ہفتہ، 23 جولائی، 2016

مرد

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 3:21 بعد دوپہر ,
پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔

مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔

فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔

ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔

اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین

ہفتہ، 2 جولائی، 2016

اردو محفل فورم کی گیارہویں سالگرہ پر

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 3:28 بعد دوپہر ,
عرض کیا ہے کہ
وہ بھی کیا دن تھے
جب ہم جِن تھے
اب ہم چھوٹے موٹے ہی سہی
دیو ہیں
یعنی
جِنوں کے پیو ہیں
قصہ 2005 کے اواخر 2006 کے اوائل کسی وقت کا ہے۔ جب ہم اتنی ہی صحت، کچھ کم وسیع متھا شریف اور متھا جمع بُوتھا شریف پر ذرا کم کم جُھریوں کے حامل تھے۔ بی کام تقریباً کر لیا تھا۔ اور اس کے بعد کیا کرنا ہے، کچھ نہیں پتہ تھا۔ عرصہ کئی برس سے کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی کوششیں فرما رہے تھے۔ ان دنوں یاہو اور ایم ایس این نیٹ ورک کی چَیٹ سروس بڑی مقبول تھی۔ اور ہم ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کے تیار کردہ سافٹویئر اردو لنک میسنجر کو استعمال کر کے اردو میں چَیٹنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔ بس انہیں دنوں کا قصہ ہے کہ ہمیں اعجاز عبید صاحب کے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کا پتہ چلا۔ اور پھر ایک نئے اردو فورم "اردو محفل" کی بھنک پڑی۔ اور ہم اس پر جا پدھارے۔

میرا خیال یہ فورم قائم ہوئے کوئی چھ ماہ کا عرصہ ہو چلا تھا۔ فورم کے ممبران کی بڑی تعداد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تھی۔ ہندوستانی احباب بھی چند ایک موجود تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ اردو بلاگ بھی لکھتے تھے یا بعد میں لکھنے لگے۔ تو یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب ہم ذرا جوان شوان تھے، اور اردو کے لیے بہت کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار تھے۔ آج سے گیارہ برس قبل یہ فورم ایک عملی ثبوت تھا کہ کمپیوٹر پر اردو لکھی جا سکتی ہے۔ ہم اتنے خوش تھے کہ کئی ایک پراجیکٹ شروع کرنے کی ٹھانی۔ ایک لائبریری جس میں اردو کی کلاسک کتابیں ٹائپ کر کے رکھی جائیں۔ تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے اردو متون کمپیوٹر پر دستیاب ہوں۔ اس کے لیے ہم نے ایک عدد کتاب ہاتھ سے ٹائپ فرمائی اور پھر ایسے بھاگے کہ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ شاید ایک آدھ اور کسی کام میں بھی حصہ لیا ایک اردو فہرستِ الفاظ کی تیاری میں کچھ ہاتھ بٹایا (جسے بعد میں اوپن آفس میں اردو املاء یعنی سپیل چیکنگ کے لیے استعمال کیا گیا)، لائبریری پراجیکٹ کے لیے ایک آدھ سافٹویئر (جسے بعد میں کبھی اپڈیٹ نہیں کیا) جس کا کام امیج کو دیکھ کر ٹائپنگ میں مدد دینا تھا، اور پھر خاموشی کے طویل وقفوں کے بعد کبھی کبھی کفن پھاڑ پوسٹنگ (ادھر اُدھر سے اکٹھی کر کے کچھ اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغات ڈیٹابیسز کی تیاری وغیرہ)۔ عرصہ ساڑھے دس برس کا یہی خلاصہ ہے۔

ان گیارہ برسوں میں اس فورم نے اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے کئی ایک کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ اس کے اراکین نے ویب پر نستعلیق کی فراہمی سے لے کر کرننگ، اور کئی ایسے سافٹویئر بنانے کا کام سرانجام دیا جو کمیونٹی ڈویلپمنٹ ماڈل کے تحت اردو کمپیوٹنگ کے فروغ کا باعث بنے۔ یہ فورم انٹرنیٹ پر اردو کے عروج کے معماروں میں سے ہے۔ اس کا حصہ رہنا میرے لیے باعثِ فخر رہا ہے اور رہے گا۔ آج مجھے وہ رونق نظر نہیں آتی جو پانچ سات برس قبل اس کا خاصا تھی، بہت سے آشنا چہرے کسی اور منزل کے راہی ہو چکے ہیں، انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا سائٹس کی مقبولیت نے بلیٹن بورڈ فورمز کے بل پر اپنی یوزر بیس میں اضافہ کیا ہے، لیکن پھر بھی ایسے فورمز کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انٹرنیٹ کے لامحدود خلاء میں یہ چھوٹی چھوٹی انسانی بستیاں اپنائیت کا احساس دلاتی ہیں۔ اس تیز رفتاری سے بدلتی دنیا میں یہ بستیاں ہمارے ماضی (سمجھ لیں کہ انٹرنیٹ کے دس برس شاید عام زندگی کے پچاس یا سو برس ہیں) کی یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے ابتدا کہاں سے کی تھی۔ جب تک انٹرنیٹ ہے ہماری کوشش رہے گی کہ ایسی بستیاں آباد رہیں۔ ہم کہیں بھی چلے جائیں، واپس لوٹ کر یہاں ضرور آتے ہیں۔ اس بستی سے کچھ ایسی محبت ہے کہ یہاں کسی سے کلام نہ بھی کریں، چپ چاپ کسی گلی کوچے میں بیٹھے رہنا، آتے جاتے رہنا، اور پنجابی والی جھاتیاں مارتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ اللہ اس فورم کو آباد رکھے۔ اس بستی کو سلامت رکھے کہ اس کے در و دیوار پر ہماری آپ کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔

بدھ، 11 مئی، 2016

مہلت

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:24 قبل دوپہر ,
زندگی مہلت نہیں دیتی۔ ہے نا؟
ہر کسی کو بس روز و شب گزارنے اور کام کاج نپٹانے کا لالچ ہوتا ہے۔ اسی لالچ میں 24 گھنٹے گزر جاتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں کے ساتھ اگلا لالچ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ منحوس چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔ سیانوں نے سچ کہا ہے۔ جب احباب ساتھ ہوں تو وہی زندگی ہوتے ہیں۔ جب ساتھ نہ رہے تو ایک اور طرح کی زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ دوستوں کے حلقے ٹوٹتے بنتے یونہی زندگی گزرتی جاتی ہے۔ اور ایک دن ایک اکیلا جیسے آیا تھا ویسے ہی مٹی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اور یہی زندگی ہے۔

ان دوستوں کے نام جو کبھی میری زندگی کا حصہ تھے۔ لیکن زمان و مکان کی گردشوں نے ہمیں اتنا دور کر دیا کہ شاید ہی کبھی ملاقات ہو سکے۔

سوموار، 9 مئی، 2016

بہار کی شام

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:43 قبل دوپہر ,
آج کا سورج اپنی آخری سانسوں پر آ  کر آسمان کو سرخ کیے ہوئے ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ماند پڑتی روشنی منظر کو دھیرے دھیرے رنگین سے بلیک اینڈ وائٹ میں منتقل کرتی جاتی ہے۔ ابھی مغرب کو عازمِ سفر ایک طیارہ سورج کی روشنی میں کسی غیر ارضی جسم کی طرح نظر آ رہا تھا، اور ابھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ پتوں سے بوجھل درخت ہوا سے ایسے لہلہاتے ہیں جیسے فقیر کو توقع سے بڑھ کر خیرات مل جائے تو وہ جھوم اُٹھتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اس تاریک پڑتے منظر میں نہ ہو تو دنیا گونگی ہو جائے۔

یہ منظر میری حسِ بصارت اور حسِ سماعت سے ٹکرا کر اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ میں کامن روم کی بالکنی میں جا کھڑا ہوتا ہوں۔ اور تب مجھ پر اس منظر کی ایک اور جہت کھُلتی ہے، سوندھی سوندھی سی خوشبو۔ میرے وطن میں جب رُکھوں (رُکھ= درخت، شجر) پر بہار اترتی ہے تو بُور (ننھے پھول) کھِلتا ہے۔ ٹاہلی کے پھول، نیم کے پھول اور دھریک کے پھول۔ ان پھولوں کی مہک بھی ایسی ہی جاں فزا ہوتی ہے، سوندھی سوندھی، ہلکی ہلکی اور مسلسل۔ اس اجنبی دیس کی اجنبی فضاؤں میں گھُلی یہ مہک جب میری سانسوں سے ہم آغوش ہوتی ہے تو میں بے خود ہو کر اپنے دیس، دور اپنے سوہنے دیس اُڑ جانے کے لیے مچل اُٹھتا ہوں۔ لیکن میں ایک پر کٹا پرندہ صرف پھڑپھڑا کر رہ جاتا ہوں۔

لیکن میری سوچ کی اُڑان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مہک، یہ بو باس مجھے ان گلی کُوچوں میں، کھیت کھلیانوں میں لے جاتی ہے، اس وقت میں لے جاتی ہے جب میرے دیس میں بہار اترتی تھی۔ اور دھریک پر ننھے ننھے پھول کھلا کرتے تھے۔ اور ان کی مست کر دینے والی خوشبو گرد و نواح کو مہکا دیتی تھی۔ کہتے ہیں کہ مہک اور بو باس کے ساتھ بھی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ خوشی اور غم کے احساسات منسلک ہوتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں کہوں تو مالیکیول جب ایک خاص تناسُب سے نتھنوں سے ٹکراتے ہیں تو خاص قسم کے برقی سگنل پیدا کرتے ہیں۔ جو دماغ میں عصبی خُلیوں کو متحرک کر دیتے ہیں۔ مہک محسوس کرواتے ہیں۔ اور اس سے وابستہ یادوں کو بیدار کر دیتے ہیں۔ آج ، اس وقت، یہ دھیرے دھیرے اترتی شام، گزرے برسوں کی بہاروں کی ان ہزاروں شاموں میں سے ایک شام بن کر مجھ پر اترتی ہے۔ اور میں اس خوشبو کو سانسوں میں بسا کر، پہلی تاریخوں کے ہلال کو دیکھ کر، اپنے رب سے اُس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔

بدھ، 4 مئی، 2016

دس منٹ

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:46 قبل دوپہر ,
"اچھا وقت کتنی جلد ختم ہو جاتا ہے نا؟"، اس کے لہجے میں شکوہ نُما سوال چھُپا تھا۔
"وقت بھلا کہاں رُکتا ہے۔" جواباً میری افسوس زدہ سی آواز بلند ہوئی تھی۔
ابھی بسیں چلنے میں کچھ وقت تھا۔ ڈرائیور باہر کھڑے متوقع نظروں سے شرکاء کو دیکھ رہے تھے۔ ابھی اُمید باقی تھی، کہ ابھی وہ لمحہ نہیں آیا۔ کچھ لوگ الوداعی کلمات ادا کر کے سوار ہو چکے تھے۔ اور کچھ ہم جیسے لوگ جیسے کسی معجزے کے منتظر تھے، شاید ہونی ان ہونی ہو جائے۔ یا شاید چند لمحے اور چُرانے کے لالچ میں حقیقت سے آنکھیں چُرا رہے تھے۔
"مجھے فیس بُک پر ایڈ کر لینا یاد سے۔" اس نے تاکیداً کہا۔
"میں جلد ہی تمہارے شہر آؤں گا۔ اپنا شہر گھماؤ گی نا؟" میں نے غیر محسوس انداز میں بات پلٹی۔
"ہاں، ہاں ضرور۔۔۔" اس کی آنکھیں یکدم چمکیں اور آواز میں اُمید کی کھنکھناہٹ در آئی۔
دس منٹ، دس صدیاں تھے یا دس لمحے۔۔۔ گزرنے کا احساس تب ہوا جب ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھال لیا۔ مہلت ختم ہو گئی۔ اب جانا تھا۔ میں نے آخری بار اس کا ہاتھ دبایا۔ آخری مرتبہ نظریں ملیں، ایک دوسرے کے خال و خد جیسے حفظ کرنے کی آخری کوشش ہوئی۔ اور پھر میں کچھ کہے بغیر بس کی جانب پلٹ آیا۔
"اپنا خیال رکھنا۔۔۔" پیچھے سے اُس کی آواز میں لرزاہٹ اُتر آئی تھی، یا میرا وہم تھا۔
"تُم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔" میں نے مُڑے بغیر کہا۔ اور بس میں سوار ہو گیا۔
میں نے دانستہ دوسری طرف کی نشست چُنی۔ دوبارہ نظر پڑتی تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھُوٹ سکتا تھا۔ بس چل پڑی۔
"وہ بھی اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئی ہو گی۔" میں نے سوچا۔
اور میرا ہاتھ موبائل سے کھیلنے لگا۔ "فیس بُک پر ایڈ کر لینا۔۔۔"۔ اُس کی ہدایت یاد آئی لیکن میں نے سُنی ان سُنی کر دی۔
اب میرے سامنے تصاویر تھیں۔ کانفرنس کے پہلے دن جب ہم ملے تھے۔ چائے پیتے ہوئے، لنچ کرتے ہوئے، لیکچر سُنتے ہوئے، اور پھر ان تصویروں میں وہ بھی آ شامل ہوئی تھی۔ اگلے دن چائے پر، لنچ پر اور پھر ڈنر پر جب ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اس نے ہاتھ میں سرخ وائن پکڑے جام سے جام ٹکراتے ہوئے مُجھے ٹوکا تھا "میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔" اور میں نے خجل ہو کر دوبارہ سے وہ عمل دوہرایا تھا۔ اُس کی مُسکراتی آنکھیں، جن کا سحر جوان ہوتی رات کے ساتھ ساتھ جوبن پر آتا چلا گیا تھا۔ اور پھر موسیقی کی لے تیز ہوئی تو اس نے مجھے بھی ساتھ کھینچ لیا تھا۔ میری رقص کرنے کی کوشش میں ناکامی پر اس کی رقص سکھانے کی کوشش بھی جب ناکام ہوئی، تو ہمارے مشترکہ قہقہے۔ اور پھر ڈی جے نے جب بھنگڑا میوزک لگایا تو ہر کسی کا مُڑ مُڑ کر میرا ذرا کم لڑکھڑاتا اور اس کا بہت زیادہ لڑکھڑاتا ہوا بھنگڑا دیکھنا۔۔۔اور پھر ہماری نقل کی کوشش کرنا۔۔۔ناکام ہونا اور پھر ہمارا کھِلکھِلانا۔۔۔۔
ان سب یادوں کے کچھ عکس محفوظ تھے۔ جیسے کوئی مووی چلتے چلتے رک گئی ہو اور کلک کرنے پر دوبارہ چل جائے، یونہی لگتا تھا کہ یہ منظر دوبارہ چل پڑے گا۔ میں نے ایک آخری بار اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اور اس کے عکس حذف کر دئیے۔
"کاش کسی طرح اپنی یادوں سے بھی اس کے عکس مٹا سکتا"، میں نے موبائل بند کرتے ہوئے تمنا کی۔
بس آٹو بان پر فراٹے بھرتی میرے شہر کی طرف رواں تھی۔ دھوپ بھرا روشن منظر بس ایک لحظے کے لیے دھندلایا تھا۔ اور "آنکھ میں کُچھ پڑ گیا ہے"، بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھیں رگڑ ڈالی تھیں۔
---
بابا مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک تحریر۔ کرداروں اور مقامات کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔