لوٹا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
لوٹا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 8 اپریل، 2009

پینڈو

لو جی بات کوئی اتنی خاص بھی نہیں۔ لیکن عام بھی نہیں۔ ہمارے لیے۔ آپ کے لیے نہیں۔ تو بات اتنی سی ہے۔ لیکن ٹھہریں اتنی سی بات سے پہلے ذرا آپ اس کا پس منظر سن لیں۔ لو جی پس منظر بھی اتنا کوئی خاص نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم آج کل شام کو جاب شاب کررہے ہیں پڑھائی کے ساتھ۔ کہاں؟ ارے وہیں یار اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہی۔ کلرکی شلرکی کررہے ہیں۔ کہ روزی روٹی بھی چلتی رہے اور پڑھائی بھی۔ تو ہم عرض کررہے تھے کہہ ہمارے ساتھ کوئی بات ہوئی تھی۔ نہیں ہوئی نہیں بس ہوتے ہوتے رہ گئی۔ گل اتنی سی تھی یار کہ ہم نے طہارت کرنی تھی۔ وُضو کرنے کے لیے۔ تو چونکہ اب ہم بھی فیکلٹی ممبر ہیں۔ ٹیچر یار۔۔ تو ہم نے سوچا ذرا ٹیچروں والا واش روم استعمال کرکے دیکھیں۔ وہی یار جسے پنجابی میں لیٹرین کہتے ہیں۔ خیر ہم نے طہارت کے لیے واش روم کا رُخ کیا۔ ۔۔چلیں ذرا امریکی تڑکا لگا لیتے ہیں۔۔۔ ریسٹ روم کا رخ کیا۔ دروازہ بند کیا۔ پیچھے مڑے تو یہ کیا؟ دھک سے رہ گئے۔ عجیب کرسی سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم ٹھہرے پکے پینڈو۔۔ لوٹا نہ ہو تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی فرض رہ گیا ہے۔ ہم نے پہلے اپنی پچیس سالہ ۔۔ کم و بیش۔۔ زندگی کو کھنگالا۔۔ اور اس ولائتی سیاپے کو استعمال کرنے کا کوئی تجربہ نا پاکر، اور کوئی رسک لینے پر تیار نہ ہوتے ہوئے ،نیز اپنی ماہرانہ نظر سے اس عجیب الخلقت شے کا معائنہ کرنے کے بعد استنجا کرنے کی کوئی راہ نا پاکر۔ ہم نے۔۔۔۔۔۔۔ باہر کی راہ لی۔ اور سٹوڈنٹس والے(بے) واش روم میں جاکر سکون دائمی حاصل کیا۔
آہ۔۔۔ لوٹا دیکھ کر کیسا روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہے نا؟ آپ کا کیا خیال ہے۔ لوٹا جہاں بھی ہو اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ واش روم میں ہو یا اسمبلی میں۔ ایک کمینہ سا خیال یہی آتا ہے۔ ہے تو وہی نا استنجے کی۔۔۔۔ چلیں جانے دیں آگے آپ سمجھ دار ہیں۔
آپ کو کبھی پینڈو ہونے کا احساس ہوا؟
ہوا تو ہمارے ساتھ شئیر کیجیے نا۔