منگل، 25 دسمبر، 2012

کرسمس کرسمس

ہر سال کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو گیا جس سے خبردار کرنے کے لیے باقاعدہ فتوے جاری کرنے پڑے. پر فتوے والوں نے خود ہی فتوے لگا لگا کر ان کی حیثیت گھٹا ڈالی ہے. ہر کروٹ پر فتوی ، بسیار گوئی کا کوئی تو نتیجہ نکلنا تھا.
ایک اور ٹرینڈ فیس بک کا چل نکلا ہے وہاں ایمان بچاؤ برگیڈ ہر ایسے موقع پر سرگرم عمل ہو جاتا ہے. ماشاءاللہ عظیم لوگ ہیں اور نیک نیت رکھتے ہوں گے. میرا مقصد یہاں یہ ان وجوہات کو قلم بند کرنا ہے جو مجھے کرسمس کی مبارکباد دینے پر مجبور کرتی ہیں.
اول تو یہ کہ قرآن و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبارکباد دینےکی ممانعت مجھے نظر نہیں آتی. یار لوگ چند قدیم ملاؤں کے اقوال پیش کرتے ہیں اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی والی حدیث (جو اکثر معاملات پر فٹ کی جاتی ہے مثلاً پینٹ شرٹ ). یہاں مبارکباد باد دینے سے کس مشابہت کا خدشہ لاحق ہوتا ہے میں سمجھنے سے قاصر ہوں.
کچھ لوگوں نے نقطہ اٹھایا کہ نبی پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم.نے تو مبارکباد نہ دی. کچھ تحقیق سے معلوم ہوا کہ تب تو عیسائی گنتی کے چند لوگ تھے مدینہ اور مکہ میں. مثلاً اماں خدیجہ کے کزن. اسی طرح مدینہ کے اسلام دشمن عیسائی کا ذکر ملتا ہے عامر نامی شاید. یعنی اس وقت اولاً تو عرب میں عیسائی تھے نہیں یا کم تھے ، ثانیاً یہ رسم ابھی اتنی مقبول نہیں ہوئی تھی کم از کم عرب کے عیسائیوں میں جو اکثر راہب ہی بنے. اس کے برخلاف نجران یا جو بھی مقام تھا ، کے عیسائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو مسجد نبوی میں قیام بھی کرتے ہیں اور عبادت بھی. یعنی نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم.ان کی دلجوئی کا اتنا خیال تھا.
پھر دلیل یہ بھی دی گئی کہ کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا نعوذ باللہ اور پیدائش مسیح علیہ اسلام پر ساری بحث کہ تاریخ پچیس دسمبر نہیں. میرے پاس تو بس یہ وجہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے. میری نیت یہ ہے کہ اسلام کا اچھا تاثر جائے اور مجھ میں جتنا بھی رتی بھر اخلاق اور رواداری اس عمل سے انہیں نظر آتی ہے اسے دیکھ کر شاید وہ اسلام کی جانب مائل ہوں. جیسے میرے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم.کا طرز عمل تھا.
میرے ایک عیسائی کولیگ کئی برس سے ہر عید پر مبارکباد دیتے ہیں. بطور مسلمان نہ تو مجھے ادھار رکھنا پسند ہے اور نہ ہی میرے پیشوا رحمت اللعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ شفقت و رحمت کا سلوک روا نہ رکھا جائے. چنانچہ میں بھی عیسائی بھائی بہنوں کو کرسمس کی مبارکباد دوں گا اور انشاء اللہ یہ عمل مرتے دم تک رہے گا.
نبی سائیں صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ سب انسان برابر ہیں. عیسائی مسلمان بھی برابر ہیں. چنانچہ میرا فرض ہے کہ بطور مسلمان یہ رویہ نہ دکھاؤں کہ میں تو چنیدہ مخلوق ہوں اور وہ جسٹ اینی باڈی. اللہ کرے یہ طرز عمل سب اختیار کریں اور اسلام کا پیغام محبت سے غیر مسلموں میں پہنچے. تاکہ وہ اسلام کا مطالعہ کریں اور اسلام قبول کریں.
تمام عیسائی بھائی بہنوں کو کرسمس مبارک ہو.

بدھ، 24 اکتوبر، 2012

یادیں

جانے والے چلے جاتے ہیں اور یادیں رہ جاتی ہیں۔ ابھی ہنستا کھیلتا لڑتا جھگڑتا آتا جاتا وجود، ابھی وہی وجود بے جان ہو کر سامنے پڑ اہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا استاد ہے۔ پر موت بھی بہت بڑ ا استاد ہے جی۔ ایسے ایسے سبق پڑھا جاتی ہے کہ ساری عمر نہیں بھولتے۔ پیچھے پچھتاوے، سوچیں اور رونے رہ جاتے ہیں۔ جب کوئی اپنا آنکھوں کے سامنے جان دے دے، ہاتھوں میں سانس کی ڈور منقطع کر ڈالے، جب زندگی بھرا وجود پل بھر میں کھگھا بن جائے۔ تب کی وہی جانتاہے جس پر یہ بیتتی ہے۔ باقر فوت ہو گیا، کئی احباب نے فون کیے، کئی نے میسج، فیس بک، ای میل، ذاتی ملاقات میں تعزیت کی۔ سب کی بڑی مہربانی، انہوں نے یاد رکھا۔ اللہ اس بچے کی مغفرت کرے۔ اس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ وہ کتنا اجنبی تھا۔ ایک گھر میں اٹھارہ سال ساتھ رہنے کے بعد، اچانک چلا گیا۔ اس کے جانے پر کونسی آنکھ ہے جو اشک بار نہیں تھی۔ عجیب بات ہے کہ میرے سامنے اس کی ڈیڈ باڈی پڑی تھی اور میں ہاتھ میں موبائل پکڑے کبھی کسی کو فون کروں کبھی کسی کو۔ خالہ کو بتایا، فلاں کو بتایا۔ ہر کسی نے رو لیا لیکن میں نہ رو سکا۔ بے حسی تھی، صبر تھا یا میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں مرتے نہیں دیکھا۔ میرے اندر اب بھی بس کبھی ابال سا اٹھ جاتا ہے لیکن اب تک میری آنکھوں سے آنسو نہیں گر سکے۔ دل کرتا ہے کہ کچھ لکھوں۔ لیکن کیا لکھوں۔ اس کے جانے پر اب کیا لکھوں۔ اب بھی یہ چند سطریں اس لیے گھسیٹ رہا ہوں کہ کراچی سے اردو بلاگر انیقہ ناز کی وفات کی خبر آ گئی۔ ان کے برادرِ نسبتی کے فیس بک اسٹیٹس سے ایکسیڈنٹ کے ذریعے موت کا پتا چلا۔ پیر کو وہ انتقال کر گئیں۔

اردو بلاگنگ میں ان لوگوں میں سے تھیں جن کا میں دلی احترام کرتا تھا۔ سارے بلاگر قابل احترام ہیں، لیکن کچھ لوگوں کا باقاعدہ قاری تھا۔ ان بلاگ بھی ان میں سے ایک تھا۔ اب اردو بلاگنگ میں ننھی پری کی چھوٹی چھوٹی باتیں کوئی نہیں لکھے گا۔ مختلف اور ترقی پسند (یا سیکولر قسم) کی تحاریر کوئی نہیں لکھے گا۔ متبادل نقطہ نظر، اور جسے پڑھ کر اکثر بلاگروں کو آگ لگ جاتی تھی، اس کا ایک ذریعہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ موت بہت بڑا دکھ ہے جی، پر جوان موت اس سے بھی بڑا دکھ۔ اگلوں پچھلوں کو توڑ کر مٹی کر دیتی ہے۔ جس کے سامنے کوئی اپنا بھری جوانی میں رخصت ہوا ہو یہ اسی کو پتا ہوتا ہے کہ جوان موت کا غم کیا ہوتا ہے۔ بیٹا، بھائی، باپ، ماں، بہن ان میں سے کوئی بھری جوانی میں چلا جائے تو پیچھے رہ جانے والے ساری عمر اس کے شاک سے نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کی بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ مرحومہ کے والدین اور خاوند کو حوصلہ اور صبر جمیل عطا کرے۔ پتا نہیں ان کی بچی ٹھیک ہے یا نہیں، اللہ اس کو دنیا کی تتی ہواؤں سے بچائے۔
 بہت بڑا غم ہے۔۔۔
 انا للہ و انا الیہ راجعون

جمعرات، 13 ستمبر، 2012

غلط کو غلط نہ کہنے کی روش

آج کے اخبارات، اور کل کے آنلائن شماروں میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ امریکی معلون پادری ٹیری جونز نے توہین آمیز ویڈیو تیار کی ہے۔ جس کے نتیجے میں لیبیا میں بلوائیوں کے ایک گروہ نے امریکی سفیر کو ہلاک کر ڈالا۔

بات شروع ہوتی ہے فیس بک سے، جہاں ایک صاحب تصویر شئیر کر رہے ہیں۔ نیچے لکھے کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ شامی انجینئر پوچھ رہے ہیں لیبیا والوں نے تو یہ سب کر کے اپنی محبت کا ثبوت دے دیا، پاکستانی کہاں ہیں؟ ان سطور کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستانی بھی اٹھیں اور ملک میں غیر ملکیوں پر حملے شروع کر دیں، ان کے سفیروں کو ہلاک کر ڈالیں۔ ایک ایسے جرم کے لیے جو انہوں نے نہیں کیا، ایک ایسی صورتحال میں جب وہ نہ ہمارے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں، اور نہ ہتھیار بند ہو کر مقابلے پر اترے ہوئے ہیں، اور کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھوں جو اپنے آپ کو اعلی درجے کے مسلمان اور عاشق رسول سمجھتے ہیں، اور بزعم خود قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہو کر،آن دی اسپاٹ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو مار ڈالتے ہیں۔

میں نے فیس بک پر یہ سوال کیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو اسلامی ملک میں ذمی کی حیثیت رکھتا ہے، اسکی جان و مال کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کا قتل کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اور اس پر ایک دوسرے کو شہہ کیسے دی جا سکتی ہے کہ دیکھو فلاں نے کر دیا اور تم پیچھے رہ گئے۔ مجھے جواب دیا گیا کہ غیر ملکی سفیر ذمی نہیں ہوتے۔ میں نے مان لیا، لیکن پھر سوال اٹھ آیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو ویزے پر اسلامی ریاست میں داخل ہوا، ایک معاہدہ جو اس کے اور ریاست کے مابین ہے کہ ہماری حدود میں داخلے پر تمہاری جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک معاہدہ یعنی وعدہ جس کے لیے محمد الرسول اللہ ﷺ تین دن تک ایک جگہ کھڑے رہتے ہیں، آج ان کے نام لیواؤں کے نزدیک ردی کے ٹکڑے کی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔

مجھے جواب دیا جاتا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے ساتھ پوری دنیا میں یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو بنا کسی عدالت کے ایسے ہی موت کے گھاٹ اتارا۔ طالبان پر بنا کسی عدالت کے ایسے ہی حملہ کیا، عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔ ان کے ساتھ کوئی سفیر کا معاہدہ نہیں۔ ان کا قتل جائز ہے۔ میرا سوال بس یہ کہ کیا اسلامی ریاستوں نے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا؟ کیا وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیے؟  ان کے سفیروں کو وارننگ دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا؟ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا؟ آگے سے پھر وہی جواب آئے کہ یہ عین جائز ہے چونکہ امریکہ ۔۔۔۔اگلا حصہ آپ جانتے ہیں اس لیے اسکپ کر رہا ہوں۔

ابھی میں اپنے بنیادی سوال کی طرف نہیں آیا۔ آئیں ایک صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک واقعے میں عیسائی ریاستوں میں سے ایک میں ایک مسلمان خاتون کو شہید کر دیا جاتا ہے، اس کا جرم کیا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہے اور مسلمان ہے۔ مسلمان اس پر چراغ پا ہو جاتے ہیں، ان کے نظام انصاف کو صلواتیں سناتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں، اسے نا انصافی کہتے ہیں۔ دوسرے واقعے میں ایک اسلامی ریاست میں جنونیوں کا ایک گروہ ایک شخص کو اس لیے ہلاک کر دیتا ہے چونکہ وہ اسی ملک سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کو یہ مجرم سمجھتے ہیں۔ اس پر سب واہ واہ کرتے ہیں، ایک دوسرے کو ہلا شیری دیتے ہیں اور شرم دلاتے ہیں کہ دیکھو فلاں آگے بڑھ گیا۔ درج بالا دونوں واقعات میں دو چیزیں مشترک ہیں۔ نمبر ایک مرنے والے دونوں افراد حالت جنگ میں نہیں تھے، ایک غیر ملک میں تھے، ان کا قصور اتنا تھا کہ وہ گروہِ مخالف سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ انہیں مارنے والے بھی ایسے لوگ تھے جو ریاست (اولی الامر) کی نمائندگی نہیں کرتے، کچھ ایسے جنونی جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو جج کے عہدے پر متمکن کر لیا اور ان کے قتل کا فیصلہ صادر کر کے اپنے تئیں انصاف کے تقاضے پورے کر دئیے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر آپ اول الذکر واقعے کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ دوسرے کو بھی غلط سمجھا جائے؟ یا دوسرے کو صرف اس لیے غلط نہیں سمجھا جائے گا کہ مرنے والا ایک غیر مسلم تھا، اور چونکہ غیر مسلموں کا خون نیلا ہوتا ہے، اور (نعوذ باللہ) قرآن کا حکم (ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے) اصل میں "ایک مسلمان کا قتل کا ساری انسانیت کا قتل ہے"۔ کیا مسلمان ہونا یہ گارنٹی ہے کہ ہم ہر اس انسان کو اڑا سکتے ہیں جو ہم سے کمزور ہے، جس پر ہمارا بس چلتا ہے، جو ہمارے سامنے فی الوقت کمزور پڑ جاتا ہے۔ کیا ایسا اس لیے ہے کہ مسلمان اللہ کی چنی ہوئی امت ہیں، امت آخر، نبی اکرم ﷺ کے ماننے والوں کی امت، اسلیے ان کے نام پر اس امت کے لیے ہر جرم معاف ہے؟ کیا یہی سوچ یہودیوں کی نہیں تھی اور ہے؟  کیا یہی سوچ اس بھیڑئیے کی نہیں تھی جس نے میمنے کو اس جرم میں پکڑ لیا کہ اس کے آباء میں سے کوئی اسی ندی پر پانی پیتا رہا تھا جس ندی پر آج بھیڑیا پانی پی رہا ہے۔ سوال ہے کہ ہماری انصاف کی چھری 'ہم' اور 'وہ' کی تخصیص کیوں کرے۔ جب محمد الرسول اللہ ﷺ نے کبھی انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ فرق روا نہ رکھا تو مسلمان ایسا کیوں کریں؟

مجھے یہ منطق دی گئی کہ حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے۔ جب حرمت رسول ﷺ کی بات آ گئی تو سارے معاہدے باطل، اور گستاخِ رسول ﷺ کی سزا موت۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ اس سفیر کا کیا قصور تھا کیا وہ گستاخِ رسول ﷺ تھا؟ کیا اس پر اس الزام کے سلسلے میں باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا اور یہ جرم اس پر ثابت ہو گیا؟ (اس نظام کے تحت جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن حکیم کے تحت اسلام میں صدیوں سے نافذ چلا آ رہا ہے۔) چلیں مقدمہ نہ چلانے کی بات مان لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں ایک واقعہ ملتا ہے کہ مدینہ میں ایک مخالف گروہ (شاید یہودیوں) سے ایک آدمی (اغلباً ایک شاعر) نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو جا کر مجھے اس کا سر لا دے یعنی اس جرم میں قتل کر دے۔ تو ایک صحابیؓ گئے اور اس کا سر کاٹ لائے یا اسے قتل کر دیا۔ بظاہر یہاں کوئی مقدمہ ملوث نہیں ہے۔ اسلامی ریاست کے سربراہ (جو اس واقعے میں خود رسول اللہ ﷺ ہیں) نے ایک غیر ریاست کے شہری (یاد رہے اسلام کے ابتدائی دور میں ریاستِ مدینہ کئی گروہوں میں بٹی ہوئی تھی اور پورے مدینہ پر مسلمانوں کا ایسا کنٹرول نہیں تھا جیسا آج ایک عمومی حکومت کے لیے نارمل خیال کیا جاتا ہے) کے قتل کا حکم دیا اور اس پر عمل درآمد ہو گیا۔ یہاں سے یہ استدلال سامنے آتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو فوراﷺ سزائے موت دی جائے چاہے وہ غیر ملک یا غیر قوم کا شہری/ رکن ہی ہو۔ لیکن ایک باریکی جو یہاں ڈاکٹر حمید اللہ نے دریافت کی، قابل بیان ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون بین الممالک (انٹرنیشنل لاء) کے ماہر تھے، فرماتے ہیں کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ میثاقِ مدینہ یعنی مخالف فریقین کے مابین ایک معاہدہ ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں میں نے باقاعدہ تحقیق کی، اور یہ بات سامنے آئی کہ میثاق مدینہ (جسے آج ہم اسے ایک معاہدے کے طور پر جانتے ہیں) اصل میں معاہدوں کے ایک مجموعے کا نام ہے جو وقتاً فوقتاً مدینہ کے مختلف گروہوں اور مسلمانوں کے مابین وجود میں آتے رہے۔ اور مذکورہ بالا واقعے کے وقت مسلمانوں اور متعلقہ گروہ کے مابین یہ معاہدہ ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ نکلتا ہے کہ عہدِِ رسالت ﷺ میں میں گستاخِ رسول کی سزائے موت اس وقت عمل میں آئی جب کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں تھا ورنہ صورتحال شاید مختلف ہوتی۔ اگر ہم اس ساری بحث کو نظر انداز بھی کر دیں تو بنیادی سوال "کیا غیر ملکی سفیر گستاخِ رسول ﷺ تھا؟" کا جواب نہیں میں نکلتا ہے۔ گستاخی واضح طور پر ٹیری جونز نامی معلون شخص کی شرارت ہے، اور اس کا سزاوار بھی وہی ہے، نا کہ اس کے ملک سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دوسرا شخص۔ ایسی صورتحال میں اسلامی اور انسانی نقطہ نگاہ سے ایک غیر ملکی سفیر، جو اسلام کی نظر میں بے گناہ ہے اور بے گناہ انسان کا قتل اللہ کے نزدیک پوری انسانیت کا قتل ہے، نرم سے نرم الفاظ میں بھی بربریت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے اس جرم میں شریک۔

تحریر کے اختتام پر پھر اپنا موقف دوہرانا چاہوں گا کہ ایک غلط عمل کے جواب میں کیا جانے والا غلط عمل موخر الذکر کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے چاہے جتنی بھی ناانصافی کی ہو، نہتّوں پر بم برسائے ہوں، قتل عام کیے ہوں، اسامہ بن لادن اینڈ کمپنی کو قتل کیا ہو لیکن یہ تمام افعال اس بات کا اجازت نامہ نہیں کہ آپ ان ممالک کے نہتے شہریوں پر انفرادی حیثیت میں حملے کر کے، مقدمہ چلائے بغیر، ایک ایسے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ اگر بدلہ لینے کا شوق ہے تو مردوں کی طرح ان کے خلاف اعلانِ جنگ کریں، سفارتی رابطے منقطع کریں، ملعون گستاخِ رسول ﷺ کی حوالگی کا مطالبہ کریں اگر وہ نہیں کرتے تو دعوتِ مبازرت دیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا چونکہ حکومتیں کرپٹ ہیں، کوئی بھی ریاست سچی اسلامی ریاست نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت ان ممالک میں بسلسلہ روزگار وغیرہ موجود ہے اور وہاں سے نوٹوں کے تھبنٹو واپس بھیجتی ہے، کاروباری مفادات وابستہ ہیں اس لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا اجتماعی یعنی ریاستی سطح پر ممکن نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور ان کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے، معاہدہ امن (یاد رہے کہ عراق، افغانستان وغیرہ میں بھی حکومت کے ساتھ یہی نام نہاد معاہدہ امن موجود ہے جو انفرادی سطح پر کسی بربری فعل کی اجازت نہیں دے گا جب تک ریاست اعلان جنگ نہ کر دے) یعنی آپ ان کے شہریوں کو امان دیں گے، اور وہ آپ کے شہریوں کو امان دیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے، ایسا نہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنے شہریوں، ہم مذہبوں کے ساتھ ان ممالک میں یہی سلوک ہونے پر واویلا کریں۔ اگر آج پاکستان، لیبیا یا کسی بھی اسلام ملک کے سفیر کے ساتھ بھارت، فرانس یا امریکہ میں یہی سلوک ہوتا ہے تو وہ غلط ہے (وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے، رمشا مسیح کا تقریباً جھوٹا ثابت ہو چکا مقدمہ لے لیں، اس پر کوئی جنونی گروہ پاکستانی سفارتخانے پر اٹھ کر حملہ آور ہو سکتا ہے، جنونیوں کو تو بہانہ چاہئیے ہوتا ہے نا)، اسی طرح ان کے سفارتخانے پر ہمارے ہاں ہونے والا حملہ بھی غلط ہے۔ انصاف کا معیار دوہرا نہیں ہوتا، انصاف میرے لیے ہاں تمہارے لیے ناں نہیں ہوتا۔ ہم اس شخصیت ﷺ کے پیروکار ہیں جس نے جنگ میں جانے سے قبل بھی لشکریوں سے کہا تھا سنو عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ درخت، نہ کاٹنا، فصلیں نہ اجاڑنا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، جو ہتھیار نہ اٹھائے اس پر حملہ نہ کرنا۔ لیکن ہم انہیں ﷺ سے محبت کے نام پر انہیں کی تعلیمات کو فراموش کر رہے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کسی کا غلط طرزِ عمل اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم بھی انصاف کے تقاضے چھوڑنے کے لیے آزاد ہو گئے ہیں، ہم مسلمان ہیں اور ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں، ورنہ ہم میں اور جنگلی جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور اس بھیڑئیے میں کوئی فرق نہیں جس نے میمنے پر اس لیے حملہ کر دیا کہ اس کے آباء میں سے کسی نے پانی پینے کا جرم کر ڈالا تھا۔ عذر تراشیاں کسی غلط طرزِ عمل کے ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں، ہمیں عذر تراشیاں ترک کر کے غلط کو غلط کہنا ہو گا، ان کے غلط کو تو غلط کہنا ہی ہے اپنی غلطی کو بھی تسلیم کرنا ہو گا، اور ایسے کسی بھی رویے کی حوصلہ افزائی ترک کرنا ہو گی۔

اَشہَدُ اَن لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَا عَبدُہُ وَ رَسُوُلُہُ و خاتم النبین
میرے لیے ٹیری جونز کی حیثیت اس کتے سے بھی بدتر ہے جو میرے محلے میں ہر صبح بلا وجہ بھونکنا شروع کر دینے والوں میں ہوتا ہے۔ اور میں ایسے کتوں کو پتھر مارنا بھی گوارا نہیں کرتا۔  میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، مجھے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے ان ﷺ سے کتنی محبت ہے، اور نہ کسی کو میرے ایمان پر سوال اٹھانے کا حق ہے کہ یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے۔ لیکن جو غلط ہے میں اسے غلط کہوں گا۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ غلط ہوا، اسامہ بن لادن کو مقدمے کے بغیر قتل کرنا انصاف کا قتل تھا، عراق، افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے حملے غلط تھے، مغربی ممالک میں مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینے والے قوانین اور رویے غلط ہیں۔ لیکن ان سب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل کو جائز قرار دینے لگوں۔ یہ غلط ہے اور میں غلط کو غلط کہوں گا۔ کاش میری قوم بھی یہ بات سمجھ جائے۔

برادرم کاشف نصیر کی اس پوسٹ کو ٹیگ کرنا ضروری ہے، جس سے مجھے آج کی یہ تحریر لکھنے کی انسپائریشن ملی۔
وما علینا الا البلاغ

جمعہ، 7 ستمبر، 2012

حجاب، نقاب ہم اور ہمارے رویے

ایک عرصہ ہو گیا میں 'موسمی' موضوعات پر لکھنا چھوڑ چکا ہوں۔ جب سارے اردو بلاگر ایک موضوع کو لے کر اس کی مٹی پلید کر رہے ہوتے ہیں اس وقت میری خواہش ہوتی ہے کہ کچھ مختلف لکھا جائے۔ خیر لکھنے والی بات بھی نوے فیصد جھوٹ ہی ہے کہ میں اکثر ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں جو مہینوں بعد کچھ لکھتا ہے۔ لیکن بلاگر ہونا شرط ہے، لکھا تو کبھی بھی جا سکتا ہے۔ آج کل کا اِن موضوع حجاب،نقاب وغیرہ ہے۔ ایک طرف یار لوگوں نے عالمی حجاب ڈے وغیرہ کی ڈفلی اٹھائی ہوئی ہے، دوسری طرف سے زبردستی مسلمان کروانے وغیرہ کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ اور اس دوران شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قسم کے تبصرہ نگار ایسی بلاگ پوسٹوں پر طنزیہ لہجے میں براہ راست ہتک آمیز تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو ہماری قومی عادت ہے کہ برداشت نہیں کرنا، تصویر کا ایک ہی رخ لے سامنے رکھ کر چلائے چلے جانا اور "میں نا مانوں" کا نمونہ اکمل بنے رہنا۔ میں نے سوچا موضوع اِن ہے تو ہم بھی اڑتے کیچڑ میں دو چار پتھر پھینک لیں۔ کروانے تو کپڑے ہی گندے ہیں، ویسے بھی برسات ہے تو چلن دیو۔
میرے حساب سے حجاب نقاب جس کی آج بات کی جا رہی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اول جو اس پیرے میں زیر بحث آئے گا، وہ ہے یورپی ممالک میں مسلمان خواتین پر ہونے والی سختیاں (بسلسلہ حجاب) جن میں حکومتی اقدامات سے لے کر نسلی امتیاز تک ہر چیز شامل ہے۔ دیکھیں جی ہر کسی کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اور یورپی مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دے کر انتہا پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ میرا اس سلسلے میں مزید کوئی خیال نہیں، بس اتنا خیال ہے کہ اوکھے دن ہیں لنگھ جائیں گے۔ حجاب کے متعلق آگاہی پھیل رہی ہے، اس کے حامی بھی ظاہر ہے یورپیوں میں ہوں گے، کرنا یہ ہے کہ اپنی آواز پر امن انداز میں شانتی اور سکون سے بلند کی جائے۔ اور اللہ کی مہربانی سے وہ وقت بھی آئے گا جب انسانی حقوق کے یہ بزعم خود علمبردار حجاب کی اجازت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہاں جب تک وہ سختی کرتے ہیں تو اللہ تو دیکھ رہا ہے نا جی، اسے پتا ہے کہ مسلمان بے بس ہیں تو اس کی ذات معاف کرنے والی ہے۔ کوشش کرنا ہمارا فرض اور باقی اللہ سائیں راہیں سیدھی کرنے والا۔ چناچہ لگے رہو بھائیو حجاب ڈے مناؤ، اور اپنا موقف ان کے کانوں تک پہینچاتے رہو۔۔۔۔
لیکن تہاڈی مہربانی ہے مسلمانوں کو مسلمان نہ کرو۔ خدا کا واسطہ ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کس حجاب کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے یہ علاقہ، اور اس کے باشندے جو مسلمان ہیں، اور ان کی روایات اور ثقافت اسلام اور مقامیت کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں پردہ تب سے رائج ہے جب سے اسلام یہاں ہے۔ میری والدہ، نانی اور خالہ ایک اڑھائی گز کی چادر سر پر لیا کرتی تھیں۔ اور آج بھی میں نے انہیں وہی چادر لیے دیکھا ہے۔ نانی اور خالہ کو زمینوں پر کھانا دینے جانا ہوتا تھا، اور وہ اسی چادر میں جاتی تھیں۔ جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اور کیا چاہیئے کیا زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیں عورتوں کو؟ سر تا ییر برقعہ اوڑھا کر کام کیسے کرواؤ گے بھائی؟ ہمارے بہادر تو یہ چاہتے ہیں کہ عورت کے ہاتھوں پر بھی دستانے ہوں۔ صدقے جاؤں ایسے اسلام کے اسی نے بیڑے غرق کیے ہیں۔ رونا روتے ہیں یورپیوں کی انتہا پسندی کا خود ان کے استاد ہیں اس معاملے میں۔ برداشت کا ایک ذرہ بھی نہیں ہیں، مار دو، کاٹ دو، قتل کر دو، جو'اہل ایمان' نہیں اسے اڑا دو۔ اور اہل ایمان کی اپنی تعریف ہر کسی کی۔ اللہ جماعت اسلامی کو ہمیشہ اقتدار سے دور رکھے، آمین۔ ضیاء الحق کے رفقاء میں شامل رہنے والے یہ لوگ نان ایشوز کی سیاست بڑے ول انداز میں کرتے ہیں۔ پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو، پارلیمان کی ویب سائٹ پر تصویر میں کلمہ نظر نہ آ رہا ہو یہ سب سے آگے اور اب حجاب کو آئین میں لازم قرار دیا جائے۔ پہلے مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ کونسا حجاب؟ میری والدہ، ان کی ماں، ان کی ماں کی ماں اور ان کی دس نسلوں سے جو اوڑھنی چلی آ رہی ہے، یا شٹل کاک برقع جو افغانستان سے درآمد ہوا ہے، یا عربی اسٹائل حجاب، یا سعودی اسٹائل فل سائز برقعے۔  کونسا حجاب سائیں؟ یہ کدھر کو چل پڑے ہیں، ہر چیز کو مسلمان بنانے پر تلے ہیں۔ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر گرا نہ سکتے تھے اس لیے کلمہ لکھ کر مسلمان کر لیا۔ عمارتیں، نشانات، آثار یا تو مٹا دئیے یا 'مسلمان' کر لیے۔ یہی کام مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ یا تو مسلمان کر لیے، جو'رافضی'، 'کافر' وغیرہ بچے انیہں زندگی کی قید سے آزاد کر دیا۔ واہ بھئی، صدقے اس اسلام کے۔ صدقے۔
آخری بات عرض کرتا چلوں، کہ آج نوجوان لڑکیاں چادر یا اوڑھنی والا نقاب نہیں برقعے والا نقاب کرتی ہیں۔ اس کی وجہ اسلام ہائپ تو ہے ہی، معاشرتی عدم تحفظ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اسلام اسلام کرنے سے اوپر اوپر تو ملمع چڑھ گیا ہے، اندر کی بےغیرتی نہیں گئی۔ جب تک یہ بے غیرتی نہیں جائے گی حجاب چھوڑ کر نماز پڑھنے کا آرڈیننس بھی جاری کروا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔

منگل، 17 اپریل، 2012

بجلیاں

اس قوم کے گھروں میں بجلی نہیں آ رہی لیکن اسے بجلیاں چڑھی ہوئی ہیں۔ کہیں سے صدا اٹھتی ہے کہ ایران مفتو مفت ہی بجلی دینے کو تیار ہے،کہیں سے میسج آتا ہے کہ چین 300 روپے مہینہ میں بجلی مہیا کرنے کو بس تیار ہی بیٹھا ہے ہاں کرنے کی دیر ہے۔ اور فیس بُک پر تصویریں رُلتی پھرتی ہیں کہ ڈاکٹر قدیر نے 90 دنوں میں بجلی بنانے کا دعوی کر دیا بس 3 سال پرانے اس دعوے کو قبول کرنا باقی ہے جو کہ حکومت نہیں کر رہی۔
پاکستانی قوم ایک ایسی افسانوی دنیا میں رہنے کی عادی ہے جس سے باہر نکلنا اسے پسند نہیں۔ منطق سے بات کرو تو کھوپڑی میں اترتی نہیں۔ اگر اوپر کیے گئےدعوؤں کو کوئی چیلنج کر دے تو مامے خاں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے ساتھ آپ کی ماں بہن بھی ایک کر ڈالتے ہیں۔ ثبوت مانگو تو آگے سے طعنوں تشنوں کی ڈبل بیرل بندوق چل پڑتی ہے۔
میں معاشیات کا کوئی ماما نہیں ہوں، عام سا قاری ہوں بس روزانہ اخبار پڑھنے کی عادت ہے۔ اور ایک اور گندی عادت ہر بات پر سوال اٹھانے کی ہے۔ جب سے میری کھوپڑی میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہاں فیس بک، میسج اور منہ زبانی گردش کرنے والا ہر ایک "فلاحی پیغام" ایک منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس قوم کو سلائے رکھنا ہے۔ کاکا سُتے رہو، منزل بس دو ہاتھ رہ گئی ہے، بس اتنی سی کسر رہ گئی ہے۔ بس ایران سے بجلی آ گئی، بس چین کو کنٹرول دو بجلی کا، بس ڈاکٹر قدیر خان کے ہاتھ میں روپیہ دو اور دیکھو۔ ارے پاکستان تو جنت میں ہے بس اس جنت کا پیکج ایکٹیویٹ کرانے کی ضرورت ہے۔
بڑی گندی عادت ہے جی ہر چیز پر سوال اٹھانے کی۔ مثلاً یہی لے لیں کہ کئی دنوں سے یہ سوال کھوپڑی میں ناچ رہے ہیں۔
آخر چین ہمارا اتنا ماما کہاں سے ہو گیا کہ دس ڈالر ماہانہ میں ہمیں بجلی مہیا کر دے؟ اگر فرض کیا مہیا کرتا بھی ہے تو قراقرم کے پہاڑوں میں سے بجلی کی تاریں بچھائے گا یا وائرلیس کے ذریعے بجلی آیا کرے گی؟ سوال تو یہ بھی ہے نا کہ تیل کہ چین جو خود تیل کا سب سے بڑا خریدار، کوئلے کا ویری اور ہر رکازی ایندھن کا دشمن ہے کہ اسے اپنی صنعت کا پہیہ چلانا ہے سوا ارب لوگوں کے پیٹ کا جہنم بھرنا ہے وہ اتنا ماما کیسے ہو گیا ہمارا کہ صرف 300 روپے میں بجلی مہیا کرنا شروع کر دے؟ جبکہ آپ کے اپنے ملک میں پن بجلی بھی پیدا ہونے لگے تو اس کی قیمت بھی تین سو نہ ہو۔ آپ کی کرنسی کی مت ہی اتنی وج چکی ہے سرکاراں۔
ایران کے بڑے ہیج چڑھے ہوئے ہیں لوگوں کو۔ ایران گیس دے گا، ایران بجلی دے گا،  یہ کوئی نہیں سوچتا ایران کیا لے گا؟ ایران نے گیس دیتے وقت اس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے ساتھ منسلک کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اس سے سستی گیس ترکمانستان دے سکتا ہے۔ اگر کبھی دے سکا تو۔  ایران کے ساتھ تجارت کا مطلب ہے کہ آپ کے بینک امریکہ میں بین۔ اس مطلب ہے کہ ایران سے تجارت صرف بارٹر سسٹم کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی؟ نہیں ہے بس باتیں ہیں۔ اور ہاں اگر پیسے بھی دینے پڑے تو ڈالروں میں جائیں گے اور آپ کے پاس اپنے نوٹوں کے (ردی کے) ڈھیر ہی ہیں، ڈالر جو آتے ہیں وہ فارن بل ادا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ڈاکٹر قدیر صاحب کو ہر مرض کی دوا سمجھ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سیاست میں آئیں۔ ڈاکٹر صاحب بجلی بنائیں۔ ڈاکٹر صاحب یہ ڈاکٹر صاحب وہ۔ تابکاری کی وجہ سے کینسر کا شکار ایک بوڑھا شخص، اس بے چارے کو ہر جگہ گھسیٹ لیتی ہے یہ قوم۔ ارے ڈاکٹر قدیر ہے لکڑ ہضم پتھر ہضم پھکی نہیں ہے جو سر درد، آنکھوں کی کمزوری اور معدے کی کمزوری سے لے کر گنٹھیا تک کے علاج میں استعمال ہو جاتی ہے (اور آرام پھر نہیں آتا)۔  ڈاکٹر صاحب نے بیرون ملک سے ایٹمی ٹیکنالوجی چرائی تھی، اپنا کیرئیر برباد کیا اور آپ کے ملک کو ایٹم بم بنا کر دے دیا۔ اب بس کرو جناب ان کا کام پورا ہو گیا اس بے چارے بوڑھے کو اب تو سکون سے جی لینے دو۔ عجیب چائنہ کٹ قسم کے ہیروہوتے ہیں ہمارے ہر کام کر لیتے ہیں۔ 90 دنوں میں بجلی کا بحران بھی ختم کر دیتے ہیں۔
یہ 90 دن میں بجلی کا بحران ختم کرنے والی بھی خوب رہی۔ کل فیس بک پر ایک صاحب اچھے خاصے جذباتی ہو گئے کہ اگر ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو ایٹمی بجلی گھر بنانا تو خالہ جی کا واڑہ ہے۔ میں نے کہا بھائی صرف یہ بتا دو کہ ایک ایٹمی بجلی گھر تیار ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، کسی حوالے کے ساتھ تو میں مان جاؤں گا۔ تو فرمانے لگے آپ ثابت کر میں کیوں کراں؟ بڑی گل کیتی اے وئی۔ پتا نہیں ہماری موٹی کھوپڑی میں یہ بات کب آئے گی کہ چوری کا ڈیزائن لے کر ایٹم بم بنا لینے میں تیس سال لگ گئے تھے، اگر اسی طرز پر ایٹمی بجلی گھر بھی بنانے لگے تو پانچ سال تو انتظار کرو میرے بھائی۔ کراچی کا ایک تھکڑ سا ایٹمی بجلی گھر جو جتنی بجلی بناتا ہے اس سے آدھی خود پی جاتا ہے۔ اور چشمہ کے دو ایٹمی ری ایکٹر جو جھونگے جتنی بجلی مہیا کرتے ہیں۔ چھ سو میگا واٹ اور کہاں پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال۔ یہ چشمہ بھی چین کا سر چشمہ ہے ورنہ آپ کے گوڈوں میں اتنا پانی نہیں ہے کہ ایٹمی بجلی گھر تیار کر سکیں۔ ارے پیسے ہی نہیں ہیں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کے لیے اور کیا کرنا ہے۔
ہاں پیسوں کی بھی خوب رہی۔ بجلی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ پر ہیں۔ پیسے ہیں۔ ماہانہ کروڑوں یا شاید اربوں کے نئے نوٹ چھپتے ہیں، چناچہ اگر اس ملک میں کسی چیز کی پیداوار روز افزوں ترقی پر ہے تو وہ نوٹ ہیں۔ نوٹ چھپتے ہیں تو پھر نوٹ زیادہ اور پیداوار کم، نتیجہ یہ کہ سبزی مہنگی نوٹ سستے، بجلی مہنگی نوٹ سستے، پٹرول مہنگا نوٹ سستے، آٹا مہنگا نوٹ سستے۔ حکومت تو اپنا کام کیے جا رہی ہے ہمارے پچھواڑے میں ڈانگ دئیے جا رہی ہے۔ نہ آمدن ہو نہ سرکلر ڈیٹ کا منحوس چکر ختم ہو اور نہ بجلی بنانیوالے پوری پیداوار دیں۔ مجھے تو ڈر اس وقت سے ہے کہ پاکستانی سرکار پاکستانی بینکوں کے سامنے ڈیفالٹر ہو جائے، دیوالیہ۔ جتنے قرضے یہ بینکوں سے لے رہے ہیں، اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے، اپنے حلقوں کو خوش کرنے کے لیے ترقیاتی کام کرانے کے لیے، مجھے ڈر ہے کہ یہ سرکار دیوالیہ ہو جائے گی۔ اور یونان والا حال ہوگا اس ملک کا۔ یقین نہیں آتا تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لو، ہر رپورٹ میں یہی رنڈی رونا ہوتا ہے کہ حکومت بہت زیادہ قرضہ لے رہی ہے۔
اور جاتے جاتے پانی کا حال بھی سنتے جائیں۔ یہ گلیشئیر اگلے تیس سال نکال گئے تو معجزہ ہو گا۔ جہاں سیاچن اور بالتورو کے ڈھیر ہیں وہاں صفا چٹ پتھر ہوں گے چند دہائیوں میں اور میٹھے پانی کا ذریعہ ٹھُٹھو۔ نہ پانی ہو گا، نہ ڈیم ہوں گے، نہ پانی محفوظ ہوگا نہ پینے کو ملے گا نہ بجلی بنانے کو ملے گا۔ اور آپ کے دریا تو پہلے ہی انڈیا لیے جا رہا ہے۔ بس تھوڑا سا اور صبر کرلو فیر ویکھو دما دم مست قلدر۔
ہاں حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی اور پرانا ہیرو جو ادھر ادھر پڑا ہو جھاڑ پونچھ کر دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے تاکہ عوام کا مورال بلند رہے، اسے نشے کا ٹیکا لگا رہے اور سُتی رہے۔ ستے خیراں، رہے نام اللہ کا جس نے جھوٹوں کے لیے بھی ان کا عمل اتنا خوشگوار بنا دیا کہ وہ اسے ہی سچ سمجھتے ہیں۔

ہفتہ، 11 فروری، 2012

یااللہ تیرا شکر ہے

الحمد اللہ، ثم الحمد اللہ، ثم ثم الحمد اللہ۔
آج ہم آفیشلی گولڈ میڈل یافتہ ہو گئے ہیں۔ بہت دنوں کے بعد ایک اچھی خبر ملی ہے۔ اللہ سائیں کا کرم ہوا، ورنہ اپنے پلے کیا تھا کہ یہ نصیب ہوتا۔
یااللہ تیرا شکر ہے۔









سوموار، 30 جنوری، 2012

اردو سے انگریزی لغت (ڈکشنری)

ایک عرصے سے ارمان تھا کہ اردو سے انگریزی لغت ہو۔ تاکہ اردو سے انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے جہاں انگریزی ختم ہو جائے وہاں لغت کی مدد لی جا سکے۔ تاہم اگر کوئی حل دستیاب بھی ہوا تو وہ آنلائن تھا، آفلائن حل کوئی نہ تھا۔ کلین ٹچ جیسی لغات بھی دستیاب ہیں لیکن مفت خورے ان کی طرف کیوں دیکھیں۔ خیر دو دن پہلے بخار سے اٹھے تو لغت پر جا پڑے۔ اور اردو ٹرانسلیٹر گلاسری ، جو کہ اردو ویب لغت کی ڈیٹا بیس فائل کو ہی سادہ ٹیکسٹ میں تبدیل کر کے اومیگا ٹی میں استعمال کے قابل بنائی گئی تھی، کے بعد اب پیش ہے ایک عدد اردو سے انگریزی لغت۔
اس سے ہزار گنا بہتر پروگرام لکھا جا سکتا تھا، فہرست الفاظ میں بےشمار غلطیاں ہونے کے قوی امکانات ہیں، اور ہو سکتا ہے سافٹویر ہی چلنے سے انکاری ہو جائے۔ تاہم ایک نیم حکیم سے اسی کی توقع کیجیے۔ ہم نے کوئی راکٹ سائنس استعمال نہیں کی بس اردو ویب  لغت کی انگریزی  سے اردو والی ورڈ لسٹ کو اردو سے انگریزی کے لیے قابل استعمال بنا دیا۔ کچھ کچھ قابل استعمال، اب یہ آفلائن مقاصد خاصی حد تک پورے کر سکتی ہے۔ اور اردو سے انگریزی متبادل مہیا کر سکتی ہے۔
اردو سے انگریزی لغت
سی شارپ میں لکھی گئی ہے۔ اور بڑا سادہ سا کام ہے۔ اردو حرف دیں تو پہلے تو یہ حرف بحرف انٹری دیکھے گی۔ اگر ہوئی تو پہلی انٹری وہی شو ہو گی۔ اس کے بعد تلاش کردہ لفظ سے شروع ہونے والے تمام اندراجات سامنے نکال کر رکھ دے گی۔ دوسرا آپشن "حرف بحرف" پہلے کا ہی آدھا ورژن ہے، یعنی اگر حرف بحرف ملتے لفظ ہوئے تو کچھ ملے گا ورنہ چھٹی۔ نبیل نقوی کے تیارہ کردہ اردو ڈاٹ نیٹ کنٹرولز کو استعمال کرتے ہوئے اردو لکھنے کی سہولت دی ہے۔ باقی سادہ سا انٹرفیس ذاتی تیار کردہ ہے۔ لغت اطلاقیہ سی شارپ میں لکھا گیا ہے، ونڈوز سیون 64 بٹ اور شارپ ڈویلپ ورژن 4۔ اس پوسٹ کے ساتھ اس کی ایگزی فائل اور سورس پراجیکٹ شامل ہیں۔ اگر ایگزی نہ چلے تو خود سے کمپائل کر لیں۔ لغت کا فونٹ جمیل نوری نستعلیق ہے، چناچہ بہتر ہے کہ فونٹ بھی انسٹال ہو۔
اردو انگریزی لغت
اردو انگریزی لغت شارپ ڈویلپ پراجیکٹ
اپڈیٹ:
شاکر القادری صاحب کے تعاون سے القلم اردو انگریزی لغت کا ڈیٹا مجھے مل گیا تھا۔ اسے بھی اس میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈاٹ نیٹ کا ورژن بھی 2 کرنے کی کوشش کی تھی، کامیاب ہوئی یا نہیں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ڈاٹ نیٹ 2 پر نہ چلے تو تین انسٹال کر کے چلا لیں۔ اور ایک وضاحت لغت میں *اعراب* والے الفاظ *اعراب کے بغیر* ٹائپ کریں ورنہ تلاش نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ تلاش کی تکنیک کی خامیاں تھیں، چناچہ اعراب کو اڑانا پڑتا ہے، تاہم شو کرواتے ہوئے اعراب نظر آتے ہیں۔ اسکرین شاٹ ملاحظہ ہو۔
اردو سے انگریزی لغت القلم کے ساتھ
علاوہ ازیں اب "حرف بحرف" تلاش کو طےشدہ (ڈیفالٹ) حیثیت دے دی ہے۔ یہاں دونوں لغات نظر آ رہی ہیں۔ جبکہ ملتے جلتے الفاظ کے آپشن میں صرف اردو ویب لغت ہی استعمال ہوتی ہے۔ اردو ویب لغت کے اندراجات قریباً دو لاکھ الفاظ کے ہیں، جبکہ القلم کے اندراجات تیس ہزار کے قریب ہیں۔
اردو انگریزی لغت

اردو انگریزی لغت سورس کوڈ

اپڈیٹ:

اردو انگریزی لغت ڈراپ باکس لنک

اردو انگریزی لغت سورس ڈراپ باکس لنک

بدھ، 18 جنوری، 2012

خود شناسی

خود شناسی کا دعوی کرنا اور خود شناس ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اور اس کا اندازہ مجھے پچھلے کچھ عرصے میں ہونے والے پے در پے انکشافات کے بعد ہوا۔ ایک عرصے سے میرا خیال تھا کہ میں خاصا مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہوں۔ اسی طرح کے کئی ایک بت جو میں نے اپنی ذات کے بارے میں اپنے ذہن میں تراش رکھے تھے۔ ان بتوں کو حالیہ دنوں میں منہ کے بل گرنا پڑا۔ اور مجھے احساس ہوا کہ میں جو دنیا کو جاننے کا دعوے دار بنتا ہوں، چھبیس سال تک اپنے آپ کو ہی اچھی طرح سے نہیں جانتا تھا۔

خود شناسی شاید اس سے بھی ارفع چیز ہے۔ لیکن میں شاید اتنا تو کہہ ہی سکتا ہوں کہ اپنے آپ سے تھوڑی سی واقفیت ہو گئی ہے۔ بڑی بیسک لیول کی واقفیت۔ جیسے دو چار ملاقاتوں میں کسی اجنبی سے آپ ہلکی سی شناسائی پیدا کر لیں۔ تو پچھلے دنوں میں مجھ پر آنے والے کچھ زلزلوں نے بڑے بڑے بت گرا دئیے ، اور اب مطلع صاف ہونے پر جو حقیقت حال سامنے آئی تو اس 'میں' سے اب میری تھوڑی تھوڑی سی شناسائی ہوئی ہے۔ پہلی شناسائی تو یہ ہوئی ہے کہ میں جو اپنے آپ کو جاننے کا  زعم رکھتا تھا،  اب مجھے یہ پتا چل گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو بالکل بھی نہیں جانتا تھا، شاید اب بھی نہیں جانتا۔ بس کہیں کہیں کچھ دھندلے دھندلے سے نقوش ہیں، کچھ ادھوری ملاقاتوں کے نتائج جن سے اپنے بارے میں نتائج اخذ کیے ہیں۔ کہ شاید یہ بندہ ، جو میرے اندر بیٹھا ہوا ہے، ایسا ہے۔

مجھے کچھ معاملات میں شدید ناکامی کے بعد احساس ہوا کہ میں رسک ٹیکر نہیں ہوں۔ میں اپنے آپ کو محتاط تو سمجھتا تھا، لیکن کئی معاملات میں بزدلی کی حد تک کی احتیاط نے مجھے ٹھوکروں کا منہ دکھایا تو احساس ہوا کہ میں محتاط سے بڑھ کر کچھ چیز ہوں۔ اپنی ذات کا ذرا  مزید سخت ہو کر تجزیہ کیا تو احساس ہوا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں میرا رویہ ہمیشہ پتلی گلی سے نکل لینے والا ہوتا ہے۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میرے سامنے رکاوٹ آ رہی ہے، میں نے نسبتاً آسان راستہ اختیار کر لیا۔ چاہے وہ تعلیمی کیرئیر ہو، یا زندگی کا کوئی اور معاملہ۔ اسی عادت سے منسلک ایک اور عادت معاملات کو لامتناہی طور پر پس پشت ڈالنے کی عادت بھی ہے۔ جس نے مجھے بہت سے برے دن دکھائے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں میرے احباب اور میری اپنی ذات نے قدم قدم پر مجھے احساس دلایا کہ میں شدید طور پر ریت میں سر دے کر سب اچھا ہے کی گردان کرنے والا ایک شتر مرغ ہوں۔ میری یہ فرض کرلینے کی عادت کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اس کی وجہ سے جو منہ کی کھانا پڑی وہ الگ کہانی ہے۔ تاہم اس شترمرغ والی عادت نے بہت سے معاملات میں میرے لیے راہ ہموار کرنے کی بجائے دشوار اور بعض اوقات بند ہی کر دی۔ انتظار کرنے کی پالیسی شاید ایک حد تک تو ٹھیک ہو، لیکن ہمیشہ انتظار کرتے رہنا آپ کو کہیں بھی نہیں لے کر جاتا، بلکہ آپ وہیں رہ جاتے ہیں اور دنیا آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور میں نے یہ تجربہ کر لیا ہے کہ انتظار لامتناہی ، انتظار لا حاصل ہے۔ کم از کم مجھے یہی تجربہ حاصل ہوا ہے کہ جہاں میں نے سوچا کہ انتظار بہتر رہے گا، وہیں انتظار آخر میں تباہ کن ثابت ہوا، دنیا آگے بڑھ گئی اور میں وہیں کھڑا دیکھتا رہ گیا۔ کبھی کبھی مجھے اسی لیے اپنا آپ جی ٹی روڈ کے کسی ٹول پلازے پر بیٹھے کلرک کی ذات لگتا ہے۔ جو گاڑیوں کو جاتے دیکھتا رہتا ہے، دیکھتا رہتا ہے، منزل مقصود پر روانہ کرتا رہتا  ہے اور خود ساری عمر اسی ٹول پلازے پر گزار دیتا ہے۔ یہی کچھ مجھے بھاری قیمت چکاتے ہوئے اپنے آپ کے بارے میں محسوس ہوا۔ کہ میں بھی فطری طور پر ایک جگہ بیٹھ کر دھوپ سینکنے کا عادی ایک کچھوا ہوں جو  خطرے کو دیکھ کر گردن اندر کر لیتا ہے، ورنہ مزے سے دھوپ سینکتا رہتا ہے اور آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہے۔ا ور جب وقت گزر جاتا ہے تو بھاگنے کی کوشش میں اپنا گِٹا نکلوا بیٹھتا ہے۔

ایک کرم فرما نے مجھے بار بار احساس دلایا کہ میں انتہائی قنوطی طبیعت کا انسان ہوں اور یہی کچھ میری تحاریر سے بھی چھلکتا ہے۔ میں پہلے پہل یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا ، اپنے آپ کو بڑا شاکر قسم کا انسان سمجھتا تھا لیکن اب یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ میں اکثر منفی رخ دیکھنے کی سعی زیادہ کرتا ہوں۔ بلکہ اب تو اتنی عادت ہو چکی ہے کہ سعی بھی نہیں کرنی پڑتی۔ کسی بھی چیز کے نقائص فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ اور پھر ان پر طنز، طنز بھی ایک مسئلہ ہے۔ فیصل آبادی پھکڑ پن نے مجھے کہیں کا  نہیں چھوڑا۔ لوگ کہتے ہیں فیصل آبادی بڑے ہنس مکھ اور جگت باز ہوتے ہیں۔ میں نے لوگوں کے کہے میں آ کر خود کو اس سانچے میں فٹ کر لیا۔ ایک عرصے تک میں اپنے آپ پر ہنستا رہا، دنیا پر ہنستا رہا، لوگوں کو ہنساتا رہا۔ اتنا ہنسایا کہ لوگ ا ب مجھ سے مزاح، کاٹ دار جملے یا کسی تیکھی بات کی توقع کرتے ہیں۔ میں نے اپنی ذات کے بھرم کو اپنی ہی ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اور جب مجھے اس شخص نےیہ کہا، کہ جس سے میں نے شاید زندگی میں سب سے زیادہ سنجیدگی برتی تھی، کہ شاکرتمہارا رویہ بہت غیر سنجیدہ ہے، نان سیرئیس ہے، تو تم سے کیا توقع لگائی جا سکتی ہے؟ مجھے اپنے پھکڑ پنے سے سب سے پہلی نفرت وہاں محسوس ہوئی، شدید قسم کی نفرت۔ کہ لوگ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں، مجھے سرکس کا جوکر سمجھتے ہیں اور میں بزعم خود ایک سنجیدہ، متین قسم کا بندہ بنا پھرتا ہوں۔ اگر میں اتنا ہی سنجیدہ تھا تو  میں نے شو کیوں نہ کروایا۔ اس فیصل آباد پھکڑ پن نے میرے منہ پر ایسا طمانچہ لگایا کہ شاید میں ساری عمر اس کے شاک سے باہر نہ نکل سکوں۔ لیکن یہ پھکڑ پن پھر بھی نہیں جائے گا۔ میں تو اپنی مرگ پر بھی دو چار کاٹ دار جملے پھینکتا ہوا کوچ کروں گا۔ یہ فیصل آبادی پن میرے اندر ، میرے خون کے اندر، میرےا لفاظ میں، میری تحاریر میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ اب اس کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے ہیروئن کے بغیر نشئی کی زندگی۔ چاہے اس کی وجہ سے روح زندگی میری زندگی سے جدا ہو گئی، لیکن یہ پھکڑ پن اب سانس کے ساتھ ہی جائے گا۔

کہتے ہیں کہ خود پر برسر عام طنز کے تیر چلانا بہت جرات کا کام ہے۔ اور ایک عرصے تک مجھے یہ زعم رہا کہ میں چار لوگوں میں بیٹھ کر بڑے موثر انداز میں اپنی ہی مٹی پلید کر سکتا ہوں، اپنے آپ کو سامنے بٹھا کر دوسروں کو اس پر ہنسا سکتا ہوں، اور خود بھی ہنس سکتا ہوں کہ دیکھو شاکر کتنا پاغل بندا ہے۔ لیکن یہ احساس مجھے کل تک بھی نہیں ہوا تھا کہ میں اپنی ذات پر دوسروں کی تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ جو اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ڈی گریڈ کر سکتا ہو، اسے دوسروں کی اپنی ذات کے لیے یہی اپروچ تو برداشت کرنی چاہیے۔ لیکن میرے اندر برداشت کے مادے کی بہت کمی ہے۔ انتظار میں اس وقت کرتا ہوں جب کوئی راستہ نہ مل رہا ہو، اصل لفظ استعمال کروں تو کوئی آسان راستہ نہ مل رہا ہوں۔ ورنہ میں برداشت نہیں کرتا، تنقید بھی نہیں، ناکامی بھی نہیں، ہر بار میری تان شکوے پر آکر ٹوٹتی ہےکہ مولا میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ حالانکہ اس میں اکثر و بیشتر قصور میرا ہوتا ہے۔ میں دوسروں کی باتیں ، تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ بہت جلد غصے کا شکار ہو جاتا ہوں۔ اور غصے کا تو ایک ہی کام ہے کہ رہے سہے اوسان بھی سلب کر لے، تو ایسا اکثر ہوا کہ میں نے غصے میں، اپنی فطری عجلت پسندی میں نتائج اخذ کر لیے، اور اکثر منفی نتائج اخذ کر لیے اور پھر انھی کو بنیاد بنا کر کمیونیکیشن کی جس نے بعد میں یا تو میری شخصیت اگلے بندے کی نظر میں بےوقعت سی کر دی، یا پھر میرے لیے مسائل سے پیدا کر دئیے۔ اثر اوقات لوگوں خاص طور پر اجنبیوں سے پہلی ملاقات کے دوران میرا انداز  انتہائی بے رخا قسم کا رہا، جس کی وجہ سے وہ بے چارے یہ سمجھے کہ بندہ کھسکا ہوا ہے، یا خبطی ہے۔

بات چل نکلی ہے تو ایک اور بات یاد آ گئی۔ کہ کام کرنے کا میرا انداز ہی نرالا ہے۔ ایک نہیں چار کام شروع کرتا ہوں، چومکھی لڑتا ہوں اور دو دن میں ہار مان کر بیٹھ جاتا ہوں۔ پھر چاروں کام ویسے ہی پڑے رہیں، اور وہی پس پشت ڈالنے کی عادت سامنے آ جاتی ہے۔ چھڈ یار قسم کا رویہ، تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی اور کام کی طرف لگ جاتا ہوں، اور وہ زیرتعمیر منصوبے وہیں بیٹھے میری جان کو روتے رہتے ہیں۔

ابھی تو اپنے آپ سے ملاقات کے ابتدائی دن ہیں۔ ابھی اور کئی انکشافات متوقع ہیں۔ لیکن اپنی ذات کے جتنے چہرے میں نے تراش رکھے تھے، وہ سارے ماسک نکلے اور ان کے نیچے سے سامنے آنے والے چہروں نے مجھے اتنا ہانٹ کیا کہ میں پھر سے کاغذ قلم اور بلاگ کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا۔ یہ شاید خودشناسی ہی ہے، یا خودشناسی کی طرف پہلا قدم، لیکن مجھے اس کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔  زندگی کے اہم ترین معاملات میں ناکامی کے بل پر آپ کو ادراک ذات ملے تو سمجھ نہیں آتی کہ دکھ ہو یا افسوس ہو۔ دکھ ناکامی پر، اور افسوس اپنے آ پ پر کہ کیا سوچتے رہے اور میاں تم کیا نکلے۔ ایسے معاملات پر کہ جہاں سیکنڈ چانس کا بھی کوئی امکان نہ ہو، جہاں ناکامی ساری عمر کا پچھتاوا بن کر عجائب گھر برائے ناکامیاں کے ایک شو کیس میں سج جائے۔ پتا نہیں ایسے ادراک ذات پر خوشی منائیں کہ سر پکڑ کر روئیں۔ سمجھ سی نہیں آتی۔

اتوار، 8 جنوری، 2012

خالی پن

احساس تو نیا نہیں۔ بچپن سے ہی کئی بار یہ کیفیت طاری ہوئی۔ سمجھ نہیں آیا کرتی تھی کہ کیا کیا جائے۔ عجیب بےبسی کی سی کیفیت، سب کچھ مگر اپنا آپ خالی سا، اندر سے جیسے کچھ کم ہے۔ چھبیس سال کے بعد آج آکر اس احساس کو نام ملا۔ اسے خالی پن کہتے ہیں، بھری پری دنیا میں اپنا آپ عجیب سا لگتا ہے۔ یہ نہیں کہ اردگرد کوئی مسئلہ ہے۔ سب کچھ خیریت سے اللہ کی رحمت، ہر کوئی خوش لیکن اندر سے کوئی خوش نہیں۔ نہیں بلکہ خوشی نہ ہونا اور چیز ہے، وہ تو غم ہوتا ہے، یہ تو عجیب سی چیز ہے، جیسے سینے میں کوئی چھوٹا موٹا خلا ہو، اصلی والے خلا کا کمپیکٹ ایڈیشن۔ اور پھر خلا ہی نہیں، غور سے دیکھنے پر ایک ہستی اس میں تشریف فرما نظر آتی ہے، اپنی ہی ذات شریف۔ عجیب سا احساس ہے یہ، جیسے موبائل فون میں سگنل آنے بند ہو جائیں تو وہ بےمقصد ہو جائے، جیسے ٹیلی وژن کے رنگ کوئی چرا لے اور پیچھے بلیک اینڈ وائٹ تصویر رہ جائے، جیسے کوئی زندگی کا مقصد چھین لے اور جینے والا چلتا پھرتا روبوٹ بن جائے۔ ہاں یہ آخری والی بات ٹھیک لگتی ہے۔ لیکن روبوٹ بھی نہیں اب اتنی بھی لُٹ نہیں پڑی ہوئی۔ کام ہوتا ہے، ہر کام ہو رہا ہے، آنیاں جانیاں ہیں۔ ابھی کل لاہور کا چکر لگا اتنی ساری مصروفیت رہی آئیلٹس کا ٹیسٹ دیا۔ بارہ چودہ گھنٹے کا سخت مصروف دن گزارا۔ آج کا دن بھی دوکان پر ابو کے ساتھ کام کرواتے، لیپ ٹاپ کا میز بنواتے، ادھر اُدھر، اُدھر ادھر جاتے گزرا۔ لیکن عجیب کیفیت ہے، جیسے قسط وار ڈراما لگا ہو اور ہر پندرہ منٹ بعد مشہوری آ جاتی ہو۔ ایسے ہی کام کرتے رہو تو مشہوری کا سماں ہوتا ہے۔ کام ختم کرو تو "گذشتہ سے پیوستہ" پھر وہی قسط شروع ہو جاتی ہے وقفے کے بعد۔ "ہاں تو ہم کہاں تھے؟ُ ہاں تو ہم خلا میں تھے" اور وجود پھر اسی خلا میں بےمقصد تیرنے لگتا ہے، سینے میں وہ بےبس کردینے والی میٹھی سی کسک شروع ہو جاتی ہے اور دماغ پھر وہیں اٹک جاتا ہے۔ اچھا تو یہ مسئلہ تھا اور پھرا سی مسئلے پر بےمقصد سوچ شروع ہو جاتی ہے۔ عجیب سی کیفیت ہے، بھئی دماغ اچھا خاصا پڑھا لکھا قسم کا دماغ ہے اور اچھی خاصی معلومات کا حامل ہے۔ اردگرد کو جاننے کا دعویدار، مطالعہ کے ذریعے زندگی کا تجزیہ کرنے والا، یہ جاننے والا کہ زندگی کسی ایک شخص سے جڑنے کا نام تو نہیں، یہ تو معاشرے میں رہنے سہنے کا نام ہے جس میں روزانہ درجنوں اور پوری زندگی میں سینکڑوں ہزاروں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن عجیب دماغ ہے اس کے دماغ میں یہ بات ہی نہیں آتی، خلا میں سے باہر آنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جیسے کوئی مجذوب اپنے آپ سے بھی بےگانہ ہو جائے وہی حال دماغ کا ہوتا ہے کہ عجیب لایعنی سوچیں گھیراؤ کر لیتی ہیں۔ سوچیں بھی عجیب کہ اوپر لایعنیت کی تہہ ہے، اور نیچے وہی احساس اور اس احساس کے مرکز میں خالی پن، اور بےکیفی۔ نماز پڑھو تو پڑھتے پڑھتے رکعت بھول جائے، سجدہ سہو کرو، نماز پوری کرو لیکن فلم وہیں کی وہی چل رہی ہے۔ الحمد اللہ رب العلمین "اچھا تو ہم کہاں تھے ہاں خالی پن"، ساتھ نماز چل رہی ہے ساتھ قسط وار ڈرامہ بھی وقفے وقفے سے چل رہا ہے۔ کام میں پناہ ڈھونڈو تو پناہ نہیں ملتی پھر سوچ آتی کہ سب کو بتاؤ میں کتنا مصروف ہوں۔ سب کو باآواز بلند اعلان کر کے سنایا جاتا ہے" یار میں نے کام کرنا ہے" اگلا بندہ چڑ کر کہتا ہے جا بھائی جا کے کام کر پھر۔ اور جب کام کرنے بیٹھو تو "ہاں تو ہم کہاں تھے ہاں خالی پن۔۔۔" فلم پھر سے شروع، وہی کٹی پتنگ جیسی کیفیت کہ دل کبھی ادھر ڈولے کبھی ادھر ڈولے، ارے بھائی کہیں اٹک بھی جا اب۔ لیکن نہیں اٹکتا، اٹکن بھی کوئی نہیں بس خلا کا ایک فرنچائز  کھلا ہوا ہے جس میں وجود ہلکورے لیتا پھر رہا ہے۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ یہ ہلکورے بےوزنی کی کیفیت میں انجوائےمنٹ کے ساتھ لیے جا رہے ہیں۔  ہلکورے لیتے ہوئے بھی وزن کا احساس ہے، تکلیف کا بھی احساس ہے اور ربط کا جس کا ٹوٹنا مقدر تھا، ڈور جہاں سے ٹوٹی وہاں سے چاہے خون کا ایک قطرہ بھی نہ نکلا ہو لیکن پتنگ کو احساس ہے کہ ربط کٹ گیا اب کوئی مقصد نہیں۔ عجیب سی کیفیت ہے، اور عجیب احساس ہے۔ حالانکہ پتا بھی ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا، آج نہیں تو کل، پر امید تو تھی۔ آس اور امید کیا کیا کروا سکتی ہے اس کا آج آ کر احساس ہوا، کہ آس بھی نہ رہے تو کیا ہوتا ہے۔ جب یہ پتھر پر لکیر ہو جائے کہ اب کچھ نہیں ہو گا، تب جو احساس ہوتا ہے وہ آج ہو رہا ہے۔ اور اسی احساس میں کہیں امید بھی چھپی ہوئی ہے، خوش فہمی کہتے ہیں اس کو، کہ شاید۔۔۔لیکن یہ خوش فہمی جو پہلے ہر بار دلاسہ دے جاتی تھی وہ بھی آج کام نہیں آتی۔ اور خلا کا فرنچائز پھر اردگرد پھیلنے لگتا ہے، اور وجود اس میں کٹی پتنگ کبھی ادھر کبھی ادھر، اور ربط کٹ جانے کا احساس، ہلکی سی تکلیف جیسی سوئی چبھنے پر ہوتی ہے، شاید گلا کٹنے پر بھی اتنی ہی ہوتی ہو، اس کے بعد سکون آ جاتا ہو۔ پر ادھر تو سکون بھی نہیں ہے، عجیب بےبسی کا تڑکا لگا ہوا سکون ہے، بےکسی کے ریپر میں لپٹا ہوا سکون کہ سکون سے دور بھاگنے کو دل کرتا ہے۔ لیکن دور بھاگ کر کہاں جایا جائے ہر جا تو وہی ننھا منا سا سیلف میڈ خلا موجود ہے اور پھر وہی بےمقصدیت، کٹی پتنگ اور ۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں یہاں تک کون پڑھے، اور پڑھ بھی لے تو لکھنے والے کو لعن طعن ہی کرے، کہ کیا بےمقصد لکھا ہے۔ پر لکھنے والا کیا کرے، عجیب سی بےمقصدیت چھائی ہے، کہ جہاں وجود کے موجود ہونے کے مقصد پر ایک "کیوں" کا سانپ بیٹھ جائے وہاں لکھنے والا کیا کرے۔ پڑھنے والا شاید یہ بھی کہے کہ مقصد تو عبادت ہے۔ پر لکھنے والا کیا کرے، اسے تو مقصد کی بھی سمجھ نہیں، بس بےمقصدیت کا پتا ہے جس کا انکشاف تازہ اس پر آج ہی ہوا ہے۔ مقصد کیا اور کاہے کا مقصد جب سیٹلائٹ لنک اٹھانے کی صلاحیت ہی نہ ہو تو پھر لوکل سگنل پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ اور لوکل سگنل بھی جواب دے جائے، آؤٹ آف رینج ہو جائے تو پھر مقصد کہاں رہ جاتا ہے۔

اتوار، 1 جنوری، 2012

سالنامہ

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی "ان سوشل نیس"، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری "کھچ"۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔