گلی محلے سے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گلی محلے سے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 2 فروری، 2017

ایک خواہش

یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور  بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔

بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا  ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔

حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔

تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اپنے پاس بلا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔

منگل، 9 فروری، 2016

چائے

حضرات چائے کے فضائل کیا گنوائیں۔ سمجھ لیں کہ آسمانی تحفہ ہے جو خدا نے اپنی مخلوق کے غموں پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اتارا ہے۔ آپ عاشقِ صادق ہیں یا زوجہ کے ستائے ہوئے، دوست احباب یا اہلخانہ میں بیٹھے ہیں یا تنہائی سے شغل فرما، امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں یا دفتر کے اضافی کام تلے دبے ہیں، ذہنی کام نے دماغ کی دہی بنا دی ہے یا جسمانی کام نے تھکا مارا ہے، صبح اٹھے ہیں تو بیڈ ٹی رات دیر تک جاگنا ہے تو نیند بھگانے کا تیر بہدف نسخہ؛ سردی، گرمی، خزاں، بہار کسی بھی موسم میں، رات، دن، سہ پہر، دوپہر کسی بھی وقت، گھر میں ٹی وی کے سامنے، بیٹھک، کھڑکی یا میز کے پیچھے، باہر فٹ پاتھ پر کرسی یا بینچ پر بیٹھے، دفتر میں فائلوں کے ہمراہ یا کسی میٹنگ میں مصروف، غرض ایک کپ چائے کہیں بھی آپ کی دنیا بدل سکتی ہے۔

دل جلانے کا من ہے تو دودھ کے بغیر پی لیں۔ دودھ کے ہمراہ دل جلانے کا شوق ہے تو کسی فٹ پاتھی چائے فروش سے مستریوں والی چائے کی فرمائش کر لیں۔ دودھ سے کچھ زیادہ رغبت ہے تو دودھ پتی کروا لیں۔ جاڑوں کی سردیلی صبح، نانی کے گھر میں لکڑی کے چولہے کے ساتھ بیٹھے گھر کی گائے/ بھینس کے دودھ اور گھر کے گُڑ کی بنی چائے پر تو دنیا جہان کی نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ پستہ بادام سے شغف ہے تو کشمیری گلابی سبز چائے آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ پشاوری قہوے اور لیموں کا جوڑ تو شاید ہی کہیں اور پایا جائے۔ یعنی جیسا موڈ ہو ویسی چائے اسے دوبالا کرنے کے لیے حاضر۔

 اور پھر چائے اکیلی ہی نہیں آتی، ساتھ طرح طرح کے لوازمات بھی دل لبھانے کو آ موجود ہوتے ہیں۔ بھوک لگی ہے تو چائے پراٹھا، اور اگر والدہ کے ہاتھ کا پکا پراٹھا چائے کے ساتھ مل جائے تو جناب اس کی قدر ہم جیسے پردیسیوں سے پوچھیں۔ توس، سادہ توس، انڈہ لگا توس، ٹوسٹر میں فرائی کردہ توس اور ساتھ ایک کپ چائے: لاجواب۔ ایک فرائی ہاف فرائی انڈہ، ابلا ہوا، ہاف بوائلڈ انڈا ایک چٹکی نمک اور کالی مرچ کے ساتھ چائے کے کپ کی چُسکیاں، سبحان اللہ۔ رس گلے، گلاب جامن اور برفی سے لدی ایک پلیٹ جب چائے کے کپ کے ساتھ گلے میں اترتی ہے تو اس کا مزہ کسی من و سلویٰ سے کیا کم ہو گا۔ اور رس یا بسکٹ چائے کی پیالی میں ڈبو کر کھانے اور پیالی میں ہی رہ جانے کی صورت میں پینے کا لطف بیان کرنے نہیں آزمانے کی چیز ہے۔ اور اگر میٹھا نہیں کھانا چاہتے تو نمکین چیزوں کے ساتھ بھی چائے کی بہت اچھی دوستی ہے: نمکو، سموسے، پکوڑے، چپس اور ساتھ ایک کپ چائے۔

تو صاحبو چائے کچھ ایسا عالمگیر مشروب ہے جو خال ہی کسی چیز کے ساتھ فِٹ نہ بیٹھتا ہوگا، کم ہی کسی صورتحال میں اجنبی محسوس ہوتا ہو گا اور کوئی بدنصیب ہی اسے چھوڑ کر کسی اور مشروب سے دل بہلانے کی آرزو کرتا ہو گا۔ کسی زمانے میں حکیموں کے ہاں ہی ملتی ہو گی ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ، لیکن اب تو چائے ہر امیر غریب کی خوراک کا لازمی جزو ہے۔ دل جلانے، دل بہلانے، دل لگانے کے کام آتی ہے۔ وزیروں، مشیروں، شاعروں، ادیبوں، امراء، فقراء، علماء، ہر کسی میں مقبول یہ مشروب جسے ہم اردو میں چائے، انگریزی میں ٹی، پنجابی میں چاء اور جرمن میں ٹے بلاتے ہیں۔ اب اس کی تعریف اور کیا کریں کہ بس ایک کپ چائے نے کچھ ایسا دماغ چلایا کہ ہم نے ایک ڈیڑھ صفحہ اس کی مدح سرائی میں کالا کر ڈالا۔ تو صاحبو چائے پیئو، جیو اور خوش رہو۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

وزیرستان کے ضرورتمند بہن بھائیوں کے لیے عطیہ

رمضان بھی ہے اور وزیرستان کے بہن بھائی اس وقت ضرورتمند بھی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ، خیرات کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اپنا دل بھی ہو گا کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ قابل اعتماد تنظیم، شخص یا ادارے کو عطیہ دیں۔ اس سلسلے میں مَیں نے جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کو بہترین پایا ہے۔ جماعت الدعوۃ والوں کی خیراتی سروس فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی اچھی ساکھ کی حامل ہے لیکن ان کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ایک آدھ بار کے علاوہ کبھی ان کو عطیہ دینے پر دل مائل نہیں ہوا۔ ضرورتمندوں کو دیکھ کر برساتی کھبمیوں کی طرح اگنے والی جعلی تنظیموں سے ہوشیار رہیں۔ یاد رکھیں صدقہ دے دینا ہی آپ کی ذمہ داری نہیں، یہ بھی جہاں تک ممکن ہو یقینی بنائیں کہ وہ ضرورتمند تک پہنچے گا بھی۔ یہ بھی پوچھ لیں کہ متعلقہ ادارہ یا تنظیم وزیرستان کے لیے کوئی آپریشن چلا رہا ہے یا نہیں، اگر ہاں تو کہہ کر اس فنڈ میں پیسے لکھوائیں۔ آپ کے شہر میں بے شمار مخیروں نے خیرات کرنی ہے، وزیرستان تک جانے والے سو میں سے چند ہی ہوں گے۔ اس لیے یقینی بنائیں کہ آپ عطیہ دیں بلکہ یہ عطیہ ضرورتمند بہن بھائیوں تک پہنچے بھی۔ 
اللہ کریم جزائے خیر دے۔

منگل، 5 فروری، 2013

پینڈو

اپنا ذاتی فولڈر کھنگالتے ہوئے پندرہ اکتوبر، 2009 کی بنی ہوئی ایک ورڈ فائل سے یہ اسکرپٹ نکلا۔ کسی فنکشن کے لیے لکھا تھا۔ اور اکثر مواقع کی طرح اس کو پیش کرنے کی ہمت نہ پڑی، یا وقت کی کمی کی وجہ سے نہ پیش ہوا، یا پھر ارادہ بدل گیا۔ اب یاد نہیں۔ پینڈو کا کردار اپنے لیے لکھا تھا، اور پنجابی، اردو انگریزی تینوں پر مشتمل مکالمے تھے۔ پنجابی مکالموں کا ترجمہ کردیا ہے امید ہے اردو میں لکھی انگریزی سمجھ آ جائے گی۔
-------------------------------------------------
کردار: پینڈو، گورا صاحب، باجی
گورا صاحب اور باجی سٹیج پر موجود ہیں۔ اس کے بعد ہونق سی شکل بنائے  پینڈو سٹیج پر آجاتا ہے۔ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد جب اس کی نظر گورا صاحب پر پڑتی ہے تو اس کی طرف لپکتا ہے۔
پینڈو: کی حال اے پاء جی؟ ]کیا حال ہے جناب؟]
گورا صاحب: واٹ؟
پینڈو: ہیں؟ وٹ؟ کیہڑا وٹ؟ [وٹ= غصہ، گرمی، مروڑ]
گورا صاحب: وٹ آر یو ٹاکنگ؟ (پینڈو باجی کی طرف جاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے)
پینڈو: باجی اے باجی۔۔۔ اے چٹے منہ والے نوں کی ہوگیا اے۔ سردیاں وچ کیس چیز دا وٹ چڑھیا اے اینہوں؟ [باجی اے باجی۔۔۔ اس سفید منہ والے کو کیا ہو گیا ہے۔ سردیوں میں کس چیز کا غصہ چڑھا ہوا ہے اسے؟] ( (باجی ڈائس پر کھڑی کچھ کام کر رہی ہے اوراس سارے قضیے سے بالکل بے پرواہ نظر آتی ہے۔ پینڈو کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ انگریز کو دیکھ کر سارا معاملہ سمجھ جاتی ہے اور پینڈو کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہتی ہے)
باجی: سٹوپڈ یہ انگلش ہے۔ اور اسے اردو نہیں آتی۔ تم سے پوچھ رہا تھا کہ کیا کہہ رہے ہو۔
پینڈو: ہیں ؟ اچھا تے اے انگریز اے۔ اینہوں تے وٹ وی وایتی پھردا ہونا اے فیر۔ ہے نا باجی؟ [اچھا تو یہ انگریز ہے۔ اسے تو مڑوڑ بھی ولائتی اٹھتا ہو گا۔ ہے نا باجی؟]
باجی: شٹ اپ۔ نان سنس پنا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں۔
پینڈو: ہو ہائے باجی توں ناراض تے نا ہو۔ اے باجی۔۔۔ اے باجی۔۔۔ باجی گل سن نا (باجی ناراضگی سے اس کی طرف دیکھتی ہے)
باجی: ہاں بولو۔ اب کوئی ایسی ویسی بات کی تو سر پر کوئی چیز مار دوں گی۔
پینڈو: اچھا نا باجی نئیں کہندا۔ باجی۔۔۔۔ اے باجی۔۔۔۔ اے گورے صاحب نال ساڈی یاری کرا دے نا۔ ایدے کولوں پُچھ ایدا ناں کی اے۔[ اچھا باجی نہیں کہتا۔۔ باجی اے باجی اس گورے صاحب سے ہماری دوستی کروا دو نا۔ اس سے پوچھو اس کا نام کیا ہے] (باجی گورے صاحب کو مخاطب کرتی ہے)
باجی: ایکسکیوز می۔  دس مین وانٹس ٹو نو یور نیم۔ کین یو پلیز؟
گورا صاحب: (متوجہ ہوتے ہوئے) او شیور شیور۔ مائی نیم از اینڈرسن۔
باجی: اس کا نام اینڈرسن ہے؟
پینڈو: ہیں کیہڑا سن؟  ایناں مشکل ناں۔ اے باجی۔۔۔ اے باجی ۔۔۔ اینہوں کہہ نا میں اینہوں گورا صاحب کہہ لواں؟ [ہیں کونسا سن؟ اتنا مشکل نام۔ باجی اسے کہوں نا کہ میں اسے گورا صاحب کہہ لوں؟]
باجی: (انگریز سے) کین دس پرسن کال یو گورا صاحب؟
گورا صاحب: وٹ ڈز اٹ مین؟
باجی: ویل اٹ مین آ وائٹ مین۔
گورا صاحب: او شیور ہی کین کال می۔
باجی: کہہ لو اسے گورا صاحب۔ اور اب پلیز مجھے تنگ نہ کرو میں کام کر رہی ہوں۔
پینڈو: ہائے باجی توں کنی چنگی ایں۔ [ہائے باجی تم کتنی اچھی ہو] (چھلانگ لگا کر گورے صاحب کی طرف جاتا ہے۔ ہاتھ سے اشارہ کر کے کہتا ہے۔)
پینڈو: گورا صاحب۔ (گورا صاحب مسکرا کے سر ہلاتا ہے۔) پینڈو (پینڈو اپنی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے)۔
گورا صاحب: پھینڈو
پینڈو: پینڈو
گورا صاحب: پھینڈو
پینڈو: یار توں مینوں پھینٹناں کیوں لیا اے۔ پینڈو پینڈو [یار تم نے پھینٹنا کیوں لے رکھا ہے۔ پینڈو پینڈو]
گورا صاحب : او پھینڈو پھینڈو
پینڈو: (سخت غصے میں آجاتا ہے۔ اپنے بال نوچتا ہے۔ دیوار سے سر ٹکرانے لگتا ہے پھر کچھ سوچ کر واپس آجاتا ہے۔ لمبے لمبے سانس لیتا ہےاور اپنے آپ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ گورے صاحب سے) گورا صاب۔ پے
گورا صاحب: پھے
پینڈو: ڈو
گورا صاحب : ڈو
پینڈو: پیڈو
گورا صاحب: پھیڈو۔
 پینڈو: (پینڈو کو احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط بول گیا ہے۔) ہائے میں کتھے چلا جاواں اوئے مینوں پیڈو بنا دتا۔ میں تینوں پیڈ دا بچہ لگداں کتوں؟ [ائے میں کدھر چلا جاؤں۔ مجھے بھیڈو (بھیڑ کا بچہ) بنادیا۔ میں تمہیں بھیڈو لگتا ہوں کہیں سے؟] (پینڈو پھر اپنا سر پیٹنا شروع کردیتا ہے۔ اس دوران باجی اس شور سے اکتا کر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔)
باجی: شٹ اپ ، نانسنس۔  انگریز  پ نہیں بول سکتے۔ اس لیے وہ تم کو پھینڈو ہی کہے گا۔
پینڈو: اچھا اے ہو ای قسمت اے تے فیر ٹھیک اے۔ [اچھا اگر یہی قسمت ہے تو ٹھیک ہے] (گورے صاحب سے) ٹھیک ہے ٹھیک ہے پھینڈو ۔۔(رونی سی شکل بنا کے اور اپنی طرف اشارہ کرکے) پھینڈو۔
گورا صاحب: اوکھے اوکھے۔
پینڈو: (پینڈو کو پھر آگ لگ جاتی ہے) اوکھے کی مطلب اوئے۔  مینوں پتا تسیں جنہیں اوکھے جے ساڈے توں۔ اوئے اوکھے تے اسیں آں۔ تہاڈا کی خیال اے تسیں ڈرون حملے کردے رہو گے تے اسیں چپ بیٹھے رہواں گے؟ اوئے اسیں تہاڈا چنڈا ساڑاں گے۔ تسیں فیر ڈرون حملہ کرو گے اسیں  فیر تہاڈا چنڈاساڑاں گے ڈاکخانے بنک ساڑاں گے۔ نواں آیاں سوہنیا توں ویکھیا کی اے پاکستان وچ ہلے۔ (پینڈو سلطان راہی کی طرح چوڑا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے) اوئے تسیں کی سمجھدے او ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دے کے تسیں ایس قوم نوں خرید لیا اے؟ اوئے اے امداد نئیں مل سکدی اوئے (آہستہ سے) فوج نے جو کہہ دتا اے کہ نئیں مل سکدی۔ [اوکھے کیا مطلب اوئے۔ مجھے پتا ہے تم ہمارے ساتھ جتنے اوکھے ہو۔ اوئے اوکھے ہم ہیں۔ تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ تم ڈرون حملے کرتے رہو گے اور ہم چپ بیٹھے رہیں گے؟ اوئے ہم تمہارا جھنڈا جلائیں گے۔ تم دوبارہ ڈرون حملہ کرو گے ہم پھر تمہارا جھنڈا جلائیں گے ڈاکخانے بینک جلائیں گے۔ نئے آئے ہو پیارے تم نے دیکھا کیا ہے پاکستان میں ابھی۔ اوئے تم کیا سمجھتے ہو کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دے کر تم نے اس قوم کو خرید لیا ہے؟ اوئے یہ امداد نہیں مل سکتی (آہستگی سے) فوج نے جو کہہ دیا ہے کہ نہیں مل سکتی]
باجی: ( پینڈو کی ڈرامے بازی سے تنگ آکر  پھر غصے میں آجاتی ہے) شٹ اپ شٹ اپ آئی سے شٹ اپ۔ (پینڈو ڈر کر چپ ہوجاتا ہے۔ اس دوران گورا صاحب ہاتھ  میں سبز رنگ کا  کارڈ نکال کر اپنی نوٹ بک پر اندراج کرنے لگتا ہے۔ پینڈو یہ دیکھ کر باجی سے پوچھتا ہے۔)
پینڈو: باجی اے باجی۔۔۔۔ باجی۔۔۔ (باجی ناراضگی سے اس کی طرف دیکھتی ہے) اے گورا کی کردا اے؟ [یہ گورا کیا کرتا ہے؟]
باجی: (گورے سے ) وٹ یو ہیو ان یور ہینڈ؟
گورا صاحب: اوہ دس از آ گرین کارڈ۔ آ واز ہئیر ٹو الاٹ امیرکن سٹیزن شپ ۔
باجی: گورے کے ہاتھ میں گرین کارڈ ہے۔
پینڈو: ہیں گرین کارڈ؟ (پینڈو بھاگ کر گورے صاحب کے پاؤں پڑ جاتا ہے) صاحب بہادر پاگ لگے رہن، شاناں ودھیاں رہن، امداداں مل دیا رہن۔ ڈرون حملے ہندے رہن۔ جناب  تسیں تے بڑے سخی او۔ ساڈے صدر نوں تساں کدی نئیں موڑیا۔ کجھ ساڈے تے وی کرم کرو۔ جناب چھوٹے چھوٹے بچے نیں تے پاکستان وی کوئی ملک اے؟ ہائے ہائے کِتے امریکہ دی شہریت مل جائے تے سرکار دے پیر ساری عمر دھو دھو کے پیواں۔ [صاحب بہادر بھاگ لگے رہیں، شان بڑھتی رہے، امداد ملتی رہے، ڈرون حملے ہوتے رہیں۔ جناب آپ تو بڑے سخی ہیں۔ ہمارے صدر کو آپ نے کبھی خالی نہیں موڑا۔ کچھ ہم پر بھی کرم کرو۔ جناب چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور پاکستان بھی بھلا کوئی ملک ہے؟ ہائے ہائے کہیں امریکہ کی شہریت مل جائے تو سرکار کے پیر ساری عمر دھو دھو کر پیوں] (پینڈو کے ڈائلاگز کے دوران گورے صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے۔ گورا موبائل سن رہا ہے۔ اس کے بعد گورا سٹیج سے نیچے جانے لگتا ہے۔ پینڈو  باجی کی طرف لپکتا ہے۔)
پینڈو: باجی اے باجی اے کتھے چلا اے۔ پچھ ناں؟ [باجی یہ کہاں چلا ہے پوچھو نا؟]
باجی: وئیر آر یو گوئنگ؟
گورا صاحب: ویل آئی ایم جسٹ انفارمڈ دیٹ دس سیٹیزن شپ  آفر از کینسلڈ۔
باجی: گورا صاحب کہتا ہے کہ اب کوئی گرین کارڈ نہیں ملے گا۔
پینڈو: نئیں گورا صاحب۔ اینج نہ کرو میرے  چھوٹے چھوٹے حاکم نیں گورا صاحب۔ اونھاں تے دال دلیے دا انتظام کون کرے گا گورا صاحب۔ [نہیں گورا صاحب۔ ایسے نہ کرو میرے چھوٹے چھوٹے حاکم ہیں گرا صاحب۔ ان کے دال دلیے کا انتظام کون کرے گا گورا صاحب]۔  (واویلا کرتا ہوا سٹیج سے اتر جاتا ہے۔)

پیر، 4 فروری، 2013

وزیرِ اعلی لاہور

سب سے پہلے تو میں یہ مطالبہ پیش کرتا ہوں کہ لاہور کی طرح فیصل آباد کو بھی ایک وزیر اعلی دیا جائے۔ تاکہ یہاں بھی سڑکیں بنوانے، گلیاں پکی کروانے اور انڈرپاس اوور ہیڈ بنوانے کے لیے ایک سیاسی نگران ہو۔ بلکہ میرا تو یہی خیال ہے کہ تحصیل کی سطح تک وزرائے اعلی منتخب کروائے جائیں۔ جن کی اپنی اسمبلیاں ہوں، اور اپنی کابینہ۔ ہاں اس صورت میں کابینہ میں یونین کونسل کے ناظم بھرتی کیے جا سکتے ہیں۔
لاہور میں تیس چالیس ارب سے جنگلہ بس سروس تیار ہو رہی ہے۔ لاہور کے لیے ترکی کی درآمد شدہ کوڑا اٹھاؤ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لاہور میں ہر مصروف سڑک پر اوور ہیڈ بن رہے ہیں۔ اور مصروف چوکوں میں انڈر پاس اور فلائی اوور بن رہے ہیں۔
جبکہ مقابلتاً میرے شہر فیصل آباد میں دس سال کے رنڈی رونے کے بعد، ایک چوک (عبداللہ پور چوک) میں انڈر پاس شروع کیا گیا۔ وہ بھی اس طرف جہاں ٹریفک کا رش کم ترین ہوتا تھا۔ اور جس روڈ پر ٹریفک کی تین چار سو میٹر لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں وہ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ اس کی قسمت جگانے کے لیے ایک عدد وزیرِ اعلی کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کلمہ چوک فلائی اوور، مسلم ٹاؤن فلائی اوور کی طرح ایک ڈیڑھ ماہ میں ایک عدد عبداللہ پور چوک فلائی اوور تیار ہو سکے۔
اس کے علاوہ فیصل آباد کا حق بھی ہے کہ یہاں ترکی والی کوڑا اٹھاؤ گڈیاں چلیں۔ اس کے لیے بھی ایک وزیر اعلی فوری طور پر یہاں بھی تعینات کیا جائے۔ وزیرِ قانون البتہ ثنا اللہ صاحب فیصل آبادی کو ہی رکھا جا سکتا ہے۔ انہیں بھی اپنے شہر میں کام مل جائے گا، اور عوام کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی بھی راجہ ریاض کو ہوم ڈیوٹی اسائن کر سکتی ہے۔ اس طرح فیصل آباد بھی خبروں میں زیادہ آئے گا۔ اور ادھر گیس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وزیر اعلی و کابینہ کی جانب سے پنجاب کے ساتھ زیادتیوں کے رونے زیادہ روئے جائیں گے۔
اور ہاں ہمارے ہاں بھی سڑک کنارے ایسکیلیٹرز لگوائے جائیں۔ ان کے لیے جنریٹر خریدے جائیں، اور گارڈز رکھے جائیں۔ تاکہ یہاں بھی لوگوں کو چُوٹے (جھولے) لینے کا موقع میسر آ سکے۔ مٹی گھٹے سے خراب ہونے کی صورت میں انہیں اچھے داموں کباڑیے کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
اور ہو سکتا ہے مقامی کابینہ کے کسی وزیر کے ذہن میں کوئی اور اچھوتا منصوبہ آ جائے، جس سے فیصل آباد پر مزید پیسے لگ سکیں۔
میرا وزیرِ اعلی لاہور سے پُر زور مطالبہ ہے کہ جلد از جلد فیصل آباد کو بھی ایک وزیرِ اعلی مہیا کیا جائے۔ تاکہ ہم بھی لاہور کے برابر آسکیں۔ بلکہ مرحلہ وار ہر ضلع اور تحصیل کو وزرائے اعلی الاٹ کیے جائیں، تاکہ عوام گٹر کا ڈھکن بدلوائی، گلی پکوائی، سڑک بنوائی، انڈرپاس کھدوائی اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے ان سے رجوع کر سکیں۔
عین نوازش ہو گی۔
عرضے
رہائشیانِ فیصل آباد
منتظرانِ وزیر اعلی و کابینہ

جمعہ، 7 ستمبر، 2012

حجاب، نقاب ہم اور ہمارے رویے

ایک عرصہ ہو گیا میں 'موسمی' موضوعات پر لکھنا چھوڑ چکا ہوں۔ جب سارے اردو بلاگر ایک موضوع کو لے کر اس کی مٹی پلید کر رہے ہوتے ہیں اس وقت میری خواہش ہوتی ہے کہ کچھ مختلف لکھا جائے۔ خیر لکھنے والی بات بھی نوے فیصد جھوٹ ہی ہے کہ میں اکثر ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں جو مہینوں بعد کچھ لکھتا ہے۔ لیکن بلاگر ہونا شرط ہے، لکھا تو کبھی بھی جا سکتا ہے۔ آج کل کا اِن موضوع حجاب،نقاب وغیرہ ہے۔ ایک طرف یار لوگوں نے عالمی حجاب ڈے وغیرہ کی ڈفلی اٹھائی ہوئی ہے، دوسری طرف سے زبردستی مسلمان کروانے وغیرہ کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ اور اس دوران شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قسم کے تبصرہ نگار ایسی بلاگ پوسٹوں پر طنزیہ لہجے میں براہ راست ہتک آمیز تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو ہماری قومی عادت ہے کہ برداشت نہیں کرنا، تصویر کا ایک ہی رخ لے سامنے رکھ کر چلائے چلے جانا اور "میں نا مانوں" کا نمونہ اکمل بنے رہنا۔ میں نے سوچا موضوع اِن ہے تو ہم بھی اڑتے کیچڑ میں دو چار پتھر پھینک لیں۔ کروانے تو کپڑے ہی گندے ہیں، ویسے بھی برسات ہے تو چلن دیو۔
میرے حساب سے حجاب نقاب جس کی آج بات کی جا رہی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اول جو اس پیرے میں زیر بحث آئے گا، وہ ہے یورپی ممالک میں مسلمان خواتین پر ہونے والی سختیاں (بسلسلہ حجاب) جن میں حکومتی اقدامات سے لے کر نسلی امتیاز تک ہر چیز شامل ہے۔ دیکھیں جی ہر کسی کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اور یورپی مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دے کر انتہا پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ میرا اس سلسلے میں مزید کوئی خیال نہیں، بس اتنا خیال ہے کہ اوکھے دن ہیں لنگھ جائیں گے۔ حجاب کے متعلق آگاہی پھیل رہی ہے، اس کے حامی بھی ظاہر ہے یورپیوں میں ہوں گے، کرنا یہ ہے کہ اپنی آواز پر امن انداز میں شانتی اور سکون سے بلند کی جائے۔ اور اللہ کی مہربانی سے وہ وقت بھی آئے گا جب انسانی حقوق کے یہ بزعم خود علمبردار حجاب کی اجازت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہاں جب تک وہ سختی کرتے ہیں تو اللہ تو دیکھ رہا ہے نا جی، اسے پتا ہے کہ مسلمان بے بس ہیں تو اس کی ذات معاف کرنے والی ہے۔ کوشش کرنا ہمارا فرض اور باقی اللہ سائیں راہیں سیدھی کرنے والا۔ چناچہ لگے رہو بھائیو حجاب ڈے مناؤ، اور اپنا موقف ان کے کانوں تک پہینچاتے رہو۔۔۔۔
لیکن تہاڈی مہربانی ہے مسلمانوں کو مسلمان نہ کرو۔ خدا کا واسطہ ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کس حجاب کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے یہ علاقہ، اور اس کے باشندے جو مسلمان ہیں، اور ان کی روایات اور ثقافت اسلام اور مقامیت کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں پردہ تب سے رائج ہے جب سے اسلام یہاں ہے۔ میری والدہ، نانی اور خالہ ایک اڑھائی گز کی چادر سر پر لیا کرتی تھیں۔ اور آج بھی میں نے انہیں وہی چادر لیے دیکھا ہے۔ نانی اور خالہ کو زمینوں پر کھانا دینے جانا ہوتا تھا، اور وہ اسی چادر میں جاتی تھیں۔ جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اور کیا چاہیئے کیا زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیں عورتوں کو؟ سر تا ییر برقعہ اوڑھا کر کام کیسے کرواؤ گے بھائی؟ ہمارے بہادر تو یہ چاہتے ہیں کہ عورت کے ہاتھوں پر بھی دستانے ہوں۔ صدقے جاؤں ایسے اسلام کے اسی نے بیڑے غرق کیے ہیں۔ رونا روتے ہیں یورپیوں کی انتہا پسندی کا خود ان کے استاد ہیں اس معاملے میں۔ برداشت کا ایک ذرہ بھی نہیں ہیں، مار دو، کاٹ دو، قتل کر دو، جو'اہل ایمان' نہیں اسے اڑا دو۔ اور اہل ایمان کی اپنی تعریف ہر کسی کی۔ اللہ جماعت اسلامی کو ہمیشہ اقتدار سے دور رکھے، آمین۔ ضیاء الحق کے رفقاء میں شامل رہنے والے یہ لوگ نان ایشوز کی سیاست بڑے ول انداز میں کرتے ہیں۔ پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو، پارلیمان کی ویب سائٹ پر تصویر میں کلمہ نظر نہ آ رہا ہو یہ سب سے آگے اور اب حجاب کو آئین میں لازم قرار دیا جائے۔ پہلے مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ کونسا حجاب؟ میری والدہ، ان کی ماں، ان کی ماں کی ماں اور ان کی دس نسلوں سے جو اوڑھنی چلی آ رہی ہے، یا شٹل کاک برقع جو افغانستان سے درآمد ہوا ہے، یا عربی اسٹائل حجاب، یا سعودی اسٹائل فل سائز برقعے۔  کونسا حجاب سائیں؟ یہ کدھر کو چل پڑے ہیں، ہر چیز کو مسلمان بنانے پر تلے ہیں۔ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر گرا نہ سکتے تھے اس لیے کلمہ لکھ کر مسلمان کر لیا۔ عمارتیں، نشانات، آثار یا تو مٹا دئیے یا 'مسلمان' کر لیے۔ یہی کام مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ یا تو مسلمان کر لیے، جو'رافضی'، 'کافر' وغیرہ بچے انیہں زندگی کی قید سے آزاد کر دیا۔ واہ بھئی، صدقے اس اسلام کے۔ صدقے۔
آخری بات عرض کرتا چلوں، کہ آج نوجوان لڑکیاں چادر یا اوڑھنی والا نقاب نہیں برقعے والا نقاب کرتی ہیں۔ اس کی وجہ اسلام ہائپ تو ہے ہی، معاشرتی عدم تحفظ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اسلام اسلام کرنے سے اوپر اوپر تو ملمع چڑھ گیا ہے، اندر کی بےغیرتی نہیں گئی۔ جب تک یہ بے غیرتی نہیں جائے گی حجاب چھوڑ کر نماز پڑھنے کا آرڈیننس بھی جاری کروا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔

اتوار، 1 جنوری، 2012

سالنامہ

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی "ان سوشل نیس"، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری "کھچ"۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔

جمعہ، 9 ستمبر، 2011

مقابلے بازی

پنجابیوں میں ایک بڑی گندی عادت ہے۔ خصوصاً متوسط اور اس سے نچلے طبقات میں، کہ کسی کو کھاتا ہوا کم ہی دیکھ سکتے ہیں۔ یا تو حسد کرنے لگتے ہیں یا پھر اس کے مقابلے میں کام شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے نہیں علم کراچی یا دوسرے صوبوں اور شہروں میں کیا صورت حال ہے۔ لیکن میں نے اپنے شہر میں کئی بار اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ایک ریڑھی والا دوسرے کو برداشت نہیں کرے گا، ایک دوکاندار دوسرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ اگر ایک کا کاروبار چل پڑا ہے تو اس کے سامنے یا بالکل ساتھ ایک حریف آکر بیٹھ جائے گا۔ اور اس کا واضح مقصد یہی ہوگا کہ اس بندے کے گاہک توڑے جائیں۔
ابو جی ناشتہ لگایا کرتے تھے، تو اس آٹھ نو سالہ دور میں کئی بار حریفوں سے پالا پڑا۔ کچھ لوگ عرصے تک ٹکے رہے، کچھ چند دن بعد ہی بھاگ جایا کرتے تھے۔ اس ساری صورت حال میں گھر میں بہت ٹینشن ہوا کرتی تھی۔ ایک ریڑھی والے کی محدود سی آمدن میں اگر کوئی حصے دار بن جائے تو اس کے لیے تو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر یہی ہوگا۔ مجھے یاد ہے ابو کا رویہ تلخ ہو جایا کرتا تھا، میرا دل وسوسوں سے بھرا ہوا رہتا تھا اور امی جی کے چہرے پر خدشات کے سائے گہرے ہوتے چلے جاتے تھے۔ وہ دن گزارنے بہت اوکھے ہوتے تھے۔ آج بھی وہ دن یاد آجائیں تو بے چینی پیدا کر دیتے ہیں۔
انہی دنوں کی ایک یاد ایک موٹے ریڑھی والے کے شروع کے دن بہت تناؤ والے تھے۔ اس نے ہمارے اڈے سے صرف دس میٹر دور آخر ریڑھی لگا لی تھی۔ شروع شروع کے چند دن اس کے بعد کوئی گاہک نہیں آتا تھا۔ تو وہ اور اس کا میرا ہی ہم عمر بیٹا، ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے رہتے اور دیکھتے رہتے۔ کہتے ہیں نظر تو پتھر پھاڑ دیتی ہے، تو وہ نظریں مجھے بہت تناؤ کا شکار کر دیتی تھیں۔ اللہ اس بندے کے رزق میں برکت دے، وہ سال یا زیادہ عرصہ وہاں رہا، اور پھر کاروبار کی مندی کی وجہ سے چھوڑ گیا۔
اب تو اللہ سائیں کی رحمت ہے، رب کا شکر ہے، وہ دن لد گئے اب ہم ہیں اور دوسرے غم ہیں۔ ابو جی دوکان کرتے ہیں۔ لیکن مجھے وہ دن پھر سے یاد آجاتے ہیں، خاص طور پر مقابلے پر بیٹھے ویلے دوکاندار کی گھوریاں۔ ہمارے گھر کے سامنے چوک ہے، اس میں ایک تکے والا ہے، پنجاب تکہ شاپ۔ وہ قریباً دس سال سے یہاں کاروبار کر رہا ہے۔ اس سارے عرصے میں اس نے اپنا معیار بنایا ہے، اپنی ریپوٹیشن بنائی ہے اور گاہک اس کے پاس دور دور سے آتے ہیں۔ اگرچہ یہ دوکان مین روڈ پر نہیں، لیکن پھر بھی وہ اچھا خاصا کما لیتا ہے، کئی ایک نوکر رکھے ہوئے ہیں اور خوشحال ہے۔ اس کے بالکل سامنے سڑک کے اس پار بشیر سویٹس ہوا کرتی تھی۔ بشیر مٹھائی والا مر گیا تو اس کے تین بیٹے اس کو چلاتے رہے۔ اس کے بعد کوئی چار سال پہلے انہوں نے بند کر دی مٹھائی کی دوکان۔ لیکن کوئی پانچ سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ مٹھائی والے اس تکے والے کے مقابلے میں تکے والوں کو اپنی دوکانیں کرائے پر دیتے ہیں۔ کبھی ان سے شراکت داری کر کے کبھی ویسے کرائے پر۔ اور میں نے ہر بار یہ مقابلے باز تکے والے بھاگتے ہی دیکھے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں کوئی چار تکے والے مقابلے پر آچکے ہیں۔ بڑی شان و شوکت سے سامان آتا ہے۔ بلب سجتے ہیں، میز کرسیاں بچھتی ہیں اور رنگ و روغن کروا کے پھر سے کاروبار شروع ہوتا ہے۔ لیکن ایک دو ماہ میں سب ہی بھاگ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جتنی آمدن کی توقع کر رہے ہوتے ہیں اتنی آمدن ہوتی ہیں، اور اخراجات بڑھ جانے پر بھاگ جاتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پنجاب والے کے پاس کیا جادو ہے، اس کا گاہک بہت ہی کم ٹوٹتے دیکھا ہے میں نے۔ اور سامنے والے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے سے ہی لگ رہا تھا کہ نیا مقابلے باز آرہا ہے، رنگ و روغن ہوا، سامان آیا اور عید والے دن سے تکے کی دوکان کھل گئی۔ اور اب میں پچھلے دو تین دن سے رات بارہ بجے کے قریب سونے سے پہلے باہر نظر ماروں تو وہ اور اس کے کارندے ویلے بیٹھے سامنے تک رہے ہوتے ہیں جہاں پنجاب والے کے پاس اور کچھ نہ سہی تو دو چار گاہک تو ہوتے ہی ہیں۔ اور مجھے لگ رہا ہے کہ یہی صورت حال رہی تو یہ بھی بھاگ جائے گا۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر لوگوں کے پاس مقابلے بازی کا جگرا نہیں ہوتا تو مقابلے پر آتے ہی کیوں ہیں۔ شاید جدید کاروباری اخلاقیات میں ایسے متھے پر دوکان کھول لینا کچھ برا نہ ہو، بلکہ یہ کسی کا بھی حق ہے کہ جہاں بھی چاہے جو بھی چاہے کاروبار کرے۔ لیکن میرے خیال سے یا تو آپ کے پاس اتنا وقت اور روپیہ ہونا چاہیے کہ آپ مقابلے بازی کر سکیں۔ یا آپ اتنے سے کام شروع کریں کہ ویلا بھی رہنا پڑے تو اخراجات تنگ نہ کریں۔ لیکن اگر آپ ایک چلتے کاروبار کے سامنے اچھی خاصی سرمایہ کاری کرکے بیٹھ جائیں کہ پکی پکائی مل جائے گی تو یہ خام خیالی ہے۔ اور اخلاقی طور پر تو میرے خیال میں آمنے سامنے ایسے دوکانداری شروع کرنی ہی نہیں چاہیے۔ کوئی چار دوکانیں چھوڑ کر کام شروع کرنا چاہیے اور اپنا نام بنانا چاہیے نہ کہ دوسرے کے کام سے چوری کرنا یا لوٹنا، میرے لیے تو یہ ڈکیتی ہی ہے جو نیا دوکاندار پرانے کے گاہکوں پر کرتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

منگل، 30 اگست، 2011

عیداں

ایک اور عید آ گئی سائیں۔ ایک اور رمضان گزر گیا۔
شکر ہے کہ ہمیں ایک اور رمضان عطا ہوا۔
شکر ہے کہ ہمیں ٹوٹی پھوٹی ہی سہی، عبادت کی توفیق ہوئی۔
 شکر ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں پر معافی مانگنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہمیں راتوں کو قیام اور دنوں کو ذکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہم پر عید کی صورت میں خوشی اتری۔
شکر ہے کہ ہمیں شکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، اپنے سوہنے نبی ﷺ کا صدقہ یہ عید ہمارے لیے مبارک کر دے۔
سب دوستوں، سجنوں، بیلیوں، کرم فرماؤں کو عید مبارک۔ اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان، رحمت و کرم اور عطا کے سائے میں رکھے۔
عید پر اپنے اردگرد ان لوگوں کو بھی یاد رکھیے گا جن کے لیے عید بھی پیر، منگل، بدھ جیسا کوئی کام پر جانے کا دن ہے۔ عید کی نماز پڑھنے جاتے وقت مسجد کے دروازے پر بیٹھا پولیس والا بھی مسلمان ہے اور عید منانے کا اتنا ہی حقدار جتنے ہم ہیں۔ اور کچھ نہیں تو واپسی پر اس سے عید ضرور ملیں۔ اور جہاں بھی کہیں پولیس کے جوان نظر آئیں انہیں سلام کرکے عید مبارک ضرور کہیں۔ وہ آپ کی حفاظت کے لیے ہی متعین ہیں ورنہ کونسی ماں ہے جو اپنے لعل کو عید کے دن ڈیوٹی پر بھیجتی ہے۔
ان دوست احباب کا خیال رکھیے گا جو ملوں، فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور ڈبل شفٹ بونس کے لالچ میں عید والے دن بھی دیہاڑی لگانے چلے جاتے ہیں کہ چار دن سکون سے گزر جائیں گے۔ ان سے خصوصاً عید ملیے گا۔ اللہ نے ان کی قسمت میں آزمائش لکھی ہے، ان کو دعا میں بھی یاد رکھیے گا، اور مالی امداد میں بھی۔
فطرانہ دیتے ہوئے اپنے اردگرد پہلے نظر ڈال لیجیے گا شاید کوئی زیادہ مستحق آپ کے ساتھ والے گھر میں منتظر ہو اور آپ پیشہ وروں میں فطرانہ تقسیم کرکے آجائیں۔
عید پر خوشیاں منانا آپ کا حق ہے، لیکن کچھ خوشیاں ان کے لیے بھی رکھ لیجیے گا جو عید والے دن بھی کام پر ہیں ایمرجنسی ڈیوٹی دیتے ڈاکٹر، 1122 کے اہلکار، آپ کا دودھ والا، گلی میں جھاڑو لگانے والا، چنے چاٹ بیچنے والا چھاپڑی فروش، گول گپے اور دہی بھلے لگانے والا، اور اس طرح کے کئی کردار جن کے لیے عید بھی عید نہیں ایک کام کا دن ہوتا ہے۔
ان سب کو عید مبارک ضرور کہیے گا۔
اللہ میرے آپ کے گناہ معاف کرے۔ ہماری بدزبانیوں، بد اعمالیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرے۔
مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو، کسی کا دل دکھا ہو، کسی کو کچھ کہہ گیا ہوں تو معاف کردیجیے گا، بول جانا میری عادت ہے لفظ نکالنے کے بعد سوچتا ہوں نادانوں کی طرح۔ ان پر معافی کا خواستگار ہوں، معاف کر دیجیے گا۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا، اللہ یہ عید آپ کے لیے مبارک کر دے۔
عید مبارک۔

پیر، 16 مئی، 2011

توند فُل نَیس

ہمارے استاد محترم جٹ ہیں۔ لیکن بذلہ سنجی میں فرمایا کرتے ہیں کہ جٹ ایک ذات کا نام نہیں، بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے  جو کسی بھی بندے پر کسی بھی وقت طاری ہوسکتی ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے جٹ اے تے مت نئیں، مت اے تے جٹ نئیں، جٹ برادری کے عقل کے بارے میں خاصے لطیفے مشہور ہیں۔ خیر جٹوں کو بدنام کرنا ہمارا مقصد نہیں یہ تو دیباچہ تھا۔ ذکر ایک کیفیت کا کرنا تھا جو جاٹ پن کی طرح روحانی نہیں بلکہ جسمانی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کا نام ہم نے توند فُل نیس رکھا ہے۔ صاحبو توند فُل نیس ایسی جسمانی کیفیت کا نام ہے جس میں انسانوں خصوصًا مردوں کا پیٹ اپنی اصلی جگہ سے ناجائز تجاوزات کی طرح باہر کو نکل آتا ہے۔ دوکانوں کے پھٹے اور کاؤنٹر تو آپریشن کلین اپ کرکے اندر کروا کر فٹ پاتھ کی جگہ خالی کروائی جاسکتی ہے لیکن پیٹ کو اندر کروانا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کے کسی زرداری، گیلانی، چوہدری، شریف یا مخدوم کو اندر کروانا۔ اللہ زندگی دے، ہمارے استاد محترم کو ہر ڈیڑھ سال کے بعد پیٹ کے خلاف آپریشن کلین اپ کا بخار چڑھتا ہے چناچہ کبھی وہ خوراک (اپنی خوراک) پر پابندی لگا دیتے ہیں، صبح اٹھ کر جاگنگ شروع کردیتے ہیں اور اٹھتے بیٹھنے کہنا شروع کردیتے ہیں کہ میری پرانی پتلونیں اب مجھے پوری آنی شروع ہوگئی ہیں۔ پہلے پہل تو ہم ان کی باتوں کی سنجیدگی سے لیتے تھے، اب محرم راز ہوگئے ہیں اس لیے مسکرا دیتے ہیں۔ دور کے ڈھول سہانے، جس طرح جمہوریت پانچ سال پورے کیے بنا جانی والی نہیں، اسی طرح اب پیٹ ساری عمر اندر جانے والا نہیں۔ جب کھانے چرغے، مرغے اور روسٹ بروسٹ ہیں، اور سارا دن کرسی پر بیٹھنا ہے توند نے بڑے تو ہونا ہے۔ بچے ایسی چیزیں کھاتے ہیں تو اوپر کو بڑھتے ہیں۔ بڑے ایسی چیزیں کھاتے ہیں تو جسم کے عید درمیان سے نئی شاخ نکل کر اوپر کا سفر شروع کردیتی ہے۔
آپ کو یہ بات واہیات لگے گی لیکن بعض لوگوں کی توند دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ موصوف میں نئی زندگی پرورش پارہی ہے۔ توند کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ اس کے سائز کے اعتبار سے آپ اسے ابتدائی، ثانوی اور انتہائی اقسام میں بانٹ سکتے ہیں۔ ابتدائی توند، یہ کوئی پچیس سے تیس کے درمیان لوگوں کی ہوتی ہے۔ ایسی توند بالکل ابتدائی مراحل میں ہوتی ہے، اور اسے دیکھنے کے لیے موصوف کا گرمیوں میں پینٹ شرٹ یا دھوتی بنیان میں ملبوس ہونا ضروری ہے ورنہ عام نظریں اس کو سکین نہیں کرسکتیں۔ ایسی نئی نئی توند نئی نئی جاب کا نشان بھی ہوتی ہے۔ راقم کا مشاہدہ ہے کہ نوجوانوں کے ایسی توند کے بارے میں جذبات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے اپنی متوقع اولاد کے لیے ہوتے ہیں۔ چناچہ احباب بے خیالی توند کو پیار کرنے لگتے ہیں۔ یونہی کھڑے کھڑے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیتے ہیں، اور کبھی تو ہلکے ہلکے تھپکیاں دینا شروع کردیتے ہیں۔ اور تو اور سوتے میں ڈر کر اٹھ جائیں تو پہلا ہاتھ توند پر رکھ کر اس کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ثانوی درجے کی توند ایک ایسی توند ہے جسے پانچ سے دس سال ہوچکے ہیں۔ ایسی توند پرانے کلرکوں اور افسروں سے لے کر کاروباری حضرات تک کی ہوتی ہے۔ اس توند کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ موصوف سے گلے ملتے ہوئے اکثر اس کی توند راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چانچہ آپ کو ذرا پرے رہ کر گلے ملنا پڑتا ہے۔  اکثر لوگ اس سٹیج پر آکر "نوند کانشئیس" ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اسے کم کرنے کی تدابیر شروع ہوجاتی ہیں۔ لیکن ان تدابیر کا حال وہی ہوتا ہے جو جمہوری دور کی پالیسوں کا پاکستان جیسے ملک کی حالت سنوارنے کے سلسلے میں ہوتا ہے، یعنی حالات بننے کی بجائے بگڑتے ہی چلے جاتے ہیں۔ صاحبو توند انتہائی، توند کی وہ قسم ہے جہاں توند پر آزمائے جانے والے تمام ڈاکٹری اور پیری فقیری نسخے ناکام ہوجاتے ہیں۔ اور توند پاکستان میں موجود کرپشن کی طرح بےلگام ہوجاتی ہے۔ ایسی توند کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عید شبرات پر بھی ملنے والے ایک فٹ پرے رہ کر ملتے ہیں۔ ایسے افراد سے ملتے ہوئے اصطلاح "گلے ملنا" نہیں "توند ملنا" ہونی چاہیے۔ اور اگر دونوں ملنے والے توند یافتہ ہوں تو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے۔ دور سے دیکھنے والے کو ایسا لگتا ہے جیسے دونوں حضرات گلے مل نہیں رہے توندیں لڑا رہے ہیں، جیسے بکرے ڈھُڈ لڑایا کرتے ہیں۔ ایسے احباب کو اپنی اپنی توند سائیڈ پر کرکے گلے ملنا پڑتا ہے جو دیکھنے والے کا ہاسا نکال دیتا ہے۔ صاحبو توند انتہائی پچاس اور چالیس کے پیٹے میں موجود لوگوں کی ہوتی ہے۔ اور اس میں شامل اکثر افراد کھاتے پیتے ہوتے ہیں، اتنے کھاتے پیتے کہ اب ان کی توند بھی کھانا شروع کردیتی ہے۔ ایسے افراد کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ، اور ان کی توند، کھانے کے لیے جیتے ہیں۔
صاحبو توند کے کئی فائدے ہیں۔ آپ کو پیر بھائی، اسلامی بھائی صرف پاکستان میں ملیں گے، باہر کم کم ملیں گے لیکن توند بھائی دنیا کی ہر رنگ و نسل میں مل جائیں گے۔ اگر تمام انسانوں کا مشترک نکالا جائے تو توند ان میں پہلے نمبر پر آئے گی۔ توند کا ایک اور فائدہ اضافی چربی کا ذخیرہ ہے جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے، یعنی توند فُل لوگ کچھ کچھ اونٹ جیسی خاصیت پیدا کرلیتے ہیں۔ توند کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت توند مار کر گرایا بھی جاسکتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بکرا ڈھُڈ مار کر فریق مخالف کو ضربِ شدید پہنچا سکتا ہے۔ چناچہ اگر آپ عقلمند ہیں تو توند آپ کا خفیہ ہتھیار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
راقم ان بدقسمت لوگوں میں شامل ہے جن کی توند ابھی تک پیدا نہیں ہوسکی اور اگلے دس سالوں میں بھی ا سکی نمو کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ چناچہ توند فُل احباب اس تحریر کو دل کا ساڑ اور غبار کہہ کر رد بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم توند جو بھی ہے، جیسی بھی ہے، ہمارے معاشرے کا ایک اہم رکن ہے۔ ہمیں توند کی عزت کرنی چاہیے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے بقول عزیزی توند بھی آخر انسان ہے۔ توند کی نمو و ترقی کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے۔ توند کی ترقی کے لیے آل پاکستان توند فیڈریشن بھی بنائی جانی چاہیے اور ہر سال مسٹر توند کا مقابلہ بھی منعقد ہونا چاہیے جس کا پہلا انعام ایک سال تک ایک کلو بھنا ہوا گوشت روزانہ ہو۔ توندفُل حضرات کے بیرون ملک سرکاری خرچے پر دورے ہونے چاہئیں تاکہ مختلف ممالک کی توندوں میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکے اور ان کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاسکے۔
آپ کا کیا خیال ہے بیچ اس مسئلے کے؟

ہفتہ، 14 مئی، 2011

ایک سال

آج مجھے اس سکول میں کام کرتے ایک سال تو نہیں ہوا تاہم تعلیمی سال ختم ہوگیا۔ آج سے کوئی دس ماہ پہلے، اگست 2010 میں جب میں اس ادارے میں داخل ہوا تھا تو میں وہ نہیں تھا جو آج ہوں۔ میرے پاس ابھی میری ڈگری بھی نہیں تھی، بس ایک زعم تھا کہ میں اپنی کلاس کا اول نمبر ہوں، اور مجھ پر فرض کردیا گیا ہے کہ مجھے سب کچھ آتا ہے۔
ہم یہاں پانچ چھ لوگ آئے تھے، انٹرن شپ کرنے کے نام پر۔ سکول والوں کو ٹیچر چاہیے تھے، اور ہمیں جاب، ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ان کی ایک میڈم سے واقفیت تھی چانچہ ہم یہاں انٹرنی بھرتی ہوگئے۔ ہماری خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ مبلغ نو ہزار روپے مہینہ پر ٹرینی یا انٹرنی، اور مدت آزمائش پوری ہوجانے پر تنخواہ بڑھ جانے کی نوید بھی۔ اور سب سے بڑی بات کام یعنی پڑھانا سیکھنے کی خوشی۔ یہ ادارہ پورے فیصل آباد کے نجی سکولوں میں نئے اساتذہ کو تربیت دینے کے لیے بہت مشہور ہے، چونکہ ان کا پیشہ ورانہ ماحول ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی آپ کی مدد کرنے کو تیار رہتا ہے۔
خیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھا۔ اور بہت سارے راز بھی کھلے۔ وہ جو سہانے سپنے سجے ہوئے تھے سب ٹوٹ گئے۔ یہ کہ میں ایک اچھا استاد بن سکتا ہوں۔ اب پتا چلا کہ اتنی جلدی بھی نہیں بن سکتا، دو چار سال میں شاید بن جاؤں۔ یہ سپنا کہ کلاس میں اول آنے کے بعد سب قطار میں کھڑے ہوکر نوکری کی آفر دیں گے، اس سکول کے علاوہ کسی بھی جگہ سے آج تک دوبارہ کال نہیں آئی۔ یعنی ابھی انتظار کرنا ہوگا، شاید دو چار سال اور۔ یہ کہ تنخواہ نو ہزار ہی رہے گی، چاہے جتنا مرضی زور لگا لو۔ نجی شعبے کے سکولوں میں تنخواہ اتنی جلدی نہیں بڑھتی، چناچہ ٹیوشن پڑھاؤ اور اپنی تنخواہ کی کمی ادھر سے پوری کرو۔ جو کہ ہم پڑھا رہے ہیں، جتنی تنخوا ہے اس سے زیادہ روپے 2 گھنٹے کی ٹیوشن سے ملتے ہیں۔
اس نظام میں آکر پتا چلا کہ امیروں کا نظام تعلیم کیا ہے پاکستان میں۔ پہلے صرف سنتے تھے کہ ملک میں کئی طبقاتی نظام تعلیم ہے، کیمبرج سسٹم وغیرہ وغیرہ۔ یہاں آکر پتا چلا کہ کیمبرج سسٹم کیا ہے۔ فیصل آباد کے ان سکولوں کی اوسط فیس چار سے چھ ہزار میں ہے۔ بیکن ہاؤس کی دس ہزار ہے، جو فیصل آباد میں سب سے زیادہ لے رہے ہیں۔ سنا ہے لاہور وغیرہ میں تیس پینتیس اور پچاس ہزار مہینہ تک بھی فیس ہوتی ہے۔ خیر فیس کے بعد یہاں کے اساتذہ ہیں۔ پرانے ہیں تو بیس پچیس ہزاراور بعض اوقات پچاس ہزار یا زیادہ بھی، نئے ہیں تو دس بارہ پندرہ ہزار، اور ساتھ دو چار ٹیوشن، ہوم ٹیوشن جو پانچ ہزار سے پندرہ بیس ہزار تک مل جاتی ہے۔ پرانا ٹیچر تیس سے چالیس ہزار کما لیتا ہے صبح آٹھ سے رات آٹھ کے دوران، یعنی سکول جمع ٹیوشن مل ملا کر۔ سکولوں میں پڑھائی رٹا نہیں سمجھ کی بنیاد پر کروائی جاتی ہے۔ پرچوں سے پہلے پرچوں والے سوالات کے بار بار ٹیسٹ لیے جاتے ہیں تاکہ بچہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائے۔ او لیول اور اے لیول کے امتحان قریب آنے پر بچوں کو پرانے پرچوں سے ہی تیاری کروائی جاتی ہے۔ انھیں اتنی پریکٹس کروا دی جاتی ہے کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائیں۔ مزید کسر ہوم ٹیوٹر پوری کردیتے ہیں محنت کروا کر۔ استاد موٹرسائیکل پر آتے ہیں اور طلباء ہنڈا سٹی، اکارڈ، پجارو پر۔ یہی حال پھر اساتذہ کی عزت کا بھی ہوتا ہے۔ بیکن ہاؤس جیسے سکول میں تو سنا ہے بہت بدتمیزی کی جاتی ہے استاد کے ساتھ، ہمارے سکول میں کچھ سکون ہے۔ لیکن استاد اور ایک سیلز مین کوئی فرق ہیں، دونوں کا کام مال فروخت کرنا ہے، مہیا کرنا ہے اور بس۔ وہ لوگ فیس بھرتے ہیں کہ انھیں پڑھایا جائے چناچہ استاد کوئی احسان نہیں کررہا۔ واقعی استاد کوئی احسان نہیں کررہا ہوتا، اگر کررہا ہوتا ہے تو اپنے اوپر کہ یہاں سے اسے اچھی ہوم ٹیوشن مل جائیں گی جو اس کی رزی روٹی چلاتی رہیں گی۔
ان بچوں کی انگریزی اچھی ہے، اردو کمزور ہے۔ انگریزی میں پڑھتے ہیں، انگریزی میں لکھتے ہیں اور انگریزی الفاظ بولتے ہیں۔ کئی دفعہ تلفظ میں سر کی بھی غلطی نکال دیتے ہیں، اور ہنس دیتے ہیں۔ جسے سر مسکرا کر پی جاتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے۔ سر تو کیمبرج سسٹم میں نہیں پڑھ ہوا، اس نے تو گورنمنٹ کھوتی ہائی سکول سے ٹاٹوں پر بیٹھ کر میٹرک کیا تھا۔ قسمت تھی کہ روزی روٹی کی کشش انگریزی پڑھانے کی طرف لے آئی، ورنہ وہ اور اس کی اوقات۔ اردو انھیں صرف بولنی آتی ہے، لکھنے کا کہہ دو تو جان جاتی ہے۔ اردو بورنگ ہے، اردو کے الفاظ بول دو تو سمجھ نہیں سکتے، انگریزی میں ترجمہ کرکے سمجھانا پڑتا ہے۔ ماں باپ پنجابی بولتے تھے کبھی، اب اردو بولتے ہیں اپنے بچوں کے ساتھ، چناچہ بچوں کی مادری زبان اردو ہے، اور پنجابی کو وہ ایک حقارت بھری نظر سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ابھی بھی پنجابی بولتے ہیں، لیکن منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے، یا ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے۔
بچے تو بچے ہیں جی، خواہ امیروں کے ہی ہیں۔ خواہ باپ ڈاکٹر ہے، مل مالک ہے یا گروپ آف انڈسٹریز کا ڈائریکٹر۔ بچے اردو بولیں یا انگریزی، لیکن پاکستانی بچے ہیں۔ ابھی یسو پنجو پاکستانی ہی کھیلتے ہیں، ریڈی گو بھی کھیلتے ہیں، اور برف پانی بھی۔ ہاں ہاکی، ٹینس اور تیراکی غریبوں کے بس کی بات نہیں، وہ اضافی سہولت ہے ان کے پاس۔ سر جی نے خود اپنی ذاتی آنکھوں سے اصلی والا سوئمنگ پول اس سکول میں دیکھا، اس سے پہلے فلموں ڈراموں میں ہی دیکھا تھا۔
نجی شعبے کے ان سکولوں میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو ڈرامے باز ہونا پڑے گا۔ کلاس میں داخل ہوتے ساتھ ہی ڈراما شروع کردیں۔ روایتی استادی ختم ہوجاتی ہے کہ آئے بلیک بورڈ بھرا اور چلے گئے۔ بچوں سے کرواؤ۔ بلکہ کرواؤ نہیں ساتھ ڈرامے بھی کرواؤ۔ میتھ پڑھاتے ہو، نفع نقصان کا باب چل رہا ہے، بچوں سے کہو تفریح کے وقت میں خرید و فروخت کا سٹال لگا کر چیزیں بیچیں، پھر پیسے کما کر نفع نقصان نکالیں۔ انگریزی پڑھاتے ہو، تو جینوئن کمیونیکیشن تخلیق کرواؤ، خط لکھواؤ، انٹرنیٹ پر ای میل کرواؤ۔ بچوں کو پریزنٹیشن کا موقع دو، خود سائیڈ پر رہ کر بس گائیڈ لائن دو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی بولو، خوب انگریزی۔ اگر خاتون ہو تو ترقی کے چانسز اتنے ہی بڑھتے جائیں گے جتنی شلوار اونچی ہوتی جائے گی اور قمیض گلے سے نیچی۔ جتنے ماڈرن اور فیشن ایبل اتنے کامیاب، جتنے کہانی باز اتنے کامیاب، اگر طالب علم راضی تو کیا کرے گا قاضی یعنی سکول کا مالک۔
خیر یہ کچھ تاثرات تھے، اس تعلیمی سال کے اختتام پر۔ دیکھیں اگلا سال کیا لاتا ہے۔ اس برس ایم فِل بھی کرنا ہے شام کی کلاسوں میں، نوکری بھی کرنی ہے۔ اللہ رحمت رکھے، زندگی ذرا اوکھی ہوجائے گی۔ لیکن ساری عمر نجی سکولوں میں نہیں گزارنا چاہتا، اس لیے آگے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

پیر، 2 مئی، 2011

کچھ باتیں

ہر عید کے عید ہمارے مولوی صابر سرہندی صاحب یہ مثال دیا کرتے ہیں کہ نماز تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ٹھاٹھ کے نمازی جو سارا سال نماز پڑھتے ہیں، آٹھ کے نمازی جو جمعے کے جمعے نماز پڑتے ہیں اور تین سو ساٹھ کے نمازی جو سال میں عید کے عید نماز پڑھتے ہیں۔ بلاگنگ کے سلسلے میں ہمارا حال بھی تین سو ساٹھ والوں جیسا ہے۔ مہینے کے مہینے ہم ایک آدھ پوسٹ لکھ مارتے ہیں، اور کہنے کو پرانے بلاگرز میں شمار ہوتا ہے ہمارا۔ لو دسو، خیر انگلی کٹا کر ہی سہی، شہیدوں میں توشامل ہوجاتے ہیں۔
آج کئی دنوں کی "برین سٹارمنگ" کے بعد کچھ لکھنے کا من بنا۔ اصل میں لکھنے کا من تھا، لکھنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ اب بلاگ پر 10 لفظی سٹیٹس اپڈیٹ تو دے نہیں سکتے جو آج کل ہم فیس بک پر روزانہ دیا کرتے ہیں۔ خیر چھوٹی چھوٹی کئی ساری باتیں جمع ہوگئی تھیں سوچا لکھ ڈالیں۔
ایک تو یہ کہ ہمارے لیپ ٹاپ کےساتھ یو ایس بی سے منسلک ہونے والے آلات اتنے ہوگئے ہیں کہ ہمارے ٹیبل پر یو ایس بی کا کھلارا پڑ گیا ہے۔ ملاحظۃ کریں
  1. ایکسٹرنل ٹی وی ٹیونر کارڈ
  2. یو ایس بی ماؤس
  3. یو ایس بی سپیکر، کہ لیپ ٹاپ کا ایک سپیکر خراب ہے مزہ نہیں آتا اس سے
  4. یو ایس بی وائرلیس کارڈ، کہ اس کا اپنا وائرلیس کبھی کبھی کنکٹ نہیں کرتا گھر والے وائرلیس راؤٹر سے
  5. سکینر
  6. پرنٹر
آپ شاید یہ کہیں کہ میاں اس لیپ ٹاپ کو پیار سے اٹھا کر باہر لے جاؤ زور سے نیچے پھینک کر توڑ ڈالو، لیکن کیا کریں صاحب لیپ ٹاپ ٹھیک چلتا ہے، اگلے دو سال اسی پر گزارنے کی پلاننگ ہے اس لیے ہم لیے پھرتے ہیں اسے ہیں۔
اور کیا تھا؟ ہاں اور یہ تھا کہ ہالی ووڈ کی موویاں اور ٹی وی سریز دیکھ دیکھ کر ہماری انگریزی سننے کی صلاحیت بہتر ہوگئی ہے۔ معیاری امریکی انگریزی باآسانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ لیکن فلموں میں کالوں کی انگریزی اب بھی سر پر سے گزر جاتی ہے، ان کا نچلے طبقے والا لہجہ ہوتا ہے جو معیاری امریکی انگریزی لہجے سے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن لندن والوں کی انگریزی ابھی کم پلے پڑتی ہے، چونکہ فلمیں شلمیں ساری ہالی ووڈ کی ہی دیکھنی ہوتی ہیں۔ احباب جو انگریزی بہتر کرنا چاہیں انگریزی فلمیں ضرور دیکھیں۔
اور؟ اور یہ کہ ہم مزدوروں والی تنخواہ پر ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہے ہیں، انگریزی۔ دعا کی درخواست ہے کہ اللہ اس سے بہتر سلسلہ بنا دے۔ اللہ کی یہاں بھی بڑی رحمت ہے، پر بندہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے، ہمیں بھی یہی تلاش ہے۔  اس سال ہمارا ارادہ یا تو ایم فِل کرنے کا ہے، یا لسانیات میں باہر کوئی سکالرشپ ہوئی تو وہاں بھی اپلائی کریں گے۔ پچھلے سال تو ہماری ڈگری ہی تھیسز کی وجہ سے لیٹ ہوگئی تھی۔

پیر، 3 جنوری، 2011

کچھ تصویریں

کہتے ہیں ایک تصویر بعض اوقات وہ کچھ کہہ جاتی ہے جو سینکڑوں الفاظ نہ کہہ سکیں۔ ملاحظہ کریں یہ تصاویر۔


ہفتہ، 10 جولائی، 2010

دل کے ارماں

صاحبِ دل تو ہم اس وقت سے تھے جب اس دنیا فانی میں تشریف آوری ہوئی، لیکن آج مریضِ دل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اب آپ پوچھیں گے او کِداں؟ تو ہم آپ کو دسیں گے۔ او ایداں کہ ہمیں ایک عرصے سے دل کے مقام پر درد کی شکایت ہے۔ کبھی کبھار یہ اچانک چھڑ جاتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے کوئی پٹھا کھنچنے سے یہ شروع ہوجاتی ہے لیکن کمبخت عین دل کے مقام پر ہوتی ہے اور ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ ناقابل برداشت نہیں ہوتی لیکن اس کا ہونا ہی "عین ہونا" ہے، اس سے بالکل اُلٹ جیسا کہ عابدہ پروین کوک سٹوڈیو کے ایک گانے میں فرماتی ہیں۔ تو ہم بات کررہے تھے درد کی، اس کے ساتھ ساتھ کبھی دل کی دھڑکن اچانک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دھڑکتا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور کبھی بہت سانس بھی چڑھ جاتی ہے۔ دو تین دن پہلے یہی نامُراد درد پھر چھڑا۔ شومئی قسمت ایک کلاس فیلو کے والد کا انتقال بھی اسی مرض میں پرسوں ہوا ہے۔ آج ان کے قُل سے واپسی پر یہ سوچ کر کہ کہیں عنقریب ہمارے قُل بھی نہ اس مرض میں ہوجائیں ہم فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو نکل لیے۔
 وہاں پہنچے تو کیا دیکھا۔ کیا دیکھنا تھا عمارت دیکھی۔ نویں نکور عمارت جسے مشرف دور کے کسی وزیر کی گرانٹ ملی تھی۔ آج کل اس کے نام کا کتبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ سائیکل کھڑا کرکے اوپر سے او پی ڈی میں گئے اور اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈ پے گئی بادشاہو۔ ساری عمارت سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ۔ سواد آگیا بادشاہو۔  استقبالیے پر جاکر آمد کا مقصد بتایا تو انھوں نے مبلغ تیس روپے لے کر ایک عدد کاپی تھما دی۔ اس کے بعد سامنے والے کمرے میں جانے کا اِذن ملا۔ وہاں پہنچے سے ایک صاحب نے ہمارے ابا جی سے لے کر ہمارا سب بائیو ڈیٹا پوچھ ڈالا۔ ابا جی کیا کرتے ہیں، تم کیا کرتے ہو، کتنا کماتے ہو۔ پہلے تو ہم سمجھے نہیں بتاتے گئے بعد میں پتا چلا "کیٹیگری" لاؤنی سی۔ یہاں یہ صاحب آمدن کے حساب سے مریضوں کو ایک مہر لگا کر دیتے تھے کاپی پر۔ اس کی بنیاد پر آگے چاجز لگتے ہیں۔ ہم نے تو کہہ دیا جی پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں پر پیسے کئی کئی ماہ بعد آتے ہیں۔ انھوں نے جھٹ سے "پوؤر" کی مہر لگا دی۔ لو جی ہم سرکاری طور پر غریب غربا قرار پاگئے۔
اگلا حُکم ملا کہ روم نمبر اٹھارہ وچ ونجو۔ ہم وہاں ونجے تو آگے ای سی جی والے نے ہمارا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ خاصے مریض بھی تھے۔ لیکن ای سی جی جلدی جلدی ہورہی تھی۔ جوتے اتارو، اوپر لیٹو، بازؤں کے بٹن کھولوں سینہ ظاہر کرو۔ وہ صاحب کوئی گوند سی چپچپی چیز لگاتے پھر ای سی جی مشین کی تاریں سینے پر جوڑنے لگتے۔ ہم سے پہلے چار لوگوں کا ہوا پھر ہماری باری آئی۔ ہم نے بڑی شان سے اپنا سینا دکھایا تودیکھنے والے ہماری پسلیاں دیکھ کر کہنے لگے تہانوں وی دل دی بیماری اے؟ تو ہم نے کہا صاحب دل ہیں، بیماری کے لیے ایک عدد دل ہونا ضروری ہے جس کے مالک ہم شروع دن سے ہیں چناچہ حیرت کاہے کی   ؟
خیر ہمارا ای سی جی ہوا جسے متعلقہ بندے نے ہمارے اعمال نامے میں لگا کر روم نمبری 13 کی طرف دھکیل دیا۔ وہاں پہلے ای سی جی کرانے والے حضرات بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی رکھوالی ایک مثلِ لیلی خاتون کے سپرد تھی جو رجسٹر کھولے مریضوں کا اندراج کررہی تھیں۔ ہمارا بھی اندراج کرکے انھوں نے کہا "بھائی بیٹھ جاؤ"۔ اور ہم بالکل ہی بہہ گئے، یعنی لیلی بھی تھی اور بے مروت بھی، سیدھا بھائی بنا ڈالا۔ خیر ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ پہلے حکم ملا کہ چودہ میں چلے جاؤ۔ وہاں گئے تو اندر سے حکم ملا پانچ منٹ بعد آئیے گا ڈاکٹر صاحبہ مصروف ہیں۔ ہم باہر آگئے۔ اس دوران ہم سے پیچھے والے صاحب بھی اندر آچکے تھے۔ دونوں سے اعمال نامے واپس لیے اور پھر بٹھا دیا۔ جب دوبارہ باری آئی تو ہم سے پچھلے کی باری پہلے آگئی۔ وہ باہر آئے تو ہم نے پوچھا بھیا کیا بنا۔ کہنے لگے شوگر چیک کرانے کا کہا ہے اور گولیاں لکھ دی ہیں۔ ہم جل تو جلال تو کا ورد کرتے اندر گئے تو پھر حکم ہوا پانچ منٹ بعد آئیں۔ شاید ہماری شکل پر ہی لکھا ہوا تھا کہ "انھیں پانچ منٹ بعد بُلایا جائے، اور ہر بارایسے ہی بُلایا جائے"۔۔
خیر پانچ منٹ بعد خود ہی بُلاوہ آگیا ہم اندر پدھارے۔ ایک شوخ سی ڈاکٹر صاحبہ مع ایک عدد ایکسٹرا قسم کی نرس کے ساتھ میز کی اِس جانب بیٹھی تھیں۔ شاید پروفیسر صاحب خود کہیں گئے ہوئے تھے او ریہ ان کی جگہ مریض بھُگتا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں اُٹھا دیا ادھر جاکر اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ ہم اُدھر گئے تو نرس صاحبہ نے چپس کرچتے ہوئے ہمارا بلڈ پریشر چیک کیا۔ پھر ڈاکٹر صاحبہ نے ہمارا ای سی جی دیکھا، اور پھر ہمیں دیکھا۔ "کیا مسئلہ ہے" اور ہم نے مسائل بتائے، جو اوپر بتا چکے ہیں۔ انھوں نے لمبے لمبے سانس دلوائے اور سٹیتھوسکوپ سے دل سے رازونیاز کیے۔  پھر ہماری بتائی ہوئی تفصیلات اعمال نامے پر لکھیں، جنہیں ہم آخر تک گولیوں کے نام سمجھتے رہے۔ پوچھنے لگیں سگریٹ پیتے ہوں؟ عرض کیا نہیں، پوچھا شوگر بلڈ پریشر عرض کیا نہیں۔ تو کہنے لگیں آپ کے دل کو کوئی مسئلہ نہیں، بلاوجہ دوائیں  نہ کھائیں تو بہتر ہے۔ مزید چیک اپ کروانا ہو تو سول یا الائیڈ میں کروالیں۔ وہ درد دل کا درد نہیں ہے۔
اور ہم خوشی خوشی گھر کو پدھارے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے۔ پہلے ائیر کنڈیشنر خراب ہونگے، پھر عمارت ، جس کا نقشہ مسترد ہوگیا ہے پہلے ہی، کے آسے پاسے اترنے لگیں گے، پھر رنگ روغن اڑنے لگے گا، مشینیں خراب ہونگی، اور پھر یہا ں بھی سول اور الائیڈ والا حال ہوگا۔ یعنی کتنے سارے مریض، تھوڑے سے ڈاکٹر اور مزید تھوڑی سی سہولیات۔ ہاہاہاہا ہے نا گندی پاکستانی سوچ، کیا کریں دل جو پاکستانی ہے، اور جانتا ہے کہ جو چیز پاکستان میں بن جاتی ہے اس کی دیکھ بھال تو ہونی نہیں ہوتی تو پیشن گوئی کرنا کونسا مشکل کام ہے۔
تو یہ تھا ہمارا مریض ِ دل نہ ہوسکنے کا ماجرا۔ دیکھیں اگلی بار کب جانا ہوتا ہے  ہسپتال۔

جمعہ، 25 جون، 2010

میونسپل کارپوریشن کی سڑک کا لائف سائیکل

آج تک بادلوں کا چکر، آکسیجن کا چکر اور ہائیڈروجن کا چکر پڑھتے آئے ہیں۔ آئیے آج آپ کو میونسپل کارپوریشن کی بنائی گئی سڑک کی زندگی کا چکر دکھاتے ہیں۔
  • پتھر ڈالا جاتا ہے، یا تو پہلی سڑک بس ہوچکی ہے یا وہاں سڑک سرے سے تھی ہی نہیں۔
  • پتھر ڈالنے کے بعد اس پر بلڈوزر پھیرا جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک، کئی بار یہ کچھ عرصہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، یہ پتھر یونہی رہتا ہے آخر ایک دن کول تار کے ڈرم، لکڑی اور گرم کول تار پھینکنے والی ایک مشین مع مزدور کہیں سے نمودار ہوتی ہے۔ پتھروں کو تیسی (ایک آلہ) سے کھرچا جاتا ہے اوپر کی مٹی الگ کرکے ان پر گرم کول تار کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور کول تار ملی بجری پھینک کر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ لیول کا خیال نہیں رکھا جاتا، اونچ نیچ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مقصد بس پتھروں پر بجری کی تہہ بچھانا ہوتا ہے۔ اور اگر "کارپٹ" روڈ بنانی ہو تو گرم گرم تازی تازی سڑک پر کاربن بچھا کر ایک بار اور بلڈوزر گزار دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سڑک فرش کی طرح ملائم ہوجاتی ہے۔
  • دو تین دن میں یہ کام مکمل ہوجاتا ہے اور پھر سڑک چلنے لگتی ہے۔ محلے کے بچے اس کارپٹڈ یا سادہ روڈ پر دوڑتے بھاگتے ہیں، کرکٹ کھیلتے ہیں، سائیکل سے کرتب دکھاتے ہیں ریس لگاتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور دوسری گاڑیاں اب زیادہ سپیڈ سے گزرنے لگتی ہیں۔
  • چند دن محلے والے اس سب کو برداشت کرتے ہیں اس کے بعد سڑک پر سپیڈ بریکر کھڑے ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر دوسرا گھر اپنی مدد آپ کے تحت سیمنٹ بجری لا کر ایک "مناسب" سا سپیڈ بریکر بنا دیتا ہے۔ چناچہ اب گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کو ہر چند میٹر کے بعد بریک لگا کر گاڑی آہستہ کرنی پڑتی ہے۔ کچھ چالاک سائیکل اور موٹرسائیکل والے سپیڈ بریکرز کی سائیڈوں سے نکال لے جاتے ہیں لیکن یہ چالاکی چند دن ہی چلتی ہے۔ یا تو سپیڈ بریکر کی سائیڈیں بھی مزید سیمنٹ بجری سے بھر دی جاتی ہیں یا وہاں پتھر یا اینٹیں رکھ دی جاتی ہیں۔ دوسری صورت میں ایک مسلسل کشمکش چل پڑتی ہے، سائیکل سوار ان کو آگے پیچھے کرکے گزرتے رہتے ہیں اور محلے دار ان پتھروں کو سیدھا کرکے لگانے میں لگے رہتے ہیں۔
  • سڑک ابھی قابل استعمال ہے چونکہ ابھی بارش نہیں ہوئی یا کسی کا مکان بننا شروع نہیں ہوا لیکن ایسا بہت دیر تک نہیں رہے گا۔ ایک دن بارش ہوگی اور سڑک کے زیریں حصوں اور اطراف میں پانی کھڑا ہوجائے گا۔ چند ایک دفعہ کی بارش کے بعد وہاں گڑھا نمودار ہوجائے گا جو بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ پانی کھڑا ہونے کا تیزرفتار ذریعہ گٹر کی بندش بھی ہے۔ گٹر بند ہوگیا تو نئی سڑک کا ستیا ناس ہو گیا، دس دن میں سڑک ایسے ادھڑ جائے گی جیسے پرانی رضائی  کا حال ہو جاتا ہے۔
  • اسی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی پرانی مکان یا تو ترمیم و اضافہ کی سٹیج پر آجاتا ہے یا پھر اس کے مکینوں کے پاس اتنے پیسے آجاتے ہیں کہ ڈھا کر نیا بنائیں۔ چناچہ مکان دوبارہ بنتا ہے اور ساتھ سیوریج کا پائپ بھی دوبارہ ڈالا جاتا ہے (گھر سے مین ہول تک)۔ چناچہ سڑک پر ایک لمبا چیرا لگ جاتا ہے۔ کبھی اس چیرے کو سیمنٹ بجری سے بھر دیا جاتا ہے لیکن یہ سیمنٹ بجری چند ماہ کے بعد ہی اڑنے لگتی ہے اور چیرا ظاہر ہوجاتا ہے۔ کبھی اس عمومًا ترچھے چیرے پر ایک عدد نیا سپیڈ بریکر بنا دیا جاتا ہے جو دوہرا کام کرتا ہے، سپیڈ بھی کم کراتا ہے اور چیرے کی بدصورتی بھی چھپاتا ہے۔
  • مکانوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون، واسا اوراسی قبیل کی دوسری کمپنیوں کو ترقیاتی کام یاد آجاتے ہیں چناچہ سڑک بننے کے ایک آدھ سال میں ہی یہ کھودی جاچکی ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ کھدائی ایک سائیڈ سے ہوتی ہے لیکن جہاں سے سڑک پار کرنی ہو، وہاں پر نشان ساری عمر کے لیے رہ جاتا ہے کہ یہاں سے فلاں کمپنی کے مزدوروں نے سڑک پار کی تھی۔
  • سڑک اب سال بھر پرانی ہوچکی ہے۔ ایک آدھ برسات سہ چکی ہے اور کئی ایک بار گٹر کی بندش بھی، کئی مکان بن چکے ہیں اور واسا بھی ایک بار نظر کرم کرچکا ہے۔ سڑک کا اپنا میٹریل بھی جواب دیتا جا رہا ہے چناچہ گڑھے نمودار ہو رہے ہیں، پہلے سے موجود وسیع ہو رہے ہیں اور سڑک کا پتھر ننگا ہورہا ہے۔ 
  • اگر کارپوریشن کے پاس فنڈ ہوا تو اگلے ایک آدھ سال میں ان بننے والے گڑھوں کو پر کرنے کے لیے بجری آجائے گی ورنہ یہ وسیع ہوتے جائیں گے۔ اور ہر بارش کے بعد ان کی چوڑائی اور گہرائی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک وقت یہ آئے گا کہ محلے والوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے گا اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت سڑک بنانا شروع کر دیں گے۔ ری سائیکلنگ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نوتعمیر شدہ مکانوں کا ملبہ سڑک کے گڑھوں میں ڈالا جانے لگے گا۔ اور چند ماہ میں سڑک جو کچھ نہ کچھ ہموار تھی اب سطح مرتفع پوٹھوہار کا منظر پیش کرنے لگے گی۔ اس پر سائیکل، موٹرسائیکل چلانا عذاب بن جائے گا چناچہ سائیکل موٹرسائیکل والے متبادل راستے ڈھونڈیں گے۔ کاریں وغیرہ اوکھی سوکھی چلتی رہیں گی اور وقت گزرتا رہے گا۔
  • حکومت بدلے گی یا فنڈ آئیں گے تو اس سڑک کا کسی کو خیال آجائے گا اور دوبارہ سے اس کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ ٹریکٹر آئیں گے جو سڑک پر دبائے ہوئے گھروں کے ملبے کو اکٹھا کریں گے اور ٹرالیاں اٹھا کر شہر سے باہر پھینک آئیں گی۔ چھ انچ سے دس انچ تک پتھر ڈالا جائے گا، بلڈوزر پھرے گا اور پھر بجری کا لیپ ہوگا۔ ایک اور سڑک بن جائے گی، پھر سے ٹوٹنے کے لیے۔
  •  یہ سارا چکر تین سال میں اوسطًا پورا ہوجائے گا اور ایسے چار یا پانچ چکروں یعنی قریبًا بیس سال بعد نئے بنے مکان، جو تعمیر کے وقت کئی فٹ اونچے رکھے گئے تھے، سڑک کے برابر آجائیں گے یا چند انچ بلند رہ جائیں گے۔ مکینوں کو احساس ہونے لگے گا کہ مکان نیواں ہونے لگا ہے اور برسات میں پانی اندر گھس آیا کرے گا۔ چناچہ مکان کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے بننے لگتے ہیں۔ مکان پھر تعمیر ہوتے ہیں اور سڑک پر پھر چیرے لگا جاتے ہیں۔
  • اور یہ چکر چلتا رہتا ہے۔
کیسا لگا پاکستان میں سڑکوں کی زندگی کا چکر؟

اتوار، 18 اپریل، 2010

جلدی جلدی کچھ باتیں

فیصل آباد کل سے بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ صبح آٹھ سے بارہ تک بجلی بند رہی، پھر دو سے پانچ تک اور اس کے بعد آٹھ بجے سے بھی پہلے بند ہوکر رات دس بجے کے بعد آئی۔ گیارہ ساڑھے گیارہ بند ہوئی تو اب صبح چار بج  کر 25 منٹ پر آئی ہے اور یہ بھی پانچ بجے تک بمشکل ہوگی۔ فیصل آباد کے ساتھ تو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ کیا تھا وفاقی وزیر نے لیکن لگتا ہے پھر ہڑتال کی کال دینی پڑے گی۔
پچھلی تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ وہ واقعی میرے اندر سے نکلی تھی اور میں ایسے ہی فرسٹریٹ ہوتا ہوں جب میرے پاس کام نہ ہو۔ احباب کے مشوروں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔
خاور صاحب آپ نے خبروں کا ترجمہ کروانا ہو تو ست بسم اللہ جب کروانا ہو بتا دیجیے گا۔ ریٹ آپ سے طے کرلیں گے۔ گوروں سے 4 روپے فی لفظ تک لیتے ہیں اس سے کم لیں تو ویب سائٹ والے بلاک کردیتے ہیں کہ مقابلے کا ماحول خراب کررہا ہے لیکن ایک پاکستانی صاحب کے ساتھ کوئی ڈیڑھ ماہ کام کیا، ان سے قریب پچیس پیسے فی لفظ لیے تھے۔ آج کل وہ کام نہیں کرراہے مجھ سے۔
نعمان کا خصوصی شکریہ جنہوں نے میری تحریر اپنے بلاگ پر لگائی اور اتنی ساری تعریف بھی کی۔
بدتمیز نے ایک خصوصی تحریر میں میری اس تحریر کا تذکرہ کیا اور اپنے مخصوص بے لاگ سٹائل میں اس کے بخیے ادھیڑے۔ آداب عرض ہے، اس جراحی کو۔ میں نے آج تک کبھی ڈیٹا اینٹری، آرٹیکل رائٹنگ یا ری رائٹنگ نہیں کی۔ بس میری خواہش ہوتی ہے کہ ترجمے کا کام مل جائے چونکہ وہ میری اپنی فیلڈ لسانیات سے بھی متعلق ہے۔ یہ دوسرے کام تو بس ایویں دل پشوری کو دیکھ لیا کرتا ہوں شاید کوئی پسند آجائے لیکن آج تک کوئی پسند نہیں آیا، بلکہ میں آج تک کسی گاہک کو پسند نہیں آیا۔ کئی بار بلاگ شروع کرنے کا بھی دل کیا لیکن بلاگ کے لیے بھی لکھنا پڑتا ہے، میں تو فری لانسر کے طور پر نہیں لکھتا بلاگ کے لیے کیا لکھوں۔ پچھلے چار سال سے انگریزی بلاگ شروع کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اب پھر شروع کیا ہے شاید اس بار کچھ مستقل مزاجی رہ جائے۔
اچھا تو میں آخر کرتا کیا ہوں پھر؟ میں نے عرض کیا تھا کہ لسانیات سے متعلق پراجیکٹس کبھی مل جاتے ہیں جیسے پنجابی کا کوئی کورس ڈویلپ کرنا۔ پچھلے دنوں ایسی ایک جاب ملتے ملتے رہ گئی، رقم بڑی تگڑی تھی لیکن انھیں چاہیے گورمکھی ایکسپرٹ تھا جو پنجابی کے ڈائلاگز لکھ کر دے سکے انھیں۔ میں شاہ مکھی جانتا تھا بس، چناچہ مجھ سے واپس لے لی انھوں نے ورنہ مجھ سے بہتر چوائس ان کے پاس نہیں تھی۔ خیر قسمت میں نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک پراجیکٹ پنجابی کے طلباء کی سننے کی صلاحیت جاننے کے لیے ریکارڈنگز تیار کرنا ہے۔ میں پنجابی چینلز سے ریکارڈنگ کرتا ہوں پھر انھیں 30 سیکنڈ سے 120 سیکنڈ تک کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، ایک ریکارڈنگ کسی ایک موضوع پر ہوسکتی ہے اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ اور پنجابی ٹرانسکرپشن کرکے بھیجتا ہوں۔ وہ منظور ہوجائے تو اچھے پیسے مل جاتے ہیں، انھیں پیسوں میں سے پچھلے ماہ دوست کو ادھار دیا تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک یہی پراجیکٹ ہے میرے پاس جسے مستقل کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اختتام کی طرف جارہا ہے، لیکن مجھے امید ہے جاتے جاتے مجھے یہ ایک لیپ ٹاپ دے جائے گا انشاءاللہ۔
اور جاتے جاتے یہ کہ میں نے گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا لوکل جی آر ای ہے۔ جب شروع ہوا تھا بہت مشکل ہوتا تھا اب تو بہت آسان کردیا ہے انھوں نے نا انگریزی کے الفاظ مشکل ہوتے ہیں اور نا ریاضی کے سوال ہی مشکل ہوتے ہیں۔ خیر میں نے ایم ایس سی کے بعد جو اس سال اگست تک ہوجائے گی، ایم فل میں داخلہ لینا ہے جس کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تو میں نے اسے بغیر تیاری کیے پاس کرلیا ہے، جس کی مجھے ککھ بھی امید نہیں تھی۔ نمبر میرے 74 آئے ہیں اور پرسنٹائل 99 بنتا ہے یعنی میں 99 فیصد طلباء سے بہتر ہوں۔ یہی مطلب ہوتا ہے نا پرسنٹائل کا؟
یہ چند باتیں جلدی جلدی آپ سے شئیر کنا تھیں۔ باقی پھر سہی۔

ہفتہ، 7 نومبر، 2009

ترقی

پچھلے ایک ہفتے سے میرا گھر پیٹر انجن کی ٹھک ٹھک پھک پھک سے گونج رہا ہے۔ اس میں وقفے وقفے سے وہ آوازیں بھی شامل ہوجاتی ہیں جو اس کے ساتھ لگی مشین کے گھومنے سے پیدا ہورہی ہیں، اس میں بجری ڈالنے سے پیدا ہورہی ہیں اور پھر بجری اور کول تار کا ملغوبہ نکالنے سے پیدا ہورہی ہیں۔ یہ سب کچھ میرے محلے کی ایک سڑک تعمیر کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ یہ سڑک یعنی صدر بازار میرے محلے کے دو بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو اسے مین روڈ سے ملاتے ہیں۔
آپ بھی حیران ہونگے اگر سڑک تعمیر ہورہی ہے تو اس میں بری بات کیا ہے؟ مجھے بھی کوئی بری بات نہیں لگ رہی۔ آخر میرے محلے کی ترقی ہورہی ہے۔ سڑک جو صرف دو سال پہلے بنی تھی اب اس میں ایسے ایسے گڑھے تھے، کہیں سیوریج ڈالنے والوں نے ادھیڑ ڈالی تھی، کہیں رہائشیوں نے اپنا سیوریج پائپ ڈالنے کے لیے کھود ڈالی تھی اور رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے نئے پائپ ڈالنے والوں نے نکال دی تھی۔ تو یہ گڑھے مجھے ایسے لگتے تھے جیسے کسی بیوہ کی خستہ حال چادر کے اڑے ہوئے حصے جو اس کی برہنگی بھی نہیں چھپا سکتے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سڑک کو پھر سے پردہ دیا جارہا ہے جو سر بازار بے پردہ ہورہی تھی، کوڑھ زدہ مریض کی طرح اس کی کھال پھٹ گئی تھی اور پیپ زدہ ماس کی طرح پتھر نظر آرہے تھے۔ لیکن مجھے خوشی ہوتے ہوئے بھی خوشی نہیں ہے۔ اس کی وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ ابھی یہ سڑک مکمل نہیں ہوئی۔ اور میرے محلے کے چوک، صدر چوک، میں ایک کتبہ لگ گیا ہے۔ ایک بینر بھی لگ گیا ہے۔ جس میں میرے حلقے کے ایم این اے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ اور اس کے نیچے محلے کے تین چار چوہدریوں کے نام ہیں بشمول نائب ناظم۔ میں بس ذرا سا حیران ہوں کہ یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ لیکن یہ ایسے کیوں ہورہا ہے؟ کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ ہر سال حکومت میرے ڈھائی مرلے کے مکان سے دو ہزار روپیہ پراپرٹی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مجھے موبائل فون کے ہر سو روپے پر چھتیس فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ہر وہ کام جس میں روپے لگتے ہیں میں ٹیکس ادا کرکے کرتا ہوں۔ تو  دو سو میٹر کا سڑک کا یہ ٹکڑا اگر دوبارہ سے بنایا جارہا ہے تو اس میں اتنے احسان کی کیا بات ہے؟ اور اس میں اس ایم این اے کا کیا کام ہے؟ ایم این اے تو سمجھتے ہیں نا آپ؟ ممبر قومی اسمبلی۔ تو یہ ممبر جو میرے محلے جیسے دس اور محلوں کا بھی والی وارث ہے۔ اسے اتنا کشٹ اٹھانے ضرورت ہی کیا تھی آخر؟ صاحب اسلام آباد جاؤ، ایوان میں بیٹھو اور قانون سازی کرو۔ قومی نوعیت کے مسائل کو حل کرو۔ میرا محلہ، کہ جس جیسے سینکڑوں محلے اس ملک میں ہیں، پر اتنی مہربانی کیوں؟ کہ چند سو میٹر کا ایک سڑک کا ٹکڑا جناب نے کمال مہربانی سے اور خصوصی توجہ سے تعمیر کروایا جس پہ میرے محلے کے چوہدری سراپا ممنون احسان ہورہے ہیں۔ ارے یہ کام تو میرے محلے کا ناظم بھی کرسکتا تھا۔ اس کا کام ہی یہ ہے کہ مقامی طور پر ایسے کام کرائے، ترقی کے منصوبے بنائے اور ان پر عمل کرائے۔ ایم این اے بادشاہ کو کیا ضرورت پڑ گئی یہ سب کرنے کی؟
لیکن نہیں۔ یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہاں اب گلی بھی پکی کروانی پڑی تو اس کام کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے آئیں گے۔ ضلعی نظام تو ویسے ہی ختم ہورہا ہے۔ پھر وہی کونسلر رہ جائیں گے جن کا کام محلے کے چُوہڑوں کی انسپکٹری ہوگا بس۔ مجھے نہیں پتا سیاست دانوں کا اس نظام کے بارے میں کیا خیال ہے، اس میں کتنی غلط باتیں ہیں، لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ اس کی وجہ سے مجھے اتنا پتا لگا تھا کہ ترقی ہوسکتی ہے۔ میرے محلے کی گلیاں اور سڑکیں پچھلے پانچ سال میں اتنی بار بنیں کہ میں اکتا گیا۔ جہاں دیکھو ہر روز کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں کام ہورہا ہوتا تھا۔ چلیں اب یہ اکتاہٹ ختم ہوجائے گی۔ اختیارات واپس وڈوں کو مل رہے ہیں۔ اب نا وڈے صاحب کے پاس وقت ہوگا نہ وہ ایسی کسی چیز کا افتتاح کرسکیں گے۔ اور ہم منہ چک کے اسلام آباد کی طرف دیکھتے رہیں گے کب بڑے صاحب پدھاریں اور کب ان کو عرضی پیش کریں کہ صاحب محلے کے گٹر کا ڈھکن بدلوانا ہے ذرا فنڈز تو جاری کروا دیجیے۔ صاحب کوڑا سٹینڈ نہیں ہے محلے میں کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر اس کا سنگ بنیاد رکھوا دیجیے۔ سرکار کی مشہوری بھی ہوجائے گی غریب کا بھلا بھی ہوجائے گا اور ایک عدد کتبہ بھی لگ جائے گا۔
محلہ غریباں کے کوڑا سٹینڈ کا
سنگ بنیاد
جناب عزت مآب ایم این اے صاحب نے
اپنے دست مبارک سے فلاں تاریخ کو رکھا۔ 

بدھ، 8 اپریل، 2009

پینڈو

لو جی بات کوئی اتنی خاص بھی نہیں۔ لیکن عام بھی نہیں۔ ہمارے لیے۔ آپ کے لیے نہیں۔ تو بات اتنی سی ہے۔ لیکن ٹھہریں اتنی سی بات سے پہلے ذرا آپ اس کا پس منظر سن لیں۔ لو جی پس منظر بھی اتنا کوئی خاص نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم آج کل شام کو جاب شاب کررہے ہیں پڑھائی کے ساتھ۔ کہاں؟ ارے وہیں یار اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہی۔ کلرکی شلرکی کررہے ہیں۔ کہ روزی روٹی بھی چلتی رہے اور پڑھائی بھی۔ تو ہم عرض کررہے تھے کہہ ہمارے ساتھ کوئی بات ہوئی تھی۔ نہیں ہوئی نہیں بس ہوتے ہوتے رہ گئی۔ گل اتنی سی تھی یار کہ ہم نے طہارت کرنی تھی۔ وُضو کرنے کے لیے۔ تو چونکہ اب ہم بھی فیکلٹی ممبر ہیں۔ ٹیچر یار۔۔ تو ہم نے سوچا ذرا ٹیچروں والا واش روم استعمال کرکے دیکھیں۔ وہی یار جسے پنجابی میں لیٹرین کہتے ہیں۔ خیر ہم نے طہارت کے لیے واش روم کا رُخ کیا۔ ۔۔چلیں ذرا امریکی تڑکا لگا لیتے ہیں۔۔۔ ریسٹ روم کا رخ کیا۔ دروازہ بند کیا۔ پیچھے مڑے تو یہ کیا؟ دھک سے رہ گئے۔ عجیب کرسی سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم ٹھہرے پکے پینڈو۔۔ لوٹا نہ ہو تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی فرض رہ گیا ہے۔ ہم نے پہلے اپنی پچیس سالہ ۔۔ کم و بیش۔۔ زندگی کو کھنگالا۔۔ اور اس ولائتی سیاپے کو استعمال کرنے کا کوئی تجربہ نا پاکر، اور کوئی رسک لینے پر تیار نہ ہوتے ہوئے ،نیز اپنی ماہرانہ نظر سے اس عجیب الخلقت شے کا معائنہ کرنے کے بعد استنجا کرنے کی کوئی راہ نا پاکر۔ ہم نے۔۔۔۔۔۔۔ باہر کی راہ لی۔ اور سٹوڈنٹس والے(بے) واش روم میں جاکر سکون دائمی حاصل کیا۔
آہ۔۔۔ لوٹا دیکھ کر کیسا روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہے نا؟ آپ کا کیا خیال ہے۔ لوٹا جہاں بھی ہو اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ واش روم میں ہو یا اسمبلی میں۔ ایک کمینہ سا خیال یہی آتا ہے۔ ہے تو وہی نا استنجے کی۔۔۔۔ چلیں جانے دیں آگے آپ سمجھ دار ہیں۔
آپ کو کبھی پینڈو ہونے کا احساس ہوا؟
ہوا تو ہمارے ساتھ شئیر کیجیے نا۔

پیر، 9 مارچ، 2009

چیز ونڈی دی

کڑیو والو چیز ونڈی دی لئی ی ی ی ی ی جاؤ
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔

ہفتہ، 28 فروری، 2009

ایس ایم ایس

پاکستان میں اس وقت کم از کم پانچ موبائل فون کمپنیاں فعال ہیں اور جدید ترین خدمات فراہم کررہی ہیں. ملک کی آدھی کے قریب آبادی موبائل فون استعمال کررہی ہے. ہمارے میڈیا کے اشتہارات کا اچھا خاصا حصہ ان پانچ کمپنیوں کے اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے. ہر روز کوئی نیا پیکج اور ہر روز کوئی نئی آفر. یہ کردیا وہ کردیا وغیرہ وغیرہ.
ان کمپنیوں کی فراہم کردہ خدمات میں سے ایک ایس ایم ایس یعنی شارٹ میسنجنگ سروس ہے. ایس ایم ایس کے بارے میں کئی سال پہلے گلوبل سائنس میں پڑھا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہر وقت آنلائن رہ کر پیغامات وصول کرسکیں. خیر اس کا مقصد جو بھی آج کل یہ پاکستان میں انّھے وا استعمال ہورہے ہیں. لطائف سے لے کر مرے ہوئے شعرا بشمول فراز کی خوب مٹی پلید کی جاتی ہے.
ایک ایس ایم ایس، اگر آپ کے پاس کوئی پیکج نہیں، تو قریبًا سوا روپے میں پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس پیکج ہے جیسا کہ قریبًا ہر کمپنی دے رہی ہے تو آپ کو یہی ایس ایم ایس دس، بیس، تیس پیسے اور ایک پیسے سے بھی کم میں پڑتا ہے۔ لیکن اس سارے میں جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ بہت سادہ سا ہے۔ آپ پیکج کروائیں کمپنی کو مخصوص رقم ادا کریں۔ اور اس کے بعد مخصوص مدت کے لیے ایس ایم ایس کی مخصوص تعداد آپ کی ہوئی۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ایس ایم ایس کام کے لیے نہیں تفریح بلکہ وقت ضائع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ماہانہ سو کے قریب ایس ایم ایس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے پہلے پہل ایس ایم ایس کرنے سے پرہیز کی کوشش کی لیکن دوست احباب کے طعنے، ہم جماعتوں کے جائز استفسارات کے جواب (چونکہ میں کلاس کا سی آر ہوں) اور کئی ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے مجھے اس طرف آنا ہی پڑا۔ اب حال یہ ہے کہ ہر ماہ میرا سو کے قریب روپیہ ان پر لگتا ہے۔ اور پھر مجھے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس اتنے رہ گئے ہیں انھیں ختم بھی کرنا ہے۔ چناچہ میں نے جہاں ایک کرنا ہو وہاں تین چار بھی کردیتا ہوں۔ اب ان کو ختم بھی تو کرنا ہے کا سوچ کر۔
میرا سوال اتنا ہے کہ اگر ایس ایم ایس اتنا سستا ہوسکتا ہے جیسا کہ ان پیکجز کے ذریعے ہے تو اس کو مناسب ریٹ پر لاکر نارمل پیکج میں شامل کیوں نہیں کردیا جاتا؟ جس طرح ایس ایم ایس مفت بانٹے جارہے ہیں ،چار روپے کٹوائیں 24 گھنٹے میں 500 ایس ایم ایس آپ کے، اگر اس کو دس سے ضرب دی جائے تو جواب آٹھ پیسے آتا ہے۔ چلیں دس پیسے کرلیں اور ٹیکس ڈال کر پندرہ پیسے کرلیں۔ اگر پندرہ پیسے کا ایس ایم ایس بھی کردیا جائے تو کیا ہے۔
پچھلے دنوں ایک دوست سے چائنہ میں بات ہورہی تھی اس کے مطابق ایک ایس ایم ایس پاکستانی پانچ سے چھ روپے کا پڑتا ہے، کال سننے کے چارجز دینے پڑتے ہیں، روزانہ کے پیسے کاٹے جاتے ہیں جیسے پاکستان میں وائرلس لوکل لوپ والے روز کے پیسے کاٹتے ہیں بطور لائن رینٹ اور جب آپ کا بیلنس ختم تو نمبر بند۔ جب تک دوبارہ لوڈ نہ کریں تو نہ کال وصول سکیں گے نہ اس دوران آیا میسج آپ تک پہنچ سکے گا، کمپنی کے سرور پر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان میں اس سے حالات ہزار درجے بہتر ہیں اور اس کی وجہ کمپنیوں کا آپسی مقابلہ ہے۔ لیکن پھر بھی ان کمپنیوں ہمارا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سیل فون کام کی چیز نہیں فن اور مسخریاں کرنے کی چیز بن گیا ہے۔ کام کے لیے میسج کرنا ہے تو سوا روپیہ اور بے مقصد کرنے ہیں تو جتنے چاہیں۔ بس پیسے کٹواتے جائیں اور جو مرضی حاصل کرلیں مفت ایس ایم ایس سے لے کر انٹرنیٹ کے گھنٹوں کی سستے ترین گھنٹے۔ لیکن اس طرح کہ آپ انھیں استعمال صرف اور صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ عجیب سائنس ہے یہ بھی اور اس سائنس نے ہم نوجوانوں کی کیمیا کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کی بے مقصد رات ساری ساری رات گپ بازی اور موبائل چیٹ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ :roll: