جمعرات، 2 فروری، 2017

ایک خواہش

2 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 11:41 PM ,
یہ وسطی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں سے ہم باہر نکل رہے ہیں۔ نہر کا پُل پار کرتے ہی بائیں طرف کو ایک سڑک مُڑتی ہے۔ چھ سات فٹ چوڑی یہ سڑک جو پچھلی سے پچھلی سرکار نے بنا کر دی تھی اب عمر کے اس حصے میں ہے کہ ہموار چلتے چلتے اچانک غوطہ کھا جاتی ہے۔ کہیں سے تارکول اور بجری اڑ گئی ہے، کہیں سے پتھر بھی داغِ مفارقت دے گیا ہے اور وہاں ایک گھاؤ منہ پھاڑے اپنے شکار کا منتظر ہے۔ اور اگر سڑک سے بے وفائی کر کے کچے میں نہ اترا جائے تو اس کی بوڑھی ہڈیوں کا درد جیسے سواری سے ہوتا ہوا سوار کے اندر تک اترتا چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر نہر کے ساتھ چلنے کے بعد سڑک دائیں مڑ کر اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں اور بیچ میں یہ ادھڑی ہوئی پٹی جس پر سواری چلتی جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر یہ ٹکڑا ختم ہوتا ہے تو ایک نسبتاً نیا ٹکڑا شروع ہو جاتا ہے جو موجودہ صوبائی سرکار کے ازحد کرم کا نتیجہ ہے۔ سواری کچھ تیز ہوتی ہے اور پھر پنجاب کے دیہی علاقوں کا منظر ابھرنے لگتا ہے۔ درمیان سے گزرتی سڑک، ایک جانب اسکول، دوسری جانب دوکانیں اور پنجاب کی مٹی کے رنگ جیسے گندمی لوگ، جنہیں اب ایسی سواریاں دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ کچھ برس پہلے تک جہاں فصلیں تھیں اب وہاں کچی گلیاں اور پکی اینٹوں سے اٹھائی کچی دیواروں کے مکان کھڑے ہیں۔ یہ مکان بھی لیکن کچھ دیر بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور کھیت منظر میں واپس چلے آتے ہیں۔ سڑک چلتی جاتی ہے اور سڑک کے ساتھ سواری اور سوار، اور پھر چلتے چلتے کچھ کہے سنے بغیر وہ سڑک کو چھوڑ کر ایک اور دیہے کی جانب مُڑجاتے ہیں۔ سڑک کو شاید ایسی الوداعی ملاقاتوں کی اب عادت ہو گئی ہے، وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور سوار پکی اینٹوں والی کچی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سواری رکتی ہے، اور سوار اتر تے ہیں۔ تیس کے قریب پہنچتی عمر کے دو جوان اور  بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی ایک خاتون۔ پکی اینٹوں لیکن گارے کی کچی دیواروں سے بنے مکان کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم اندر داخل ہوتے ہیں۔ ایک طویل گلی ہے، جس کے بعد ایک مختصر سا کچا قطعہ اور پھر پکی اینٹوں کا فرش ہے۔ ایک طرف بیری کا درخت چھاؤں کیے ہے دوسری طرف بوڑھی کنیر کا پھولدار درخت ہے۔ اور ان کی چھاؤں میں ایک ہڈیوں بھرا وجود، جس میں آنے والوں کو دیکھ کر جیسے زندگی بھر گئی ہے، دئیے کی سی ٹمٹماتی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی ہے ، چارپائی سے اٹھنے کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی بیٹی کے بیٹوں کو پیار دیتا ہوا ، اپنی بیٹی سے ملتا ہوا یہ وجود میری نانی اماں، میری ماں کی ماں جن کے توانائی بھرے، متحرک وجود کی یادیں میرے ذہن کی تختی پر کندہ ہیں، اور آج ان کا وجود کتنا اجنبی ہو گیا ہے۔ جیسے اصل کا صرف سایہ باقی رہ گیا ہو۔

بیس برس پیچھے چلتے ہیں۔ وہی مکان ہے، ویسی ہی لمبی گلی ہے، صحن ابھی کچا ہے، تین کمروں کے سامنے ابھی برآمدہ تعمیر نہیں ہوا، کنیر ہے لیکن بیری ابھی نہیں ہے، ایک سایہ دار دھریک کا درخت گرمیوں کی اس شام اندھیرے میں سیاہ وجود سمیت کھڑا  ہے۔ کچے صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں اور ایک طرف ایک بوڑھا وجود لیٹا ہے۔ اور اس کے قریب چند جوان مرد اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ایک خاتون، اس سے محوِ کلام ہیں۔ بوڑھا وجود میری والدہ کی دادی اور ان کی بیٹی اور ان کے بچے، جنہیں دیکھ کر اس بوڑھے کی وجود کی آنکھوں میں بھی روشنی اترتی ہو گی، جن کے قدموں کی چاپ پر وہ بھی اٹھ بیٹھنے کو بے تاب ہوتی ہوں گی، جن کے چلتے پھرتے، متحرک اور توانائی بھرے وجود کی یادیں ان جوان بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوں گی۔

حال میں واپس آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر زیرِ گردش ہے، ایک بوڑھا وجود، چارپائی پر غربت اور پیرانہ سالی کی چادر تلے چھپے ایک اور بوڑھے وجود کے ہمراہ ہے۔ ایک اور تصویر میں وہ اسے کھینچتا ہوا لے جا رہا ہے۔ کسی نے یہ تصویر شیئر کر رکھی ہے، کسی نے اس کے نیچے سرکار کو گالیاں لکھ رکھی ہیں۔

تین منظر ہیں، لیکن کردار یکساں ہیں پیرانہ سالی، دکھ، بے کسی، لاچاری، محتاجی۔ کہیں یہ لاچاری اولاد نے کچھ سنبھال رکھی ہے کہیں ہسپتالوں اور سڑکوں پر رُل رہی ہے۔ اور دیکھنے والی آنکھ جب یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو پالنے والے سے اپنے اور ان کے لیے پناہ اور رحم مانگتی ہے۔ ان کے آخری دن آسان کرنے کی دعا مانگتی ہے۔ کریم نے اپنے آخری نبی ﷺ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے اپنے پاس بلا لیا، بڑھاپے کی لاچاری سے محفوظ رکھا۔ لیکن جو بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ اپنی جان تو نہیں لے سکتے۔ انہیں تو لکھی ہوئی زندگی گزارنا ہے۔ یہ زندگی کیسے گزرے گی، ترس ترس اور سسک سسک کر یا کچھ آسانی کے ساتھ، آج حضرتِ انسان کو ٹیکنالوجی اور ایجادات نے جو سہولیات مہیا کر دی ہیں ان کے استعمال سے یا چارپائی پر پڑے اولاد یا سرکار کی طرف دیکھتے ہوئے، معذوری کی حالت میں۔ چند دن قبل ایک خبر نظر سے گزری کہ جرمن آمر ہٹلر کے پراپیگنڈہ وزیر گوئبلز کی سیکرٹری 106 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ یہ مائی اتنا عرصہ جی، سوال اٹھا کہ کیا ایسے ہی جی ہو گی جیسے میرے وطن میں بزرگ جیتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں بزرگوں کو یقیناً ایسی سہولیات حاصل ہیں کہ ان کی آخری عمر ہر ممکن حد تک آرام دہ گزرتی ہے۔ لیکن میرا ملک تو جوان اور بچوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، کُجا بزرگ۔ کوئی گلہ شکوہ شکایت نہیں ہے، کوئی تجویز مشورہ حل بھی نہیں ہے۔ بس ایک خواہش ہے، کاش کہ رب اتنی توفیق دے دے، کہ ان بزرگوں کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا سکے۔ کاش کوئی ایسا سلسلہ بن جائے کہ ان کی زندگیوں کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ بس ایک خواہش ہے۔

بدھ، 4 جنوری، 2017

بلاگیات، چلغوزیات اور باہمی دلچسپی کے کچھ دیگر امور

2 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 3:51 AM ,
تو بات بلاگنگ کی ہو رہی تھی۔ بات کیا ہو رہی تھی کچھ احباب نے اس پر جاندار تبصرے فرمائے، کچھ ارشادات ادھر اُدھر سے آئے، کسی نے بلاگنگ کو فوت فرمایا، کسی نے فوت شدہ کو دوبارہ قبر سے نکال کر کھڑا کیا اور کسی نے بلاگروں کے حالات پر سیرِ حاصل گفتگو فرمائی۔ تو عرض ہے کہ فدوی بھی عرصہ (دور) دراز سے ایک عدد بلاگ رکھتا ہے اور اس پر کبھی کبھار ایک آدھ پوسٹ کا اضافہ کر کے اپنا نام شہیدوں (یہاں بلاگروں پڑھا جائے) میں شامل کروانے کا خواہشمند رہتا ہے۔ تو فدوی نے بھی اس پُر فِتن دور میں کہ جب بلاگنگ پر آزمائش و ابتلا کا نزول جاری ہے، کچھ کہنے کے لیے مائیکروسافٹ ورڈ (2016 ورژن ہے ویسے میرے پاس) کے کچھ صفحات سیاہ کیے ہیں۔

تو جناب بلاگنگ کے نباضوں کا کہنا ہے کہ اردو بلاگنگ (پیچھے جہاں جہاں بلاگنگ لکھا ہے اسے بھی اردو بلاگنگ پڑھ لیجیے، اگر نہیں پڑھا تو اب جا کر پڑھ لیں صرف ایک پیراگراف تو ہے، تب تک میں یہ پیرا گراف مکمل کر لوں۔۔)ایک انجمن ستائشِ باہمی والوں کا گروہ تھا جو ایک نِکّے یعنی چھوٹے گروہ سے ایک وڈّے یعنی بڑے گروہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ تو ہم نباضوں کے اس ارشاد (مس عالیہ کہہ نہیں سکتے مسٹر کہے لیتے ہیں تو مسٹر) عالیہ سے پانچ سات سو (یا جتنے سو آپ کو مناسب لگیں) فیصد متفق ہیں۔ اگر ہم متفق ہیں تو آپ کا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ اس کے لیے اگلے پیرا گراف میں تشریف لائیں۔ یہیں نیچے بھائی، اس کے ساتھ ہی لکھا ہے۔

ہاں جی یہاں۔ تو ہم نے کچھ اپنی عرض بھی کرنا تھی۔ تو عرض یہ ہے کہ ایک عرصہ ہوا ہم بھی وہی کچھ اپنے یک صفحاتی بلاگ پر کرتے تھے جو آج لوگ ان پورٹلز  پر کرتے ہیں۔ (کون سے پورٹل؟ بھولے بادشاہو یہی میڈیا کے وڈّے اور فیس بکی لکھاریوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والے پورٹل)۔ تو لوگ کیا کرتے ہیں؟ اس کے لیے وڈّے بزرگوں نے کہا تھا چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ فیس بک پر چند ہزار لوگوں کا ایک آئینہ خانہ وجود میں آ چکا ہے جہاں ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں ناز و انداز دکھاتا ہے۔ ان ناز و انداز کو دیکھ کر کسی کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے اکثر اوقات آپ اسے ان پورٹلز پر مضامین (یعنی بلاگز) کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک جگہ عرض کیا تھا کہ ارشادات، جوابی ارشادات، یعنی عمل اور ردعمل کی ایک دنیا ہے۔ دو دو پیرا گراف کی تحاریر ہیں، کچھ اچھی ہیں کچھ بری ہیں، کچھ سے عطر کی سی خوشبو آتی ہے کچھ سے قے کی سی بدبو آتی ہے، تو یہ سب کچھ ان پورٹلز پر چلتا ہے جسے اردو بلاگنگ کے نباض اردو بلاگنگ کا مستقبل قرار دیتے ہیں۔ ہم جب یہی کچھ کرتے تھے تو دیکھنے سننے پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہمارا شیش محل ہی ایک کمرے کا تھا (غریب کا مکان ایک کمرہ وہیں کچن وہیں بیڈ روم اور ساتھ بکری کی رہائش کا بندوبست بھی، گھٹیا سٹیج ڈرامے والی مثال ہے ناں، تو جو زبان پر آئے اسے لکھنے کو ہی تو بلاگنگ کہتے ہیں، یعنی ہور چُوپو تحریر چھوڑ کر تشریف لے جائیں ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے) تو بقیہ ماندہ قارئین کے لیے، عرض تھی کہ ہمارا شیش محل یک کمرہ جاتی تھا، موجودہ شیش محل کے پانچ سو کمرے ہیں اور ہر کمرے میں ایک الگ مہاراجہ /مہارانی نے اپنا دربار سجا رکھا ہے۔ کسی نے چلغوزے لگائے ہوئے ہیں، کسی نے ۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔ یہ چلغوزے بھی ایسے ہی ہمارے دماغ میں آ گئے۔ اور چلغوزوں سے یاد آیا کہ بس یہی اردو کی خدمت ہے کہ ہر روز ایک نیا کٹا کھلا ہوتا ہے۔ اور اس پر باں باں کرتی اور سینگیں لڑاتی بھیڈیں جنہیں اردو میں بھیڑیں کہا جاتا ہے یعنی اس ترقی یافتہ دور کے اردو لکھاری (جمع مفتی، ناصح،  ملحد، اسلام پسند، ترقی پسند، رجعت پسند، مارکسسٹ، سوشلسٹ، عظیم، عجیب، غریب، بے تکے، بے ڈھنگے۔۔۔) یعنی بلاگر ۔ آپ کو ہر روز ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملتا ہے، ایسا ہی تماشہ جیسے ہمارے بچپن میں مداری نے ریل کے پھاٹک کے ساتھ خالی جگہ پر لگا رکھا ہوتا تھا۔

تو عرض یہ کہ اگر اب ہم نے بلا وجہ سات سو (ورڈ ویسے سات سو چوبیس بتا رہا ہے) الفاظ لکھ مارے ہیں، تو ہم سے بہتر اور لائق لوگ کیا قیامت نہ ڈھاتے ہوں گے۔ ہماری مجبوری بس یہ ہو گئی ہے کہ سینگ تڑوائے ایک عرصہ ہو گیا۔ جب جب لکھنے والوں کو پڑھا تو پتا چلا کہ پڑھیں تو اچھا لکھا جا تا ہے، اب یہ حال ہے کہ نہ پڑھیں نہ لکھ سکیں۔ اور فیس بک کے اس آئینہ خانے میں سچ پوچھیں تو اتنے لوگ روڑے اٹھائے پھرنے لگے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کوئی ہمیں ہی نہ (کڈھ ) مارے۔ تو اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے بھائی، ہم ردعمل میں کچھ نہیں لکھتے، ہم بغیر پڑھے بھی کچھ نہیں لکھتے، ہم کسی مذہبی ، غیر مذہبی، سیاسی ، غیر سیاسی موضوع پر بھی کچھ نہیں لکھتے کہ ابھی ہمارے بچے بھی اللہ میاں کے پاس ہیں اور ہمارا سنگسار ہونے کا قطعی موڈ نہیں ہے، اور ہمارے مامے کا کوئی پُتر کوئی وڈی ویب سائٹ بھی نہیں چلاتا کہ ہماری ہر ڈیڑھ پیرے کی تحریر جھٹ سے شائع  کر دے۔ اس لیے ہم آج بھی اپنے بلاگ پر لکھتے ہیں، کوئی پڑھے تو اس کا بھلا، کوئی نہ پڑھے تو اس کا بھی بھلا ۔ مولا خوش رکھے۔ کبھی کبھار برسوں میں ایک تحریر افادۂ  عام والی سرزد ہو جائے تو پہلے کسی رسالے میگزین کو ارسال ہو جاتی تھی اب ان آنلائن ویب سائٹوں کو بھیج دیتے ہیں۔ کوئی شائع کر دے تو مولا خوش رکھے ، اس کے بچوں کے بچوں کے بچوں کی بھی خیر کرے، نہ شائع کرے تو ہمارا بلاگ تو ہے ہی، ہم وہیں شائع کر کے اپنا لکھاریانہ سٹیٹس برقرار رکھتے ہیں، اور پھولے نہیں سماتے۔ تو جناب ہم ایک بلاگر ہیں، بہت پرانے ، پڑے پڑے ٹھُس ہو چکے ہیں لیکن کبھی کبھی راکھ میں سے چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں اس بے تُکی تحریر پر تین مجازی صفحے سیاہ کیے اور دو چار لوگوں کا وقت برباد کیا ہی ہو گا۔

[اگر آپ نے یہاں تک اس تحریر کو پڑھا ہے تو آپ کی عظمت کو اکتالیس توپوں کی ورچوئل سلامی۔ لگتا ہے آپ کے پاس بھی ہماری طرح کوئی اور چنگا کام نہیں تھا۔]

ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

دعا

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:38 AM ,
اے میرے رب
اے بزرگ تر
اے سب سے زیادہ عزت والے
اے عزت دینے والے
اے ذلتوں سے بچانے والے
اے پردہ رکھنے والے
اے ارحم الراحمین
اے رحمان
میں قعرِ مذلت کی گھاٹیوں میں پڑا
میں ذلتوں میں لُتھڑا
میں قلب و رُو سیاہ
میں گناہوں میں پھنسا
تیری رحمت کا طلبگار
تیری آزمائشوں سے پناہ کا طالب
تیری ستّاری کا بھکاری
تیرے در پہ بیٹھا
تیرے حبیب ﷺ کے صدقے
تیرے سخی حبیب ﷺ کے صدقے
تجھے تیری عزت، جبروت، سخاوت، بزرگی اور ستّاری کا واسطہ دے کر
تیری رحمت کا طلبگار ہوں
تیری عطاء کا بھوکا ہوں
تیری نظرِ کرم کا منتظر ہوں
اے میرے مالک
مجھ پر اپنے فضل و کرم کا سایہ رکھیو
میری خطاؤں پر پردہ رکھیو
مجھے آزمائشوں سے بچائے رکھیو
مجھے علمِ نافع عطاء کیجیو
مجھے رزقِ حلال کی توفیق دیجیو
اے عزت والے
اپنے عزت والے نبی ﷺ کے صدقے
میری عزت کو کم ظرفوں سے اپنی امان میں رکھیو
آمین یا رب العالمین

جمعرات، 8 دسمبر، 2016

تھوڑ دِلا

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:53 AM ,
ممتاز مفتی کہتا ہے کہ رب جی سے یاری لگا لو۔ رات سونے لگو تو ساری باتیں رب جی کو سنا کر، دل کا بوجھ ہلکا کر کے سویا کرو۔ میری خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ کوئی آٹھ دس برس پہلے مفتی کو پڑھ لیا۔ اور اس کے دئیے گئے اس سبق کو بھی دل پر لے لیا۔ اور اب رب جی کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ رب جی سے سب کہہ دیتا ہوں۔ سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اکیلے یا محفل میں رب جی سے باتیں جاری رہتی ہیں۔

پنجابی میں تھوڑ دِلا کہتے ہیں، ایسا شخص جس کا دِل بہت تھوڑا سا ہو۔ مطلب تو اس کا شاید یہ ہے کہ تھوڑ دِلا دوسروں کے ساتھ کچھ بانٹنے سے بھاگتا ہے۔ شاید کچھ مطلب یہ بھی ہے کہ تھوڑ دِلا زود غم اور زود حس ہوتا ہے۔ ذرا سی بات پر دل دھڑک اٹھتا ہے کہ کچھ ہو گیا۔ اور یہ کچھ اکثر بُرا والا کچھ ہوتا ہے، اچھا والا نہیں۔ تو میں اس قسم کا تھوڑ دِلا ہوں۔ ہر بات پر بِدک جاتا ہوں، ہر آہٹ پر تریہہ جاتا ہوں اور خاموشی بھی کسی طوفان کا پیش خیمہ زیادہ اور سکون کی علامت کم لگتی ہے۔ میرے جیسا تھوڑ دِلا پھر اور کس کے در پر جا سوال کرے گا؟ بس رب جی کے آگے دستِ سوال دراز کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔

رب جی کے ساتھ یاری بڑا اوکھا کام ہے جی۔ میرے جیسے منافقوں کی یاری بھی مطلب کی یاری ہوتی ہے۔ آپ سے کیا چھپانا بس ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے، رب جی کی آزمائشوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے، یا میرے اندر کا تھوڑ دِلا مجھے خبردار کرتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو میرے روئیں روئیں میں الارم بجنے لگتے ہیں۔ بس پھر ایک ہی اُپائے ہوتا ہے، رب جی کے حضور درخواست گُذاری۔ رب جی کے حضور درخواست کرتا ہوں۔ بار بار کرتا ہوں۔ دیکھ لے مولا تُو تو رب ہے ناں، تیرا کیا چلا جائے گا۔ ایک میرے ساتھ اگر رحمت والا معاملہ کر دیا تو تیرے خزانے میں کونسا کمی آ جائے گی۔ میں مانتا ہوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں ہے، لیکن تُو تو رب ہے۔ پالنہار ہے، تجھے پُوچھنے والا کون ہے۔ تُو تو آل اِن آل ہے، میرے ساتھ رحمت والا معاملہ کر دے میرے مالک۔ تجھے پتا ہے مجھے تیری آزمائش سے ڈر لگتا ہے، بہت ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے عذاب سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے تیرے مُنصف بن جانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ کہ اگر تُو مُنصف بن گیا تو میرے پاس تو کچھ بھی نہیں پاس ہونے کےلیے۔ تُو رحمت والا معاملہ کر دے ناں، تو میرے لیے اس دنیا میں بھی اپنا کرم کر دے ناں۔ تو مجھ پر اپنی عطاء کر دے گا تو تیرا کیا چلا جائے گا۔ رب جی سے ایسی ایسی باتیں کہ کوئی اور سُن لے تو مجھے پاگل کہے۔

اور جب کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کوئی اور امید نہیں رہتی تو پھر ایک ہی واسطہ ہوتا ہے۔ رب جی، نبی جی ﷺ کا صدقہ اپنی عطاء کر دو۔ نبی جی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ بس اس کے بعد کچھ اپنے بس میں نہیں رہتا۔ نبی جی ﷺ کے نام کے بعد لفظ نہیں صرف آنسو کام کرتے ہیں۔ رب جی کے دربار میں نبی جیﷺ کے واسطے دے کر بھی تھوڑ دِلا کیا مانگتا ہے؟ دنیا ۔ لیکن تھوڑ دِلا کیا کرے، رب جی کی مہربانی سے اگر اب کچھ ملا ہے، تو تھوڑ دِلا تریہہ جاتا ہے۔ ہر آہٹ اور خاموشی پر بدک اٹھتا ہے۔ رب جی کی آزمائش کا خوف اسے چین نہیں لینے دیتا۔ تو پھر تھوڑ دِلا اگر رب جی سے رحمت مانگنے کی ٹیپ نہ چلائے تو اور کیا کرے؟ تھوڑ دِلا تو یہی کر سکتا ہے کہ رب جی سے معافی مانگتا رہے، اور رحمت مانگتا رہے اور نبی جی ﷺ کا واسطہ دیتا رہے۔ اور بھلا تھوڑ دِلا کیا کر سکتا ہے؟

جمعرات، 8 ستمبر، 2016

اردو بلاگنگ اور انٹرنیٹ پر اردو کا ارتقاء

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:17 PM ,
بلاگنگ پچھلی صدی کے آخری عشرے کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق لوگوں نے اپنی ویب سائٹوں پر personal یا اپنے نام سے ایک ڈائریکٹری یا سب ڈومین بنا کر اس پر دن بھر کی مصروفیات، روئداد یا کسی ذاتی یا غیر ذاتی موضوع پر اپنے خیالات کو ایک ڈائری یا بیاض کی شکل میں بیان کرنا شروع کیا۔ زبان کی یہ تحریری صنف مضمون لکھنے جیسے ہی تھی، لیکن یہ اس سے مقابلے میں زیادہ بے تکلفانہ اور ذاتی رنگ لئے ہوئے تھی۔

 انگریزی اور دیگر زبانوں کی بلاگنگ کو دیکھتے ہوئے اردو میں بھی لوگوں نے 2004 یا اس کے بعد بلاگنگ شروع کی۔ اور چند برسوں میں چند لوگوں سے یہ تعداد سو کا ہندسہ پار کر گئی۔اردو بلاگرز نے 2005 سے 2010 بلکہ تین چار برس بعد تک بھی بلاگز چلائے، اور ان پر قارئین کی ایک مناسب (چند درجن سے سو یا زیادہ وزٹر فی پوسٹ) تعداد بھی آتی رہی۔ لیکن جیسا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز تیزی سے ارتقاء پذیر ہو کر نئی نئی شکلوں میں ظہور پذیر ہوتی رہی، ویسے ہی بلاگنگ کی شکل بھی بدلی اور اس میں پہلے جیسی دلچسپی بھی برقرار نہ رہ سکی۔

انگریزی کی بلاگنگ 2010 سے ایک دو برس پہلے سے ہی اپنا رخ تبدیل کر رہی تھی۔ اب لوگوں نے ذاتی بلاگنگ کی بجائے عنواناتی بلاگنگ پر توجہ دینا شروع کی۔ انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعے آمدن، اور اشتہارات لگانے کے لیے نئے تحریری (اب تصویری، ویڈیو مواد بھی) کی ضرورت محسوس ہوئی تو لوگوں نے مختلف شعبوں میں مدد کے لیے بلاگز بنائے (فلاں کام کیسے کریں، جنہیں انگریزی میں ہاؤ ٹُو قسم کی تحاریر کہا جاتا ہے)، کسی خاص شعبے کے حوالے سے خبریں، تازہ ترین اور معلومات کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا (مثلاً انگریزی میں ٹیکنالوجی، قانون، مذہب وغیرہ سے متعلق بلاگز وجود میں آئے)، کمپنیوں نے بلاگنگ کی طاقت دیکھتے ہوئے اپنی ویب سائٹس پر عوام سے انٹرایکشن کے لیے بلاگ سیکشن شروع کر دئیے، اخبارات میں بلاگ سیکشن شروع ہوئے (پاکستان کے انگریزی اخبارات 2009 سے بلاگز چلا رہے ہیں، اردو اخبارات نے دو تین برس تاخیر سے یہی کام شروع کیا)۔ اب بلاگنگ سے ارتقاء پذیر ہو کر تحریری (اور دیگر اقسام کے) مواد کی تخلیق کا عمل اتنا کمرشل ہو گیا ہے کہ باقاعدہ آنلائن میڈیا ہاؤسز موجود ہیں جو اخبارات کی طرح (لیکن کاغذ پر چھاپے بغیر صرف آنلائن) مواد تخلیق کرتے ہیں۔ ان کمرشل سائٹوں میں ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹیں بھی ہیں (یہ اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ کبھی کبھار بلاگ کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں)، اپنی مدد آپ کے حوالے سے بلاگز یا ویب سائٹس بھی ہیں، اور وائرل مواد (میش ایبل اور اس کی پاکستانی نقل مینگو باز) کی خبر دینے والی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔

اردو کے حوالے سے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا) لوگوں نے بلاگنگ کچھ برس تاخیر سے شروع کی۔ لیکن انہوں نے انگریزی والے رجحانات کی پیروی کر کے اپنے ذاتی بلاگز سے ہی ابتدا کی۔ بدقسمتی سے اردو میں بلاگز کا ارتقاء انگریزی والے پیٹرن پر نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اردو میں دستیاب مواد کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کر سکنا تھا۔ اردو میں لوگ مواد تخلیق کرنے کو تو تیار تھے، لیکن انہیں اردو زبان میں موجود ویب سائٹس کے لیے اشتہارات (جو انٹرنیٹ پر آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور اس حوالے سے آج بھی گوگل ایڈ سینس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں) نہیں ملتے تھے ۔ چنانچہ ذاتی قسم کے بلاگز لوگوں نے کچھ عرصہ لکھے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رجحان اب بہت کم رہ گیا ہے (جیسا کہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہوا تھا)۔ اس وقت اردو زبان میں موضوعاتی بلاگنگ کے نام پر کرک نامہ، سائنس کی دنیا اورآئی ٹی نامہ جیسے چند ایک بلاگز ہی موجود ہیں، جو اشتہارات کے بغیر بھی معیاری اردو مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ اردو زبان میں ذاتی بلاگز میں دلچسپی کم ہونے کی ایک اور وجہ سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے فیس بُک اور ٹوئٹر کی مقبولیت بھی تھی۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، کم الفاظ یعنی کم وقت میں بات کہنے کی صلاحیت، زیادہ لوگوں سے انٹرایکشن کا موقع وغیرہ نے اردو بلاگرز کو فیس بک اور ٹوئٹر کا قیدی بنا دیا، اور ان کے بلاگ ماضی کے مزار بن گئے۔

انٹرنیٹ پرتحریری اردو کے فروغ میں بلاگنگ اصل میں تیسرا قدم تھی۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اردو فورمز (اردو محفل فورم، ہماری اردو فورم وغیرہ) تحریری اردو اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز مہیا کر رہے تھے۔ درحقیقت بیشتر اردو بلاگرز یہیں سے بلاگنگ کی طرف آئے۔ اور اِن آنلائن اردو چوپالوں سے بھی پہلے بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ وغیرہ کی اردو ویب سائٹس نے تحریری اردو کے فروغ کی بنیاد ڈال دی تھی۔ روزنامہ جنگ کی تحریری اردو کی ویب سائٹ بھی بہت پرانی ہے اگرچہ لوگ زیادہ تر نستعلیق (یعنی تصویری اردو) والی ویب سائٹ پر ہی جانا پسند کرتے تھے۔

اردو بلاگنگ کے بعد؟ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اردو بلاگنگ کا مختصر سا عروج جو 2007 اور اس کے بعد پانچ سات برس تک رہا، اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب لوگ بلاگ کی بجائے اپنی فیس بک وال پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی دھڑا دھڑ آمد نے ہمارے روزمرہ کے ٹاکرے (یا مناظرے) بھی آنلائن کر دئیے، چنانچہ یہاں لبرل، سیکولر، ملحد، قدامت پسند، اسلام پسند اور دیگر "پسندوں" نے سینگ اڑا کر مناظرے کیے۔ وہ مناظرے ختم ہو گئے یا ختم ہوں گے، اس سوال سے قطع نظر لوگوں نے سوچا کہ ان سوشل میڈیا ٹاکروں کے لیے جو کچھ لکھا جاتا ہے اسے مناسب جگہ پر شائع کیا جائے چونکہ فیس بک پر تو مواد چند دنوں میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اپڈیٹس کے انبار تلے دفن ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ویب سائٹس کی بنیاد رکھی جن میں لالٹین، ہم سب، دلیل، مکالمہ، ایک روزن، آئی بی سی اردو۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایک لمبی فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایک خاص نقطہ نظر کی ترجمان ہیں، کچھ ایسی نہیں ہیں، لیکن حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے وڈّوں کی زیرِ سرپرستی چلنے والی یہ تحریری اردو کی ویب سائٹس ہمارے خیال میں بلاگنگ کے بعد انٹرنیٹ پر اردو کے ارتقاء کا اگلا قدم ہیں۔ (اگرچہ اردو پوائنٹ اردو آنلائن جرنلزم کا بہت پرانا نام ہے، لیکن ان کی ویب سائٹ آج بھی نیم تحریری اور باقی تصویری اردو پر چلتی ہے، اور ان کی آمدن کے ذرائع آغاز سے ہی مقامی کمپنیوں سے ملنے والے اشتہارات ہیں۔) ان ویب سائٹس کے اجراء نے نئے لکھاریوں کو لکھنے اور چھپنے کے آسان ذرائع مہیا کر دئیے ہیں جو اگرچہ ذاتی بلاگ کی شکل میں پہلے موجود تو تھے لیکن قارئین کی تعداد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے بددل ہو جاتے تھے۔ میڈیا کے وڈّے وڈّے ناموں کے سایہء عاطفت میں آج آپ جہاں بھی چلے جائیں، آپ کو تجزیہ کاروںِ، مضمون نگاروں، جوابی مضمون نگاروں، نوٹ نگاروں، اختلافی نوٹ نگاروں اور لکھاریوں کی ایک فوج ظفر موج نظر آتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت اچھے ہیں، کچھ اچھے ہیں، کچھ مناسب ہیں اور کچھ راقم کی طرح دھکا سٹارٹ ہیں۔ لیکن لوگ لکھ رہے ہیں، اردو لکھ رہے ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے چونکہ اس سے اردو ترقی کرتی ہے، اردو پڑھنے سے تماشائیوں کو بھی اردو کو اردو میں لکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ان ویب سائٹس نے نوجوانوں کو اپنی فرسٹریشن نکالنے کے ذرائع بھی مہیا کر دئیے ہیں جس سے مختلف علاقوں کا درجہ حرارت معمول پر رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تفنن برطرف، آخر میں ہم آپ کی خدمت میں چند سوالات رکھ کر اجازت چاہیں گے۔

کیا مستقبل قریب میں انٹرنیٹ پر اردو مذہبی، نیم مذہبی، غیر مذہبی، سیاسی اور اس قسم کی دیگر مضمون بازی اور لفظی کُشتی سے آگے نکل پائے گی؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اسے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے (مثلاً سائنس کی دنیا جیسی کاوشیں جو سائنس سے متعلق تحاریر کا اردو ترجمہ مہیا کر رہے ہیں)؟

کیا اردو اس قابل ہو سکے گی کہ اس میں معیاری تفریحی، تعلیمی، یا کسی بھی قسم کا مواد پیدا کر کے روزگار کمایا جا سکے؟

اور کیا مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہے کہ مذکورہ بالا فرضی اردو ویب سائٹس کو گوگل جیسی عالمی کمپنیاں نہیں تو مقامی کمپنیاں ہی اشتہارات دے کر ان کی روزی روٹی کے ذرائع پیدا کریں؟ (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے وڈّوں کے زیرِ سایہ چلنے والی ویب سائٹس کو آج بھی کچھ نہ کچھ اشتہارات مل سکتے ہیں، جس کے لیے اکثر اوقات ان کا نام ہی کافی ہو گا، چونکہ ان ویب سائٹس کوآ گیا چھا گیا کے مصداق آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اس لیے ٹریفک اور وزٹرز کی تعداد، نیز رینکنگ وغیرہ کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں چنانچہ کمپنیاں انہیں اشتہارات مہیا کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گی۔)