اور کمیوں چوڑوں کی زبان ہے۔  تو حق پرستی کیا ہوئی سائیں؟  تو  زبان بچانے کے نعرے کہاں گئے سائیں؟ پر کہیں بھی تو کس سے کہیں۔ جن سے کہیں وہی اپنے ہیں،انہیں کے ہاتھ میں خنجر ہے۔  کوئی یہ لازمی کہے گا کہ پنجابی کیسے دفتری زبان، اسکول یا سرکار کی زبان بن سکتی ہے۔ تو میرا جواب ہے کہ مجھ سے نہیں سکھوں سے پوچھو۔ انہوں نے تو بنا لی۔ پر ہمارے لیے تو اردو ہے نا سائیں، قومی یکجہتی کی زبان۔  پنجابی جائے بھاڑ میں۔

اردو کے بارے میں  بڑی خود ترسی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اردو کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے، اردو مر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو بولنے والے دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ میں پھر کسی اور صوبے کی بات نہیں کر رہا، میں پنجاب کی بات کررہا ہوں۔ یہاں کے شہری علاقوں، نیم شہری بلکہ اب تو دیہاتی علاقوں میں بھی ہر نیا پیدا ہونے والا بچہ اردو بولنے والا ہے۔ ماں باپ دن بدن اردو سکھانے پر زیادہ سے زیادہ زور دے رہے ہیں۔ اردو پنجاب میں مادری زبان بن رہی ہے۔ مادری زبان مطلب جس میں بچے کے ساتھ بات کی جائے۔ اردوبولنے کا موقع محل تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ پہلے اردو دفاتر کی زبان تھی، اسکول کالج اور میڈیا کی زبان تھی۔ اب گھروں میں بھی بولی جا رہی ہے۔ اگلے پانچ دس سال میں بازاروں میں بھی بولی جانے لگے گی۔ بلکہ اب بھی بولی جانا شروع ہو گئی ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ، ادھر ادھر دیکھیں اپنے بیٹے، بیٹی، بھانجے، بھتیجے کو بولتا دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ اردو مر رہی ہے؟


ایک اور بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اردو کے ذخیرہ الفاظ کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے انگریزی کے ہاتھوں۔  یہی کچھ پنجابی کے ساتھ ہو رہا ہے سائیں۔ آج کے پنجابی بولنے والے کے پاس پنجابی کا ذخیرہ الفاظ اردو کے تلفظ بدلے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ اصلی پنجابی الفاظ کہیں گم ہو گئے ہیں، بھول گئے ہیں چونکہ اردو کا اثر میڈیا، اخبارات اور سماجی رتبے کی وجہ سے اتنا زیادہ ہے کہ پنجابی  میں بھی اردو کے الفاظ استعمال کرنا "اچھا" سمجھا جاتا ہے۔ میری والدہ پنجابی بولتے ہوئے پچھلے کچھ سالوں سے اردو الفاظ کاتڑکا لگانے لگی ہیں، دور کہا جانا۔ چلیں پنجابی کی چھوڑیں سائیں اردو کی بات کرتے ہیں، ذخیرہ الفاظ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں ٹیکنالوجی کے الفاظ کا ذخیرہ سب سے زیادہ آرہا ہے۔ اس کے علاوہ  دوسرے الفاظ بھی ہیں، لیکن ذخیرہ الفاظ میں نئے لفظ در آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے۔ زندہ زبانیں ہمیشہ تبدیل ہوتی ہیں۔ اردو کو کوئی خطرہ نہیں۔ تو پنجابی کو بھی خطرہ نہیں؟ اوپر والے پیرا گراف کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔ پنجابی کو اردو اور انگریزی کے ذخیرہ الفاظ کی تکلیف ہی نہیں ہے۔ تکلیف رویوں کی ہے جو بڑی تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ چناچہ اردو  کے بارے میں خودترسی  کہ اس کا حلیہ بگڑ رہا ہے کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہے۔ اردو اچھی بھلی ہے، ہٹی کٹی ہے اور اللہ کے فضل سے مقامی زبانوں  کو لقمہ لقمہ کھا رہی ہے، ڈکار لیے بغیر۔

تعلیم کی بات کرنے والے، مادری زبان میں تعلیم کی بات کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مادری زبان اردو نہیں ہے۔ پنجابی ہے، سندھی ہے، بلوچی ہے ، ہندکو  ہے، سرائیکی ہے، پشتو ہے۔ اردو تو رابطے کی زبان ہے نا سائیں۔  تو تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ پانچویں تک تو سارے مضامین ماں بولی میں ہونے چاہئیں۔ انصاف کی بات نہیں یہ بھلا؟ ہمارے ساتھ سب سےبڑا المیہ یہی رہا  کہ قائد اعظم کے ایک بیان کو لے کر ہم نے اردو کو  مقدس گائے بنا  دیا۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہی ہو گی۔ ارے بھائی ہو گی تو کب انکار کیا ہے، دوسری زبانوں  کا گلا تو نہ گھونٹو۔ بنگالی اپنی زبان کا حق مانگتے مانگتے الگ ہوگئے۔ بنگلہ دیش بننے کی ایک وجہ یہ بھی تھی نا سائیں۔ یا 51 یا 52 عیسوی میں بنگالی کے حق میں ہونے والے فسادات بھول گئے سب کو؟ ہم سے تو اچھا بھارت ہے۔ ان کے نوٹ پر 22 زبانوں میں  اس کی رقم پرنٹ ہوتی ہے۔ 22 سرکاری زبانیں۔ پاکستان میں؟ انگریزی ہے نا جی، اردو ہے نا جی۔ مقامی زبانوں کا کام ہی کیا  رسمی مواقع پر، وہ تو بولیاں ہیں بس۔ پنجابی کی طرح ہنسی ٹھٹھے اور گالم گلوچ کا ذریعہ اظہار۔ وہ بھلا سرکاری زبان، یا تعلیم کی زبان یا رسمی زبان کیسے بن سکتی ہیں۔

انگریزی کے خلاف اور اردو کے  حق میں (یہاں پنجابی کہیں نہیں ہے ) بولنے والے بڑے لمبےچوڑے دلائل دیتے ہیں کہ اردو ہی ذریعہ تعلیم ہو۔ اردو ہی سب کو سکھائی جائے ۔ انگریزی صرف چند لوگ سیکھیں جنہوں نے باہر جانا ہے، یا جو مترجم ہیں تاکہ باقیوں کو سیاپا نہ کرنا پڑے نئی زبان سیکھنے کا۔ جاپان اور چین کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ مجھے ایک بات بتائیں  جاپان اور چین سے پاکستان کا موازنہ ہے؟ وہاں باہر سے لوگ آ کر رہتے ہیں، کام کرتے ہیں اور یہاں کے لوگ باہر جا کر کام کرتے ہیں۔ کتنے لاکھ پاکستانی باہر ہیں ملک سے؟ مزدور پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں مستقل باہر منتقل ہونے والوں کی نہیں۔ انہیں رابطے کے لیے جس زبان کی ضرورت پڑتی ہے بدقسمتی سے اکثر وہ انگریزی ہوتی ہے۔ اور جاپان، چین کی اپنی زبان میں ذریعہ تعلیم وغیرہم کی خیالی جنت سے بھی نکال دوں۔ جتنا جاپان اور چین، اور اب یورپ بھی انگریزی سیکھنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں  آپ تصور بھی نہیں فرما سکتے۔  چین والے انھے وا  انگریزی سیکھ رہے ہیں چونکہ انہیں اپنا کاروبار پھیلانا ہے، جاپان میں انگریزی کے اہل زبان امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا سے آکر رہائش رکھتے ہیں۔ انگریزی سکھانے کا کوئی ڈپلومہ لے کر آتے ہیں اور مقامی بچوں بڑوں کو انگریزی کی تعلیم دینا شروع کردیتے ہیں۔ اور اچھا کماتے ہیں، اپنے ملک سے بھی زیادہ۔  حقیقت اتنی بھی سیدھی نہیں ہے بھائی۔ آدھا کالا اور آدھا سفید نہیں ہے۔ درمیان میں  اتنا بڑا سارا حصہ گرے، سرخ، سبز،نیلا، پیلا بھی ہے۔ اردو کی خود ترسی میں دو جمع دو چار تو کر لیتے ہیں، حقیقت  دو جمع دو چار نہیں ساڑھے پانچ ہے۔

اور کیا نوحہ پڑھوں سائیں۔  میں اس بدنصیب زبان کا بولنے والا ہوں جس کے بولنے والے اسے لکھنا پسند نہیں کرتے۔لکھتے ہیں تو پڑھنا پسند نہیں کرتے، یا انہیں پڑھنا آتا ہی نہیں ہے۔ یہ  میرے بلاگ کی پچھلی تحریر پنجابی کی تھی۔ دو تبصرے ہوئے اس پر۔ اور یہاں درجن بھر لوگوں کے نام گنوا سکتا ہوں جو پنجاب سے ہیں اور پنجابی سمجھتے، بولتے ہیں۔ پنجابی چینلوں کا نوحہ بھی سنتے جائیں۔نام پنجابی ٹی وی ہے اور مشہوریاں اردو والی، فنکار سوفسٹیکیٹڈ زبان بولتے ہیں اردو  کی "بلینڈنگ" والی تاکہ پنجابی کا برا اثر نہ پڑے۔ ایک پروگرام میں ریمبو اور صاحبہ میزبانی کر رہے تھے (دونوں لاہور سے ہیں)۔ ریمبو پنجابی بول رہا تھا اور صاحبہ اردو، سوفسٹیکیٹڈ زبان جی۔ آخر زبان تو پھر اردو ہی ہے،پنجابی وہی مصلیوں،چوڑوں، چماروں کی زبان چاہے بولنے والے کو پیسے  ہی کیوں نہ ملیں۔ پنجابی بولنے والے  تسلی رکھیں اگلے بیس سالوں میں آپ کی اگلی نسل ساری اردو بولنے والی ہوگی۔  آپ پنجابی جانتے ہونگے ، آپ کے بچے اردو جانتے ہوں گے۔ آپ نے گلی محلے سے سیکھ لی پنجابی بولنی، آپ کے بچوں کو وہ سہولت بھی دستیاب نہیں ہوگی۔ چونکہ ساری آبادی اپنے بچوں کو اردو سکھا رہی ہو گی۔ پرانی نسل گزر جائے گی اور مجموعی طور پر اردو بولنے کا ٹرینڈ پروان چڑھے گا۔ پنجابی بولنے کے مواقع محدود ہو تے جائیں گے۔ اور پھرا یک دن آئے گا جب آخری پنجابی بولنے والا بھی مر جائے گا۔ اور پھر قومی یکجہتی پتھر پر لکیر ہو جائے گی۔  قومی یکجہتی کے نام، قومی زبان کے نام، پنجابیوں کی بے حسی کے نام، لسانیاتی اصلاحات نہ کرنے والے بزدلوں کے نام،  اس ملک کے عاقبت نا اندیش پالیسی سازوں اور جذبات پسند وڈوں کے نام، ایک مرتی زبان کے نام، ہیر رانجھے جیسی داستانیں لکھنے والے پنجابی صوفیوں کے نام ایک پنجابی بزدل کا عریضہ۔ جو اپنی زبان کا نوحہ بھی اپنی زبان میں نہیں پڑھ سکتا کہ اس کے اہل زبان پڑھنے کی زحمت نہیں کریں گے۔

پیر، 19 جولائی، 2010

آخر بھارت کو راہداری مل گئی

جیسا کہ آج کے اخبارات سے ظاہر ہے، بھارت کو افغانستان تک راہداری کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پہلے پاکستان اس پر تیار نہیں ہورہا تھا لیکن جیسے بچے کو کڑوی دوا اماں اپنے ہاتھوں سے خود پلاتی ہے اسی طرح ہیلری کلنٹن نے خود یہ معاہدہ کروایا ہے۔ اس کے نقصانات کیا ہونگے، ویسے تو کئی لال بُجھکڑ بیٹھے ہیں میڈیا میں اور اُرے پرے۔ ہمارے اپنے ذاتی خیال میں اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ بھارتی سامان افغانستان جانے کی بجائے پاکستان میں ہی رہ جایا کرے گا۔ جیسا کہ پہلے بھی افغانستان جانے والا مال پاکستان میں رہ جایا کرتا ہے اور اکثر رہ جایا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ مقامی صنعت کی تباہی اور ٹیکس کی مد میں کروڑوں شاید اربوں کا نقصان ہوگا۔
اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ بھارت کو راہداری نہیں دی گئی بلکہ وہ سامان پاکستانی ٹرکوں یا افغانی ٹرکوں پر لد کر جائے گا۔ سائیں کان ادھر سے پکڑیں یا اُدھر سے بات تو وہی ہے، بھارت کو راہداری مل گئی۔ ان کی موجیں۔ ہاں یہ ٹرکوں کی ادلا بدلی سے اتنا ہوگا کہ پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی چاندی ہوجائے گی۔

ہفتہ، 26 دسمبر، 2009

متعہ؟

آج کل اردو محفل پر وڈے وڈے چوہدری متعہ کی حرمت و حلت پر بڑی گرما گرم بحث کررہے ہیں۔ حدیثیں لائی جارہی ہیں، روایات پیش کی جارہی ہیں، ایک دوسرے کی کتب سے حوالے پیش کیے جارہے ہیں اور ذاتی و غیر ذاتی قسم کے حملے کیے جارہے ہیں۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ جذبات کے فوارے پھوٹ رہے ہیں اور متعہ کو عین اسلام اور عین غیر اسلام ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔
یہ پوسٹ لکھنے کا مقصد اصل میں کچھ اپنا نکتہ نظر بیان کرنا تھا۔ میں کوئی عالم حدیث نہیں اور نہ ہی قرآن فہم ہوں۔ آج یونہی لائبریری سے یوسف عباس کی ایک کتاب مل گئی۔ اسے پڑھا، موصوف اپنے عقائد سے قرآنسٹ اور فقہ کے اچھے خاصے ناقد ہیں۔ انھوں نے متع کے سلسلے میں اچھی تحقیق  کی ہے ۔ جس میں قرآنی آیات سے لے کر ہر دو فقہ، اہلسنت و اہل تشیع، کی روایات کا خاصے ناقدانہ انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ آج میں نے یہ کتاب سکین کرکے، پی ڈی ایف بنا کر یہاں اپلوڈ کردیا۔ یہ پانچ میگا بائٹ کے دس کے قریب حصے ہیں۔ سب اتار کر انھیں ان زپ کرلیں۔ امید ہے آپ کے علم میں اچھا اضافہ ثابت ہوگی۔
متعہ اسلام کے متنازع ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ یہ حلال تھا یا نہیں لیکن آج کے سیاق و سباق میں متعہ کو مذہب کی آڑ مہیا کرنے کا مطلب ہے آپ رنڈی بازی کو اسلامی قرار دے رہے ہیں۔ ویسے اگر ایسے ہوجائے تو حکومت کو خاصے ٹیکس مل سکتے ہیں، طوائف اور کال گرلز کو چوری چھپے کی بجائے کھلے عام کاروبار کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں اور مولویوں کی بھی چاندی ہوسکتی ہے، روز کئی کئی نکاح جو پڑھانے ہونگے۔ ہاں اس دوران پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کو پالنے کے لیے حکومت کو کچھ نرسری ہومز وغیرہ بنانے پڑیں گے۔ آج کے معاشرے میں متع کیا گُل کھلا سکتا ہے ایرانی معاشرہ اس کی ایک مثال ہے۔ بی بی سی کی ایک خبر ملاحظہ کیجیے۔ 
اللہ کا شُکر ہے کہ متعہ کو کبھی بھی اہل اسلام نے پذیرائی نہیں بخشی۔ حتی کہ اہل تشیع نے بھی عملی سطح پر اس کی کبھی بھی اس طرح پذیرائی نہیں کی جیسے ان کی کتب احادیث کافی اور فروع کافی وغیرہ میں اسے بعض جگہ فرائض تک میں شامل کردیا گیا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے اوپر دی گئی کتاب کا مطالعہ کرلیں۔ یہاں ہر دو مذاہب کی کتب حدیث میں سے ان روایات کا جائزہ لیا گیا ہے۔) اس سلسلے میں ایک ایرانی خاتون ڈاکٹر شمائلہ حائری کا مقالہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ جس میں انھوں نے متعہ کے نام پر عورتوں کے بے حرمتی اور اس کے ایرانی معاشرے پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
اللہ کریم ہمیں حق کو پہچاننے کی توفیق عطاء فرمائے۔   

جمعرات، 24 دسمبر، 2009

سوڈان تقسیم کی طرف

انڈونیشیا کے ایک صوبے مشرقی تیمور کی علیحدگی والی ساری کہانی آج جنوبی سوڈان میں دوہرائی جارہی ہے۔ کافی عرصے سے تشدد کی خبریں میڈیا میں آرہی تھیں اور آج یہ خبر پڑھی ہے۔
خرطوم ۔ سوڈان کی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس سے جنوری میں جنوبی سوڈان کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو گئی ہے بل کے مطابق ریفرنڈم میں جنوبی سوڈان کے 60 فیصد قحط افراد کا حق رائے دہی میںحصہ لینا ضروری ہے ۔ اگر 30 فیصد سے زیادہ افراد نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے تو جنوبی سوڈان شمالی سوڈان سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ شمالی سوڈان زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل ہے جب کہ جنوبی سوڈان میں مسیحی اور دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں ۔ سوڈان کے تیل کے زیادہ تر ذخائر اس کے جنوبی علاقے میں ہیں
اس ریفرنڈم کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جنوبی سوڈان الگ ہوجائے گا۔ سوڈان پہلے ہی غریب مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، تیل کے ذخائر جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سے ہمیں عبرت حاصل ہونی چاہیے جو بلوچستان کے معاملے پر آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک میں علیحدگی پسند عناصر کو کتنا سپورٹ کرتی ہیں۔ جبکہ کشمیر کے معاملے میں اس کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔

اتوار، 27 ستمبر، 2009

جیت مبارک ہو

کل صبح مجھے ایک ایس ایم ایس آیا جس میں بڑے صدق دل سے دعا کی گئی تھی کہ پاکستان میچ جیت جائے۔ کہ یہ میچ نہیں اصل میں جنگ ہے اور پاکستان کو یہ جنگ جیتنا ہوگی۔ نیچے بڑے جذباتی قسم کے نعرے درج تھے۔ میں نے وہ ایس ایم ایس ایک نوٹ کے ساتھ آگے ارسال کردیا کہ ہاں پاکستان کو یہ جنگ جیتنا ہوگی چاہے بلوچستان، کشمیر اور پانی کے محاذ پر ہار جائے۔
ابھی دو دن قبل یہ خبر پڑھی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔
مظفر آباد ۔ بھارتی آبی جارحیت پر پاکستان و آزاد کشمیر کے حکمران ، سیاست دان اور ادارے مکمل خاموش ، دریائے جہلم نالہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جنوری فروری میں مکمل سوکھنے کا خدشہ ، پنجاب ، سندھ اور میرپور ڈویژن کی ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین بنجر ہونے کے علاوہ آزاد خطہ میں ماحولیاتی تبدیلیاں بھی متوقع ۔ دریائے جہلم و نیلم کے پانیوں سے بھارتی مشرقی پنجاب اور ہریانہ کی زمینیں سیراب کرنے کی منصوبہ بندی حتمی مراحل میں داخل ۔ حریت قائدین سید علی شاہ گیلانی ، بھارت نواز فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی پاکستان کو پانیوں سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی پر متفکر ، آزاد خطہ کے سیاست دان مطمئن و مسرور ۔ تفصیلات کے مطابق بھارت ، اسرائیل ، فرانس کے تعاون اور ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان و آزاد خطہ کو پانیوں سے محروم کرنے کے لیے 62 منصوبوں پر کام کا آغاز کر چکا ہے۔ 12 منصوبے تکمیل کے قریب ہیں ان منصوبوں کے ذریعے دریائے جہلم و نیلم میں ایک قطرہ بھی آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہو سکے گا بھارت سرنگ کے ذریعے دونوں دریاؤں کا پانی جموں ، گورداسپور اور مشرقی پنجاب ، ہریانہ پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہے وولر بیراج کے فنکشنل ہونے سے دریائے جہلم کا پانی معمول سے کئی گنا کم ہو گیا ہے ۔ گرمیں کے موسم دریائے جہلم میں سطح آب سردیوں کے موسم سے بھی کئی گنا کم ہے ۔ آمدہ سردیوں میں دریائے جہلم کا خشک ہونا تقریبا ً طے ہے ۔ وادی جہلم کے ہزاروں افراد اس صورت حال پر پریشان ہیں ۔ دریائے نیلم کا پانی کشن گنگا کے ذریعے منتقل کیا جارہا ہے ان دونوں دریاؤں کے خشک ہونے سے پاکستان و آزاد کشمیر میں شدید غدائی بحران پیدا ہونے کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوں گی ۔ انتہائی باعث تشویش امر ہے کہ دریا سوکھ رہے ہیں مگر پاکستان و آزاد کشمیر کے حکمران دینی ، سیاسی جماعتوںکے قائدین ملکی دفاع ، اور مفاد میں فیصلے کرنے والے اداروں سمیت ہر وقت یہاں تک کہ عوام کی بڑی تعداد خاموش ہے۔ سیاسی قائدین جنہیں قوم کی راہنمائی کرنی ہوتی ہے مخصوص مفادات کے اسیر ہیں اور پنجاب سندھ اور میرپور ڈویژن ریگستانوں میں بدلنے جا رہاہے مقبوضہ کشمیر کے پیشتر سیاست دان اس صورت حال پر متفکر ہیں ۔ سید علی گیلانی کے علاوہ بھارتی وزیر فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کے اقدامات کی مذمت کر چکے ہیں ۔ حریت قائدین سید علی گیلانی اور محبوبہ مفتی نے سندھ طاس معاہدہ ختم کر کے پانیوں پر کشمیریوں کا حق ملکیت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان و آزاد کشمیر نے اگر اس صورت حال کے تدارک کے لیے فوری لائحہ عمل مرتب نہ کیا تو آئندہ 5 سالوں میں ان دریاؤں کے نشانات ہی باقی رہیں گے
تفصیل میں جانے کا دل نہیں کررہا تو اتنا بتائے دیتا ہوں بات وہی پرانی ہے کہ انڈیا نے ہمارا پانی روک لیا۔ اس طرح کی خبریں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ لیکن چونکہ ہمیں "اصلی تے وڈی" فتح چاہیے ہوتی ہے جس پر بھنگڑے بھی ڈالے جاسکیں اور کرکٹ ایسے تمام نتائج  دیتا ہے اس لیے ہمیں یہ فتح مبارک ہو۔ پانی کا کیا ہے چند لاکھ ایکڑ اراضی ہی بنجر ہونے جارہی ہے وہ بھی ابھی کئی سال پڑے ہیں اللہ خیر کرے گا۔ کوئی سلسلہ بن ہی جائے گا نا۔ ہمیں میچ جیتنے کی خوشی منانی چاہیے۔ بلوچستان کا کیا ہے اللہ خیر کرے گا بلوچستان کہیں نہیں جارہا ادھر ہی ہے۔ اور کشمیر پہلے کونسا اپنے پاس تھا باسٹھ سال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا چھنکنا ہی بجا رہے ہیں ہم۔
تو صاحبو آپ کو ایک اور "فتح" مبارک ہو۔ لیکن جاتے جاتے ایک بات، کہیں اس فتح اور ایسی دوسری "فتوحات" (یہ فتوحات صوفیوں والی نہیں جس کا مفہوم چندے کی صورت میں نکلتا ہے) کی قیمت ہم کسی اور میدان میں ہار کر تو ادا نہیں کررہے۔ ذرا سوچیے گا ضرور۔

جمعہ، 19 جون، 2009

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد

رنگے برنگے آنچل، ہنستے ہوئے چہرے، چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹیں لیے جوڑے، یہ جی سی یو ایف ہے۔ فیصل آباد کی دوسری پبلک سیکٹر یونیورسٹی۔ یہاں جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے بعد سب سے زیادہ داخلے کی درخواستیں آتی ہیں۔

جی سی یو ایف ان جامعات میں سے ہے جنھیں ڈاکٹر عطاء الرحمن کی بدولت کالج سے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ 2001 میں بننے والی یہ جامعہ ابھی تک اپنی تشکیل کے عمل میں لگتی ہے۔ اساتذہ کا انداز فکر، انتظامیہ کے رویے، طلباء کا انداز سب کچھ ایسے لگتا ہے جیسے ابھی بالغ ہوتے ہوتے دس سال اور لے جائے گا۔

جامعہ کے پاس ذرائع کی کمی ہے۔ پچھلے وائس چانسلر صاحب کے جانے کی ایک وجہ بدعنوانی کے الزامات بھی تھے۔ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق پندرہ کروڑ روپے کا چونا یونیورسٹی کو لگایا جاچکا ہے۔ لیفٹیننٹ ریٹائر خالد محمود نے اس جامعہ کا پرانا طالب علم ہونے کا حق ادا کیا اور جب تک ان کی گورنرشپ رہی جامعہ کو کبھی فنڈز کی کمی نہ پیش آئی۔ بلکہ مشرف دور تک ایچ ای سی ہر جامعہ پر پیسے لٹاتا رہا۔ سیاسی حکومت کے آتے ہی ایچ ای سی خود دیوالیہ ہوگیا اس نے جامعات کو کیا دینا تھا۔ ہمارے زیر تعمیر بلاکس رک گئے اور یونیورسٹی کو خرچہ پورا کرنے کے لیے ایک غیر رسمی سمسٹر شروع کرنا پڑا۔ خیر فنڈز کا کچھ مسئلہ تو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے آنے سے حل ہوا ہے اور اب تعمیر کے رکے ہوئے کام پر سے جاری ہیں۔ لیکن جامعہ کے مالی حالات اب بھی دگرگوں ہیں۔

اورسونے پر سہاگہ: آپ کی جامعہ میں اخلاقی اور مذہبی حدود کو پامال کیا جارہا ہے۔ آپ کو وارننگ دی جاتی ہے اس کو کنٹرول کریں۔ منجانب طالبان پنجاب۔


کوئی دو ماہ پہلے یہ خط وی سی کو ارسال کیا گیا اور تب سے جامعہ کی سیکیورٹی انتظامیہ کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ جامعہ کے چھ گیٹس ہیں جن میں سے چار فوری طور پر بند کروا دئیے گئے۔ گیٹ نمبر ایک پیدل کے لیے اور نمبر دو گاڑیوں کے لیے مخصوص کردیا گیا۔ پارکنگ عمارات کے ساتھ سے ختم کردی گئی۔ طلباء جن کے جامعہ کے کارڈ ابھی تک نہیں بنے تھے انھیں عارضی کارڈز بنا کر دئیے گئے۔ بقول ہمارے وی سی ہمیں تین قسم کی کرپشن کا سامنا ہے۔ اخلاقی، مالی اور تدریسی۔ اس سارے کا نتیجہ یہ کہ ہم پر اخلاقیات ٹھونسی جارہی ہیں۔ طلباء کلاسز کے بعد ایک گھنٹے سے زیادہ بیٹھ نہیں سکتے۔ جہاں کہیں کوئی جوڑا بیٹھا ہوگا اس کو سیکیورٹی کے جوان یا ڈسپلن کمیٹی کے ممبر اساتذہ رپورٹ کریں گے۔
میں جامعہ کا طالب علم ہوں۔ بطور طالب علم اس ساری صورت حال میں بہت ان ایزی محسوس ہوتا ہے۔ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کہیں بیٹھ نہیں سکتے۔ لائبریریز ہماری الا ماشاءاللہ ہیں کہ دو میز ہیں اور اٹھارہ کلاسز ہیں تو وہاں کیا بیٹھیں۔ ہمارے پاس کمروں کی کمی ہے چناچہ بی اے آنرز کی کلاسیں ماسٹرز کی کلاسوں کے ساتھ ملا کر پڑھائی جاتی ہیں۔ صبح نو سے دوپہر تین تین بجے تک انھیں صرف چار کلاسیں پڑھنے کے لیے رکنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں ان سے یہ مطالبہ کہ لان میں نہ بیٹھو، کاریڈور میں نہ بیٹھو اور مکسنگ نہ کرو۔۔۔۔۔ طلباء چکی کے دو پاٹوں میں آئے ہوئے ہیں جیسے۔
پتا نہیں شاید یہی اخلاقیات ہے کہ لڑکا لڑکی ساتھ نہ بیٹھیں چاہے وہ ہم جماعت ہی کیوں نہ ہوں، یا وہ ایک دوسرے سے ہنس کر بات نہ کریں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ آتے جاتے نظر نہ آئیں۔ شاید یہی اخلاقیات ہیں لیکن بطور طلباء ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ایسا ہونا روک بھی دیا جائے تب بھی ایسی "گنجائشیں" ختم نہیں ہوجاتیں۔ ساتھ بیٹھنے پر پابندی کے باوجود لوگ ساتھ بیٹھتے ہیں اور گھنٹوں بیٹھتے ہیں۔ لوگ لائبریری میں بیٹھ کر دل پشوری کرلیتے ہیں۔ اور بدنام پوری کمیونٹی ہورہی ہے۔ ہم کلاس روم سے متعلقہ گفتگو بھی ساتھ بیٹھ کر نہیں کرسکتے۔ عجیب حالات ہیں آج کل۔
میرے خیالات اس موضوع پر بڑے کنفیوژ سے ہیں۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم کروں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کل بطور طلباء ہم اچھی خاصی ٹینشن میں ہیں۔ ہماری جامعہ کے مالی اور انتظامی حالات، اب سیکیورٹی حالات ان سب نے مل کر ایسا تاثر پیدا کردیا ہے کہ ہم کسی سکول کے طلباء ہیں جامعہ کے نہیں۔ ہماری جامعہ میں انتظامی رسہ کشی، عہدوں پر اجارہ داریاں، سفارشیں، ناجائز اور ڈھٹائی کی حد تک پہنچی ہوئی تقرریاں (ایم اے پاس ٹیچر رئیس شعبہ ہیں اور ان کے نیچے تین پی ایچ ڈی ہیں۔ خود سوچ لیں کہ کون حقدار ہے ڈاکٹر یا ایم اے؟ یہ ایک مثال ہے صرف)، پاکستان کی طرح کے غریب حالات، شعبہ جات کے مابین رسہ کشی، وسائل کی عدم دستیابی۔۔۔ اس سب نے مل کر عجیب سماں باندھ رکھا ہے۔ اور ہم اس سماں میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں، دبی دبی سی ہنسی بھی ہنس لیتے ہیں، چوری چوری کنٹین پر بھی چلے جاتے ہیں، سیکیورٹی والوں کے ڈر کے باوجود کہیں بیٹھ کر اکٹھے کھانا بھی کھا لیتے ہیں اور پڑھائی پر گفتگو بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن ڈرتے ڈرتے۔۔۔۔۔۔

پیر، 1 جون، 2009

تیرا ککھ نہ رہوے

اردو محفل پر جنرل موٹرز کے دیوالیہ کی خبر تھی۔ ایک دوست نے وہاں بدعا دی ہوئی تھی اللہ کرے جنرل موٹر دیوالیہ ہو ہی جائے۔
یہ اور ایسی اور جنرل سی بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔
اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔ جو ہر بات پر تالی بجا کر اور کولہے مٹکا کر اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔
وے تہاڈا ککھ نہ رہوے۔ ٹُٹ پینیوں۔۔گھر ماں بہن نہیں اے

ہفتہ، 9 مئی، 2009

اب؟

وہی جس کا ڈر تھا۔ میرے جیسے جو امن کی امید کررہے تھے، بتدریج تبدیلی کی امید کررہے تھے اور نفاذ شریعت کی راہ ہموار ہونے کی امید کررہے تھے۔ اس سب کو فضل اللہ اینڈ کمپنی نے اپنی جلد بازی، ناعاقبت اندیشی اور وحشی پنے سے مٹی میں ملا دیا۔ یوں لگتا ہے جیسے انھیں پورے پاکستان پر قبضہ کرنے کی بہت جلدی تھی یا یہ باہر سے ان کی ڈوریاں ہلائی جارہی ہیں۔
خیر جو بھی ہورہا ہے۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ بندوق ہی مسئلے کا حل ہے۔ جس سے بچنے کی کوشش کرنے کا مشورہ ہم دیتے آئے ہیں۔ اس سارے قضیے یا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان سینتالیس کے بعد اپنی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ دس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔ اس ہجرت کے اثرات کیا ہونگے؟ سینتالیس کو ذہن میں رکھ لیں سب کچھ سامنے آجائے گا۔ مہاجرین کو تو مسائل پیش آئیں گے ہی ان کے میزبان شہروں میں بھی گھٹن کی سی فضا پروان چڑھے گی۔ کاروبار کے مسائل، امن عامہ کے مسائل کئی قسم کی مصیبتیں کھڑی ہونگی۔
اب سلسلہ یہ ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی کام کیا جائے۔ حکومت سے تو باجوڑ اور فاٹا کی دوسری ایجنسیوں کے مہاجر سنبھالے نہیں گئے پچھلے ڈیڑھ سال سے ان لاکھوں لوگوں کو کہاں سنبھال سکے گی۔ اس سلسلے میں عوام کو آگے آنا ہوگا۔ اس وقت آٹھ اکتوبر 2005 والے جذبے کی ضرورت ہے۔ اور فراخ دلی کی بھی۔ مہمان نوازی اور پناہ کی فراخ دلی۔ اللہ ہم کو اس آزمائش سے گزرنے کی توفیق دے۔