لینکس جابز

Sunday, January 17, 2010

انٹرنیٹ پر آج کل ہمارا کام جاب کی تلاش ہوتا ہے. اور جس طرح چیل کو اپنے مطلب کی چیز میل کے فاصلے سے نظر آجاتی ہے ویسے ہی  ہم ہر اس چیز کی لپکتے ہیں جس میں جاب کا لفظ آجائے. ایسے ہی ایک لپکنے چھپکنے میں ہمارے ہاتھ یہ ربط لگا. اگرچہ یہ میرے جیسوں کے لیے کوئی ایسی کام کی چیز بھی نہیں لیکن لینکس کی آنلائن جابز کے لیے اچھا آغاز ثابت ہوسکتی ہے.

Read more...

فلمیں شلمیں

Friday, January 8, 2010

پچھلے  سے  پچھلے ماہ اور پچھلے ماہ کے پہلے پندرھواڑے تک بجلی وافر مقدار میں ملتی رہی اور ہمیں مفت کا ایک وائرلیس نیٹ ورک بھی ملتا رہا تو اہم نے اسے رج کے استعمال کیا اور ڈھیر ساری فلمیں اتاریں۔ ان فلموں میں سے دو فلمیں جو یاد رہ گئیں وہ ان کی آپسی مماثلت ہے۔ سروگیٹس میں ایک سائنسدان ایسے روبوٹس ایجاد کرتا ہے جو انسانوں کے دوسرے جسم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ خود سارا دن ایک تابوت میں لیٹے رہیں اور آپ کا روبوٹ اوتار آپ کی جگہ کام کرے گا چونکہ اصل میں وہ بھی آپ ہی ہیں، وہی محسوسات اور ویسا ہی بلکہ طاقتور جسم۔ اس فلم کے آخر میں یہ سارا نظام اس کے خالق کے ہاتھوں ہی تباہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس فلم کا گنجا سا ہیرو پتا نہیں اس کا نام کیا ہے سارے انسانوں کو بچا لیتا ہے اور روبوٹ نظام قیں ہوجاتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں بڑی پسند آئی وہ اوتار ہے۔ کہانی  کی بنیاد وہی ہے ایک عدد ہیرو اور ایک عدد ولن۔ ایک ہیروئن اور اس کے گھر والے جن کو آخر میں ہیرو بچا لیتا ہے۔ اور ہاں ہیرو کی ٹریننگ بھی۔ لیکن جو چیز اس کی بہت اچھی تھی وہ ایک نئی دنیا تھی۔ آج کل کارٹون والے اور فلموں والے ایسی کہانیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں جن میں غیر ارضی مخلوق کو دکھایا گیا ہو۔ آپس کی بات ہے یہ اچھی بھی بہت لگتی ہے۔ بہت دلچسپ، ہماری بھی اندر سے خواہش ہے کہ ایسی دنیاؤں کے بارے میں جانیں جو ارضی نہ ہوں۔ اس فلم میں اینی میشن اور حقیقی عکس بندی کو کچھ اس طرح ملایا گیا ہے کہ ایک شاندار منظرنگاری پر مشتمل فلم وجود میں آئی۔ ارے ہاں اس کی سروگیٹس سے مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ معذور ہیرو ان انسان نماؤں میں ایسے ہی شامل ہوتا ہے جیسے سروگیٹس میں لوگ روبوٹس کو بطور متبادل جسم استعمال کرتے ہیں۔ ہیرو صاحب ایک تابوت نما چیز میں لیٹ جاتے ہیں پھر اللہ تیری یاری ہیروئن کے ساتھ چھلانگیں لگاتے پھرتے ہیں۔ اگرچہ ہیروئن کوئی اتنی "خوبصورت" نہیں تھی لیکن ہیروئن تو تھی نا۔ بہرحال فلم پسند آئی اور بہت ہی پسند آئی۔ بلکہ مجھے تو اتنی پسند آئی کہ میرا دل کیا کہ یہاں تبلیغ کرنے پہنچ جاؤں۔ الو کے پٹھے پتا نہیں کس کی عبادت کررہے ہیں اللہ میاں کی عبادت کریں۔  ہاں ان کے ہاں کعبے کا مسئلہ ہوتا لیکن وہ تو حل ہوجاتا جن محددات یعنی جتنے ارض بلد اور طولبلد پر کعبہ یہاں واقع ہے ایسا ہی وہاں بنا لیتے۔ کرنی تو عبادت ہے نا جی۔ ہائے ہمارا کتنا دل کرتا ہے ساری دنیا بلکہ ساری کائنات کو مسلمان کرلیں۔ اور خود آپس کے سیاپے ہی ختم نہ کر پائیں۔
خیر تُسیں چھڈو۔ یہ خبر پڑھو۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلم بن جائے گی، سہ جہتی ہے نا اس لیے اس کا ٹکٹ بھی مہنگا بکتا ہے۔ چلو جی سانوں کی، ہمیں تو مفت مل جاتی ہے دیکھنےکو۔ اصل سواد تو دوسری تیسری قسط کا ہے۔ سنا ہے ہدائیتکار صاحب کہانی ہٹ ہوگئی دیکھ کر اب دوسری تیسری قسط کے لیے چھری کانٹا تیز کررہے ہیں۔

Read more...

لوڈ شیڈنگ

Sunday, January 3, 2010

پاکستان میں دسمبر کے آخری اور جنوری کے شروع کے ہفتے پچھلے تین سال سے لوڈ شیڈنگ کے عروج کے دن ہوتے ہیں۔ دن میں بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجوہات کو پچھلے تین سالوں سے حل نہیں کیا جاسکا بلکہ یہ مسئلہ شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
سردیوں‌میں‌ہمارےپاس ایندھن کی کمی ہوتی ہے۔ ہماری گیس گھروں میں ہی اتنی لگ جاتی ہے کہ فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں۔ سی این جی سٹیشنز کو گیس کی دو دن فی ہفتہ بندش اسی وجہ سے ہے۔ پاور سٹیشنز کو بھی گیس نہیں ملتی اور کام پورا ہوجاتا ہے۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے ہمارے ڈیم بھر ہی نہیں‌ رہے، جیسے ہی سرما میں ڈیم بند کیے جاتے ہیں سارا پاور سسٹم ختم ہوجاتا ہے۔ پیچھے ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی ہوجاتی ہے۔ یاد رہے سردیوں میں چار ہزار میگا واٹ کی کمی گرمیوں کی چار ہزار میگا واٹس کی کمی سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پیداوار پندرہ ہزار کے اریب قریب اور کھپت بیس ہزار کے اریب قریب ہوتی ہے۔ سردیوں میں کھپت دس ہزار میگاواٹ سے بہت کم ہوتی ہے اور میں سے چار ہزار میگا واٹ کی کمی کا مطلب ہے فیصد میں ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی۔ پچھلے تین سال سے دسمبر کے آخری دو ہفتے اور جنوری کے پہلے دو ایک ہفتے اتنہائی بدترین لوڈ شیڈنگ کے ہوتے ہیں۔ اس سال سے تو گیس بھی کم آنے لگی ہے۔ بجلی بند ہوتے ہی گیس بھی کم ہوجاتی ہے، چولہا جلائیں تو گیس بلب نہیں جلتا وہ جلائیں‌ تو چولہے پر روٹی بھی نہیں پکتی۔ ہماری گیس زیادہ سے زیادہ اگلے آٹھ سال تک کے لیے ہے وہ بھی تب جب نئے کنکشن نہ دئیے جائیں اور سی این جی سٹیشن نہ لگائے جائیں۔ گیس کہاں سے آئے گی کا خیال کیے بغیر گاڑیوں کو بلامنصوبہ بندی سی این جی پر کیا گیا اور آج گھروں  میں روٹی پکانے کے لیے بھی گیس نہیں‌ ہوتی سردیوں‌ میں۔ قصبوں‌ اور دیہوں میں سیاسی بنیادوں پر گیس کنکشن دئیے گئے اور گنجان آباد شہروں‌ کے رہنے والے جہاں‌ کوئی اور ایندھن بھی دستیاب نہیں آئے دن گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں۔ عجیب سسٹم ہے ہمارا۔ ڈنگ ٹپاؤ۔ کھاتے جاؤ۔ جب ختم ہوگا دیکھی جائے گی۔
 ہمارے پاس ابھی تک متبادل ذرائع توانائی سے بجلی کے حصول کے لیے کوئی جامع منصوبہ، پالیسی یا ادارہ موجود نہیں ہے۔ متبادل توانائی بورڈ کے ملتے جلتے نام سے ایک حکومتی ادارہ مشرف دور میں کچھ سرگرم رہا ہے۔ ان لوگوں نے ٹھٹھہ بدین وغیرہ میں غیرملکی کمپنیوں کو پوَن چکیاں لگانے کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔ لیکن ابھی تک ایک آدھ پوَن چکی ہی آپریشنل ہوسکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی بجلی بھی دس روپے سے زیادہ فی یونٹ لاگت کی حامل ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کے قریب ایک ماڈل دیہہ جو شمسی توانائی پر چلتا ہے پچھلے کئی سال سے موجود ہے، پنجاب میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر کرنے کی بڑھک پچھلے دنوں خادم اعلی کی جانب سے سنائی دی۔ اب اس پر عمل کتنا ہوگا رب جانے اور خادم اعلی جانیں۔
ہمارے پانی کے ذخائر تیزی سے انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر پچھلے پانچ سال میں کئی بڑے اور بیسیوں چھوٹے ڈیم بنا چکا ہے جس کی وجہ سے آج راوی گندہ نالا ہے اور اس وقت چلتا ہے جب سیلاب آنا ہو۔ جہلم آدھا خشک ہوچکا ہے اور ستلج کو تو سندھ طاس معاہدہ کھا گیا۔ بھارت کے وولر بیراج اور بگلیہار ڈیم پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے نہ مشرف دور میں کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ موجودہ حکومت پچھلے ڈیڑھ سال سے کچھ کرسکی ہے۔ جماعت علی شاہ، ہمارا نام نہاد واٹر کمشنر پتا نہیں کیا کرتا پھر رہا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے اس عہدے پر موجود یہ شخص کن کا ایجنٹ ہے اور اسے پانی کی کمی نظر کیوں نہیں آتی۔ ہمارا بارشوں کا نظام تیزی سے نارمل سے ہٹ رہا ہے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں غیرموسمی بارشوں سے قریبًا ہرسال سیلاب آجاتا ہے اور  ماضی کے بارانی علاقے اب آسمان کو بادلوں سے عاری دیکھ دیکھ کر ترس جاتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے تحت پانی سٹور کرنے کے لیے ہماری  پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی یا جدت نہیں لائی گئی۔صرف ایک دیامر بھاشا ڈیم جس پر کام اگلے دس سال میں مکمل ہوگا اسے شروع کیا گیا ہے۔
ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہماری کوئی پالیسی نہیں۔ اور ہماری حکومت یہ ہے کہ ہماری کوئی حکومت نہیں۔ اور ہماری قوم یہ ہے کہ یہ کوئی قوم نہیں ہجوم ہے۔

Read more...

متعہ؟

Saturday, December 26, 2009

آج کل اردو محفل پر وڈے وڈے چوہدری متعہ کی حرمت و حلت پر بڑی گرما گرم بحث کررہے ہیں۔ حدیثیں لائی جارہی ہیں، روایات پیش کی جارہی ہیں، ایک دوسرے کی کتب سے حوالے پیش کیے جارہے ہیں اور ذاتی و غیر ذاتی قسم کے حملے کیے جارہے ہیں۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ جذبات کے فوارے پھوٹ رہے ہیں اور متعہ کو عین اسلام اور عین غیر اسلام ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔
یہ پوسٹ لکھنے کا مقصد اصل میں کچھ اپنا نکتہ نظر بیان کرنا تھا۔ میں کوئی عالم حدیث نہیں اور نہ ہی قرآن فہم ہوں۔ آج یونہی لائبریری سے یوسف عباس کی ایک کتاب مل گئی۔ اسے پڑھا، موصوف اپنے عقائد سے قرآنسٹ اور فقہ کے اچھے خاصے ناقد ہیں۔ انھوں نے متع کے سلسلے میں اچھی تحقیق  کی ہے ۔ جس میں قرآنی آیات سے لے کر ہر دو فقہ، اہلسنت و اہل تشیع، کی روایات کا خاصے ناقدانہ انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ آج میں نے یہ کتاب سکین کرکے، پی ڈی ایف بنا کر یہاں اپلوڈ کردیا۔ یہ پانچ میگا بائٹ کے دس کے قریب حصے ہیں۔ سب اتار کر انھیں ان زپ کرلیں۔ امید ہے آپ کے علم میں اچھا اضافہ ثابت ہوگی۔
متعہ اسلام کے متنازع ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ یہ حلال تھا یا نہیں لیکن آج کے سیاق و سباق میں متعہ کو مذہب کی آڑ مہیا کرنے کا مطلب ہے آپ رنڈی بازی کو اسلامی قرار دے رہے ہیں۔ ویسے اگر ایسے ہوجائے تو حکومت کو خاصے ٹیکس مل سکتے ہیں، طوائف اور کال گرلز کو چوری چھپے کی بجائے کھلے عام کاروبار کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں اور مولویوں کی بھی چاندی ہوسکتی ہے، روز کئی کئی نکاح جو پڑھانے ہونگے۔ ہاں اس دوران پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کو پالنے کے لیے حکومت کو کچھ نرسری ہومز وغیرہ بنانے پڑیں گے۔ آج کے معاشرے میں متع کیا گُل کھلا سکتا ہے ایرانی معاشرہ اس کی ایک مثال ہے۔ بی بی سی کی ایک خبر ملاحظہ کیجیے۔ 
اللہ کا شُکر ہے کہ متعہ کو کبھی بھی اہل اسلام نے پذیرائی نہیں بخشی۔ حتی کہ اہل تشیع نے بھی عملی سطح پر اس کی کبھی بھی اس طرح پذیرائی نہیں کی جیسے ان کی کتب احادیث کافی اور فروع کافی وغیرہ میں اسے بعض جگہ فرائض تک میں شامل کردیا گیا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے اوپر دی گئی کتاب کا مطالعہ کرلیں۔ یہاں ہر دو مذاہب کی کتب حدیث میں سے ان روایات کا جائزہ لیا گیا ہے۔) اس سلسلے میں ایک ایرانی خاتون ڈاکٹر شمائلہ حائری کا مقالہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ جس میں انھوں نے متعہ کے نام پر عورتوں کے بے حرمتی اور اس کے ایرانی معاشرے پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
اللہ کریم ہمیں حق کو پہچاننے کی توفیق عطاء فرمائے۔   

Read more...

سوڈان تقسیم کی طرف

Thursday, December 24, 2009

انڈونیشیا کے ایک صوبے مشرقی تیمور کی علیحدگی والی ساری کہانی آج جنوبی سوڈان میں دوہرائی جارہی ہے۔ کافی عرصے سے تشدد کی خبریں میڈیا میں آرہی تھیں اور آج یہ خبر پڑھی ہے۔

خرطوم ۔ سوڈان کی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس سے جنوری میں جنوبی سوڈان کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو گئی ہے بل کے مطابق ریفرنڈم میں جنوبی سوڈان کے 60 فیصد قحط افراد کا حق رائے دہی میںحصہ لینا ضروری ہے ۔ اگر 30 فیصد سے زیادہ افراد نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے تو جنوبی سوڈان شمالی سوڈان سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ شمالی سوڈان زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل ہے جب کہ جنوبی سوڈان میں مسیحی اور دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں ۔ سوڈان کے تیل کے زیادہ تر ذخائر اس کے جنوبی علاقے میں ہیں
اس ریفرنڈم کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جنوبی سوڈان الگ ہوجائے گا۔ سوڈان پہلے ہی غریب مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، تیل کے ذخائر جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سے ہمیں عبرت حاصل ہونی چاہیے جو بلوچستان کے معاملے پر آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک میں علیحدگی پسند عناصر کو کتنا سپورٹ کرتی ہیں۔ جبکہ کشمیر کے معاملے میں اس کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔

Read more...

سندھ اور پانی

Saturday, December 12, 2009

آج آؤ سنواریں پاکستان پر خاصی جذباتی سی پوسٹ پڑھی۔ اس میں بیان کیے گئے حقائق سے انحراف واقعی ممکن نہیں۔ سندھ کے ڈیلٹے کو واقعی خطرہ ہے اور سمندر تیزی سے آباد زمینیں نگل رہا ہے۔ پانی کی کمی نے واقعی تباہی مچائی ہے اور کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ زیریں علاقے والوں کا مطالبہ ہے کہ روزانہ دس ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جائے جو کہ سمندر میں جاگرے تاکہ ڈیلٹا کا تحفظ ہوسکے۔ جبکہ اوپر والوں کا مطالبہ ہے کہ مزید ڈیم بنائے جائیں۔
مجھے بہت ساری تکنیکی تفاصیل کا نہیں پتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ برسات کے موسم میں سیلاب آجاتا ہے۔ اور وہ سارا پانی سمندر میں ہی جاتا ہے اور کہیں نہیں جاتا۔ اگر اس پانی کو ڈیم بنا کر سٹور کرلیا جائے اور پھر دریا میں ہی سارا سال چھوڑا جاتا رہے تو اس سے شاید ڈیلٹا کا کچھ تحفظ ہوسکے۔ یاد رہے میں نہریں نکالنے کی بات نہیں کررہا بلکہ صرف ڈیم بنا کر اسے سٹور کیا جائے اور بجلی پیدا کی جائے اور پھر پانی واپس دریا میں ہی ڈال دیا جائے۔ اس کی مثال پنجاب میں غازی بروتھا پاور پروجیکٹ ہے۔ مزید یہ اقدامات کیے جاسکتے ہیں کہ سمندر کے راستے میں بند بنائے جائیں۔ اس کے لیے ہالینڈ کی مثال کو ذہن میں رکھیں جنھوں نے آدھا ملک سمندر خشک کرکے بنایا ہے۔ تجاویز اور منصوبے ڈھیر۔۔لیکن عمل کوئی نا۔

Read more...

کچھ غلط فہمیاں

Thursday, December 3, 2009

میری پچھلی دو تحاریر سے اٹھنے والی کچھ غلط فہمیاں اس بات کی متقاضی تھیں کہ ایک اور تحریر لکھی جائے۔
پہلی تحریر میں مَیں نے دو مسائل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ایک پنجابی اور دوسری علاقائی زبانوں کا انحطاط اور دوسرے اردو وکی پیڈیا پر زبان کی حالت زار۔ یہاں ایک تکنیکی وضاحت کرتا چلوں کہ زبان کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا ،جیسا کہ پنجابی کے بارے میں خاکم بدہن میں خدشے کا اظہار کرچکا ہوں ،سماجی لسانیات میں زبان کی موت کہلاتا ہے۔ جب کسی زبان کا کوئی بھی اہل زبان نہ رہے، یاد رہے وہ اہل زبان جو اسے بطور مادری زبان بولتا ہے، تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ زبان مرگئی۔ جہاں تک اردو کے ساتھ معاملہ ہے ، تو اردو بدل رہی ہے لیکن اسے ایسے کسی خطرے کا سامنا نہیں۔ اردو کو پاکستان میں بچوں کو بطور مادری زبان سکھایا جارہا ہے۔ اردو یورپ اور ہند میں بھی پھل پھول رہی ہے۔ اگرچہ اس کا رسم الخط دیوناگری اور اب رومن ہوچلا ہے لیکن اردو ہے۔ جبکہ علاقائی زبانیں جو پہلے ہی بولی کے طور پر موجود ہیں خسارے میں جارہی ہیں۔
اب ابوشامل کی تحریر جس میں انھوں نے بڑے دردمندانہ انداز میں عشاقان اردو یعنی میرے جیسے کم نصیبوں کی بلائیں لیں ہیں۔ پہلے تو ان کو آداب عرض ہے۔ مزے دار باتیں تھیں۔ اس کے بعد چند نکات جو مجھے اس میں نظر آئے ان کا جواب دیتا چلوں۔
مجھے دوسروں کا نہیں پتا لیکن اپنی بات بتا سکتا ہوں، میرے پاس بعض اوقات اپنا بلاگ لکھنے کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا اس لیے اردو وکی پیڈیا کو وقت نہیں دے سکتا۔ ہاں جب کوئی موضوع اگر دل میں مچل رہا ہوں تو میں لکھتا ہوں۔ اب یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنا لکھ چکا ہوں وکی پیڈیا پر شاید دو چار ہونگے ہی۔ مجھے پتا ہے یہ بہت ہی کم مقدار ہے جسے امید ہے مستقبل میں بڑھایا جائے گا، لیکن نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔ دوسری وجہ نہ لکھنے کی یہ ہے کہ میں اپنی فیلڈ سے متعلقہ لکھنا ہی پسند کرتا ہوں لیکن فیلڈ مجھے کچھ لکھنے تو دے، چونکہ میں خود ابھی ابتدائی مراحل میں ہوں  اس لیے میرا علم ناقص ہے سو سوچ سوچ کر رہ جاتا ہوں۔ بڑے لنگڑے لولے سے اعتراضات ہیں لیکن ۔۔ چلو جان دیو۔
دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم اردو وکی پیڈیا پر ہونے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یہاں ابوشامل کی مراد تواریخ، مذاہب وغیرہم جیسے موضوعات تھے۔ تو عرض ہے کہ میں سائنس کا طالب علم ہوں اور میری نظر سائنس پر ہی رہتی ہے۔ میں اردو کو سائنسی کی ابلاغی زبان دیکھنا چاہتا ہوں اور اس شعبے میں جب اردو کے پرخچے اڑتے دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔ اردو میں الحمداللہ ان موضوعات  میں سے ہر موضوع پر کئی کئی کتب موجود ہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ انھیں برقیا کرکے بہت بڑی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن میں پھر عرض کروں گا کہ میری مراد ویسے مضامین سے نہیں، وہ اپنی جگہ ہیں اور بہت اچھی کاوش ہیں، میری مراد اصل میں ایسے مضامین سے ہے۔ اسی موضوع کو خاکسار نے ایک صارف کے سوال کے جواب میں کچھ ایسے پیش کیا تھا۔ اب آپ زبان و بیان سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسے سمجھنا آسان ہے۔ بات صرف ذخیرہ الفاظ تک محدود نہیں بلکہ زبان و بیان اور انداز تحریر بھی بہت سی اصلاحات کا متقاضی ہے۔

Read more...

زبان کا تغیر اور اردو وکی پیڈیا

Tuesday, December 1, 2009

میری پچھلی تحریر زبان کے تغیر سے متعلق تھی۔ اس میں مَیں نے اردو وکی پیڈیا کے طرز عمل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، لیکن یہ پوسٹ اسی کام کے لیے وقف نہیں تھی۔ چناچہ موجودہ پوسٹ میں مَیں کچھ مزید عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا جو میری نظر میں اردو وکی پیڈیا کے طرز عمل کو انتہاپسندانہ بنادیتے ہیں۔
زبان بدلتی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہیں اب یہ بدلاؤ کہاں کہاں آسکتا ہے؟
یہ بدلاؤ زبان کے ہر لیول پر آسکتا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اور جلدی تغیر ذخیرہ الفاظ میں آتا ہے۔ ہر چند سال کے بعد، ہر چند کلومیٹر کے بعد زبان کا ذخیرہ الفاظ بدل جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، لیکن ایک مناسب فاصلے کے بعد خواہ وہ زمانی ہو یا مکانی، زبان میں ذخیرہ الفاظ کا ایک سیٹ دوسرے سیٹ سے بدل جاتا ہے۔ اس کی  وجہ سیاسی، سماجی یا لسانی کوئی بھی ہو، لیکن ایسا ہوتا ہے۔ اردو میں فارسی اور عربی نژاد الفاظ کی جگہ اگر انگریزی اور مقامی زبانوں کے الفاظ زور پکڑ رہے ہیں تو یہ اسی تغیر کی نشانی ہے۔ انگریزی تو خیر اب سیاسی برتری کی بھی حامل ہے چناچہ اس کے الفاظ اردو میں زیادہ استعمال ہورہے ہیں۔ دوسرے انگریزی تعلیم و ترقی کی بھی زبان ہے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
اس کے علاوہ صوتیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اردو کے حوالے سے اتنی مثال دینا چاہوں گا کہ اگر آپ انگریزی الفاظ کو اردو میں انگریزی لہجے کے ساتھ بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ایسے کسی ممکنہ تغیر کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے جس کے ذریعے اردو میں انگریزی کے مصوتے یعنی واؤلز داخل ہوجائیں گے۔ شاید آئندہ دس سالوں میں یا پچاس سالوں میں۔
تغیر کا عمل یہیں پر نہیں رک جاتا۔ زبان کی گرامر بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ میں آپ کو تاریخ کی بات نہیں بتاؤں گا کہ اردو نے کیسے عربی اور فارسی سے گرامر مستعارلی، اسم، فعل، صفت وغیرہ کی حالتیں وہاں سے حاصل کیں۔ میں آج کی بات بتاؤں گا جس کا میں مشاہدہ کرچکا ہوں۔ انگریزی کے پاسٹ رافی ایس سے تو سب واقف ہونگے۔ اسلم کی کار کو انگریزی میں اسلمز کار لکھا جائے گا نا۔ ایک کوما ڈال کر ساتھ ایس لکھ کر۔ تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ اسلم کی کار کو اردو میں بھی "اسلم'ز کار" لکھا  جارہا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی صرف  اشتہاراتی زبان میں ہے، اور سائن بورڈز پر نظر آتا ہے لیکن یہ کسی ممکنہ تغیر کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے جب اردو میں بھی "پاسٹ رافی ز" استعمال ہونے لگے۔
آپ کو شاید ان مثالوں پر ہنسی آئے یا آپ اسے دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ لیکن صاحب تغیر ایسے ہی آتا ہے۔ زبان ہر لیول پر اس سے متاثر ہوتی ہے۔ لفظ سے لے کر صوتیات اور گرامر تک۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ احساس ذخیرہ الفاظ کی تبدیلی سے زبان میں تغیر کا احساس ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زبان بدلنا اگر اتنا لمبا چوڑا کام ہے، یعنی ہر لیول متاثر ہوتا ہے، تو اگر ایک لیول یعنی ذخیرہ الفاظ بدل رہا ہے تواس میں ایسی کیا بات ہے؟ اردو کی گرامر تو نہیں بدل رہی؟ ہم انسٹال کو انسٹالڈ تو نہیں لکھ دیتے؟ انسٹال کرنا، انسٹال کیا، انسٹال کریں گے ہی لکھتے ہیں نا۔ صرف بنیادی لفظ یا سٹیم انگریزی سے حاصل کرتے ہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ تکنیکی اصطلاحات ہیں جو اردو میں پہلے سے موجود نہیں۔ چلیں فعل کو چھوڑیں ہم اسم کی بات کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ، کمپیوٹر، ویب، کی بورڈ، ماؤس۔۔۔ ان سب کو اردو میں لکھ دینے سے کیا ہوتا ہے؟ کیا اس سے اردو میں وسعت نہیں آرہی؟ کیا اردو میں پہلے سے ان تصورات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ تھے؟ نہیں تھے۔ اب اگر یہ مستعار لیے جارہے ہیں تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ اردو وکی پیڈیا پر بھی تو عربی فارسی سے الفاظ مستعار ہی لیے جارہے ہیں۔ یا نہیں؟ یہ جو فارسی نژاد اصطلاحیں بنائی جارہی ہیں، اور جن موجودہ یتیم و یسیر اصطلاحات کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے )جیسے احصاء جسے کیلکولس کی اردو کہتے ہیں، ہمارے ماہرین اس کی اردو کچھ اور ہی کررہے ہیں اس وقت یاد نہیں آرہی۔ ایسے ہی پرائم نمبر کو اردو میں مفرد عدد کہتے ہیں اس پر بھی اعتراض ہے( یہ سب اردو کے ذرائع استعمال کرکے بنائی جارہی ہیں؟  یہاں میری اردو سے مراد وہ اردو ہے جسے اردو کے اہل زبان سمجھتے ہیں۔ جو اصطلاحات بنائی جارہی ہیں اسے اردو کے اہل زبان نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی لنک کی بجائے ربط سمجھ جاتا ہے تو میں استعمال کرتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی ویب کی بجائے "بین جال" یا ایسی ہی کوئی جناتی اصطلاح نہ سمجھ سکے تو اس میں اُس بے چارے کا کیا قصور ہے۔ کہ وہ اردو جانتا ہے؟  ٹائی کی ہندی کسی نے کی "کنٹھ لنگوٹی"۔ موج ہے نا لیکن سارے ہندی بولنے والے اسے ٹائی ہی کہتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ صارف آسانی چاہتا ہے۔ ایک یک لفظی اسم کی بجائے آپ دو یا تین الفاظ کا ایک مرکب ہاتھ میں پکڑا دیں اور پھر وہ سمجھ بھی نہ آتا ہو تو صارف کو ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ اپنی زبان ٹیڑھی کرکے اسے پڑھے اور لکھے۔
تو میری مودبانہ گزارش ہے کہ جناب من، میرے ماہرین، میرے اساتذہ: آپ بہت اچھے لوگ ہیں۔ مجھ سے بھی زیادہ قابل اور صاحب علم۔ لیکن آپ کا طرز عمل طوفان کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے والا ہے۔ آپ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ زبان بدل رہی ہے۔ اور زبان اہل زبان سے ہوتی ہے۔ زبان ٹھونسی نہیں جاتی۔ زبان وہی زندہ رہتی ہے جو گلی محلوں میں اور لوگوں کی زبانوں پر ہوتی ہے۔ لغات اور اصطلاحاتی کتابیں زبان کا قبرستان بن جاتے ہیں۔ جن میں مردہ الفاظ کے کتبے بھی دیکھنا کوئی
پسند نہیں کرتا۔ میری دعا ہے کہ اردو وکی پیڈیا اردو کا ایسا ہی کوئی قبرستان نہ بن جائے۔
اور آخری بات یہ کہ ہمیں توجہ اس بات پر رکھنی چاہیے کہ صارف یہ سب سمجھ سکے اور آسان اردو میں سمجھ سکے۔ ہمیں اردو کو بطور تعلیم کی زبان ترویج دینا ہے ورنہ انگریزی تو پہلے ہی یہ مقام حاصل کرچکی ہے۔ ہم غیرشعوری طور پر یہ مان چکے ہیں کہ ہمیں پڑھنا انگریزی میں ہے، لکھنا اردو میں ہے اور بات کسی علاقائی زبان میں کرنی ہے، بولنا پنجابی میں یا سندھی میں یا بلوچی میں یا پشتو میں ہے۔ اسے میں ڈومین سیٹ ہونا کہتے ہیں، یعنی خاص مواقع کے لیے خاص زبان استعمال کرنا۔ اس پر پھر کبھی بحث کریں گے۔
وما علینا الا البلاغ۔

Read more...

زبان کا تغیر

Monday, November 30, 2009

تغیر یعنی بدلنا۔ صاحبو بدلنا زبان کا مقدر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج سے صرف دو سو سال پہلے تک بولی جانے والی زبانوں کا آج وجود بھی نہیں۔ اور وہ زبانیں جو تب بھی بولی جاتی تھیں اور آج بھی زندہ ہیں، وہ زبانیں بھی وہی نہیں جو تب تھیں۔ میں آپ کو بائبل کی مثال دیتا ہوں۔ سولہویں صدی میں جب اس کا لاطینی سے انگریزی ترجمہ ہوا تو اسے اس وقت کی روزمرہ کی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ ایسی زبان جو عامیوں کی تھی، میرے آپ جیسوں کی، جو گلی محلوں کی زبان تھی۔ آج چار صدیاں گزر جانے کے بعد زبان کا نام کیا ہے؟ انگریزی۔ لیکن اس کی ہئیت بدل چکی ہے۔ اس وقت کی عامی انگریزی اور آج کی عامی انگریزی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اہل زبان تو دور کی بات ہے آپ میں جو انگریزی کو بطور دوسری زبان یا تیسری زبان یا غیرملکی زبان کے جانتے ہیں، وہ بھی بائبل کی زبان کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ پرانی انگریزی ہے۔ جناب من یہی حال اردو کے ساتھ بھی ہوا۔ غالب کے زمانے کی اردو اور آج کی اردو، صرف ڈھیڑھ سو سال کا فاصلہ ہے لیکن ہر دو میں اچھا خاصا فرق موجود ہے۔ اجی دور کیوں جائیے یہی جسے آپ آج ثقیل اردو کہہ دیتے ہیں اس وقت کی روزمرہ تھی۔ لیکن وہ الفاظ کیا ہوئے؟ یا تو لغات میں حنوط شدہ ہیں یا سرے سے ہی ختم ہوگئے ہیں۔ آج اس اُردو کو بولنے والے گنتی کے چند بھی نہیں ہونگے۔
زبان کیوں بدلتی ہے؟ اس سوال کا جواب دینا شاید خاصا مشکل ہو۔ تاہم کچھ اندازے لگائے جاسکتے ہیں کہ جوں جوں جغرافیائی فاصلہ بڑھتا ہے زبان بدل جاتی ہے۔ یا جوں جوں کلچر اور ثقافت، ماحول بدلتا ہے تو اہل زبان کی ضروریات بھی مختلف ہوتی جاتی ہیں چناچہ زبان بھی ویسے ویسے بدلی جاتی ہے۔ یہی کلیہ وقت کے ساتھ بھی عمل کرتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے زبان میں نئی چیزیں آتی جاتی ہیں اور پرانی قصہ پارنیہ بنتی جاتی ہیں۔ جوں جوں ترقی ہوتی ہے نئے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے لیے زبان میں نئی اصطلاحات متعارف کرائی جاتی ہیں اور زبان بدلتی جاتی ہے۔ زبان بدلنے کی ایک اور وجہ بیرونی حملہ آوروں کا آنا بھی ہے۔ جیسے عربوں کی زبان یعنی عربی آج سے چند سو سال پہلے عربوں کے زیر قبضہ علاقوں میں گہرا اثر ڈالا اور آج بھی مسلمانوں کی اکثر زبانیں عربی سے مستعار شدہ رسم الخط استعمال کرتی ہیں اور ان کے ذخیرہ الفاظ میں عربی نژاد الفاظ کی ایک مناسب تعداد موجود ہے۔ جیسے دوریاں بڑھنے سے زبان بدلتی ہے ایسے ہی دو یا زیادہ زبانوں کا ملاپ ہو تو بھی زبان بدلتی ہے۔ ملنے والی زبانیں ایک دوسرے پر اثر ڈالتی ہیں، ایک دوسرے سے الفاظ لیتی ہیں اور ایک دوسرے کی گرامر کو حلقہ دام میں لے کر اس میں تبدیلیاں کردیتی ہیں۔ اردو کی تشکیل ایسی ہی ایک تبدیلی کی مثال ہے جب فارسی، عربی، ترکی اس وقت کی ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں آپس میں قریب آئیں۔
زبان کا بدلاؤ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ یہ بڑا تکنیکی سا سوال ہے لیکن جہاں تک میرا علم کہتا ہے زبان کا تغیر سب سے پہلے ذخیرہ الفاظ میں نظر آتا ہے۔ اس کے بعد گرامر، اس کی صوتیات اور دوسرے شعبے تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ 
زبان کا تغیر اور آج
اس پوسٹ کو لکھنے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو میں کچھ مشاہدات آپ سے شئیر کرنا چاہتا تھا جو میں نے ہماری مقامی زبانوں کے سلسلے میں کیے ہیں۔ دوسرے میں اردو وکی پیڈیا پر لکھی جانے والی اردو کے بارے میں اپنے علم کے مطابق کچھ تحفظات کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔
صاحبو تغیر زبان کا مقدر ہے۔ آج ہمارے سامنے جتنی زبانیں موجود ہیں یہ تغیر کے سلسلے میں ہی وجود میں آئی ہیں۔ یورپ کو دیکھیں تو کلاسیکی یونانی اور لاطینی کی جگہ وہاں اب بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جو کہ کسی نہ کسی طرح ان دو زبانوں سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن ان دادا زبانوں اور موجودہ یورپی زبانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انگریزی بھی کئی ساری زبانوں سے مل کر وجود میں آئی ہے۔ فرانسیسی، یونانی، لاطینی اور انگلستان کی کچھ مقامی زبانیں اس کی امائیں خیال کی جاتی ہیں۔
تغیر ہوتا رہا ہے، ہوتا ہے اور ہوگا بھی۔ لیکن جو تغیر آج ہورہا ہے یہ ماضی کے تغیر سے مختلف ہے۔ ماضی کا تغیر ایسے ہے جیسے بڑے بوڑھوں کی جگہ ان کی اولاد لے لیتی ہے۔ ماضی کے تغیر میں نچلے درجے کی ورائیٹیز اس وقت کی اعلی درجے کی ورائیٹیز کی جگہ لیتی رہی ہیں۔ (یہاں ورائٹی سے مراد ہر وہ زبان کی قسم ہے جو رنگ، نسل، وقت، شعبے کسی بھی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے۔ پٹواریوں کی زبان ایک ورائٹی ہوگی چونکہ ایک شعبے سے متعلق ہے، سترہویں صدی کی انگریزی ایک ورائٹی ہوگی چونکہ وہ آج کے وقت سے مختلف ہوگی، پاکستانیوں کی انگریزی آسٹریلین کی انگریزی سے مختلف ہوگی چونکہ ان کی نسل اور جغرافیہ مختلف ہے، ۔۔۔ایسے ہی کئی ورائیٹیز بنیں گی)۔ اس کی مثال اطالوی سے دی جاسکتی ہے جس نے اطالیہ میں لاطینی کی جگہ لی۔ اطالوی لاطینی سےہی وجود میں آئی لیکن یہ اس سے بہت مختلف ہے اور یہ اپنے ابتدائی دور میں بہت نچلے درجے کی زبان خیال کی جاتی تھی۔ یعنی اسے بولنا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔
آج کا تغیر مختلف ہے۔ آج کا تغیر سماجی برتری کی بنیاد پر وقوع پذیر ہورہا ہے۔ اس تغیر میں کوئی ورائٹی نیچے سے اوپر کی طرف نہیں آرہی بلکہ لوگ وہ ورائٹی اپنا رہے ہیں جو طاقتور طبقے کی زبان ہے یعنی انگریزی۔دنیا کی کسی بھی زبان کو تاریخ میں ایسے پروموٹ نہیں کیا گیا جیسے آج انگریزی کو کیا جاتا ہے۔ میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جس نے آج زبانوں کے تغیر کی آگ اتنی تیزی سے بھڑکا دی ہے کہ ماضی میں کبھی بھی ایسا نہ ہوا تھا۔ گلوبلائزیشن کا تصور اور دنیا کو ایک دیہہ سمجھنے کے آئیڈیے نے انگریزی سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت اور بڑھائی ہے۔ بزنس، تعلیم اور آپسی رابطوں کے لیے ایک زبان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے اور انگریزی اس کام کے لیے بہترین ہے۔ یہ طاقتور کی زبان بھی ہے اور اسے پروموٹ بھی کیا جاتا ہے، اسے سیکھا سکھایا بھی جاتا ہے چناچہ اسے تیزی سےاپنایا جارہا ہے۔
اس سب کا اثر کیا ہورہا ہے۔
اس سب کا پہلا اثر تو یہ ہورہا ہے کہ تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔ ایجادات انگریزی میں ہوتی ہیں۔ چناچہ دوسری زبانوں کو انگریزی سے الفاظ اور اصطلاحات مستعار لینی پڑتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو اردو وکی پیڈیا کی انتظامیہ ماننے کو تیار نہیں۔ لفظ صرف ایک لفظ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ معانی کا پورا جہان ہوتا ہے۔ وہ لفظ کس موقع پر اور کیسے استعمال کرنا ہے، بطور اہل زبان، یہ ہمارے علم میں ہوتا ہے۔ صارف جب کی بورڈ پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں فورًا کمپیوٹر کے کی بورڈ کا تصور آتا ہے۔ لیکن کلیدی تختہ؟ کلید یعنی چابی اور تختہ (تخت یا تختہ والا تختہ؟) اس اصطلاح میں ایک نئے تصور کو جو نام دیا گیا ہے ، اور جو ایک مرکب نام ہے، صارف کے لیے پہلی باری میں بلکہ کئی باری میں اس کو یہ معانی دینا بہت مشکل کام ہے۔ ہم تختے کو کمپیوٹر سے جوڑتے ہی نہیں، تختہ ہمارے لیے یا تو تخت یا تختہ والا تختہ ہے یا پھر مردے کو غسل دینے والا تختہ یا ایسی ہی کوئی چیز جو نفیس نہیں ہے، اور ٹیکنالوجی کے طو رپر ایڈوانس بھی نہیں ہے۔ اور کلید؟ یعنی چابی کسی دقیانوسی تالے کی چابی لگتی ہے، ماڈرن تالا تو کِی سے کھلتا ہے نا۔ آپ کو شاید ہنسی آجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر ہر لفظ کے ساتھ اس کے لغاتی معنی کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے تصورات وابستہ ہوتے ہیں، ان صورتوں کے حوالے جڑے ہوتے ہیں اور ان مقامات کے حوالے جڑے ہوتے ہیں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے، آسان الفاظ میں وہ سیاق و سباق کہ کہاں کہاں اور کیسے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں عادت نہیں ہوتی کہ ہم ایسے الفاظ کو ایک جگہ سے اُٹھا کر کسی دوسری جگہ فٹ کریں اور استعمال کریں۔ چناچہ کیا ہوتا ہے؟ صارف ایسی کسی بھی تبدیلی کو مسترد کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو وکی پیڈیا پر موجود مضامین ہمیں اتنے مشکل، ثقیل اور ناقابل فہم لگتے ہیں کہ ہم انگریزی وکی پیڈیا سے معلومات کو اس سے زیادہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔  اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم پھر اپنی زبان میں علم کی ترویج ہی چھوڑ دیں؟ ہمارے خیال سے ہمیں زبان کے بارے میں پالیسی بنانی ہوگی اور اس کے لیے ہمارے پاس ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جس کا کام وہ ہو جو مقتدرہ قومی زبان کا ہے اور جو وہ سب کچھ نہ کرے جو مقتدرہ اب کررہا ہے یعنی بندے کے پتروں کی طرح دیانت داری سے اردو کی ترویج کرے، اصطلاح سازی کرے اور اردو میں علم کی ترویج کو یقینی بنائے۔ اردو وکی پیڈیا کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اردو زبان کی پالیسی سازی کرے اور نہ ہی اردو وکی پیڈیا ایسی کسی بھی پالیسی سازی کو رائج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے اردو وکی پیڈیا کے اختیار کو کوئی نہیں مانے گا نا۔ وکی پیڈیا کا مقصد علم کی ترویج ہے اور اردو وکی پیڈیا کو چاہیے کہ وہ یہ کام کرے، اردو میں کرے اور ایسی اردو میں کرے جسے اردو والے سمجھتے ہیں۔ فارسی اور عربی کے دقیق الفاظ کو اردو میں رائج کرنے کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ یہ 1857 نہیں ہے اور نہ ہی یہاں اردو کے ساتھ فارسی دان بیٹھے ہیں جو پڑھتے تو فارسی تھے اردو شغل میں خود ہی آجاتی تھی کہ روزمرہ کی نچلے درجے کی زبان تھی جبکہ فارسی شرفاء کی زبان تھی ( اس وقت)۔ 
دوسرا اثر یہ ہورہا ہے کہ علاقائی زبانیں گھٹ رہی ہیں۔ ان کے بولنے والے کم ہورہے ہیں۔ کثیر لسانی یعنی ایک سے زیادہ زبانیں جاننا دنیا میں ایک عام سی بات ہے۔ لیکن ہم بطور صارف اپنی آسانی کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ چناچہ اگر کام انگریزی سے چل رہا ہے، اور یہ اعلٰی طبقے کی زبان بھی ہے تو نچلے درجے کی زبانیں کیوں سیکھی جائیں؟ یہاں نچلے درجے کی زبان سے مراد اس کا سماجی رتبہ ہے، لسانیات کے حساب سے تمام زبانیں برابر ہیں کوئی بھی اچھی یا بری نہیں۔ ہر زبان کا مقصد ہوتا ہے اور وہ بہ احسن وہ مقصد پورا کرتی ہے چناچہ کسی تیسرے کو یہ اختیار نہیں کہ زبان کو برا یا اچھا کہے۔ آج دنیا میں یہ رواج بہت تیزی سے وقوع پذیر ہے کہ انگریزی بچوں کو بطور پہلی زبان سکھائی جائے۔ پڑوسی ملک بھارت میں ہندی کی جگہ تیزی سے انگریزی لے رہی ہے۔ بلکہ ایلیٹ کلاس تو اپنے بچوں کو انگریزی مادری زبان کے طور پر سکھا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ رجحان تیزی سے فرو غ پارہا ہے۔ انگریزی مادری نہیں تو دوسری سیکھی جانے والی زبان بن رہی ہے، میری مراد اشرافیہ طبقے سے ہے۔ جبکہ درمیانے تعلیم یافتہ طبقے میں یہ رجحان فروغ پارہا ہے کہ بچوں کی مادری زبان اردو ہو۔ چاہے ماں باپ کی مادری زبان پنجابی یا کوئی اور علاقائی زبان ہے۔ چناچہ اب حالات یہ ہیں کہ دادا دادی اور اماں باوا آپس میں پنجابی میں بات کرتے ہیں اور بچوں سے اردو میں۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ یہ نہیں کہ بچے اردو کی وجہ سے پنجابی سمجھ نہیں رہے۔ سمجھتے ہیں، بات کرو تو پنجابی میں جواب بھی دیتے ہیں لیکن یہ ان کی ترجیحی زبان نہیں۔ وہ اردو میں بات کرتے ہیں، انھیں پنجابی کی ضرورت ہی کیا ہے جب اردو یہ مقصد پورا کرتی ہے تو۔ چناچہ یہ نسل پنجابی سمجھ سکتی ہے۔ اگلی نسل؟ بالکل اگلی نسل پنجابی نہیں سمجھ سکے گی چونکہ ان کے ماں باپ اردو کے اہل زبان ہونگے۔ اور اگلی دو نسلوں میں پنجابی انا للہ ہوجائے گی۔ دوسری طرف انگریزی اشرافیہ اور درمیانے دونوں طبقوں میں تیزی سے اردو کی جگہ لے گی اور اردو رابطے کی زبان سے عامیوں کی زبان بن جائے گی جبکہ انگریزی رابطے کی زبان اور اعلٰی درجہ رکھنے والی زبان ہوگی۔ تغیر آرہا ہے لیکن یہ تغیر الٹی سمت سے آرہا ہے۔ نیچے سے اوپر کی بجائے اوپر سے ٹھونسا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے علاقائی زبانیں اقلیت بن رہی ہیں اور ایک دن وہ بھی آئے گا کہ دو سو تین سو لوگ رہ جائیں گے جو یہ زبانیں سمجھ سکتے ہونگے۔ جیسا آسٹریلیا میں وہاں کے باشندوں کی زبانیں مریں اور امریکا میں ریڈ انڈینز کی۔ تغیر کی اس یلغار کو روکنے کے لیے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔
یاد رہے لغات اور اصطلاحات کے ڈھیر، اور مردہ الفاظ میں علم کی ترویج کرکے ہم اپنی زبانوں کو زندہ نہیں مردہ کررہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ تغیر زبان کا مقدر ہے، تغیر دریا ہے جس کے آگے بند باندھیں گے تو اور سمت سے راستہ بنا لے گا۔ لیکن یہ تغیر ایسا نہ ہو کہ ہماری زبانیں ہی مٹ جائیں۔ ہمیں زبانوں کو بچانے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ورنہ تغیر کی یہ یلغار اتنی تیز ہے کہ اگلے دس سال میں بہت کچھ بدل چکا ہوگا۔

Read more...

بڑی عید

Saturday, November 28, 2009

لو جی اللہ والیو۔ عید کو کِلؑی پر ٹنگے تھوڑی دیر میں بارہ گھنٹے ہوجائیں گے۔ آج صبح سات بجے نہا کر، ناشتا کرکے آٹھ بجے ہم نے نماز پڑھی جو سوا آٹھ تک چلی۔ دو چار لوگوں سے عید ملے اور گھر آکر عید کو کھونٹی پر ٹانگ دیا۔ تب سے وہیں لٹکتی ہے اور موج کرتی ہے۔ اور ہم ایک عدد ہندی فلم دیکھ کر، مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ برفیلی بلندیاں پڑھ کر اور انٹرنیٹ پر بیٹھ بیٹھ کر موج کرتے ہیں۔ اگرچہ اس بیٹھنے کی وجہ سے ہماری تشریف اب بے چین ہوتی ہے اور ہمیں ٹہوکے بھی دیتی ہے کہ اٹھ بھی جایا کرو کبھی لیکن ہم اب بھی بیٹھے ہیں کہ ایک پوسٹ لکھ ہی لیں۔ اس کے بعد اُٹھ جائیں گے۔
پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ہمارے ہاں قربانی نہیں تھی۔ جیسا کہ اکثر ہمارے جیسے پاکستانیوں کے ہاں نہیں تھی کہ پندرہ ہزار کا بکرا لیتے یا مہینے کا خرچہ چلاتے۔ تو ہم نے مہینے کا خرچہ چلانےکو ترجیح دی۔ قربانی نہ ہو تو ایویں ذرا شرمندگی سی ہوتی ہے سو ہم آج باہر بھی نہیں نکلے کہ سب مصروف تھے تو ہم ذرا ویلے ویلے سے نویں شلوار قمیض میں اوپرے اوپرے سے لگتے۔
آج بہت عرصے بعد مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ عید کی۔ اس کا سفرنامہ برفیلی بلندیاں پڑھا جس میں اس کے دو عدد سفروں کی داستان ہے۔ مستنصر حسین تارڑ سفرنامے کو افسانہ بنا دیتا ہے، فکشن میں ڈھال دیتا ہے۔ عام سے پتھروں بھرے راستے کو جنت کی خوبصورتی عطاء کردیتا ہے، خود تو تخیل میں ٹھوکریں کھاتا ہی ہے میرے جیسے قاری کا بیڑہ بھی غرق کرتا جاتا ہے۔ لیکن بے مثال لکھتا ہے۔ جتنا بھی لکھتا ہے اچھا لکھتا ہے اور اسے پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ ایویں پڑھتے جانے کو دل کرتا ہے۔ اس کا انداز تحریر آپ دور سے پہچان لیں گے، لو جی مستنصر حسین تارڑ آگیا۔ ایک تو اس کی آدھی کتابیں شمالی علاقہ جات کے سفرناموں پر مشتمل ہیں دوسرا اس کا اُسلوب۔ اس کا انداز بیان عجیب سا ہے۔ جب ڈسکرپشن دینی ہوتی ہے تو  فعل مطلق استعمال کرتا ہے، فعل ماضی مطلق یعنی تا تھا، ، تے تھے، تی تھی۔ اور جب واقعات قلم بند کرتا ہے تو سادہ فعل ماضی میں اتر آتا ہے۔ لسانیات کا طالب علم ہونے کے ناطے مجھے اس کا اُسلوب اپنی طرف کھینچتا ہے۔ کبھی زندگی رہی تو اس کے اُسلوب کا تجزیہ کروں گا۔ یہ کیسے زبان کے ساتھ کھلواڑ کرکے اپنا انداز بیاں تخلیق کرتا ہے۔ اردو کے لکھاریوں میں تارڑ اور محی الدین نواب دو ایسے نام ہیں جن کی تحریر میں دو جملوں میں پہچان جاتا ہوں۔ کہ یہ وہی ہے ہاں وہی ہے۔ اس کی وجہ ان کا زبان کو اپنے انداز سے بیان کرنا ہے اور واضح علامات چھوڑنا ہے۔ اُسلوب تو ہر لکھاری کا ہوتا ہے لیکن مجھے ان کا اُسلوب پہچاننے میں آسانی شاید اس لیے ہوتی ہے کہ یہ فعل یعنی زمانے کو خاص انداز میں پیش کرتے ہیں۔ فعل سے میری مراد انگریزی والا ٹینس ہے۔
لو جی بات عید سے شروع ہوکر ادبی اُسلوبیات تک آپہنچی۔ چلو چھڈو جی۔ ہور سناؤ۔ عید کیسی گزری آپ کی؟ اس بار عید مبارک کہنا ہی بھول گیا۔ چلو اب سہی۔ عید مبارک۔ آپ سب پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں اور آپ کی قربانیاں اللہ قبول کرے۔
آمین۔

Read more...

  © Free Blogger Templates Columnus by Ourblogtemplates.com 2008

Back to TOP