بلاگر پر بلاگ منتقل ہوگیا ہے تو ورڈپریس والی موجیں نہیں ہونگی اب۔ نہ ہی مسکراہٹیں، نہ ہی سسٹم سپورٹ کے بغیر اردو لکھنے کی سہولت اور نہ ہی گریواٹر۔۔خیر گزارہ کیجیے اور ہمیں چھما کیجیے۔ اور دعا بھی کیجیے کہ جلد ہی اپنی ویب ہوسٹنگ لے سکیں۔ ننھا سا بلاگ ہے اس کے لیے ننھی سی ویب ہوسٹنگ ہم نے لے لینی ہے۔ تب تک بلاگر پر آوازِ دوست کے مزے لیجیے۔ اس سڑی بُسی پوسٹ کے علاوہ بھی میرے پاس کچھ آئیڈیاز تھے جن پر کام کرنا ہے۔ کچھ پنگے لینے ہیں، آج کل کچھ وڈے لوگ بلاگنگ اور اردو بلاگرز کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی شان میں کچھ مطلعے اور مقطعے کہنے ہیں۔ انشاءاللہ ایک آدھ دن میں آپ قصیدہ گوئی دیکھ لیں گے۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے۔
جمعرات، 26 مارچ، 2009
ہجرت
بلاگر پر بلاگ منتقل ہوگیا ہے تو ورڈپریس والی موجیں نہیں ہونگی اب۔ نہ ہی مسکراہٹیں، نہ ہی سسٹم سپورٹ کے بغیر اردو لکھنے کی سہولت اور نہ ہی گریواٹر۔۔خیر گزارہ کیجیے اور ہمیں چھما کیجیے۔ اور دعا بھی کیجیے کہ جلد ہی اپنی ویب ہوسٹنگ لے سکیں۔ ننھا سا بلاگ ہے اس کے لیے ننھی سی ویب ہوسٹنگ ہم نے لے لینی ہے۔ تب تک بلاگر پر آوازِ دوست کے مزے لیجیے۔ اس سڑی بُسی پوسٹ کے علاوہ بھی میرے پاس کچھ آئیڈیاز تھے جن پر کام کرنا ہے۔ کچھ پنگے لینے ہیں، آج کل کچھ وڈے لوگ بلاگنگ اور اردو بلاگرز کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی شان میں کچھ مطلعے اور مقطعے کہنے ہیں۔ انشاءاللہ ایک آدھ دن میں آپ قصیدہ گوئی دیکھ لیں گے۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے۔
جمعہ، 12 دسمبر، 2008
اور اپگریڈ ہوگئی
شکریہ عمار۔
بدھ، 19 مارچ، 2008
اوپن سورس کی حکمت عملی
آزاد مصدر پراجیکٹس زیادہ دیر نہ چل سکنے کے سلسلے میں خاصے بدنام ہیں۔ اکثر پراجیکٹ جو بہت مشہور ہوئے ان کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اچھی سپانسر شپ حاصل ہے اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ایک اور چیز جو میں نے ان مقبول پراجیکٹس کے بارے میں نوٹ کی وہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سہولیات ہیں۔ غضب خدا کا آپ کو ہر چیز کا حل مل جاتا ہے۔ اب فائر فاکس کو ہی لے لیں اضافتوں کے نام پر آپ فائر فاکس کو جانے کیا کیا روپ دے سکتے ہیں۔ ایف ٹی پی ٹرانسفر کی سہولت، اس میں بیٹھ کر بلاگ لکھیں، آنلائن بک مارکس محفوظ کریں اور جانے کیا کیا۔۔
یہ اضافتوں والا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ آپ پروگرامر کو ایک حد تک اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ سافٹویر میں قابل تبدیلی اضافے کردے۔ اس حکمت عملی کی کامیاب مثالیں فائر فاکس اور ورڈپریس ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اب کئی دوسرے پراجیکٹس بھی اس طرف آرہے ہیں۔ اوپن آفس مشہور زمانہ آزاد مصدر آفس پروگرام ہے۔ یہ پچھلے کچھ عرصہ سے اضافتوں کے سلسلے میں آگے آرہا ہے ۔اگرچہ یہ ابھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن اوپن آفس 3 جو کہ ستمبر اکتوبر کے قریب مارکیٹ میں آرہا ہے میں اضافتوں کے لیے اچھا فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اس سے اوپن آفس میں بہت زیادہ سہولیات میسر آجائیں گی۔ اس وقت اوپن آفس میں بہت سی چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں جو اس کے کمرشل متبادل مائیکروسافٹ آفس کے پانچ سال پرانے ورژنز میں بھی ہیں۔ عام سی مثال ایک عدد کلپ بورڈ ٹول ہے جو آپ کو فعال ہونے پر 24 کاپی کرنے کی اجازت دیتا ہے جنھیں آپ ترتیب وار ایسے ہی ورڈ فائل میں پیسٹ کرسکتے ہیں۔
مونو اور مونو ڈویلپ آج کل میرےعشق میں شامل ہیں اور میں سوتے میں بھی ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ایک الگ داستان ہے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ مونو ڈویلپ بھی پلگ انز کی طرز پر خصوصیات اور فیچرز میں اضافے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت اگرچہ اس کے پلگ ان نوویل کے ہی تیار کردہ ہیں لیکن مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ایویں کھیڈ تماشے کے لیے اس کے پلگ ان تشکیل دے دیا کریں گے۔
اتوار، 16 مارچ، 2008
اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام
ہفتہ، 19 جنوری، 2008
الحمد اللہ کہ ورڈپریس کا اردو ورژن اب دستیاب ہے
اتوار، 9 دسمبر، 2007
مونو(Mono): مونو کے ساتھ میں؟ چہ معنی دارد
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی "کامی" کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے "گوڑھے" پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی "گھنڈیاں" ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔
بدھ، 10 اکتوبر، 2007
دوسال
میرے بلاگ کی پہلی پوسٹ پر 9 اکتوبر 2005 کی تاریخ درج ہے. بلاگ سپاٹ پر میں نے اکتوبر 2005 کے زلزلے کے ایک دن بعد پہلی پوسٹ لکھی تھی۔ اس کے بعد کبھی لکھا کبھی نہ لکھا اور پھر اسے ورڈپریس پر منتقل کرلیا۔ دوسال۔۔۔
پتا نہیں ان دوسالوں میں مَیں نے کچھ اچھا کام بھی کیا ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے اتنا احساس ہے کہ اردو بلاگنگ نے مجھے شعور بخشا۔ میں آج اگر بلاگنگ کرتا ہوں، یا ویب کے بارے میں میرے پاس کچھ علم ہے تو یہ میرے ان احباب کی کرم فرمائی ہے جو اردو محفل پر اور اردو بلاگنگ کی دنیا میں موجود ہیں۔
ان سب کا شکریہ جنھوں نے مجھے بلاگ شروع کرنے میں مدد دی، قدیر رانا، نبیل نقوی، زکریا اجمل اور محفل کے سارے دوست۔ ان سب کا شکریہ جن کے تبصروں اور حوصلہ افزائی نے مجھے مہمیز کیا کہ میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
منگل، 2 اکتوبر، 2007
نیوز پورٹل
یہ تھیم اس وقت مورخہ 7 جنوری 2007 کو ہمارے بلاگ کے زیر استعمال ہے۔ اس تھیم میں ایک آدھ ناقابل غور غلطیوں کے علاوہ اور کوئی غلطی موجود نہیں۔مکمل اردو ترجمہ شدہ ہے اور ویب پیڈ اس بار ہم نے تھیم کے فولڈر میں ہی رکھ دیا ہے اب صارف کو صرف اسے حاصل کرکے ورڈپریس کی /wp-contetn/themes ڈائرکٹری میں چڑھانے کی زحمت کرنا پڑے گی اور کچھ نہیں۔ اس تھیم میں قدیر احمد رانا کی مہربانی سے ایک اور چھوٹی سی خوبی بھی شامل کی گئی ہے کہ اس کا فونٹ اپنی پسند کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔ یہ کھڑاگ اس لیے پھیلانا پڑا کہ ہم جو پاک نستعلیق کے بڑے دعویدار بنے پھرتے تھے لینکس پر اس کے درست نظر نہ آنے کا سن کر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اور مجبوًا اردو نسخ ایشیا ٹائپ کو بنیادی فونٹ بنانا پڑا دوبارہ سے۔ البتہ اس جاوا سکرپٹ میں پاک نستعلیق کا انتخاب بھی شامل کردیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ پاک نستعلیق کا لینکس پر پیشکش کا مسئلہ جلد حل ہو اور ہم اپنے بلاگ اور آئندہ تھیموں کا بنیادی فونٹ اسے بنا سکیں۔ اگر آپ کو اچھا لگے تو دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔ وسلام اتارنے کے لیئے یہاں کلک کریں متبادل ربط
فلوئڈ سلوشن
بہت دنوں بعد ایک تھیم اردو کیا ہے۔ اور پہلی بار اپنے بلاگ پر لگانے کی بجائے اردو کے لیے اردو کیا ہے۔ چناچہ قبول کیجیے۔ سادہ سا تھیم ورڈپریس 2.3 کے ساتھ چلنے کے لیے بالکل تیار ہے۔ نفیس رقعہ فونٹ کو سرخیوں پر استعمال کرنے سے اس کی خوبصورتی اور بھی بڑھ گئ ہے۔
اتارنے کے لیے یہ ربط ملاحظہ کریں۔
پیر، 24 ستمبر، 2007
ورڈپریس 2.3 کے ٹیگ پلگ انز
ورڈپریس ابھی آیا نہیں لیکن ڈھنڈورا گلی گلی پٹ رہا ہے۔ ورڈپریس والوں نے سادہ ٹیگ متعارف کروائے ہیں یار لوگوں نے اس بنیاد پر تین تین منزلہ پلازے کھڑے کرلیے ہیں۔ دو پلگ انز ملے ہیں دونوں ہی مجھے پسند آئے ہیں اگرچہ دونوں ہی میرے ہاں کام نہیں کررہے۔
آپ پریشان نہ ہوں آپ کے ہاں لازمی کریں گے۔ میرے پوسٹ پیج پر تو ٹنی ایم سی ای بھی عرصہ ہوا نہیں چلتا۔ چونکہ مجھے ورڈپریس سے پنگے بازی کی عادت ہے اس لیے سارا پوسٹ پیج تب سے ہی خراب ہے۔ اور سرور بھی ایسا ناراض ہوا ہے کہ کئی اپگریڈوں کے بعد بھی حالات ویسے ہیں ہیں۔ مجھے نبیل کا اردو کردہ ایف سی کے ایڈیٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔
خیر آپ اس کو چھوڑیں اور یہ پلگ انز دیکھیں۔ کیا شاندار چیز ہے۔ اور اجمل صاحب کے لیے خصوصًا: ورڈپریس ڈاٹ کوم پر ٹیگ کی سپورٹ شامل کردی گئ ہے۔ آپ اپنے پوسٹ پیج پر تحریر خانے کے نیچے ایک اور خانہ دیکھ سکتے ہیں جو کہ ٹیگز دینے کا ہے۔
یہ پلگ ان آپ کے پوسٹ پیج کو خاصا لمبا کردیتا ہے۔ ٹیگ کا سلگ شامل کرنے کی سہولت مجھے کام کی لگی ہے اس طرح ٹیگ اردو ہونگے اور ان کا ربط انگریزی بنے گا۔ یعنی کیٹگری سلگ کی طرح اردو انگریزی دونوں۔
کلک سے ٹیگ شامل کرنے کے لیے اچھی چیز ہے۔ بالکل ویجٹ پلگ ان کی طرح اپنے ٹیگز کو ماؤس سے گھسیٹیے اور موج کیجیے۔
وسلام
تھیم میں ورڈپریس ٹیگ سپورٹ
آج ورڈپریس والوں کو اپنا ورژن 2٫3 جاری کرنا تھا لیکن جانے کیوں نئے لوگوں کی آمد کا راگ الاپا جارہا ہے لیکن نیا ورژن نہیں جاری کیا گیا۔ خیر ہم نے تو صبح ہی اشاعتی امیدوار نمبر ایک یعنی آر سی ون پر اپنا بلاگ اپگریڈ کرلیا تھا اور تھیم میں دو پی ایچ پی فنکشن ڈال لیے تھے۔ آپ بھی یہ کرلیں۔ اگر ڈویلپمنٹ ورژن میں پڑ کر بلاگ داؤ پر لگانے کا موڈ نہیں تو ایک آدھ دن تک مستحکم اشاعت کا انتظار کریں تب تک اپنے تھیم میں یہ دو فنکشن شامل کرلیں۔ ایک فنکشن آپ کو انڈیکس اور سنگل پوسٹ پی ایچ پی میں شامل کرنا پڑے گا تاکہ پوسٹ کے میٹا میں ٹیگز بھی شامل ہوجائیں اور دوسرا ایک طرف سائیڈ بار یا نیچے فوٹر کے قریب شامل کرنا ہوگا تاکہ ٹیگز کا جھگھٹا (Tag Cloud) بھی نظر آسکے۔
تو اپنے تھیم کی مین انڈیکس ٹیمپلیٹ فائل کو کھولیں۔ اس میں یہ والا کوڈ تلاش کریں۔
َ <?php while( have_posts() ) : the_post(); ?> <div class="post" id="post-<?php the_ID(); ?>"> <h2><a href="<?php the_permalink() ?>" rel="bookmark" title="Permanent Link to <?php the_title(); ?>"> <?php the_title(); ?></a></h2> <?php the_category( ', ' ); ?> <?php the_author(); ?> <?php the_time('F jS, Y'); ?> <?php edit_post_link('Edit',' ',''); ?> <br/> <?php comments_popup_link('No Comments', '1 Comment', '% Comments'); ?> <?php the_content(); ?> </div> <?php endwhile; ?>
ورڈپریس والے اسے لوپ کہتے ہیں۔ اس میں پوسٹ کے اوپر نظر آنے والی معلومات جیسے تاریخ وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ آپ اس میں یہ فنکش بھی شامل کردیں تو انڈیکس کے تحت نظر آنے والی تمام تحاریر میں ٹیگ بھی نظر آئیں گے۔
<?php the_tags(‘before’, ’separator’, ‘after’); ?>
یہ ٹیگ شامل کرنے کا ایک سٹائل ہے۔ مزید سٹائل یہ ہوسکتے ہیں۔
ہر ٹیگ نئی لائن میں:
<?php the_tags('Tags:', ',', '<br />'); ?>
تیر کے ساتھ الگ کئے گئے ٹیگز
<?php the_tags('Social tagging: ',' > '); ?>وغیرہ وغیرہ۔ پسندیہدہ کوڈ کو آپ کونٹنیٹ فنکشن کے اوپر یا نیچے جہاں چاہیں شامل کردیں۔ ذاتی طور پر میں نے انھیں نیچے ہی شامل کیا ہے چونکہ یہ انگریزی میں ہونگے زیادہ تر۔ اگلی بات ہے ٹیگ جمگھٹے کی اس کو آپ سائیڈ بار میں شامل کردیں۔ سادہ سا کوڈ یہ ہوسکتا ہے۔
<li>
<h2>Popular Tags</h2>
<ul>
<?php wp_tag_cloud('smallest=8&largest=22'); ?>
</ul>
</li>
<?php endif; ?>
ٹیگ آپ کے پوسٹ پیج پر تحریر خانے کے نیچے ایک اور خانے میں دئیے جاسکتے ہیں۔ اس تحریر کے لیے میں نے ورڈپریس کوڈکس کے ان موضوعات ایک اور دو اور اس بلاگ سے استفادہ کیا ہے۔
ہفتہ، 22 ستمبر، 2007
ورڈپریس 2.3 سوموار کو آرہا ہے
ورڈپریس 2.3 سوموار کو جاری کیا جارہا ہے۔ اس ورژن میں ٹیگز کی سپورٹ بھی شامل ہوگی۔ نئے ورژن میں شامل ٹیگز کے فیچر کو پرانے تھیمز میں شامل کرنے کے لیے ایک عدد ٹیوٹوریل انشاءاللہ اسی دن بلاگ پر پیش کردیا جائے گا۔
بدھ، 19 ستمبر، 2007
جگاڑ
کراچی والے دوست تکے لگانے کو شاید جگاڑ لگانا بولتے ہیں۔ صاحبو آج ہم نے بھی ایک جگاڑ لگائی ہے۔ اس جگاڑ کو آپ ہمارے بلاگ کے سائیڈ بار میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
یہ گوگل تلاش ہے جس میں ہم نے اوپن پیڈ گھسیڑ دیا ہے۔ اب گوگل بیبے بچوں کی طرح اردو یونیکوڈ میں تلاش کرے گا۔
یہ سب ہوا کیسے؟ کافی پرانا قصہ ہے۔ایک بار جب قدیر نے گوگل کسٹم سرچ پیج بنایا تھا جس میں صرف اردو کے صفحات تلاشے جاسکتے تھے میں نے اسے یہ آئیڈیا دیا تھا کہ گوگل کی اصلی تے وڈی والی تلاش میں ویب پیڈ (اب اوپن پیڈ) شامل کیا جانا چاہیے۔ قدیر نے تو یہ کام نہیں کیا لیکن میں آج ایویں یہ سب کر بیٹھا۔
کرنا کچھ تھا کر کچھ لیا۔ اپنا گوگل ایڈ سینس کھولا تو مبلغ چار ڈالر کی آمدن دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ سوچا بلاگ کو مزید "گوگلا" لوں۔ چناچہ اوپر اور دائیں اشتہارات موجود ہونے کے باوجود گوگل تلاش کا ایک اور آپشن ڈال دیا کہ مرغا کہیں تو پھنسے گا
مرغا کیا پھنستا ہم ایک بار پھر اردو کے چکر میں پھنس گئے۔ اپنے بلاگ کے تلاش خانے کو نیچے کیا اور اس کو اوپر کرکے اس میں ویب پیڈ کا کوڈ ڈالا۔ تھوڑی سی لیپا پوتی کی دو تین لیبل اردو کیے اور اب گوگل بیبا پاکستانی بچہ ہے۔ اگرچہ اس کی زبان انگریزی ہے لیکن کام یہ اردو والوں کے لیے کرے گا۔ غرض تھی کہ صارف اس سے تلاشے گا اور کہیں نہ کہیں کسی سپانسرڈ لنک پر جاپھنسے گا لیکن اب اردو ہوگیا تو کہاں کے لنک۔۔اردو میں تو سپانسرڈ لنک ہی نہیں۔ چلو خیر ہمیں یہ خوشی ہے کہ گوگل بغیر اردو سپورٹ کے اردو تلاش کردے گا۔
آپ بھی اپنے بلاگ میں اردو گوگل کو ڈال لیں۔ طریقہ بڑا سادہ سا ہے۔ گوگل ایڈسینس میں جائیں اپنے لیے ایڈسینس برائے تلاش منتخب کریں۔ پسند کے مطابق کوڈ سیٹ کرنے کے بعد اپنے بلاگ کے مطلوبہ حصے میں ڈال دیں۔
اس کے بعد اس کوڈ کا معائنہ کریں تو آپ کو یہ حصہ نظر آئے گا۔
<input type="text" name="q" size="31" maxlength="255" value="" id="sbi"></input>
بس اس کے نیچے اوپن پیڈ کو کال کرنے وال کوڈ ڈال دیں۔ <script language="javascript" type="text/javascript">makeUrduEditor("q", 16)</script>
یہاں یہ فرض کیا گیا ہے کہ اوپن پیڈ آپ کے تھیم میں پہلے سے شامل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو اس کو پہلے اپنے تھیم کی ڈائرکٹری میں کاپی کریں اس کے بعد ہیڈر ڈاٹ پی ایچ پی فائل میں جاکر
</header>
کے ٹیگ سے فورًا اوپر یہ کوڈ ڈال دیں۔
<script type="text/javascript" src="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/urdu-open-pad.js"></script>
<script type="text/javascript">
initUrduEditor();
</script>
ایک اور اللہ لوک سا کوڈ یہ ہے جو ویب پیڈ شدہ خانے میں زبان کو بدل سکتا ہے۔ یہی کام آپ کنٹرول سپیس سے بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارے لینکس پر چونکہ سسٹم میں زبان بدلنے کا شارٹ کٹ بھی یہی ہے اس لیے زبان اردو پر اردو ہوجاتی ہے بجائے کہ انگریزی ہو۔ چناچہ ہمارے لیے تو یہ مجبوری ہے اگرچہ کافی بھدا سا لگ رہا ہے یہ۔ لیکن آپ اپنی مرضی کے مطابق اس کوڈ کو بھی ڈال سکتے ہیں۔ ورنہ کنٹرول جمع سپیس سے زبان بدلنے کا شارٹ کٹ ایک جملے میں بتا دیں۔
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick='setEnglish("q")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick='setUrdu("q")'>
یہی کام پی ایچ پی بی بی فورمز اور اردو ویب سائٹس کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایڈسینس کے ساتھ ساتھ گوگل پر اردو تلاش کو بھی فروغ ملے گا۔ شاید گوگل کو اس طرح اردو والوں پر کچھ رحم آجائے اور زیادہ استفسارات ملنے کی صورت میں اردو صفحات کی قدر بھی بڑھ جائے۔
وسلام
جمعرات، 6 ستمبر، 2007
ورڈپریس 2.3 بی ٹا اور اشتہارات
نبیل بھائی نے کل جب یہ واضح کیا کہ محفل پر اشہتار ایسے ہی چل رہے ہیں تو ہم نے بھی اپنے بلاگ پر ایڈسینس کا کوڈ گھسیڑ ڈالا۔ اشتہار تو آرہے ہیں لیکن کچھ نامعقول قسم کے اشتہارات بھی ہیں۔ ان کا سادہ حل یہ ہے کہ کی ورڈز ٹھیک ہوں۔ اب اردو والے کہاں سے کی ورڈز لائیں؟
لیکن ورڈپریس 2.3 ایک نئی سہولت لے کر آرہا ہے۔ اسی میں ٹیگ لگانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اور میرا خیال ہے یہ انگریزی ٹیگ اگر پوسٹ کے ساتھ نمودار ہوں تو بغیر کسی غیر قانونیت اور دشواری کے یہ کی ورڈز کا کام کریں گے۔ اس طرح اشتہارات کی ٹارگٹنگ اچھی ہوسکے گی۔
جمعرات، 30 اگست، 2007
تھیم رے تھیم تیری کونسی کِل سیدھی
ہمارے بلاگ پر آپ مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس تحریر کے پیچھے ہمارا کیا حال ہوا ہم ہی جانتے ہیں۔۔۔۔تھوڑا سا آپ بھی جان لیں۔ ایک ماہ قبل ہم نے اس تھیم کو اردوانا شروع کیا تھا۔ اس دوران ہم نے لینکس کو دوبارہ نصب کیا تو سارا ڈویلپمنٹ ماحول پھر کرگیا۔ تھیم جو اس دوران اردو قریبًا ہوچکا تھا کی بیک اپ بنائی تھی۔ دو تین دن بعد وہ ساری پارٹیشن اڑ گئی۔ یعنی موج ماحول۔
ہم نے پھر کام الف سے شروع کیا۔ آج کل آج کل کرتے کرتے آج کا دن آگیا ہے۔ کبھی ترجمہ آگے پیچھے ہوجاتا تھا، کبھی گرافکس ٹھیک نہیں بیٹھتے تھے اور کبھی سی ایس ایس ناچ نچانا شروع کردیتی تھی۔ اللہ اللہ کرکے آج ہم نے اس کو مکمل کرہی لیا۔ پورے تین گھنٹے کی محنت کے بعد ہمارا سر بے سُرا ہورہا ہے تب جاکر یہ تھیم لگا ہے۔ ابھی بھی اس میں کئی جگہ نقائص ہیں۔ پوسٹ کے نیچے نظر آنے والے گرافکس عبارت کے پیچھے گھسے ہوئے ہیں۔ ویب پیڈ کی جگہ اوپن پیڈ شامل کرنے کی کوشش کی تو اس نے چلنے سے انکار کردیا چناچہ پھر سے ویب پیڈ چل رہا ہے۔
اب صبح آکر اردو ٹیک پر کسی کے پلے باندھتا ہوں تاکہ اس میں اوپن پیڈ شامل کرکے مجھے بھی دے اور وہاں بھی رکھ دے۔
آہ۔۔۔ہماری تھیم بیتیاں۔۔
پیر، 26 مارچ، 2007
میرے ویب دوست
اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔
بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔
ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔
قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔
بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔
بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو ---کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔
بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔
اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔
کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔
ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔
شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب
;)
محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔
چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔
اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔
اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح "موج" بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔
ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔
اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
وسلام
ہفتہ، 3 فروری، 2007
How to Upgrade Wordpress?ورڈپریس کو جدید کس طرح کریں؟
کئی دن کی کھجل خواری اور ڈر ڈر کے آخر دو دن پہلے ہم نے ورڈپریس کو جدید کر ہی لیا۔ پہلے ہمارے پاس ورڈ پریس 2.0.4 تھا لیکن جب ورڈپریس 2.1 آیا تو اس میں موجود خوبیاں دیکھ کر ہمارا دل بے اختیار للچا اٹھا چناچہ ہم نے متعلقہ سائٹ سے ورڈپریس کو جدید کرنے کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اللہ کا نام لے کر پرسوں صبح بیٹھ کر یہ کام کرہی ڈالا۔ الحمد اللہ ہمارا ورڈپریس بالکل وَل چل رہا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے نبیل بھائی کا ویب پیڈ اب اس کے پوسٹ پیج پر کام نہیں کرتا چونکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ہم نے کافی زور آزمائی کی لیکن بات نہ بنی۔ خیر امید ہے یہ کام بھی ہوجائے گا بقول نبیبل بھائی کے وہ ویب پیڈ کی شمولیت مزید آسان بنانے کے لیے اس کو جدید کررہے ہیں اللہ کرے یہ آسانی سے شامل ہوجائے ورڈپریس میں۔
لو جی اتنی ساری بک بک سننے کے بعد آپ لازمًا بور ہوگئے ہونگے سو آپ کی بوریت کو دور کیے دیتے ہیں اور لیے چلتے ہیں آپ کو بطرف ورڈ پریس کی جدت۔
ویسے تو ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے پیشہ ورانہ سایٹ پر ہدایات موجود ہیں۔لیکن ہم آپ کو دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہیں جو کہ اخذ وہیں سے کیا گیا ہے لیکن ذرا دیسی سٹائل میں اس کا بیان آپ کو سمجھنے میں آسانی مہیا کردے گا۔
سب سے پہلا کام جو آپ نے ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی ویب سائٹ سے ورڈپریس اتار لینا ہے۔
اگلا کام یہ کریں کہ اپنی ڈیٹابیس کی پشتادہ نقل یعنی بیک اپ کرلیں تاکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوجائے تو مسئلہ نہ ہو۔ ورڈپریس والے تو ساری کی ساری فائلوں کو نقل کرلینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا بہرحال یہ آپ کے وسائل پر منحصر ہے ویسے احتیاط اچھی بات ہوتی ہے۔ اور ہاں ورڈپریس کی ڈیٹابیس کی نقل لینا کوئی مشکل کام نہیں پلگ انز میں جاکر ڈیٹابیس بیک اپ کے دخیلے کو فعال کریں پھر مینج میں جاکر اس سے پشتادہ نقل تیار کرلیں۔ یہ دخیلہ ورڈپریس میں طےشدہ طور پر موجود ہوتا ہے۔
لوجی ورڈپریس اتنی دیر میں اتر گیا ہوگا اور آپ نے یقینًا ڈیٹابیس اور متعلقہ فائلوں کی پشتادہ نقل تیار کرلی ہوگی۔ اگلا کام اب یہ ہے کہ آپ نے ورڈپریس کنفگ پی ایچ پی فائل جو کہ روٹ میں ہی موجود ہوتی ہے کو ہوبہو نقل کرکے نئے ورڈپریس فولڈر میں ڈال دینا ہے اور اس میں پہلے سے موجود فائل جو کہ wp-sample-config.php کے نام سے ہوگی کو اڑا دینا ہے اس فائل میں آپ کی ڈیٹابیس کی معلومات محفوظ ہوتی ہیں سو اس کو نہیں چھیڑتا۔
اس کے بعد آپ نے اپنے تمام کے تمام فعال دخیلے یعنی پلگ انز ورڈپریس ناظمی پینل کے پلگ ان نامی ربط میں جاکر باری باری غیر فعال کردیتے ہیں۔
اگلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ فائل زیلا یا اپنے کسی بھی پسندیدہ ایف ٹی پی مینجر سے ورڈپریس 2.1 کو اٹھا کر اپنے سرور پر چڑھا دینا ہے لیکن ٹھہریں آپ نے /wp-content نامی فولڈر کو سرور پر کچھ نہیں کہنا۔
اس فولڈر میں آپ کے پسندیدہ ورڈپریس حلیے یعنی تھیم اور دخیلے ہوتے ہیں اس کو ایسے ہی رہنے دینے کے لیے ہم نے یہ کیا تھا کہ ورڈپریس 2.1 جو سرور پر چڑھانا تھا کے فولڈر میں سے وپ کونٹینٹ والا فولڈر ہی اڑا دیا اور باقی سب کو منتخب تمام کرکے سرور پر چڑھا دیا۔ اس دوران آپ کا ایف ٹی پی ناظم پوچھے گا کہ کیا پرانی فائلوں کو اوور رائٹ کردوں آپ نے ہاں کردینی ہے بلکہ ہر بار کی زحمت س بچنے کےلیے آپ نیچے دئیے ہوئے ہمیشہ ایسا کریں کے بکس کو نشان زد کردیجیے۔ کوئی دو میگا بائٹ کے قریب ورڈپریس کی چڑھائی آپ کے کنکشن کی رفتار پر منحصر ہوگی۔ اس کو آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لینا چاہیے ویسے۔
لیجیے جب یہ کام ہوگیا تو اگلا کام آپ نے اپگریڈ پی ایچ پی فائل کو چلانے کا کرنا ہے۔ اس کی مثال یہ ہوسکتی ہے۔
( http://example.com/wordpress/wp-admin/upgrade.php )
یہاں مثال کی جگہ اپنا بلاگ پتہ لکھ دیں اور اسی کو چلالیں۔ فائل چلے گی اور آپ کو بلاگ جدید کرنے کو کہا جائے گا آپ اللہ کا نام لے کر اس بٹن پر کلک کردیں۔ اگلے مرحلے پر سب کچھ ہوجائے گا اور آپ کو انجوائے اٹ کا ایک ربط نظر آئے گا اس پر کلک کریں اورآپ کا بلاگ جدید ہوگیا۔ ایڈمن پینل میں جائیں آپ کو واضح تبدیلیاں نظر آئیں گی۔۔ اگر کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو صفحے کو ایک بار تازہ کرلیں امید ہے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اب اپنے دخیلے دوبارہ سے فعال کرلیں اور آپ تیار ہیں تازہ ترین ورڈپریس استعمال کرنے کے لیے۔
اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا آخر ورڈپریس 2.1 میں نیا ہے کیا۔ اس میں ویسے تو کافی ساری خوبیاں ہیں جن کا ذکر پیشہ ورانہ ویب سائٹ پر موجود ہے لیکن میرے خیال سے جو بہترین خوبیاں اس میں اس بار شامل کی گئی ہیں ان میں نمبر ایک تو پوسٹ لکھتے ہوئے اس کا خودکار انداز میں ایک مخصوص وقت کے بعد سرور پر محفوظ ہوتے جانا ہے یہ ایک عرصے سے مطالبہ تھا ورڈپریس کے صارفین کی طرف سے جس کو اس اشاعت میں پورا کیا گیا ہے۔اس طرح لکھنے والا بار بار محفوظ کرنے کے عذاب سے بچا رہتا ہے ۔
دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے وہ ہے ورڈپریس سے ورڈپریس بلاگ میں ڈیٹا برآمد کرنا۔ پہلے یہ سہولت غیر پیشہ ورانہ دخیلے کی صورت میں دستیاب تھی جس کو میں نے ٹرائی کیا بھی لیکن وہ کچھ اتنی خاص نہ تھی اور اس پر مزید کام کی ضرورت تھی۔ اب ورڈپریس میں درآمد اور برآمد دونوں کے انتخابات موجود ہیں۔
مینج میں جائیں اور ایکسپورٹ پر کلک کردیں۔ آپ کے سامنے ایک صفحہ کھل جائے گا جس میں کسی ایکس ایم ایل فائل بنانے کی بات کی گئی ہوگی۔ آپ کو صرف ایک بٹن پر کلک کرنا ہے اور آپ کے تمام کے تمام ورڈپریس ڈیٹا کی نقل آپ کے کمپیوٹر میں ایک ایکس ایم ایل یا آرایس ایس فائل کی شکل میں اتر جائے گی یہ فائل صرف ورڈپریس ہی استعمال کرسکے گا۔
اس کے بعد جب بھی آپ تحاریر دوبارہ سے واپس لانا چاہیں چاہے یہ کہیں کسی بھی ورڈپریس بلاگ پر ہو بس اسی ایکسپورٹ کے ساتھ والے ربط امپورٹ پر کلک کرکے تمام تحاریر، تبصرے، زمرے اور سب کچھ واپس حاصل کرلیں جو آپ کے پچھلے بلاگ میں موجود تھا۔ ہم یہ تجربہ ذاتی طور پر فرما چکے ہیں ملاحظہ کیجیے۔
مزے دار چیز ہے نا؟ وہ احباب جن کو اپنے ورڈپریس ڈیٹا کی فکر تھی اب بے فکر رہیں اب کچھ نہیں ہوگا اب آپ کسی بھی فری ہوسٹ پر بے دھڑک ورڈپریس بلاگ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک حد شاید لگ جائے وہ ہے فائل چڑھانے کی حد۔ میرے سرور پر یہ حد ایک میگا بائٹ ہے شاید جس کی وجہ سے ورڈپریس کے درآمد کنندہ نے مجھے ایک میگا بائٹ زیادہ سے زیادہ فائل سائز کا اشارہ دیا تھا۔ خیر جب ایک میگا بائٹ ہوگا ہم کہیں اور اڑ چکے ہونگے۔ فی الحال تو چلنے دیں۔
تو یہ تھا جناب ورڈپریس کے بارے میں ہمارے تازہ ترین تجربات اور جاتے جاتے ایک خبر بھی سن لیجیے ورڈپریس والوں نے بھی اوبنٹو کی طرح مخصوص دورانیے کے بعد اپنے نئے نسخے جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کا اگلا اہم نسخہ شاید اپریل کے آخر میں منظر عام پر آجائے گا۔
ورڈپریس جدید ہوتا جارہا ہے اور ہماری بدقسمتی ہم ہر بار اردو محفل پر صرف اس کا ترجمہ ہی جدید کرتے ہیں ایک اردو ورڈپریس پیکج بنانے کا خواب تھا جانے کب تعبیر بن سکے۔ :(
ہماری تو یہی دعا ہے کہ اللہ آزا د مصدر کو یونہی ترقی دے چاہے وہ لینکس کی صورت میں ہو یا ورڈپریس کی شکل میں۔
جئے آزاد مصدر جئیں آزاد مصدر کے چاہنے والے۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا
وسلام
پیر، 1 جنوری، 2007
عید قرباں اور نیا سال
خمار گندم کا تو بڑا شہرہ ہے لیکن خمار گوشت بھی الگ ہی چیز ہے۔ خصوصًا جب گوشت وہ بھی چھوٹا گوشت سال بھر بعد کھانے کو نصیب ہو۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے بکرے کا گوشت پچھلی عید پر کھایا تھا یعنی ٹھیک ایک سال دس دن کم اور آج پھر کھایا ہے۔ ہماری حکومت کی مہربانیاں شاید یہ بھی آئندہ سالوں میں نصیب نہ ہو۔ اب بھی یہ حال ہے کہ سب سے زیادہ مانگ گائے اور اور اس کے بچھڑوں کی تھی۔ بکروں کی قیمت پوچھ کر ہی لو صبر کرلیتے تھے۔ ہمارا بکرا جو ہم نے آج سے کوئی 2 ماہ پہلے 4400 روپے صرف میں لیا تھا (ایک قریبی گاؤں سے اور اپنے عزیزوں کے کسی جاننے والے سے ) اس کی قبیل کا بکرا عید سے ہفتہ بھر پہلے یا عید کے قریب یہی کوئی 9000 روپے میں مل رہا تھا۔
یہ سب بتانے کے بعد ہم دوسروں کی طرح رونا رونے لگتے ہیں کہ موجودہ حکومت ٹھیک نہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے لیکن فائدہ کاہے کا؟؟ ہم سب ہی بے غیرت ہوگئے ہیں۔ سادہ سے الفاظ میں اور آسان ترین لفظ یہی ملا ہے مجھے۔ پورا ایک ماہ میں دس روپے کا چارا روزانہ اپنے بکرے کو کھلاتا رہا ہوں اور عید کے قریب آکر یہ حال ہوگیا تھا کہ بیس روپے کے چارے سے بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا تھا وجہ یہ تھی کہ چارہ مہنگا کردیا گیا تھا۔۔موج ہے نا۔۔سب کی موج ہے اور ہر کوئی جب اس کا داؤ چل جائے کھال اتارنے سے کبھی دریغ نہیںکرتا۔
کھال سے یاد آیا ان تین دنوں میںکھال مانگنے والوں کا بھی بڑا رش ہوگا۔ جگہ جگہ کیمپ لگے ہوئے ہیں فلاں جماعت کو، فلاں مدرسے کو، فلاں ہسپتال کو، فلاں فاؤنڈیشن کو۔۔ہمارے محلے کے ایک قاری صاحب جو مدرسہ چلاتے ہیں عید قرباں والے دن اپنے شاگردوں کو چھٹی نہیں دیتے۔۔کھالیں جو جمع کرنی ہوتی ہیں۔سارے محلے سے ، شاگردوں و طلباء کے اپنے گھروں سے ان کے اقارب کے گھروں سے کھالیں اکٹھی کرنے کا کام یہ طلباء کرتے ہیں بار بار گھروں کے چکر لگاتے ہیں جانور ذبح ہوا یا نہیں مالکوں سے زیادہ انھیں قربانی کی فکر ہوتی ہے۔
کھالیں تو قصائی بھی اتارتے ہیں۔ جانوروں کی بھی اور انسانوں کی بھی۔ ایک عام گائے کرنے کے 3000 عام سی بات ہے ساتھ گوشت، کبھی موڈ ہو تو کھال بھی مانگ لیں اور کھانا پینا الگ سے۔ جس نے کبھی چھری کا منہ نہیں دیکھا ہوتا عید والے دن قصائی بن جاتا ہے، گوشت تو جو اس نے کرنا ہے سو کرنا ہے نخرے دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے۔ مالکوں کا بس نہیں چلتا کہ راہ چلتے کو روک کر اس سے قربانی کروا لیں حالانکہ ہاتھ سے سارا کام کرنا سنت ہے۔لیکن یہاں یہ کام جانتا کون ہے اگر کوئی جانے بھی ہے تو کرنے میں شرم محسوس کرے ہے۔
آج کل ایک اور بڑا ٹرینڈ چلا ہوا ہے اور وہ ہے گائے کی اجتمائی قربانی میں حصہ۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ گائے کی قربانی کا انتظام ہے، گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں کے بینر کہیں کہیں نظر آجایا کرتے تھے۔ اب کچھ جدت آگئی ہے مثلًا اب لکھا جانے لگا ہے کہ صحت مند گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں۔
اور شاید اگلے سالوں میں یہ بھی لکھا جانے لگے کہ اصلی گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں۔ یہ بھی اچھا کاروبار بنتا جارہا ہے۔ ہمارے ایک سٹوڈنٹ کے چاچو ایک مذہبی جماعت کے مقامی راہنما ہیں۔ ہر سال یہی کوئی پچیس کے قریب گائیں قربان کرتے ہیں۔ ایک ماہ پہلے پیسے جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور آخری ہفتے میں 10 بارہ کرکے گائیں حاصل کرلی جاتی ہیں۔ کچھ پیسے بچ جاتے ہونگے چلیں نہ بھی بچیں لیکن کھالیں وہ بھی اکٹھی پچیس ان کی طرف سے “مرکز“ کو جاتی ہیں تو ان کی واہ واہ کیوں نہ ہوگی۔ بلکہ ہمیں تو اب سمجھ آئی ہے کہ مدارس، مساجد اور ایسے لوگوں کے ہاں یہ جو اجتماعی قربانی کا انتظام ہوتا ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کھالیں اپنی ہوجائیں۔۔
ہمارا شدت سے دل آرہا ہے کہ اگلے سال عید قرباں پر یا تو قصائی کا کام شروع کردیں تکبیر پھیرنا ہمیں آتی ہے۔ کیا جو دو بار چھری پھیرنا پڑے گی یا جانور کو زیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑے گی دو تین گھنٹوں کا ہزار بارہ سو بن جائے گا۔اور ساتھ میں گوشت مانگنا کونسا مشکل ہے۔ چلیں یہ نہیں نو
آئندہ سال کوئی جگہ کرائے پر لے کر اجتماعی گائے کی قربانی کا اعلان کرتے ہیں جس سے امید ہے ہمیں خاصی بچت ہوجائے گی۔۔ :roll: :roll:
عید تو آئی ہے ساتھ نیا سال بھی آگیا ہے۔ یہ سال کا بھی پتا نہیں چلتا ہے۔ 2006 ایویں گزر گیا پتا بھی نہیں چلا۔ کیا کیا سوچا تھا اس سال میںاور کیا کیا ہوگیا۔ 2006 کے شروع میں بہت پرامید تھا میں۔ بی کام پاس کرنے کی اور اچھے نمبروں سے پاس کرنے کی بہت امید تھی بلکہ ٹینشن ہی نہ تھی۔ اس کام کےلیے محنت بھی کی لیکن پھر جانے کیا ہوا۔ ایک میری توقع سے کم نمبر اور پھر آگے داخلہ نہ ہونا۔ اس سب نے پہلے تو مجھے ہلا ڈالا کئی دن میں اسی شاک میں رہا پھر اپنی فطرت سے مجبور ہوکر میں نے پر جھاڑے اور اس رنگ کو اتار دیا۔ کچھ دوستوں کو نوکری کا کہا اور سب کے مشورے سن کر آخر ٹیوشن پڑھانے کی طرف آگیا۔ ان دنوں میں جو دن نہیںمہینوں پر مشتمل ہیں اگرچہ میرے پاس بہت سارا وقت تھا لیکن پھر بھی میں ان پراجیکٹس کی طرف متوجہ نہ ہوسکا۔جن کی بہت ساری امیدیں خود سے لگا رکھی تھی۔
اردو ورڈپریس، اردو لینکس اور اس طرح کے کئی پراجیکٹس سب سے بڑھ کر ممتاز مفتی کی کتاب لبیک جسے مکمل کرنا تھا سب ادھورے پڑے ہیں۔ اگر اس سال میں اپنا حساب لگاؤں تو صرف اتنا حاصل ہوا کہ پی فور کمپیوٹر حاصل کیا، گریجویٹ کہلانے کا حقدار ہوگیا، کیبل نیٹ لگوائی، اپنا بلاگ اپنے ہاتھوں سے فری ہوسٹ پر بنایا(حکیم خالد کا شکریہ جنھوں نے میری بہت ساری مدد بھی کی اس سلسلے میں) پھر اپنے بلاگ پر الٹا سیدھا بہت سارا لکھا۔ پہلی بار میری ذاتی آمدن اتنی ہوگئی کہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو مانگنےپر دے سکوں، خصوصًا عید پر جب انھوں نے عید پر مجھ سے عیدی مانگی مجھے بہت اچھا لگا۔
نیا سال چڑھا آیا اور بہت کچھ ادھورا پڑا ہے۔ میںکوئی پلان بنا بھی لوں تو بھی اس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں میرے موڈ کا بہت دخل ہے جانے کیوں ابھی میرا موڈ نہیں بنتا کچھ بھی کرنے کا جو کرتا ہوں وہ بھی اس لیے کہ مجبوری ہے نہ کروں تو مسئلہ ہوگا۔ بس دعا ہے اور دعا کی درخواست بھی ہے کہ اپنے ذمے جو اتنے سارے کام لیے تھے انھیں پورا کرسکوں، اپنے گھر والوں کے لیے کچھ کرسکوں کیونکہ سب سے بڑا میں ہی ہوں اور اپنا ڈھیر سارا پڑھ بھی لوں۔
آپ سب کو نیا سال اور عید قرباں مبارک ہو۔مستحقین کا خیال رکھیے گا اور سڑکوں کا بھی جن پر ہم نے چلنا ہے ان پر غلاظت ڈالنے سے گریز کیجیے گا۔
وسلام
اتوار، 29 اکتوبر، 2006
ورڈپریس کی تنصیب(چوتھا سبق)
جیسا کہ تیسرے سبق میں بتایا گیا تھا کہ اس سبق میں کسی تھیم کو اردوانے کے سلسلے میں اس کے قابل تبدیل حصوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ورڈپریس کے تھیم عمومًا ایک جیسے کوڈ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چند ایک میں ہی ایک آدھ ڈورے کا فرق پڑجاتا ہے۔ بنیادی چیز جو ایک تھیم کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے اس کی سٹائل شیٹ یعنی سی ایس ایس CSS۔ سٹائل شیٹ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تھیم کس طرح نظر آئے گا۔ میرا علم سٹائل شیٹ کے سلسلے میں اگرچہ بہت محدود ہے لیکن کوشش ہے جو کچھ مجھے سمجھ آئی ہے آپ کو بھی سمجھا سکوں۔ انگریزی اور اردو تھیم میں بنیادی فرق سمت کا ہے۔ انگریزی بائیں سے دائیں ہے اور اردو دائیں سے بائیں، دوسرا بڑا فرق فونٹ کے استعمال کا ہے۔ انگریزی کے اچھے فونٹ جیسے تاہوما وغیرہ یونیکوڈ کو سپورٹ تو کرتے ہیں لیکن ان کا نتیجہ انتہائی بھدا ہوتا ہے۔ اس لیے اردو کے فونٹ استعمال کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ بھی کوئی اتنی زیادہ تعداد میں نہیں لیکن گزارہ کرتے ہیں۔ عمومی پسند کیے جانے والے فونٹس میں پہلے نمبر پر اردو نسخ ایشیا ٹائپ ہے جو قریبا ویب استعمال کرنے والے ہر اردو صارف کے پی سی پر نصب ہوتا ہے۔ دوسرے نمبر پر نفیس ویب نسخ ہے۔ یہ فونٹ اکثر اوقات ایشیا ٹائپ سے بہتر نتیجہ دیتا ہے۔ بہرحال یہ آپ کی پسند ہوتی ہے کہ بنیادی فونٹ کونسا ہو لیکن متن کے لیے ہم آپ کو انھی دو میں سے کوئی ایک منتخب کرنے کا مشورہ دیں گے چونکہ ایک تو یہ چھوٹے سائز میں خوبصورت لگتے ہیں دوسرے جلدی پیش ہوجاتے ہیں یعنی انکی نمائش کے لیے زیادہ عمل کاری نہیں کرنا پڑتی کمپیوٹر کو۔ (اگر تجربہ کرنا چاہیں تو نفیس نستعلیق میں ایک ویب پیج بنا کر دیکھ لیں دو پیروں کا صفحہ بھی کھلنے میں کم از کم ایک منٹ لے گا یہ طاقتور پی سی کی بات ہورہی ہے پی ون اور ٹو تو چاہے جام ہوجائیں اس افتاد سے گھبرا کر)۔ اچھا تو اب ہم دیکھتے ہیں ایک تھیم کے لیے کیا بنیادی تبدیلیاں درکار ہونگی۔ سب سے پہلے ہم نے ہیڈر فائل میں تھوڑی سے تبدیلی کرنا ہے۔ ہر تھیم میں ایک ہیڈر فائل، ایک فوٹر فائل، ایک سائڈ بار، ایک سرچ رزلٹ فائل، ایک آرچیو فائل ، اور پوسٹ فائل قسم کی چیز ہونگی ۔ ساتھ میں ایک فولڈر ہوگا جس میں اس تھیم میں استعمال کی گئی تصاویر ہونگی۔ چلتے چلتے ایک ٹپ سے دے دیں ہم نے ذاتی طور پر زیادہ گرافکس والے تھیم کو اردوانے کی کوشش کی تھی شروع شروع میں لیکن ناکامی ہوئی چونکہ سمت بدل دی جاتی ہے اس لیے گرافکس کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔ تحریر کا پس منظر سائیڈ بار کے پیچھے نظر آرہا ہوتا ہے اور سائیڈ بار کا تحریر کے پیچھے۔ اس لیے ہم نے توبہ کی اور اس وقت ہمارے بلاگ پر سادہ سا تھیم جس میں گرافکس کے نام پر آر ایس آیس کے آئکن ہیں اردوا لیا۔ خیر ماہرین بے شک ان کو للکار سکتے ہیں۔ بس یہ یاد رکھیے گا اگر کوئی گرافکس سے بھرپور تھیم پسند آگیا ہے تو پس منظر کی تصاویر کو بھی اس حساب سے دائیں بائیں کرنا ہوگا۔ چلیں اب شروع کریں۔ ہیڈر ڈاٹ پی ایچ پی فائل کھول لیں۔ میرے تھیم ونٹر ڈے کی فائل کی ابتدائی سطور کچھ ایسے ہیں۔
<!DOCTYPE html PUBLIC "-//W3C//DTD XHTML 1.0 Strict//EN" "http://www.w3.org/TR/xhtml1/DTD/xhtml1-strict.dtd">
<html xmlns="http://www.w3.org/1999/xhtml" lang="ur" xml:lang="ur" dir="rtl">
<head profile="http://gmpg.org/xfn/11" link rel="shortcut icon" href="favicon.ico"
link rel="icon" href="animated_favicon1.gif" type="image/gif">
اس میں دوسری سطر دیکھیں سب سے پہلی تبدیلی یہاں کرنی ہے۔ اگر آپ اپنے تھیم کی اسی فائل کا موازنہ اس فائل سے کریں تو آپ کو اس میں دو چیزیں اضافی نظر آئیں گی ایک تو lag= ur دوسرے dir =rtl یہ دونوں کمانڈیں خود سے دینے کی بجائے آپ یہ لائن نقل کریں اور اپنے تھیم کی فائل کی متعلقہ سطر اس سے بدل دیں۔ براؤزر اب اس صفحے کو اردو کے طور پر شناخت کرے گا اور سمت دائیں سے بائیں کردے گا۔ دوسری چیز ہے اس فائل میں ویب پیڈ کی شمولیت کے لیے کوڈ شامل کرنا۔ چونکہ ہمارا مقصد صارف کی آسانی ہے اس لیے ویب پیڈ کی شمولیت ضروری ہے اور اس کی سکرپٹ کو کال ہیڈر میں ہی کیا جائے گا بعد میں مختلف جگہوں پر اسے لاگو کردیا جائے گا۔ چناچہ اپنی اسی فائل میں باڈی کا ٹیگ ڈھونڈیں۔ یہ اکیلا ہوگا اس کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ صرف یہی لکھا ہوگا۔
<body>اس کے فورًا بعد آپ نے یہ سطور شامل کردینی ہیں۔ یہاں میں اپنی متعلقہ فائل سے سارا کوڈ کاپی کررہا ہوں آپ باڈی کو چھوڑ کر باقی اٹھا لیجیے۔
<body>
<script language="javascript1.2" type="text/javascript" src="http://www.yourdomain.com/UrduEditor.js"></script>
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
initUrduEditor("http://www.yourdomain.com/");
</script>یہاں yourdomain کو اپنے ڈومین سے بدل دیں۔ اور اردوپیڈ آپ نے اپنی روٹ ڈائرکڑی میں کاپی کر ہی لیا ہوگا۔ یہ تو کام ختم ہوا ایک اور چیز جو بونس میں بتائے دیتا ہوں وہ ہے فےو آئکن۔ اس کا ربط بھی اسی فائل میں دینا ہے۔ ہیڈ سیکشن میں جیسے میرے ہاں کچھ ایسے ہے۔
<head profile="http://gmpg.org/xfn/11" link rel="shortcut icon" href="favicon.ico"
link rel="icon" href="animated_favicon1.gif" type="image/gif">فےو آئکن کیا ہے اس کے لیے میرا لکھا ہوا چھوٹا سا ایک سبق اردو محفل پر موجود ہے۔ چلیں صاحب اب چلتے ہیں سائیڈ بار میں جہاں ہم نے تلاش کے قطعے میں ویب پیڈ شامل کرنا ہے۔میری فائل کی مثال ملاحظہ کیجیے۔
<li id="search">
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle1" onclick='setEnglish("s")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle1" onclick='setUrdu("s")'>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>
</li>تلاش کا خانہ ہوسکتا ہے الگ سے ایک فائل میں موجود ہو جیسے ورڈپریس کے بنیادی کربک تھیم میں ہے۔ لیکن اس میں یہ چیز مشترک ہوگی۔ اب آپ کا کام ہے کہ اوپر والی مثال اور اپنی فائل میں موجود فرق جانچیں اور ان کو ایک جیسا کرلیں۔ آپ اس کو بھی اپنی فائل کے متعلقہ حصے میں اٹھا کر رکھ سکتے ہیں پرانا اڑا کر۔ اصل میں زیادہ فرق نہیں ہوگا صرف اتنا ہی کہ پیرا کی جگہ اس نے ڈویژن کی کمانڈ دی ہوگی۔ باقی اردو پیڈ کی شمولیت ایسے ہی ہوگی۔ اردو ویب پیڈ کی شمولیت کے سلسلے میں آپ کو ایک دو بار شاید پریشانی ہو لیکن پھر آپ اسے کسی بھی عبارتی/تدوینی علاقے میں شامل کرنے کے قابل ہونگے۔ خیر یہ تو بات تھی تلاش کے قطعے کی۔ اب چلتے ہیں کمنٹس کی فائل میں۔ اور یہ وہ فائل ہے جس نے مجھے بہت تنگ کیا تھا۔ اس فائل میں دو جگہیں ہیں جہاں آپ کو ویب پیڈ شامل کرنا ہوگا نمبر ایک مصنف کا نام اور دوسرے تبصروں کا خانہ۔ دونوں کی مثالیں اپنی فائل سے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں انھیں دیکھیں، فرق جانچیں اور متعلقہ تبدیلی اسی طرح کرلیں۔ یاد رہے p کا ٹیگ div کے ٹیب سے بدل دینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ ہے مصنف کے نام کا قطعہ
<div><label for="author"><?php _e('نام'); ?> <?php if ($req) _e('(درکار)'); ?></label></div>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick='setEnglish("author")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick='setUrdu("author")'>
<div><input type="text" name="author" id="author" onfocus="setEditor(this)" value="<?php echo $comment_author; ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("author", 12);
</script></div>اور یہ ہے تبصرہ کرنے کا خانہ
<div><label for="comment"><?php _e('لکھیں'); ?> <?php _e('تبصرہ'); ?></label></div>
<div><textarea name="comment" id="comment" onfocus="setEditor(this)" cols="50" rows="10" tabindex="4"></textarea></div>
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("comment", 16);
</script>
English<input type="radio" value="English" name="toggle1" onclick='setEnglish("comment")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle1" onclick='setUrdu("comment")'>ہمارا مشورہ ہے کہ یہ سب تبدیلیاں اپنے ڈیسکٹاپ پر کی جائیں پھر ایک ہی بار فائلوں کو بلاگ پر چڑھا کر ان کو جانچا جائے۔ اب ہم آتے ہیں آخری کام پر اور وہ ہے سٹائل شیٹ میں تبدیلی۔ یہ اصل میں سب سے آسان کام ہے۔ یہاں صرف کاپی پیسٹ کرنا ہے ہم نے۔ سٹائل شیٹ میں جو چیزیں تبدیل ہونگی وہ ہیں font-size, font-family, float اور بعض صورتوں میں padding , margin وغیرہ بھی۔ بنیادی طور پر اگر آپ سادہ تھیم پسند کرتے ہیں تو پہلی تین صورتیں ہی کافی ہونگی۔ اب ہم بات کرتے ہیں کہ فونٹ کوکس طرح بدلنا ہے اور کہاں کہاں۔ فونٹ کو آپ نے صرف ایک جگہ نہیں بدلنا اور وہ ہے code کی آئی ڈی۔ باقی ہر جگہ خصوصًا content, sidebar, heading, h1, h2 وغیرہ وغیرہ میں جہاں بھی فونٹ کا ذکر موجود ہے وہاں آپ نے اللہ کا نام لے کر یہ پیسٹ کرتے جانا ہے۔
font-family : "Urdu Naskh Asiatype", "Nafees Web Naskh", "Lucida Grande", Verdana, Arial, Sans-Serif;یاد رہے فونٹ فیملی کی ساری کمانڈ کو آپ نے اس سے بدلتے جانا ہے۔ اس میں پہلا فونٹ ایشیا ٹائپ ہے اگر وہ نہ ہوتو نفیس ویب نسخ اگر وہ بھی دستیاب نہیں تو لوسیڈا وغیرہ وغیرہ۔ آپ ان میں اپنی پسند کے مطابق آگے پیچھے کرکے تبدیلی کرسکتے ہیں۔ اگلی بات ہے فونٹ سائز کی۔ فونٹ کا سائز تھوڑا سا بڑا کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ آپ کو خود کرنا ہے۔ پہلے بنیادی سائز پر دیکھ لیں بلاگ کیسا لگتا ہے اگر نہ جچے تو اس کو بڑا کرلیں فونٹ سائز em, pt, px اور % وغیرہ میں ہوسکتا ہے یہ اب آپ کی پسند و لیاقت پر ہے کہ کتنا فونٹ سائز پسند کرتے ہیں۔ تیسری چیز ہے فلوٹ۔ یہ اصل میں براؤزرکو بتاتی ہے کہ یہ چیز دائیں ہویا بائیں۔ جیسے اگر ایک تھیم میں سائیڈ بار دائیں طرف ہے تو اس کی سٹائل شیٹ میں sidebar کی آئی ڈی کے تحت فلوٹ رائٹ لکھا ہوگا۔ اسی طرح متن یعنی content کا حساب ہے۔ لیکن دونوں کبھی بھی ایک ہی طرف نہیں ہونگے مخالف سمتوں میں ہونگے۔ سو اگر آپ سائیڈ بار بائیں اور متن بار دائیں کرنا چاہیں تو آپ کو فلوٹ کی کمانڈ الٹنا ہوگی۔ بس یہ ہی تھا سب۔ سٹائل شیٹ میں بس اتنی ہی تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں ہمارے خیال میں۔ اب بات کرتے ہیں اصطلاحات کے ترجمہ کی۔ ترجمہ آُپ پی ایچ پی کوڈ کے اندر باآسانی پہچان لیتے ہیں جو عمومًا دو واوین جیسے ٰیہٰ کی شکل میں ہوتے ہیں، اکثر ان کے شروع میں ایک e بھی دیا ہوتا ہے یا ایک -جیسی چیز نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان کو دیکھیں اور مناسب الفاظ میں اردو ترجمہ کرکے فائل کو یو ٹی ایف 8 بناوٹ میں محفوظ کردیں ایکس پی میں اگر آپ یہ سب کررہے ہیں تو وہ نوٹ پیڈ میں فائل کی تدوین کے بعد محفوظ کرنے سے پہلے ایرر دے گا کہ انکوڈنگ ٹھیک نہیں چناچہ اسے یو ٹی ایف 8 کرلیجیے گا۔ لینکس طےشدہ طور پر ہی فائل کو یو ٹی ایف 8 میں محفوظ کرتا ہے۔ اب ایک آخری بات جب آپ کوئی پرانی تحریر دیکھ رہے ہوں تو نیچے لکھا آتا ہے ٰ<<فلاں تحریرٰ اور ٰفلاں تحریر>>ٰ۔ انگریزی میں ہونے کی وجہ سے ان کی جگہیں الٹ ہونگی دائیں والی بائیں اور بائیں والی دائیں ہوگی۔ اس میں آپ تبدیلی کرلیں کہ متعلقہ فائل میں جاکر (جو ترجمہ کرتے وقت آپ کو کلیئیر ہوجائے گی) ان کی سمت الٹ کردیں۔ تو یہ تھا سب کچھ جو ہم نے اب تک سیکھا۔ اگرچہ ہم اب بھی کچھ معاملات میں پریشان ہیں جیسے اگر صفحے کی چوڑائی بڑھا کر رقبہ زیادہ کرنا ہو تو سٹائل شیٹ کا کونسا بٹن دبائیں لیکن امید ہے آپ کے لیے نارمل بلاگنگ کرنے کے لیے یہ سب کچھ بہت ہوگا۔ باقی ورڈپریس کے سپورٹ فورم پر حاضر رہیے گا، وہاں سے آپ کو بہترین اور ہر قسم کی مدد مل سکے گی، اس کے علاوہ اپنی ضرورت کے مطابق دخیلے یعنی پلگ ان نصب کرلیجیے گا ان سے بہت آسانی ہوجاتی ہے اس سلسلے میں بھی ورڈپریس کے گرو جو متعلقہ چوپالوں میں بیٹھے ہیں آپ کو ربط فراہم کردیں گے۔ اب دعا کیجیے گا کہ انھیں صفحات پر اردو ورڈپریس کا تعارف بھی لکھوں۔ اللہ توفیق دے۔ آمین وسلام
جمعرات، 26 اکتوبر، 2006
فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(تیسرا سبق)
ورڈپریس کی تنصیب کے بعد اگلا مرحلہ اس کو اردو دکھانے کے قابل بنانے کا ہے۔ ورڈپریس کو اردو دکھانے کے قابل بنانے کے لیے اس کے تھیم میں کچھ تبدیلیاں کرتا پڑتی ہیں۔ جیسے اردو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے تو اس کے لیے ایک کمانڈ ہیڈر فائل میں دینا پڑتی ہےاس کے علاوہ سٹائل شیٹ میں فونٹ وغیرہ کی تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اگر تھیم کا بھی اردو ترجمہ کرنا ہے تو کمانڈز کو اردو میں کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور چیز وہ ہے ورڈپریس میں اردو میں پوسٹ لکھنا۔ خوش قسمتی سے یہ سب کچھ کسی حد تک پہلے ہی کرچکے ہیں ہم اور آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ کاپی پیسٹ کرتے جائیں یا اتار کر اپنے ورڈپریس میں چڑھا لیں۔ پہلے بات کرتے ہیں تھیم کو اردوانے کی۔اردو محفل پر ورڈپریس کے اردوائے گئے تھیم دستیاب ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر دو تین تھیمز پر کام کیا ہے۔ ان میں سے دو تو محفل پر موجود بھی ہیں لیکن یہاں جو ربط میں دے رہا ہوں ان تھیمز میں ویب پیڈ کی سہولت بھی موجود ہے۔ ویب پیڈ ایک جاوا سکرپٹ ہے جسے جناب نبیل نقوی نے لکھا ہے۔ اردو محفل پر اردو پوسٹنگ کے لیے اسی کو استعمال کیا جاتا ہے اسے ویب بیسڈ اردو ایڈیٹر کہہ لیں۔ میرے بلاگ پر بھی اگر آپ تلاش کے خانے، تبصروں کے قطعے اور مصنف کے نام کے قطعے کو دیکھں تو ان میں سبز رنگ اسی وجہ سے نظر آتا ہے اور صارف بغیر ونڈوز کی اردو سپورٹ کے سیدھے سادھے انداز میں اردو لکھ لیتا ہے۔ میرا موجودہ تھیم جو اس وقت زیر استعمال ہے وہ ونٹر ڈے ہے جسے یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ورڈپریس کا بنیادی کربک تھیم جس کا سٹائل جناب زکریا اجمل نے اردو میں کیا تھا کو میں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے اور اس میں بھی تلاش، تبصروں اور تبصروں کے مصنف کے قطعات میں ویب پیڈ شامل کیا ہے یہاں سے اتارا جاسکتا ہے۔ پوسٹ کو کس طرح اردو میں لکھیں یا آسان الفاظ میں یہاں ویب پیڈ کس طرح شامل کریں۔ جناب نبیل نقوی نے میری فرمائش پر اس سلسلے میں کام کیا تھا اور اب یہ سارا کام اردو محفل پر موجود ہے وہاں موجود ہدایات پر عمل کرکے آپ با آسانی اپنے ورڈپریس وزی وگ مدوِن ٹنی ایم سی ای کی جگہ ویب پیڈ شامل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے اگر آپ اوپر والے تھیم بھی اتارتے ہیں تو ان میں ویب پیڈ کو چالو کرنے کے لیے آپ کو اسے یہاں سے اتار کر اپنے روٹ فولڈر یعنی / والی ڈائرکٹری میں کاپی کرنا ہوگا۔(بفرض محال اگر ویب پیڈ ٹھیک کام نہیں کرتا تو اس کی جاوا سکرپٹ یعنی جس کے ساتھ جے ایس کی اضافت لگی ہے فائل کو آپ نے اس فائل سے بدل دینا ہے۔) اس کے بعد تھیم فائلوں header.php میں باڈی ٹیگ کے فورًا بعد جہاں www.dost.ueuo.com لکھا ہے اسے اپنے ڈومین سے تبدیل کردیجیے گا یہی کام آپ نے ویب پیڈ کی پوسٹ پیج والی فائل میں شمولیت دوران کرنا ہے جس کی نبیل بھائی نے ہدایات بھی دی ہوئی ہیں۔ اور ہاں تھیم چڑھانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اسے غیر مختصر کریں یعنی زپ سے نکالیں اور اپنی /wp-content/themes/ ڈائرکٹری میں چڑھا دیں۔ اس کے بعد جب آپ ورڈپریس کنٹرول پینل سے Presentation یعنی پیشکش میں جائیں گے تو وہ تھیم وہاں نظر آرہا ہوگا بس اس کی تصویر پر کلک کردیں اور تھیم حاضر۔ اوپر بتائے گئے تمام سبق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کرنے کے بعد نمبر ایک آپ اس قابل ہونگے کہ آپ کا بلاگ بالکل اردو میں نظر آئے، نبمر دو اس قابل ہونگے کہ بلاگ پر پوسٹ لکھتے ہوئے اسے ونڈوز کی معاونت کے بغیر براہ راست اردو میں لکھ سکیں۔(انگریزی میں لکھنے کے لیے کنٹرول سپیس سے انگریزی موڈ میں چلے جائیں)۔ نمبر تین صارف تلاش کرتے یا تبصرہ کرتے ہوئے ویب پیڈ استعمال کرکے باآسانی اردو لکھ سکےگا۔ اگلے سبق میں ہم ورڈپریس کے تھیم کی ساخت اور اس کو اردوانے کے لیے جو حصے بدلنے ضروری ہیں کا جائزہ لیں گے تاکہ آپ اپنی پسند کے تھیم کو اردو میں کرکے اسے لگا سکیں۔ وسلام