ہفتہ، 24 نومبر، 2007
ایمرجنسی کے بعد امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے: تو پھر یہ کیا ہے؟
بی بی سی اردو کے مطابق راولپنڈی میں دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نشانہ واضح طور پر پاکستانی فوج سے متعلقہ افراد تھے۔
میرا خیال سے امن و امان کی صورت حال واقعی "بہتر" ہوئی ہے۔
پیر، 27 اگست، 2007
شہرنامہ
سانحہ لال مسجد پر احمد فراز کا تازہ کلام
وہ عجیب صبحِ بہار تھی
کہ سحر سے نوحہ گری رہی
مری بستیاں تھیں دُھواں دُھواں
مرے گھر میں آگ بھری رہی
میرے راستے تھے لہو لہو
مرا قریہ قریہ فگار تھا
یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی
وہ فللک کہ مشتِ غبار تھا
کئی آبشار سے جسم تھے
کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے
کئی خوش جمال طلسم تھے
جنھیں گرد باد نگل گئے
کوئی خواب نوک سناں پہ تھا
کوئی آرزو تہِ سنگ تھی
کوئی پُھول آبلہ آبلہ
کوئی شاخ مرقدِ رنگ تھی
کئی لاپتہ میری لَعبتیں
جو کسی طرف کی نہ ہوسکیں
جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں
جو نہ جانے والوں کو روسکیں
کہیں تار ساز سے کٹ گئی
کسی مطربہ کی رگ گُلُو
مئے آتشیں میں وہ زہر تھا
کہ تڑخ گئے قدح و سَبُو
کوئی نَے نواز تھا دم بخود
کہ نفس سے حدت جاں گئی
کوئی سر بہ زانو تھا باربُد
کہ صدائے دوست کہاں گئی
کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے
کہ سماعتوں نے سُنے نہیں
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے
کہ انیس نے بھی کہے نہیں
یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں
یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں
یہاں بادلوں کی اڑان تھی
جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر
یہاں قُمقُموں سے جوان تھے
جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن
یہاں جگنوؤں کے مکان تھے
کہیں آبگینہ خیال کا
کہ جو کرب ضبط سے چُور تھا
کہیں آئینہ کسی یاد کا
کہ جو عکسِ یار سے دور تھا
مرے بسملوں کی قناعتیں
جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے
مرے آہوؤں کا چَکیدہ خوں
جو شکاریوں کو سراغ دے
مری عدل گاہوں کی مصلحت
مرے قاتلوں کی وکیل ہے
مرے خانقاہوں کی منزلت
مری بزدلی کی دلیل ہے
مرے اہل حرف و سخن سرا
جو گداگروں میں بدل گئے
مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو
کسی اور سمت نکل گئے
کئی فاختاؤں کی چال میں
مجھے کرگسوں کا چلن لگا
کئی چاند بھی تھے سیاہ رُو
کئی سورجوں کو گہن لگا
کوئی تاجرِ حسب و نسب
کوئی دیں فروشِ قدیم ہے
یہاں کفش بر بھی امام ہیں
یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
کوئی فکر مند کُلاہ کا
کوئی دعوٰی دار قبا کا ہے
وہی اہل دل بھی ہیں زیبِ تن
جو لباس اہلِ رَیا کا ہے
مرے پاسباں، مرے نقب زن
مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے
میرا دیس میرِ سپاہ کا
میرا شہر مال غنیم ہے
جو روش ہے صاحبِ تخت کی
سو مصاحبوں کا طریق ہے
یہاں کوتوال بھی دُزد شب
یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے
یہاں سب کے نِرخ جدا جدا
اسے مول لو اسے تول دو
جو طلب کرے کوئی خوں بہا
تو دہن خزانے کے کھول دو
وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب
اسے قُمچیوں سے زَبُوں کرو
جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل
اسے گولیوں سے نگوں کرو
مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے
اسی قحط زارِ دمشق میں
جنھیں کوئے یار عزیز تھا
جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں
کوئی بانکپن میں تھا کوہکن
تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی
جو صراحیاں لئے جسم کی
مئے ناب خوں سے بھری ہوئی
تھے صدا بلب کہ پیو پیو
یہ سبیل اہل وفا کی ہے
یہ نشید نوشِ بدن کرو
یہ کشید تاکِ وفا کی ہے
کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں
جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر
سبھی مفت بر تھے تماشہ بیں
کوئی بزم میں کوئی بام پر
سبھی بے حسی کے خمار میں
سبھی اپنے حال میں مست تھے
سبھی راہروانِ رہِ عدم
مگر اپنے زعم میں ہست تھے
سو لہو کے جام انڈیل کر
مرے جانفروش چلے گئے
وہ سکوُت تھا سرِ مے کدہ
کہ وہ خم بدوش چلے گئے
کوئی محبسوں میں رَسَن بہ پا
کوئی مقتلوں میں دریدہ تن
نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نَے
نہ کسی کے لب پ گُلِ سخن
اسی عرصہء شب تار میں
یونہی ایک عمر گزر گئی
کبھی روز وصل بھی دیکھتے
یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی
یہاں روز حشر بپا ہوئے
پہ کوئی بھی روز جزا نہیں
یہاں زندگی بھی عذاب ہے
یہاں موت بھی شفا نہیں
مشکل الفاظ
لعبت:: گڑیاں، مورتیاں، کھلونے
مطربہ: خوش کرنے والا، قوال
گلو: حلق، کنٹھ، گردن
دُزد: چور، سرقہ
قمچیوں: چابک، چھڑی، ہنٹر
قدح و سبو: بڑا پیالہ اور صبح کی شراب
باربُد: یونانی موسیقار جو المیہ دھنیں بناتا تھا
چکیدہ: ٹپکا ہوا
تاک: انگور
خم بدوش: شراب کا مٹکا اٹھانے والا
محبسوں: حساب کتاب کرنے والا
پیر، 26 مارچ، 2007
میرے ویب دوست
اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔
بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔
ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔
قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔
بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔
بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو ---کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔
بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔
اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔
کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔
ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔
شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب
;)
محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔
چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔
اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔
اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح "موج" بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔
ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔
اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
وسلام