منگل، 5 جولائی، 2011

مدیر اعلی کی طرف سے ایک اور خط

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:36 AM ,
لو جی میرا بلاگ ڈاکیے کا کام کررہا ہے گلوبل سائنس اور اردو بلاگرز میں۔ کل ایک مضمون لکھا تھا، امید ہے اس کے بدلے ایک اچھا ڈنر کرسکوں گا اگلے ماہ۔ اس کے جواب میں مدیر اعلی کا خط آیا ملاحظہ کریں۔ اور اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ گلوبل سائنس کو لائٹ نہ لیں، آپ کے بلاگ کی تحاریر ہی اس میں شائع ہوتی رہیں تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہوجائیں گے۔

شاکر میاں
السلام علیکم
مضمون ارسال کرنے کا بے حد شکریہ؛ حمزہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا! آپ کا بہت شکریہ۔
آپ کی ارسال کردہ تحریر ڈی او سی ایکس فارمیٹ میں ہے؛ اور میرے پاس صرف پرانا ایم ایس ورڈ۲۰۰۰ اور اوپن آفس ہی موجود ہے۔ دونوں سافٹ ویئر ہی ڈی او سی ایکس فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ اگر ممکن ہو تو یہ مضمون مجھے اوپن آفس میں ارسال کردیجئے۔
آپ کی کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ فی الحال تمام جگہوں سے معذرت ہی سننے کو مل رہی ہے؛ لیکن اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کامیابی مل ہی جائے گی۔ کیا آپ کے پاس مولوی عبدالحق کی اُردو املا والی کتاب ہے؟
آپ کے فورم سے کچھ احباب نے رابطہ کیا تھا؛ لیکن بعد میں کوئی ای میل نہیں آئی۔ اگر ممکن ہو تو گلوبل سائنس کی طرف سے معاضوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیجئے؛ تاکہ وہاں آنے والے احباب کے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہے۔
سردست میری نظر چند ایسے موضوعات پر ہے جو شاید آپ جیسے ماہر لوگوں کے لیے معمولی ہوں؛ مگر مجھ جیسے پینڈووں کے لیے بہت اہم ہیں۔ مثلاً
کانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم (کیا ہوتے ہیں؛ کیسے کام کرتے ہیں؛ اور ویب سائٹ کی تیاری میں ان سے کیونکر استفادہ کیا جاسکتا ہے)۔
بلاگنگ (یعنی بلاگنگ کی ابتداء سے لے کر آج تک کی تاریخ؛ فوائد و نقصانات؛ دنیا کے مقبول بلاگز اور ان کے موضوعات؛ اردو بلاگنگ کے مقدار و معیار پر ایک طائرانہ نظر؛ بلاگنگ میں معاون مختلف سافٹ ویئر؛ اچھے یا معیاری بلاگ کی اہم ترین خصوصیات؛ انگریزی میں بلاگ کیسے بنایا جاسکتا ہے؛ اُردو میں بلاگ بنانے کے لیے اس کے علاوہ مزید کیا کرنا ہوگا وغیرہ)۔
اُردو زبان میں انٹرنیٹ سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے دستیاب آن لائن ’’اوزار‘‘ (یعنی ٹولز)؛ ان کی خوبیاں اور خامیاں؛ استعمال کے طریقے اور ان کے مختلف ورژنز وغیرہ۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل؛ چبھتے ہوئے سوالات: کیا اب بھی رومن اُردو کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی یہ اصرار کیا جانا چاہیے کہ محض انگریزی ہی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان ہے؟ کیا اس جدید دور میں ادیبوں اور شعراء میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اردو زبان کو ترقی دینے کے تقاضے پورے کرسکیں؟ کیا صرف اردو ویب سائٹس؛ بلاگز اور اردو ٹولز ہی اردو کو ترقی دینے کے لیے کافی ہیں یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟ وغیرہ۔
اُمید ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت جلد آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ سننے کو ضرور ملے گا۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو پہلے کی طرح اس بار بھی میرے اس خط کو اپنے بلاگ پر شامل کرسکتے ہیں۔ گر قبول افتد؛ زہے عز و شرف۔
آخر میں ایک بات اور: میں اپنی فطرت میں رجائیت پسند (آپٹمسٹ) ہوں؛ اور مایوسی کو کفر کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ لیکن میری ناقص رائے میں؛ اس جذبے کی ترویج کے لیے آپ اور آپ جیسے احباب سے رابطہ رہنا اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جاسکے۔
اُمید ہے کہ اس بار بھی تعاون ملے گا۔
جواب کا منتظر
علیم احمد

فون: 02132625545

ای میل: globalscience@yahoo.com


Back Top

8 تبصرے:

  1. اللہ تعالی علیم احمد صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ وہ بہت پر عزم آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ علیم صاحب کو ان کے ارادوں میں کامیابی عطا فرمائے۔ سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر اردو میں اچھا لکھنے والے مشکل سے ملتے ہیں۔ نیٹ پر اردو کمیونٹی کو اس سلسلے میں ضرور تعاون کرنا چاہیے۔ میں محفل فورم کی سالگرہ کے سلسلے میں کچھ ٹیوٹوریل تیار کر رہا ہوں۔ ان میں سے کچھ آرٹیکل گلوبل سائنس کو بھی بھیج دوں گا۔

  2. docx format kay leeay aik compatibility pack ms site par dastiyaab hai

  3. جی ایک عرصے سے ہے، لیکن میں نے جلدی میں اسے سیو ایز کرکے ہی بھیج دیا پھر۔

  4. ان موضوعات پر تو اردو بلاگز میں کئی لکھنے والے موجود ہیں جو اس سلسلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

  5. بالکل، لیکن بات آگے بڑھ کر عمل کرنے کی ہے۔ اس وقت حرکت کی ضرورت ہے۔ احباب سے اسی لیے بار بار درخواست کرتا ہوں کہ لکھیں۔

  6. آپ کی اس طرف توجہ دلانے پر میں نے گلوبل سائنس والوں سے رابطہ کیا تھا۔
    میں نے یہ ای میل بھیجی
    ////////////////////
    السلام علیکم!
    کچھ دن پہلے شاکر بھائی کی پوسٹ نظر سے گزری پھر انہوں نے اسی بارے میں میرے بلاگ پر رائے دی کہ مجھے گلوبل سائنس کے لئے لکھنا چاہئے یا پھر پہلے سے لکھے ہوئے میں سے گلوبل سائنس کو بھیجنا چاہیے اور ساتھ میں رابطے کے صفحہ کا ایڈریس بھی لکھا تاکہ میں آپ سے رابطہ کروں۔ خیر دوستوں کی رائے سے مجھے بھی خواہش ہوئی کہ میں بھی گلوبل سائنس کے لئے لکھوں۔ میں نے اردو کمپیوٹنگ اور اردو بلاگنگ کے لئے کافی تحاریر لکھی ہوئیں ہیں جو آپ میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری تحاریر گلوبل سائنس کے قابل ہیں تو بتائیے گا میں ان میں میگزین کے حوالے سے ضروری ترامیم کر کے بھیج دوں گا اور ساتھ ساتھ کوشش کروں گا کہ خاص گلوبل سائنس کے لئے کچھ نیا لکھوں۔
    اس کے علاوہ اگر آپ کمپیوٹر اور خاص طور پر اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے کچھ لکھوانا چاہیں تو عنوان بتا دیجئے گا میں حتی المقدور کوشش کروں گا کہ اس عنوان پر اور عنوان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے لکھ سکوں۔ خیر یہ سب باتیں تو تب کی ہیں جب آپ میری تحاریر میں دلچسپی رکھتے ہوئے۔
    والسلام
    //////////////////
    یہ ای میل میں نے 20جون2011ء کو بھیجی تھی اگلے دن ان کی طرف سے یہ جواب آیا۔
    ////////////////////
    بلال میاں
    السلام علیکم
    آپ احباب کا بے حد شکریہ؛ تاہم اس وقت شمارہ جون پریس جانے کے آخری مراحل میں ہے۔ ان شاء اللہ؛ کل تک آپ کے خط کا جواب ضرور دوں گا۔
    والسلام
    //////////////////
    خیر اس کے بعد میں اس ”کل“ کے انتظار میں ہوں جب وہ جواب دیتے ہیں۔

  7. بلال بھائی جیسا کہ ای میل سے ظاہر ہے کہ وہ مزید ای میل کا انتظار کرتے رہے اور آپ ان کی میل کا۔ تو حل یہ ہے کہ آپ مضامین ارسال کرنا شروع کردیں۔ ماشاءاللہ آپ کا اندازہ تحریر اچھا ہے انھیں کیا اعتراض ہوگا۔

  8. علیم صاحب کو اب تک گلوبل سائنس کے حوالے سے جانتا تھا، آج یہاں دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ ان کا رسالہ واقعی علوم کا ذخیرہ لیے ہوتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔