انڈونیشیا کے ایک صوبے مشرقی تیمور کی علیحدگی والی ساری کہانی آج جنوبی سوڈان میں دوہرائی جارہی ہے۔ کافی عرصے سے تشدد کی خبریں میڈیا میں آرہی تھیں اور آج یہ خبر پڑھی ہے۔
خرطوم ۔ سوڈان کی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس سے جنوری میں جنوبی سوڈان کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو گئی ہے بل کے مطابق ریفرنڈم میں جنوبی سوڈان کے 60 فیصد قحط افراد کا حق رائے دہی میںحصہ لینا ضروری ہے ۔ اگر 30 فیصد سے زیادہ افراد نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے تو جنوبی سوڈان شمالی سوڈان سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ شمالی سوڈان زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل ہے جب کہ جنوبی سوڈان میں مسیحی اور دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں ۔ سوڈان کے تیل کے زیادہ تر ذخائر اس کے جنوبی علاقے میں ہیں
اس ریفرنڈم کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جنوبی سوڈان الگ ہوجائے گا۔ سوڈان پہلے ہی غریب مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، تیل کے ذخائر جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سے ہمیں عبرت حاصل ہونی چاہیے جو بلوچستان کے معاملے پر آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک میں علیحدگی پسند عناصر کو کتنا سپورٹ کرتی ہیں۔ جبکہ کشمیر کے معاملے میں اس کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔
Read more...